Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اداکارہ کنگنا رناوت کے بعد ایک اور بھارتی اداکار کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی

    اداکارہ کنگنا رناوت کے بعد ایک اور بھارتی اداکار کی بیٹی کو ریپ کی دھمکی

    بھارتی اداکار وجے سیتھوپتی کو سری لنکا کے لیجنڈری کھلاڑی متھایا مرلی دھرن کی بائیو پک کے لیے حامی بھرنے پر اُن کی بیٹی کا ریپ کرنے کی دھمکی مل گئی۔

    باغی ٹی وی :سری لنکا کے عظیم بولر متھایا مرلی دھرن کی زندگی پر بھارت میں تامل زبان میں فلم بنانے کی خبریں زیر گردش ہیں جس کا ایک پوسٹر بھی جاری کیا گیا تھا ابتدا میں اداکار وجے سیتھوپتی نے فلم میں مرلی دھرن کا کردار ادا کرنے کی حامی بھری تھی لیکن بھارت میں تنازع کھڑا ہونے پر وہ فلم سے علیحدہ ہوگئے تھے۔

    بھارت میں خواتین کو ریپ کی دھمکیوں سے خوفزدہ کرنے کا کلچر عام ہوتا جارہا ہے تاہم اب اسکی لپیٹ میں اداکار اور معرف شخصیات بھی ہیں-

    اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وجے سیتھوپتی کی بیٹی کو ریپ کی دھمکیاں ملنے لگی ہیں۔

    بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چنئی پولیس نے ٹوئٹر پر ریپ کی دھمکی ملنے کا مقدمہ درج کیا ہے چنئی پولیس کمشنر وجے سیتھوپتی کا نام لیے بغیر اور اس دھمکی کی مزید تفصیلات دیے بغیر بتایا کہ ایک سیلیبرٹی کے خلاف سوشل میڈیا میں آنے والے کمنٹس پر تشویش ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک شخص نے وجے سیتھوپتی کو تامل قوم کا غدار قرار دیا اور ایک گرافکس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے ساتھ جب ایسا ہوگا تو انھیں سری لنکا میں بسے تامل کو درپیش مشکلات کا احساس ہوگا۔

    واضح رہے کہ سری لنکن حکومت کی جانب سے تامل باغیوں کو مارنے کی حمایت کے بیان پر بھارت میں موجود تامل لوگ مرلی دھرن کو اپنا غدار سمجھتے ہیں۔

    اپنے بیان سے متعلق مرلی دھرن مے سضاحت بھی دی تھی کہ میں تیس سالہ طویل اس خانہ جنگی کے دوران ہی پلا بڑھا ہوں میں جنگ کے درد کو محسوس کر سکتا ہوں جب میں 7 سال کا تھا تو میرے والد کو مارا گیا ہم نے بڑا وقت سڑکوں پر گزارا ہے سری لنکا کی خانہ جنگی کے اختتام سے متعلق میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ معاملات زیادہ خراب ہوجانے پر مرلی دھرن نے اداکار سیتھوپتی سے درخواست کی تھی وہ اس فلم سے علیحدہ ہوجائیں۔

    مرلی دھرن نے کہا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ سیتھوپتی کچھ لوگوں کی جانب سے دباؤ برداشت کر رہے ہیں میں نہیں چاہتا کہ وجے سیتھوپتی جیسے اسٹار ان لوگوں کی وجہ سے مصیبت میں آئیں جو میرے متعلق غلط فہمی کا شکار ہیں۔

    مرلی دھرن کے اس بیان کو وجے سیتھوپتی نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور لیجنڈری کرکٹر کا شکریہ بھی ادا کیا بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وجے سیتھوپتی کے مینیجر نے کہا ہے کہ اداکار اب یہ فلم نہیں کریں گے۔

    خیال رہے کہ مسٹر سیتھوپتی کی بیٹی حالیہ دنوں میں اس طرح کے مضحکہ خیز خطرات کا شکار صرف ایک اعلی شخصیت نہیں ہے۔ رواں ماہ کے شروع میں کرکٹر ایم ایس دھونی کی بیٹی کو اسی طرح کے دھمکی دی گئی تھی جب اس کے والد – جو جاریہ آئی پی ایل میں چنئی سپر کنگز کی طرف سے کھیلتے ہیں – ایک میچ ہار گئے علاوہ ازیں بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو بھی ریپ کی دھمکیاں دی گئیں-

    کنگنا گزشتہ دو ماہ سے بھارت میں مختلف موضوعات پر آواز اٹھاتی رہی ہیں جبکہ انھوں نے سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات سے متعلق بھی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

    بالی وڈ میں اقرباء پروری کے خلاف آواز بلند کرنے اور وزیراعلیٰ مہاراشٹرا کے خلاف کھڑے ہونے سمیت مخلتف معاملات میں آج کل کنگنا رناوت خبروں میں ہیں۔

    میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں انھیں ریاست اوڑیسہ کے ایک وکیل کی جانب سے ریپ کی دھمکیاں ملی ہیں۔

    جبکہ دھمکی دینے والے شخص نے کہا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوچکا ہے اور کنگنا کو دھمکی انھوں نے نہیں دی۔

    اس شخص کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے خواتین یا پھر کسی بھی قوم سے متعلق ان کے ایسے نظریات نہیں ہیں، میں صدمے میں ہوں اور معافی مانگنا چاہتا ہوں۔

    کنگنا رناوت کو ریپ کی دھمکیاں

  • آپ کیا سیکھیں گے  بقلم:عمر یوسف

    آپ کیا سیکھیں گے بقلم:عمر یوسف

    آپ کیا سیکھیں گے ۔

    عمر یوسف۔۔۔

    عربوں کی شاعری پڑھنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ یہ عربی شعراء انسان کو اپنی باتوں میں جکڑنے کا ایسا فن رکھتے تھے کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی ان کے جال میں پھنس جاتے ۔۔۔۔ حتی کے انہیں اپنا قریبی بنا لیتے ۔۔۔ درہم و دینار ۔۔۔ اور مال و دولت سے نوازتے ۔۔۔ اپنے دربار میں انہیں خاص مقام عطا کرتے ۔۔۔

    تو شعراء خوب فائدے اٹھاتے ۔۔۔ اور زندگی کی تمام نعمتیں حاصل کرتے ۔۔

    جبکہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو آپ پڑھیں گے تو یہ پائیں گے کہ آپ ص بھی ایک بادشاہ کی تعریف و تمجید میں اپنا وقت گزارتے تھے ۔۔ وہ بادشاہ ان تمام بادشاہوں کا بادشاہ اللہ رب العزت ہے ۔۔۔

    آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں نے عارضی بادشاہوں کی خوشامد میں اپنی زندگیاں گزاریں ان کو عارضی فائدے ملے ۔۔۔ لیکن جس نبی ص نے خدائے لازوال کی تعریف و تمجید میں وقت گزارا اس نبی کو اللہ نے دنیا میں بھی سرخرو کیا اور آخرت کے حقیقی اور دائمی فائدوں کا بھی مالک بنایا ۔۔۔

    آپ نے فن سیکھنا ہے تو یا تو آپ عربوں کی شاعری سے لوگوں کو راضی کرنے کا فن سیکھ لیں یا آپ نبی ص کی سیرت پڑھ کے ملک الملک رب ذوالجلال کو راضی کرنے کا فن سیکھ لیں اور دائمی فائدے حاصل کرلیں ۔۔۔

    نوٹ
    یہاں پر عربوں کی شاعری پر تنقید ہرگز مقصود نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ اس شاعری کی بات کی جائے تو یہ ایک بہترین شاعری ہے ۔۔۔
    یہاں پر زہد و ورع کو اپنانے کی ترغیب دینا مقصود ہے کہ دنیا کو راضی نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔ ہاں لیکن اللہ کو راضی کیا جاسکتا ہے اور دونوں جہاں کی عزتیں صرف اس اللہ کی رضا سے حاصل ہوں گی ۔

  • سری لنکن پریمئیر لیگ:سلمان خان کی فیملی کی خریدی گئی فرنچائز کینڈی ٹسکرز  میں وہاب ریاض شامل

    سری لنکن پریمئیر لیگ:سلمان خان کی فیملی کی خریدی گئی فرنچائز کینڈی ٹسکرز میں وہاب ریاض شامل

    سری لنکن پریمیئرلیگ میں پاکستانی پیسر وہاب ریاض بھی بھارتی فلم سٹارز کی فرنچائز کینڈی ٹسکرز کی جانب سے ایکشن میں ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بالی وڈ سُپر اسٹار سلمان خان کے اہل خانہ نے لنکا پریمیر لیگ (ایل پی ایل) میں ، کینڈی ٹسکرز فرنچائز خریدی ہے ، یہ ٹورنامنٹ ہے جس میں اس کے پلیئر ڈرافٹ کو پچھلے دو دنوں میں منعقد کیا گیا تھا اور یہ 21 نومبر یعنی آج کو شروع ہونا ہے۔

    سلمان خان کے چھوٹے بھائی سہیل اور والد ، مشہور اسکرپٹ رائٹر سلیم خان ، کنسورشیم کا ایک حصہ ہیں یہ ٹیم سلمان کے بھائی کے نام سے رجسٹرڈ کمپنی سہیل خان انٹرنیشنل نے خریدی ہے –

    سلمان خان کے بھائی سہیل خان نے ٹی او آئی کو بتایا ہماری ٹیم میں عام طور پر لیگ ، اور شائقین کا جذبہ جو کسی سے پیچھے نہیں ہے ، کو دیکھتے ہوئے ہمیں بہت ساری صلاحیتیں نظر آتی ہیں۔

    خان فیملی کے تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے ارباز اور سلمان بڑے ہونے کی وجہ سے سلمان کینڈی کے تمام میچوں میں شرکت کریں گے۔

    سہیل خان کی ٹیم میں پاکستانی پیسر وہاب ریاض بھی بھارتی فلم سٹارز کی فرنچائز کینڈی ٹسکرز کی جانب سے ایکشن میں ہوں گے، ٹورنامنٹ آئندہ ماہ شروع ہوگا۔

    وہاب ریاض کے علاوہ کینڈی ٹسکرز ٹیم میں کوسال پریرا ، کرس گیل ، لیام پلنکٹ ، اور کوسال مینڈس شامل ہیں۔

    لنکا پریمیر لیگ کے افتتاحی ایڈیشن میں پانچ ٹیمیں ہیں- کولمبو کنگز ، ڈمبولا ہاکس ، گیل گلیڈی ایٹرز ، جا فنا اسٹالینز اور کینڈی ٹسکرز۔
    کسی بھی چیز سے زیادہ سہیل سب سے زیادہ پرجوش دکھائی دیتے ہیں کہ کرس گیل اب ان کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ایل پی ایل پلیئر ڈرافٹ گذشتہ 48 گھنٹوں میں بنایا گیا تھا اور کھلاڑیوں کی دستیابی اور ان کے مقررہ اصولوں پر تمام الجھنوں کے باوجود خان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کے ساتھ خوش ہیں جس نے انہیں اکٹھا کیا ہے۔

    سہیل خان کا کہنا ہے کہ سری لنکن پریمیئر لیگ میں کئی اسٹار کرکٹرزموجود ہوں گے، شائقین بڑی بے تابی سے سنسنی میچز کے منتظرہیں، کینڈی ٹسکرز کا اسکواڈ متوازن ہے، کرس گیل کو کرکٹ کا باس کہا جاتا ہے،کوشل پریرا جیسے سری لنکن اسٹار کیساتھ میچ ونرز وہاب ریاض اورلیام پلنکٹ بھی موجود ہیں، کوشل مینڈس اورنوآن پرادیپ بھی تہلکہ خیز کارکردگی دکھا سکتے ہیں، اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے سلمان خان ہرمیچ میں نظرآئیں گے-

    ایل پی ایل میں گیل فرنچائز اسی کنسورشیم کی ملکیت ہے جو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز چلاتی ہے۔ تاہم ، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ دیگر ٹیموں کا مالک کون ہے۔

    ٹائمز آف انڈیا کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ ایل پی ایل کے پاس ہندوستان میں مقیم دو دیگر کنسورشیم ہیں اور ایک سری لنکا سے مقیم ہے جس نے ٹیموں کو منتخب کیا ہے۔ سری لنکا کے سابق آل راؤنڈر اور کمنٹیٹر رسل آرنولڈ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ سری لنکا میں مقیم کنسورشیم سے وابستہ ہیں۔

    دبئی میں قائم انوویٹیو پروڈکشن گروپ (آئی پی جی) کو رواں سال اگست میں ایل پی ایل کو مارکیٹنگ اور تنظیم کے حقوق سے نوازا گیا تھا ، اس ٹورنامنٹ کا پہلا ستمبر میں انعقاد ہونا تھا۔ تاہم ، وبائی بیماری کےباعث، ٹورنامنٹ ملتوی کرنا پڑا۔ ریکارڈ کے مطابق ، آئی پی جی کی سربراہی انیل موہن کر رہے ہیں ، جو متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی ہیں۔

    موہن نے بھی ایل پی ایل میں سلیم خان کے کنبہ کی شرکت کی تصدیق کی اور کہا "انہوں نے نہ صرف پورے ایونٹ میں گلیمر کا اضافہ کیا بلکہ وہ کھیل کے لئے پرعزم بھی ہیں”۔

    لنکا پریمیر لیگ 21 نومبر سے 13 دسمبر 2020 تک شیڈول ہے۔

    2020 لنکا پریمیر لیگ کا حصہ بننے والے کچھ اور بڑے نام شعیب ملک (جافنا اسٹالینز) ، ڈیوڈ ملر اور کارلوس برتھویٹ (ڈمبولا ہاکس) ، آندرے روس-ل ، فاف ڈو پلیسیس ، انجیلو میتھیوز (کولمبو کنگز) ، میں شامل ہیں۔ جبکہ ملنگا ، شاہد آفریدی ، کولن انگرام اور محمد عامر (گیل گلیڈی ایٹرز) میں شامل ہیں-

    سلمان خان کی نئی فلم رادھے کی شوٹنگ مکمل ،فلم کب ریلیز کی جائے گی؟

    سوشل میڈیا صارفین کا فہد مصطفیٰ کا چلبل پانڈے اور سمبا سے موازنہ کیوں؟

  • وہ کام جو انرجی اور طاقت فراہم کرتے ہیں   بقلم: عمر یوسف

    وہ کام جو انرجی اور طاقت فراہم کرتے ہیں بقلم: عمر یوسف

    عمر یوسف

    بچپن میں جب ہم رسالے پڑھتے تھے تو کئی طرح کے رسالے ہمیں ملتے تھے ان میں سے کچھ ہفتہ وار ہوتے تھے کچھ پندرہ دنوں بعد آتے تھے اور کچھ مہینے بعد آتے تھے ۔۔۔
    جب بھی رسالے ملنے کا دن آتا ہماری خوشی دیدنی ہوتی تھی ۔۔۔ عجیب سی خوشی و مسرت لیے ہم جھومتے رہتے تھے ۔۔۔ اور جب رسالہ ہاتھ میں آجاتا تو ہم جذباتی انداز میں یہ فیصلہ نہ کرپاتے تھے کہ کونسی کہانی پہلے شروع کی جائے ۔۔۔ سارے رسالے کے اوراق پہلے اچھی طرح دیکھتے پھر ان میں سے ایک کہانی منتخب کرکے پڑھنا شروع کردیتے ۔۔۔

    تصورات کی گاڑی میں سوار ہم تخیلاتی دنیا کے رنگا رنگ سفر کرتے ۔۔۔

    کبھی مزاح کی دنیا میں خوب ہنستے اور کبھی دکھوں کے شہر میں آنسو بہاتے ۔۔۔ کہانی ختم ہوتی تو ہم ایک نیا سبق لیے اٹھتے ۔۔۔

    مکمل کہانیاں جہاں تفریح فراہم کرتیں وہیں قسط وار کہانیوں تجسس پیدا کردیتی اور آئندہ کے رسالے کے لیے مزید بے چین کردیتیں ۔۔۔

    رسالہ ہمیں ایسی انرجی فراہم کرتا کہ اس کے بعد سارے کام آسان لگتے تھے ۔۔۔ اور کام کا بوجھ ہی محسوس نہ ہوتا تھا ۔۔۔

    جب کبھی اتوار کو دوستوں کے ساتھ کھیلنے جانا ہوتا تو ہر ہفتے کی یہ خوشی بھی دیدنی ہوتی تھی ۔۔۔ جس کے انتظار میں سارا ہفتہ خیالوں میں ہی گزرتا تھا ۔۔۔

    ٹی وی پر بچوں کے سیریل لگتے تو جس دن سیریل لگنا ہوتا اس دن بھی خوشی کا عجیب سماں ہوتا تھا ۔۔۔

    غرض ہمارے جتنے بھی پسندیدہ کام تھے اس کے انتظار میں بھی ایک طرح کی انرجی ہوتی اور اس کے حصول میں بھی بلا کا لطف اور فرح کا سامان ہوتا ۔۔ جس کے بعد میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ۔۔۔ نئی امنگ لیے نئے میدانوں میں بلا خوف و خطر کود جاتے ۔۔۔

    زندگی کے ایام گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان اپنے ان انرجی فراہم کرنے والے کاموں کو نظر انداز کرنا شروع کردیتا ہے ۔۔۔ صرف اور صرف مخصوص اور بیزار کن چیزوں پر توجہ دینا شروع کردیتا یے ۔۔۔ اکتاہٹ اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔۔۔ صلاحیتیں ماند پڑنا شروع ہوجاتی ہیں ۔۔۔ اور قوائے دلی مر جاتے ہیں ۔۔۔

    زندگی میں انسان کو کوئی نا کوئی ایسا کام ضرور رکھنا چاہیے جسے کرنے کے بعد اسے انرجی ملے ۔۔۔ اسے تفریح حاصل ہو ۔۔۔ اور کشادگی محسوس کرے ۔۔۔

    اگر آپ اپنے دلچسپ کاموں کو چھوڑ کر صرف ذمہ داریوں پر فوکس کیے ہوئے ہیں تو یقین جانیے ذمہ داری بھی احسن طریقے سے ادا نہ ہوگی ۔۔۔ بیسٹ رزلٹ دینے لیے کام میں دل لگی شرط ہے اور دل لگی تب میسر ہوتی ہے جب دل کو اس کی دلچسپیوں کی خوراک فراہم کی جائے ۔۔

    انسان کو دعا کرنی چاہیے کہ اللہ اسے وہ ایک کام دے دے جو اسے طاقت اور انرجی فراہم کرے ۔۔۔

  • نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم    بقلم: محمد نعیم شہزاد

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بقلم: محمد نعیم شہزاد

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
    محمد نعیم شہزاد

    درود اس پر (یہ) بزمِ ہستی سجائی جس نے
    یادِ باری قلبِ غافل میں بسائی جس نے

    راہ دکھلا کر بھٹکے ہوئے عدم کے راہی کو
    زندگی کیا ہے؟ کٹے کیسے؟ یہ بات سکھائی جس نے

    بے مثل وصف ہیں جس کے وہ ذات گرامی اس کی
    امت وسط کی ہر (اک) شان بڑھائی جس نے

    خُلق قرآں کا مجسم، صدق و صفا کا پیکر
    حسن دنیا کی وہ تمثیل دکھائی جس نے

    پر تبسم ہی رہے جھیل کے ہر ظلم و جفا
    وہ سراپائے رحمت کہ دعا دی جس نے

    ان کی الفت ہی ایماں کا پیمانہ ٹھہری
    زندگی مرضئ مالک پہ بیتائی جس نے

    کیوں نہ خائف ہو ابلیس اس کے چرچے پر
    اس کی تلبیس سے بچنے کی راہ سجھائی جس نے

    عین لازم ہے توقیر اس کی ہر کس و نا کس پر
    بندہ و آقا کی تفریق مٹائی جس نے

    اس کی ناموس پہ اک حرف نہ آنے دیں گےنہ
    بھلایا کسی بھی حال میں ہم کو جس نے

    امتی اس پہ فدا ہوں دل و جاں سے نعیم
    دہر سے نام مٹا دیں گے کی جسارت جس نے

  • حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

    حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

    کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کے حوالے سے پنجاب کی سب سے بڑی مارکیٹ حفیظ سینٹر کا جہاں بیشتر حصہ جل گیا اور اربوں کا نقصان ہوا وہیں ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کی کمزوریاں اور کوتاہیاں بھی کھل کر سامنےآئیں صبح پونے پانچ لگنے والی آگ رات میں کہیں جاکر بجھائی جاسکی.
    فائر برگیڈ کی اکثر گاڑیوں میں پانی ہی نہیں تھا ، اگر پانی تھا تو پائپ پھٹے ہوئے جس سے پانی کا پریشر ہی نہیں بن پا رہا تھا بیشتر گاڑیاں بےکار میں کھڑی تھیں اور ایک دو گاڑیاں آگے بجھانے میں مصروف تھیں.
    سب سے اہم چیز جو ٹیکنیکل غلطی تھی جو فائر فائٹنگ کے بنیادی اصولوں میں ہے کہ الیکٹرانک کی اشیا اور مارکیٹ کو لگی آگ کو پانی سے بجھایا جا رہا تھا. پہلی بات تو یہ کہ الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو پانی سے بجھانا ہی بےوقوفی ہے کیونکہ اس سے آگ بجھتی نہیں اور بڑھک اٹھتی ہے چیز مکمل بےکار ہوجاتی ہے.دوسری بات جو چیزیں آگے کی حد سے باہر ہیں پانی کی بوچھاڑ میں وہ سب بھی بےکار ہوگئیں.
    ہماری سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چیزوں اور اداروں کو اپڈیٹ کرنا ناممکن ہے یہاں پر البتہ کریڈٹ لینا سب کا من پسند مشغلہ ہے. گزشتہ دنوں میں موٹروے حادثہ میں بھی بجائے اس کے جائے وقوعہ پر پیٹرولنگ پولیس، ٹریفک پولیس کی عدم دستیابی پر بات ہوتی کریڈٹ لیا گیا کہ موٹروے ہم نے بنائی یہ وہ.
    ایسے ہی حفیظ سینٹر کے تقریباً مکمل جل جانے کے بعد بجھنے والی آگ پر مبارکبادیں دی جارہی ہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ ادارہ ہم نے بنایا …حالانکہ بات اس پر ہونی چاہیے کہ فائر برگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے دیگر ذرائع کیوں نہیں ہیں، گاڑیوں میں پانی کیوں نہیں ہے، گاڑیوں کے پائپ کیوں پھٹے ہوئے ہیں. الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو بجھانے کے متبادل ذرائع اور آلات کیوں نہیں ہیں.
    ہم نے وہاں کے دوکانداروں کو حفیظ سینٹر میں لگی آگ پر روتے دیکھا اور رونا بنتا بھی تھا کہ سالوں کی محنت آگ میں جل رہی تھی اور وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے لیکن اگر یہ یہ رونا حادثے سے قبل رو لیا جاتا تو نقصان اتنا نہ ہوتا. جن لوگوں نے حفیظ سینٹر کو وزٹ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں پر تاروں کے بچھے جال کس کیفیت میں، بجلی چوری کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں اور اس کے لیے لگائی گئی "کنڈیاں” بھی نظر آتی ہیں.
    سب سے بڑھ کر اتنے بڑے پلازے میں، فائر الارمنگ سسٹم، فائر اسٹنگشورز اور فائر فائٹنگ کے آلات بھی نصب نہیں ہیں اور اگر فائر اسٹنگشورز ہیں تو ان کی ری فلنگ کیے ہوئے برس ہا برس بیت چکے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ آپ کھیل تو سکتے مگر آگ پر قابو نہیں پاسکتے. یہ انجمن تاجران حفیظ سینٹرز اور مالکان حفیظ سینٹرز کے کرنے کے کام تھے.
    یہاں پر محکمہ تعمیرات اور بلڈنگز کی کاردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے کیا کر رہے ہیں.اتنے بڑے بڑے پلازوں میں حفاظتی اقدامات پر کیوں توجہ نہیں دی جاتی.

  • ایمان کی طاقت:جہاں آپ کا رزق لکھا ہو کو مل کر ہی رہے گا   بقلم:عمر یوسف

    ایمان کی طاقت:جہاں آپ کا رزق لکھا ہو کو مل کر ہی رہے گا بقلم:عمر یوسف

    ایمان کی طاقت

    عمر یوسف

    وہ میرے سامنا بیٹھا تھا ۔۔۔ ادارے میں اسے نکالے جانے کی چہ مگوئیاں ہورہی تھیں ۔۔۔ اسے وقتا فوقتا اس کے دوست بتاتے ۔۔۔ کہ آج تمہارے بارے میں یہ بات ہوئی ۔۔۔ آج یہ ہوا ۔۔۔ مختلف باتیں سن سن کر اسے یقین ہوگیا کہ وہ زیادہ دیر یہاں نہیں ٹھہرنے والا ۔۔۔ جاب چلی جانے کا غم ۔۔۔ عموما انسان کو اذیت و کرب میں مبتلاء کردیتا ہے ۔۔۔ اور انسان نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتا ۔۔۔ سوچ منتشر ہوجاتی ہے ۔۔۔ اور مستقبل کے خدشے آگھیرتے ہیں ۔۔۔ نئی جاب کیسے حاصل کی جائے یہ فکر بھی دامن گیر ہوتی ہے ۔۔۔ مختلف وسوسے جنم لیتے ہیں اور انسان کے چہرے سے رونق غائب ہوجاتی ہے ۔۔۔ اس کی کیفیت بھی ایسے ہی بنی ہوئی تھی ۔۔۔ میں خود پریشان تھا ۔۔۔ اور دعا گو تھا کہ معاملات زیادہ نہ بگڑیں ۔۔۔ وہ مجھ سے مخاطب ہوا ۔۔۔ اور پرعزم آواز کے ساتھ بولا ۔۔۔

    عمر صاحب ۔۔۔ میرا ایمان ہے کہ جہاں آپ کا رزق لکھا ہوا ۔۔۔ وہ آپ کو مل کر ہی رہے گا ۔۔۔ کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا ۔۔۔ اور جہاں سے نہیں ملنا وہاں سے کبھی نہیں ملے گا ۔۔ کسی کا باپ بھی نہیں لے کے دے سکتا ۔۔۔

    یہ الفاظ ادا کرنے کے بعد وہ پرسکون دکھائی دیا ۔۔۔ جیسے ہی اس کے ضمیر نے اس کے اندر موجود ایمانی طاقت کے ہونے کا احساس دلایا ۔۔۔ اس کے وساوس جاتے رہے ۔۔۔ ذہنی انتشار تھم گیا ۔۔۔ مستقبل کے خدشے اور فکریں دم توڑ گئیں ۔۔۔ خدا کے ہونے کے احساس نے اسے فرحت بخشی ۔۔۔ اللہ پر توکل نے اس چہرے کو ترو تازہ کردیا ۔۔۔

    بعد میں جو بھی حالات پیش آئے میرے سامنے تھے ۔۔۔ اس کے معاملات بگڑتے گئے اور بالآخر اسے مستعفی ہونا پڑا ۔۔۔ اپنے استعفی کو روکنے کے لیے اس نے کافی ہاتھ پاوں مارے لیکن بے سود تھے ۔۔۔ وہاں اس کا رزق نہیں تھا ۔۔۔ تو بڑے بڑے باپوں کی سفارش نہیں چلی ۔۔۔ لیکن چند ہی ہفتوں کے بعد اسے معمولی تگ و دو کے بعد پہلے سے بہتر جاب ملی ۔۔۔ اور تنگی کے بعد آسانی آگئی ۔۔۔

    یہ سب کچھ سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ بگڑے ہوئے معاملات تو بعد میں درست ہو ہی جاتے ہیں لیکن خدا پر عدم توکل کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو شروع میں بھی کافی ذہنی صدمے کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔۔۔ جو بلا شبہ انتہائی کربناک دورانیہ ہے ۔۔۔ لیکن خدا پر یقین کامل انسان کو اس ابتدائی صدمے سے بچاتے ہوئے حیات جاوداں بخشتا ہے ۔۔۔

    ایمان کی طاقت بقلم: عمر یوس

  • ایمان کی طاقت  بقلم: عمر یوسف

    ایمان کی طاقت بقلم: عمر یوسف

    ایمان کی طاقت
    عمر یوسف

    وہ زارو قطار آنسو بہاتے ہوئے اپنی داستان غم سنا رہی تھی ۔۔۔ اس کے الفاظ میں اتنا دکھ بھرا تھا کہ اردگرد کا سارا ماحول بھی غم میں ڈوب گیا ۔۔۔ پاس بیٹھے تمام لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔۔۔۔
    ماضی کی یادوں میں کھوئے ہوئے اس نے اپنے بھائی کو خوب یاد کیا ۔۔۔ اور یاد ماضی میں کھوئے ہوئے اس نے دل کی کیفیت بیان کرنا شروع کی ۔۔۔

    اس کا بھائی کالج میں پڑھنے والا طالب علم تھا ۔۔۔ ایک دن اچانک کمر میں درد شروع ہوئی تو معمولی درد سمجھتے ہوئے اس پر توجہ نہ دی گئی ۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ جب دکھ بڑھنا شروع ہوا تو چیک اپ کے لیے ہاسپٹل لے جایا گیا ۔۔۔ رپورٹ آئی تو سب کے اوسان خطا ہوگئے ۔۔۔ ان سب کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی یہ جان کر کہ اس نوجوان کو بلڈ کینسر تھا ۔۔۔ ڈاکٹرز نے کینسر کے سپیشل ہاسپٹل میں رہفر کیا ۔۔۔ دن بدن کمزوری بڑھتی گئی ۔۔۔ کینسر اس کے جسم کو یوں کھا رہا تھا جیسے سوکھی لکڑی کو آگ کھاتی ہے ۔۔۔

    ماں روز اپنے لعل کو دیکھ کر آنسو بہاتی اور اس کے ساتھ بندھی ہوئی امیدوں کو یاد کرکے روتی ۔۔۔۔ وہ تو اس کی شادی کے اپنے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ تو اس مان میں تھی کہ کب اپنے لعل کی منگنی کروں اس کی دلہن کے لہے کپڑے خریدوں ۔۔۔۔

    گھر کے صحن میں جواں سالہ بیٹے کو چلتے دیکھ کر باپ کا سینا فخر سے چوڑا ہوجاتا ۔۔۔ بہنیں اپنے گھبرو جوان بھائی کو دیکھتی تو یوں محسوس کرتیں کہ اس کے ہوتے ہوئے ہمارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔۔۔

    پھر آزمائش آئی اور مرض بڑھتا چلا گیا ۔۔۔ اور وہ وقت بھی آیا جب کینسر نے اپنا آخری حملہ کیا ۔۔۔ پہلے اس کے گردے فیل ہوئے ۔۔۔ پھر جگر نے کام کرنا شروع کیا ۔۔۔ آہستہ آہستہ حملہ دل کی طرف منتقل ہوا اور پھر دل نے دھڑکنا بند کردیا ۔۔۔ ایک کے بعد ایک ۔۔۔ جسم کے تمام اعضاء کام کرنا چھوڑ گئے ۔۔

    اور پھر ماں کی آنکھوں کا تارا غروب ہوگیا ۔۔۔ باپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک ختم ہوگئی اور جلن نے ڈھیرے ڈال دیے ۔۔۔ بہنیں جیسے بے یارو مددگار ہوگئیں ۔۔۔

    ماں دنیا و ما فیھا سے بے خبر بے سدھ پڑی صدمے کی حالت میں چلی گئی ۔۔۔ باپ کی کمر ٹوٹی اور چارپائی سے دوستی ہوگئی ۔۔۔ بہنیں دیواروں کے ساتھ لگی اپنے بھائی کے کیے گئے وعدے یاد کرتیں اور یوں لگتا جیسے دل ڈوب سا گیا ہے ۔۔۔

    اس دن میرے سامنے بیٹھے ہوئے اس نے کہا کہ جی کرتا ہے زور زور سے چلاوں دھارے مار مار کر بھائی کو واپس بلاوں ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد اب بھی جب اسے یاد کرتی ہوں تو پھر غم اسی شدت سے حملہ آور ہوتا ہے ۔۔۔
    اس کے کالج کے سامنے سے گزروں تو بے ہوش ہوجاتی ہوں ۔۔۔ مجبورا وہ شہر چھوڑنا پڑا ۔۔۔

    اب بھی جب غم کی شدت ہوجائے ۔۔۔ دل بے قابو ہوجائے ۔۔۔ اوسان خطا ہوجائیں ۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جائے ۔۔۔ تو پھر وہ اللہ یاد آتا ہے ۔۔۔ جسے یاد کرنے سے غم کی شدت ہلکی ہوجاتی ہے ۔۔۔ بے قابو دل قابو میں آجاتا ہے ۔۔۔ دل کو چین اور روح کو تسلی ملتی ہے ۔۔۔ آنکھوں کے سامنے چھایا اندھیرا روشنی میں بدلنا شروع ہوجاتا ۔۔۔

    پھر میں یہی کہتی ہوں کہ جو میرے اللہ کو منظور تھا وہی ہونا تھا ۔۔۔ اور یقینا ہم اس کی حکمتوں سے بے خبر ہیں ۔۔۔ وہ جو بھی ہمارے لیے کرتا ہے ۔۔۔ ہمارے فائدے کے لیے ہوتا ہے ۔۔۔ اے اللہ میں تجھ پہ راضی ہوئی ۔۔۔

    قارئین ایمان کی طاقت جتنا بندے کو سکون عطا کرتی ہے اتنا دنیا کے کسی بھی ماہر نفسیات کے پاس نہیں ۔۔۔
    اگر یہی مسئلہ کسی غیر مسلم کے ساتھ پیش آتا تو یقینا وہ کسی ماہر نفسیات کے کلینک کی زینت ہوتی ہے ۔۔۔

    اگر تم مسلمان ہو ۔۔۔ مومن ہو ۔۔۔ تو تم دنیا کی سب سے عظیم نعمت رکھتے ہو ۔۔۔

    اس نعمت کے حاصل ہونے پر لازم ہے کہ تم کہو الحمد للہ

  • ایک تیر سے دو شکار  بقلم:عمر یوسف

    ایک تیر سے دو شکار بقلم:عمر یوسف

    ایک تیر سے دو شکار

    عمر یوسف

    خیالات کتنی طاقت رکھتے ہیں ۔۔۔ اچھے ہوں تو زندگی اچھی بنا دیتے ہیں برے ہوں تو زندگی اجیرن کردیتے ہیں ۔۔۔ دماغ کا کام تو بس یہی ہے کہ وہ ہر وقت خیالات میں مگن رہے گا ۔۔۔ اس لیے انسان تو خیالات سے الگ ہو نئی سکتا ۔۔۔ ہاں ایک کام انسان کرسکتا ہے کہ وہ اپنے خیالات پہ قابو پالے ۔۔۔ جب دماغ قابو میں ہوتا ہے تو بندہ بادشاہوں جیسی زندگی گزارتا ہے ۔۔۔ خلیفہ متوکل باللہ کو اداس دیکھ کر وزیر فتح خاقان نے پوچھا ۔۔۔ حضور پریشان کیوں بیٹھے ہیں ۔۔۔ جبکہ آپ تو دنیا کہ خوش نصیب ترین انسان ہیں ۔۔۔ خلیفہ متوکل باللہ نے وزیر کو فورا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سے بہتر انسان تو وہ جو عام ہے اور معمولی زندگی بسر کرتا ہے ۔۔۔

    سوچ کا زاویہ غلط ہو تو بادشاہ بھی غلاموں جیسی زندگی گزارتا ہے ۔۔۔ خلیفہ کی زندگی سے خوب اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔۔۔

    جب دماغ میں خیالات کا طوفان بپا ہو ۔۔۔ اور منفی خیالات انسان کی کمر توڑ دیں تو نفسیات کے ماہر میڈیٹیشن یعنی مراقبہ کرنے کو کہتے ہیں ۔۔۔ مراقبہ میں انسان آنکھیں بند کرتا ہے اور صرف ایک نقطے پر سوچ کو مرکوز کرتے ہوئے لمبے لمبے سانس لیتا ہے ۔۔۔ یوں دماغ کئی طرفہ سوچنے کی بجائے ایک طرفہ سوچنے لگتا ہے اور ساری کی ساری منفیت غائب ہوجاتی ہے ۔۔۔۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ مراقبہ کے نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔۔۔ اور ڈپریشن کے مریض خوب اچھا محسوس کرتے ہیں ۔۔۔

    لیکن میں چاہتاہوں کہ آپ ایک تیر سے دو شکار کریں ۔۔۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ نماز سب سے بڑا مراقبہ ہے ۔۔۔ ایک مسلمان جب نماز پڑھ رہا ہو تو اس کی ساری کی ساری توجہ اس کے رب کی طرف ہوتی ہے ۔۔۔ وہ بس اپنے رب کو سوچتا ہے ۔۔۔ وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ اس کی طرف دیکھا جارہا ہے ۔۔۔ پھر اس کا خشوع و خضوع اور بڑھ جاتا ہے ۔۔۔ جب عذاب قبر یاد آتا ہے تو دنیاوی مصائب ہیچ نظر آنے لگتے ہیں ۔۔۔ حشر کے طویل اور پر مشقت منظر کو یاد کرکے اسے دنیا انتہائی حقیر معلوم ہوتی ہے ۔۔۔ دنیا کی حقیقت جان لینے کے بعد وہ انتہائی مطمئن ہوجاتا ہے ۔۔۔ اللہ سے دعائیں کرتے ہوئے اس کی امید بندھ جاتی ہے کہ اس کے سارے کام ٹھیک ہوجائیں گے ۔۔۔

    یوں جب نماز ختم ہوتی ہے تو منفیت کا طوفان تھم چکا ہوتا ہے ، بری سوچوں کے سیلاب کو جیسے روک دیا جاتا یے ۔۔۔ دماغ کے باغ سے خزاں رخصت ہوجاتا ہے اور بہار آجاتی ہے ۔۔۔ خوشبو سے معطر پھول لہلہانے لگتے ہیں اور انسان عمل کے میدان میں کودنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوجاتا ہے ۔۔۔

    یوں نماز جیسے عبادت نما مراقبے سے انسان نے ثواب بھی کما لیا اور مراقبہ بھی کرلیا ۔۔۔

    بلا شبہ اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں ۔۔۔

  • ضلعی صدر پی ٹی آئی و کوآرڈینیٹر وزیر داخلہ پیر سرور شاہ کی تباہ کن بولنگ جاری

    ضلعی صدر پی ٹی آئی و کوآرڈینیٹر وزیر داخلہ پیر سرور شاہ کی تباہ کن بولنگ جاری

    ننکانہ صاحب:(نمائندہ باغی ٹی وی عبدالرحمان)
    نمائندہ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جہاں اپوزیشن جماعت ٹاس جیت کرحکومت مخالف تحریک کی بیٹنگ کا آغاز کر چکی ہے۔وہی حکومت کے نوجوان باؤلر ضلعی صدر پی ٹی آئی و کوآرڈینیٹر وزیر داخلہ پیر سرور شاہ نے اپنی تباہ کن بولنگ کا آغاز کر دیا۔اپنےپہلے ہی سپیل میں نوجوان باؤلر نےحریف جماعت کے تین بیسٹ مین کو آؤٹ کر کے آپنے ڈگ آؤٹ کا حصہ بنا لیا۔پی ٹی آئی کے ڈگ آؤٹ کا حصہ بننے والوں میں
    منڈی فیض آباد سے ریاض بھٹہ،حاجی اشرف قاضیاور مغلاں والا سے محمد اکمل شامل ہیں۔
    اس موقع پر حکمران جماعت کی نمائندگی کرنے والوں میں پیر قیصر شاہ(چیرمین زکوٰۃ و عشر کمیٹی ننکانہ)،رائے فیصل محمود کھرل(صدرآئی ایس ایف ضلع ننکانہ),لیاقت سندھواور رائے عمر حیات تھے۔