Baaghi TV

Category: بلاگ

  • مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی – عمران محمدی

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی – عمران محمدی

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی

    بقلم
    عمران محمدی
    عفا اللہ عنہ

    مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی کا حکمِ الہی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر مقتولوں میں بدلہ لینا لکھ دیا گیا ہے
    البقرة : 178

    اور فرمایا
    وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا
    اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مدد گار بنا۔
    النساء : 75

    جب کوئی مظلوم پکارے تو اس کی پکار پر لبیک کہا جائے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ
    اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے
    الأنفال : 72

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ
    مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں
    (ان میں سے ایک ایک یہ ہے کہ)
    وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ
    اور جب وہ تمہیں پکارے تو اس کی پکار پر لبیک کہو

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوم کی مدد کرنے کا حکم دیا

    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
    أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ
    وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ
    وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ
    وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوْ الْمُقْسِمِ
    وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ
    وَإِجَابَةِ الدَّاعِي
    وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ
    (مسلم ،كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ،بَابُ تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ، وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ، وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ،5388)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض کی عیادت کرنے
    جنازے کے ساتھ شریک ہو نے
    چھنیک کا جواب دینے
    (اپنی) قسم یا قسم دینے والے (کی قسم پو ری کرنے
    مظلوم کی مددکرنے
    اور دعوت قبول کرنے کا حکم دیا

    انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ،بَابٌ: أَعِنْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا،2444)

    اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! ہم مظلوم کی تو مدد کرسکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ ( یہی اس کی مدد ہے )

    تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
    مومن تو بھائی ہی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
    الحجرات : 10

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ بَابٌ: لاَ يَظْلِمُ المُسْلِمُ المُسْلِمَ وَلاَ يُسْلِمُهُ،2442)

    ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے

    مسلمان، اپنے مظلوم بھائیوں کو بے یارو مددگار نہ چھوڑیں

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    [ اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ ]
    [ بخاري، المظالم، باب لا یظلم المسلم المسلم ولایسلمہ : ۲۴۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما ]
    ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔‘‘

    دوسرے مسلمان کی حفاظت حفاظت اپنے جسم کی طرح کریں

    نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالحُمَّى»
    (بخاري ،كِتَابُ الأَدَبِ،بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالبَهَائِمِ،6011)

    تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت ومحبت کا معاملہ کرنے اورایک دوسرے کے ساتھ لطف ونرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤگے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ۔ ایسی کہ نینداڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔

    مسلمانوں کی یہی شان ہونی چاہیئے مگر آج یہ چیز بالکل نایاب ہے۔
    نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں
    کہ ہو ایک کو دیکھ کر ایک شاداں

    مومن وہ ہے جو دوسرے مومن کو مضبوط کرے

    ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «إِنَّ المُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» وَشَبَّكَ أَصَابِعَه
    (بخاري ،كِتَابُ الصَّلاَةِ،بَابُ تَشْبِيكِ الأَصَابِعِ فِي المَسْجِدِ وَغَيْرِهِ،481)

    ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو قوت پہنچاتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا

    مسلمان بھائی کی تکلیف دور کرنے کا اجرو ثواب

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ بَابٌ: لاَ يَظْلِمُ المُسْلِمُ المُسْلِمَ وَلاَ يُسْلِمُهُ،2442)

    ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے کے عیب چھپائے گا

    موسی علیہ السلام کا ایک مظلوم قوم ایک مظلوم شخص اور دو عورتوں سے اظہار یکجہتی

    موسی علیہ السلام کی سیرت میں ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کا معاشرتی پہلو بخوبی نظر آتا ہے
    قبطی اور بنی اسرائیلی کے درمیان لڑائی ہوتے دیکھی تو کمزور اسرائیلی کی مدد کے لیے آگے بڑھے
    شائد کسی کے دل میں اعتراض پیدا ہو کہ اسرائیلی چونکہ موسی کی قوم سے تھا اس لیے مدد کرنا ضروری سمجھا
    لیکن ہم عرض کرتے ہیں کہ انبیاء کا کردار قومیت کی بجائے انسانیت کے گرد گھومتا ہے ورنہ مدین کی دو کمزور عورتیں نہ تو قوم موسی سے تعلق رکھتی تھیں اور نہ ہی دیگر چرواہوں کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت تھی مگر کلیم اللہ کو دیکھیں کہ بھوکا، تھکا، پردیسی مسافر، بے لوث ہوکر جانوروں کو پانی پلانے کی خاطر کنویں سے بھاری ڈول کھینچ لاتا ہے

    فرعون اور اس کے حواریوں کے سامنے پوری شدومد کے ساتھ اپنی قوم کا مقدمہ بھی لڑ رہے تھے
    موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے دربار میں (فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ
    تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انھیں عذاب نہ دے
    طه : 47)
    کہہ کر نہ صرف یہ کہ قوم کی آزادی کی جنگ لڑی بلکہ *وَلَا تُعَذِّبْهُمْ* کا جملہ بول کر فرعونیوں کے ظالمانہ چہرے کو بے نقاب بھی کیا

    اگر ایک طرف
    قوم کی زبوں حالی دیکھتے ہوئے انھیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کی تلقین فرماتے رہتے تھے

    قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهِ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا‌
    موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو
    دوسری طرف
    فرعونی مظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں

    خضر علیہ السلام کا دو مسکینوں اور دو یتیموں سے اظہارِ یکجہتی

    خضر علیہ السلام اللہ کے نبی تھے
    معاشرے سے ربط، حالات پر نظر، عوام کے خیر خواہ اور ماحول سے ایسے باخبر کہ سمندر کی باتیں ملاحوں سے زیادہ معلوم تھیں
    کشتی پر سوار ہوئے تو یہ جانتے ہوئے کہ دوسری جانب کا حاکم غاصب ہے، کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ مساکین کا روزگار متاثر نہ ہو

    ایک بستی میں مقیم ہوئے تو باوجود اس کے کہ انہوں نے مانگے سے بھی کھانہ پانی تک نہیں دیا
    بھوکے بھی تھے پیاسے بھی تھے
    پردیسی بھی تھے اجنبی بھی تھے
    تھکے بھی تھے
    مگر حالت یہ تھی کہ مانند مزدور تعمیرِ دیوار میں مصروف ہوگئے فقط اس لیے کہ اُس کے نیچے یتیم بچوں کا خزانہ چھپا ہوا تھا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مظلوموں کی مدد

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
    بھوکوں کے لیے تگ ودو کرتے تھے کمزوروں کی مدد کرتے تھے یتیموں کا خیال رکھتے تھے مسکینوں پر دست شفقت رکھتے تھے

    آپ نے اعلان کر رکھا تھا اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو تو اس قرضے کی ادائیگی میں خود کروں گا لیکن اگر کوئی فوت ہو جائے اور ورثے میں جائیداد مال و متاع چھوڑ جائے تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گا

    نہ صرف یہ کہ نبوت کے بعد بلکہ نبوت کی زندگی سے پہلے بھی آپ کی یہی کیفیت تھی مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والے معروف معاہدے (حلف الفضول) سے کون ناواقف ہے

    میرے نبی مکہ مکرمہ میں چوری، ڈاکے، رہزنی اور بدامنی کے تدارک کے لیے سرگرداں نظر آتے ہیں
    نصرالمظلوم کے لیے کوشاں ہیں مکے کے ایک ایک سردار کے پاس جاکر ملاقاتیں کرتے ہیں اور آمادہ کرتے ہیں کہ مظلوم کی مدد کی جائے اور ظالم کو روکا جائے سب کو ایک حویلی میں اکٹھا کرتے ہیں مختلف معاہدوں پر دستخط لیتے ہیں تاریخ آج بھی اس معاہدے کو حلف الفضول کے نام سے یاد کرتی ہے
    قربان جاؤں کیسے بے لوث لیڈر تھے معاہدے کے اصل روحِ رواں خود تھے لیکن معاہدے کے نام کی جو تختی بنی، سجی،اور لکھی گئی وہ (حلف الفضول) یعنی سرداروں کے نام کی تھی تاکہ اور کچھ نہیں تو نام کی خاطر ہی میرے ساتھ وابستہ رہیں اور اسی بہانے یہ معاہدہ قائم و دائم رہے

    اماں خدیجہ رضی اللہ عنہ نے انہی اوصاف کی گواہی میں فرمایا تھا
    إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ
    وَتَحْمِلُ الكَلَّ
    وَتَكْسِبُ المَعْدُومَ
    وَتَقْرِي الضَّيْفَ
    وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ
    (بخاری ،كِتَابُ بَدْءِ الوَحْيِ،3)
    آپ اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بے مثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔

    مولانا حالی کے بقول
    مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
    وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
    فقیروں کا ملجا غریبوں کا ماویٰ
    یتیموں کا والی غلاموں کا مولا

    *مظلوم کو حوصلہ دینا اور حوصلے والی بات کہنا بھی اس کی مدد ہے*

    حضرت عمار بن یاسرؓ بنو مخزوم کے غلام تھے۔ انہوں نے اور ان کے والدین نے اسلام قبول کیا تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرکین ، جن میں ابوجہل پیش پیش تھا۔ سخت دھوپ کے وقت پتھریلی زمین پرلے جاکر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ ایک بار انہیں اسی طرح سزادی جارہی تھی کہ نبیﷺ کا گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا : آل یاسر ! صبر کرنا۔ تمہارا ٹھکانہ جنت ہے
    (ابن ہشام ۱/۳۱۹ ، ۳۲۰ ، طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸ بحوالہ الرحیق المختوم )

    *مظلوم مسلمانوں کے ساتھ دعاؤں میں یکجہتی*

    مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ”مستضعفين“ کے حق میں نام لے کر دعا فرمایا کرتے تھے جو مکہ مکرمہ میں کفار کی قید میں رہ رہے تھے :
    [ اَللّٰهُمَّ اَنْجِ الْوَلِيْدَ بْنَ الْوَلِيْدِ وَ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَ عَيَّاشَ بْنَ أَبِيْ رَبِيْعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ]
    ’’یا اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور (مکہ میں گھرے ہوئے) دوسرے بے بس مسلمانوں کو رہائی دلا۔‘‘
    [ بخاری، الأذان، باب یھوی بالتکبیر حین یسجد : ۸۰۴، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]

    *عثمان رضی اللہ عنہ سے صحابہ کی یکجہتی*

    سن 6 ہجری ذی قعدہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کو قریش کے پاس سفیر بن کر جانے کا حکم دیا
    حضرت عثمانؓ اپنی سفارت کی مہم پوری کر چکے تھے ، لیکن قریش نے انہیں اپنے پاس روک لیا۔ غالباً وہ چاہتے تھے کہ پیش آمدہ صورتِ حال پر باہم مشورہ کر کے کوئی قطعی فیصلہ کرلیں اور حضرت عثمانؓ کو ان کے لائے ہوئے پیغام کا جواب دے کر واپس کریں، مگر حضرت عثمانؓ کے دیر تک رُکے رہنے کی وجہ سے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں قتل کردیا گیا ہے۔ جب رسول اللہﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہم اس جگہ سے ٹل نہیں سکتے یہاں تک کہ لوگوں سے معرکہ آرائی کرلیں۔ پھر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیعت کی دعوت دی۔ صحابہ کرام ٹوٹ پڑے۔ اور اس پر بیعت کی کہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نہیں سکتے۔ ایک جماعت نے موت پر بیعت کی۔ یعنی مر جائیں گے مگر میدان ِ جنگ نہ چھوڑیں گے

    *عثمان رضی اللہ عنہ سے یکجہتی کرنے والے ان سب لوگوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہو گئے*

    فرمایا
    لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
    بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کر دی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔
    الفتح : 18

    اور ایسی رضا حاصل ہوئی کہ ان سب پر جہنم حرام قرار دے دی گئی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ لَا يَدْخُلُ النَّارَ، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَهَا ]
    [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أصحاب الشجرۃ… : ۲۴۹۶ ]
    ’’ان شاء اللہ اس درخت والوں میں سے کوئی بھی آگ میں داخل نہیں ہو گا جنھوں نے اس کے نیچے بیعت کی۔‘‘

    *قبیلہ بنو خزاعہ سے مسلمانوں کی یکجہتی*

    مکہ مکرمہ میں دو قبیلے بنو بکر اور بنو خزاعہ آباد تھے
    دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی
    چنانچہ شعبان ۸ ھ میں بنو بکر نے بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کردیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی۔ ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی۔ بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے۔ بہرحال حملہ آوروں نے بنوخزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچادیا۔
    بنو خزاعہ کے ایک آدمی عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے۔ عمرو بن سالم نے چند اشعار کہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ :
    آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریے ، وہ مدد کو آئیں
    جن میں اللہ کے رسول ہوں ہتھیار پوش ، اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت
    آپ ایک ایسے لشکرِ جرار کے اندر تشریف لائیں جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہو یقینا قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑدیا ہے۔
    انہوں نے وتیر پر رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا
    یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا :
    اے عَمرو بن سالم ! تیری مدد کی گئی۔ اس کے بعد آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی پڑا۔ آپ نے فرمایا: یہ بادل بنو کعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے
    پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور آگے چل کر مظلوموں کی یہی حمایت فتح مکہ کا باعث بنی

    *ایک چھوٹی بچی پر ظلم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رد عمل*

    حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
    أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ أَقَتَلَكِ فُلَانٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجَرَيْنِ
    (بخاري، كِتَابُ الدِّيَاتِ، بابُ مَنْ أَقَادَ بِالحَجَرِ،6879)

    کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مارڈالا تھا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دوپتھروں میں کچل کر قتل کردیا۔

    *یہود کی طرف سے ایک مسلمان عورت کی بے عزتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی مدد کو جانا*

    ابن ہشام نے ابوعون سے روایت کی ہے کہ ایک عرب عورت بنوقینقاع کے بازار میں کچھ سامان لے کر آئی اور بیچ کر (کسی ضرورت کے لیے)ایک سنار کے پاس ، جو یہودی تھا، بیٹھ گئی۔ یہودیوں نے اس کا چہرہ کھلوانا چاہا مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس سنار نے چپکے سے اس کے کپڑے کا نچلا کنارا ایک طرف باندھ دیا اور اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔ جب وہ اٹھی تو اس سے بے پردہ ہوگئی تو یہودیوں نے قہقہہ لگایا۔
    اس پر اس عورت نے چیخ پکار مچائی جسے سن کر ایک مسلمان نے اس سنار پر حملہ کیا اور اسے مارڈالا۔ جوابا یہودیوں نے اس مسلمان پر حملہ کرکے اسے مارڈالا۔ اس کے بعد بھی مسلمان کے گھروالوں نے شور مچایا اور یہود کے خلاف مسلمانوں سے فریاد کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حک نے بنی قینقاع کے یہودیوں گھیرا کیا اور مظلوموں کا بدلہ لیا گیا
    (ابن ہشام 2/ 47 ، 48)
    بحوالہ الرحیق المختوم ص327

    *مظلوم بلال رضی اللہ عنہ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یکجہتی*

    حضرت بلالؓ امیہ بن خلف جحمی کے غلام تھے۔ امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کے حوالے کردیتا اور وہ انہیں مکہ کے پہاڑوں میں گھماتے اور کھینچتے پھرتے۔ یہاں تک کہ گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا۔ پھر بھی أحد أحدکہتے رہتے۔ خود بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے مارتا ، اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا۔ کھانا پانی بھی نہ دیتا
    بلکہ بھوکا پیاسا رکھتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ ظلم کرتا کہ جب دوپہر کی گرمی شباب پر ہوتی تو مکہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھوا دیتا۔ پھر کہتا : واللہ! تو اسی طرح پڑارہے گا یہا ں تک کہ مر جائے یا محمد کے ساتھ کفر کرے اور لات وعزیٰ کی پوجا کرے۔ حضرت بلالؓ اس حالت میں بھی کہتے : أحد ،أحد اور فرماتے : اگر مجھے کوئی ایسا کلمہ معلوم ہوتا جو تمہیں اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوتا تو میں اسے کہتا۔ ایک روز یہی کاروائی جاری تھی کہ حضرت ابوبکرؓ کا گزر ہوا۔ انہوں نے حضرت بلالؓ کو ایک کالے غلام کے بدلے اور کہا جاتا ہے کہ دوسو درہم (۷۳۵ گرام چاندی) یا دوسو اسی درہم (ایک کلو سے زائد چاندی ) کے بدلے خرید کر آزاد کر دیا
    (ابن ہشام ۱/۳۱۷، ۳۱۸بحوالہ الرحیق المختوم)

    *ایک مسلمان کے ہاتھ اور پاؤں توڑے گئے تو امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ان کے ہاتھ پاؤں خیبر والو ں نے توڑ ڈالے تو عمر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کے یہ ودیوں سے ان کی جائداد کا معاملہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں قائم رکھے ہم بھی قائم رکھیں گے اور عبداللہ بن عمر وہاں اپنے اموال کے سلسلے میں گئے تو رات میں ان کے ساتھ مار پیٹ کا معاملہ کیا گیا جس سے ان کے پاؤں ٹو ٹ گئے ۔ خیبر میں ان کے سوا اور کوئی ہمارا دشمن نہیں ‘ وہی ہمارے دشمن ہیں اور انہیں پر ہمیں شبہ ہے اس لئے میں انہیں جلا وطن کر دینا ہی مناسب جانتا ہوں ۔
    جب عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا تو بنوابی حقیق ( ایک یہ ودی خاندان ) کاایک شخص تھا ’ آیا اور کہا یا امیرالمومنین کیا آپ ہمیں جلاوطن کردیں گے حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں باقی رکھا تھا اور ہم سے جائیداد کا ایک معاملہ بھی کیا تھا اور اس کی ہمیں خیبر میں رہنے دینے کی شرط بھی آپ نے لگائی تھی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھول گیا ہوں ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ تمھارا کیا حال ہوگا جب تم خیبر سے نکالے جاؤ گے اور تمھارے اونٹ تمہیں راتوں رات لئے پھریں گے ۔ اس نے کہا یہ ابو قاسم ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مذاق تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کے دشمن ! تم نے جھوٹی بات کہی ۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شہر بدر کردیا اور ان کے پھلوں کی کچھ نقد قیمت’ کچھ مال اور اونٹ اور دوسرے سامان یعنی کجاوے اور رسیوں کی صورت میں ادا کردی

    *محمد بن قاسم اور مظلوم مسلمانوں کی پکار*

    ولید بن عبدالملک کے زمانے میں راجہ داہر کے ڈاکوؤں نے مسلمانوں کے بحری جہاز لوٹ لیے۔ بچے اور عورتیں قیدی بنالیے۔ ایک مسلم خاتون کی زبان سے نکلا:
    ”ہائے حجاج! تیری اسلامی غیرت کہاں گئی؟“
    بس پھر کیا تھا؟ حجاج نے لشکر پہ لشکر بھیجے۔ تیسرے لشکر کا سالار اپنے نوعمر بھتیجے اور داماد محمد بن قاسم کو بنایا۔ اسے تقویٰ اختیار کرنے، نمازوں کی پابندی اور بلاوجہ کسی پر ظلم نہ کرنے کا حکم دے کر داہر اور اس کے رسہ گیروں کو سبق سکھانے بھیج دیا۔ ابن قاسم آیا اور اس نے کراچی سے ملتان تک کے علاقے کو اسلامی ملک بناکر رکھ دیا۔
    اور ڈاکوؤں کو پکڑ کر مظلوم لوگوں کی خوب داد رسی کی

    *معتصم باللہ اور ایک عورت کی مدد*

    عموریہ کا ایک بڑا قلعہ تھا۔ رومی عیسائی حکومت کے زیر اثر مسلمان بھی رہتے تھے۔ کسی مسلمان عورت کو کسی بات پر ایک عیسائی نے تھپڑ ماردیا اور کہا: ”کرلے جو کرنا ہے۔“ مسلمان عورت کے منہ سے نکلا: ”ہائے معتصم!“ عباسی بادشاہ کا نام معتصم تھا۔ عیسائی نے کہا: ”واہ! کہاں تو اور کہاں تیرا بادشاہ معتصم۔ ہماری حکومت ہے۔ ہم جو چاہیں کریں۔“ یہی بات ہوا کے کندھوں پر سوار بغداد میں عباسی خلیفہ تک پہنچی۔ ہوا ہی کے ہاتھ معتصم نے جواب بھیجا: ”میری بہن! فکر مت کر، میں ابھی پہنچا۔“ چند ہی دنوں میں مسلم افواج اپنے خلیفہ کی ہدایت پر عموریہ فتح کرچکی تھیں۔ مسلمان بہن کی تلاش کی گئی۔ اسے بادشاہ کا پیغام دیا گیا۔ وہ شکر اور فخر کے ملے جلے جذبات کے ساتھ حاضر ہوئی۔ دوسری طرف اس کے سامنے عیسائی زیادتی کرنے والا پابجولاں سر جھکائے کھڑا تھا۔ اس مغرور نصرانی نے مسلم سپاہ اور عموریہ کے عام لوگوں کے سامنے معافی مانگی۔ معتصم باللہ نے کہا: ”میری بہن! اپنا بدلے لے۔ تیرا بھائی، تیرا امیر، تیری ہی خاطر، تیری غیرت کا بدلہ لینے آیا ہے۔“ مسلم خاتون نے سربلند ہوکر امیر المومنین کا شکریہ ادا کیا۔ پھر ایک زہرناک نگاہ سے نصرانی کو دیکھا اور کہا: ”میں تجھ سے تھپڑ کا بدلہ تھپڑ مارکر لے سکتی ہوں۔ تو نے دیکھا لیا کہ میرا امیر مسلم غیرت سے خالی نہیں اور لے میں تجھے صرف اللہ کی رضا کے لیے معاف کرتی ہوں۔ آیندہ تمہارا کوئی غیرت سے عاری فرد ایسی جرات نہ کرے۔“

    *اے امت مسلمہ❗کشمیر اور دیگر علاقوں میں مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اٹھو*

    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے
    خدا بھی اہل ہمت کو پر پرواز دیتا ہے

    اٹھو کشمیر کے سرو و سمن آواز دیتے ہیں
    تمہیں افغان کے کوہ و دمن آواز دیتے ہیں
    لہو میں تیرتے گھر و صحن آواز دیتے ہیں
    فلسطینوں کے لاشے بے کفن آواز دیتے ہیں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    وہ دیکھو وادیِ کشمیر میں گلزار جلتے ہیں
    تڑپتے ہیں کہیں گُل پیرہن گھر بار جلتے ہیں
    ارم آباد کے وہ زعفرانِ زار جلتے ہیں
    وہ اپنی جنتِ ارضی کے سب آثار جلتے ہیں
    جِدھر اُٹھی نظر خونی الاؤ جلتے دیکھے ہیں
    کہاں چشم فلک نے ایسے گھاؤ جلتے دیکھے ہیں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    بگوشے گوش سے نالے سنو معصوم بچوں کے
    ڈرے سہمے ہوئے چہرے کہیں مغموم بچوں کے
    جھپٹ کر ماؤں سے چھیدے گئے حلقوم بچوں کے
    اٹھا کر ماؤں نے پھر بھی لیے منہ چوم بچوں کے
    مرتب ہو رہی ہے جہدِ اسلامی کی تحریریں
    لہو دے کر بدلتی ہیں سدا قوموں کی تقدیریں
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    وہاں افغانیوں کے خون سے بہتے ہوئے دھارے
    اُبلتا ہے لہو سینوں سے یا چشموں کے فوارے
    کسی کے ہیں جگر گوشے کسی کے ہیں جگر پارے
    وہاں ماؤں نے وارے کیسے کیسے آنکھ کے تارے
    میرے الفاظ کیا ہر شعر کا مضمون جلتا ہے
    میں جس دم سوچنے لگتا ہوں میرا خون جلتا ہے
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    کچل ڈالو ہر اک فتنہ ستم کا، سربریت کا
    اٹھو اور توڑ ڈالو ہاتھ ہر اہلِ اذیت کا
    اگر کچھ حریت کا جوش ہے جذبہ حمیت کا
    رہے رب کی زمیں پر کیوں یہ غلبہ آمریت کا
    اٹھو تم دین فطرت کی حقیقت کا حوالہ ہو
    تمہارے نام سے اسلام کا پھر بول بالا ہو
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

    جہاد فی سبیل اللہ ہے بس تیار ہو جاؤ
    اگر پہلے نہ تھے تیار اب تیار ہو جاؤ
    جو سچ پوچھو تو ہے یہ حکمِ رب تیار ہو جاؤ
    نہ اب پہنچو گے تو پہنچو گے کب؟ تیار ہو جاؤ
    اٹھو آگے بڑھو کفار نے پھر تم کو للکارا!
    تمہاری ٹھوکروں میں تھا کبھی تاج سرِ دارا
    اٹھو تم کو شہیدوں کا لہو آواز دیتا ہے

  • شہداء کشمیر کو سلام – عظمیٰ ربانی

    شہداء کشمیر کو سلام – عظمیٰ ربانی

    شہداء کشمیر کو سلام
    از قلم! عظمی ربانی

    کشمیر کے شہیدو! ہوتم پر سلام
    اپنی ملت کا روشن کیا تم نے نام

    تمہاری جر أت،دلیری پہ کیا کیا لکھوں
    تمہاری جانثاری کو میں کیا نام دوں

    تاریخ خود گنوائے گی وہ عظیم کام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    اپنی ماؤں کی عزت کے نگہباں تھے
    اپنی بہنوں کی حرمت کے پاسباں تھے

    ان رداؤں کی خاطر کی جان اپنی تمام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    نام سن کر دشمن تھرا ہی تو گئے
    مقابل جو آئے وہ گھبرا ہی تو گئے

    کانپ جاتے تھے دل سن کر تمہارا نام
    کشمیر کے شہیدو!ہو تم پر سلام

    یہ حسین وادی تمھارے خون سے سیراب ہے
    جو راہ دکھلائی تم نے وہ مثلِ ماہتاب ہے

    آزادی کے راہبروں میں ہے تمہارا مقام
    کشمیر کے شہیدو ! ہو تم پر سلام

    قربانی جسم و جاں کی ضائع نہ جاۓ گی
    آنے والی ہر نسل کہانی تمہاری سنائے گی

    فلک تک تمہاری عظمت کا ہو گا چرچا عام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    مولا تو سن لے مظلوموں کی آہ و بكا
    جگ میں کوئی نہیں ان کا تیرے سوا
    ہر روز جنازے اٹھیں، زندگی ہو گئی جام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

  • یہ تو سفر خون ہے – جویریہ بتول

    یہ تو سفر خون ہے – جویریہ بتول

    یہ تو سفرِ خون ہے…!!!
    ✍🏻:جویریہ بتول
    حقیقت ہے اک کھلی ہوئی یہ تو سفرِ خون ہے…
    ہمت کی یہ بازی ہے… یہ جذبۂ جنون ہے…
    رِستا ہوا ہر اِک زخم مرہم اب مانگے گا…
    طلوعِ صبحِ آزادی اب اِسی کی مرہون ہے…
    گرم جواں لہو سے جو سینچتے ہیں وہ لالہ زار…
    انہی کی جرأتوں کا لکھا ہوا ہر سو مضمون ہے…
    ماؤں نے لعل گنوائے،لُٹا دیے ہیں سہارے سب…
    گُل رنگ گلشن میں کوئی فاختہ نہ مامون ہے…
    کاغذ،قلم اور کتاب پر بھی جہاں پہرے ہیں…
    حقِ رائے آزادی پر لگا طویل لاک ڈاؤن ہے…
    ان نہتے سنگ بازوں کے فلک بوس عزائم سے…
    سہما ہوا انجام اپنے سے وقت کا فرعون ہے…
    اُس قوم کے بچے بچے پر حاوی یہ گہرا عزم ہے…
    ہم لے کر رہیں گے آزادی،یہ نعرہ جن کا سکون ہے…
    بُجھ جائے گا وہ چراغ کیوں کر ظلمتِ شب میں…
    جس کی لُو کو ملا خونِ جگر کا ستون ہے…
    صدیوں کے جاری سفر پر حوصلوں کا سہرا ہے…
    ظلمتوں کی تہہ میں وہ طلوعِ سَحر مدفون ہے…!

  • یوم یکجہتی کشمیر اور اہلیانِ کشمیر سے ہماری یکجہتی کی حقیقت – محمد نعیم شہزاد

    یوم یکجہتی کشمیر اور اہلیانِ کشمیر سے ہماری یکجہتی کی حقیقت – محمد نعیم شہزاد

    درد کی بھی ایک زبان ہوتی ہے جس کو سمجھنے کے لیے دل کی آنکھ درکار ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ بظاہر خوشحال اور پرسکون نظر آنے والے چہروں کے پیچھے کتنے کرب چھپے ہوتے ہیں۔ وقت کی تیزی اور گردشِ زمانہ نے انسان کو کس قدر بے حس بنا دیا ہے کہ دوسرے کا درد محسوس نہیں ہوتا۔ مگر جو درد میں ڈوبا ہو اس کی زندگی کس بھنور سے گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے۔ فیض کہتے ہیں

    زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
    ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

    قریب پون صدی کی غلامی کی زندگی، اذیت ناک صبحیں، درد بھری شامیں اور محرومیوں بھرے ماہ و سال، ایک لرزا دینے والا تصور پیدا کرتے ہیں۔ سال میں ایک دن اس بے بسی و بے نوائی کی گھٹن زدہ زندگی کے نام کر دینا اس کی محرومیوں کا مداوا نہیں کرتا مگر ذہن کے بند دریچوں پر ہلکی سی دستک ضرور دے جاتا ہے۔ پیلٹ گن سے بے نور آنکھیں، باپ کے سائے سے محروم یتیم بچے، اجڑے سہاگ والی دوشیزائیں، بے ردا ہوتی حیا و شرم والی خواتین اور نوجوانوں کے کٹے پھٹے لاشے عالمی مردہ ضمیر کو جھنجھوڑنے سے قاصر ہیں۔ جس باقاعدگی سے ہم یکجہتی کی رسمِ دنیا نبھا رہے ہیں اسی باقاعدگی سے نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔ سالہا سال کی مکرر یکجہتی اور ہمدردی اب کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی اور وہ زبان حال سے کہنے پر مجبور ہیں

    مجھے چھوڑ دے میرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
    یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے

    ذرا چشم تصور میں اس معصوم بچے کو لائیے جس کی بینائی پیلٹ گن چھین لے گئی۔ درد کی اس تصویر کو دیکھتے ہی دل غم سے بھر جاتا ہے۔ آج بھی اسی غم نے مجبور کیا کہ اپنا ما فی الضمیر سپرد قلم کر دوں شاید کہ دل میں دہکنے والی آگ کچھ ٹھنڈی ہو اور سکون قلب نصیب ہو۔

    درد ہو دل میں تو دوا کیجے
    اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے

    اس کے ساتھ ہی یہ سوچ ذہن کو پریشان کرتی ہے کہ عالمی امن کے ٹھیکیدار اور بڑے بڑے طاقتور ممالک کیوں ایسے محکوم لوگوں کے درد کا مداوا کیوں نہیں کرتے؟ کیا عالمی قوانین کا اطلاق صرف پاکستان جیسے امن پسند ملک کے لیے ہی ہے؟ کیا بھارت جیسی نجاست کو کوئی پوِتر اور پاک کرنے والا نہیں ہے؟ دو سال ہونے کو ہیں کہ بھارت نے کشمیر کی حیثیت کو زبردستی تبدیل کر دیا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے خطے میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مکروہ سازش پر جتا ہوا ہے۔ دنیا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے اس کی کارستانیاں دیکھ رہی ہے ۔

    درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے
    زندگی بے مزا نہ ہو جائے

    عالمی برادری اور ادارو ں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور بھارت کے مکروہ عزائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہیے۔ اس طرح اگر اہالیان کشمیر کو بھارت مظالم کا تختہ مشق بنائے رکھا تو ایشیا میں امن کی مخدوش صورتحال پوری دنیا پر اثر انداز ہو گی۔ بقول حفیظ جالندھری

    دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب
    میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

  • مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

    مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

    پاک بحریہ نے علاقائی بحری ہم آہنگی کو فروغ دینے اور دیگر معاملات میں مطابقت کو بڑھا نے کے لیے2007 میں بحری مشقوںکے سلسلے کی میزبانی کا آغاز کیا۔ لفظ ‘امن’ پاکستان کی قومی زبان اردو سے لیا گیا ہے۔ پاک بحریہ کی میزبانی میں اس مشق کے تحت 45 سے زائد ممالک کی بحری افواج کو ایک نعرے "امن کے لئے متحد” کے تحت مدعو کیا جاتا ہے جس کا مقصد کثیرالجہتی دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا اور سمندری اور بحری آپریشنزمیں باہمی تعاون اور ثقافتی روابط کا فروغ ہے۔

    بحر ہند کو مختلف سیکورٹی اور جیو اسٹریٹیجک تبدیلیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ساحلی ریاستوں بشمول پاکستان کو بیشتر چلینجز کا سامنا ہے۔ ان تبدیلیوں سے علاقائی منظر نامے پر متعدد مسائل ابھر رہے ہیں جیساکہ عسکری علاقے (ops enduring freedom)، صومالیہ کے قریب بحری قزاقی، یمن تنازعہ، داعش کا اُبھرنا، ایران – مغربی ممالک اورسعودی عرب کے بدلتے تعلقات، عرب اسپرنگ اور لیوانت میں بد امنی جو علاقائی امن و استحکام کے لئے باعث تشویش ہیں۔ اس کے علاوہ ،غیر روایتی خطرات بحر ہند میں مزید پیچیدہ اور مشکل چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ غیر روایتی خطرات کا دائرہ وسیع اور روایتی خطرات سے وابستہ ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی ،غیر مرتب شدہ اور غیر منظم ماہی گیری (IUU)، غیر قانونی امیگریشن، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ، بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی شامل ہیں۔
    2007 میں پاک بحریہ کی جانب مشق امن کی میزبانی شروع کی گئی جس کے بعد ہر دو سال میں یہ مشق منعقد کی جاتی ہے۔ اس سلسلے کی ساتویںکثیر المکی مشق2021 میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امن مشق کئی حصوں اور پروگرامز پر مشتمل ہے۔ سمندری فیر میں آپریشنل اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور اس مشق کے ذریعے روایتی اورغیر روایتی خطرات کے خلاف ردعمل ، حکمت عملی ، تکنیک اور طریقہ کار کی تخلیق کے مقاصدکے لیے وی بی ایس ایس(VBSS) ، نیول گن فائر ، بحری قزاقی کا مقابلہ ، اینٹی سب میرین مشق ، مواصلات ، آپریشنز ، یکجا بورڈنگ اور ایئر ڈیفنس کی مشقیں کی جاتی ہیں۔ مشق کے سی فیز میں ، جدید بحری مشقیں شامل ہوں گی جن میں کاو¿نٹر ٹیررازم آپریشنز ، میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز ، اینٹی پائریسی ، سطح آب سے فائرنگ کی مشقیں ، سرچ اینڈ ریسکیو مشقیں اور بین الاقوامی فلیٹ ریویوشامل ہیں۔

    ہاربر فیز میں بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس ، میری ٹائم ٹیرراِزم ڈیمو، پیشہ ورانہ امور پر ٹیبل ٹاپ ڈسکشن اور بندرگاہ میں متعدد ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دھماکہ خیز مواد کی آرڈیننس ڈسپوزل ٹیم، اسپیشل آپریشن فورسز اور دیگر سمندری یونٹس اس مشق میں جدید ہتھیاروں اور جدید تکنیکی سازوسامان کا ا ستعمال سیکھیں گے۔

    ‘مشق امن’ کے خیال نے متعدد سمندری ممالک کو اپنی طرف راغب کیا جو پرامن باہمی بقاءاور مشترکہ تعاون کے لئے دنیا کے سمندروں کے مشترکہ استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ مشق میں شریک ممالک کی تعداد پنتالیس سے زیادہ ہو گئی تھی جو کہ 2007 میں اٹھایئس ممالک سے شروع ہوئی تھی۔

    امن سیریز کی اب تک چھ مشقیں منعقد ہوچکی ہیں اور ساتویں مشق فروری، 2021 میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس مشق نے نہ صرف پاکستان کے قومی وقار اور عزت میں اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس مشق میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ عالمی برادری نے علاقائی امن و سلامتی کے لئے پاکستان کے اقدام کوسراہا ہے۔ مزید یہ کہ ،مشق امن کے شرکاءکی بڑھتی ہوئی تعدادخطے کے ممالک کی جانب سے بحر ہند میں ہم آہنگی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے کی جانے والی پاکستان کی کاوشوں میں تعاون کا عندیہ بھی ہے۔

    مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

  • پاکستانیوں کا کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،SignForKashmir ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستانیوں کا کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،SignForKashmir ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے اور اس دن کشمیرمیں بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے-

    باغی ٹی وی : 1846 میں تقسیم ہند کے بعد فیصلہ ہو چکا تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو دیئے جائینگے مگر 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے ناقبول کیا مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان اور قیام پاکستان کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں-

    مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف غصہ بڑھتا گیا اور انہوں نے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے جہاں اس کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے ان کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے-

    عنقریب تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہونے والی یہ جنگ پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے لیتی اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک پہنچ جائے گی اسی لئے نہرو سلامتی کونسل پہنچا جس کے باعث سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانوروں سے ساز باز کرکے جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اس کیساتھ نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیر-

    اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں-

    سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماءوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں
    ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
    جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا-

    اسی حوالے سے پاکستان ٹوئٹر پینل پر #SignForKashmir ٹوئٹر فہرست میں ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں پاکستانیوں سمیت دنیا بھر سے مسلمان حصہ لیتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں –


    کشمیری ٹوئٹر نامی ٹوئٹر ہینڈلر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ سییکڑوں اور ہزاروں بے گناہ کشمیریوں نے اپنے کشمیری شناخت کے تحفظ کے لئے حتمی قربانی ادا کی ہے۔ آئیے اپنی آواز بلند کریں اور لاکھوں کی تعداد میں شامل ہوکر کشمیریوں کی آزادی اور حقوق کے لئے آواز بُلند کریں-
    https://twitter.com/Arslan_Sadiq/status/1357220129734594561?s=20
    https://twitter.com/faujkashaheen/status/1357294872806440960?s=20
    اویس نامی صارف نے لکھا کہ کشمیریوں کے حق کے لئے آواز بُلند کرو-


    عزیزالرحمن نامی صارف نے حافظ محمد سیعد کے الفاظ لکھے کہ کشمیریوں کو آزادی دی جانی چاہئے ، انہیں فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہئے اور اگر آج بھی بھارت ماننے کو تیار نہیں ہے تو پھر پاکستانی اور کشمیری ایک ہیں قوم میں آزادی کی راہ شہادت ہے-


    https://twitter.com/AhsanAliButtPTI/status/1357283483467599873?s=20


    ایک صارف نے کہا کہ کشمیر ہمارے لئے ہمارے جسم کے ایک حصے کی طرح ہے اور ہم کشمیر کے لئے آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑیں گے-

  • امریکی گلوکارہ ریحانہ پشاور زلمی کے لئے ترانہ گائیں گی؟

    امریکی گلوکارہ ریحانہ پشاور زلمی کے لئے ترانہ گائیں گی؟

    گزشتہ روز سے جہاں شہرہ آفاق پاپ گلوکارہ ریحانہ بھارتی کسانوں کی حق میں آواز اٹھانے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی ہیں وہیں پشاور زلمی فرنچائز کے چئیرمین جاوید آفریدی کی جانب سے ایک ٹوئٹ سامنے آئی ہے جس نے صارفین کو کشمکش میں ڈال دیا ہے-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں امریکی گلوکارہ کو بھارتی کسانوں کی حمایت کرنے پر بھارتیوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا بھارتی ٹوئٹر صارفین ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں زبردستی پاکستان کو درمیان میں لے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ گلوکارہ ریحانہ کو پاکستانی اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے یہ الزام تک لگادیا کہ ریحانہ نے کسانوں کے حق میں ٹوئٹ کرنے کے لیے پاکستان سے پیسے لیے ہیں۔

    جبکہ بھارت نے ریحانہ سمیت متعدد غیر ملکی افراد پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں کسانوں کے احتجاج پر سنسنی پھیلارہے ہیں۔ جب کہ متعدد بالی ووڈ اداکاروں نے بھی ڈھکے چھپے الفاظوں میں کہا ہے کہ غیر ملکی فنکاروں کو بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔


    بھارتی صارف نے گلوکارہ کے ٹوئٹ کے جواب میں اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے براہ راست ریحانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی نے تمہیں یہ ٹوئٹ کرنے کے لیے کتنے پیسے دئیے ہیں؟
    https://twitter.com/theFalgunshah/status/1356674807627214853?s=20
    کچھ بھارتی صارفین نے ریحانہ کی پاکستانی معاون خصوصی زلفی بخاری کے ساتھ ایک پرانی تصویر نجانے کہاں سے ڈھونڈھ لائے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ریحانہ کو اس ٹوئٹ کے لیے آئی ایس آئی نے پیسے دئیے ہیں۔


    کچھ بھارتیوں نے تو ریحانہ کو پاکستانی ثابت کرنے کی کوشش میں ان کی پاکستانی جھنڈے کے ساتھ تصویر فوٹوشاپ کرکے شیئر کرادی۔

    تاہم ان سب ٹوئٹس اور تنازع کے بعد پشاور زلمی کے چئیرمین جاوید آفریدی کا ایک ٹوئٹ سامنے آیا جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا-

    جاوید آفریدی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک سوالیہ انداز میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پشاور زلمی کا ترانہ ریحانہ گائیں گی؟

    جاوید آفریدی کے اس ٹوئٹ کے پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اپنے ملک میں کافی اچھے ٹیلنٹڈ گلوکار ہیں جنھیں عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے لہذا براہ کرم اپنے ملک سے باہر کے کسی کو بھی یہ اعزاز دینے کے بجائے یہاں دیکھیں۔
    https://twitter.com/hinnaYousafxaii/status/1357008801493381124?s=20
    حنا نامی خاتون صارف نے جاوید آفریدی کی ٹوئٹ کو رد کرتے ہوئے لکھا کہ نہیں ، اور آپ ہمیشہ زلمی کے لئے کالے لوگوں کا ہی انتخاب کیوں کرتے ہیں-


    ایک صارف نے لکھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں RIHANNA کیا عمران خان کی حکومت چاہے تو سنی لیون کو بھی بلا سکتی ہے۔ اتنی دور جانا بھی نہیں پڑے گا۔ اللہ نے پیسے کہ چکر میں ان سے انکی عقل ہی چھین لی ہے۔ عمران خان نے دھرنوں میں عورتیں نچوائیں یہ سٹیڈیم میں پوری میڈیا پے دکھانا چاہتے ہیں۔ استغفراللہ


    ایک صارف نے لکھا کہ اس ملک میں اپ جیسے نو دولتیوں سے یہی توقع کی جاسکتی ہے ملک میں اپنے میراثی گلوکار مر گئے ہیں جو اس حبشن کو لے رہے ہو اور اگر اس دفعہ ڈھول باجوں کی جگہ کوئی صوفیانہ کلام شامل کر لو تو کیا مضائقہ ہے-


    ہارون خان نامی صارف نے لکھا کہ بہت سارے ڈالر پاکستان سے باہر جارہے ہیں ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں پاکستان آنے والے ڈالر کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ ہم نے بہت زیادہ غیر ضروری درآمدات کو ختم کردیا ہے پاکستانی بنیں ، پاکستانی خریدیں –
    https://twitter.com/Usama4745/status/1357230222114979840?s=20
    اسامہ نامی صارف نے لکھا کہ بھائی بلاواسطہ پاکستان ہی آئیں گے جب ریحانہ کے ذریعے پاکستان کی پروموشن ہو گی اور پاکستان میں سیاحت کو فروگ ملے گا-

  • مکمل طور پر نئے آئین کی ضرورت ،تحریر:حیدر مہدی

    مکمل طور پر نئے آئین کی ضرورت ،تحریر:حیدر مہدی

    مکمل طور پر نئے آئین کی ضرورت ،تحریر:حیدر مہدی

    یہ ممکن ہے کہ اردگان اپنی حکمرانی میں توسیع کے لئے یہ کام کر رہے ہوں لیکن تُرکی کے آئین کو "دوبارہ” لکھنے کا یہ نمونہ, ہمارے لئے پاکستان میں بہت ضروری اور اہم ہے, اگر ہمیں اپنی صلاحیتوں کو ممکنہ استعداد کے ساتھ اُجاگر کرنا ہے ، اور ہم جس طرح کی ترقی کے قابل ہیں۔

    ہمیں خود کو 1935 کے فرسودہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے چُنگل سے آزاد کرنا چاہئے ، جہاں سے پاکستان کے ہر آئین نے اپنی الہامی تحریک تیار کی ہے ، جس میں 1973 کا آئین بھی شامل ہے ، جو اب تسلیم سے بالاتر اور مسخ شدہ ہے۔

    ابتدائی مقصد کے لحاظ سے ہی یہ ایک جامع دستاویز نہیں تھی ، جس کا مُصنّف ایک ایسا شخص تھا جو ہمیشہ کے لئے حُکمرانی اور من مانی کرنا چاہتا تھا !

    1973 کی یہ دستاویز مقصدیت کی حصول میں مکمل طور پر ناکام اور حکومتی کُرسیوں کے ادل بدل” کھیل تماشے” کے مصداق رہی،جس کے نتیجے میں بالائے آئین فوجی بغاوتیں ہوئیں جو عملاً فوج کے حق میں رہیں، نتیجتاً, زبردست ادارہ جاتی عدم توازن ہوا، سویلین ادارے کمزور ہوئے، اور شہری حکومتوں کی سربراہی غیر مہذب ،جَنونی، فرعونیت پسند شیطانی ٹولے کرتے رہے۔ سیاستدان ، صرف اور صرف ریاستی اداروں کو تباہ کرنے پر مرکوز رہے تاکہ وہ اپنی مرضی سے لوٹ مار اور بندر بانٹ کرسکیں!

    ہمیں اپنے آئین کی مکمل اصلاح کی ضرورت ہے۔ بلکہ حقیقت میں ہمیں ایک مکمل طور پر نئے آئین کی ضرورت ہے!

    خاص طور پر ہمارے لئے مندرجہ ذیل امور کی مکمل جرّاحی اور تجدید کرنی ہے،

    1. انتخابی نظام
    2. گورننس کا ڈھانچہ۔
    3. قانون سازی۔
    4. اعلیٰ عدلیہ اور ماتحت عدالتیں
    6. قانون نافذ کرنا۔
    7. سول ملٹری توازن۔

    وزیر اعظم کو آرٹیکل 48 (6) اور 48 (7) کے تحت مذکورہ بالا اُمور پر رائے شماری لینا چاہئے۔جو کہتا ہے کہ،

    * [(6) اگر کسی بھی وقت وزیر اعظم قومی اہمیت کے حامل کسی بھی معاملے پر ریفرنڈم کروانا ضروری سمجھتے ہیں تو وہ اس معاملے کو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مشترکہ اجلاس میں بھیج سکتے ہیں اور اگر مشترکہ اجلاس میں اس کی منظوری دی جاتی ہے تو ، وزیر اعظم اس طرح کے معاملے کو ایک سوال کی شکل میں ریفرنڈم کے حوالے کرنے کا سبب بن سکتے ہیں جس کا جواب "ہاں” یا "نہیں”میں ہو۔] *

    * ( 7) مجلس شوریٰ کا ایک ایکٹ (پارلیمنٹ) ریفرنڈم کے انعقاد اور ریفرنڈم کے نتائج کی تالیف اور استحکام کے لئے طریقہ کار وضع کرسکتا ہے۔] *

    سینیٹ انتخابات کے بعد اس میں اہم پیش رفت کی گنجائش ہے۔

    * *ورنہ یہ عمل وہی پُرانے کچرا دان میں کوڑا ڈالنے،نکالنے کے مترادف ہو گا**

    سلام اور دعائیں
    حیدر مہدی

  • سونامی پراجیکٹ

    سونامی پراجیکٹ

    سونامی پراجیکٹ

    سونامی ٹری پراجیکٹ کے حوالے سے منفی و مثبت بہت سی باتیں زبان زد عام ہیں، تنقید کرنے والوں کی بات میں کچھ حقیقت بھی ہے لیکن اس وقت ہم اسی پراجیکٹ کو ایک دوسرے زاویہ سے دیکھتے ہیں۔

    اس پراجیکٹ پر مبینہ طور پر اربوں روپئے خرچ ہوئے اور اس کا حاصل کتنا ہوا ہم اس بحث میں نہیں پڑتےہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت اگر اس پراجیکٹ کا ایک چوتھائی بھی چائے کی کاشت کے لئے مختص کرتی تو اس کے بہت مثبت نتائج سامنے آتے۔

    محکمہ جنگلات اپنی ہی نرسریوں میں چائے کی پنیری تیار کرتا اور اگلے ہی سال اس نرسری کو جنگلات کے رقبہ پر لگا دیتا یا این ٹی آر آئی سے چائے کی تیار نرسری لگاتا اور پہاڑی جنگلات پر بلاک پلانٹیشن کرتا تو اس وقت یہ پودے تھوڑی بہت چنائی کے قابل ہوجاتے جسے محکمہ جنگلات این ٹی آر آئی کو فروخت کرتا تو اسے آمدن بھی ہوجاتی، بہرحال اب بھی وقت وقت ہے آج کل شجر کاری کا موسم ہے این ٹی آر آئی سے نرسری حاصل کرکے اسے فوری لگایا جائے اور این ٹی آر آئی سے اگلی شجر کاری کے لئے معاہدہ کیا جائے جو اسی سال جولائی میں ہوگی۔

    چائے کے پودے کو جانور بھی زیادہ نقصان نہیں دیتے جبکہ دیگر پودوں کو جانور زیادہ نقصان دیتے ہیں۔ چائے ایک جھاڑی ہے درخت نہیں۔ ویسے بھی دنیا بھر میں اسے جنگلات اور پہاڑی ڈھلوانوں پر ہی لگایا جاتا ہے جس سے زرعی زمین بھی متاثر نہیں ہوتی اور بنجر زمینیں بھی آباد ہوجاتی ہیں۔

    ایگری ٹورزم والے اس منصوبہ کو سیاحتی نقطہ نظر کے ساتھ آمدنی کا ذریعہ بھی بنا سکتے ہیں کیونکہ جب پہاڑوں پر یہ پودے لگیں گے تو خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ سیاح اس جانب توجہ مبذول کریں گے تو آمدن بھی ہوگی اور مقامی لوگوں کی معاشی حالت بھی بہتر ہوگی۔

    یہ منصوبہ آسانی سے کیسے پروان چڑھے گا اس پر کسی اور وقت بات کریں۔ سر دست اتنا ہی آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اس میں دلچسپی لی اس مہم میں ہمارا ساتھ دیجئے۔ملک اور قوم کی خوشحالی کے لئے۔

  • خوابوں کی تعبیر

    خوابوں کی تعبیر

    مرے ہوئے سانپ

    ساجد : کاہنہ نو لاہور

    خواب :میں اور میری ہونے والی بیوی کھیتوں کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے میں نے وہاں پر نالے میں بیت سارے سانپ دیکھے جو مر چکے تھے لیکن مگرمچھ وغیرہ ہم سے ڈر کر بھاگ گئے ہیں-

    تعبیر:آپ کے خواب کی تعبیر اچھی ہے ان کے اوپر کچھ جادو کے اثرات تھے جو نماز یا ذکر و اذکار کی وجہ سے اور جب ان کی شادی ہوئی اس وجہ سے وہ تمام اثرات زائل ہو گئے جو شیاطین تھے چھوٹے چھوٹے وہ مر گئے یا بھاگ گئے اور مگر مچھ وہ بڑا شیطان تھا جو انہیں اس ان کی طرف لا رہا تھا یہ ان لوگوں سے خلاصی پائیں گے جو ان کو اذیت دینا چاہ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے نجات دے دی ہے-

    پُرانا گھر دیکھنا

    شعیب مسعود:لاہور

    خواب: میں نے دیکھا ہے کہ میں رات کے وقت پرانے گھر میں جاتا ہوں اور ساتھ تمام پرانی چیزوں اور پرانی جگہوں کو دیکھتا ہوں-

    تعبیر: یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے حالات بدتر ہو سکتے ہیں ان پر مصیبتیں آ سکتی ہیں اور پرانے گھر سے مراد قبرستان بھی ہے موت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے پرانے گھر سے ویران گھر بھی مراد ہے حالات کا بگڑ جانا اور خستہ حالی افسردہ حالی اور روزانہ کی بنیاد پر مصیبیتیں آنا شروع ہو جانا مراد ہے کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑے گااس کے برعکس اگر نیا گھر دیکھیں تو اس کا مطلب اچھے حالات کی طرف اشارہ ہوگا-

    خواب کی تعبیر جاننے کے لئے اپنا خواب اپنے نام اور شہر کے نام کے ساتھ 03030204604 پر واٹس ایپ کریں-