Baaghi TV

Category: بلاگ

  • سجدے میں گرنے سے پہلے دلوں کو جوڑ لیجیے ،تحریر :شمسہ رانی

    سجدے میں گرنے سے پہلے دلوں کو جوڑ لیجیے ،تحریر :شمسہ رانی

    دل ازاری ایک خاموش گناہ ہے۔ جو بسا اوقات زبان سے نہیں بلکہ رویوں سے جنم لیتی ہے۔ عبادت کا حسن تب مکمل ہوتا ہے ۔جب انسان اپنے رب کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کا بھی خیال رکھے ۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دل کا محاسبہ کریں۔ جن لوگوں کو ہماری وجہ سے دکھ پہنچا۔ ان سے نرمی محبت اور خلوص کے ساتھ پیش ائیں۔ ان کے ٹوٹے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کریں ۔کیونکہ ٹوٹے دلوں کی اہیں انسان کو اندر سے بے سکون کر دیتی ہیں۔ جب کہ دل جوڑنا روح کو سکون بخشتا ہے ۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ عبادت صرف پیشانی کے سجدے کا نام نہیں ۔بلکہ دل کی نرمی کردار کی خوبصورتی اور دوسروں کے لیے اسانی پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر ہم لمبی دعائیں مانگے مگر کسی کی ا نسو کی وجہ بھی خود ہی ہو تو عبادت کی روح ادھوری محسوس ہوتی ہے ۔جو لوگ دوسروں کے زخم بھرنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ ان کے دلوں میں بھی سکون اتارتا ہے۔ اس لیے سجدے میں گرنے سے پہلے اگر ممکن ہو تو ان لوگوں کو گلے لگا لیجئے ان سے معافی مانگ لیجئے یا کم از کم اپنے رویے میں نرمی لے ائیں کیونکہ بعض اوقات ایک چھوٹی سی محبت سے کی ہوئی بات کسی کی برسوں کے اذیت کم کر دیتی ہے ۔

    انسان کی زندگی میں بعض اوقات انا غلط فہمیاں یا وقتی غصہ ایسے فاصلے پیدا کر دیتے ہیں۔ جو دلوں میں خاموش اذیت بھر دیتے ہیں۔ ہم اگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ہمارے الفاظ رویوں کا بوجھ اپنے دل میں لیے جیتے رہتے ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ انسان وقتاً فوقتا اپنے تعلقات کا جائزہ لے سوچے کہ کہیں اس کی وجہ سے کوئی دل شکستہ تو نہیں ایک محبت بھرا لفظ اچھا رویہ کئی بکھرے رشتوں کو پھر سے جوڑ سکتا ہے۔

  • خدا کی خاموشی،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    خدا کی خاموشی،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    خدا مجھے سمجھ ہی نہ سکا، یا شاید میں ہی اسے سمجھنے میں بہت دیر کر گیا۔ اسے یہی لگتا رہا کہ میں اس کا نافرمان ہوں، اس کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہوں، اس کے فیصلوں سے الجھ رہا ہوں، اس کی مرضی کے آگے اپنی مرضی رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مگر میری حقیقت اس سے کہیں مختلف تھی۔ میری حیثیت تو اس کی کسی ادنیٰ مخلوق کے سامنے بھی اکڑ کر کھڑے ہونے کی نہیں تھی، میں اس کے سامنے کیا اکڑتا؟ میں تو بس یقین کر بیٹھا تھا کہ وہ علیٰ کل شئیٍ قدیر ہے۔

    میں اس سے لڑ نہیں رہا تھا، میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ دو لمحے اس سے شکوہ کرتا اور اگلے چار لمحے رو دیتا۔ کبھی کہتا، تو مجھ سے اتنا دور کیوں ہے؟ کبھی خاموش ہو جاتا، جیسے شاید وہ میرے آنسوؤں کی زبان سمجھ لے گا۔ میں اسے اپنے اندر محسوس کرنا چاہتا تھا۔ کوئی دلیل نہیں، کوئی معجزہ نہیں، کوئی آسمان سے اترتی ہوئی آواز نہیں بس ایک احساس کہ ہاں میرا خدا میرے ساتھ ہے۔

    مجھے شاید دوزخ میں جلنا بھی منظور تھا، اگر اس آگ میں مجھے یہ احساس مل جاتا کہ میرا خدا مجھ سے ناراض ہے۔ کم از کم ناراضی میں بھی تعلق تو ہوتا۔ سزا میں بھی ایک رشتہ ہوتا۔ میں سوچتا، اگر وہ مجھے سزا دے رہا ہے تو شاید وہ مجھے دیکھ رہا ہے، شاید میری طرف متوجہ ہے، شاید میں اس کی نظر میں اب بھی کہیں موجود ہوں۔ مگر اس کی خاموشی مجھے مار رہی تھی۔

    انسان کے لیے خدا کی ناراضی برداشت کرنا شاید اتنا مشکل نہیں جتنا خدا کی خاموشی برداشت کرنا ہے۔ ناراضی میں بھی ایک جواب ہوتا ہے، خاموشی میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آدمی سوال کرتا رہتا ہے، اپنے ہی سوالوں کے جواب بناتا رہتا ہے، پھر انہی جوابوں سے خود کو توڑتا رہتا ہے۔ میں بھی ٹوٹتا رہا۔

    کبھی اپنے گناہوں کو دیکھتا تو لگتا شاید واقعی میں اس کے قابل نہیں۔ پھر اپنی تنہائی کو دیکھتا تو دل کہتا، اگر وہ واقعی میرا خدا ہے تو مجھے اتنا اکیلا کیوں چھوڑ دیا؟ میں سجدے میں جاتا، کچھ مانگنے کے لیے نہیں، صرف یہ جاننے کے لیے کہ دوسری طرف کوئی ہے بھی یا نہیں اور یہی میری سب سے بڑی بے بسی تھی۔

    میں خدا سے دنیا نہیں مانگ رہا تھا۔ میں کامیابی نہیں مانگ رہا تھا۔ میں دولت، شہرت، محبت، اقتدار، حتیٰ کہ جنت بھی نہیں مانگ رہا تھا۔ میں تو صرف اس کا احساس مانگ رہا تھا۔ ایک ایسا احساس جس میں انسان اپنے اندر کے تمام شور سے آزاد ہو جائے اور اسے یقین ہو جائے کہ اس کائنات کے بے شمار چہروں کے درمیان ایک ہستی ایسی بھی ہے جو اسے جانتی ہے۔

    شاید انسان کی سب سے بڑی بھوک روٹی کی نہیں ہوتی، معنی کی ہوتی ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کیوں ہے؟ کس کے لیے ہے؟ اس کے آنسو کس کے سامنے ہیں؟ اس کی دعائیں کہاں جاتی ہیں؟ اور جب وہ رات کے آخری پہر سب سے چھپ کر ٹوٹتا ہے تو کیا واقعی کوئی اسے دیکھ رہا ہوتا ہے؟

    میں بھی یہی جاننا چاہتا تھا۔ اسی لیے میرے شکوے دراصل بغاوت نہیں تھے۔ وہ ایک ایسے شخص کی فریاد تھے جو دروازہ چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا، بلکہ دروازہ کھٹکھٹاتے کھٹکھٹاتے تھک گیا تھا۔ میں خدا سے دور نہیں جانا چاہتا تھا، میں تو اتنا قریب جانا چاہتا تھا کہ میرے اور اس کے درمیان سوال باقی نہ رہیں۔

    مگر شاید ہم انسان قربت کو ہمیشہ اپنے طریقے سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں خدا ہمیں فوراً جواب دے، ہماری دعا اسی لمحے قبول ہو، ہماری زندگی ہماری مرضی کے مطابق چلنے لگے، اور جب ایسا نہ ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ خدا ہم سے دور ہو گیا ہے۔

    شاید خدا کی خاموشی ہمیشہ دوری نہیں ہوتی۔ شاید بعض اوقات وہ خاموش رہ کر انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں انسان خدا کو اپنی خواہشوں میں نہیں، اپنی بے بسی میں تلاش کرنا سیکھتا ہے۔

    اور شاید میری سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ میں خدا سے اس کا جواب مانگ رہا تھا، جبکہ وہ شاید مجھے میرے سوال سے نکال کر اپنے وجود تک لے جانا چاہتا تھا۔ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جس خدا سے میں شکوہ کرتا رہا، اسی کے سامنے روتا رہا۔ جس سے ناراض ہوتا رہا، اسی کو پکارتا رہا۔ جس کی خاموشی مجھے مار رہی تھی، اسی کی تلاش میں زندہ رہا۔

    میں نے خدا کو چھوڑا نہیں تھا۔ میں صرف چاہتا تھا کہ ایک بار وہ مجھے یہ احساس دلا دے کہ میں بھی اس کا ہوں۔

  • اپنے بچوں کو گھروں سے بھاگنے سے بچائیں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    اپنے بچوں کو گھروں سے بھاگنے سے بچائیں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    کسی بھی گھر کی دہلیز محض لکڑی یا لوہے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی، بلکہ یہ تحفظ، اعتماد، خلوص اور خاندانی وقار کی وہ لکیر ہوتی ہے جس کے اندر انسان خود کو دنیا کے تمام طوفانوں سے محفوظ سمجھتا ہے۔ مگر جب یہی دہلیز کسی نوجوان بیٹے یا بیٹی کے لیے تحفظ کے بجائے قید خانہ بن جائے اور وہ رات کی تاریکی یا دن کے اجالے میں چپکے سے قدم باہر نکال کر فرار ہو جائیں، تو دراصل وہ صرف ایک مکان چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ رشتوں، خوابوں اور نسلوں کی عزت کے تار و پود بکھیر جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے اور لڑکی کے گھر سے بھاگنے کا سانحہ روز بروز ایک سنگین اور روح فرسا المیے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اخبارات کے صفحات اور سوشل میڈیا کی سرخیاں ایسے اندوہناک واقعات سے بھری پڑی ہیں، مگر ہم بحیثیت مجموعی اس مسئلے کو محض چند لمحوں کے سنسنی خیز قصے یا وقتی بدنامی کے تذکرے تک محدود کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں، کبھی اس کے پیچھے سلگتی ہوئی نفسیاتی آگ، خاندانی کھوکھلے پن اور سماجی بے حسی کو کریدنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔

    اعداد و شمار کی زبان میں اگر اس تلخ حقیقت کو دیکھا جائے تو دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں، چائلڈ پروٹیکشن بیوروز اور غیر سرکاری اداروں کے جائزے بتاتے ہیں کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں نوعمر لڑکے اور لڑکیاں اپنے ہی گھروں سے بھاگ کر سڑکوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور اجنبی بستیوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری ہیلپ لائنز پر درج ہونے والی گمشدگی اور فرار کی شکایات اس برفانی تودے کا محض بالائی حصہ ہیں، کیونکہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں خاندانی بدنامی کے خوف سے بیشمار واقعات تھانوں یا میڈیا تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ اگر بڑے شہروں میں ریلوے اسٹیشنوں یا پناہ گاہوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فرار ہونے والے ان کمسن اور ناتجربہ کار بچوں میں سے ایک بڑی تعداد یا تو انسانی اسمگلروں اور گداگر مافیا کے ہتھے چڑھ جاتی ہے، یا پھر تشدد اور استحصال کا شکار ہو کر اپنی شناخت ہی کھو بیٹھتی ہے۔ جو جوڑے پسند کی شادی یا رفاقت کے نام پر فرار ہوتے ہیں، ان میں سے ستر فیصد سے زائد چند ہی مہینوں کے اندر سنگین مالی بحران، قانونی مقدمات اور باہمی تلخیوں کے بعد شدید مایوسی اور خودکشی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار فقط جمع تفریق کے بے جان ہندسے نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرتی نظام، خاندانی ڈھانچے اور پرورش کے انداز پر وہ سنگین سوالیہ نشان ہیں جن کا جواب دینے سے ہم سب کتراتے ہیں۔

    اس خوفناک قدم کے پیچھے لڑکوں اور لڑکیوں کی الگ الگ مگر گہری نفسیاتی کیفیات کارفرما ہوتی ہیں۔ لڑکی کے معاملے میں یہ فرار عموماً خوف، بے بسی اور گھٹن کا آخری دفاعی ردِعمل ہوتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں ایک بیٹی اپنے جذبات اور آرزوؤں کو ہمیشہ دل میں دبائے رکھتی ہے، مگر جب اسے یہ مکمل یقین دلا دیا جائے کہ اس کے مستقبل، تعلیم یا شریکِ حیات کے چناؤ میں اس کی مرضی کا کوئی دخل نہیں، اور خاندانی روایات یا نام نہاد انا کی قربان گاہ پر اس کی زندگی کی قربانی طے پا چکی ہے، تو اس کا شعور خوف کے شدید جھٹکے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر گھر کے ماحول میں بیٹیوں کو بیٹے کے مقابلے میں مسلسل کمتر جانا جائے، ان کی خوشیوں کو نظرانداز کیا جائے، اور گھر کے اندر محبت و شفقت کا قحط ہو، تو باہر کی دنیا سے ملنے والی معمولی توجہ، جھوٹی ہمدردی یا سستی محبت ان کے لیے ایک مضبوط پناہ گاہ کا دھوکہ بن جاتی ہے۔ نوعمری کی ناتجربہ کاری، جذباتیت اور رومانوی ڈراموں کے سحر میں مبتلا یہ لڑکیاں زمینی حقائق، قانونی پیچیدگیوں اور آنے والے خطرات کا اندازہ لگائے بغیر سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ گھر کی قید سے نکلنا ہی ان کی بقا کی واحد ضمانت ہے۔

    اس کے برعکس جب ایک لڑکا گھر چھوڑ کر بھاگتا ہے، تو اس کے نفسیاتی محرکات اکثر انا کی شکستگی، مسلسل تذلیل، اور ناقابلِ برداشت توقعات کے گرد گھومتے ہیں۔ ہمارے ہاں لڑکے کو بچپن سے ہی کامیابی، روزگار اور خاندان کے سہارے کا استعارہ بنا کر دیکھا جاتا ہے۔ جب والدین اس کی صلاحیتوں کو سمجھے بغیر روزانہ کی بنیاد پر دوسروں سے اس کا موازنہ کرتے ہیں، جب اسے بات بات پر ناکارہ اور نالائق کہہ کر اس کی خودداری کچلی جاتی ہے، یا امتحان میں ناکامی اور بے روزگاری پر مسلسل طعنوں کے نشتر برسائے جاتے ہیں، تو لڑکے کا اضطراب بغاوت کا روپ دھار لیتا ہے۔ وہ اپنی اہمیت ثابت کرنے یا اس تذلیل سے بھاگنے کے لیے گھر کی دہلیز پار کر جاتا ہے تاکہ وہ دنیا پر یہ ظاہر کر سکے کہ وہ تنہا بھی جی سکتا ہے۔ بعض اوقات کسی رشتے کی مخالفت، دوستوں کی غلط صحبت، مہم جوئی یا من مانی کی ضد بھی لڑکے کو اس نہج پر لے آتی ہے جہاں وہ اپنے خاندان کی عزت اور اپنے مستقبل کو لمحوں میں خاک میں ملا دیتا ہے۔

    اس پورے المیے میں ہمارے معاشرے کا کردار انتہائی منافقانہ اور سفاکانہ رہا ہے۔ ہمارا سماج مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اور دکھی خاندان کا ہاتھ تھامنے کے بجائے محفلوں میں چٹخارے لینے، افواہیں تراشنے اور انگلیاں اٹھانے کا عادی ہے۔ جب کسی گھر سے کوئی بچہ فرار ہوتا ہے، تو پڑوس سے لے کر رشتہ داروں تک سبھی اس بدقسمت گھرانے کو زندہ درگور کرنے پر تل جاتے ہیں۔ لڑکی کے کردار پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے، اس کے دیگر معصوم بہن بھائیوں کے رشتے روک دیے جاتے ہیں، اور والدین کو اس طرح نظروں سے گرایا جاتا ہے جیسے وہ کسی سنگین گناہ کے مرتکب ہوئے ہوں۔ اگر کوئی بھٹکا ہوا بچہ اپنی غلطی کا ادراک کر کے پچھتاوے کے ساتھ واپس لوٹنا بھی چاہے، تو معاشرے کے تضحیک آمیز رویے، طعنے اور سرد مہر نگاہیں اس کی واپسی کے تمام راستے بند کر دیتی ہیں۔ ہم بحیثیت قوم ملامت کرنے میں بہت تیز ہیں مگر اصلاح، درگزر اور بحالی کے معاملے میں ہمارے پاس پتھر دل کے سوا کچھ نہیں۔ یہی معاشرتی بے حسی بچوں کو واپس آنے کے بجائے خودکشی یا جرائم کے دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔

    اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کو اس تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے والدین کو اپنے روایتی اندازِ تربیت اور رویوں میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ والدین کو یہ حقیقت کھلے دل سے تسلیم کرنی چاہیے کہ گھر صرف قواعد و ضوابط نافذ کرنے والی جیل نہیں بلکہ محبت اور سکون کی آماجگاہ ہے۔ اولاد کے ساتھ دوستانہ اور شفاف مکالمے کی فضا قائم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کو اتنا اعتماد دیں کہ اگر ان سے کوئی سنگین غلطی بھی سرزد ہو جائے، یا ان کے دل میں کوئی الجھن یا غیر معمولی خواہش پیدا ہو، تو وہ مار پیٹ اور ردِعمل کے خوف کے بغیر سب سے پہلے اپنے والدین کے پاس آ کر بات کر سکیں۔ جب گھر کے دروازے سننے اور سمجھنے کے لیے کھل جاتے ہیں، تو باہر فرار کی کوئی کھڑکی باقی نہیں بچتی۔ اولاد کی جائز رائے اور حقِ انتخاب کا احترام کریں، خاص طور پر ان کی شادی اور مستقبل کے معاملات میں ان کی خوشی کو خاندانی انا کے بتوں پر قربان مت کیجیے۔ بچوں کے درمیان تقابل اور مسلسل طعنہ زنی کا خاتمہ کیجیے، کیونکہ احساسِ کمتری انسان کو اپنوں سے دور اور غیروں کے قریب کر دیتا ہے۔

    ہمیں اس المیے کی روک تھام کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور مساجد سے لے کر میڈیا تک، ہر سطح پر نوجوانوں کو جذباتیت اور حقیقت پسندی کے فرق سے روشناس کرانا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ وقتی محبت کے جھوٹے سراب حقیقی زندگی کے کٹھن معاشی و سماجی حقائق کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں، اور والدین کا سایہ چھن جانے کے بعد بیرونی دنیا کا بے رحم سمندر کسی پر رحم نہیں کرتا۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ خاندانی کونسلنگ، ذہنی صحت کے مراکز اور جبری فیصلوں کے خلاف قانونی تحفظ کے مؤثر نظام کو فعال کرے۔ خاندان اور معاشرہ اگر باہمی احترام، درگزر اور مکالمے کو اپنا شعار بنا لیں، تو نہ کسی بیٹی کو بے بس ہو کر چپکے سے نکلنا پڑے گا اور نہ ہی کسی بیٹے کو اپنی انا بچانے کے لیے گھر کی دہلیز چھوڑنی پڑے گی۔ ہمارے گھر جب تک محبت اور احساس سے آباد رہیں گے، تب تک ہماری نسلیں فرار کے اندھیروں میں بھٹکنے سے محفوظ رہیں گی۔

  • غزل ،نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا ،شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

    غزل ،نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا ،شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

    نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
    کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا

    خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں
    مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا

    ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن
    کسی سے بھی طبیعت کا کوئی زینہ نہیں ملتا

    لٹا دے جان بھی اپنی کسی محبوب کی خاطر
    محبت میں کوئی اس سے بڑا درجہ نہیں ملتا

    بہت آواز دیتے ہیں اُسے اہلِ محبت بھی
    جِسے نفرت کے جنگل میں کوئی رستہ نہیں ملتا

    سبھی چہروں پہ ہیں پہرے، سبھی لہجوں پہ تالے ہیں
    کسی کے دل تلک جانے کا دروازہ نہیں ملتا

    زمانے بھر کی رونق بھی سبھی کچھ پاس ہے اپنے
    مِری آنکھوں کو پھر بھی چین کا لمحہ نہیں ملتا

    بہت سے لوگ ملتے ہیں، تعلق بھی نبھاتے ہیں
    مصیبت میں مگر اکثر کوئی اپنا نہیں ملتا

    ہر اِک منبر پہ بیٹھے ہیں یہاں حق بات کہنے کو
    بھرے بازار میں سچ کا کوئی چہرہ نہیں ملتا

    حکومت کے بڑے دعوے ہیں ہر اخبار کی زینت
    غریبوں کو ابھی تک اُن کا حق پورا نہیں ملتا

    بہت لکھتا ہے تُو جاویدؔ ! دل کی وارداتوں کو
    مگر ہر شخص کو یہ درد کا لہجہ نہیں ملتا

  • دوہرا معیار،تحریر : محمد سبحان شوق

    دوہرا معیار،تحریر : محمد سبحان شوق

    ہمارے معاشرے میں دو جملے بڑے کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔

    عجیب بات یہ ہے کہ دونوں الفاظ جتنے بلند اور مقدس دکھائی دیتے ہیں، عملی زندگی میں اتنے ہی اکثر ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ عورت سے کہا جاتا ہے کہ خاندان کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے، اور مرد سے کہا جاتا ہے کہ گھر کی عزت کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ عزت آخر ہے کیا؟ ایک انسان کا کردار، یا دوسرے انسان کے اختیار پر پہرا؟ ہم نے عورت کی عزت کو اس کے لباس، آواز، آمدورفت، دوستوں، ملازمت اور حتیٰ کہ اس کی مسکراہٹ تک سے جوڑ دیا ہے۔ دوسری طرف مرد کی غلطی کو اکثر یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ "لڑکے تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔” یہی وہ مقام ہے جہاں غیرت، اصول نہیں رہتی بلکہ دوہرے معیار کا نام بن جاتی ہے۔

    اگر ایک لڑکی رات کو دیر سے گھر آئے تو سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے؛ لیکن اگر گھر کا بیٹا اسی وقت واپس آئے تو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ لڑکی کسی مرد سے بات کرے تو کردار زیرِ بحث آجاتا ہے، مگر لڑکا کئی لڑکیوں سے تعلق رکھے تو دوستوں کی محفل میں اسے کامیاب عاشق سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیسا اخلاقی نظام ہے جس میں گناہ کا معیار جنس کے ساتھ بدل جاتا ہے؟ ہم عورت کو عزت دینے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر اکثر اسے انسان سمجھ کر نہیں بلکہ خاندان کی ملکیت سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔ اس کے فیصلے پر اعتراض، اس کی پسند پر پہرا، اس کے خوابوں پر پابندی اور اس کی زندگی کے فیصلے خاندان کی اجتماعی ملکیت بنا دیے جاتے ہیں۔ پھر اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ سب محبت ہے، حفاظت ہے اور غیرت ہے۔

    غیرت اگر واقعی غیرت ہے تو اس کا پہلا تقاضا انصاف ہونا چاہیے جس مرد کو اپنی بہن کے لیے آزادی کا انتخاب خطرناک لگتا ہے، اسے اپنے بیٹے کے لیے بھی وہی اصول مقرر کرنا چاہیے۔ جس باپ کو بیٹی کی دوستی پر تشویش ہوتی ہے، اسے بیٹے کی دوستی پر بھی اتنی ہی تشویش ہونی چاہیے۔ جس شوہر کو بیوی کے لباس پر اعتراض ہے، اسے اپنے کردار اور نگاہ کا حساب بھی دینا چاہیے۔

    مسئلہ عورت کے آزاد ہونے سے زیادہ ہمارے اس خوف کا ہے کہ اگر عورت کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق مل گیا تو مرد کی صدیوں پرانی حاکمیت کہاں جائے گی؟ لیکن یہاں ایک دوسرا سوال بھی ضروری ہے۔ کیا آزادی کا مطلب ہر حد سے آزادی ہے؟ ہرگز نہیں۔

    عورت ہو یا مرد، آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ اخلاق، وفا، حیا اور کردار کسی ایک جنس کی میراث نہیں۔ اگر مرد کو اپنی خواہشات کے نام پر ہر آزادی حاصل ہے تو عورت بھی انسان ہے، اور اگر عورت کے لیے اخلاقی حدود ضروری ہیں تو مرد ان حدود سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔

    اصل مسئلہ عورت یا مرد نہیں، اصولوں کا غیر مساوی اطلاق ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ سکھانے کے بجائے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟” یہ بھی سکھانا ہوگا کہ "صحیح کیا ہے؟” اور اپنے بیٹوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ "مرد بنو”، بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ مردانگی غصے، اختیار اور جبر کا نام نہیں؛ ذمہ داری، ضبطِ نفس اور احترام کا نام بھی ہے۔

    عورت کی عزت اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک مرد کی تربیت نہیں ہوگی، اور مرد کی عزت بھی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک عورت کو محض خاندان کی عزت کا بوجھ سمجھا جاتا رہے۔ شاید ہمیں غیرت کی تعریف دوبارہ لکھنے کی ضرورت ہے۔ غیرت یہ نہیں کہ آپ کسی عورت کو گھر سے باہر نکلنے نہ دیں۔ غیرت یہ ہے کہ آپ کسی پر ظلم نہ ہونے دیں۔ غیرت یہ نہیں کہ آپ کسی کی آواز دبا دیں۔ غیرت یہ ہے کہ آپ اپنی زبان کو ظلم کا ہتھیار نہ بنائیں۔ اور غیرت یہ بھی نہیں کہ آپ عورت کے کردار کا حساب لیتے پھریں۔ اصل غیرت یہ ہے کہ انسان اپنے کردار کا حساب خود دے۔

    جس دن ہم نے یہ فرق سمجھ لیا، شاید اس دن عورت کو عزت دینے کے لیے اس کی آزادی چھیننے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اور مرد کو غیرت مند ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے انسان پر اختیار جتانے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔

  • عام آدمی کب خوشحال ہوگا؟تحریر: کاشف خان

    عام آدمی کب خوشحال ہوگا؟تحریر: کاشف خان

    یہ سوال شاید پاکستان کے ہر گھر، ہر گلی اور ہر بازار میں سنائی دیتا ہے کہ عام آدمی کب خوشحال ہوگا؟ یہ سوال نیا نہیں، کئی دہائیوں سے ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر حکومت آتی ہے تو عوام کو بہتر مستقبل کی امید دلائی جاتی ہے، مہنگائی کم کرنے، روزگار بڑھانے، غربت ختم کرنے اور عام آدمی کی زندگی آسان بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر اقتدار کی تبدیلی کے باوجود عام شہری کے مسائل وہیں کھڑے نظر آتے ہیں۔

    عام آدمی کی خوشحالی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کروڑ پتی بن جائے۔ خوشحالی کا اصل مطلب یہ ہے کہ ایک مزدور اپنے بچوں کو دو وقت کا باعزت کھانا کھلا سکے، ایک ملازم اپنی تنخواہ میں گھر کا کرایہ، بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرسکے، اور ایک نوجوان کو سفارش کے بجائے اپنی قابلیت کی بنیاد پر روزگار مل سکے۔

    آج سب سے بڑا مسئلہ آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ تنخواہ وہی رہتی ہے لیکن بجلی کا بل بڑھ جاتا ہے، راشن مہنگا ہوجاتا ہے، بچوں کی فیس بڑھ جاتی ہے، علاج کے اخراجات کئی گنا ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متوسط طبقہ بھی آہستہ آہستہ معاشی دباؤ کا شکار ہو کر کم آمدن والے طبقے میں شامل ہوتا جارہا ہے۔

    دوسری طرف ہمارے معاشرے میں دولت اور سہولیات کی تقسیم بھی ایک بڑا سوال ہے۔ ایک طبقہ ایسی زندگی گزار رہا ہے جہاں مہنگائی محض خبروں کا موضوع ہے، جبکہ دوسرا طبقہ روزانہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آج گھر کا چولہا کیسے جلے گا۔ جب ایک معاشرے میں وسائل رکھنے والوں اور وسائل سے محروم لوگوں کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھتا جائے تو صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بے چینی بھی پیدا ہوتی ہے۔

    عام آدمی کو سب سے زیادہ ضرورت مستقل اور باعزت روزگار کی ہے۔ وقتی امداد، راشن اور چند سو یا چند ہزار روپے کی مالی مدد کسی مشکل وقت میں سہارا ضرور بن سکتی ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں۔ مستقل حل یہ ہے کہ صنعت چلے، کاروبار بڑھے، کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، مزدور کو بروقت اجرت ملے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

    تعلیم اور صحت بھی خوشحالی کی بنیاد ہیں۔ اگر ایک غریب خاندان کا بچہ اچھی تعلیم حاصل نہ کرسکے اور بیماری کی صورت میں پورا خاندان قرض لینے پر مجبور ہوجائے تو معاشی ترقی کے بڑے بڑے اعداد و شمار اس خاندان کے لیے بے معنی ہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جو عام شہری کی زندگی میں محسوس ہو۔

    ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر ہر حکومت کے دور میں عوام سے مزید قربانی ہی کیوں مانگی جاتی ہے؟ ٹیکس کا بوجھ، مہنگائی اور اخراجات بڑھتے رہیں اور عام آدمی سے کہا جائے کہ مشکل وقت ہے، صبر کریں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل وقت کب ختم ہوگا؟

    عام آدمی کو وعدوں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسے ایسی پالیسی چاہیے جو پانچ سال بعد نہیں بلکہ آج اس کی زندگی میں بہتری کا آغاز کرے۔ اسے قانون کی یکساں عمل داری، میرٹ، سستی اور معیاری تعلیم، قابلِ رسائی صحت، مناسب اجرت اور محفوظ روزگار چاہیے۔

    خوشحال پاکستان صرف بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں اور معاشی اعداد و شمار سے نہیں بنے گا۔ خوشحال پاکستان اس دن بنے گا جب ایک مزدور اپنے بچے کی فیس ادا کرتے ہوئے پریشان نہ ہو، جب ایک ماں علاج کے لیے پیسے نہ ہونے پر بے بس نہ ہو، جب نوجوان روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھائے اور جب کسی گھر میں مہینے کے آخری دن فاقے کا خوف نہ ہو۔

    عام آدمی کب خوشحال ہوگا؟

    اس سوال کا جواب کسی ایک حکومت، ایک وزیر یا ایک بجٹ کے پاس نہیں۔ اس کا جواب ایک ایسی مسلسل، دیانت دار اور عوام دوست حکمتِ عملی میں ہے جس میں ریاست کی ترجیح عام شہری کی زندگی آسان بنانا ہو۔

    کیونکہ آخرکار کسی بھی ملک کی اصل ترقی کا پیمانہ یہ نہیں کہ وہاں کتنے امیر لوگ رہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں کتنے عام لوگ عزت، اطمینان اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

  • میرا تعارف،سید ساجد علی شاہ

    میرا تعارف،سید ساجد علی شاہ

    میرا نام سید ساجد علی شاہ ہے اور میرا تعلق ضلع رحیم یار خان کے ایک پسماندہ گاؤں سے ہے وہ گاؤں جہاں آج بھی زندگی کی بہت سی بنیادی سہولیات محدود ہیں، مگر اسی مٹی نے مجھے خواب دیکھنا، مشکلات سے لڑنا اور اپنے حصے کا چراغ جلانا سکھایا، میرا تعلق کسی بڑے شہر، ادبی خاندان یا وسائل سے مالا مال ماحول سے نہیں تھا، میرے پاس اگر کوئی سرمایہ تھا تو وہ شوق، جستجو، کتاب سے محبت اور قلم کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی خواہش تھی، میری تعلیم گریجویشن تک ہے، لیکن میرے لیے اصل درس گاہ زندگی، کتابیں، اخبارات اور اہلِ قلم کی صحبت رہی، ایک زمانہ تھا جب سائیکل ہی سفر کا ذریعہ ہوا کرتی تھی، میں اپنے گاؤں سے تقریباً تیس کلومیٹر دور شہر جایا کرتا تھا تاکہ ادب سیکھ سکوں، اہلِ علم سے مل سکوں اور لکھنے کے فن کو سمجھ سکوں، آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ سفر صرف تیس کلومیٹر کا نہیں تھا بلکہ یہ میرے ادبی سفر کی بنیاد رکھنے والا سفر تھا، راستے طویل تھے، وسائل محدود تھے، مگر دل میں کچھ کر گزرنے کا عزم موجود تھا ، وہ دور بھی عجیب تھا مخلص لوگ زیادہ تھے، بے لوث محبتیں عام تھیں، تعلقات میں خلوص تھا اور ادب میں آگے بڑھنے کی خواہش تھی، مگر لالچ اور طمع کا عنصر بہت کم دکھائی دیتا تھا ، لوگ ایک دوسرے کی رہنمائی کرتے، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور کسی کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے تھے میں نے بھی اپنے سفر میں ایسے بہت سے مخلص لوگوں سے سیکھا جنہوں نے میرے قلم کو راستہ دکھایا اور مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

    میرا باقاعدہ ادبی سفر زمانہ طالب علمی میں 1996 سے شروع ہوا، اس وقت شاید مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ قلم سے بننے والا یہ رشتہ ایک دن زندگی کا مستقل حصہ بن جائے گا۔ میری پہلی تحریر بچوں کے معروف میگزین تعلیم و تربیت میں شائع ہوئی اس تحریر کی اشاعت میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں تھی۔ جب پہلی مرتبہ اپنا نام اور اپنی تحریر چھپی ہوئی دیکھی تو جو خوشی محسوس ہوئی، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ، یہی وہ لمحہ تھا جس نے مجھے یقین دلایا کہ اگر انسان مسلسل محنت کرے تو اس کی آواز ایک دن لوگوں تک ضرور پہنچتی ہے۔ سن 2000 میں، میں نے اپنے شہر کے ایک ہفت روزہ اخبار عباس ٹائم سے صحافتی سفر کا آغاز کیا، صحافت میرے لیے صرف روزگار یا شہرت کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ معاشرے کو سمجھنے، مسائل کو دیکھنے اور لوگوں کی آواز بننے کا وسیلہ تھی، میں نے کوشش کی کہ جو کچھ دیکھوں، اسے اپنی بساط کے مطابق قلم کے ذریعے بیان کروں، ابتدا میں مشکلات بھی آئیں، کئی مرتبہ تحریر مسترد ہوئی، کبھی حوصلہ ٹوٹا، مگر قلم کا رشتہ نہیں ٹوٹا۔ سن 2001 میں، میں نے باقاعدہ طور پر "دل کی بات” کے عنوان سے کالم لکھنا شروع کیا اسی سلسلے میں میرا پہلا کالم روزنامہ خبریں میں شائع ہوا۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی اہم تھا، کیونکہ جس اخبار کو میں ایک عام قاری کی حیثیت سے پڑھا کرتا تھا اسی کے صفحات پر میری تحریر جگہ بنا چکی تھی۔ "دل کی بات” صرف ایک کالم کا عنوان نہیں رہا بلکہ رفتہ رفتہ میری قلمی شناخت بن گیا۔ وقت گزرتا گیا، حالات بدلتے گئے، اخبارات اور رسائل کے صفحات بدلتے رہے، لیکن قلم سے میرا تعلق قائم رہا۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے سات ہزار سے زائد کالم مختلف اخبارات، رسائل، جرائد اور میگزین میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تین سو کے قریب کہانیاں اور افسانے بھی قارئین تک پہنچ چکے ہیں۔ میرے لیے یہ اعداد صرف تعداد نہیں بلکہ میری زندگی کے وہ ہزاروں دن اور رات ہیں جو میں نے قلم، کاغذ، کتاب اور مطالعے کے ساتھ گزارے۔ میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ تحریر عام قاری کی سمجھ میں آنے والی ہو، مشکل الفاظ کے بجائے سادہ زبان میں بات کی جائے کیونکہ میرے نزدیک لکھاری کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ کتنے مشکل الفاظ لکھے گئے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے دلوں تک بات پہنچی۔

    میں نے دو کتابیں لکھی ہیں ایک ’’دل کی بات‘‘ اور دوسری ’’پاکستان میں کیا ہو رہا ہے‘‘ ہیں۔ ’’ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری تحریر میں معاشرے کے مسائل، انسانی جذبات، رشتوں کی اہمیت، اخلاقیات، محبت، درد، خوشی اور زندگی کے مختلف رنگ نمایاں ہوں۔میرے ادبی سفر میں مجھے مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں، مذہبی و سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے مختلف اوقات میں ایوارڈز، شیلڈز، میڈلز اور اسناد سے بھی نوازا گیا۔ یہ اعزازات میرے لیے یقیناً باعثِ خوشی ہیں لیکن میں انہیں منزل نہیں سمجھتا میرے نزدیک اصل اعزاز یہ ہے کہ کوئی قاری میری تحریر پڑھ کر سوچنے پر مجبور ہو، کسی دکھی انسان کو حوصلہ ملے، کسی نوجوان کو قلم اٹھانے کی ترغیب ملے یا معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کی بنیاد پڑے۔میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا ہے کہ قلم صرف الفاظ لکھنے کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ لکھاری کے الفاظ کسی کے دل کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں، کسی کے لیے امید بن سکتے ہیں اور کسی کے لیے مایوسی کا سبب بھی۔ اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ قلم کو ذاتی مفاد، لالچ اور نمود و نمائش کے بجائے اصلاح، آگاہی اور مثبت سوچ کے لیے استعمال کیا جائے۔ آج جب میں اپنے ماضی کو دیکھتا ہوں تو گاؤں کی وہ کچی راہیں، سائیکل پر تیس کلومیٹر کا سفر، کتابوں کی تلاش، اہلِ قلم کی صحبت، پہلی شائع ہونے والی تحریر، عباس ٹائم سے صحافت کا آغاز اور پھر روزنامہ خبریں میں "دل کی بات” کا پہلا کالم، سب ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اس وقت وسائل کی کمی سے گھبرا کر رک جاتا تو شاید یہ سفر یہاں تک نہ پہنچتا۔ میرا یقین ہے کہ انسان کے پاس اگر خلوصِ نیت، مسلسل محنت اور اپنے مقصد سے وفاداری ہو تو مشکلات اس کا راستہ روک نہیں سکتیں۔ میرا تعلق ایک پسماندہ گاؤں سے ضرور ہے، مگر میرے خواب ہمیشہ وسیع رہے، میں آج بھی خود کو سیکھنے والا ایک طالب علم سمجھتا ہوں، کیونکہ میرے نزدیک قلم کار کی تعلیم کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ سفر ابھی جاری ہے ، قلم آج بھی ہاتھ میں ہے "دل کی بات” آج بھی دل میں ہے اور کوشش آج بھی یہی ہے کہ جو بات دل سے نکلے، وہ خلوص کے ساتھ قارئین کے دل تک پہنچے۔ اگر میری تحریروں سے کسی ایک انسان کو بھی فائدہ پہنچا، کسی ایک نوجوان کو لکھنے کا حوصلہ ملا یا کسی ایک دل کو تسلی نصیب ہوئی تو میں سمجھوں گا کہ میرے قلم کا سفر رائیگاں نہیں گیا۔

  • بچپن کہاں کھو گیا ؟تحریر:انعم عباسی

    بچپن کہاں کھو گیا ؟تحریر:انعم عباسی

    کبھی کبھی زندگی کی بے ہنگم دوڑ میں اچانک کوئی خوشبو، کوئی آواز یا کوئی پرانا منظر ہمیں برسوں پیچھے لے جاتا ہے۔ پھر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے لمحہ بھر کے لیے اپنا سفر روک دیا ہو۔ میں جب بھی اپنے بچپن کی گلیوں میں لوٹتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم واقعی خوش قسمت تھے۔ ہمارے پاس آسائشیں کم تھیں، مگر زندگی زیادہ تھی۔ سہولتیں محدود تھیں، مگر خوشیاں بے شمار تھیں۔

    ہماری خوشیوں کا تعلق مہنگے کھلونوں سے نہیں تھا۔ گلی ہماری دنیا تھی، دوست ہماری دولت تھے، اور کھیل ہماری سب سے بڑی تفریح۔ چھپن چھپائی، آنکھ مچولی، پٹھو گرم، رسہ کود، کنچے، لٹو، بارش میں کاغذ کی کشتیاں، گرمیوں کی شامیں اور سردیوں کی دھوپ… یہ سب ہمارے بچپن کے ایسے باب ہیں جنہیں وقت آج تک دھندلا نہیں سکا۔ ہم دوڑتے تھے، گرتے تھے، ہنستے تھے، روٹھتے تھے، پھر چند لمحوں بعد ایک دوسرے کو منا بھی لیتے تھے۔ اس زمانے میں کھیل صرف جسمانی سرگرمی نہیں تھے، وہ ہمیں صبر، برداشت، دوستی، تعاون اور ہار جیت کا سلیقہ بھی سکھاتے تھے۔

    کراچی جیسے بڑے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہماری زندگی میں ایک خوبصورت نظم تھا۔ صبح جلدی جاگنا معمول تھا اور رات دیر تک جاگنے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ آج بھی یاد ہے کہ ہفتے کا وہ ایک ڈرامہ پورے گھر کو ایک جگہ جمع کر دیتا تھا۔ ہم سب ایک ساتھ بیٹھ کر اسے دیکھتے، ہنستے، سوچتے اور اکثر اس سے کوئی سبق بھی سیکھتے۔ اُس دور کے ڈرامے صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ کردار سازی کا حصہ تھے۔ ان میں خاندان، احترام، محبت، ایثار، سچائی اور اخلاقی اقدار کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا جاتا تھا۔

    پھر گھڑی کی سوئیاں جیسے ہی رات کے نو بجنے کا اعلان کرتیں، پورے گھر کا ماحول بدل جاتا۔ ٹیلی ویژن بند ہو جاتا، امی کی آواز آتی، "اب سونے کا وقت ہے۔” کبھی دادی اپنی جوانی کے قصے سناتیں، کبھی نانی کسی تاریخی واقعے سے ہمیں روشناس کراتیں، کبھی ابو انبیائے کرامؑ یا صحابۂ کرامؓ کے واقعات سناتے اور کبھی امی ہمیں سونے سے پہلے کی دعائیں یاد کراتیں۔ ہم دعائیں پڑھتے، سکون سے سوتے اور اگلی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ایک نئی توانائی کے ساتھ جاگتے۔

    آج سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہمارے والدین شاید اعلیٰ ڈگریوں کے حامل نہیں تھے، مگر وہ تربیت کے ایسے معلم تھے جنہوں نے ہمیں صرف پڑھنا نہیں، بلکہ جینا سکھایا۔ انہوں نے ہمیں ادب، احترام، رشتوں کی حرمت، پڑوسیوں کے حقوق، سادگی، قناعت، نماز، روزہ اور اخلاقیات کی وہ تعلیم دی جو آج بھی زندگی کا سرمایہ ہے۔ ہمیں اپنے خاندان کے ہر فرد کی پہچان تھی، رشتوں کی قدر تھی اور محبتوں کی زبان سمجھ آتی تھی۔
    پھر وقت بدلا۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل دیا۔ اس تبدیلی نے بے شمار آسانیاں پیدا کیں، علم تک رسائی آسان ہوئی، فاصلے سمٹ گئے اور زندگی کے کئی مسائل حل ہوئے۔ اس ترقی سے انکار ممکن نہیں، نہ ہی ہونا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس ترقی کی قیمت ہمارے بچوں کا بچپن تو نہیں بن گیا؟

    آج کا بچہ ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوتا ہے اور اسی میں بڑا ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین بھی اسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہر فرد اپنی الگ اسکرین میں گم ہے۔ دور بیٹھے لوگوں سے مسلسل رابطہ ہے، مگر ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد کے درمیان گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ کھیل کے میدان سنسان ہیں، مگر موبائل فون کی اسکرینیں آباد ہیں۔ بچوں کو دنیا بھر کی معلومات میسر ہیں، مگر بعض اوقات انہیں اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام تک معلوم نہیں ہوتے۔

    یہ تحریر ہرگز ماضی کی اندھی تعریف یا حال کی بے جا تنقید نہیں۔ ہر دور کی اپنی خوبیاں ہوتی ہیں اور ہمیں یقیناً وقت کے ساتھ چلنا چاہیے۔ مگر وقت کے ساتھ چلنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنی خاندانی روایات اور اپنے بچوں کی معصوم خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیں۔

    اگر آج ہم نے بچوں کو صرف اسکرینوں کے حوالے کر دیا، اگر کھیل، کہانیاں، مشترکہ کھانے، بزرگوں کی صحبت، دعائیں، ہنسی، شور اور خاندان کا ساتھ ان کی زندگی سے نکل گیا تو نقصان صرف ایک بچے کا نہیں ہوگا، بلکہ ہماری پوری معاشرت، ہماری ثقافت اور ہماری خاندانی شناخت آہستہ آہستہ کمزور پڑ جائے گی۔

    بچپن کہیں کھویا نہیں… ہم نے اسے اپنی مصروفیات، اپنی بے پناہ سہولتوں اور چمکتی ہوئی اسکرینوں کے نیچے دبا دیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسے دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔ روزانہ چند لمحے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر، ان سے باتیں کرکے، انہیں کہانیاں سنا کر، ان کے ساتھ کھیل کر اور انہیں رشتوں کی گرمی کا احساس دلا کر ہم ان کا بچپن واپس لا سکتے ہیں۔
    آخر میں بس ایک سوال…
    ہم اپنی اولاد کو جدید ترین موبائل، بہترین لباس اور اعلیٰ تعلیم تو دینا چاہتے ہیں، مگر کیا ہم انہیں ایسا بچپن بھی دے رہے ہیں جسے وہ چالیس سال بعد ہماری طرح محبت، مسکراہٹ اور نم آنکھوں کے ساتھ یاد کر سکیں؟

  • مکالمہ ،ختمِ نبوت ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    مکالمہ ،ختمِ نبوت ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    استاد: عزیز طلبہ! یاد رکھیے، عقیدہ ختمِ نبوت دین اسلام کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔

    شاگرد: جی استادِ محترم! نبی محمد ﷺ آخری نبی ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے: "أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي”۔ اس عقیدے کے بغیر ہر مسلمان کا ایمان نامکمل اور ادھورا ہے۔

    استاد: شاباش! بالکل درست کہا آپ نے۔ یہ ایک ایسا حتمی سچ ہے جس پر پوری امت کا اجماع ہے۔

    شاگرد: استادِ محترم! اگر کوئی غیر مسلم یا عقل پرست ہم سے اس عقیدے کی قرآن سے سب سے مضبوط دلیل مانگے، تو ہم اسے کیا جواب دیں گے؟

    استاد: اس کے لیے قرآنِ مجید کی سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 40 سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ”۔ یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ یہاں لفظ ‘خاتم’ کا مطلب وہ مہر ہے جو کسی چیز کے مکمل ہونے پر لگا دی جائے تاکہ اس میں کچھ اور داخل نہ ہو سکے۔

    شاگرد: سبحان اللہ! کتنی واضح دلیل ہے۔ استادِ محترم، کیا احادیث میں بھی اس کی مزید کوئی مثال ملتی ہے؟

    استاد: جی ہاں! رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ نبوت کو ایک خوبصورت محل سے تشبیہ دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے بہت خوبصورت محل بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس محل کو دیکھتے اور حیران ہو کر کہتے کہ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ” یعنی میں ہی وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ نبوت کا یہ عالی شان محل آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر مکمل ہو چکا اب اس میں کسی نئی اینٹ یا نئے نبی کی گنجائش ہی نہیں رہی۔

    شاگرد: اللہ اکبر! اس خوبصورت مثال نے تو سارے شک و شبہات دور کر دیے۔ استادِ محترم، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہے؟

    استاد: بالکل! آپ ﷺ نے خود اپنی زندگی میں ہی امت کو خبردار فرما دیا تھا کہ میری امت میں تیس کے قریب جھوٹے آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی کذاب نے یہ ناپاک جسارت کی، امتِ مسلمہ نے متحد ہو کر اس فتنے کو کچل دیا۔ عہدِ صدیقی میں مسیلمہ کذاب کے خلاف صحابہ کرام کا جہاد اس کی سب سے پہلی اور روشن مثال ہے۔

    شاگرد: جزاک اللہ استادِ محترم! آج کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ عقیدہ ختمِ نبوت کی ہماری زندگی اور ایمان میں کیا اہمیت ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔

    استاد: بہت خوب! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے آخری نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنے اور اس عظیم عقیدے پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  • میرا تعارف، عائشہ گُل

    میرا تعارف، عائشہ گُل

    میں فیصل آباد کی مٹی کی بیٹی ہوں۔
    میری پہلی درسگاہ وہ دینی ادارے تھے جہاں بیٹھ کر میں نے "ترجمہ و تفسیرِ سیرتِ مصطفی ﷺ” پڑھا اور اے گریڈ کے ساتھ اسے مکمل کیا۔ پھر اللہ نے مجھے سب سے بڑی دولت دی۔ میں نے بچیوں کے ہاتھوں میں قرآن تھمایا اور ان کے سینوں میں قرآن کا نور اتارا۔ الحمدللہ! آج کئی طالبات میرے ہاتھوں ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآن مکمل کر چکی ہیں۔ یہ سب میرے رب کا کرم ہے۔

    قلم سے میرا تعلق 2023 میں جڑا۔ ایک دوست کے کہنے پر انسٹاگرام پر لکھنا شروع کیا۔ شرط صرف یہ تھی کہ جو لکھوں وہ اپنا ہو۔
    پھر 2024 میں میرا پہلا کتابچہ "قلبِ نور” آیا۔
    2025 میں دوسری کتاب "جینا سیکھیں”_ شائع ہوئی جسے "الوکیل ایوارڈ” کے ساتھ بہت سے اداروں کی جانب سے اعزاز ملا اور وہ آج سرکاری لائبریری کا حصہ ہے۔
    الحمدللہ! میرا ناول "دلِ محجوب” اور انتھولوجی "نقابِ نور” بھی اب تکمیل کے قریب ہیں۔
    اللہ کے فضل سے میرے قلم کو وطن کی سرحدیں بھی چھونے لگیں۔ گریٹ نیوز، آزاد ریاست پاکستان، اطلاعات، ایکسپریس، بی بی سی نیوز، نئی روشنی، نوائے خبریں، روزنامہ قائد، سٹی 9 سمیت پاکستان کے معتبر اخبارات اور کئی انگلش اخبارات میں میرے آرٹیکل، افسانے اور کالم شائع ہونے کا سلسلہ چل رہا ہے الحمد للہ۔

    اس کے علاوہ مختلف انتھولوجیز میں بھی میری تحریں شامل ہوئیں اور مختلف ادبی پلیٹ فارمز سے مجھے اعزازات سے نوازا گیا۔ الحمدللہ کثیرا کثیرا۔

    اس وقت میں مختلف اداروں میں بطور انچارج اپنی خدمات انجام دے رہی ہوں اور مختلف میگزینز کے لیے بھی لکھتی ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ میرے قلم کو ہمیشہ حق کا ساتھ لکھنے والا بنائے اور میرے لفظ دلوں تک پہنچیں۔
    آمین یا ربّ العالمین۔