Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دو ناقابل فراموش زخم    از قلم: غنی محمود قصوری

    دو ناقابل فراموش زخم از قلم: غنی محمود قصوری

    دو ناقابل فراموش زخم
    از قلم غنی محمود قصوری

    یوں تو اس کرہ ارض پر ارض پاک پاکستان کے کئی دشمن ہیں مگر ان میں سے سب سے زیادہ کمینہ اور بدخصلت دشمن انڈیا ہے اس بزدل اور کمینے دشمن کی طرف سے اس ارض پاک کو کئی زخم دئیے گئے ہیں مگر دو زخم نا قابل فراموش ہیں جن میں ایک زخم آج سے 49 سال قبل سقوط ڈھاکہ اور دوسرا آج سے 6 سال قبل سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی صورت میں دیا گیا –

    دنیا جانتی ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان انڈیا سینڈوچ کی طرح تھاگو کہ مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان 1600 کلومیٹر کا فاصلہ تھا مگر پھر بھی ہمارا دشمن انڈیا بنگالی پاکستانیوں اور مغربی پاکستانیوں کے نرغے میں تھا جب دل کرتا دشمن کی گردن دبا دی جاتی تھی جس سے دشمن ہر وقت خوف زدہ رہتا تھا انڈیا نے اپنے سینڈوچ ہونے کا عملی مظاہرہ 1965 کی پاک انڈیا جنگ میں دیکھا بھی تھا سو اس شاطر اور بدخصلت ہندو مکار نے خود کو محفوظ کرنے کی خاطر اپنوں کو اپنوں کے خلاف کرتے ہوئے بنگالیوں میں مغربی پاکستان کے خلاف زہر بھر کر مکتی باہنی نامی مسلح تنظیم بنوائی جس نے اپنے ہی بھائیوں پر مسلح حملے کئے قتل و غارت گری کی اور نام مشرقی پاکستان میں موجود پاکستان آرمی کا لگایا-

    ہندو کے اس ناپاک مقصد کو تقویت مشرقی و مغربی پاکستان کے اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں نے قومیت، صوبائیت اور فرقہ واریت کے نام پر دی اور یہ آگ بھڑکتی ہو چلی گئی-

    حقائق سے نابلد اور اسلام سے بیزار لوگوں پر مشتمل مکتی باہنی کے لوگوں نے اپنی ہی فوج پر مسلح حملوں کو تیز تر کر دیا اور ساتھ ہی انڈیا نے فوجی جھڑپیں بھی شروع کر دیں جس کا ہمارے فوجی جوانوں نے جواں مردی سے مقابلہ کیا مگر اپنوں کی غداری کم وسائل کے باعث آخر کار انہیں 16 دسمبر 1965 کو ہتھیار ڈالنے پڑے جسے آج تاریخ سقوط ڈھاکہ کے نام سے جانتی ہے اس دن مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا یہ دن ہر محب وطن پاکستانی کو رنجیدہ کر جاتا ہے-

    انڈیا نے پاکستان کے خلاف سازشیں جاری رکھیں کبھی بی ایل اے تو سندھو دیش تو کبھی فرقہ واریت کو پروان چڑھا کر انڈیا کی اس سائبر وار کوپاکستانی بہت حد تک جان گئے ہیں-

    ایک بار پھر اس سقوط ڈھاکہ کے دن کو یاد کرکے رنجیدہ ہوتے پاکستانیوں پر وار کرتے ہوئے دوسروں کے کندھوں کا سہارا لینے والے انڈیا نے پاکستانی قوم سے دشمنی کی انتہاہ کرتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کے 43 سال بعد 16 دسمبر 2014 کو پاکستان کے صوبہ کے پی کے کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر اپنے پے رول پر کام کرنے والی خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں حملہ کروا دیا جس کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت 147 نہتے لوگ شہید ہو گئے تھے اس سکول میں آرمی اہلکاران کے بچوں کے علاوہ سیویلن کے بچے بھی پڑھتے ہیں اور پوری دنیا اس قتل عام پر رنجیدہ ہے کہ دشمن ذس قدر بھی گر سکتا ہے کہ بچوں سے بھی دشمنی کی انتہاہ کر دے گا کیونکہ بچے تو معصوم اور فرشتوں کی مانند ہوتے ہیں-

    انڈیا اور اس کی جدید مکتی باہنی تحریک طالبان پاکستان نے سمجھا تھا کہ وہ ڈرا دھمکا کر تعلیم کے زیور سے بچوں کو دور کر دیں گے مگر ہمارے بچوں نے نعرہ لگایا ،مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے، جس سے انڈیا کے دل پر تیر چلے کہ یہ کیسی قوم ہے جس کے بچے گولیاں کھا کر بھی بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں-

    ساری دنیا جانتی ہے انڈیا نے اب تک پاکستان میں تخریب کاری کروا کر ہزاروں واقعات میں کئی ہزار پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے مگر سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس پشاور نا قابلِ فراموش زخم ہیں جن کا قرض چکانا اور انڈیا سے بدلہ لینا ہر سچے محب وطن پاکستانی پر قرض بھی ہے اور فرض بھی-

    آج انڈیا پھر ایک بار ہم پر اپنی سائبر وار مسلط کر رہا ہے جس کا مقابلہ ہر پاکستانی نے کرنا ہے کیونکہ روائتی جنگ فوج لڑتی ہے اور ہماری فوج انڈیا کو اس کی اوقات یاد کروا چکی ہے جس کی تازہ مثال 27 فروری کو اس کے علاقے میں جا کر اس کے طیارے گرا کر واپس پلٹنا اور پھر انڈیا کا ساری دنیا کے سامنے میاؤں میاؤں کرنا ہے-

    انڈیا کے یہ دو زخم سقوط ڈھاکہ اور سانحہِ پشاور جو اس نے ہمیں اپنے کے ہاتھوں دلوائیں ہیں ناقابل فراموش ہیں-

  • سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ

    سیاست کا المیہ نظام نہیں مفاد پرستی ہے ہمارے نزدیک سیاست کو مفاد پرستوں کے قبضے سے آزادی دلا کر وولینٹئرز سیاسی لیڈر شپ کے حوالے کرنے کا عمل اہم ترین مشن کا درجہ رکھتا ہے۔
    ہم سمجھتے ہیں کہ نظام اچھا ہو یا برا اسے چلانا بہرحال انسانوں نے ہی ہوتا ہے سیاست اور اختیار جن ہاتھوں میں ہو ان کا کردار اچھے یا برے نتائج پیدا کرتا ہے اچھے لیڈرز برے نظام میں بھی اچھا پرفارم کر لیتے ہیں جبکہ مفاد پرست لیڈرز اچھے نظام میں بھی اپنے مفاد کو ترجیح پر رکھنے کی وجہ سے برے نتائج دیتے ہیں لہذا ملک بچانے ، اسے مستحکم رکھنے اور عوامی حقوق یقینی بنانے کے لئے ملک کا اختیار بے لوث ، مخلص اور باصلاحیت قیادت کے ہاتھوں میں منتقل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔
    بانیان پاکستان نے مسلمانوں کی آزادی عمل کے لئے الگ وطن حاصل کرنے کے مشن کے لئے اپنا مستقبل ، اپنی جائیداد ، اپنا کیریئر ، اپنی خانگی زندگی سب کچھ نثار کردیا قائد اعظم محمد علی جناح ، محترمہ فاطمہ جناح ، نواب لیاقت علی خان ، سردار عبدالرب نشتر سمیت دیگر ہیروز قربانی کی داستانیں رقم کر کے لازوال ہوگئے ہمارےان بے لوث ہیروز کے سیاسی منظر سے ہٹتے ہی مفاد پرست اقتدار پر قابض ہو گئے جنہوں نے اپنی ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو تختہ مشق بنا ڈالا بانیان پاکستان کے برعکس سول اور فوجی بیورو کریٹس غلام محمد ، سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان ، جنرل یحیی’ خان نے ملک کو ڈی ٹریک کیا ، اپنے اقتدار کی خاطر قومی یکجہتی کی جگہ انتشار کو پروان چڑھا کر نفرتوں کی جانب دھکیل دیا انکے خود غرض ، مفاد پرست اور اخلاقیات سے عاری طرز عمل نے ملک کے دو بازووں میں سے ایک کو کاٹ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
    16 دسمبر 1971 کے سانحے کے اصل محرک بھی دراصل یہی مفاد پرست کردار ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے کی راہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس گناہ عظیم کے باوجود وہ پوتر کے پوتر ہی ہیں۔
    ہوشیار اور طاقتور سول و فوجی بیورو کریٹس نے بہت صفائی سے پاکستان توڑنے کا سارا ملبہ سول سیاسی لیڈر ذولفقار علی بھٹو جیسے چھوٹے مجرم پرڈال کر خود کو اس الزام سے بری الذمہ کر لیا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان محض بھٹو سے منسوب ” ادھر ہم ادھر تم” کے تحقیق طلب بیان کی وجہ سے ٹوٹ گیا ؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی شخص کے ایک بیان کی بنیاد پر اچانک ملک دولخت ہوگئے ہوں؟ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ملکوں کے ٹوٹنے میں سالہا سال کے منفی روئیے اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں ایک وقت ایسا آتا ہے جب پس پردہ پنپنے والا نفرتوں کا لاوا پک کر اچانک پھٹ پڑتا ہے اور پھر ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔
    پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کاجرم بھٹو کی گلے منڈھ دیا جائے یا انڈین مداخلت کو جواز بنا کر دل کی تسلی کا سامان کرلیا جائے کیا کبھی مشرقی پاکستان کے باسیوں کے دلوں میں پروان چڑھنے والی نفرتوں کے اندرونی اسباب کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
    جمہوری طریقے سے قائم ہونے والے ملک سول یا فوجی ڈکٹیٹر شپ کے جبری اقتدار کی وجہ سے یکجا اور مستحکم نہیں رہ سکتے دونوں کے خمیر میں اپنے اقتدار کا مفاد رچا بسا ہوتا ہے جس سے حق داروں کے حقوق غصب ہوتے ہیں جو نفرتوں کو جنم دیتے ہیں۔
    مشرقی اور مغربی پاکستان کے شہریوں کے معیار زندگی ، سیاسی ، سماجی اور معاشی حقوق میں عدم مساوات کو پاکستان ٹوٹنے کے عوامل سے کسی بھی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا بالکل اسی طرح جیسے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کو لاحق خطرات کو جواز بنا کر الگ وطن کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔
    1970 کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے سپاہی اور مشرقی پاکستان کے عوام کی محرومیوں کی زبان بن کر ابھرنے والے شیخ مجیب کی سیاسی بالا دستی کو جنرل ایوب خان کے جانشین جنرل یحیی خان نے تسلیم نہیں کیا بلکہ الٹا قوم کی محسنہ محترمہ فاطمہ جناح کی طرح محب وطن شیخ مجیب کو بھی غدار وطن کے منصب تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ایسا دوسری مرتبہ ہورہا تھا جب عوام کی مرضی کے خلاف اقتدار پر قابض ہونے والے محب وطن اور عوام کی رائے سے منتخب ہوکر ابھرنے والے سیاسی لیڈر غدار ٹھہرائے گئے۔
    کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ جس سرزمین پر حصول پاکستان کی تحریک کی بناء پڑی ہو اسی سرزمین کے لوگ بلاوجہ اپنے حاصل کردہ وطن کو توڑنے کے گناہ میں شریک ہو جائیں؟
    ناانصافی اور محرومیاں نفرتوں کو جنم دیتی ہیں پھر ان پر آواز بلند کرنے والے مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں کیا مشرقی پاکستان پر لشکر کشی کرنے اور انکا ساتھ دینے والے کرداروں کو ان پہلووں پر غور کرکے اپنے طرز عمل پر ندامت کا احساس ہو سکے گا؟
    کیا موجودہ پاکستان سے وہ عوامل جن کی وجہ سے پہلے ملک دولخت ہوا کا تدارک ہو گیا ہے ؟ کیا مفاد پرست عناصر سے ملک محفوظ ہو گیا ہے؟ کیا ملک کے تمام علاقوں کا معیار زندگی برابر ہو گیا ہے؟ کیا ملک سے ناانصافی اور محرومیاں ختم ہو گئی ہیں؟ کیا ملک کے تمام شہریوں کو آئین کے مطابق انسانی احترام ، تعلیم ،علاج ،روزگار، تحفظ اور سیاسی مساوی حقوق حاصل ہوگئے ہیں؟
    اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ایک مرتبہ پھر نانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں اور آئین میں دئے گئے حقوق مانگنے والوں کو غدار ٹھرایا جائے گا اور ان پر لشکر کشی کی جائے گی؟
    غور طلب پہلو یہ ہے کہ کیا صرف مشرقی پاکستان کے لوگ ہی غلط اور غدار تھے اور موجودہ پاکستان کے کرتا دھرتا درست اور محب وطن؟
    سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ماضی سے کچھ سبق حاصل کر پائیں گے یا اسی ڈگر پر چلتے رہیں گے #
    (خلیل احمد تھند )

  • پی ایس ایل سکس کے بروقت انعقاد کے لئے بورڈ نے تیاریوں کا آغاز کردیا

    پی ایس ایل سکس کے بروقت انعقاد کے لئے بورڈ نے تیاریوں کا آغاز کردیا

    پی ایس ایل سکس تیاریاں ،پی ایس ایل سکس کے بروقت انعقاد کے لئے بورڈ نے تیاریوں کا آغاز کردیا ،پی ایس ایل سکس کی ڈرافٹنگ کے لیے تین پلان زیر غور ہیں
    موجودہ حالات کے پیش نظر ڈارفٹنگ آن لائن یا پھر اوپن وینیو پر ہونے کی توقع ہے۔ اس ماہ کے آخری ہفتے میں پلیرز رٹیشن اور ریلیز کرنے کی تاریخوں کا اعلان کردیا جائے گا۔پلیرز رٹیشن اور ریلیز کے عمل کے ساتھ ہی ڈرافٹنگ کے شیڈول کا بھی اعلان کیا جائے گا۔ لیگ کے میچز کے مقامات کو بھی حتمی شکل دینے کا پر غور جاری ہے

    لاہور،کراچی ، راولپنڈی اور ملتان ہی میں لیگ کے میچز کروائے جانے کا زیادہ امکان ہے چار کی بجائے دو یا تین وینیوز پر لیگ کروانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    پی سی بی اور فرنچائزز کے درمیان لیگ کے فنانشل ماڈل پر معاملات سست روی کا شکار ہیں۔پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن اپنے شیڈول کے مطابق ہوگا۔ ترجمان پی سی بی
    ڈرافٹنگ ، لیگ کے وینیوز اور دیگر معاملات پر فرنچائز کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔

  • وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے  سفرنامہ نگار: فلک زاہد   (پہلی قسط)

    وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے سفرنامہ نگار: فلک زاہد (پہلی قسط)

    لکھاریوں کی معروف تنظیم "اپوا” نے رواں سال ستمبر کے مہینے میں کمراٹ اور جہاز بانڈہ کا دورہ کیا تھا جس میں مجھ سمیت دس لکھاری حضرات شامل تھے.اس یادگار سفر کی روداد کو میں نے سفرنامے کی صورت میں ڈھال دیا ہے،

    مارگلہ نیوز: وادی کمراٹ میں سیاحت
    وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے
    سفرنامہ نگار: فلک زاہد
    (پہلی قسط)

    اس بار میرا سفر "وادی کمراٹ” کی جانب تھا جس کے بارے میں سبھی کا کہنا تھا کہ وہ ایک دلکش و دلنشین وادی ہے جس کا حسن انسان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے جس کی خوبصورتی میں انسان ایسا غوطہ لگاتا ہے کہ دوبارہ اس میں سے ابھر نہیں پاتا جسکے گھنے جنگلوں میں ایک سرسراہٹ سی ہے جسکی برف پوش پہاڑیوں میں لاتعداد کہانیاں سی ہیں جسکی جھیلوں میں صدیوں کے راز پوشیدہ ہیں جسکے پہاڑوں میں عجب بادشاہوں سا وقار ہے اور جسکی ہواؤں میں الگ ہی بدمستی ہے-

    ایسی تعریفیں سن سن کر میں نے نجانے کتنی ہی بار اپنے خوابوں میں خیالوں میں تصورات میں وادی کی سیر کی تھی اور شدت سے میرا دل اس دن کا منتظر تھا جس دن میرے قدم اس جنت نظیر وادی میں رنجا ہونے تھے.

    میں ایک بہادر, نڈر سخت جاں اور مہم جو لڑکی واقع ہوئی ہوں مجھے نئ نئ جگہیں دیکھنے اور دنیا گھومنے کا بہت شوق ہے..چاہے کتنے ہی گھنٹوں پر سفر محیط کیوں نہ ہو لمبے سے لمبا سفر مجھے نہیں تھکاتا راہ میں آئی کوئی مشکل میرے حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیتی کیونکہ میں راجپوتوں کی جواں سالہ دوشیزہ ہوں جس کے ارادے مستحکم اور مضبوط ہیں جسکے قدم لڑکھڑاتے اور ڈگمگاتے نہیں ہیں جسکا دل ذرا سی مشکل سے گھبراتا نہیں ہے جس کا سر پہاڑوں کی بلندیوں کو دیکھ کر چکراتا نہیں ہے اور نہ ہی جسکی ٹانگیں پہاڑوں کے نشیب کو دیکھ کر کانپتی ہیں.

    میں تو وہ ہوں جو بلا خوف و خطر گبن جبہ کے دریا اور اس کی آبشار میں موجود بڑے بڑے دیوہیکل پتھروں پر یکے بعد دیگرے کسی شیرنی کی مانند چھلانگ لگاتی چلی جاتی یے.

    میں تو وہ ہوں جو بہرین کی پہاڑیوں کی بلندیوں سے بغیر کسی سپیڈ بریکر کے نشیب کی جانب بھاگتی چلی جاتی ہے.
    میں تو وہ ہوں جو ٹھنڈیانی کی برف پوش پہاڑیوں پر اکیلے دور بہت دور خود کلامی کرتے ہوئے ناک کی سیدھ چلتی چلی جاتی ہے
    میں تو وہ ہوں جو نیلا واہن کی آبشار دیکھنے کے جنون میں کئ فٹ اونچا پہاڑ چڑھ بھی لیتی ہے اور اتر بھی لیتی یے
    میں تو وہ ہوں جس نے مالم جبہ کی سرد رات میں اکیلے سڑک پر نکل کر کسی جن بھوت کے ملنے کی خواہش کی ہے.
    میں تو وہ ہوں جس نے کلام کی مال روڈ پر رات دیر تک مٹر گشتی کی ہے
    میں تو وہ ہوں جس نے سردیوں کی راتوں میں ایبٹ آباد کی سڑکوں پر لانگ ڈرائونگ کی ہے-

    جی ہاں یہ میں ہی ہوں جس نے خان پور ڈیم کے پانیوں سے دل کی باتیں کی ہیں یہ میں ہی ہوں جس نے ٹیکسلا کے کھنڈرات میں سرگوشیاں سی سنی ہیں اور یہ بھی میں ہی ہوں جس نے مری گلیات اور نتھیا گلی کے حسن کو اپنی آنکھوں میں جذب کر لیا ہے.

    وہ بھی میں ہی تھی جس نے ناران کاغان کی جھیل سیف الملوک سے رازونیاز کیا ہے جس نے دریا سوات کی گہرائیوں میں اپنے برہنہ پیروں کو اتارا ہے..میرا رشتہ ان دریاؤں اور پہاڑوں سے بہت گہرا اور پرانا ہے.یوں لگتا ہے میرا ان پہاڑوں میں نام لکھا جاچکا ہے یہ پہاڑ اور دریا بھی اب بن اداس ہوجاتے ہیں جبھی چند ماہ بعد مجھے آوازیں دینے لگتے ہیں اور جنکی آواز ہواؤں کے دوش پر لہراتیں بل کھاتیں میرے دل تک پہنچ جاتی ہیں.

    اور اب میری اگلی منزل "وادی کمراٹ” تھی.
    کمراٹ کے پہاڑ مجھے آوازیں دینے لگے تھے وہاں کی یخ ہوائیں مجھ تک پیغام محبت ارسال کرنے لگی تھیں. کمراٹ کی یہ آوازیں میں نے دل کی آواز سے سنی تھیں اور انکی آوازوں پر لبیک کہا تھا.

    ہمیشہ کی طرح میری والدہ ماجدہ کی اس بار بھی یہی کوشش تھی کہ مجھے ٹور پر جانے نہ دیا جائے اور کسی بہانے روک لیا جائے یہ جاننے کے باوجود کہ بات جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی ہو تو یہ لڑکی کہاں رکنے والی ہے.

    مگر اس بار کچھ الگ تھا کچھ ایسا جو اس سے قبل نہ کبھی ہوا تھا اس بار ملک بھر میں مسلسل بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب کو مدِنظر رکھتے ہوئے والد صاحب کا دل بھی گھبرا رہا تھا جنہوں نے کبھی مجھے "نہ” نہیں کی تھی.

    "نہ” تو خیر اس بار بھی نہیں کی تھی تاہم اتنا کہہ کر مجھے بھی پریشان کر دیا تھا کہ "میرا دل نہیں مان رہا حالات ٹھیک نہیں باقی آپ خود دیکھ لو جیسے دل چاہے-”

    پہلی بار والد صاحب کے لبوں سے ان کلمات نے سوچنے پر مجبور کر دیا اور میں جو جانے کا ارادہ ملتوی کرنے ہی والی تھی کہ معاً خبر ملی کہ ان علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری ہونے کی صورت میں لکھاریوں کی تنظیم "اپوا” نے ٹور کینسل کر دیا ہے..پوری ٹیم میں مایوسی سی پھیل گئ سب کو اب یہی امید تھی کہ یہ ٹور اب نہ جا سکے گا اگلے سال ہی روانہ ہوگا کیونکہ کمراٹ کے پہاڑ شائد فی الحال ہمیں استقبال کرنے کو راضی نہیں تھے مگر چند دن بعد وہاں سے حالات کے بہتر ہونے کی خبریں موصول ہونا شروع ہوگئیں اور "اپوا” کے بانی ہمارے لیڈر ایم ایم علی بھائی نے اعلان کر دیا کہ ٹور اگلے ہفتے روانہ ہوگا سابقہ شیڈول کے مطابق.

    ایک بار پھر سے مرجھائے چہروں اور مردہ دلوں میں نئ روح پھونک دی گئ تھی اور سب ایک بار پھر ایک نئے جوش اور ولولے سے جانے کی بھرپور تیاری کرنے لگے تھے.

    میں جو کبھی کسی ٹور سے بھاگی نہ تھی ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی اس بار دل کو کچھ گھبراہٹ سی تھی اسکی وجہ یقیناً یہی تھی کہ اس بار میری بڑی بہنا میرا جگر گوشہ میرے ساتھ کچھ مصروفیت کی بنا پر جا نہیں پا رہا تھا…میرے ہر سفر میں میرا ہم راہی میرا ساتھی میرا رفیق میرا دوست میری بہن فضہ زاہد رہی ہے جو اس بار ساتھ نہ تھی تو اداسی ہر طرف سے حملہ آور تھی اور دوسری طرف میری عزیز از جان سہیلیاں مہوش احسن اور قرۃ العین خالد کا ساتھ بھی میسر نہ ہونے کے باعث تنہائی کسی ناگ کی طرح ڈس رہی تھی.کیونکہ ہم تکون تقریباً ہر سفر میں ایک ساتھ رہے ہیں اور اس بار ان میں سے کسی کا نہ جانا بہت ہی دل سوز تھا.

    میں نے اپنے ان خدشات کا اظہار علی بھائی سے کیا تو انکے ساتھ ساتھ آپی حفصہ خالد اور آپی شانیہ چوہدری کے بھرپور حوصلہ دینے پر میں نے اپنے دل کو بہ مشکل قابو کیا اور جانے کے لیے نیم رضا مندی ظاہر کر دی تھی. تاہم دل میں برابر ایک عجیب سے گھبراہٹ طاری رہی.

    چونکہ اس بار میرا سفر کمراٹ جیسی دیو مالائی وادی کی جانب تھا لہذا اس بار میری تیاری بھی بھرپور تھی میں نے اپنے لیے نئے رنگ برنگے لباس خریدے تھے تاکہ وہاں کے سبزہ زاروں پر میں تتلیوں کی مانند اچھل کود کرتی ہوئی کمیرے میں اتاری تصایر میں کسی شہزادی سے کم نہ لگوں. اور یہ تیاری میری دوسری خواتین کی مانند ہی کئ روز چلتی رہی تھی.

    بلاآخر نو ستمبر جمعرات کی رات کو ہم دس ممبرز پر مشتمل لکھاریوں کی ٹیم جن میں پانچ مرد اور پانچ ہی خواتین تھیں نے اپنی اپنی رہائش گاہ سے احمد ٹریولرز لاہور کی جانب پیش قدمی کی.کمراٹ پہلے ہم سب اپنی گاڑی پر جانا چاہتے تھے تاکہ جہاں دل کرے گاڑی روک کر تازہ دم ہو لیا جائے مگر یوں اخراجات زیادہ آرہے تھے چنانچہ طے یہی پایا کہ لاہور سے دھیر تک لوکل جایا جائے جو مناسب اور سستا بھی تھا.

    ہم سب احمد ٹریولرز کس طرح پہنچے یہ ایک الگ کہانی ہے تاہم میرے ساتھ صحافی توقیر کھرل اور شاعرہ شانیہ چوہدری تھیں چونکہ رات کا وقت تھا اور ہماری گاڑی کہاں سے روانہ ہونی تھی اس بارے ہم میں سے کسی کو صحیح طور سے معلوم نہ تھا اس لیے ہم تینوں نے ساتھ جانے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ ہم تینوں کا روٹ ایک ہی تھا.ہم شانیہ آپی کے کزن کی گاڑی پر جسکو وہ ڈرائیو کر رہا تھا گوگل میپ پر اس لوکیشن کو فالو کرتے جاتے تھے جو علی بھائی نے شئیر کر رکھی تھی اللہ اللہ کر کے جب ہم لاہور کی طویل اور کوفت میں مبتلا کر دینے والی ٹریفک کو روند کر اپنی منزل پر پہنچے تو وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہماری گاڑی جو کہ آٹھ بجے کی تھی جاچکی ہے اور ہم سب ساڑھے آٹھ بجے پہنچ پائے تھے اور اب اگلی گاڑی رات بارہ بجے ہی روانہ ہوگی.

    یہ سن کر ہم سب کے دل ڈوبنے لگے تھے بعداذاں معلوم پڑا کہ یہ محض علی بھائی کا ہم سے ایک مذاق تھا تاکہ ہم سب وقت پر پہنچ جائیں کیونکہ گاڑی نو بجے کی تھی جو روانہ ہونے کے لیے تیار کھڑی تھی.اس خبر سے سب کی سانس میں سانس آئی تھی اور سب یکدم سے ہلکے پھلکے ہوگئے تھے.
    چند لمحوں میں سارا سامان بس پر لاد دیا گیا تھا اور ہماری گاڑی ٹھیک رات کے نو بجے لاہور سے دھیر کی جانب عازمِ سفر ہوچکی تھی.
    یہاں پر اپنی ٹیم کا تعارف کروا دینا ضروری سمجھتی ہوں.

    صحافی توقیر کھرل پہلی بار اپوا ٹیم کے ساتھ سفر کر رہے تھے جو آن لائن وڈیو گرافک ڈیزائنر عبداللہ ملک کے ساتھ براجمان تھے.عبداللہ بھائی اس سے پہلے بھی ہمارے ساتھ کلر کہار, نیلا واہن اور کھیوڑہ مائنز کا سفر کر چکے تھے.

    چیف آرگنائزر آپی ثنا آغا خان بھی اس بار پہلی مرتبہ ہمارے ساتھ سفر میں شریک تھیں جو بہت ہی خوش اخلاق اور بہت زیادہ محبت اور خیال رکھنے والی انسان ہیں ان کو جاننے سے قبل انکے متعلق جو میرے خیالات تھے انکا ذکر آگے چل کر ہوگا.

    سینیئر نائب صدر آپی فاطمہ شیروانی نہایت نرم اور شفیق طبیعت کی مالک انسان جن کے بغیر ہمارا کوئی سفر کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکتا.آپ کی ایک کتاب "تیرے قرب کی خوشبو” بھی شائع ہوچکی ہے..یہ دونوں خواتین ایک ساتھ براجمان تھیں.

    میرے ساتھ کتاب "گردشِ ایام” کی شاعرہ آپی شانیہ چوہدری سیکرٹری کو آرڈنیشن اپوا دھیر تک براجمان تھیں جو بہت ہی محبت رکھنے والی فیاض دل انسان ہیں.

    صدر صاحب بھائی ایم ایم علی جو کہ کتاب "صدائے حق” کے مصنف ہیں, جوائنٹ سیکرٹری و مقرر حفصہ خالد کے ساتھ جبکہ سیکرٹری اطلاعات سفیان علی فاروقی نائب صدر محمد اسلم سیال کے ساتھ نششت رکھے ہوئے تھے.

    چونکہ رات کا سفر تھا لہذا پوری بس مدھم رشنیوں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی لیکن ہم دوست جب اکٹھے سفر پر ہوتے ہیں تو سفر میں مشکل سے ہی سو پاتے ہیں ہمارا زیادہ تر سفر ہنستے بولتے قہقے لگاتے جاگتے ہوئے گزرتا ہے ہم آنے والے لمحوں کے لیے اس قدر پرجوش ہوتے ہیں کہ نیند ہماری آنکھوں سے میلوں دور ہوتی ہے.خاص طور پر جب ہمارے ساتھ زندہ دل حفصہ خالد ہوں جن کے بنا ہمارا کوئی سفر نہیں ہوا کبھی اور محفلِ جاں علی بھائی ہوں تو سفر کا مزہ دو گناہ بڑھ جاتا ہے اس بار حس مزاح سے بھرپور سفیان علی بھائی بھی پہلی بار ہمارے ساتھ سفر میں موجود تھے جن کی شخصیت بظاہر تو سنجدیگی سے بھرپور ہے مگر وہ اس قدر پرمزاح اور اچھے انسان ہیں یہ سفر کےدوران معلوم ہوا.

    پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر میں نے زیادہ تر انہی لوگوں کے ساتھ کی ہے لہذا انکے ساتھ تجربہ ہمیشہ خوشکن اور خوشگوار رہا ہے مگر کمراٹ کا سفر سب سے زیادہ یادگار رہا ہے جسکی یادیں ہمیشہ میرے دل کے نہاں خانوں میں موجود رہیں گی.
    جو سفر میرا اس ٹیم کے بنا ہوا ہے وہ خاص خوش آئندہ کبھی نہیں رہا کیونکہ سفر میں ہم خیال دوست ساتھ ہوں تو سفر طویل اور بوجھ نہیں لگتا بلکہ سفر کا مزاہ دوبالا ہوجاتا ہے.

    ہمارا پہلا پڑاؤ تقریباً بیس بچیس منٹ کا رات ایک بجے پشاور موڑ پر ہوا جہاں تمام مسافر تازم دم ہونے کے لیے بس سے اتر آئے جن میں ہم بھی شامل تھے.اس موڑ پر موجود دکان سے اسلم بھائی نے ہم سب کو چائے پلائی جسکا ذائقہ آج بھی زبان پر محسوس ہوتا ہے اس سفر کی شروعات کی یہ پہلی چائے تھی جس کے بعد ایسی بہترین چائے دوبارہ پورا سفر پینا نصیب نہ ہوئی.
    (جاری ہے)

  • دختران ملت کی سربراہ آپا جی آسیہ اندرابی  کی طبیعت شدید خراب ہوگئی

    دختران ملت کی سربراہ آپا جی آسیہ اندرابی کی طبیعت شدید خراب ہوگئی

    دختران ملت کی سربراہ آپا جی آسیہ اندرابی کی طبیعت اچانک شدید خراب ہوگئی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں‌ دختران ملت کی سربراہ آپا جی آسیہ اندرابی صاحبہ کی طبیعت اچانک شدید خراب ہوگئی ہے جس کے بعد انہیں ہاسپٹل منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں وینٹی لیٹر پہ ڈال دیا گیا،
    آپ بھائیوں سے درخواست سے آپا جی کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں
    یہ لوگ امت مسلمہ کا حقیقی سرمایہ افتخار ہیں، آپا جی کے شوہر عرصہ 25 سال سے انڈیا کی جیل میں قید ہے سلام ہے امت کی اس عظیم ماں کو بچے بھی پال رہی ہے شوہر کا غم اپنی جگہ مگر نظریہ سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں
    اللہ تعالی آپا جی کو سلامتی والی زندگی نصیب فرمائے، ان کو دکھوں کو جلد سے جلد ختم کردے ،کشمیریوں کا آزادی کا خواب میرا رب جلد پایہ تکمیل تک پہنچا دے۔کشمیریوں کی تیسری نسل جہاد میں قربانیاں دینے کے لئے میدان عمل میں اتر آئی ہے۔

    آسیہ اندرابی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی حامی ہیں۔ زندگی کا کافی حصہ وہ بھارتی جیلوں میں گزار چکی ہیں۔ آسیہ اندرابی کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی بانی ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق دختران ملت کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کے لیے کام کرنے والی آل پارٹیز حریت کانفرنس کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد کشمیر کی بھارت سے علیحدگی ہے۔ آسیہ اندرابی کشمیر علیحدگی پسند خواتین میں سب سے اہم ہیں۔ ان کے حامی انہیں آئرن لیڈی کہتے ہیں۔آسیہ کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھی جیل میں قید ہوئے 28 برس ہو گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ دختران ملت کی چیئرپرسن سیدہ آسیہ اندرابی 2017 سے دہلی میں قید ہیں، انہیں مودی سرکار نے پاکستان کا پرچم اٹھانے اور پاکستان زندہ باز کے نعرے لگانے کے جرم میں غداری کا مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا ہوا ہے،25 مارچ 2015 کو آسیہ اندرابی نے کشمیر میں پاکستان کا قومی ترانہ گاتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرایا۔ بعد ازاں اسی سال پاکستان کے یوم آزادی پر دختران ملت کی چیئرپرسن نے ایک تقریب میں پاکستانی پرچم لہرایا، 12 ستمبر 2015 کو حریت پسند رہنما سیدہ آسیہ اندرابی نے ایک گائے ذبح کر کے اس کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کی پابندی پر احتجاج کیا تھا،سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں.

  • ”پی ڈی ایم کا فلاپ شو۔۔۔آنکھوں دیکھا حال“    نسیم الحق زاہدی کے قلم سے

    ”پی ڈی ایم کا فلاپ شو۔۔۔آنکھوں دیکھا حال“ نسیم الحق زاہدی کے قلم سے

    ایک صحافی،اہل قلم کو ہمیشہ غیر جانب دار ہونا چاہیے حق بات کرنی اور کہنی چاہیے نتائج خواہ جو بھی ہوں۔گذشتہ شب ہمارے ایک ہردلعزیز صحافی دوست ممتاز حیدر اعوان کہنے لگے کہ اب کی بار پی ڈی ایم کی سونامی دیکھ کر کچھ لکھیں گے،حامی بھری اور پانی سے بھرے ہوئے منیار پاکستان کی طرف جانب سفر ہوئے سردی بھی اچھی تھی اور موسم بھی دلفریب تھا اوپر سے مختلف سیاسی جماعتوں کے مخصوص سیاسی ترانے گڈمڈ ہوکر عجیب ہی سماں باندھ رہے تھے،جیسے عطاء اللہ کا گانا نصیبولال کی آواز میں چل رہا ہو۔میں نہ تو لیگی ہوں نہ تحریکی ہو ں نہ ہی جیالہ ہوں الحمدللہ میں پاکستانی ہوں جو اپنے وطن سے عشق کی حد تک محبت کرتا ہے۔

    پہلی بات جو باعث تعجب تھی کہ اس جلسہ میں ملتان یا گوجرانوالہ جیسی کوئی صورت حال نہ تھی نہ تو کسی کارکن کو گرفتار کیا گیا تھا نہ ہی کہیں راستوں میں رکاوٹیں تھیں،جلسہ گاہ منیار پاکستان جس کو مشہور کیا گیا تھا کہ اسے پانی سے بھر دیا گیا تھا وہاں پر دریائے راوی کا منظر جو بتایا جارہا تھا ہماری آنکھیں اس منظر کو دیکھنے سے قاصر تھیں۔محمود اچکزئی جوش خطابت میں ہم لاہوریوں کو غلام اور یقینا غدار بھی کہہ رہے تھے۔عوام کا بحر جو بتایا جارہا تھا ایسا تو کچھ نہ تھا رش تھا مگر لوگ شاید ان گھسے پٹے نعروں کواور کھوکھلے دعوؤں کو سن سن کر تھک چکے ہیں اس لیے پنڈال میں لوگ آجارہے تھے بیٹھے ہوئے کم تھے شاید ہماری افلاس زدہ عوام کو بھٹو کی وفات کااور شیر کی دھاڑ کا یقین آچکا ہے۔میں اس بات کو مانتا ہوں کہ موجودہ حکومت نے جو جو وعدے اور دعوے کیے تھے ان پر پورا نہیں اتر سکی،مہنگائی کی عفریت بڑی تیزی سے انسانوں کو نگل رہی ہے۔ریاست مدینہ کے دعوے دار عوام کوروٹی،کپڑا،مکان،صحت اورتعلیم جیسے بنیادی حقوق دینے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔احتجاج کرنے کا حق سب کو ہے مگر مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ اگر گیارہ جماعتوں نے آج جن کا اتحاد پی ڈی ایم کی صورت میں ہے یہ ملک کے خیرخواہ تھے تو پھر ملک کو ہم جیسے افلاس زدہ روٹی چوروں نے لوٹا ہے؟؟

    آج مولانا فضل الرحمن کہہ رہے ہیں کہ وہ ملک کے سب سے بڑے وفادار ہیں انہوں نے ملک کی بہت خدمت کی ہے ہائے افسوس کہ انہوں نے مسلسل تقریباً ہر حکومت میں اقتدار کے مزے لوٹے ہیں مگر اس وقت انکو سب ٹھیک کیوں لگتا تھا؟اس لیے کہ انکا دین سیاست کے لیے ہے اور انکی منزل اسلام نہیں اسلام آباد ہے۔مجھے تو ساجد میر کی سمجھ نہیں آتی کہ اہلحدیث تو بڑے توحید پرست ہوتے ہیں الحمدللہ میں بھی توحید پرست ہوں جو دین غیر محرم عورت کو دیکھنے سے بھی منع کرتا ہے آج اس دین کا داعی قوم کی پے پردہ بیٹی کا مسجد میں والہانہ استقبال کرتاہے۔افسوس کہ کبھی کسی گستاخ رسول ؐ کو سزا دلوانے کے لیے یا ملکی مفادات کی خاطر اتنی سیاسی پارٹیوں نے اتحادتونہیں کیا ہے؟؟؟ کیوں کہ کوئی بھی محب وطن نہیں کوئی بھی عوام کا خیرخواہ نہیں سبھی اپنے مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔غیر ملکی فنڈنگ کھا کر وطن عزیز سے نفرت کرنے والے آج عوام دوست بن رہے ہیں جن کا اپنا دامن تار تارہے وہ دوسروں پر پتھر پھینک رہے ہیں؟؟؟

    پی ڈی ایم کے لوگوں کا کہنا تھا کہ آج کا جلسہ عاشق رسولؐمولانا خادم حسین رضوی کے جنازے سے بڑھا ہوگا مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گیارہ جماعتوں کا اتحاد ملک بھر سے گیارہ لاکھ کارکن بھی جمع نہ کرسکا۔اس سے بڑا اجتماع تو ڈاکٹر طاہر القادری کاہر سال بارہ ربیع الاول پر ہوتا ہے۔ محترمہ مریم نواز کی تقریرشر انگیزی سے بھر پور تھی،جس میں خیر کی کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ اقتدار کی ہوس میں انسان کو اس قدر بھی اندھا نہیں ہوناچاہیے کہ اپنے ہی محسنوں پر دشنام طرازیاں شروع کردی جائیں۔مسلم لیگ ن تو افواج پاکستان کی کردار کشی کرنے ٹھیکہ ہی لے لیا ہے۔جس کا دل چاہتاہے منہ اٹھا کہ قومی سلامتی کے اداروں پر الزام تراشی شروع کردیتا ہے۔ جو قومیں اپنے محسنوں کی قربانیوں کو فراموش کردیتی ہیں وہ قومیں تباہ ہوجاتی ہیں۔محترمہ مریم صفدر اعوان آپ نے پاکستان اور اسلام محافظ ایجنسی پر الزامات کی بوچھاڑ کی سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشااور جنرل ظہیر السلام کو نشانہ بنایا آپ نے افواج پاکستان کو نشانہ بنایا محترمہ اگر آپ اس وطن عزیز میں عزت واحترام کے ساتھ آزادزندگی گزار رہی ہیں تو اس کے پیچھے بھی وری ہے۔یقین کیجئے اگر آج وطن عزیز ہے تو رب تعالیٰ کی رحمت کے بعد ان دھرتی کے عظیم سپوتوں اور جانثاروں کی قربانیوں کی بدولت ہے۔دھرتی ان جوانوں کی مقروض ہے۔محترمہ آپ بھی تو ایک فوجی کیپٹن کی بیوی ہیں کم ازکم یہ الزام تراشیاں آپکو زیب نہیں دیتیں۔دھرتی کے رکھوالوں پر باتیں کرنا بہت آسان ہیں کبھی بلاول اٹھتا ہے تو افواج پاک پراغیار کی زبان بولنا شروع کردیتا ہے۔محترمہ مریم صفدراعوان آپ کبھی انہی دسمبر کی یک بستہ راتوں میں گلیشئر کی رگوں میں خون کو منجمد کردینے والی سردی میں ایک رات تو دور کچھ لمحات ہی گزار کر دیکھاؤپھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ دھرتی کے رکھوالے اس مٹی کی حفاظت کواپنا ایمان سمجھتے ہیں اور اس کی خاطر قربان ہونا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔اس ملک کے اصل رکھوالے تو یہ وردی والے ہیں۔

    محترمہ مریم صفدر آپ نے شہیدوں کے والدین کے دلوں کو دکھایا ہے آپ اپنے بیٹے کو افواج پاکستان میں بھیجیں پھر جب آپکا بیٹا شہید ہوجائے تو پھر جب کوئی بھی افواج پاکستان پر الزام تراشی کرے گا تو اس وقت آپ کو احساس ہوگا؟آپ کو پھر اندازہ ہوگا۔بلال زرداری آپ بھی افواج پاکستان پر بہت زیادہ تنقید کرتے ہوکبھی جسم کو جھلسا دینے والی ریگستانوں کی گرمی کے اندر موٹی وردی پہن کر پیدل چلناپھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ ملک جسے آپ کے آباؤاجداد سالوں سے نوچ نوچ کرکھارہے ہیں اگر قائم ودائم ہے تو انہی اللہ کے سپاہیوں،بدروحنین کے جانشینوں کی بدولت ہے مگر جناب کیا جانیں اے سی اور ہیٹر کمروں میں بیٹھنے والوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوسکتا بلاول زرداری سندھ میں انسانیت تو دم توڑ چکی ہے مگر میں محوحیرت ہوں کہ بھٹو وہاں آج بھی زندہ ہے۔آخر میں صرف اتنا ہی کہنا ہے کہ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا۔ پی ڈی ایم کے دعوے دھرے کہ دھرے رہ گئے ہیں اور یہ کہنا ہوگز غلط نہ ہوگا کہ پی ڈی ایم کا یہ شو فلاپ ہوچکا ہے۔۔۔وہ بھی بری طرح سے۔

  • موسم، جلسہ اور کورونا از قلم سعید  چیمہ

    موسم، جلسہ اور کورونا از قلم سعید چیمہ

    موسم، جلسہ اور کورونا

    موسم بھی اب تو شدید ہونے لگا ہے، جسم و روح پر ٹوٹنے والی مصیبتوں میں ایک اور افتاد کا اضافہ ہو گیا ہے۔ سردی کا موسم ہمیشہ سے ہی درویش کے جسم پر بھاری گزرتا ہے، امام الہند یعنی مولانا ابوالکلام آزاد سے شدید انسیت کے باجود بھی سرد موسم نہیں بھاتا۔ غبارِ خاطر میں مولانا لکھتے ہیں کہ صبحِ صادق کے وقت اگر آتش دان کے سامنے بیٹھ کر چائے کے جام پر جام میسر ہوں تو کون کم بخت ہو گا جو کسی اور چیز کی تمنا کرے گا، مولانا کے ہاں چائے سے مراد کچھ اور تھا۔ دودھ، پتی اور چینی کے ملاپ کو مولانا ملغوبہ کہتے تھے، فرماتے تھے کہ یہ انگریزوں کی بدعت ہے کہ انہوں نے چائے میں دودھ شامل کر دیا اور اب تو حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ دودھ میں چائے شامل کی جاتی ہے۔ عبدالرزاق ملیح آبادی راقم طراز ہیں کہ مولانا چائے خود بناتے تھے اور پینے والا عش عش کر اٹھتا تھا۔ خیر اب تو دودھ، پتی اور چینی کا ملغوبہ ہی چائے بن چکی ہے اور یہی ملغوبہ اب جسم کی فرحت کا سامان کرتا ہے، مگر کچھ امراض کا علاج بھلا دواؤں سے کہاں ہوتا ہے، ایک طرف تو اس کم بخت سردی نے بستر کے زندان میں قید کر دیا ہے تو دوسری طر لوگوں کی مستعدی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مجال ہے جو لوگ سردی اور کورونا کے ملاپ سے بھی خوفزدہ ہوں، عاشقوں کے محلے میں لاہور کے جلسے کی دھوم ہے، لوگ نعرہ مستانہ بلند کر رہے ہیں کہ پاکستانی سیاست کا رخ بدل جائے گا، اپنی تمام تر عقل کو بروئے کار لانے کے باوجود بھی درویش سمجھنے سے قاصر ہے کہ پاکستانی سیاست کا رخ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہو گا، اور جو رخ بدلنے کی تگ و دو میں ہیں وہ تو خود گردشِ ایام میں الجھے ہوئے ہیں، موجِ حوادث کے تھپیڑوں نے ان کا سفینہ بہت پہلے ڈبو دیا تھا، مگر داد تو دینی پرے گی کہ سفینہ ڈوب گیا مگر وہ لوگ سفینے کے تختوں پر بیٹھ کر ٹائی ٹینیک پر سوار مخالفوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، نا ہنجار لوگ اگر اس مقابلے کو بیوقوفی کہیں تو ان پر درویش کی طرف سے کوئی قدغن نہ ہو گی، اس مقابلے کا نجام کیا ہو گا ، پیشن گوئیاں تو کی جا سکتی ہیں مگر ختمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بازگشت لاہور کے جلسے کی ہو رہی ہے، ایک کالم نگار تو عوام کے لیے اس جلسے میں شرکت کو فرض قرار دے چکے ہیں، ان صاحب کی معصومیت کے کیا کہنے، ان کو کچھ پروا نہیں کہ کورونا پھیلے یا کم ہو، یہ بات دھیان میں رہے کہ موصوف خود بھی کورونا کا شکار ہو چکے ہیں، "ان کی آنکھوں، کانوں اور دلوں پر مہریں لگا دی جاتی ہیں”، درد مندانہ سوال ہے کہ عوام کو جلسے میں شرکت کی ترغیب دینے والے کالم نویس کیا خود اس جلسے میں شرکت کریں گے؟ پہلے سیاست دان ہم ایسے عوام کو انسان نہیں سمجھتے تھے اب تو شاید ان کالم نگاروں کے لیے بھی ہم انسان نہیں رہے۔ گزشتہ دنوں ریحان احمد یوسفی (جن کا قلمی نام ابو یحییٰ ہے) کا ناول "قسم اس وقت کی” زیرِ نظر تھا، ناوال میں لکھا ہوا پایا کہ ذہانت کی ایک حد ہوتی ہے مگر حماقت کی کوئی حد نہیں ہوتی، اب ہم باشندگانِ پاکستان بھی شاید وہی لوگ ہیں جن کی حماقت کی کوئی حد نہیں، جو باربار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جاتے ہیں لیکن پھر بھی اس سوراخ سے پاؤں نہیں ہٹاتے، رسالتمآبﷺ نے کہا تھا کہ مومن کو ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جا سکتا، ہمارا بحثیتِ قوم یہ حال ہے کہ
    میں چوٹ بھی کھاتا جاتا ہوں اور قاتل سے بھی کہتا جاتا ہوں
    توہین سے دست و بازو کی وہ وار کہ جو بھرپور نہ ہو
    رؤف کلاسرا پہ خدا رحم کرے، کمال انسان ہیں، مشرف دور میں لندن میں ہونے والی ملاقاتوں کے چشم دید گواہ ہیں، اپنے کالموں میں اکثر وہ ان ملاقاتوں کی روداد بیان کرتے ہیں، روداد پڑھ کر آنکھوں میں لالی اتر آتی ہے اور سر ندامت سے جھک جاتا ہے کہ یہ ہمارے لیڈران تھے اور ان ایسوں کے بچے ہمارے رہ نما ہوں گے جنہوں نے ہماری مشکلات سے کبھی چشم ہی چار نہیں کیے، خدا بھلا کر ہم پاکستانیوں کا بھی جو غیر ضروری چیزوں کی طرف دل کھول کر متوجہ ہوتے ہیں، کل رات ایک استادِ محترم فیس بک پر شکوہ کر رہے تھے کہ جب میں آن لائن کلاس لیتا ہوں تو کلاس میں تیس طالبعلم بھی نہیں ہوتے مگر جب گل پانڑہ فیس بک پر لائیو آتی ہے تو دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں چلی جاتی ہے، پس ثابت ہوا کہ اس قوم کو تعلیم کی نہیں بلکہ گلوکاروں کی ضرورت ہے، اگر ہمارے ہاں تعلیم کا راج ہوتا تو مجال ہے کہ لوگ جلسے میں شرکت کرتے، مگر چوں کہ نیم خواندہ لوگوں کی ذہنیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی بات کا اثر قبول کر لیتے ہیں، اس لیے جلسے میں شرکت کرنے والوں سے بھی درویش کوئی شکوہ روا نہیں رکھے گا، ہماری طرح آپ بھی دعا کیجیئے کہ جلسے کے بعد کورونا پھیلنے کی شرح میں اضافہ نہ ہو، مگر صرف لبوں سے نکلی ہوئی دعائیں کب قبول ہوتی ہیں، اعمال کرنے پڑتے ہیں قبولیت کے لیے اعمال کرنے پڑتے ہیں۔

  • تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    تھوہا محرم خان میں طالبات کا استحصال

    ہر حکومت نے اپنے دور میں مفت اور معیاری تعلیم کا نعرہ لگایا ہے لیکن تعلیم محض پانچ جماعتیں پڑھنے کا نام تو نہیں (UPE)یونیورسل پرائمری ایجوکیشن کے نعرے دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے کہ مصداق پر کشش تو ہیں لیکن کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ آج کل کے دور کا تقاضا محض پرائمری تعلیم نہیں بلکہ دور حاضر کی جدت ہم سے ہر شعبہ زندگی کی طرح تعلیم میں بھی Do Moreکا مطالبہ کرتی ہے۔مقابلے کی اس فضا میں جب ملک میں ایم اے لوگ تو کسی گنتی میں نہیں ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی تگ و دو کا شکار ہیں کیسے اس بات کو جوا ز مہیا کیا جا سکتا ہے کہ حکومت پرائمری تک تعلیم دے کر بری الذمہ ہے؟پھر اس میں بھی ایک تلخ خقیقت یہ ہے کہ پرائمری ایجوکیشن میں تمام زور لڑکوں کے لیے ادارے بنانے میں ہے۔
    تھوہا محرم خان میں بھی یہ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے 30سے زائد سکولوں میں لڑکیوں کے سکول پانچ یا چھ ہوں گے۔لاوہ تحصیل کے بعد موضع تھوہا محرم خان ایشیاء کا دوسرا بڑا قصبہ ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔اس کا رقبہ اورآبادی دونوں غیر معمولی ہیں۔ ضلع چکوال میں یہ شائدواحد گاؤں ہے جہاں نہ صرف دو یونین کونسلز ہیں بلکہ 30سے زائد سرکاری سکول بھی کام کر رہے ہیں۔ بادی النظر میں تو ایک گاؤں میں 30سکول کافی سے زیادہ ہیں لیکن یہاں حقائق انتہائی تلخ ہیں۔مرکزی شہر تھوہا محرم خان کے ساتھ ملحق کئی ڈھوکیں ایسی ہیں جہاں نہ صرف لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ ان کے لیے تعلیم خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم ایک سراب کی حیثیت رکھتی ہے۔ تھوہا محرم خان سے ڈھرنال کی جانب جانے والے پختہ راستہ پر دو موڑ ایسے ہیں جہاں سے راستہ آپ کو لیجاتا ہے ان آبادیوں میں جہاں بجلی کسی حد تک 2020میں مہیا کر دی گئی ہے لیکن دیگر ضروریات زندگی سے کوسوں دور،تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کئی چھوٹی چھوٹی بستیاں کسی مسیحا کی منتظر ہیں۔ ڈھوک کنڈ میاں محمد،ڈھوک تلہ جابہ،ڈھوک دابڑ ڈھبہ یہ تین علاقے تھوہامحرم خان کی یونین کونسل 58میں شامل ہیں یہاں ہر ڈھوک پر ایک ایک بوائز پرائمری سکول موجود ہے۔ ڈھوک ڈابڑ ڈھبہ سکول میں طلباء کی تعداد 95ہے جس میں لڑکیاں 49ہیں۔ گورنمنٹ پرائمری سکول کنڈ میاں محمد میں طلباء کی تعداد 175ہے جس میں 70 سے زائد لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ جبکہ گورنمنٹ پرائمری سکول تلہ جابہ میں تعدادطلباء 94ہیں ان میں لڑکیوں کی تعداد42ہے۔کل مِلا کر ان تین سکولوں میں لڑکیوں کی تعداد 161ہے۔لیکن اسی علاقے میں تین سکولوں کے UPEسروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ درجنوں لڑکیوں کے والدین گرلز سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں کو مدارس میں بھیج رہے ہیں یا پھر گھر بٹھا رکھا ہے۔یعنی بنیادی تعلیم تک بھی لڑکیوں کی رسائی 100فی صد نہیں ہے جبکہ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہواکے مصداق المیہ صرف یہ نہیں بلکہ اس سے آگے یعنی ایلمنٹری ایجوکیشن تک رسائی تمام طالبات کے لیے نہایت مشکل ہے۔ نہ تو والدین کے معاشی وسائل اتنے ہیں کہ وہ لڑکیوں کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرسکیں اور نہ ہی علاقہ کا محل وقوع اجازت دیتا ہے کہ لڑکیاں اکیلی گھر سے دور روزانہ آئیں جائیں۔ان علاقوں میں عام طور پر پنجم جماعت کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کا فی تصور کرتے ہوئے ان کو گھر بٹھا لیا جاتا ہے۔ علاقہ کا نزدیک ترین گرلز پرائمری سکول ڈھبہ ہرمل ہے جہاں کسی حد تک ڈھوک دابڑ ڈھبہ کی آبادی کو اس کا فائدہ ہے لیکن اس کا دائرہ کار چند نزدیکی گھروں تک محددود ہے۔تلہ جابہ سے گرلز سکول ڈھبہ ہرمل کا فاصلہ 8کلومیڑ جبکہ کنڈ میاں محمد سے یہ فاصلہ12کلومیٹر ہے۔ یہ فاصلہ ایک سکول تا دوسرے سکول ماپ کر لکھا گیا ہے۔ اصل مسائل ہر سکول سے ملحق آبادیوں کے لیے ہیں۔ جو ان سکولوں کا فیڈنگ ایریا تصور کی جاتی ہیں۔ڈھوک کنڈ میاں محمد پرائمری سکول میں بچے اور بچیاں ڈھوک سڑیا،ڈھوک گوچھڑشمالی حصہ، ڈھوک چھوئی مجید ڈھوک، گلی،ڈھوک ولاوئیں، ڈھوک کنڈ،ڈھوک ککڑ،ڈھو ک ڈ نگا گاٹا سے پڑھنے کے لیے ایک تا چار کلومیٹر جبکہ بعض دور کی ڈھوکوں سے پانچ تا چھ کلومیڑ تک پیدل چل کر آتے ہیں۔ تلہ جابہ پرائمری سکول میں بھی صورتحال یہی ہے ڈھوک گوچھڑ کاجنوبی حصہ، ڈھوک وچھوال، ڈھوک لیٹاں، ڈھوک ڈانڈا، ڈھوک پٹیاں، ڈھوک مہلی، ڈھوک کاچھل، سے بچے ایک تا چھ کلومیٹر پیدل سفر کرکے سکول پڑھنے آتے ہیں۔ان تما م علاقوں کو لڑکیوں کی پنجم سے آگے تعلیم کے لیے دو سکول میسر ہیں ایک کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے یعنی گرلز ایلمنٹری سکول ڈھبہ ہرمل جس کا فاصلہ ان ڈھوکوں سے 10کلومیٹر سے کم نہیں، جبکہ دوسرا سکول ان علاقوں سے پندہ کلومیٹر دور تھوہا محرم خان گرلز ہائی سکول ہے۔علاقے کی جغرافیائی ساخت سے نا واقف معزز قارئین کو ممکنہ طور پر بیان کیا گیا فاصلہ کم محسوس ہو لیکن واقفانِ حال جانتے ہیں یہ نیم پہاڑی علاقہ ہے جس کے75فیصد راستے محض ٹریکٹر یا جانوروں اور موٹر سائیکل سواروں کی گزر گاہ ہیں۔علاقے کو ایک نیم پختہ سڑک تھوہا محرم خان سے ملاتی ہے لیکن اس پر پبلک ٹرانسپورٹ بالکل نہیں چلتی علی الصبح چند گاڑیاں تلہ گنگ جاتی ہیں جو شام ڈھلے گاؤں کا رخ کرتی ہیں۔اس طرح طلبہ کو علاقائی ٹرانسپورٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پرائمری پاس لڑکے تو موٹر سائیکل، سپیشل گاڑیوں پر (اکثر چھتوں پر یا سائیڈ پر لٹک کر) تھوہا محرم خان بوائز ہائی سکول یا کھوڑ بوائز ایلمنٹری سکول تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کا بہت سا وقت اور توانائی آنے جانے میں صرف ہو جاتی ہے۔اس پر مرے کو ماریں شاہ مدار کے مصداق زرعی پس منظر کی وجہ سے سکول سے واپسی پر کافی وقت کھیتی باڑی اور مال مویشی سنبھالنے میں گزر جاتا ہے۔جبکہ لڑکیاں تو 5یا 10سے زیادہ پنجم سے آگے پڑھنے بھیجی ہی نہیں جاتیں۔ان 5یا10میں سے بھی کئی ایک کو 8جماعتیں پوری ہونے سے پہلے سکول سے نکلوا لیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کنڈ میاں محمد پرائمری سکول کو نہ صرف اپ گریڈ کر کے ایلمنٹری کیا جائے بلکہ علاقے میں لڑکیوں کا ایک ایلیمنٹری سکول بھی بنایا جائے جس کو داخلے کا رجحان اور نتائج سے مشروط کر کے ہائی کرنے کی بھی امید دلائی جائے۔اہل علاقہ پر یہ حکومت وقت،سیاسی معززین اور سرکردہ شخصیات کا ایک ایسا احسان ہو گا جس کا ثمر ان کو اللہ کے ہاں تو ملے گا ہی ان شا اللہ آنے والی نسلوں تک دنیا میں بھی اس اہم ترین کاوش کو یاد رکھا جائے گا۔ قارئین آنے والا ہر دن ہمیں اس طرف لیجا رہا ہے جب انسان وہی کامیاب اور دولت مند ہو گا جس کے پاس علم ہو گا۔عالمی اداروں میں پیشہ وارانہ مہارتوں کو جس شرح سے ترجیح دی جا رہی ہے آنے والے چند سالوں میں تعلیم سے بڑا نہ تو کوئی خزانہ ہو گا اور نہ اس کا کوئی نعم البدل ہوگا۔تھوہا محرم خان ضلع چکوال کے ان چنیدہ علاقوں سے ہے جہاں ٹیلنٹ کی بہتات ہے لیکن یہ تمام تر ہونہار،ذہین اور قابل طلبہ و طالبات مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے دن بدن ضائع ہو رہے ہیں۔یہ تحریر تھوہا محرم خان کے خواص و عوام کے منجمد احساسات و خیالات کی جھیل پر پہلا کنکر ہے۔ان شاللہ علاقہ میں بچوں کا مستقبل محفوظ بن جانے تک ہر سماجی،سیاسی اور معاشرتی دہلیز پر بذریعہ قلم دستک جاری رہے گی کیوں کہ ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا۔

    (کاشف شہزاد تبسم،مبشر حسن شاہ)

  • قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    قیام امن کے لئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ازقلم غنی محمود قصوری

    جب تک امن و امان قائم نا ہو قومیں ملک اور معاشرے ترقی نہیں کر سکتے

    انسان خطا کا پتلا ہے اور اس سے کئی طرح کی خطائیں ہوتی رہتی ہیں جن کی اصلاح کیلئے احتسابی نظام بنایا جاتا ہے تاکہ خطاء پر سزا دے کر اصلاح کی جاسکے اور آگے سے دوبارہ خظا نا ہو

    ہمارے معاشرے میں ہر فرد کے احتساب کا قانون موجود ہے جس کے تحت سزائیں و جرمانے کئے جاتے ہیں

    جیسا کہ سویلین کے لئے کئی طرح کی عدالتیں قائم ہیں جن میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سب سے مشکل اور کٹھن احتساب فوج کا ہے جسے کورٹ مارشل ( عسکری عدالت) کہتے ہیں جو کہ 1951 کو شروع کیا گیا اور آج بھی موجود ہے اور اسی کے ذریعے فوجی ججوں پر مشتمل عدالت میں مسلح فوج کے افسروں و جوانوں پر جنگی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات چلا کر سزائیں دی جاتی ہیں تاہم سویلین پر بھی کورٹ مارشل لاگو ہے کیونکہ فوج کے اندر بہت زیادہ سویلین بھی کام کرتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹرز ،پیرا میدیکل سٹاف اور دیگر شعبوں میں سویلین تعینات ہیں اس لئے ان کا بھی کورٹ مارشل کیا جاتا ہے جیسا کہ 2018 میں آرمی ہسپتال میں تعینات سویلین ڈاکٹر وسیم اکرم کو آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت کی سزا سنائی گئی اسی طرح بریگیڈیئر راجہ رضوان کو ملک دشمن ایجنسی را سے معاونت پر آفیسرز سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی

    کورٹ مارشل کا ٹرائل زیادہ تر دو سے چھ دن میں کر دیا جاتا ہے اور دوران ٹرائل ملزم کو اپنے دفاع کا پورا موقع فراہم کیا جاتا ہے

    عسکری عدالت سے سزا یافتہ فوجی دوبارہ ڈیوٹی نہیں کر سکتا اور اس کو مراعات بھی نہیں دی جاتیں اور کریمنل ریکارڈ بنا کر پوری زندگی کسی بھی سرکاری محکمے میں نوکری کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور اس کی سزا کو مکمل کئے بغیر ختم نہیں کیا جاتا

    سول اور عسکری احتساب میں کافی فرق ہے جیسا کہ سویلین مقدمے میں سزا پانے والے قیدی کو اپنی سزا پر التجاء کرنے کا حق ہوتا ہے جیسا کہ سزائے موت کا قیدی اپنی سزا کو عمر قید میں یا صدر پاکستان سے رحم کی اپیل کی صورت میں کم کروا سکتا ہے جبکہ عسکری عدالت سے سزا پانے والا قیدی ایسے طریقے سے مستفید نہیں ہو سکتا

    سول گورنمنٹ ملازمین پر کرپشن و بدعنوانی کے مقدمات سول کورٹس و محکموں کی کمیٹیوں میں نمٹائے جاتے ہیں جن کا دائرہ کار بہت لمبا ہوتا ہے بعض دفعہ سالوں سال لگ جاتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر معمولی سزا دی جاتی ہے مگر جبکہ کریمنل ریکارڈ بھی نہیں بنایا جاتا زیادہ تر تو معطل ملازمین کو چند ماہ بعد ہی باعزت بری کر دیا جاتا ہے اور ساری رکی ہوئی مراعات بھی دی جاتی ہیں جس سے ان کرپٹ عناصر کو مذید شہہ ملتی ہے

    اس وقت پاکستان کے محکموں میں کرپشن کی انتہا ہے خاص طور پر محکمہ پولیس میں بغیر رشوت کے کام ایک معجزہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور سب سے زیادہ قانون شکنی بھی محکمہ پولیس میں ہوتی ہے حالانکہ آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 کے تحت پولیس کا کام امن و امان کی بحالی ہے مگر پاکستان کی کل ساڑھے 4 لاکھ پولیس رشوت کا گڑھ اور لوگوں کے لئے خوف کی علامت ہے جبکہ آئے روز پولیس ملازمین کی طرف سے لوگوں سے پیسے لے کر مخالفین کا ماورائے آئین و عدالت قتل کرکے پولیس مقابلہ قرار دیا جاتا ہے

    پولیس کے خلاف مقدمات سول عدالت میں چلتے ہیں کمزور عدالتی نظام اور گواہوں کو ڈرا دھمکا کر یہ صاف بچ نکلتے ہیں زیادہ تر عدالتوں سے مقدمات میں سے بچ نکلنے والے پولیس اہلکاران و افسران مذید دہشت و خوف کی علامت بن جاتے ہیں جیسا کہ سندھ پولیس کا راؤ انوار جعلی پولیس مقابلوں کے باعث خوف کی علامت بنا ہوا ہے اور اسی کمزور نظام کے باعث ہر بار صاف بچ جاتا ہے حالانکہ نقیب اللہ معسود کے قتل کے کافی شوائد بھی اسے سزا نا دلوا سکے

    اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ سول محکموں خاص طور پر پولیس اصلاحات کیلئے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 8 ،(3) میں ترمیم کی جائے اور پولیس اہلکاران کا کورٹ مارشل کیا جائے تاکہ معطل ملازم دوبارہ بحال نا ہو اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں

    جس دن پولیس نظام ٹھیک ہو گیا اسی دن ملک پاکستان سنورنا شروع ہو جائے گا کیونکہ جب کسی کی چوری ہوتی ہے تو اسے اپنی ایف آئی آر درج کروانے کیلئے پولیس کو مذید رشوت دینی پڑتی ہے سو مجبوراً وہ بندہ رشوت دیتا ہے اس کی چوری چاہے ملے نا ملے رشوت کے بغیر کام نہیں چلتا سو وہ بندہ اپنی چوری و رشوت کی کمی پوری کرنے کیلئے کسی دوسرے کو مالی نقصان پہنچاتا ہے اگر وہ تاجر ہے تو اپنے دام تیز کر دے گا اگر وہ ملازمت پیشہ ہے تو لوگوں سے جائز کام کے عیوض رشوت لے گا اور اسی طرح آگے سارا نظام خراب ہوتا جائے گا

    موجود حالات کا تقاضہ ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی پیش کردہ سمری کے مطابق قیام امن کے لیے کورٹ مارشل کا دائرہ کار وسیع کیا جائے

  • ڈسٹرکٹ پبلک سکول کے سٹاف کی کارکردگی کا جائزہ

    ڈسٹرکٹ پبلک سکول کے سٹاف کی کارکردگی کا جائزہ

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ پبلک سکول کے سٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر آفس چیمبرمیں اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر ننکانہ راجہ منصور احمدنے کی ۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد عثمان خالد ،چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ تعلیم احسن فرید،ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر،پرنسپل ڈی پی ایس آصفہ شاہین غیور،ڈسٹرکٹ آفیسر انڈسٹریز رانا وسیم ارشد نے شرکت کی۔اس موقع پر پرنسپل ڈسٹرکٹ پبلک سکول آصفہ شاہین غیور نے ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد کو سکول اور سٹاف کی کارکردگی بارے تفصیل سے آگاہ کیا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں میں بچوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے انہوں نے سکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے اساتذہ کرام کی محنت کو سراہااور تمام تر اقدامات کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط کو قائم رکھنے کی ہدایت کی۔