پی ڈی ایم کی کٹی پتنگ ۔۔از قلم راؤ فیصل
لاہور میں ایک بار پھر کسی سیاسی اتحاد نے بے موسمی میلہ سجایا۔۔ ٹھٹرتی سردی میں خون کو گرمانے کے انتظامات بھی ٹھنڈے دکھائی دئیے ۔۔ جن کے ہاتھوں میں انتظامات کی ڈور تھمائی ان کا پتنگ بازی اور لاہور کے ثقافتی رنگوں سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں تھا، جہاں ڈھیل دینی تھی وہاں کھینچا مارا اور جہاں پیچ پھنسا وہاں تنکا لگانا بھول گئے ، مجموعی طور پر انتطامی پارٹی کو لاہور کے مزاج اور ہوا کا کچھ اتا پتا نہیں تھا
مریم نواز جو کئی روز سے ڈور کو تیز مانجھا پھیر رہی تھیں اور بو کاٹا کی پریکٹس کررہی تھیں واحد ایسی پتنگ باز تھیں جو لاہور کے پیچ و خم کو جانتی تھیں لیکن یخ بستہ ٹھنڈ نے مریم نواز کی بھی قلفی جمادی اور انہوں نے حکومت مخالف گڈی تو خوب اڑائی ، بو کاٹا کے نعرے اور پرجوش انداز میں کارکنان کے بھنگڑے بھی ضرور ڈالے گئے لیکن بے موسم بسنتی میلہ دھند میں کھو گیا اب ڈر ہے کہ یہ تیز مانجھے سے کہیں اپنے ہاتھ نہ رنگ لیں اور خدشہ ہے کہ حکومت گراو تحریک پر گرفت کمزور نہ ہوجائے
میاں نواز شریف بڑی اچھا طرح سے جانتے ہیں کہ بسنت کا موسم کب آتا ہے ، ہوا کس رخ کی ہو تو گڈی خوب اڑتی ہے بو کاٹا کیسے ہوتا ہے لیکن اس بار شاید وہ لندن میں بیٹھے ہیں اور یقینی طور پر لندن سے لاہور میں پتنگ بازی کرنا تو ممکن نہیں ہو سکتا اور اگر وہ لاہور میں خود موجود ہوتے تو بے موسمی بسنت میں بھی میلہ لوٹ لیتے لیکن اب کیا کیجئے کہ لندن دور است ۔۔
اب ایک بار پھر بسنت کا انتظار کیا جائے گا فروری تک موسم کچھ بہتر ہوگا تو استعفوں کی بہار آئے گی لیکن بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں پتنگ بازی کا وہ مزا کہاں جو لاہور میں ہے اس لئے شاید بسنت تو منائی جائے لیکن بوکاٹا نہ ہوپائے بلکہ سبھی کو اپنی حدود میں گڈی اڑانی پڑے گی
Category: بلاگ
-

پی ڈی ایم کی کٹی پتنگ ۔۔از قلم راؤ فیصل
-

کرسمس مبارکباد کی شرعی حیثیت از قلم غنی محمود قصوری
کرسمس مبارکباد کی شرعی حیثیت
از قلم غنی محمود قصوری
یہ دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے جس کے اگر مثبت نتائج نکلے ہیں تو منفی بھی بہت ہیں
ہر علاقے کا رہن سہن ،رسم و رواج ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں مگر اس گلوبلائزیشن کے باعث اب ہم ایک دوسرے کے رسم و رواج کو اپنانے لگے ہیں
ان رسم رواج کے اپنانے کی بات اگر دنیاوی لحاظ تک ہو تو بات اور ہے ہم انجانے میں مذہبی رسم و رواج کو اپنانے میں بھی تحقیق نہیں کرتے کہ آیا اس سے ہمارے دین اسلام کو کوئی فرق تو نا پڑے گا
آج ہمارے اندر کفار کی مشابہت بہت زیادہ آ گئی ہے ہم ان کے کئی تہوار تک منانے سے باز نہیں آتے جن میں سے ایک کرسمس ڈے بھی ہے
اب چونکہ دسمبر کا اختتام ہونے والا ہے اور 25 دسمبر قریب ہے جس کے باعث پوری دنیا میں کرسمس ڈے کی تیاریاں عروج پر ہیں ان کی دیکھا دیکھی ہمارے مسلمان بھی اس دن کو منانے میں پیش پیش ہیں حالانکہ وہ شاید نہیں جانتے یہ کرسمس ڈے عیسائیوں کی عید کا دن ہے جسے بڑا دن بھی کہا جاتا ہے اور اسی دن عیسیٰ علیہ السلام کا برٹھ ڈے بھی منایا جاتا ہے مذید اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ صدیوں قبل آفتاب پرستوں یعنی سورج کے پچاریوں کا مذہبی تہوار بھی یہی 25 دسمبر تھا
اس دن کو منا کر اور اس دن کی مبارکباد دے کر ہم ان کفار کو راضی تو کرلینگے مگر ہم انجانے میں قرآن کا انکار کر دینگے کیونکہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ اس دن اللہ تعالی نے معاذاللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنا اور عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں جبکہ قرآن مجید کی سورہ اخلاص میں اس کرسمس کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتے ہیں
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) الله (ہے) ایک ہے
اللَّهُ الصَّمَدُ
معبود برحق ہے جو بے نیاز ہےلَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹاوَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں
اس آیت میں اللہ تعالی نے اس دن کا سخت رد فرمایا ہے تاکہ مسلمان اس دن سے دور رہیں مذید اللہ تعالی کافروں سے زیادہ میل جول نا بڑھانے پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیںاے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نا بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں،تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی کے ساتھ دوستی کرے گا وہ بلاشبہ انہی میں سے ہوگا
آللہ تعالیٰ ظالموں کو ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔۔ المائدہ 51
اس آیت میں اللہ تعالی نے واضع فرما دیا کہ کافروں سے دوستیاں نا لگاؤ کیونکہ یہ مسلمانوں کے دوست ہرگز نہیں ہوتے بلکہ یہ اپنے جیسے دیگر کافروں کے دوست ہیں اور جو پھر بھی اللہ رب العزت کی بات کا انکار کرکے ان کے ساتھ دوستانہ لگائے گا وہ انہی میں سے ہوگا کیونکہ اللہ ظالموں کو ہدایت یاب نہیں کرتا ہاں مگر جس قدر اسلام نے ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی اجازت دی ہے وہ رکھے جاسکتے ہیں مثلآ ان کے ساتھ کاروبار کرنا ان سے چیزوں کا لین دین کرنا وغیرہ مگر اس کے برعکس ان کو راضی کرنے کی خاطر ان کو ان کے تہواروں کی مبارک دینا اور ان کے تہواروں کو منانا قطعاً ناجائز اور حرام کام ہے اور ایسے لوگوں کے بارے نبی ذیشان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں
جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا ۔سنن ابوداؤد
یعنی جو کسی قوم کی سی سیرت و صورت بنائے گا وہ انہی میں سے کہلائے گا یعنی اگر کوئی مسلمانوں کے تہوار و روایات اپنائے گا تو وہ مسلمان کہلائے گا اگر کوئی عیسائیوں یہودیوں کے رسم و رواج اپنائے گا تو وہ اسی قوم کا فرد کہلائے گا اور روز قیامت انہی کیساتھ اٹھایا جائے گا
اللہ تعالی ہم سب کو کفار کے شر سے بچ کر زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن و حدیث پر عمل کرکے سچا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روز قیامت ہم امت محمدیہ کیساتھ اٹھائے جائیں -

کشمیر پریمئیر لیگ پر پاکستانی عوام کا جوش و خروش ،نعرہ کھیلو آزادی سے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
حال ہی میں وفاقی وزیر ،چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کشمیر پریمیئر لیگ کا افتتاح کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان کا ٹیلنٹ اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا، کشمیر کے نوجوان نے دنیا کو دکھنا ہے کہ اس میں کتنا دم ہے،کشمیر پریمئر لیگ کشمیر کو پوری دنیا میں مقبول بنانے میں مدد دے گی-
باغی ٹی وی : حال ہی میں کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں وفاقی وزیر ،چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، شاہد آفریدی، سردار مسعود خان، اظہر محمود ، عارف ملک اور شہزاد اختر شریک ہوئے، کشمیر پریمیئر لیگ میں 6 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا ،لیگ میں میرپور رائلز، کوٹلی پینتھرز، باغ سٹالینز، راولاکوٹ ہاکس، اوورسیز واریرز، مظفرآباد ٹائگرز شامل ہیں-
چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کا کشمیر پریمئر لیگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر پریمیئر لیگ کو PCB، وفاقی حکومت اور عوام کی حمایت حاصل ہے،کے پی ایل سے جموں و کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر لارہے ہیں، ہمارے نوجوان کا ٹیلنٹ اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا، کشمیر کے نوجوان نے دنیا کو دکھنا ہے کہ اس میں کتنا دم ہے،کشمیر پریمئر لیگ کشمیر کو پوری دنیا میں مقبول بنانے میں مدد دے گی-
شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ یہ لیگ آگے جا کر کشمیر کی بچیوں کو بھی آگے آ کر کھیلنے کا موقع دے گی، ہمارے کرکٹر ہمارے ملک کی پہچان بنے ہیں،کھیل لوگوں کو قریب لانے میں مدد دیتے ہیں، ہم سب کے پی ایل کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر کے ساتھ مل کر اس لیگ کو آگے لے کر جائیں گے، کے پی ایل کا لوگو ‘ کھیلو آزادی سے ‘ دنیا بھر میں گونجے گا۔ کے پی ایل کے ساتھ کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر رکھا جائے گا،
کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب،شہر یار آفریدی کا بڑا اعلان
شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر کے فورمز پر کشمیر کو اجاگر کریں گے، کشمیر کمیٹی اس مقصد کے تحفظ اور فروغ کے لئے بھرپور کردار ادا کرے گی،
سی ای او کشمیر پریمیئر لیگ کا کہنا تھا کہ کشمیر پریمیر لیگ سے پہلے ٹیلنٹ ہنٹ کیمپ لگائے جائیں گے، آزاد کشمیر بھر سے ہر ٹیم میں 2 سے 3 کھلاڑی پلئنگ الیون کا حصہ ہوں گے،یکم اپریل سے کشمیر پریمیر لیگ کا آغاز کیا جائے گا-
تاہم کے پی ایل کے سامنے آنے پر پاکستانی عوام نے خوشی کا اظہار کیا اور اس بات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے نعرہ کھیلو آزادی سے سلوگن سامنے آیا یہاں تک کہ یہ نعرہ اس وقت پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پر سرفہرست ٹرینڈز میں آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔
Shahid Afridi said : "I have played for many teams throughout my cricketing career, but I would love to play for the KPL to return the love I get from the people of Kashmir."#KheloAzaadiSe pic.twitter.com/VCIDYXGosB
— Haya Mehar (@TanveerESehar) December 24, 2020
حیا بنت حیا نامی صارف نے اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ شاہد آفریدی نے کہا: "میں نے اپنے پورے کیریئر میں کئی ٹیموں کے لئے کھیلا ہے ، لیکن میں کشمیر کے عوام سے ملنے والی محبت کو واپس کرنے کے لئے کے پی ایل کی طرف سے کھیلنا پسند کروں گا۔”
https://twitter.com/MughalAAziz/status/1342071512128434177?s=20
عزیزالرحمن نامی صارف نے لکھا کہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہریارآفرید ی نے کہا کہ حکومت پاکستان اور کشمیر کمیٹی اس ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لئے مکمل تعاون کرے گی کیونکہ یہ واقعہ کشمیر سے منسلک ہے۔#KheloAzaadiSe
Shehryar Afridi also announced to appoint AJK President as Chief Patron of the KPL. @TeamISP__— مولانا الطاف حسین (@Penaldo_fanz_) December 24, 2020
https://twitter.com/AisheGull313/status/1342066950281830401?s=20
ایک عائشے نامی صارف نے لکھا کہ کے پی ایل کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر ڈال دے گا۔ ہم کشمیر کو دنیا بھر کے تمام فورمز پر اٹھائیں گے۔ کشمیر کمیٹی کشمیر کی شناخت اور ثقافت کے تحفظ ، منصوبے اور فروغ کے لئے ہر کام کرے گی۔ ‘کے’ لفظ اب بز کا لفظ ہے۔
https://twitter.com/HurtMe2468/status/1342063171826307072?s=20
ایک صارف نے لکھا کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے ہفتے کو کشمیر پریمیر لیگ (کے پی ایل) کا آغاز آزاد جموں و کشمیر کے پہلے پریمیر کرکٹ ٹورنامنٹ کے طور پر کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر جموں و کشمیر کے عوام کی آواز بلند کرنے کے لئے ثقافتی اور کھیلوں کے مختلف پروگراموں کا سلسلہ شروع کرنے کا عزم کیا۔
https://twitter.com/Adiusra/status/1342067815575154688?s=20
عدنان الرحمن نامی صارف نے لکھا کہ شاہد آفریدی جو کے پی ایل کے برانڈ سفیر بھی ہیں ، اظہر محمود ، کے پی ایل کے چیف کوچ ، صدر کے پی ایل عارف ملک اور شہزاد اختر چوہدری کے پی ایل کے سی ای او ، شہریار آفریدی نے کہا کہ کے پی ایل کشمیر کو ورلڈ اسپورٹس میپ پر رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔#KheloAzaadiSe
Be ready ! For this remarkable event. @TeamISP__ pic.twitter.com/f64TEmMHEe— Hassan Saleem (@IamhasanPK) December 24, 2020
The talent of Kashmiri youth will reach the world through this league.
The youth of Kashmir have to show the world how much talent it possessed.#KheloAzaadiSe pic.twitter.com/hQDuMP6yN5— Haya Mehar (@TanveerESehar) December 24, 2020
حیا بنت حیا نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ کشمیری نوجوانوں کا ہنر اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا۔کشمیری نوجوانوں کو دنیا کو دکھانا ہے کہ ان میں کتنا ٹیلنٹ ہے۔
https://twitter.com/Kami1_here/status/1342067054413807620?s=20 -

بھارتی عوام نےآسٹریلیا سے شرمناک شکست کا ذمہ دار ویرات کی اہلیہ انوشکا کو قرار دیا
بھارت عوام نے آسٹریلیا سے پہلے ٹیسٹ میں شرمناک شکست کا ذمہ دار بھی کپتان ویرات کوہلی کی اہلیہ انوشکا شرما کو قرار دیا-
باغی ٹی وی :بھارتی شائقین نے آسٹریلیا سے پہلے ٹیسٹ میں شرمناک شکست کا ذمہ دار بھی کپتان ویرات کوہلی کی اہلیہ انوشکا شرما کو قرار دینا شروع کردیا۔
کچھ شائقین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا سے پہلے ٹیسٹ میں شرمناک شکست کی ذمہ دار بھی کپتان ویرات کوہلی کی اہلیہ انوشکا شرما ہیں انوشکا نے کوہلی کی توجہ منتشر کی اور ان پر ٹیسٹ میچ کے دوران ہی گھر واپس لوٹنے کیلیے دباؤ ڈالا-
یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھارتی عوام نے انوشکا کو ویرات کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اس سے قبل بھی بھارتی ٹیم کی ناکامیوں کا ملبہ انوشکا پر ڈالا جاتا رہا ہے۔
نہیا ککڑ کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع ہے؟
واضح رہے کہ بالی ووڈ اداکارہ کے ہاں جنوری میں پہلے بچے کی پیدائش متوقع ہے کوہلی کو پہلے ٹیسٹ کے بعد گھر واپس لوٹنا تھا۔
خیال رہے کہ 19 دسمبر کو ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے فاسٹ بالرزنے بھارتی بلے بازوں کے پرخچے اڑا دئیے ،محمد شامی گیند لگنے کی وجہ سے ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے،کپتان کوہلی سمیت پوری ٹیم میں سے کوئی بھی بلےبازڈبل فگرمیں داخل نہ ہوسکا-
بھار ت کا ٹیسٹ میں کم ترین اسکور پر آوَٹ ہونے کا نیا ریکارڈ،36 پر ساری ٹیم ڈھیر
آسٹریلیا کے فاسٹ بالرز جوش ہیزل ووڈ اورپیٹ کمنزنے تباہ کن باؤلنگ کی جس کے سامنے بھارتی نہ ٹھہر سکے،ہیزل ووڈ نے صرف8 رنز دے کر 5اور پیٹ کمنز نے چار وکٹیں لیں ،اس سے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھارت کا کم ترین اسکور42 ہے
بھار ت نے ٹیسٹ میں کم ترین اسکور پر آوَٹ ہونے کا نیا ریکارڈ قائم کر لیا ،بھارتی ٹیم 1974 میں انگلینڈ کیخلاف 42 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی-
پی ٹی آئی نےٹویٹرپیج پربھارت آسٹریلیا میچ کے شراب کی مشہوری والی پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کی؟اہم خبرآگئی
-

محمد حفیظ کے ہوتے ہوئے نئے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے فہد مصطفیٰ
شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ، میزبان اور پرویوڈیوسر فہد مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ حفیظ جیسے کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے نئے پلیئرز کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
باغی ٹی وی :گزشتہ روز نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلے جینے والے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سینئر پلیئر محمد حفیظ نے ایک مرتبہ پھر اپنی عمدہ بیٹنگ کی صلاحیتوں کا ثبوت دے دیا اور بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اپنا سب سے بڑا انفرادی اسکور بنا ڈالامحمد حفیظ نے ہملٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے 98ویں میچ میں 99 رنز ناٹ آوٹ بنائے۔
یاد رہے کہ دوسر ے ٹی 20 میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی. کیویز نے پاکستان کو 9وکٹوں سے شکست دی. نیوزی لینڈ کے ٹم سیفرٹ84 رنز، کپتان کین ولیمسن 57 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے . نیوزی لینڈ کو 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی۔
قومی ٹیم کی جانب سے محمد حفیظ نے شاندار اننگز کھیلی لیکن وہ بھی کام نہ آسکی اور99 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔20ویں اوور کی آخری گیند پر انہوں نےچھکا لگا کر ٹیم کا اسکور163 تک پہنچایا۔
گراؤنڈ بدلی لیکن گرین شرٹس کی ادا نہ بدلی
جہاں ایک طرف ٹوئٹر صارفین شدید غم و غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصباح اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑانی چاہیئے انہوں نے ٹیم کا نقصان کر دیا ہے ہماری ٹیم نمبر ون ٹیم تھی ان کی وجہ سے ٹیم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لگاتار دوسرے میچ میں ہار رہے ہیں ٹاپ ہولڈر فیل ہو رہا ہے دوسری جانب صارفین نے آج کے میچ کو ون مین شواور محمد حفیظ کو پروفیسر قرار دیا اوراس شاندار کارکردگی پر محمد حفیظ کو گزشتہ روز سے ہی سوشل میڈیا پر محبت بھرے پیغامات موصول ہورہے ہیں-
مصباح الحق اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑائیں، پاکستانی عوام کا مطالبہ
اس ضمن میں معروف اداکار فہد مصطفیٰ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محمد حفیظ کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
When you have players like hafeez why look for new ones @MHafeez22 what an innings 👏👏👏👏👏👏Played like a Professor 😎
— Fahad Mustafa (@fahadmustafa26) December 20, 2020
فہد مصطفیٰ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ جب ہمارے پاس حفیظ جیسے کھلاڑی موجود ہیں تو نئے کھلاڑیوں کی تلاش کیوں کریں۔اُنہوں نے محمد حفیظ کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے بالکل ایک پروفیسر کی طرح شاندار اننگز کھیلی۔
واضح رہے کہ محمد حفیظ بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دنیا کے تیسرے کھلاڑی ہیں جنھوں نے 99 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔
آج پھر شکست سے کیوں دو چار ہونا پڑا شاداب خان نے بتا ہی دیا
لوگوں کو ڈرامے کا مقصد سمجھنے کے لئے تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیئے فہد مصطفیٰ
-

زلفی بخاری سال 2020 کے ‘100 پاکستانی پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک پاکستانی زلفی بخاری ملک کے 100 پرکشش افراد میں شامل واحد سیاستدان ہیں۔
باغی ٹی وی : زلفی بخاری کو ملٹی نیشنل پاکستانی فیشن میگزین ‘ہیلو‘ نے اپنی سالانہ ‘100 پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل کیا ہے ہیلو میگزین سال کے اختتام پر فیشن، شوبز، ٹی وی، ماڈلنگ، سیاست اور دیگر شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والے 100 بہترین افراد کو پرکشش افراد کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔
فیشن میگزین کی جانب سے سال 2020 کی جاری کردہ ‘100 پرکشش افراد‘ کی فہرست میں 40 سالہ زلفی بخاری واحد سیاستدان ہیں۔
میگزین نے ‘100 پرکشش افراد‘ کے خصوصی شمارے کے سرورق پر زلفی بخاری کو زینت بنایا ہے۔
Thank you @HELLO_Pak for the recognition, feels great to be honoured for efforts for 🇵🇰.@ZahraaSaifullah https://t.co/W0ZO7lowyM
— Sayed Z Bukhari (@sayedzbukhari) December 20, 2020
میگزین کی جانب سے سرورق کی زینت بنائے جانے اور فہرست کا حصہ بنائے جانے پر زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر میگزین کا شکریہ بھی ادا کیا۔2020 میں یو ٹیوب پر کمائی میں 9 سالہ بچہ سب سے آگے
اس سال میگزین کی فہرست میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق اداکاری سے ہے اور مجموعی طور پر 100 سے 90 کے افراد کا تعلق اداکاری سے ہے۔
اس سال پرکشش افراد کی فہرست میں واحد گلوکار عاطف اسلم بھی شامل ہیں جب کہ برطانوی نژاد پاکستانی میزبان تنویز وسیم المعروف تان فرانس بھی شامل ہیں۔
ار طغرل غازی نے بھارت میں بھی نیا اعزاز اپنے نام کر لیا
اس سال کی پرکشش افراد کی فہرست میں ترک اداکار انگین التان دوزیتان اور ایسرا بلجیک بھی شامل ہیں، جنہوں نے ترک ڈرامے ارطغرل غازی میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔
ماہرہ خان سمیت 3 پاکستانی فنکار ایشیا پیسیفک کے 100 بااثر ترین ڈیجیٹل اسٹارز کی…
علاوہ ازیں اس سال کی فہرست میں عائزہ خان، حرا مانی، ہمایوں سعید، یمنیٰ زیدی، سجل علی، سونیا حسین، ثروت گیلانی، اقرا عزیز، ہانیہ عامر اور دیگر اداکار و اداکارائیں شامل ہیں۔
جبکہ فیشن میگزین کی جانب سے رواں سال کی جاری کی گئی فہرست میں مہوش حیات، ماہرہ خان، عائشہ عمر، صبا قمر، حریم فاروق، سائرہ یوسف اور حمیمہ ملک جیسی اداکاراؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔
ایمن خان کا فوربز ایشیا 2021 کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار
2020 پاکستان کی کون سی شخصیات کو گوگل پر زیادہ سرچ کیا گیا گوگل نے فہرست جاری کر…
-

مصباح الحق اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑائیں، پاکستانی عوام کا مطالبہ
پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کو مسلسل دوسری بار میچ ہارنے کی وجہ سےعوام کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یہاں تک کہ پاکستان ٹوئٹر پینل پر پاک و نیوزی لینڈ ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں پاکستانی عوام قومی ٹیم کے کوچز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ٹیم سے باہر نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں-
باغی ٹی وی :یاد رہے کہ دوسر ے ٹی 20 میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی. کیویز نے پاکستان کو 9وکٹوں سے شکست دی. نیوزی لینڈ کے ٹم سیفرٹ84 رنز، کپتان کین ولیمسن 57 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے . نیوزی لینڈ کو 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی۔
قومی ٹیم کی جانب سے محمد حفیظ نے شاندار اننگز کھیلی لیکن وہ بھی کام نہ آسکی اور99 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔20ویں اوور کی آخری گیند پر انہوں نےچھکا لگا کر ٹیم کا اسکور163 تک پہنچایا۔
گراؤنڈ بدلی لیکن گرین شرٹس کی ادا نہ بدلی
محمد حفیظ نے 57گیندوں پر 5چھکوں کی مدد سے 99رنز بنائے۔ اوپنر محمد رضوان 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے
کپتان شاداب خان4، حیدر علی 8اورخوشدل شاہ نے14رنز بنائے۔ عبداللہ شفیق بغیرکوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ہوا کچھ یوں کہ ہملٹن میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹونٹی میں ٹاس کی جیت پاکستان کے حصے میں آئی تو کپتان شاداب خان نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور شاہینوں نے میزبان ٹیم کو 164 رنز کا ہدف دیا۔ کیوی اوپنرز مارٹن گپٹل اور ٹیم سیورٹ ہدف کے تعاقب میں کریز پر آئے تو رنز بنانے کے مشن میں زوردار شاٹس کھیلے۔ مارٹن کے آغاز میں ہی 2 چھکوں نے کیوی شائقین میں جوش بھر دیا تاہم ان کوفہیم اشرف نے 22 رنز پر پویلین کی راہ دکھا دی-
تاہم پاکستانی اپنی کرکٹ ٹیم کی مسلسل دوسری شکست قبول نہیں کر پارہے اور ٹوئٹر پر ٹرینڈ کے ذریعے ٹیم اور ان کے کوچز کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں-
آج پھر شکست سے کیوں دو چار ہونا پڑا شاداب خان نے بتا ہی دیا
ٹوئٹر صارفین شدید غم و غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصباح اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑانی چاہیئے انہوں نے ٹیم کا نقصان کر دیا ہے ہماری ٹیم نمبر ون ٹیم تھی ان کی وجہ سے ٹیم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لگاتار دوسرے میچ میں ہار رہے ہیں ٹاپ ہولڈر فیل ہو رہا ہے دوسری جانب صارفین نے آج کے میچ کو ون مین شواور محمد حفیظ کو پروفیسر قرار دیا –
https://twitter.com/itsLaryb/status/1340626582407421953?s=20
لاریب اطہر نامی خاتون صارف نے اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مستقبل پر توجہ نہ دیں ہمیں پریزنٹ پر فوکس کی ضرورت ہے ہمیں آج سرفراز کی کمی محسوس ہوئی مصباح نے کامیابی کے ساتھ ٹیم کو تباہ کردیا!
مصباح نے ملک کو گرا کر غلطی کی جبکہ محمد حفیظ نے چالیس سال کی عمر میں یہ آسانی کے ساتھ کیا ، مصباح کو ان سے کچھ سیکھنا چاہئے۔Legends after destroying the No.1 team🤐#PakvsNz pic.twitter.com/dEfQkgmM8r
— Muhammad Husnain (@hasiijutt001) December 20, 2020
محمد حسنین نمی صارف نے مصباح الحق اور وقار یونس کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ کرکٹ کی دنیا کے لیجنڈز نمبر ون کرکٹ ٹیم کو تباہ کرنے کے بعد-What bating @MHafeez22
One man show Mohammad Hafeez not out 99 #PakvsNz pic.twitter.com/IWUwoBsZHG— Javed Aslam (@worldofjaved) December 20, 2020
https://twitter.com/RahylaChattha/status/1340564445467209729?s=20
راحیلہ نامی صارف نے لکھا کہ انڈین کرکٹ ٹیم دو مرتبہ بھی کھیل لے پھر بھی حفیظ کا ریکارڈ نہیں توڑ سکتی-Major missings in this series 💔 #PakvsNz pic.twitter.com/ISIugDjcbP
— Tahreem (@tweetsbytahreem) December 20, 2020
Hafeez is a real chrachter…#PakvsNz pic.twitter.com/ZQYZCNnrEJ
— U-S-a-M-A (@Usamaiqbal047) December 20, 2020
https://twitter.com/MAwaisJajja/status/1340571651277250561?s=20Ultimate solution to every problem 🤠#PakvsNz #sarfaraz pic.twitter.com/Q8vCISnK0j
— M Aimal khan (@Aimalkhan46) December 20, 2020
Once again he proved that He is professor ❤️#PakvsNz #hafeez pic.twitter.com/lWIA0MertD
— Balaj Khan (@Cancerian94) December 20, 2020
After watching today's match #PakvsNz
*le Me: pic.twitter.com/9fr5mOP6wE— Mohsin Rafiq Wani (@iammohsinwani13) December 18, 2020
-

ان کا واپسی کا ٹکٹ کینسل کراؤ اور انہیں سمندر سے تیر کے آنے کا آپشن دو بھارتی خاتون اپنی کرکٹ ٹیم پر پھٹ پڑی
آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھارتی کرکٹ ٹیم تاریخی رسوائی کا شکار ہو گئی ، دوسری اننگزمیں بھارتی ٹیم صرف 36 رنزپرڈھیر ہو گئے جس پر پوری ٹیم کو بھارت میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے-
باغی ٹی وی : ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے فاسٹ بالرزنے بھارتی بلے بازوں کے پرخچے اڑا دئیے ،محمد شامی گیند لگنے کی وجہ سے ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے،کپتان کوہلی سمیت پوری ٹیم میں سے کوئی بھی بلےبازڈبل فگرمیں داخل نہ ہوسکا
آسٹریلیا کے فاسٹ بالرز جوش ہیزل ووڈ اورپیٹ کمنزنے تباہ کن باؤلنگ کی جس کے سامنے بھارتی نہ ٹھہر سکے،ہیزل ووڈ نے صرف8 رنز دے کر 5اور پیٹ کمنز نے چار وکٹیں لیں ،اس سے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھارت کا کم ترین اسکور42 ہے
بھار ت نے ٹیسٹ میں کم ترین اسکور پر آوَٹ ہونے کا نیا ریکارڈ قائم کر لیا ،بھارتی ٹیم 1974 میں انگلینڈ کیخلاف 42 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی-
ٹیم کی میچ میں اس آؤٹ پٹ کے بعد بھارت میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں ایک مسلمان بھارتی خاتون ناظمہ بھی شامل ہیں جو ویڈیو میں ٹیم کی کارگردگی پرپر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں انم کی اصلی حقیت دکھا رہی ہیں-
Nazma Aapi on India’s performance pic.twitter.com/GCxgnkQrno
— Saloni Gaur (@salonayyy) December 19, 2020
ٹوئٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں خاتون کو اپنی شرط ہارنے کا انتہائی دکھ ہے کہ اس نے ُوری بھارتی ٹیم کو ننگا کر کے رکھ دیا-بھار ت کا ٹیسٹ میں کم ترین اسکور پر آوَٹ ہونے کا نیا ریکارڈ،36 پر ساری ٹیم ڈھیر
ویڈیو میں خاتون کہتی نظر آ رہی ہیں کہ وہ بھارتی ٹیم کی ناقص کارگردگی کی وجہ سے پورا 100 روپیہ شرط ہار گئی ہوں وہ تو کوئی بات نہیں وہ تو آفریدی کے ابو کی جہب سے نکال لوں گی لیکن شرط کے برابر اسکورز تو بنالیتے-
خاتون نے کہا کہ یہاں میری اولاد بھی میرا ٹیوشن گیم سے زیادہ اسکور کر لیتی ہے اور انہیں دیکھ لو من پسند کا کوچ دیا ہوا کوچ کو من پسند کی دارو یعنی شراب اور دارو کے ساتھ من پسند کا چکھنا تب بھی یہ حال ہے-
خاتون نے کہا کہ میں تو کہتی ہوں واپسی میں ان سب کی فلائٹ ٹکٹ کینسل کراؤ اور انہیں سمندر سے تیر کے آنے کا آپشن دو بس-
خاتون نے بھارتی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ ودیش جاتے ہی ٹک ٹاک چلنے لگ گیا ہو گا سب کے فونوں پر کر دی ٹرانزیکٹ تصاویر ہر دن کی جتنے ان سے رنز نہیں مارے جا رہے اتنے ہمارے دنگوں پر لوگ مر جاتے ہیں –
پی ٹی آئی نےٹویٹرپیج پربھارت آسٹریلیا میچ کے شراب کی مشہوری والی پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کی؟اہم خبرآگئی
خاتون نے اپنی ویڈیو میں آسٹریلیا ٹیم کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا کہا کہ ویسے یہ آسٹریلیا والے بھی کم نہیں ہیں آءی پی ایل انڈین سُپر لیگ میں ہمارا ہی نمک کھایا اور اب ہمیں ہی ٹاٹا بول دیا شرم تو آئی نہیں ہو گی ٹیم کو ویسے یہ شرم سے یاد آیا اور پرتھوی اشوک بھائی ویرات تم آ رہے ہو تو ساتھ میں اسے بھی لے آنا وہاں تو اس سے کھیلا نہیں جا رہا یہاں کم از کم بچے کا دودھ تو گرم کر دے گا-
خاتون نے نیہا ککڑ کو بھی نہیں چھوڑا اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سب صدمے سے نکل نہیں پائی تھی کہ گلوکارہ نیہا ککڑ نے گانا شئیر کر دیا خیال رکھیا کر خاتون نے کہا کہ اگر نیہا کو اتنا ہمارا خیال ہوتا نا تو وہ اتنے گانے ہی نہ بناتی ہے کوئی جواب اس کا آپ کے پاس
نہیا ککڑ کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع ہے؟
-

پی ڈی ایم کا آر پار تحریر: کنول زہرا
پی ڈی ایم کا آر پار
تحریر: کنول زہرا
یوں تو پی ڈی ایم کا مفہوم پاکستان ڈیموکرڈیڈ موؤمنٹ ہے, مگر بہت سے لوگ اسے پاکستان ڈکیت موؤمنٹ کہتے ہیں, جب میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا کیوں تو انہؤں نے اس گیارہ رکنی اتحاد کی کلی کھول کر میرے سامنے کچھ اس طرح رکھی,
امریکی مصنف رے مونڈ ڈبلیو بیکر نے اپنی کتاب کیپیٹلزم اچیلیس ہیل میں انکشاف کیا کہ نواز شریف نے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے دو بار اقتدار کے دوران $ 418 ملین کا مالی فائدہ اٹھایا۔،
یہ کتاب نواز شریف سمیت تاریخ کے سب سے زیادہ تسلط رکھنے والے سیاسی خاندانوں کی بدعنوانی اور ان کی جائیدادیں ، اور بے تحاشا دولت جمع کرنے کے بارے میں ہے۔
اس کتاب کے مطابق ، 1990 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے وزیر اعظم کے پہلے دور میں کم از کم 160 ملین ڈالر کا غبن کیا ، یہ کرپشن اپنے آبائی شہر لاہور سے اسلام آباد تک شاہراہ تعمیر کرنے کے معاہدے کے دوران کی گئی۔
کم از کم140 ملین ڈالر کا پاکستان اسٹیٹ بینکس سے غیر محفوظ قرضوں سے فائدہ اٹھایا ۔ نواز شریف اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے زیر انتظام ملوں کے ذریعہ برآمد کی جانے والی چینی پر سرکاری چھوٹ سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ کا مال کمایا۔
کم از کم 58 ملین ڈالر امریکا اور کینیڈا سے درآمدی گندم کی ادائیگی کی قیمتوں سے اسکیم ہوئی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے معاہدے میں ، شریف حکومت نے واشنگٹن میں اپنے ایک قریبی ساتھی کی نجی کمپنی کو قیمت سے کہیں زیادہ ادائیگی کردی۔ گندم کی غلط انوائسز نے لاکھوں ڈالر نقد رقم بٹوری۔
کتاب کے جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "اس بدعنوانی کی حد اور وسعت اتنی حیرت انگیز ہے کہ اس نے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔” نواز شریف کے دور میں ، بغیر معاوضہ بینک قرض اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری دولت مند ہونے کے لئے پسندیدہ راستہ بنی رہی۔
اقتدار سے محروم ہونے پر ، غاصب حکومت نے سب سے بڑے قرض نادہندگان میں سے 322 کی ایک فہرست شائع کی ، جس میں بینکوں کو واجب الادا 4 بلین ڈالر میں سے تقریبا$ 3 بلین ڈالر کی نمائندگی کی گئی تھی۔ شریف اور ان کے اہل خانہ کو 60 ملین ڈالر میں ٹیگ کیا گیا۔
1999 میں پرویز مشرف نے تحقیقات کی ، نواز شریف پر مقدمہ چلا ، عمر قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن پھر 2000 میں انہیں جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ امریکی مصنف نے اپنی اس کتاب میں نواز شریف کی کرپشن کے بارے دستاویزاتی ثبوت بھی فراہم کئے ہیں ۔ اس کتاب میں حدیبیہ پیپرز مل اسکینڈل کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے جبکہ منی لانڈرنگ کے ذریعے 643 ملین روپے کا فراڈ بھی شامل ہے ۔ رائیونڈ اسٹیٹ کی ڈویلپمنٹ کے نام پر قومی خزانہ سے 620 ملین لوٹے گئے تھے ۔ ریمنڈ بیکر لکھتا ہے کہ نواز شریف نے بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی خریداری میں کرپشن کی تھی کرپشن کے ذریعے مری میں جائیداد خریدی گئی ۔ منی لانڈرنگ کے لئے پاسپورٹ جعلی بنائے گئے ۔
کوہ نور انرجی مل کے نام پر 450 ملین لوٹے گئے اور قانون سازی کر کے بلیک منی کو وائٹ کیا گیا جبکہ بنکوں کے 35 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ۔ نواز شریف پر بطور وزیر خزانہ پنجاب اور بعد میں بطور وزیراعلی پنجاب اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات لگے ۔ خاص کر 1988/89 کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ جس میں نواز شریف پر قومی خزانے کو کم از کم 35 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگا۔
وزارت عظمی کے پہلے دور میں نواز شریف پر بینکوں کے کئی سو ارب روپے کی غیر قانونی قرضے جاری کرنے ( کم از کم 675 ارب روپے )، کواپریٹیو سوسائیٹیز اسکینڈل ، گندم فراڈ ، موٹر وے فراڈ اور پیلی ٹیکسی اسکیم میں فراڈ کرنے کے الزامات لگے ۔ ان تمام معاملات میں نواز شریف پر کل ملا کر کم از کم 1000 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کے الزامات ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت برطرف کی تھی ۔
28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ پاکستان سے سزا یافتہ, سیاست ؤ حکمرانی کے لئے تاحیات نااہل مجرم نوازشریف پر نجکاری کے عمل میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے کے الزامات ہیں ۔ سپریم کورٹ سے سزایافتہ اور نااہل نواز شریف نے کئی اہم ادارے کوڑیوں کے مول بیچ کرخرید اس سلسلے میں متعدد لوگوں کو بطور فرنٹ مین استعمال کیا ۔ ان لوگوں میں میاں محمد منشاء کا نام سر فہرست ہے ۔
نواز شریف پر یہ بھی الزام ہے, انہوں نے رمضان شوگر مل اور اپنی رائونڈ کی رہائش گاہ کے لیے اربوں روپوں سے سڑکوں کی تعمیروغیرہ جسے ذاتی امور پر سرکاری رقم خرچ کی.
۔1997 میں نواز شریف نے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس فریز کر کے لوگوں کو کم از کم 11 ارب ڈالر کا نقصان دیا ۔ یہ اتنا بڑا نقصان تھا جسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔۔۔۔
سستی روٹی اسکیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس اسکیم میں قومی خزانے کو کم از کم 40 ارب روپے کا نقصان دیا گیا.
اسی طرح لیپ ٹاپ اسکیم اور میٹرو بس پراجیکٹ میں بھی نواز شریف پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں ۔ صرف میٹرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پراجیکٹ میں نواز اینڈ کمپنی نے کم از کم 30 ارب روپے کی کرپشن کی اور منصوبہ پر لگائی گئی اصل رقم کے اعداد و شمار چھپانے کے لیے ریکارڈ تک جلا دیا گیا۔۔۔
پاکستان میں کام کرنے والی آئی پی پیز کو نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی 400 ارب روپے منتقل کیے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل مالک میاں محمد منشاء نہیں بلکہ نواز شریف خود ہے ۔
اس کے علاوہ نواز شریف پر پاکستان سے باہر غیر قانونی جائداد رکھنے اوراربوں روپے کے منی لانڈرنگ کے الزامات بھی ہیں.
نواز شریف پر مختلف قومی اداروں میں غیر قانونی بھرتیا ں کرنے کا الزام ہے جن میں ایف آئی اے اور پی آئی اے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر میں اہم پوسٹوں پر اپنے پسندیدہ بندے تعئنات کروائے ۔
نواز شریف نے مہنگی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی کم کروائی تاکہ وہ اور اس کے ساتھی مہنگی ترین گاڑیاں آسانی سے درآمد کر سکیں ۔
انہیں غیر قانونی ہیلی کاپٹر رکھنے کے الزام میں سزا بھی سنائی جا چکی ہے ۔ اس کے علاوہ بڑے میاں صاحب کے خلاف مختلف عدالتوں اور نیب میں کئی طرح کے کیسز زیر سماعت ہیں.
نوازشریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے رشتے اور قربی ساتھیوں میں اچھے اچھے عہدے بانٹ دیتے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی میرٹ نہیں دیکھا جاتا۔ مثلاً اس وقت نواز شریف کے خاندان کا کوئی فرد ایسا نہیں جس کے پاس کوئی بہت بڑا عہدہ نہ ہو اور وہ سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی تنخواہ اور مراعات نہ لے رہا ہو۔
نواز شریف جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن وہ خود آمریت کی پیدوار ہیں ۔ ان کو جنرل ضیاء کی فوجی حکومت سیاست میں لائی اور اس کو یہاں تک پہنچانے میں مدد دی ۔ اس سلسلے میں آئی جے آئی والا معاملہ کافی مشہور ہے, جب سے ان کی حقیقت کھول کر سامنے آئی ہے لندن میں بیٹھ کرپاکستان افواج پر چڑھائی کر رہے ہیں.
نواز شریف بارہا قوم سے کئے گئے اپنے وعدوں سے پھر گئے مثلاً آصف زرداری کی لوٹی گئی رقم واپس لانے کا معاملہ جب سوئس حکومت رقم دینے پر تیار تھی اور ان کو صرف خط لکھنا تھا تب نواز شریف نے زرداری سے اپنے حق میں تیسری بار وزیراعظم بننے کے لیے آئنی ترمیم کروا لی اور بدلے میں افتخار چودھری کے ذریعے خط والا معاملہ لٹکا دیا اور دو سال نکلوا دئیے ۔
اور اسی طرح کئی معاملات پر وہ دوغلا رویہ رکھتے ہیں ۔ مثلاً جب غلام اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کرپشن کے الزامات کے تحت گرائی تو اس نے اس اقدام کی پرزور تائید کی لیکن جب کچھ عرصے بعد اسی صدر نے اسکی اپنی حکومت انہی الزامات کے تحت گرانی چاہی تو اس نے صدر کا یہ آئینی حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
نواز شریف کے پاکستان دشمنوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ ان میں انڈیا اور جیو اور جنگ گروپ جیسے متنازعہ ادارے اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد شامل ہیں ۔ انکے علاوہ پاکستان کی چند متنازعہ ترین شخصیات جیسے عاصمہ جہانگیر ، نجم سیٹھی سے بھی قریبی تعلقات ہیں اور ان کو اہم ترین عہدوں پر فائز کرتے رہے ہیں ۔
نواز شریف نے اپنے دور میں پاکستان کی افغان مجاہدین کی امداد روکنے کی کوشش کی تھی ان کے علاوہ ان پر کشمیری مجاہدین سے غداری کرنے کا الزام بھی ہے ۔
نواز شریف کے ہر دور حکومت میں مہنگائی ، بیرونی قرضے اور ڈالر کی قیمت بے اندازہ بڑھ جاتی ہے ۔ جبکہ ادارے یا تباہ ہو جاتے ہیں یا بیچ دئیے جاتے ہیں ۔ مثلاً آخری بار جب پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو زرمبادلہ کے ذخائر صرف 400 ملین ڈالر رہ گئے تھے اور پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ لوگ اتنے تنگ تھے کہ مارشل لاء لگنے پر لاہور میں لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں ۔
نواز شریف پر صحافی خریدنے اور ان کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں ۔
نواز شریف اکثر اہم ترین قومی اداروں کے ساتھ حالت جنگ میں ہوتے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم ادارہ افواج پاکستان کا ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک بار فوج نے انکا تختہ بھی الٹ دیا تھا ۔ ان کے علاوہ وہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ کر چکے ہٰیں جبکہ کم از کم دو بار ان کی ایوان صدر کے ساتھ بھی جنگ رہی ۔ جس کے نتائج بعد میں اس کو خود بھی بھگتنا پڑے ۔
نواز شریف کے ہر دور میں پنجاب پولیس اسٹیٹ بن جاتی ہے اور پولیس کی جانب سے لوگوں کو حراساں کرنے اور قتل کر دینے کے واقعات بھی عام ہو جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ماڈل ٹاؤن کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے.
نواز شریف نے کئی بار کشمیر کاز کو بے پناہ نقصان پہنچایا خاص کر کارگل کی جنگ میں انہوں نے پاکستان کو شرمندہ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی.
ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت کئی لوگوں نے کہا ہے کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کے خلاف تھے اور کئی اہم ترین لوگوں کے پریشر پر مجبوراً دھماکے کیے ۔
نواز شریف نے پاکستان کے حاضر سروس چیف آف آرمی سٹآف پرویز مشرف کا طیارہ اترنے نہیں دیا اور ان کو انڈیا بھجوانے کی کوشش کی, بعد ازاں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا ۔
پاک ایران گیس پائپ لائن جیسا اہم نوعیت کا قومی منصوبہ نواز شریف کی ہٹ دھرمی کی نطر ہوگیا۔ جبکہ ڈیموں کے لیے نواز شریف کے پاس ہمیشہ بجٹ میں رقم نہیں ہوتی ۔
نواز شریف پر ٹیکس چوری کا الزام بھی ہے. وہ پاکستان کی امیر ترین شخصیت ہونے کے باوجود بہت معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں.
پیپلزپارٹی کسی دور میں پاکستان کی مقبول سیاسی جماعت سمجھی جاتی تھی اب صرف سندھ کی ہو کر رہی گئی ہے, یہاں کا بھی الله ہی حافظ ہے, کراچی کے شہریؤں سمیت اندروں سندھ کے عوام پینے کے صاف پانی، پکی سڑکوں اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں. وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل کے مطابق, ن لیگ اور پیپلز پارٹی بظاہر دو مخالف مگر اندر سے ایک ہیں، دونوں کےدرمیان نظریات کا ڈھونگ، نوراکشتی اور سیاسی مخالفت صرف عوام کو بے وقوف بنانےکے لیے ہے, اوپر سے جتنی مخالفت کریں کرپشن کے محاذ پر ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا نظریہ بالکل ایک ہے،کرپشن کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے گئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ شریف خاندان کی ٹیلی گرافک ٹرانزیکشنز (ٹی ٹیز) اور زرداری خاندان کے جعلی اکاؤنٹس کرپشن کی داستان میں قدرمشترک ہیں، نواز شریف نے لوٹ مار کی دولت کے تحفظ کے لیے 1992ء میں قانون بنا دیا تھا، قانون یہ بنایا گیا کہ باہر سے جو بھی پیسہ لائے گا اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی, دونوں کی کرپشن کے طریقہ کار کو اگر عکس بند کیا جائے تو سپرئیٹ سیزن بن سکتا ہے, جب ان عناصر سے ناجائز دولت کا پوچھا جاتا ہے تو سادہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کہتے ہیں کرپشن ثابت کرو، قانون نے ان کا پیسے سے تعلق ثابت کرنا ہوتا ہے،ذرائع بتانا ان کا کام ہے۔ ٹی ٹیز اور جعلی اکاؤنٹس سے باہر بھیجےگئے پیسے اور ان سےخریدی گئی جائیدادوں سے یہ انکار نہیں کرسکتے۔ زرداری صاحب پر جعلی اکاونٹس کی بدولت فرد جرم بھی عائد ہوچکی ہے, سندھ میں وازات بانٹنے کا حال تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں, سہیل انور سیال جو سندھ کے وزیر داخلہ ره چکے ہیں ان کی زرداری صاحب کے پاؤں چھؤتی اور ادی فریال کے ہینڈبیگ لٹکائے تصاؤیر سوشل میڈیا کی زینت رہی ہیں, سندھ کی بیؤرو کریسی میں بھی زرداری صاحب کی بہت چلتی ہے خیر سے بد نامے زمانہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو اپنا بچہ بھی کہے چکے ہیں, ان کی بہن دھمکیاں دیکر ووٹ لیتی نظر آئیں ہیں بدنامے زمانہ gangster عذر بلوچ کے تانے بانے بھی زرداری صاحب سے ملتے ہیں جعلی اکاؤنٹس اور شؤگر ملز مالکان سندھ کے بے تاج بادشاه ہیں جبکہ ؤفاق پر بھی براجمان رہے ہیں مگر آج تک اپنے سالے مرتضی بھٹو اور بی بی شہید کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگاپائیں ہیں, عؤام کو سوچنا ہوگا کیا یہ لوگ پی ڈی ایم کا ڈھول بجا کر عوام کی فلاح کرسکتے ہیں جبکہ معتدد بار ؤفاق اور تاحال صوبہ سندھ کے حکمران ہیں, ان آزمائے ہوئے لوگوں نے ایسا کیا عوام کے لئے اچھا کیا ہے جو اب کر دیں گے, یقینا پاور میں آنے کا مقصد اپنی دونمبریوں کی پردہ پوشئ اور مزید لوٹ مار کی چاہ ہے, کیونکہ ان لوگؤں کو یہ ہی آتا ہے, دنیا کارونا کی وجہ سے خؤف کا شکار ہے, یہ لوگ اپنے مفادات کے تحت جلسے کر رہے ہیں تا کہ الله نہ کرئے پاکستان کا حال سرحد پار جیسا ہو, دوسری جانب رواں ماہ زداری صاحب کی دختر بختاور صاحبہ کی منگی کی تقریب منگنی معنقد کی گئی جس کے دعوت نامہ میں مہمانوں سے گزارش کی گئی کہ پہلے اپنے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ اسکین کرکے بلاول ہاوس بھیجیں، جس کے بعد انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت ملے گی۔۔ جبکہ ذاتی مفاد پر کیے جانے والے جلسے، جلوس، ریلیوں میں کسی قسم کے ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا گیا, یعنی ان کی نظر میں عوام کی حیثیت ٹشوپیپر یا کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے. یہ ووٹ کو نہیں بلکہ اپنے مفادات اور جعلی بینک اکاؤنٹس کو عزت دینے کے حامی ہیں, ازلی دشمن بھارت سے دوستی, تحائف, بزنس ڈیل اور ساتھ بیٹھ کر آلو گؤشت کھانے کے شؤقین ہیں, ان کی نظر میں ملک کی نہیں بلکہ اپنی دونمبری کی عزت ہے, ان لوگوں کو ریلیف نہیں بلکہ سیٹھ ؤقار کے فیصلے کے مطابق سلوک کرنا چاہیں.
اب بات کرتے ہیں جے یو آئی ف کی سب سے پہلے بات کرتی چلوں کہ مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل کیوں کہا جاتا ہے اس کے معتلق معروف صحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں پیش آنے والا حیران کن واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ انہیں مجلس عاملہ کے ایک ممبر نے بتایا ہے, مجلس عاملہ کے اجلاس میں جے یو آئی کے امیر سے پوچھا گیا کہ ڈیزل کا پرمٹ آپ نے لیا ہے؟ جس پر مولانا فضل الرحمان نے اعتراف کیا اور کہا کہ مجاہدین کو پیسے چاہئے تھے، میں نے وہ پرمٹ فروخت کر کے انہیں پیسے دیدئیے۔“ مولانا فضل الرحمن کو جب سے 2018 الیکشن میں شکست حاصل ہوئی ہے وہ تب سے شدید کوفت اور غصے کا شکار ہیں آج تک ان کی کسی سیاسی حکمت عملی کا کیا لائحہ عمل رہا ہے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کی ہی مثال لے لیں، وزیر اعظم عمران خان سے استعفی کا مطالبہ تو کیا لیکن کن بنیادوں پر یہ آج تک مولانا صاحب بھی واضع نہیں کر پائے, پھر پی ڈی ایم کے سربراہ بنکر بھی کوئی کامیابی حاصل نہ کر پائے, ہر حکومت کا حصہ مولانا فضل الرحمن آجکل سیاسی طور پر مکمل بے روزگار ہیں اسی وجہ سے اشتعال کا شکار ہیں, حکومت میں رهنے کا لالچ ہی انہیں عورت کی حکومت کے مخالف ہونے کے باوجود محترمہ بے نظیر کی کابینہ کا ممبر بنے, 2018 کی تاریخی شکست کے بعد مولانا کی تو دنیا ہی اجڑ گئی اور انہوں نے 14 اگست تک نہ بنانے کا اعلان کرکے بھارت سے آنے والے اس ٹولے کی یاد تازہ کردی جو ابتدا میں پاکستان کے مخالف تھے اور قائداعظم کو قاتل اعظم کہتے تھے مگر پاکستان بنتے ہی یہاں براجماں ہوگئے, اپنی آرمی رکھنے والے مولانا کی بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کے ساتھ تصویر بھی سوشل میڈیا کا حصہ رہی ہے, آجکل جے یو آئی ایف کے امیر, نجی آرمی انصار اسلام کے چیف آف آرمی اسٹاف اور سربراہ پی ڈی ایم نیب کے رایڈر کی زد میں ہیں.
رواں سال اکتوبر کو حزب اختلاف نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی سیاست کا آغاز کیا, مزے کی بات استعفے کا مطالبہ ہرگز بھی بڑھتی مہنگائی یا بے روزگاری نہیں ہے بلکہ "مجھے کیوں نکالا” کا دکھ ہے, جس کا اظہار میاں صاحب کی جانب سے بارہا ہوتا ہے, اپنی غلطیوں اور وزیراعظم ہوکر بیٹے سے معمولی تنخواہ لینے کی چھوٹی حرکت کا غصہ اداروں پر نکالنے والے نواز شریف صاحب اپنے گیٹ نمبر چار کے روحانی اجداد کی کرم فروانیوں کو بھول کر ناخلف بیٹے بنکر ملک کے راز اگل رہے ہیں جس پر بھارت شادیانے بجا رہا ہے بلکہ وہ تو میاں صاحب کو ” اپنا آدمی ” بھی کہہ چکا ہے,پھر میاں صاحب کا مودی کو بنا ویزے بلانا, قمیتی تحائف کا تبا دلہ کر نا کسی سے پوشیده نہیں ہے, خواجہ آصف کے بعد ایاز صادق کے توہین قومی سلامتی بیانات سب کو یاد ہیں,اس پر نادان سمجھ رہے ہیں عوام ان کو سنجیدہ لیں گے, یعنی حد ہے نا سمجھی کی, دخترنواز اور بیگم صفدر اعوان تیرہ دسمبر کو یوم آر پار کہہ رہی تھیں, یعنی حکومت پر آری کا دن جو پاکستان کی خوش قسمتی سے پی ڈی ایم پر کاری ضرب ثابت ہوا, اہلیان لاہور نے ثابت کردیا مینار پاکستان, مادر وطن کی بقا کا ضامن ہے, چوروں کی داد رسی کے لئے لاہور والوں کے پاس وقت نہیں ہے, پھر جس تحریک کا سربراہ ہی 14,اگست نہیں مناتا ہو اور نہ ہی افواج پاکستان کو مانتا ہو وہ کیسےملک کے خیر خواہ ہوسکتے ہیں. عوام کو سمجھ آگئی ہے, جس تحریک میں اچکزئی جیسا منتشر ذہین کا مالک ہو وہ کیسے قومی امور پریگانیت سے کام کرسکتے ہیں, اب صورتحال یہ ہے,
13دسمبر کو آرپار کرنے والے لانگ مارچ تک آگئے ہیں, استعفی جمع کرانے والے اسپیکر کے بجائے اپنے قائدین کو پیش کر رہے ہیں. یعنی تیرہ دسمبر 2020 پی ڈی ایم کا یوم آر پارتھا قوم کو پاکستان ڈکیٹ موومنٹ کی شکست مبارک ہو.

-

تین روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد
سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں 3روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد
ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اس کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں، لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا، ڈی جی سپورٹس پنجاب
صوبہ میں 315سپورٹس کی سہولیات موجود ہیں اور 200سکیموں پر کام جاری ہے،15بلین روپے کی لاگت سے سپورٹس سہولیات پرکام جاری ہے، عدنان ارشد اولکھ۔سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں 3روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقادکیاگیا،افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ تھے، ڈی جی سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے اس موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اس کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں، لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا،سپورٹس بورڈ پنجاب نے کورونا وباء کے باوجود ایس او پیز کے تحت کھیلوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے،اس وقت صوبہ میں 315سپورٹس کی سہولیات موجود ہیں اور 200سکیموں پر کام جاری ہے اس طرح صوبہ میں 500سے زائد سکیمیں اس مالی سال کے آخر تک موجود ہوں گی،15بلین روپے کی لاگت سے ان سپورٹس سہولیات پرکام جاری ہے،25تحصیلوں میں جون تک سپورٹس کمپلیکس مکمل ہو جائیں گے،
سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں 3روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد#Baaghitv #Pakistan #Hockey #women pic.twitter.com/ctOAbgUF5g
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) December 16, 2020
ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے اپنے دورہ ترکی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں ہمارے ہاں جو کھیل زیادہ مقبول ہیں اس میں ہم ترکی کے ساتھ تعاون کریں گے اور اسی طرح جو کھیل ترکی میں زیادہ مقبول ہیں اس میں وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔
جنرل منیجروومن ونگ پی ایچ ایف تنزیلہ عامر چیمہ نے اس موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ ہاکی کے فروغ کیلئے بھرپور کام کررہے ہیں ہاکی کے فروغ کیلئے ہر مشکل وقت میں انہوں نے ہماری مدد کی ہے،پاکستان ہاکی وومن ونگ کی طرف سے ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
مہمان خصوصی ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ کا گراؤنڈ پہنچنے پر پرتپارک استقبال کیا گیا، کھلاڑیوں سے تعارف بھی کرایا گیا اور گروپ فوٹوز بھی بنائے گئے،افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر سپورٹس محمد حفیظ بھٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر چاند پروین اور سابق کپتان قومی ہاکی ٹیم راحت خان ودیگر شریک تھے۔
پہلے میچ میں لاہور گرین نے لاہور وائیٹ کو1-0سے ہرادیالاہور گرین کی طرف سے واحد گول شارقہ نے کیا، جبکہ دوسرا میچ لاہور ریڈاور لاہور بلیوکے درمیان 1-1گول سے برابر رہاہے لاہور ریڈ کی طرف سے نشاء نے گول کیا اور لاہور بلیو کی جانب سے سعدیہ نے ایک گول کیا۔