Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے، 15 رکنی سکواڈ کا اعلان ہو گیا

    پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے، 15 رکنی سکواڈ کا اعلان ہو گیا

    پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے، 15 رکنی سکواڈ کا اعلان ہو گیا

    پاکستان اور زمبابوے کے درمیان سیریز کا پہلا ون ڈے کل راولپنڈی میں کھیلا جائے گا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سکوارڈ کا اعلان ہو گیا ، پہلے ون ڈے کیلئے پاکستان کا 15 رکنی دستہ ان کھلاڑیون پر مشتمل ہے

    1.امام الحق2. عابد علی3فخر زمان4. بابر اعظم۔ کپتان5. حارث سہیل6. محمد رضوان۔ 7. افتخار احمد8. خوشدل شاہ9. فہیم اشرف10. عماد وسیم11. عثمان قادر12. وہاب ریاض13. شاہین شاہ آفریدی14. حارث رؤف15. موسیٰ خان
    نائب کپتان شاداب خان فٹنس مسائل کے باعث نمائندگی نہیں کر سکیں گے، قومی ٹیم کا اعلان آج ہو گا۔

    راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کل دوپہر بارہ بجے پاکستان اور زمبابوے کا آمنا سامنا ہو گا، دونوں ٹیموں کی تیاریاں مکمل ہو گئیں، پلان بھی فائنل کر لیے۔ نائب کپتان شاداب خان بائیں ٹانگ میں کھچاؤ کے باعث آؤٹ ہو گئے۔

    قومی ٹیم کا اعلان آج کپتان بابر اعظم کر رہے ہیں، ٹی ٹوئنٹی کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے نوجوان کھلاڑیوں کو نمائندگی ملنے کا امکان ہے

  • ہیپی برتھ ڈے مریم نواز پاکستان کے ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ

    ہیپی برتھ ڈے مریم نواز پاکستان کے ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز آج اپنی 47 ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :28اکتوبر 1973 مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق صدر نواز شریف اور بیگم کلثوم کے گھر پیدا ہونے والی مریم نواز آج اپنی 47 ویں سالگرہ منا رہی ہیں-

    ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے افسوسناک واقعے کے باعث مریم نواز کی سالگرہ کی تمام تقریبات منسوخ کردی گئیں ہیں۔

    ٹوئٹر پر لیگی کارکنان اپنی لیڈر کو سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور اسی حوالے سے ایک ٹرینڈ بھی ’#HBDMaryamNawaz‘ پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر سرفہرست ٹرینڈز میں شامل ہے۔

    مذکورہ ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے مریم نواز کے چاہنے والے انہیں سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور اُن کی یادگار تصویریں بھی شیئر کررہے ہیں۔

    حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ مریم بی بی نے پشاور دھماکے کے سوگ میں غمزدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیلئے اپنی سالگرہ کی تمام تقریبات منسوخ کردیں۔


    حنا بٹ نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ پارٹی ورکرز نے مریم بی بی کی سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریب کا اہتمام کررکھا تھا۔

    اپنی ایک اور ٹوئٹ میں حنا پرویز نے مریم نواز کی تصاویر کا ایک کولاج شئیر کرتے ہوئے کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ آج اس بہادر خاتون کی سالگرہ ہے جس نے پاکستان کے لوگوں کوخوف کی زنجیریں توڑنا سکھایا۔اسے ڈرایا ،دھمکایا گیا مگر وہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی سے نہیں ڈرتی۔


    لیگی رہنما نے لکھا کہ میں کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کو مریم نواز کی صورت میں مستقبل کی لیڈر مل گئی۔ مستقبل کی وزیراعظم کو سالگرہ مبارک-

    https://twitter.com/S_RAJ5/status/1321319574449623040?s=20
    مریم نواز کے مداح ان کی بچپن سے اب تک کے زندگی کے سفر کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرتے ہوئے مریم نواز کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ متعدد ٹوئٹر صارفین نے مریم نواز کو پاکستان کی مستقبل کی وزیراعظم قرار دیا-
    https://twitter.com/AizaMalik22/status/1321326497165180928?s=20


    https://twitter.com/Hafsa_RG/status/1321314499517915136?s=20


    https://twitter.com/R_ShoaibWardag/status/1321374040850944001?s=20

    واضح رہے کہ رواں ہفتے لاہور سے کوئٹہ جاتے ہوئے مریم نواز پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنی سالگرہ کیا کیک کاٹا تھا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو ئیں تھیں جبکہ اس سے قبل بھی گوجرانوالہ میں بھی پارٹی کارکنو‌ں کے ساتھ مل کر اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا تھا-

    خیال رہے کہ مریم نواز 28اکتوبر 1973 میں پیدا ہوئیں اور 1992 میں کیپٹن (ر) صفدر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

    2013 میں اپنے والد میاں نواز شریف اور بعد ازاں ضمنی انتخابات میں اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز مرحومہ کی انتخابی مہم بھی چلائی مریم نواز چئیر پرسن آف شریف ٹرسٹ، شریف میڈیکل سٹی اور شریف ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ کےعہدوں پر بھی فائز رہیں۔

    مریم نواز 25 جولائی کو ہونے والے الیکشن میں 127 اور پی پی 173 سے مسلم لیگ ن کی جانب سے امیدوار تھیں تاہم عدالت سے نااہل ہونے کے بعد وہ الیکشن نہیں لڑسکیں۔

    مدرسہ دھماکہ،سانحہ اے پی ایس کے دکھ تازہ ہو گئے، نواز شریف

    مدرسہ دھماکہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مریم نواز

    کوئٹہ جلسے میں مریم نوازکو بلوچی چادر پیش کرنے والا نامی گرامی مجرم نکلا

    مریم کی نیب پیشی پر ہنگامہ آرائی کیس، ن لیگی کارکن کی درخواست ضمانت خارج

    مریم نوازنےسالگرہ کا کیک کاٹ کرکارکن کے منہ ڈالا،کیپٹن صفدردیکھتےرہ گئے،ایک ہفتے…

     

  • یہ کون لوگ ہیں؟   ازقلم: شاہین

    یہ کون لوگ ہیں؟ ازقلم: شاہین

    بچے تو بچے ہوتے ہیں
    بہت معصوم سے پھول
    اور
    طالب علم بھی سب طالب علم ہوتے ہیں
    علم کی چاہ میں چلنے والے مسافر
    ایک ہی ملک
    ایک ہی شہر
    ایک ہی مذہب
    کے
    دو ادارے
    ایک مدرسہ
    ایک سکول
    دونوں سانحات کا منبع بھی ایک ہی

    لیکن!!!

    یہ کوووووون لوووووگ ہیں
    جو
    ان سانحات کو بھی اپنے مقاصد میں استعمال کرنا چاہتے ہیں
    جو مدرسے اور سکول کے طالب علموں میں تفرقہ پھیلا کر میرے وطن کو ایک گہری سازش کی نذر کرنے میں ممد و معاون ثابت ہورہے ہیں
    دشمن تب بھی وہی تھا
    دشمن آج بھی وہی ہے
    وار تب بھی وہی تھا
    وار آج بھی وہی ہے

    خدارا!!!!!
    اس وطن عزیز کو ایک اور اندھی فرقہ واریت/خانہ جنگی جیسی خونی صورتحال میں نا دھکیلیں۔
    سوشل میڈیا کے دانشورو
    خدارا تمہاری دانشوری کو اور میدان بہت ہیں
    میرا وطن لہو لہو ہے
    ان گنت قربانیوں کے بعد دہشت گردانہ حملوں سے پاک ہوا تھا اب خدارا ایک اور جنگ نا کھڑی کرو

    خدارا
    تمہاری قرآن سے محبت اپنی جگہ
    مدارس میرا بھی عشق وجنون ہیں
    لیکن
    ہوش کے ناخن لو
    جذباتیت اور اندھی تقلید
    یا ریٹنگ کے چکر میں اس کلمے والی دھرتی کو تباہ نا کرو
    حکمرانوں سے تمہارے اختلافات اپنی جگہ
    محکموں سے شکایات اپنی جگہ
    لیکن ہوچھو ان ماؤں سے جن کے جوان اس سوہنی دھرتی کو بچانے میں شہید ہوئے
    پوچھو
    اس آزادی کی قدر
    اس دھرتی کی قیمت
    مقبوضہ کشمیر کی ماؤں بہنوں بیٹیوں بوڑھوں جوانوں سے جو اس دھرتی کی محبت میں جو اس سرزمین کی آرزو میں جو اس سبز ہلالی اور کلمے کے نام پہ حاصل ہونے والے ٹکڑے کی خاطر کٹے چلے جارہے ہیں
    پوچھو ان سے جنہوں نے خاندان کٹوا کر یہ دھرتی حاصل کی
    پوچھو ان معصوم بچوں سے جو اپنے بابا کی وردی پہ فخر کرتے ہیں اور صرف وہ وردی ہی ان کی امید ہے ان کا یقین ہے کہ ان کے بابا اس پاک دھرتی کی بقاء کی خاطر شہید ہوئے ہیں
    پوچھو اس ماں سے جس کا جوان اکلوتا بیٹا اس کا آخری سہارا اس وطن پہ قربان ہوا
    کوئی میجر جرنل کرنل نائیک حوالدار سپاہی سب کے سب
    دو چار کی غداری کی سزا اس وطن کو نا دو خدارا
    تم اپنے گریبان میں جھانکو تم بھی مکمل نہی ہو
    کتنی کوتاہیاں تمہارے اندر ہیں
    سمجھو
    خدارا سمجھو!!!!!
    جاؤ پڑھو تاریخ
    سمجھو دشمن کی چال
    کہ کیسے ہنستا ہے وہ تم پہ کہ گھر بھی اپنا جلاتے ہیں
    تمہاری جذباتیت کو آگ لگا کر تمہارا نشیمن بھی تمہارے ہاتھوں تباہ کرتے ہیں اس گلشن کی جڑوں کو کھوکھلا بھی تم سے کرواتے ہیں

    ارے او نام نہاد دانشوروں
    اپنی دانشوری کسی اور موقعے کے لئے اٹھا رکھو
    اپنے گھر کی ساس بہو کی لڑائیوں پہ اس دانشوری کو جھاڑ لو
    میرے وطن کو اپنی اس دانشوری سے معاف ہی رکھو
    خدا تمہارا بھلا کرے!!!!!
    @درد_ملت
    شاہین؂ کے قلم سے

  • ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت   از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ریاست مدینہ۔۔۔۔۔۔ بے مثال اسلامی مملكت

    از قلم عظمی ناصر ہاشمی

    وادی بطحا کے پہاڑوں سے آواز بلند ہو رہی تھی…………
    عرب کے لوگو!
    ” یہ رہا تمہارا نصیب جس کا تم انتظار کر رہے تھے”
    ۔اہل علاقہ کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ لوگ اپنے ہتھیار سجاکر اپنے محبوب کے استقبال کے لیے یثرب کے ٹیلوں کی جانب دوڑ پڑے ۔یہ ایک تاریخی دن تھا ۔جس کی مثال سرزمین مدینہ میں کبھی نہ ملی تھی-

    ۔گلی کوچے تقدیس و تحمید کے کلمات سے گونج رہے تھے۔

    چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں خوشی اور مسرت کے نغمے گا رہی تھیں۔

    اشرق البدر علینا من ثنیہ الوداع

    ثنیہ کی پہاڑیوں کی جانب سے ہم پر چودھویں کا چاند ظاہر ہوا

    وجب الشکر علینا ما دعا للہ داعی

    کیا عمدہ دین اور تعلیم ہے جس کی وجہ سے ہم پر اللہ کا شکر لازم ہے

    ایھا المبعوث فینا۔۔۔۔۔جئت بالامرالمطاع

    تیرے حکم کی اطاعت ہم پر فرض ہے ۔اے! ہم میں بھیجے جانے والے ۔

    جی ہاں !
    یہ پرجوش اور پرتکلف استقبال محمد عربی، والی بطحا ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہو رہا تھا ۔آپ کا مکہ سے مدینہ أنا ‘ ان مع العسر یسرا ” کی تفسیر ثابت ہوا تھا ۔
    ایسا پروٹوکول کبھی کسی بڑے سے بڑے سیاستدان کو بھی نہیں ملا جو آپ کے نصیب میں رکھ دیا گیا ۔اس شہر میں آ جانے سے ان تمام زخموں پر مرہم لگ گیا جو کفار مکہ کے ہاتھوں آپ کو اور آپ کے صحابہ کو لگائے گئے تھے ۔یہاں آکر مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا
    "ابن قیم "کے مدینہ پہنچنے کے خوبصورت منظر کو یوں بیان کرتے ہیں۔
    ” بنی عمرو بن عوف قبیلہ ساکنان قبا میں شور بلند ہوا زوردار تکبیر کی آواز سنی گئی مسلمان آپ کی آمد کی خوشی میں نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے استقبال کے لیے نکل کھڑے ہوئے پھر آپ سے مل کر تحیہ نبوت پیش کیا ۔اور آپ کے اردگرد پروانوں کی طرح کھڑے ہو گئے اس وقت آپ پر سکینت نازل ہوئی اور یہ وحی اتری ۔
    فان اللہ ھو مولاہ وجبریل و صالح المومنین والملئکہ بعد ذلک ظہیرا۔
    پس اللہ آپ کا کارساز ہے اور جبرائیل علیہ السلام اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے بھی آپ کے مددگار ہیں۔”

    مکہ سے مدینہ ہجرت کا دشوار گزار سفر محض ایک تفریحی سفر نہ تھا بلکہ اس سفر نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی۔ اور عرب کی سیاسی و تاریخی اہمیت کو یکسر بدل کے رکھ دیا ۔
    ایک اسلامی مملکت کے قیام کے بعد اس کے اندرونی اور بیرونی نظام کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی کرنا ناگزیر ہے ۔

    آئیے ہم اس سیاست پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں ۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس شہر کا نام یثرب تھا۔ آپ کے یہاں پہنچنے پر اس کا نام مدینہ الرسول رکھ دیا گیا ۔یہ اسلام کا پہلا گڑھ تھا جہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ رہائش اختیار کر کے پہلی سلطنت اسلامیہ کی بنیاد رکھی ۔

    عزیز قارئین !

    یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں آنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ آپ سکون سے اپنے حجرے میں بیٹھ کر عبادت کرتے اور آرام کرتے کیونکہ یہاں آپ کے حامیوں کی تعداد انصار و مہاجرین کی صورت میں بہت زیادہ تھی لیکن آپ کو یہ گوارا نہ تھا اور ہر دن آپ مسلمانوں کی فلاح اور اسلام کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے ۔

    مدنی دور کو ہم تین ادوار پر تقسیم کر سکتے ہیں ۔

    نمبر (1 )پہلا مرحلہ( سن 1 ہجری سے سن 6ہجری )

    نمبر (2 )دوسرا مرحلہ( 6 ہجری سے آٹھ ہجری تک)

    نمبر( 3) تیسرا مرحلہ( 8 ہجری سے حیات اخیریعنی 11 ہجری تک )

    پہلا مرحلہ

    💫تعمیر مسجد نبوی ۔۔۔۔۔۔۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہی مدینہ میں رہائش پذیر ہوئے اور جہاں آپ کی اونٹنی بیٹھی تھی وہاں آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر کرنا شروع کی اور یہ ثابت کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں مساجد اور مدارس بہت اہمیت کے حامل ہیں اور بنفس نفیس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ آپ نے اینٹ اور پتھر بذات خود ڈھوۓ-

    مسجد نبوی محض نماز ادا کرنے کے لیے ہی نہ تھی بلکہ اسلامی تعلیمات و ہدایات کا مرکز بھی تھی ۔ اور أپ نے مسجد نبوی سے ملحق ” الصفہ” کے نام سے ایک چبوترہ قائم کیا۔ اس مدرسہ میں صحابہ کرام دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے ۔ اور وہ فقراء و مساکین کا مسکن بھی تھا جن کا نہ کوئی اہل وعیال تھا اور نہ گھر بار۔
    علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک پارلیمنٹ کی تھی جس میں مجلس شوری اور مجلس انتظامیہ کے اجلاس ہوا کرتے تھے ۔

    💫محبت و بھائی چارہ

    جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام کیا اس طرح آپ نے انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا کر ایک اسلامی ریاست کے لیے اخوت و اتحاد کی فضاء قائم کی اور واضح کیا کہ ایک ریاست کی ترقی اور استحکام کے لیے اتحاد ایک مضبوط کڑی ثابت ہوتا ہے۔

    جس قوم اور مملکت میں نااتفاقی پیدا ہو جائے وہاں قوت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور بیرونی قوتیں اسے کچلنے کے لیے سر اٹھانے لگتی ہیں

    💫غیر مسلم قوتوں سے عہد و پیمان

    آپ نے اسلامی مملکت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے یہودیوں سے معاہدے کئے تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور وقت آنے پر ان سے مالی اور جسمانی مدد بھی لی جا سکے یعنی اپنے فائدے کے لیے کفار سے معاہدے کئے جا سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی آپ نے یہ واضح کیا کہ وہ اپنے دین پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے دین پر ایسا نہیں ہے کہ ان سے مدد لیتے وقت ہم اپنا دین اور ایمان بھی ان کے ہاتھوں بیچ دیں اس معاہدے کے طے ہو جانے کے بعد مدینہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے وفاقی حکومت بن گئے اور مدینہ ان کا دارالحکومت تھا جس کے سربراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔

    💫سرایا اور غزوات

    مدینہ میں سکونت پذیر ہونے کے بعد آپ نے بہت سے سرایا اور غزوات کئے ۔ سرایا اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم صل وسلم نے بذات خود شرکت نہ کی بلکہ کسی صحابی کو سپہ سالار بنا کر بھیجا ہو اور غزوہ وہ جنگ جس میں بطور جرنیل آپ نے خود شرکت کی ہو۔ جب یہود و نصاریٰ فتنہ اور شر پھیلانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے لگے تو باوجود قوت اور مال و اسباب کی کمی کے آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر ان کو بھرپور جواب دیا-

    غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق وغیرہ ان جنگوں کا مقصد کفر پر اسلام کا رعب اور غلبہ طاری کرنا تھا اور اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ کفر و اسلام کی جنگ روز اول تاروز آخر جاری رہنے والی ہے اور اہل اسلام کو اپنے مذہب کے دفاع کے لیے غیر مسلموں پر کڑی نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان سے جنگ کرنا ناگزیر ہے ۔

    💫بادشاہوں اور امراء کے نام خطوط
    6ہجری میں جب حضور صل وسلم حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لیکر انہیں اسلام کی دعوت دی اور اس مقصد کے لیے آپ نے معلومات رکھنے والے تجربہ کار صحابہ کرام کو بطور قا صد منتخب فرمایا اور انہیں بادشا ہو ں کے پاس خطوط دے کر روانہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کے نامور شہنشاہوں جیسا کہ نجاشی شاہ حبش، مقوقس شاہ مصر، قیصر شاہ روم ، حارث حاکم دمشق، شاہ عمان کو خطوط کے ذریعے اسلام کی دعوت دی۔ ان خطوط کے ذریعے نبی صل وسلم نے اپنی دعوت روۓ زمین کے بیشتر بادشاہوں تک پہنچادی اس کے جواب میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر کیا-

    💫فتح مکہ

    17 رمضان 8 ہجری کو رسول اسلم مراؤ ا لظہران سے مکہ روانہ ہوئے آپ کے ہمراہ دس ہزار صحابہ کرام تھے اتنا بڑا لشکر دیکھ کر ابوسفیان پکار اٹھا ۔
    اے قریش کے لوگو !
    محمد ہمارے پاس بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ جس کی تم تاب نہیں لا سکتے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باآسانی مکہ کو فتح کرلیا اور انصار و مہاجرین کے جلو میں مسجد حرام تشریف لے گئے اور بیت اللہ کے گرد 360 بتوں کو کمان کی ٹھوکر مار کر ان کے چہروں کے بل گرا دیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے۔
    جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زھوقا
    ” حق آگیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے والی چیز ہے”
    أپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفتح مکہ کی خوشی میں ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر آٹھ نوافل شکرانے کے پڑھے۔
    حاصل کلام یہ کہ ریاست مدینہ کے حکمران نے اپنی حکمرانی کے دوران جہد مسلسل کی اور اس بنیادی اسلامی سلطنت کو مزید مستحکم اورمضبوط بنانے میں دن رات ایک کر دیا ۔

    💫مکارم اخلا ق پر عمل درأمد

    علاوہ ازیں اپنے معاشرے کو ہر سماجی برائی سے پاک کر دیا کفر و شرک و بت پرستی قمارباز ی ،شراب نوشی، رشوت ستانی ,سودخوری ,چوری چکاری ,ذخیرہ اندوزی, زنا کاری اور فحاشی کا خاتمہ کیا آپ نے احتر ام انسانیت کا درس دیتے ہوئے انسان کو حیوانیت سے دور رہنا سکھایا ۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے کوشاں رہتے۔ انہوں نے آداب و اخلاق، بھائی چارگی ، محبت و اطاعت کے گر سکھا ئے ۔
    آپ نے فرمایا”
    اے لوگو !
    سلام پھلاؤ ،کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، صدقہ خیرات کرو، نماز روزے کی پابندی کرو ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق نسواں مقرر کرتے ہوئے تحفظ نسواں کا پرچار کیا ۔
    عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔
    اور شرعی حدود پر سختی سے عمل کروایا ۔
    اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کیا کہ ایک اسلامی حکومت کے حکمران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اللہ کی بناۓ ہوۓ قوانین و عبادات پر عوام کو عمل کروائے۔ تاکہ معاشرہ بہتر ا قداروکردار کا مجسمہ بن جائے ۔
    پہلی اسلامی ریاست کا یہ حکمران اول بنی نوع انسان کے لئے رحمت للعالمین کا لقب لے کر دنیا میں تشریف لائے۔
    اور ہاں اسلامی اصلاحات کرنے سے پہلے ذاتی اسوہ حسنہ پیش کیا ۔۔۔جو کہا کر کے دکھایا ۔
    دنیا کا یہ عظیم تر حکمران آنے والے حکمرانوں کے لئے قیمتی قوانین اور اصطلاحات وضع کرکے اس دار فانی سے 63 سال کی عمر میں رخصت ہو گیا جو قیامت تک آنے والوں کے لئے مشعل راہ بن گئے ۔

    سوچنے کے لائق بات تو یہ ہے کہ ہم کس منہ سے ریاست مدینہ کی بات کر سکتے ہیں جبکہ ہم سے کسی ایک اسلامی قانون کی پاسداری بھی بہت دشوار ہے۔ دعا ہے کہا للہ پاک ہمیں ایسے حکمران عطا فرمائے جو ریاست مدینہ کے تصور کا پاس رکھ سکیں اور اسلام کو سر بلندی عطا کر سکیں۔ ( آمین)

  • فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار     بقلم انجینئر محمد ابرار

    فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار بقلم انجینئر محمد ابرار

    عنوان. فرانس میں گستاخانہ خاکے اور ہماری حکومت کا کردار
    انجینئر محمد ابرار

    اللہ تعالی نے اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا ہے.آپ کی ذات رحمت للعالمین ہے اور زندگی ہمارے لئے بہترین نمونہ یے. آپ کی زندگی میں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام قتل کے واقعات بھی ملتے ہیں. حالیہ دنوں میں فرانس کی عمارت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے دکھائے گئے.یہ واقع اس وقت پیش آیا جب فرانس کے ایک سکول میں سیموئل پارٹی نامی ہسٹری کے استاد نے اپنی ایک کلاس میں آزادی اظہارِ رائے پر طلباء کو لیکچر دیتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون معاذ اللہ پروجیکٹر پر دکھائے. سیموئل کو ایک طالب علم نے واصل جہنم کیا جس کے بعد فرانس کے صدر نے سرکاری عمارت پر ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے آویزاں کئے. ایک خاکے میں ٹوائلٹ پیپر کے تین رول دکھا کر ان کو بالترتیب بائبل، قرآن اور زبور کا نام دیا گیا. اس واقعہ کے بعد پورے عالم اسلام میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور کئی اسلامی ممالک میں عوام نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے محبت کا ثبوت دیا. سلطلنت عثمانیہ کے دور میں اگر کسی جگہ مسلمانوں کے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا تو وہ حملہ پورے عالم اسلام پر تصور کرتے ہوئے سلطنت عثمانیہ اس کا جواب دیتی تھی سلطنت کے ختم ہونے کے بعد یورپ نے پھر پرانی روش پر چلتے ہوئے گستاخی کی ناپاک جسارت کی ہے.ترک صدر رجب طیب اردگان نے فرانسیسی صدر کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ یہ دماغی مریض ہے اسے دماغی علاج کی ضرورت ہے. اس بیان کے بعد فرانسیسی صدر نے رد عمل دیتے ہوئے ترکی میں موجود سفیر کو واپس طلب کر لیا. کویت سمیت کئی ممالک نے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا اور اپنے سپر سٹورز سے فرانس کی تیار کردہ مصنوعات ہٹا دیں. دنیا کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے فقط فرانس کے صدر کو لوگوں کو تقسیم نہ کرنے اور انتہاپسندی کو ہوا نہ دینے کا کہہ کر نیلسن منڈیلا کی مثال دے کر اسی پر اکتفا کیا. وزیر اعظم کا یہ بیان پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین منافی ہے اور لوگوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے. وزیر اعظم صاحب اپنے سیاسی مخالفین کو تو منہ ہر ہاتھ پھیر پھیر کر واپس لانے اور احستاب کی دھمکیاں دیتے رہے مگر وجہ تخلیق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر ایک مردانہ بیان نہ دے سکے جو ان کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر اب بھی موصوف ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں. وزیر اعظم کی شان میں توہین پر تو ایکشن لیا جاتا ہے مگر عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے صدر ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد فوراً جلد صحتیابی کی دعائیں دیتے تو نظر آتے ہیں مگر گستاخی کے رد عمل میں تین دن گزر جانے کے بعد اتنا مصلحت پسندانہ رد عمل کیوں دیتے ہیں؟ پالیمنٹ کا اجلاس اس معاملے پر طلب کیا جاتا ہے جس میں بھی مقتدر ارکان و اپوزیشن سیاست کرتی نظر آتی ہے جس کے نتیجے میں ڈپٹی سپیکر کو اجلاس 10 منٹ کے لئے موخر کرنا پڑتا یے بعد ازاں فقط ایک قرار داد منظور کر لی جاتی ہے جس کی یورپ کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں.کیا ہماری غیرت ایمانی ختم ہو چکی یے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے حساس مسئلہ پر بھی ہمارے حکمران ایک پیج پر نظر نہیں آتے. بجائے عالم کفر کو للکارنے کے وہ فقط اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں. اس ساری صورت حال میں علامہ خادم حسین رضوی کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ ایٹم بم باہر نکالیں دشمن کو للکاریں یہ کس لئے ہم نے رکھا ہوا یے. ساتھ ہی انہوں نے حکومت وقت کو وارننگ دیتے ہوئے مجلس شورہ کا اجلاس بلوا پر فرانس کے مسئلہ پر اگلا لاحہ عمل طے کرنے کا عندیہ دیا. یادرہے کہ ہالینڈ میں بھی گستاخانہ کارٹونز کے خلاف علامہ خادم حسین رضوی نے ہالینڈ ایمبیسی کو بند کرنے کے لئے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا تھا جس نے نتیجے میں ہالینڈ کو گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کرنا پڑا اور گیرٹ ولڈر نامی گستاخ سیاست دان علامہ صاحب کا نام لے لے کر ٹویٹ کرتا رہا کہ انہوں نے میرے خلاف قتل کا فتوہ دیا ہے. اس معاملہ پر بھی حکومتی ٹولہ بغلیں بجاتا اور کریڈٹ لیتا نظر آیا.حالانکہ علامہ صاحب کی جانب سے لانگ مارچ کا فیصلہ حکومتی سستی و نا اہلی کو دیکھتے ہوئے کیا گیا اور اسی مارچ کی بدولت عین اسی وقت جب ہزاروں کارکنان راستے میں مختلف شہروں میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عبور کر کے علامہ خادم رضوی کی قیادت میں اسلام آباد داخل ہوئے ہالینڈ کی جانب سے فیصلہ منسوخی کی خبر نشر کی گئی. دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی فتح مکہ والے دن رسول اللہ نے تمام لوگوں کی عام معافی کا اعلان فرمایا مگر گستاخ شخص کعبہ کے غلاف میں بھی لپٹا ہوا نہ بچ سکا. حضرت علی سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جس نے کسی نبی جو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا” حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص لایا گیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا تو آپ نے فرمایا "جس نے اللہ کو یا انبیائے اکرام میں سے کسی جو گالی دی تو اسے قتل کر دیا جائے” امام مالک کا فرمان ہے "اگر رسول اللہ کی شان میں گستاخی ہو اور امت اس کا بدلہ نہ لے سکے تو ساری امت مر جائے”. حکومت وقت پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حکومتی سطح پر فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کرے. فرانسیسی سفیر کو مملکت پاکستان سے نکالنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی سفیر کو واپس بلوایا جائے۔
    (انجینئر محمد ابرار ایم فل سٹرکچرل انجینئرنگ کے طالب علم ہیں۔ شعبہ صحافت سے وابسطہ ہیں اور روزنامہ لاہور پوسٹ کے ڈسٹرکٹ رپورٹر ہیں۔ کافی عرصہ سے حالات حاضرہ ،مذہبی، سیاسی، سماجی اور اصلاحی موضوعات پر مختلف ویب پیجز پر لکھتے ہیں۔ باغی ٹی وی کے لئے بطور خاص لکھ رہے ہیں۔)

  • شیخ رشید کو گرفتار کرو ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    شیخ رشید کو گرفتار کرو ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    27 اکتوبر (آج بروز منگل) کو قفاقی ویز ریلوے شیخ رشید کو گرفتار کرنے کا ہیش ٹیگ پاکستان ٹوئٹر پینل پر ٹرینڈ کر رہا ہے اور ابھی سہ پہر تک اس ArrestSheikhRashid # ٹوئٹر پر دوسرے نمبر ہے اور اس کے حوالے سے 6 ہزار 60 ٹوئٹس میں تبصرے کئے جا چُکے ہیں-

    باغی ٹی وی : یہ ٹرینڈ اس وقت سامنے آیا جب دو روز قبل اتوار کو کوئٹہ کے بعد آج دوسرا دھماکہ پشاور میں ایک مدرسے میں ہوا اور لوگوں نے سیخ رشید کے اس بیان پر جو انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسوں کے حوالے سے دیا تھا کی وجہ سے شیخ رشید کو ان سانحوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ٹوئٹر کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے اس ٹرینڈ کے ذریعے وفاقی وزیر کی گرفتاری اور انویسٹی گیشن کا مطالبہ کر دیا-

    واضح رہے کہ شیخ رشید نے پی ڈی ایم کے جلسوں کے حوالے سے اپنے پغام میں کہا تھا کہ میں نے پی ڈی ایم کو کہا تھا کہ جلسے نہ کرو کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے ، کورونا پھیل سکتا ہے،دہشت گردی ہو سکتی ہے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو چُکے ہیں کوئٹہ پشاور میں کوئی واقعہ ہو سکتا ہے کوئٹہ اور پزاور کے لئے دعا گو ہوں- شیخ رشید کے اس بیان کے بعد سے ہیش ٹیگ شیخ رشید کو گرفتارکرو کا ٹرینڈ سامنے آیا اور لوگوں نے تبصروں میں اپنے مطالبات پیش کئے اور شیخ رشید کے اس بیان پر سوالات اُٹھائے-


    ایک ٹوئٹر صارف نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وزیر داخلہ کے بجائے وزیر ریلوے کیسے واقف تھے ؟؟؟
    https://twitter.com/Imran_0U/status/1321028678084661252?s=20
    امان اللہ نامی صارف نے لکھا کہ اس شخص کو گرفتار کریں وہ پشاور میں ہونے والے اس دھماکے کے پیچھے ماسٹر مین ہے-


    رمضان نامی صارف نے لکھا کہ اس کا مطلب ہے اس کے بارے میں پہلے ہی منصوبہ بندی کی جا چکی تھی-


    ماجد نامی صارف نے لکھا کہ کچھ دن پہلے ، شیخ رشید ، جو وزیر اعظم عمران خان کا ایک خاص آدمی تھا دہشت گردوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور پشاور میں دھماکے ہوسکتے ہیں۔ آج بھی وہی ہوا ہے۔ ہم پشتونوں کی مذمت کرتے ہیں ۔


    https://twitter.com/arshadsherani/status/1321025228030545920?s=20
    ارشد سہرانی نامی صارف نے لکھا کہ شیخ رشید سب کچھ جانتے ہیں اور دھماکے کے بارے میں انھیں کس نے بتایا۔ وہ وزیر داخلہ تو نہیں ہیں بلکہ کچھ لوگوں کا ترجمان بھی ہے۔


    مبین نور علی نامی صارف نے متعلقہ حکام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چونکہ سب سے زیادہ دانشور آدمی ، شیخ رشید ، وزیر ریلوے جو ہر سیاسی معاملے میں دخل اندازی کرتا ہے ، کوئٹہ اور پشاور میں دھمکیوں کے بارے میں پہلے ہی جانتا تھا پھر متعلقہ حکام نے پہلے ہی متعلقہ اقدامات کیوں نہیں کیے؟


    اعجازالحق نامی صارف نے شیخ رشید کو ایک بڑا دہشت گرد قراردیا-


    ایک صارف نے لکھا کہ ٹھیک ہے. اگر آپ گرفتاری نہیں کرسکتے ہیں تو پھر اس سے اپنا منہ بند رکھنے کو کہیں۔اس منحوس بندے کو چپ کراؤ-


    ایم صابر محمود نامی صارف نے لکھا کہ امید ہے یہ ٹرینڈ آج رات کے ٹاک شوز میں ڈسکس ہوگا اور شیخ رشید سے دہشت گردی کی پیشگوئی بابت سوال ہونگے –


    سلیم سلیمانی صارف نے لکھا کہ اس پریس کانفرنس کو سامنے رکھتے ہوئے پشاور اور کوئٹہ دھماکوں کی ایف آئی آر شیخ رشید کے خلاف درج ہونی چاہیے اور انکو شامل تفتیش کرنا چاہیے۔


    ارم نامی صارف نے لکھا کہ ذمہ دار عمران نیازی اور اسکے لانے والے ہیں یاد کریں جب نیازی شیطان دھرنہ ختم کروانا چاہتا تھا تب بھی پشاور کے سکول میں دھماکہ کروا کر کتنے معصوم جانوں سے کھیلا گیا تھا اس وقت مُلک شیطانوں کے نرغے میں ہے جو اپنے گناہوں کا ذمہ دار دہشت گردوں کو قرار دے کر بری ہوجاتے ہیں۔
    https://twitter.com/MalikMahboobSul/status/1321027041182048256?s=20
    ملک محبوب نامی صارف نے لکھا مجھے إن دھماکوں کا کُھرا شیخ رشید تک کیوں لے کر جارہا ہے-
    https://twitter.com/Ladla74/status/1321028664885153793?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ پشاور دھماکہ یہ سب دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے کوئی بھی درد دل رکھنے والا شخص یہ نہی دیکھ سکتا جو بھی اس سانحے میں ملوث ہے ان سب کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے –


    میاں رمضان شفیق نامی صارف نے سیکیورٹی ایجنسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ پی ڈی ایم جلسے میں سکیورٹی رسک کی انفارمیشن سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس پہلے سے موجود تھی اور یہ جو پشاور میں ہوا ہے اُس وقت سکیورٹی ایجنسیاں کیا کر رہی تھی؟ اب عوام ہوش کے ناخن لے اصل دہشتگرد گروہ کون ہے مُلک میں وہ اب اپنے ذاتی مفادات کو بچانے کی خاطر ملک تباہ-


    ارشد سلیم خان نامی صارف نے لکھا کہ اللہ کے جانب سے وحی کا نظام تو 1300 سال پہلے ختم ہوگیا ہے-تب شیدا ٹلی کو کیسا پتہ چلا کہ دھماکہ ہوگا؟


    ایک صارف نے لکھا کہ پشاور اور کوئٹہ میں دھماکوں کی خبر تین دن پہلے شیخ رشید نے دی تھی یا تو دھماکے کرنے والے کو خبر ہوتی ہے یا کرانے والے کو اس لیے تحقیقات کا آغاز شیخ رشید سے کیا جائے-


    ایک صارف حمید اللہ نے لکھا کہ دیکھتے ہیں، کب جی آئی ٹی بنتی ہے؟ کب قومی قیادت سر جوڑ کر بھیٹتی ہے؟ اور کب نیشنل ایکشن پلان بنتا ہے؟ اور ہاں کب دہشت گردوں کے ترجمان شیخ رشید کو گرفتار کیا جاتاہے؟؟


    https://twitter.com/HasnaDasti/status/1321028095449681920?s=20

    واضح رہے کہ واضح رہے کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی زرگر آباد میں مدرسے سے ملحقہ مسجد میں دھماکے میں 7 افراد شہید اور 100 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈکلیئر اور ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    دھماکا مسجد کے مرکزی ہال میں اس وقت ہوا جب تدریسی عمل جاری تھا، اسی دوران ایک شخص بیگ اٹھائے ہال میں داخل ہوا اور پھر کچھ لمحوں بعد زور دار دھماکا ہوگیا۔ مسجد کے ایک طرف کی دیوار گرگئی، چھت سے پلستر اکھڑ گیا، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، منبر کے قریب گڑھا پڑ گیا، شیشوں کی کرچیاں، طلبا کے بستے اور پنسلیں فرش پر بکھر گئیں، ریسیو ٹیموں نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا-

    خیال رہے کہ اس سے دو روز قبل اتوار کو کوئٹہ میں بھی دھماکہ ہوا تھا جس مین کافی جانی مالی نقصان ہو اتھا-

    پشاور میں دھماکا، مدرسے کے 5 طلبا جاں بحق، 50 زخمی

    مشکوک شخص مدرسے میں آیا اور یہ چیز چھوڑ کر گیا جس کے بعد دھماکہ ہوا، پولیس

    پشاورمدرسے میں دھماکے کے بعد کے مناظر کی ویڈیو

    مدرسے میں کلاس جاری تھی،مہتمم پڑھا رہے تھے، اچانک دھماکہ ہو گیا، کلاس کی ویڈیو وائرل

    ریسکیو 1122 نے کتنے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا؟ زخمیوں کو خون کاعطیہ دینے کی اپیل

    مدرسہ دھماکہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مریم نواز

    یوم سیاہ کشمیر کے باعث دھماکے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتا ہے

    پشاور دھماکہ، وزیراعظم کا سخت رد عمل سامنے آ گیا،بڑا اعلان

    پشاور دھماکہ، آصف زرداری بھی خاموش نہ رہ سکے، تنقید کے ساتھ مطالبہ بھی کر دیا

    پشاور دھماکہ، زخمیوں میں اضافہ،ہدف کون تھا؟ مدرسہ مہتمم نے کا بیان آ گیا

    مدرسہ دھماکہ،سانحہ اے پی ایس کے دکھ تازہ ہو گئے، نواز شریف

    وفاقی کابینہ اجلاس، پشاور مدرسہ حملے بارے کیا ہوئی بات؟

    پشاور دھماکہ،دیر باجوڑ میں کچھ لوگ پکڑے گئے ہیں،آئی جی کا انکشاف

    پشاور مدرسہ دھماکہ،اموات اورزخمیوں میں اضافہ

     

  • فرانس کی گستاخیوں کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟  از قلم غنی محمود قصوری

    فرانس کی گستاخیوں کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟ از قلم غنی محمود قصوری

    کفار ازل سے ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اسی لئے نبی کریم نے فرما دیا کہ
    الکفر ملت واحدہ
    یعنی کفر ایک جماعت ہے
    مذہب اسلام اس وقت دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کی موجودہ آبادی دنیا کی کل آبادی کا 23 فیصد ہے اور کرہ ارض پر اس وقت 57 اسلامی ممالک ہیں جن کے پاس اپنی فوجیں،معدنی ذخائر اور بیش بہاء نعمتیں ہیں مگر پھر بھی آج مسلمان ہی پستی کی جانب جا رہے ہیں
    کافر جب بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی کام کرتے ہیں یک جان اور اپنے اپنے مذاہب سے بالاتر ہو کر کرتے ہیں
    نائن الیون کی بعد اور خصوصی اس وقت دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہی ہے جس سے کافر کافی پریشان ہیں اور آئے روز مذہب اسلام کے خلاف غلیظ حرکتیں کرتے رہتے ہیں
    دین اسلام میں اللہ کے بعد مقام پیغمبر امن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور ہر ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کو بھی پیغمبر امن محمد کریم کی ناموس اپنی جان سے زیادہ قیمتی ہے مسلمان اپنا جانی مالی نقصان تو برداشت کر لیتا ہے مگر توہین رسالت کبھی برداشت نہیں کرتا کیونکہ شان رسالت کی خاطر جان دینا اور جان لینا مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے
    کافی عرصے سے عالم کفر اور خصوصی فرانس پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا چلا آ رہا ہے جس میں فرانس کا رسالہ چارلی ہیبڈو پیش پیش ہے اس رسالے کے دفتر پر کئی بار مسلمانوں نے حملہ کیا ایک بار ایک ایسے ہی حملے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے
    فرانس نے ایک بار پھر سرکاری طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے جس کا سارا ذمہ دار فرانسیسی صدر کیمرون ہے جس نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ میں چارلی ایبڈو کو آزادی اظہار رائے سے نہیں روک سکتا اب اسی فرانسیسی صدر کی شہہ پر پہلے گستاخانہ خاکے شائع کئے گئے پھر ان کو سرعام عمارتوں پر لگایا گیا حالانکہ یہ بدبخت کافر یہ بات بھول گئے کہ جس طرح سے جنگوں میں محمد کریم اور ان کے اصحاب و تابعین و تبع تابعین نے فتوحات کیں اگر وہ بھی کفار کے ساتھ انہی کے جیسا سلوک کرتے تو آج روء زمین پر ایک بھی کافر زندہ نا ہوتا مگر یہ مشرک احسان فراموش لوگ بھول گئے کس طرح ان کو دوران جنگ عام معافیاں ملیں حالانکہ اس سے قبل جنگی قیدیوں،عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کو مار دیا جاتا تھا مگر میرے شفیق نبی نے ایسا کرنا ممنوع قرار دیا ان کفار کو بھی پوری آزادی سے جینے کا موقع دیا
    کافر بار بار توہین رسالت کرکے آج کے مسلمانوں کے ایمان کی حرارت جانچتا ہے کیونکہ وہ شان مصطفیٰ کا مقام جانتا ہے مگر یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کو ایسے جرآت ہو کیسے رہی ہے؟ تو اس کے لئے میں قرآن کی ایک آیت رقم کرتا ہوں
    اے نبی ۔کفار و منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔۔ التوبہ 83
    دیکھا جائے تو آج ہم عام مسلمان اور مسلمان حکمران اس فرمان باری تعالیٰ کے منکر ہو کر ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں کیونکہ ان کفار کو اللہ ہم سے زیادہ جانتا ہے اسی لئے اللہ نے ان کفار کے خلاف جہاد کرکے ان کو مغلوب رکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ ناموس رسالت کیساتھ عام مسلمان کی عزت بھی محفوظ رہے سو اس شاطر ظالم کافر دشمن نے ناموس رسالت پر حملہ کرنے کیلئے ہمارے دلوں سے سب سے پہلے جہاد کی رغبت نکالی اور اس جہاد کو بدنام کرنے کیلئے ہم میں سے ہی کچھ فسادیوں کو کھڑا کرکے جہاد جیسے مقدس فریضے کو بدنام کروانے کی کوشش کی جس سے وہ ہمارے اندر ہی فساد کروانے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں
    مذید ہمارے حکمرانوں کو دباؤ میں لا کر ان منہج نبوی والی جہادی جماعتوں کو ختم کروایا جن سے کفار کی جان جاتی اور ان کی جگہ انہی خارجیوں فسادیوں کو فنڈنگ کی تاکہ جہاد رکا رہے مسلمان آپس میں ہی دست و گریباں رہے اور یہ بدبخت حکمرانوں کو دباؤ میں رکھ کر گستاخیاں کرتے رہے ان کے منصوبے کی واضع مثال وہ خارجی جماعتی ہیں جو اپنے مسلمانوں پر تو ہتھیار اٹھاتی ہیں مگر ان کفار کو بعد میں دیکھنے کا بہانہ بنا کر نظر انداز کرتی ہیں اور دوسری جانب ہمارے غلام ذہن حکمران ہیں جن کو ڈالر و پاؤنڈ کے نشے میں مبتلا کرکے ان کفار نے قابو کیا ہوا ہے جو اپنی عزت نفس کی خاطر تو اپنے مخالفین سے جنگ تک کر لیتے ہیں مگر ناموس رسالت کیلئے سرکاری طور پر شاتم رسول شحض کے قتل کرنے کا اعلان تک کرنے سے گھبراتے ہیں اب تو یہ صورتحال ہے کہ ہمارے حکمران اس ناپاک جسارت کہ جس کی سزا شرع اللہ میں قتل ہے ، پر محض معافی پر ہی اکتفاء کرتے نظر آ رہے ہیں اور کافر معافی مانگنے سے بھی انکاری ہے
    آج دنیا کی بہترین افواج میں سے بہترین فوجیں مسلمانوں کے پاس ہیں نیز ایٹم بم تک ہمارے پاس ہے مگر وہن میں مبتلا عوام و حکمران حکمت کا راگ الپا کر خود کو اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں
    یقین کیجئے جس دن ہم نے سیرت نبوی کے مطابق زندگیاں بسر کرنا شروع کر دیں ہمارا کھانا ،پینا ،اٹھنا ،بیٹھنا اور ہتھیار اٹھانا سنت محمدی کے تابع ہو گیا اسی دن کافر ڈر کے مارے ہمارے غلام ہو جائینگے مگر اس کے لئے ہمیں خود کو سنت رسول اور حکم ربی کے تابع کرنے کی ضرورت ہے
    آج فرانس کی گستاخیوں پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے مگر کیا مجال کہ کسی مسلمان حکمران نے سرکاری طور پر زبانی کلامی ہی اسے مذہب کے خلاف جنگ کا نام دیا ہو یقین کریں جس دن کسی ایک بھی مسلمان حکمران نے توہین رسالت کو دنیا اور اسلام کے لئے خطرہ قرار دے کر فوجوں کو صرف حکم دے دیا کہ شاتم رسول سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ اسی دن کافر توہین رسالت چھوڑ دے گا اور ناموس رسالت مذید بلند ہو جائے گی مگر آج ہم دنیاوی زندگی میں رنگے زبانی کلامی باتیں بھی کرنے سے گئے ان سے جنگ تو دور کی بات ہم ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے گھبرا رہے ہیں حالانکہ ان کے برانڈز کے متبادل ہمارے اپنے ذاتی برانڈز موجود ہیں مگر ہمیں چسکا لگ چکا ہے کفار کی اشیاء کھانے پینے اور پہننے کا
    حکمران تو پتہ نہیں کب جاگے گے ہمارا تو فوری فرض ہے کہ ہم فرانس کی تمام اشیاء کا بائیکاٹ کریں ہماری زبانیں ہماری قلمیں فرانس کے خلاف علم بغاوت بلند کریں تاکہ حکمران جاگ جائیں اور آقا نامدار پیغمبر اسلام پیغمبر امن جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس رسالت پر آنچ نا آنے پائے سو قارئین آج سے تہیہ کر لیں ہم اپنے حصے کا کام آج سے ہی شروع کرتے ہیں ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے اپنا قلم اپنی زبان اپنی تقریر اپنی تحریر ان کی مخالفت میں کرکے باقی ان شاءاللہ کل بھی عشق رسول کے داعیوں نے ان کی گردنیں کاٹیں تھیں اور آج بھی کاٹیں گے ان شاءاللہ
    تو جلدی کیجئے تاکہ کل روز محشر جام کوثر پینے کے لئے بتلا سکیں کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کی ناموس کی خاطر ان لعنتی کفار سے نفرت کی تھی
    باقی ان حکمرانوں میں میرا رب غیرت عطا فرمائے تاکہ اسلام کا بول بالا رہے اور یہ کفار کی غلامی کی بجائے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آ کر اسلام کو دوام بخشیں

  • نبیﷺ محترم ہمارے   بقلم:جویریہ بتول

    نبیﷺ محترم ہمارے بقلم:جویریہ بتول

    نبیﷺ محترم ہمارے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    ہمیں جاں سے بھی پیارے…
    ہیں نبیﷺ محترم ہمارے…
    یہ جو مال و منال سارے…
    اور خواہشات و خیال سارے…
    سب اُن پہ فدا ہوں گے…
    اب عہد یہ وفا ہوں گے…
    کھولیں گے جو زبانیں اپنی…
    لہرائیں گی یہ بانہیں آہنی…
    ہم تن من یہ واریں گے…
    سرِ عام یہ پکاریں گے…
    فداک ابی و امی و جسدی…
    پیارے نبی اے پیارے نبیﷺ…
    قدرت کا کوڑا برسے گا اِن پر…
    ہو جائے سر یہ بوجھل تن پر…
    نہ کم روشنی مہ کی ہو گی…
    نہ دمک رستوں کی کھو گی…
    یہ نامِ ارفع رفعت پہ رہے گا…
    ہر اک شاتم خود ہی کہے گا…
    میں ذلیل تھا، بے دلیل تھا…
    یہ نامِ محمد کتنا جمیل تھا…!!!
    وہ جو اپنے اور پرائے کے…
    سب بے سہارا و سرائے کے…
    جو عارفوں اور منکروں کے…
    سب دوستوں اور دشمنوں کے…
    یکساں ہی محافظ و رہبر ہیں…
    وہ بہاروں کے ہی پیام بر ہیں…!!!
    (ﷺ،ﷺ،ﷺ،ﷺ ،ﷺ)۔

  • یہ نامِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم   بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    ہمارے لیئے تو کافی ہے بس بات آپ کی…
    ہماری چاہتوں کا مدعا ہے ذات آپ کی…
    ہمارے سفر کی ہر روشنی آپ کے نام سے ہے…
    ہماری فلاح تو آپ کے لائے نظام سے ہے…
    ہمارے شکستہ دلوں کا سکوں آپ کے ذکر میں ہے…
    ہمارا جینا اُمَّت میں آپ کی،ہمارے فخر میں ہے…
    آرامِ جاں ہمارا اس نام کی بدولت ہے…
    کرےجو توہین اس کی سدا اس سے عداوت ہے…
    دشمن آپ کا ہر دور میں بے نام ہی رہے گا…
    ذلتوں سے دوچار وہ ہر گام ہی رہے گا…
    یہ نام تو روشنی ہے،اسے روکو گے کہاں تک؟
    کرے گی پیچھا تمہارا تم پہنچو گے جہاں تک…
    رب کی پکڑ کا کوڑا برسے گا ہر گستاخ پر…
    یہ وعدۂ ربی ہے، ہو گا پورا ہر نفاق پر…
    تمہاری سیاہ کاریوں سے پردہ اُٹھتا ہی رہے گا…
    یہ نامِ محمد تا قیامت اُبھرتا ہی رہے گا…!!!!

  • توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری  تحریر:جویریہ بتول

    توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری تحریر:جویریہ بتول

    توہینِ رسالت ﷺ اور مسلمانوں کی ذمہ داری…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    27 اکتوبر 2020.
    نائن الیون کے بعد جس فتنے نے سر اُٹھایا…وہ توہینِ قرآن اور توہینِ رسالتﷺ ہے…

    افغانستان کی سر زمین پر شکست سے دوچار ہونے کے بعد جس چیز کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے اور اشتعال دلانے کی جو مذموم کوششیں کی گئیں وہ توہینِ قرآن اور توہینِ رسالت پر مبنی تھیں…

    یورپی میڈیا میں بارہا ان مذموم سرگرمیوں کو آزمایا گیا،مقابلے کروائے گئے اور باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیک وقت بھی اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا گیا…

    فرانس میں بھی کبھی مسلمان خواتین سکارف اوڑھنے کے جرم میں اذیت و جرمانے کے عمل سے گزرتی ہیں تو کبھی آزادئ اظہار کی آڑ میں گستاخانہ خاکے چھاپ کر مسلم امہ کو چیلنج کیا جاتا ہے…

    2011،2006 اور 2013ء میں بھی فرانسیسی جریدے نے یہ مذموم فعل سر انجام دیا اور بطورِ سرِ ورق شائع کیا گیا…
    اُس وقت بھی ایسے تنگ نظر اور فتنہ پردازوں کی سرپرستی فرانس کی حکومت کر رہی تھی…
    اور تب بھی یہ تاثر دیا گیا کہ یہ اقدام اسلام کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندی کے خلاف ہے…
    تو سوال یہ ہے کہ کیا اسلام ایک شدت پسند مذہب ہے جسے معتدل اور جس امت کو امت وسط کہا گیا ہے…؟
    جو مسلمان اخلاق و اطوار کے اعتبار سے آج بھی دنیا کی بہترین قوم ہیں…
    اور کیا یہ مذموم افعال امن پسندی کا پیام ہیں…؟؟؟

    آسمانی مذاہب پر یقین رکھنے والوں کے لیئے یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے اور انہیں جو اسلامو فوبیا کا مرض لاحق ہو چکا ہے یہ دنیا کے امن کے لیئے ہر گز موزوں نہیں ہے…

    ہر اسلام کش اقدام کو آزادئ اظہار کا نام دینا یورپ و مغرب کی فطرت میں رچ بس گیا ہے اور اس چیز نے دنیا کو تقسیم کیا ہے…
    اب حالیہ اقدامات جن میں فرانس کےصدر میکرون کی جانب سے باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں یہ رذیل ترین قدم اُٹھا کر دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے…

    ماضی میں فرانس کے جس جریدے نے یہ قدم اُٹھایا تھا اسی صحافی نے جب ایک بار فرانس کے صدر کو مذاق کا نشانہ بنایا تو کئی ماہ تک اسے بندش کا سامنا کرنا پڑا…

    یعنی فرانس کے صدر کی توہین قابلِ سزا جرم ہے لیکن مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین آزادئ اظہار رائے ہے…؟؟؟
    تو سوال یہ ہے کہ کیا مسلم امہ کی جانب سے صرف مذمتی بیانات اور ریلیاں نکال لینے سے یہ سلسلہ رک جائے گا…؟
    صرف ان اقدامات سے ناموسِ رسالت کا تحفظ ہم سے ممکن ہو پائے گا…؟

    اسلامی ممالک کے سربراہان پر یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ممالک کے ساتھ سخت معاشی بائیکاٹ کے علاوہ توہینِ رسالت پر سخت سے سخت سزا کا عالمی سطح پر قانون منظور کروائیں…

    تمام اختلافات بھلا کر مذہبی،سیاسی،سفارتی اور عملی اقدامات کے حوالے سے ایک ہو جائیں…
    سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے گروپس میں منقسم ہونے کی بجائے ایک آواز ہو کر دنیا تک اپنا واضح پیغام پہنچائیں…
    علمائے امت اس سازش کو فتنہ ڈکلیئر کریں اور دنیا پر اس حوالے سے اپنا مؤقف صاف بیان اور واضح کر دیں…

    ورنہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اگر صرف بیانات سے کام چلتا تو یہ سلسلہ تھم چکا ہوتا اور آئے روز نت نئے فساد سر نہ اُٹھاتے،اور مسلم آبادیاں راکھ کا ڈھیر نہ بنتیں…!!!

    مشرق اور مغرب کے درمیان آج بھی ادب و اخلاق میں جو واضح تفاوت ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے…
    ایسی آزادی پر عالمی قدغن لگنی چاہیئے جو نفرت،اور مجرمانہ ذہنیت سے جنم لیتی ہے اور دنیائے امن کے لیئے سنگین خطرہ بن جاتی ہے…!!!

    کوئی بھی شخصیت چاہے وہ مذہبی ہو یا سیاسی اسے چاہنے والوں کی تعداد سینکڑوں،ہزاروں اور لاکھوں،کروڑوں تک بھی پہنچ سکتی ہے لیکن اس پہ جان نچھاور کرنے والوں کی تعداد چند ایک سے بڑھ نہیں سکے گی…

    نبیﷺ وہ واحد شخصیت ہیں جن سے اربوں لوگوں کی عقیدت یہ ہے کہ وہ اس نامِ نامی پر اپنی جانیں بھی نچھار کر دینا اعزاز اور ایمان کی تکمیل سمجھتے ہیں…

    گبن کے الفاظ میں:
    عیسائی اگر اس بات کو سمجھیں تو اچھا ہے کہ محمدﷺ کے پیروکاروں نے جو قربانیاں دی ہیں انہیں عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں میں ڈھونڈنا مشکل ہے…!!!

    آغازِ سفر سے ہی اس کارواں کا ہر مسافر میرِ کارواں پر جان نچھاور کرنے کے لیئے تیار رہا ہے…
    ابو لہب، ابو جہل،امیہ بن خلف اور ابو رافع کے جانشین تاریخ کے کسی دور میں بھی ان اوچھی حرکات سے باز نہیں آئے اور پھر ان کا انجام بھی تاریخ ہی لکھا کرتی ہے…

    رب اپنے محبوب پیغمبرﷺ کی توہین کرنے والوں کا بدلہ اپنے نادیدہ لشکروں سے لینے پر بھی قادر ہے…
    مگر ہمیں سوچنا یہ ہے کہ من حیث امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا کردار کیا تھا،کیا ہے اور کیا ہو گا…؟؟؟
    یہ منصب،روٹی اور مال و منال سب یہاں ثانویت اختیار کر جانے چاہیئیں…!!!

    مؤرخ عشروں سے انگشت بدنداں یہ دیکھنے کا منتظر ہے کہ ہم نے اب تک اس سلسلہ میں کیا حاصل کیا اور دنیا کو حقائق کا قائل کروانے میں کتنے کامیاب رہے…؟؟؟
    کہ محمدﷺ ہیں متاعِ عالم ایجاد سے پیارے…!!!!!
    ===============================