Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

    گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ایک ایسی جگہ ہے جسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ پیر پنجال کے بلند پہاڑی سلسلے میں سر اٹھائے یہ چوٹی سطح سمندر سے تقریباً 3,045 میٹر یعنی 9,989 فٹ بلند ہے۔ یہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے جیسے آپ بادلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    گنگا چوٹی کا اصل حسن اس کے مقام میں ہے۔ یہ سدھن گلی کے قریب واقع ہے اور قدرتی طور پر دو اضلاع کو جوڑتی ہے۔ اس کے ایک طرف ضلع باغ کی وادیاں ہیں تو دوسری طرف ضلع جہلم ویلی کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد سے یہاں کا سفر تقریباً 200 کلومیٹر کا ہے۔ ہزارہ موٹروے اور مری ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے باغ اور پھر سدھن گلی تک پکی اور بہترین سڑک موجود ہے۔ سدھن گلی سے گنگا چوٹی تک جیپ یا عام گاڑی آرام سے چلی جاتی ہے۔ پیدل چلنے کے شوقین لوگوں کے لیے بھی مختصر ٹریک موجود ہے جو ہرے بھرے جنگل سے گزرتا ہے۔

    اس چوٹی پر کھڑے ہو کر چاروں طرف کا نظارہ دل موہ لیتا ہے۔ وسیع سبز چراگاہیں جن پر بھیڑ بکریاں چرتی ہیں۔ دور تک پھیلی ہوئی وادیاں، اور نیچے بادلوں کا سمندر سب کچھ کسی خواب جیسا لگتا ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم بہت ہی خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ شہروں کی گرمی سے تنگ لوگ جب یہاں پہنچتے ہیں تو ٹھنڈی ہوائیں ساری تھکن اتار دیتی ہیں۔ سردیوں میں یہ پورا علاقہ سفید برف کی چادر اوڑھ لیتا ہے اور منظر مکمل بدل جاتا ہے۔ برفباری کے شوقین لوگ دسمبر سے فروری کے درمیان یہاں کا رخ کرتے ہیں۔گنگا چوٹی صرف ایک پہاڑ نہیں بلکہ سکون کی جگہ ہے۔ یہاں کیمپنگ کا اپنا ہی مزہ ہے۔ رات کو تاروں بھرا آسمان اور صبح منہ پر پڑتی دھوپ زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ مقامی لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور سیاحوں سے محبت سے پیش آتے ہیں۔اگر آپ نے ابھی تک کشمیر کی یہ جنت نہیں دیکھی تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ ایک بار ضرور جائیں کیونکہ گنگا چوٹی کی خوبصورتی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
    ganga choti

  • روڈ پر جنم لیتے بچے، راستوں میں مرتے مریض، گوجرخان کا والی وارث کون؟تحریر :قمرشہزاد مغل

    روڈ پر جنم لیتے بچے، راستوں میں مرتے مریض، گوجرخان کا والی وارث کون؟تحریر :قمرشہزاد مغل

    جی ٹی روڈ پر واقع عمارت جسے کہنے کو تو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت وہ گوجرخان کے باسیوں کے لیے ایک ریفرل سنٹر اور جیتے جاگتے انسانوں کے لیے مقتل بن چکا ہے۔ گوجرخان کا ٹی ایچ کیو ہسپتال آج بھی کسی مسیحا کا منتظر ہے۔ کسی ایسے صاحبِ اختیار کا منتظر جو تصویروں، بیانات اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ کسی ایسے نمائندے کا منتظر جو سڑک پر جنم لینے والے بچے کی ماں کی تکلیف محسوس کرے، راستے میں دم توڑتے مریض کی آخری سانس کا کرب سمجھے اور عوام کی بے بسی کو اپنی سیاسی ذمہ داری جانے۔ ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ گوجرخان میں ہسپتال تو تھا، مگر علاج نہیں تھا، نمائندے تو تھے، مگر نمائندگی نہیں تھی، اور عوام تو تھے، مگر ان کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔ کیا ضمیر مر چکے ہیں یا احساس کی رگیں سن ہو چکی ہیں؟ پوٹھوہار کی زرخیز دھرتی، جس نے ملکی سیاست کو بڑے بڑے نامور جلیل القدر رہنما اور عہدے دار دیے، آج اپنے ہی بیٹوں اور بیٹیوں کے خون کا نوحہ پڑھ رہی ہے۔ تحصیل گوجرخان کے لاکھوں عوام کا پرسا دینے والا کوئی نہیں اور اس بے حسی کا سب سے بڑا مرکز جی ٹی روڈ کے کنارے وسیع و عریض رقبے پر پھیلی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان کی عمارت دراصل کوئی علاج گاہ نہیں، بلکہ اس نظامِ کہنہ کا وہ نوحہ ہے جسے سن کر پتھر کا دل بھی پگھل جائے، مگر افسوس کہ ہمارے چنے ہوئے نمائندوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں اس ہسپتال پر ‘ٹراما سنٹر’ کا چمکتا ہوا بورڈ تو سجا دیا گیا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ وہ ٹراما سنٹر نہیں، بلکہ گوجرخان کے غیور عوام کے ساتھ ایک بدترین ڈراما سنٹر تھا جو آج تک چلی آ رہی ہر حکومت اور ہر سیاسی جماعت کے دور میں کامیابی سے کھیلا جا رہا ہے۔ جدید دور کا نعرہ لگانے والے ذرا آ کر دیکھیں کہ یہاں نہ تو کوئی فنکشنل آئی سی یو (ICU) ہے، نہ زندگی بچانے والا وینٹی لیٹر، اور نہ ہی قبل از وقت پیدا ہونے والے معصوم بچوں کے لیے کوئی نرسری، نہ ریڈیالوجسٹ ہے، یہ کیسی ترقی ہے جہاں ایک حاملہ ماں، ایک بوڑھا باپ یا حادثے کا شکار کوئی نوجوان بنیادی طبی سہولت کو ترستا ہے؟ نتیجہ؟ ایک ہی لکیر پیٹی جاتی ہے "راولپنڈی ریفر کر دو”۔ وہ راولپنڈی جو گوجرخان سے گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ اس خونی راستے میں کتنے ہی بوڑھے باپ اپنے بیٹوں کے کندھوں پر دم توڑ گئے، کتنے ہی بھائی سسک سسک کر مٹی ہو گئے، اور بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ایمبولینسوں یا سڑک کنارے گاڑیوں میں بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ مناظر دیکھ کر ان ایوانوں میں بیٹھے پنڈتوں کو شرم نہیں آتی؟ مسئلہ ڈاکٹروں، نرسوں یا پیرامیڈیکل اسٹاف کا نہیں ہے۔ سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ان کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ وہ خود اس بوسیدہ نظام کے یرغمالی ہیں۔ عوام اور ڈاکٹرز آمنے سامنے ہیں، کہیں ہاتھا پائی ہو رہی ہے تو کہیں سڑکوں پر موت بٹ رہی ہے، لیکن اصل مجرم وہ سیاسی اشرافیہ جو ہر الیکشن میں ووٹ مانگنے آپ کی دہلیز پر ناک رگڑتی ہے وہ غائب ہے۔ اگر ان نمائندوں میں رتی برابر بھی غیرت اور وفا ہوتی، تو آج گوجرخان کا ہسپتال گریۂ زاری کی داستان نہ بنا ہوتا۔ کچھ دن شور مچتا ہے، سوشل میڈیا پر طوفان اٹھتا ہے، کوئی بے بس ڈاکٹروں کو گالیاں دیتا ہے تو کوئی صحافیوں کے قلم پر سوال اٹھاتا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ ان تماش بین سیاسی رہنماؤں کے گریبان پر کوئی ہاتھ کیوں نہیں ڈالتا؟ ان سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ تمہاری شاہانہ مراعات، تمہاری وی آئی پی پروٹوکول والی گاڑیاں تو وقت پر پہنچ جاتی ہیں، مگر غریب کے لیے وینٹی لیٹر، بچوں کی نرسری، آئی سی یو یونٹ، کیوں نہیں بن سکتا؟

    ہر حادثے کے بعد ہم چند دن ماتم کرتے ہیں اور پھر نئے مقتول اور نئے واقعے کے انتظار میں سو جاتے ہیں۔ آج گوجرخان کا ہسپتال کسی لفاظی یا کھوکلے دعوے کا نہیں، بلکہ ایک حقیقی مسیحا کا متلاشی ہے۔ کوئی تو ہو جو اس دھرتی کا والی وارث بنے، جو راستے میں تڑپنے والوں کا کرب اپنے سینے پر محسوس کرے، جو سڑک پر بچہ جنتی بہن بیٹی کی بے بسی پر خون کے آنسو روئے۔ کب تک ہم ان تماش بینوں کی شطرنج کے مہرے بنے رہیں گے؟ چشم پوشی کرنے والے ان حکمرانوں کو اب آئینہ دکھانے کا وقت آ چکا ہے۔ اگر اب بھی گوجرخان کے عوام نے اپنے حق کے لیے ان سیاسی بتوں کے گریبان نہ پکڑے، تو یاد رکھیے، اگلا جنازہ خدانخواستہ کسی کا بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ موت کسی کا سیاسی نظریہ دیکھ کر نہیں آتی۔

  • یوم عاشورہ ؛ وہ دن جو انقلاب اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔تحریر: اعجازالحق عثمانی

    یوم عاشورہ ؛ وہ دن جو انقلاب اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔تحریر: اعجازالحق عثمانی

    دس محرم الحرام، یعنی یوم عاشورہ، اسلامی تاریخ کا وہ دن ہے جو محض ایک تاریخ یا دن نہیں، یہ وہ دن ہے کہ جس کی اسلامی دنیا اور معرکہ حق و صداقت میں نظیر تک نہیں ملتی۔عاشورہ کا لفظ عربی زبان کے لفظ ’عشرہ‘ سے نکلا ہے، یعنی دس۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت سانحہ کربلا سے بھی پہلے کی ہے۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد کوہ جودی پر محفوظ اتری، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آتش نمرود سے نجات ملی، اور دریائے نیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے رہائی نصیب ہوئی جبکہ فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اسی دریا میں غرق ہو گیا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے خود اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔ یہی نہیں، عربوں کے دور جاہلیت میں بھی قریش اس دن کو محترم سمجھتے اور روزہ رکھا کرتے تھے، اور یہود اسے اپنی عید کی طرح مناتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ محرم کے روزے رکھ کر یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی ساتھ ملا لیا جائے۔ یوں عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بھی قرار پایا، اور احادیث میں اسے ایک عظیم اور بابرکت دن کہا گیا۔

    اسی طرح شریعت اسلامیہ نے اس دن کے لیے ایک اور خوب صورت تعلیم بھی دی ہے، یعنی اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانے پینے میں فراخی اور وسعت کرنا۔ روایت میں آتا ہے کہ جو شخص یوم عاشورہ کے دن اپنے گھر والوں پر رزق میں کشادگی کرے، اللہ تعالی پورا سال اس کے رزق میں برکت ڈال دیتا ہے۔ یوں عاشورہ صرف غم اور سوگ کا دن نہیں رہتا، بلکہ اس میں عبادت، شکرگزاری، اور باہمی محبت کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وہ دوہرا پہلو ہے جو اس دن کو منفرد بناتا ہے، ایک طرف کربلا کا غم، دوسری طرف اللہ کی نعمتوں پر سجد شکر۔

    مگر تاریخ نے اس دن کو ایک ایسے سانحے سے جوڑ دیا جس نے اس کی معنویت کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ یہ سنہ اکسٹھ ہجری کی بات ہے۔ امیر شام حضرت امیر معاویہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید نے اقتدار سنبھالا اور چاہا کہ سلطنت کے ہر گوشے سے اس کی بیعت لی جائے۔ مدینہ میں نواسۂ رسول،حضرت امام حسینؓ موجود تھے، جن کے بارے میں خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ "حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں”- یزید کی حکمرانی، اس کے طرز عمل اور اس کی سیرت کو دیکھتے ہوئے امام عالی مقام حضرت امام حسین کے لیے اس کی بیعت کرنا ممکن نہ تھا۔ آپ نے انتہائی وضاحت سے فرمایا کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔یہ کوئی ذاتی اختلاف نہیں تھا، یہ اصول کی جنگ تھی، خلافت اور ملوکیت کے درمیان فرق کو واضح کرنے کا معاملہ تھا۔

    کوفہ کے لوگوں نے حضرت امام حسین کو ہزاروں خطوط لکھے کہ وہ تشریف لائیں اور ان کی قیادت سنبھالیں۔ آپؓ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو حالات جانچنے کے لیے کوفہ بھیجا۔ ابتدا میں حالات سازگار نظر آئے، مگر جیسے ہی یزیدی گورنر ابن زیاد نے کوفہ پر گرفت مضبوط کی، وہی لوگ جو وفا کے دعوے دار تھے اب خوف کے سائے میں بکھر گئے تھے۔اور حضرت مسلم کو شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر حضرات امام حسین کو راستے ہی میں مل گئی، مگر آپؓ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اب پیچھے ہٹنا، حق کی راہ سے پیچھے ہٹنے کے مترادف تھا۔ دو محرم کو حضرت امام حسین کا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور قیام کےلیے خیمے لگائے گئے۔ یہیں سے بہادری قربانی اور غم کی ایک ایسی داستان شروع ہوئی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے سینے پر کندہ رہے گی۔

    سات محرم کو دریائے فرات پر یزیدی لشکر نے پہرہ بٹھا دیا اور امام اور انکے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا گیا۔ تین دن تک، چھوٹے بچوں سمیت، پورا قافلہ پیاسا رہا۔ چھ ماہ کے حضرت علی اصغر کے لبوں کی پیاس، ننھی سکینہ کی بلکتی آنکھیں، اور بزرگوں کے خشک حلق، یہ سب اس امتحان اور داستان کا حصہ تھے جس میں اللہ تعالی نے صبر و استقامت کی ایسی مثال قائم کروائی جو تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔ دس محرم کا سورج طلوع ہوا تو میدان کربلا حق و باطل کے معرکے کا گواہ بنا۔ یزیدی لشکر کی کثیر تعداد کے سامنے امام حسین کے ساتھ 72 کے قریب جانثار تھے۔ بقول شاعر

    ؎کیا فوج تھی حسینؓ کی اس فوج کے نثار
    ایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگار
    جرار و دیں پناہ نمودار نامدار
    لڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی، کوئی گل عذار
    فوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میں
    وہ سب پلے تھے بیشہءِ شیر الہٰ میں
    جن میں آپ کے بھائی، بھتیجے، بھانجے اور جواں سال بیٹے حضرت علی اکبر بھی شامل تھے۔ ایک ایک کر کے سب نے جام شہادت نوش کیا۔اور سب سے آخر میں، عصر کی نماز کی حالت میں، سجدے میں امام عالی مقام، جگر گوشہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ کو بھی شہید کر دیا گیا۔اس کے بعد جو ہوا، وہ شاید لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اہل بیت کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا۔ یزید شاید اسے اپنی فتح سمجھ رہا تھا، مگر وہ دراصل اس کی شکست کا آغاز کا دن تھا ۔ حضرت زینبؓ، امام حسینؓ کی بہن، نے یزید کے دربار میں جو خطبہ دیا، اس نے ظلم کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
    ؎پہلے ہم مرد، خواتین کو کم جانتے تھے
    رفعت قوم نسا، خطبہ زینب سے کھلی
    کربلا کا خون رائیگاں نہیں گیا، بلکہ اس نے ایک ایسی روایت قائم کی جو آج چودہ سو سال بعد بھی زندہ ہے۔ شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ دراصل یزیدیت کی شکست تھی، اور اسلام ہر کربلا کے بعد نئے سرے سے زندہ ہوتا ہے۔ بقول شاعر
    ؎قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
    اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    کربلا کسی ایک مسلک، کسی ایک فرقے یا کسی ایک خطے کی میراث نہیں۔ یہ ظلم کے خلاف ہر اس انسان کی آواز ہے جو حق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔اور یزید کسی شخص کا نام نہیں، ایک ایسی ذہنیت کا استعارہ ہے جو طاقت کے زور پر سچ کو دبانا چاہتا ہے، اور حسینؓ اس ضمیر کا نام ہے جو موت کو گلے لگا لیتا ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم مفکرین بھی کربلا کے فلسفے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے، اور دنیا بھر کے ادب میں امام حسین رضی اللہ کی قربانی کو انسانی تاریخ کے عظیم ترین اسباق میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔نور احمد میرٹھی صاحب کی مرتب کردہ کتاب ’’بوستانِ عقیدت‘‘ میں ناتھ اعظمؔ جلال آبادی کے اشعار ملاحظہ کیجیے
    ؎اے کربلا ہے تیری زمین رشکِ کیمیا
    تانبے کو خاک سے ہم زر بنائیں گے
    اعظمؔ تُو اپنے شوق کو بے فائدہ نہ جان
    فردوس میں یہ شعر تیرا گھر بنائیں گے

    گرسرن لال ادیبؔ لکھنوی کے لکھے اشعار مندرجہ ذیل ہیں

    ؎لوحِ جہاں پہ نقش ہے عظمت حسین کی
    حق کو شرف ملا ہے بدولت حسین کی
    ہوئی ہے تازہ دل میں رسولِ خدا کی یاد
    کہتے تھے لوگ دیکھ کے صورت حسین کی
    تھا اعتقاد میرے بزرگوں کو بھی ادیبؔ
    میراث میں ملی ہے محبت حسینؓ کی
    حضرت امام حسین رضی اللہ اور کربلا کی داستان سے پتہ چلتا ہے کہ باطل کی فتح، چاہے وہ بظاہر کتنی ہی شاندار کیوں نہ دکھائی دے، تاریخ کے آئینے میں بالآخر شکست ہی ثابت ہوتی ہے، اور حق کی شکست، چاہے وہ کتنی ہی المناک کیوں نہ ہو، آخرکار فتح میں بدل جاتی ہے۔ یہی کربلا کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ وقت اسے مٹا نہیں سکا، بلکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کا پیغام مزید روشن ہوتا چلا گیا۔

  • دولتِ زر سے دولتِ نظر تک،”999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” پر تبصرہ

    دولتِ زر سے دولتِ نظر تک،”999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” پر تبصرہ

    زر کی نہیں، یہ فکر کی دولت کا پیام
    ہر باب میں ہے نورِ بصیرت کا مقام

    اخلاق احمد ساغر

    عہدِ حاضر میں جب مادّی ثروت کو کامیابی کا معیار، زر و جواہر کو عظمت کا مدار اور دولت و شہرت کو رفعت کا شعار سمجھ لیا گیا ہے، ایسے پُرفتن ماحول میں علامہ عبدالستار عاصم نے "999 ٹریلین ڈالر کی کتاب” تصنیف کرکے ایک نئی جہت، ایک نیا شعور اور ایک نیا دستور پیش کیا ہے۔ یہ کتاب صرف اعداد و شمار کا دفتر نہیں بل کہ افکار کا سمندر، کردار کا دفتر، اسرار کا مظہر اور انوار کا منبع ہے۔ اس کے صفحات پر وہ ہستیاں جلوہ گر ہیں جنھوں نے اپنی بصیرت سے زمانوں کو منور کیا، اپنی فراست سے تہذیبوں کو سنوارا، اپنی ریاضت سے علم کے چراغ روشن کیے اور اپنی عظمت سے انسانیت کو نئی منزلوں سے آشنا کیا۔ گویا یہ کتاب دولتِ زر سے بڑھ کر ولتِ فکر، ثروتِ مال سے بلند تر ثروتِ کمال اور سرمایۂ دنیا سے کہیں زیادہ سرمایۂ شعور و وقار کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔
    یہ کتاب محض ٹریلین ڈالروں کی حکایت نہیں بل کہ اُن اربابِ علم و ہنر، اصحابِ فکر و نظر، صاحبانِ تدبر و بصیرت، اور معمارانِ تہذیب و تمدن کی زندہ داستان ہے جنھوں نے اپنی عقل سے جہالت کے اندھیروں کو شکست دی، اپنی حکمت سے زمانوں کو روشنی بخشی، اپنی ریاضت سے انسانیت کو رفعت بخشی اور اپنے کردار سے تاریخ کے ماتھے پر دوام و بقا کے چراغ ثبت کر دیے۔ گویا یہ کتاب دولتِ زر کی نہیں، دولتِ فکر کی؛ ثروتِ مال کی نہیں، ثروتِ کمال کی؛ اور سرمایۂ دنیا کی نہیں، سرمایۂ شعور و وقار کی آئینہ دار ہے۔

    علامہ عبدالستار عاصم نے اس گراں قدر تصنیف میں سائنس، فلسفہ، طب، ادب، معیشت، فنونِ لطیفہ، قیادت، صحافت، تعلیم، عمرانیات، کھیل، صنعت، فلکیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روحانیات کے میدانوں میں درخشندہ ستاروں کو یک جا کرکے ایک ایسا گلستان آباد کیا ہے جس کی ہر کلی خوش بوئے آگہی سے معطر اور ہر شاخ ثمرِ دانائی سے بارآور ہے۔ ابوالقاسم الزہراوی، البیرونی، الفارابی، الرازی، ابن الہیثم، ابن بطوطہ، ابن خلدون، ابن سینا اور الخوارزمی جیسے اکابرِ علم ہوں یا سقراط، کانٹ، کارل یونگ، سگمنڈ فرائیڈ اور نوم چومسکی جیسے اربابِ فکر؛ آئن سٹائن، نیوٹن، گریگر مینڈل، ایلن ٹیورنگ، جیفری ہنٹن اور سٹیفن ہاکنگ جیسے معمارانِ سائنس ہوں یا لیونارڈو ڈاونسی، مائیکل اینجلو، پکاسو، موزارٹ، شیکسپیئر، غالب اور گبریل گارسیا مارکیز جیسے شہسوارانِ فن و ادب؛ ہر شخصیت ایک دبستان، ہر کارنامہ ایک داستان اور ہر باب ایک جہانِ معنی کی حیثیت رکھتا ہے۔

    اسی طرح صلاح الدین ایوبی، محمد علی جناح، کوفی عنان، یاسر عرفات، مارٹن لوتھر کنگ، مدر ٹریسا اور وانگاری ماتھائی جیسے انسان دوست قائدین ہوں یا ہنری فورڈ، جان ڈی راک فیلر، وارن بفیٹ، لیری پیج، سرگئی برن، مارک زکربرگ، جیف بیزوس، ایلون مسک اور سٹیو جابز جیسے دنیا کو نئی جہات عطا کرنے والے صاحبانِ صنعت و ایجاد، مصنف نے ان سب کے حالات و کمالات سے ایسے گوہر ہائے نایاب چنے ہیں جو نوجوان نسل کے لیے شمعِ راہ اور مشعلِ منزل ہیں۔

    اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف معلومات نہیں دیتی بل کہ شعور عطا کرتی ہے؛ صرف واقعات نہیں سناتی بلکہ جہات دکھاتی ہے؛ صرف خواب نہیں جگاتی بلکہ تعبیر کے راستے بھی بتاتی ہے۔ اس کے صفحات امید کی نوید، ہمت کی تاکید، عمل کی ترغیب اور کردار کی تمجید سے مزین ہیں۔ اس کا ہر عنوان پیامِ عمل، ہر سطر ترغیبِ مسلسل اور ہر باب جہدِ مسلسل کا علم بردار ہے۔
    مصنفِ محترم نے نہایت سادہ مگر دل آویز، شستہ مگر شگفتہ، عام فہم مگر پرمغز اسلوب اختیار کرکے اس کتاب کو عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں مفید بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تصنیف علم و حکمت کا گلستان، فکر و آگہی کا بوستان اور تعمیرِ انسانیت کی ایک تابندہ داستان ہے۔

    اگرچہ یہ شاہ کار اپنی جامعیت کے اعتبار سے لائقِ صد تحسین ہے، تاہم آئندہ اشاعتوں میں چند ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کا اضافہ اس کی معنوی وسعت میں مزید اضافہ کرسکتا ہے جن کی خدمات عالمگیر اثرات کی حامل ہیں۔ خصوصاً حکیم الامت، شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ، جنھوں نے خودی، عشق، حریت، اجتہاد اور بیداریٔ امت کا وہ چراغ روشن کیا جس کی ضیا آج بھی مشرق و مغرب کے افق پر جلوہ فگن ہے۔ اسی طرح امام غزالیؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، نیلسن منڈیلا، کنفیوشس، چارلس ڈارون، عبدالسلام، جارج واشنگٹن، سید ابوالحسن علی ندویؒ، عبدالستار ایدھی اور فیض احمد فیض جیسی شخصیات بھی اس گلشنِ معارف کی رونق میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

    ’’999 ٹریلین ڈالر کی کتاب‘‘ ایک کتاب نہیں، ایک مکتب ہے؛ ایک تصنیف نہیں، ایک تحریک ہے؛ ایک دفتر نہیں، ایک سمندر ہے؛ ایک سرمایہ نہیں، ایک خزانہ ہے۔ یہ انمول شاہ کار علم کی شوکت، فکر کی عظمت، کردار کی رفعت اور انسانیت کی خدمت کا ایسا مرقع ہے جس کی قیمت ٹریلین ڈالروں سے نہیں بل کہ بصیرت، حکمت، ہمت اور خدمت کے پیمانوں سے متعین ہوتی ہے۔

    بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ علامہ عبدالستار عاصم کے قلم کو مزید روانی، فکر کو مزید توانائی، علم کو مزید وسعت اور کاوشوں کو مزید مقبولیت عطا فرمائے تاکہ ان کے فیضانِ قلم سے تشنگانِ علم سیراب، طالبانِ فکر کامیاب اور متلاشیانِ حقیقت فیض یاب ہوتے رہیں۔

    نہ کوئی تاج، نہ تخت و نہ جاہ و زر کی بات
    یہاں تو فکر کی ہوتی ہے بس نگاہ کی بات
    یہی تو قوم کے بیدار خواب کا حاصل
    یہی ہے فرد کی تعمیر و ارتقا کی بات
    یہی تو رزق ہے فکروں کے قحط سالوں میں
    یہی ہے قوم کے روشن دل و نگاہ کی بات

  • نفاذِ اردو،ایک امید،تحریر: عاطفہ نواز

    نفاذِ اردو،ایک امید،تحریر: عاطفہ نواز

    یہ ہمارے لیے بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنی زبان اور اپنی شناخت کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ذہنی غلامی میں جی رہے ہیں۔ یہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ ذہانت اور لائق ہونے کی دلیل انگریزی زبان میں مہارت کو سمجھا جاتا ہے۔
    ایک وقت تھا جب برصغیر میں انگریز تجارت کی غرض سے آئے اور اپنے قدم جمانے کے لیے انہوں نے مقامی زبان سیکھنے کی خاطر فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی۔ مترجمین اور مصنفین کو تلاش کیا گیا اور منشی مقرر کیے گئے۔
    اس طرح انتھک محنتوں اور قربانیوں کے بعد برصغیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ہم آزاد ہوئے تو ہمارے ذہنوں میں کہیں نہ کہیں وہ غلامی ٹھہر سی گئی، جو انگریزوں کے دور میں تھی۔ آج 79 سال گزر جانے کے باوجود ہمارے ذہنوں میں وہ غلامی موجود ہے۔

    ذہنی پستی کی انتہا ہے کہ ایک باشعور انسان اپنی قومی زبان اردو کی بجائے انگریزی زبان کو ترجیح دیتا ہے، حتیٰ کہ ہمارے کالجوں کے انگریزی داں پروفیسر صاحبان شعبۂ اردو کے طلبہ کو نالائق کہا کرتے تھے۔ ایک وقت تھا جب ہم اردو کی طالبات تھیں اور اکثر لائبریری جاتے ہوئے یا لائبریری میں موجود ہوتے تو پروفیسر ولی اللہ مروت، جو غالباً Lucky English Guide کے مصنف ہیں، اکثر ہم سے ایک بات کہا کرتے تھے:
    "اردو ڈیپارٹمنٹ نالائق ہے، آپ لوگوں کا لائبریری میں کیا کام ہے؟ اردو والے نہایت نالائق ہوتے ہیں۔”
    چونکہ وہ نظم و ضبط کے نگران استاد (Discipline Teacher) بھی تھے، اس لیے ہم خاموش ہو جاتے تھے، لیکن شعبۂ اردو کے دفتر میں داخل ہوتے ہی ہمارا سوال ہوتا کہ اپنی قومی زبان پڑھنے والے نالائق کیوں کہلائے جاتے ہیں؟

    انگریزی والے صرف انگریزی زبان پر اتراتے ہیں، حالانکہ انگریزی ایک فرنگی زبان ہے اور اس میں مہارت حاصل کرنا اتنی بڑی بات نہیں۔
    جس زبان میں آپ بول رہے ہیں، جو زبان آپ کے لیے اس معاشرے میں ابلاغ کا ذریعہ بنی، آج اسی زبان کو کمتر سمجھنا اور کہنا بڑی زیادتی ہے۔ انگریزی زبان کو بطور ایک زبان ضرور سیکھنا چاہیے، لیکن اس کی تقلید میں اپنی شناخت کو نہیں کھونا چاہیے۔
    المیہ یہ ہے کہ تمام سرکاری اور دفتری کام انگریزی میں ہوتے ہیں۔

    چونکہ بی ایس مکمل ہونے کے بعد ہمیں کوئی ایسا پلیٹ فارم، یعنی ذریعہ، نہ ملا جہاں ہم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے، یا کوئی ایسی خاص سمت جو واقعی ہم اردو والوں کے لیے ہو، تو ایک دوست کے توسط سے جب "عمارہ کنول صاحبہ” سے رابطہ ہوا اور میں "تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس” میں شامل ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ اردو والوں کا دائرۂ کار تو بہت وسیع ہے۔
    ہم نے اردو ادب میں تحاریک پڑھی ہیں، اور جب میں اس حلقے کا تحریک کے نام سے ذکر کرتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ مستقبل میں عمارہ کنول صاحبہ کی محنت ضرور رنگ لائے گی اور اردو کا نفاذ ہوگا۔ وہ دن دور نہیں جب ہمارا ملک اور اس کے باشندے اپنی قومی زبان پر فخر کریں گے۔
    اس جدت، ترقی اور مصروف ترین زندگی میں سے بیش بہا قیمتی وقت جو عمارہ کنول صاحبہ اس تحریک کو دے رہی ہیں، ان شاء اللہ وہ ضائع نہیں جائے گا۔
    میں حیران بھی ہوں اور خوش بھی کہ کوئی ایسا ہے جو اردو زبان سے اتنی محبت کرتا ہے کہ وہ تمام اردو والوں کو جوڑے رکھنے کی نہ صرف کوشش کر رہا ہے بلکہ پُرامید بھی ہے کہ اردو کا نفاذ ہوگا۔ میرا یقین ہے کہ ہم اردو والے اس تحریک کو عمارہ صاحبہ کی محنت، اخلاص اور لگن کے باعث کامیاب ہوتا دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔

  • فیلڈ مارشل آصف منیر، وزیراعظم  اور اسحاق ڈار کی کوششوں سے آبنائے ہرمز کشیدگی کا خاتمہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    فیلڈ مارشل آصف منیر، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کی کوششوں سے آبنائے ہرمز کشیدگی کا خاتمہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ اداروں کی حکمتِ عملی سے پاکستان عالمی برادری میں ذمہ دار امن پسند ملک ثابت

    سفارتی کامیابی کے بعد اب پاکستان کے لیے داخلی معاشی اصلاحات، بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی اقتصادی تعاون ناگزیر

    تجزیہ شہزاد قریشی

    اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے، جہاز رانی کی بحالی، تیل و گیس کی عالمی ترسیل کے دوبارہ معمول پر آنے اور امریکہ و ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کو دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ پاکستان کی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر متعلقہ اداروں نے خاموش لیکن مؤثر سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر منوایا۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان صرف اپنے قومی مفادات ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، صنعتوں اور تجارت پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحران کے ٹلنے پر امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور عالمی منڈیاں اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سفارتی کامیابی کو معاشی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کو اندرونی اقتصادی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور گورننس کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔

    بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی سے سرمایہ کاری، تجارت اور عالمی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی فوائد کے لیے داخلی استحکام بھی ضروری ہے۔ میری رائے میں اگر پاکستان نے واقعی عالمی امن، علاقائی استحکام اور توانائی کے بحران کو ٹالنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے تو امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی شراکت داروں کو پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔ امن کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک کی حوصلہ افزائی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقتصادی تعاون سے بھی ہونی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں دنیا کو تقسیم کرتی ہیں جبکہ سفارتکاری دنیا کو جوڑتی ہے۔ اگر موجودہ پیش رفت پائیدار ثابت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی حالیہ سفارتی تاریخ کی ایک اہم کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔

  • ایک اور زینب،تحریر: بینا علی

    ایک اور زینب،تحریر: بینا علی

    سرگودھا میں سات آٹھ سال کی ایک معصوم بچی دکان پر سودا لینے گئی۔ واپس نہ آئی۔ گھر والوں نے بہت ڈھونڈا۔ سوشل میڈیا پر بھی بتایا۔ پولیس نے دکان کے کیمرے دیکھے۔ بچی اندر جاتے ہوئے نظر آئی باہر آتے ہوئے نہیں۔
    پولیس نے دکان کی تلاشی لی تو اوپر والی منزل سے بوری میں بند لاش ملی۔ یہ اسی بچی کی تھی۔پتا چلا کہ دکان کا ملازم ارسلان یہ سب کر چکا تھا۔ وہ دس سال سے وہاں کام کر رہا تھا۔ اس نے پہلے بچی کے ساتھ زیادتی کی پھر اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ لاش بوری میں ڈال کر اوپر چھپا دی۔پولیس نے ارسلان کو گرفتار کر لیا ہے۔ بچوں کو ان خونی درندوں سے بچانے کے لیے یہ اقدامات بہت ضروری ہیں۔
    1۔ ایسے مجرموں کے فیصلے اتنے کم وقت میں ہوں کہ صدر کو معافی نامہ بھیجنے یا مزید کسی رعایت کی گنجائش نہ رہے۔ مجرم جلد سے جلد اپنے کیفرِ کردار تک پہنچے۔ انصاف کے عمل کو بالکل بھی تاخیر کا شکار نہ کیا جائے۔
    2. اس طرح کے کیس کے فیصلے جلد سے جلد ہونے چاہییں۔ کیونکہ انصاف میں دیر ہونا ماں باپ کے لیے بہت بڑی سولی ہے۔ ایک تو بچے کے ساتھ اتنا ظلم ہو اور اس کے بعد اسے بے دردی سے قتل بھی کر دیا جائے۔
    3. اگر عدالتوں نے تاریخوں پر تاریخیں دینی ہیں تو پھر ہمارے قانون پر تف ہے۔ انصاف جلدی ملے گا تو ہی یہ سلسلہ رکے گا۔
    4. والدین ہوشیار ہو جائیں: سب لوگ اس بات سے آگاہ رہیں کہ اب تو بچے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بہت قریبی رشتہ داروں سے بھی بچے حادثوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تو جب باہر کے ماحول میں بچے کو بھیجیں تو اس طرح بالکل بھی بچے کو اکیلا باہر نہ بھیجیں۔ اس معاشرے میں آپ بچی ہو یا بچہ اس کو آپ اس طرح اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔
    اللہ بچی کی مغفرت فرمائے اور ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کی توفیق دے۔ آمین۔

  • ایک بار پھر معاشرہ سوالوں میں ،تحریر: ریحانہ جدون

    ایک بار پھر معاشرہ سوالوں میں ،تحریر: ریحانہ جدون

    مگر اب کی بار کٹہرے میں کوئی ایک فرد کھڑا نہیں ہے۔ آج ہم سب مجرم کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑے ہیں

    یہ سوالات نئے نہیں، مگر ان کی گونج اب پہلے سے زیادہ ہولناک ہے۔جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ ہوتا ہے، ہم بیدار ہو جاتے ہیں۔
    قانون اور اخلاقیات پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ پھر ہم کچھ دنوں میں سب کچھ بھول کر سو جاتے ہیں۔
    کیا ہم واقعی ایک زندہ اور سوچنے والا معاشرہ ہیں؟
    یا صرف ایسے واقعات پر ماتم کرنا ہماری عادت بن چکا ہے؟
    مگر اب کی بار کٹہرے میں کوئی ایک فرد کھڑا نہیں ہے۔آج ہم سب مجرم کی حیثیت سے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔
    ہم ہر المیے کو ایک سیاسی یا سماجی تماشا بنا دیتے ہیں۔
    یہ تحریر اسی آئینے کو صاف کرنے کی ایک کوشش ہے۔
    لیکن اب کی بار ان سوالوں کا بوجھ سرگودھا کی اس معصوم بچی کے جنازے سے بھی بھاری ہے۔
    وہ معصوم، جو اپنے ننھے ہاتھوں میں کچھ پیسے لیے کسی دکان پر سودا لینے گئی تھی۔اسے کیا معلوم تھا کہ گلی کا وہی راستہ اس کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا۔
    ہم کیسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بچے چیز لینے نکلیں تو لاشیں بن کر لوٹتے ہیں؟
    زینب سے لے کر منتہا تک یہ خونی سلسلہ آخر کب تھمے گا؟
    میرا یہ یہ کالم صرف ایک حادثے کا ماتم نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ماتم ہے
    سرگودھا کے بلاک نمبر 8 میں جو ہوا، وہ کسی ایک درندے کی وحشت نہیں ہے وہ اس گلے سڑے نظام اور بیمار ذہنیت کا کڑوا پھل ہے جسے ہم روز پالتے ہیں۔
    ںسرگودھا میں 8 سالہ معصوم بچی منتہا کے ساتھ پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ نہ صرف ایک جرم بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔
    ایک معصوم بچی گھر کے قریب دکان پر گئی اور واپس نہیں آئی
    CCTV
    کی مدد سے
    اور پولیس بروقت ایکشن سے دو ملزمان گرفتار ہوئے اگر پولیس نے بروقت رسپانس نہیں کیا ہوتا تو ملزم منتہا کی لاش ٹھکانے لگا چکے ہوتے۔۔
    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ زینب، نور اور اب منتہا ۔۔۔
    ہر بار ہم احتجاج کرتے ہیں، مگر نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔
    ایک معصوم بچی کا اس طرح کا انجام پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔
    معصوم منتہا جیسے بچے ہمارے مستقبل ہیں
    ہم اپنے بچوں کو محفوظ ماحول بھی نہیں دے پا رہے
    یہ واقعہ صرف ایک مجرم کا جرم نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی ہے
    جہاں قانون سست، معاشرہ بے حس اور نظام جواب دہ نہیں۔

    کیا ہمارا قانون ایسے درندوں کو سرے عام سزا دے سکتا ہے؟
    کیا ہماری بچیاں گھر کے قریب بھی محفوظ ہیں؟

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ ساتھ اس کا حل بھی تلاش کریں۔
    بچوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین، فوری انصاف اور والدین کی ذمہ داری ۔۔۔
    یہ سب مل کر ہی کام کر سکتے ہیں۔
    اللہ ہم سب کے بچوں کو اس طرح کے سانحات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

  • معاشرتی رویے اور ہماری ذمہ داری ،تحریر :نور فاطمہ

    معاشرتی رویے اور ہماری ذمہ داری ،تحریر :نور فاطمہ

    معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی ترقی یا زوال کا دارومدار لوگوں کے رویوں پر ہے۔ رویہ انسان کی تربیت، اخلاق اور سوچ کا عکس ہوتا ہے۔ مثبت رویے معاشرے کو جوڑتے ہیں جبکہ منفی رویے اسے توڑ دیتے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں آج دو طرح کے رویے عام ہیں۔ ایک وہ لوگ جو محبت، برداشت، تعاون اور عزت کو اپناتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بات سنتے ہیں، کمزور کا سہارا بنتے ہیں اور چھوٹی بات پر جھگڑا نہیں کرتے۔ یہی لوگ معاشرے کی اصل بنیاد ہیں۔ دوسری طرف وہ رویے ہیں جو عدم برداشت، حسد، بدتمیزی اور خود غرضی پر مبنی ہیں۔ ٹریفک میں گالی گلوچ، قطار توڑنا، سوشل میڈیا پر کسی کی تضحیک کرنا اور اختلاف رائے کو دشمنی سمجھنا اب عام ہو چکا ہے۔ ایسے رویے معاشرے کے امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    انسان کا رویہ یکدم نہیں بنتا۔ اس کی تشکیل میں گھر، اسکول اور میڈیا تینوں کا کردار ہے۔ بچہ سب سے پہلے گھر سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین ایک دوسرے سے عزت سے پیش آئیں، سچ بولیں اور مہمان نوازی کریں تو بچہ بھی وہی اپنائے گا۔ اسکول میں استاد کا کام صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ کردار بنانا بھی ہے۔ افسوس کہ آج تعلیم صرف ڈگری تک محدود رہ گئی ہے۔ اخلاق اور تہذیب پیچھے رہ گئے ہیں۔ تیسرا استاد میڈیا ہے۔ جو مواد ہم روز دیکھتے ہیں وہی ہمارے لاشعور میں بیٹھ جاتا ہے۔ نفرت، طنز اور فیک نیوز نے ہمارے صبر کو کم کر دیا ہے۔

    رویوں کی خرابی کی بڑی وجہ "میں” کا بڑھ جانا ہے۔ ہم دوسروں کو نیچا دکھا کر خود کو اونچا سمجھتے ہیں۔ برداشت ختم ہو گئی ہے۔ تھوڑی سی مخالفت پر ہم لڑنے مرنے پر آ جاتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی نے لوگوں کو چڑچڑا کر دیا ہے، مگر یاد رکھیں کہ رویہ حالات سے زیادہ ہمارے انتخاب سے بنتا ہے۔

    اصلاح کی شروعات خود سے کرنی ہوگی۔ مسکرا کر بات کرنا، شکریہ اور معذرت کہنا، بزرگوں کا احترام کرنا، چھوٹوں سے شفقت کرنا اور دوسرے کے احساس کو سمجھنا – یہ چھوٹے عمل ہی بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔ جب ہر شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے گا تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو جائے گا۔

    قومیں اینٹ پتھر سے نہیں بنتیں، رویوں سے بنتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان پرامن، ترقی یافتہ اور عزت دار ملک بنے تو ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ کیونکہ دنیا ہمیشہ ویسی ہی بنتی ہے جیسے ہم ہوتے ہیں۔

  • عظیم ترین سپہ سالار اور ہمدرد حکمران،تحریر: غنی محمود قصوری

    عظیم ترین سپہ سالار اور ہمدرد حکمران،تحریر: غنی محمود قصوری

    اس نے خلافت کا جھنڈا تھاما تو اس کے 5 سالہ عہد میں جب عوام کے حالات بہتر ہو رہے تھے تو پھر اچانک سے برسات ہونا بند ہو گئی

    بہت دیر تک برسات نا ہوئی،جانور مرنے لگے اور خشک سالی نے ڈیرے جما لئے تھے حتی کہ تیز ہوائیں چلتیں جو راکھ کو اڑا کر ساتھ لے کر آتیں،ہر کوئی پریشان ہو گیا کہ الہی یہ کیا ماجرہ ہے ابھی تو ہم نے خوشحالی کی طرف قدم جمائے ہی تھے کہ شہر و گردونواح میں شدید قحط پڑ گیا جو لگ بھگ 9 ماہ تک رہا تھا،تب ہر کوئی پریشان تھا اب کیا ہو گا زندگیاں تو ختم ہو جائیں گیں ،ہر کوئی سوچ رہا تھا موجودہ کمانڈر انچیف جو وقت کا حاکم بھی تھا، خوب عیاشی کر رہا ہو گا مگر اس حاکم وقت اور کمانڈر انچیف نے یہ تاریخی الفاظ کہے جو آج تاریخ کا حصہ ہیں اور ہر گزرے اور آنے والے حاکم وقت کیلئے نصیحت ہیں،
    انہوں نے کہا تھا
    میں گھی، دودھ اور گوشت کا ذائقہ اس وقت تک نہیں چکھوں گا جب تک کہ عام مسلمان پہلی بارش سے فیض یاب نہ ہوں اور معمولات زندگی ٹھیک نا ہو جائیں

    وہ بہت نڈر،بےباک جرآت مند ہونے کیساتھ بہت زیادہ سخی اور ذہین بھی تھا

    لوگوں کی زندگیوں کی خاطر قحط سے نمٹنے کیلئے اس نے اپنی سلطنت کے تمام گورنروں کو حکم بھیجا کہ وہ متاثرین کی کھانے پینے کی اشیاء اور اموال کے ساتھ ہر ممکن مدد کریں،اس کے حکم کی تعمیل ہوئی اور ہر گورنر نے اپنی استطاعت کے مطابق مال بھیجا تو کمانڈر انچیف نے وہ مال لوگوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا جس سے فکر و فاقہ کم ہوا اور آخرکار قحط بھی دور ہو گیا

    دوران قحط اس نے ایک بات کہی تھی جو قیامت تک آنے والی ہر آفت و مصیبت میں رول ماڈل رہے گی

    انہوں نے کہا تھا کہ خدا کی قسم اگر اللہ تعالیٰ اس قحط کو دور نہ فرماتا تو میں مسلمانوں کے گھروں میں سے کسی گھر کو نہ چھوڑتا جن کو اللہ تعالیٰ نے (مالی) وسعت دی ہے مگر یہ کہ ان کے ساتھ ان کے شمار کے مطابق فقراء میں سے بھی داخل کر دیتا
    اس طرح سے اس کھانے سے دو آدمی ہلاک نہ ہوتے جو کھانا ایک آدمی کے لئے کافی ہوتا ہے
    یعنی انہوں نے کفایت شعاری کی ایک اعلیٰ ترین مثال قائم کی اور تاریخ نے دیکھا کہ قحط میں ہر امیر نے ہر غریب کو کھانا کھلایا

    پھر جب قحط ختم ہوا اور پہلی برسات ہوئی تو لوگ بارش سے فیضاب ہونا شروع ہوئے
    نیز بازار میں غلہ آنا شروع ہوا تو ان کے غلام نے بازار سے گھی کا کنستر اور دودھ کا مشکیزہ ان کے لئے 40 درہم میں خریدا
    بقول غلام آپ نے جو عہد کیا تھا قحط کے آغاز میں، وہ پورا ہوا تھا لہذہ اب نا کا حق بنتا تھا اچھا کھانا پینا
    اس غلام نے ان کو بتایا کہ ان کا عہد پورا ہو گیا ہے اسی لئے وہ آپ کے لئے بازار سے گھی اور دودھ کا کنستر خرید لایا ہے تو اس پر انہوں نے غلام کو کہا کہ
    تم ان دونوں چیزوں کو خیرات کر دو کیونکہ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ میں اسراف کے ساتھ کھاؤں
    مجھے رعایا کا حال کیسے معلوم ہوگا اگر مجھے وہ تکلیف نہ پہنچے جو تکلیف انہیں پہنچ رہی ہے؟
    پھر انہوں نے باوجود خوشحالی کے وہ اشیاء صدقہ کروا دیں اور خود سادہ خوراک سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھرتے رہے
    میں جن کی بات کر رہا ہوں وہ خلیفتہ المسلیمین جناب حصرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی ہیں
    وہ عمر جو کہ 13 ہجری کو 25 لاکھ مربع کلومیٹر کے حاکم وقت اور کمانڈر انچیف بنے اور محض 24 ہجری کو اپنی شہادت کے وقت لگ بھگ 55 لاکھ مربع کلومیٹر کے حاکم وقت تھے اور ان کی عمر 63 سال تھی
    مگر ان کی سادگی کا یہ عالم تھا 16 ہجری کو بیت المقدس کی فتح پر عیسائیوں نے بیت المقدس کی چابیاں حوالے کرنے کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ مسلمانوں کو خلیفتہ المسلیمین خود تشریف لائے تو جناب عمر رضی اللہ تعالی نے اپنے غلام کیساتھ انتہائی عام سواری پر سفر کیا اور کبھی خود سواری پر سوار ہوتے تو کبھی اپنے غلام کو سواری کرواتے اور خود پیدل چلتے
    اور جب انہوں نے بیت المقدس کی چابیاں عیسائی پادری سوفرونیوس سے حاصل کیں تو ان کے کپڑوں پر 17 پیوند لگے ہوئے تھے
    آپ رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے دور خلافت میں 55 لاکھ مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے پر حکومت کی لیکن آپ کا عدل و انصاف اتنا بے باک تھا کہ ایک عام دیہاتی بھی آپ کو سرعام ٹوک سکتا تھا اور آپ اپنے فیصلوں میں کسی امیر، غریب، رشتے دار یا گورنر کی رعایت نہیں کرتے تھے

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی موافقت میں قرآن نازل ہوا بہت سی آیات ان کی موافقت میں جبرائیل علیہ السلام لے کر آئے
    اسی لئے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انہی کے بارے میں فرمایا تھا کہ لَوْکَانَ نَبِیٌ بَعْدِی لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یعنی میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ ہوتے
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دوران خواب جنت میں سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ کا محل دیکھا تھا نیر
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کے غیور ہونے کا تذکرہ فرمایا
    حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آداب کا بہت خیال رکھتے تھے جب قرآن مجید میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بلند آواز میں گفتگو کرنے سے روکا گیا تو اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی اتنی آہستگی سے گفتگو کرتے کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم دینا پڑتا تھا کہ ذرا اونچی آواز میں بولو تاکہ بات سمجھ آجائے

    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خواب میں دودھ پیا جس کی سیرابی آپ نے اپنے ناخنوں تک محسوس کی پھر وہ دودھ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی کو تھما دیا جس کی صحابہ کرام نے تعبیر پوچھی تو نبی رحمت ارشاد فرمایا تھا کہ اس سے مراد علم ہے اور وقت نے ثابت کیا وہ بہت بڑے عالم دین بھی تھے اور انہوں نے دین کو عام کرنے کیلئے جہاں پولیس،فوج،ڈاکخانہ آبپاشی،ٹیکس کا نظام متعارف کروایا،وہاں انہوں نے سب سے زیادہ نظام مدارس کیلئے متعارف کروایا تھا

    آج کا ہر انسان عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ کا احسان مند ہے کیونکہ تاریخ میں اس سے قبل نا تو کوئی محکمانہ نظام موجود تھا نا ہی اس قدر عادلانہ نظام تھا
    26 ذی الحجہ 23 ہجری کو نماز فجر کی امامت کرواتے ہوئے ملعون و مردود ابولولو فیروز نامی مجوسی نے خنجر کے وار سے آپ کو شدید زخمی کیا اور تین دن تک زخمی رہتے ہوئے یکم محرم الحرام 24 ہجری کو آپ نے جام شہادت نوش کیا