Baaghi TV

Category: بلاگ

  • تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد،تحریر:سیدہ فرحین نقی کاظمی

    کیا پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں خاموش سفارت کاری کا نیا مرکز بن رہا ہے؟
    دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ صرف دو ملکوں کو نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ، معاشی بحران اور توانائی کے طوفان میں دھکیل سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی اختلاف نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقت، خلیجی سلامتی، تیل کی منڈیوں اور ایٹمی توازن کا حساس معاملہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کی خاموش سفارت کاری نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر عالمی مذاکرات کے پسِ پردہ اہم کردار ادا کررہاہے

    کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود تہران نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ شام، عراق، لبنان اور خلیج کی سیاست میں ایران کا کردار امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، جبکہ ایران خود کو مزاحمت، خودمختاری اور اسلامی سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    امریکا اور ایران کی کشیدگی کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ تنازع مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ کبھی خلیج میں امریکی جنگی بحری بیڑے حرکت میں آتے ہیں، کبھی تہران پر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور کبھی اسرائیل کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے بعد ایران کے ردِعمل نے دنیا کو کئی بار ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔

    اس پورے منظرنامے میں موجودہ امریکی صدر Donald Trump کی شخصیت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کی جارحانہ زبان، سوشل میڈیا بیانات اور طاقت کے غیر روایتی انداز نے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک غیر یقینی رخ پر کھڑا کر دیا ہے۔ رات گئے سوشل میڈیا پوسٹس، مخالفین پر طنزیہ حملے اور ایران کو براہِ راست دھمکیاں اب عالمی سیاست کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہیں اے آئینی مدد سے ٹویٹ اور فوٹوز کا پوسٹ ان کی نفسیات پہ سوالیہ نشان ہے

    امریکی اداکار Robert De Niro نے ایک موقع پر ٹرمپ کو “sociopathic, psychopathic malignant narcissist” قرار دیا تھا۔ دوسری جانب بعض ماہرینِ نفسیات بھی ٹرمپ کی شخصیت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جون کے مطابق ٹرمپ “personality disorder” کی ایک ایسی شکل کا مظہر ہیں جسے “malignant narcissism” کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کو اصل میں جرمن نژاد ماہرِ نفسیات Erich Fromm نے متعارف کرایا تھا، جو نازی جرمنی سے فرار ہو گئے تھے اور جنہوں نے Adolf Hitler کی نفسیات کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔

    ڈاکٹر جون کا کہنا ہے کہ جب 2015 میں ٹرمپ امریکی سیاست میں ابھرے تو انہیں اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک “malignant narcissist” شخصیت اقتدار میں آنے کے بعد عالمی اقدار، سفارت کاری اور سیاسی توازن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق طاقت، انا اور غیر متوقع فیصلوں کا یہ امتزاج عالمی سطح پر بے یقینی کو بڑھاتا ہے، جبکہ حامی اسے “جارحانہ قیادت” کا نام دیتے ہیں۔

    اسی دوران پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ پاکستانی اعلیٰ شخصیات کے بار بار ایران کے دورے، تہران اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے، اور پسِ پردہ مذاکراتی ماحول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ یہی توازن اسلام آباد کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔

    پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کھلی جنگ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، سرحدی سلامتی، توانائی منصوبوں اور علاقائی استحکام پر پڑے گا۔ اسی لیے اسلام آباد اپنے میوچل انٹرسٹ کے تحت یہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

    اس پورے منظرنامے میں چین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ چین کبھی کھل کر کسی ایک فریق کی مکمل گارنٹی نہیں دے گا کیونکہ بیجنگ اپنی عالمی معاشی پوزیشن اور سفارتی توازن کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ چین مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران اور امریکا کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ چین جانتا ہے کہ خلیج میں جنگ اس کی توانائی سپلائی، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں اور عالمی تجارت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

    خطے کی جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس اہم گزرگاہ پر ایران اور عمان کا جغرافیائی کنٹرول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے ہر مسئلے کا حل ممکن نہیں، اور خلیجی استحکام کے لیے ایران کے کردار کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے عالمی سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی راستہ کھولنے میں اسلام آباد نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، جبکہ افغان مذاکرات میں بھی پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔ آج اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد ایک قابلِ قبول اور متوازن مقام بن سکتا ہے۔

    پاکستان کی انہی سفارتی کوششوں پر پڑوسی ملک انڈیا میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ بھارت خود کو خطے کی بڑی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیے اگر ایران اور امریکا جیسے اہم فریق اسلام آباد کے ذریعے قریب آتے ہیں تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی تصور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں اس حوالے سے سخت ردِعمل بھی دیکھنے میں آیا۔

    دنیا پہلے ہی یوکرین اور غزہ کی جنگوں سے تھک چکی ہے۔ عالمی معیشت دباؤ میں ہے، تیل کی قیمتیں غیر یقینی کا شکار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل بارود کے ڈھیر پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے وقت میں شاید سب سے بڑی ضرورت میزائلوں کی نہیں بلکہ مذاکرات کی ہے، دھمکیوں کی نہیں بلکہ تدبر کی سیاست کی ہے۔

    اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک اور جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ اور اگر اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میز سجانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو کیا پاکستان اس بار صرف ثالث نہیں بلکہ خطے میں امن کی نئی سفارتی امید کے طور پر یاد رکھا جائے گا

  • عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام: حضرت ابراہیمؑ اور بیٹے کی وہ لازوال گفتگو،تحریر:شہزاد قریشی

    عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام: حضرت ابراہیمؑ اور بیٹے کی وہ لازوال گفتگو،تحریر:شہزاد قریشی

    عیدالاضحیٰ آتی ہے تو گلیاں قربانی کے جانوروں سے آباد ہو جاتی ہیں، بازاروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، گھروں میں تیاریوں کا شور سنائی دیتا ہے، مگر ایک سوال ہر حساس دل سے ٹکراتا ہے: کیا عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے، یا اس کے پس منظر میں کوئی ایسا عظیم سبق پوشیدہ ہے جسے ہم نے رسموں کی دھند میں کہیں کھو دیا ہے؟-

    اگر ہم اس عید کے اصل مرکز کی طرف لوٹیں تو ہمیں ایک بوڑھا باپ نظر آتا ہے، جس کی زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے، اور ایک فرمانبردار بیٹا، جس کی جوانی اطاعت اور تسلیم و رضا کی تصویر بنی ہوئی ہے یہ محض قربانی کی داستان نہیں، یہ ایک باپ اور بیٹے کے درمیان ہونے والی ایسی گفتگو ہے جس نے قیامت تک کے انسانوں کو زندگی گزارنے کا راستہ دکھا دیا۔

    قرآن مجید میں وہ منظر کتنا ایمان افروز ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے سے فرماتے ہیں:
    “اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تمہاری کیا رائے ہے؟”

    یہ الفاظ محض ایک حکم سنانے کے نہیں، بلکہ ایک باپ کے شفقت بھرے اندازِ تربیت کے عکاس ہیں حضرت ابراہیمؑ چاہتے تو حکم صادر کر دیتے، مگر انہوں نے اپنے بیٹے کو اعتماد دیا، اس کی رائے پوچھی، اسے اس عظیم امتحان کا شریک بنایا، گویا اسلام ہمیں یہ سکھا رہا ہے کہ اولاد سے مکالمہ کیا جائے، ان کے دلوں تک رسائی حاصل کی جائے، صرف حکم چلانا کافی نہیں ہوتا، محبت اور اعتماد کے ساتھ تربیت ضروری ہے۔

    پھر بیٹے کا جواب تاریخِ انسانیت کا ایک درخشاں باب بن جاتا ہے:
    “ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”

    کیا آج کے دور میں یہ جملہ صرف پڑھنے کے لیے رہ گیا ہے؟ ایک طرف والدین ہیں جو اولاد کو صرف دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، دوسری طرف اولاد ہے جو والدین کی نصیحت کو بوجھ سمجھتی ہے گھر ایک چھت کے نیچے ہوتے ہوئے بھی دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں ایسے میں حضر ت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یہ گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد گھر کے اندر باپ اور بیٹے کے رشتے سے شروع ہوتی ہے۔
    عیدالاضحیٰ دراصل جانور کی قربانی سے پہلے اپنی انا، خواہشات، ضد، غصے اور نفس کی قربانی کا نام ہے حضرت ابراہیمؑ نے صرف بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، انہوں نے اپنے دل کے سب سے محبوب رشتے کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا عزم کیا تھا اور حضرت اسماعیلؑ نے اپنی جوانی، اپنی زندگی، اپنے خواب—سب کو اللہ کے حکم کے سامنے سرنگوں کر دیا تھا۔

    آج مسلمان اگر اس عید کا اصل فلسفہ سمجھنا چاہیں تو انہیں اس مکالمے کو اپنے گھروں میں زندہ کرنا ہوگا باپ صرف حکم دینے والا نہ ہو بلکہ رہنمائی اور محبت کا پیکر بنے، اور بیٹا صرف آزادی کا طلبگار نہ ہو بلکہ ادب، احترام اور اعتماد کا استعارہ بنے اگر گھروں میں مکالمہ، محبت اور اطاعت کی یہ فضا پیدا ہو جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل خودبخود ختم ہو جائیں۔

    افسوس یہ ہے کہ ہم نے عیدالاضحیٰ کو گوشت تقسیم کرنے اور رسم ادا کرنے تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کو نہ خون پہنچتا ہے نہ گوشت؛ اس تک صرف دل کا تقویٰ پہنچتا ہے اصل قربانی تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کے “اسماعیل” کو اللہ کے سپرد کرے اور اپنے نفس کے “بت” کو ذبح کر دے
    عیدالاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظمت صرف قربانی میں نہیں، بلکہ اس جذبۂ اطاعت میں ہے جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں جھلکتا ہے یہی وہ سبق ہے جسے اگر مسلمان اپنی زندگیوں میں زندہ کر لیں تو ان کے گھر بھی امن کا گہوارہ بن سکتے ہیں اور معاشرہ بھی محبت، احترام اور ایمان کی خوشبو سے مہک اٹھے گا کیونکہ عید صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ رشتوں، اعتماد، اطاعت اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے سب سے محبوب کو قربان کرنے کے جذبے کا نام ہے۔

  • اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    اپنے آپ کے ساتھ لطف اندوز زندگی کی شروعات کیجئے،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    زمانے کی رنگینیوں میں اپنے شب و روز گزارتے میں دنیا دیکھنے کے شوق میں مست جیے جا رہا تھا غفلت کا یہ عالم رہا کہ کبھی اپنے آپ کے اندر رکھی خوبصورتی سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دنیا میں کتنے ایسے انسان ہیں جو اپنے آپ سے ملے ہوں؟میں تو اک مدت سے اپنے آپ کے ساتھ ہی رہتا ہوں اور یہ ساتھ مجھے اس قدر پسند ہے کہ میں ساری زندگی اپنے آپ کے ساتھ گزار لوں اور بوریت کا احساس تک نہ ہو۔

    میں اپنے اندرونی حسن سے آشنا ہوگیا ہوں میں نے اسے کھوجا پھر سجایا پھر خود کو خود میں بسایا۔ایک ایک معیاری احساسات و جذبات کوتلاش کیا خوشی و فخردینے والے اصولوں کو مزاج روح پہ لاگو کر کے اپنے اندر کی اُس جنت کا حصہ بنا لیا جس میں میں رہتا ہوں یہ خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی والی بات ہے لوگ دیکھاؤے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں میرا وجود میرا سرمایہ ہے۔تبھی تو میں اپنے آپ کا دوست ہی نہیں عاشق ہوں جو اپنے آپ کے ساتھ جینے کے لیے ایک زندگی کو کم سمجھتا ہے۔مجھے کوئی باہر کا منظر غمزادہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں کسی غیر معیاری احساس کو اپنے اندر بسنا تو دُور کی بات جھانکنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔میں اپنے آپ کا پہرہ دیتا ہوں لوگ دنیاوی چیزوں کے چھن جانے کے خوف سے حفاظتی حصار بناتے ہیں تو میرے اندرنورانی علامات سمائی ہوئی ہیں مجھے ان کے لیے کچھ تو اصول وضوابط لاگو رکھنے چاہیں جن پر سمجھوتہ نہ کیا جا سکے۔جو لوگ اپنے آپ کی اہمیت سے ناواقف رہتے ہیں وہ کسی کو خوبسیرت تصور کرکے اپنے اندربسالیتے ہیں اور وقت اس فیصلے کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ سستے انسان پر مہنگا جذبہ قربان کر دینے سے اُن کی خصلتیں بدل نہیں جاتیں خواہش نفس اور جذبہ محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔محبت کے رُوحانی جذبے سے ناواقف لوگ خواہش نفس کی غرض سے بے منزل سفر میں دل تھکالیتے ہیں۔خواہش نفس وجود سے وجود کا عارضی تعلق ہے مگر محبت رُوح سے رُوح کامستقل رشتہ ہے۔شرم و حیا میں لپٹی ہوئی محبت عشق جیسی ہوتی ہے یعنی جسم کی غیر موجودگی میں رُوحوں کا ملاپ رہتا ہے۔میری تو کھوج ہی انمول ہے میں نے اپنی رُوح کو سنوارا تو میرا وجود اس کا عاشق ہو گیا اسی لیے مجھے اس خود غرض دور میں اپنے آپ کے ساتھ رہنا قرار دیتا ہے۔
    اب یہ معجزہ ہوتا کیسے ہے اسے بھی جان لیجئے تاکہ آپ کو اپنے آپ تک پہنچنے کا راز معلوم ہو سکے۔میری زندگی میں ایک مایوس وقت بھی ٹہرا رہاتھا جب مجھے اپنے ہونے پرافسوس تھا کہ میں پیدا ہی کیوں ہوا میں اپنی سالگرہ کے دن سیاہ لباس پہن کر فاقہ کیا کرتاتھا۔بے فیض منزلوں کے سفروں میں اپنے وجود کو تھکانے کی وجہ سے میری صحت جواب دے گئی اور ڈاکٹر نے مجھے سکون واطمینان کے لیے بستر پر لیٹ کر ایک سال آرام کرنے کی تاکید کر دی جو حوصلہ افزائی سے محروم تھی جس نے میراصحت مند ہونے کا یقین کمزور کر دیا۔
    ایک سال بستر پر بیمار پڑے رہنا۔۔۔یا شاید موت کا انتظار کرتے رہنا۔۔۔۔میں خوف سے لرز جاتا۔۔۔آخر کیوں۔۔۔کس لیے۔۔۔میں نے کون سا جرم کیا ہے؟جو اس سزا کا مستحق قرار پایا؟

    میں روتا اور بین کرتامیرے مزاج میں تلخی بھر گئی اور زہن بغاوت پر اتر آیا۔۔۔جیسے کسی بڑے صدمے کے موقع پر رونے اور بین کرنے کے بعد رُوح کا دُکھ شدت سے نیچے اُتر آتا ہے اس فطرتی عمل سے گزرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھاکہ تمہارا کیا خیال ہے سال بھر بستر پرپڑے رہنا بڑا المیہ ہے؟نہیں،ایسانہیں تمہیں سوچنے اور اپنے آپ کو جاننے کے لیے وقت و ماحول مل جائے گا۔تم اگلے چند ماہ میں ہی اتنی رُوحانی ترقی حاصل کر لو گئے جو شاید ساری زندگی نہ کر سکتے۔اس خیال کے بعد میں خاموش ہو گیا اپنی گالوں سے آنسو صاف کیے اور قدروں کے نئے احساس پیدا کرنے میں مگن ہو گیا رُوحانی اور وجدانی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا جس سے پتا چلا کہ، جو تمہارے شعور اور وجدان کے اندر ہے تم صرف اسی کا اظہار کر سکتے ہو۔یہ الفاظ میرے دل کی گہرائیوں میں اُترئے اور وہیں جاگزیں ہو گئے۔میں قوت بخش خیالات سوچنے کی کوشش سے زندہ رہنے کے کامیاب سہارے تخلیق کرتا چلا گیا۔خوشی مسرت اور صحت کے خیالات ہر روز سوتے جاگتے وقت میرا معمول بنے رہے میں اُن چیزوں کو یاد کرتا جن کا شکرگزار تھا جہاں مجھ سے دنیا چھن رہی تھی وہاں میں نے اپنے آپ کے لیے ایک نایاب دنیا تخلیق کر لی جو صرف میری تھی۔

    رُوح افزاء موسیقی کتابیں اور لذیزکھانے اپنے آپ کی حوصلہ بخش عیادت و میزبانی الہامی کیفیات اور تصوراتی جہانوں کی سیر احساسات و جذبات کے لطف اندوز نظاروں کی تنہائی میں محفلیں۔ میں نے اپنے اندر موجود تحفہ خداوندی جسمانی و رُوحانی طاقتوں سے جان لیوابیماری کے اُن دنوں کونئی اور بہتر زندگی میں بدل کر رکھ دیا۔جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ رُوحانی بیماریوں سے بھی نجات کی کامیابی حاصل کر لیناکوئی عام بات نہیں تھی۔
    میں تہہ دل سے نایاب اور مسرتوں سے لدے پھندے اُس سال کا مشکورہوں جو بیماری کے بستر پر گزراجو حیرتوں کے جہان میں جینے کی وجہ بنا۔میں نے ہر روز اپنی نعمتوں کو گننے کی عادت اپنائی جو میرا قیمتی اثاثہ بنی مجھے یہ تسلیم کرتے ندامت ہوتی ہے کہ جب تک مجھ پر موت کا خوف غالب نہ آیا مجھے جینے کا ڈھنگ نہ آیا۔
    انسانی زندگی کو درپیش حادثات کھل کر کھلنے کا پیغام حیات بھی تو ہو سکتے ہیں۔ہر واقعے کے روشن پہلوکی طرف دیکھنے کی عادت کثیرمالی آمدنی سے زیادہ قیمتی ہے۔

    اس جملے نے عقل کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ،زندگی کے صرف دومقصدہیں پہلاجو تم چاہتے ہو اسے حاصل کر نادوسرا پھر اس سے لطف اٹھانا۔صرف عقل مند لوگ ہی دوسرے مقصد کو پا سکتے ہیں۔اگر آپ پریشانیوں کو دُور کرکے نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں تو اپنی زحمتوں کو نہیں بلکہ اپنی رحمتوں کو شمار کیجئے۔

  • ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    ملکی صورتحال اور عوام کا کردار،تحریر: بینا علی

    عوام کسی بھی ملک کی معاشرت، معیشت اور ترقی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط اور خوش حال ریاست صرف حکومتی اداروں، قوانین اور پالیسیوں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں باشعور اور ذمہ دار شہریوں کی مشترکہ کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ اگر عوام ذمہ داری کا احساس کر لیں تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، لیکن اگر ہر شخص صرف اپنے مفاد تک محدود ہو جائے تو بہترین نظام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک منظم قوم کے بجائے افراد کا ایک منتشر ہجوم ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اجتماعی مفاد، قومی شعور اور باہمی اتحاد کا فقدان ہماری کمزوری بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود ہم ان مسائل سے دوچار ہیں جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات بدامنی، سیوریج کے ناقص انتظامات، صاف پانی کی قلت، بجلی اور گیس کے مسائل اور بڑھتی ہوئی غربت عوام کے اہم ترین مسائل ہیں۔ روزمرہ اشیائے ضرورت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ والدین بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، علاج معالجے اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔یہ تمام مسائل بظاہر حکومتی ناکامی کا نتیجہ محسوس ہوتے ہیں لیکن اگر غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو ان میں ہماری اجتماعی بے حسی اور غیر ذمہ داری بھی کسی حد تک شامل ہے۔ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز تو بلند کرتے ہیں مگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں۔ قانون کی پاسداری، ٹیکس کی ادائیگی، صفائی ستھرائی، وقت کی پابندی، دیانت داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام وہ بنیادی اصول ہیں جن پر معاشرے قائم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے احتجاج کے نام پر بھی ہمارا طرزِ عمل اکثر ذمہ داری سے عاری ہوتا ہے۔ اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن کسی بھی احتجاج کی صورت میں پرتشدد راستہ اختیار کرنا، سڑکیں بند کرنا، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، گاڑیوں کو آگ لگانا اور عوامی سہولیات تباہ کرنا کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔ ایسا طرزِ عمل مسائل کے حل کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے اور قومی خزانے پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ درحقیقت جس ملک کے وسائل پہلے ہی محدود ہوں، وہاں ملکی املاک کو نقصان پہنچانا اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    ملکی وسائل کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی، پانی، گیس اور دیگر قدرتی وسائل اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے استعمال میں اعتدال اور ذمہ داری لازم ہے۔ بدقسمتی سے ہم ان وسائل کو بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ غیر ضروری پنکھے اور لائٹس چلتی رہتی ہیں، پانی بہتا رہتا ہے، اور گیس کا بے جا استعمال معمول بن چکا ہے۔ پھر جب قلت پیدا ہوتی ہے تو ہم تمام تر ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔مظفرآباد آزاد کشمیر کی شہری ہونے کے ناطے میں نے خود دیکھا ہے کہ جہاں بجلی کی قیمت نسبتاً کم ہے تقریباً 3 روپے یونٹ وہاں اس سہولت کے باعث ہر دوسرے گھر میں ائیر کنڈیشنر کا استعمال عام ہے۔ سردیوں میں گرم پانی اور کھانا پکانے کے لیے ہیٹرز اور پانی کے ٹینکوں میں برقی راڈز نصب کر دیےجاتے ہیں۔ نتیجتاً بجلی کا غیر معمولی لوڈ بڑھ جاتا ہے اور ٹرانسفارمر بار بار جل جاتے ہیں۔اسی طرح کشمیر میں پانی کی وافر فراوانی کی وجہ سے اکثر گھروں میں پانی کی ٹینکیاں دن رات اوور فلو ہوتی رہتی ہیں۔ پانی مسلسل بہتا رہتا ہے، مگر بہت کم لوگ اس ضیاع کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہی پانی دنیا کے کئی خطوں میں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کرنا ناشکری کے مترادف ہے اور وسائل کا یہ ضیاع آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے کے برابر ہے۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی ہمارے اجتماعی رویوں کا عکاس ہے۔ ہم چند لمحوں کا انتظار برداشت نہیں کرتے۔ سگنل توڑنا، ہیلمٹ نہ پہننا، اوور اسپیڈنگ کرنا، ون ویلنگ، ون وے کی خلاف ورزی کرنا اور قطار میں لگنے کے بجائے دوسروں کا حق مارنا ہماری عادت بن چکا ہے۔ یہی جلد بازی اور لاپرواہی آئے دن حادثات کا سبب بنتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ حادثے کے بعد زخمی کی مدد کرنے کے بجائے بہت سے لوگ ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ صفائی کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ دوہرا ہے۔ ہم اپنے گھر تو صاف رکھتے ہیں مگر گلی، بازار اور عوامی مقامات کو گندا کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ کوڑا کرکٹ سڑکوں پر پھینک دینا، نالیاں بند کرنا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ہماری عادت بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ صفائی نصف ایمان ہے اور ایک صاف ماحول ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔تعلیم اور تربیت کے میدان میں بھی عوام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین اگر بچوں کی صرف تعلیمی کامیابی پر نہیں بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں، انہیں سچائی، دیانت داری، احترامِ انسانیت اور وطن سے محبت کا درس دیں، تو یہی بچے مستقبل میں ایک باکردار قوم کی بنیاد بنتے ہیں۔ استاد، والدین اور معاشرہ مل کر نئی نسل کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز ان کے عوام کے کردار میں پوشیدہ ہے۔جرمنی،جاپان،چائنہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی نہیں کی، بلکہ وہاں کے شہری قانون کی پابندی کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔قومیں نعروں، تقریروں اور وعدوں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، نظم و ضبط، قربانی اور احساسِ ذمہ داری سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ نظام ہم سے الگ کوئی شے نہیں ہم خود ہی اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنا شروع کر دے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی خود بخود آنا شروع ہو جاتی ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے اپنی اصلاح سے آغاز کریں۔ اگر ہم اپنے گھر، گلی، دفتر، سکول اور معاشرے میں دیانت داری، نظم و ضبط، صفائی، قانون کی پابندی اور وسائل کی قدر کو اپنا شعار بنا لیں تو ملکی صورتحال بہتر ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔یاد رکھنا چاہیے کہ اندھیروں کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا ایک چراغ روشن کرے تو مسائل کے اندھیرے خود بخود چھٹ جائیں گے۔ کیونکہ نظام کا حصہ ہم خود ہیں اور جب عوام کا کردار مثبت ہو جائے تو کوئی طاقت قوم کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتی

  • سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟خادم حسین بننا ہے یا یزید؟تحریر:ملک سلمان

    سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟خادم حسین بننا ہے یا یزید؟تحریر:ملک سلمان

    قاتل افسران کس کے پیروکار ؟

    پاکستان میں سالانہ ریپ (ذنا بالجبر) کے سات ہزار کیسز درج کرائے جاتے ہیں جبکہ بیس ہزار کے قریب واقعات عزت کے ڈر سے دبا دیے جاتے ہیں۔
    ہزاروں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا سنگین جرم کیا جاتا ہے اور کرنے والے مرد ہیں تو پھر حکومتی اور سرکاری آمرانہ سوچ کے مطابق زیادتی کی روک تھام کا واحد حل یہی ہے کہ سب کے نیفے میں پسٹل چلا کر سارے مرد نامرد کردیے جائیں، بلکہ ستھرا پنجاب کے ورکرز کے زیعے ان کو ڈائریکٹ زہر دیا جائے یا گولیاں مار کر ہلاک کردیا جائے ؟

    پاکستان میں سالانہ پانچ لاکھ روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ تیس ہزار افراد کی اموات ہوتی ہیں جبکہ ہزاروں زندگی بھر کیلئے اپاہج ہوجاتے ہیں۔ اس نقصان سے بچنے کیلئے فوری طور پر سڑکیں کھود دینی چاہئے اور ہر قسم کی ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دینی چاہئے؟پاکستان میں لڑائی جھگڑوں اور دشمنیوں میں سالانہ پندرہ ہزار افراد کا قتل کیا جاتا ہے انسان کیونکہ قتل کرکے بدامنی پھیلا سکتا ہے اس لیے تمام مرد و زن کو مار دینا چاہیے؟
    اگر چند انسانوں کی غلطی کی سزا تمام شہریوں اور انسانوں کو نہیں دی جاسکتی تو پھر کتا کاٹنے کے چند واقعات کی وجہ سے تمام کتوں کی نسل کشی کا کیا جواز ہے؟

    پاکستان میں کتا کاٹنے کے محض چند سو کیسز حقیقی ہیں جبکہ ہزاروں اور لاکھوں کی جعلی اور فرضی تعداد صرف معصوم کتوں کے ناحق قتل کو جسٹیفائڈ کرنے کیلئے بنائی جاتی ہے ۔ پنجاب خاص طور پر لاہور میں جس بے دردی اور سفاکیت سے معصوم کتوں کو مارا جا رہا ہے، حیوانیت اور فرعونیت کی انتہا ہے۔اس حیوانیت، درندگی، سفاکیت اور فاشزم کے ماحول میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین کا فیصلہ انسانیت کی جیت اور اس مقدس ہستی حسین کے نام کی لاج ہے۔

    ایک سفر کے دوران امام حسینؓ کا گزر ایک ایسے باغ کے پاس سے ہوا جہاں ایک کتا موجود تھا اور وہ پیاس کی شدت سے نڈھال تھا۔باغ میں موجود غلام نے کتے کی حالت زار دیکھی تو اسے پیاس بجھانے کے لیے پانی پیش کیا۔ غلام کی بے زبان پیاسے کتے سے ہمدردی و شفقت سے متاثر ہو کر، حضرت امام حسین نے اس غلام کے اچھے اخلاق کے صلے میں اس کے مالک سے بات کر کے اسے آزاد کروا دیا اور باغ بھی اسی غلام کے نام کروا دیا۔ معصوم جانوروں سے پیار اور رحم دلی ہی نبوی ﷺ راستہ اور حسینی سوچ ہے جبکہ ان معصوم جانوروں پر ظلم کرنے والے یزیدی سوچ اور نظریات کے پیروکار ہیں۔

    اے اللہ معصوم اور بے گناہ کتوں سمیت دیگر جانوروں پر ظلم کرنے والوں کا انجام بھی یزید کے ساتھ کرنا۔ آمین
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو نے بے گھر کتوں کو زہر دینے، گولی مارنے یا تلف کرنے پر مستقل پابندی عائد کرتے ہوئے سٹریٹ ڈاگ کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ٹریپ، اسٹریلائز اور ویکسین اپنانے کی ہدایت کی۔ معزز جج نے جانوروں پر ظلم کی رجسٹری قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ جانوروں پرظلم کی روک تھام کا ایکٹ 1890 پرانا ہو چکا ہے، جانوروں پرظلم کی روک تھام کے ایکٹ میں اصلاحات اور سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔معزز جج کا کہنا تھا کہ کتے جاندار اور حساس مخلوق ہیں، ان سے بے رحمانہ سلوک نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جانوروں کے حقوق، ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تحفظ بھی شامل ہے۔

    سپریم کورٹ، پنجاب اور دیگر صوبوں کی عدلیہ سے بھی گزارش ہے کہ قیامت کے روز حقیقی منصف کی عدالت میں سرخرو ہونا چاہتے ہو تو معصوم اور بے گناہ کتوں کی قتل و غارت اور ان پر مظالم کی فوری روک تھام کیلئے سخت احکامات صادر کیے جائیں اگر ایسا کرنے میں تاخیر ہوئی تو اس تاخیر کے نتیجے میں ظلم سہنے اور ناحق قتل ہونے والے کتے روز قیامت قاتل ضلعی انتظامیہ کے ساتھ آپ کو بھی اللہ کے سامنے کھڑا کریں گے۔ تمام پاکستانیوں نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے ظالم کا ساتھ دینا ہے یا ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر سیدھے راستے کا انتخاب کرنا ہے۔محبت شفقت اور رحمدلی اللہ کے رسول اور امام حسین کا بتایا ہوا صراط مستقیم ہے جبکہ ظلم و بربریت اور سفاکیت یزیدیوں اور لعنتیوں کا راستہ ہے۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پہ سسکتے والدین ،تحریر: بینا علی

    قصاص زندگی ہے۔
    سورۃ البقرہ (آیت 179) میں ہمارے رب نے فرمایا:
    وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
    "اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم ناحق قتل سے بچ سکو۔”
    قصاص ظلم نہیں، رحمت ہے۔ یہ بدلہ نہیں حفاظت ہے۔ جب ایک قاتل جان لے کہ ناحق خون کی قیمت اس کی اپنی جان ہے، تو وہ قتل کرنے سے پہلے کانپ جائے گا۔ یہی وہ خوفِ خدا ہے جو معاشرے کو زندہ رکھتا ہے۔ لیکن آج آج انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔

    دسمبر 2019 بھارہ کہو، اسلام آباد پانچ سالہ معصوم عمر راٹھور کو اغواء کیا گیا، اور سفاکیت کی انتہا کر کے قتل کر دیا گیا۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے عمر کے خاندان کے حق میں فیصلہ سنا دیاکہ یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ فنگر پرنٹس ملتے ہیں، ڈی این اے بھی میچ کرتا ہے۔ملزمان خود اقرار کرتے ہیں اور عدالت دو دو بار سزائے موت سناتی ہے۔ پھر 13 مئی کو سپریم کورٹ نے وہ سزائے موت عمر قید میں بدل دی! کوئی ٹھوس وجہ؟ کوئی وضاحت؟ کچھ بھی نہیں!عمر کے والد، مختار احمد راٹھور، ٹوٹے ہوئے لہجے میں پکار رہے ہیں:
    "یہ انصاف کا قتل ہے!”
    وہ چیف جسٹس، وزیرِ اعظم، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے نظر ثانی کی درخواست دائر کرتے ہیں ۔اوریہ بھی کہتے ہیں اگر ان کی آواز نہیں سنی گئی، "اگر انصاف نہ ملا تو میں اپنی فیملی سمیت سپریم کورٹ کے سامنے خود کو آگ لگا لوں گا!” سات سال… سات سال سے ایک باپ، ایک ماں، انصاف کے لیے انتظار کی سولی پر لٹک رہے ہیں! اور دوسری طرف وہ وکیل ہیں جو چند پیسوں کے عوض، ایک معصوم بچے کے خون میں لتھڑے ہاتھوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ انہیں شرم نہیں آتی؟ انہیں عمر کی لاش یاد نہیں آتی؟
    انسانیت اس دن مر جاتی ہے، جس دن ظالم کا وکیل مل جاتا ہے!اب آنکھیں بند کیجیےاپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور سوچیے: اگر وہ لاشہ آپ کے اپنے کلیجے کا ٹکڑا ہوتا تو کیا آپ معاف کر پاتے؟
    نہیں! ہرگز نہیں!
    تو پھر خاموش کیوں ہیں؟
    عمر کی آواز بنیے۔

    ہر فیس بک پوسٹ پر، ہر ٹویٹ پر، ہر اسٹیٹس پر لکھیے۔
    Justice For Umer
    یہ لڑائی اب صرف عمر کی نہیں رہی۔ وہ تو جنت کا پھول تھا، واپس چلا گیا۔ یہ لڑائی آپ کے بچے کے لیے ہے، میرے بچے کے لیے ہے. تاکہ کل کو کوئی اور عمر، کسی گھر کے باہر سے اغواء ہو کر اتنی بے دردی سے نہ مسلا جائے۔
    انصاف دو، ورنہ یہ معاشرہ مر جائے گا!

  • رہنمائے حج وعمرہ ،تبصرہ نگار عبدالغفار مجاہد

    رہنمائے حج وعمرہ ،تبصرہ نگار عبدالغفار مجاہد

    اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے۔بیت اللہ کی زیارت او رفریضہ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے۔ اس کا منکردائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام کتب حدیث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ’’ حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ اور نہیں ‘‘ ۔ مگر یہ اجر وثواب تبھی ہے جب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے اور تمام منہیات سے پرہیز کیا جائے ورنہ انسان حج وعمرہ کے ا جروثواب سے محروم رہے گا ۔ حج وعمرہ ایسی عبادت ہے جس میں انسان بڑی مقدار میں مال بھی صرف کرتا ہے ۔ نقل وحرکت بھی کرتا ہے اور شدید قسم کی جسمانی سعی ومشقت بھی کرتا ہے ۔ اسلئے حج وعمرہ میں یہ بات بے حد ضروری ہے کہ انسان انھیں سنت طریقے کے مطابق بجالائے ۔ ان عبادات کا جتنا اجر وثواب ہے ان کے بجالانے میں احتیاط بھی اسی قدر ضروری ہے ۔ حج وعمرہ کے ثواب میں رسول اللہ ﷺ سے بے شمار احادیث موجود ہیں جن سے ان عبادات کی اہمیت وفضیلت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ حج وعمرہ کیلئے جانے والے اکثر لوگ ان کے بجالانے میں بہت سی غلطیاں کر جاتے ہیں جن سے ارکان حج وعمرہ کے رائیگاں جانے کا خدشہ رہتا ہے ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر دارالسلام نے ’’ رہنمائے حج وعمرہ ‘‘ کتاب تیار کی ہے ۔ یہ کتاب حجم میں جتنی مختصر ہے موضوع کے اعتبار سے اتنی ہی اہم ہے ۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس میں شامل عنوانات سے کیا جاسکتا ہے ۔مثلاََ : ارکان حج کتنے ہیں ؟ فرائض حج کون کون سے ہیں ؟ اقسام حج کتنے ہیں ؟ مردوں اور عورتوں کے لیے احرام حج کی پابندیاں کون سی ہیں ؟وہ کون سے ایسے کام ہیں جو احرام کی حالت میں کیے جاسکتے ہیں ؟ کوئی شخص احرام کی حالت میں فوت ہوجائے تو اس کی تدفین کیسے کی جائے ؟ میقات پر کیا جائے ؟ مکہ کی طرف روانگی کے تقاضے کیا ہیں ؟ مسجد الحرام میں کیسے داخل ہواجائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ حجر اسود کو کیسے بوسہ دیا جائے ؟ طواف کیسے کیا جائے ؟ مقام ابراہیم پر کیا جائے ؟ صفا ومروہ کی سعی کیسے کی جائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ حلق یعنی ٹنڈ کروانے کے احکامات کیا ہیں ؟ حجر اسود کو کیسے بوسہ دیا جائے اور اس دوران کیا پڑھا جائے ؟ طواف کیسے کیا جائے اور دوران طواف کیا پڑھا جائے ؟مقام ابراہیم پر کیا جائے ؟منیٰ کی طرف روانگی ( آٹھ ذی الحجہ ) کے دن کرنے والے کام اور دعائیں ؟ منیٰ پر پہنچے کے بعد کیا جائے اور کون سی دعائیں پڑھی جائیں ؟ میدان عرفات(9ذی الحجہ ) میں کیا جائے اور کون سی دعائیں پڑھی جائیں ؟ مزدلفہ میںرات کیسے گزاری جائے ، اس کے آداب ، تقاضے اور دعائیں ؟ یوم النحر ( 10ذی الحجہ ) والے دن کیا کیا جائے ؟ ایام تشریق ( 11,12,13ذی الحجہ ) میں کرنے والے ؟ طواف وداع اور اس کی دعائیں ؟ حج اکبر کا کیا مطلب ہے ؟ مسجد نبوی شریف کی زیارت کیسے کی جائے اور اس دوران کیا پڑھاجائے ؟ مسجد قبا اور بقیع قبرستان کی زیارت کرتے وقت کیا پڑھا جائے ؟ حج یا عمرے سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کے معمولات کیا تھے ؟ ۔ ان عنوانات سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب اپنے ایک جامع اور رہنما کتاب ہے ۔ حجم میں بالکل مختصر ہے اسے دوران سفر ساتھ رکھنا آسان بھی ہے ۔کتاب کی قیمت 200روپے ۔ اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ باتصویر ہے جس سے حج وعمرہ کی عبادات بجا لانا بالکل آسان ہوگیا ہے ۔ لہذا اب جبکہ حج مبارک کی تیاریاں جاری ہیں حج پر جانے والے تمام مردو وخواتین کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بے مفید ثابت ہوگا ان شاء اللہ ۔یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شو روم نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ ’’ رہنمائے حج وعمرہ ‘‘ کتاب کے علاوہ ’’ مسنون عمرہ ، مکمل طریقہ ، فضیلت وآداب اور دعائیں ‘‘ کے نام سے ایک اذکار کارڈ بھی دستیاب ہے ۔ یہ کارڈ بھی بہت جامع اور نافع ہے ۔ عمرہ کے خواہشمند احباب کے لیے اس کارڈ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہوگا ان شاء اللہ ۔

  • ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    ترازو کے نیچے دبی چیخیں ،تحریر : بینا علی

    سورۃ المائدہ میں ارشادِ ربانی ہے:
    ” اور تم انصاف کے ساتھ قائم رہو، یہ تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے۔” انصاف کو تلاش کرنا بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بنجر زمین سے فصل کی امید رکھنا۔ ہمارا نظامِ انصاف گویا بانجھ ہو چکا ہے جو اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے۔ انصاف کی تلاش میں انسان منوں مٹی تلے دفن ہو جاتا ہے اور اس کی نسلیں بھی دہائیاں دیتی رہتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔
    سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "انصاف کرو، کیونکہ انصاف اللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔”
    عدل و انصاف کے بارے میں اس سے بڑھ کر مثال کیا ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    "اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جاتی، تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔”انصاف میں تاخیر انسان کے اندر شدید اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ یہی اضطراب بعض اوقات اسے انتہائی اقدامات پر مجبور کر دیتا ہے۔ احاطۂ عدالت میں ہونے والے تشدد اور قتل و غارت اس کی واضح مثال ہیں۔ جب انصاف بروقت نہ ملے تو لوگ خود ہی انصاف کی مسند پر بیٹھنے لگتے ہیں جو معاشرے میں مزید بگاڑ اور انتشار کا باعث بنتا ہے۔
    لیکن کیا یہ نظام ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ نظامِ انصاف کو بہتر اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات کی جائیں۔ سب سے پہلے انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو ختم کرنا ہو گا۔ مقدمات کا برسوں تک لٹکے رہنا ظلم کے مترادف ہے۔ اس لیے فوری اور بروقت فیصلوں کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔

    دوسرا، عدلیہ کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد کرنا ہو گا، چاہے وہ سیاسی ہو یا معاشرتی۔ ہمارے آئینِ پاکستان میں بھی عدلیہ کی آزادی پر زور دیا گیا ہے، تاکہ فیصلے صرف حق اور سچ کی بنیاد پر ہوں۔ عدلیہ غیر جانبدار رہ کر فیصلے دے۔
    جب تک انصاف کے اداروں میں بدعنوانی موجود رہے گی، انصاف کا حصول ایک خواب ہی رہے گا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور، سب ایک ہی ترازو میں تولے جائیں۔ یہی حقیقی عدل ہے۔

    ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو جو راہِ انصاف میں رکاوٹ بنیں اور اقربا پروری یا برادری ازم کو فروغ دیں۔حقیقت یہ ہے کہ انصاف کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو، وہاں امن، سکون اور اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اور جہاں انصاف کمزور پڑ جائے، وہاں ظلم، بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ کیونکہ ایک منصفانہ معاشرہ فرد کی اصلاح سے ہی وجود میں آتا ہے۔ آج عمر کے خاندان والے صرف عمر کے انصاف کے لیے دہائی نہیں دے رہے۔ ان کی آہوں میں ہر اس ماں کا درد شامل ہے جس کا کلیجہ یوں چیرا گیا ہر اس باپ کی خاموشی شامل ہے جو اپنے لختِ جگر کا جنازہ اٹھانے پر مجبور ہوا۔ یہ نوحہ ہے ہر اس گھر کا، جہاں بچے ہنستے کھیلتے نکلتے ہیں اور پلک جھپکتے میں اوجھل ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے کفن میں لپٹے معصوم چہرے ہی گھر لوٹتے ہیں۔ شاید ظالموں کو اندازہ نہیں کہ اپنے ہاتھوں سے پلے ہوئے ننھے پھول کا جنازہ اٹھانا کاندھوں پر کتنا بھاری ہوتا ہے اور دل پر کتنا زخم۔یہ کفن میں لپٹے شکایت زدہ چہرے آج بھی سسک سسک کر کہہ رہے ہیں:
    اک پھول تھا میں، جو کھل نہ سکا!!
    اپنی منزل سے مل نہ سکا!
    مجھ کو یوں کچل ڈالا تم نے
    اک پل میں مسل ڈالا تم نے
    روئیں گے بدن کے زخم میرے
    جب روح کے زخم دکھاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    میں خدا کو بتاؤں گا
    جب تک ہم یہ آواز نہ سنیں گے انصاف کا ترازو سیدھا نہیں ہو گا۔ اور ہر جگہ سے ایک ہی آواز آئے گی ۔
    "عمر کو انصاف دو ۔”

  • سیاسی گلیاروں کا بحران باتیں حسین کی، چلن کوفیوں جیسا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں کا بحران باتیں حسین کی، چلن کوفیوں جیسا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    باتیں جمہوریت کی سیاست مفادات کی
    پاکستانی سیاسی گلیاروں کا المیہ

    سیاسی گلیاروں میں اصولوں کے دعوے، مگر عملی رویے مفادات کے تابع

    تجزیہ شہزاد قریشی

    بقولِ شاعر:
    چلن سب کا ہے کوفیوں جیسا،
    باتیں حسینؓ کی کرتے ہیں”
    آج اگر پاکستان کے سیاسی گلیاروں پر نظر ڈالی جائے تو یہ شعر محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک تلخ سیاسی حقیقت محسوس ہوتا ہے۔ ملک کی سیاست میں اصولوں، اخلاقیات اور قومی مفاد کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مگر عملی سیاست کا منظر اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ الزامات، کردار کشی، ذاتی دشمنیاں، ویڈیو و آڈیو سکینڈلز اور اقتدار کی بے رحم کشمکش نے سیاست کو قومی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کی جنگ بنا دیا ہے۔

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تمام سیاسی شور شرابے میں نہ جمہوریت مستحکم ہوئی اور نہ ہی سیاسی کلچر میں پختگی آئی۔ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل، قومی معیشت، تعلیم، صحت، خارجہ پالیسی یا ادارہ جاتی اصلاحات پر سنجیدہ مکالمے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست کا مقصد قوم کی رہنمائی نہیں بلکہ صرف اقتدار تک رسائی رہ گیا ہے۔

    میرا خیال ہے کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں مؤثر تھنک ٹینک کا شدید فقدان ہے۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں سیاسی جماعتوں کے پاس ماہرین، دانشوروں، معیشت دانوں اور پالیسی سازوں پر مشتمل ٹیمیں ہوتی ہیں جو مستقبل کی حکمتِ عملی، قومی مسائل کے حل اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اکثر فیصلے وقتی سیاسی فائدے، جذباتی نعروں یا شخصیات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ سیاست میں برداشت کم اور انتشار زیادہ نظر آتا ہے۔ جماعتوں کے اندر جمہوریت کمزور، اختلافِ رائے ناپسندیدہ اور میرٹ اکثر مصلحتوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب سیاسی قیادت اپنے اندر فکری تربیت، پالیسی سازی اور نظریاتی استحکام پیدا نہیں کرے گی تو جمہوریت محض انتخابات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
    پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ فکری سیاست کی ضرورت ہے؛ ایسی سیاست جو قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرے، نوجوانوں کو مایوسی نہیں بلکہ امید دے، اور اقتدار کے کھیل سے نکل کر قومی تعمیر کا راستہ اختیار کرے۔ ورنہ “باتیں حسینؓ کی” اور “چلن کوفیوں جیسا” والا طعنہ ہمارے سیاسی رویّوں پر مسلسل چسپاں رہے گا۔

  • ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر:  بینا علی

    ماں کبھی بچھڑتی نہیں،تحریر: بینا علی

    شہرِ اقتدار میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہونے کو ہے، مگر میرا دل آج بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہےاُس شہرِ رونقاں میں جسے میں آنکھوں میں نمی اور دل پر بوجھ لیے پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ شہر بدل لینے سے شاید یادوں کا تعاقب بھی چھوٹ جائے گا مگر یادیں تو سایوں کی مانند ہوتی ہیں؛ انسان جہاں بھی جائے وہ خاموشی سے اس کے تعاقب میں رہتی ہیں۔ رات کی تنہائی میں جاگتی ہیں۔ میں اپنے ماضی کی کچھ اذیت ناک یادوں سے بچنے، خود کو گمنام کرنے اور ہجوم میں کھو جانے کی تمنا لیے اس اجنبی شہر میں آئی تھی۔ سوچا تھا کہ فاصلے شاید دل کے زخموں پر وقت کا مرہم رکھ دیں گے کہ نئی گلیاں، نئے چہرے، نئی خاموشیاں میرے اندر کے طوفان کو تھما دیں گی۔

    مگر قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ بعض رشتے زمین کے فاصلے نہیں مانتے وہ روح کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں اور روح کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جس گھر میں نے خود کو گوشہ نشین کیا، اس کی مالکِ مکان سے پہلی ہی ملاقات میرے لیے غیر متوقع اور بے حد جذباتی ثابت ہوئی۔

    انہیں دیکھتے ہی دل جیسے ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ سانس اٹک گئی، آنکھیں بھیگ گئیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک پردہ ہٹایا ہو اور میری مرحوم والدہ میرے سامنے آ کھڑی ہوئی ہوں وہی نرمی، وہی اپنائیت، وہی بے لوث محبت ۔ان کا آہستہ آہستہ چلنا، بات کرتے ہوئے چہرے کے بدلتے تاثرات، بیٹھنے کا وہی سلیقہ سب کچھ امی جیسا۔

    حتیٰ کہ وہی بیماریاں، وہی احتیاطیں، وہی جسمانی کمزوری، اور اس کے باوجود دوسروں کے لیے وہی بےچین فکر مندی۔ گویا اللہ نے ایک بار پھر میری ماں کا سایہ کسی اور روپ میں میرے سر پر رکھ دیا ہو۔اور پھر ان کی محبت ،میں دروازے تک چھوڑنے جاتی وہ چند قدم واپس جاتیں، مگر دل نہ مانتا تو دوبارہ پلٹ آتیں۔

    پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیتیں، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر وہی سوال کرتیں جو میری ماں کی زبان سے بارہا سنا تھا:
    "بیٹی کچھ کھا لیا کرو،اپنا خیال رکھا کرو۔یہ چند سادہ سے الفاظ سنتے ہی دل کے بند ٹوٹنے لگتے ہیں۔ آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں اور ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں پھر سے اپنی ماں کے آغوشِ محبت میں لوٹ آئی ہوں ۔وہی تحفظ، وہی دعا، وہی بے لوث اپنائیت جس میں دنیا کے سارے غم پگھل جاتے ہیں۔تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے خوبصورت، سب سے نرم مظہر ہے۔

    ماں کی محبت نہ فاصلوں کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محبت کا کوئی نہ کوئی روپ دھارے سامنے ہوتی ہے۔ مائیں جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔ نہ شہر ان کی محبت کو قید کر سکتے ہیں، نہ سمندر ان کی شفقت کو دور کر سکتے ہیں۔ انسان چاہے اجنبی دیس میں ہو یا اپنے ہی وطن میں، ماں کی محبت کسی نہ کسی صورت، کسی نہ کسی چہرے میں، اسے ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔شاید کائنات نے مجھے یہ احساس دلانے کے لیے اس خاتون سے ملوایا کہ:
    "بیٹی ماں کبھی بچھڑتی نہیں۔

    وہ اگر اس دنیا سے رخصت بھی ہو جائے، تو اپنی دعا، اپنی محبت اور اپنی شفقت کسی نہ کسی چہرے میں، کسی نہ کسی لمس میں تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔”آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ماں کو کھونا دراصل اسے مکمل طور پر کھونا نہیں ہوتا۔ وہ دل کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے، سجدوں کی دعاؤں میں بولتی ہے، اور بعض مہربان چہروں کے روپ میں ہمارے ساتھ چلتی ہے۔ ماں واقعی ایک ایسی ہستی ہے جو مر کر بھی نہیں مرتی۔وہ زندگی کے ہر موڑ پر کسی دعا کی گونج، کسی ہاتھ کے لمس، کسی آواز کی نرمی، یا کسی شفقت بھرے سوال کی صورت میں اچانک سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور دل کو یہ یقین دلا جاتی ہے کہ:
    "میں کہیں نہیں گئی، بیٹی میں آج بھی تمہارے ساتھ ہوں۔ میرے دعا کے ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر ہیں۔”