Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: ثناء اسلم

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: ثناء اسلم

    "ہم بنیان المرصوص ہیں” ایک بامعنی اور ولولہ انگیز جملہ ہے جو قرآن مجید کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 4 سے لیا گیا ہے۔ترجمہ:
    بے شک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
    اس کا مطلب ہے "سیسہ پلائی ہوئی دیوار”۔ یہ دو عربی الفاظ پر مشتمل ہے: "بنیان” یعنی دیوار، اور "مرصوص” یعنی سیسہ سے مضبوط کی گئی۔یہ محض ایک لفظی ترکیب نہیں بلکہ اتحاد، استقامت اور ناقابلِ تسخیر طاقت کی علامت ہے۔

    اپریل 2025 میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملہ پیش آیا، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا۔ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا، مگر کشیدگی میں کمی نہ آئی۔ بالآخر 7 مئی کی رات بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کئی مساجد کو نقصان پہنچا اور معصوم شہری شہید ہوئے، جن میں 15 بچے اور 7 خواتین شامل تھیں۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کیا گیا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔

    اس سانحے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، مگر اس کے ساتھ ساتھ عزم اور حوصلہ بھی بلند ہوا۔ پاک فوج اور عوام نے متحد ہو کر دشمن کو جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ صرف فوج کی جنگ نہیں تھی بلکہ ہر شہری نے اپنے اپنے میدان میں کردار ادا کیا۔ میڈیا، نوجوان اور سائبر ماہرین نے معلوماتی محاذ پر بھرپور حصہ لیا۔

    ابتدائی طور پر پاک فوج کی خاموشی کو دشمن نے کمزوری سمجھا، مگر درحقیقت یہ ایک حکمت عملی تھی۔ 10 مئی کی صبح فجر کے بعد پاکستان نے "آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت بھرپور جوابی کارروائی کی۔ یہ حملہ کھلے عام اور پوری تیاری کے ساتھ کیا گیا، جس سے دنیا کو واضح پیغام ملا کہ پاکستان اپنے دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گا۔

    اس آپریشن کے دوران پاکستان نے بھارت کے کئی طیارے مار گرائے اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ پاک فضائیہ، بری اور بحری افواج نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی غیر معمولی جذبے کا مظاہرہ کیا۔ حتیٰ کہ دشمن کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کو ناکام بنانے میں بھی شہریوں نے فوج کا ساتھ دیا۔

    یہ آپریشن صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ قومی اتحاد اور ایمان کی ایک زندہ مثال بن گیا۔ 12 مئی 2025 کو اس کامیابی کو "معرکہ حق” کے طور پر منایا گیا، جبکہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان نے اس معرکے میں برتری حاصل کی۔

    آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ "بنیان المرصوص” صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔ یہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، متحد اور ناقابلِ شکست قوم ہے۔ ایک ایسی قوم جو اپنے ایمان، اصولوں اور حب الوطنی کے سیسہ سے جڑی ہوئی ہے، اور جسے کوئی بھی دشمن اپنے ناپاک عزائم سے متزلزل نہیں کر سکتا۔
    پاکستانی وہ قوم ہیں جو بے چینی، افراتفری اور جلدبازی میں بھی وہ کام کر جاتی ہے جو کسی نے سوچا بھی نہ ہو۔ جہاں یہ امن، وطن اور قوم سے محبت کے معاملے میں ہر خوف کے ماحول میں بھی خالصتاً پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔

    جہاں "جنگ” کا نام سن کر لوگ کانپ اٹھتے ہیں، وہیں پاکستانی قوم ناممکن کو ممکن بنا کر دشمنوں کو ششدر کر دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سینے میں آگ لے کر نکلنا جانتے ہیں۔

    یہ اپنے شہیدوں کے لیے افسردہ ہونے کے بجائے ان کا نام لے کر ایسی آگ بھڑکاتے ہیں جو شعلوں میں بدل جاتی ہے۔ یہ اپنے گھروں سے نکل کر بے تاب ہو رہے ہیں۔

    پوری دنیا دیکھے گی کہ اس ارضِ پاک ایک ایسا ملک ہے جس کے باشندے لہو بہتے دیکھ کر بھی "اف” نہیں کرتے۔ بلکہ وہ دشمن کے سامنے کانپنے کے بجائے مل کر لڑنے کو تیار ہیں۔

    اپنی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے ان کی پکار پر پوری قوم کی فوج کھڑی ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ ہے۔ ہمارے ننھے اور معصوم بچے بھی گھروں میں کھلونے کے ٹینک اور میزائل بنانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ ہمارے بزرگ بھی جان دینے کو تیار ہیں۔
    مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اس بھائی چارے کو لے کر ہم سب اس طرح دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہوتے ہیں کہ دشمن کی نسلیں کانپ اُٹھیں۔

    بھائی چارے کی یہ دیوار حب الوطنی، محبت اور انسانیت کے سیمنٹ سے مزید مضبوط کر دی ہے۔ ہم نے اس جنگ کے موقع پر واقعی دشمن کو "بنیانِ مرصوص” بن کر دکھا دیا ہے۔

    ہماری یہ دیوار کبھی ٹوٹ نہیں سکتی اور دشمن ہمیشہ منہ کی کھائے گا۔ کیونکہ ہماری یہ دیوار اینٹوں سے نہیں بلکہ خالقِ کائنات کے عشق سے بنی ہے۔

    ہم اپنی طاقتوں سے زیادہ اپنے رب اور ایمان پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری طاقت آپس کی محبت اور بھائی چارہ ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو جنگ میں مرنے نہیں، بلکہ اگر جنگ ہو جائے تو جیتنے کے لیے نکلتے ہیں۔

    7 مئی سے 10 مئی تک کے اس واقعے نے دنیا کو بتا دیا کہ ہم قوم "بنیانِ مرصوص” ہے، اور ہمیشہ رہے گی۔

  • ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    "قومیں اس وقت نہیں ٹوٹتیں جب دشمن حملہ کرتا ہے، بلکہ اس وقت ٹوٹتی ہیں جب دل ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔”

    رات کی سیاہی اپنے دامن کو زمین پر پھیلا چکی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سا سکوت تھا، جیسے وقت خود رک کر کسی فیصلے کا منتظر ہو۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا، زمین لرز اٹھی، اور ایک نوجوان سپاہی زخمی حالت میں زمین پر گر پڑا۔ اس کے سینے سے خون بہہ رہا تھا، سانسیں بوجھل ہو رہی تھیں، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔
    اس نے لرزتے ہونٹوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
    “یا اللہ… میری قوم کو کبھی بکھرنے نہ دینا…”
    یہ الفاظ کسی ایک سپاہی کے نہیں تھے، یہ پوری قوم کی روح کی آواز تھے۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے قرآنِ مجید نے یوں بیان کیا:
    “إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ”
    (بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں)

    “بنیانِ مرصوص” محض ایک لفظ نہیں، یہ ایک زندہ احساس ہے، ایک ایسا عہد جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر “ہم” بن جاتا ہے، جب قربانیاں مشترک ہو جاتی ہیں، اور جب ہر فرد خود کو ایک بڑی دیوار کی اینٹ سمجھنے لگتا ہے۔

    ہماری تاریخ اس جذبے کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو وطن کے نام کیا، وہ بہنیں جنہوں نے دعاؤں کے سائے میں اپنے بھائیوں کو رخصت کیا، اور وہ بچے جو باپ کے سائے سے محروم ہو گئے مگر سر فخر سے بلند رکھا،یہ سب بنیانِ مرصوص کی زندہ تصویریں ہیں۔
    لہو سے سینچی گئی ہے یہ مٹی کی حرمت
    یہ قرض ہم پہ ہے، اس کو سنبھالے رکھنا
    جب قیامِ پاکستان کا خواب حقیقت بنا تو یہ کسی ایک فرد کی جدوجہد نہیں تھی، بلکہ ایک متحد قوم کی قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ وہ لوگ جو مختلف زبانیں بولتے تھے، مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ یہی اتحاد ان کی اصل طاقت تھا۔
    مگر آج… دل ایک سوال سے بوجھل ہو جاتا ہے۔

    کیا ہم وہی قوم ہیں؟
    ہم نے اپنے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر لی ہیں۔ کبھی زبان کے نام پر، کبھی فرقے کے نام پر، اور کبھی ذاتی مفادات کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دیا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔

    سوشل میڈیا کی اس تیز رفتار دنیا میں ہم لفظوں کے تیر چلاتے ہیں، اور بھول جاتے ہیں کہ یہ تیر کسی کے دل کو زخمی کر سکتے ہیں۔ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ اختلاف تو سوچ کی وسعت کی علامت ہوتا ہے، نفرت کی نہیں۔
    لیکن… ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔
    ابھی اس قوم کے دل میں وہ روشنی باقی ہے جو اسے پھر سے جوڑ سکتی ہے۔

    جب سیلاب آتا ہے تو یہی لوگ ایک دوسرے کے لیے سہارا بن جاتے ہیں۔ جب زلزلہ زمین کو ہلاتا ہے تو یہی ہاتھ ایک دوسرے کو تھام لیتے ہیں۔ جب کوئی بھوکا ہوتا ہے تو یہی لوگ اپنا نوالہ بانٹ دیتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب ہم حقیقت میں بنیانِ مرصوص بن جاتے ہیں۔
    تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم اس جذبے کو صرف مشکل وقت تک محدود کیوں رکھیں؟ کیوں نہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں؟
    ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں اپنی انا کو توڑنا ہوگا اور دلوں کو جوڑنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک قوم کی اصل طاقت اس کا اتحاد ہوتا ہے، نہ کہ اس کے وسائل۔

    ہماری نئی نسل ہماری سب سے بڑی امید ہے۔ اگر ہم ان کے دلوں میں محبت، برداشت اور اتحاد کا بیج بو دیں، تو وہ ایک ایسا کل تعمیر کریں گے جہاں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
    آج وقت ہمیں پکار رہا ہے…
    آج تاریخ ہمیں دیکھ رہی ہے…
    آؤ ایک عہد کریں۔۔۔
    کہ ہم نفرت کو ختم کریں گے،
    کہ ہم محبت کو فروغ دیں گے،
    کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے،
    اک ہوں تو بن جاتے ہیں دریا بھی سمندر
    بکھری ہوئی بوندوں کا کوئی نام نہیں ہوتا
    جب ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو تھام لیتا ہے، تو کمزوری طاقت میں بدل جاتی ہے۔
    جب ایک دل دوسرے دل کے لیے دھڑکتا ہے، تو فاصلے مٹ جاتے ہیں۔
    اور جب پوری قوم ایک ہو جائے… تو وہ ناقابلِ شکست بن جاتی ہے۔
    آئیے… ہم پھر سے خود کو پہچانیں۔
    آئیے… ہم پھر سے ایک ہو جائیں۔
    آئیے… ہم دنیا کو دکھا دیں کہ ہم بکھرے ہوئے نہیں، جڑے ہوئے ہیں۔
    کیونکہ ہمارا ایمان، ہماری تاریخ اور ہمارا ضمیر گواہ ہے۔۔۔
    ہم وہ قوم ہیں جو آزمائش میں نکھر جاتی ہے،
    ہم وہ دیوار ہیں جو گرتی نہیں، مضبوط ہوتی ہے،
    ہم تھے، ہم ہیں، اور ہم ہمیشہ رہیں گے۔۔۔
    ہم بنیانِ مرصوص ہیں۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ تہمینہ عروج

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: سیدہ تہمینہ عروج

    قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ،
    بےشک اللہ ان مجاہدوں کو دوست رکھتا ہے ،جو اس کی راہ میں یوں صف بستہ ہو کر جنگ کرتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں

    قرآن مکمل حق ہے ،اس کے الہامی کلام ہونے میں کوئی شک نہیں لہذا اس کی یہ آیت بھی سچ ثابت ہوئی جب جب کفر نے حق پر حملہ کیا تو جیت حق کی ہوئی ۔ مٔئی 2025 میں ہونے والا معرکہ حق وہ معرکہ وہ جنگ جب پاکستان کے ازلی اور بزدل دشمن جس نے آج تک پاکستان کے قیام کو دل سے تسلیم نہیں کیا اپنی بزدلانہ روایت برقرار رکھتے ہوئے رات کے اندھیرے میں چھپ کر حملہ کیا تو پاک فوج کا ہر جوان بنیان مرصوص بن کر فجر کے اُجالے میں دشمن پر قہر بن کر ٹوٹا اور پھر دنیا بھر نے انڈیا کے صرف رافیل طیارے کی نہیں بلکہ اس کی نام نہاد فوجی طاقت کے دعوی اور برتری کے غرور کو آسمان سے زمین پر گرتے دیکھنا بھارت کی دفاعی طاقت کا بھرم ریت کی دیوار ثابت ہوا ،دنیا بھر میں بھارتی حکومت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔وہ بھارت جو پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے قومی سلامتی کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا تھا ۔پاکستان کو فروعی ،فرقہ وارانہ علاقائی صوبائی اور سیاسی اختلافات میں الجھا کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا تھا ۔اس جنگ نے پوری قوم کو ایک کر دیا ۔خیبر سے کراچی تک ہر پاکستانی کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ۔ہم بنیان مرصوص ہیں ۔اس معرکہ حق میں صرف پاک فوج ہی نہیں بلکہ پوری قوم کی دل یک زبان ہو کر دشمن کے سامنے بنیان مرصوص بن کر کھڈی ہو گئی ۔اس وقت قوم کو نہ تو یہ یاد تھا کہ اس کا تعلق کس مذہب فرقے علاقے سیاسی جماعت صوبے یا زبان سے ہے ۔یاد تھا تو صرف یہ کہ ہم صرف ایک قوم ہیں اور ہماری پہچان پاکستان ہے۔اور انڈیا نے ہمیں تر نوالہ اور اپنی زیر قبضہ ریاست سمجھتے ہوئے ہم پر حملہ کرنے کی جرات کی ہے اس کے لئے اسے ایسا سبق سکھایا جائے کہ آئندہ بھارت کبھی بھی ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش نہ کرے ۔اسے یہ معلوم ہو جائے کہ ہم ایک آزاد ریاست اور خودمختار قوم ہیں ۔۔۔ہم بنیان مرصوص ہیں

    جس سے ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جاتا ہے ہم امن کے داعی اور علمبردار ہیں۔اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کا قابل ذکر کردار اور قربانیاں اس کی مثال ہیں ۔لیکن اگر ہم پر جارحیت مسلط کی جائے تو ہم بنیان مرصوص ہیں ۔ہم مومن ہیں جو موت سے نہیں ڈرتے دوستوں کے لئے جان دیتے ہیں اس دنیا میں اپنے سبز ہلالی پرچم کو اپنے پر امن اقدامات کے ذریعے سربلند رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اپنی سرزمین کا تحفظ کرنا جانتے ہیں جو ہمارا اولین فرض ہے ۔ہم اپنی سر زمین نہ تو دوسرے ممالک کی سلامتی کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور نہ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ہم یہ نہیں چاہتے کہ کسی اور ملک کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو ہم حالت امن میں شبنم اور جنگ مسلط ہونے پر آگ ہیں ہم بنیان مرصوص ہیں ۔اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا
    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

    اس تاریخی معرکہ میں تینوں مسلح افواج نے اپنی دفاعی صلاحیت اور پروفیشنل تربیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔عالمی میڈیا پاکستان کی بہترین دفاعی صلاحیت اور جنگی حکمت عملی کے گن گاتا رہا جس نے چند گھنٹوں میں جنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے انڈیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ۔قوم کا ہر فرد افواج کے شانہ بشانہ اپنے اپنے محاذ پر لڑی رہے تھے ۔نوجوان ہیکرز نے بھارت کی حساس دفاعی معلومات اور تنصیبات کے سسٹم کو پیک کر کے سائبر سیکیورٹی اور آی ٹی کی فیلڈ میں اپنی دھاک بٹھاتے ہوئے روایتی جنگ کے اصولوں اور طریقوں کو بدل دیا ۔اس جنگ کو فوج اور عوام نے روایتی جوش اور جذبے سے لڑا لیکن جنگ میں غیر روایتی طریقوں کو متعارف کروا کے روایتی جنگ کی تاریخ کو بدلتے ہوئے دفاعی ماہرین کو داد دینے پر مجبور کر دیا ۔دنیا بھر کی حکومتیں اپنے اپنے ملکوں میں ہونے والی غیر روایتی سرگرمیوں اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے پاک فوج کی تربیت اور مہارت سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے رابطے کیا اس معرکہ حق نے واقعی حق کو فتح یاب کیا۔پاک فوج اور عوام نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و برکت سے دشمن کو شکست فاش دی ۔انڈیا اب کسی بھی معرکہ یا ایڈونچر سے پہلے سو بار سوچے گا اور اس معرکہ کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ قوم کسی بھی مشکل گھڑی میں اندرونی اختلافات کو بھلا کر بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ہو جاتی ہے۔ جس قوم کا نصب العین ایمان اتحاد اور یقین محکم ہو اسے شکست دینا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔دشمن ہمیں کبھی بھی الگ نہیں کر سکتا اور نہ ہی باطل حق پر غالب آ سکتا ہے ۔کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ہم خالد کی یلغار ہیں اور طارق کی تلوار ہیں ۔ہم حیدر کرار ہیں ۔ہمیں کوی شکست نہیں دے سکتا کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم بنیان مرصوص ہیں

  • ہم ہیں بنیانِ مرصوص،تحریر: مبشر حسن شاہ

    ہم ہیں بنیانِ مرصوص،تحریر: مبشر حسن شاہ

    اسلامی جمہوریہ پاکستان… ایک ایسا وطن جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں سب سے قیمتی نعمت وطن سے محبت ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہر آزمائش میں اس قوم کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔

    جب بھی وطنِ عزیز دشمن کی نظرِ بد کا نشانہ بنا، تاریخ نے یہ منظر بارہا دیکھا کہ قوم اور فوج ایک جان، دو قالب بن گئے۔ شہداء کے لہو سے لکھی گئی داستانیں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ سرزمین محض مٹی نہیں ,یہ ایک سیسہ پلائی دیوار ہے، جسے کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی۔

    یہ وطن صرف بیرونی دشمنوں کا ہی نشانہ نہیں بنا، بلکہ اندرونی سازشوں نے بھی اسے کمزور کرنے کی کوشش کی۔ ایسے میں سوال یہ تھا .کیا ہم بکھر جائیں گے… یا پھر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائیں گے؟ جواب تاریخ کے اوراق پر بھی لکھا ہے اور حال کے منظر نامہ پر بھی

    جنوبی وزیرستان کی وادیوں میں جب بے گناہ شہریوں کا خون بہایا گیا، تو خاموشی نہیں چھائی بلکہ آپریشن المیزان کی صورت میں انصاف کا ترازو حرکت میں آیا۔ ظالم کے خلاف مظلوم کا پلڑا بھاری کیا گیا۔
    پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی…

    سوات اور مالاکنڈ کی حسین وادیوں میں نام نہاد حق کے علمبرداروں نے سر اٹھایا۔ خوف کے سائے گہرے ہوئے، مگر اسی لمحے راہِ حق پر چلنے والے میدان میں اترے۔اور پھر آپریشن راہِ راست نے نہ صرف دہشت کی جڑیں کاٹیں بلکہ زندگی کو پھر سے مسکرانے کا موقع دیا۔

    دشمن، شکست پر شکست کھا کر بوکھلا چکا تھا…2008 میں باجوڑ اور جنوبی وزیرستان میں ایک بار پھر امن کا خون بہایا گیا۔ مگر اس بار جواب پہلے سے زیادہ سخت تھا۔آپریشن شیر دل نے دہشت گردی کے عفریت کو چیر کر رکھ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ
    "ہم جھکتے نہیں ہم بنتے ہیں بنیانِ مرصوص!”

    یہ جنگ مختصر نہ تھی
    کبھی ملاکنڈ، کبھی وزیرستان کہیں مختصر معرکے، تو کہیں طویل جدوجہد۔
    آپریشن ضربِ عضب (2014-2017) ایک ایسا باب ہے جس نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا۔
    یہ صرف ایک آپریشن نہیں تھا ۔یہ ایک عزم تھا، ایک اعلان تھا کہ اب اس سرزمین پر خوف کا راج ختم ہوگا۔ مگر قربانیاں بھی کم نہ تھیں…
    ہر کامیابی کے پیچھے کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی، کسی بچے کا باپ تھا،جو وطن پر قربان ہو گیا۔ مگر ان قربانیوں نے ایک حقیقت کو مزید واضح کیا:
    ہم واقعی بنیانِ مرصوص ہیں۔
    پھر فیصلہ ہوا کہ…
    اب صرف جنگ نہیں، مکمل رد ہوگا کیونکہ
    جب طے ہوا کہ ملک میں حد فساد ہے
    تو اسکا علاج فوج کا رد الفساد ہے
    یوں آپریشن ردالفساد (2017) کا آغاز ہوا۔یہ ملک بھر میں دہشت گردی کے بچے کھچے اثرات کو ختم کرنے کا عزم تھا۔ ایک ایسا مرحلہ جہاں امن کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنا مقصد تھا۔
    وقت آگے بڑھا… خطرات نے بھی نئی شکلیں اختیار کیں۔
    2024 میں بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ہونے والا آپریشن مرگ بر سرمچار اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے اندر بلکہ اپنی سرحدوں سے باہر موجود خطرات پر بھی نظر رکھتا ہے۔
    اور پھر…

    جب بھارت نے جارحیت کی کوشش کی، تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ صرف ایک فوج سے نہیں، بلکہ ایک قوم کی قوت ایمانی ٹکرا رہا ہے۔ ایسی قوم… جو ہر محاذ پر اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں تاریخ نے مہر ثبت کی:ہم صرف دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم ثابت کرتے ہیں۔
    ہم ہیں بنیانِ مرصوص۔

    بعد ازاں عالمی سطح پر تیز رفتار واقعات کا تانتا بندھا۔ افغانستان کے بلا اشتعال حملے بڑھے تو پاکستانی فوج نے بلا تامل افغانستان کو فوری جواب دیا۔ جس زمین پر سوویت یونین ٹوٹی امریکہ ناکام رہا وہاں جب دشمن کا سامنا بنیان المرصوص سے ہوا تو چند دن میں سفید جھنڈے لہرا گئے۔ اسی دوران ایران امریکہ جنگ نے مشرق وسطی میں حالات گھمبیر کر دیے تو دنیا کو ایک اور روپ نظر آیا۔ ہم صرف جنگ کے میدان میں ہی مضبوط نہیں بلکہ ثالثی کا میدان سجانے کی بھی ہمت رکھتے ہیں اور فریقین کی حفاظت کرنا جانتے ہیں

    عالمی سطح پر اسے حد سمجھا گیا لیکن بنیان مرصوص کی حد اسے سے کہیں آگے تھی۔ یہ اس بنی کے امتی و آنچه در دعا طلب گردید ہیں جس کی ابتدا پر جبرائیل کی انتہا ہوئی تھی ۔ سیسہ پلائی دیوار نے ابھی مزید مضبوطی دکھانی تھی۔ دنیا میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ کسی ملک کا آرمی چیف ایکٹو وار زون میں اس شان سے گیا ہو کہ اس ملک کے روپوش و منتشر لوگ بھی سر عام باہر نکل سکیں۔ کسی بھی جنگی میدان میں ایسے جانے کے لیے لوہے کے اعصاب درکار ہوتے ہیں۔ پاکستانی فوج اور قوم نے قدم قدم پر صرف ثابت نہیں کیا بلکہ چیلنج کیا کہ اللہ کے کرم سے ہم بنیان مرصوص ہیں

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:  ظفر اقبال ظفر

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر: ظفر اقبال ظفر

    (ترجمہ)حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان بندوں سے محبت کرتا ہے جو اس کے راستے میں اس طرح صف بنا کر لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔محب الوطنی کا آب حیات پی کر پاک فوج کو سیسہ پلائی عمارت بنانے والے خدا کے محبوب بندوں نے گائے کا پیشاب پینے والوں کو آپریشن بنیان مرصوص میں اپنی ایمانی ودفاعی طاقت و مہارت سے زلت آمیز شکست کی دھول چٹائی۔ جب بزدل دشمن اسلام و پاکستان نے خاموشی سے وار کرکے ہمارے جذبہ جہاد میں شہادت کے طلبگار شیروں کو نشانہ بنایا تو موت کے پہرے میں جینے والے پاک فوج کے دلیروں نے اعلانیہ للکار سے دشمن کی غلط فہمی کو عبرت ناک نصیحت میں بدل دیا۔

    اقتدار کی حوس میں سیاست کی بندوق سے اپنے ہی ملک کے وجود کو داغدار کرنے والے غرور و تکبر کے نشے میں مبتلا بھارتی وزیراعظم مودی نے پاک فوج کی فاتحانہ کاروائیوں کا اعتراف کرکے اپنی عوام و فوج کو پاکستانی قابلیت سے آگاہ کیا۔گائے کے پیشاب سے اپنے ضمیروں کو بدبودار رکھنے والوں کو پاک فضائیہ کے زم زم پینے والوں نے آسمانی مدد کا نظارہ کروایا۔پاک فضائیہ نے جو میزائل داغے ان کا نام فتح تھا فتح بھی قرآن پاک کی ایک آیات کا نام ہے جس کا نزول بھی اسی ماہ ذوالقعدہ میں ہوا یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص میں حملے کا جو وقت متعین کیا گیا وہ بھی قرآن کی ہدایات کے تناظر میں تھا (ترجمہ) قسم ہے اُن لشکروں کی جو صبح کے وقت تاراج کرتے ہیں۔حملہ کرتے وقت جو اللہ کی واحدانیت کے نعرے لگائے گئے ان کی شہادت بھی صحیح بخاری سے ملتی ہے قرآن و سنت کو ہمراہ لے کر دشمن پر جو فتح خدا نے دی وہ پوری دنیا میں پاکستان کی عزت و بہادری اور دفاع کا معرکہ حق بن گئی۔

    اسلام و پاکستان اپنے دشمنوں کے بارے میں بھی جذبہ انسانیت رکھتے ہیں یہی وجہ تھی کہ ہمسایہ ملک کی عام عوام کو ناحق مارنے کی بجائے ان کی بدحواس طاقت کے ہوش ٹھکانے لگائے گئے جس میں یہ سبق دینا تھا کہ بے قصور عوام کو نشانہ بنانے کی بزدلی دیکھانا پاکستان کی فوج اور عوام کا معیار نہیں ہے۔ہم انسانی قدروں پر جینے والی پُر امن قوم ہیں جنہیں دشمن بھی غیر معیاری ملا جو پاکستان کی نفرت میں اپنی ہی جلائی ہوئی سیاسی آگ میں اپنی ہی عوام کو دھکیلنے کی حماقت کر رہا ہے ہم بنیان مرصوص ہیں جو اپنے ملک و عوام کے دفاع کے ساتھ ساتھ سیاسی دشمن کے ملک و عوام کو بھی جینے کی آزادی دینے پر یقین رکھتے ہیں۔

    ہم بنیان مرصوص انسانیت کے علمبردار ہیں ہمیں وہ دنیاقبول ہی نہیں جس میں اسلام و پاکستان کے لیے عزت و خود مختیاری نہ رکھی جائے ہمارے ایٹم بم اسی مقصد کے لیے بنے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قیامت تک اس زمین پر قائم رہنا ہے ہم بنیان مرصوص ہیں ہمیں دنیا بھر کے انسانوں کے لیے امن و عزت کا مرکز بننا ہے۔ہمارا یہ ایمان ہے کہ اس دنیا کے خالق نے اپنی زمین پہ رہنے کا حق صرف بنیان مرصوص والوں کو دیا ہے جس کی دلیل یہ ہے احترام انسانیت ان کے ایمان کا حصہ ہے ان کا کردار دعوت اسلام کی خوبصورت و سیرت شکل پر مبنی ہے ہم بنیان مرصوص والے اسلامیت پاکستانیت انسانیت کے دفاعی ترجمان ہیں شہادت ہماری ابدی حیات کی شروعات کا پہلا مرحلہ ہے اور دشمن کے لیے دنیا وآخرت میں خاتمے کا پہلا حادثہ ہے۔

    پاکستان کا رہنے والا ہر مسلمان خدا کا سپاہی ہے اپنی مقدس دھرتی کا نگہبان ہے۔پہلگام نامی من گھڑت صورتحال سے اپنی عوام کو گمراہ کرنے والے آپریشن سندور کے تخلیق کاروں نے بغض پاکستان میں رات کے اندھیرے میں حملے کرکے پاکستان کے دن کے اُجالے میں دئیے گئے جواب سے دنیا کو حیرت انگیز دفاعی منظر دیکھنے کا موقعہ دیا۔

    یہ بنیان مرصوص والے پاکستانی مسلمان ہیں جوہندوستان کی طرح فلمی گمراہی پھیلانے والی جھوٹی منظر کشی پر یقین نہیں رکھتے مگر حقیقت ایسی دیکھاتے ہیں کہ دنیا وی سپر پاور جیسے ملک کا صدر پاکستانی قابلیت کی شہادتیں دیتا ہے۔

    بنیان مرصوص معرکہ حق پر عملی طور پر یقین رکھنے والا پاکستان دنیا میں امن وسلامتی کاوہ سفیر ہے جس نے عالمی امن کے لیے نا صرف تنائج کن انتظامات کیے بلکہ مفاہمت و مذاکرات کے زریعے دنیا بھر کے انسانوں پر خطروں کے منڈلاتے بادلوں کو خوشگوار فضاء میں بدل کر انسانی حقوق کی پاسداری کاعملی نمونہ پیش کیا۔

    بنیان مرصوص میں معرکہ حق کے فاتحین کو خدا نے اپنے گھر مکہ مکرمہ اور سردار اُمت محمدیہ ؑ کے روضہ مقدس کی حفاظت کے لیے چن کر وہ اعزاز بخشا جو کسی اور اسلامی ملک کے مقدر میں نہیں آیایہ وہ آسمانی فیصلے ہیں جونہ صرف زمین پر عمل درآمد ہورہے ہیں بلکہ خدا کے محبوب بندوں کی سرزمین کی شہادت بھی دیتے ہیں۔دنیا اس ملک کی فوج کی گنتی سے واقف ہے مگر اس سے کئی گنا بڑی ایک عوامی فوج بھی اسی سرزمین پر بستی ہے جو بغیر تنخواہ کے اسلام کے نام پر اس دھرتی کا پہرہ دیتی ہے جو ہر محاز پراپنی پاک فوج کے کندھوں سے کندھے ملا کر پہلی صفوں میں کھڑے رہتے ہیں۔اسلام کے وجود کا محبوب حصہ پاکستان ہے پاکستان کی فوج ہی عوام ہے اور عوام ہی فوج ہے۔دشمن اسلام و پاکستان کے دلوں میں خدا نے ہمارا ہی خوف بیٹھایا ہوا ہے کیونکہ ہم بنیان مرصوص ہیں

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:علشبا

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر:علشبا

    ہم بنیانِ مرصوص ہیں” ایک نہایت بامعنی اور پُراثر جملہ ہے۔ یہ عربی زبان کے الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں اتحاد، مضبوطی، یکجہتی اور باہمی تعاون کا عظیم پیغام پوشیدہ ہے۔ اس جملے کا مطلب ہے: *“ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہیں۔”* یعنی جب لوگ ایک صف میں کھڑے ہوں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور متحد ہو کر زندگی گزاریں، تو کوئی طاقت انہیں کمزور نہیں کر سکتی۔ اسلام بھی مسلمانوں کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ وہ آپس میں محبت، بھائی چارے اور اتحاد کے ساتھ رہیں۔ جب انسان مل جل کر کام کرتے ہیں تو مشکلات آسان ہو جاتی ہیں اور کامیابی کے راستے کھلنے لگتے ہیں۔ اتحاد نہ صرف ایک قوم کی طاقت بنتا ہے بلکہ اس کی عزت، ترقی اور خوشحالی کا سبب بھی بنتا ہے۔

    اتحاد کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو قومیں متحد رہتی ہیں، وہ ہمیشہ ترقی کی بلندیوں تک پہنچتی ہیں، جبکہ اختلافات اور انتشار کا شکار قومیں زوال کی طرف بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اگر ہم ترقی یافتہ اقوام کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے نظم و ضبط، باہمی تعاون اور قومی اتحاد کارفرما ہے۔ اس کے برعکس جہاں لوگ ذاتی مفادات، لسانی اختلافات اور تعصب میں مبتلا ہوں، وہاں امن اور ترقی قائم نہیں رہ سکتی۔ اتحاد انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔

    اسلام نے ہمیشہ مسلمانوں کو اتحاد اور بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ *“اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”* اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں اتحاد کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے چینی محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہیے۔ اسلام میں اخوت، ہمدردی اور محبت کا درس اسی لیے دیا گیا تاکہ معاشرے میں امن اور یکجہتی قائم رہے۔

    اسلامی تاریخ اتحاد کی روشن مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ جنگِ بدر، جنگِ احد اور دیگر معرکوں میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور وسائل محدود تھے، لیکن ان کے دل ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط سے بھرپور تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بڑے دشمنوں پر غالب آئے۔ اگر مسلمان آپس میں اختلافات کا شکار ہوتے تو کامیابی ممکن نہ ہوتی۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی مسلمانوں نے اتحاد کی بدولت دنیا کے وسیع علاقوں میں امن، عدل اور انصاف قائم کیا۔

    پاکستان بھی اتحاد کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، جان و مال کی قربانی دی، مگر اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔ اگر مسلمان متحد نہ ہوتے تو پاکستان کا قیام ممکن نہ ہوتا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قوم کو ہمیشہ *“اتحاد، ایمان اور تنظیم”* کا سنہری اصول دیا۔ آج بھی اگر ہم ان اصولوں پر عمل کریں تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی اصل وجہ عدم اتحاد ہے۔ لوگ زبان، نسل، صوبے اور فرقے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ یہ نفرتیں نہ صرف معاشرتی سکون کو تباہ کرتی ہیں بلکہ قومی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان اختلافات کو بھلا کر صرف پاکستانی قوم بن کر سوچیں۔ اگر ہم متحد رہیں گے تو کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

    تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی نوجوان نسل میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر نوجوان اتحاد، محنت اور حب الوطنی کو اپنا شعار بنا لیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ نفرت، حسد اور منفی سوچ سے دور رہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں نوجوان اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام عام کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان اپنی توانائیاں ملک و قوم کی خدمت میں صرف کریں تو پاکستان ایک عظیم اور مضبوط ملک بن سکتا ہے۔

    قدرتی آفات اور مشکل حالات میں پاکستانی قوم کا اتحاد ہمیشہ نمایاں نظر آتا ہے۔ سیلاب، زلزلے یا دیگر مشکلات کے وقت لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم میں اتحاد اور ہمدردی کا جذبہ موجود ہے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس جذبے کو صرف مشکل وقت تک محدود نہ رکھیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی اپنائیں۔

    آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ *“ہم بنیانِ مرصوص ہیں” محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل پیغام ہے۔* یہ ہمیں اتحاد، بھائی چارے، محبت اور قربانی کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم سب ایک مضبوط دیوار کی طرح متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اسی میں ہے کہ ہم اختلافات کو ختم کریں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور مل جل کر اپنے وطن کی خدمت کریں۔ بلاشبہ اتحاد میں ہی طاقت ہے، اور یہی طاقت قوموں کو کامیابی اور ترقی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،​تحریر: راشد عاطف

    ہم بنیان مرصوص ہیں،​تحریر: راشد عاطف

    ​انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں زندہ جاوید ٹھہریں جنہوں نے اتحاد، یکجہتی اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر حالات کے طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ قرآن کریم نے ایک مثالی گروہ کی صفت بیان کرتے ہوئے "بنیان مرصوص” کی اصطلاح استعمال کی ہے جس کا مفہوم ایسی عمارت یا دیوار ہے جس کی اینٹوں کو پگھلے ہوئے سیسے سے جوڑ دیا گیا ہو جسے کوئی دراڑ کمزور نہ کر سکے اور کوئی بیرونی قوت ڈھا نہ سکے۔ آج کے پرفتن دور میں جہاں امتِ مسلمہ اور بالخصوص ہمارا معاشرہ لسانی، صوبائی اور فروعی اختلافات کی زد میں ہے "بنیان مرصوص” بننا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

    ​اتحاد کی حقیقت اور فلسفہ
    ​بنیان مرصوص صرف ایک استعارہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کی پائیداری اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ اس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دے رہی ہو اسی طرح ایک زندہ قوم کا ہر فرد دوسرے فرد کا محافظ اور مددگار ہوتا ہے۔ جب افراد اپنی انا، ذاتی مفادات اور گروہی تعصبات کو پس پشت ڈال کر ایک بڑے مقصد کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ ایک ایسی ناقابل تسخیر قوت بن جاتے ہیں جس کے سامنے وقت کے بڑے بڑے فرعون سرنگوں ہو جاتے ہیں۔

    ​اسلامی تاریخ میں ہجرتِ مدینہ کے بعد "مواخاتِ مدینہ” بنیان مرصوص کی پہلی اور سب سے روشن مثال تھی۔ انصار اور مہاجرین نے جس طرح ایک دوسرے کے وجود کو قبول کیا اور اپنے وسائل بانٹے اس نے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جس نے صدیوں تک دنیا کی رہنمائی کی۔

    ​آج ہمیں جن حالات کا سامنا ہے ان میں فکری انتشار سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دشمن ہمیں حصوں میں تقسیم کر کے کمزور کرنا چاہتا ہے۔ کہیں ہمیں رنگ و نسل کے نام پر لڑایا جاتا ہے تو کہیں جغرافیائی حدود کے نام پر نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا دعویٰ تبھی سچا ثابت ہو سکتا ہے جب ہم ان تمام مصنوعی دیواروں کو گرا دیں جو ہمیں ایک دوسرے سے دور کرتی ہیں۔

    ​ایک صحافی اور قلم کار کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ میں معاشرے میں پھیلے ان تضادات کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کروں۔ ہماری تحریریں معاشرے کو جوڑنے کا سبب ہونی چاہئیں نہ کہ توڑنے کا۔ جب ہم ایک مقصد ایک پرچم اور ایک نظریے کے تحت متحد ہوتے ہیں تو کفر کی باطل قوتیں ہمیں نقصان پہنچانے سے قاصر رہتی ہیں۔

    ​سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے لیے صرف عددی برتری کافی نہیں بلکہ کردار کی پختگی اور مقصد سے لگن ضروری ہے۔ اس کے لیے درج ذیل تین بنیادیں ناگزیر ہیں:
    ​نظریاتی ہم آہنگی: ہمارے درمیان اتحاد کی بنیاد مادی فائدہ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی اور نظریاتی مقصد ہونا چاہیے۔
    ​ایثار و قربانی: بنیان مرصوص کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ ہمیں بھی ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر اپنے مفاد کی قربانی دینی ہوگی۔
    ​اندرونی استحکام: عمارت تبھی گرتی ہے جب اس کے اندر دراڑیں پڑ جائیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجود انتشار پسند عناصر پر نظر رکھنی ہوگی اور باہمی مکالمے کے ذریعے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا۔

    ​میرے وطن خاص طور پر بلوچستان کی مٹی نے ہمیشہ بہادری اور وفاداری کی داستانیں رقم کی ہیں۔ یہاں کی ثقافت، زبانیں اور روایات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن دکھ سکھ ایک ہیں۔ جب ہم اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں یا ترقی کے خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری طاقت صرف اتحاد میں ہے۔ اگر ہم بکھر گئے تو ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے اور اگر جڑ گئے تو وہ چٹان بن جائیں گے جس سے ٹکرا کر لہریں پاش پاش ہو جاتی ہیں۔

    ​”ہم بنیان مرصوص ہیں” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہےاپنے آپ سے اپنے وطن سے اور اپنے خالق سے۔ یہ عہد ہے کہ ہم مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گے، ہم اپنی صفوں میں اتحاد کا سیسہ پلائیں گے اور کسی بھی بیرونی سازش کو اپنی یکجہتی میں دراڑ نہیں ڈالنے دیں گے۔
    ​آئیے! آج ہم یہ عزم کریں کہ ہم اپنی تحریروں، اپنے عمل اور اپنی سوچ سے اس دیوار کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ جب تک ہم ایک ہیں، ہم ناقابل شکست ہیں۔ ہماری بقا، ہماری ترقی اور ہماری پہچان صرف اور صرف اسی "بنیان مرصوص” کی صفت کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔

  • ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر: عظمی نایاب

    ہم بنیان المرصوص ہیں ،تحریر: عظمی نایاب

    بنیان المرصوص عربی زبان کا خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار یہ اصطلاح قران مجید سے لی گئی ہے جہاں اللہ تعالی فرماتا ہے
    بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں،

    ہم سب بنیان المرصوص ہیں یہ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان متحد ہوں حق پر چلنا انتہائی دشوار مرحلہ ہے لیکن حق پر رہتے ہوئے باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا مسلمانوں کی ایمانی طاقت ہے اسباب کی پرواہ کیے بغیر طویل لشکر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کو پاش پاش کر دینے کا حوصلہ مسلمان میں موجود ہے کیونکہ ہمارا دین ہمیں اتحاد کا درس دیتا ہے محبت کا درس دیتا ہے غزوہ بدر میں مسلمان بہت قلیل تعداد میں دشمن کے سامنے موجود تھے بہت کم ہتھیار لیکن ایمان کی دولت سے مالا مال اور اس دولت کے ہوتے ہوئے حق کو کوئی نہیں ہرا سکتا

    قران مجید میں ارشاد ہے
    حق اگیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے کے لیے ہے،
    کربلا کے میدان میں اس کی ایک اور مثال پیش کی گئی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی جس کا بول بالا رہے گا جس کا علم ہمیشہ بلند رہے گا بے شمار ہتھیار بھاری نفری طاقت کے غرور میں چور باطل اور ان کے سامنے نواسہ رسول حضرت امام حسین اور ان کا اہل و عیال ایک بار پھر ایمان کی طاقت باطل کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ایک ایسی دیوار جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے مستحکم کرتی ہے سہارا دیتی ہے گرنے نہیں دیتی تاریخ گواہ ہے کہ اج بھی حسین رضی اللہ کی قربانی زندہ ہے اور باطل مٹ چکا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخوت کے جذبے میں مسلمان کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا تھا یہ بنیان المرصوص ہی تھا کہ ایک بھائی دوسرے کا سہارا بنے
    علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے
    فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

    جب جب دشمن نے اپنے ناپاک عزائم ہم پر مسلط کرنا چاہے ہماری قوم نے یک جان ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا ہم ہیں بنیان المرصوص ہمارا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ ہم ایمان اتحاد محبت یگانگت اور اپنی روایات پر عمل پیرا ہے ہمارا دشمن یہ جان چکا ہو گا کہ ہمیں ہرانا محض اس کا ایک خواب ہی رہ جائے گا ہمارا ایک ایک بچہ جوان اس ملک کا دفاع کرنا اپنا ایمانی تقاضا قرار دیتا ہے دشمن چاہے داخلی ہو یا خارجی ہمیں ہر سطح پر اس کو ہرانا ہے ایک قوم بن کر ہر شر پسندی کا مقابلہ کرنا ہے چاہے وہ میدان جنگ ہو یا قدرتی افات ہمارے ہر جوان اور بچے نے ہر موقع پر یکجا ہو کر ملک کی خدمت کی ہے زلزلہ ہو یا سیلاب ہر ازمائش میں قوم کو تنہا نہیں چھوڑا ہماری مثال اس جسم کی سی ہے کہ جس کا ایک حصہ اگر تکلیف میں مبتلا ہو تو پورا جسم اس کو محسوس کرتا ہے کیونکہ ہم بنیان المرصوص ہیں

    اج کل کے دور میں معرکہ حق کی صورتیں بدل چکی ہیں کردار بدل چکے ہیں اب جنگ میدانوں سے نکل کر فکر کی جنگ ہے اخلاق کی جنگ ہے تعلیم کی جنگ ہے جھوٹ نفرت نہ انصافی کی جنگ ہے ہمیں ہمیشہ کے لیے بنیان المرصوص بننے کی ضرورت ہے نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اگر نوجوانوں میں ایمان شعور علم اور کردار پیدا ہو جائے تو قوم ترقی کی بلندیوں کو چھو لیتی ہیں اج کے نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا ہوگا سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے نکلنا ہوگا اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا آج ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم صرف نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنی عملی طور پر خدمات انجام دیں اپنے کردار کو بہتر بنائیں اور اپنے دین کی اصل تعلیمات کو اپنائیں کیونکہ ایک مضبوط قوم صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اعلی اخلاق اور اتحاد سے بنتی ہے معرکہ حق کبھی ختم نہیں ہوتا ہر دور میں حق اور باطل نئے انداز میں سامنے اتے رہتے ہیں
    شاعر نے کیا خوب کہا ہے

    ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
    نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

    ہر دور میں اہل حق کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا ہوگا اگر اخلاص کے ساتھ اگے بڑھا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی ہم بنیان المصوص ہیں یہ ذہن میں رکھتے ہوئے جب قوم متحد ہوتی ہیں اور حق پر ڈٹ جاتی ہیں اللہ پر یقین رکھتی ہیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی شکست دے سکتی ہیں ہمیں اپنے اندر صبر برداشت اور محبت کو تشکیل دینا ہوگا اللہ تعالی ہمیں حق کو پہچانے اور اس پر قائم رہنے اور بنیاد المصوص بننے کی توفیق عطا فرمائے امین

  • ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: انیسہ عامر

    ہم بنیان مرصوص ہیں،تحریر: انیسہ عامر

    کائنات کی وسعتوں میں جب پہلا حرفِ "کُن ” گونجا ہوگا ۔ تو مٹی کے اس ڈھیر نے شاید یہ نہ سوچا ہوگا کہ اسے کسی بلند مقصد کی اینٹ بننا ہے۔ وجود کی اس لامتناہی بے ترتیبی میں انسان کا ظہور محض ایک مادی واقعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی اجتماعیت کا نقطۂ آغاز تھا۔
    لفظ بنیان مرصوص کی گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فرد کی حیثیت ایک قطرے کی سی ہے۔ جو تنہا ہو تو تپتے ہوئے صحرا کی ریت میں گم ہو جاتا ہے، لیکن اگر یہی قطرہ سمندر کے وجود میں ڈھل جائے تو لہروں کا تلاطم بن کر چٹانوں کے جگر پاش پاش کر دیتا ہے۔ بنیانِ مرصوص محض ایک لفظ نہیں،
    یہ ایک فلسفہ ہے۔ ایک ایسی دیوار کا نقشہ جس میں ہر اینٹ دوسری اینٹ کا سہارا ہے۔ جہاں دراڑیں پڑنا وجود کے خاتمے کی تمہید ہوتی ہیں اور استحکام، بقا کی پہلی شرط۔

    جب ہم ” بنیانِ مرصوص” کہتے ہیں، تو ہم اس سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا تذکرہ کرتے ہیں جس کے اجزاء اپنی انفرادیت کو ایک بڑے مقصد کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ عشق کی بھٹی میں تپ کر، خودی کے سانچے میں ڈھل کر،جب روحیں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی ہیں۔ تو وہ گوشت پوست کا انبار نہیں رہتیں، بلکہ ایک ناقابلِ شکست حصار بن جاتی ہیں۔

    تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی نظریات کی بنیادیں کھوکھلی ہوئیں، تہذیبوں کے محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ رومی، یونانی اور بازنطینی سلطنتیں اپنی مادی قوت کے باوجود اس لیے مٹ گئیں کیونکہ ان کے ڈھانچے میں وہ باہمی پیوستگی نہ تھی جو اسے ” بنیانِ مرصوص” بناتی۔ اس کے برعکس، صحرائے عرب سے اٹھنے والی وہ لہر جس نے قیصر و کسریٰ کے ایوانوں کو لرزا دیا، وہ محض تلواروں کی چمک نہ تھی، بلکہ اس فکر کا کرشمہ تھا جس نے کالے کو گورے پر، اور عربی کو عجمی پر فوقیت دینے کے بجائے تقویٰ اور اتحاد کو بنیاد بنایا۔وہاں کوئی اجنبی نہ تھا،وہاں کوئی دوسرا نہ تھا۔ سب ایک ہی تسبیح کے دانے تھے۔ جن کا مرکز ایک،جن کا رخ ایک،جن کی منزل ایک۔

    آج کا دور مادیت پرستی کا وہ طوفان ہے جہاں انسان اپنی شناخت کی تلاش میں خود کو دوسروں سے کاٹ رہا ہے۔ ہم نے انفرادی کامیابی کو تو معراج سمجھ لیا، لیکن یہ بھول گئے کہ اکیلا درخت کبھی جنگل نہیں بن سکتا۔ ہماری فکر آج حصاروں میں قید ہے۔ ہم نے فرقوں کی، رنگوں کی، اور نسلوں کی دیواریں تو کھڑی کر لیں، مگر وہ دیوار نہ بنا سکے جو دشمن کے سامنے سدِ سکندری بنتی۔

    فلسفہِ وجودیت کے پیروکار جب یہ کہتے ہیں کہ "دوسرا جہنم ہے”۔ تو وہ اس عظیم وحدت کی نفی کرتے ہیں جو بنیانِ مرصوص کی جان ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے لیے آئینہ نہ بنیں، اگر ہم ایک دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیں، تو معاشرہ ریت کے اس ڈھیر کی مانند ہو جاتا ہے جسے ہوا کا ایک معمولی جھونکا اڑا لے جاتا ہے۔
    آؤ کہ آج ہم، اپنے وجود کی کرچیوں کو سمیٹیں، اور ان کو ارادے کی آنچ پر پگھلائیں۔ نفرتوں کے ملبے سے نکل کر، محبتوں کی ایک ایسی دیوار اٹھائیں ۔ جس کی بنیادیں زمین کی گہرائیوں میں ہوں، اور جس کے کنگرے ستاروں سے باتیں کریں۔ ہم بنیانِ مرصوص ہیں، ہم وہ آہنی زنجیر ہیں، جس کی ہر کڑی ایک عہد ہے، جس کا ہر موڑ ایک گواہی ہے۔ ہم بکھرنے کے لیے نہیں،بلکہ کائنات کو تسخیر کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔

    بنیانِ مرصوص بننے کے لیے صرف ظاہری اتحاد کافی نہیں، اس کے لیے باطنی ہم آہنگی ضروری ہے۔ جب تک فکر کی گہرائیوں میں ہم ایک نہیں ہوں گے، ہماری صفوں میں خلل رہے گا۔ یہ ایک ایسی بلند فکری سطح ہے،جہاں انا کا بت پاش پاش ہو جاتا ہے۔ جہاں ” میں” مر جاتی ہے،اور ” ہم” کا جنم ہوتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر کی بصیرت اور سپاہی کی ہمت یکجا ہو جاتی ہے۔ جہاں قلم کی نوک اور تلوار کی دھار ایک ہی منزل کی سمت اشارہ کرتی ہیں۔

    آج کے دور میں بنیانِ مرصوص بننے کا مطلب صرف میدانِ کارزار میں کھڑے ہونا نہیں، بلکہ فکری محاذ پر بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہے۔ علم کی روشنی وہ سیمنٹ ہے جو انسانیت کی اینٹوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔
    اگر فکر آزاد نہ ہو،اگر سوچ پابندِ سلاسل ہو، تو وہ دیوار کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنے شعور کو ان بلندیوں تک لے جانا ہوگا جہاں ہمیں یہ ادراک ہو کہ ہماری بقا ہماری وحدت میں ہے۔ دشمن ہمیں مٹانے کے لیے ہماری صفوں میں دراڑیں ڈھونڈتا ہے، لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری جڑیں اس مٹی کے ضمیر میں پیوست ہیں۔

    بنیانِ مرصوص ہونا ایک دائمی عمل ہے۔ یہ کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں، بلکہ لمحہ لمحہ خود کو تعمیر کرنے کا نام ہے۔ جب ہم اپنی خواہشات کو اجتماعی مفاد پر قربان کرتے ہیں، جب ہم اپنے بھائی کی تکلیف کو اپنی آنکھ کا آنسو سمجھتے ہیں، تب ہم اس عظیم عمارت کا حصہ بنتے ہیں جسے وقت کا سیلاب بھی نہیں بہا سکتا۔ ہم وقت کی پیشانی پر لکھا ہوا،وہ حرفِ حق ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔ ہم وہ چٹان ہیں، جس سے ٹکرا کر لہریں پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ ہم وہ سکون ہیں، جو طوفان کے مرکز میں ہوتا ہے۔

    آخری بات یہ کہ ” بنیانِ مرصوص” ہونا صرف ایک عزم نہیں، بلکہ ایک تقاضا ہے۔ وہ تقاضا جو ہم سے ہماری بہترین صلاحیتوں کا نچوڑ مانگتا ہے۔ آسمان کے نیلے پن سے لے کر،زمین کی سیاہی تک،جہاں جہاں حق کی آواز گونجے گی۔ وہاں ہم کھڑے ہوں گے،ایک ایسی دیوار بن کر، جسے پار کرنا ناممکن ہے۔ جسے ڈھانا محال ہے، کیونکہ ہم بنیانِ مرصوص ہیں۔

  • ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:اقصیٰ جبار

    ہم بنیان مرصوص ہیں ،تحریر:اقصیٰ جبار

    قرآنِ کریم کی سورہ الصف کی آیت نمبر 4 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: *”بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بنیان مرصوص) ہوں۔”* یہ اصطلاح "بنیان مرصوص” محض ایک مادی دیوار کی عکاسی نہیں کرتی، بلکہ یہ اس فولادی اتحاد، یکجہتی اور ایمانی قوت کا استعارہ ہے جو کسی بھی قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا دیتی ہے۔ "ہم بنیان مرصوص ہیں” کا نعرہ درحقیقت اس عہد کی تجدید ہے کہ جب حق اور باطل کا معرکہ درپیش ہو تو اہل ایمان کے درمیان کوئی دراڑ، کوئی رنگ و نسل کا فرق اور کوئی لسانی عصبیت حائل نہیں ہو سکتی۔

    اسلام کی پوری عمارت ہی توحید اور وحدت پر قائم ہے۔ ایک اللہ، ایک رسول اور ایک قبلہ کی بنیاد پر جو معاشرہ تشکیل پاتا ہے، اس کی اصل طاقت اس کا باہمی اتحاد ہے۔ "بنیان مرصوص” وہ دیوار ہوتی ہے جس کی اینٹوں کے درمیان کوئی خلا باقی نہ رہے۔ جب مومنین کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور ان کے مقاصد ایک ہو جاتے ہیں، تو وہ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی طاقت کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان اس صفت سے متصف رہے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں مغلوب نہ کر سکی۔
    آج کے دور میں جب باطل طاقتیں نت نئے طریقوں سے اہل حق پر حملہ آور ہیں، "بنیان مرصوص” بننا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ معرکہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ یہ نظریاتی، معاشی اور علمی میدانوں میں بھی برپا ہے۔ دشمن کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ صفوں میں انتشار پیدا کرے، فرقہ واریت کو ہوا دے اور گروہ بندیوں کے ذریعے ہمیں کمزور کرے۔ ایسے میں ہمارا یہ اعلان کہ "ہم بنیان مرصوص ہیں” اس بات کا ثبوت ہونا چاہیے کہ ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کو پس پشت ڈال کر ایک عظیم مقصد کے لیے متحد ہیں۔
    جس طرح سیمنٹ اینٹوں کو جوڑتا ہے، ایمان مومنین کے دلوں کو جوڑتا ہے۔
    اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینا ہی وہ مادہ ہے جو گروہ کو ایک جان بناتا ہے۔
    صف بستہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنے قائد اور نظام کے تابع ہیں۔

    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ مسلمان آپس میں جسم کی طرح ہے جس کے ایک حصے میں تکلیف سے تمام جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔”
    موجودہ عالمی تناظر میں، جہاں انسانیت سسک رہی ہے اور اہل حق کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری ہیں، ہمیں اپنے اندر وہی تڑپ پیدا کرنی ہوگی جو صحابہ کرام کے دور میں تھی۔ "بنیان مرصوص” بننے کا مطلب یہ ہے کہ اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم اسے محسوس کرے۔ مظلوموں کی پکار پر لبیک کہنا اور ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا ہی اصل بندگی ہے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ "بنیان مرصوص” بننا محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک شرعی مطالبہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معرکہ حق میں سرخرو ہوں اور اللہ کی محبت کے حقدار بنیں، تو ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں رنگ، نسل، زبان اور فرقے کے بتوں کو پاش پاش کر کے ایک ایسی دیوار بننا ہوگا جسے وقت کا کوئی طوفان نہ گرا سکے۔ ہماری بقا، ہماری عزت اور ہماری کامیابی صرف اور صرف "بنیان مرصوص” بننے میں ہی پنہاں ہے۔
    بقول حضرت اقبال
    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
    نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر