ننکانہ صاحب:(نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان یوسف)
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی طرح ننکانہ صاحب میں بھی مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے قبضے اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی افواج کے بہیمانہ مظالم کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا،محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام ضلع بھر کے تمام تعلیمی اداروں جبکہ مختلف تنظیموں کی طرف سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، ننکانہ صاحب میں نکالی گئی مرکزی ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر راجا منصور احمد نے کی جبکہ ریلی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریوینو ڈاکٹر عثمان خالد، سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی احسن فرید، سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر کامران واجد اور اسسٹنٹ کمشنر صولت حیات وٹو سمیت ضلعی افسران، سیاسی و سماجی رہنماؤں، علماء کرام اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی،ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہو ئی جو مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی تحصیل موڑ پہنچ کر اختتام پذیر ہو ئی،سیاہ پرچم ہاتھوں میں تھامے ریلی کے شرکاء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں جبکہ ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کی آزادی کے حق اور بھارت کے خلاف نعرے درج تھے،ریلی کے شرکاء نے کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیریوں سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور بھارت مردہ آباد کے نعرے بھی لگائے،شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جدوجہد آزادی میں کامیابی کے حصول تک اپنے کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ ہے انشاء اللہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی سیاہ ختم ہو نے والی ہے اور کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم کا نوٹس لے اور انہیں اپنی پاس کردہ قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دے۔
Category: بلاگ
-

ننکانہ،کشمیریوں پر بھارتی افواج کے بہیمانہ مظالم کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا
-

وینا ملک کا مریم نواز کو وزیر اعظم عمران خان سے تمیز سیکھنے کا مشورہ
پاکستان شوبز انڈ سٹری کی نامور اداکارہ اوعر میزبان وینا ملک نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کو پاکستانی وزیراعظم اور سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چئیرمین سے تمیز سیکھنے کا مشورہ دے دیا-
باغی ٹی وی : اداکارہ و میزبان اور پی ٹی آئی کی سپورٹر وینا ملک سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سیاسی بیانات بالخصوص ن لیگ اور مریم نواز شریف کے خلاف سیاسی اور غیر اخلاقی بیانات دینے کے باعث مشہور ہیں-
وینا ملک مریم نواز کے خلاف بولنے اور بیانات دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں اور ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹس مین نازیبا اور غیر اخلاقی زبان کا ستعمال کرتے یوئے شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں جس پر وینا ملک شدید تنقید کی زد میں رہتی ہیں-
حال ہی میں وینا ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وینا ملک نے دو تصاویر شئیر کیں جس میں ایک تصویر ن لیگ کی نائب صدر کی کوئٹہ مین جلسے کے دورن کی ہے جس میں صوفے پر اپنی نشست پر بیٹھی ہیں جبکہ ایک غریب عورت مریم کے پاؤں کے پاس ہی زمین پر بیٹھی ہے اپنا مسئلہ بات رہی ہے جسے مریم نواز پوری توجہسے سُن رہی ہیں-
اس جاھل عورت کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ھے۔۔۔ جس میں سب سے پہلے تمیز ھے.
جو گھر میں کسی نے نہیں سکھائ تو اب عمران خان سے سیکھ لے!!! pic.twitter.com/KigMc78ofu— VEENA MALIK (@iVeenaKhan) October 26, 2020
وینا ملک کی شئیر کردہ دوسری تصویر وزیراعظم عمران خان کی ہے جو ایک تقریب میں بیٹھے ہیں اور ایک غریب عورت ان کے ساتھ رکھے گئے صوفے پر بیٹھی ہے –وینا ملک نے ان دونوں تصاویر کا فرق واضح کرتے ہوئے مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جاہل عورت کو بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے جس میں سب سے پہلے تمیز ہے-
وینا نے لکھا کہ تمیز جو گھر میں کسی نے نہیں سکھائی تو مریم نواز اب عمران خان سے سیکھ لے-
-

کیا فلسطین ختم ہونے والا ہے؟ تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
کیا فلسطین ختم ہونے والا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستانمسئلہ فلسطین سے متعلق تاریخ ویسے تو بہت طویل ہے لیکن ہم اگر اس تاریخ کو اعلان بالفوریعنی سنہ1917ء سے ہی مطالعہ کریں تو ہمیں ملتا ہے کہ فلسطین اور یہاں کی اقوام گذشتہ ایک سو سال سے اپنی آزادی کے لئے اور اپنے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے جد وجہد کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو دور حاضر کی ایک طویل جدوجہد کی تاریخ ہمیں فلسطین سے ملتی ہے۔
گذشتہ دو برس سے امریکی حکومت نے ایک منصوبہ متعارف کروایا ہے جسے اب حرف عام میں ’صدی کی ڈیل‘ کہا جاتا ہے۔اس منصوبہ کو بظاہر امریکہ نے امن منصوبہ کا نام دیا ہے لیکن اس کی حقیقت اور گہرائی یہ بتاتی ہے کہ یہ نام نہاد امن منصوبہ در اصل فلسطین کی تاریخ کو مسخ کرنے کے ساتھ فلسطین کے وجود کو ہی نابود کرنے کا منصوبہ ہے۔
تحقیقی انداز میں اگر ان تمام مسائل کو جوڑ کر گفتگو کی جائے تو ہمیں شواہد ملتے ہیں کہ فلسطین کو تاریخ کے اوراق سے مٹانے کے لئے امریکی سرپرستی میں صہیونیوں کی جانب سے کئی ایک مرتبہ دوسرے ممالک پر جنگیں مسلط کی گئی ہیں، غزہ پر بھی جنگیں مسلط ہوتی رہی ہیں، اسی طرح فلسطین کی آزادی کے لئے سرگرم عمل مزاحمتی گروہوں حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی، پاپولر فرنٹ اور دیگر کے خلاف امریکی و اسرائیلی کاروائیاں سامنے آتی رہی ہیں، یہاں تک کہ سنہ2020ء کے آغاز میں القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کامعاملہ بھی امریکی حکومت کے منہ پر ایک سیاہ کلنک کی مانند موجود ہے۔
غرض یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے تمام اتحادی خوا ہ وہ صہیونیوں کی جعلی حکومت اسرائیل ہو یا پھر غرب ایشیائی خطے میں موجود عرب اسلامی ممالک کی حکومتیں اور مطلق العنان بادشاہتیں ہوں۔سب کے سب باہم ایک نقطہ پر متحد نظر آتے ہیں اور وہ نقطہ خطے میں صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا تحفظ ہے تا کہ عالمی سامراج کی مسلم دنیا میں اجارہ داری قائم رہے۔انہی مذموم مقاصد کے حصول کے لئے جہاں گذشتہ بیس برس میں لبنان، افغانستان، عراق، لیبیا، یمن، غزہ اور دیگر مقامات پر جنگیں مسلط ہوئی ہیں اور امریکی افواج داخل ہوتی رہی ہیں وہاں ساتھ ساتھ گذشتہ سات برس انتہائی خطر ناک اور اہمیت کے حامل ہیں کہ جب امریکی سامراج نے شترنج کے تمام مہروں کی ناکامی کے بعد سنہ2011ء کے بعد شام میں ایک نئے اندازسے جنگ کا میدان گرم کرنے کی کوشش کی۔
جی ہاں یہاں پر مراد خبیث زمانہ دہشت گرد گروہ داعش سے ہے کہ جس کو امریکہ و اسرائیل سمیت مغربی و یورپی ممالک کی حمایت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی اتحادی عرب ممالک کی بادشاہتوں کی بھی پشت پناہی اور بھرپور تعاون حاصل رہا ہے۔اس سب کا مقصد صرف اور صرف خطے کو توڑ کر اسرائیل کے لئے راہ ہموار کرنا تھا تا کہ امریکہ اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کے ذریعہ غرب ایشیاء میں گریٹر اسرائیل کی تشکیل یا پھر امریکی زبان میں نیو ورلڈ آرڈر یا نیو مڈل ایسٹ کی تکمیل کو یقینی بنا سکے۔
یہاں پر ان گذشتہ بیس سالوں میں ہونے والے ان تمام حالات اور واقعات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ہمیں وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتاہے کہ ان تمام تر حالات میں اگر سب سے سے زیادہ کسی کو نقصان پہنچا ہے تو وہ فلسطینی ہیں اور فلسطین کی تحریک آزادی ہے کہ جسے روکنے اور ختم کرنے کے لئے مذکورہ بالا حالات کو پیدا کیا گیا۔بہر حال اب دور حاضر میں امریکہ اور اس کے عربی اور غربی اتحادیوں کی ناکامی کے بعد صدی کی ڈیل نامی ایک نام نہاد امن منصوبہ لایا گیا ہے اور اس منصوبہ کا ہدف بھی گذشتہ بیس سال میں لا حاصل مقصد کی طرح ہی ہے۔یعنی فلسطین کی نابودی۔
امریکہ اور اس کے عربی و غربی اتحادی اپنے اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے عرب مسلم ممالک کو اسرائیل کے قریب لا رہے ہیں۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات، بحرین اور اب سوڈان جیسے ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلانات کئے ہیں۔یہ سب اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے میڈیا پر کئے گئے بعد ازاں یہ ان حکومتوں کی جانب سے سامنے آئے۔یعنی اس سارے معاملہ میں دلال امریکہ ہی ہے۔
یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہو رہاہے کہ کیا ان تمام عرب مسلمان حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کوتسلیم کئے جانا واقعی ان کی عوام کی امنگوں کی ترجمان بھی ہے؟ کیا واقعی عرب امارات اور بحرین سمیت سوڈان کے عوام یہی چاہتے ہیں جو کچھ ان حکومتوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے انجام دیا ہے؟ یقینا اگر عوام کی رائے کا جائزہ لیا جائے تو ان تمام ممالک کے عوام فلسطین کے حق میں ہیں اور اسرائیل کو غاصب صہیونیوں کی ناجائز ریاست تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوڈان اور بحرین میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے کہ جس میں عوام نے حکومت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے اقدامات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔
بہر حال عوام احتجاج کریں گے۔ یہ عوام کا حق ہے۔یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکی منصوبہ کامیاب ہو جائے گا؟ کیا واقعی جس طرح امریکہ نے فلسطین کے معاملہ کو نابود کرنے اور فلسطین کو ختم کرنے کے لئے مذموم منصوبہ شروع کیا ہے یہ اسی طرح سے کامیاب ہو پائے گا؟واضح رہے کہ ا س منصوبہ میں امریکی حکومت نے فلسطینیوں کے لئے اربوں ڈالرز کی پیشکش بھی رکھی ہے جسے پہلے ہی فلسطینی دھڑوں نے ٹھکرا دیا ہے۔اب ان تمام سوالوں کا جواب لینے کے لئے ہمیں فلسطین کے ان مظلوم لوگوں کی رائے بھی لینا ہو گی کہ جو گذشتہ ایک سو سال سے اپنے حق کی خاطر جد وجہد کر رہے ہیں اور اس جدوجہد میں انہوں نے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔قربانیاں دی ہیں۔گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔پابند سلاسل ہوئے ہیں۔ دنیاکے بد ترین مظالم کا ڈٹ کا مقابلہ کیا ہے۔لیکن ایک بات پر وہ آج بھی تیار نہیں ہیں کہ فلسطین کو اپنے ہاتھ سے اسرائیل کے لئے دے دیں یا امریکہ کے ا س نام نہاد منصوبہ کے تحت اسرائیل کو تسلیم کر لیں اور فلسطین ختم کر دیں۔یہی مذکورہ بالا عنوان کا جواب ہے کہ کیا فلسطین ختم ہونے والا ہے؟ جی نہیں ہر گز نہیں۔ یہاں پر سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ اگر عرب مسلم دنیا سمیت دنیا کی دیگر ریاستیں بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو کیا تاریخ سے اسرائیل کو ناجائز ریاست ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا حقیقت اس کے بر عکس ہو سکتی ہے کہ فلسطین پر اسرائیل نے ناجائز ریاست قائم نہیں کی؟۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر عرب دنیا کے حکمران اسرائیل کو تسلیم کرلیں اور پوری دنیا بھی اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو پھر بھی قانونی اور اخلاقی طور پر یہ بات ضرور دیکھنا ہو گی کہ فلسطین کس کے ساتھ کھڑ اہوا ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس نے ثابت کیا ہے کہ دنیا اسرائیل کوتسلیم کر لے تو کرے لیکن اگر فلسطین نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور ایک بھی فلسطینی فلسطین میں اپنی شناخت کے ساتھ باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فلسطین باقی ہے اور امریکہ کے عربی اور غربی اتحاد ی ناکام ہیں۔اسرائیل کیونکہ ایک ناجائز اور غاصب ریاست ہے اور فلسطین کے مسئلہ کا منصفانہ حل یہی ہے کہ فلسطین جو کہ فلسطینیوں کا ہے وہ فلسطینیوں کو ہی دیا جائے اور ناجائز و غاصب ریاست کو نابود ہونا ہوگا۔اور یہی امر الہی ہے اور عنقریب تمام شیطانی منصوبوں کی ناکامی کا خاتمہ اسرائیل کی ناجائز ریاست کی نابودی کی صورت میں دنیا دیکھے گی۔
-

خزاں میں گرتے پتوں کی تحریک تحریر:جویریہ بتول
خزاں میں گرتے پتوں کی تحریک…!!!
[تحریر:جویریہ بتول]۔
خزاں کی ہواؤں سے پودوں،بیلوں اور درختوں کے پتے جب ایک خاص انداز میں آہستگی سے نیچے آ گرتے ہیں…
اور پھر اپنی ایک خاص کھنک کے ساتھ جھنکار سے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کرتے ہیں تو یہ کیفیت طبیعت میں ایک عجب موٹیویشن پیدا کرتی ہے…
میں نماز پڑھ کر بیٹھی تھی کہ ہوا کے خوش کن جھونکے کے سنگ رقص کرتے خشک پتے جب تالیاں بجاتے پاس سے گزرے تو مجھے لگا کہ اس زرد موسم میں بھی ان کے حوصلے گرے نہیں بلکہ بحال ہیں اور یہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے طبیعت میں فرحت کی بالیدگی کا باعث بن رہے ہیں…
یہ پتوں کی سرسراہٹ…
خزاں زدہ موسموں میں اشجار کی خالی ٹہنیاں دل و دماغ سے ایک سوال کرتی ہیں…
کہ سفرِ زندگی کے رنگوں سے گھبرانے کی بجائے اُبھرنے کی ہی جستجو کرنی چاہیئے…!!!
اس سفر میں چاہے کن ہی تلخ لمحات سے گزرنا پڑ جائے…
اعصاب شکن معرکہ آرائی میں بھی حوصلہ بحال رکھنا ہے…
ہمارے گرے وجود کو تند و تیز ہوائیں چاہے جس رُخ بھی اُڑانے کی کوشش کر لیں…
ہم وہاں سے گزرتے گزرتے بھی اپنا پیغام دنیا کی سماعتوں اور دل کے دریچوں سے ٹکراتے جائیں…!!!
ان شور مچاتے گھسٹے پتوں نے ایک اور سبق بھی دیا کہ اپنی زندگی کی خوشیوں کو کسی خاص فرد،چیز اور مقام سے ہی وابستہ نہیں کر لینا چاہیئے…
بلکہ اگر کوئی آپ کے جذبات کو کچلتے ہوئے پیٹھ دکھا جائے…
ہرانے کی جستجو میں راہوں میں روڑے اٹکا جائے تو مایوسیوں اور تنہائی کے اندھیروں میں گرنے کی بجائے اپنی زندگی کی گاڑی کو مثبت سمت میں ڈرائیو کرتے رہنا ہے…
اگر کوئی ساتھ چھوڑ جائے تو بجائے پریشان ہونے کے یاد رکھیں کہ یہ زمین وسیع ہے…
اس پر خالقِ کائنات کے پیدا کردہ اسباب کی بھی کوئی کمی نہیں ہے…
کسی درخت کا کوئی پتہ جب گرتا ہے تو نیا پتہ بہار کی رُت بن کر اس کی جگہ لینے کو تیار ہوتا ہے…
بس ضرورت سوچ کے زاویے کو بدلنے کی ہے…!!!
اس مفادات کی دنیا میں کبھی اپنی چند روزہ زندگی کی قیمتی خوشیوں کو ضائع کرنے کی بجائے ان سے محظوظ ہونے کا راستہ نکالیئے…
کہ یہ زندگی بہت مختصر ہے اور ہم سب بھی خزاں کے پتوں کی طرح اک ایک کر کے گرنے والے ہیں،
ہماری جگہ کوئی اور لے لے گا…
لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے یہاں خزاں زدہ رویوں کو گل رنگ بہار کا پیراہن دینا ہے…
اخلاق کے فراز کو بداخلاقی،غصہ ،حسد اور تلخی کے نشیب کی نذر نہیں ہونے دینا…
بلکہ ہر برائی کو برداشت،درگزر،شکر گزاری، اصلاح اور تبدیلی کے جذبے لے کر ختم کرنا ہے…
تاکہ ہم جب خزاں زدہ پتوں کی طرح مٹی کے سپرد ہو جائیں تو ہمارے اخلاق،حوصلہ،جذبہ اور کردار کی کہانی بلند و بالا بہاروں میں جگمگائے…!!![جویریات ادبیات]۔
-

جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم بقلم: عبیرعطا ء الرحمن علوی،لاہور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جشن میلاد النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) اور ہم…
عبیرعطا ء الرحمن علوی،لاہور
ڈھول کی تھاپ پر زوروشور سے بھنگڑڈالا جا رہا ہے…جلوس نکالے جارہے ہیں، جھنڈیاں لگ رہی ہیں، چراغاں کیا جارہا ہے، غرض کہ ہر طرح سے بازاروں کو سجایا جا رہا ہے… کیوں جی ہم یہ سب اہتمام کیوں کررہے ہیں… کریں بھی کیوں نہ؟کہ آج تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت ہے ا ور ہم اس کو زوروشور سے سیلیبریٹ کریں گے ناں!… یکم ربیع الاول سے ہی گلی اور محلے کے ہمارے بچے ٹوپیاں پہنے اور برتن ٹھائے راستوں میں کھڑے ہیں اور ہر آنے جانے والے سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کو سیلیبریٹ کرنے کے لئے اس کو بھر پور انداز سے انجوائے کرنے کے لئے پانچ پانچ یا دس دس روپے مانگتے ہیں۔ پھر ۱۲ ربیع الاول کو ہم اس جمع شدہ رقم سے آپ کا میلاد مناتے ہیں۔ راستہ روک کر ہم یہ بھیک نما چندہ مانگتے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا ضرورت سوال کرنے کی سخت وعید فرمائی: آپ نے ارشاد فرمایا:’’ جس نے بلا ضرورت سوال کیا قیامت کے دن اس کے چہرے پہ گوشت کا ایک لوتھڑا بھی نہیں رہے گا‘‘۔ پھر فرمایا: ’’مانگ کر کھانے والا اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہا ہے‘ خواہ تھوڑے سے بھر لے یا زیادہ سے‘‘۔
لیکن اس بات کی پرواہ کیۓ بغیرہم جلوس نکالتے ہیں ، محفلیں منعقد کرواتے ہیں، سبیلیں لگاتے ہیں، جانوروں کی سہرا بندی کرتے ہیں، ناچ گانا کرتے ہیں، آتش بازی ،ہلڑ بازی،منہ کے میٹھے کے لئے شیرینی بھی بانٹتے ہیں، منچلے نوجوان دن کے وقت پگڑیاں باندھ کر نقلی داڑھی مونچھیں لگائے، گلی محلوں میں باجے اور شہنائیاں بجاتے ہیں۔ جب اندھیرا پھیلنے لگتا ہے تو محفلیں اور ناچ گانے شروع کردیتے ہیں اور روضۃا لرسول کے ماڈل، کھلونے ااور پہاڑوں کی نمائش لگتی ہے جسے مرد اور عورتیں بلا امتیاز دیکھتے ہیں ۔ اور ان خرافات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں…
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سیرت کا گزشتہ آسمانی کتابوں میں بھی ذکر ہے ، کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم بازاروں میں شور کرنے والے نہیں، لیکن آج ہم آمد رسول کا جشن اور بازاروں میں ہلڑ بازی، آتش بازی، ناچ گانا، گھوڑوں اورٹرالیوں پر جلوس، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا… ! ہم اس کو محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں! یہ خیر الانام کی آمد کی خوشی ہے!
پھر ہم گلیوں،گھروں کو مختلف طریقوں سے آراستہ و مزین کرتے ہیں… ادھر نظارہ کیجیئے کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کے گھر سے واپس لوٹ آئے ، کیوں؟ ابو داؤد میں حدیث موجود ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے داماد حضرت علی بن ابی طالب کے گھر تشریف لائے، اور دروازے سے ہی پلٹ گئے، حضرت علی جب گھر پہنچے ،حضرت فاطمہ نے اس بات کا ذکر کیا(کہ ابا جان گھر آئے تھے اوردروازے سے ہی واپس تشریف لے گئے ہیں) حضرت علی رضی اللہ عنہ فورا دربار نبوت میں پہنچتے ہیں اور واپسی کا سبب پوچھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دروازے پہ(قیمتی) ریشمی پردہ دیکھا ہے تو میں نے کہا: ’’میرا دنیا کی (سجاوٹوں اور آرائشوں ) سے کیا تعلق ہے‘‘؟اس لیئے میں پلٹ آیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بابت حضرت فاطمہ کو والد گرامی کی واپسی کا سبب معلوم ہوا تو آپ پیارے ابا جان کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض کرتی ہیں: آپ اس پردے کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قیمتی ریشمی پردہ مدینے کے فلاں گھر والوں کو دے آئو (تا کہ وہ سے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کریں)۔
غورکریں! وہ پیغمبر جو ایک قیمتی کپڑاریشمی پردہ دیکھ کر اپنے پیارے داماد اور پیاری لخت جگر کے دروازے سے پلٹ آئے، وہ ہمارے سجے ہوئے بازاروں اور گھروں میں کیسے آئیں گے …!!
میوزک‘ موسیقی‘ بے پردگی اور مردوزن کاآزادانہ اختلاط …!! آہ ! کس قدراسلام سے دور ہیں ہم …؟
اور اس اتنے بڑے ظلم کو کہتے ہیں کہ بھئی یہ پیغمبر کی آمد کا جشن ہے…، سارا دن ڈیک بجتے ہیں‘ اور میوزک موسیقی کی گندی آواز کے ساتھ ناچتے ہیں ، مصنوعی پہاڑیاں سجائی ہوتی ہیں اور وہاں رات گئے تک بے پردہ عورتوں اور بے غیرت نوجوانوں کا ہجوم رہتا ہے ، یہ تمام شرمناک کام ہم اپنے پیارے پیغمبر کی آمد کی خوشی میں کرتے ہیں جو اس کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا دار تھا جس کے چہرے کو کبھی آسمان نے بھی نہ دیکھا ہو۔مشعل برادر جلوس بھی ہمارے ہاں پورے آب و تاب کے ساتھ جاری ہوتے ہیں ۔یہ آتش پرستوں کی مشابہت ہے ۔ آتش پرست(مجوسی) وہ بد ترین کافر ہیں جنہوں نے ہمارے پیارے نبیﷺ کا خط مبارک شہید کر دیا تھا، آج ہم پیغمبر کی آمد کی خوشی میں ان گستاخان رسالت کی مشابہت کرتے ہیں اور مشعل برادر جلوس نکالتے ہیں’ جبکہ ہمارے پیارے پیغمبر نے کفار کی مشابہت سے تاکیدًا منع فرمایا ہے اور یہ وعید بھی سنائی: ’’جو کسی قوم کی مشابہت کرے گاوہ انہی میں سے ہوگا‘‘۔(ابو داؤد)۔
یہ سب کیا ہے، تو یہ ہمارا ا پنے پیارے پیغمبر سے محبت کا ثبوت ہے ۔۔۔۔!!!!! ہم ان خرافات میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں اور اس لئے جو ان فضولیات میں حصہ نہ لے ہم اسے کہتے ہیں ’’گستاخ‘‘ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم اور کہتے ہیں کہ اسے اپنے نبی کی پیدائش پر کوئی خوشی ہی نہیں ہے۔
یہ سب باتیں ایک طرف ۔۔۔ ہمیں اپنے جشن کا طریقہ دیکھنا چاہیئے کہ دن پیغمبر کی پیدائش کااور سارے کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت والے، بغاوت اور نافرمانی والے…!!
امام الانبیاء خاتم النبین جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دین اسلام کی روح ہے‘ آپ کی محبت کے بغیر کوئی شخص مسلمان اور مومن نہیں ہوسکتا‘ اور صرف محبت ہی نہیں بلکہ ایسی محبت جواپنی جان ‘ماں باپ اور آل اولاد اور دنیا جہاں کے سارے انسانوں کی محبت سے زیادہ ہو ۔ صحیح البخاری میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک اس کے نزدیک اس کے ماں اور باپ ‘ آل اولاد ور ساری دنیا سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں‘‘۔
ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص میں تین خصلتیں پیدا ہو جائیں وہ ایمان کی حلاوت‘ مٹھاس اور شیرینی محسوس کرے گا ۔ پھر تین خصلتوں میں سے سب سے پہلی خصلت یہ بتائی کہ :
’’ جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول کائنات کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں‘‘۔یہ محبّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان اور اسلام کی روح ہے۔ لیکن آج ہم نے اس بات پر غور کرنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کیا ہے۔ اور اس کا اظہار کیسے ہے اور اس کی علامتیں کیا ہیں…!!
کیونکہ آج ہم لوگوں نے من گھڑت بدعات وخرافات کو رسول اللہ ﷺ کی محبت کا نام دے دیا ہے اور ۱۲ ربیع لاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش کا جشن سلیبریٹ کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا حق ادا کر دیا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ محبت رسول کا یہ انداز قرآن و سنت اور صحابہ و تابعین سے ثابت ہے …یا نہیں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اس تیسری عید اور جشن کا ثبوت تو کہیں بھی نہیں ہے ، اگر یہ عید قرآن و سنت سے ثابت ہوتی یا حبِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معیار ہوتی تو اس کا فرمان خود نبی مکرم ضرور ارشاد فرماتے ۔ جبکہ نبی مکرم ﷺنے یہ ضرور ارشادفرمایا: ’’جس نے ہمارے دین میں نئی بات پیدا کی وہ بات مردود ہے‘‘۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں نہ کبھی اپنا یوم پیدائش منایا اور نہ ہی صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا تھا۔ نیز یہ کام نہ تو خلفائے راشدین نے انجام دیا اور نہ ہی عام صحابہ کرام نے۔ لہذا معلوم ہوا کہ یہ کام بدعت ہے…
تو کیا ان صحابہ کو اپنے پیارے پیغمبر سے محبت نہیں تھی کیا!! پھر انہوں نے یہ دن کیوں نہ ہماری طرح سیلیبریٹ کیا…!! انہوں نے ہماری طرح محبت کا ثبوت دیتے ہوئے کیوں نہ بازار سجائے…! بیسیوں کپڑے کے قیمتی تھان لٹکائے…! جھنڈیاں کیوں نہ لگائیں…؟شیرینی کیوں نہ بانٹی…؟؟ صحابہ کرام کی جانثاری کے نزدیک ہماری محبت کچھ بھی معنی نہیں رکھتی۔
محبت کامعیار نعرہ بازی نہیں اور نہ ہی اس کا تقاضا ریاکاری اور دکھلاوا ہے۔ محبت و الفت دائمی تعلق کانام ہے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نعرہ لگانا تو آسان ہے، لیکن محب بننا مشکل۔محبت موسمی چیز تھوڑی ہے جو ربیع الاول میں سیلاب بن کر آئے اور باقی سارا سال ہمیں احساس تک نہ ہو کہ ہمارا کوئی رسول بھی ہے…!!آیئے! اگر ہمیں محب بننا ہی ہے اور سچی محبت بھی یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلا جائے، صحابہ کرام مہاجرین انصار مدینہ، شہدائے احد، مجاہدین بدر اور خصوصی مکی زندگی میں اسلام قبول کرنے والے فرشتہ سیرت لوگوں کی شفتگی اور والہانہ عقیدت اور سراپا جاں نثاری سے سبق لیا جائے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی اور صحیح معنوں میں اطاعت و پیروی کی جائے، آپ کا دین دنیا میں غالب کیا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطابق ڈھالا جائے۔
دعا کیجیئے ! کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت و توفیق کے ساتھ ساتھ ، ہمیں سنت پر گامزن رہنے اور بدعت سے دود رہنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین ثم آمین۔
-

بے مثل لاجواب میرا کملی والا صلی اللہ علیہ وسلم از قلم :عظمی ناصر ہاشمی
بے مثل۔۔۔۔لاجواب ۔۔۔۔میرا
کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم )از قلم عظمی ناصر ہاشمی
میرے آقا جیسا جگ میں آ سکتا نہیں
آپ کی صفات جیسا خلقت میں سما سکتا نہیںرب کے بعد رتبہ میرے مصطفی کا تو ہے
جو نام ہے خدا کے بعد صل علی کا تو ہےمیرے نبی نے ساری خصلتیں پائیں انبیاء کی
میرے نبی نے کل خوبیاں پائیں انبیاء کیخوب اپنی ذات میں سب سے وہ نرالا
بے مثل ۔۔۔۔لاجواب۔۔۔۔ میرا کملی والاتوحید سکھائی ہم کو یہ کہ اک رب کو پکارو
صراط مستقیم پہ چلو زندگی سنواروکفر کے بتوں کو کر دیا آپ نے پاش پاش
عرب و عجم پہ چھاکر بدل دی بودوباشہر پارے میں دیتاہے قرآن گواہیاں آپ کی
مبشر،نزیر ،سراج منیر ہیں صفا ئیاں آپ کیمدثر، مزمل، یاسین کیسےپیارے نام ہیں
خاتم الانبیاء ، امام الانبیاء خاص الخاص کام ہیںاپنی امت کا خیال ہر جہاں انہوں نے رکھا
ہماری خاطر طائف کے پتھروں کا دکھ سہامسلم امہ کی بخشش واسطے روتے تھے رات بھر
رب سے مغفرت کے طلبگار سوتے نہ تھے رات بھریا الہی! پیارے نبی کے نقش قدم پر ہم کو چلا
آ بڑی مشکل سے پایا ہے دین اس کشتی کو پار لگا -

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقلم:جویریہ بتول
نعت…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
آپ رحمتِ عالم بن کر آئے…
ہر خلق و بشر کے لیئے…
آپ نصابِ ہدایت وہ لائے…
جو سلیقہ بنا سفر کے لیئے…
دیا وہ کامِل نظام ہم کو…
سدا جو اثاثہ فخر کے لیئے…
شبِ تیرگی کی سب حدیں…
مِٹ گئیں روشن سَحر کے لیئے…
ہر رِستا زخم مندمل ہو گیا…
کہ قانون تھا بحر و بر کے لیئے…
چُن لیئے آپ نےجتنے تھے کانٹے…
کھِلے پھول ہر رہ گزر کے لیئے…
وہ آئے تاجِ ختمِ نبوت سجائے…
ہے دلیل یہ ہر اہلِ نظر کے لیئے…
آپ کی تعلیم ہے وہ مینارۂ نور…
بنے روشنی جو ہر رہبر کے لیئے…
کوئی کون ہے،کہاں ہے اور کہیں…؟
فیضِ عام ہے ہر طالبِ ثمر کے لیئے…
میرے دل کا سکون و قرار ہیں وہ…
جن کا اسوہ کامِل تا حشر کے لیئے…!!! -

یہ نامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بقلم:جویریہ بتول
یہ نامِ محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
ہمارے لیئے تو کافی ہے بس بات آپ کی…
ہماری چاہتوں کا مدعا ہے ذات آپ کی…
ہمارے سفر کی ہر روشنی آپ کے نام سے ہے…
ہماری فلاح تو آپ کے لائے نظام سے ہے…
ہمارے شکستہ دلوں کا سکوں آپ کے ذکر میں ہے…
ہمارا جینا اُمَّت میں آپ کی،ہمارے فخر میں ہے…
آرامِ جاں ہمارا اس نام کی بدولت ہے…
کرےجو توہین اس کی سدا اس سے عداوت ہے…
دشمن آپ کا ہر دور میں بے نام ہی رہے گا…
ذلتوں سے دوچار وہ ہر گام ہی رہے گا…
یہ نام تو روشنی ہے،اسے روکو گے کہاں تک؟
کرے گی پیچھا تمہارا تم پہنچو گے جہاں تک…
رب کی پکڑ کا کوڑا برسے گا ہر گستاخ پر…
یہ وعدۂ ربی ہے، ہو گا پورا ہر نفاق پر…
تمہاری سیاہ کاریوں سے پردہ اُٹھتا ہی رہے گا…
یہ نامِ محمد تا قیامت اُبھرتا ہی رہے گا…!!!! -

جرمنی کے سفیر کو پشاور میں کونسا کھانا پسند آیا؟
جرمن سفیر برنارڈ اس وقت خیبر پختونخوا ( کے پی کے) کے شہر پشاور میں موجود ہیں اور وہاں کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے سوشل میڈیا پر بھی کر رہے ہیں-
باغی ٹی وی : جرمن سفیر برنارڈ پاکستان کی سیرو سیاحت میں مصروف ہیں اور پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کر رہے ہیں اور اپنی تصاویر اور تاثرات سوشل میڈیا پر بھی شئیر کر رہے ہیں-
جرمن سفیر نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی تصاویر شئیر کی جس میں وہ پشاور میں موجود ہیں اور وہاں کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں-
میرے #پشاور کے حالیہ دورے کا سب سے دلچسپ تجربہ وہاں کے چپلی کباب سے لطف اٹھانے کا تھا۔ نہایت ہی مزیدار! اب میں پوری طرح سے سمجھ سکتا ہوں کہ یہ ڈش اتنی مشہور کیوں ہے. pic.twitter.com/0VLXqZjwM1
— Ina Lepel (@GermanyinPAK) October 25, 2020
جرمن سفیر نے اپنی کھانا کھاتے ہوئے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ میرے پشاور کے حالیہ دورے کا سب سے دلچسپ تجربہ وہاں کے چپلی کباب سے لطف اٹھانے کا تھا۔انہوں نے مزید لکھا کہ یہ کباب نہایت ہی مزیدار ہیں! اب میں پوری طرح سے سمجھ سکتا ہوں کہ یہ ڈش اتنی مشہور کیوں ہے.
واضح رہے کہ اس سے قبل جرمن سفیر نے اسلام آباد سے کراچی تک کا 26 گھنٹے کا سفر بذریعہ ٹرین کیا تھا اور اپنے سفر کی ویڈیو ٹوئٹر پر بھی شئیر کی تھی اور لکھا تھا کہ انہیں ٹرین کی سواری بہت پسند ہے اور کسی ملک کو دریافت کرنے کا یہ عمدہ طریقہ ہے-
سفر کے دوران وہ ایک اسٹیشن پر رُکے اور انہوں نے راستے میں ٹھیلے سے خریداری بھی کی اور وہاں سے بریانی بھی کھائی تھی-
-

شیر دلان گجرات میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر
یہ گجرات کے ایک خاندان میں پیدا ہونے والے دو بہادر بھائیوں میاں اکبر اور میاں مسعود کی ولولہ انگیز داستان حیات ہے۔ ان کے والد محترم الحاج میاں برکت علی صاحب انتہائی وضع دار ایک نیک آدمی تھے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار معتبر مدبر پنچایتی اور صلح جو مشہور تھے لوگ ان کی خوبیوں کے سبب ان کا بہت احترام کرتے تھے تما ذی شعور ان کی اعلیٰ انتظامی و سماجی صلاحیتوں کے معترف تھے انہیں خوبیوں کی بدولت 19ویں صدی کے شروع میں انہیں عوامی نمائندگی کے لئے آگے لایا گیا اور سن 1920 میں بھر پور عوامی پذیرائی سے میونسپل کمشنر گجرات منتخب ہوئے-
یہ انگریز دور حکومت میں گجرات میں کسی بھی عوامی عہدہ کے لئے براہ راست انتخاب کے نتیجے میں یہ پہلی تقرری تھی بعد ازام میاں برکت علی پہلے منتخب وائس چئیرمین میونسپل کمیٹی بھی بنے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہرت کی منزلیں طے کرتے رہے-

الحاج میاں برکت
الحاج میاں برکت علی کارواباری صلاحیتوں کی سوجھ بوجھ سے بھی مالا مال تھے اور ان کی کاروباری ترقی میں بھی عوامی فلاح و خدمت ان کا مطمع نظر آتا ہے اسی سوچ کے تحت انہوں نے ٹرانسپورٹ کاروبار کا آغاز کیا اور عوام کو معیاری سستی بس فراہم کی اس سے نہ صرف گجرات بلکہ پنجاب بھر کے عوام کو آمدو رفت میں بڑی آسانی حاصل ہو گئی-الحاج میاں برکت علی نے بحثیت چئیرمین گجرات پنجاب بس سروس کے معاملات کو بخوبی انجام دیا اور ضلع بھر کے ممتاز خاندانوں اور برادریوں کی بھی گجرات پنجاب بس سروس میں بطور ڈائریکٹر نمائندگی کی اور اپنی خدا ترس طبعیت کی بناء پر ملازمین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو ان کی غلطیوں کو نظرانداز کر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے-
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار تقسیم ہو گیا اور ان کے صاحبزادے میں محمد اکبر نے بحثیت چئیرمین پنجاب بس سروس گروپ بی ذمہداری سنبھالی اور کاروباری معاملات کا ادراک رکھنے کے ساتھ میاں محمد اکبر اپنے بزرگوں کی طرح عوامی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار تھےاور سیاست ان کی گٹھی میں تھی اور الحاج میاں برکت کے دونوں صاحبزادے میاں محمد اکبر اور میں محمد مسعود اختر سیای معاملات مین والد کی معاونت بھی کرتے تھے-
میاں محمد اکبر نے سن 1962 میں مغربی پاکستان ساز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اس وقت قانون ساز اسمبلی ممبران کا انتخاب بی ڈی ممبران کیا کرتے تھے حلقہ انتخاب میں کُل باسٹھ پی ڈی مبران تھے جن مین سے پچپن نے میاں محمد اکبر کو ووٹ دیئے اور یوں میاں محمد اکبر نے ضلع بھر میں اپنی سیاسی بصیرت کی دھاک بٹھا دی-

میاں محمد اکبر
میاں محمد اکبر ایک غیر متزلزل آہنی عزم رکھنے والے بہادر اور نڈر انسان تھے وہ اپنے سیاسی حریفوں سے ببانگ دہل بال خوف و خطر ٹکرائے مگر کبھی بھی سیاسی اختلافات کو ذاتیات تک نہ لائے اور کبھی انا کا مسئلہ نہ بنایا وہ دوستوں کے دوست اور مخالفوں کے دل میں بھی اپنا احترام رکھتے تھے میاں محمد اکبر سھر انگیز شخصیت کے مالک تھے جو بھی ان سے ایک بار ملتا دوسری ملاقات کی بھی چاہ رکھتا اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کا گرویدہ بن جاتا-میاں محمد اکبر کو تعلقات بنانے اوراور نبھانے میں ملکہ حاصل تھا سن 1962 کے انتخابات میں منتخب ہونے والے بی ڈی ممبران جنہیں آجکل ناظم چئیرمین کہا جاتا ہے میں 6 آزاد 3 چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے حامی جبکہ باقی تمام 51 ممبران نے میاں محمد اکبر کے حق میں ووٹ دیا-
میاں محمد اکبر سیاسی افق پر ایک روشن ستارہ بن کر اُبھرے اور بلا تفریق ذات پات برادری عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا یہی وہ خوبی تھی کہ غیر کاشتکار ہونے کے باوجود انہیں تمام برادریوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی میاں محمد اکبر اکثر کہا کرتے تھے کہ حقیقی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جبکہ تمام لوگ انسانی برادری ہیں یہ وہ وقت تھا جب نوابزادگان طویل عرصہ سے ضلوع گجرات کے سیاہ وسفید کے مالک چلے آ رہے تھے-
پگانوالہ اور جوڑا خاندان بھی بھر پور اثرو رسوخ کے مالک تھے مگر تمام تر مخالفتوں کے باوجود میاں محمد اکبر اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر بھر پور کامیابی سے ہمکنار ہوئے یہ ان کے بے لوث خدمات کا عوامی اعتراف تھا میاں محمد اکبر سن 1962 میں مختصر اپوزیشن کا حصہ تھے حمزہ صاحب، تابش علوری، خواجہ محمد صفدر ان کے ساتھ اپوزیشن بینچوں پر تھے- خواجہ صفدر میاں ، محمد اکبر کے قریبی رفقاء میں رہے اور میاں محمد اکبر کی اچانک بے وقت رحلت کے بعد میاں اکبر فیملی کے سرپرست رہے-
واقفان حال اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے زعماء کہتے ہیں کہ اگر گورنر پنجاب میر محمد خان ٹکٹ میاں محمد اکبر کو دے دیتے تو ضلع گجرات کی سیاست میں مزید بہتری آ سکتی تھی مگر ٹکٹ میاں محمد اختر پگانوالہ جو کراچی کے لئے دے دیا گیا اور انہوں نے میاں محمد اکبر کی نیک نامی کو استعمال کرتے ہوئے بلا مقابلہ کامیابی حاصل کی میاں محمد اکبر کے استفسار پر بتایا گیا کہ ٹکٹ آپ کے بھائی میاں اختر پگانوالہ کو دے دی گئی ہے یہی وہ مرحلہ تھا جب میاں محمد اکبر نے نوابزادگان کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کی بجائے اُٹھ کر چوہدری ظہور الہیٰ شہید کی طرف دست رفاقت بڑھایا اور مشترکہ انتخابی مہم کا آغاز کیا میاں محمد اکبر چوہدری ظہور الہیٰ گوجروں کے حلقہ میں لے گئے اور انہیں قریہ قریہ متعارف کرایا-
چوہدری ظہور الہیٰ شہید بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے چوہدری ظہور الہیٰ شہید کے بعد ان کے بھتیجے چوہدری تجمل حسین ، صاحبزادے چوہدری وجاہت حسین پوتے چوہدری حسین الہیٰ کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں نوابزادگان کی بے رخی کے باوجود گوجر برادری میاں اکبر خاندان کے ساتھ بے پناہ انس و محبت رکھتی ہے جو آج بھی قائم ہے صد حیف کچھ نادیدہ قوتوں حاسدین کو ضکع کے عوام کی ترقی فلاح و بہبود اور رواداری کی سیات کا یہ چلن پسند نہ آیا اور پھر وہ دردناک المیہ رونما ہوا کہ جس سے انسانیت کانپ اُٹھی 25 اکتوبر 1970 کو میاں محمد اکبر کو ان کے بھائی میاں محمد مسعود اختر سُسر میجر محمد عبداللہ محافظ سکندر کے ہمراہ بےدردی سے اجتماعی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا-
میاں صاحبان کی نماز جنازہ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ شریک ہوئے اور اپنے محبوب قائدین کی بے وقت رحلت پر غم و حسرت کی تصویر بنے نظر آئے ایک ہفتہ تک شہر کے تمام بازار بند رہے میاں محمد اکبر اور میاں محمد مسعود اختر حقیقی معنوں میں یکجان دو قالب تھے انہوں نے یہ بھائی چارہ آخری دم تک خوب نبھایا-

میاں محمد مسعود اختر
میاں صاحبان کے اجتماعی قتل کا اندہناک سانحہ خاندان پر انتہائی قرب و مصائب کا سبب بنا سکول جاتے 6 معصوم بچوں نے اپنا وقت نہایت خوف کی کیفیت میں گزارا ان کے سامنے زندگی کے طویل کٹھن مراحل تھے اب غمناک شکستہخاندان کی باگ دوڑ تین پردیہ نشین خواتین اور کالج میں زیر تعلیم ایک ک عمر نوجوان کے کندھوں پر آن پڑی اور یہ نوجوان پُر عزم اور باہمت تھا مگر ابھی معاملات زندگانی اور سیایس اثرارو رموز سے واقف نہ تھا آفرین ہے اس باہمت نوجوان پر جس نے تمام تر غم و الم اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاز پر سے خلوص لگن کا اعلٰی مظاہرہ تھا-خاندانی علم تھامے رکھا اور تن تنہا اپہنے بزرگوں سے خلوص سے اپنے بزرگوں کے عوامی فلاحی مشن کو جاری رکھا غم میں ڈوبے ایل خان کے سامنے ایک طویل اور صبر آزما سفر تھا وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں تک عظیم سدقے سے ہل چکے تھے نہ صرف میاں اکبر خاندان بلکہ تمام اہل علاقہ کے لئے یہ ناگہانی صدمہ ایک ناقابل تلافی نقصان تھا-بربریت کے اس شرمناک اور بزدلانہ فعال کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا جس مین 4 بے گناہ انسانون کو بڑی سفاکی سے دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہر آنے والا 25 اکتوبر کا دن 1970 کے اس قومی المیہ کی یاد لاتا رہے گا-جس کی قومی سطح پر بھر پور مزمت کی گئی آزمائش کی گھڑی میں میاں اکبر خاندان کے ساتھ وسیع حلقہ احباب ،دوستوں اتحادیوں اور خیرخوایوں نے بڑا ساتھ نبھایا-
پھر دنیا سنے اس خاندان کو نہایت باوقار طریقہ سے گھمبیر صورتحال سے نکلتے دیکھا یہ بدرجہ اتم پختہ ایمان اعتماد اور مشن اور نامساعد حالات کے باوجود سیاسی محاذ پر سے پر خلوص لگن کا اعلیٰ مظاہرہ تھا اولیٰ تربیت کا اثر ان کی اولاد مین دیکھا جا سکتا ہے انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر سب کا بھلا کیا کسی کا بپرا نہیں چاہا اور نہ کبھی عیدے و اختیار کا غلط استعمال کیا بلکہ حکومت و سماجی پوزیشن کو خاندانی روایات کے مطابق فلاح عامہ کا ذریعہ بنایا آج خاندان سیاسی و سماجی خدمت کے 100 سال پورے کر چکا ہے جس مین میاں محمد اکبر اور میان محمد مسعود اختر کا سانحہ ارتحال کے بعد اس نصف صدی میں شامل ہے-
یہ فیصلہ کرنے کے لئے دنیا ایک مشکل اسکریننگ سنٹر ہے کہ انہوں نے اس سفر کو کیسے آگے بڑھایا۔ میاں برکت خاندان کی جانشین نسلوں کو سلام۔ ہم صحیح ، غلط یا اس دور تک پہنچے ہیں ، اب یہ نوجوان نسل پر منحصر ہے۔ انہیں اپنے بڑوں کے انہیں اپنے بڑوں کے مشن کو آگے کیسے بڑھانا ہے ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔
میاں ہارون مسعود اور گجرات کے میاں عمران مسعود اس خاندان کے سپوت ہین جو اپنے فلاحی منصوبوں اور سیاسی کیریئر کے لئے جانا جاتا ہے۔

میاں ہارون مسعود
میاں عمران مسعودتحریر: چودھری مقصود انور