Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    جھیل نیل فیری ، قدرت کا انمول تحفہ،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کہوٹہ میں واقع جھیل نیل فیری، جسے نیل فری بھی کہا جاتا ہے، قدرتی حسن کا ایک ایسا شاہکار ہے جو اپنی دلکشی سے ہر آنے والے کو مسحور کر دیتا ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ جھیل سرسبز گھاس زاروں، ٹھنڈی ہواؤں اور دل موہ لینے والے مناظر سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں سے پیر پنجال کی برف پوش چوٹیاں اور وادی کیرن کے سحر انگیز نظارے دیکھنے والوں کو ایک الگ ہی دنیا میں لے جاتے ہیں۔

    تاہم اس بے مثال خوبصورتی تک پہنچنے کا سفر ابھی بھی خاصا دشوار اور بعض مقامات پر خطرناک ہے۔ سڑکوں کے کناروں پر حفاظتی بیریئرز کی کمی اور دشوار گزار راستے سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اگر حکومت ان سڑکوں کی بہتری، کناروں پر مضبوط حفاظتی بیریئرز کی تنصیب اور راستوں کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائے تو یہ سفر زیادہ محفوظ اور پُرسکون ہو سکتا ہے۔

    اسی طرح سیاحوں کے لیے ریسٹ ہاؤسز، واش رومز، صاف پانی، طبی امداد اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اس علاقے کی کشش میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ چونکہ جھیل تک پہنچنے کے لیے سفر کا ایک حصہ جیپوں کے ذریعے طے کرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر حکومت یا متعلقہ ادارے منظم جیپ سروس، پارکنگ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کریں تو نہ صرف سیاحوں کو آسانی ہوگی بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

    سیاحت کسی بھی علاقے کی معیشت میں جان ڈال سکتی ہے۔ نیل فیری جیسے قدرتی خزانوں پر توجہ دے کر نہ صرف آزاد کشمیر میں سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ علاقہ قدرت کے حسن سے مالا مال ہے؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کی خوبصورتی کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے بہتر منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ یہ خوابیدہ جنت حقیقی معنوں میں ایک مثالی سیاحتی مرکز بن سکے۔

  • تبصرہ کتب،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    تبصرہ کتب،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات

    عبدالمالک مجاہد کی کتاب ’’ سیرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ‘‘ یہ کتاب دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے آرٹ پیپرپر ، دیدہ زیب سرورق اور چہار رنگ کے ساتھ شائع کی ہے ۔ 313عنوانات مشتمل یہ کتاب مختصر ہونے کے ساتھ اس قدر جامع ہے کہ سیدنا عثمان کی بیاسی سالہ زندگی کے تمام پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ کتاب میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ، القاب ، ولادت ، حلیہ مبارک ، قبول اسلام ، نکاح، اولاد ، بیٹے ، بہنیں ، ماں جائے بھائی ، ماں جائی بہنیں ، ایام جاہلیت میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ ، تاریخ وانساب پر آپ کا عبور ، اعلیٰ اخلاق ، قریش میں اہمیت ، ہجرت حبشہ ، قرآن کریم کے ساتھ تعلق ، حفظ ِ قرآن کا اہتمام ، کثرت تلاوت ، قرآن کریم کی نشرواشاعت کے لئے خدمات ، سیدنا عثمان اور غزوہ بدر ، مدینہ منورہ کے قائم مقام گورنر کی حیثیت سے خدمات، غزوہ احد میں شرکت ، بیعت رضوان ، حدیبیہ کے میدان میں بیعت ، تین مرتبہ بیعت کرنے کااعزاز ، غزوہ تبوک میں شرکت ، غزوہ تبوک کے لشکر کے لئے بیمثال تعاون ، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے شادی ، بئر رومہ کی خریداری اور مسلمانوں کے لئے وقف ، مسجد نبوی کی توسیع ، جنت کی بشارت ، خلعت ِ خلافت کی خوشخبری ، اللہ کے رسول کی جدائی کا غم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں رائے ، شرم وحیا کے پیکر ، عہد صدیقی میں معاشی بحران حل کرنے میں کردار ، عہد عمرفاروق میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمات ، امہات المئومنین کے ساتھ حج کی سعادت ، آپ کی رحمدلی ، انتخاب خلیفہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فراست ، بطور خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ کا انتخاب ، طرز حکومت ، صحابہ کے ہاں مقام ومرتبہ ، خطوط ، حکام بالاکے لئے ہدایات ، مجلس شوریٰ کی تشکیل ، خود کواحتساب کے لئے پیش کیا ، سیدنا عثمان اور قرآن ، اخلا ص اور تقوی ، بے مثال حلم عفو ودرگز ، عالی ظرفی اور فراخ دلی ، تواضع اورعجزوانکسار ، حیاداری ، فخر ومباہات سے اجتناب ، جودوسخا، حرمت خلافت کے لئے جان کی قربانی ، مسلمانوں کے لئے آسانیاں ، حرم کعبہ کی توسیع ، جمعہ کے معمولات ، شکر وسپاس اور قدر شناسی ، عذاب قبر کا خوف ، تواضع ، غلاموں کے لئے وظائف ، لوگوں کی خبر گیری ، اراضی الاٹ کرنے کے لئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی ،آپ کے دور خلافت میں سرکاری چراگاہیں ، بطور خلیفہ آپ کے اخراجات ، پہلا اسلامی بیڑے کی تیاری، بندرگاہ کی شیعبہ سے جدہ منتقلی ،شاہرائوں کے اطراف میں کنوئوں کی کھدائی ، سپاہیوں کی تنخواہوں میں اضافہ ، پولیس کا شعبہ ، فتوحات ، رومیوں کو عبرتناک شکست ، بطور سپہ سالار ، تدوین قرآن ، صوبوں میں ارسال کردہ صحیفوں کی تعداد ، رعیت کی اصلاح کیلئے اقدامات ، اپنے پیاروں کے ساتھ بھی انصاف ، امرا اور گورنروں کے نام خطوط ، کھانے میں سادگی ، عجز انکسار ، قلعوں کی تعمیر ، خلافت عثمانی میں مدینہ منورہ ، آخری خطاب ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دشمن کون تھے ؟ عوام الناس کے نام کھلا خط ، شرپسندوں کی مدینہ آمد ، مخالفین کو قتل کرنے سے انکار ، سبائیوں پر اتمام حجت ، فتنوں پروروں کا مدینہ پر قبضہ ، شرپسندوں سے مذاکرات ، فتنہ کیسے پیدا ہوا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور محاصرہ کرنے والوں کے مابین مذاکرات ، فتنہ پروروں کے سرغنے کون تھے ؟ باغیوں سے خطاب ، اجل صحابہ سے رابطہ ، مظلوم ِ مدینہ منورہ ، عزیمت کے چالیس دن ، شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، آخری رات نبی ﷺ کی زیارت ، آخری دن قرآن کی تلاوت ، قاتلوں کاآخری حملہ ، جسد خاکی ، نماز جنازہ اور کفن دفن ۔یہ کتاب ان تمام موضوعات کااحاطہ کئے ہوئے ہے ۔ اس کتاب میں قارئین سیدنا عثمان بن عفان کی فضلیت اور منقبت کے حوالے سے دیگر بہت سارے واقعات پڑھیں گے ۔ اس کتاب میں جہاں سیدنا عثمان کے دور کے جرنیلوں کے حالات سے قارئین کو آگاہی ہوگی ، وہاں یہ بھی اندازہ ہوگاکہ ان کے دور میں لاکھوں مربع میل کا رقبہ مسلمانوں کی حکومت میں شامل ہوتا ہے ۔ ان کے تمام کارناموں کی تفصیل اس کتاب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تاریخ کی بیشمار کتب میں موجود واقعات اس کتاب میں جمع کردیے گئے ہیں ۔ اس کتاب میں چہار کلر نقشے بھی شامل ہیں ۔اور پوری کوشش کی گئی ہے کہ کتاب میں بیان کردہ تمام واقعات درست اور صحیح ہوں ۔ کتاب 113گرام کے نہایت اعلی پیپر پر شائع کی گئی ۔
    کتاب کی قیمت 4000روپے ہے ۔ یہ کتاب درارلسلام کے مرکزی شوروم لوئر مال نزدسیکرٹریٹ سٹاپ دستاب ہے ۔ یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مٹی کے انسان کا تکبر اور قوم کا زوال عہدے فانی ہیں، کردار امر ہے

    غرور کے محل اور خدمت کے اجڑے راستے جب حکمران عوام سے دور ہو جائیں

    تکبر کی سیڑھی زوال کی منزل قوم کو رہنما چاہیے حاکم نہیں اقتدار امتحان ہے انعام نہیں

    تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ بات آج بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر انسان، بالخصوص سیاست کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا انسان، غرور اور تکبر کس بنیاد پر کرتا ہے؟ وہ سیاستدان جو تحصیل کی سطح سے لے کر قومی سطح تک عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ بیوروکریٹ جو ریاستی امور کے نگران ہیں، اور وہ لوگ جو خود کو ممتاز رہنما یا ممتاز شخصیت کہلوانا پسند کرتے ہیں، آخر وہ کس چیز پر فخر کرتے ہیں؟ اگر غرور کرنا ہی ہے تو اپنے کردار پر کریں، اپنی دیانت داری پر کریں، اپنی خدمتِ خلق پر کریں، اپنے اخلاق پر کریں۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاسی ماحول میں کردار سازی کے بجائے کردار کشی کو فروغ دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، لٹیرا اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازنا معمول بن چکا ہے۔ کئی دہائیاں گزر گئیں، لیکن قوم کے کانوں میں یہی الزامات گونجتے رہے ہیں۔

    میری عمر کا ایک بڑا حصہ ان سیاسی مناظر کو دیکھتے اور سنتے ہوئے گزرا ہے۔ چالیس برس سے زائد عرصے میں یہی سننے کو ملا کہ فلاں نے خزانہ لوٹ لیا، فلاں ملک کو نقصان پہنچا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب ہی چور ہیں تو پھر عوام کے مسائل کون حل کرے گا؟ اگر تمام توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف ہوں گی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا؟ آج عوام بنیادی مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ گیس کا بحران، بجلی کی قلت، پانی کی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بے شمار مسائل عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن تو جمہور کی خدمت میں ہے،لیکن افسوس کہ خدمت کے بجائے اقتدار کی کشمکش نے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اقتدار کی کرسی کوئی دائمی شے نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا بھی ہے اور امتحان بھی۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی حیثیت، طاقت یا عہدہ ہمیشہ اس کے پاس رہے گا، وہ تاریخ کے آئینے میں اپنا انجام دیکھ لے۔ دنیا گواہ ہے کہ غرور اور تکبر نے بڑے بڑے تاجداروں کو مٹی میں ملا دیا۔ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی میں لوٹ جانا ہے، پھر یہ تکبر کس بات کا؟

    بدقسمتی سے اقتدار کے اردگرد خوشامدیوں کا ایک ہجوم بھی جمع ہو جاتا ہے۔ یہی خوشامد کرنے والے لوگ انسان کو حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ وہ اسے اس کی کمزوریاں نہیں بتاتے بلکہ اس کے غرور کو مزید بڑھاتے ہیں۔ حالانکہ سچا خیرخواہ وہ ہے جو آئینہ دکھائے، نہ کہ وہ جو تعریفوں کے پل باندھ کر انسان کو حقیقت سے بے خبر کر دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان، بیوروکریٹ اور تمام بااثر طبقات اپنے اندر جھانکیں۔ وہ سوچیں کہ تاریخ ان کے عہدوں کو نہیں، ان کے کردار کو یاد رکھے گی۔ لوگ ان کی گاڑیوں، لباسوں اور پروٹوکول کو نہیں، بلکہ ان کی خدمت، انصاف اور دیانت کو یاد رکھیں گے۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کا راستہ غرور اور تکبر سے نہیں بلکہ عاجزی، خدمت اور کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔ عوام کی مشکلات کو اپنا مسئلہ سمجھنا، کمزور کی آواز بننا اور ریاستی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر ادا کرنا ہی اصل قیادت ہے۔ کاش ہمارے صاحبانِ اقتدار یہ حقیقت سمجھ لیں کہ عزت کرسی سے نہیں، کردار سے ملتی ہے؛ اور جو عزت کردار سے ملتی ہے، اسے نہ وقت چھین سکتا ہے اور نہ تاریخ فراموش کر سکتی ہے۔

  • خواب لئے پھرتا ہوں….دلاورچودھری کے خواب سب کے لئے

    خواب لئے پھرتا ہوں….دلاورچودھری کے خواب سب کے لئے

    روزنامہ نوائے وقت پاکستان کی صحافتی تاریخ کا ایک معتبر اور درخشاں باب ہے، جو دو قومی نظریے کے فروغ اور قومی تشخص کے تحفظ کا علمبردار ہے،نوائے وقت اخبار مظلوم کشمیریوں کی آواز بن کر ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔ وطنِ عزیز کے خلاف سازشوں اور ملک دشمن عناصر کے مقابلے میں نوائے وقت ہمیشہ جرأت و استقامت کے ساتھ صف آرا رہا ہے، اس کے صفحات پر شائع ہونے والی تحریریں حب الوطنی، قومی غیرت اور پاکستان سے والہانہ محبت کی روشن ترجمانی کرتی ہیں،نوائے وقت کے چیف نیوز ایڈیٹر،ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین،سینئر صحافی دلاور چودھری ایک ایسا معتبر اور روشن نام ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو شعور، فکر اور آگہی کی شمع بنا رکھا ہے، ان کی تازہ تصنیف "خواب لیے پھرتا ہوں” کا پہلا ایڈیشن منظرِ عام پر آ چکا ہے، جو دراصل ان کی فکری ریاضت، علمی جستجو اور صحافتی تجربات کا نچوڑ ہے،کتاب کا انتساب انہوں نے اپنے والدین کے نام کیا ہے، جو ان کی شخصیت کے جذباتی اور روحانی پہلو کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ دلاور چودھری لکھتے ہیں کہ وہ بیس برس کی عمر میں کان پر قلم رکھ کر صحافت کے خارزار میں اترے تھے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کی "صحافتی آوارہ گردی” کا سفر جاری ہے؛ وہ آج بھی نگری نگری پھرتے ہیں، علم و آگہی کی تلاش میں ہر اجنبی سے گویا گھر کا پتہ پوچھتے ہیں۔ان کے بقول صحافت ان کا پیشہ ہے مگر کتاب ان کا عشق، یہی عشق ان کے کالموں میں پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتا ہے۔

    "خواب لیے پھرتا ہوں” میں شامل 83 کالم ایک حساس اور بیدار ذہن کے وہ خواب ہیں جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے۔ ان صفحات میں بے شمار کتابوں کا تعارف سمویا گیا ہے، حتیٰ کہ اگر ان تمام کتابوں کو یکجا کر دیا جائے تو ایک معیاری لائبریری وجود میں آ سکتی ہے، ان میں متعدد ایسی نایاب تصانیف بھی شامل ہیں جو پاکستان میں آسانی سے دستیاب نہیں،دلاور چودھری کی کتاب خواب لیے پھرتا ہوں‌ پر ملک کی نامور علمی و صحافتی شخصیات نے اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کے مطابق دلاور چودھری کے کالم معنویت، گہرائی اور تحقیقی بصیرت کے اعتبار سے منفرد ہیں۔ وہ سطحی گفتگو کے بجائے تاریخ، جغرافیہ اور عالمی سیاست کے پس منظر میں مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے نزدیک ان کی تحریروں میں بین الاقوامی دانش کی جھلک نمایاں ہے اور وہ دنیا کے تجربات سے سیکھ کر معاشرتی مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔

    سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ نے اس کتاب کو فقر، درویشی اور انکساری کا پیغام قرار دیا ہے، جبکہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) سید احمد ندیم قادری (تمغۂ امتیاز) کے مطابق دلاور چودھری کے کالم نوجوان نسل میں مطالعے اور کتب بینی کا شوق بیدار کرتے ہیں۔ سینئر صحافی وکالم نگار،نوائے وقت کے ایڈیٹوریل ہیڈ ادیب سعید آسی نے انہیں تاریخ و ادب کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کالم مستند حوالوں اور وسیع المطالعگی کا شاہکار ہیں، قیوم نظامی، راؤ منظر حیات، حاجی محمد نواز رضا اور علامہ عبدالستار عاصم نے بھی کتاب کی فکری و ادبی اہمیت کو سراہا ہے۔

    دلاور چودھری سے جب بھی ملاقات ہو، علم و محبت کی محفل چائے کی خوشبو کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ان کی گفتگو میں کتابوں کی مہک، تاریخ کی گہرائی اور انسان دوستی کی حرارت محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہ علم، تحقیق اور مطالعے کی ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہیں،اپنے گھر میں بنائی گئی لائبریری کے دورےکی دعوت بارہا مل چکی اب اسے بھی قبول کرنے کا وقت آ گیا ہے،کتاب قلم فاؤنڈیشن نے شائع کی ہے، قیمت 2500 روپے درج ہے تاہم رعایتی قیمت 1500 روپے ہے،

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر ،تحریر ۔ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    لاہور سے شیخوپورپ جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ، خصوصاً جناح ٹرمینل سے چلنے والی ویگنوں میں مسافروں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نہ صرف افسوسناک بلکہ انسانی وقار کی کھلی تذلیل ہے۔ روزانہ سینکڑوں مرد، خواتین، بزرگ، طلبہ اور مزدور ان ویگنوں میں ایسے سفر کرنے پر مجبور ہیں جیسے انسان نہیں بلکہ جانوروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہو۔ اوور لوڈنگ، من مانا کرایہ، خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی نے اس مسئلے کو ایک سنگین عوامی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

    جناح ٹرمینل لاہور بائی پاس سے شیخوپورہ جانے والی بیشتر ویگنوں میں “پھٹہ” کلچر عام ہو چکا ہے، یعنی گاڑی کی گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر ٹھونس دیے جاتے ہیں۔ سیٹوں پر گنجائش ختم ہونے کے بعد مسافروں کو درمیان میں بٹھایا جاتا ہے، شدید گرمی، حبس اور دھکم پیل کے ماحول میں یہ سفر کسی اذیت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ موٹر وے اور مرکزی شاہراہوں پر کھلے عام جاری ہے۔

    خواتین مسافروں کے مسائل اس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔ متعدد ویگن مالکان اور کنڈیکٹر خواتین کو فرنٹ سیٹ دینے سے انکار کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی سہولت اور تحفظ کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو غیر مناسب انداز میں تنگ سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے جبکہ بعض ڈرائیور حضرات فرنٹ سیٹ کو ذاتی پسند یا اضافی کمائی کے لیے مخصوص رکھتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ سماجی اقدار کے بھی منافی ہے۔

    کرایوں کا معاملہ بھی کسی کھلی لوٹ مار سے کم نہیں۔ سرکاری کرایہ نامہ ایک طرف پڑا رہتا ہے جبکہ ویگن مالکان اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں۔ بارش ہو، رش زیادہ ہو یا عید کا موقع، کرایہ فوری بڑھا دیا جاتا ہے۔ غریب آدمی جو روزانہ مزدوری یا ملازمت کے لیے سفر کرتا ہے، اس استحصالی نظام کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔

    سب سے اہم سوال National Highways and Motorway Police کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔ موٹر وے پولیس کا بنیادی مقصد محفوظ سفر کو یقینی بنانا، اوور لوڈنگ روکنا اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانا ہے، مگر لاہور شیخوپورہ روٹ پر صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ یا تو متعلقہ ادارے بے بس ہیں یا پھر بعض عناصر مبینہ “چمک” کے باعث خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اگر روزانہ درجنوں اوور لوڈ ویگنیں موٹر وے پر سفر کر رہی ہیں تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے یا طاقتور ٹرانسپورٹ مافیا کے لیے بھی؟

    یہ صورتحال National Highways and Motorway Police کے سربراہ، آئی جی موٹر وے پولیس کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اگر موٹر وے جیسے حساس اور جدید نظام پر بھی اوور لوڈنگ مافیا قابو پا لے تو پھر عام شہری کے اعتماد کا کیا بنے گا؟ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کب تک انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہ غیر قانونی کاروبار جاری رہے گا۔

    ماضی میں اوور لوڈنگ کے باعث ہونے والے ٹریفک حادثات نے کئی خاندان اجاڑے، مگر اس کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوئے۔ جب تک سخت کارروائی، مستقل نگرانی اور کرپٹ عناصر کا احتساب نہیں ہوگا، تب تک یہ مافیا مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موٹر وے پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی مشترکہ آپریشن کے ذریعے ان ویگنوں کے خلاف فوری ایکشن لے، سرکاری کرایہ ناموں پر عمل درآمد کروائے، خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کو یقینی بنائے اور اوور لوڈنگ میں ملوث ڈرائیوروں کے لائسنس معطل کیے جائیں۔

    یہ صرف ٹرانسپورٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی عزت، شہری حقوق اور قانون کی عملداری کا معاملہ ہے۔ اگر آج بھی متعلقہ ادارے حرکت میں نہ آئے تو کل کسی بڑے سانحے کے بعد صرف افسوس اور مذمتی بیانات باقی رہ جائیں گے۔ عوام اب عملی اقدامات چاہتے ہیں، وعدے نہیں۔راقم نے موٹر وے پولیس کا موقف لیا تو ان کا کہنا تھا ہم چلان کرتے لوگ باز نہیں آتے اور دوسری بات مہنگائی ہے مطلب یہ ہوا کہ ،،چمک کا کام کرگئی
    عوامی سہولیات کے پیش نظر آئی جی موٹر وے پولیس پنجاب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

  • آپ جو ہیں وہی کیوں نہیں رہتے؟تحریر ِ:   ظفر اقبال ظفر

    آپ جو ہیں وہی کیوں نہیں رہتے؟تحریر ِ: ظفر اقبال ظفر

    انسان کیا سے کیا بننے کی کوشش میں پریشان حال ہے یہ پریشان حال ختم کیوں نہیں کر دیتے اس سوچ کے ساتھ کہ اپنے آپ کو ایسے نمونے میں ڈھالنے کی کوشش چھوڑ ہی دی جائے جس کے لیے آپ بنے ہی نہیں۔اور اگر کسی مصنوعی ڈانچے میں ڈال بھی لیا تو کیا کوئی یہ نہیں جان پائے گاکہ آپ وہ ہیں نہیں جو بننے کی ادکاری کررہے ہیں اداکاری کی بجائے کردار سازی پر محنت کیجئے انمول و خوش حال ہو جائیں گئے۔تلخ تجربے سے بچنے والوں کے لیے نصیحت یہی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے آپ جیسے بھی ہیں ہمیشہ وہی رہیں۔انسانی وجود پر آفاقی اصول یہی ہے اسے تسلیم و عمل میں رکھیں اگر آپ وہ بنیں گئے جو آپ نہیں ہیں تو نفسیاتی اور اعصابی الجھنوں کا شکار ہو جائیں گئے خود کو بدقسمت سمجھنے والا شخص ہی وہ بننا چاہتا ہے جو وہ جسمانی و دماغی اعتبار سے ہے ہی نہیں۔
    شوبز کی دنیا میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو وہ سکرین پر نظر آتے ہیں حقیقت میں ویسے نہیں ہوتے۔عوام ان کے ایک روپ کا زائقہ چکھ چکے ہیں اب نئے روپ میں ڈھل رہے ہیں روپ بدلتے بدلتے اپنی حقیقت بہت پیچھے رہ جاتی ہے انہیں اپنے آپ کو پہچاننے کے قابل بنانا بھی اک زہنی علاج کا تقاضا کرتا ہے جو بھی اپنی زات کی حقیقت سے ہٹ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرئے گا وہ فطرت کے خلاف جا رہا ہے اب انسان بندر کی طرح نقل اتارکر کامیابی تو حاصل نہیں کر سکتانہ میاں مٹھو بننے سے کوئی فائدہ پہنچے گا۔جو بھی وہ بننے کی کوشش کر رہاہے جو وہ نہیں ہے تواسے جلدی علیحدہ کر دینا بڑا سودمند رہتا ہے کیونکہ نقل پانے کے عمل میں اصل کھو جاتا ہے۔

    دنیا کے بازار میں کتنے ہی ایسے لوگ پھرتے ہیں جو اپنے آپ کا پہچانتے ہی نہیں ریاکاری کا لبادہ اُڑھ کر صاف گو بننے کی اداکاری کرتے ہیں لیکن کھوٹے سکے سے مستقل کام نہیں چلتا۔ایک غریب گھر کی لڑکی گلوکارہ بننا چاہتی تھی مگر اس کا چہرہ رُکاوٹ بنا ہوا تھا اس کے چوڑے منہ سے لمبے لمبے دانت باہر نکلے ہوئے تھے وہ لوگوں کے سامنے گاتے وقت دلکش نظر آنے کے لیے اُوپر کا ہونٹ نیچے کھینچ کر دانت چھپانے کی کوشش کرتی تو گانے کی ترتیب بگڑ جاتی نتیجہ فنی ناکامی میں نکلتا۔ایک انسانی قدروں سے واقف شخص نے قیافہ شناسی سے ا سے کہا کہ تمہارے بننے میں تمہارا کوئی قصور نہیں شرمندگی کے احساس سے خودکو آزاد کرکے پورے جوش اور دھیان سے گاؤتمہارے دانت تمہاری قسمت کے معاون بن جائیں گئے اس نے مخلص مشورے پہ عمل کیا اوردیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی بلندیاں پا تے ہوئے فلموں اور ریڈیو کی چوٹی کی سٹار بن گئی۔انسانی کمزوریاں غیرمتوقع طور پر ہماری مدد کرتی ہیں۔
    اوسط درجے کے شخص اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کے دس فیصد حصے کو پروان چڑھاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور نہیں پہچان پاتے۔جو کچھ ہم ہیں اور جو کچھ ہمیں ہونا چاہیے ان دونوں پہلوؤں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم صرف نیم بیدار لوگ ہیں جو اپنی حدود سے بہت دُور نکل چکے ہیں جبکہ ہم مختلف قسم کی قوتوں کے مالک ہوتے ہیں ان انسانی قوتوں کو سمجھنے والا کبھی لوگوں کی مانند بننے میں وقت ضائع نہیں کرتاہر انسان اس دنیا میں نئی چیز ہے آغاز کائنات سے روز قیامت تک اس جیسا پیدا نہ ہوانہ ہوگا۔
    انسان میں تعجب خیز خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں منفی کو مثبت میں بدل دینے والی قوت موجود ہے۔ کسی بند کمرے کی کھڑکی سے زمین کے کیچڑ کو دیکھنے کی بجائے آسمان کے ستاروں بھی تودیکھے جا سکتے ہیں۔بہترین چیزیں انتہائی مشکل ضرور ہوتی ہیں مگر ناممکن نہیں۔

    ہر انسانی وجود زندگی کی سڑک پر چلتے ہوئے حالات کی گاڑیوں سے ٹکرائے بنا منزل پر نہیں پہنچ پاتامگر زخمی کر نے والے حادثات بھی ایک نئی سمت پر ڈال دیتے ہیں اور انسان نتیجہ دیکھ کر شکوئے کی بجائے شکر کرنے لگتا ہے۔صدمے اور افسردگی پر غالب آنے والوں کے لیے نئی دنیا میں داخل ہونا ہے جب میرے ساتھ ہوا تو میں مطالعے میں ادبیات عالیہ کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھنے لگاکتابوں نے نئی دنیا ؤں کے دروازے کھولے زندگی پرسکون، مسرت بخش،نئے ولولے اور جوش سے لبریز ہو گئی خیال کے نئے جہان مل گئے اپنی زندگی کو حقیقی تناظر میں دیکھنے اور قدروں کے صحیح احساس حاصل ہونے میں کامیابی ملی اور یہ اندازہ بھی ہوا کہ بہت سی چیزیں جن کے پیچھے میں بھاگا رہا وہ درحقیقت غیر اہم اور بے وقعت تھیں۔
    آپ کو گرانے کے لیے کھڈا کھودا گیااور آپ گر بھی گئے اب حاسدوں کو کوسنے اور خود کو ڈانٹنے کی بجائے اس کھڈے کوحکمت عملی اور دانائی کے اوزاروں سے اتنا گہرا کیجئے کہ زمینی خزانے آپ کا استقبال کریں یعنی حالات آپ کو نیبو دے تو زندگی کھٹی کرنے کی بجائے اس کا شربت بنائیے۔اندھا انسان شاعری کے زریعے آنکھوں والوں کو خیال کے رنگوں کی نشاندہی کروا سکتا ہے۔ایک بہرا آدمی موسیقی کی آفاقی دھنیں بنا سکتا ہے۔کتنے ہی ایسے تقدیر کی گاڑی تلے آئے اپاہج انسان اس دنیا میں موجود ہیں جن کی درخشاں حیات کے پیچھے عدم بصارت بہرا پن لولے لنگڑے جیسے اعضاء کی محرومی کے حادثات کا ہاتھ ہے کیا پتا شاید میرے ساتھ بھی کوئی حادثہ ہوا ہو جو دل کی گہرائیوں سے یہ پھڑ پھڑانے والے الفاظ ابھرتے ہوئے تحریر میں آجاتے ہیں۔
    اپنے اوپر ترس کھاکر پھولوں کی سیج کے آرزو مندبنے رہنے کی بجائے زہن سے خوف کا پردہ ہٹا کر ہمت کے ہتھیار سے وہ کانٹے کاٹ ڈالیے جو آپ کوپھولوں کی پنکھڑیوں پر خوشبودار بسیرے سے محروم رکھتے ہیں۔چھوٹے سے چھوٹا کام بھی پوری ایمانداری محنت اور اسلوب سے کرنے کا مزہ لیجئے مجھے ایک دفعہ بیوی کی غیر موجودگی میں گھر کے کام کرنے کا موقع ملا میں نے برتن دھوئے جس سے میرے وجود اند ر عجیب سا ہیجان برپا ہو گیا صابن کی رنگین روئیں دار جھاگ سے کھیلنے کا لطف اندوز نظارہ رونما ہو اصابن میں ہاتھ ڈبوتا تو چھوٹے چھوٹے بلبلوں کی گیندیں بن جاتیں انہیں اُٹھا کر روشنی میں دیکھتا ہر بلبلے میں چھوٹے پیمانے کی دھنک کے شوخ اور دلکش رنگوں نے دنیا ہی بھلا دی کچن کی کھڑی سے باہر دیکھا تو فضا میں اڑتے پرندوں کے خاکستری پر پھڑ پھراتے نظر آئے چڑیوں بلبلوں کو دیکھ کر وجد طاری ہوا تو خدا کا شکر بجا لانے لگا جس نے مجھے زندگی حسن اوررعنائی کی سر زمین پر بسر کرنے کے لیے قدرتی نظارے دیکھنے والی آنکھیں عطا کیے اور نہ اتنا سیراب کیا کہ میں مزید لطف اندوز نہ ہو سکوں۔

  • آئندہ بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان، IMF شرائط ،عوامی ریلیف میں توازن قائم کرنا چیلنج ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئندہ بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان، IMF شرائط ،عوامی ریلیف میں توازن قائم کرنا چیلنج ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات ملکی سیاست کا رخ متعین کریں گے، بڑی جماعتوں میں سخت مقابلے کی توقع

    معاشی فیصلے اور انتخابی نتائج آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں معیشت اور سیاست ایک دوسرے پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔ آئندہ وفاقی بجٹ حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوگا، کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں جبکہ دوسری جانب مہنگائی سے پریشان عوام کو ریلیف دینا بھی ناگزیر ہے۔ بظاہر حکومت ایک ایسا بجٹ پیش کرنے کی کوشش کرے گی جو معاشی استحکام اور سیاسی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

    دوسری طرف گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متوقع انتخابات ملکی سیاست کا اہم رخ متعین کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کی جماعتوں، خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، کو نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل دکھائی دیتی ہے، جبکہ تحریک انصاف بھی ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر مقابلے میں موجود ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کے آثار ہیں۔

    مجموعی طور پر آنے والے چند ماہ پاکستان کی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت بجٹ کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہی تو اس کے سیاسی اثرات انتخابات میں بھی نظر آ سکتے ہیں، جبکہ معاشی دباؤ یا عوامی بے چینی اپوزیشن جماعتوں کے لیے سیاسی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ اور آئندہ انتخابات کو پاکستان کے سیاسی منظرنامے کے دو اہم ترین امتحانات قرار دیا جا رہا ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان؛ ایک صحت مند قوم کی جانب پہلا قدم،تحریر: بسمہ مجید

    تمباکو سے پاک پاکستان؛ ایک صحت مند قوم کی جانب پہلا قدم،تحریر: بسمہ مجید

    فضا میں تحلیل ہوتا سگریٹ کا دھواں صرف ہوا کو آلودہ نہیں کرتا بلکہ یہ انسان کی سانسوں، خوابوں اور زندگیوں کو بھی آہستہ آہستہ نگلتا چلا جاتا ہے۔ تمباکو نوشی بظاہر ایک عادت دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایسا خاموش زہر ہے جو انسان کے جسم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تمباکو نوشی کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ نوجوان اسے فیشن سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ذہنی دباؤ سے نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض افراد محض صحبت کے اثر میں اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں پہلے ہی صحت کے مسائل، غربت اور بے روزگاری نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، وہاں تمباکو نوشی ایک مزید خطرناک بحران بن کر ابھر رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد سگریٹ، گٹکا، نسوار اور دیگر تمباکو مصنوعات کے استعمال کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان اموات کے پیچھے صرف ایک شخص کی غلطی نہیں ہوتی بلکہ پورا خاندان اذیت، کرب اور معاشی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریاں کسی ایک عضو تک محدود نہیں رہتیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، سانس کی تکالیف، فالج اور منہ کے سرطان جیسی مہلک بیماریاں اسی زہر کا نتیجہ ہیں۔ ایک سگریٹ وقتی سکون تو دے سکتی ہے، مگر اس کے اثرات برسوں تک انسان کی زندگی کو عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کم عمر نوجوان، جو قوم کا مستقبل سمجھے جاتے ہیں، اس عادت کا شکار ہو کر اپنی صحت اور صلاحیتیں برباد کر لیتے ہیں۔
    ہمارے تعلیمی اداروں کے اطراف میں سگریٹ کی کھلے عام فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نئی نسل کو محفوظ مستقبل دینے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کئی نوجوان ابتدا میں محض تجسس کے تحت سگریٹ پیتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ یہ عادت ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر وہی نوجوان نہ صرف اپنی صحت تباہ کرتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد موجود افراد کو بھی “پیسو اسموکنگ” یعنی بالواسطہ تمباکو نوشی کے خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔
    ایک لمحے کے لیے اس ماں کا تصور کیجیے جو اپنے جوان بیٹے کو اسپتال کے بستر پر تڑپتا دیکھتی ہے۔ اس بچے کے بارے میں سوچیے جو اپنے باپ کے ہاتھ میں سگریٹ نہیں بلکہ محبت، تحفظ اور زندگی دیکھنا چاہتا ہے۔ تمباکو نوشی صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ پورے خاندان کی خوشیوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔

    بدقسمتی سے تمباکو مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اشتہارات، فلموں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو متاثر کرتی ہیں۔ وہ سگریٹ نوشی کو آزادی، اسٹیٹس اور جدیدیت کی علامت بنا کر پیش کرتی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک تمباکو نوش انسان دراصل اپنی آزادی کھو دیتا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسی لت کا غلام بن جاتا ہے جو اسے جسمانی، ذہنی اور مالی طور پر تباہ کر دیتی ہے۔
    تمباکو سے پاک پاکستان کا خواب صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، اساتذہ طلبہ میں شعور بیدار کریں، علما معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں اور میڈیا صحت مند معاشرے کے فروغ کے لیے مثبت مہم چلائے۔ اگر معاشرہ متحد ہو جائے تو یہ ناسور جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

    حکومت کو بھی چاہیے کہ تمباکو مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کرے، کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی پر مکمل پابندی یقینی بنائے۔ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ اس زہر کے تباہ کن نتائج سے آگاہ ہو سکیں۔
    ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ قوم بن سکتی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان بیماریوں میں مبتلا ہوں گے تو ملک کی معیشت، تعلیم اور ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ تمباکو نوشی وقتی لذت ضرور دیتی ہے مگر اس کا انجام ہمیشہ درد، پچھتاوے اور محرومی پر ختم ہوتا ہے۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلائے۔ اگر ایک شخص بھی سگریٹ چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی نہیں بلکہ اپنے خاندان کی زندگی بھی بچاتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، کالجوں اور معاشرے میں یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ زندگی قیمتی ہے اور اسے دھوئیں میں اڑانا دانشمندی نہیں۔

    تمباکو سے پاک پاکستان محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے، ایسا خواب جس میں بچے صاف فضا میں سانس لیں، نوجوان صحت مند ہوں، اور اسپتالوں میں مریض کم ہوں۔ اگر ہم آج سنبھل گئے تو آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی، ورنہ یہ زہریلا دھواں ہمارے مستقبل کو نگلتا رہے گا۔
    یہ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم دھوئیں کو اپنی تقدیر بناتے ہیں یا زندگی کو اپنی پہچان۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: مدثریوسف پاشا

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: مدثریوسف پاشا

    آئیں! آج عہد کریں تمباکو سے جان چھڑائیں، خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں

    انسانی صحت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ صحت مند جسم ہی ایک خوشحال زندگی کی بنیاد بنتا ہے، مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں کئی ایسی عادات عام ہو چکی ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہیں۔ ان ہی خطرناک عادات میں ایک تمباکو نوشی بھی ہے۔ سگریٹ، نسوار، گٹکا، شیشہ اور دیگر تمباکو سے بنی اشیاء نہ صرف استعمال کرنے والے فرد کی صحت تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے خلاف شعور اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ انسان خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس زہر سے محفوظ بنا سکے۔

    تمباکو ایک خاموش قاتل ہے۔ ابتدا میں انسان اسے صرف شوق یا فیشن سمجھ کر استعمال کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت نشے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پھر انسان چاہ کر بھی اس سے جان نہیں چھڑا پاتا۔ نوجوان طبقہ اکثر دوستوں کی صحبت، فلموں کے اثرات یا وقتی ذہنی دباؤ کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کرتا ہے۔ ابتدا میں چند کش لگانے والا نوجوان جلد ہی اس کا عادی بن جاتا ہے اور پھر یہ عادت اس کی صحت، تعلیم، کردار اور مستقبل سب کچھ تباہ کر دیتی ہے۔

    ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، دمہ، سانس کی بیماریوں اور منہ کے کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں لوگ صرف تمباکو کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب کم عمر بچے بھی اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے باہر کھلے عام سگریٹ اور گٹکا فروخت ہونا ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو اس کا دھواں اردگرد بیٹھے افراد کے پھیپھڑوں میں بھی داخل ہوتا ہے۔ اسے “Passive Smoking” کہا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں، خواتین اور بزرگوں کو پہنچتا ہے۔ کئی بچے ایسے گھروں میں سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں والد یا دیگر افراد مسلسل سگریٹ نوشی کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صرف خود کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس زہر سے بچائیں۔

    تمباکو نوشی کے معاشی نقصانات بھی بے شمار ہیں۔ ایک غریب آدمی جو روزانہ سگریٹ پر پیسے خرچ کرتا ہے، اگر وہی رقم اپنے بچوں کی تعلیم، خوراک یا علاج پر خرچ کرے تو اس کے گھر کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ تمباکو پر خرچ ہونے والی دولت دراصل بیماریوں کو خریدنے کے مترادف ہے۔ حکومت کو بھی تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اگر یہ لعنت کم ہو جائے تو ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    اسلام بھی ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو انسانی جان اور صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔ چونکہ تمباکو انسان کی صحت کو تباہ کرتا ہے، اس لیے علما کرام بھی اس کے استعمال سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے جسم کو نقصان پہنچانے والی عادات سے دور رہیں۔

    تمباکو سے پاک پاکستان صرف حکومت کی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم چلائیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ تمباکو نوشی کے نقصانات پر زیادہ پروگرام نشر کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم عمر بچوں کو تمباکو کی فروخت پر سخت پابندی عائد کرے اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔

    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تمباکو نوشی چھوڑنا ناممکن نہیں۔ اگر انسان مضبوط ارادہ کر لے تو وہ اس بری عادت سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ ابتدا میں مشکل ضرور پیش آتی ہے لیکن آہستہ آہستہ انسان اس نشے سے دور ہو جاتا ہے۔ ورزش، مثبت سرگرمیاں، اچھی صحبت اور اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی اس عادت کو ترک کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک عہد کریں کہ نہ خود تمباکو استعمال کریں گے اور نہ دوسروں کو اس کی ترغیب دیں گے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو اس زہر سے پاک بنانا ہوگا۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    آئیں! آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے وطن کو تمباکو جیسی خطرناک لعنت سے بچائیں گے۔ کیونکہ ایک تمباکو سے پاک پاکستان ہی ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ملک اویس

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ملک اویس

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ اپنی محنت کی کمائی سے خریدی گئی سگریٹ کا ہر کش دراصل آپ کی زندگی کا ایک حصہ جلا رہا ہوتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ جس دھویں کو آپ اپنے منہ سے باہر نکالتے ہیں، وہ دراصل آپ کے خوابوں، آپ کی صحت، آپ کے مستقبل اور آپ کے خاندان کی خوشیوں کو بھی ساتھ لے جا رہا ہوتا ہے؟

    پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کروڑوں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ انہی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی جیسی مہلک عادت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہر روز ہزاروں افراد اپنی جیب سے پیسے نکال کر ایسی چیز خریدتے ہیں جو نہ صرف ان کے جسم کو کھوکھلا کر رہی ہے بلکہ ان کی زندگی کو بھی مختصر بنا رہی ہے۔سوچیے، ایک مزدور جو سارا دن دھوپ میں پسینہ بہا کر چند سو روپے کماتا ہے، وہ ان میں سے کچھ رقم سگریٹ پر خرچ کر دیتا ہے۔ ایک طالب علم جو اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز ہوتا ہے، وہ اپنی جیب خرچ کا حصہ تمباکو پر ضائع کر دیتا ہے۔ ایک باپ جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے خاندان کی خوشیوں کو دھویں میں اڑا دیتا ہے۔

    آپ پیسے بھی دے رہے ہیں، اپنی صحت بھی کھو رہے ہیں، اپنے پھیپھڑوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں اور اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جسے خریدنے والا خود بھی نقصان اٹھائے اور اس کے آس پاس موجود لوگ بھی متاثر ہوں، مگر تمباکو ایسی ہی ایک لعنت ہے۔ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی بیماریاں اور بے شمار دیگر مسائل انسان کو وقت سے پہلے قبر کے قریب لے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ سوچ کر سگریٹ سلگا لیتے ہیں کہ "ایک سگریٹ سے کیا ہوگا؟”حقیقت یہ ہے کہ تباہی کبھی ایک ہی دن میں نہیں آتی۔ ایک ایک کش، ایک ایک سگریٹ اور ایک ایک دن انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہتی۔

    پاکستان کو آج مضبوط معیشت، صحت مند نوجوانوں اور باصلاحیت افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ لیکن جب ہماری نوجوان نسل اپنے خون میں زہر گھول رہی ہو تو ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟ ایک بیمار قوم کبھی مضبوط قوم نہیں بن سکتی۔ جو سرمایہ تعلیم، تحقیق، کاروبار اور خاندان پر خرچ ہونا چاہیے، وہ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات کے دھویں میں برباد ہو رہا ہے۔ذرا اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھیے۔ ان کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو دیکھیے۔ کیا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے والدین اپنی صحت کو تباہ کر کے انہیں وقت سے پہلے یتیمی، بیماری یا معاشی مشکلات کے حوالے کر دیں؟ کیا ہمارے نوجوان اس قابل نہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، اپنے ملک کا نام روشن کریں اور اپنی زندگی کو کامیابی کی مثال بنائیں؟یاد رکھیے، سگریٹ صرف ایک کاغذ میں لپٹا ہوا تمباکو نہیں ہوتا۔ یہ انسان کے ارادے، صحت، خوشیوں اور مستقبل کا دشمن ہوتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ انسان سے اس کی طاقت، خوبصورتی، اعتماد اور زندگی کی رونق چھین لیتا ہے۔

    آج وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک سوال پوچھیں: آخر کیوں؟ آخر کیوں ہم اپنی محنت کی کمائی کو آگ لگا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنے بچوں کے حق کا پیسہ دھویں میں اڑا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنی زندگی کو مختصر کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ کیوں ہم ایک ایسی صنعت کو فائدہ پہنچا رہے ہیں جو ہماری صحت کی قیمت پر اربوں کماتی ہے؟اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کیجیے کہ آپ اپنی زندگی کو اس قید سے آزاد کریں گے۔ اگر آپ کے دوست یا عزیز اس عادت میں مبتلا ہیں تو انہیں سمجھائیے، ان کا ہاتھ پکڑیے اور انہیں اس تباہ کن راستے سے واپس لائیے۔ ایک سگریٹ چھوڑنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اور یاد رکھیے کہ ہر وہ دن جس میں آپ تمباکو سے دور رہتے ہیں، آپ اپنی زندگی میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔

    ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں، سگریٹ نہیں۔ جہاں سانسوں میں تازگی ہو، زہر نہیں۔ جہاں ہسپتالوں کی قطاریں کم اور کامیابیوں کی داستانیں زیادہ ہوں۔ جہاں قوم اپنی دولت بیماریوں پر نہیں بلکہ ترقی پر خرچ کرے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کو تمباکو سے پاک پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم اپنی نسلوں کو اس لعنت سے بچائیں گے۔ ہم اپنی صحت، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کو دھویں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور کوئی بھی نعمت اس قابل نہیں کہ اسے اپنے ہی ہاتھوں دھویں میں اڑا دیا جائے۔