Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پریشانیوں کا علاج  تحریر:عمر یوسف

    پریشانیوں کا علاج تحریر:عمر یوسف

    پریشانیوں کا علاج

    عمر یوسف

    انسان پریشان، اداس ، غمزدہ ، بے بس و لاچاری کی حالت میں بیٹھا نا امیدیوں کے گہری کھائیوں میں پڑا یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ زندگی کتنی ظالم ہے ایسی بدتر زندگی سے تو موت بہتر ہے ۔۔۔۔ کبھی وہ اپنے آپ پر ہوئے ظلم کا کا بدلہ نہیں لے سکتا ، کبھی وہ اپنے اوپر آئی ہوئی پریشانی نہیں ٹال سکتا ، کبھی وہ اپنی راہ میں رکاوٹ کو دور نہیں کرسکتا ، کبھی وہ من چاہی مراد نہیں پاسکتا ۔۔۔۔ ان سب کے نتیجے میں اسے مایوسیاں گھیر لیتی ہیں اور وہ اپنی جان کے درپے ہوجاتا ہے وہ خود کشی کی سوچتا ہے ۔۔۔۔ دل کی تنگی سب کچھ چھین لیتی ہے ۔۔۔۔ اداس دل کے ساتھ زندگی بے معنی و بے مقصد ہوجاتی ہے ۔۔۔ جب دل اداس ہوتا ہے پسندیدہ کتاب پڑھنے میں وہ مزہ نہیں رہتا ۔۔۔ من پسند کھانا سامنے ہوتا ہے لیکن اس کا لطف ختم ہوچکا ہوتا ہے ۔۔۔ دل کے قریبی یار دوست بھی ساتھ ہوں تو اداسیاں چاہت ختم کردیتی ہیں ۔۔۔۔ دل تو جسم ایسی حیثیت رکھتا ہے کہ اس کے صحیح ہونے سے جسم صحیح ہوتا ہے اگر یہ بگڑ جائے اداس ہوجائے غمگین ہوجائے تو سارے جسم کو ناکارہ کردیتا ہے پھر سارا جسم بیمار سا لگتا ہے ۔۔۔ دل کی یہ اداسیاں انسان کی آزادیوں کو قیدیوں میں بدل دیتی ہیں ۔۔۔ میٹھے کو نمکین میں بدل دیتی ہیں روشنی کو اندھیروں میں بدل دیتی ہیں ۔۔۔۔ جب دل کی یہ حالت ہوجائے تو انسان کتنی کوشش کرتا ہے کہ اپنی اس حالت کو بدلوں۔۔۔۔ اپنی اداسیوں کو بھگانے کے لیے وہ سارے راستے اختیار کرتا ہے ۔۔۔۔ کبھی کبھی شیطان اس کی اس حالت سے خوب فائدہ اٹھاتا ہے ۔۔۔ اس کو وسوسوں کا شکار کرتا ہے کہ تمہاری یہ اداسیوں شراب پینے سے ختم ہوجائیں گی ۔۔۔ زنا کرنا تمہیں ذہنی راحت دے گا ۔۔۔ گانا سننا تمہیں آسودگی دے گا ۔۔۔ شیطان کے بہکاوے میں آیا انسان ان سب کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے اور گناہوں کی دلدل میں پھنس کر خود کا دل کالا کرلیتا ہے وہ مزید پریشانیوں کا شکار ہوجاتا ہے زندگی اجیرن کربیٹھتا ہے ۔۔۔۔

    انسانی کی روحانی بیماری کو دیکھتے ہوئے مذہب معالج کے طور پر میدان میں آتا ہے ۔۔۔۔ دین اس کا طبیب بن جاتا ہے ۔۔۔ پھر اللہ اپنے طرف لوٹنے والے روحانی بیماروں کو حوصلہ اور امید دیتے ہیں ۔۔۔ وہ کہتا کہ اگر تم پر ظلم ہوا ہے تو اس کا بدلہ ضرور ملے گا یہاں نہیں تو قیامت کے دن ملے گا ۔۔۔۔ اگر تمہیں تکلیف و بیماری ہے تو وہ جلد ختم ہوجائے گی اور جب تک تم صبر کرو گے اور برداشت کرو گے تو تمہارے صبر و برداشت کے بدلے تمہارے گناہ معاف ہوں گے ۔۔۔۔ اسلام یہ درس دیتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے ایک دن ختم ہوجائے گی ۔۔۔ اس فانی دنیا میں موجود ہر چیز زوال پذیر اور فانی ہے ۔۔۔ جو کل عروج پر تھے آج زوال پر ہیں جو آج زوال پر ہیں وہ کل عروج پر ہونگے ۔۔۔ تم بھی ہمت مت ہارو ۔۔۔ تمہارا غم اور دکھ بھی قصہ ماضی بن جائے گا ۔۔۔ اطمینان و سکون تمہارے پاس بھی آئے گا ۔۔۔ تم بھی راحت کی سانس لے پاو گے ۔۔۔ تنگیاں دینے والا ڈبل آسانیاں بھی پیدا کرے گا ۔۔۔۔ مذہب کی یہ تسلی اسلام کی حوصلہ افزاء کن باتیں انسان کو ذہنی آسودگی عطا کرتی ہیں یہ اطمینان اور سکون مادی دنیا کی ٹیکنالوجی بھی نہیں دے سکتی ۔۔۔۔ مذہب کو ماننے والے جب یہ احساس کرتے ہیں تو پھر سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔۔۔ زندگی ہلکی پھلکی اور پھولوں کی طرح ہوجاتی ہے ۔۔۔ آو اپنے دین اسلام کی طرف اس میں تمہاری دنیا و آخرت کی بہتری کا سامان ہے ۔

  • اسرائیل سے تعلقات کے فائدے  تحریر : صابر ابو مریم

    اسرائیل سے تعلقات کے فائدے تحریر : صابر ابو مریم

    اسرائیل سے تعلقات کے فائدے !

    تحریر : صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

    حالیہ دنوں جب سے عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے تو دنیا بھر کی طرح پاکستان کے عوام بھی اس معاہدے کو فلسطینیوں کے ساتھ خیانت تصور کر رہے ہیں کیونکہ اس معاہدے کے اگلے ہی روز جمعہ کا دن تھا اور فلسطینیوں نے بڑی تعداد میں بیت المقدس میں نماز جمعہ کے بعد جمع ہو کر جو احتجاجی مظاہرہ کیا اس میں ایک ہی نعرہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا ’’خائن‘ ‘ اور اس پر عرب امارات کے حاکم کی تصویر چسپاں کر رکھی تھی ۔ فلسطینیوں نے عرب امارات کے حکمرانوں کی تصاویر کو بھی نذر آتش کیا ۔ ان حالات کو دیکھ کر دنیا کے عوام بھی فلسطینی عوام کی حمایت میں اسی نعرے کی حمایت کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈی بالخصوص ٹوءٹر پر ہاش ٹیگ ’’اسرائیل تعلقات خیانت‘‘ٹاپ پر چلا گیا ۔

    پاکستان کے عوام نے جہاں اپنا رد عمل دیا وہاں پاکستان کے سیاسی اور دانشور سمجھی جانے والی شخصیات نے بھی رد عمل دیا اور ایسے عناصر جو پاکستان پر دباءو بنانے کی پالیسی کے آلہ کار ہیں انہوں نے کہا کہ جب عرب حکومتیں اسرائیل کو تسلیم کر رہی ہیں تو پاکستان کو تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے ;238; اسی طرح چند اور دانشور حضرات نے تو یہاں تک بھی پوچھنا شروع کر دیا کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا کیا نقصان ہے ;238; اب اس کے بعد کچھ اور دانشور عناصر نکلے اور انہوں نے تو پاکستان کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کے فوائد بھی بیان کرنا شروع کر دئیے ۔ ایک ٹی وی پروگرام میں انٹر ویو دیتے ہوئے جناب خورشید قصوری صاحب نے تو حد ہی کر ڈالی اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستا ن کے تعلقات سے پاکستان کو سائنٹفک ترقی ملے گی اور پاکستان کی زراعت کو بھی ترقی حاصل ہو گی ۔ قربان جائیے اس سادگی پر بھی ۔ اس سے پہلے جنرل (ر) امجد شعیب اور اس طر ح کے دیگر معززین پاکستان بھی ایسی ہی باتیں کر چکے ہیں کہ پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات سے اسلحہ کی ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی حاصل ہو جائے گی فلاں فلا ں وغیرہ وغیرہ ۔

    پاکستان کے یہ تمام دانشور عناصر مل کر بھی کئی برس سے پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا ایک بھی فائدہ بیان نہیں کر سکے جو کہ عملی شکل کا ہو ۔

    اب آئیے قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کی بات کرتے ہیں کہ جنہوں نے فلسطین پر قبضہ کرنے کی صہیونی تحریک کے آغاز پر ہی فلسطینی عوام کی حمایت اور اسرائیل کے قیام کو ایک ناجائز قیام قرار دیا تھا اور بعد ازاں جب سنہ1948ء میں فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل نامی ریاست قائم بھی کر دی گئی تو بابائے قوم نے واضح الفاظ میں اسرائیل کو مغرب کا ناجائز بچہ کہا ۔ اب پاکستان کے ان تمام اسرائیل حمایت یافتہ دانشوروں سے کہنا چاہئیے کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی جذباتی کہہ دیں یا پھر یہ کہ یہ شخصیات قائد اعظم سے بھی زیادہ سوج بوجھ رکھتی ہیں ;238; فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ کیا علامہ اقبال جیسی عظیم و بلند شخصیت کو بھی جذباتی کہا جائے گا کہ جنہوں نے بابائے قوم کو خطوط لکھ کر فلسطین کے لئے قرارداد منظور کرنے کی درخواست کی اور یہاں تک بھی کہا کہ اگر فلسطین کے لئے چلائی گئی تحریک میں مجھے جیل بھی جانا پڑا تو میں تیار ہوں ۔ تو کیا علامہ اقبال جو کہ مفکر اعظم ہیں ان کو جذباتی کہا جائے گا;238;

    اب آئیے اگر اسرائیل سے تعلقات کا کوئی ایک بھی فائدہ ہوتا تو قیام پاکستان کے بعد کا پاکستان کیا آج کے پاکستان سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور تھا;238; کیا سنہ1947اور سنہ1948کا پاکستان آج کے پاکستان سے زیادہ طاقت رکھتا تھا;238; اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو پھر قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، محمد علی جوہر اور دیگر زیرک قائدین نے اس بات کو ترجیح کیوں نہ دی کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں اور ترقی حاصل کر لیں ;238; کیا بانیان پاکستان کا فیصلہ غلط تھا یا آج کے ان دانشوروں اور سیاست مداروں کا فیصلہ عقلی اور منطقی ہے ;238; اس بات کا فیصلہ بھی آپ پر چھوڑ دیتا ہوں ۔

    اب آئیے ان دانشوروں کے بتائے گئے فوائد کی بات کرتے ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے ہم طاقتو ر ہو جائیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم سنہ1973ء میں کمزور تھے کہ جب ہماری پاک فضائیہ کے پائیلٹس نے شامی جہازوں کو اڑاتے ہوئے اسرائیلی جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا تھا;238; یا یہ کہ آج ہم واقعی بہت کمزور ہیں اور اسرائیل ہی ہماری زندگی کی آخری امید ہے ;238;نوجوانوں کو سوچنے کی فکر دیتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں ۔

    اب آئیے ذرا ان ممالک کی بات کر لیتے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے ۔ اسرائیل کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ہیں ۔ ترکی نے اسلامی دنیا میں سب سے پہلے اسرائیل کو سنہ1949ء میں ہی تسلیم کر لیا تھا تو کیا آج ترکی اسرائیل کی بدولت محفوظ اور طاقتور ہے ;238; یا یہ کہ ترکی کے وہ تمام مقاصد حاصل ہو چکے ہیں جو وہ اسرائیل کو تسلیم کر کے لینا چاہتا تھا;238;

    مصر نے بھی سنہ1978ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد اسرائیل کو سنہ1979ء میں تسلیم کیا تھا تو کیا آج مصر وہی پہلے والا مصر ہے یا یہ کہ مصر کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے;238; اگر اسرائیل پاکستا ن کا مسیحا ہے تو پھر مصر کا کیوں نہیں ہوا ;238; مصر کی حالت آج کیوں زبوں حالی کا شکار ہے ;238; اردن کی بات کر لیتے ہیں تو اردن نے بھی سنہ1994ء میں اسرائیل کو تسلیم کیا تو کیا آج اردن محفوظ ہو گیا ہے ;238; یا یہ کہ آج اردن کو اسرائیل سے پہلے کی نسبت زیادہ خطرات لاحق ہو چکے ہیں ;238; نوجوانوں کے لئے لمحہ فکریہ چھوڑتے ہوئے اس نقطہ سے بھی آگے بڑھتا ہوں ۔

    اب آئیے خود فلسطینیوں کی بات کرتے ہیں ۔ جی ہاں بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلسطینیوں نے بھی تو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کئے ۔ البتہ ان مذاکرات کو کروانے میں جہاں چند خیانت کاروں کی ہی سازش تھی البتہ پی ایل او نے جب مذاکرات کئے تو پھر یاسر عرفات کے ساتھ اسرائیل نے کیا انجام کیا;238; ان کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔ تو اب یہ دانشور یہ بتانا پسندکیوں نہیں کرتے کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا دھوکہ فلسطینیوں کے لئے ایک عذاب سے کم نہ تھا جس کی وجہ سے ان کی مزید زمینوں پر قبضہ ہوتا چلا گیا اور مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اگر عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لئے ہیں تو یہ منطقی دلیل نہیں ہے کہ پاکستان یا کوئی اور ملک بھی اس بات کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کر لے ۔ فلسطین سے متعلق ہ میں فلسطینیوں کی رائے اور ان کی خواہشات کے مطابق چلنا ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح تحریک پاکستان کے وقت مفتی اعظم فلسطین کے ساتھ خط وکتابت کے ذریعہ رابطہ میں تھے اور آپ کا موقف وہی موقف تھا جو فلسطینیوں کا موقف تھا اور ان کی حمایت کا سبب بنتا تھاتاہم اگر آج کوئی عرب یا غیر عرب حکومت فلسطینیوں کی خواہشات کے بر عکس چلنا چاہتی ہے تو اس کو یقینا خیانت کہا جائے گا ۔ ہ میں بطور پاکستان حکومت اور عوام فلسطین کاز کی حمایت بانیان پاکستان کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق اور فلسطینیوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق کر رہے ہیں ۔ ہم فلسطین کی حمایت میں ان سے آگے نہیں نکل سکتے اورکسی اور کو بھی آگے نہیں نکلنا چاہئیے بلکہ فلسطینیوں کی پشت پر رہتے ہوئے اصولی موقف اپنا نا چاہئیے ۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس موقع پر قائد اعظم کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے جس پر ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئیے ۔

    یہ بات جان لیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں اگر ایک بھی فائدہ ہوتا تو یقینا بانیان پاکستان قیام پاکستان کے بعد اس کام کو انجام دے چکے ہوتے لہذا ہ میں ان خود ساختہ دانشوروں اور سیاست مداروں کے بھنور سے نکلنا چاہئیے کہ جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف نام و نمود اور دولت ہتھیانا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر امت اور قوم کو بھی داءو پر لگانا ہے ۔ یہ بات بھی جان لیجئے کہ اگر چند خیانت کاروں کی باتوں کا اثر لے کر ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں تو پھر مجھے بتائیں کہ ہم کشمیر کی آزادی کے لئے کس منہ سے جدوجہد کریں گے ;238; اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے مودی کو کلین چٹ دے دی ۔ مودی اور نیتن یاہو دونوں ایک ہی جیسے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں لہذا اگر ہ میں کشمیر کی جد وجہد آزادی جاری رکھنی ہے تو پھر فلسطین کی جد وجہد آزادی بھی جاری رکھنا ہو گی اور اس کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل نامنظور پالیسی کو جاری رکھنا ہوگا ۔

  • وقت ضائع کرنے سے بچیں، مگر کیسے ؟  تحریر:عمر یوسف

    وقت ضائع کرنے سے بچیں، مگر کیسے ؟ تحریر:عمر یوسف

    وقت ضائع کرنے سے بچیں، مگر کیسے ؟
    عمر یوسف

    آپ دیکھیں گے کہ جونہی میٹرک کے امتحانات کا اعلان کیا جاتا ہے یا دوسرے امتحانات کا اعلان کیا جاتا ہے تو امتحان میں شرکت کرنے والے امیدوار ایک دم چست ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔ وہ فضولیات چھوڑ کر اپنی ساری طاقت اور انرجی اپنی تیاری پر لگاتے ہیں ۔۔۔ ناکامی کا ڈر اور رسوائی سے بچنے کے لیے وہ اکثر اوقات اپنی تیاری پر زائد وقت بھی لگانا بھی منظور کرلیتے ہیں ۔۔۔ پھر نظر آتا ہے کہ آوارا گردی کرنے والے مصروف ہوگئے ہیں ۔۔۔۔ سستی کرنے والے چست ہوگئے ہیں ۔۔۔ فضولیات میں مبتلاء کارآمدات میں مگن ہیں ۔۔۔ ان کی زندگی میں نظم و ضبط آجاتا ہے ۔۔۔ ان کے اوقات باوقار گزرتے ہیں ۔۔۔ اور وہ سلجھے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔

    اللہ رب العزت نے بھی انسان کو پیدا کرنے بعد اسے یہ شعور عطا فرمایا کہ جلد ہی تمہارا حساب شروع ہوجائے گا ۔۔۔ دنیا کی زندگی میں جو تیاری کی اس کا پرچہ پہلے مرحلے میں قبر کے ایگزام سینٹر میں دینا اور دوسرے مرحلے میں قیامت کے دن گرینڈ ایگزام کی صورت دینا ہے ۔۔۔۔

    جو اس امتحان کی فکر شروع کردیتے ہیں ان کی زندگی میں بدلاو آجاتا ہے ۔۔۔

    آپ دیکھیں گے کہ جس طرح دنیا کی امتحان کی تیاری کا نتیجہ ایک باوقار زندگی کی صورت نکلتا ہے اسی طرح آخرت کی تیاری کا نتیجہ بھی باوقار زندگی کی صورت نکلتا ہے ۔۔۔ دنیاوی امتحان کا ڈر وقتی نظم و ضبط پیدا کرتا ہے اور اخروی امتحان کا تصور دائمی اور مستقل باوقار زندگی عطا کرتا ہے ۔۔۔

    جو بندے کو آخرت میں جواب دہی کا پختہ ایمان ہوگا ۔۔۔۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ دنیاوی فضولیات میں مبتلاء ہوجائے ۔۔۔۔ وہ کبھی بھی فانی دنیا کے عارضی ناجائز فائدے کے لیے اخروی زندگی کا سودا نہیں کرے گا ۔۔۔۔ وہ اخروی امتحان میں کامیابی کی جستجو میں مشکوک و مباح چیزوں کو بھی چھوڑ دے گا ۔۔۔۔

    اسلام نے اسی لیے اخروی امتحان کے پختہ تصور کو ایمان کا جزء قرار دیا ہے ۔۔۔ اور بارہا اس کی یاددہانی کروائی ہے ۔۔۔ مسلم رہنماء و علماء بھی شدو مد سے فکر آخرت پر درس وتقریر کرتے ہیں تاکہ امتحان کا یہ تصور انسان کو دنیاوی لہو و لعب جیسی فضولیات سے بچاتے ہوئے ایک با مقصد انسان بنائے ۔۔۔۔

    آپ کو وہی لوگ گناہوں میں مبتلاء نظر آئیں گے جن کا آخرت پر ایمان انتہائی کمزور یا سطحی لیول کا ہے ۔۔۔۔ ناصرف کامیاب زندگی بلکہ کامیاب آخرت کے لیے اسلام کا تصور امتحان یعنی فکر آخرت پر پختہ ایمان ہونا لازمی اور ضروری ہے ۔

  • کیا عرب ہمت ہار چکے ؟   تحریر:عاصم مجید لاہور

    کیا عرب ہمت ہار چکے ؟ تحریر:عاصم مجید لاہور

    کیا عرب ہمت ہار چکے ؟
    عاصم مجید لاہور

    متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی خبر کے ساتھ ہی پاکستان بھر میں اور کئی مسلمان ممالک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    پاکستان میں ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا بھی ہے جو اس عمل کو درست قرار دے رہا ہے اور پاکستان کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد بتا رہا ہے۔ ان کے مطابق کئی مسلمان ممالک ڈھکے چھپے انداز میں اسرائیل کے ساتھ روابط رکھ کر کئی معاشی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ترکی اور اسرائیل کی تجارت ہرسال بڑھتے ہوئے کئی ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
    ان کے علاوہ ایران ، اومان اور قطر بھی اسرائیل کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ بقول ان کے آپ فلسطین کے ساتھ یکجہتی رکھیں اور اسرائیل کے مظالم کی مذمت کرتے رہیں جیسا کہ ترکی اور ایران ہر فورم پر کرتے ہیں مگر معاشی فوائد بھی حاصل کریں۔
    مگر دوسرا طبقہ متحدہ عرب امارات کے اس اقدام سے پورے عرب ممالک کو امت سے نکالنے پر تلا ہوا ہے۔
    حالانکہ بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں اصل حکومت اور کنٹرول مغربی ممالک کا ہی ہے۔ اس میں ہر طرح کی غیر اسلامی آزادی ہے۔ اور اہل علم جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور گوادر پورٹ کو ناکام کرنے کے لیے فنڈنگ کہاں کہاں سے ہو کر آتی رہی ہے۔ اب اگر بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی ہے تو اس میں حیرانگی والی کیا بات ہے ؟
    آئیں اب فلسطین کے لیے دی گئی اپنی قربانیوں پر نظر دوڑا لیں۔ کیا ہم نے فلسطین کے لیے اسرائیلی مصنوعات کو چھوڑ دیا ہے؟
    کیا ہم نے پیپسی ، کوکا کولا، میکڈونلڈ، کے ایف سی اور شیل پٹرول کا بائیکاٹ کر دیا ہے ؟
    اگر نہیں کیا تو برائے مہربانی کسی پر فتوی نہ لگائیں۔ اگر آپ اتحاد امت میں کردار ادا نہیں کر سکتے تو اختلافات بڑھانے کا ذمہ خود پر نہ لیں۔
    اگر آپ سمجھتے ہیں فلاں ملک منافق اور کفار سے مل گیا ہے تو برائے مہربانی سیرت رسول ﷺ بھی پڑھ لیں۔
    کیا رسول اللہ ﷺ کو تمام منافقین کے ناموں کا پتہ نہیں تھا؟ اور وہ منافقین مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے بھی رہتے تھے آپ ﷺ چاہتے تو ان تمام منافقوں کے سر قلم کروا سکتے تھے۔ مگر آپ ﷺ نے حکمت سے کام لیا۔

    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    مَن سترَ مُسلِمًا سترَهُ اللَّهُ في الدُّنيا والآخِرةِ
    (صحيح ابن ماجه، 2544)
    ترجمہ: "جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔”
    ایک اور نقطہ پر بھی ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریبا 40 لاکھ کے قریب پاکستانی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کام کرتے ہیں اور سالانہ 9 بلین ڈالر کے قریب زرمبادلہ پاکستان میں بھیجتے ہیں۔
    یہ تمام لوگ جو بیرون ملک میں کام کر رہے ہیں ہیں ان میں سے زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو کہ اپنے پورے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    میرے قابل احترام بھائیو امت کو متحد کرنے کے لئے ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے یہ ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا۔ اگر تو ہم اتحاد امت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں الزامات کی سیاست سے نکلنا ہو گا۔ ہاں ہم منفی جملے کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ مگر اس طرح ہم شاید کئی مزید لوگوں کو مسلمان ملکوں سے متنفر کر دیں گے۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ کفار چاہتے ہیں کہ مسلمان ملکوں کو آپس میں لڑایا جائے۔ کہیں ہم اپنے جملوں یا اپنی تحریروں سے کفار کے آلہ کار تو نہیں بن رہے ؟
    آئیں اتحاد امت کے لئے احسن طریقے سے مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کے سربراہان کو سمجھائیں۔ ان کی ہدائت کے لئے اللہ کے آگے سربسجود ہو کر دعا کریں۔
    اللہ تعالی ہمیں اتحاد امت میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

  • کیا عرب ہمت ہار چکے ؟…..عاصم مجید لاہور

    کیا عرب ہمت ہار چکے ؟…..عاصم مجید لاہور

    متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی خبر کے ساتھ ہی پاکستان بھر میں اور کئی مسلمان ممالک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    پاکستان میں ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا بھی ہے جو اس عمل کو درست قرار دے رہا ہے اور پاکستان کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد بتا رہا ہے۔ ان کے مطابق کئی مسلمان ممالک ڈھکے چھپے انداز میں اسرائیل کے ساتھ روابط رکھ کر کئی معاشی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ترکی اور اسرائیل کی تجارت ہرسال بڑھتے ہوئے کئی ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

    ان کے علاوہ ایران ، اومان اور قطر بھی اسرائیل کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ بقول ان کے آپ فلسطین کے ساتھ یکجہتی رکھیں اور اسرائیل کے مظالم کی مذمت کرتے رہیں جیسا کہ ترکی اور ایران ہر فورم پر کرتے ہیں مگر معاشی فوائد بھی حاصل کریں۔

    مگر دوسرا طبقہ متحدہ عرب امارات کے اس اقدام سے پورے عرب ممالک کو امت سے نکالنے پر تلا ہوا ہے۔حالانکہ بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں اصل حکومت اور کنٹرول مغربی ممالک کا ہی ہے۔ اس میں ہر طرح کی غیر اسلامی آزادی ہے۔ اور اہل علم جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور گوادر پورٹ کو ناکام کرنے کے لیے فنڈنگ کہاں کہاں سے ہو کر آتی رہی ہے۔ اب اگر بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی ہے تو اس میں حیرانگی والی کیا بات ہے ؟

    آئیں اب فلسطین کے لیے دی گئی اپنی قربانیوں پر نظر دوڑا لیں۔ کیا ہم نے فلسطین کے لیے اسرائیلی مصنوعات کو چھوڑ دیا ہے؟
    کیا ہم نے پیپسی ، کوکا کولا، میکڈونلڈ، کے ایف سی اور شیل پٹرول کا بائیکاٹ کر دیا ہے ؟

    اگر نہیں کیا تو برائے مہربانی کسی پر فتوی نہ لگائیں۔ اگر آپ اتحاد امت میں کردار ادا نہیں کر سکتے تو اختلافات بڑھانے کا ذمہ خود پر نہ لیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں فلاں ملک منافق اور کفار سے مل گیا ہے تو برائے مہربانی سیرت رسول ﷺ بھی پڑھ لیں۔
    کیا رسول اللہ ﷺ کو تمام منافقین کے ناموں کا پتہ نہیں تھا؟ اور وہ منافقین مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے بھی رہتے تھے آپ ﷺ چاہتے تو ان تمام منافقوں کے سر قلم کروا سکتے تھے۔ مگر آپ ﷺ نے حکمت سے کام لیا۔

    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    مَن سترَ مُسلِمًا سترَهُ اللَّهُ في الدُّنيا والآخِرةِ
    (صحيح ابن ماجه، 2544)
    ترجمہ: "جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔”
    ایک اور نقطہ پر بھی ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریبا 40 لاکھ کے قریب پاکستانی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کام کرتے ہیں اور سالانہ 9 بلین ڈالر کے قریب زرمبادلہ پاکستان میں بھیجتے ہیں۔
    یہ تمام لوگ جو بیرون ملک میں کام کر رہے ہیں ہیں ان میں سے زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو کہ اپنے پورے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    میرے قابل احترام بھائیو امت کو متحد کرنے کے لئے ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے یہ ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا۔ اگر تو ہم اتحاد امت کی بات کرتے ہیں تو ہمیں الزامات کی سیاست سے نکلنا ہو گا۔ ہاں ہم منفی جملے کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ مگر اس طرح ہم شاید کئی مزید لوگوں کو مسلمان ملکوں سے متنفر کر دیں گے۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ کفار چاہتے ہیں کہ مسلمان ملکوں کو آپس میں لڑایا جائے۔ کہیں ہم اپنے جملوں یا اپنی تحریروں سے کفار کے آلہ کار تو نہیں بن رہے ؟
    آئیں اتحاد امت کے لئے احسن طریقے سے مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کے سربراہان کو سمجھائیں۔ ان کی ہدائت کے لئے اللہ کے آگے سربسجود ہو کر دعا کریں۔
    اللہ تعالی ہمیں اتحاد امت میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

    کیا عرب ہمت ہار چکے ؟…..عاصم مجید لاہور

  • حکمرانو اور ترجمانو ایسی فلاحی ریاست آپ کو ہی مبارک ہو  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    حکمرانو اور ترجمانو ایسی فلاحی ریاست آپ کو ہی مبارک ہو بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    حکمرانو اور ترجمانو ایسی فلاحی ریاست آپ کو ہی مبارک ہو

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    کیا یہ فلاحی ریاست بنائی جارہی ہے؟وزیر اطلاعات دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارا مقصد فلاحی ریاست بنانا ہے۔ جناب بتائیں کہ گزشتہ دو سالوں میں فلاحی ریاست بنانے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟
    فلاحی ریاست تو نہیں بنائی گئی البتہ وطن عزیز کو ایک سیکولر اور بے دین ریاست بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ دین اور دین پسند طبقہ پر کھل کر نہ صرف تنقید کی گئی بلکہ ان کا استہزاء بھی اڑایا گیا۔
    حج بیت اللہ کےلئے جانے والوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرکے قادیانی زندیقوں کو قادیان جانے کے لیے سبسڈی دی گئی۔
    مساجد و مدارس کو تجاوزات کے نام پر گرا کر ملک میں حکومتی اخراجات پر مندر، گوردوارے اور گھرجا گھر تعمیر اور ان کی مرمت کی گئی۔
    مہنگائی جان بوجھ کر بڑھائی گئی۔ عوام کو لوٹنے کے لئے مافیاز کو حکومتی سرپرستی میں کھلی چھٹی دے دی گئی اور عوام کو کبھی کمیشن بنانے، کبھی فرانزک رپورٹ اور کبھی وزیراعظم نے نوٹس لے لیا کے خوش نما اعلانات اور نعروں میں الجھایا جاتا رہا۔
    وزیروں، مشیروں اور ترجمانوں کی فوج ظفر موج صرف قوم کو یہ بتانے کے لیے بھرتی کی گئی کہ پہلے حکمران کرپٹ تھے حالانکہ ان کے بہت سے ساتھی موجودہ حکومت کا حصہ ہیں۔
    جناب وزیر اطلاعات صاحب اللہ کا واسطہ ہے ایسے بیانات ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر دینے سے پہلے ذرا باہر نکلیں اور مارکیٹوں میں جا کر ہر چیز کی قیمت کا جائزہ لیں۔ کہ دوسال پہلے ہر چیز کی قیمت کیا تھی اور آج قیمتیں کیا ہیں؟
    آپ کی حکومت نے بجلی کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوا ہے
    حکومت پٹرول کس حساب سے دے رہی ہے
    ادویات کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کا وزیر اربوں روپے کے کر کرنے کی اجازت دے دیتا ہے۔
    ملک میں گندم اور آٹا کے وسیع ذخائر ہونے کے باوجود قیمتوں میں اضافے کے لیے اور عوام کو لوٹنے کے لئے مافیاز کو مکمل اجازت دے دی گئی ہے۔
    گوشت غریب کی پہنچ سے دور جاچکا ہے۔
    دالوں، چاول اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ آلو اور پیاز جو ہر گھر کی ضرورت ہے وہ بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔
    اسکول،کالجز اور یونیورسٹیز کی فیسیں اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ غریب کے لیے بچوں کو تعلیم دلانا مشکل ہو گیا ہے۔
    یہ کیسی فلاحی ریاست ہے؟؟؟
    جہاں پر بچے کی ٹافی اور ماچس سے لیکر کفن تک پر ٹیکس دیتے ہیں لیکن غریب عوام کے لیے نہ اچھا علاج ومعالجہ اور نہ ہی اس کے بچوں کے لیے تعلیم مفت میں ہے۔
    جی ہاں!!!!!
    یہ فلاحی ریاست ہوسکتی ہے وزیراعظم، صدر پاکستان، وزیروں،مشیروں، ترجمانوں، اراکین اسمبلی کے لیے جن کی مراعات میں دل کھول کر اور عوام پر ٹیکسز بڑھا کر اضافہ کردیا جاتا ہے۔
    حکمرانوں اور ان کے ترجمانو ایسی فلاحی ریاست آپ ہی کو مبارک ہو۔ جو سونے کا چمچ اور غریب عوام پر حق حکمرانی کے کر پیدا ہوتے ہیں۔

  • یادوں کی جادوئی پٹاری  تحریر:حفیظ اللہ سعید

    یادوں کی جادوئی پٹاری تحریر:حفیظ اللہ سعید

    یادوں کی جادوئی پٹاری

    تحریر حفیظ اللہ سعید
    #نوائے_حفیظ
    #سچیاں_گلاں

    شادی بیاہ پہ یار بیلی مل بیٹھتے ہیں سارا سارا دن ہلہ گلہ ہوتا ہے اور رات بھر رت جگا ہوتا ہے.گپ شپ و ہنسی مذاق ہوتا اور یادیں دہرائی جاتی ہیں
    پھر واپسی کا لمحہ آتا ہے تو انسان واپس روٹین لائف میں کولہو کے بیل کی مانند جت جاتا ہے.یہ چند پل جو انسان ہمجولیوں کے ساتھ گزارتا ہے اک نئی یاد میں ڈھل جاتے ہیں اگلی ملاقات ہونے تک-
    حالیہ دورہ پپلی (پنڈ دادنخان) ایک یادگار دورہ تھا جس میں بھانجے اور بھتیجی کی شادی پہ سب نے خوب انجوائے کیا.گاؤں کے قریب ہرن پور کے رہنے والے سوشل میڈیائی دوست بھائی اسد خان کے سنگ لانگ ڈرائیو یادگار سگندر اعظم و رسول بیراج کی سیر کی. کیمرے کی اکلوتی آنگھ سے بنی اس مطالعاتی و تفریحی لانگ ڈرائیو کی تصاویر ابھی دو نین دیکھ رہے تھے.تو دل میں یہ خیال آیا کہ انسان کے پاس یہ جو یادوں کی جادوئی پٹاری ہوتی ہے نا یہ بھی کمال کی چیز ہے اس پٹاری میں قہقہوں سے لبریز وہ پل بھی ہوتے ہیں جن کو سوچتے ہوئے ہونٹوں پہ خود بخود مسکراہٹ آ جاتی ہے جبکہ اس جادوئی پٹاری میں غم کے وہ دردناک خزانے بھی دفن ہوتے ہیں جن کو گریدنے والا انسان اپنے ہاتھوں کے پوروں کے ساتھ ساتھ روح تک کو زخمی کر بیٹھنا ہے
    یہ پٹاری تنہائی کے لمحوں میں اپنے جادوئی مال و متاع کے ساتھ آپ کی بہترین ساتھی ہوتی ہے کیونکہ اس پٹاری کے ساتھ آپ اپنی ہر بات شئیر کرتے ہو رب کائنات کے بعد. کسی ایک فرد کو دی ایک چھوٹی سی آسانی و خوشی اور کسی کو دیا اک طعنہ طنزیہ جملہ تک اس ٹوکری کی زینت بن جاتا ہے
    اس لئے کوشش کجئیے کہ آپ کی یہ تنہائی کی ساتھی خوشگوار و مسرت بھری ہو نہ کہ پچھتاؤوں سے لبریز-

  • سعودی عرب اور مسئلہ فلسطین .بقلم فردوس جمال

    سعودی عرب اور مسئلہ فلسطین .بقلم فردوس جمال

    سعودی عرب اور مسئلہ فلسطین .بقلم فردوس جمال

    سوشل میڈیا کے ایک صاحب جس کے اچھے خاصے فالورز ہیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تصویر لگا کر لعن طعن کر رہا تھا کہ عیاش پرست شہزادہ اسرائیل کے آگے لیٹ گیا اور اسرائیل کو تسلیم کر ڈالا،ہم نے کمنٹ کے دو تین وٹے مارے کہ معلوم پڑا موصوف امارات اور سعودی عرب کو ایک ملک سمجھ بیٹھا تھا.

    ہمارے ہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جنہیں پڑھنا چاہئے تھا وہ لکھ رہے ہیں اور ایسے نابغے پھر گل کھلاتے ہیں،بہت ساروں کو یہ تک معلوم نہیں کہ دبئی امارات کا شہر ہے کہ امارات دبئی کا،کچھ تو دبئی کو سعودی عرب کا شہر سمجھتے ہیں،ایسے بھی دانشور پائے جاتے ہیں جو پورے عرب کو سعودی عرب سمجھتے ہیں لہذا عرب کے کسی بھی ملک میں کچھ ہو یہ لوگ ملبہ سعودی عرب پر ڈالتے ہیں، نشانہ سعودی عرب کو بناتے ہیں.

    حالانکہ اگر عرب ملکوں کی بات کریں تو یہ کل 22 ممالک ہیں ان میں سے 12 بر اعظم ایشیاء میں واقع ہیں جب کہ 10 بر اعظم افریقا میں آتے ہیں.

    یہ دینی اور اخلاقی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے کہ آپ بغیر کسی تحقیق اور بغیر کسی علم کے سارے عرب کے گناہ سعودی عرب کے سر ڈال دیں.

    اسرائیل کو متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا ہے نہ کہ سعودی عرب نے،اگر آپ لکھنے کی بجائے پڑھنے کی نیت فرمائیں تو ہم آپ کو بتائیں گے کہ عرب دنیا میں سعودی عرب ایسا واحد ملک ہے جس نے اب تک اسرائیل کے خلاف
    سب سے بڑھ کر جارحانہ موقف اختیار کئے رکھا ہے اور سب سے بڑھ کر فلسطینوں کی عملی مدد کی ہے.

    اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد سعودی عرب نے اعلانیہ
    اس کو غاصب کہا اور تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا.

    سعودی عرب وہ واحد عرب ملک ہے جس کے بادشاہ کنگ فیصل نے کہا تھا کہ اگر پوری عرب دنیا بھی اسرائیل کو تسلیم کرے تو سعودی عرب تسلیم نہیں کرے گا.

    1948 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں سعودی عرب کے پاس موجود ٹوٹی پھوٹی بندوقیں،رائفلیں،اور ہتھیار دے کر ملک عبدالعزیز مرحوم نے اپنی قوم کے گھبرو جوانوں اور فوجی سپاہیوں کو لڑنے کے لئے محاذ پر بھیج دیا تھا.

    1956 ء کی جنگ میں سعودی عرب نے برطانیہ،فرانس اور مغربی طاقتوں کو تیل بند کر دیا،جب ان قوتوں نے سعودی عرب کو دھمکی دی کہ سعودی عرب کو پتھر کے زمانے میں پھینک دیں گے تو ملک فیصل نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ
    مجھے تمہاری ان دھمکیوں کی پروا نہیں میرے آبا و اجداد صحرا میں رہتے تھے ان کا گزر بسر اونٹنیوں کے دودھ پر ہوتا تھا اگر مجھے بھی فلسطین کی خاطر یہ قربانی دینی پڑی تو ہم یہ قربانی دیں گے،عزت اور شرف کے ساتھ بھوک بھی گوارا ہے.اس جنگ میں سعودی عرب اپنے افراد اور مال کے ساتھ شامل رہا،مغربی طاقتوں کو تیل بند کرنے سے سعودی عرب کو 350 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا،اس جنگ میں سعودی عرب نے اسرائیل کے خلاف حملوں کے لئے اپنی سرزمین پیش کی،20 لڑاکا طیارے دیے،کئی شہزادے جن میں ملک سلمان،اور ملک فہد شامل تھے اس جنگ میں نفس نفیس شریک ہوئے.

    1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی سعودی عرب اپنے تمام وسائل کے ساتھ شریک ہوا سعودی فوج کے آفیسر اور جوان اس جنگ میں شہید ہوئے،ان میں سعودی لیفٹننٹ راشد بن عامر الغفیلی کا بھی نام آتا ہے جس نے داد شجاعت
    دیتے ہوئے درجنوں اسرائیلیوں کو مارا اور شہید ہوا.

    1973ء کی جنگ میں سعودی عرب کی 3 ہزار فوج نے حصہ لیا اس بار سعودی عرب نے امریکہ کو بھی تیل کی سپلائی بند کر دی،امریکی وزیر خارجہ بھاگتے ہوئے سعودی عرب پہنچا کہ ہمیں دیگر مغربی ممالک سے استثنی دیں لیکن سعودی عرب نے ماننے سے انکار کر دیا.

    اگر سعودی عرب کے سیاسی کردار کی بات کریں تو سعودی عرب نے اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر مسئلہ فلسطین کو اٹھایا،فلسطینیوں کی بھرپور وکالت کی.

    1979 میں امریکہ نے معاہدہ کیمپ ڈیوڈ کرایا مصر نے اسرائیل کو تسلیم کیا تب سعودی عرب نے مصر سے سفارتی تعلقات ختم کیے اور 8 سال تک مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع رکھے صرف فلسطین کی وجہ سے.

    فلسطینی قوم کے لئے مالی امداد اور تعاون کی بات کریں تو سعودی عرب ہی وہ پہلا ملک تھا جس نے اپنے دروازے فلسطینوں کے لیے کھول دیے.

    لاکھوں فلسطینی سعودی عرب میں مقیم ہیں صرف جدہ شہر میں تین لاکھ فلسطینی آباد ہیں.

    بلا مبالغہ اگر کسی ملک نے سب سے بڑھ کر فلسطینوں کی مالی مدد کی ہے تو وہ سعودی عرب ہے،تفصیل بہت لمبی ہے
    صرف پچھلے پندرہ بیس سال کے اعداد و شمار آپ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں.

    2009 میں جب غزہ کا محاصرہ کیا گیا اور ساری دنیا زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی تھی سعودی عرب نے آگے بڑھ کر 1 ارب ڈالر کی فوری امداد کر دی،سعودی قوم نے جو رقوم اور امداد بھیجی وہ اس سے الگ ہے.

    2013 میں جب فلسطین معاشی مشکلات سے دو چار تھا تب سعودی عرب نے 100 ملین ڈالر کی امداد کی.

    2014 میں 500 ملین ڈالر کی امداد کی.

    2016 میں 800 ملین ڈالر کی امداد.

    غزہ میں فلسطینوں کو پھر سے آباد کرنے کے لئے سعودی عرب نے سب سے بڑا تاریخی پروگرام شروع کیا،اس پروگرام میں گھر،بازار، ہاسپٹلز،سکولز،مساجد کی تعمیر شامل تھی،یہ پروگرام تین مراحل پر مشتمل تھا،پہلے مرحلے میں
    752 عمارتیں بنائی گئیں جن کے ساتھ تمام سہولیات تھیں،دوسرے مرحلے میں 760 عمارتیں جب کہ تیسرے میں 780 عمارتیں شامل تھیں،یہ پروگرام 2015 میں مکمل ہوا،اس منصوبے کی کچھ تصویریں پوسٹ کے ساتھ میں شامل کر دیتا ہوں.

    اب آپ خود انصاف سے بتائیں کہ ایک ایسا ملک جو نہ تو ایٹمی طاقت ہے،نہ ہی اس کی کوئی مضبوظ فوج ہے وہ اس سے بڑھ کر کیا کر سکتا ہے؟

    چند ماہ پہلے سعودی وزیر خارجہ نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا کہ ہم اسرائیل سے متعلق اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اس میں کوئی تبدیلی روز اول سے کبھی نہیں آئی ہے.

    لمحہ موجود تک سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس کی پالیسی میں کوئی نرمی آئی ہے صرف اس مفروضے پر کہ آنے والے وقتوں میں شاید سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرے گا آپ نے پیشگی گالیاں شروع کر رکھی ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے؟

    بات یہ ہے کہ ایک طبقہ جسے سعودی عرب سے مملکت توحید ہونے کی وجہ سے اللہ واسطے کا بیر ہے وہ دن رات پروپیگنڈے میں لگا ہوا ہے ،ان کو میرا کھلا چیلنج ہے کہ
    آپ جن ممالک کی صبح شام وکالت کرتے ہیں مسئلہ فلسطین سے متعلق ان کا سعودی عرب سے بڑھ کر عملی کام دکھائیں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فیس بک چھوڑ دوں گا.

    بقلم فردوس جمال!

  • پاکستان کا نظام تعلیم توجہ چاہتا ہے  تحریر:علی حسن اصغر

    پاکستان کا نظام تعلیم توجہ چاہتا ہے تحریر:علی حسن اصغر

    پاکستان کا نظام تعلیم توجہ چاہتا ہے
    علی حسن اصغر

    ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں پر ذہنی دباؤ بہت زیادہ ڈالا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پاتے ۔ کیوں کہ جب تک وہ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کے قابل ہوتے ہیں ، وہ اپنا اعتماد اور حوصلہ کھو چکے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اکثر اوقات وہ بذاتِ خودملک پر ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔۔۔
    ہمارے تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ ہمارے امتحانی نظام میں بھی بہت سی خامیاں موجود ہیں جن کا اثر تعلیمی نظام پر بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر اوقات امتحانی پر چہ جات وقت سے پہلے آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً آج سے تین سال قبل 2017ء میں ،جب یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز(UHS) کے پرچےMCAT (جس کی بنیاد پر طلبہ کو میڈیکل کالجوں ، یونیورسٹیوں میں داخلہ دیتے ہیں) کی جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ دس سالوں سے وہ پرچہ لیک ہوتا رہا ہے ۔
    یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ ملک کیلئے جس قدر مہلک اور تباہ کن بدعنوانی ہے وہ کسی اور شعبے میں نہیں بلکہ تعلیم کے شعبے میں ہے ۔کیونکہ طلبہ اپنے اساتذہ سے سیکھتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جب اساتذہ بدعنوانی کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر ان کے ذہن میں میں یہ بات محفوظ ہو جاتی ہے کہ بدعنوانی کوئی بڑا جرم نہیں اور جب یہی طلباء تعلیمی اداروں سے نکل کر مختلف شعبوں میں اپنی عملی زندگی کا آغاز کرتے ہیں تو انہیں بدعنوانی کرنے اور رشوت لینے میں قباحت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ انہوں نے اپنے اساتذہ کو بدعنوانی کرتے دیکھا ہوتا ہے ۔
    ایک بات جس کا میں خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہوں گا وہ یہ کہ بدقسمتی سے ہمارے چند تعلیمی ادارے ایسے بھی ہیں کہ جہاں اپنی محنت سے امتحان پاس کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے نقل کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ وہ طالب علم جو پڑھائی میں ذرا کمزور ہو ، اسے پڑھنے کی بجائے نقل کرنے کے طریقے بتائے اور سمجھائے جاتے ہیں۔۔ اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ امتحانی عملہ بھی رشوت میں ملوث ہوتا ہے جس کی وجہ سے ذہین طلبہ کی حق تلفی ہوتی ہے اور طلبہ میں نقل کرنے کا رجحان بڑھتا ہے ۔
    اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا اور اہم نقص جو ہمارے ملک کی بنیادوں کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے وہ یہ کہ اکثر تعلیمی اداروں میں سمجھانے کی بجاۓ رٹہ بازی کو ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے طلباء امتحانات میں تو اچھے درجوں کے ساتھ پاس ہوتے ہیں ہیں لیکن جب میدانِ عمل میں قدم رکھتے ہیں تو بری طرح ناکام ہوجاتے ہیں۔مثلاً گزشتہ برس 2019ء کے میٹرک کے بورڈ ٹاپرز کا جب نصاب سے متعلق conceptual امتحان لیا گیا تو وہ اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ جس سے ہم اپنے تعلیمی نظام کی بخوبی سمجھ آ جاتی ہے۔
    یہاں میں نے پاکستان کے تعلیمی نظام کے کچھ نقائص پر روشنی ڈالی ہے۔ یقیناً اور مسائل بھی ہوں گے لیکن اگر ہم مسائل کی کثرت سے گھبرا کر قدم نہیں اٹھائیں گے تو مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ کسی بھی راستے پر چلیں،راہ میں پتھر ضرور آئیں گے۔ یہ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان سے اپنی راہ میں دیوار کھڑی کرتے ہیں یا اپنے لیے پُل تعمیر کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ، قدم بہ قدم ہم اگر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہم اپنی محنت کا ثمر حاصل کریں گے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسائل سے گھبرانے کی اور ان سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ عطا فرمائے۔
    ( آمین)
    اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
    شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

  • ہامی بھر ہی لی    تحریر:احمد آزاد، فیصل آباد

    ہامی بھر ہی لی تحریر:احمد آزاد، فیصل آباد

    ہامی بھر ہی لی
    احمد آزاد، فیصل آباد
    آپ لکھتے کیوں نہیں ؟ پاک بلاگرز فورم ” اک مجموعہ ہے جس میں نوجوان نسل کو لکھائی اور پڑھائی کی جانب شوق دلانے کی خاطر کام ہورہا ہے ۔ خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے بلکہ لکھنے کے معاملے میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے ۔ اگرچہ عددی اعتبار سے قدرے کم ہیں۔ ” کے اک بھائی کا پیغام دیکھا تو جواب دیا کہ بس ایسے ہی لکھنا چھوڑا ہوا ہے۔ فرمائش کی گئی کہ لکھا کریں اور ہم نے سر تسلیم خم کردیا ۔ اسی طرح اک اور دوست کی طرف سے بھی کہا گیا اور انھوں نے بات کو مختصر کرتے ہوے کہا کہ آپ صرف "حامی” بھریں ۔ اب ہم کیسے ہامی کو حامی میں بدل کر بھر لیتے کہ حامی کا مطلب تو حمایت کرنا ہوگا جب کہ دوست اقرار کروا رہے تھے جو کہ ہامی بھرنا ہوتا ہے ۔ استاد محترم اطہر علی ہاشمی مرحوم "اللہ کریم جوار رحمت میں جگہ دے کہ صحافت کی شان تھے ” اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ ” حامی‘ اور ’ہامی‘ کا جھگڑا طے ہونے میں نہیں آرہا ہے۔ منگل کے ایک اخبار کی سرخی ہے ’’محتسب کے سامنے زبانی حامی بھرنے والا…‘‘
    ارے بھائی، حامی کا مطلب تو حمایت کرنے والا ہے، یہ کہیں بھری نہیں جاتی۔ اور جو بھری جاتی ہے وہ ’ہامی‘ ہے جس کا مطلب ہے ہاں، اقرار۔ ہامی بھرنا: اقرار کرنا کسی کام کا جو کسی قدر دشوار ہو، وعدہ کرنا، زبان دینا وغیرہ۔ ایک شعر میں ہامی کا استعمال دیکھیے:
    کیوں مرے قتل پہ ہامی کوئی جلاد بھرے
    آہ جب دیکھ کے تجھ سا ستم ایجاد بھرے”
    جب استاد ہی اس کے متعلق کہہ گئے ہیں کہ یہ جھگڑا ختم ہونے میں نہیں آرہا تو ہم بھی اس میں پڑنے کی بجاے آگے بڑھتے ہیں ۔ ابھی کل کی بات ہے عیدالاضحیٰ گذری ہے ویسے اشتہارات وغیرہ میں اسے بھی عیدالضحیٰ لکھا پڑھا ہے جس میں بنیادی کردار قسائی کا ہوتا ہے جن کو تو قسائی مل جاتا ہے وہ تو پہلے دن ہی فریضہ سے سبکدوش ہوجاتے ہیں اور جن کو موسمی قسائی میسر آجائیں ان کی عید کے بعد بھی صلواتیں سننے لائق ہوتی ہیں ۔ عیدالاضحیٰ کو بقرہ عید بھی کہتے ہیں جسے اب بکرا عید بھی لکھا ہوا پڑھا ہے ۔ شاید یہ بھی لفظ قسائی کو قصائی کرنے جیسا ہی ہو رہا ہے ۔ فرہنگ آصفیہ کے مطابق یہ لفظ قصّ سے بگڑ کر قسائی ہوا ہے ۔
    سودا کا شعر ہے
    جس دن سے اس قسائی کے کھونٹے بندھا ہے وہ
    گر رہے ہے اس نمط اسے ہر لیل و ہر نہار
    کسی دور میں چراغ کی بتی استعمال ہوا کرتی تھی جسے فتیلہ کہتے تھے اور یہی لفظ توپ یا بندوق کے توڑے پر بھی بولا جاتا تھا۔ جیسے جیسے چیزیں جدیدیت کا روپ دھار رہی ہیں ویسے ویسے الفاظ بھی اپنی ہیت تبدیل کررہے ہیں۔ پرانے وقتوں میں قفلی ملا کرتی تھی جو کہ لفظ قفل سے ملتا جلتا لفظ تھا اور اب اک عرصہ ہوا قفلی پڑھے ہوے اب تو قلفی اور قلفہ ہی چلتا ہے ۔اب دیکھیے کہ لفظ قفلی کا مطلب پیچ دار ظرف جو کہ ایک دوسرے میں آ کر پھنس جاتا ہے ۔ ایک دوسرے میں آتا ہوا نل یا نلی جیسے حقے کی قفلی اور برف کی قفلی۔ لغت میں تو قفل وسواس بھی ہے جس کا مطلب ہے گورکھ دھندا ہوتا ہے ۔ شاید یہ ایسا ہی گورکھ دھندا ہے جو سمجھ نہیں آرہا بلکہ جتنا سلجھ رہا ہے اتنا ہی الجھتا جارہا ہے ۔
    آج اک دوست کی نوکری کے سلسلہ میں اخباری اشتہارات دیکھ رہا تھا تو اس میں سرکاری اشتہارات بھی نظروں سے گذرے جس میں "مع” کو بمع اسناد و دستاویزات وغیرہ لکھا ہوا پڑھا ۔ اگر سرکاری سطح پر اس طرح کے ظلم و ستم کیے جائیں گے تو نجی اداروں میں تو قومی زبان کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ ان کو چاہیے کہ کم از کم اک بندہ اردو زبان کا رکھ لیں جس کی خدمات سے استفادہ کرسکیں ۔ کسی دور میں ہم استفادہ کے ساتھ لفظ حاصل لگا کر خوش ہوا کرتے تھے پھر ہم مدیران جسارت کے ہتھے چڑھے تو انھوں نے جان چھڑوائی کہ استفادہ کے ساتھ حاصل لکھنے سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اک لفظ ادائی ہے رقم کی ادائی وغیرہ جسے ہر جگہ ادائیگی لکھا جاتا ہے ۔ یہ لفظ اس قدر مستعمل ہوچکا ہے کہ ادائی جو درست ہے دماغ قبول ہی نہیں کرتا ۔ اس پر بھی لگتا ہےسمجھوتا کرنا ہوگا کیوں کہ یہ لفظ بھی مہنگائی اور مہندی کی طرح عام ہوچکا ہے ۔بعض افراد کو اپنے نام کے ساتھ چوہدری لکھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے جب کہ یہ لفظ چودھری ہے جسے لکھنے والوں نے چوہدری لکھ لکھ کر دماغ کا دہی بنایا ہوا ہے ۔ اب گاؤں کے چودھری کو بندہ کیسے سمجھاے کہ چودھری صاحب یہ لفظ جو آپ اپنی شان کو بڑھانے کے لیے لکھتے ہیں یہ لفظ چوہدری نہیں چودھری ہے؟ اصل چودھری کو تو سمجھانا دور کی بات شوقیہ لکھنے والوں کو سمجھا کر دیکھ لیجیے دن میں تارے نہ دکھاے تو کہیے گا ۔ ایسے ہی ہم نے غلطیوں سے سیکھا ہے اور اب بھی سیکھ رہے ہیں ۔ اس تحریر میں بھی کئی غلطیاں ہوں گی جو ہمارے بڑے نکالیں گے اور ہمیں خبردار بھی کریں گے۔