Baaghi TV

Category: بلاگ

  • "حصول کشمیر کی تمنا” تحریر: عائشہ اسحاق

    "حصول کشمیر کی تمنا” تحریر: عائشہ اسحاق

    گزشتہ کئی دہائیوں سے5 فروری کو یوم کشمیر تعلیمی اداروں میں تقاریر ، سیمینارز ، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پرجوش بیانات ، ہوا میں اڑتے غبار ے، ہاتھوں پلے کارڈز اٹھا کر منایا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ” کشمیر بنے گا پاکستان ” اور اسکے ساتھ یہ بھی کہ اقوام متحدہ ،دیگر سلامتی کونسلز اس معاملہ کو ختم کر وا سکتے ہیں جبکہ

    تاریخ کے باب کھول کر دیکھ لیں تمام عظیم تر فتوحات اہل ایمان کو تلوار کے زور پر حاصل ہوئیں۔ نہ کہ غبارے اڑا کر یا کفار کی کمیٹیوں سے امیدیں وابستہ کر کے یہہی وجہ ہے کہ آج کئی برس بیت گئے مگر سر زمین کشمیر کا ایک انچ بھی فتح نہیں ہو سکا۔ ہمارے کشمیری بہن بھائیوں پر کافروں کے ظلم وبربریت کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جو ناقابل بیان ہے ۔

  • عزم قربانی اور امید کا دن،تحریر:آمنہ خواجہ

    عزم قربانی اور امید کا دن،تحریر:آمنہ خواجہ

    ہر سال 5 فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ اخلاقی انسانی اور تاریخی یکجہتی کے عہد کی تجدید ہے۔ اس دن پاکستانی قوم ایک آواز بن کر یہ پیغام دیتی ہے کہ کشمیر کے عوام اپنے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں۔
    کشمیر ایک خوبصورت وادی ہی نہیں، بلکہ قربانیوں صبر اور استقامت کی علامت ہے۔ دہائیوں سے کشمیری عوام ظلم جبر اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی روزمرہ زندگی خوف پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں جکڑی ہوئی ہے مگر اس کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ماں کی گود اجڑتی ہے بہن کی آنکھ اشکبار ہوتی ہے مگر آزادی کی خواہش زندہ رہتی ہے۔

    یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں آج بھی کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی گواہ ہیں جن پر عملدرآمد عالمی ضمیر کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے عالمی برادری کی خاموشی کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
    پاکستان نے ہمیشہ سفارتی اخلاقی اور سیاسی سطح پر کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔ 5 فروری کو ملک بھر میں ریلیاں سیمینارز دعائیہ اجتماعات اور انسانی زنجیریں بنا کر یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ کشمیر پاکستان کے دل کی دھڑکن ہے۔ تعلیمی اداروں میں تقاریب کے ذریعے نئی نسل کو کشمیر کی تاریخ جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض جذباتی نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کو مؤثر سفارت کاری، میڈیا اور عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اجاگر کریں۔ قلم زبان اور دلیل کو اپنا ہتھیار بناتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچائیں۔آخر میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں امید دلاتا ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو سحر ضرور آتی ہے۔ وہ دن بھی آئے گا جب کشمیر میں آزادی کی صبح طلوع ہوگی اذیتوں کا خاتمہ ہوگا اور وادی ایک بار پھر امن و خوشحالی کا گہوارہ بنے گی۔ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔

  • 
مقبوضہ کشمیر: ادھمپور میں بھارتی فوج کی کارروائی، 2 کشمیری نوجوان شہید

    
مقبوضہ کشمیر: ادھمپور میں بھارتی فوج کی کارروائی، 2 کشمیری نوجوان شہید

    
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ادھمپور میں قابض بھارتی فوج نے تازہ کارروائی کے دوران دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔
    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج اور پیرا اسپیشل فورسز کے اہلکاروں نے مجلتا کے علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران دونوں نوجوانوں کو شہید کیا۔
    ‎ایک بھارتی افسر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں سیکیورٹی آپریشن تاحال جاری ہے۔
    ‎کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، سی آر پی ایف اور اسپیشل آپریشن گروپ نے مجلتا میں تلاشی آپریشن گزشتہ روز شروع کیا تھا، جو آج بھی جاری رہا۔
    ‎بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ آپریشن کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی گئی۔

  • پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس پر عوامی تحفظ، ریاستی رِٹ اور قانون کی عمل داری کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے گزشتہ چند برسوں میں اس ادارے میں جو مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، ان کے پس منظر میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ڈاکٹر عثمان انور کے دورِ قیادت میں پولیس اصلاحات محض کاغذی دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر ان کے اثرات نمایاں ہوئے۔ صوبے بھر میں نئے تھانوں کا قیام، پرانے تھانوں کی مرمت اور انہیں عوام دوست، صاف ستھرا اور باوقار ماحول فراہم کرنا ایک ایسا قدم تھا جس نے پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، تھانہ کلچر میں بہتری دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

    تاہم، ان تمام اقدامات میں سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو پولیس شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے کیے گئے اقدامات ہیں شہداء کی فیملیز کی مالی معاونت، فلاح و بہبود اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے کیے گئے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس فورس کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان سمجھ کر لیڈ کیا۔ اسی طرح پنجاب پولیس کے ماتحت عملے کی ترقیوں اور کیریئر اسٹرکچر میں بہتری نے فورس کے مورال کو بلند کیا۔

    ریاستی رِٹ کے استحکام اور حکومتِ پنجاب کی عمل داری کو مضبوط بنانے میں بھی پولیس کے کردار کو مؤثر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کو زمینی حقائق میں بدلنے میں ڈاکٹر عثمان انور نے ایک کلیدی کردار ادا کیا اسی تسلسل میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا کردار بھی غیر معمولی رہا۔

    ڈی جی سیف سٹی احسن یونس کی قیادت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے پنجاب کو ایک کنٹرول روم سے مانیٹر کرنے کا نظام قائم ہونا ایک انقلابی قدم تھا۔ سیف سٹی کیمروں، ڈیٹا اینالیسس اور فوری رسپانس میکانزم نے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد دی بلکہ پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس ضمن میں ڈی جی سیف احسن یونس کا کردار بھی قابلِ قدر رہا، جنہوں نے اس نظام کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ ممکن ہے تین سالہ دور میں بعض فیصلے تنقید کی زد میں آئے ہوں، لیکن مجموعی طور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پنجاب پولیس نے بہتری کی سمت میں واضح پیش رفت کی، اب جبکہ پنجاب پولیس کو نئی قیادت میسر ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اصلاحات کا یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا، پولیس شہداء، فورس کے جوانوں اور عوام کے اعتماد کو مرکز میں رکھ کر اگر یہی سمت برقرار رہی تو پنجاب پولیس واقعی ایک جدید، باوقار اور عوام دوست ادارے کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر سکے گی۔

  • ثقافتی ٹھیکیدار اور اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام.تحریر:رقیہ غزل

    ثقافتی ٹھیکیدار اور اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام.تحریر:رقیہ غزل

    اردو ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ سچا فنکار ہمیشہ مصلحتوں سے ماورا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارا نظامِ ہائے ادب مصلحتوں، گروہ بندیوں اور مخصوص لابیوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ آج میں اس شاعر کا ذکر کر رہی ہوں جس کی آواز نے دہائیوں تک اردو زبان کو زندگی دی، جس کے مصرعوں نے لاکھوں ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیا، اور جس کی ایک غزل ’’مجھے کوئی شام ادھار دو‘‘ عالمی سطح پر اردو کی شناخت بن گئی۔ اعتبار ساجد وہ نام ہے جو عوامی مقبولیت کے ہمالیہ پر تو براجمان رہا، مگر ہمارے سرکاری ایوانوں اور خود ساختہ’’ثقافتی ٹھیکیداروں‘‘ کی نظر میں ہمیشہ اجنبی ہی رہا۔ اعتبار ساجد کی زندگی کا آخری باب کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ وہ شخص جس نے اپنی شاعری کے ذریعے ایک دنیا کو خواب دکھائے، اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے ہی نام کی ایک ’’شام‘‘ کا منتظر رہا۔ یہ تماشہ بھی دیکھیے کہ جس شاعر کے مجموعہ کلام نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، اسے اپنے اعترافِ فن کے لیے ایک چھوٹی سی نجی ادبی تنظیم کا سہارا لینا پڑا۔ طے پایا کہ ان کے اعزاز میں ایک شام منائی جائے گی، مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ وہ شام چار بار منسوخ ہوئی۔ کبھی انتظامی مسائل آڑے آئے تو کبھی کچھ اور، اور جب آخری بار تاریخ طے ہوئی تو اپنی صحت نے جواب دے دیا۔ وہ ’’ادھار کی شام‘‘ جس کا خواب انہوں نے اپنی جوانی میں دیکھا تھا، ان کے بڑھاپے کی حسرت بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں اتر گئی۔ اعتبار ساجد کوئی شام اپنے محبوب سے نہیں بلکہ اس معاشرے سے مانگ رہے تھے کہ میرے فن کی قدر کرو، مگر انھین جیتے جی وہ مقام نہ دیاگیا جس کے وہ حقدار تھے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الحمرا آرٹس کونسل، اکادمی ادبیات اور مقتدرہ قومی زبان جیسے ادارے کس لیے بنے تھے؟ کیا ان کا کام صرف ان مخصوص پانچ دس لوگوں کی خدمت کرنا ہے جو ہر حکومت میں ’’سیٹ‘‘ ہو جاتے ہیں؟ یہ وہ ثقافتی ٹھیکیدار ہیں جن کا اپنا کوئی ادبی قد کاٹھ نہیں،لیکن یہ سرکاری فنڈز پر اس طرح قابض ہیں جیسے یہ ان کے آباؤ اجداد کی جاگیر ہو۔ یہ ٹھیکیدار طے کرتے ہیں کہ بجٹ کہاں خرچ ہوگا، کسے ایوارڈ ملے گا اور کس کا نام دیوار سے لگایا جائے گا۔ اعتبار ساجد جیسے خود دار شعراء ان ٹھیکیداروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز نہیں ہوتے، اسی لیے انہیں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ سرکاری خزانے سے جو لاکھوں روپے ادیبوں کی فلاح و بہبود کے نام پر نکلتے ہیں، وہ ان مخصوص لابیوں کے ظہرانوں، بیرونِ ملک دوروں اور خود نمائی کی تقاریب کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اعتبار ساجد کی وفات کے محض چار دن بعد جو کچھ الحمرا میں ہوا، وہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی پستی کا اشتہار ہے۔ ابھی شاعر کی میت کی خوشبو بھی فضا سے رخصت نہیں ہوئی تھی، ابھی ان کے مداح سوگوار تھے، مگر الحمرا کے ان ٹھیکیداروں نے دس بارہ افراد کے اسی مخصوص ٹولے کے ساتھ ’’جشنِ لاہور‘‘ سجا لیا۔ یہ کس قسم کا جشن تھا؟ کیا یہ جشن اس بات کا تھا کہ ایک حق گو شاعر خاموش ہو گیایا یہ جشن اس بجٹ کا تھا جو اب اعتبار ساجد کی ’’شام‘‘ کے بجائے ان کی اپنی تشہیر پر خرچ ہونا تھا؟ یہ وہ بے حسی ہے جس نے اردو ادب کو بنجر کر دیا ہے۔آج صرف اعتبار ساجد ہی نہیں، بلکہ ظفر اقبال، باقی احمد پوری ، حسن عسکری،اعجاز کنور راجہ ،اقبال راہی ،کرامت بخاری اورلطیف ساحل جیسے بہت سے حقیقی اور قد آور شعراء بھی اسی نظام کی بے حسی کا شکار ہیں۔ یہ سب کسی تعارف کے محتاج نہیں، اردو ادب کے وہ استاد شاعر ہیں جنہوں نے دہائیوں تک اردو ادب کی وہ حقیقی اور بے لوث خدمت کی ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ان کا فن اپنی جگہ ایک مکمل دبستان ہے، جہاں انہوں نے نہ صرف اردو سخن کو نئے آہنگ سے روشناس کرایا بلکہ نئے لکھنے والوں کی فکری آبیاری بھی کی۔ مگر المیہ دیکھیے کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی قلم کی حرمت پر قربان کر دی، سرکاری ایوانوں کی توجہ کے منتظر ہیں۔ کیا ریاست کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ ان جینوئن تخلیق کاروں کے اعزاز میں سرکاری محفلیں سجاتی؟ یہ قد آور علمی و تنقیدی شخصیات، جن کا کام عالمی معیار کا ہے وہ ان سرکاری گلیاروں میں نظر نہیں آتے کیوں گوشہ نشینی میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں؟

    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اردو ادب کی جڑوں کو اپنے خون سے سینچا ہے، لیکن یہ آج بھی اپنے نام کی’’سرکاری شاموں‘‘ کے منتظر ہیں، جبکہ اسٹیجوں پر اکثریتی وہ لوگ براجمان ہیں جن کا فن سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیرِ ثقافت کو اس ادبی مافیا اور ان ثقافتی ٹھیکیداروں کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ الحمرا ہو یا اکادمی ادبیات، ان کے دفاتر میں فائلیں تو بہت ہلتی ہیں مگر ان فائلوں میں جینوئن ادیب کا نام جان بوجھ کر کہیں گم کر دیا جاتا ہے۔ یہ پیسہ ان ادیبوں کا ہے جو سفید پوشی اور مفلسی میں بھی قلم کی لاج رکھتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان اداروں کا مکمل آڈٹ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ پچھلے کئی سالوں سے وہی مخصوص چہرے ہی کیوں ہر سرکاری تقریب میں نظر آتے ہیں اور کیوں جینوئن شعراء کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک خود مختار اور غیر جانبدار کمیٹی بنائے جو ان مستحق اور قد آور شعراء کی فہرست مرتب کرے جنہیں ان کی زندگی میں سرکاری سرپرستی اور اعتراف کی ضرورت ہے۔ ہم کب تک اپنے ان بیش قیمت اثاثوں کو گمنامی اور حسرتوں کی نذر کرتے رہیں گے؟

    اعتبار ساجد کی ادھوری شام دراصل اس نظام کی منافقت کا نوحہ ہے۔ اعتبار ساجد مرحوم تو اپنی ’’ادھوری شام‘‘ کا قرض اس مٹی پر چھوڑ گئے، مگر پیچھے رہ جانے والے اساتذہ آج بھی ہماری بے حسی کا منہ چڑا رہے ہیں۔ یہ جو ثقافتی ٹھیکیدار آج کل چہرے پر جھوٹی ہمدردی سجائے پھر رہے ہیں، یہ دراصل اس نظام کے گدھ ہیں جو کسی فنکار کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اس کے نام پر بجٹ بٹور سکیں۔ اعتبار ساجد کی وفات محض ایک انسان کا انتقال نہیں، بلکہ ایک عہد کا نوحہ اور ہمارے مردہ ضمیر کا اشتہار ہے۔ اگر آج بھی ہم نے ان ادبی لٹیروں کے ہاتھ نہ روکے تو یاد رکھیے کہ آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام ہمارے ماتھے پر وہ کلنک کا ٹیکہ ہے جسے تاریخ کبھی نہیں دھو سکے گی۔ وہ شام جو ادھار مانگی گئی تھی، وہ ہم پر قرض ہے، اور یہ قرض تب ہی اترے گا جب ہم اپنے جیتے جاگتے فنکاروں کو وہ عزت دیں گے جو ان کا حق ہے، نہ کہ ان کی لاشوں پر جشن منائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان سرکاری ایوانوں میں بیٹھے شعبدہ بازوں کا حساب کیا جائے، ورنہ اردو ادب کی یہ شام ہمیشہ کے لیے اندھیروں کی نذر ہو جائے گی۔

  • بچوں کی تربیت اورتعلیمی نظام کا کردار،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    بچوں کی تربیت اورتعلیمی نظام کا کردار،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    ہر ترقی یافتہ ملک کے پیچھے عمدہ نظام تعلیم ہوتا ہے جو تربیت کے زریعے اپنی قومی زبان میں ترقی سے منفرد مقام حاصل کرتے ہیں آج دنیا میں سچائی اور امانت داری میں پہلے نمبر پر آنے والے ملک جاپان کے نظام تعلیم پر غور کریں تو علم ہوتا ہے کہ جاپانی تعلیمی ٹائم ٹیبل پانچ سے چھ گھنٹے کے اوقات کار میں محدود ہے۔طالب علموں پر ہوم ورک گھرلے جانے پرپابندی ہے یعنی سکول کا کام سکول میں ہی مکمل کروایا جاتا ہے۔یعنی وہ تعلیمی چورجو اپنی نالائقی زدہ کمزوریاں ہوم ورک دے کر والدین پر ڈال دیتے ہیں اس کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ ٹیچر کی قابلیت کا پہلا امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ تعلیم دینے سے پہلے تعلیم کا تعارف اور محبت طالب علم کے دل و دماغ میں اُتارتا ہے اگر طالب علم تعلیم سے بھاگ رہا ہے تو سمجھیں اسے حقیقی استاد نہیں ملا۔جاپانی تعلیمی نظام میں بیشتر سالانہ اوقات کار میں کوئی نصاب ہے ہی نہیں۔بچوں میں تخلیقی اصلا حتیں سوالات اور جوابات کے زریعے پیدا کی جاتیں ہیں۔اس کے علاو ہ والدین پر لازم ہے کہ بچوں کو عام پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سکول لایا جائے گا اس اصول کی وجہ سے تمام طالب علم اپنے آپ کو سب کے برابر سمجھتے ہیں تاکہ کسی امیر میں تکبر نہ پیدا ہو اور کسی غریب میں احساس کمتری نہ پیدا ہو۔سب اچھا انسان ہونے کو فخرکی بات سمجھیں۔اگر کوئی بچہ ذاتی گاڑی پر سکول آتا ہے تو پرنسپل اسے گیٹ سے ہی واپس بھیج دیتے ہیں۔ ملکی وقومی نظم و ضبط کی پاسداری کرنا سب پر فرض ہے۔یہ اصول وضوابط بچے کی ابتدائی عمر میں ہی تعلیمی نظام کے ذریعے شخصیت سازی میں کردار اداکرتے ہیں اس کے علاوہ بچے پر لازم ہے کہ وہ فنون لطیفہ میں سے ادب، پینٹنگ، آرٹ، مصوری، میوزک، و دیگر مشغلوں میں سے اپنی پسند کی وابستگی رکھتے ہوئے لازمی مہارت حاصل کریں جو شخصیت سازی کی وجہ بنتا ہے۔ جاپانی تعلیمی اداروں میں ہر چالیس منٹ کے بعد بریک لی جاتی ہے جیسے ریسرچ سے منسلک کیا جاتا ہے۔تاکہ طالب علم ایجادات کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی قابلیت سے نئی ایجادات پر کام کریں جس کی وجہ سے جدت کا عمل جاری رہتا ہے۔

    علم جاننے تک ہی محدود نہیں رہتا وہ کرنے کے مقصد کو عملی صورت میں پیش کرنے کا نام ہے۔ترقی یافتہ ممالک کے پیچھے تعلیم کا ہی ہاتھ ہے اور تعلیم بھی وہ جو خود ترقی کے تقاضوں سے وابستہ رہتی ہے تبھی دیگر شعبہ جات میں انقلابی تبدیلیاں رونماہوتی ہیں یہ لوگ دنیا کومنفرد معیار ی سہلوتیں دیتے ہوئے معاشی طاقت میں جینے کے مزے لیتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کو مفت یا انتہائی سستا و آسان رکھا جاتا ہے ٹیچرز اور تعلیمی اداروں کے اخراجات حکومتیں مہیا کرتی ہیں پھر یہاں سے کامیاب ہونے والے بچے اپنے ملک کو ترقی کا نتیجہ دیتے ہیں۔

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں انتظامی امور پر فائز لوگوں کو ان کی قابلیت کی بجائے سیاسی خدمات دیکھ کر عہدوں پر بیٹھا دیا جاتا ہے۔ جبکہ شعبہ تعلیم میں ماہر تعلیم لوگوں کوہی وزارت سے لیکر تمام اصلاحی زمہ داریوں پر اختیارات دئیے جانے چاہیں۔ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے ملک بھر میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کاروبارکی شکل اختیار کر چکے ہیں اچھی تعلیم مہنگی تعلیم بن چکی ہے جس کی منزل نوکر بننے والی نوکری سے جڑی ہوئی ہے۔ہر صاحب اولاد والدین حصول تعلیم کے لیے مشکل ترین مسائل میں مبتلا ہیں بچوں کی داخلہ فیس ماہانہ فیس پیپر منی کتابوں کاپیوں پنسل یونیفارم ٹرانسپورٹ بچوں کی پوکٹ منی لنچ ہوم ورک ٹیوشن فیس سکول ٹور ایکٹیوٹی جیسے اخراجات کے بھاری بوجھ کے ساتھ روزانہ ماں کا باپ کی سکول چھوڑنے لانے کی ڈیوٹی بھی شامل حال ہے سارے اخراجات کو جمع کیا جائے تووالدین کی زندگی اور زندگی کا سرمایہ داو پہ لگا رہتا ہے اس کے باوجود جب بچہ کسی ڈگری تک پہنچتا ہے تو اس کی نوکری کے لیے بھاری رشوت و شفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔

    پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں اتنی بڑی قربانیاں دینے کے باوجود جب صوبے بھر میں کوئی بچہ اول پوزیشن پر آتا ہے تو وہ کسی سرکاری سکول میں پڑھنے والے کسی غریب مزدور کا بچہ ہوتا ہے کیونکہ اسے فیل ہونا سکول سے نہیں زندگی سے فیل ہونے کے احساس میں مبتلا کرکے محنت کرواتا ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں بچے فیل نہیں ہوتے ساری کلاس پوزیشن لیکراگلی کلاس میں منتقل ہو جاتی ہے۔اس کے باوجود ہمارا ملک و معاشرہ اگر چہ کم سہی مگر جتنی بھی اچھی اور درست سمت پر چل رہا ہے اس کی وجہ اچھے استاد ہی ہیں جو اپنی اعلیٰ ظرفی سے شاگرد کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہتے ہیں دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا۔آج بھی ایسے استاد ہیں جو اپنے تنخواہ سے کمزور بچوں کے خالی زہن کو چراغ سمجھ کراپنی قربانی کا تیل بھرکے معاشرے کے اندھیروں میں انسانیت کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ان کی تربیت اپنے طالب علموں کوانسانیت کا درس سیکھاتی ہے۔احساس کی دولت سے دل کی جیب بھرنے والے استاد بناتے ہیں کہ بریک کے وقت کسی کے ٹفن سے سوکھی روٹی نکلے تو اس کو کمتر سمجھنے کی بجائے اپنی گھی والی روٹی پر یوں شکرادا کرنا ہے کہ اس کو بانٹ لیا جائے۔
    کسی غریب دوست کے پھٹے کپڑے دیکھ کر اپنے کپڑے دے کر بھرم رکھنے والے کوخدا عزت کا لباس پہناتا ہے۔ کسی افسردہ چہرے کو اپنی مسکراہٹ دینے کے لیے کہنا پڑتا ہے کہ تم نہ ہنسے تو میں رو پڑوں گا۔تربیت سیکھاتی ہے کہ میں نے اپنے جیب خرچ سے اپنے دوست کی چھوٹی سی ضرورت پوری کرکے بڑی نیکی کما نی ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ دوسروں کی دل آزاری سے بچنے کے لیے مزاق کرنے اور مزاق اُڑانے میں فرق کیسے رکھا جاتا ہے۔ تربیت سیکھاتی ہے کہ آپ کے لیے دعا کرنے والے ہاتھوں کا بوسہ لینا قبولیت کو جلدی پورا کروا لیتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اپنی ضرورت کا نوالہ کسی بھوکے کے منہ میں ڈالنے سے رزق خودآپ کے حق میں برکت کی دعائیں کرنے لگتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اپنے جوتے کسی کے ننگے پاؤں میں پہنانے سے آپ کی ضرورتیں آپ کی جانب چلنے لگتی ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ نیک اعمال لکھنے والے قلم سے بھی زیادہ قیمتی وہ قلم ہے جوکسی کے علم سیکھنے میں آپ بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کسی محروم بچے کو اپنے کھلونے دینے سے اُسے خوشی اور آپ کو سکون ملتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کسی ضرورت مند کی مدد کرکے اُسے چوری کرنے سے بچانا بھی کردار سازی کا طریقہ ہوتا ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ کیڑوں مکوڑوں پرندوں کو کھانا ڈالنا تمہارے لیے خدا کے دئیے ہوئے رزق کی شکرگزاری ہے۔تربیت سیکھاتی ہے کہ اچھی نیت اور سوچ رکھنے والے کی زبان سے ادا ہونے والے لفظ زخمی دلوں پر مرہم کاکام کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ انسان وہ ہیں جو دوسروں کا درد اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں۔تربیت سیکھاتی ہے کہ جس طرح خدا کو کسی نے نہیں دیکھاوہ اپنی رحمت اورقدرت سے پہچانا جاتا ہے ایسے ہی انسان بھی اپنی زبان اور کردار سے پہچانا جاتا ہے۔تعلیم و تربیت اکیلے آگے نکلنے کی بجائے دوسروں کو ساتھ لیکر چلنے کا نام ہے۔

  • قرآن: محض ثواب کا ذریعہ یا نصابِ زندگی؟تحریر: عمر افضل

    قرآن: محض ثواب کا ذریعہ یا نصابِ زندگی؟تحریر: عمر افضل

    رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں رونقیں بڑھ رہی ہیں، دسترخوانوں کی فکر کی جا رہی ہے اور عبادات کا ایک مخصوص شیڈول ترتیب دیا جا رہا ہے، لیکن اس تمام تر چہل پہل کے درمیان ایک سوال ہم سب کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے، کیا ہم اس مہینے کو صرف سحری و افطاری اور تراویح کی رسم تک محدود رکھیں گے، یا اس اصل مقصد کی طرف بھی لوٹیں گے جس کے لیے یہ مہینہ چنا گیا؟ یعنی "نزولِ قرآن”۔

    سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو ایک "مقدس تبرک” تو بنا لیا ہے، مگر اسے "نصابِ زندگی” تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔ ہم اسے چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہیں، خوبصورت ریشمی غلافوں میں لپیٹ کر گھر کے سب سے اونچے مقام پر رکھ دیتے ہیں، مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ قرآن ہمارے دلوں کے قریب نہیں آپاتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اللّٰہ کی اس کتاب کے ہم پر کچھ حقوق ہیں، جن میں سے پہلا اور بنیادی حق ‘ایمانِ صادق’ ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ایمان ہمیں ورثے میں مل گیا، لیکن شاید اسی "مفت” ملنے والی نعمت نے ہمیں اس کی قدر سے محروم کر دیا۔ ہمارا ایمان اکثر محض ایک رسمی اقرار بن کر رہ گیا ہے۔ جب تک ہمارا یہ یقین پختہ نہیں ہوگا کہ یہ کتاب اللّٰہ کا ہم سے براہِ راست کلام ہے، تب تک ہدایت کے بند دروازے نہیں کھل سکتے۔ ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہماری زندگی کا ہر فیصلہ قرآن کے تابع ہوتا، مگر یہاں تو حال یہ ہے کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی گزار کر قرآن سے صرف دعائیں مانگنے کا رشتہ رکھتے ہیں۔

    اسی تعلق کا دوسرا اہم پہلو ‘تلاوت’ ہے، مگر یہاں ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم دنیاوی تعلیم کے لیے تو مہنگے ٹیوٹرز اور بہترین اداروں کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن جب اللّٰہ کا کلام پڑھنے کی باری آتی ہے تو ہم اسے غلط لہجے اور ٹوٹے پھٹے لفظوں میں پڑھنے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ کیا خالقِ کائنات کا کلام اس لائق نہیں کہ اسے بہترین انداز (تجوید) سے پڑھا جائے؟ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا کی اسکرولنگ میں ضائع کر دیتے ہیں، مگر قرآن کے لیے ہمارے پاس چند منٹ نہیں ہوتے۔ اس رمضان ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم اپنی تلاوت کو درست کریں گے، کیونکہ یہ کلام جتنا عظیم ہے، اسے اتنے ہی احسن طریقے سے پڑھا جانا چاہیے۔

    تلاوت سے آگے بڑھیں تو سب سے بڑی محرومی ‘فہمِ قرآن’ ہے؛ ہم عربی پڑھ تو لیتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ ہمارا رب ہم سے کہہ کیا رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض ڈاکٹر کا نسخہ تو بار بار پڑھے، لیکن اس میں لکھی دوا استعمال نہ کرے۔ قرآن محض ثواب کے لیے نہیں، بلکہ سمجھنے کے لیے نازل ہوا تھا۔ جب ہم ترجمہ اور تفسیر پڑھتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ براہِ راست ہمارے دکھوں کا مداوا کر رہا ہے اور ہماری الجھنوں کے حل پیش کر رہا ہے۔ فہمِ قرآن کے بغیر گزرا ہوا رمضان ایک پیاسا رمضان ہے۔

    آج کا سب سے بڑا المیہ ‘عمل’ کا فقدان ہے۔ ہم مسجد میں قرآن سن کر روتے ہیں، لیکن مسجد سے باہر نکلتے ہی وہی جھوٹ، وہی ناپ تول میں کمی، وہی سود خور ذہنیت اور وہی بددیانتی ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر ہم صرف سود اور جھوٹ سے رک جائیں تو ہمارے آدھے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ قرآن پر عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جو کسی قوم کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر عزت کے تخت پر بٹھاتا ہے۔

    قرآن کا آخری اور اہم ترین حق اس کے پیغام کی ‘تبلیغ’ یعنی اسے دوسروں تک پہنچانا ہے۔ یہ کتنی بڑی خود غرضی ہے کہ ہدایت کا جو نور ہمیں ملا، اسے ہم صرف اپنی ذات تک محدود رکھیں۔ اللّٰہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تھا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے”۔ یہاں سکھانے سے مراد صرف قاعدہ پڑھانا نہیں، بلکہ قرآن کی آفاقی تعلیمات کو اپنے عمل اور زبان سے معاشرے میں عام کرنا ہے۔ اگر ہم خاموش بیٹھ گئے تو کل روزِ قیامت ہم سے سوال ہوگا کہ تم نے اللّٰہ کے بندوں کو اللّٰہ کے پیغام سے کیوں بے خبر رکھا؟ یہ پیغام صرف لفظوں سے نہیں، ہمارے کردار سے پھیلنا چاہیے۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے برسوں پہلے ہماری اسی حالتِ زار کا نقشہ کھینچا تھا:
    ؎ وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

    یہ رمضان ہمارے پاس ایک موقع ہے کہ ہم قرآن کے ان پانچوں حقوق کو کماحقہ ادا کرنے کی کوشش کریں۔ آئیے عزم کریں کہ اس بار قرآن صرف طاقوں کی زینت نہیں بنے گا، بلکہ ہمارے سینوں میں اترے گا اور ہمارے عمل سے جھلکے۔ خدارا! اس کتابِ ہدایت کو محض ثواب کا ذریعہ نہ سمجھیں، اسے جینے کا ڈھنگ سمجھ کر تھام لیں۔ اللّٰہ پاک ہمیں قرآن مجید کا صحیح فہم اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • حقیقی شعور، انسانیت کا نجات دہندہ،تحریر:پارس کیانی

    حقیقی شعور، انسانیت کا نجات دہندہ،تحریر:پارس کیانی

    یہ سوال کہ انسانیت کا حقیقی نجات دہندہ کون ہے ،کیا ہے ؟، بظاہر سادہ مگر درحقیقت تہہ در تہہ پیچیدگی رکھتا ہے۔ کیا انسانیت کو مذہب بچاتا ہے؟ کیا انسان کی نت نئی اختراعات و ایجادات ؟ یا پھر کوئی ایسی فکر، کوئی ایسی شعوری بیداری ہے جو انسان کو اس کے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیے گئے اندھیروں سے نکال سکتی ہے؟ تاریخ، فلسفہ، مذہب اور موجودہ عالمی حالات،سب اس سوال کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں، مگر حتمی جواب کہیں ایک لفظ میں قید نہیں ہوتا۔

    انسان نے جب شعور پایا تو سب سے پہلے خوف کو جانا۔ اسی خوف سے مذہب نے جنم لیا، یا یوں کہیے مذہب نے اس خوف کو معنی دیے۔ مذہب نے انسان کو بتایا کہ وہ اکیلا نہیں، اس کا ایک خالق ہے، ایک جواب دہی ہے، ایک اخلاقی دائرہ ہے۔ مذہب نے قتل کو گناہ کہا، ظلم کو حرام ٹھہرایا، کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کو نیکی قرار دیا۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو مذہب انسانیت کا سب سے مضبوط محافظ معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہی مذہب جب انسان کے ہاتھ میں اقتدار کا ہتھیار بن گیا تو انسانیت کا سب سے بڑا قاتل بھی یہی بنا۔ تاریخ صلیبی جنگوں، مذہبی فسادات، فرقہ واریت اور تکفیر سے بھری پڑی ہے۔ یہاں سوال مذہب کا نہیں، مذہب کے نام پر انسان کے رویے کا بنتا ہے۔

    اگر ہم کہیں کہ انسان ہی انسانیت کا نجات دہندہ ہے تو یہ بات بھی ادھوری رہتی ہے۔ انسان وہی ہے جس نے قانون بنائے، انسانی حقوق کی بات کی، غلامی کے خلاف آواز اٹھائی، عورت، بچے اور اقلیت کے لیے آواز بلند کی۔ لیکن یہی انسان وہ بھی ہے جس نے ایٹم بم بنایا، نسل کشی کی، جنگیں مسلط کیں، سرمایہ کو خدا بنا کر کروڑوں انسانوں کو فاقہ کشی میں دھکیل دیا۔ انسان اگر محض اپنی جبلّت کے حوالے کر دیا جائے تو وہ درندہ بن جاتا ہے، اور اگر اس کی عقل و اخلاق کو بیدار کیا جائے تو وہ فرشتہ صفت بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے انسان بذاتِ خود نجات دہندہ نہیں، بلکہ ایک امکان ہے،خیر اور شر دونوں کا۔

    انسانیت بطورِ تصور بظاہر سب سے خوبصورت حل لگتی ہے۔ نہ کوئی مذہبی حد بندی، نہ نسلی امتیاز، نہ جغرافیائی تقسیم۔ صرف انسان اور اس کا درد۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسانیت ایک جذبہ تو ہے، مگر ضابطہ نہیں۔ یہ احساس دلاتی ہے، مگر پابند نہیں کرتی۔ جب مفاد، طاقت اور خوف سامنے آتے ہیں تو انسانیت سب سے پہلے قربان ہوتی ہے۔ عالمی سیاست اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں انسانی حقوق صرف وہاں یاد آتے ہیں جہاں مفاد ہو، اور جہاں مفاد نہ ہو وہاں لاشیں بھی اعداد و شمار بن جاتی ہیں۔

    یہیں سے اصل سوال جنم لیتا ہے کہ اگر نہ مذہب اپنی بگڑی ہوئی صورت میں کافی ہے، نہ انسان اپنی جبلّت کے ساتھ، اور نہ انسانیت محض نعرے کی حد تک،تو پھر نجات کہاں ہے؟ جواب آہستہ آہستہ ایک ہی سمت اشارہ کرتا ہے، اور وہ ہے شعور۔مگر شعور سے مراد صرف یہ نہیں کہ ہمیں اپنے حقوق کا شعور حاصل ہو جائے۔ حقیقی شعور یہ بھی ہے کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہو کہ دوسروں کے حقوق کیا ہیں، اور ان حقوق کے مقابلے میں ہماری ذمہ داریاں اور فرائض کیا بنتے ہیں۔ شعور محض آگاہی نہیں، بلکہ ایک زندہ احساس ہے۔ وہ احساس جو ہمیں اپنی ذات کے شور سے باہر نکال کر دوسروں کی ضروریات، ان کی تکلیفوں، ان کے دکھوں اور محرومیوں سے جوڑ دے۔

    حقیقی شعور وہ اعلیٰ علم اور اوصاف کا مجموعہ ہے جس میں انسان کو اپنی ذات کا ادراک بھی حاصل ہو، دوسروں کے درد کا احساس بھی، اپنے خالق کے حضور جواب دہی کا شعور بھی، اور اپنے سے کمزور انسانوں کے لیے دل کی نرمی بھی۔ یہ وہ شعور ہے جس میں انسان کی آنکھ صرف اپنے فائدے پر نہیں، بلکہ اپنے اردگرد کی دنیا پر کھل جاتی ہے، اور آنکھ کے ساتھ بصیرت بھی جاگ اٹھتی ہے۔جب یہ شعور بیدار ہوتا ہے تو مذہب رسم نہیں رہتا، اخلاق بن جاتا ہے۔ انسان محض وجود نہیں رہتا، ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اور انسانیت نعرہ نہیں رہتی، عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسانیت کا نجات دہندہ باہر سے نہیں آئے گا۔ نہ کوئی مسیحا، نہ کوئی نظام، نہ کوئی طاقتور نظریہ۔ انسانیت کا نجات دہندہ ہر انسان کے اندر
    شعور انسان کے حقوق اور فرائض دونوں کا ادراک دیتا ہے، جو ذات، سماج اور خدا،تینوں کے درمیان رشتہ جوڑ دیتا ہے کے دور میں انسانیت کا سب سے بڑا دشمن جہالت نہیں، بلکہ بے حسی ہے۔ وہ بے حسی جو مذہب کو رسم بنا دے، انسان کو عدد، اور انسانیت کو محض تقریر۔ نجات وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان سوچنا شروع کرے، سوال اٹھائے، اور خود کو مرکزِ کائنات سمجھنے کے بجائے کائنات کا ذمہ دار فرد سمجھے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسانیت کا حقیقی نجات دہندہ باہر نہیں ہر انسان کے اندر موجود ہے۔

  • تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کی اصل پہچان اس کی سوچ سے بنتی ہے۔
    نہ عمر اس کا تعارف ہے، نہ لباس، نہ ڈگری اور نہ ہی ظاہری کامیابیاں۔ اصل پہچان وہ زاویۂ نظر ہے جس سے وہ زندگی، انسان اور مسائل کو دیکھتا ہے۔ یہ زاویہ یکایک پیدا نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ تشکیل پاتا ہے، اور اس کی بنیاد عموماً نوجوانی میں رکھی جاتی ہے۔ اگر یہی بنیاد کمزور ہو تو بعد کی ساری عمارت بھی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔
    آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، اس کا سب سے بڑا بحران نہ تو معاشی ہے، نہ سیاسی اور نہ ہی محض اخلاقی۔ یہ بحران دراصل فکری ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جاننے کے ذرائع بے شمار ہیں، معلومات ہر لمحہ ہماری دسترس میں ہے، مگر اس کے باوجود سوچنے، ٹھہرنے اور غور کرنے کے مواقع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو سب کچھ سکھایا جا رہا ہے، سوائے سوچنے کے۔

    تشکیلِ فکر کوئی فوری عمل نہیں۔ یہ نہ کسی نصاب کے ایک باب سے مکمل ہوتی ہے اور نہ کسی تقریر کے اختتام پر۔ یہ مطالعے، مشاہدے، سوال، تنقیدی نظر اور مسلسل غور و فکر کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی اور سماجی نظام انسان کو معلومات تو فراہم کرتا ہے، مگر فکر پیدا نہیں کرتا۔ ہم پڑھتے ہیں مگر سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کے لیے۔ ہم سیکھتے ہیں مگر جانچنے کے لیے نہیں، بلکہ دہرانے کے لیے۔

    اسی مرحلے پر انسانی ذہن ایک خطرناک عادت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سوچنے کے بجائے ردِعمل دینا سیکھ لیتا ہے۔ نتیجتاً آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان ذہن، رائے تو رکھتا ہے مگر بنیاد کے بغیر۔ وہ فیصلے تو کرتا ہے مگر سوال کے بغیر۔ یہ فکری سطحیت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ رویہ ہے۔ ہمیں شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جلدی بولو، واضح مؤقف رکھو اور کسی قسم کے ابہام کو کمزوری نہ بننے دو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فکر کی اصل بنیاد ابہام ہی سے جنم لیتی ہے۔ سوچ وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں انسان کو مکمل یقین حاصل نہ ہو۔

    یہاں ادب کا کردار غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ ادب انسان کو ٹھہراؤ عطا کرتا ہے۔ وہ ذہن کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر سوال کا فوری جواب ضروری نہیں اور ہر مسئلے کا حل ایک جملے میں ممکن نہیں۔ ادب ذہن کو وسعت دیتا ہے، برداشت سکھاتا ہے اور مختلف زاویوں سے سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ مگر جب ادب کو محض نصابی ضرورت بنا دیا جائے یا صرف ذوقی مشغلہ سمجھ لیا جائے تو وہ اپنی فکری تاثیر کھو دیتا ہے۔

    آج کا انسانی ذہن رفتار کا اسیر بن چکا ہے۔ وہ گہرائی کے بجائے خلاصہ چاہتا ہے، فلسفے کے بجائے اقتباس اور استدلال کے بجائے نعرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے فیصلے تیز تو ہوتے ہیں، مگر پختہ نہیں۔ ہم جلد مان لیتے ہیں اور جلد رد بھی کر دیتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ ہم نے جو قبول کیا یا جسے مسترد کیا، اس کی فکری بنیاد کیا تھی۔
    تشکیلِ فکر کا بحران دراصل اسی عدم توازن کا نام ہے۔ یعنی ذہن میں مواد تو بہت ہو، مگر ترتیب نہ ہو۔ الفاظ ہوں، مگر مفہوم نہ ہو۔ علم ہو، مگر حکمت نہ ہو۔ یہ بحران فرد کی ذات سے شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ پورے سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ جب ذہن تربیت یافتہ نہ ہو تو اختلاف بدتمیزی بن جاتا ہے، تنقید نفرت میں بدل جاتی ہے اور مکالمہ شور کا روپ دھار لیتا ہے۔
    ہم اختلاف اس لیے برداشت نہیں کر پاتے کہ ہم نے سوچ کو وسعت دینا نہیں سیکھا۔ ہم سوال سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ہمیں سوال کرنا سکھایا ہی نہیں گیا۔ حالانکہ سوال ذہن کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو ذہن سوال کرنا چھوڑ دے، وہ یا تو مطمئن نہیں بلکہ مقلد بن جاتا ہے۔

    یہاں ادب ایک مرتبہ پھر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ادب انسان کو دوسرا زاویہ دکھاتا ہے۔ وہ اسے اپنے سچ کے ساتھ دوسروں کے سچ کو بھی سننے کی تربیت دیتا ہے۔ تشکیلِ فکر کا مطلب کسی خاص نظریے کو اپنانا نہیں بلکہ ذہن کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ نظریات کو پرکھ سکے، تول سکے اور پھر شعوری طور پر کسی نتیجے تک پہنچے۔آج ہمیں ایسے انسان درکار ہیں جو صرف بولنا نہ جانتے ہوں بلکہ سوچنا بھی جانتے ہوں۔ جو اختلاف کریں تو فہم کے ساتھ، اور مانیں یا رد کریں تو دلیل کے ساتھ۔ یہ صلاحیتیں اچانک پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ مطالعے، ادب سے رشتے، سوال سے دوستی اور خاموش غور و فکر کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں۔

    اگر نوجوانی میں ذہن کی تشکیل نہ ہو تو انسان عمر بھر دوسروں کی سوچ کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ وہ خود فیصلے کرنے کے بجائے مستعار خیالات پر زندگی گزارتا ہے۔ اور یہی اصل غلامی ہے۔ یہ غلامی زبان کی نہیں بلکہ ذہن کی ہوتی ہے۔تشکیلِ فکر کا بحران درحقیقت انسان کے آزاد ہونے کا بحران ہے۔ آزاد بولنے کا نہیں، آزاد سوچنے کا۔ اگر ہم نے اپنے ذہن کو سوچنے کی تربیت نہ دی تو باقی ساری ترقی محض ظاہری ہوگی۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں، ذہنوں سے بنتی ہیں۔ اور ذہن تب بنتا ہے، جب اسے سوچنے دیا جائے

  • نئے ایپسٹین دستاویزات اور غلافِ کعبہ کا سوال: مقدس علامات، تحویلِ امانت، اور تشویشناک تاثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    نئے ایپسٹین دستاویزات اور غلافِ کعبہ کا سوال: مقدس علامات، تحویلِ امانت، اور تشویشناک تاثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید
    دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، بازدارانہ حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں،اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    جیفری ایپسٹین سے منسلک حال ہی میں جاری ہونے والے دستاویزات میں ایسی خط و کتابت سامنے آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلافِ کعبہ (کسوہ)—جو مکہ مکرمہ میں خانۂ کعبہ کو ڈھانپنے والا مقدس کپڑا ہے—کے تین ٹکڑے بالواسطہ ذرائع کے ذریعے اس تک منتقل کیے گئے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سنگین اخلاقی اور تحویلی (custodial) سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق، اس منتقلی میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی کا کردار شامل تھا، جو دیگر واسطہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھیں۔ ترسیلات کو بین الاقوامی طور پر منتقل کیا گیا اور کسٹمز دستاویزات میں انہیں غیر مذہبی اشیاء کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ تاہم، یہ دستاویزات یہ واضح نہیں کرتیں کہ ان مقدس اشیاء کی حوالگی کی اجازت کس نے دی یا انہیں کسی ایسے نجی فرد کو کیوں بھیجا گیا جس کی کوئی معروف مذہبی یا ادارہ جاتی حیثیت نہیں تھی۔

    غلافِ کعبہ کی اہمیت کیوں ہے
    غلافِ کعبہ کوئی عام یادگاری شے نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ اسلام کے مقدس ترین مقام کی علامت ہے۔ طواف کے دوران لاکھوں عقیدت مند خانۂ کعبہ کو چھوتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور اپنی امیدیں اللہ کے حضور رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے غلافِ کعبہ کے کسی بھی حصے کی ترسیل یا تقسیم کے لیے سخت اخلاقی اور تحویلی ضوابط کی توقع کی جاتی ہے۔دستاویزات میں بیان کیا گیا ہے کہ ان ٹکڑوں میں ایسا کپڑا بھی شامل تھا جو حج یا عمرہ کے موسموں میں استعمال ہوا تھا—اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ تشویش مزید بڑھا دیتا ہے کہ ایسی مقدس علامات کو ان کے درست تحفظ اور نگرانی سے کیسے ہٹایا گیا۔

    اسلام، جادو، اور مسلمانوں کی تشویش کی بنیاد
    اسلام سحر (جادو)، توہمات اور باطنی یا شیطانی اعمال کی واضح اور قطعی طور پر نفی کرتا ہے۔
    قرآن و سنت مومنین کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ حفاظت اور مدد صرف اللہ سے طلب کریں اور کسی بھی ایسی قوت کے تصور کو رد کریں جو اللہ کے سوا خود مختار ہو۔ اس تناظر میں، اسلام کسی بھی شے—بشمول غلافِ کعبہ—کو ذاتی یا خود مختار ماورائی طاقت کا حامل نہیں مانتا۔تاہم، تاریخی اور ثقافتی طور پر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دشمن عناصر کبھی کبھار روحانی، نفسیاتی یا علامتی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ ایسی کوششیں اللہ کے حکم کے بغیر کوئی حقیقی اثر نہیں رکھتیں۔ یہ تصور—چاہے کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے—اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مقدس اسلامی علامات کا اخلاقی طور پر گرے ہوئے افراد کے ساتھ جڑ جانا شدید جذباتی اور دینی اضطراب کیوں پیدا کرتا ہے۔

    قرآنِ مجید جھوٹی قوتوں اور گمراہی کے خلاف خبردار کرتا ہے
    کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟
    اللہ کو، جو تمہارا رب ہے اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے
    (سورۃ الصافات 37:125–126)
    اہلِ ایمان کے لیے یہ آیات اس حقیقت کو مضبوط کرتی ہیں کہ فساد، فریب اور اخلاقی زوال بالآخر تباہی ہی پر منتج ہوتے ہیں، چاہے ان کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے۔

    اصل سوال
    جاری کردہ دستاویزات میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ غلافِ کعبہ کے ان ٹکڑوں کو کسی رسم، جادو یا باطنی عمل کے لیے استعمال کیا گیا۔البتہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مقدس اسلامی اشیاء ایک ایسے فرد تک پہنچیں جس کی زندگی استحصال، بدعنوانی اور اخلاقی انہدام کی علامت تھی—اور یہی حقیقت بذاتِ خود گہری جانچ کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا اصل مسئلہ کسی ماورائی نیت پر قیاس آرائی نہیں، بلکہ احتساب ہے:
    ان مقدس اشیاء کو کس نے جاری کیا؟
    کس اختیار کے تحت؟
    اور تحویلی و حفاظتی نظام کیسے ناکام ہوا؟
    مسلمانوں کے لیے یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ مقدس علامات کو کبھی تجارتی شے نہیں بننا چاہیے، نہ ہی ان کا غلط استعمال یا اخلاقی تناظر سے اخراج ہونا چاہیے—خواہ انہیں طلب کرنے والا کوئی بھی ہو۔