Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم اردو والے ،تحریر: عمارہ کنول چودھری

    ہم اردو والے ،تحریر: عمارہ کنول چودھری

    پچھلے 75 سال سے سنتے،پڑھتے، لکھتے آئے ہیں کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے،مگر افسوس کہ قومی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں مل سکا۔
    قومی زبان اردو سے نا انصافی یہیں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہم نے اپنی اگلی نسلوں کو بھی اردو سے دور کر دیا۔
    والدین نے گھروں میں بچوں کے ساتھ انگریزی زبان میں روزمرہ گفتگو/ بات چیت شروع کر دی اور بچوں کو انگریزی لباس پہنانا شروع کر دیا۔
    آج ہمارے بچے اپنی قومی زبان و لباس دونوں سے دور ہو رہے ہیں۔
    نوجوان نسل کو رومن رسم الخط کے بغیر مکمل اردو میں ایک مختصر سی تحریر لکھنے کو کہا جائے تو ان کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔
    وطنِ عزیز میں قوم اتنا احساسِ کمتری کا شکار ہو گئی ہے کہ اردو بولنے والوں کو تحقیر و حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
    ذہنی غلامی کی اتنی مثالیں ہیں کہ بیان کرنا مشکل ہے۔

    اردو بولنے والوں سے ایک سوال جو لازمی پوچھا جاتا ہے وہ یہ کہ ” کیا آپ تعلیم یافتہ ہیں”؟
    کیا آپ کو انگریزی زبان آتی ہے ؟ آپ اردو میں پیغام لکھتے ہیں تو کیا آپ کو انگریزی لکھنا نہیں آتی؟
    میں اکثر ایسے لوگوں کو کہتی ہوں کہ” الحمدللّٰہ ہم اردو ،لکھنا،پڑھنا ،بولنا ، جانتے ہیں اور ہم نے English Medium انگریزی تعلیمی اداروں میں پڑھا ہے، لیکن ہم فخریہ اپنی قومی زبان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ترجیحاً اردو بولتے ہیں کیونکہ "ہم اردو والے” ہیں۔

    دنیا کے ہر ملک میں ان کی اپنی قومی زبان بطور سرکاری زبان رائج ہے صرف پاکستان واحد ملک ہے جہاں قومی زبان کو پسِ پشت ڈالا گیا ہے۔
    گزشتہ دنوں یہ خبر سننے میں آئی ہے کہ امریکہ،ایران امن معاہدہ میں انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ فارسی متن میں بھی معاہدہ پر دستخط کیے گئے۔
    جی ہاں ،فارسی جو ایران کی قومی و سرکاری زبان ہے۔
    اس سے ایک تو امریکہ، عالمی طاقت کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا کہ ” ہم ایران کی ثقافت و تمدن مٹا دیں گے”
    دوسرا، ایران نے اپنی قومی زبان فارسی میں متن پر دستخط کر کے اور امریکہ سے دستخط کروا کے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ غیرت مند قومیں،اپنی قومی زبان و ثقافت کا تحفظ و دفاع کیسے کرتی ہیں۔

    یہ امن معاہدہ ہمارے لیے ایک مثال ہے اور ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم اپنی قومی زبان سے روارکھی گئی نا انصافی پر نظرِ ثانی کریں۔

  • یتیمی کا نوحہ اور آج کا دن،تحریر: بینا علی

    یتیمی کا نوحہ اور آج کا دن،تحریر: بینا علی

    آج فادرز ڈے ہے ابو…
    وہ دن جب ساری دنیا کے باپ اپنی بیٹیوں کی ہنسی میں جیتے ہیں۔ اور میں؟ میں آپ کی یادوں سے لپٹ کر رو رہی ہوں۔ "کتابِ زندگی کا وہ اداس ترین صفحہ جسے پلٹتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل اتنا بوجھل ہو جاتا ہے کہ سانس لینا بھی اذیت لگتا ہے۔ ابو شہرِ محبتاں سے ہجرت اور یتیمی کے 5 سال یہ دو سانحے ایک ہی دن میرے مقدر میں لکھ دیے گئے۔بچھڑ جانے والوں پر صبر کرنایہ صبر نہیں بلکہ پل پل مرنا ہے۔ آپ کے بنا 5 سال نہیں گزرے 5 صدیاں بیت گئیں ہیں۔ ہر دن ایک صدی جیسا بھاری، ہر رات قیامت جیسی لمبی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں نے دکھوں کے ساتھ ایک نہیں کئی عمریں گزار دی ہوں۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی جیسے کچھ بھی نہیں ہے۔
    "ماں کی جمع مائیں ہوتی ہے، مگر باپ کی جمع نہیں ہوتی۔”

    میں نے باپ کے سارے نام سوچے والد، ابا، باپ، ابو لیکن کسی ایک لفظ کی بھی جمع نہیں مل سکی! کیونکہ زندگی میں ماں کے رشتے پر بہت سے رشتے جڑے ہوتے ہیں خالہ، پھوپھو، ساس سب ماں جیسی ہو سکتی ہیں۔

    لیکن باپ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے۔اسی لیے اس کی کمی کا خلاء کبھی پر نہیں ہوتا۔ آج شبِ غم نے دکھوں کی سیاہ چادر اوڑھ رکھی ہے۔ ہر طرف نوحہ ہے، بین ہے، ماتم ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کربلا کا کوئی منظر میرے سینے میں دہرایا جا رہا ہو۔ زخم ہیں کہ بھرنے کا نام نہیں لیتے۔ زندگی کی رونقیں آپ کے ساتھ ہی دفن ہو گئیں ابو اب تو سانسیں بھی اداس ہیں اور میں بھی۔ لمحے، پل، منٹ، گھنٹے، دن، مہینے اور یتیمی کے یہ 5 سال اللہ! کیسی کٹھن مسافت تھی۔ کانٹوں پر ننگے پاؤں چلنے جیسی۔ 5 برس سے میرا وجود زمین و آسمان کے درمیان معلق ہے۔ نہ جینے میں ہوں نہ مرنے میں۔ قدموں کے نیچے سے زمین آپ کے ساتھ ہی کھسک گئی تھی۔ دل شکستہ ہے روح زخمی ہے یوں لگتا ہے جیسے میں خود اپنے آپ پر بوجھ ہوں۔
    ابو 5 سال پہلے تک ہنسی کا مطلب ہنسی تھا، عید کا مطلب عید تھا۔ کیوں؟ کیونکہ "باپ” کا سایۂ شفقت سر پر تاج کی طرح سجا تھا۔ "باپ” لفظ نہیں، ایک پوری کائنات ہے۔ اس میں محبت کی گرمی ہے، شفقت کی ٹھنڈک ہے، لاڈ کی نرمی ہے، ایثار کا سمندر ہے اور بے لوث حفاظت کا آہنی حصار ہے۔ آپ میرا مان تھے، میرا غرور تھے۔ میرا پہلا لفظ، میرا پہلا ہیرو، میری پہلی محبت، میری دھڑکن۔ وہ مضبوط دیوار تھے جو زمانے کے ہر طوفان کے آگے ڈھال بن جاتی تھی۔
    مگر جب بیٹی کا باپ چلا جاتا ہے نا ابوتو دنیا کی ساری روشنیاں بجھ جاتی ہیں۔ رنگوں سے خوشبو اڑ جاتی ہے۔ ہونٹ ہنستے ہیں تو آنکھیں رو پڑتی ہیں۔ ہر خوشی کے پیچھے ایک گہری اداسی چھپی ہوتی ہے۔ ابو! کاش آپ نہ جاتے کاش یہ سب ایک بھیانک خواب ہوتا اور میں چیخ مار کر جاگ جاتی۔ مگر یہ خواب نہیں یہ تلخ حقیقت ہر روز میرا دم گھونٹ دیتی ہے۔
    فادرز ڈے پر سب اپنے ابو کو تحفہ دیتے ہیں۔ میرا تحفہ کہاں جائے ابو؟

    اے میرے رب! میرے والدِ محترم اور والدہ محترمہ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ وہاں نور ہی نور کر دے۔ ان کی روحوں کو ٹھنڈک عطا فرما۔ انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین محلوں میں جگہ دے۔ آمین۔
    اے اللہ! جس جس کا باپ زندہ ہے، اس کا سایہ سلامت رکھنا۔ اسے کبھی یتیمی کے اس عذاب سے نہ گزارنا۔ حتیٰ کہ دشمن کو بھی نہیں کیونکہ قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اتنی اذیت میں دشمن کے لیے بھی نہیں برداشت کر سکتی ۔تمام پڑھنے والوں کے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے ایک بار سورۃ فاتحہ اور 3 بار درودِ پاک پڑھ کر میرے امی ابو کو بخش دیں۔ شاید آپ کی دعا سے ان کی قبر روشن ہو جائے۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

  • غیرت یا جہالت ،تحریر: بینا علی

    غیرت یا جہالت ،تحریر: بینا علی

    گوجرانوالہ میں دو دن پہلے بہت دکھ بھرا واقعہ ہوا۔حافظ آباد کے کالیکی منڈی کا لڑکا عبدالوحید گوجرانوالہ کی فائزہ سے محبت کر بیٹھا۔ دونوں نے ساتھ رہنے کا وعدہ کیا۔ جب گھر والے نہ مانے تو دونوں نے چپکے سے کورٹ میں نکاح کر لیا۔ وحید فائزہ کو اپنے گھر لے آیا۔ یہ عید الفطر سے پہلے کی بات ہے۔فائزہ بہن سے فون پر رو کر کہتی تھی کہ ابا کو مناؤ۔ باپ مان گیا۔ عید الاضحیٰ سے پہلے اس نے پیغام بھیجا: "گھر آ جاؤ، عید کے بعد سامان کے ساتھ رخصت کروں گا۔”فائزہ ڈر رہی تھی مگر وحید نے کہا: "میں ساتھ چلوں گا۔” دونوں گوجرانوالہ چلے گئے۔ کچھ دن بعد باپ نے پہلے داماد کو پھر بیٹی کو اس کے بعد بچانے آئے نوکر کو گولی مار دی۔ تینوں مر گئے۔عبدالوحید اور فائزہ کی کہانی بس تین مہینے کی تھی۔ دو عیدیں ساتھ گزاریں اور سب ختم۔
    اب ذرا سوچیے:
    حضرت خدیجہؓ بہت نیک اور پاکباز خاتون تھیں۔ ہمارے نبی کی پہلی بیوی۔ انہوں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ یہ آج سے 1400 سال پہلے کی بات ہے۔ جب ایک عورت خود رشتہ بھیج سکتی ہے جب اولاد اپنی پسند بتا دے اور وہ شرعی طور پر ٹھیک ہو، تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ ماں باپ کو چاہیے کہ اولاد کی پسند کو اپنی پسند بنا لیں۔ اس سے جھگڑے ہی ختم ہو جائیں گے۔

    اور اگر اولاد سے کوئی غلطی ہو بھی جائے تو ماں باپ کا کام ہے کہ پیار سے سمجھائیں، غلطی سدھارنے میں مدد کریں۔ غلطی پر غلطی نہ کریں۔ مارنا، قتل کرنا تو سب سے بڑی غلطی ہے۔دعا زہرا کا کیس آپ کے سامنے ہے۔ اس کے باپ نے دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی بیٹی کا ساتھ دیا۔ اس نے اپنی بیٹی کو دوبارہ اس معاشرے میں جینے کے قابل بنایا۔ باپ ایسے ہوتے ہیں۔ سہارا بنتے ہیں، قاتل نہیں بنتے۔کاش فائزہ کے باپ نے بھی دعا زہرا کے باپ جیسا دل بڑا کیا ہوتا۔ کاش وہ حضرت خدیجہؓ والا 1400 سال پرانا سبق یاد رکھتا کہ عورت کی پسند کی بھی عزت ہوتی ہے۔
    اللہ پاک وحید، فائزہ اور اس بے قصور نوکر کو جنت دے۔ اور ہر ماں باپ کو اولاد کا دکھ سمجھنے والا دل دے۔ آمین

  • ایوان میں ام الخبائث کی سفارش ،تحریر: بینا علی

    ایوان میں ام الخبائث کی سفارش ،تحریر: بینا علی

    ہائے افسوس! صد افسوس!اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سینیٹ میں غیر ملکی شراب درآمد کرنے کی پالیسی نرم کرنے کی سفارشات پیش کی گئیں۔
    روح تڑپتی ہے آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔ یہ امر واقعی لمحہ فکریہ ہے ۔
    اقبال نے کیا خوب کہا تھا
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    اے ایوانوں میں بیٹھے لوگو! اے قوم کے فیصلے کرنے والو!
    تمہارے ہاتھ کانپتے کیوں نہیں؟ تمہارے قلم لرزتے کیوں نہیں؟ خدارا یہ ظلم نہ کرو!
    اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں کے سامنے یہ کھلی سرکشی، یہ بغاوت یہ گستاخی اللہ کی قسم! عذاب کو دعوت ہے۔
    شراب کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔
    شراب کی حرمت بتدریج نازل ہوئی۔ آخری اور قطعی حکم سورۃ المائدہ میں آیا:
    يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ
    ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
    حوالہ: پارہ 7 سورۃ المائدہ آیت 90
    احادیثِ مبارکہ مستند حوالوں کے ساتھ
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شراب تمام برائیوں کی ماں ہے اور یہ سب سے زیادہ شرمناک برائی ہے۔”
    حوالہ: سنن ابن ماجہ کتاب الأشربہ باب 30 حدیث 3371
    مزید فرمایا: "جو چیز بڑی مقدار میں نشہ دے وہ حرام ہے وہ چھوٹی مقدار میں بھی حرام ہے۔”
    حوالہ: سنن ابن ماجہ، حدیث 3392
    حضور ﷺ نے شراب کے بارے میں 10 لوگوں پر لعنت فرمائی:
    شراب بنانے والا
    بنوانے والا
    پینے والا
    اٹھانے والا
    جس کے پاس اٹھا کر لائی جائے
    پلانے والا
    بیچنے والا
    اس کی قیمت کھانے والا
    خریدنے والا
    جس کے لیے خریدی جائے۔
    حوالہ: جامع ترمذی، کتاب البیوع، حدیث 1299
    ذرا تصور کریں مدینے کی ان گلیوں کا جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو اعلان سنتے ہی مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی۔ جس کے ہاتھ میں جو برتن تھا جس کے منہ میں جو گھونٹ تھا سب نے فوراً پھینک دیا۔ مدینہ کی گلیاں شراب سے بہہ پڑیں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ "جو خریدی ہوئی ہے وہ ختم کر لیں” یا "آہستہ آہستہ چھوڑیں گے”۔ حکم آتے ہی مکمل اطاعت کی۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے دل میں اللہ کا خوف تھا! کیونکہ وہ جانتے تھے کہ رب کا حکم معیشت سے بڑا ہے، مصلحت سے بڑا ہے جان سے بڑا ہے!
    اور آج ہم. ہم "ریونیو” کے لیے اپنی آخرت بیچنے کو تیار ہیں؟ ہم "ٹورازم” کے لیے اپنی نسلوں کو جہنم کا ایندھن بنانے کو تیار ہیں؟
    تف ہے ایسی معیشت پر! لعنت ہے ایسے ٹورازم پر جو اللہ کے غضب کو دعوت دیں۔ اس قلم کی سیاہی سوکھنے سے پہلے اس دستخط کی روشنائی پھیلنے سے پہلے سوچ لو!
    قبر کا گڑھا تمہارا منتظر ہے۔ وہاں نہ سینیٹ ہوگی نہ ایوان نہ پروٹوکول ہوگا نہ کرسی۔ صرف تم ہو گے اور تمہارے اعمال۔
    اور حوضِ کوثر پر جب میرے آقا تمہارا دامن پکڑ کر پوچھیں گے: "میری امت کے بچوں کو شراب کے حوالے کر کے آئے ہو؟اس وقت کون سا منہ لے کر جاؤ گے؟
    یا اللہ! یا رب العالمین!
    اگر ان کے دلوں میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے تو انہیں ہدایت دے دے۔ اور اگر یہ تیرے حکم سے جنگ پر تلے ہیں، تو انہیں اس کرسی، اس ایوان، اس عہدے سے یوں محروم کر دے جیسے سوکھی ٹہنی درخت سے گرتی ہے۔
    یا اللہ! اس پاکستان کو جسے ہم نے تیرے نام پر لیا تھا شراب کی لعنت سے، بے حیائی کی نحوست سے، تیرے غضب سے محفوظ فرما۔ ہمیں صحابہ والا ایمان عطا فرما کہ تیرا حکم آئے تو ہماری زبانیں، ہمارے ہاتھ، ہمارے قدم سب پکار اٹھیں: "سمعنا و اطعنا غفرانک ربنا و الیک المصیر”۔

  • ایران،امریکہ مفاہمت: پاکستان سفارت کاری کا سب سے بڑا فاتح؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایران،امریکہ مفاہمت: پاکستان سفارت کاری کا سب سے بڑا فاتح؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    علاقائی امن میں کردار کے بعد کیا عالمی طاقتیں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیں گی؟

    پاکستان نے پل کا کردار نبھایا، اب دنیا معاشی استحکام میں ساتھ دے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت یا ڈیل کو اگر خطے کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا سب سے بڑا سفارتی فائدہ پاکستان کو حاصل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو اکثر صرف سکیورٹی اور داخلی چیلنجز کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا، لیکن اس بحران کے دوران پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ سفارتی پیش رفت مستقل استحکام کی طرف بڑھتی ہے تو عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، یورپی ممالک اور خلیجی شراکت داروں کو پاکستان کی معیشت کے استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کو آپس میں جوڑتا ہے۔ علاقائی امن کے بغیر نہ عالمی تجارت محفوظ رہ سکتی ہے اور نہ ہی توانائی کی ترسیل۔ پاکستان نے اگر سفارت کاری کے ذریعے ایک مشکل تنازع میں پل کا کردار ادا کیا ہے تو اس کے بدلے میں عالمی برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری، تجارت، توانائی منصوبوں، ٹیکنالوجی منتقلی اور مالی تعاون کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔ ایک مضبوط اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ صرف سفارتی کامیابی سے معاشی ترقی خود بخود نہیں آتی۔ پاکستان کو داخلی اصلاحات، بہتر طرزِ حکمرانی، تعلیم، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری دوست ماحول پیدا کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ عالمی حمایت تبھی دیرپا نتائج دے سکتی ہے جب اندرونی معاشی بنیادیں بھی مضبوط ہوں۔

  • پرامن حج انتظامات،امت مسلمہ کیلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پرامن حج انتظامات،امت مسلمہ کیلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھاکیونکہ مکہ مکرمہ ا ور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوئوں اور لٹیروں کا راج تھا۔

    پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شہزادہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن السعود نہایت ہی زیرک اور جرأت مند حکمران تھے انھوں سے صرف دس افراد کے ہمراہ پانچ جنوری 1902ء کو ریاض شہر فتح کرکے ایک ایسی مملکت توحید کی بنیاد رکھی جو آج ’’ مملکت سعودی عرب ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ دس افراد کے ہمراہ ریاض کی فتح ایک ایسا کارنامہ ہے جسے مورخین نے تاریخ عالم کا محیر العقول واقعہ قرار دیا ہے ۔ شاہ عبدالعزیز مجاہد ، بہادر ، انصاف پسند اور عالم باعمل حکمران تھے ۔ انھوں نے 1926ء میں مسجد الحرام میں حجاز کے بادشاہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مملکت کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے لاتعداد ڈاکوئوں ، لیٹروں ، رہزنوں کو عبرتناک سزائیں دی گئیں، قاتلوں کی گردنیں ماردی گئیں اور ان کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔

    شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج بھی ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سفر کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء کے تحت روڈ ٹو مکہ جیسا عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کیا گیاہے جس سے سعودی عرب پہنچنے پر طویل امیگریشن اور کسٹم کی چیکنگ کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا اور عازمین حج کے ہوائی اڈوں پر انتظار کے وقت میں بھی نمایاں کمی ہوتی ہے۔
    امسال بھی روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن اور کسٹم کلئیرنس کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے گئے۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں جاری کی گئیں ۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے عازمین حج کو رخصت کیا۔جبکہ امسال اسلام آباد اور کراچی سے پچاس ہزار سے زائد عازمین حج روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے گئے ۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف جو کہ بہت ہی نیک نام ، شریف النفس انسان ،تجربہ کار اور حجاج کرام کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیںان کا کہنا تھا ہم کوشش کررہے ہیں کہ جلد ہی پاکستان کے دیگر بڑے شہروں سے بھی روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں شروع کی جائیں ۔

    اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ پراجیکٹ کے تحت عازمین حج فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب پہنچے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولتیں دستیاب ہوں گی ۔

    حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے وقف کیا ہوا ہے، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولیا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔

    یہ بات معلوم ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حجاج کرام کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ جیسے جیسے حجاج کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس کے ساتھ ساتھ سعودی حکومت انتظامات کو بہتر سے بہتر بنارہی ہے ۔ اس کیلئے جدید ترین وسائل اور ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے ۔عازمین حج کی تعداد دنیا کے کئی ملکوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن۔۔۔۔صفائی کا ایسا عمدہ انتظام کہ کہیں ایک تنکا بھی نظر نہ آئے یہ ایسا روحانی اور ایمانی منظر ہے کہ جسے دیکھ کر ہی غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوجاتے ہیں ۔ میدان عرفات میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے اور فضائی ایمبولینسیں مسلسل گردش میں رہتی ہیں ۔ جب کسی حاجی کی طبیعت ناساز ہونے کی اطلاع ملے تو اسے پانچ یادس منٹ میں ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے ۔ ایک طرف سعودی حکومت حجاج کرام کی خدمت کے بھرپور انتظامات کرتی ہے تو دوسری سعودی عوام بھی ایمانی جذبے سے حجاج کرام کی خدمت کرتے ہیں ۔ حجاج میں مشروبات ، کھانے اور تحائف تقسیم کرتے ہیں ۔
    الغرض امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیں کے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیرحج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان ‘سہولت کار’ کے طور پر کلیدی کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    فیلڈ مارشل عاصم منیر، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان ‘سہولت کار’ کے طور پر کلیدی کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    فیلڈ مارشل عاصم منیر، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور محسن نقوی کا واشنگٹن اور تہران کے درمیان ‘سہولت کار’ کے طور پر کلیدی کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قطر کی معاونت سے پاک-امریکہ-ایران خفیہ رابطے کامیاب: پاکستان برسوں بعد عالمی تنازعے میں فریق کے بجائے ‘سفارتی پل’ بن کر ابھر آیا

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطہ کاری، پیغامات کی ترسیل اور بیک ڈور سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی قیادت، خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی مختلف مراحل میں متحرک رہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کیا، جبکہ محسن نقوی ایرانی قیادت تک خصوصی پیغامات لے کر گئے۔ اسحاق ڈار سفارتی سطح پر پاکستان کے رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کا حصہ رہے۔

    پاکستان نے ثالث سے زیادہ ایک "Facilitator” کا کردار ادا کیا۔ یعنی یہ کہنا شاید مبالغہ ہوگا کہ معاہدہ صرف پاکستان کی وجہ سے ہوا، لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کا کردار معمولی تھا۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ اس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ رابطے موجود تھے اور دونوں فریق اسے نسبتاً قابلِ قبول سمجھتے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار غالباً سب سے نمایاں رہا کیونکہ حساس سکیورٹی اور اسٹریٹیجک معاملات میں فوجی سطح کے رابطے بعض اوقات روایتی سفارت کاری سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ محسن نقوی نے سیاسی اور خصوصی سفارتی پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کیا، جبکہ اسحاق ڈار نے سفارتی اور حکومتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو آگے بڑھایا۔ البتہ ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ قطر نے بھی اس عمل میں نہایت اہم اور بعض مراحل میں شاید زیادہ مؤثر کردار ادا کیا، خصوصاً آخری مرحلوں میں۔ اگر یہ معاہدہ پائیدار ثابت ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوگا، کیونکہ برسوں بعد پاکستان پہلی مرتبہ کسی بڑے بین الاقوامی تنازعے میں صرف فریق نہیں بلکہ "پل” کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ معاہدہ مستقل امن کی طرف جاتا ہے یا محض ایک عارضی مفاہمت ثابت ہوتا ہے۔

  • آم کی گٹھلی اور ہماری ذمہ داری،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    آم کی گٹھلی اور ہماری ذمہ داری،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پاکستان میں ہرسال لاکھوں آم کی گٹھلیاں کھانے کے بعد کچرے میں پھینک دی جاتی ہیں اور اس طرح ہم پورا سیزن یہی کام کرتے ہیں حالانکہ ہم ان گٹھلیوں سے آم کے درخت بنا سکتیں ہیں اور فری میں اپنے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں
    آئیں آج ہم اس کے بارے میں آپ کو بتائیں ہیں یہ کیسے ممکن ہے ۔

    پاکستان کو آموں کا دیس کہا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم آتے ہی ملک بھر میں آم کی مختلف اقسام بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں۔ آم نہ صرف ذائقے کے اعتبار سے پھلوں کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے ۔بلکہ غذائیت اور معاشی اہمیت کے لحاظ سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آم کھانے کے بعد اس کی گٹھلی اکثر کوڑے دان کی نذر ہو جاتی ہیں، حالانکہ یہی گٹھلی ایک نئے درخت اور سرسبز مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور جنگلات کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر فرد کا ایک پودا لگانا بھی ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آم کی گٹھلی سے پودا اگانا ایک آسان، کم خرچ اور دلچسپ عمل ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے فائدہ مند سرگرمی ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین زراعت کے مطابق آم کی گٹھلی کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اس کے سخت خول کو احتیاط سے کھول کر اندر موجود بیج نکالا جاتا ہے۔ اس بیج کو نم مٹی والے گملے میں تقریباً ایک انچ گہرائی میں لگایا جائے اور مٹی کو مناسب حد تک نم رکھا جائے۔ اگر گملے کو روشن اور ہوادار جگہ پر رکھا جائے تو چند ہفتوں میں ننھا سا پودا نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ننھا پودا دراصل مستقبل کے ایک تناور درخت کا آغاز ہوتا ہے۔

    آم کا درخت صرف پھل ہی نہیں دیتا بلکہ ماحول کو آکسیجن فراہم کرتا، فضائی آلودگی کم کرتا اور پرندوں کے لیے مسکن کا کام بھی کرتا ہے۔ ایک بالغ آم کا درخت کئی دہائیوں تک پھل دیتا رہتا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آم کے باغات مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے "مینگو مانیا ویک” جیسی سرگرمیوں کے ذریعے آم کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر آم کی اقسام، اس سے تیار ہونے والی غذائیں، کوئزز اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آم کی گٹھلی سے پودا اگانے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے جو لوگوں میں شجرکاری کے رجحان کو فروغ دے سکتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آم کھانے کے بعد اس کی گٹھلی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے ایک نئے پودے میں تبدیل کریں۔ اگر ہر فرد اس موسم میں صرف ایک آم کا پودا لگا دے تو آنے والے برسوں میں ہزاروں نئے درخت ہمارے ماحول کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ ہوگا بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگا۔

    آئیے عہد کریں کہ اس بار آم کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی گٹھلی سے ایک نئی زندگی بھی اگائیں گے، کیونکہ آج کا ایک پودا کل کا سایہ دار درخت بن سکتا ہے
    اس امید کے ساتھ یہ درخت لگائیں،یہ صدقہ جاریہ ہے اور آنے والی نسلوں کی بقا

  • پہاڑی علاقوں میں سفری حادثات کی وجوہات،تحریر: بینا علی

    پہاڑی علاقوں میں سفری حادثات کی وجوہات،تحریر: بینا علی

    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے۔ یہاں کے دلفریب پہاڑی علاقے سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ لیکن آئے دن ان جگہوں پر حادثات دل گرفتہ کر دیتے ہیں۔ اس کے بہت سے اسباب ہو سکتے ہیں۔ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونا، ڈرائیور کا پرخطر راستوں سے ناواقف ہونا، سڑکوں کے کنارے حفاظتی بیرئیر نہ ہونا، اوور لوڈنگ اور بے احتیاطی ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔

    ان بنیادی اسباب کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل ہیں جو پہاڑی سفر کو جان لیوا بنا دیتے ہیں۔ اگر ہم ان کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ حادثات محض اتفاق نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ پہاڑی راستے عام شاہراہوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں مسلسل چڑھائی اور اترائی کی وجہ سے انجن، بریک، گیئر اور ریڈی ایٹر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے سیاحتی مقامات پر چلنے والی اکثر بسیں، کوسٹرز اور جیپیں تکنیکی طور پر ناکارہ ہوتی ہیں۔ ان کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا۔ پرانے ٹائر پھٹ جاتے ہیں بریک فیل ہو جاتے ہیں اور گاڑی بے قابو ہو کر کھائی میں جا گرتی ہے۔

    پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ ایک الگ مہارت ہے۔ میدانی علاقے کا کامیاب ڈرائیور پہاڑوں پر ناکام ہو سکتا ہے۔ بہت سے ڈرائیوروں کو علم ہی نہیں ہوتا ۔ تنگ، بل کھاتے اور اندھے موڑ کاٹنے کا طریقہ، رات کے وقت ڈرائیونگ اور اچانک لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں ردعمل دینے کی تربیت نہ ہونے سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیند پوری نہ ہونا، تھکاوٹ اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال بھی قاتل ثابت ہوتا ہے۔

    پاکستان کے اکثر پہاڑی علاقوں کی سڑکیں تنگ، کچی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بارش کے بعد ان پر لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے بڑے پتھر اور ملبہ آ جاتا ہے۔ سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ ہزاروں فٹ گہری کھائیوں کے ساتھ مضبوط حفاظتی دیواریں یا کرش بیرئیر موجود نہیں ہیں۔ کئی جگہوں پر تو صرف خانہ پری کے لیے اینٹیں جوڑ دی گئی ہیں۔ ذرا سا ٹائر سلپ ہوا، اور گاڑی سیدھی کھائی میں۔ خطرناک موڑوں پر آئینے، رفتار کم کرنے کے سائن بورڈ اور رات کے لیے ریفلیکٹرز کی بھی شدید کمی ہے۔ حال ہی میں اوور لوڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں حادثے میں سات نوجوانوں کے جنازے اٹھے جس نے ماحول کو بہت سوگوار بنا دیا۔زیادہ منافع کی ہوس میں ٹرانسپورٹرز گاڑیوں میں مقررہ حد سے زیادہ مسافر بٹھاتے ہیں۔ چھتوں پر سامان کے انبار لگا دیے جاتے ہیں۔ اس اضافی وزن سے گاڑی کا توازن بگڑ جاتا یے اور اترائی پر بریک گاڑی کو روک نہیں پاتے۔ دوسری طرف کچھ نوجوان سیاح تیز رفتاری، ون ویلنگ اور خطرناک انداز میں اوور ٹیکنگ کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ پہاڑی سڑکیں معافی نہیں دیتیں۔ پہاڑوں کا موسم لمحوں میں بدلتا ہے۔ صاف آسمان پر اچانک کالے بادل چھا جاتے ہیں۔ شدید دھند کی وجہ سے دس فٹ دور کی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ موسلادھار بارش سے سڑک پر پھسلن اور کیچڑ ہو جاتا ہے۔ برفباری میں بغیر سنو چین کے گاڑی چلانا ناممکن ہے۔ اچانک پہاڑ سے گرنے والے پتھر بھی چلتی گاڑیوں کو کچل دیتے ہیں۔ فوگ لائٹس، اور ہیٹر کے بغیر ان حالات میں سفر کرنا موت کو دعوت دینا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے چیکنگ کا نظام نہایت کمزور ہے۔ بغیر لائسنس، جعلی لائسنس اور کم عمر ڈرائیور دھڑلے سے گاڑیاں چلاتے ہیں۔ سیاحتی سیزن میں فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کیے بغیر گاڑیوں کو جانے دیا جاتا ہے۔ اوور لوڈنگ پر جرمانے برائے نام ہیں۔ عوام بھی خود شعور کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ وہ سستی کے چکر میں کھٹارا گاڑیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور سیٹ بیلٹ باندھنے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

    مختصر یہ کہ پہاڑی علاقوں کے حادثات کے پیچھے انسانی غلطی، مشینی خرابی اور انتظامی کوتاہی کا گٹھ جوڑ ہے۔ جب تک گاڑی، ڈرائیور، سڑک اور قانون، ان چاروں ستونوں کو مضبوط نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ خوبصورت وادیاں ہمارے لیے نوحہ بنی رہیں گی۔

  • ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ہر سال 14 جون کو ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے منایا جاتا ہے اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب Red crecent( انجمن ہلال احمر ) کے لاہور آفس یعنی ایک بہت خوبصورت اور قدیم عمارت میں منعقد کی گئی اس کامیاب تقریب کا سہرا ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر فوزیہ سعید کے سر ہے جو بہت مخلص اور فرض شناس آفیسر ہیں مختلف کالجز اور اداروں میں جاکر بلڈ کیمپ لگانا خون اکھٹا کرنا پھر تمام انتظامات دیکھنا کوئی آسان کام نہیں وہ اپنی ٹیم کے ساتھ یہ کام بخوبی انجام دے رہی ہیں تھلیسمیا میں مبتلا بچوں کی اور ان کے والدین کی دعائیں سمیٹتی ہیں اس تقریب کی کامیابی کے لئے انہوں نے بہت محنت کی تھی

    یہ بھر پور تقریب تھی مہمان خصوصی ڈاکٹر شبنم بشیر صاحبہ وائس پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج تھیں گیسٹ سپیکرز میں ڈاکٹر ماریہ خان ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی، شعیب مرزا صاحب ایڈیٹر پھول، ڈاکٹر نورالدین چیف ایگزیکٹو فینکس فاونڈیشن شامل تھے ،تقریب میں باقاعدہ خون کا عطیہ دینے والے ڈونررز جن میں کالجز اور کمپنیز کے نمائندگان شامل تھے انہیں گولڈ میڈلز دئیے گئے کچھ رائٹرز جنہوں نے کسی نہ کسی حوالے سے تھلیسمیا کے مسائل اپنی تحریروں اور انٹرویوز وغیرہ کے ذریعے اجاگر کئے انہیں بھی گولڈ میڈل دیئے گئے جن میں ہم بھی شامل تھے ۔طالبات اور والنٹیر ز کو سرٹیفیکیٹس دے کر حوصلہ افزائی کی گئی، تقریب میں تھلیسمیا میں مبتلا بچے بھی شامل تھے ایک بچے علی سفیان نے سورہ رحمان کی تلاوت سے تقریب کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد ایک بچی مریم حنیف نے ہدیہ نعت پیش کیا ایک اور بچہ عبداللہ بھی شامل تھا تقریب کے بعد ہم نے اس وارڈ کا وزٹ کیا جہاں انہیں خون لگایا جا رہا تھا دل افسردہ ہوگیا لیکن بظاہر ان بچوں کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ یہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں لگتا تھا کہ ان کی اچھی دیکھ بھال ہو رہی ہے اس کا کریڈٹ انجمن ہلال احمر کے آفس میں موجود تمام ڈاکٹرز اور عملے کو جاتا ہے اس پروگرام میں شرکت سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹرز اس بات پر متفق ہیں کہ خون کا عطیہ دینے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا خون دوبارہ جلد ہی بن جاتا ہے اس لیے صحت مند افراد کو خون کا عطیہ دینا چاہیے تاکہ ان بچوں کو آسا نی ہو جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلتھ فوزیہ سعید صاحبہ ہر چار مہینے بعد خون کا عطیہ دیتی ہیں وہ 54 بار خون دے چکی ہیں
    خون دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب

    ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

    تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی