Baaghi TV

Category: بلاگ

  • زمبابوے کا 4 وکٹ کے نقصان پر سفر جاری

    زمبابوے کا 4 وکٹ کے نقصان پر سفر جاری

    زمبابوے کا 4 وکٹ کے نقصان پر سفر جاری
    باغی ٹی وی : پاکستان ٹیم کے ہدف کے تعاقب میں زمبابوے نے 4 وکٹ کے نقصان پر 161 رنز بنا لیے ، برینڈن ٹیلر نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے 71 رنز بنائے. ویسلے نے 24 رنز بنائے. زمبابوے کے اوپنر بلے باز اچھی کارکردگی فراہم نہ کر سکے . 30 کے سکور پر 2 وکٹ گر چکی تھیں تاہم کریگ نے 45 رنز کی اچھی اننگ کھیلی ، شاہین آفریدی نے 2 جبکہ حارث رؤف نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا وہاب ریاض نے 2 بلے باز آؤٹ کر دیے. اس وقت ولیم اور ویسلے کریز پر ہیں،

    اس سے قبل پاکستان نے زمبابوے کو 281رنز کا ہدف دیا اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے ، امام الحق نے ففٹی مکمل کر لی اور رن آوٹ ہوئے.ا ن سےپہلے اوپنرعابد علی 21رنزبنا کرآؤٹ ہوئے جبکہ دوسرے اوپنرامام الحق 58 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 75 گیندوں پرمشتمل اپنی اننگزمیں چھ چوکے لگائے۔ حارث سہیل 41 رنز پر کھیل رہے ہیں .رضوان 14 رنز بنائے.نئے آنے والے کھلاڑی افتخار احمد ہیں، آخری بیٹس مین حارث سہیل نے 72 رنز بنائے.
    قومی ٹیم نے ٹاس جیت کر پر اعتماد انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا۔ اوپنر بلے باز امام الحق اور عابد نے 47 رنز کی شرکت داری قائم کی، عابد علی 21 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹے، انہیں کارل مومبا نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔

    پاکستان کی دوسری وکٹ 89 رنز پر گری، کپتان بابر اعظم بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور صرف 19 رنز بنا کر موزرابانی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ امام الحق 58 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 6 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بنائے۔

    حارث سہیل نے ٹیم کو سہارا دیا اور 71 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، انہوں نے اپنی اننگز میں 6 چوکے اور 2 چھکے لگائے۔ محمد رضوان 14، افتخار احمد 12 اور فہیم اشرف 23 رنز بنا کر پویلین لوٹے

  • زمبابوے ہدف کے تعاقب میں رواں‌دواں

    زمبابوے ہدف کے تعاقب میں رواں‌دواں

    زمبابوے ہدف کے تعاقب میں رواں‌دواں
    باغی ٹی وی :پاکستان ٹیم کے دیے گئے ہدف کے تعاقب میں زمبابوے نے بہتر آغاز کر دیا ، 3 وکٹ کے نقصان پر سینچری مکمل کر لی، زمبابوے کے اوپنر بلے باز اچھی کارکردگی فراہم نہ کر سکے . 30 کے سکور پر 2 وکٹ گر چکی تھیں تاہم کریگ نے 45 رنز کی اچھی اننگ کھیلی ، شاہین آفریدی نے 2 جبکہ حارث رؤف نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا . اس وقت ولیم اور ٹیلر کریز پر ہیں
    اس سے قبل پاکستان نے زمبابوے کو 281رنز کا ہدف دیا اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے ، امام الحق نے ففٹی مکمل کر لی اور رن آوٹ ہوئے.ا ن سےپہلے اوپنرعابد علی 21رنزبنا کرآؤٹ ہوئے جبکہ دوسرے اوپنرامام الحق 58 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 75 گیندوں پرمشتمل اپنی اننگزمیں چھ چوکے لگائے۔ حارث سہیل 41 رنز پر کھیل رہے ہیں .رضوان 14 رنز بنائے.نئے آنے والے کھلاڑی افتخار احمد ہیں، آخری بیٹس مین حارث سہیل نے 72 رنز بنائے.
    قومی ٹیم نے ٹاس جیت کر پر اعتماد انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا۔ اوپنر بلے باز امام الحق اور عابد نے 47 رنز کی شرکت داری قائم کی، عابد علی 21 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹے، انہیں کارل مومبا نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔

    پاکستان کی دوسری وکٹ 89 رنز پر گری، کپتان بابر اعظم بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور صرف 19 رنز بنا کر موزرابانی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ امام الحق 58 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 6 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بنائے۔

    حارث سہیل نے ٹیم کو سہارا دیا اور 71 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، انہوں نے اپنی اننگز میں 6 چوکے اور 2 چھکے لگائے۔ محمد رضوان 14، افتخار احمد 12 اور فہیم اشرف 23 رنز بنا کر پویلین لوٹے

  • پاکستان نے  زمبابوے کو ہدف دے دیا

    پاکستان نے زمبابوے کو ہدف دے دیا

    پاکستان نے زمبابوے کو ہدف دے دیا.
    باغی ٹی وی:پہلا ون ڈ ے، پاکستان نے زمبابوے کو 281رنز کا ہدف دے دیا.ہے اور اس کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے ، امام الحق ففٹی مکمل کر کے رن آوٹ ہوئے.ا ن سےپہلے اوپنرعابد علی 21رنزبنا کرآؤٹ ہوئے جبکہ دوسرے اوپنرامام الحق 58 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 75 گیندوں پرمشتمل اپنی اننگزمیں چھ چوکے لگائے۔ حارث سہیل 41 رنز پر کھیل رہے ہیں .رضوان 14 رنز بنائے.نئے آنے والے کھلاڑی افتخار احمد ہیں، آخری بیٹس مین حارث سہیل نے 72 رنز بنائے.
    قومی ٹیم نے ٹاس جیت کر پر اعتماد انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا۔ اوپنر بلے باز امام الحق اور عابد نے 47 رنز کی شرکت داری قائم کی، عابد علی 21 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹے، انہیں کارل مومبا نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔

    پاکستان کی دوسری وکٹ 89 رنز پر گری، کپتان بابر اعظم بڑی اننگز نہ کھیل سکے اور صرف 19 رنز بنا کر موزرابانی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ امام الحق 58 رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 6 چوکوں کی مدد سے 58 رنز بنائے۔

    حارث سہیل نے ٹیم کو سہارا دیا اور 71 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، انہوں نے اپنی اننگز میں 6 چوکے اور 2 چھکے لگائے۔ محمد رضوان 14، افتخار احمد 12 اور فہیم اشرف 23 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔

    زمبابوے کی جانب سے موزرابانی اور ٹینڈائی چسرو نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سکندر رضا اور کارل مومبا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

    زمبابوے کی قیادت کے فرائض چامو چیبھابھا انجام دے رہے ہیں۔ دیگر کھلاڑیوں میں برینڈن ٹیلر، شان ولیمز، سکندر رضا، برائن چاری، ٹینڈائی چسرو، کریگ ارون، کارل مومبا، ویسلے مدھویری، بلیسنگ موزرابانی اور رچرڈ نگروا شامل ہیں۔

    یاد رہے پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دوسرا میچ یکم نومبر اور آخری ایک روزہ میچ تین نومبر کو ہوگا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹی ٹونٹی میچ 7 نومبر، دوسرا 8 نومبر اور تیسرا 10 نومبر کو راولپنڈی میں ہوگا۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان اب تک 59 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے 52 میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے، ایک میچ برابر اور دو بے نتیجہ رہے

    اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر زمبابوے کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے ،پاکستان کی قیادت بابر اعظم اور زمبابوے کی قیادت چمو چبھابھا کررہے ہیں

    کپتان قومی ٹیم کا کہنا تھا کہ وکٹ کافی اچھی لگ رہی ہے،کوشش ہے اچھی پارٹنر شپ کریں،زمبابوے کو بڑا ٹارگٹ دینے کی کوشش کریں گے،ٹیم میں 4فاسٹ باوَلر شامل کیے ہیں،زمبابوے کےخلاف پہلے ون ڈے میں حارث روَف ڈیبیو کریں گے.
    پاکستان کی جانب سے حارث رؤف ایک روزہ کرکٹ میں ڈیبیو کر رہے ہیں جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں عابد علی، امام الحق، حارث سہیل، محمد رضوان، افتخار احمد، فہیم اشرف، عماد وسیم، وہاب ریاض اور شاہین آفریدی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان 13 ماہ بعد ایک روزہ میچ کھیل رہا ہے جب کہ زمبابوے کی ٹیم نے کورونا کی وجہ سے کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہونے سے قبل مارچ میں زمبابوے کے خلاف تین روزہ میچوں کی سیریز کھیلی تھی۔

  • بلے بازوں نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا

    بلے بازوں نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا

    بلے بازوں نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا
    باغی ٹی وی : پاکستان نے 6 وکٹ کے نقصان پر ڈبل سینچری بنا لی، جبکہ 38 اوورز مکمل ہو گئے ہیں امام الحق نے ففٹی مکمل کر لی اور رن آوٹ ہوئے.ا ن سےپہلے اوپنرعابد علی 21رنزبنا کرآؤٹ ہوئے جبکہ دوسرے اوپنرامام الحق 58 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 75 گیندوں پرمشتمل اپنی اننگزمیں چھ چوکے لگائے۔ پاکستان نے 42اوورز میں اب تک 205 رنزبنا لیے ہیں۔حارث سہیل 41 رنز پر کھیل رہے ہیں .رضوان 14 رنز بنائے.نئے آنے والے کھلاڑی افتخار احمد ہیں، آخری بیٹس مین حارث سہیل نے 72 رنز بنائے

    اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر زمبابوے کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے ،پاکستان کی قیادت بابر اعظم اور زمبابوے کی قیادت چمو چبھابھا کررہے ہیں

    کپتان قومی ٹیم کا کہنا تھا کہ وکٹ کافی اچھی لگ رہی ہے،کوشش ہے اچھی پارٹنر شپ کریں،زمبابوے کو بڑا ٹارگٹ دینے کی کوشش کریں گے،ٹیم میں 4فاسٹ باوَلر شامل کیے ہیں،زمبابوے کےخلاف پہلے ون ڈے میں حارث روَف ڈیبیو کریں گے.
    پاکستان کی جانب سے حارث رؤف ایک روزہ کرکٹ میں ڈیبیو کر رہے ہیں جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں عابد علی، امام الحق، حارث سہیل، محمد رضوان، افتخار احمد، فہیم اشرف، عماد وسیم، وہاب ریاض اور شاہین آفریدی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان 13 ماہ بعد ایک روزہ میچ کھیل رہا ہے جب کہ زمبابوے کی ٹیم نے کورونا کی وجہ سے کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہونے سے قبل مارچ میں زمبابوے کے خلاف تین روزہ میچوں کی سیریز کھیلی تھی۔

  • گرین شرٹس کی تیسری  وکٹ بھی گر گئی

    گرین شرٹس کی تیسری وکٹ بھی گر گئی

    گرین شرٹس کی 3 وکٹ بھی گر گئی
    باغی ٹی وی : پاکستان نے 3 وکٹ کے نقصان پر سینچری مکمل کر لی اور ٹیم کے 159رنز ہوئے ،امام الحق نے ففٹی مکمل کر لی اور رن آوٹ ہوئے.ا ن سےپہلے اوپنرعابد علی 21رنزبنا کرآؤٹ ہوئے جبکہ دوسرے اوپنرامام الحق 58 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 75 گیندوں پرمشتمل اپنی اننگزمیں چھ چوکے لگائے۔ پاکستان نے 29 اوورز میں اب تک 143 رنزبنا لیے ہیں۔حارث سہیل 41 رنز پر کھیل رہا ہے.رضوان 12 پر کریز پر موجود ھے

    ٹیمیں سٹیڈیم مین پہنچ گئی ہیں، پاکستان نے ٹاس جیت کر زمبابوے کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے ،پاکستان کی قیادت بابر اعظم اور زمبابوے کی قیادت چمو چبھابھا کررہے ہیں

    کپتان قومی ٹیم کا کہنا ہے کہ وکٹ کافی اچھی لگ رہی ہے،کوشش ہے اچھی پارٹنر شپ کریں،زمبابوے کو بڑا ٹارگٹ دینے کی کوشش کریں گے،ٹیم میں 4فاسٹ باوَلر شامل کیے ہیں،زمبابوے کےخلاف پہلے ون ڈے میں حارث روَف ڈیبیو کریں گے.
    پاکستان کی جانب سے حارث رؤف ایک روزہ کرکٹ میں ڈیبیو کر رہے ہیں جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں عابد علی، امام الحق، حارث سہیل، محمد رضوان، افتخار احمد، فہیم اشرف، عماد وسیم، وہاب ریاض اور شاہین آفریدی شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان 13 ماہ بعد ایک روزہ میچ کھیل رہا ہے جب کہ زمبابوے کی ٹیم نے کورونا کی وجہ سے کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہونے سے قبل مارچ میں زمبابوے کے خلاف تین روزہ میچوں کی سیریز کھیلی تھی۔

  • ََ’احساس’ سو لفظی کہانی تحریر حماد رزاق چدھڑ

    ََ’احساس’ سو لفظی کہانی تحریر حماد رزاق چدھڑ

    دیکھو یار چاروں طرف سے جھنڈیاں اور لائٹیں کتنی چمک رہی ہیں۔ دس سالہ اکرم اور فیضان آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔
    محسن رکو ذرا ! کہاں سے آ رہے ہو ؟
    فیضان نے اپنے دوست محسن کا راستہ کاٹتے ہوئے کہا۔
    یار ! ساری گلی روشنیوں سے جگمگا رہی ہے صرف آپ کے گھر کے سامنے لائٹیں نہیں لگی ہوئیں ؟
    بھائی ! ”بابا نے مجھے دو ہزار روپے سجاوٹ کے دیے تھے میں لائٹیں لینے جا رہا تھا تو رستے میں ایک بزرگ سردی سے کانپ رہا تھا میں نے اسے دو ہزار کا کمبل لا کے دے دیا ہے۔“

  • پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے، 15 رکنی سکواڈ کا اعلان ہو گیا

    پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے، 15 رکنی سکواڈ کا اعلان ہو گیا

    پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پہلا ون ڈے، 15 رکنی سکواڈ کا اعلان ہو گیا

    پاکستان اور زمبابوے کے درمیان سیریز کا پہلا ون ڈے کل راولپنڈی میں کھیلا جائے گا، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سکوارڈ کا اعلان ہو گیا ، پہلے ون ڈے کیلئے پاکستان کا 15 رکنی دستہ ان کھلاڑیون پر مشتمل ہے

    1.امام الحق2. عابد علی3فخر زمان4. بابر اعظم۔ کپتان5. حارث سہیل6. محمد رضوان۔ 7. افتخار احمد8. خوشدل شاہ9. فہیم اشرف10. عماد وسیم11. عثمان قادر12. وہاب ریاض13. شاہین شاہ آفریدی14. حارث رؤف15. موسیٰ خان
    نائب کپتان شاداب خان فٹنس مسائل کے باعث نمائندگی نہیں کر سکیں گے، قومی ٹیم کا اعلان آج ہو گا۔

    راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کل دوپہر بارہ بجے پاکستان اور زمبابوے کا آمنا سامنا ہو گا، دونوں ٹیموں کی تیاریاں مکمل ہو گئیں، پلان بھی فائنل کر لیے۔ نائب کپتان شاداب خان بائیں ٹانگ میں کھچاؤ کے باعث آؤٹ ہو گئے۔

    قومی ٹیم کا اعلان آج کپتان بابر اعظم کر رہے ہیں، ٹی ٹوئنٹی کپ میں بہترین کارکردگی دکھانے والے نوجوان کھلاڑیوں کو نمائندگی ملنے کا امکان ہے

  • ہیپی برتھ ڈے مریم نواز پاکستان کے ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ

    ہیپی برتھ ڈے مریم نواز پاکستان کے ٹوئٹر پینل پر ٹاپ ٹرینڈ

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز آج اپنی 47 ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :28اکتوبر 1973 مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق صدر نواز شریف اور بیگم کلثوم کے گھر پیدا ہونے والی مریم نواز آج اپنی 47 ویں سالگرہ منا رہی ہیں-

    ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے افسوسناک واقعے کے باعث مریم نواز کی سالگرہ کی تمام تقریبات منسوخ کردی گئیں ہیں۔

    ٹوئٹر پر لیگی کارکنان اپنی لیڈر کو سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور اسی حوالے سے ایک ٹرینڈ بھی ’#HBDMaryamNawaz‘ پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر سرفہرست ٹرینڈز میں شامل ہے۔

    مذکورہ ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے مریم نواز کے چاہنے والے انہیں سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور اُن کی یادگار تصویریں بھی شیئر کررہے ہیں۔

    حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ مریم بی بی نے پشاور دھماکے کے سوگ میں غمزدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیلئے اپنی سالگرہ کی تمام تقریبات منسوخ کردیں۔


    حنا بٹ نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ پارٹی ورکرز نے مریم بی بی کی سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریب کا اہتمام کررکھا تھا۔

    اپنی ایک اور ٹوئٹ میں حنا پرویز نے مریم نواز کی تصاویر کا ایک کولاج شئیر کرتے ہوئے کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ آج اس بہادر خاتون کی سالگرہ ہے جس نے پاکستان کے لوگوں کوخوف کی زنجیریں توڑنا سکھایا۔اسے ڈرایا ،دھمکایا گیا مگر وہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی سے نہیں ڈرتی۔


    لیگی رہنما نے لکھا کہ میں کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کو مریم نواز کی صورت میں مستقبل کی لیڈر مل گئی۔ مستقبل کی وزیراعظم کو سالگرہ مبارک-

    https://twitter.com/S_RAJ5/status/1321319574449623040?s=20
    مریم نواز کے مداح ان کی بچپن سے اب تک کے زندگی کے سفر کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرتے ہوئے مریم نواز کو سالگرہ کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ متعدد ٹوئٹر صارفین نے مریم نواز کو پاکستان کی مستقبل کی وزیراعظم قرار دیا-
    https://twitter.com/AizaMalik22/status/1321326497165180928?s=20


    https://twitter.com/Hafsa_RG/status/1321314499517915136?s=20


    https://twitter.com/R_ShoaibWardag/status/1321374040850944001?s=20

    واضح رہے کہ رواں ہفتے لاہور سے کوئٹہ جاتے ہوئے مریم نواز پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنی سالگرہ کیا کیک کاٹا تھا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو ئیں تھیں جبکہ اس سے قبل بھی گوجرانوالہ میں بھی پارٹی کارکنو‌ں کے ساتھ مل کر اپنی سالگرہ کا کیک کاٹا تھا-

    خیال رہے کہ مریم نواز 28اکتوبر 1973 میں پیدا ہوئیں اور 1992 میں کیپٹن (ر) صفدر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

    2013 میں اپنے والد میاں نواز شریف اور بعد ازاں ضمنی انتخابات میں اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز مرحومہ کی انتخابی مہم بھی چلائی مریم نواز چئیر پرسن آف شریف ٹرسٹ، شریف میڈیکل سٹی اور شریف ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ کےعہدوں پر بھی فائز رہیں۔

    مریم نواز 25 جولائی کو ہونے والے الیکشن میں 127 اور پی پی 173 سے مسلم لیگ ن کی جانب سے امیدوار تھیں تاہم عدالت سے نااہل ہونے کے بعد وہ الیکشن نہیں لڑسکیں۔

    مدرسہ دھماکہ،سانحہ اے پی ایس کے دکھ تازہ ہو گئے، نواز شریف

    مدرسہ دھماکہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مریم نواز

    کوئٹہ جلسے میں مریم نوازکو بلوچی چادر پیش کرنے والا نامی گرامی مجرم نکلا

    مریم کی نیب پیشی پر ہنگامہ آرائی کیس، ن لیگی کارکن کی درخواست ضمانت خارج

    مریم نوازنےسالگرہ کا کیک کاٹ کرکارکن کے منہ ڈالا،کیپٹن صفدردیکھتےرہ گئے،ایک ہفتے…

     

  • یہ کون لوگ ہیں؟   ازقلم: شاہین

    یہ کون لوگ ہیں؟ ازقلم: شاہین

    بچے تو بچے ہوتے ہیں
    بہت معصوم سے پھول
    اور
    طالب علم بھی سب طالب علم ہوتے ہیں
    علم کی چاہ میں چلنے والے مسافر
    ایک ہی ملک
    ایک ہی شہر
    ایک ہی مذہب
    کے
    دو ادارے
    ایک مدرسہ
    ایک سکول
    دونوں سانحات کا منبع بھی ایک ہی

    لیکن!!!

    یہ کوووووون لوووووگ ہیں
    جو
    ان سانحات کو بھی اپنے مقاصد میں استعمال کرنا چاہتے ہیں
    جو مدرسے اور سکول کے طالب علموں میں تفرقہ پھیلا کر میرے وطن کو ایک گہری سازش کی نذر کرنے میں ممد و معاون ثابت ہورہے ہیں
    دشمن تب بھی وہی تھا
    دشمن آج بھی وہی ہے
    وار تب بھی وہی تھا
    وار آج بھی وہی ہے

    خدارا!!!!!
    اس وطن عزیز کو ایک اور اندھی فرقہ واریت/خانہ جنگی جیسی خونی صورتحال میں نا دھکیلیں۔
    سوشل میڈیا کے دانشورو
    خدارا تمہاری دانشوری کو اور میدان بہت ہیں
    میرا وطن لہو لہو ہے
    ان گنت قربانیوں کے بعد دہشت گردانہ حملوں سے پاک ہوا تھا اب خدارا ایک اور جنگ نا کھڑی کرو

    خدارا
    تمہاری قرآن سے محبت اپنی جگہ
    مدارس میرا بھی عشق وجنون ہیں
    لیکن
    ہوش کے ناخن لو
    جذباتیت اور اندھی تقلید
    یا ریٹنگ کے چکر میں اس کلمے والی دھرتی کو تباہ نا کرو
    حکمرانوں سے تمہارے اختلافات اپنی جگہ
    محکموں سے شکایات اپنی جگہ
    لیکن ہوچھو ان ماؤں سے جن کے جوان اس سوہنی دھرتی کو بچانے میں شہید ہوئے
    پوچھو
    اس آزادی کی قدر
    اس دھرتی کی قیمت
    مقبوضہ کشمیر کی ماؤں بہنوں بیٹیوں بوڑھوں جوانوں سے جو اس دھرتی کی محبت میں جو اس سرزمین کی آرزو میں جو اس سبز ہلالی اور کلمے کے نام پہ حاصل ہونے والے ٹکڑے کی خاطر کٹے چلے جارہے ہیں
    پوچھو ان سے جنہوں نے خاندان کٹوا کر یہ دھرتی حاصل کی
    پوچھو ان معصوم بچوں سے جو اپنے بابا کی وردی پہ فخر کرتے ہیں اور صرف وہ وردی ہی ان کی امید ہے ان کا یقین ہے کہ ان کے بابا اس پاک دھرتی کی بقاء کی خاطر شہید ہوئے ہیں
    پوچھو اس ماں سے جس کا جوان اکلوتا بیٹا اس کا آخری سہارا اس وطن پہ قربان ہوا
    کوئی میجر جرنل کرنل نائیک حوالدار سپاہی سب کے سب
    دو چار کی غداری کی سزا اس وطن کو نا دو خدارا
    تم اپنے گریبان میں جھانکو تم بھی مکمل نہی ہو
    کتنی کوتاہیاں تمہارے اندر ہیں
    سمجھو
    خدارا سمجھو!!!!!
    جاؤ پڑھو تاریخ
    سمجھو دشمن کی چال
    کہ کیسے ہنستا ہے وہ تم پہ کہ گھر بھی اپنا جلاتے ہیں
    تمہاری جذباتیت کو آگ لگا کر تمہارا نشیمن بھی تمہارے ہاتھوں تباہ کرتے ہیں اس گلشن کی جڑوں کو کھوکھلا بھی تم سے کرواتے ہیں

    ارے او نام نہاد دانشوروں
    اپنی دانشوری کسی اور موقعے کے لئے اٹھا رکھو
    اپنے گھر کی ساس بہو کی لڑائیوں پہ اس دانشوری کو جھاڑ لو
    میرے وطن کو اپنی اس دانشوری سے معاف ہی رکھو
    خدا تمہارا بھلا کرے!!!!!
    @درد_ملت
    شاہین؂ کے قلم سے

  • ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت   از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ریاست مدینہ بے مثال اسلامی مملكت از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    ریاست مدینہ۔۔۔۔۔۔ بے مثال اسلامی مملكت

    از قلم عظمی ناصر ہاشمی

    وادی بطحا کے پہاڑوں سے آواز بلند ہو رہی تھی…………
    عرب کے لوگو!
    ” یہ رہا تمہارا نصیب جس کا تم انتظار کر رہے تھے”
    ۔اہل علاقہ کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ لوگ اپنے ہتھیار سجاکر اپنے محبوب کے استقبال کے لیے یثرب کے ٹیلوں کی جانب دوڑ پڑے ۔یہ ایک تاریخی دن تھا ۔جس کی مثال سرزمین مدینہ میں کبھی نہ ملی تھی-

    ۔گلی کوچے تقدیس و تحمید کے کلمات سے گونج رہے تھے۔

    چھوٹی چھوٹی معصوم بچیاں خوشی اور مسرت کے نغمے گا رہی تھیں۔

    اشرق البدر علینا من ثنیہ الوداع

    ثنیہ کی پہاڑیوں کی جانب سے ہم پر چودھویں کا چاند ظاہر ہوا

    وجب الشکر علینا ما دعا للہ داعی

    کیا عمدہ دین اور تعلیم ہے جس کی وجہ سے ہم پر اللہ کا شکر لازم ہے

    ایھا المبعوث فینا۔۔۔۔۔جئت بالامرالمطاع

    تیرے حکم کی اطاعت ہم پر فرض ہے ۔اے! ہم میں بھیجے جانے والے ۔

    جی ہاں !
    یہ پرجوش اور پرتکلف استقبال محمد عربی، والی بطحا ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہو رہا تھا ۔آپ کا مکہ سے مدینہ أنا ‘ ان مع العسر یسرا ” کی تفسیر ثابت ہوا تھا ۔
    ایسا پروٹوکول کبھی کسی بڑے سے بڑے سیاستدان کو بھی نہیں ملا جو آپ کے نصیب میں رکھ دیا گیا ۔اس شہر میں آ جانے سے ان تمام زخموں پر مرہم لگ گیا جو کفار مکہ کے ہاتھوں آپ کو اور آپ کے صحابہ کو لگائے گئے تھے ۔یہاں آکر مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا
    "ابن قیم "کے مدینہ پہنچنے کے خوبصورت منظر کو یوں بیان کرتے ہیں۔
    ” بنی عمرو بن عوف قبیلہ ساکنان قبا میں شور بلند ہوا زوردار تکبیر کی آواز سنی گئی مسلمان آپ کی آمد کی خوشی میں نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے استقبال کے لیے نکل کھڑے ہوئے پھر آپ سے مل کر تحیہ نبوت پیش کیا ۔اور آپ کے اردگرد پروانوں کی طرح کھڑے ہو گئے اس وقت آپ پر سکینت نازل ہوئی اور یہ وحی اتری ۔
    فان اللہ ھو مولاہ وجبریل و صالح المومنین والملئکہ بعد ذلک ظہیرا۔
    پس اللہ آپ کا کارساز ہے اور جبرائیل علیہ السلام اور صالح مومنین بھی اور اس کے بعد فرشتے بھی آپ کے مددگار ہیں۔”

    مکہ سے مدینہ ہجرت کا دشوار گزار سفر محض ایک تفریحی سفر نہ تھا بلکہ اس سفر نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی۔ اور عرب کی سیاسی و تاریخی اہمیت کو یکسر بدل کے رکھ دیا ۔
    ایک اسلامی مملکت کے قیام کے بعد اس کے اندرونی اور بیرونی نظام کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی کرنا ناگزیر ہے ۔

    آئیے ہم اس سیاست پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں ۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس شہر کا نام یثرب تھا۔ آپ کے یہاں پہنچنے پر اس کا نام مدینہ الرسول رکھ دیا گیا ۔یہ اسلام کا پہلا گڑھ تھا جہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ رہائش اختیار کر کے پہلی سلطنت اسلامیہ کی بنیاد رکھی ۔

    عزیز قارئین !

    یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں آنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ آپ سکون سے اپنے حجرے میں بیٹھ کر عبادت کرتے اور آرام کرتے کیونکہ یہاں آپ کے حامیوں کی تعداد انصار و مہاجرین کی صورت میں بہت زیادہ تھی لیکن آپ کو یہ گوارا نہ تھا اور ہر دن آپ مسلمانوں کی فلاح اور اسلام کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہے ۔

    مدنی دور کو ہم تین ادوار پر تقسیم کر سکتے ہیں ۔

    نمبر (1 )پہلا مرحلہ( سن 1 ہجری سے سن 6ہجری )

    نمبر (2 )دوسرا مرحلہ( 6 ہجری سے آٹھ ہجری تک)

    نمبر( 3) تیسرا مرحلہ( 8 ہجری سے حیات اخیریعنی 11 ہجری تک )

    پہلا مرحلہ

    💫تعمیر مسجد نبوی ۔۔۔۔۔۔۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہی مدینہ میں رہائش پذیر ہوئے اور جہاں آپ کی اونٹنی بیٹھی تھی وہاں آپ نے مسجد نبوی کی تعمیر کرنا شروع کی اور یہ ثابت کیا کہ ایک اسلامی ریاست میں مساجد اور مدارس بہت اہمیت کے حامل ہیں اور بنفس نفیس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ۔ آپ نے اینٹ اور پتھر بذات خود ڈھوۓ-

    مسجد نبوی محض نماز ادا کرنے کے لیے ہی نہ تھی بلکہ اسلامی تعلیمات و ہدایات کا مرکز بھی تھی ۔ اور أپ نے مسجد نبوی سے ملحق ” الصفہ” کے نام سے ایک چبوترہ قائم کیا۔ اس مدرسہ میں صحابہ کرام دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے ۔ اور وہ فقراء و مساکین کا مسکن بھی تھا جن کا نہ کوئی اہل وعیال تھا اور نہ گھر بار۔
    علاوہ ازیں اس کی حیثیت ایک پارلیمنٹ کی تھی جس میں مجلس شوری اور مجلس انتظامیہ کے اجلاس ہوا کرتے تھے ۔

    💫محبت و بھائی چارہ

    جس طرح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کا اہتمام کیا اس طرح آپ نے انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا کر ایک اسلامی ریاست کے لیے اخوت و اتحاد کی فضاء قائم کی اور واضح کیا کہ ایک ریاست کی ترقی اور استحکام کے لیے اتحاد ایک مضبوط کڑی ثابت ہوتا ہے۔

    جس قوم اور مملکت میں نااتفاقی پیدا ہو جائے وہاں قوت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور بیرونی قوتیں اسے کچلنے کے لیے سر اٹھانے لگتی ہیں

    💫غیر مسلم قوتوں سے عہد و پیمان

    آپ نے اسلامی مملکت کو مزید مضبوط بنانے کے لئے یہودیوں سے معاہدے کئے تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور وقت آنے پر ان سے مالی اور جسمانی مدد بھی لی جا سکے یعنی اپنے فائدے کے لیے کفار سے معاہدے کئے جا سکتے ہیں لیکن ساتھ ہی آپ نے یہ واضح کیا کہ وہ اپنے دین پر عمل کریں گے اور مسلمان اپنے دین پر ایسا نہیں ہے کہ ان سے مدد لیتے وقت ہم اپنا دین اور ایمان بھی ان کے ہاتھوں بیچ دیں اس معاہدے کے طے ہو جانے کے بعد مدینہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے وفاقی حکومت بن گئے اور مدینہ ان کا دارالحکومت تھا جس کے سربراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔

    💫سرایا اور غزوات

    مدینہ میں سکونت پذیر ہونے کے بعد آپ نے بہت سے سرایا اور غزوات کئے ۔ سرایا اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں نبی کریم صل وسلم نے بذات خود شرکت نہ کی بلکہ کسی صحابی کو سپہ سالار بنا کر بھیجا ہو اور غزوہ وہ جنگ جس میں بطور جرنیل آپ نے خود شرکت کی ہو۔ جب یہود و نصاریٰ فتنہ اور شر پھیلانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے لگے تو باوجود قوت اور مال و اسباب کی کمی کے آپ نے صحابہ کرام کے ساتھ مل کر ان کو بھرپور جواب دیا-

    غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق وغیرہ ان جنگوں کا مقصد کفر پر اسلام کا رعب اور غلبہ طاری کرنا تھا اور اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ کفر و اسلام کی جنگ روز اول تاروز آخر جاری رہنے والی ہے اور اہل اسلام کو اپنے مذہب کے دفاع کے لیے غیر مسلموں پر کڑی نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان سے جنگ کرنا ناگزیر ہے ۔

    💫بادشاہوں اور امراء کے نام خطوط
    6ہجری میں جب حضور صل وسلم حدیبیہ سے واپس تشریف لائے تو آپ نے مختلف بادشاہوں کے نام خطوط لیکر انہیں اسلام کی دعوت دی اور اس مقصد کے لیے آپ نے معلومات رکھنے والے تجربہ کار صحابہ کرام کو بطور قا صد منتخب فرمایا اور انہیں بادشا ہو ں کے پاس خطوط دے کر روانہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کے نامور شہنشاہوں جیسا کہ نجاشی شاہ حبش، مقوقس شاہ مصر، قیصر شاہ روم ، حارث حاکم دمشق، شاہ عمان کو خطوط کے ذریعے اسلام کی دعوت دی۔ ان خطوط کے ذریعے نبی صل وسلم نے اپنی دعوت روۓ زمین کے بیشتر بادشاہوں تک پہنچادی اس کے جواب میں کوئی ایمان لایا تو کسی نے کفر کیا-

    💫فتح مکہ

    17 رمضان 8 ہجری کو رسول اسلم مراؤ ا لظہران سے مکہ روانہ ہوئے آپ کے ہمراہ دس ہزار صحابہ کرام تھے اتنا بڑا لشکر دیکھ کر ابوسفیان پکار اٹھا ۔
    اے قریش کے لوگو !
    محمد ہمارے پاس بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ جس کی تم تاب نہیں لا سکتے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باآسانی مکہ کو فتح کرلیا اور انصار و مہاجرین کے جلو میں مسجد حرام تشریف لے گئے اور بیت اللہ کے گرد 360 بتوں کو کمان کی ٹھوکر مار کر ان کے چہروں کے بل گرا دیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے تھے۔
    جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زھوقا
    ” حق آگیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے والی چیز ہے”
    أپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفتح مکہ کی خوشی میں ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر آٹھ نوافل شکرانے کے پڑھے۔
    حاصل کلام یہ کہ ریاست مدینہ کے حکمران نے اپنی حکمرانی کے دوران جہد مسلسل کی اور اس بنیادی اسلامی سلطنت کو مزید مستحکم اورمضبوط بنانے میں دن رات ایک کر دیا ۔

    💫مکارم اخلا ق پر عمل درأمد

    علاوہ ازیں اپنے معاشرے کو ہر سماجی برائی سے پاک کر دیا کفر و شرک و بت پرستی قمارباز ی ،شراب نوشی، رشوت ستانی ,سودخوری ,چوری چکاری ,ذخیرہ اندوزی, زنا کاری اور فحاشی کا خاتمہ کیا آپ نے احتر ام انسانیت کا درس دیتے ہوئے انسان کو حیوانیت سے دور رہنا سکھایا ۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی اصلاح اور تربیت کے لیے کوشاں رہتے۔ انہوں نے آداب و اخلاق، بھائی چارگی ، محبت و اطاعت کے گر سکھا ئے ۔
    آپ نے فرمایا”
    اے لوگو !
    سلام پھلاؤ ،کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، صدقہ خیرات کرو، نماز روزے کی پابندی کرو ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق نسواں مقرر کرتے ہوئے تحفظ نسواں کا پرچار کیا ۔
    عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔
    اور شرعی حدود پر سختی سے عمل کروایا ۔
    اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کیا کہ ایک اسلامی حکومت کے حکمران کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اللہ کی بناۓ ہوۓ قوانین و عبادات پر عوام کو عمل کروائے۔ تاکہ معاشرہ بہتر ا قداروکردار کا مجسمہ بن جائے ۔
    پہلی اسلامی ریاست کا یہ حکمران اول بنی نوع انسان کے لئے رحمت للعالمین کا لقب لے کر دنیا میں تشریف لائے۔
    اور ہاں اسلامی اصلاحات کرنے سے پہلے ذاتی اسوہ حسنہ پیش کیا ۔۔۔جو کہا کر کے دکھایا ۔
    دنیا کا یہ عظیم تر حکمران آنے والے حکمرانوں کے لئے قیمتی قوانین اور اصطلاحات وضع کرکے اس دار فانی سے 63 سال کی عمر میں رخصت ہو گیا جو قیامت تک آنے والوں کے لئے مشعل راہ بن گئے ۔

    سوچنے کے لائق بات تو یہ ہے کہ ہم کس منہ سے ریاست مدینہ کی بات کر سکتے ہیں جبکہ ہم سے کسی ایک اسلامی قانون کی پاسداری بھی بہت دشوار ہے۔ دعا ہے کہا للہ پاک ہمیں ایسے حکمران عطا فرمائے جو ریاست مدینہ کے تصور کا پاس رکھ سکیں اور اسلام کو سر بلندی عطا کر سکیں۔ ( آمین)