Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کشمیر پریمئیر لیگ  پر پاکستانی عوام کا جوش و خروش ،نعرہ کھیلو آزادی سے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    کشمیر پریمئیر لیگ پر پاکستانی عوام کا جوش و خروش ،نعرہ کھیلو آزادی سے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    حال ہی میں وفاقی وزیر ،چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کشمیر پریمیئر لیگ کا افتتاح کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان کا ٹیلنٹ اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا، کشمیر کے نوجوان نے دنیا کو دکھنا ہے کہ اس میں کتنا دم ہے،کشمیر پریمئر لیگ کشمیر کو پوری دنیا میں مقبول بنانے میں مدد دے گی-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں وفاقی وزیر ،چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، شاہد آفریدی، سردار مسعود خان، اظہر محمود ، عارف ملک اور شہزاد اختر شریک ہوئے، کشمیر پریمیئر لیگ میں 6 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا ،لیگ میں میرپور رائلز، کوٹلی پینتھرز، باغ سٹالینز، راولاکوٹ ہاکس، اوورسیز واریرز، مظفرآباد ٹائگرز شامل ہیں-

    چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کا کشمیر پریمئر لیگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر پریمیئر لیگ کو PCB، وفاقی حکومت اور عوام کی حمایت حاصل ہے،کے پی ایل سے جموں و کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر لارہے ہیں، ہمارے نوجوان کا ٹیلنٹ اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا، کشمیر کے نوجوان نے دنیا کو دکھنا ہے کہ اس میں کتنا دم ہے،کشمیر پریمئر لیگ کشمیر کو پوری دنیا میں مقبول بنانے میں مدد دے گی-

    شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ یہ لیگ آگے جا کر کشمیر کی بچیوں کو بھی آگے آ کر کھیلنے کا موقع دے گی، ہمارے کرکٹر ہمارے ملک کی پہچان بنے ہیں،کھیل لوگوں کو قریب لانے میں مدد دیتے ہیں، ہم سب کے پی ایل کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر کے ساتھ مل کر اس لیگ کو آگے لے کر جائیں گے، کے پی ایل کا لوگو ‘ کھیلو آزادی سے ‘ دنیا بھر میں گونجے گا۔ کے پی ایل کے ساتھ کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر رکھا جائے گا،

    کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب،شہر یار آفریدی کا بڑا اعلان

    شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر کے فورمز پر کشمیر کو اجاگر کریں گے، کشمیر کمیٹی اس مقصد کے تحفظ اور فروغ کے لئے بھرپور کردار ادا کرے گی،

    سی ای او کشمیر پریمیئر لیگ کا کہنا تھا کہ کشمیر پریمیر لیگ سے پہلے ٹیلنٹ ہنٹ کیمپ لگائے جائیں گے، آزاد کشمیر بھر سے ہر ٹیم میں 2 سے 3 کھلاڑی پلئنگ الیون کا حصہ ہوں گے،یکم اپریل سے کشمیر پریمیر لیگ کا آغاز کیا جائے گا-

    تاہم کے پی ایل کے سامنے آنے پر پاکستانی عوام نے خوشی کا اظہار کیا اور اس بات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے نعرہ کھیلو آزادی سے سلوگن سامنے آیا یہاں تک کہ یہ نعرہ اس وقت پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پر سرفہرست ٹرینڈز میں آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔


    حیا بنت حیا نامی صارف نے اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ شاہد آفریدی نے کہا: "میں نے اپنے پورے کیریئر میں کئی ٹیموں کے لئے کھیلا ہے ، لیکن میں کشمیر کے عوام سے ملنے والی محبت کو واپس کرنے کے لئے کے پی ایل کی طرف سے کھیلنا پسند کروں گا۔”
    https://twitter.com/MughalAAziz/status/1342071512128434177?s=20
    عزیزالرحمن نامی صارف نے لکھا کہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہریارآفرید ی نے کہا کہ حکومت پاکستان اور کشمیر کمیٹی اس ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لئے مکمل تعاون کرے گی کیونکہ یہ واقعہ کشمیر سے منسلک ہے۔


    https://twitter.com/AisheGull313/status/1342066950281830401?s=20
    ایک عائشے نامی صارف نے لکھا کہ کے پی ایل کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر ڈال دے گا۔ ہم کشمیر کو دنیا بھر کے تمام فورمز پر اٹھائیں گے۔ کشمیر کمیٹی کشمیر کی شناخت اور ثقافت کے تحفظ ، منصوبے اور فروغ کے لئے ہر کام کرے گی۔ ‘کے’ لفظ اب بز کا لفظ ہے۔
    https://twitter.com/HurtMe2468/status/1342063171826307072?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے ہفتے کو کشمیر پریمیر لیگ (کے پی ایل) کا آغاز آزاد جموں و کشمیر کے پہلے پریمیر کرکٹ ٹورنامنٹ کے طور پر کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر جموں و کشمیر کے عوام کی آواز بلند کرنے کے لئے ثقافتی اور کھیلوں کے مختلف پروگراموں کا سلسلہ شروع کرنے کا عزم کیا۔
    https://twitter.com/Adiusra/status/1342067815575154688?s=20
    عدنان الرحمن نامی صارف نے لکھا کہ شاہد آفریدی جو کے پی ایل کے برانڈ سفیر بھی ہیں ، اظہر محمود ، کے پی ایل کے چیف کوچ ، صدر کے پی ایل عارف ملک اور شہزاد اختر چوہدری کے پی ایل کے سی ای او ، شہریار آفریدی نے کہا کہ کے پی ایل کشمیر کو ورلڈ اسپورٹس میپ پر رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔


    حیا بنت حیا نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ کشمیری نوجوانوں کا ہنر اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا۔کشمیری نوجوانوں کو دنیا کو دکھانا ہے کہ ان میں کتنا ٹیلنٹ ہے۔
    https://twitter.com/Kami1_here/status/1342067054413807620?s=20

  • بھارتی عوام نےآسٹریلیا سے شرمناک شکست کا ذمہ دار ویرات کی اہلیہ انوشکا کو قرار دیا

    بھارتی عوام نےآسٹریلیا سے شرمناک شکست کا ذمہ دار ویرات کی اہلیہ انوشکا کو قرار دیا

    بھارت عوام نے آسٹریلیا سے پہلے ٹیسٹ میں شرمناک شکست کا ذمہ دار بھی کپتان ویرات کوہلی کی اہلیہ انوشکا شرما کو قرار دیا-

    باغی ٹی وی :بھارتی شائقین نے آسٹریلیا سے پہلے ٹیسٹ میں شرمناک شکست کا ذمہ دار بھی کپتان ویرات کوہلی کی اہلیہ انوشکا شرما کو قرار دینا شروع کردیا۔

    کچھ شائقین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا سے پہلے ٹیسٹ میں شرمناک شکست کی ذمہ دار بھی کپتان ویرات کوہلی کی اہلیہ انوشکا شرما ہیں انوشکا نے کوہلی کی توجہ منتشر کی اور ان پر ٹیسٹ میچ کے دوران ہی گھر واپس لوٹنے کیلیے دباؤ ڈالا-

    یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھارتی عوام نے انوشکا کو ویرات کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اس سے قبل بھی بھارتی ٹیم کی ناکامیوں کا ملبہ انوشکا پر ڈالا جاتا رہا ہے۔

    نہیا ککڑ کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع ہے؟

    واضح رہے کہ بالی ووڈ اداکارہ کے ہاں جنوری میں پہلے بچے کی پیدائش متوقع ہے کوہلی کو پہلے ٹیسٹ کے بعد گھر واپس لوٹنا تھا۔

    خیال رہے کہ 19 دسمبر کو ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے فاسٹ بالرزنے بھارتی بلے بازوں کے پرخچے اڑا دئیے ،محمد شامی گیند لگنے کی وجہ سے ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے،کپتان کوہلی سمیت پوری ٹیم میں سے کوئی بھی بلےبازڈبل فگرمیں داخل نہ ہوسکا-

    بھار ت کا ٹیسٹ میں کم ترین اسکور پر آوَٹ ہونے کا نیا ریکارڈ،36 پر ساری ٹیم ڈھیر

    آسٹریلیا کے فاسٹ بالرز جوش ہیزل ووڈ اورپیٹ کمنزنے تباہ کن باؤلنگ کی جس کے سامنے بھارتی نہ ٹھہر سکے،ہیزل ووڈ نے صرف8 رنز دے کر 5اور پیٹ کمنز نے چار وکٹیں لیں ،اس سے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھارت کا کم ترین اسکور42 ہے

    بھار ت نے ٹیسٹ میں کم ترین اسکور پر آوَٹ ہونے کا نیا ریکارڈ قائم کر لیا ،بھارتی ٹیم 1974 میں انگلینڈ کیخلاف 42 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی-

    پی ٹی آئی نےٹویٹرپیج پربھارت آسٹریلیا میچ کے شراب کی مشہوری والی پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کی؟اہم خبرآگئی

  • محمد حفیظ کے ہوتے ہوئے نئے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے    فہد مصطفیٰ

    محمد حفیظ کے ہوتے ہوئے نئے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے فہد مصطفیٰ

    شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ، میزبان اور پرویوڈیوسر فہد مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ حفیظ جیسے کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے نئے پلیئرز کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلے جینے والے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سینئر پلیئر محمد حفیظ نے ایک مرتبہ پھر اپنی عمدہ بیٹنگ کی صلاحیتوں کا ثبوت دے دیا اور بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اپنا سب سے بڑا انفرادی اسکور بنا ڈالامحمد حفیظ نے ہملٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے 98ویں میچ میں 99 رنز ناٹ آوٹ بنائے۔

    یاد رہے کہ دوسر ے ٹی 20 میچ میں‌ نیوزی لینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی. کیویز نے پاکستان کو 9وکٹوں سے شکست دی. نیوزی لینڈ کے ٹم سیفرٹ84 رنز، کپتان کین ولیمسن 57 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے . نیوزی لینڈ کو 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی۔

    قومی ٹیم کی جانب سے محمد حفیظ نے شاندار اننگز کھیلی لیکن وہ بھی کام نہ آسکی اور99 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔20ویں اوور کی آخری گیند پر انہوں نےچھکا لگا کر ٹیم کا اسکور163 تک پہنچایا۔

    گراؤنڈ بدلی لیکن گرین شرٹس کی ادا نہ بدلی

    جہاں ایک طرف ٹوئٹر صارفین شدید غم و غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصباح اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑانی چاہیئے انہوں نے ٹیم کا نقصان کر دیا ہے ہماری ٹیم نمبر ون ٹیم تھی ان کی وجہ سے ٹیم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لگاتار دوسرے میچ میں ہار رہے ہیں ٹاپ ہولڈر فیل ہو رہا ہے دوسری جانب صارفین نے آج کے میچ کو ون مین شواور محمد حفیظ کو پروفیسر قرار دیا اوراس شاندار کارکردگی پر محمد حفیظ کو گزشتہ روز سے ہی سوشل میڈیا پر محبت بھرے پیغامات موصول ہورہے ہیں-

    مصباح الحق اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑائیں، پاکستانی عوام کا مطالبہ

    اس ضمن میں معروف اداکار فہد مصطفیٰ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محمد حفیظ کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔


    فہد مصطفیٰ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ جب ہمارے پاس حفیظ جیسے کھلاڑی موجود ہیں تو نئے کھلاڑیوں کی تلاش کیوں کریں۔

    اُنہوں نے محمد حفیظ کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے بالکل ایک پروفیسر کی طرح شاندار اننگز کھیلی۔

    واضح رہے کہ محمد حفیظ بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دنیا کے تیسرے کھلاڑی ہیں جنھوں نے 99 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

    آج پھر شکست سے کیوں دو چار ہونا پڑا شاداب خان نے بتا ہی دیا

    لوگوں کو ڈرامے کا مقصد سمجھنے کے لئے تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیئے فہد مصطفیٰ

  • زلفی بخاری سال 2020 کے ‘100 پاکستانی پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل

    زلفی بخاری سال 2020 کے ‘100 پاکستانی پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک پاکستانی زلفی بخاری ملک کے 100 پرکشش افراد میں شامل واحد سیاستدان ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلفی بخاری کو ملٹی نیشنل پاکستانی فیشن میگزین ‘ہیلو‘ نے اپنی سالانہ ‘100 پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل کیا ہے ہیلو میگزین سال کے اختتام پر فیشن، شوبز، ٹی وی، ماڈلنگ، سیاست اور دیگر شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والے 100 بہترین افراد کو پرکشش افراد کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

    فیشن میگزین کی جانب سے سال 2020 کی جاری کردہ ‘100 پرکشش افراد‘ کی فہرست میں 40 سالہ زلفی بخاری واحد سیاستدان ہیں۔

    میگزین نے ‘100 پرکشش افراد‘ کے خصوصی شمارے کے سرورق پر زلفی بخاری کو زینت بنایا ہے۔


    میگزین کی جانب سے سرورق کی زینت بنائے جانے اور فہرست کا حصہ بنائے جانے پر زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر میگزین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    2020 میں یو ٹیوب پر کمائی میں 9 سالہ بچہ سب سے آگے

    اس سال میگزین کی فہرست میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق اداکاری سے ہے اور مجموعی طور پر 100 سے 90 کے افراد کا تعلق اداکاری سے ہے۔

    اس سال پرکشش افراد کی فہرست میں واحد گلوکار عاطف اسلم بھی شامل ہیں جب کہ برطانوی نژاد پاکستانی میزبان تنویز وسیم المعروف تان فرانس بھی شامل ہیں۔

    ار طغرل غازی نے بھارت میں بھی نیا اعزاز اپنے نام کر لیا

    اس سال کی پرکشش افراد کی فہرست میں ترک اداکار انگین التان دوزیتان اور ایسرا بلجیک بھی شامل ہیں، جنہوں نے ترک ڈرامے ارطغرل غازی میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

    ماہرہ خان سمیت 3 پاکستانی فنکار ایشیا پیسیفک کے 100 بااثر ترین ڈیجیٹل اسٹارز کی…

    علاوہ ازیں اس سال کی فہرست میں عائزہ خان، حرا مانی، ہمایوں سعید، یمنیٰ زیدی، سجل علی، سونیا حسین، ثروت گیلانی، اقرا عزیز، ہانیہ عامر اور دیگر اداکار و اداکارائیں شامل ہیں۔

    جبکہ فیشن میگزین کی جانب سے رواں سال کی جاری کی گئی فہرست میں مہوش حیات، ماہرہ خان، عائشہ عمر، صبا قمر، حریم فاروق، سائرہ یوسف اور حمیمہ ملک جیسی اداکاراؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔

    ایمن خان کا فوربز ایشیا 2021 کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار

    2020 پاکستان کی کون سی شخصیات کو گوگل پر زیادہ سرچ کیا گیا گوگل نے فہرست جاری کر…

  • مصباح الحق اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑائیں، پاکستانی عوام کا مطالبہ

    مصباح الحق اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑائیں، پاکستانی عوام کا مطالبہ

    پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کو مسلسل دوسری بار میچ ہارنے کی وجہ سےعوام کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یہاں تک کہ پاکستان ٹوئٹر پینل پر پاک و نیوزی لینڈ ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں پاکستانی عوام قومی ٹیم کے کوچز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ٹیم سے باہر نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی :یاد رہے کہ دوسر ے ٹی 20 میچ میں‌ نیوزی لینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی. کیویز نے پاکستان کو 9وکٹوں سے شکست دی. نیوزی لینڈ کے ٹم سیفرٹ84 رنز، کپتان کین ولیمسن 57 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے . نیوزی لینڈ کو 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی۔

    قومی ٹیم کی جانب سے محمد حفیظ نے شاندار اننگز کھیلی لیکن وہ بھی کام نہ آسکی اور99 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔20ویں اوور کی آخری گیند پر انہوں نےچھکا لگا کر ٹیم کا اسکور163 تک پہنچایا۔

    گراؤنڈ بدلی لیکن گرین شرٹس کی ادا نہ بدلی

    محمد حفیظ نے 57گیندوں پر 5چھکوں کی مدد سے 99رنز بنائے۔ اوپنر محمد رضوان 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے
    کپتان شاداب خان4، حیدر علی 8اورخوشدل شاہ نے14رنز بنائے۔ عبداللہ شفیق بغیرکوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔

    ہوا کچھ یوں کہ ہملٹن میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹونٹی میں ٹاس کی جیت پاکستان کے حصے میں آئی تو کپتان شاداب خان نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور شاہینوں نے میزبان ٹیم کو 164 رنز کا ہدف دیا۔ کیوی اوپنرز مارٹن گپٹل اور ٹیم سیورٹ ہدف کے تعاقب میں کریز پر آئے تو رنز بنانے کے مشن میں زوردار شاٹس کھیلے۔ مارٹن کے آغاز میں ہی 2 چھکوں نے کیوی شائقین میں جوش بھر دیا تاہم ان کوفہیم اشرف نے 22 رنز پر پویلین کی راہ دکھا دی-

    تاہم پاکستانی اپنی کرکٹ ٹیم کی مسلسل دوسری شکست قبول نہیں کر پارہے اور ٹوئٹر پر ٹرینڈ کے ذریعے ٹیم اور ان کے کوچز کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں-

    آج پھر شکست سے کیوں دو چار ہونا پڑا شاداب خان نے بتا ہی دیا

    ٹوئٹر صارفین شدید غم و غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصباح اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑانی چاہیئے انہوں نے ٹیم کا نقصان کر دیا ہے ہماری ٹیم نمبر ون ٹیم تھی ان کی وجہ سے ٹیم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لگاتار دوسرے میچ میں ہار رہے ہیں ٹاپ ہولڈر فیل ہو رہا ہے دوسری جانب صارفین نے آج کے میچ کو ون مین شواور محمد حفیظ کو پروفیسر قرار دیا –
    https://twitter.com/itsLaryb/status/1340626582407421953?s=20
    لاریب اطہر نامی خاتون صارف نے اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مستقبل پر توجہ نہ دیں ہمیں پریزنٹ پر فوکس کی ضرورت ہے ہمیں آج سرفراز کی کمی محسوس ہوئی مصباح نے کامیابی کے ساتھ ٹیم کو تباہ کردیا!
    مصباح نے ملک کو گرا کر غلطی کی جبکہ محمد حفیظ نے چالیس سال کی عمر میں یہ آسانی کے ساتھ کیا ، مصباح کو ان سے کچھ سیکھنا چاہئے۔


    محمد حسنین نمی صارف نے مصباح الحق اور وقار یونس کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ کرکٹ کی دنیا کے لیجنڈز نمبر ون کرکٹ ٹیم کو تباہ کرنے کے بعد-


    https://twitter.com/RahylaChattha/status/1340564445467209729?s=20
    راحیلہ نامی صارف نے لکھا کہ انڈین کرکٹ ٹیم دو مرتبہ بھی کھیل لے پھر بھی حفیظ کا ریکارڈ نہیں توڑ سکتی-


    https://twitter.com/MAwaisJajja/status/1340571651277250561?s=20

  • ان کا واپسی کا ٹکٹ کینسل کراؤ اور انہیں سمندر سے تیر کے آنے کا آپشن دو   بھارتی خاتون اپنی کرکٹ ٹیم پر پھٹ پڑی

    ان کا واپسی کا ٹکٹ کینسل کراؤ اور انہیں سمندر سے تیر کے آنے کا آپشن دو بھارتی خاتون اپنی کرکٹ ٹیم پر پھٹ پڑی

    آسٹریلیا کے خلاف ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں بھارتی کرکٹ ٹیم تاریخی رسوائی کا شکار ہو گئی ، دوسری اننگزمیں بھارتی ٹیم صرف 36 رنزپرڈھیر ہو گئے جس پر پوری ٹیم کو بھارت میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے فاسٹ بالرزنے بھارتی بلے بازوں کے پرخچے اڑا دئیے ،محمد شامی گیند لگنے کی وجہ سے ریٹائرڈ ہرٹ ہوگئے،کپتان کوہلی سمیت پوری ٹیم میں سے کوئی بھی بلےبازڈبل فگرمیں داخل نہ ہوسکا

    آسٹریلیا کے فاسٹ بالرز جوش ہیزل ووڈ اورپیٹ کمنزنے تباہ کن باؤلنگ کی جس کے سامنے بھارتی نہ ٹھہر سکے،ہیزل ووڈ نے صرف8 رنز دے کر 5اور پیٹ کمنز نے چار وکٹیں لیں ،اس سے پہلے ٹیسٹ میچ میں بھارت کا کم ترین اسکور42 ہے

    بھار ت نے ٹیسٹ میں کم ترین اسکور پر آوَٹ ہونے کا نیا ریکارڈ قائم کر لیا ،بھارتی ٹیم 1974 میں انگلینڈ کیخلاف 42 رنز پر آؤٹ ہوئی تھی-

    ٹیم کی میچ میں اس آؤٹ پٹ کے بعد بھارت میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں ایک مسلمان بھارتی خاتون ناظمہ بھی شامل ہیں جو ویڈیو میں ٹیم کی کارگردگی پرپر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں انم کی اصلی حقیت دکھا رہی ہیں-


    ٹوئٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں خاتون کو اپنی شرط ہارنے کا انتہائی دکھ ہے کہ اس نے ُوری بھارتی ٹیم کو ننگا کر کے رکھ دیا-

    بھار ت کا ٹیسٹ میں کم ترین اسکور پر آوَٹ ہونے کا نیا ریکارڈ،36 پر ساری ٹیم ڈھیر

    ویڈیو میں خاتون کہتی نظر آ رہی ہیں کہ وہ بھارتی ٹیم کی ناقص کارگردگی کی وجہ سے پورا 100 روپیہ شرط ہار گئی ہوں وہ تو کوئی بات نہیں وہ تو آفریدی کے ابو کی جہب سے نکال لوں گی لیکن شرط کے برابر اسکورز تو بنالیتے-

    خاتون نے کہا کہ یہاں میری اولاد بھی میرا ٹیوشن گیم سے زیادہ اسکور کر لیتی ہے اور انہیں دیکھ لو من پسند کا کوچ دیا ہوا کوچ کو من پسند کی دارو یعنی شراب اور دارو کے ساتھ من پسند کا چکھنا تب بھی یہ حال ہے-

    خاتون نے کہا کہ میں تو کہتی ہوں واپسی میں ان سب کی فلائٹ ٹکٹ کینسل کراؤ اور انہیں سمندر سے تیر کے آنے کا آپشن دو بس-

    خاتون نے بھارتی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہا کہ ودیش جاتے ہی ٹک ٹاک چلنے لگ گیا ہو گا سب کے فونوں پر کر دی ٹرانزیکٹ تصاویر ہر دن کی جتنے ان سے رنز نہیں مارے جا رہے اتنے ہمارے دنگوں پر لوگ مر جاتے ہیں –

    پی ٹی آئی نےٹویٹرپیج پربھارت آسٹریلیا میچ کے شراب کی مشہوری والی پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کی؟اہم خبرآگئی

    خاتون نے اپنی ویڈیو میں آسٹریلیا ٹیم کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا کہا کہ ویسے یہ آسٹریلیا والے بھی کم نہیں ہیں آءی پی ایل انڈین سُپر لیگ میں ہمارا ہی نمک کھایا اور اب ہمیں ہی ٹاٹا بول دیا شرم تو آئی نہیں ہو گی ٹیم کو ویسے یہ شرم سے یاد آیا اور پرتھوی اشوک بھائی ویرات تم آ رہے ہو تو ساتھ میں اسے بھی لے آنا وہاں تو اس سے کھیلا نہیں جا رہا یہاں کم از کم بچے کا دودھ تو گرم کر دے گا-

    خاتون نے نیہا ککڑ کو بھی نہیں چھوڑا اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سب صدمے سے نکل نہیں پائی تھی کہ گلوکارہ نیہا ککڑ نے گانا شئیر کر دیا خیال رکھیا کر خاتون نے کہا کہ اگر نیہا کو اتنا ہمارا خیال ہوتا نا تو وہ اتنے گانے ہی نہ بناتی ہے کوئی جواب اس کا آپ کے پاس

    نہیا ککڑ کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع ہے؟

  • پی ڈی ایم کا آر پار تحریر: کنول زہرا

    پی ڈی ایم کا آر پار تحریر: کنول زہرا

     
     
     
     
    پی ڈی ایم کا آر پار
    تحریر: کنول زہرا
     
    یوں تو پی ڈی ایم کا مفہوم پاکستان ڈیموکرڈیڈ موؤمنٹ ہے, مگر بہت سے لوگ اسے پاکستان ڈکیت موؤمنٹ کہتے ہیں, جب میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا کیوں تو انہؤں نے اس گیارہ رکنی  اتحاد کی کلی کھول کر میرے سامنے کچھ اس طرح رکھی,
    امریکی مصنف رے مونڈ ڈبلیو بیکر نے اپنی  کتاب کیپیٹلزم اچیلیس ہیل میں انکشاف کیا کہ     نواز شریف نے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے دو بار اقتدار کے دوران $ 418 ملین کا مالی فائدہ اٹھایا۔،
    یہ کتاب نواز شریف سمیت تاریخ کے سب سے زیادہ تسلط رکھنے والے سیاسی خاندانوں کی بدعنوانی اور ان کی جائیدادیں ، اور بے تحاشا دولت جمع کرنے کے بارے میں ہے۔
     
    اس کتاب کے مطابق ، 1990 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے وزیر اعظم کے پہلے دور میں کم از کم 160 ملین ڈالر کا غبن کیا ، یہ کرپشن اپنے آبائی شہر لاہور سے اسلام آباد تک شاہراہ تعمیر کرنے کے معاہدے کے دوران کی گئی۔
    کم از کم140 ملین ڈالر کا پاکستان اسٹیٹ بینکس سے غیر محفوظ قرضوں سے فائدہ اٹھایا ۔ نواز شریف اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے زیر انتظام ملوں کے ذریعہ برآمد کی جانے والی چینی پر سرکاری چھوٹ سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ کا مال کمایا۔
    کم از کم 58 ملین ڈالر امریکا اور کینیڈا سے درآمدی گندم کی ادائیگی کی قیمتوں سے اسکیم ہوئی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے معاہدے میں ، شریف حکومت نے واشنگٹن میں اپنے ایک قریبی ساتھی کی نجی کمپنی کو قیمت سے کہیں زیادہ ادائیگی کردی۔ گندم کی غلط انوائسز نے لاکھوں ڈالر نقد رقم بٹوری۔
    کتاب کے جائزے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "اس بدعنوانی کی حد اور وسعت اتنی حیرت انگیز ہے کہ اس نے ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔” نواز شریف کے دور میں ، بغیر معاوضہ بینک قرض اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری دولت مند ہونے کے لئے پسندیدہ راستہ بنی رہی۔
    اقتدار سے محروم ہونے پر ، غاصب حکومت نے سب سے بڑے قرض نادہندگان میں سے 322 کی ایک فہرست شائع کی ، جس میں بینکوں کو واجب الادا 4 بلین ڈالر میں سے تقریبا$ 3 بلین ڈالر کی نمائندگی کی گئی تھی۔ شریف اور ان کے اہل خانہ کو 60 ملین ڈالر میں ٹیگ کیا گیا۔
    1999 میں پرویز مشرف نے تحقیقات کی ، نواز شریف پر مقدمہ چلا ، عمر قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن پھر 2000 میں انہیں جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔    امریکی مصنف نے اپنی اس کتاب میں نواز شریف کی کرپشن کے  بارے دستاویزاتی ثبوت بھی فراہم کئے ہیں ۔ اس کتاب میں حدیبیہ پیپرز مل اسکینڈل کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے جبکہ منی لانڈرنگ کے ذریعے 643 ملین روپے کا فراڈ بھی شامل ہے ۔ رائیونڈ اسٹیٹ کی ڈویلپمنٹ کے نام پر قومی خزانہ سے 620 ملین لوٹے گئے تھے ۔ ریمنڈ بیکر لکھتا ہے کہ نواز شریف نے بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی خریداری میں کرپشن کی تھی کرپشن کے ذریعے مری میں جائیداد خریدی گئی ۔ منی لانڈرنگ کے لئے پاسپورٹ جعلی بنائے گئے ۔
    کوہ نور انرجی مل کے نام پر 450 ملین لوٹے گئے اور قانون سازی کر کے بلیک منی کو وائٹ کیا گیا جبکہ بنکوں کے 35 ارب روپے کے قرضے معاف کرائے گئے ۔   نواز شریف پر بطور وزیر خزانہ پنجاب اور بعد میں بطور وزیراعلی پنجاب اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات لگے ۔ خاص کر 1988/89 کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ جس میں نواز شریف پر قومی خزانے کو کم از کم 35 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگا۔
    وزارت عظمی کے پہلے دور میں نواز شریف پر بینکوں کے کئی سو ارب روپے کی غیر قانونی قرضے جاری کرنے ( کم از کم 675 ارب روپے )، کواپریٹیو سوسائیٹیز اسکینڈل ،  گندم فراڈ ، موٹر وے فراڈ اور پیلی ٹیکسی اسکیم میں فراڈ کرنے کے الزامات لگے ۔ ان تمام معاملات میں نواز شریف پر کل ملا کر کم از کم 1000 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کے الزامات ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت برطرف کی تھی ۔
    28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ پاکستان سے سزا یافتہ, سیاست ؤ حکمرانی کے لئے تاحیات نااہل مجرم  نوازشریف پر نجکاری کے عمل میں سب سے زیادہ کرپشن کرنے کے الزامات ہیں ۔ سپریم کورٹ سے سزایافتہ اور نااہل نواز شریف نے کئی اہم ادارے کوڑیوں کے مول بیچ کرخرید اس سلسلے میں متعدد  لوگوں کو بطور فرنٹ مین استعمال کیا ۔ ان لوگوں میں میاں محمد منشاء کا نام سر فہرست ہے ۔
    نواز شریف پر یہ بھی الزام ہے, انہوں نے رمضان شوگر مل اور اپنی رائونڈ کی رہائش گاہ کے لیے اربوں روپوں سے سڑکوں کی تعمیروغیرہ جسے ذاتی امور پر سرکاری رقم خرچ کی.
    ۔1997 میں نواز شریف نے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس فریز کر کے لوگوں کو کم از کم 11 ارب ڈالر کا نقصان دیا ۔ یہ اتنا بڑا نقصان تھا جسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔۔۔۔
    سستی روٹی اسکیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس اسکیم میں قومی خزانے کو کم از کم 40 ارب روپے کا نقصان دیا گیا.
    اسی طرح لیپ ٹاپ اسکیم اور میٹرو بس پراجیکٹ میں بھی نواز شریف پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں ۔ صرف میٹرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پراجیکٹ میں نواز اینڈ کمپنی نے کم از کم 30 ارب روپے کی کرپشن کی اور منصوبہ پر لگائی گئی اصل رقم کے اعداد و شمار چھپانے کے لیے ریکارڈ تک جلا دیا گیا۔۔۔
    پاکستان میں کام کرنے والی آئی پی پیز کو نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی 400 ارب روپے منتقل کیے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل مالک میاں محمد منشاء نہیں بلکہ نواز شریف خود ہے ۔
    اس کے علاوہ نواز شریف پر پاکستان سے باہر غیر قانونی جائداد رکھنے اوراربوں روپے کے منی لانڈرنگ کے الزامات بھی ہیں.
    نواز شریف پر مختلف قومی اداروں میں غیر قانونی بھرتیا ں کرنے کا الزام ہے جن میں ایف آئی اے اور پی آئی اے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر میں اہم پوسٹوں پر اپنے پسندیدہ بندے تعئنات کروائے ۔
    نواز شریف نے مہنگی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی کم کروائی تاکہ وہ اور اس کے ساتھی مہنگی ترین گاڑیاں آسانی سے درآمد کر سکیں ۔
    انہیں غیر قانونی ہیلی کاپٹر رکھنے کے الزام میں سزا بھی سنائی جا چکی ہے ۔ اس کے علاوہ بڑے میاں صاحب کے خلاف مختلف عدالتوں اور نیب میں کئی طرح کے کیسز زیر سماعت ہیں.
    نوازشریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے رشتے اور قربی ساتھیوں میں اچھے اچھے عہدے بانٹ دیتے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی میرٹ نہیں دیکھا جاتا۔ مثلاً اس وقت نواز شریف کے خاندان کا کوئی فرد ایسا نہیں جس کے پاس کوئی بہت بڑا عہدہ نہ ہو اور وہ سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کی تنخواہ اور مراعات نہ لے رہا ہو۔
    نواز شریف جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن وہ خود آمریت کی پیدوار ہیں ۔ ان کو جنرل ضیاء کی فوجی حکومت سیاست میں لائی اور اس کو یہاں تک پہنچانے میں مدد دی ۔ اس سلسلے میں آئی جے آئی والا معاملہ کافی مشہور ہے, جب سے ان کی حقیقت کھول کر سامنے آئی ہے لندن میں بیٹھ کرپاکستان افواج پر چڑھائی کر رہے ہیں.
     
    نواز شریف بارہا قوم سے کئے گئے اپنے وعدوں سے پھر گئے مثلاً آصف زرداری کی لوٹی گئی رقم واپس لانے کا معاملہ جب سوئس حکومت رقم دینے پر تیار تھی اور ان کو صرف خط لکھنا تھا تب نواز شریف نے زرداری سے اپنے حق میں تیسری بار وزیراعظم بننے کے لیے آئنی ترمیم کروا لی اور بدلے میں افتخار چودھری کے ذریعے خط والا معاملہ لٹکا دیا اور دو سال نکلوا دئیے ۔
    اور اسی طرح کئی معاملات پر وہ دوغلا رویہ رکھتے ہیں ۔ مثلاً جب غلام اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کرپشن کے الزامات کے تحت گرائی تو اس نے اس اقدام کی پرزور تائید کی لیکن جب کچھ عرصے بعد اسی صدر نے اسکی اپنی حکومت انہی الزامات کے تحت گرانی چاہی تو اس نے صدر کا یہ آئینی حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
     
    نواز شریف کے پاکستان دشمنوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ ان میں انڈیا اور جیو اور جنگ گروپ جیسے متنازعہ ادارے اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد شامل ہیں ۔ انکے علاوہ پاکستان کی چند متنازعہ ترین شخصیات جیسے عاصمہ جہانگیر ، نجم سیٹھی سے بھی قریبی تعلقات ہیں اور ان کو اہم ترین عہدوں پر فائز کرتے رہے ہیں ۔
    نواز شریف نے اپنے دور میں پاکستان کی افغان مجاہدین کی امداد روکنے کی کوشش کی تھی ان کے علاوہ ان پر کشمیری مجاہدین سے غداری کرنے کا الزام بھی ہے ۔
     
    نواز شریف کے ہر دور حکومت میں مہنگائی ، بیرونی قرضے اور ڈالر کی قیمت بے اندازہ بڑھ جاتی ہے ۔ جبکہ ادارے یا تباہ ہو جاتے ہیں یا بیچ دئیے جاتے ہیں ۔ مثلاً آخری بار جب پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو زرمبادلہ کے ذخائر صرف 400 ملین ڈالر رہ گئے تھے اور پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ لوگ اتنے تنگ تھے کہ مارشل لاء لگنے پر لاہور میں لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں ۔
     
    نواز شریف پر صحافی خریدنے اور ان کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں ۔
     
    نواز شریف اکثر اہم ترین قومی اداروں کے ساتھ حالت جنگ میں ہوتے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم ادارہ افواج پاکستان کا ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک بار فوج نے انکا تختہ بھی الٹ دیا تھا ۔ ان کے علاوہ وہ سپریم کورٹ پر بھی حملہ کر چکے ہٰیں جبکہ کم از کم دو بار ان کی ایوان صدر کے ساتھ بھی جنگ رہی ۔ جس کے نتائج بعد میں اس کو خود بھی بھگتنا پڑے ۔
     
    نواز شریف کے ہر دور میں پنجاب پولیس اسٹیٹ بن جاتی ہے اور پولیس کی جانب سے لوگوں کو حراساں کرنے اور قتل کر دینے کے واقعات بھی عام ہو جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ماڈل ٹاؤن کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے.
     
    نواز شریف نے کئی بار کشمیر کاز کو بے پناہ نقصان پہنچایا خاص کر کارگل کی جنگ میں انہوں نے پاکستان کو شرمندہ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی.
    ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت کئی لوگوں نے کہا ہے کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کے خلاف تھے اور کئی اہم ترین لوگوں کے پریشر پر مجبوراً دھماکے کیے ۔
    نواز شریف نے پاکستان کے حاضر سروس چیف آف آرمی سٹآف پرویز مشرف کا طیارہ اترنے نہیں دیا اور ان کو انڈیا بھجوانے کی کوشش کی,  بعد ازاں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا ۔
    پاک ایران گیس پائپ لائن جیسا اہم نوعیت کا قومی منصوبہ نواز شریف کی ہٹ دھرمی کی نطر ہوگیا۔ جبکہ ڈیموں کے لیے نواز شریف کے پاس ہمیشہ بجٹ میں رقم نہیں ہوتی ۔
    نواز شریف پر ٹیکس چوری کا الزام بھی ہے. وہ پاکستان کی امیر ترین شخصیت ہونے کے باوجود بہت معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں.
    پیپلزپارٹی کسی دور میں پاکستان کی مقبول سیاسی جماعت سمجھی جاتی تھی اب صرف سندھ کی ہو کر رہی گئی ہے, یہاں کا بھی الله ہی حافظ ہے, کراچی کے شہریؤں سمیت اندروں سندھ  کے عوام  پینے کے صاف پانی، پکی سڑکوں اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں. وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل کے مطابق,  ن لیگ اور پیپلز پارٹی بظاہر دو مخالف  مگر اندر سے ایک ہیں، دونوں کےدرمیان نظریات کا ڈھونگ، نوراکشتی اور سیاسی مخالفت صرف عوام کو بے وقوف بنانےکے لیے ہے,  اوپر سے جتنی مخالفت کریں کرپشن کے محاذ پر ن لیگ اورپیپلزپارٹی کا نظریہ بالکل ایک ہے،کرپشن کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے گئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ شریف خاندان کی ٹیلی گرافک ٹرانزیکشنز (ٹی ٹیز) اور زرداری خاندان کے جعلی اکاؤنٹس کرپشن کی داستان میں قدرمشترک ہیں، نواز شریف نے لوٹ مار کی دولت کے تحفظ کے لیے 1992ء میں قانون بنا دیا تھا، قانون یہ بنایا گیا کہ باہر سے جو بھی پیسہ لائے گا اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی,  دونوں کی کرپشن  کے طریقہ کار کو اگر عکس بند کیا جائے تو سپرئیٹ سیزن بن سکتا ہے, جب ان عناصر سے ناجائز دولت کا پوچھا جاتا ہے تو سادہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کہتے ہیں کرپشن ثابت کرو، قانون نے ان کا پیسے سے تعلق ثابت کرنا ہوتا ہے،ذرائع بتانا ان کا کام ہے۔ ٹی ٹیز اور جعلی اکاؤنٹس سے باہر بھیجےگئے پیسے اور ان سےخریدی گئی جائیدادوں سے یہ انکار نہیں کرسکتے۔ زرداری صاحب پر جعلی اکاونٹس کی بدولت فرد جرم بھی عائد ہوچکی ہے,  سندھ میں وازات بانٹنے کا حال تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں,  سہیل انور سیال جو سندھ کے وزیر داخلہ ره چکے ہیں ان کی زرداری صاحب کے پاؤں چھؤتی اور ادی فریال کے ہینڈبیگ لٹکائے تصاؤیر سوشل میڈیا کی زینت رہی ہیں, سندھ کی بیؤرو کریسی میں بھی زرداری صاحب کی بہت چلتی ہے خیر سے بد نامے زمانہ ایس ایس پی ملیر  راؤ انوار  کو  اپنا بچہ بھی کہے چکے ہیں,  ان کی بہن دھمکیاں دیکر ووٹ لیتی نظر آئیں ہیں بدنامے زمانہ gangster  عذر بلوچ کے تانے بانے بھی زرداری صاحب سے ملتے ہیں جعلی اکاؤنٹس اور شؤگر ملز مالکان سندھ کے بے تاج بادشاه ہیں جبکہ ؤفاق پر بھی براجمان رہے ہیں مگر آج تک اپنے سالے مرتضی بھٹو اور بی بی شہید کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگاپائیں ہیں,  عؤام کو سوچنا ہوگا کیا یہ لوگ پی ڈی ایم کا ڈھول بجا کر عوام کی فلاح کرسکتے ہیں جبکہ  معتدد بار ؤفاق اور تاحال صوبہ سندھ کے حکمران ہیں,  ان آزمائے ہوئے لوگوں نے ایسا کیا عوام کے لئے اچھا کیا ہے جو اب کر دیں گے,  یقینا پاور میں آنے کا مقصد اپنی دونمبریوں کی پردہ پوشئ اور مزید لوٹ مار کی چاہ ہے,  کیونکہ ان لوگؤں کو یہ ہی آتا ہے,  دنیا کارونا کی وجہ سے خؤف کا شکار ہے,  یہ لوگ اپنے مفادات کے تحت جلسے کر رہے ہیں تا کہ الله نہ کرئے پاکستان کا حال سرحد پار جیسا ہو, دوسری جانب رواں ماہ زداری صاحب کی دختر بختاور صاحبہ کی منگی کی تقریب منگنی  معنقد کی گئی جس کے  دعوت نامہ میں مہمانوں سے گزارش کی گئی کہ پہلے اپنے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ اسکین کرکے بلاول ہاوس بھیجیں، جس کے بعد انہیں تقریب میں شرکت کی اجازت ملے گی۔۔ جبکہ ذاتی مفاد پر کیے جانے والے  جلسے، جلوس، ریلیوں میں کسی قسم کے ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا گیا, یعنی  ان  کی نظر میں عوام کی حیثیت ٹشوپیپر یا کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے.  یہ ووٹ کو نہیں بلکہ اپنے مفادات اور جعلی بینک اکاؤنٹس کو عزت دینے کے حامی ہیں,  ازلی دشمن بھارت سے دوستی,  تحائف,  بزنس ڈیل اور ساتھ بیٹھ کر آلو گؤشت کھانے کے شؤقین ہیں,  ان کی نظر میں ملک کی نہیں بلکہ اپنی دونمبری کی عزت ہے,  ان لوگوں کو ریلیف نہیں بلکہ سیٹھ ؤقار کے فیصلے کے مطابق سلوک کرنا چاہیں.
     
    اب بات کرتے ہیں جے یو آئی ف کی سب سے پہلے بات کرتی چلوں کہ مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل کیوں کہا جاتا ہے اس کے معتلق معروف صحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں پیش آنے والا حیران کن واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ یہ سب کچھ انہیں مجلس عاملہ کے ایک ممبر نے بتایا ہے, مجلس عاملہ کے اجلاس میں جے یو آئی کے امیر سے پوچھا گیا کہ ڈیزل کا پرمٹ آپ نے لیا ہے؟ جس پر مولانا فضل الرحمان نے اعتراف کیا اور کہا کہ مجاہدین کو پیسے چاہئے تھے، میں نے وہ پرمٹ فروخت کر کے انہیں پیسے دیدئیے۔“  مولانا فضل الرحمن کو جب سے 2018 الیکشن میں شکست حاصل ہوئی ہے وہ تب سے شدید کوفت اور غصے کا شکار ہیں آج تک ان کی کسی سیاسی حکمت عملی کا کیا  لائحہ عمل رہا ہے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کی ہی مثال لے لیں، وزیر اعظم عمران خان سے استعفی کا مطالبہ تو کیا لیکن کن بنیادوں پر یہ آج تک مولانا صاحب بھی واضع نہیں کر پائے, پھر پی ڈی ایم کے سربراہ بنکر بھی  کوئی کامیابی حاصل نہ کر پائے,  ہر حکومت کا حصہ مولانا فضل الرحمن آجکل سیاسی طور پر مکمل بے روزگار ہیں اسی وجہ سے اشتعال کا شکار ہیں,  حکومت میں رهنے کا لالچ ہی انہیں عورت کی حکومت کے مخالف ہونے کے باوجود محترمہ بے نظیر کی کابینہ کا ممبر بنے, 2018 کی تاریخی شکست کے بعد مولانا کی تو دنیا ہی اجڑ گئی اور انہوں نے 14 اگست تک نہ بنانے کا اعلان کرکے بھارت سے آنے والے اس ٹولے کی یاد تازہ کردی جو ابتدا میں پاکستان کے مخالف تھے اور قائداعظم کو قاتل اعظم کہتے تھے مگر پاکستان بنتے ہی یہاں براجماں ہوگئے,  اپنی آرمی رکھنے والے مولانا کی بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کے ساتھ تصویر بھی سوشل میڈیا کا حصہ رہی ہے,  آجکل جے یو آئی ایف کے امیر, نجی آرمی انصار اسلام کے چیف آف آرمی اسٹاف اور سربراہ پی ڈی ایم  نیب کے رایڈر کی زد میں ہیں.
    رواں سال اکتوبر کو حزب اختلاف نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی سیاست کا آغاز کیا, مزے کی بات  استعفے کا مطالبہ ہرگز بھی بڑھتی مہنگائی یا بے روزگاری نہیں ہے بلکہ "مجھے کیوں نکالا” کا دکھ ہے, جس کا اظہار میاں صاحب کی جانب سے بارہا ہوتا ہے,  اپنی غلطیوں اور وزیراعظم ہوکر بیٹے سے معمولی تنخواہ لینے کی چھوٹی حرکت کا غصہ اداروں پر نکالنے والے نواز شریف صاحب اپنے گیٹ نمبر چار کے روحانی اجداد کی کرم فروانیوں کو بھول کر ناخلف بیٹے بنکر  ملک کے راز اگل رہے ہیں جس پر بھارت شادیانے بجا رہا ہے بلکہ وہ تو میاں صاحب کو ”  اپنا آدمی ” بھی کہہ چکا ہے,پھر میاں صاحب کا مودی کو بنا ویزے بلانا,  قمیتی تحائف کا تبا دلہ کر نا کسی سے پوشیده نہیں ہے, خواجہ آصف کے بعد ایاز صادق کے توہین قومی سلامتی بیانات سب کو یاد ہیں,اس پر نادان سمجھ رہے ہیں عوام ان کو سنجیدہ لیں گے, یعنی حد ہے نا سمجھی کی,  دخترنواز اور بیگم صفدر اعوان تیرہ دسمبر کو یوم آر پار کہہ رہی تھیں, یعنی حکومت پر آری کا دن جو پاکستان کی خوش قسمتی سے پی ڈی ایم پر کاری ضرب ثابت ہوا,  اہلیان لاہور نے ثابت کردیا مینار پاکستان, مادر وطن کی بقا کا ضامن ہے, چوروں کی داد رسی کے لئے لاہور والوں کے پاس وقت نہیں ہے, پھر جس تحریک کا سربراہ ہی 14,اگست نہیں مناتا ہو اور نہ ہی افواج پاکستان کو مانتا ہو وہ کیسےملک کے خیر خواہ ہوسکتے ہیں. عوام کو سمجھ آگئی ہے, جس تحریک میں اچکزئی جیسا منتشر ذہین کا مالک ہو وہ کیسے قومی امور پریگانیت سے کام کرسکتے ہیں, اب صورتحال یہ ہے,
    13دسمبر کو آرپار کرنے والے لانگ مارچ تک آگئے ہیں, استعفی جمع کرانے والے  اسپیکر کے بجائے اپنے قائدین کو پیش کر رہے ہیں. یعنی تیرہ دسمبر 2020 پی ڈی ایم کا یوم آر پارتھا قوم کو پاکستان ڈکیٹ موومنٹ کی شکست مبارک ہو.
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     
     

  • تین روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد

    تین روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد

    سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں 3روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقاد
    ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اس کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں، لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا، ڈی جی سپورٹس پنجاب
    صوبہ میں 315سپورٹس کی سہولیات موجود ہیں اور 200سکیموں پر کام جاری ہے،15بلین روپے کی لاگت سے سپورٹس سہولیات پرکام جاری ہے، عدنان ارشد اولکھ

    ۔سپورٹس بورڈ پنجاب کے زیر اہتمام نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں 3روزہ لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین کا انعقادکیاگیا،افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ تھے، ڈی جی سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے اس موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اس کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں، لاہور ڈویژن ہاکی ٹورنامنٹ برائے خواتین سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا،سپورٹس بورڈ پنجاب نے کورونا وباء کے باوجود ایس او پیز کے تحت کھیلوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے،اس وقت صوبہ میں 315سپورٹس کی سہولیات موجود ہیں اور 200سکیموں پر کام جاری ہے اس طرح صوبہ میں 500سے زائد سکیمیں اس مالی سال کے آخر تک موجود ہوں گی،15بلین روپے کی لاگت سے ان سپورٹس سہولیات پرکام جاری ہے،25تحصیلوں میں جون تک سپورٹس کمپلیکس مکمل ہو جائیں گے،

    ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے اپنے دورہ ترکی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں ہمارے ہاں جو کھیل زیادہ مقبول ہیں اس میں ہم ترکی کے ساتھ تعاون کریں گے اور اسی طرح جو کھیل ترکی میں زیادہ مقبول ہیں اس میں وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔

    جنرل منیجروومن ونگ پی ایچ ایف تنزیلہ عامر چیمہ نے اس موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ ہاکی کے فروغ کیلئے بھرپور کام کررہے ہیں ہاکی کے فروغ کیلئے ہر مشکل وقت میں انہوں نے ہماری مدد کی ہے،پاکستان ہاکی وومن ونگ کی طرف سے ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    مہمان خصوصی ڈائریکٹرجنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ کا گراؤنڈ پہنچنے پر پرتپارک استقبال کیا گیا، کھلاڑیوں سے تعارف بھی کرایا گیا اور گروپ فوٹوز بھی بنائے گئے،افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر سپورٹس محمد حفیظ بھٹی، ڈپٹی ڈائریکٹر چاند پروین اور سابق کپتان قومی ہاکی ٹیم راحت خان ودیگر شریک تھے۔

    پہلے میچ میں لاہور گرین نے لاہور وائیٹ کو1-0سے ہرادیالاہور گرین کی طرف سے واحد گول شارقہ نے کیا، جبکہ دوسرا میچ لاہور ریڈاور لاہور بلیوکے درمیان 1-1گول سے برابر رہاہے لاہور ریڈ کی طرف سے نشاء نے گول کیا اور لاہور بلیو کی جانب سے سعدیہ نے ایک گول کیا۔

  • دو ناقابل فراموش زخم    از قلم: غنی محمود قصوری

    دو ناقابل فراموش زخم از قلم: غنی محمود قصوری

    دو ناقابل فراموش زخم
    از قلم غنی محمود قصوری

    یوں تو اس کرہ ارض پر ارض پاک پاکستان کے کئی دشمن ہیں مگر ان میں سے سب سے زیادہ کمینہ اور بدخصلت دشمن انڈیا ہے اس بزدل اور کمینے دشمن کی طرف سے اس ارض پاک کو کئی زخم دئیے گئے ہیں مگر دو زخم نا قابل فراموش ہیں جن میں ایک زخم آج سے 49 سال قبل سقوط ڈھاکہ اور دوسرا آج سے 6 سال قبل سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کی صورت میں دیا گیا –

    دنیا جانتی ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان انڈیا سینڈوچ کی طرح تھاگو کہ مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان 1600 کلومیٹر کا فاصلہ تھا مگر پھر بھی ہمارا دشمن انڈیا بنگالی پاکستانیوں اور مغربی پاکستانیوں کے نرغے میں تھا جب دل کرتا دشمن کی گردن دبا دی جاتی تھی جس سے دشمن ہر وقت خوف زدہ رہتا تھا انڈیا نے اپنے سینڈوچ ہونے کا عملی مظاہرہ 1965 کی پاک انڈیا جنگ میں دیکھا بھی تھا سو اس شاطر اور بدخصلت ہندو مکار نے خود کو محفوظ کرنے کی خاطر اپنوں کو اپنوں کے خلاف کرتے ہوئے بنگالیوں میں مغربی پاکستان کے خلاف زہر بھر کر مکتی باہنی نامی مسلح تنظیم بنوائی جس نے اپنے ہی بھائیوں پر مسلح حملے کئے قتل و غارت گری کی اور نام مشرقی پاکستان میں موجود پاکستان آرمی کا لگایا-

    ہندو کے اس ناپاک مقصد کو تقویت مشرقی و مغربی پاکستان کے اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں نے قومیت، صوبائیت اور فرقہ واریت کے نام پر دی اور یہ آگ بھڑکتی ہو چلی گئی-

    حقائق سے نابلد اور اسلام سے بیزار لوگوں پر مشتمل مکتی باہنی کے لوگوں نے اپنی ہی فوج پر مسلح حملوں کو تیز تر کر دیا اور ساتھ ہی انڈیا نے فوجی جھڑپیں بھی شروع کر دیں جس کا ہمارے فوجی جوانوں نے جواں مردی سے مقابلہ کیا مگر اپنوں کی غداری کم وسائل کے باعث آخر کار انہیں 16 دسمبر 1965 کو ہتھیار ڈالنے پڑے جسے آج تاریخ سقوط ڈھاکہ کے نام سے جانتی ہے اس دن مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا یہ دن ہر محب وطن پاکستانی کو رنجیدہ کر جاتا ہے-

    انڈیا نے پاکستان کے خلاف سازشیں جاری رکھیں کبھی بی ایل اے تو سندھو دیش تو کبھی فرقہ واریت کو پروان چڑھا کر انڈیا کی اس سائبر وار کوپاکستانی بہت حد تک جان گئے ہیں-

    ایک بار پھر اس سقوط ڈھاکہ کے دن کو یاد کرکے رنجیدہ ہوتے پاکستانیوں پر وار کرتے ہوئے دوسروں کے کندھوں کا سہارا لینے والے انڈیا نے پاکستانی قوم سے دشمنی کی انتہاہ کرتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کے 43 سال بعد 16 دسمبر 2014 کو پاکستان کے صوبہ کے پی کے کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر اپنے پے رول پر کام کرنے والی خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان کے ہاتھوں حملہ کروا دیا جس کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت 147 نہتے لوگ شہید ہو گئے تھے اس سکول میں آرمی اہلکاران کے بچوں کے علاوہ سیویلن کے بچے بھی پڑھتے ہیں اور پوری دنیا اس قتل عام پر رنجیدہ ہے کہ دشمن ذس قدر بھی گر سکتا ہے کہ بچوں سے بھی دشمنی کی انتہاہ کر دے گا کیونکہ بچے تو معصوم اور فرشتوں کی مانند ہوتے ہیں-

    انڈیا اور اس کی جدید مکتی باہنی تحریک طالبان پاکستان نے سمجھا تھا کہ وہ ڈرا دھمکا کر تعلیم کے زیور سے بچوں کو دور کر دیں گے مگر ہمارے بچوں نے نعرہ لگایا ،مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے، جس سے انڈیا کے دل پر تیر چلے کہ یہ کیسی قوم ہے جس کے بچے گولیاں کھا کر بھی بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں-

    ساری دنیا جانتی ہے انڈیا نے اب تک پاکستان میں تخریب کاری کروا کر ہزاروں واقعات میں کئی ہزار پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے مگر سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس پشاور نا قابلِ فراموش زخم ہیں جن کا قرض چکانا اور انڈیا سے بدلہ لینا ہر سچے محب وطن پاکستانی پر قرض بھی ہے اور فرض بھی-

    آج انڈیا پھر ایک بار ہم پر اپنی سائبر وار مسلط کر رہا ہے جس کا مقابلہ ہر پاکستانی نے کرنا ہے کیونکہ روائتی جنگ فوج لڑتی ہے اور ہماری فوج انڈیا کو اس کی اوقات یاد کروا چکی ہے جس کی تازہ مثال 27 فروری کو اس کے علاقے میں جا کر اس کے طیارے گرا کر واپس پلٹنا اور پھر انڈیا کا ساری دنیا کے سامنے میاؤں میاؤں کرنا ہے-

    انڈیا کے یہ دو زخم سقوط ڈھاکہ اور سانحہِ پشاور جو اس نے ہمیں اپنے کے ہاتھوں دلوائیں ہیں ناقابل فراموش ہیں-

  • سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ از قلم خلیل احمد تھند

    سقوط ڈھاکہ۔۔۔۔۔۔ ایک جائزہ

    سیاست کا المیہ نظام نہیں مفاد پرستی ہے ہمارے نزدیک سیاست کو مفاد پرستوں کے قبضے سے آزادی دلا کر وولینٹئرز سیاسی لیڈر شپ کے حوالے کرنے کا عمل اہم ترین مشن کا درجہ رکھتا ہے۔
    ہم سمجھتے ہیں کہ نظام اچھا ہو یا برا اسے چلانا بہرحال انسانوں نے ہی ہوتا ہے سیاست اور اختیار جن ہاتھوں میں ہو ان کا کردار اچھے یا برے نتائج پیدا کرتا ہے اچھے لیڈرز برے نظام میں بھی اچھا پرفارم کر لیتے ہیں جبکہ مفاد پرست لیڈرز اچھے نظام میں بھی اپنے مفاد کو ترجیح پر رکھنے کی وجہ سے برے نتائج دیتے ہیں لہذا ملک بچانے ، اسے مستحکم رکھنے اور عوامی حقوق یقینی بنانے کے لئے ملک کا اختیار بے لوث ، مخلص اور باصلاحیت قیادت کے ہاتھوں میں منتقل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔
    بانیان پاکستان نے مسلمانوں کی آزادی عمل کے لئے الگ وطن حاصل کرنے کے مشن کے لئے اپنا مستقبل ، اپنی جائیداد ، اپنا کیریئر ، اپنی خانگی زندگی سب کچھ نثار کردیا قائد اعظم محمد علی جناح ، محترمہ فاطمہ جناح ، نواب لیاقت علی خان ، سردار عبدالرب نشتر سمیت دیگر ہیروز قربانی کی داستانیں رقم کر کے لازوال ہوگئے ہمارےان بے لوث ہیروز کے سیاسی منظر سے ہٹتے ہی مفاد پرست اقتدار پر قابض ہو گئے جنہوں نے اپنی ہوس اقتدار کی خاطر ملک کو تختہ مشق بنا ڈالا بانیان پاکستان کے برعکس سول اور فوجی بیورو کریٹس غلام محمد ، سکندر مرزا ، جنرل ایوب خان ، جنرل یحیی’ خان نے ملک کو ڈی ٹریک کیا ، اپنے اقتدار کی خاطر قومی یکجہتی کی جگہ انتشار کو پروان چڑھا کر نفرتوں کی جانب دھکیل دیا انکے خود غرض ، مفاد پرست اور اخلاقیات سے عاری طرز عمل نے ملک کے دو بازووں میں سے ایک کو کاٹ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔
    16 دسمبر 1971 کے سانحے کے اصل محرک بھی دراصل یہی مفاد پرست کردار ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے کی راہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس گناہ عظیم کے باوجود وہ پوتر کے پوتر ہی ہیں۔
    ہوشیار اور طاقتور سول و فوجی بیورو کریٹس نے بہت صفائی سے پاکستان توڑنے کا سارا ملبہ سول سیاسی لیڈر ذولفقار علی بھٹو جیسے چھوٹے مجرم پرڈال کر خود کو اس الزام سے بری الذمہ کر لیا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان محض بھٹو سے منسوب ” ادھر ہم ادھر تم” کے تحقیق طلب بیان کی وجہ سے ٹوٹ گیا ؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی شخص کے ایک بیان کی بنیاد پر اچانک ملک دولخت ہوگئے ہوں؟ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ملکوں کے ٹوٹنے میں سالہا سال کے منفی روئیے اور عوامل کارفرما ہوتے ہیں ایک وقت ایسا آتا ہے جب پس پردہ پنپنے والا نفرتوں کا لاوا پک کر اچانک پھٹ پڑتا ہے اور پھر ملک ٹوٹ جاتے ہیں۔
    پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کاجرم بھٹو کی گلے منڈھ دیا جائے یا انڈین مداخلت کو جواز بنا کر دل کی تسلی کا سامان کرلیا جائے کیا کبھی مشرقی پاکستان کے باسیوں کے دلوں میں پروان چڑھنے والی نفرتوں کے اندرونی اسباب کو بھی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
    جمہوری طریقے سے قائم ہونے والے ملک سول یا فوجی ڈکٹیٹر شپ کے جبری اقتدار کی وجہ سے یکجا اور مستحکم نہیں رہ سکتے دونوں کے خمیر میں اپنے اقتدار کا مفاد رچا بسا ہوتا ہے جس سے حق داروں کے حقوق غصب ہوتے ہیں جو نفرتوں کو جنم دیتے ہیں۔
    مشرقی اور مغربی پاکستان کے شہریوں کے معیار زندگی ، سیاسی ، سماجی اور معاشی حقوق میں عدم مساوات کو پاکستان ٹوٹنے کے عوامل سے کسی بھی طرح الگ نہیں کیا جا سکتا بالکل اسی طرح جیسے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کو لاحق خطرات کو جواز بنا کر الگ وطن کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔
    1970 کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی جمہوریت کی بحالی کی تحریک کے سپاہی اور مشرقی پاکستان کے عوام کی محرومیوں کی زبان بن کر ابھرنے والے شیخ مجیب کی سیاسی بالا دستی کو جنرل ایوب خان کے جانشین جنرل یحیی خان نے تسلیم نہیں کیا بلکہ الٹا قوم کی محسنہ محترمہ فاطمہ جناح کی طرح محب وطن شیخ مجیب کو بھی غدار وطن کے منصب تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ایسا دوسری مرتبہ ہورہا تھا جب عوام کی مرضی کے خلاف اقتدار پر قابض ہونے والے محب وطن اور عوام کی رائے سے منتخب ہوکر ابھرنے والے سیاسی لیڈر غدار ٹھہرائے گئے۔
    کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ جس سرزمین پر حصول پاکستان کی تحریک کی بناء پڑی ہو اسی سرزمین کے لوگ بلاوجہ اپنے حاصل کردہ وطن کو توڑنے کے گناہ میں شریک ہو جائیں؟
    ناانصافی اور محرومیاں نفرتوں کو جنم دیتی ہیں پھر ان پر آواز بلند کرنے والے مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں کیا مشرقی پاکستان پر لشکر کشی کرنے اور انکا ساتھ دینے والے کرداروں کو ان پہلووں پر غور کرکے اپنے طرز عمل پر ندامت کا احساس ہو سکے گا؟
    کیا موجودہ پاکستان سے وہ عوامل جن کی وجہ سے پہلے ملک دولخت ہوا کا تدارک ہو گیا ہے ؟ کیا مفاد پرست عناصر سے ملک محفوظ ہو گیا ہے؟ کیا ملک کے تمام علاقوں کا معیار زندگی برابر ہو گیا ہے؟ کیا ملک سے ناانصافی اور محرومیاں ختم ہو گئی ہیں؟ کیا ملک کے تمام شہریوں کو آئین کے مطابق انسانی احترام ، تعلیم ،علاج ،روزگار، تحفظ اور سیاسی مساوی حقوق حاصل ہوگئے ہیں؟
    اگر ایسا نہیں ہے تو کیا ایک مرتبہ پھر نانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں اور آئین میں دئے گئے حقوق مانگنے والوں کو غدار ٹھرایا جائے گا اور ان پر لشکر کشی کی جائے گی؟
    غور طلب پہلو یہ ہے کہ کیا صرف مشرقی پاکستان کے لوگ ہی غلط اور غدار تھے اور موجودہ پاکستان کے کرتا دھرتا درست اور محب وطن؟
    سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ماضی سے کچھ سبق حاصل کر پائیں گے یا اسی ڈگر پر چلتے رہیں گے #
    (خلیل احمد تھند )