Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل  تحریر:محمد نعیم شہزاد

    یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل تحریر:محمد نعیم شہزاد

    یکساں نصاب تعلیم، اہمیت، مسائل اور حل
    محمد نعیم شہزاد

    ملک پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے قدرتی وسائل سے تو مالا مال کیا ہی ہے ساتھ میں ایسے مفکر اور فلاسفر بھی عطا کر دیے ہیں کہ جو ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کو اپنا بنیادی حق تصور کرتے ہیں اور اپنی ہی رائے کو حتمی اور قابل عمل سمجھتے ہوئے ہر دوسرے شخص کی رائے کو بلا سوچے سمجھے مسترد کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پی ٹی آئی حکومت کے ویژن کے مطابق یکساں نصاب تعلیم کے مسئلے پر بھی ہوا۔ ویسے اگر حکومت اس مسئلہ پر بحث و مباحثہ کرنے کے لیے پبلک کال دے دے اور بحث میں شامل ہونے کے لیے پی پی ایس سی طرز کا ایک ٹیسٹ پاس کرنے کی شرط لازمی کر دے اور ٹیسٹ میں ناکام ہونے والوں کو بحث میں شمولیت سے محروم ہونے کے ساتھ بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے تو آج ہی ساری بحث ختم ہو جائے اور ہر طرف ہی اس پالیسی کے حامی نظر آنے لگیں۔

    یہ تو رہی بات ان معترضین کی کہ جن کو اعتراض کرنے میں ثواب دارین نظر آتا ہے ۔ اب کچھ جائزہ لیتے ہیں کہ یکساں نصاب تعلیم کی اہمیت و ضرورت کیا ہے۔ پاکستان میں اس وقت تعلیم کو کئی کیٹیگریز میں منقسم کر دیا گیا ہے۔ مدارس کا الگ نظام ہے اور سکولنگ میں اپنے بہت سے متنوع نظام ہائے کار اور نصاب رائج ہیں۔ جس کے باعث طبقاتی تقسیم، عدم اعتماد اور عدم مساوات کی فضا قائم ہے۔ تقسیم در تقسیم کے باعث آج ایک سسٹم کے تحت کسی بھی لیول کی تعلیم مکمل کرنے والا طالب علم دوسرے سسٹم کے نصاب تعلیم سے ان دیکھے خوف کا شکار نظر آتا ہے اور محض کتاب کا ٹائٹل ہی دیکھ کر اندازہ لگا لیتا ہے کہ یہ کتاب چونکہ میں نے نہیں پڑھی لہٰذا میں اس کے مندرجات کو نہیں جانتا۔ ایک عرصے سے شعبہ تعلیم سے وابستہ رہنے اور مختلف سسٹمز کے نصاب تعلیم کو دیکھنے، طلباء سے ڈسکشن اور شئیرنگ کی صورت میں میرا ان مختلف سسٹمز کے تحت چلنے والے اداروں کے نصاب اور طریقہ تعلیم سے واسطہ رہا ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق ملک میں چلنے والے تمام سسٹمز میں چونکہ ایک ہی نصاب (Curriculum) کو مدنظر رکھتے ہوئے کتب شامل تدریس کی جاتی ہیں لہٰذا ان کے مندرجات میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ اس میں استثنائی صورت صرف بعض اداروں کی سائنس کی کتب کے حوالے سے ہو سکتی ہے مگر اکثریت اداروں میں ایک جیسا ہی content پڑھایا جاتا ہے۔ اس میں جو سب سے بڑا فرق دیکھا جا سکتا ہے وہ approach کا ہے۔ بہت سارے اداروں میں امتحان میں اچھے گریڈ لینے کو معیار بنا لیا گیا ہے اور طلباء کو صرف ایک ہی مقصد کے تحت تیار کیا جاتا ہے کہ امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبر کس طرح حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے اداروں سے فارغ ہونے والے طلباء اچھے نمبر لے کر کامیاب تو ہو جاتے ہیں مگر علمی استعداد نا ہونے کے باعث مستقبل میں ناکام ہوتے ہیں۔ جبکہ بڑے پرائیویٹ اداروں کی بات کی جائے تو ان کی اپروچ based concept اور زیادہ practical ہے۔ جس کی وجہ سے طلباء کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے مگر ہماری قوم کا المیہ ہے کہ اسے achievement کا جنون کسی طرف سکون نہیں لینے دیتا۔ لہذا بڑی تعداد میں ان اداروں کے طلباء کے والدین انھیں گریڈز اور نمبروں کے چکر میں لے آتے ہیں اور ہمارے طلباء رٹا بازی کا سہارا لے کر بین الاقوامی تعلیمی نظام میں بھی نمبروں کے اعتبار سے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر اپنی صلاحیتوں کو زنگ آلود بنا لیتے ہیں۔

    تعلیم ہمارے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ جیسا کہ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :

    ’’تعلیم کے بغیر مکمل تاریکی تھی اور تعلیم سے روشنی ہے۔ تعلیم ہماری قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔‘‘

    ان سب حالات و واقعات میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنا بہت خوش آئند ہے اور امید افزا ہے۔ حکومت کو کسی قسم کا پریشر لیے بغیر اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے مگر ساتھ ہی ایجوکیشنل اپروچ میں بھی تبدیلی لائیں تاکہ نمبروں اور گریڈز کی رسیا قوم تعلیم کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکے اور اس سے کماحقہ مستفید بھی ہو۔ اس کے لیے نصاب کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے ہدایت نامے جاری کیے جائیں کہ کس سبق کو کس انداز سے پیش کیا جائے اور اس کے اہداف و مقاصد کیا ہوں گے اور ساتھ ہی ایک منصفانہ مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے جو طے کردہ پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اگر حکومت یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو یقیناً یہ ایک بڑی کامیابی اور بانئ پاکستان کے خواب کی تکمیل کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔

  • حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان   بقلم:جویریہ بتول

    حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان بقلم:جویریہ بتول

    حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ…!!!
    (بقلم جویریہ بتول)۔
    پیارے نبی کا پیارا…
    ریحان حسین ہیں…
    علی و فاطمہ کے دل کا…
    اک ارمان حسین ہیں…
    جنہیں گود میں بٹھا کر…
    پیارے نبی نے چوما…
    آنکھوں کی ہیں ٹھنڈ…
    اور جان حسین ہیں…
    کندھوں پر بٹھا کر…
    جھولا جنہیں جھُلایا…
    بانہوں میں جنہیں سمیٹا…
    وہ ذی شان حسین ہیں…
    حسین مجھ سے ہے…
    اور میں حسین سے ہوں…
    کہا نبی نے جنت میں…
    سردارِ نوجوانان حسین ہیں…
    علمی کمالات سے تھے جو مزین…
    دلائل وحق کی زبان حسین ہیں…
    جرأت و شجاعت کے پیکر…
    سخاوت کا بحرِ بیکراں حسین ہیں…
    صحابہ کے حصار میں…
    محبتیں جنہوں نے پائیں…
    ہر اہلِ ایمان کے دل کا…
    قرار و ایمان حسین ہیں…
    نانا کے نقشِ قدم پر…
    چلتے ہوئے اک سفر ہے…
    وقتِ کرب میں وفاؤں کا…
    بھاری سامان حسین ہیں…
    کوفی تھے جو لا یوفی…
    سازش تھی جو اندر…
    دکھائی نہ تھی کوئی…
    گرمی صحرا کی تھی…
    اور پریشان حسین ہیں…
    لبِ فرات پہ جو تھی…
    پیاس اور تشنہ لبی…
    چٹیل میدان میں کھڑے…
    کوہِ ہمت کا نشان حسین ہیں…
    قاتلوں کے تھے جو خنجر…
    وہ دل تھے کیسے بنجر…؟
    نبی کی گود میں پالے…
    نشانہ جہاں حسین ہیں…!
    وہ جاں نثار سا قافلہ…
    جو قلیل سا تھا کھڑا…
    کیسی بے مثل اطاعت تھی…؟
    واں قیادت کی داستان حسین ہیں…
    کیا چلتے ہوئے جو عزم تھا…!!!
    اور جو نرمی کا رنگِ رزم تھا…
    دمِ آخر تک صلح کی کاوشیں…
    رحم و مودت کا اک پیمان حسین ہیں…
    دھوکے سے تھا جو بلایا…
    غلط فہمیوں سے ستایا…
    اُن سازشیوں کے سامنے…
    بنے اک چٹان حسین ہیں…
    کربلا کی خاک پر ہےرقم…
    اک مظلومیت کی داستاں…
    اُس داستان کا روشن…
    عنوان حسین ہیں…
    شہادت کا تاج پہن کر…
    وہ جنت مکین ہوئے…
    مومنوں کے دلوں میں…
    آج بھی تاباں حسین ہیں…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی  تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    ناموسِ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین، فرقہ واریت اور حکومتی بے بسی
    تحریر: ابوھریرہ عاشق علی بخاری

    پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو نظریے کی بنیاد پہ قائم ہوئی ہے اور وہ نظریہ اسلام کا نظریہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے نازل فرمایا ہے. اسلام کی سچائی یا نظریہ پاکستان کی سچائی اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکتی جب تک آپ اس کے تعمیری کرداروں کو دل سے سچا، امانت دار اور مخلص قبول نہیں کرلیتے. ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی چیز کے وجود کا تو آپ اقرار کریں اور اس کے بنانے والے یا اس پر محنت کرنے والے کا انکار کردیں.
    اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے، جس طرح اس کے بہت زیادہ فضائل ہیں ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے اس دین کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے والوں کے بھی بے شمار فضائل بیان کیے ہیں. بلکہ ان کو تسلیم کرنا اور ان کی طرح ایمان لانا ہی قابل قبول ہے ورنہ آپ کے قول و عمل کی کچھ بھی حیثیت نہیں ہے. لیکن کچھ بدبخت حرمت والے عظیم مہینے میں بھی ان ہستیوں کی توہین، تذلیل کررہے ہیں حتی کہ ان کی توہین کو اپنی مذہبی عبادت بنا رکھا ہے اور یہ عمل ان لوگوں کے ساتھ کیا جارہا ہے جنہوں نے اپنا مال، جان، خون اور اولاد بھی اسلام کی تعمیر و ترقی لٹادی.
    بقول شاعر
    لٹا دے اپنی ہستی کو گر کچھ مرتبہ چاہیے.
    انہوں نے تو اپنے آپ کو کچھ سمجھا ہی نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی میں سب کچھ قربان کردیا. اس مہینے کی تعظیم میں یہودی، مشرک بھی قتل و غارت، لوٹ مار اور ایسا کو کوئی کام نہیں کرتے تھے کرتے تھے جو حرمت والے مہینوں کی شان کے خلاف ہو.
    لیکن ملکِ پاکستان جو نظریہ اسلام کی بنیاد پہ بنا اس کے دارالحکومت میں کھڑا ایک چوڑا، چمار خبیث النفس تمام حدیں پار کرتے ہوئے وہ کلمات کہتا ہے جسے نہ قلم لکھ سکتا ہے، نہ زبان ادا کرسکتی ہے اور نہ کانوں کو سننے کی ہمت ہے اور آنکھیں وہ منظر دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتیں. وہ شخص بھری مجلس میں کہتا بھی ہے اور کہہ کر بڑے پرسکون انداز میں گھومتا پھرتا بھی ہے، اہل اقتدار کی نہ نیندیں اڑتی ہیں اور نہ ان کے آرام میں خلل پڑتا ہے لیکن جب کوئی دیوانہ گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم،گستاخِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس کے انجام تک پہنچا دیتا ہے تو تمام ادارے، سیاست دان، انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی لونڈی اقوام متحدہ سب کے سب دہائیاں دینے شروع کردیتے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو آزاد خیال کہنے والے بھی میدان خالی دیکھ کر کود پڑتے ہیں.
    کیا حکومتی وزیروں، مشیروں، عدالت، پولیس، فوج کی توہین کرنے والا بھی ایسے ہی سینہ چوڑا کیے گھومتا پھرتا ہے یا پھر حضور صلی الله عليه وسلم اور ان کے جانثار ساتھیوں کی تمہارے نزدیک اپنے اداروں جتنی بھی عزت نہیں؟
    ریاست ملکی امن و سلامتی کی سب سے زیادہ ذمے دار ہے پھر کیوں ایسے بدبختوں کے خلاف از خود نوٹس نہیں لیے جاتے؟
    کیوں انسانی حقوق کی تنظیمیں متحرک نہیں ہوتی؟
    جب کوئی دیوانہ اپنا کردار ادا کردے تو مقامی ادارے ایسے پھرتی دکھائی دیتے ہیں جیسے کتا ہڈی کے پیچھے دوڑتا ہے. پوچھنے والا ہو بھیا! اس وقت آپ کونسی بے غیرتی کی گولی کھا کر سورہے تھے جب یہ کالے کھٹمل سرعام حکومتی رٹ کو چیلنج کررہے تھے؟
    امریکن لونڈی اقوام متحدہ کے پیٹ میں اچانک مروڑ کیوں اٹھنا شروع ہوجاتے ہیں؟
    انسانی حقوق کی طوائفیں جو اس سے پہلے ستو پی کر سورہی تھیں کیوں شور مچانا شروع کردیتی ہیں کیا ان کی بہن کی بارات آرہی ہے یا پھر اپنے باپوں کو خوش کرکے ڈالر سمیٹنے کا سنہرا موقع مل گیا ہے؟
    عوام کبھی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برداشت نہیں کریں گے، اقتدار کے مزے لوٹتے حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ فوراً ایسے تمام واقعات کی روک تھام کے لیے کردار ادا کریں نہیں تو پھر علم دین، عامر چیمہ جیسے غازی تو اپنا کام کرتے رہیں گے.
    قوانین پاس کرنا اگرچہ بڑی خوشی کی بات ہے لیکن یہ خوشی اس وقت زیادہ ہوگی جب ان پر عمل شروع ہوگا اور اس کے فائدے ملنا شروع ہوں گے. عوام بھی جہاں کہیں گستاخی کا کوئی واقعہ ہو فورا انفرادی و اجتماعی طور پر مقامی اداروں کو رپورٹ کریں تاکہ ملک خداد جو مختلف بحرانوں میں جکڑا ہوا ہے نئی افراتفری کا شکار نہ ہو۔

  • پاک سعودیہ دوستی اوراسرائیل دشمنی–از– عبدالرحمن ثاقب

    پاک سعودیہ دوستی اوراسرائیل دشمنی–از– عبدالرحمن ثاقب

    پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں۔ ان کے دوست اور دشمن بھی مشترکہ ہیں اور پالیسیاں بھی ملتی ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرتے اور مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔

    پاکستان پر جب بھی مشکل وقت سعودی عرب نے بڑے بھائی کا کردار ادا کیا۔ جنگ اور امن میں ساتھ نبھایا۔ آج اقوام عالم میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور اس کا سہرا سعودی عرب کے سر بندھتا ہے۔

    اسرائیل کو بانی پاکستان محمد علی جناح نے یورپ کا ناجائز بچہ کہا تھا۔ تو ملک عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ببانگ دہل اعلان کیا تھا کہ سارے عرب بھی اگر اسرائیل کو تسلیم کرلیں سعودی عرب تب بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔

    گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات نے یورپ کے اس ناجائز بچے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تو روافض اور ان کے ہمنواؤں اخوانیوں نے سعودی عرب کے خلاف شور مچا دیا۔ گویا کہ یہ کام یو ای اے نے نہیں بلکہ سعودی عرب نے کیا ہے۔ حالانکہ سعودی عرب کی سرزمین فلسطین سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے پچاس ریال کے نوٹ پر مسجد اقصی کی تصویر ایک عرصہ سے چھاپ رہے ہیں جو ان کی نہ صرف فلسطین سے محبت کی دلیل ہے بلکہ ان کی اسرائیل کے بارے پالیسی کی حسین عکاسی بھی ہے۔

    سعودی عرب نے گزشتہ روز علی الاعلان اپنی سابقہ پالیسی کا اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کرے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم عمران نیازی نے بھی ایک انٹرویو میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا واشگاف اعلان کیا جس پر ہم اہل اسلام کی ترجمانی کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    یہ بھی اتفاق ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ایک ساتھ اسرائیل کے بارے اپنی اپنی پالیسی کا اعلان کرکے مشترکہ دشمنوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
    خوشی کی بات ہے کہ بحرین کے رکن پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں اسرائیل کے نجس جھنڈے کو آگ لگا کر غیرت ایمانی کا مظاہرہ کیا اور بتادیا کہ اسرائیل سے نفرت ہماری رگ و پے میں موجود رہے گی۔ ان شاءاللہ

    آج کہاں ہیں جو اردوگان کو بزعم خود مسلمانوں کا نجات دہندہ کے روپ میں پیش کررہے تھے جس کے ملک ترکی نے اسلامی ممالک میں سے سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس وقت تقریباً چالیس ارب ڈالر کی سالانہ اسرائیل سے تجارت بھی کررہا ہے۔

    پہلے یو ای اے پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غصہ دکھا رہا تھا اب یو ای اے اور اسرائیل کے درمیان پروازیں چلانے کی پیشکش کررہا ہے۔ منافقت کی انتہا کردی ہے اس نام نہاد خلیفہ نے،

    دوسری طرف ایران جس کے بارے مسلمان کبھی بھی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہ سکتے کیونکہ اس ایران کے دارالخلافہ تھا تہران میں اہل سنت کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ عیسائی، یہودی، سکھ، ہندو اور بدھ مت سمیت سب غیر مسلموں کو اپنی اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح سے ایران کے پارلیمنٹ کا رکن کوئی سنی مسلمان نہیں بن سکتا یہ ان کی اسلام دشمنی کی واضح دلیل ہے۔

    ہمیں ایران کے بارے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہر وقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آپ نے ارشاد فرمایا تھا: دجال کے ساتھ تہران کے ستر ہزار یہودی اس کے ساتھی ہوں گے۔ یہ ایران یہود کا آلہ کار اور اہل ایمان کا دشمن ہے جس کی چالوں سے ہمیں بچ کر رہنا ہوگا۔

    ایک بار پھر کہوں گا کہ پاکستان کی سعودی عرب سے دوستی سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے۔
    پاک سعودیہ دوستی زندہ باد

  • برانڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے، محرم الحرام کی مناسبت سے کولیکشنز متعارف کروانے پر صارفین برینڈز پر پھٹ پڑے

    برانڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے، محرم الحرام کی مناسبت سے کولیکشنز متعارف کروانے پر صارفین برینڈز پر پھٹ پڑے

    ‏محرم الحرام غم اور دکھ کی گھڑی میں برینڈز بلیک کلر کی کلیکشن نکال کر پیسے بنارہے ہیں جس پر سوشل میڈیا صارفین نے نہایت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے ان برانڈز کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : آج کل دنیاوی رسم و رواج معاشرے میں بہت ہی پھیل رہا ہے شادی میں مہندی میں پیلا ،رخصتی میں سُرخ ،اگر کوئی فوت ہو جائے تو تب سفید اور غم میں کالا اس چیز کو دیکھتے ہوئے مختلف برانڈ نے موسموں اور دیگر تہواروں کی مناسبت سے تو فیبرک اور کلر کولیکشنز متعارف کروانا شروع کر دی جو لوگوں میں بے حد مقبول ہوئی لیکن نام اور پیسہ کمانے کے چکر میں یہ برینڈز اور عوام اسلامی تہواروں کی حرمت اور مذہب کو بھی اس قدر نظر انداز کر رہے ہیں کہ غم اور دکھ کے مہینے محرم الحرام میں مختلف فیشن اور ڈیزائنوں میں بلیک کلر کی کلیکشن نکال کر ماڈلز کے ذریعے اشتہارات لگا رہے ہیں اور غم و سوگ کے دِنوں میں بھی فیشن کو پروموٹ کر رہے-

    معروف برینڈز کے اس عمل پر لوگ سوشل میڈیا پر مذمت کر رہے ہیں اور غم و غصے میں سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں یہاں تک کہ محرم 2020 ٹویٹر پر ٹرینڈ کررہا ہے اور #SayNotoBareeze ٹرینڈ کر رہا ہے-


    https://twitter.com/Meera_Ji/status/1298523537439850496?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ اللہ غارت کرے ایسے لوگوں کو جو محرم میں برپا ہونے والی قیامت پر بھی فیشن سے باز نہیں آ رہے


    ایک صارف نے لکھا کہ گائٹونڈی صحیح کہتا تھا کہ مذہب سے بڑا کوئی دھندا نہیں اور ان برینڈز اور ماڈلز نے تو مذہب کو بھی کاروبار بنا دیا ہے اللہ معاف کرے-


    ایک صارف نے لکھا کہ محرم کے اس رجحانات پر شرم آنی چاہیئے ہائپربولک فیشن اقدام کی شدید مذمت کرتے ہے


    ایک صارف نے ان برینڈز کو پروموٹ کرنے والوں پر تنقید کی-


    دوسری جانب نمرہ شہزاد نامی ٹویٹر صارف نے بریزے برینڈ کو محرم میں کولیکشنز متعارف کروانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے #SayNotoBareeze کا ٹرینڈ چلایا جس میں صارفین مذکورہ برانڈ پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-


    نمرہ شہزاد نامی صارف نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بریزے نے محرم کے حوالے سے کولیکشنز متعارف کرائیں ہیں ۔ آگے کیا ہو رہا ہے؟ کہ یہ برانڈ ز بنیں گے "آپ کے والدین کا انتقال ہو گیا” ، "آپ کو ابھی سے وصولی کی جکولیکشنز ملیں” اور آپ نے اپنے بھائی بہن کا واحد مجموعہ کھو دیا "برسوں پہلے کوئی ہمارے اور ہمارے مذہب کے لئے شہید ہوا تھا۔ محرم کا احترام کرو!
    https://twitter.com/_clownnextdoor/status/1297587278567616518?s=20
    ایک صارف نے بریزے پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ مارکیٹ میں آگے بڑھنے کے لیے کتنا گھٹیا طریقہ ہے اس سے آگے بڑھنے سے پہلے آپ نے اپنے ایمان کو کہاں فروخت کیا؟ شرم کرو یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے غم کا دور ہے-


    اریج فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ لباس برانڈبریزے نے اپنا ‘محرم کلیکشن’ لانچ کیا ہے۔ جیسے کیا ہو رہا ہے۔ اگلا مجموعہ کیا ہوگا؟ موت کا مجموعہ ، شہید مجموعہ؟ ایسا کام کرنا اہل بیت اور محرم کی قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے
    https://twitter.com/MushtaqErum/status/1297658567537958913?s=20
    ارم مشتاق نامی صارف نے لکھا کہ تو یہاں بریزے برانڈ کا ایک نیا مجموعہ آیا ہے۔ جسے بہت زیادہ پسند کیا جیا رہا ہے؟ کیا محرم منانے کے لئے کسی تہوار کی طرح ہے؟ شیعہ یا سنی کے بارے میں بھول جاؤ ، ایک مسلمان اس حماقت کو کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ برسوں پہلے کسی نے ہمارے اور ہمارے مذہب کے لئے اپنی جان دے دی۔ برائے مہربانی محرم کا احترام کرو-


    https://twitter.com/UsamaZMalik/status/1298356623858176000?s=20
    https://twitter.com/molana_sayru/status/1298152262506774529?s=20

  • چھوٹے صوبوں کا مقدمہ  تحریر:عدنان عادل

    چھوٹے صوبوں کا مقدمہ تحریر:عدنان عادل

    چھوٹے صوبوں کا مقدمہ
    تحریر:عدنان عادل
    موجودہ پارلیمانی‘ جمہوری نظام میں عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے ہیں۔حکومت کی عملداری کمزور ہوچکی ہے۔ کوئی
    حکومتی ادارہ اپنا کا م ٹھیک طریقہ سے انجام نہیں دے رہا۔ لاقانونیت‘بدانتظامی اورکرپشن کا دور دورہ ہے۔ ملک میں گورننس کا بریک ڈاؤن اس حد تک ہوگیا ہے کہ کراچی میں گندے نالے صاف کرانے کے خاطر بھی وفاقی اداروں اور فوج کی نگرانی درکار ہے۔جس خرابی پر نظر ڈالیںاس کے پیچھے خراب گورننس کارفرما نظر آتی ہے۔بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس صورتحال سے باہرکیسے نکلا جائے۔ ایک نقطہ نظر ہے کہ ضلعی اور تحصیل کی سطح پر منتخب مقامی حکومتوں کو با اختیار بنایا جائے جو عوامی مسائل کو حل کریں گی اور گورننس بہتر ہوجائے گی۔ لیکن ہمارے ملک میں ماضی میں منتخب اور با اختیارمقامی حکومتوں کے نظام کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا۔سیاسی جماعتیں اور منتخب صوبائی حکومتیں انہیں برداشت نہیں کرتیں۔ صوبائی حکومت اور ضلعی حکومت کا ٹکراؤ بدنظمی اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔ کوئی بھی وزیراعلیٰ اپنے سامنے کسی ضلع کے ناظم یا مئیر کو بااختیار اور طاقتور نہیں دیکھنا چاہتا۔ جنرل پرویز مشرف نے بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا تھا لیکن جیسے ہی پنجاب میںمسلم لیگ (ق)کی حکومت بنی اُس نے مقامی حکومتوں کے اختیارات میں کمی کردی۔ دو ہزار تیرہ میں پیپلزپارٹی نے سندھ میں اس نظام کو بالکل ہی ختم کردیا ‘ اسکی جگہ ایک ایسا لُولالنگڑا قانون بنایا جس میں بلدیاتی ادارے بالکل بے اختیار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی پنجاب میں بلدیاتی اداروں کا نیا قانون بناکر ان کو محض رسمی ادارے بنادیا ۔اب تحریک انصاف پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں نیا نظام لائی ہے جس میں ضلعی ناظم یا مئیر کا براہ راست الیکشن ہوگا۔ اس سے کشیدگی پیدا ہوگی۔خاص طور سے اگر مئیر کا تعلق صوبائی حکومت کی مخالف سیاسی جماعت سے ہوا۔ وزیراعلیٰ اور اس علاقہ کے ایم پی ایز اور ایم این ایز اس مئیر یا ناظم کو اپنی اتھارٹی کے لیے خطرہ تصور کریں گے۔ان کے مابین ایک رسہّ کشی شروع ہوجائے گی۔ انتظامی امور مزید خراب ہوجائیں گے۔ہمارا سیاسی کلچر ابھی اتنا بالغ اور پختہ نہیں ہوا کہ تین بااختیار حکومتوں (وفاقی‘ صوبائی‘ ضلعی)کا بوجھ اُٹھا سکے۔ یہاں تو بے تحاشاصوبائی خود مختاری دینے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہموار تعلقات قائم نہیں ہوسکے۔ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ضلعی حکومتوںکے اختیارات بڑھنے سے حکومتی نظام پر مقامی جاگیرداروں‘ قبائلی سرداروں کی طاقت اورحکومتی نظام پر شکنجہ مزید مضبوط ہوجائے گا۔ دیہی عوام انکے سامنے مزید بے بس ہوجائیں گے۔ شہروں میں پراپرٹی مافیا اپنی بے تحاشا دولت کے بل پر شہری حکومتوں پر قابض ہوجائے گا۔ عوام ایک نئے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ موجودہ ریاستی ڈھانچہ میں بلدیاتی ادارے زیادہ بااختیار بنانے سے گورننس کا بحران قابو میں آنے والا نہیں بلکہ اور سنگین ہوجائے گا۔ ملک اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ بلدیاتی ادارے اتنے اختیارات کے حامل ہوں کہ اُن کا صوبائی حکومت سے مسلسل ٹکراؤ ہوتا رہے۔ اس صورتحال کا بہترمتبادل یہ ہے کہ ملک میںچودہ پندرہ انتظامی صوبے بنادیے جائیں۔ موجودہ صوبے رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے اتنے بڑے ہیں کہ ان کا انتظام ٹھیک طریقہ سے چلانا خاصا مشکل ہوگیا ہے۔صرف پنجاب کی آبادی گیار ہ کروڑ سے زیادہ ہے۔ نئی انتظامی اکائیاں اسطرح بنائی جائیںکہ ہرصوبہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو کروڑ آبادی پر مشتمل ہو۔ آئین میں ترمیم کرکے صوبوں کوپابند بنایا جائے کہ وہ ترقیاتی بجٹ میں ضلعوں کاسالانہ حصہ ایک فارمولہ کے مطابق مقرر کریں گی۔ لوگوں کوسرکاری محکموں سے اپنے چھوٹے چھوٹے کام کاج کے لیے دُور دراز علاقوں سے چار صوبائی دارالحکومتوں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔ چھوٹے صوبہ کا وزیراعلیٰ زیادہ بہتر انداز میں اپنے علاقہ کے مسائل حل کرسکے گا کیونکہ اس تک لوگوں کی رسائی زیادہ ہوگی اور اسے اپنے نسبتاًمختصر علاقہ کے حالات کا اچھی طرح علم ہوگا۔ نئے صوبے بننے سے چودہ پندرہ صوبائی دارلحکومت بنیں گے جو نئے شہری مراکز کے طور پر اُبھریں گے جس سے موجود ہ چھ سات بڑے شہروں پر آبادی کا بوجھ کم ہوگا۔جب پاکستان بنا تو یہاں کچھ ریاستیں تھیں جو داخلی معاملات میں خود مختار تھیں جیسے بہاولپوراورسوات کی ریاستیں۔ ان ریاستوںمیںگورننس باقی ملک کی نسبت بہت بہتر تھی۔ بہاولپور اور سوات کے لوگ آج بھی اپنے ریاست کے نظام کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔ دیگرعوامل کے علاوہ اسکی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کا حدود اربعہ محدود تھا ۔ اس لیے انکے حکمران بہتر انداز میں نظم و نسق چلاسکتے تھے۔ ملک میں انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبے بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ آبادی کے اعتبار سے تین چھوٹے صوبوں سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی سیاسی جماعتیں ہیں۔ وہ ان صوبوں کو مقدس وفاقی اکائیاں سمجھتی ہیں۔ انکی نسلی‘ لسانی تشخص پر مبنی سیاست کا محور ان صوبوں کے حدود کی سا لمیت ہے۔ دوسرے‘ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ پنجاب کی آبادی باقی تمام صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے اس لیے نئے صوبے بننے سے وفاقی اکائیوں کے درمیان مو جودہ توازن بگڑ جائے گا اور پنجاب کی بالادستی بڑھ جائے گی۔ اندرون سندھ کے سیاستدانوں کویہ بھی خدشہ ہے کہ کراچی کے الگ صوبہ بننے سے انکی ٹیکس آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ ان خدشات اور تحفظات کو دُور کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ سینٹ کے کردار کو وفاقی اکائیوں کے نمائندہ ادارہ کے طور پر مستحکم کردیا جائے۔ اسوقت قومی اسمبلی میںوفاقی اکائیوں کی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی ہے جبکہ سینٹ میں سب کی برابر نمائندگی ہے۔سینٹ کے کردار کو وفاق کے نمائندہ ادارہ کے طور پر مضبوط کرنے کے بعد موجودہ صوبوںکی حدود کوآئین میں وفاقی اکائیوں کا نام دے دیا جائے جبکہ صوبہ کا لفظ انتظامی اکائی کے لیے استعمال کیا جائے تو مسئلہ بہت حد تک حل ہو سکتا ہے۔ اس وقت بجٹ کی منظوری صرف قومی اسمبلی دیتی ہے۔ سینٹ اس پرصرف بحث کرتی ہے لیکن اسے منظور یا مسترد کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ سینٹ سے وفاقی حکومت کے بجٹ کی منظوری کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ چھوٹی وفاقی اکائیوں کے مفادات کا زیادہ بہتر طور پر تحفظ ہوسکے۔ ٹیکسوں کی آمدن کی تقسیم کے حوالہ سے بھی آئین میں ایسی ضمانت ہونی چاہیے کہ پسماندہ علاقوں پر مشتمل جو نئے صوبے بنیں انہیں کراچی اور لاہور ایسے بڑے شہروں سے ہونے والی آمدن سے جائزحصہ ملتا رہے۔

  • معروف شاعر احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے

    معروف شاعر احمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے

    پاکستان کی معروف اور نامور شاعراحمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے آج 12 برس بیت گئے۔

    باغی ٹی وی : ماہر تعلیم ونامورشاعراحمد فراز12 جنوری 1931 کوکوہاٹ میں پیدا ہوئے ان کا اصلی نام سید احمد شاہ تھا لیکن وہ اپنے قلمی نام احمد فراز سے مشہورہیں کیونکہ انہوں نے اپنی شاعری فراز کے تخلص سے لکھی انھوں نے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد شعروشاعری کا آغاز کر دیا، وہ مختلف تعلیمی اداروں میں ماہر تعلیم کے طور پر بھی اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے اردو شاعر ، اسکرپٹ رائٹر اور پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین تھے

    اپنی زندگی کے دوران ، انہوں نے ملک میں فوجی حکمرانی اور بغاوت پر تنقید کی جس پر انھیں جنرل ضیاء الحق کے دور میں پابند سلاسل بھی رکھا گیا۔

    احمد فراز کی شاعری پاکستان ، ہندوستان کے دنیا بھر میں بے حد مقبول تھی۔ وہ معاشرتی اجتماعات (مشاعرے) میں بہت زیادہ طلبگار شاعر تھے جہاں وہ اپنی آواز میں اپنی شاعری سناتے تھے۔ احمد فراز کا اکثر موازنہ محمد اقبال اور فیض احمد فیض سے کیا جاتا تھا۔

    مہدی حسن ، غلام علی ، جگجیت سنگھ اور رونا لیلیٰ جیسے گلوکاروں نے فلموں اور محافل موسیقی میں ان کی غزلوں کو گا کر ان کی شاعری کو بے حد مقبول کیا۔

    احمد فرازنے ہزاروں نظمیں کہیں اوران کے 14 مجموعہ کلام شائع ہوئے جن میں تنہا تنہا، دردآشوب، شب خون، میرے خواب ریزہ ریزہ، بے آواز گلی کوچوں میں، نابینا شہر میں آئینہ، پس انداز موسم، سب آوازیں میری ہیں، خواب گل پریشاں ہے، بود لک، غزل بہانہ کروں، جاناں جاناں اور اے عشق جنوں پیشہ شامل ہیں۔ احمد فرازکی تصانیف کے تراجم انگریزی، فرانسیسی، ہندی، یوگو سلاویہ، سویڈش، روسی، جرمنی و پنجابی میں ہوئے۔

    احمد فرازاردو، فارسی، پنجابی سمیت دیگرزبانوں پربھی مکمل عبوررکھتے تھے احمد فراز نے اسلام آباد ، پاکستان میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

    انہیں ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ 25 اگست 2008 کو گردوں کے عارضہ میں مبتلا ہو نے کی وجہ سے ان کا اسلام آباد میں انتقال ہوگیا ، اور بعد ازاں حکومت پاکستان نے ان کی شاعری اور اردو ادب میں گراں قدر خدمات پر ہلال پاکستان سے نوازا۔

    مجھے خود پر فخر ہے کہ میں نے کینسر جیسے موذی مرض کا بہادری سے مقابلہ کیا نادیہ…

    پولیس نے چار روز کی مکمل تفتیش کے بعد فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا کی موت کو خودکشی…

    قتل کی دھمکیوں کے بعد پوجا بھٹ نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ پرائیویٹ کر لیا

  • اقربا کریں کس پر میرے خون کا دعویٰ    ازقلم: نادیہ بٹ

    اقربا کریں کس پر میرے خون کا دعویٰ ازقلم: نادیہ بٹ

    اقربا کریں کس پر میرے خون کا دعویٰ

    ازقلم: نادیہ بٹ
    عدلیہ کے متعلق قطعی رائے تو یہ تھی کہ اسے انصاف کرنے کے لیے انتظامیہ کے دباؤ اور مداخلت سے نہ صرف آزاد ہونا چاہیے تھا بلکہ قاضی کو اس قابل آزاد ہونا چاہیے تھا کے خود امیر بھی اگر لوگوں کے حقوق پر دست درازی کرتا تو وہ اس پر اپنا حکم نافذ آذادی سے کر سکتا

    دس سال قبل دو نوجوانوں مغیث اور مُنیب کو سیالکوٹ میں سرعام انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا ملزمان جنہوں نے دن دہاڑے بھری بھیڑ میں دو نوجوانوں کو انتہائی بے دردی سے ڈنڈوں سوٹوں کے وار سے ہلاک کر دیا تھا اب عدالت نے ان سب کو رہا کر دیا افسوس صد افسوس
    انصاف تبھی ممکن تھا جب کوئی منصف یا حکمران خوش پوشی اور تعیش کے حصول سے مبرا ہوتا لیکن حد سے بڑھ کر عیش کرنے والے منصف یا حکمران انصاف برقرار نہیں رکھ سکتے ۔کیونکہ عیش ایک ایسی لذت ہے جس سے دن بدن افزائش ہی پیدا ہوتی ہے ۔

    انسانی جان کی قدر و قیمت اللہ نے قرآن میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔
    (ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ آلا بالحق) "ایسی جان کو مت قتل کرو جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حرام قرار دیا ہے ہاں مگر حق کے ساتھ قتل کیا جا سکتا ہے”سورة. (الانعام١٥١)

    ہم دیکھتے ہیں کہ عدالتوں سے سزا پانے والوں میں غریب لوگوں کی اکثریت ہے جبکہ پولیس کے ریکارڈ میں بھی حراست میں غریب اور متوسط طبقوں کا تعلق ہوتا ہے جبکہ بھگڑے ہوئے امیر زادوں کو بے قصور اور معصوم قرار دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے انصاف کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں ۔جس انصاف کے بارے میں سختی سے حکم دیا گیا تھا……!

    (وانا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل)
    "اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کروں تو انصاف کا فیصلہ کرو۔”

    عدل ہی اسلامی عدالت کا قانون کلی ہے ۔۔۔۔
    میدان عدل کے دونوں پلے برابر ہونے چاہیں ۔ہر عدالت کا فرض ہے کہ اس کا خیال رکھے مگر افسوس!! !مفلس اور غریب لوگ مقتول کے انصاف کی دھائی دیتے ہوئے اور آخرت کے دن ہونے والے انصاف پر امید رکھتے ہوئے چپ کر جاتے ہیں۔ یا کروا دیں جاتے ہیں۔
    انصاف کی اعلی و عمدہ مثال عہد نبوی ﷺ میں ہم دیکھتے ہیں،،،،،
    جب ایک اونچے خاندان کی عورت نے چوری کا ارتکاب کیا کچھ لوگوں کو خیال آیا کہ اگر اس کو سزا ہو گئی تو جگ ہنسائی ہو گی۔حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو آمادہ کیا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے پاس جا کر عورت کو چھوڑنے کی سفارش کریں ۔جب اسامہ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی خدمت میں ا گئے اور اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کی کوشش کے لیے لب کشائی کی تو رسول ﷺ نے
    ارشاد فرمایا:

    "تم سے پہلے والے اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ سزا نیچ لوگوں کو دیتے تھے اور بڑوں کو چھوڑ دیتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کا ارتکاب کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔”

    معاشرے سے جرائم کے تدارک کیلئے چند گذارشات پیش !!!

    چونکہ پاکستان اسلامی تعلیمات کے نفاذ فروغ کے لیے حاصل کیا گیا تھا اور اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے قوانین مذہبی تعلقات سے ہم آہنگ ہوں اس سے سماجی انحراف اور جرم و مصیبت کا دروازہ بند ہو سکتا ہے ہمیں مذہبی اور قانونی تعلیمات کو بھی کافی رواج دینا ہو گا اور زندگی میں دین اور دنیا کی جو تقسیم پیدا ہو گی ہے اسے ختم کرنا ہو گا

    بقول اقبال رحمتہ اللہ:
    جمال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
    جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

    سزا کا مقصد انسداد جرائم ہے تاکہ معاشرے میں امن وامان قائم ہو اس کا دوسرا مقصد مجرم کو فعل کے بدل فراہم کرنا ہے
    سنگین سزا سے دوسرے لوگ بھی عبرت حاصل کرتے ہیں۔سزا خواہ سنگین ہو یا کم اگر اس سے مجرم کو جرم سے باز نہ رکھا جا سکے یا اس کی اصلاح نہ کی جائے تو اس سے اس کا مقصد فوت ہو جاتا ہے ۔

    سزا کے موثر بنانے اور بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ ہم جس فعل سے کسی کو باز رکھنا چاہیں اس کا ارتکاب کرنے والوں کو فوراً ہی سزا دی جائے اور طویل قانونی بحثوں سے احتراز کریں ۔۔

    مجرموں کو ان کی مذموم سرگرمیوں کی واقعی سزا ملنی چاہیے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تاکہ وہ دوبارہ جرم کے مرتکب نہ ہوں ۔
    اللہ تعالیٰ ان دونوں بھائیوں کے درجات بلند فرمائیں اور آخرت کے دن مجرمین کو ان کے کیفرِ کردار تک پہنچائے اور مقتولین کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔۔۔۔۔
    اور ہمارے عدالتی و قانونی نظام کو اسلامی قانون کے مطابق نافذ کرکے انصاف کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔آمین یارب العالمین
    تم ہی قاتل تم ہی مخبر تم ہی منصف
    اقربا کریں کس پر میرے خون کا دعویٰ

  • ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    ڈیجیٹل ادائیگیاں۔ COVID-19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    آج کی سنگین صورتحال میں سماجی فاصلہ ایک نیا معمول بن چکا ہے۔ COVID-19 وباء نے عالمی سطح پر روزمرہ کی زندگی سمیت تمام مارکیٹوں اور صنعتوں کو متاثر کیا ہے۔ تاہم جب ہر چیز متاثر ہو چکی ہے تو ڈیجیٹل ورلڈ کی بدولت کورونا وائرس کے پھیلاؤ یا لاک ڈاؤن کی وجہ سے رقم کا ترصیل متاثر نہیں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ڈیجیٹل ادائیگی کے حل کو اپنانے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    COVID-19 بحران مختصر مدت میں ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور اس کے اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز پر سخت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ہم نے گھر میں رہتے ہوئے کساد بازاری کی حامل معیشت کو قبول کرلیا ہے تاہم اب ہمیں اس صنعت میں بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان حالات کے دوران یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ صورتحال کس طرح ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیتی ہے اور اس نے چھوٹے کاروباروں کو برقرار رکھنے کیلئے کس طرح سہولت فراہم کی ہے۔ بہت سے عوامل ہیں جو ڈیجیٹل ادائیگی کے حل اپنانے کی شرح میں اضافہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت نے کورونا وائرس کی حالیہ وباء کے دوران نقد رقم کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا شروع کردی ہے۔ اس نے بہت سے لوگوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے طریقہ پر مجبور کر دیا ہے۔

    دوئم، ای کامرس میں اچانک ترقی بھی دیکھی گئی ہے کیونکہ ایسے لوگ جو اپنے گھروں میں بند ہیں، آن لائن خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی جہاں ان دنوں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ ہے، لوگ اسٹورز پر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ گروسری سے ملبوسات اور دیگر اشیاء سمیت لوگ آن لائن خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے ریٹیلرز نے بھی ای کامرس کو اختیار کیا جس کی وجہ سے آن لائن ٹرانزیکشنز کا حجم بھی بڑھ گیا کیونکہ لوگ آن لائن خریداری کے لئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پلیٹ فارمز پر انحصار کر رہے ہیں۔

    ایک وسیع نکتہ نظر میں چونکہ زیادہ تر کاروبار گھروں سے کام کر رہے ہیں اور طلباء اپنے فارغ وقت کو زیادہ پیداواری بنانے کے لئے فری لانسنگ کی طرف چلے گئے ہیں، ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کی جا رہی ہیں جس میں ایزی پیسہ صارف دوست ہونے کی وجہ سے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ 70 ہزار سے زائد ریٹیلرز کے ساتھ ایزی پیسہ پاکستان میں برانچ لیس ایجنٹس کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سروس کو تیز رفتاری سے اپنایا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے تحت چلنے والی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کی وجہ سے حالیہ جدتیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک لاجسٹک کمپنی صارف کی دہلیز سے نقد رقم وصول کر کے موبائل اکاؤنٹس میں جمع کروانے کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔

    ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے کی شرح 2019ء تک سست رہی لیکن COVID-19 وباء نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لئے راہ ہموار کی۔ COVID-19 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پلیٹ فارمز امید کی ایک لہر ہیں کیونکہ اس نے لوگوں کو گھروں پر رہتے ہوئے ان کی روزمرہ کے امور انجام دینے میں مدد فراہم کی۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ کورونا وائرس بحران جلد ختم ہو جائے گا لیکن سمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد مستقبل میں موبائل والٹ پلیٹ فارمز کی ترقی کو یقینی بنائے گی۔

  • دیو سائی میدان کتنا بڑا ہے؟ سفر بلتستان ندیم اعوان کے قلم سے

    دیو سائی میدان کتنا بڑا ہے؟ سفر بلتستان ندیم اعوان کے قلم سے

    دیو سائی میدان کتنا بڑا ہے؟ سفر بلتستان ندیم اعوان کے قلم سے

    بچپن میں پریوں اور دیو کی کہانیاں پڑھا کرتے تھے۔ اندازہ تھا دیو بہت بڑی جسامت کا ہوتا ہے۔

    یہ اندازہ دیو سائی کا بھی تھا کہ یہ دنیا کی چھت ہے اور بہت بڑا میدان ہے۔ مگر کتنا بڑا؟؟؟

    چلم چوکی کراس کرنے کے بعد جب دیو سائی پہنچے تو سب سے پہلا سوال یہی ذھن میں آیا۔

    گاڑی میں یہی موضوع شروع ہوگیا
    کتنا ایکڑ ہوگا؟
    سینکڑوں ایکٹر ہوگا اسی لیے تو امریکا کی اس پر نظر ہے۔
    گاڑی کا میٹر دیکھیں سفر کے اختتام پر کلو میٹر نکل آئیں گے۔
    مگر بھیا ہم تو ایک سیدھ میں سفر کررہے ہیں اس کا پھیلاو بھی تو بہت ہے۔
    اندازہ کریں اگر اسٹیڈیم بنایا جائے سو اسٹیڈیم بن جائیں گے۔
    جانے دو بھائی سو تو کچھ بھی نہیں یہ تو بہت بڑا ہے

    کتنا بڑا؟ اس سوال کا جواب تو گوگل چاچا سے ہی مل سکتا ہے مگر اس وقت سگنل ندارد۔

    دماغ میں اٹکے سوال کے ساتھ سفر جاری تھا اور دیو سائی کا حسن آنکھوں میں سمو رہے تھے۔

    سطح سمندر سے 13500 فٹ بلندی پر جہاں درخت ختم ہوجاتے ہیں اور سال کے 8 ماہ برف رہتی ہے۔ قدرت کا حسین شہکار ہے۔


    یہاں کا موسم بے ایمان ہے۔ اچانک بدل جاتا ہے۔ آسمان پر تیرتے بادل مصور کائنات کی حمد بیان کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

    اسکردو پہنچ کر سگنل کیا آئے سمجھیں جان میں جان آئی۔ موبائل پر سرچنگ شروع کی۔ دیو سائی کا رقبہ 3 ہزار مربع کلو میٹر سامنے آیا۔

    اسلام آباد 220، پشاور 215، راولپنڈی 259، ملتان 286، فیصل آباد 1300، لاہور 1772 مربع کلو میٹر ہیں۔

    پاکستان کاصرف ایک شہر کراچی دیو سائی سے بڑا ہے جس کا رقبہ 3780 مربع کلو میٹر ہے۔

    تو ہم سمجھانے کے لیے کہ سکتے ہیں دیو سائی تقریبا کراچی کے برابر ہے۔ اب کراچی والے ذرا تخیلات میں کھو کر گلشن حدید سے یوسف گوٹھ اور کیماڑی سے سرجانی ٹاون کا سفر کریں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، کھڈے اور بارش کے پانی سے گزر کر خود کو دیو سائی پر محسوس کریں