Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بطخ کی ڈھولکی بجانے کی ویڈیو وائرل

    بطخ کی ڈھولکی بجانے کی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر بطخ کی ایک عجیب و غریب اور دلچسپ ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جسے دیکھ کر صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں-

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر آئے دن عجیب و غریب اور دلچسپ ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں جو دیکھنے والوں کو حیران کردیتی ہیں اور دیکھتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں جبکہ لوگ بھی ایسی دلچوپ ویڈیوز کو دیکھ کر خوب محفوظ ہوتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں-

    تاہم اب ایسی ہی سوشل میڈیا پر ایک بطخ کی دلچسپ ویڈیو وائل ہو رہی ہے جس میں بطخ ڈھولکی بجا ہی ہے-

    مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے ویڈیو شئیر کی ہے جس میں بطخ کو اپنے دونوں پاؤں کے ساتھ تیزی سے ڈھولکی بجاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے-


    ویڈیو میں ایک شخص نے بطخ کو ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے جبکہ نیچے ڈھولکی رکھی ہے بطخ اپنے دونوں پاؤں تیزی سے چلاتی ہے جو کہ ڈھولکی پر پڑتے ہیں جس کی وجہ سے ڈھولکی کی موسیقی کی آواز پیدا ہوتی ہے-

    جبکہ دیکھنے میں یہ ویڈیو کافی دلچسپ اور حیرت انگیز دکھائی دیتی ہے سوشل میڈیا پر اس دلچسپ ویڈیو کو صارفین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہا ہے-

  • میں جو سوچتا ہوں وہ تم ہی ہو  تحریر:ساحل توصیف

    میں جو سوچتا ہوں وہ تم ہی ہو تحریر:ساحل توصیف

    ایک نظم والد کی یاد میں
    قبر پر تمہاری
    میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا
    مجھے معلوم ہے
    تم زندہ ہو
    میرے دل میں
    میری آرزؤں میں
    میری یادوں میں
    تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اُڑائی
    وہ جھوٹا تھا
    وہ تم نہیں تھے
    کہیں کوئی سوکھا پتہ خزاں میں گِر گیا تھا
    میری آنکھیں تمہارے منظروں میں قید ہے
    تمہارے سپنے میرے اپنے سپنے تھے
    تم مر نہیں سکتے
    کیونکہ میں جو سوچتا ہوں
    وہ تم ہی ہو
    تمہارے ہاتھ میری اُنگلیوں میں سانس لیتے ہیں
    میں جب بھی لکھنے کی کوشش میں
    قلم ہاتھ میں لیتا ہوں
    تمہیں اپنے آگے پاتا ہوں
    میرے جگر میں جتنا بھی لہو ہے
    تیری یادوں میں آنکھوں سے برستا ہے
    میری یادوں میں تم ہو
    میرے درد میں چُھپ کر
    میری آواز میں چُھپ کر
    تمہارا ذہن رہتا ہے
    تیری قبر پر تمہارا نام جس نے بھی لکھا ہے
    وہ جھوٹا ہے
    کیونکہ وہاں تم نہیں
    میں دفن ہوں
    تم مجھ میں زندہ ہوں
    میری سانسوں میں
    میرے جزباتوں میں
    میری زندگی کی ہر ہر پل میں
    کبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے کے
    لئے آنا۔۔۔۔
    ساحل توصیف۔۔۔۔

  • امارات کا بڑھتا ہوا کردار  تحریر:عدنان عادل

    امارات کا بڑھتا ہوا کردار تحریر:عدنان عادل

    امارات کا بڑھتا ہوا کردار

    تحریر:عدنان عادل

    ایک کروڑ آبادی پر مشتمل اور سوا چار سو ارب ڈالرمجموعی دولت کا حامل ملک متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ کی ایک تیزی سے اُبھرتی ہوئی طاقت ہے جسکا علاقائی سیاست میں کردار بڑھتا جارہا ہے۔ حالیہ برسوں میں سعودی عرب کے ساتھ ساتھ امارات کا شاہی خاندان عرب دنیا میں امریکہ کے بڑے اتحادی اور کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ عرب عوام خواہ کچھ بھی سوچیں ‘ فلسطینیوں کو جو بھی نقصان ہو لیکن اسرائیل کو تسلیم کرکے امارات نے امریکہ کے حکمران طبقہ خاص طور سے انتہائی دولت مند اور سیاسی طور پر طاقتور یہودی لابی میں اپنی حیثیت کو مستحکم کرلیا ہے۔ تیرہ اگست مشرقِ وسطی اور عالمی سیاست میںایک تاریخی دن تھا جب متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت امارات نے صیہونی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ دونوں ملکوں نے متعدد شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون و اشتراک کرنے کا بھی اعلان کیا۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ کم سے کم دو دہائیوں سے کئی عرب ممالک بشمول متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے غیررسمی‘ خفیہ تعلقات چلتے آرہے ہیں۔ دونوں ممالک فوجی‘ سفارتی اور انٹیلی جنس اشتراک کے معاملات پر ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہے ہیں۔ دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملہ کے بعد ان تعلقات میں خاص طور سے اضافہ ہوا۔ جب امریکہ نے صدا م حسین کی حکومت کو گرادیا تو عراق میںاکثریتی مسلک کی آبادی کو حکومت بنانے کا موقع ملا۔ بغداد میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ لبنان میں ایران کی حمایت سے حزب اللہ تنظیم مزید مضبوط ہوگئی ۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی کردار سے عرب بادشاہوںکو تشویش لاحق ہوئی اور اسرائیل کو بھی ۔ اس مشترکہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کی غرض سے عرب ممالک اور اسرائیل میں قربت بڑھنے لگی۔یمن میں ایران کے حامی حوثی قبائل کی بغاوت اور عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا کے منصوبے عرب حکمرانوں کے لیے بڑی پریشانی کے عوامل ہیں۔ عرب حکمرانوں کے احساس عدم تحفظ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ آٹھ دس برسوں میں تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں کی تیل سے آمدن بھی ایک تہائی رہ گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کو معاشی سہولتیں دیکر قابو میںرکھنا بادشاہوںکے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے۔کئی عرب ملکوں میں حکمرانوں کامذہبی مسلک کچھ اور ہے جبکہ اُنکی آبادی کا بڑا حصہ کسی اور مسلک سے تعلق رکھتا ہے جسے طاقت کے زور پر دبا کر رکھاگیا ہے۔ عرب بادشاہ اپنے ملکوں میں بڑی‘ مضبوط فوج بھی نہیں رکھتے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ فوجی سربراہ انکا تختہ الٹ کر خود اقتدار نہ سنبھال لے۔ زیادہ تر عرب ممالک اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں جس کے بیشتر ملکوں میں فوجی اڈے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے دفاع میں طویل عرصہ تک پاکستان نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ متحدہ عرب امارات کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اسکی اپنی مقامی آبادی مجموعی آبادی کا صرف بارہ فیصد ہے۔باقی سب لوگ غیرملکی ہیں جو وہاں کام کاج کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ جنوبی ایشیا سے‘ تقریبا ساٹھ فیصد۔ صرف بھارت سے تعلق رکھنے والے افرادآبادی کا اڑتیس فیصد ہیں۔ ایرانی انقلاب کے بعد سے عرب شاہی خاندان اسرائیل سے زیادہ ایران کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیںاور اب ترکی کو بھی۔مشرق وسطیٰ کی علاقائی سیاست میںابوظہبی اورجدہ اتحادی ہیں جبکہ قطر کا ترکی کے ساتھ اتحاد و اشتراک ہے۔ ترکی میں کرد علیحدگی پسندوں کی ایک بڑی تحریک ہے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل دونوں اسکی حمایت کرتے ہیں۔ ترکی کے صدر طیب اردوان اور قطر کے حکمران نظریاتی طور پر اخوان المسلمین کے حامی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا شاہی خاندان اس تنظیم کے سخت خلاف ہے‘ اسے اپنا حریف سمجھتا ہے۔ دو ہزار سترہ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قطر پر پابندیاں عائد کرکے اسکی ناکہ بندی کردی تھی۔ خدشہ تھا کہ قطر کے شاہی خاندان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جائے گی لیکن ترکی نے اپنے ہزاروں فوجی قطر بھیج کر اس امکان کو ختم کردیا۔اسکے بدلہ میں دو ہزار اٹھارہ میں قطر نے طیب اردوان کی مدد کی۔ اس نے اردوان کو فوجی بغا ت کی سازش سے بروقت مطلع کردیا جسے ناکام بنادیا گیا۔انقرہ سمجھتا ہے کہ اس سازش کا مرکز متحدہ عرب امارات تھا۔ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات لیبیا میں حکومت کے باغی جنرل ہفتار کی حمایت اور مدد کررہے ہیں جبکہ ترکی اور قطر طرابلس میں قائم حکومت کی۔ جیسے ہی متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ‘ ترکی اور قطرکے وزرائے خارجہ بھاگم بھاگ طرابلس پہنچے جہاں انہوں نے لیبیا کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخظ کیے جسکے تحت ترکی اور قطر لیبیا میںاپنی فوجیں تعینات کرسکیں گے۔ متحدہ عرب امارات نے امریکہ کے بغل بچہ اسرائیل کوباقاعدہ تسلیم کرکے علاقائی سیاست میں اپنی پوزیشن اور مضبوط کرلی ہے۔اب اسے امریکہ سے جدید ترین فوجی اسلحہ ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ چونکہ سعودی شاہی خاندان کے اندر اقتدار کی رسہ کشی چل رہی ہے ‘ امریکہ کوعرب دنیا میںبڑے اتحادی کے طور پرسیاسی طور پر نسبتاًایک مستحکم ملک کی ضرورت تھی، جو اسے متحدہ عرب امارات کی صورت میں مل گیا۔ایران اور ترکی کی بڑھتی ہوئی طاقت کے سامنے بھی امریکہ بند باندھنا چاہتا ہے ۔امارات اور اسرائیل کا اتحاداس کے لیے مددگارثابت ہوگا۔حال ہی میں چین اور ایران کے درمیان طویل مدتی تعاون کا معاہدہ سامنے آیا جسکے تحت چین ایران میںچار سو ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس سے امریکہ کے خدشات میں اضافہ ہوگیا کہ کہیں مشرق وسطیٰ کا پورا علاقہ اسکے چنگل سے نہ نکل جائے۔ امارات اور اسرائیل کا اتحاد قائم کرکے امریکہ نے خطہ میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیل کی موساد اور امریکہ کی سی آئی اے ملکر علاقہ میں فائیو آئی جیساانٹیلی جنس مرکز بناسکیں گی جسکی مدد سے مشرق وسطی‘ ایران‘ پاکستان اور چین تک کے علاقہ پر نظر رکھی جاسکے گی اور ان ملکوں کی اہم معلومات اکٹھی کرنے میں مزید آسانی ہوگی۔ متحدہ عرب امارات اور ایران کو پینسٹھ میل چوڑا سمندر جدا کرتا ہے۔یُوں اب اسرائیل کے ماہر کارندے اور جدید ترین جاسوسی الیکٹرانک آلات ایران کے سر پہ ہوں گے-

  • مظلوموں کی پکار اور ہماری بے حسی از قلم ،، غنی محمود قصوری

    مظلوموں کی پکار اور ہماری بے حسی از قلم ،، غنی محمود قصوری

    گھڑی ہر وقت اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے اور ہمیں وقت بتلاتی رہتی ہے اور اس وقت کا پتہ تب ہی چلتا ہے جب ہم نظر گھڑی کی طرف دیکھیں آج ہم ہر کام گھڑی دیکھ کر کرتے ہیں دن ہو یا رات وقت دیکھنے کیلئے گھڑی کا سہارا لیا جاتا ہے آج دور حاضر میں روایتی گھڑیوں کے بجائے موبائل فون پر ہی وقت دیکھ لیا جاتا ہے کوئی جیئے یا مرے وقت نہیں رکتا اور نا ہی ہمیں وقت کا احساس ہوتا ہے زیادہ تر گھروں میں آج بھی وال کلاک کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ہلکا سا ٹک ٹک کا شور کرتا ہے مگر دن میں ہمیں اس شور کا احساس نہیں ہوتا مگر جو ہی رات ہوتی ہے اور خصوصا آدھی رات کو جب لوگ بستر پر لیٹ کر آرام کرتے ہیں تب گھڑی ہمیں ٹک ٹک کر کے اپنے وجود اور وقت گزرنے کا احساس دلاتی ہے حالانکہ وہی گھڑی سارا دن بھی ٹک ٹک کرتی ہے مگر ہم گھڑی کی ٹک ٹک سن نہیں سکتے ایسا اس لئے ہیں کہ ہم اس وقت اپنے کام کاج، دوستوں ,رشتہ داروں اور فیملی میں مگن ہوتے ہیں اور دن کو رات کی نسبت کافی شور ہوتا ہے اور یوں ہم گھڑی کی آواز نہیں سن پاتے رات کو
    ایسا ہی حال کچھ مظلومین کا ہے آج پوری دنیا میں عالم اسلام پر کشت و خون کا کھیل کھیلا جا رہا ہے مگر اس گھڑی کی آواز سننے سے قاصر ہم آج بھی اپنی ہستی اپنی مستی میں مگن ہیں ہمیں ان مظلوموں کی صدا کی پرواہ نہیں یہ صدائیں یہ دلدوز آئیں ہمارے پڑوس کشمیر سے بھی آ رہی ہیں اور یہ فلسطین سے بھی یہ شام سے بھی آ رہی ہیں اور افغانستان سے بھی مگر یہ ہمیں سنائی نہیں دے رہیں کیونکہ ہم خوشحال ہیں ہماری خوشحال اور امن و امانی ان صداؤں پر حاوی ہو چکی ہے مگر ہم بھول گئے وقت بدلتے دیر نہیں لگ وقت کبھی رکتا نہیں یہ تو چلتا ہی جاتا ہے آج ان پر برا وقت ہے تو خدانخواستہ کل کو ہم پر بھی یہ برا وقت آ سکتا ہے
    کیونکہ فرمان باری تعالی ہے
    "کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دینگے؟ ان سے پہلوں کو بھی ہم نے خوب آزمایا تھا یقینا اللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی جو معلوم کرلے گا جو کہ جھوٹے ہیں” العنکبوت1-2
    اس آیت مبارکہ سے اللہ تعالی نے واضع کر دیا کہ اللہ تعالی کسی کو بھی کسی بھی وقت کسی بھی ذرائع سے آزما سکتا ہے
    آج اللہ تعالی کشمیریوں،فلسطینوں،شامی اور افغانیوں پر کفار کو مسلط کر کے آزما رہا ہے جبکہ دوسری جانب اللہ تعالی ہمیں عیش و عشرت دیکھ کر آزما رہے تو ہمیں اللہ کے خوف سے ڈرنا چاہیئے کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    پھر ہم نے بدحالی کی جگہ خوش حالی کو بدل دیاحتیٰ کہ وہ خوب بڑھ گئے اورانہوں نے کہا: بلاشبہ دُکھ سکھ توہمارے باپ دادا کوبھی پہنچے تھے۔تو ہم نے اُن کواچانک اس حال میں پکڑلیاکہ وہ سوچتے نہ تھے
    سورہ الااعراف آیت 95
    اس آیت میں اللہ نے وضع کر دیا ہم پر کہ وقت بدلتے دیر نہیں وہ وہ مالک و ملک ہر چیز پر قادر ہے
    اس تندرستی و آزادی میں ہمیں ان مظلومین کی مشکلات کا پتہ نہیں کہ کیسے وہ بیچارے کافروں، ظالموں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور زندگی کے دن کیسے کاٹ رہے ہیں ہمیں ان کشمیری ,فلسطینی مظلوم و بے کس مسلمانوں کی تکالیف کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کبھی ہم خود قید میں جیل کی کوٹھری کے اندر پھنس جائیں حالانکہ ہم تو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی قید میں اپنے ہی کئے ہوئے جرم کی پاداش میں پس زندان ڈال دئیے جاتے ہیں مگر سوچیں کہ وہ بیچارے کافر کی گرفت میں مقید ہیں حالانکہ ان کا جرم ایمان یعنی مسلمان ہونا ہے صحت و ایمان ہوتے ہوئے بھی وہ بیچارے کس قدر بے بس ہیں اللہ نا کرے کل کو ہمارے اوپر ایسا وقت آجائے اور پھر ہمیں اس آزادی جیسی نعمت، کہ جس کو گھر کی ٹک ٹک کی طرح دنیا کی رنگینی نے ہمیں سمجھنے نہیں دیا ہم سے چھن جائے اور پھر ہمیں پچھتانا پڑے لہذا مظلومین کی آہ و فریاد کی اہمیت اور اپنی آزادی کی قدر جان لیجئے اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کا ہاتھ تھام لیجئے اور جس پلیٹ فارم پر بھی آپ ان کی آواز دنیا تک پہنچا سکتے ہیں پہنچائیے اور اپنے رب کو راضی کیجئے
    اگر آپ کشمیریوں،فلسطینوں،شامیوں و افغانیوں کی مالی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کیجئے اس ملک میں کئی این جی اوز ہیں جو آپ کے عطیات و صدقات ان تک پہنچاتی ہیں اور اگر آپ مالی طور پر مستحکم نہیں تو پھر ان مظلوموں کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھئیے

  • تذکرہ علماءاہلحدیث سندھ ،ڈاکٹرحافظ اکرم حسین علی پھل رحمةالله_عليه  تحریر: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    تذکرہ علماءاہلحدیث سندھ ،ڈاکٹرحافظ اکرم حسین علی پھل رحمةالله_عليه تحریر: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    تذکرہ علماءاہلحدیث سندھ

    ڈاکٹرحافظ اکرم حسین علی پھل رحمةالله_عليه

    جمع و ترتیب:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    ڈاکٹر حافظ اکرم حسین علی پھل حسین علی پھل کے گھر 1947 بمطابق 1367ھ دوسرے قول کے مطابق 1943 بمطابق 1363 کو گوٹھ ” حبیب جی وانڈھ ” میں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق خالص سندھی بولنے والے نسبتا غیرمعروف قبیلہ پھل سے ہے۔اس قبیلہ کے زیادہ تر افراد ضلع نوشہروفیروز اور ضلع خیرپور میں قیام پذیر ہیں۔
    تعلیم:-
    حافظ اکرم حسین صاحب کا گھر چوں کہ مدرسہ کے پڑوس میں تھا چنانچہ شعور کی عمر کو پہنچتے ہی قرآن مجید ناظرہ کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی اور ساتھ ساتھ گاؤں کے گورنمنٹ پرائمری اسکول سے سندھی اور مروجہ عصری تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی پرائمری میں جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ان کے نام ماسٹر محمد اسماعیل اور ماسٹر ابراہیم نمایاں ہیں۔
    حجاز کا پہلا سفر:-
    جب آپ کی عمر تقریبا آٹھ سال ہوئی تو آپ کے والد گرامی نے پورے خاندان کے ساتھ حجاز مقدس چلے جانے کا فیصلہ کیا آپ نے یہ سفر اپنے والد، والدہ، دادی، بھائی اور بہنوں کے ساتھ خشکی کے راستے طے کیا دیگر رفقاء کار جن میں حاجی یونس پھل اور حاجی اللہ بخش سومرو شامل تھے۔ یہ قافلہ سندھ سے بلوچستان ایران، عراق سے ہوتا ہوا سعودی عرب میں شمال کے راستے سے داخل ہوا آگے حجاز تک سفر میں بڑی صعوبتیں جھیلیں۔ کیونکہ سفر کا بہت سارا حصہ پیدل طے کرنا پڑا۔ راستے میں میں کئی مقامات پر پانی کی شدید کمی واقع ہوئی جس سے قافلہ میں موجود کئی افراد کی حالت غیر ہوگئی کچھ راستے میں ہی وفات پا گئے (انا للہ وانا الیہ راجعون )
    آخر کار یہ قافلہ حجاز مقدس میں داخل ہوا عمرہ کی ادائیگی کے بعد یہ قافلہ مدینہ پہنچا اور پھر آپ نے اپنے خاندان کے ساتھ تقریبا دو سال تک مدینہ منورہ میں قیام کیا۔ اس قیام میں آپ کے لیے سب سے زیادہ دکھ دینے والا واقعہ یہ پیش آیا کہ آپ نہ صرف والدہ محترمہ کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے بلکہ ساتھ ہی آپ کی دادی جان بھی اللہ کو پیاری ہو گئی ان دنوں مدینہ منورہ میں ہیضہ کی وبا پھوٹی جس میں یہ دونوں خواتین مبتلا ہوگئیں جبکہ ان ایام میں سعودی عرب میں علاج ومعالجہ کی خاطر خواہ سہولیات نہیں تھیں۔انتقال کے بعد ان دونوں خواتین کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا آپ کی پرورش کی ذمہ داری آپ کی بڑی بہن اور پھوپھی پر آگئی۔
    قیام مدینہ میں تعلیم:-
    حافظ اکرم حسین صاحب نے عربی زبان سے عدم واقفیت کے باوجود ان دو سالوں میں مدینہ منورہ کے متعدد مدارس کئی اساتذہ سے قرآن مجید اور عربی زبان کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔
    مدارس کے نام یہ ہیں:-
    مدرسة العلوم الشرعية
    مدرسة الشؤون لتحفيظ القرآن
    مدرسة تحفيظ القرآن لابى بن كعب
    ان مدارس میں جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ان کے نام یہ ہیں۔
    قاری عباس بخاری
    قاری عبد الواحد ہندی
    قاری محمد علی سندھی
    قاری قادرجان بخاری
    وطن واپسی:-
    تقریباً دو سال مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہنے کے بعد آپ کے والد نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ1373 ھ بمطابق 1953 میں یہ خاندان واپس وطن آگیا اس وقت آپ کی عمر تقریباً دس برس کے لگ بھگ تھی۔
    مدرسہ شمس العلوم میں داخلہ:-
    مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آپ نے مکمل قرآن مجید ناظرہ مع التجوید کی تعلیم ماہر اساتذہ سے مکمل کرنے کے بعد حفظ القرآن کا بھی آغاز کر دیا تھا۔ وطن واپسی کے بعد قرآن مجید کے حفظ کے لئے گاؤں کے معروف مدرسہ شمس العلوم میں باقاعدہ داخلہ لے لیا اور حافظ عبدالخالق سے تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ اور دو سال میں پندرہ پارے حفظ کرلیے لیکن اساتذہ کی بےجا سختی کی وجہ سے آپ نے پڑھائی میں دلچسپی کم کر دی جس پر آپ کے والد محترم نے خیرپور شہر کے مشہور مدرسہ تحفیظ القرآن کا انتخاب کرکے آپ کو یہاں داخل کروا دیا۔ اس مدرسہ میں آپ نے 1376ھ تا 1377ھ بمطابق 1956 تا 1958 قرآن مجید مکمل حفظ کرلیا اور گردان بھی نکال لی۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا تیرہ سال ہو چکی تھی۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ کے نام درج ذیل ہیں۔
    حافظ اللہ ڈنو منگریو، حافظ محمد، حافظ عبدالمجید۔
    جامعہ شمس العلوم کھرڑا میں داخلہ:-
    حافظ اکرم حسین صاحب حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد اپنے گاؤں واپس آگئے اور علوم عربیہ و فارسیہ کے حصول کے لیے اپنے آبائی گاؤں کے مدرسہ شمس العلوم عربیہ کھرڑا میں داخلہ لے لیا اور تقریبا دو سال 1379ھ بمطابق 1959 تک زیر تعلیم رہے۔ یہاں پر تعلیم کے دوران اپ کے ساتھیوں میں میں عین الحق قریشی اور معروف دیوبندی خطیب مولانا خادم حسین شر صاحب تھے۔ جب کہ آپ کے اساتذہ میں مولوی در محمد اور مولوی رشید احمد سومرو کے نام نمایاں ہیں۔کچھ سالوں بعد مولوی رشید احمد اس مدرسہ کے شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوگئے اور تاحیات اسی منصب پر رہے۔
    مدینہ منورہ میں قیام کا دور ثانی:-
    1960 تا 1989 بمطابق 26/8/1380 ہجری تا 18/02/1410 ہجری
    ترک وطن کا سبب:-
    حجاز مقدس میں دو سالہ قیام کے دوران آپ کی والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد وطن واپس آکر آپ کے والد نے اپنے قرابت داروں میں سے ایک خاتون "مسماۃ حواء” سے نکاح کیا لیکن اس سے نبھاہ نہ ہو سکا اور نوبت طلاق تک جاپہنچی۔ دونوں خاندانوں میں اختلاف اس حد تک بڑھ گئے کہ ناحق خون بہنے کا خدشہ لاحق ہو گیا آپ کے والد نے خاندان سمیت وطن چھوڑنے اور مدینہ منورہ میں مستقل سکونت کا فیصلہ کیا یہ سفر 1960 بمطابق 1380ھ میں ہوا۔ اس سفر میں آپ کے خاندان کے بہت سے افراد شامل تھے جو عازم سفر ہوئے۔
    تقریبا سترہ سال کی عمر میں آپ قافلہ سمیت سفر پر روانہ ہوئے یہ سفر بحری جہاز کے ذریعے طے ہوا۔ کراچی سے روانہ ہوکر بحرین کی بندر گاہ” منامہ” پر لنگر انداز ہوا پھر وہاں سے روانہ ہو کر سعودی عرب کی بندرگاہ "الخبر” میں لنگر انداز ہوا. کسٹم کاروائی کے بعد یہ قافلہ خشکی کے راستے حجاز مقدس کی طرف روانہ ہوا۔ ریگستانی علاقہ کا سفر ہونے کی بنا پر بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر یہ قافلہ 26/8/1380 کو مدینہ منورہ پہنچ گیا اور کچھ تگ و دو کے بعد تمام افراد اقامہ کے حصول میں کامیاب ہو گئے۔
    خاندان کا ذریعہ روزگار:-
    ان ایام میں مدینہ منورہ میں روزگار کے زیادہ مواقع نہ تھے۔ غربت عروج پر تھی شہری سہولتیں ناپید تھیں۔ چنانچہ بڑی جدوجہد کے بعد خاندان کے تمام افراد کو لیدر کے جوتوں کی سلائی کا کام مل گیا جس سے تمام افراد وابستہ ہوگئے۔ عورتیں مردوں کے اس کام میں ہاتھ بٹاتی تھیں۔ آپ بھی ابتدائی مہینوں میں اس کام سے منسلک رہے۔
    حصول علم کے لیے کوشش:-
    ڈاکٹر اکرم حسین صاحب مدینہ منورہ میں قیام کے دوران روز اول سے ہی حصول علم کے لیے مصروف ہوگئے اور 30 سال کے عرصہ میں ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم تک تمام مراحل کامیابی سے طے کیے۔
    تعلیمی مراحل
    الشهادة الابتدائية:-
    یہ سند آپ نے مدرسہ دارالعلوم السلفیہ سے 1383ھ بمطابق 1963 کو دو سال زیر تعلیم رہنے کے بعد حاصل کی۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ کرام کے نام درج ذیل ہیں۔
    الشیخ نور الدین آپ اس ادارے
    کے منتظم بھی تھے۔
    الشیخ الدکتور عبد القادر حبیب اللہ السندھی۔
    الشیخ محمد عطاء اللہ
    الشیخ محمد علی السلفی
    الشهادة المتوسطة:-
    یہ سند آپ نے مدینہ منورہ کے معروف دینی ادارے "مدرسہ دارالحدیث "میں تین سال تک زیر تعلیم رہنے کے بعد 1987_86 بمطابق 1967 کو حاصل کی۔ اس مدرسہ میں آپ کے ساتھ آپ کے والد گرامی حاجی حسین علی آپ کے سسر حاجی راوت پھل آپ کے بھائی حافظ محمد علی بھی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے مدرسہ دارالحدیث میں جن اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔
    الشیخ محمد عمر فلاتہ مدیر مدرسہ دار الحدیث ، مدرس جامعہ اسلامیہ، واعظ مسجد نبوی
    الشیخ عمار المطری
    الشیخ عمار الاخضر
    الشیخ محمد یوسف
    الشیخ محمد صدیق
    الشیخ عبدالکریم الزہرانی
    الشیخ علی تکرونی
    الشیخ محمد شریف اشرف
    الشیخ سیف الرحمن
    الشیخ علی سنان مدرس مدرسہ دارالحدیث حدیث و جامعہ اسلامیہ، واعظ مسجد نبوی شیخ عمار المختار بن ناصر الاخضری
    اس عرصہ میں آپ عظیم محدث الشیخ عبدالحق نزیل مکۃ المکرمہ کی صحبت میں رہے اور ان سے استفادہ کیا۔
    الشھادة المتوسطة کے بعد آپ نے تمام تعلیمی مراحل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں طے کیے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
    الشهادة الثانوية:-
    تین سال کی تعلیم کے بعد آپ نے 1392-92 ھ بمطابق 1971-72 میں الشهادة الثانوية حاصل کی۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا 28 سال تھی۔
    الشهادة الليانس:-
    ” گریجویشن”
    الشهادة الثانوية کے حصول کے بعد آپ نے ” کلیةالدعوہ و اصول الدین” کا انتخاب کیا۔ اور چار سال کی تعلیم کے بعد گریجویشن مکمل کی اور کلیہ کی طرف سے کامیابی کی سند 1395_96 ھ بمطابق 1975_ 76 میں حاصل کی۔ اس سند میں آپ کی تقدیر (گریڈ ) جیدجدا ہے۔
    شھادة الماجستیر:-
    جامعہ اسلامیہ سے کلیہ کی سند حاصل کرنے کے بعد بعد زیادہ تر طلبہ وطن واپس آ جاتے ہیں۔ چونکہ آپ کو حصول علم کا بے حد شوق تھا چنانچہ آپ نے پوسٹ گریجویشن کے لئے کوشش کی۔ آپ اس میں کامیاب ہوئے آپ کو ایم فل / ماجستیر میں داخلہ مل گیا۔ جس میں آپ نے اپنےمشرف فضیلۃ الشیخ اکرم ضیاء العمری کی زیر نگرانی مقالہ بنام "تاریخ یہود المدینہ” لکھا اور سند کے حصول کے لیے پیش کیا. آپ کو1980 میں "شہادة العالمیہ الماجستیر” کا حق دار قرار دیا گیا اس سند میں بھی آپ کا گریڈ جید جدا تھا۔ اس سند کے حصول کے وقت آپ کی عمر تقریبا 32 سال تھی۔
    شھادة الدکتورا ” پی ایچ ڈی”
    ڈاکٹر اکرم حسین صاحب کو علم کے مزید حصول کی تڑپ نے ماجستیر کی سند پر اتفاق نہ کرنے دیا بلکہ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور دنیا کی سب سے بڑی سند حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔اللہ رب العالمین نے فضل فرمایا۔اور آپ کو اس مرحلہ کے لیے اہل قرار دیا گیا پھر آپ نے دن رات محنت کی اور کبھی بھی سردی یا گرمی کی پرواہ نہ کی مسلسل پانچ سال تک جدوجہد جاری رکھی۔ ڈاکٹریٹ کی سند کے لیے آپ کے مقالے کا عنوان” الفوائد المستخرج علی صحیح مسلم بن حجاج لابی العباس السراج” تھا. اس مقالہ کے آپ کے مشرف فضیلۃ الشیخ اکرم ضیاءالعمری ہی تھے۔ مشرف نے آپ کا بھرپور ساتھ دیا اور ہدایات دینے کےلئے بارہا آپ کے گھر تشریف لائے۔ آپ نے مقالہ مکمل کرکے پیش کیا۔اکابر علماء کے روبرو پیش ہوئے۔کئی گھنٹوں پر محیط سوالات کے جوابات دیے۔ اور پھر اللہ کے فضل و احسان سے آپ کو اس مقالہ کی بنیاد پر ڈاکٹریٹ "دکتوراہ” کی سند دی گئی۔ جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا۔ یہ اعزاز نہ صرف آپ کی ذات تک محدود تھا بلکہ پورے خاندان، پھل قبیلہ اور صوبہ سندھ کے لئے اعزاز تھا کیونکہ آپ سے قبل صوبہ سندھ سے کسی نے بھی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے یہ سند حاصل نہیں کی تھی آپ نے 1986 بمطابق 1406/3/27ھ کو حاصل کی۔
    سند کا نام "العالمیہ العالیہ الدکتورا ہ” ہے اور اس سند میں آپ کا گریڈ ” مرتبة الشرف الثانيه” ہے.
    ذریعہ معاش:-
    ڈاکٹر اکرم حسین صاحب کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لینے کے بعد جامعہ کی طرف سے جو وظیفہ ملتا تھا وہ امور خانہ داری چلانے کے لیے ناکافی تھا۔ ایک حافظ قرآن اور طالب علم کے لئے سب سے بہترین مشغلہ امامت و تدریس ہوتا ہے چنانچہ یہ دونوں کام سرانجام دیئے جس سے آپ کو مناسب رقم مل جاتی اور گھر کا نظام اچھے طریقے سے چل جاتا۔
    قبولیت مسلک اہل حدیث:-
    بچپن سے والدین کی تربیت اور متعدد دیوبندی مدارس میں زیر تعلیم رہنے کے بعد آپ جوانی میں ایک سخت گیر حنفی عالم تھے ہر محاذ پر حنفی مسلک کا دفاع کیا کرتے تھے۔ شادی کے بعد جب والد کے زیر سایہ رہنے سے الگ ہو گئے تو آپ کا تعلق دو بزرگ اہل حدیث شخصیات سے ہوا محترم فضیلتہ الشیخ حبیب اللہ موروجو آف دریاخان مری اور فضیلت الشیخ عبدالرحمن خاصخیلی آف ماتلی ان دونوں شخصیات سے تعلق کے بعد اکثر ان سے مسائل پر بحث و مباحثہ چلتا رہتا تھا۔ کئی دفعہ دلائل کے سامنے آپ لاجواب ہو جایا کرتے تھے۔ پھر جامعہ اسلامیہ میں داخلہ کے بعد آپ کا تعلق کئی سلفی اساتذہ کرام سے رہا آخر کار ان بزرگوں کی محنت رنگ لے آئی اور آپ نے اللہ کے فضل و کرم سے مسلک اہلحدیث اختیار کرلیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب آپ یہ "کلیة الدعوہ و اصول الدین” میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ آپ کے ساتھ آپ کی اہلیہ اور سسر نے بھی مسلک اہل حدیث اختیار کر لیا۔ جب آپ کے والد گرامی کو علم ہوا تو وہ آپ سے قدرے ناراض ہوئے اور بالخصوص مذکورہ بالا بزرگوں سے سخت غصہ کا اظہار کیا کرتے تھے۔
    اساتذہ کرام:-
    فضیلۃ الشیخ اکرم ضیاءالعمری رئیس قسم الدراسات العلیا، فضیلۃ الشیخ د/ عبد اللہ بن محمد الغنیمان، د/ صالح بن عبدالمحیسن نائب رئیس الجامعہ سابقا، د/ عبد المحسن بن حمد العباد، د/ امان بن علی الجامی, د/ محمد امین ۔ مصر رئیس قسم الدراسات العلیا سابقا، د/ عبدالعظیم الفیاض مصری, د/ رمضان ابوالعز، د/ محمود میری, د/ محمود الطحان, الشیخ عبدالسلام کیلانی، الشیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ، د/ محمد المجزوم، د/ محمد الامین محمد بن المختار الشنقیطی، د/ ربیع بن الھادی المدخلی، د/ حماد بن محمد الانصاری, د/ السید الحکیم مصری، د/ محمد الفائت مصری، د/ ابو زہرہ المصری، د/ علی بن محمد ناصر الفقیھی، الشیخ علی مشرف، الشیخ ابراہیم سقا، د/ عبدالصمد ملیباری، الشیخ د/ احمد عبداللہ ھاشم مصری، الشیخ د/ علی بن محمد سنان،الشیخ سعدالدین ملیباری، الشیخ محمد شریف الزئیق، الشیخ المتولی المصری،الشیخ عبدالکریم مراد، الشیخ عبدالرحیم ہندی۔
    اساتذہ مسجد نبوی شریف:-
    الشیخ عبد اللہ بن احمد خربوش الامام فی المسجد النبوی، الشیخ عمر محمد فلاتہ، الشیخ محمد امین شنقیطی، الشیخ عطیہ محمد سالم، الشیخ عبدالقادر شیبۃ الحمد، الشیخ ابو بکر جابر الجزائری، الشیخ عبدالمحسن العباد، سماحة الوالد الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز, الشیخ ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی سندھی۔
    تدریسی و تبلیغی خدمات:-
    مدرسہ دارالعلوم السلفیہ اور مدرسہ دار الحدیث الخیریۃ کے تعلیمی دورانیے میں آپ نے قرآن مجید حفظ و ناظرہ کی تدریس کا آغاز کیا۔ آغاز میں آپ نے شام کے اوقات میں مدرسہ دارالعلوم السلفیہ میں ہی تدریس کا آغازکیا۔ کچھ سال اس ادارے میں خدمات سرانجام دینے کے بعد مسجد نبوی کے صحن میں کلاس لگائی اور پھر کئی سال تک یہاں یہاں پر پڑھاتے رہے۔ بچوں کے والدین کی طرف سے کچھ معاوضہ مل جاتا جس سے آپ کے گھر کا گذر بسر چلتا تھا۔ اس دورانیے میں آپ سے متعدد طلبہ نے تعلیم حاصل کی جن میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں:-
    د/ محمد عمر فلاتہ مدرس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، د/عبدالرحمن عمر فلاتہ مدرس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، الشیخ عبدالرب فیض اللہ مدرس دار الحدیث الخیریۃ مکہ مکرمہ، د/ عبدالرب نواب الدین مدرس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، ابراہیم العجلانی مدرسہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، قاری عبدالظاہر محمد شریف اشرف فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، محمد طاہر محمد شریف اشرف فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، ھارون محمد شریف اشرف فاضل جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، داؤد محمد شریف اشرف, عبداللہ الیمانی ماجستیر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، حسن بکر سندھی، مختار بن عمار الاخضری۔
    مدرسہ دار الحدیث الخیریۃ کو خیرآباد کہنا:-
    مدرسہ دار الحدیث الخیریۃ میں دوران تعلیم آپ کا اور آپ کے خاندان کے دیگر افراد کا اقامہ ایک سعودی کفیل کے نام تھا وہ بھی تجدید اقامہ کے عوض کچھ رقم کا تقاضا کیا کرتا تھا۔ باقی افراد مجبوری کی حالت میں ادا کر دیتے تھے لیکن آپ کو اس غیر قانونی و غیر شرعی عمل سے بڑی کوفت ہوتی تھی۔ چنانچہ آپ نے مذکورہ ناجائز رقم ادا نہ کرنے اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے مدرسہ دارالحدیث کو خیر آباد کہنے اور جامعہ اسلامیہ میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ان دنوں جامعہ اسلامیہ میں میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبہ کے لئے داخلہ کی دیگر شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ جامعہ اسلامیہ کے نام کا اقامہ بنائیں۔ اور داخلہ کے لئے اپنے آبائی وطن آنے کی شرط لاگو تھی۔ ان شرائط کی تکمیل کے لیے آپ کو مجبوراً مختصر عرصہ کے لئے آبائی وطن پاکستان آنا پڑا اور دو مہینوں کے بعد آپ دوبارہ جامعہ اسلامیہ کی کفالت میں میں مدینہ منورہ روانہ ہوگئے۔
    جامعہ اسلامیہ میں داخلہ کے لیے روانگی اور واپسی:-
    ڈاکٹر اکرم حسین صاحب 1389/7/12ھ کو آبائی وطن پاکستان کے لئے روانہ ہوئے۔1389/9/5ھ کو تقریبا پچیس سال کی عمر میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے مزید تعلیم کے حصول کے لیے داخل ہوئے اور پھر بفضل اللہ تمام تعلیمی مراحل مکمل کیے۔
    پاکستان کے اس دورے میں آپ کے دوست و احباب اور عزیزواقارب نے آپ سے بے پناہ محبت کا اظہار کیا۔ سب کی طرف سے دعوتوں کا اہتمام کیا گیا۔ خوب خاطر تواضع ہوئی۔ اس وقت تک آپ دیوبندی حنفی مسلک سے وابستہ تھے اس کا خوب پرچار کرتے رہے اور اس کے دفاع میں تقریریں کیں مولانا عبد الحمید پھل رحمہ اللہ ان دنوں پورے علاقے میں واحد اہل حدیث شخصیت تھے۔ چنانچہ ان سے بھی بڑا بحث و مباحثہ چلتا رہا الغرض یہ دورہ مکمل کر کے دو ماہ بعد دوبارہ مدینہ منورہ کیلئے روانہ ہو گئے۔
    تبلیغی و تدریسی خدمات:-
    جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ملنے کے بعد اللہ تعالی نے ڈاکٹر اکرم حسین پر اپنا خاص کرم کیا اور مسجد نبوی کے قریب محلہ باب التمار میں مسجد عبدالعزیز الرشید میں نائب امام کا منصب آپ کو مل گیا۔ اس مسجد کے امام فضیلۃ الشیخ عمر الجلعود تھے ان کا گھر مسجد سے کافی دور تھا جس کی وجہ سے سب نمازوں کے لئے آنا ان کے لئے مشکل کام تھا۔ چنانچہ انہوں نے آپ کو نائب امام مقرر کیا۔ شروع میں آپ کا گھر محلہ الاجابہ میں مسجد الاجابہ کے قریب تھا اور مسجد سے ڈیڑھ کلو میٹر دور تھا اس کے باوجود آپ تمام نمازوں کے لئے وقت سے قبل ہی پہنچ جایا کرتے تھے خود اذان دیتے اور خود ہی امامت کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ فجر کی نماز کے لیے آپ کی روٹین یہ تھی کہ آپ اذان سے دوگھنٹے پہلے اٹھ جایا کرتے نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد گھر کے لیے پانی بھرتے اور پھر نماز فجر کی ادائیگی کے لیے چلے جاتے۔ آپ پابندی کے ساتھ مسجد جایا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ایک نماز بھی جماعت سے فوت نہیں ہوتی تھی۔اس مسجد میں آپ صرف امامت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ شام کے وقت قرب و جوار کے بچوں کو قرآن مجید حفظ و ناظرہ کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ آپ کے بڑے صاحبزادے مولانا حافظ خالد اکرم مدنی صاحب نے بھی آپ کے پاس اسی مسجد میں بیٹھ کر قرآن مجید حفظ کیا۔ کئی علماء و مشائخ کی رہائش اس مسجد کے بالکل قریب تھی۔ چنانچہ ان کے بچے بھی آپ کے پاس حفظ کیا کرتے تھے۔ جن طلبہ نے آپ سے "مسجد عبدالعزیز الرشید” اور "مسجد الامیرہ منیرہ” میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی ان کے نام درج ذیل ہیں:-
    احمد محمد امان بن علی الجامی، عبدالسلام محمد امان بن علی الجامی، عمر بن محمد امان بن علی الجامی، عبدالکریم بن محمد الزھرانی،محمد بن د/ عبدالرحمن صالح محی الدین، عبداللہ بن د/عبدالرحمن صالح محی الدین، احمد سومار سندھی ، حمد بن دکتور عبد القادر حبیب اللہ سندھی، محمود بن د/ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی, ولید محمد الجربوع، یاسر محمد الجربوع، عبداللہ بن عبداللطیف الحناکیہ، عبد الملک بن عبد الرحمان
    رمضان المبارک میں بالخصوص نماز عصر کے بعد بڑے اہتمام سے درس ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ زیادہ تر حدیث کی کتاب ریاض الصالحین سے وعظ فرماتے تھے۔ اور پھر نماز عشاء کے بعد نماز تراویح پڑھایا کرتے تھے۔ نماز تراویح پڑھانے کے بعد مسجد نبوی جا کر وہاں کے امام کی اقتدا میں تراویح پڑھا کرتے تھے۔ تقریبا 1404ھ تک اسی مسجد میں خدمات سر انجام دیتے رہے اور اس کے اس کے قریب ایک اور مسجد بنام "الامیرہ منیرہ” میں پانچ سال تک یہی فرائض سرانجام دیتے رہے. اس مسجد میں آپ فضیلت د/ عبدالرحمن صالح محی الدین کی نیابت میں خدمات سرانجام دیا کرتے تھے۔ اس مسجد میں بھی قرآن مجید کی تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور مدینہ منورہ چھوڑنے تک آپ اسی سے وابستہ رہے۔
    بڑا اعزاز:-
    مسجد عبدالعزیز الرشید میں آپ کو ایک بڑا اعزاز یہ حاصل ہوا کہ مفتی اعظم سعودی عرب فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن باز (رحمہ اللہ) کی مدینہ منورہ میں رہائش اس مسجد کے بالکل قریب تھی چنانچہ جب بھی آپ کو کسی کام سے مدینہ منورہ آنا ہوتا تو وہ اس مسجد میں آپ کی اقتدا میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔
    آپ نے یہ واقعہ اپنے بیٹے مولانا خالد اکرم پھل صاحب کو بڑی مسرت کے ساتھ سنایا کہ ایک موقع پر آپ کو کسی کام کی غرض سے شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمۃ اللہ علیہ اور فضیلۃ الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ رحمت اللہ علیہ کی معیت میں طائف جانا پڑا۔ یہ دونوں مشائخ آپ کے استاد تھے اور وقت کے بڑے امام تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو تینوں نے باجماعت نماز ادا کی اور دونوں مشائخ نے اپنے امامت کے لئے آپ کو آگے کیا اور دونوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ اسی طرح سے آپ جب محلہ الاجابہ میں مقیم تھے آپ کے پڑوس میں فضیلت الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی بھی بمع اہل وعیال رہائش پذیر تھے ان کے پاس گاہے بگائے شیخ العرب والعجم تشریف لایا کرتے تھے اور جتنے دن مدینہ منورہ میں قیام فرماتے تو اسی مکان میں رہتے تھے۔ آپ دونوں مشائخ کی مجلس میں حاضر ہوتے اور ان کے علوم و معارف سے استفادہ کرتے۔
    آبائی علاقہ میں دینی خدمات:-
    مسلک اہل حدیث اختیار کرنے کے بعد ڈاکٹر اکرام حسین صاحب کو کی فکر لاحق ہوئی کہ حق کا پیغام کس طرح سے اپنی قوم، برادری اور اہل علاقہ تک پہنچایا جائے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے بذریعہ خط و کتابت حضرت مولانا عبد الحمید پھل رحمۃ اللہ علیہ سے رابطہ کیا اور انہیں بڑے ادارے کی تعمیر کے لئے آمادہ کیا۔ حسن اتفاق سے اس قسم کی تڑپ مولانا عبدالحمید پھل صاحب کے دل میں بھی موجود تھی۔ عدم وسائل کی وجہ سے وہ بھی خاموش تھے۔ آپ کی ترغیب سے انہوں نے کوششیں شروع کر دیں جس کے نتیجے میں ان کے چچا تقی محمد نے گوٹھ” حبیب جی وانڈھ” سے متصل مہران نیشنل ہائی وے پر تقریبا ڈیڑھ ایکڑ زمین اس مقصد کے لیے مولانا عبدالحمید کے سپرد کر دی۔ زمین کا بندوبست ہونے کے بعد دونوں بزرگوں کا برابر رابطہ جاری رہا۔ اور اتفاق رائے سے پہلے مدرسہ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ مدرسہ کا نام "مدرسہ اتباع القرآن والحدیث” رکھا گیا تعمیرات کے لئے چوں کہ بھاری رقوم درکار تھیں۔ چنانچہ آپ نے نہ صرف ذاتی رقم سے تعاون فرمایا بلکہ اپنے تمام دوست و احباب کو مطلع فرمایا اور ان سے تعاون کی درخواست کی۔ جن احباب کے تعاون سے مدرسہ کا تعمیراتی کام پایہ تکمیل کو پہنچا ان کے نام درج ذیل ہیں ہیں۔
    الشیخ عبدالغفور الہندی رحمہ اللہ، الشیخ عبدالرحمن خاصخیلی رحمہ اللہ، شیخ حبیب اللہ موروجو، الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی رحمت اللہ علیہ، ڈاکٹر امیر بخش چنا حفظہ اللہ،
    مدرسہ کی تعمیر کے بعد ایک بڑی جامع مسجد بھی ان اصحاب خیر کے تعاون سے تعمیر کی گئی۔
    مولانا عبدالحمید صاحب صاحب کی نگرانی میں تعلیم و تربیت کا عمل شروع کیا گیا۔ حفظ ناظرہ کی تعلیم کے لئے مدرس کس تقرر کیا گیا۔ اور خود مولانا صاحب نے علوم فارسیہ و عربیہ کا آغاز کیا اور اس ادارے سے کئی طلبہ فیضیاب ہوئے۔ جن میں سے سرفہرست درج ذیل ہیں۔
    ماسٹر محمد اسماعیل پھل، مولانا قادر بخش پھل، اللہ ورایو پھل
    علاقہ میں مسلک اہل حدیث کو متعارف کروانے میں ادارے نے اہم کردار ادا کیا گوٹھ حبیب جی وانڈ کے کثیر تعداد میں لوگوں نے مسلک اہل حدیث قبول کیا۔ اس وقت اس گاؤں میں اہل حدیث کی چار مساجد ہیں۔
    مدرسہ کی تعمیر ثانی:-
    وقت گزرنے کے ساتھ کمرے پرانے اور بوسیدہ ہو گئے۔ سندھ کے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا افتخار احمد الازہری صاحب حفظہ اللہ شیخ الحدیث جامعہ بحرالعلوم السلفیہ میرپورخاص نے مدرسہ کی نئی عمارت تعمیر کروا دی ہے۔جزاہ اللہ خیرا۔
    دیار حبیب میں رہنے کی خواہش اور پھر وطن واپسی:-
    1986 بمطابق 1406ھ میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے دکتورہ مکمل کرنے کے بعد اور مدینہ منورہ میں تقریبا پچیس سال بمع اہل و عیال قیام کے بعد آپ کی شدید خواہش تھی کہ آپ بمع اہل و عیال دیار حبیب مدینہ منورہ میں رہیں آپ اپنی لئے کوشش کرتے رہے آپ نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے تین سال تک کوشش کرتے رہے۔اپ نے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے سفارش بھی کروائی اور الشیخ عبدالقادر حبیب اللہ نے بھی کوشش کی کہ ان کی کفالت میں آپ کو کسی طرح سے ویزا مل جائے اس دوران آپ مالی طور طور پر بھی پریشان رہے جامعہ اسلامیہ سے ملنے والا وظیفہ بھی بند ہوگیا تھا اور مسجد الا میرہ منیرہ میں امامت سے معمولی وظیفہ ملتا تھا جس سے بمشکل گزر بسر ہوتی تھی آپ کی اہلیہ اور بیٹیاں گھر میں سلائی کڑھائی کرکے آپ کا سہارا بنیں اور گھر کے اخراجات میں آپ کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔اپ نہ چاہتے ہوئے شکستہ دل کے ساتھ پاکستان جانے کی تیاری کرنے لگے جامعہ اسلامیہ کی طرف سے آپ کو اپنے لیے اور اہلیہ کے لیے ہوائی جہاز کے ذریعے مفت سفر کی پیشکش ہوئی لیکن آپ کو سب سے زیادہ فکر کر اپنی لائبریری کی تھی کہ کسی بھی طرح سے جمع کردہ تمام کتب ساتھ لائی جائیں بھائی اس مقصد کے لیے آپ نے بمع اہل و عیال بذریعہ بحری جہاز سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ کی معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ آخری بحری جہاز بنام نام سفینہ عرب چند دنوں میں جدہ سے کراچی روانہ ہونے والا ہے۔ آپ نے بچوں سمیت اس کے ٹکٹ حاصل کرلئے۔ پھر کتابوں سمیت سامان کی پیکنگ مکمل کرنے کے بعد تمام احباب اور عزیز و اقارب سے الوداعی ملاقات کے بعد آنسو بہاتے ہوئے مدینة الرسول کو اللہ حافظ کہہ کر مکہ مکرمہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوگئے۔اس سفر میں جدہ تک چھوڑنے کے لیے آپ کا بھانجا حاجی محمد خان بھی بمع اہل و عیال آپ کے ساتھ تھا۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد آپ جدہ کے لئے روانہ ہوگئے کتب اور سامان کی ترسیل کے بعد آپ نے اپنے بھانجے کو الوداع کیا اور تڑپتے دل کے ساتھ ‘سفینہ عرب "میں سوار ہو کر 1789/9/18 بمطابق 1410/02/18ھ کو وطن واپس جانے کے لیے روانہ ہوگئے۔
    مسلسل سات دن کے سفر کے بعد جہاز کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا آپ کے استقبال کے لئے آپ کے عزیز و اقارب بڑی تعداد میں موجود تھے تمام عزیز و اقارب بڑے خوش دکھائی دے رہے تھے البتہ آپ خود مدینہ منورہ چھوڑنے پر غمزدہ تھے۔ کسٹم اور امیگریشن کی تمام کارروائی کے بعد آپ نے سامان میں سے کتابیں اور بعض چیزیں ٹنڈو غلام علی گوٹھ مولوی سلطان احمد کی طرف بھیجی ہوئی گاڑی میں روانہ کر دیں۔ کیونکہ شیخ عبدالقادر حبیب اللہ صاحب نے آپ کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ آپ ٹنڈو غلام علی جا کر وہاں مدرسہ میں تدریس کے فرائض سرانجام دیں۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی طرف سے آپ کو وہیں مبعوث کیے جانے کی نوید سنائی جس کے لیے انہوں نے کوششیں بھی کیں۔
    باقی سامان اپنے ساتھ لے کر اپنے ننھیالی گاؤں گوٹھ حبیب جی وانڈھ بذریعہ بس پہنچے۔ گاؤں پہنچنے پر آپ کے عزیز و اقارب نے آپ کا بڑا والہانہ استقبال کیا پھر آپ جب تک گوٹھ میں رہے لوگ مسلسل آپ سے ملاقات کے لیے آتے رہے آپ ہمیشہ ان ملاقاتوں کو غنیمت جانتے ہوئے دین کی تبلیغ کرتے اور قرآن وحدیث پر مشتمل مسائل بیان کرتے ہیں آپ کے والد صاحب نے آپ کی آمد سے قبل ہی آپ کے لیے اوطاق ( بیٹھک ) کے برابر ایک کمرے کا مکان تیار کروا رکھا تھا جہاں پر آپ نے تقریباً آٹھ ماہ قیام کیا۔
    آپ نے گوٹھ میں میں آٹھ ماہ قیام کے دوران روزانہ نماز فجر کے بعد جامع مسجد میں تقریبا ایک گھنٹہ درس قرآن ارشاد فرماتے جس میں گوٹھ کے افراد بڑے ذوق وشوق سے حاضر ہوتے۔ آپ دروس میں قرآن و حدیث سے نصیحت آموز واقعات بیان کرتے آپ کا بیان سندھی زبان میں بڑا سادہ اور پر تاثیر ہوتا۔
    ان ایام میں مسجد میں کوئی بھی امام مسجد مقرر نہ تھا آپ نے فوری طور پر مولانا قادر بخش جو کہ اہل حدیث تھے انہیں مسجد کا امام مقرر کیا اور وہ کئی سال تک اس مسجد میں خدمت سرانجام دیتے رہے۔ امام مسجد کا وظیفہ ڈاکٹر اکرم حسین مدنی صاحب اپنی جیب سے دیتے تھے تھے۔
    مدرسہ اتباع القرآن و الحدیث میں ان ایام میں حافظ محمد دین شر صاحب تدریس کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ کسی وجہ سے وہ چھوڑ کر چلے گئے تو ڈاکٹر اکرم حسین صاحب نے اپنے بڑے صاحبزادے محترم حافظ خالد اکرم صاحب کو طلبہ کو تعلیم دینے پر مامور کر دیا اس وقت ان کی عمر 15 سال تھی۔ آپ ہر ماہ طلباء کا امتحان لیتے اور تمام طلباء کو انعامات سے نوازتے اور حافظ خالد اکرم صاحب کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے جس کے نتیجہ میں مدرسہ میں طلبہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا۔
    ٹنڈو غلام علی آمد:-
    گوٹھ میں آمد اور عزیزواقارب سے ملاقاتوں کے بعد آپ مدرسہ محمدیہ گوٹھ مولوی سلطان احمد تحصیل ٹنڈو غلام علی ضلع بدین مدرسہ دیکھنے کے لیے تشریف لےگئے۔ مدینہ سے آنے سے قبل ہی شیخ عبدالقادر حبیب اللہ سندھی صاحب نے اس مدرسہ میں تدریس کے لئے آپ کو آمادہ کیا تھا۔ آپ نے کراچی سے ہی اپنی کتب یہاں بھیج دی تھیں۔ یہاں پہنچ کر مولوی سلطان احمد صاحب سے ملے اور ان سے فیملی کے لئے مکان کی تعمیر پر بات چیت ہوئی۔ ادارے کا جائزہ لیا اور تدریسی ماحول دے کر مطمئن دکھائی دیے۔اور مکان کی تکمیل کے بعد بعد بچوں سمیت آنے کا مصم عزم کرلیا۔ لیکن واپس گوٹھ پہنچنے کے کچھ ہی دنوں بعد آپ کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے خط موصول ہوا کہ آپ کو اس ادارے میں مبعوث نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا معادلہ جامعہ اسلامیہ کے ساتھ نہیں ہے البتہ اس کے بجائے آپ کو چار بڑے اداروں کا اختیار دیا گیا۔ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی
    الجامعۃ السلفیہ فیصل آباد الجامعۃالاثریہ پشاور
    اور جامعہ الاثریہ جہلم
    آپ نے اپنے احباب سے مشورہ کے بعد بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا انتخاب کیا اور مولوی سلطان احمد صاحب سے معذرت کر لی اور ٹنڈو غلام علی دوبارہ جا کر اپنا سامان اور کتب لا کر گھر میں رکھ دیں۔
    فیصل آباد روانگی:-.1410/5/23ھ آپ فیصل آباد روانہ ہوگئے مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ محمد یاسین ظفر صاحب حفظہ اللہ سے ملاقات کے بعد آپ نے جامعہ میں حاضری دی اور شعبان کے مہینے میں چھٹیوں تک یہاں تدریسی فرائض سر سر انجام دیے۔ فیصل آباد میں جامعہ سلفیہ محلہ رحمت آباد میں ایک مکان کرائے پر لے لیا تاکہ بچوں سمیت اس میں سکونت اختیار کریں۔
    ماہ رمضان المبارک کی چھٹیوں میں آپ اپنے گاؤں آگے اور گوٹھ حبیب جی وانڈھ کی مسجد میں مکمل قرآن مجید سنایا۔ پہلی چار رکعات میں آپ خود مکمل سپارہ پڑھتے اور آپ کا سامع آپ کا برخوردار حافظ خالد اکرم ہوتا اور پھر وہی پارہ حافظ خالد اکرم پڑھتا تو آپ اس کے سامع بن کر کھڑے ہوتے۔ اس طرح سے ایک ہی نماز تراویح میں دو بار قرآن مجید کی تکمیل کی گئی۔
    رمضان المبارک کے بعد عید کی خوشیاں عزیزواقارب میں بانٹنے کے بعد آپ اپنے اہل و عیال سمیت فیصل آباد جانے کی تیاری میں لگ گئے سامان پیک کرنے کے بعد تمام اقارب کو الوداع کہا ہاں اور 10 شوال کو روہڑی اسٹیشن سے علامہ اقبال ایکسپریس پر سوار ہو کر اپنے اہل و عیال سمیت فیصل آباد پہنچ کر کر اپنے گھر تشریف لے گئے گئے۔ اس دن سے آپ کی زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہوگیا جو 19 سال تک جاری رہا۔
    جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریس:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب نے 1989 سے لے کر 2008 تک جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں بطور مدرس خدمات سرانجام دیں۔
    آپ جس وقت جامعہ سلفیہ تشریف لائے تو دو شعبوں کی کمی محسوس کی۔
    شعبہ تجوید
    شعبہ اصول تخریج
    آپ نے جامعہ سلفیہ کی انتظامیہ کی ان دونوں شعبوں کی طرف مبذول کروائی۔ آپ چونکہ ان دونوں شعبوں میں مہارت تامہ رکھتے تھے چنانچہ دونوں شعبوں کی ذمہ داری آپ نے خود اٹھائی۔ اور ان میں پائی جانے والی کمی کو احسن انداز میں دور کیا۔
    آپ ہر روز بعد نماز مغرب سے سے لے کر نماز عشاء تک ک شعبہ حفظ کے کمرے ھال چلے جاتے اور طلبہ کو تجوید کے اصولوں کے مطابق قرآن مجید کی تعلیم دیتے۔ کتے شعبہ حفظ و درس نظامی کے بیسیوں طلبہ آپ سے اس شعبہ میں مستفید ہوئے اور آپ کو آج بھی دعائیں دیتے ہیں۔ ہیں اس دور میں کئی اساتذہ نے بھی آپ سے فن تجوید سیکھا۔ اپ کی زندگی میں ہی جامعہ سلفیہ میں شعبہ قرات و تجوید کو بڑے احسن انداز میں میں منظم کیا گیا۔
    اصول تخریج کے حوالے سے آپ اپنے استاد فضیلت الشیخ محمود الطحان کی کتاب اصول التخریج و دراسة الاسانید کو نصاب میں شامل کروایا۔ اور الصف السابع کے طلبہ کے لئے لازم کیا گیا کہ وہ اس کتاب کو لازمی پڑھیں اور پھر ہر طالب علم پر لازم ہوتا تھا کہ وہ دس احادیث کی تخریج کرے۔ عموما وہ احادیث آپ اپنی طرف سے سے طلباء کو تفویض کرتے تھے اور پھر تمام طلبہ مکتبہ میں جا کر ان احادیث کی تخریج کرنے کے بعد آپ کو واپس جمع کروا دیتے۔ آپ طلبہ کو ان کی محنت کے مطابق نمبر دیتے آپ کے بعد بھی یہ سلسلہ اب تک جاری ہے جو کہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔
    اس کے علاوہ آپ اصول حدیث، تاریخ السنة ومکانتها فی الاسلام وغیرہ جیسے مضامین کی تدریس بھی کرتے رہے۔
    جامعہ سلفیہ کی مسجد کی امامت:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب کو ابتدا میں جہری نمازوں کی کی امامت کی ذمہ داری دی گئی۔ اس ذمہ داری کو نبھانے میں آپ نے کبھی سردی یا گرمی نہ دیکھی، اور نہ بارش کی پرواہ کی۔ پابندی کے ساتھ امامت کے لئے حاضر ہوتے۔
    فیصل آباد میں میں قیام کے پانچ سال کے بعد آپ نے محلہ صدیق آباد میں اپنا ذاتی گھر تعمیر کروایا جو کہ جامعہ سلفیہ کے قریب تھا اور کچھ ویرانے میں تھا بالخصوص نماز فجر میں کبھی کبھار کتے آپ کے پیچھے پڑ جاتے لیکن آپ نے کبھی ان کی پرواہ نہ کی بلکہ جب کہ برسات کے دنوں میں میں آپ کے گھر کے چاروں طرف پانی بھر جاتا تھا۔ تین تین فٹ پانی سے گزر کر بھی آپ وقت پر نماز اور تدریس کے لئے پہنچ جایا کرتے تھے۔
    قیام فیصل آباد کے دوران آبائی علاقہ میں دینی خدمات:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب کو فیصل آباد آنے کے بعد مسلسل فکر لاحق رہتی تھی کہ کس طریقے سے مسلک اہل حدیث کی دعوت کو اپنی قوم اور برادری میں عام کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے اس مقصد کے حصول کے لیے متعدد امور سرانجام دیئے۔
    آپ نے اپنے گاؤں اور عزیز و اقارب کے کئی بچوں کو لاکر جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخل کروایا تاکہ یہاں سے خالص قرآن و حدیث کا علم حاصل کر کے اپنے آبائی علاقے میں جا کر اس کی تبلیغ کریں۔ ان طلباء میں مولانا عبدالحمید پھل صاحب کے تین بیٹے شامل تھے۔
    آپ نے اپنی بڑی بیٹیوں کے نکاح مولانا عبدالحمید کے تینوں بیٹوں سے کیے تاکہ یہ بھی وہاں جا کر دین کی ترویج و اشاعت کر کے آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنیں۔ بحمداللہ آپ کی بیٹیاں دین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ مدرسہ اتباع القرآن والحدیث کو مزید فعال بنانے کے لیے مسلسل مولانا عبد الحمید پھل اور ان کے بڑے بیٹے ماسٹر محمد اسماعیل پھل سے رابطہ میں رہتے اور انہیں ہدایت جاری کرتے اور مالی اعانت بھی کرتے رہتے تھے۔
    1996 میں آپ نے اپنے سسر کے پلاٹ و گھر سے متصل ودھیلی گاؤں کھرڑا میں ایک پلاٹ جس کا رقبہ 16 گھنٹے تھا خریدا اور اس کا چوتھا حصہ مسجد کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے یہاں پر مسجد دارالسلام اہل حدیث تعمیر کروائی کسی سے کوئی فنڈ نہ لیا بلکہ اپنی تنخواہ میں سے رقم بچا بچا مسجد پر لگاتے رہے ہیں۔
    2000 میں اس مسجد کا افتتاح سندھ کے مشہور مبلغ مولانا حاجی علی محمد سیال صاحب نے خطبہ جمعہ سے کیا۔ آپ بیماری کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے۔ اس موقع پر جامعہ شمس العلوم کے دیوبندی اساتذہ نے بڑی مخالفت کی اور اس حد تک آگے نکل گئے کہ مسجد کو مسجد ضرار کہہ ڈالا اور اہل حدیث کو قادیانی سے تشبیہ دے ڈالی۔ لیکن بحمداللہ مخالفت کا کوئی نتیجہ نہ نکلا مسجد قائم ہے اور مسلک اہل حدیث کی ترویج و اشاعت کا ذریعہ ہے۔ والحمدللہ علی ذلک
    جامعہ سلفیہ میں آپ کے تلامذہ:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب سے جامعہ سلفیہ میں 19 سالہ دور تدریس میں علمی اکتساب کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے۔ جو کہ ملک کے طول و عرض اور بیرون ملک پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ نے اپنی ڈائری میں جن خاص طلبہ کے نام لکھے ہیں ان کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے:
    جناب غلام سرور،جناب ضیاء الرحمن بٹ، جناب محمد سرور عاصم آف مکتبہ اسلامیہ لاہور، مولانا حفیظ الرحمن سندھی آف بھریا روڈ حال مقیم اسلام آباد، حافظ محمد خالد سیف، مولانا محمد سلیم شاہد، جناب احمد سلیم حسین مالدیپی، جناب عبداللہ قاسم مالدیپی، مولانا سیف الحق بنگالی، قاری محمد رفیق، مولانا محمد عمران سلفی بن عبدالرحیم، استاذ القراء قاری نوید الحسن لکھوی، مولانا محمد جمیل چنہ آف سکھر، مولانا محمد زمان ربانی سندھی، مولانا محمد خان محمدی آف ملکانہ شریف، مولانا رضاءاللہ، مولانا خلیل الرحمن رنگپوری، مولانا عزیز الرحمن بن عبد الرحمان، شیخ الحدیث مولانا افتخار احمد الازہری آف میرپور خاص، مولانا محمد جمیل عاجز آف میرواہ گورچانی، مولانا محمد امتیاز بن رفیع الدین، مولانا عبداللہ زبیر۔ مولوی سلیم اللہ، مولانا محبوب اللہ افغانی
    ان کے علاوہ چند معروف طلبہ کے نام یہ ہیں
    حافظ مسعود عبد الرشید اظہر، مولانا پروفیسر عبدالرزاق ساجد، پروفیسر حافظ منیر اظہر، مولانا زبیر ناصر آف مکتبہ ناصریہ، مولانا عبدالرشید شورش آف فیصل آباد، مولانا محمد یوسف ربانی سرگودھا، مولانا محمد یعقوب ربانی جرانوالہ، مولانا سرفراز صاحب اف سرگودھا، مولانا رانا یا سین شاہین آف جرانوالہ، مفتی عبدالخالق حقانی آف چک جھمرہ فیصل آباد، مولانا عبدالحق حقانی نائب ناظم تبلیغ مرکزیہ پنجاب، مولانا سیف اللہ ساجد قصوری ناظم تبلیغ مرکزیہ قصور، مولانا محمد زمان جونیجو آف تھرپارکر۔
    تصنیف و تالیف:-
    ڈاکٹر اکرم حسین پھل صاحب نے تین عمدہ مقالاجات، چند مضامین اور متعدد خطوط تحریر کیے۔
    فتوح الاسلام:-
    یہ ایک مقالہ ہے جو کہ تقریبا پچاس صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ نے یہ مقالہ جامعہ اسلامیہ کے درجہ "اللیانس” گریجویشن کی ڈگری کے حصول کے لیے لکھا تھا.
    تاریخ یہود المدینة:-
    یہ اہم ترین مقالہ آپ نے شہادة الماجستير (ایم اے )کے حصول کے لیے فضیلۃ الشیخ ضیاء العمری کے اشراف میں ترتیب دیا تھا۔ اس مقالہ کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ ضیاءالعمری نے اپنی کتاب "السیرۃ النبویة الصحیحة” میں 1/99 کے حاشیہ پر لکھا کے بنی قینقاع کے یہودیوں کی جلاوطنی کے متعلق جملہ روایات کو دیکھنے اور ان میں سے صحیح کے انتخاب میں، میں نے ایک مقالہ سے استفادہ کیا ہے جو کہ میری زیرنگرانی میرے ایک شاگرد اکرم حسین علی نے بنام "مرویات تاریخ یہود المدینة”ماجستیر کی ڈگری کے حصول کے لیے جامعہ اسلامیہ قسم الدراسات العلیا میں پیش کیا۔ یہ ایک انتہائی نافع مقالہ ہے کاش کہ اسے زیور طبع سے آراستہ کر دیا جائے۔
    الفوائد فی المستخرج لابی العباس السراج علی صحیح مسلم بن الحجاج:-
    یہ آپ کی اہم ترین تصنیف ہے جو کہ دکتورا (پی ایچ ڈی) کی ڈگری کے حصول کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے قسم الدراسات العلیا میں مقالہ کے طور پر پیش کی گئی۔ یہ درحقیقت ایک مخطوطہ کی احادیث کی تخریج ہے جو کہ امام ابو العباس محمد بن اسحاق السراج کی تحریر کردہ ہیں۔ اس کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ امام سراج وہ شخصیت اور محدث ہیں جن کی ثقاہت پر تمام محدثین متفق ہیں امام ابن خزیمہ کے ہم عصر اور ان کے قریب و پائے کے محدث ہیں۔ امام بخاری و میں مسلم کے شاگرد ہونے کے باوجود شیخین نے آپ سے کئی روایات لی ہیں صحیح مسلم میں ایک روایت امام سراج کی مذکور ہے۔ جبکہ کہ التاریخ الکبیر میں متعدد روایات و اقوال امام بخاری نے امام سراج سے نقل کئے ہیں۔
    اس کے علاوہ جامعہ سلفیہ میں تدریس کے دوران مکتب الدعوہ اسلام آباد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے چند ایک مضامین جو کہ عربی زبان میں ہیں اور دعوت کے اصول و ضوابط کے موضوع پر ہیں وہ آپ نے تحریر فرمائے ہیں۔
    بیماری کی ابتداء:-
    سعودی عرب میں قیام پذیر ہوتے ہوئے دکتوراہ کے مرحلہ میں آپ کو گردن اور کندھوں کے پٹھوں میں شدید درد کی شکایت رہنے لگی۔ تکلیف کی شدت کو کم کرنے کے لیے آپ ٹیبلٹ استعمال کیا کرتے تھے۔
    فیصل آباد آنے کے بعد تکلیف کی شدت وقتاً فوقتاً بڑھ جاتی آپ نے کئی ڈاکٹروں سے علاج کروایا۔ ٹیبلیٹ کھانے اور انجکشن لگوانے سے درد کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔آپ کو بسا اوقات اس قدر تکلیف ہوتی ہے پوری پوری رات آرام نہ کرپاتے اور گردن پر تکیہ رکھ کر اور اس پر ٹیک لگا کر گھنٹوں بیٹھے رہتے۔ مسلسل آرام کی کمی کی وجہ سے ڈپریشن و دیگر امراض لاحق ہو گئے جس کی وجہ سے جامعہ جانس بھی کم کر دیا۔ پروفیسر چوہدری محمد یاسین ظفر صاحب نے آپ کی ذمہ داریاں بالکل کم کر دی تھیں۔ آپ صرف ایک سبق پڑھانے جاتے اور صرف نماز مغرب کی امامت کراتے تھے۔ شعبہ حفظ کی ذمہ داری بھی ترک کر دی تھی۔
    ڈاکٹر اکرم کے والد کی وفات:-
    2007 کے آخری ایام میں آپ کے والد گرامی میں حاجی حسین علی شدید بیمار ہو گئے اس وقت ان کی عمر سو سال سے زائد تھی۔ بیماری کی شدت کی وجہ سے چار پائی سے اٹھنا ناممکن ہو گیا تھا۔ آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ اپنی بیماری کے باوجود ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے کچھ دن گزارنے کے بعد واپس چلے گئے۔ جنوری 2008 عیدالاضحیٰ کے دوسرے دن آپ کے والد گرامی فوت ہوگے۔ آپ کو اطلاع ملی تو آپ اپنے بیٹے سالم کے ساتھ کھرڑا تشریف لائے آئیے نماز جنازہ کے بارے میں آپ کو اطلاع دی گئی کہ آپ کے والد نے وصیت کی ہے کہ ان کی نماز جنازہ مدرسہ شمس العلوم کھرڑا کے شیخ الحدیث مولوی رشید احمد پڑھائیں۔ چنانچہ آپ نے کسی قسم کا تعرض نہ کیا۔ جب جنازہ قبرستان لایا گیا تو آپ نے اپنے بڑے بیٹے مولانا حافظ خالد اکرم مدنی صاحب کو دوبارہ نماز جنازہ پڑھانے کے لئے آگے کیا کسی کو روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ دوبارہ نماز جنازہ پڑھانے کے بعد آپ نے اپنے ہاتھوں سے تدفین کی لوگ آپ کے پاس تعزیت کے لیے آتے رہے۔
    آپ نے اس موقع پر جامع مسجد دارالسلام دیکھی اور اللہ کی بارگاہ میں خوب دعائیں بھی کیں۔
    ان ہی ایام میں آپ کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی آپ کے ہاتھ اور پاؤں میں سوزش شروع ہوگی آپ کے ایک عزیز ڈاکٹر نے مشورہ دیا کیا کہ آپ کی بیماری بہت سیریس ہے لہذا آپ حیدرآباد جاکر کر کسی اچھے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں لیکن آپ نے اس کی بات پر توجہ نہ دی اور فیصل آباد فوری واپسی کا ارادہ کرلیا۔ حافظ خالد اکرم مدنی صاحب نے آپ کو روہڑی اسٹیشن سے سے ریل گاڑی میں بٹھایا اور آپ فیصل آباد روانہ ہوگئے گئے۔
    مرض الموت:-
    یکم فروری 2008 کو حافظ خالد المدنی صاحب کو ان کی والدہ محترمہ کا فون آیا کہ آپ کے والد کی طبیعت زیادہ خراب ہے آپ فوراً پہنچیں اور آپ کا چیک کروائیں آپ اپنے ماموں محمد اسماعیل کے ساتھ فوری فیصل آباد روانہ ہوگئے۔ آپ کی حالت دیکھ کر کر آپ کو فورا ساحل ہسپتال میں میں نیورو سرجن ڈاکٹر مرزا اکمل شریف کے پاس چیک اپ کے لئے لے آئے جنہوں نے آپ کو فورا ہسپتال داخل داخل کرنے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق راٹھور ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔ تقریبا چار دن تک آپ یہاں ایڈمٹ رہے اس دوران ان شاید کہ آپ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ آپ کی زندگی کے ایام مکمل ہونے والے ہیں اور دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آچکا ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے بیٹے کو متعدد وصیتیں کیں اور یہ بھی بتایا کہ ان پر پر کسی کا بھی کوئی قرض نہیں ہے۔
    آپ کی وصیتوں میں سے کچھ یہ تھیں۔
    آپ کے مقالہ و کتب کی تکمیل و طبع
    مسجد دارالسلام کی تکمیل اور انتظام و انصرام
    آپ کے مکتبہ کی کتب کا خیال رکھنا
    چھوٹے بیٹے یاسر کا خیال رکھنا اور اسے دینی تعلیم دینا
    آیات وراثت کے بار بار تلاوت کرنا اور ان کے مطابق عمل کرنے کی تلقین کرنا
    اس دوران جامعہ سلفیہ کے کبار اساتذہ کرام و مشائخ بالخصوص پروفیسر محمد یاسین ظفر صاحب، فضیلۃ الشیخ شیخ محمد یونس بٹ صاحب صاحب، شیخ الحدیث عبدالعزیز علوی صاحب آپ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔
    اس موقع پر پروفیسر یاسین ظفر صاحب نے آپ کے فرزند حافظ خالد اکرم صاحب کے روبرو آپ کی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک جملہ ارشاد فرمایا:
    ” یہ وہ شخصیت ہے جو آج کے دور کی نہیں بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے کی شخصیت ہے جنہیں اللہ تعالی نے اس دور میں بھیجا ہے”
    یہ تبصرہ اس شخصیت کا ہے جن کے ساتھ آپ نے بیس سال کا عرصہ گزارا اور وہ آپ کی ہر ادا سے واقف تھے۔
    چار دن ہسپتال میں رہنے اور علاج معالجہ کے بعد آپ کی طبیعت سنبھل گئی تو تمام اہل خانہ کے مشورہ سے آپ کو کچھ دن آرام کی غرض اور بچوں سے ملاقات کے لیے حیدرآباد لایاگیا حیدرآباد آنے پر جملہ عزیز و اقارب آپ سے ملنے ائے۔ کچھ دن گزرنے کے بعد آپ کی طبیعت خراب رہنے لگی اور آپ شدید بخار میں مبتلا ہوگئے۔ ڈاکٹرز کو چیک کرانے کے بعد آپ کو گردن توڑ بخار تشخیص ہوا جو کہ جان لیوا مرض ہے۔ کچھ دن علاج کے بعد آپ کومہ میں چلے گئے۔ مسلسل سات دن کومہ میں رہنے کے بعد ڈاکٹرز نے آخری حل کے طور پر دماغ کا آپریشن کرنے کی تجویز دی جس میں بچنے کے امکانات کم ہوتے ہیں پھر بھی رسک لے کر اسراء یونیورسٹی ہسپتال میں یہ آپریشن بھی کر دیا گیا۔ آپریشن کے بعد آپ کو آئی سی یو میں لے جایا گیا کچھ گھنٹوں کے بعد سانس اکھڑنے لگی لگی تمام ورثاء اور مدیر جامعہ سلفیہ کو آپ کی طبیعت کے بارے میں مطلع کردیا گیا۔
    بالآخر دین سے وابستہ رہنے اور دین کی خدمت کرنے والا یہ انسان 7 مارچ 2008 بمطابق 28صفر 1429ھ جمعۃ المبارک کے دن اس دنیا فانی کو چھوڑ کر دار البقا کی طرف روانہ ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
    آپ کی عمر 65 یا 66برس تھی۔
    آپ کو غسل آپ کے بڑے داماد عبدالقادر پھل صاحب نے دیا مدرسہ تعلیم القران والحدیث گھمن آباد حیدرآباد میں آپ کی نماز جنازہ محترم حافظ عبد الصمد صاحب خطیب جامع مسجد دارالسلام حیدرآباد نے پڑھائی تدفین کے لئے آپ کی میت آبائی گاؤں لائی گئی جہاں پر دوبارہ آپ کی نماز جنازہ حافظ خالد اکرم مدنی صاحب نے پڑھائی۔ جس میں عزیز و اقارب اور قرب و جوار کے جماعتی دوست و احباب نے شرکت کی۔
    جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں آپ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے کبار اساتذہ کا وفد پروفیسر محمد یاسین ظفر صاحب کی قیادت میں تعزیت کے لیے تشریف لایا ورثاء سے تعزیت کرنے کے بعد قبرستان جاکر استاذ العلماء فضیلۃ الشیخ حافظ مسعود عالم صاحب حفظہ اللہ نے قبر پر نماز جنازہ پڑھائی اور گڑگڑا کر دعائیں۔
    یہ وہ بندہ خدا تھا جو ضلع خیرپور میرس کے ایک غیر معروف گاؤں سے اٹھا مدینہ منورہ میں جاکر جور رسول میں تعلیم حاصل کی اور عرصہ بیس سال تک طالبان علوم نبوت کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے بعد اپنے رب کے حضور چلا گیا اللہ تعالی انہیں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین
    شادی و اولاد:-
    ڈاکٹر اکرم حسین علی پھل صاحب نے ایک شادی کی جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو 4 بیٹے اور 6 بیٹیاں عطا کیں۔

  • سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی آواز: علی حسین مرزا

    سوشل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی آواز: علی حسین مرزا

    وہ تمام صحافی جن کا تعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا آن لائن یوٹیوب چینلز اور ویب پورٹلز سے ہوتا ہے ان کو تھانہ کچہری اور جائے واقعہ وغیرہ پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ فی زمانہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا پر خبر پہلے پہنچتی ہے اور زیادہ وائرل ہوتی ہے۔ انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو سوشل میڈیا سے وابستہ چینلز اور پیجز سے وابستہ صحافی حضرات الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی نسبت زیادہ دماغ کھپائی کرتے ہیں۔ وقت کم ہوتا ہے اور فی الفور خبر بریک کرنا ہوتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی تیزرفتاری اپنی جگہ لیکن خبر بریک ہوکر وائرل ہونے میں سوشل میڈیا زیادہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بڑے بڑے اور کامیاب الیکٹرانک میڈیا ہاوسز بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں تاکہ انکو رینکنگ ملے۔ المختصر سوشل میڈیا کی طاقت کا ہر صحافتی ادارہ معترف ہے لیکن پھر کیا وجہ ہے کہ سوشل میڈیا سے وابستہ صحافی طبقے کو استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیوں؟ صحافت پیغمبرانہ فعل ہے۔ اور یہ فعل کسی ایک طبقے کی میراث نہیں ہے۔ سچ کو آشکار کرنے کے لیے ایمانداری بروئے کار لائی جاتی ہے ناکہ بیجز اور مائیک اور ہرے بھرے لوگوز۔

    سوشل میڈیا سے وابستہ صحافی طبقے کی آواز

    بقلم: علی حسین باغی ٹی وی اوکاڑہ

  • اللہ اکبر سے گونج اٹھے صحرا  ، تحریر :عشاء نعیم

    اللہ اکبر سے گونج اٹھے صحرا ، تحریر :عشاء نعیم

    اللہ اکبر سے گونج اٹھے صحرا
    کیسے میں عمر فاروق کو خراج تحسین پیش کروں
    قلم سوچتا ہے کون کون سے اوصاف لکھوں

    غریبوں کی غمگساری لکھوں یا انصاف لکھوں
    منتظم اعلی لکھوں یا فتوحات لکھوں
    نبی کی اس کو دعا لکھوں یا
    جس کی تائید میں تھا قرآن اترتا لکھوں
    چھپ کر جو پڑھی جاتی تھیں نمازیں رب کی
    عمر آیا تو اللہ اکبر سے گونج اٹھے صحرا لکھوں
    پھرتا تھا جو پیوند لگے کپڑوں میں
    تھا کفر پھر بھی جس سے کانپتا لکھوں
    خود تو سو جاتا تھا پتھر پہ سر رکھ کر
    فرات کے کنارے کتے کے مرنے سے ڈرتا لکھوں
    مسافر کی جھونپڑی میں مدد کووہ پہنچا
    ہر فرد کی ضرورت پہ دھیان رکھتا لکھوں
    غریب کھڑا ہو کر تھا جس سے پوچھ تاچھ کرتا
    شیطان دیکھ کر جسے تھا راستہ بدلتا لکھوں
    میں لکھوں کہ وہ ہے مثال ہر کام میں آج بھی
    یا نہ آیا پھر کبھی اس جیسا لکھوں
    حکمران تھا وہ لاکھوں میل مربع کا
    پتھر پہ سر رکھ کر تھا سو جاتا لکھوں
    سواری پہ بٹھا کر غلام پیدل چلنے والا
    یا ارض مقدس کا فاتح لکھوں
    خط لکھے دریا کو تو دریا اتر جائے
    نہیں اس عرش کی آنکھ نے دیکھا ایسا لکھوں
    کہوں عمر فاروق تو لب مسکرا دیں
    کرو ناز اپنی تاریخ پہ میں بے پناہ لکھوں
    عشاء نعیم

  • شامتِ کفر و شیاطین, مراد رسول اللہ و ہمارے لاڈلے عمر بن خطاب رض!!! تحریر بلال شوکت آزاد

    شامتِ کفر و شیاطین, مراد رسول اللہ و ہمارے لاڈلے عمر بن خطاب رض!!! تحریر بلال شوکت آزاد

    شامتِ کفر و شیاطین, مراد رسول اللہ و ہمارے لاڈلے عمر بن خطاب رض!!! تحریر بلال شوکت آزاد

    آہ کہ آج ہی وہ دن ہے جب عالم اسلام کے زوال کی پہلی کیل امت مسلمہ کے تابوت میں ٹھونکی گئی۔ ۔ ۔ سازشوں اور بغاوتوں کے پیچیدہ جال بنے گئے۔ ۔ ۔ آہ کہ آج ہی کے دن چودہ سو سال پہلے نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے دو زمینی وزیروں میں سے بچے آخری وزیر, صحابی رسول اللہ اور ایک شہزادے حکمران, سردار امت اور خلیفہ راشد و امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو بے رحمی سے خنجروں کے وار سے شہید کردیا گیا۔

    عمر رضی اللہ تعالی عنہ کون تھے؟

    کیا تھے؟

    آئیے ان کی مختصر سیرت کو پڑھیے اور عش عش کریں کہ وہ عمر رض ہمارے تھے اور ہیں, الحمدللہ۔

    ابو حفص عمر بن خطاب عدوی قرشی:

    ابو حفص عمر بن خطاب عدوی قرشی ملقب بہ فاروق (پیدائش: 586ء تا 590ء کے درمیان مکہ میں- وفات: 6 نومبر، 644ء مدینہ میں) ابو بکر صدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔

    عمر بن خطاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا۔ ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد 23 اگست سنہ 634ء مطابق 22 جمادی الثانی سنہ 13ھ کو مسند خلافت سنبھالی۔

    عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں، ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا، عمر بن خطاب کا یہ عدل و انصاف انتہائی مشہور ہوا اور ان کے لقب فاروق کی دیگر وجوہ تسمیہ میں ایک وجہ یہ بھی بنی۔

    عمر بن خطاب ہجری تقویم کے بانی ہیں، ان کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، سرزمین شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور سجستان فتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیل گیا۔

    عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا، اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ عمر بن خطاب نے جس مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت کی مکمل شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا، نیز اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو جس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔

    نام ونسب:

    عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزّٰی بن ریاح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوّیٰ بن فہربن مالک۔ جبکہ والدہ کا نام خنتمہ تھا جو عرب کے مشہور سردار ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں۔

    آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ عمر عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

    ابتدائی زندگی:

    آپ مکہ میں پید ا ہوئے اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ علم انساب، سپہ گری، پہلوانی اور مقرری میں آپ طاق تھے۔

    ” عمراور ان کے باپ اور ان کے دادا تینوں انساب کے بہت بڑے ماہر تھے ۔“

    ” آپ عکاظ کے دنگل میں کشتی لڑا کرتے تھے۔ “

    جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو عمر نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے عمر نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے۔

    ہجرت:

    ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارا نہیں کیا۔ آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا

    ” تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے۔”

    مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔ مواخات مدینہ میں قبیلہ بنو سالم کے سردار عتبان بن مالک کوآپ کا بھائی قراردیا گیا۔

    غزوات نبوی میں شرکت:

    عمر رض مندرجہ ذیل غزوات و واقعات میں شریک رہے۔

    غزوۂ بدر
    غزوہ احد
    غزوہ خندق
    بیعت الرضوان اورصلح حدیبیہ
    غزوہ خیبر
    فتح مکہ
    غزوہ حنین
    غزوہ تبوک
    حجۃ الوداع

    خاص واقعات:

    وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہو گیا اور کہا کہ

    "اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ ہے جو دوسروں کو ملا تھا۔”

    تو عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ

    "مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے”,

    عبداللّٰہ ابن عمر کھڑے ہو گئے۔ عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ

    "بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔”

    عبداللّٰہ نے بتایا کہ

    "بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔”

    ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن امیر المؤمنین کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز گزری۔ بعض کہنے لگے یہ باندی عمر کی ہے۔ آپ ( عمر) نے فرمایا کہ

    "امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔”

    مزید برآں یہ کہ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے:

    گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔
    عمدہ کھانا نہ کھانا۔
    باریک کپڑا نہ پہننا۔
    حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔

    اگر کوئی اس کے خلاف ہوتا تو عمر رض سزائیں دیتے, تادیب کرتے۔

    عادات:

    حضرت عمر رض, حضرت علی رض سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عمر کی شہادت کے بعد جب علی آئے تو فرمایا

    "میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔”

    حدیث میں ذکر:

    ان 10 صحابہ کرام م اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

    عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    "ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں۔”

    شہادت:

    ایک فارسی (رافضی) غلام ابو لولو فیروز نے آپ کو فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے عثمان رض کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

    فضائل:

    ” اے عمر! شیطان تم کو دیکھتے ہی راستہ کاٹ جاتا ہے۔“

    ” جبرائیل و میکائیل میرے دو آسمانی وزیر ہیں جب کہ ابوبکر و عمر میرے دو زمینی وزیر ہیں۔ “

    ” میری امت میں اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر ہیں۔ “

    ” میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔“

    اہل بیت سے مروی فضائل:

    ٌ*علی رض سے روایت ہے کہ [أن عمر لیقول القول فینزل القرآن بتصدیقہ]۔

    "بیشک عمر فاروق البتہ جب کوئی کہتے ہیں تو قرآن اُن کی بات کی تصدیق کے لیے نازل ہوتا ہے۔”

    *فضل بن عباس رض سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا [عمر معنی وأنا مع عمر،والحق بعدی مع عمر حیث کان ]۔

    "میں عمر رضکے ساتھ ہوں اور عمررض میرے ساتھ ہیں اور حق میرے بعد عمر رض کے ساتھ ہو گا۔”

    * ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ [ نظر رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- إلى عمر ذات يوم وتبسم، فقال: "يابن الخطاب، أتدري لم تبسمت إليك?” قال: اللہ ورسولہ أعلم، قال: "إن اللہ -عز وجل- نظر إليك بالشفقة والرحمة ليلة عرفة، وجعلك مفتاح الإسلام]۔

    "رسول اکرم ﷺ نے عمر فاروق رض کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا اور فرمایا اے ابن خطاب !کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی طرف دیکھ کر تبسم کیوں فرمایا تو عمرفاروق رض نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی نے آپ کی طرف عرفہ کی رات رحمت اور شفقت سے نظر فرمائی اور آپ کو مفتاح اسلام (اسلام کی چابی) بنایا۔”

    * علی رض سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا [عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة]۔

    "عمر فاروق اہل جنت کے سردار ہیں”

    جب عمر فاروق تک یہ بات پہنچی تو آپ ایک جماعت کے ساتھ علی کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ

    "کیا آپ نے رسول اکرم ﷺ سے سُنا ہے کہ عمر فاروق اہل جنت کے چراغ ہیں”

    علی رض نے جواب دیا

    "جی ہاں”

    عمر فاروق رض نے فرمایا

    "آپ مجھے یہ تحریر لکھ دیں”

    تو علی رض نے لکھا,

    [بسم اللہ الرحمن الرحيم: هذا ما ضمن علي بن أبي طالب لعمر بن الخطاب عن رسول اللہ -صلى اللہ عليہ وسلم- عن جبريل عن اللہ تعالى أن عمر بن الخطاب سراج أهل الجنة]

    عمر فاروق نے یہ تحریر لے کر اپنی اولاد میں سے ایک بیٹا کو دی اور فرمایا

    [إذا أنا مت وغسلتموني وكفنتموني فأدرجوا هذہ معي في كفني حتى ألقى بها ربي، فلما أصيب غسل وكفن وأدرجت مع في كفنہ ودفن]

    "جب میرا وصال ہو جائے تو مجھے غسل وکفن دینا اور پھر یہ تحریر میرے کفن میں ڈال دینا یہاں تک میں اپنے رب سے ملاقات کروں۔”

    جب آپ وصال فرما گئے تو آپ کو غسل اور کفن دیا گیا اور آپ کے کفن میں وہ تحریر رکھ کر دفن کر دیا گیا۔

    * کثیر ابو اسماعیل سے روایت ہے کہ میں نے نے ابو جعفر محمد بن علی سے ابو بکر اور عمر فاروق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا

    [ بُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ نِفَاقٌ، وَبُغْضُ الْأَنْصَارِ نِفَاقٌ۔ يَا كَثِيرُ مَنْ شَكَّ فِيهِمَا، فَقَدْ شَكَّ فِي السُّنَّةِ]

    "ابوبکر ، عمر فاروق اور انصار کا بغض نفاق ہے۔ اے کثیر جس نے ان دونوں حضرات کے بارے میں شک کیا اس نے سنت میں شک کیا”

    * ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا

    [اللَّهمّ أعزّ الإسلام بأبي جهل بن هشام أو بعمر بن الخطّاب]

    "اے اللہ اسلام کو ابو جہل بن ھشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت دے۔”

    تو عمر فاروق رض نے صبح کی اور رسول اکرم ﷺ کے پاس آ گئے۔

    * ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    [وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَوَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ ]

    * علی سے روایت ہے

    [ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، إِلا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ "، ثُمَّ قَالَ لِي: ” يَا عَلِيُّ، لا تُخْبِرْهُمَا ]

    کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا پس ابو بکر وعمر م تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے کہا

    "اے علی رض یہ دونوں اہل جنت کے اولین وآخرین کے بوڑھی عمر والوں کے سردار ہیں انبیاومرسلین کے علاوہ”

    پھر مجھے کہا کہ

    "اے علی ،تم ان دونوں کو اس بات کی خبر نہ دینا۔”

    * ابن عباس سے فرماتے ہیں

    [أَكْثِرُوا ذِكْرَ عُمَرَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا ذَكَرْتُمُوهُ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ، وَإِنْ ذَكَرْتُمُ الْعَدْلَ ذَكَرْتُمُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى]

    "عمر فاروق کا کثرت کے ساتھ ذکر کیا کرو جب تم ان کا ذکر کرتے ہوتو تم عدل کا ذکر کرتے ہو اور جب تم عدل کا ذکر کرتے ہو تو تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو۔”

    عمر بن خطاب اور اقوالِ عالَم:

    ” میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ از محمدصلی اللہ علیہ وسلم۔“

    ”اگر دنیا کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں اور عمر کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر کا پلڑا بھاری ہوگا۔ از عبداللہ بن مسعود“

    ”عمر کی زبان پر سکینہ بولتا ہے۔ وہ قوی و امین ہیں۔ از سیدنا علی رض“

    ” بوبکر و عمر تاریخِ اسلام کی دوشاہکار شخصیتیں ہیں۔ ایچ جی ویلز”

    عمر فاروق رض کو سب سے بہترین خراج تحسین مغربی مورخ و مصنف مائیکل ہارٹ نے پیش کیا کہ ان کی شہرہ آفاق تصنیف سو عظیم آدمی یا "The Hundred” میں پہلا نمبر حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو دیا جبکہ پہلے 25 عظیم انسانوں میں حضرت عمر فاروق رض کو شامل کیا اور وہ اس کتاب میں کچھ یوں رقمطراز ہے کہ

    ’’حضرت عمرؓ کی کامیابیاں موثٔر ثابت ہوئیں۔ حضرت محمدؐ کے بعد فروغ اسلام میں حضرت عمرؓ کا نام نہایت اہم ہے۔حضرت عمرؓ کی تیز رفتار فتوحات کے بغیر شاید آج اسلام کا پھیلاؤ اس وسیع پیمانے پر ممکن نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے دور میں مفتوح ہونے والے علاقوں میں سے بیشتر عرب تمدن ہی کا حصہ بن گئے۔ظاہر ہے کہ ان تمام کامیابیوں کا اصل محرک تو حضرت محمدؐ ہی تھے لیکن اس سارے عمل میں حضرت عمرؓ کے کردار کو نظر انداز کرنا بھی ایک بڑی غلطی ہو گی…‘‘

    یہ اعلی ظرف غیر مسلم مگر حق پرست مصنف مائیکل ہارٹ آگے لکھتا ہے کہ

    ’’ایسی عظیم وسعت حضرت عمرؓ کی شاندار قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی…‘‘

    چونکہ مائیکل ہارٹ نے جو کتاب سو عظیم آدمی لکھی اسمیں انفرادی عظمت رفتہ ماپنے کا پیمانہ وسیع تھا مطلب حضرت آدم سے لیکر موجود صدی تک کے سو عظیم آدمی جن میں آپسی تقابل بھی کیا گیا اور تاریخ انسانی پر ان کے مرتب اثرات کا عمیق اور غیر جاندار نظروں سے مشاہدہ کیا گیا اور پھر یہ تصنیف پیش کی جس میں ایک اور جگہ مائیکل ہارٹ نے اور فاتحین سے عمر فاروق رض کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ

    ’’ وہ تمام فتوحات جو عمرؓ کے دورِ خلافت میں واقع ہوئیں اپنے حجم اور پائیدار ی میں ان فتوحات کی نسبت کہیں اہم تھیں جو سیزر یا چارلی میگنی کے زیرِ قیادت ہوئیں۔‘‘

    واللہ پڑھیں اور جانیں کہ ہم کن اسلاف کی بہترین سیرت اور تربیت کا بوجھ کندھوں پر اٹھائے دنیا میں خجل ہورہے ہیں لیکن استفادہ نہیں لے رہے۔

    آپ ؓکی سرکاری مہر پر لکھا تھا،

    ’’عمرؓ !نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے‘‘

    آپ ؓ کے بنائے ہوئے نظام آج بھی کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں نافذ ہیں اور ان کو "عمر لاء” سے منسوب کرکے ایک الگ انفرادی اور اہم حیثیت دیکر عزت دی گئی ہے۔

    مسندِ خلافت سنبھالتے ہی آپؓ نے مسجدِ نبوی شریف میں خطبہ ارشاد فرمایا

    ’’ اللہ رب العزت نے میرے رفقاء کو مجھ سے جدا کر کے ، مجھے باقی چھوڑ کر میرے ساتھ تمہیں اور تمہارے ساتھ مجھے امتحان میں ڈال دیا ہے ،اللہ کی قسم! میں تمہاری ہر مشکل کو حل کروں گا اور دیانت و امانت کو کسی صورت بھی ہاتھ سے نہ جانے دوںگا، تمہارا ہر آدمی میرے نزدیک اُس وقت تک کمزور ہے جب تک میں اُس سے حق نہ وصو ل کر لوں ، یا اللہ ! میں سخت ہوں مجھے نرم بنا ، کمزور ہوں قوت عطا فرما، سخی بنا۔‘‘ (طبقات، ج ۳ص ۷۳)

    آئیے فاروقِ اعظم ؓ کی عجز و انکساری کی دیکھتے ہیں ، خلیفتہ المسلمین و امیر المومنین منتخب ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ خطاب کے لئے منبر پر تشریف لائے تو اُس سیڑھی پر بیٹھ گئے جس پر یارِ غار حضرت صدیقِ اکبر ؓ اپنے پائوں مبارک رکھتے تھے ، صحابہ کرام ؓ نے فاروقِ اعظم ؓسے عرض کی

    ’’ اے امیر المومنین ! اُوپر بیٹھ جائیں ، فاروقِ اعظم ؓ نے فرمایا ۔’’ میرے لئے یہی کافی ہے کہ مجھے اس مقام پر بیٹھنے کو جگہ مل جائے جہاں حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنے پائوں مبارک رکھتے تھے ۔‘‘

    حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں ہر فرد کو تنقید اور طلبِ حقوق کی پوری آزادی دے رکھی تھی۔ایک دفعہ آپؓ تقریرفرمارہے تھے کہ دورانِ تقریرایک شخص نے اُٹھ کر بار ہا کہا :

    ’’اے عمرؓ!اللہ سے ڈرو، لوگوں نے اُسے روکا، توآپؓ نے فرمایا کہ ’’اگر یہ لوگ آزادی کیساتھ اپنی بات نہ کہیں تو بے مصرف ہیں اور ہم نہ مانیں،تو ہم بے مصرف ہیں۔‘‘

    ایک دفعہ آپؓ نے منبرپر کھڑے ہوکرفرمایا:

    ’’ لوگو! اگر میں دنیا کی طرف جھک جائوں ،تو کیا کرو گے؟ یہ سنتے ہی ایک شخص نے اپنی تلوار نیام سے کھینچ لی اور کہا ’’تمہارا سر اُڑادوں گا، آپؓ نے بھی اس کی دلیری اور جرأت کو آزمانے کیلئے ڈانٹ کر کہا، تو امیر المومنین کی شان میں گستاخی کرتا ہے، تجھے پتہ نہیں کہ تو کس سے بات کررہا ہے؟ اُس شخص نے اسی جرأت وبہادری کیساتھ کہا ‘ہاں، ہاں میں آپ ؓ سے مخاطب ہوں ۔یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ

    ’’ربِ قدوس کا شکر ہے کہ اس قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ اگرمیں ٹیڑھا ہوجائوں، تو وہ مجھے سیدھا کردیں گے۔‘‘

    واللہ قربان جاؤں, صدقے جاؤں میں اپنے لاڈلے عمر رض پر۔ ۔ ۔ ہے آج کسی میں ایسا عجز, انکسار اور وصف کہ وہ مسند اقتدار پر بیٹھ کر یوں تنقید اور معاذ اللہ تضحیک برداشت کرے اور پھر اللہ کا شکر ادا کرے کہ خلقت اس پر تنقید کرتی ہے یہ اچھا ہے۔

    حاکمِ وقت امیر المومنین حضرت عمرؓ کی ذرا مفلوک الحالی دیکھیے ۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ

    ’’میں نے حضرت عمرؓ ابن خطابؓ کے لباس میں اکتیس پیوند چمڑے کے اور ایک پیوند کپڑے کا دیکھا ہے۔‘‘

    حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ

    ’’میں نے حضرت عمرؓ کی قمیص میں،ان کے مونڈھوں کے درمیان چار پیوند دیکھے ہیں۔‘‘

    کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا کہ آپؓ اپنے وقت ِمقررہ پربھی اپنے گھر سے باہر تشریف نہ لاسکتے تھے ،ایک مرتبہ کسی نے اس کی وجہ دریافت کی تو فاروقِ اعظمؓ فرمانے لگے

    ’’مقررہ وقت پر نہ نکلنے کی وجہ یا ذمہ دار میرا یہ واحد جوڑا(لباس)ہے جسے میں دھوکر ڈالتا ہوں تو یہ سوکھنے میں دیر لگا دیتا ہے۔‘‘

    حضرت عمر فاروقِ اعظمؓ کا دورِ خلافت بالخصوص عدل وانصاف اور احتساب کے حوالہ سے بے نظیر وبے مثال اور بڑامعروف ٹھہرا ہے آپؓ فرماتے تھے کہ

    ’’اپنا محاسبہ کرو،قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے، اپنا کیا ہوا محاسبہ تمہارے حساب وکتاب کو روزِ محشر آسان کردے گا‘‘۔پھر فرمایا کہ ’’اپنے اعمال کا ’وزن‘ کرتے رہو،قبل اس کے کہ تمہارے لیے میزان کھڑی کی جائے،اپنے آپ کو بڑی عدالت کی پیشی کیلئے تیار رکھوجس دن تمہاری کوئی بات بھی چھپی نہ رہے گی۔‘‘

    حضرت عمر فاروق کی شان میں گل ہائے عقیدت کا گلدستہ جتنا طویل اور ضخیم کرنا چاہیں کرسکتے ہیں پر وہ پھر بھی کم اور تشنہ ہی رہے گا۔

    عمر رض کا مشہور و معروف قول ہے کہ

    "لوگوں کو کب سے غلام بنانا شروع کیا ہے جب کہ ماؤں نے اُنہیں آذاد جنا ہے__!”

    آہ عمر آہ میرے لاڈلے عمر۔ ۔ ۔ کاش اللہ نے دور نبوی ص میں پیدا کیا ہوتا تو میں نبی ص کے بعد عمر رض کی مجلس کا لازمی میمبر ہوتا۔

    اللہ, اس کے فرشتوں اور تمام مخلوقات کائنات کی لعنت ہو اس مردود ابو لولو فیروز رافضی پر جس نے ایک ہیرا صحابی اور عظیم انسان کی جان لینے کی گستاخی کی۔

    اے اللہ روز قیامت ہمارا حساب کتاب عمر رض اور ان کے چاہنے والوں کے ساتھ کرنا۔ آمین۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • سکول کھولنے کے بارے حکومت ابھی تک  تردد کا شکار

    سکول کھولنے کے بارے حکومت ابھی تک تردد کا شکار

    سکول کھولنے کے بارے حکومت اب بھی تردد کا شکار

    باغی ٹی وی : سکول کھلیں‌گے کہ نہیں‌ حکومت ابھی تک تردد کا شکار ہے اس سلسلے میں شفقت محمود نے کہا ہے کہ 7 ستمبر کو فیصلہ ہوگا سکول 15 ستمبر کو کھولنے ہیں یا نہیں، وزارت صحت سکول کھولنے سے متعلق ایس او پیز پر کام کر رہی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہم نے باقاعدگی سے چاروں صوبوں کیساتھ اجلاس کیے، کوئی بھی فیصلہ صوبوں کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا، تعلیم کے معاملے پر وفاق نے صوبوں کو اعتماد میں لیا، پاکستان نے کورونا سے نمٹنے کیلئے مثبت اقدامات کیے۔

    شفقت محمود کا کہنا تھا یکساں تعلیمی نصاب پر کام کیا، پہلی جماعت سے پانچویں تک یکساں نصاب بن گیا، ماڈل ٹیکسٹ بک بنا رہے ہیں جو ہمارے نصاب کی عکاسی کرے گی، اپریل 2021 میں پاکستان کے تمام سکولوں میں ایک ہی نصاب ہوگا
    واضح‌ رہے کہ اس سے پہلے واضح‌ رہے کہ پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے کہا ہے کہ وفاق کے ساتھ مل کر 15 ستمبر کو سکول کھولنے کا حتمی فیصلہ ہو گا۔ کلاسز میں بچوں کی حاضری اور اوقات کار پر مشاورت جاری ہے۔ ایک کلاس کو ہفتے میں تین دن بلانے کی تجویز ہے۔

    پنجاب کے صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن مراد راس نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی سکول انتظامیہ یا ایسوسی ایشن حکومت سے زیادہ طاقتور نہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کہتے ہیں جو 15 ستمبر سے پہلے سکول کھولے گا سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ سکولز کھلنے کی صورت میں بچوں کو شفٹوں میں بلانے کی تجویز ہے۔

  • یکم محرم 24 ھجری یوم شہادت عمر بن خطاب❤ تحریر: حسن ملک

    یکم محرم 24 ھجری یوم شہادت عمر بن خطاب❤ تحریر: حسن ملک

    یکم محرم 24 ھجری یوم شہادت عمر بن خطاب❤ تحریر: حسن ملک

    ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ 20 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ۔۔
    23 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ۔۔
    ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ۔۔
    ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ۔۔
    ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ ۔۔
    ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ۔۔
    ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﮐﺎ ﺭﺥ کیا ۔۔
    ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ ۔۔
    ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ ۔۔
    ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ۔۔
    ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ۔۔
    ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ۔۔
    ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ۔۔
    ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ۔۔
    ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ۔۔
    ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ۔۔
    ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ۔۔
    ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ۔۔
    ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎ دیا
    ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ۔۔
    ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﮍ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ ۔۔
    ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔
    ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔۔
    ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔۔
    ﺟﺐ ﮐﮧ ایلگزینڈر ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ۔۔
    ﻋﻤﺮ بن خطاب ﮐﯽ 7 نسلوں ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ نہ ﮔﺰﺭﺍ تھا
    عمر فاروق ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔
    عمر بن خطاب ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ۔۔
    ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔۔
    ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻﮐﮫ ۔۔
    ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔۔
    ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ
    10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ۔۔
    ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ۔۔
    ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔۔

    ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ۔۔
    ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ ۔۔
    ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ بن خطاب ﻧﮯﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩیئے
    ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ ۔۔
    • ﺳﻦ ﮨﺠﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺟﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔۔
    • خطوط پر تاریخ لکھنے ﮐﺎ آغاز ﮐﯿﺎ۔۔
    • ڈاک خانہ اور ڈاکیا کا نظام بنایا ۔۔
    • ﺟﯿﻞ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔۔
    • ﻣﻮٔﺫﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯿﮟ ۔۔
    • ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪ ﻭ ﺑﺴﺖ ﮐﺮﺍﯾﺎ.۔
    • ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔۔
    • ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔۔
    • ﺍٓﺏ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺍﯾﺎ۔۔
    • ﻓﻮﺟﯽ ﭼﮭﺎﻭٔﻧﯿﺎﮞ ﺑﻨﻮﺍﺋﯿﮟ ۔۔
    ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔۔
    • ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺑﭽﻮﮞ، ﻣﻌﺬﻭﺭﻭﮞ، ﺑﯿﻮﺍﻭٔﮞ
    ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍﻭٔﮞ ﮐﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﻣﻘﺮﺭ کئے ۔۔
    •ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺎﺛﮯ ﮈﮐﻠﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺩﯾﺎ۔۔
    •ﺑﮯ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔۔
    • ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﻼﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﺎﻭٔﻧﭩﺒﻠﭩﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔
    • ﺗﺠﺎﺭﺗﯽ ﻗﺎﻓﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﮐﯿﺪﺍﺭﯼ ﮐﺮنے کا نظام دیا۔۔

    ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ۔۔
    تو ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ سامنے ۔
    ﭘﮩﺎﮌ ﮐا ﮐﻨﮑﺮ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﮔﺎ ۔۔
    ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ۔۔
    ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ 5 ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ۔۔
    ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ۔۔
    ﺟﺲ ﺟﺲ ﺧﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﺠﻮﺍﯾﺎ ۔
    ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ، ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺍٓﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔
    ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ۔۔
    ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ
    ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔۔
    یکم محرم کو ﺍٓﺝ اس امیر المومینین کا یوم شہادت ہے ۔۔
    جس کے لیے تاریخ دان کہتے ہیں ۔۔

    اسلام میں ایک عمر اور ہوتا تو دنیا میں صرف اسلام ہوتا