Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    پاکستانی بچوں کے خون میں سیسہ اور ایک نسل کا مستقبل داؤ پر،تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    مئی 2026 کے آغازمیں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارے UNICEF نے مشترکہ طور پر ایک تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس نے طبی ماہرین، ماحولیاتی ماہرین اور (بظاہر)پالیسی سازوں کے(بھی) ہوش اڑا دیے۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، کوئٹہ اور ہری پور سمیت سات بڑے شہروں میں ایک سے تین سال کی عمر کے دو ہزار سے زائد بچوں کے خون کے نمونے لیے گئے،تقریبا چالیس فیصد بچوں کے خون میں سیسے کی مقدار خطرناک حد سے زیادہ تھی۔

    یعنی پاکستان کے صنعتی شہروں میں ہر دس میں سے چار بچوں کے خون میں ایک ایسی زہریلی دھات جو بغیرکسی علامت کے ان کے دماغ، اعصاب،خون اور ہڈیوں میں جمع ہورہی ہے۔سب سے خطرناک اعداد و شمار ہری پور کے صنعتی علاقے حطار سے سامنے آئے جہاں 88 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ پایا گیا۔یہ ایسی شرح ہے جو صرف پاکستان نہیں بلکہ جو عالمی سطح پر بھی بدترین شرح ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح محض ایک فیصد رہی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صنعتی آلودگی بچوں کی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

    لیڈ یعنی سیسہ ایک بھاری دھات ہے جو زمین میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ صدیوں سے یہ پائپوں، رنگوں، برتنوں، ہتھیاروں اور صنعتی مصنوعات میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک جب اس کے انسانی صحت پر تباہ کن اثرات سامنے آئے تو مغربی ممالک نے اس پر سخت پابندیاں عائد کر دیں تھیں پٹرول، رنگ اور پانی کے پائپوں سے اسے ہٹا دیا گیا۔

    مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ دھات آج بھی مختلف شکلوں میں ماحول کا حصہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے واضح کہا ہے کہ ‘خون میں سیسے کی کوئی بھی محفوظ مقدار نہیں ہوتی’۔ یعنی اس کی ذرہ برابر موجودگی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں کے لیے۔پاکستان کے صنعتی علاقوں میں گاڑیوں، جنریٹرز اور یو پی ایس کی پرانی بیٹریاں چھوٹے غیر رجسٹرڈ یونٹوں میں توڑی اور پگھلائی جاتی ہیں۔ اس عمل کے دوران سیسے کے باریک ذرات پانی اور ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں،ایک اور بڑی وجہ جسے ہم لوگ کم علمی کی وجہ سے مفید سمجھتے آرہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں صدیوں پرانی روایت کے تحت نومولود بچوں اور بڑوں کو آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ بعض روایتی سرمے میں سیسے کی خاطر خواہ مقدار پائی جاتی ہے۔ آنکھ کی اندرونی جھلی سے یہ براہ راست خون میں جذب ہو جاتا ہے، اور آنکھ سے ناک کی نالی کے ذریعے نگل بھی لیا جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہ ایک انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

    سیسے کی سب سے بڑی سفاکی یہ ہے کہ یہ خاموشی سے نقصان پہنچاتا ہے۔ کوئی بخار نہیں، کوئی درد نہیں، کوئی فوری علامت نہیں۔ والدین دیکھتے ہیں کہ بچہ معمول کے مطابق ہنستا کھیلتا ہے، مگر اندر ہی اندر اس کا دماغ، اس کا اعصابی نظام آہستہ آہستہ متاثر ہوتا رہتا ہے۔ مگر سیسہ ایک نیوروٹاکسن ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو گہرا نقصان پہنچاتا ہے۔ IQ میں کمی، یادداشت کا کمزور ہونا، سیکھنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور توجہ کی کمی جیسے اثرات بعد میں تعلیمی کارکردگی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔WHO کے مطابق سیسہ طویل مدت میں گردوں، دل اور دماغ کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے، اور یہ ایسا نقصان ہے جو اکثر ناقابل علاج ہوتا ہے۔

    دنیا بھر میں تقریبا 80 کروڑ بچے سیسے کی آلودگی سے متاثر ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد جنوبی ایشیا میں رہتی ہے۔ مگر پاکستان کا معاملہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ یہاں اس مسئلے کے متعدد ذرائع بیک وقت موجود ہیں، تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کاری، غیر رسمی ری سائیکلنگ، پرانے بنیادی ڈھانچے، کمزور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اس سے بھی بڑھ کر شعور کا فقدان یہاں سب سے بڑا دشمن ہے۔

  • اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان

    اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان

    اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی، کتے مارنے کی کمائی اور بے بس عدلیہ،جھاڑو سے پیسے اکٹھا کرتا ستھرا پنجاب

    وزیراعلی نوبل انعام لے سکتی تھیں لیکن نااہل بیوروکریسی کی وجہ سے انہیں بد دعائیں مل رہی ہیں۔ہر ضلع میں پبلک ویلفیئر فنڈز سمیت دیگر مدات سے رقم نکال کر روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے کتے مارنے پر لگائے جا رہے ہیں مجموعی طور پر اربوں روپے کتے مارنے پر اجاڑے جا چکے ہیں لیکن ویکسینیشن کے لیے پیسے نہیں ؟سینٹری ورکرز اور درجہ چہارم کے ملازمین سمیت پرائیویٹ افراد کو کتے مارنے پر لگا دیا گیا، ایک ہزار سے لے کر دو ہزار تک فی کتا پیسے چارج کیے جا رہے ہیں جب کتے مارنے پر پیسے ملیں گے تو قاتل گھروں میں گھس کر بھی زہر دے دیں گے۔ اس کتا مار مہم میں بھی بیوروکریسی اربوں روپے ڈکار رہی ہے۔
    کرپشن میں غرق افسران، صرف پیسہ لوٹنے کے لیے وحشی درندے بن گئے ہو، ظالمو، سفاک قاتلو یہی پیسہ تم ویکسینیشن اور شیلٹر ہوم کی کرپشن سے بھی کما سکتے تھے۔ ساری گیم تو پیسے کی ہے ڈی سیز کو خدشہ تھا کہ Strychnine زہر کی طرح ویکسینیشن میں بھی سینٹرل پرچیز والے کما جائیں گے اور ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ ریونیو میں تھوڑا پیسہ کما رہے ہو جو ان معصوموں کو قتل کر کے نوچ رہے ہو، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کتنا پیسہ چاہیے تمہیں، چھوٹی سے چھوٹی تحصیل اور ضلع میں بھی کچھ نہ کر کے بھی "آٹو سیٹ” رقم اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ دنوں میں امیر ہو جاتے ہو، ضلعی جوڈشری کو مفلوج کر کے اے ڈی سی آر کو فائنل اتھارٹی بنانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ "سپیڈ منی” ریٹ 20 فیصد سے لے کر 50 فیصد تک چل رہا ہے۔

    اے ڈی سی آر کے منہ کھل گئے ہیں فوری کیس کا حل چاہتے ہو تو اتنے فیصد لاؤ، ساتھ دھمکاتے بھی ہیں کہ یاد رکھو میرا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہے۔

    میڈیا پر فخر سے ڈرامہ کرتے ہیں کہ ایک ہفتے میں اتنے فیصلے کیے جبکہ حقیقت میں کیسز کے فوری حل کے پیچھے "سپیڈ منی” کا فگر اتنا بڑا ہے کہ لوکل کیلکولیٹر پر پورا نہیں آ سکتا اہم ضلع کے اے ڈی سی آر کا ڈائلاگ مشہور ہو چکا ہے کہ یہاں کام کروانا ہے تو حصہ دینا ہوگا پچھلا ایماندار تھا تو اس نے دو سال میں کسی کا کام بھی نہیں کیا۔

    اے ڈی سی آر کو عدالتی اختیارات دینا بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ غریب کی کمائی کا 20 سے 50 فیصد تو "سپیڈ منی” میں اے ڈی سی آر لے جاتا ہے کمائی کا یہ عالم ہے کہ پنجاب کے تین بڑے اضلاع کے اے ڈی سی آر مل کر پی آئی اے خرید سکتے ہیں۔ اختیارات میں اضافے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور ڈپٹی کمشنر معزز شہریوں سے انتہائی بدتمیزی اور حقارت سے بات کرتے ہیں۔
    ایسے میں چند لاکھ کی کرپشن کرنے والے اے ڈی سی جی کو مال بنانے کے لیے کچھ تو چاہیے تھا ایم سی ایل والے بھی ریڑی اور تجاوزات سے پیسہ اکٹھا کر کے تھک گئے تھے اس لیے کتے مارنے کی کمائی کا نیا راستہ آسان منزل لگا، ویسے ستھرا پنجاب والے صفائی کریں نہ کریں لیکن جتنا مال بنا رہے ہیں انہوں نے جھاڑو کے ساتھ پیسہ اکٹھا کرنے والی مثال سچ کر دکھائی تفصیلات اگلے کالم میں۔

    سارے افسران کرپٹ اور بدتمیز نہیں ہوتے بہت سارے اچھے افسران بھی ہیں چند کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں جو واقعی دیانت اور اخلاقی اقدار میں قابل تقلید ہیں۔

    عدالتی احکامات کے باوجود سرعام کتوں کے قتل پر توہین عدالت کی کاروائی کیوں نہیں ہو رہی ؟
    روز قیامت ان معصوم و مقتول کتوں کی قاتل کے طور پر صرف ڈپٹی کمشنر اور میونسپل کمیٹی والے ہی نہیں ہوں گے بلکہ انصاف میں تاخیر کرنے والے ججز ظالم کا ساتھ دینے اور حمایت کرنے والے دیگر افسران و افراد شدید عذاب میں جبکہ اس ظلم کے خلاف خاموش رہنے والے بھی کسی حد تک اللہ کی پکڑ میں ضرور آئیں گے۔
    اگر معصوم کتوں کو قتل کرنے کی بجائے اینیمل قوانین کے مطابق ویکسینیشن کر کے سوسائٹی کا حصہ بنایا جاتا، پنجاب میں "مریم کے مہمان” کے نام سے شیلٹر ہوم بنائے جاتے جہاں پر ان بے گھروں کو گھر اور کھانا ملتا تو آج نہ صرف مریم نواز کو کروڑوں دعائیں ملتی بلکہ انہیں اس نیک کام کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جانا تھا، کتوں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیمیں وزیراعلی کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے جانور دوست پالیسی پر مریم نواز زندہ باد کے بینرز لگاتیں۔

    بے زبان و بے گھر جانوروں کی آواز اور سہارا بننے پر مریم نواز کو یقینی طور پر نوبل انعام ملنا تھا، دنیاوی عزت و اکرام کے ساتھ ساتھ اطمینان قلب اور اللہ کا خصوصی کرم بھی شامل حال ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے بزدار زدہ بیوروکریسی نے وزیراعلی کو ہیرو بنانے کی بجائے معصوم کتوں کی ملزم بنا کر رکھ دیا۔ ڈی سی سرعام کہہ رہے ہیں کہ ہم وزیر اعلی کے حکم پر کتے مار رہے ہیں۔ میڈم وزیراعلی جانوروں پر ظلم بند نہ کیا گیا تو ان بے گناہوں کی سسکیوں سے دنیاوی اور عارضی بادشاہت کا تخت سرکنے لگے گا، ابھی بھی وقت ہے قتل عام کی بجائے ان کو ویکسینیشن کریں، سایہ دیں، روٹی کھلائیں اور ان کی دعائیں لیں مظلوموں کی آہ اور دعا دونوں ہی عرش سے فرش اور فرش عرش پر پہنچا دیتی ہیں۔

    جناب فیلڈ مارشل قوم پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو آپ کا ادارہ محافظ بن کر سامنے آتا ہے آج ان بے زبانوں کو سہارے اور تحفظ کی ضرورت ہے ان معصوم کتوں کا سہارا بنیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں اس سرزمین پاک کو بے گناہ کتوں کا مقتل نہیں مسکن بنائیں۔

  • پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    کچھ سانحے اور المیے ایسے ہوتے ہیں جن کا بظاہر ہم سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا مگر وہ دل کو اس شدت سے جھنجھوڑ دیتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر انسان اپنے احساسات کو لفظوں میں نہ ڈھالے تو اندر ہی اندر ایک گھٹن، ایک کرب، ایک بے بسی مسلسل روح کو زخمی کرتی رہتی ہے۔عمر مختار راٹھور سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں۔ میں نے اسے کبھی دیکھا نہیں، اس کی آواز کبھی نہیں سنی مگر اس معصوم بچے کی تصویر اور اس کے ساتھ ہونے والی درندگی نے دل کے نہاں خانوں میں ایسا درد جگایا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سانحہ میرے اپنے گھر کے آنگن میں پیش آیا ہو۔

    پانچ برس پہلے جب میرے والدین کا سایہ سر سے اٹھا تو مجھے لگتا تھا کہ شاید دنیا میں میرے غم سے بڑا کوئی غم نہیں۔ والدین کی جدائی ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتا ہے، مگر اس کا نشان ہمیشہ دل پر باقی رہتا ہے۔ لیکن عمر کے واقعے نے یہ احساس دلایا کہ کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کے ذاتی غموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میں نے ایک ہفتے تک مختلف ذرائع سے اس مقدمے کی تفصیلات پڑھیں۔ ہر نئی خبر کے ساتھ دل مزید بوجھل ہوتا گیا، اور روح سوال کرتی رہی کہ آخر ایک معصوم بچہ کس جرم کی سزا بھگتا رہا؟

    کل ہی میں نے دو آدم خور بھائیوں کے بارے میں ایک تحریر پڑھی۔ وہ قبروں سے مردے نکالتے، ان کا گوشت پکاتے اور کھاتے تھے۔ چونکہ آئین میں "مردے کا گوشت کھانے” کے حوالے سے کوئی واضح سزا موجود نہ تھی اس لیے انہیں صرف قبروں کی بے حرمتی کے جرم میں چند ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ سزا پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ اسی بھیانک عمل میں مصروف ہو گئے۔یہ مثال ذہن میں ایک سوال پیدا کرتی ہے: کیا فاضل جج صاحبان واقعی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جو درندے ایک معصوم بچے پر ظلم کی انتہا کر سکتے ہیں وہ رہائی کے بعد معاشرے کے لیے خطرہ نہیں رہیں گے؟ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کل کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے محفوظ رہے گی؟

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ محض مجرم نہیں ہوتے بلکہ معاشرے کے ناسور بن جاتے ہیں۔ ناسور اگر وقت پر نہ کاٹا جائے تو پورے جسم کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ایسے سفاک کرداروں کو سخت ترین سزا نہ دی جائے تو معاشرہ عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔آج عمر کی فیملی صرف اپنے بیٹے کے لیے انصاف نہیں مانگ رہی بلکہ میرے اور آپ کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ عمر تو جنت کا ایک معصوم پھول تھا جو اپنے رب کے پاس لوٹ گیا۔ مگر اس کے والدین کے آنسو، اس کی ماں کی سسکیاں، اور اس کے گھر کی خاموشی ہم سب سے یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟ عمر کو انصاف دلانا دراصل اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ ایک خاندان کی جنگ نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید کسی اور ماں کی گود اجڑ جائے، کسی اور باپ کی امیدوں کا چراغ بجھ جائے، اور کسی اور گھر کی ہنسی ہمیشہ کے لیے ماتم میں بدل جائے۔ اسی لیے آج اسلام آباد پریس کلب میں عمر کی فیملی پریس کانفرنس کر رہی ہے تاکہ اس معصوم بچے کے لیے انصاف کی آواز بلند کی جا سکے۔میری تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، اہلِ قلم، اور دردِ دل رکھنے والے انسانوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آج اپنی ایک پوسٹ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ضرور شیئر کریں: "عمرکوانصاف دو۔”آئیے، ہم سب مل کر آواز اٹھائیں تاکہ قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہو کہ کوئی درندہ دوبارہ کسی معصوم کلی کو مسلنے کی جرات نہ کر سکے اور ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ، پُرامن اور باوقار معاشرے میں سانس لے سکیں۔

  • خدا کے لیے اب پاکستان کا سوچیں، کالا باغ ڈیم اور نئے صوبوں پر فیصلہ کن وقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدا کے لیے اب پاکستان کا سوچیں، کالا باغ ڈیم اور نئے صوبوں پر فیصلہ کن وقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم کب تک قیمت چکائے گی؟ قومی مفاد کے منصوبوں کو سیاست کی نذر نہ کریں

    پاکستان کی خوشحالی کا راستہ ذاتی مفادات نہیں، قومی فیصلے چاہئیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    کالا باغ ڈیم محض ایک منصوبہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کے آبی، زرعی اور توانائی کے مستقبل سے جڑا ایک اہم قومی معاملہ سمجھا جاتا رہا۔ اس پر سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ قومی نوعیت کے منصوبوں کو صرف سیاسی کشمکش اور وقتی مفادات کی نذر کر دینا قوموں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج پانی اور بجلی کے بحران پر بحث کے دوران کالا باغ ڈیم کا ذکر پھر شدت سے سامنے آتا ہے۔ اسی طرح مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کا سوال بھی محض سیاست نہیں بلکہ انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے انتظامی اکائیاں بڑھائیں، کیونکہ عوام تک اختیارات اور سہولیات کی رسائی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ اگر فیصلے ذاتی یا جماعتی مفادات کے بجائے قومی بہتری کو سامنے رکھ کر کیے جائیں تو پاکستان اپنے وسائل اور صلاحیت کے اعتبار سے ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بن سکتا ہے۔

    پاکستان ایک عظیم ملک ہے، جسے قدرت نے بے شمار وسائل، زرخیز زمین، نوجوان آبادی اور بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی معاملات میں ضد، انا اور وقتی سیاست کے بجائے وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ جب قیادت اور سیاسی قوتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچتی ہیں تو قومیں ترقی کی نئی منازل طے کرتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ قربانی دی ہے، اب وقت اس بات کا ہے کہ فیصلے بھی قوم کے بہتر مستقبل، خوشحالی اور استحکام کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار پاکستان دیکھ سکیں۔

    شعر:

    وطن کی خیر میں جو اپنی خواہشیں ہارے،
    وہی چراغ ہیں جو قوم کے مقدر سنوارے۔

  • انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی

    کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی کئی تحریریں اور خبریں نظر سے گزریں جنہوں نے دل کو بے حد بوجھل کر دیا۔ واقعی بعض سانحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر تک اتر جاتے ہیں، روح کو زخمی کر دیتے ہیں اور دل کے نہاں خانوں میں ایک مستقل درد چھوڑ جاتے ہیں۔ دو دن سے طبیعت سخت بیزار رہی۔ دل عجیب سی اداسی اور شکستگی کا شکار رہا۔ آج ارادہ کیا تھا کہ کسی ادبی گروپ کی سرگرمی میں حصہ نہیں لوں گی۔ دل کے دروازے پر ایک نوحہ مسلسل دستک دے رہا تھا، اور قلم خودبخود ہاتھ میں آ گیا۔

    "میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”
    چھ سال قبل، مختار راٹھور صاحب کے کم سن فرزند معصوم عمر راٹھور جن کی عمر پانچ سال سے بھی کم تھی، 21 دسمبر کو اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اغوا کر لیے گئے۔ اغوا کا مقصد تاوان وصول کرنا تھا۔مرکزی ملزم حمزہ جہانگیر، جو عمر راٹھور کا قریبی کزن تھا اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اس گھناؤنے جرم میں شریک تھا۔ ظلم کی انتہا دیکھیے کہ یہ سفاک لوگ چار دن تک اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر بچے کو تلاش کرنے کا ڈھونگ کرتے رہے۔ وہ والدین کے ساتھ ہمدردی جتاتے رہے جبکہ حقیقت میں انہی کے ہاتھ معصوم کلی کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔

    شدید سردی کے موسم میں عمر کو ایک کرائے کے مکان میں رکھا گیا۔ جب معصوم بچہ خوف اور تکلیف سے رونے لگا تو ظالموں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، منہ پر ٹیپ لگا دی، اور اسے الماری میں بند کر دیا۔ اندھیرے، گھٹن اور خوف کے اس عالم میں وہ ننھا فرشتہ دم گھٹنے سے اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔
    سوچیے وہ بچہ کس قدر خوفزدہ ہوگا۔ اس نے اپنی ماں کو پکارا ہوگا، اپنے باپ کو یاد کیا ہوگا، اور شاید آخری لمحوں میں یہ امید بھی کی ہوگی کہ کوئی آ کر اسے اس اندھیرے سے نکال لے گا۔ مگر افسوس! اس کی معصوم صدائیں الماری کی بند دیواروں میں دفن ہو گئیں۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ عمر کے والدین نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ برسوں کی پیشیاں، انتظار، امید اور آنسوؤں کے بعد جون 2023ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو دو، دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔ یوں محسوس ہوا کہ شاید اب انصاف کا سورج طلوع ہو گا، شاید عمر کی بے بسی کا حساب لیا جائے گا شاید ایک ماں کے دل کو کچھ قرار ملے گا۔لیکن دو دن قبل سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ یہ خبر سن کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ذہن میں بار بار یہی سوال گونجتا رہا کہ آخر ایک معصوم جان کی قیمت کیا ہے؟ کیا چند برس قید کاٹ لینا اس ظلم کا کفارہ ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ماں کے خالی آغوش اور ایک باپ کے اجڑے ہوئے خوابوں کا کوئی نعم البدل ہے؟

    ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
    عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے

    ہمارا نظامِ عدل اس قدر کھوکھلا، فرسودہ اور دیمک زدہ محسوس ہوتا ہے کہ مظلوم کو انصاف کی امید بھی ایک خواب لگتی ہے۔ آج وہ والدین، جن کے زخموں پر مرہم رکھا جانا چاہیے تھا، ایک ایسے فیصلے کے سامنے کھڑے ہیں جس نے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔چھ سال تک ہر صبح انصاف کی امید اور ہر رات آنسوؤں کے ساتھ گزارنے والے ماں باپ پر کیا گزری ہوگی؟ کتنی بار انہوں نے اپنے بیٹے کی تصویروں کو سینے سے لگایا ہوگا؟ کتنی بار اس کے کھلونوں کو دیکھ کر سسکے ہوں گے؟ کتنی بار دروازے کی طرف بے اختیار دیکھا ہوگا کہ شاید عمر دوڑتا ہوا آ جائے۔

    مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ کاش! ہمارے معاشرے میں ایسا نظامِ انصاف نافذ ہو جو مجرم کے دل میں جرم سے پہلے ہی خوف پیدا کر دے۔ ایسی سزائیں ہوں کہ کوئی درندہ کسی معصوم بچے کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے۔
    اللہ تعالیٰ عمر راٹھور کے درجات بلند فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین کو صبرِ جمیل دے۔ آمیناور اللہ ہمارے نظامِ انصاف کو حقیقی معنوں میں انصاف کا گہوارہ بنائے،کیونکہ جب معصوم بچوں کے قاتل رعایت پانے لگیں تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ پھر ہر ماں اپنے بچے کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف زدہ رہتی ہے، اور ہر باپ کے دل میں ایک انجانا سا ڈر جاگ اٹھتا ہے۔
    آخر میں دل سے بس یہی صدا نکلتی ہے:
    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

    ظالم کی رسی دراز ہے اور ڈھیل بھی دے دی جاتی ہے ۔منصفو کا منصف بھی موجود ہے ۔جب عمر اپنے رب سے شکایت کرے گا تو یہ ڈھیل بھی ختم ہو جائے گی ۔اللہ پاک بہترین انصاف کرنے والے ہیں۔

  • دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    میں بینا علی ہوں۔ میرا دل ایک ایسا آشیانہ ہے جسے اندر ہی اندر دیمک چاٹ رہی ہے۔ باہر سے دیکھو تو سب نارمل لگتا ہے۔ چہرے پر معمول کی مسکراہٹ، روزمرہ کے کام، لوگوں سے ملنا جلنا۔ لیکن اندر ہر دیوار پر ہجر کا سایہ لکھا ہے، ہر کونے میں ایک خاموش چیخ دبی ہوئی ہے۔ درد ٹھہر گیا ہے، آنسو بہنا چھوڑ گئے ہیں اور دل نے رونا بھی سیکھ لیا ہے خاموشی سے۔
    میں نے حقیقت میں جا کر سمجھا کہ شاعر نے کیوں کہا تھا:
    "ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے جدائی نے!
    کہ کھا گیا ہے تیرا غم کتر کتر کر مجھ کو!”

    موت تو ارواح کا وصل ہے، ایک سفر کا اختتام اور دوسرے کا آغاز۔ اصل قیامت تو جدائی ہے۔ عرب کہتے ہیں: "الفراق أشد من الموت”۔ ہجر موت سے زیادہ بے رحم ہے۔ کیونکہ موت ایک بار مارتی ہے، جبکہ جدائی روز مارتی ہے۔ میں نے یہ بے رحمی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اپنے سینے میں محسوس کی ہے۔ یوسفؑ کے ہجر میں یعقوب علیہ السّلام کی آنکھوں کا نور چھن گیا تھا۔ کربلا کے بعد امام زین العابدین کی پلکیں تا عمر بھیگی رہیں۔ سوگ کی میعاد چند دن ہوتی ہے، مگر غم کی میعاد پوری عمر ہوتی ہے۔ یہ غم ایک بار وار کر کے نہیں جاتا۔ یہ روز تھوڑا تھوڑا مار کر زندہ رکھتا ہے، کتر کتر کر، لمحہ لمحہ، سانس سانس۔

    دنیا کہتی ہے کہ وقت مرہم ہے، زخم بھر جاتے ہیں۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ میرے لیے وقت مرہم نہیں بنا، وہ صرف عادت بنا گیا ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں، جیتے نہیں۔ ہم مسکراتے ہیں، خوش نہیں ہوتے۔ ہر عید، ہر تہوار، ہر شادی، ہر جنازہ، ہر موقع ان کی کمی کا نوحہ بن جاتا ہے۔ ہم یادوں سے بھاگتے ہیں، اور بھاگتے بھاگتے خود کو کھو دیتے ہیں۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی کھڑا ہو۔

    والدہ محترمہ کو دیکھے بنا تین سال چھے مہینے ہو گئے۔ تین سال چھے مہینے سے گھر کی دیواریں بھی خاموش ہیں۔ ان کی دعاؤں کی چادر سر سے سرک گئی ہے اور اب دھوپ بھی کاٹتی ہے۔ جس گھر میں کبھی ان کی آواز گونجتی تھی وہاں اب سناٹا ہے۔ ہر کونا ان کی خوشبو مانگتا ہے، ہر کمرہ ان کے قدموں کا منتظر ہے، مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ اسی دن آج سے پانچ سال پہلے، میرے چچا محترم اور میرے جواں سال کزن بھی چپکے سے اس دنیا سے چلے گئے۔ ایک ہی دن دو جنازے اٹھے، اور گھر کے آنگن میں ایک ساتھ دو قبریں بنیں۔ اس دن سے یتیمی کا سفر شروع ہوا۔ یتیمی صرف والدین کا سایہ اٹھنا نہیں، یہ اس کربناک آزمائش کا نام ہے جس میں انسان خود کو بے سہارا، بے آسرا محسوس کرتا ہے۔ دنیا بڑی لگتی ہے، اور دل بہت چھوٹا۔ پانچ سال ہو گئے۔ پانچ سال سے میں باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا، دونوں کو ترس رہی ہوں۔ اپریل اور مئی میرے لیے "شھر الحزن” بن گئے ہیں۔ یہ کیلنڈر کے مہینے آتے ہیں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ ہوا بھی بھاری لگتی ہے، سانس سینے میں اٹکتی ہے، اور نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ راتیں کروٹیں بدلتے گزرتی ہیں، اور صبح ایسے ہوتی ہے جیسے دل پہ مزید بوجھ بڑھ گیا ہو ۔ وقت گزرتا ہے، مگر درد نہیں گزرتا۔ درد ٹھہر جاتا ہے۔

    لوگ کہتے ہیں صبر کرو مگر صبر کرنا سیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ صبر وہ سبق ہے جو کتابوں سے نہیں، ٹوٹے ہوئے دل سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے، آہستہ آہستہ، ٹوٹ کر اور جڑ کر۔ ربِ کریم کا شکر ہے جس نے ہمت دی۔ شکر ہے کہ یہ جدائی دائمی نہیں۔ یہ فراق عارضی ہے۔ یہی امیدِ واثق، یہی یقینِ کامل میرے ٹوٹے دل کو جوڑے ہوئے ہے کہ ہم پھر ملیں گے۔ جنت کے کسی ایسے باغ میں ملیں گے جہاں وہ پھر سے سر پر ہاتھ رکھیں گے، مسکرا کر گلے لگائیں گے، اور قہقہے گونجیں گے۔ جہاں نہ کوئی مئی ہو گا نہ اپریل، نہ فراق ہو گا نہ اشک۔ صرف وصل ہو گا، ابدی وصل۔

    میں وہ بدنصیب ہوں جس نے ایک ہی سال میں ماں اور باپ دونوں کا سایہ کھو دیا۔

    کتابِ زیست کا سب سے اداس اور اذیتوں سے بھرا صفحہ وہی ہوتا ہے جب ماں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ دعاؤں کا آنچل سرک جاتا ہے، اور ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی گرمی براہِ راست لگتی ہے۔

    آپ اداس ہوں، تنہائی محسوس کر رہے ہوں، ذہنی طور پر منتشر ہوں، دل بے نام دکھوں سے بوجھل ہو، اور ایسے میں آپ کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لینے والی، ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دینے والی، اور اپنے لمس سے روح تک کو سکون پہنچانے والی ماں موجود نہ ہو تو یہ اذیت لفظوں کے دائرہ بیان سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو لکھا نہیں جاتا، صرف جیا جاتا ہے۔ ماں آپ کی پہلی محبت ہے، پہلا لمس ہے، پہلا شفقت بھرا بوسہ ہے۔ وہ ہستی ہے جس کی گود میں دنیا کے تمام غم سمٹ کر سکون میں بدل جاتے ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ ماں کے بچھڑ جانے کے بعد میں اس کے عشق میں اس شدت سے مبتلا ہوں کہ ماں کی کمی ایک مستقل کسک بن گئی ہے۔ یہ کسک نہ بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے، بس ساتھ رہتی ہے۔

    اب اس شعر کی گہرائی سمجھ آتی ہے:
    "وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
    اب اس کا حال سنائیں کیا!
    اک آگ غمِ تنہائی کی
    جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو
    پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے
    تادیر اسے دہرائیں کیا!
    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا…”

    میرے انتظار میں مضمر، میرا راستہ تکنے والی آنکھیں نہ رہیں۔ بائیک کی آواز سنتے ہی پردہ ہٹا کر مسکرانے والے ہونٹ نہ رہے۔ تمام عمر باپ کو پہلا عشق بنائے رکھا، مگر یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ماں کے جانے کے بعد اس کی محبت کا خلا دل کو اس طرح جکڑ لے گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ اب اس احساس کے ساتھ کہ ماں نہیں ہے، سانسیں جیسے رکنے لگتی ہیں۔ الفاظ لبوں پر آ کر دم توڑ دیتے ہیں، اور اظہارِ محبت بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ لکھتی ہیں: "ماں نہ ہو تو کوئی خواہ مخواہ بلانے والا نہیں رہتا۔”

    مجھے اس خواہ مخواہ کی سمجھ اب آئی ہے۔ واقعی ماں کے بعد انسان کو اس ایک جملے کی معنویت پوری شدت سے سمجھ آتی ہے۔ دنیا میں سب کچھ مل سکتا ہے، مگر ماں جیسی بے غرض محبت دوبارہ نہیں ملتی۔ آج میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے اضطراب ماں کے لمس اور شفقت بھرے بوسوں سے دور ہوتے ہیں، ان کے سروں پر دعاؤں کا یہ آنچل ہمیشہ سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی ماؤں کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں اور جو مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

    میں آج بھی سیکھ رہی ہوں کہ غم کے ساتھ جینا کیسے ہوتا ہے۔ یہ کوئی آسان فن نہیں۔ کبھی دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کبھی عقل سمجھا دیتی ہے۔ مگر میں نے مان لیا ہے کہ یہ غم میری کمزوری نہیں، میری محبت کی گہرائی ہے۔ جس سے جتنی محبت ہو، اس کا غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔

    جب تک دل دھڑکتا ہے، ماں کی یاد زندہ ہے۔ اور جب تک یاد ہے جدائی کا زخم بھی ہے۔ یہ زخم مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں کتنی محبت کی گئی ہوں، اور میں نے کتنی محبت کی ہے۔

    بس ایک یقین ہے جو مجھے تھامے ہوئے ہے ہم پھر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس یقین پر ہی دل کا آشیانہ کھڑا ہے، ورنہ دیمک تو اسے کب کا کھا چکی ہوتی۔

  • امریکہ چین تعلقات، مفادات کی سیاست اور دنیا کا مستقبل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ چین تعلقات، مفادات کی سیاست اور دنیا کا مستقبل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ چین تعلقات: دوستی نہیں، مفادات کی سیاست کا نیا باب

    عالمی کشیدگی کے دور میں امریکہ اور چین کی قربت دنیا پر کیسے اثر انداز ہوگی؟

    واشنگٹن اور بیجنگ مستقل دوستی نہیں بلکہ مفاداتی تعاون کی حقیقت

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے، دوسری جانب مختلف خطوں میں جنگیں، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی کشیدگی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ایسے ماحول میں امریکہ اور چین جیسے دو بڑی معاشی اور عسکری طاقتوں کے تعلقات پوری دنیا پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے یا اعلیٰ سطحی سفارتی روابط بڑھتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت، تجارت اور امن پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، سرمایہ کاری کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں ہمیشہ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات پر مرکوز رہتی ہیں۔ تاہم ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات خالصتاً اعتماد پر نہیں بلکہ مفادات پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے معاشی شراکت دار بھی ہیں اور اسٹریٹجک حریف بھی۔ تجارت میں تعاون موجود ہے، مگر ٹیکنالوجی، دفاع، بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان جیسے معاملات پر اختلافات بھی شدید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلقات میں وقتی گرمجوشی مستقل دوستی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

    بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ چین ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان تعلقات میں کبھی تعاون اور کبھی مقابلہ جاری رہنا ایک فطری امر ہے۔ اگر امریکہ اور چین تعلقات میں توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو دنیا کو معاشی اور سیاسی استحکام مل سکتا ہے، لیکن اس تعلق کو مستقل دوستی کے بجائے مفاداتی تعاون کہنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا، کیونکہ عالمی سیاست جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے چلتی ہے۔

  • کتوں کا عالم ارواح میں اللہ سے شکوہ،تحریر:ملک سلمان

    کتوں کا عالم ارواح میں اللہ سے شکوہ،تحریر:ملک سلمان

    پنجاب کے 38ڈپٹی کمشنرز،151اسسٹنٹ کمشنرز اور میونسپل کمیٹی والے ہی ہمارے قاتل نہیں، اس قتل و غارت گری کا حکم دینے والے، بربریت میں ساتھ دینے والے اور ظلم پر خاموش رہنے والے پارلیمنٹیرین اور تمام سرکاری افسران بھی مجرم ہیں جنہوں نے ظلم کو روکنے کی بجائے ظالم کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔

    اے مالک کائنات تم نے کُنْ کہنا ہے اور فَیَکونُ۔ اے اللہ تجھے تیری منصفی کا واسطہ ہم پر ظلم کرنے والوں کو تباہ و برباد کر دے۔

    بے گھر کتوں کی نسل کشی اور ان پر مظالم کی انتہا کرنے میں پنجاب پہلے، سندھ دوسرے، آزاد کشمیر تیسرے، وفاق چوتھے، خیبر پختونخوا پانچویں، بلوچستان چھٹے اور گلگت بلتستان ساتویں نمبر پر ہے۔اے رب کائنات ریاست پاکستان کے مسلمانوں سے دیگر ممالک کے غیر مسلم کہیں اچھے اور نیک ہیں، کافر ممالک میں کتوں کو گھر کا فرد سمجھا جاتا ہے ناصرف کھانا فراہم کیا جاتا ہے بلکہ گرمی سردی میں گھروں اور دفاتر میں پناہ دی جاتی ہے۔ یہ کیسا اسلامی ملک اور کیسے مسلمان ہیں جو اپنے نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی بجائے جانوروں پر ظلم کرتے ہیں۔
    اسلامی تعلیمات میں جانوروں خاص طور پر کتوں کے ساتھ حسن سلوک واحد عمل ہے جس پر کافر کو بھی جنت کی بشارت مل گئی اور جانوروں پر ظلم کے بدلے مسلمانوں کو بھی جہنم اور عذاب کی وعید کی گئی۔

    اے اللہ ہم تو بھوک سے نڈھال تھے ایسے میں انتہائی غیر معیاری اور باسی کیک کو بھی تیرا شکر ادا کرتے کھانے کو لپکے لیکن معلوم نہیں تھا کہ اس کیک پر پنجاب کی ضلعی انتظامیہ نے strychnineزہر لگایا ہوا تھا۔ اے اللہ ان ظالم انسانوں کے زہر ملے کیک سے کئی منٹ تک درد کی شدت اور تڑپ سے جو تکلیف ہوئی اس کا اندازہ شاید ان انسانوں کو نہیں ہوسکتا۔ اے رب کائنات زہر اور فائرنگ سے ایک ایک قطرہ کرکے خون نکلنے اور رگیں کٹنے سے جو تکلیف پہنچی کیا تم اس تکلیف کا بدلہ نہیں لو گے؟
    اے سب سے بڑے تخت کے مالک ہمارے خون ناحق کے بدلے ان زمینی تخت والوں کے تخت الٹا دے۔
    اے اللہ مساجد تو تیرا گھر ہیں، تیرے نبیﷺ کے دور میں مسجد نبوی میں کتے داخل ہوتے تھے مگر نہ تو صحابہ مسجد دھوتے اور نہ ہی کتوں کو مارتے۔ جن مساجد سے جانوروں کے حقوق اور ان سے صلہ رحمی کی تعلیمات دی جانی چاہئے تھیں ان مساجد کے لاؤڈ سپیکر سے بدبخت ڈپٹی کمشنرز کے دھمکی آمیز اعلانات کیے جارہے ہیں کہ جہاں بھی کتا نظر آیا زہر دے کر مار دیا جائے گا۔ اے اللہ ان مولویوں نے پنجاب حکومت کے وظیفے کے بدلے یا فرعون بنے ڈی سی کے حکم کے سامنے سر جھکاتے ہوئے خلاف اسلام و انسانیت اعلان کر دیا۔
    اے اللہ تم نے ایک اونٹنی پر ظلم کے بدلے پوری قوم پر عذاب نازل کیا تھا اے اللہ ان بدبختوں کو بھی زمین میں نگل لے۔

    ایک اور کتیا زاروقطار روتے ہوئے دربار الہی میں انصاف کیلئے گرگراتے ہوئے بولی کہ اے پرودگار عالم انصاف کا تقاضہ ہے کہ میرے بچوں کو یتیم کرنے والوں کے بچوں کو بھی یتیم کر، جس درندگی سے ماؤں کے سامنے ان کے بچے مارے گئے اسی طرح ان ظالموں کو بھی اولاد کا دکھ دے۔

    اے منصف اعلیٰ یہ زمین تو ہماری تھی یہ انسان تو بعد میں آئے پہلے انہوں نے ہمارے جنگلات چھین کر کنکریٹ بچھا دیے، پھر بھی ہم ان کے ساتھ باخوشی رہتے رہے اور روٹی کے چند لقموں کیلئے گلیوں بازاروں اور کوڑے کے ڈھیڑ سے رزق اکٹھا کرتے۔ انہی انسانوں نے ہمارے کچھ ساتھیوں کو گاڑیوں کے نیچے دیگر تو کبھی پتھر مار کر زخمی کیا، زخموں کا اعلاج نہ ہونے سے جب وہ باؤلے ہو کر کاٹنے لگے تو چند باؤلے کتوں کی وجہ سے لاکھوں کو تڑپا تڑپا کر مارنا کہاں کا انصاف؟

    ہمارے نام پر بنائے گئے ادارے اور ویٹنڑی ہسپتالوں میں کرپشن تو کی جاتی ہے مگر ہمارا اعلاج نہیں۔
    اے اللہ کئی مہینوں سے جاری اس بربریت اور خون ریزی کو روکنے کیلئے کسی نے کوشش نہیں کی۔
    صحافیوں سے امید تھی کہ یہ ہماری آواز بنیں گے لیکن ان قلم فروشوں نے ہماری آواز بننے سے اس لیے انکار کردیا کہ انہوں نے سرکاری ٹھیکے اور کام نکلوانے ہوتے ہیں اس لیے یہ بھی اس قتل ناحق پر ہماری آواز نہ بنے۔

    سول سوسائٹی اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے کچھ شہریوں نے انتظامی افراد کو ہمیں پکڑنے اور مارنے سے روکنے کی کوشش کی تو ان بے ضمیر سرکاری کارندوں نے سول سوسائٹی کے ان افراد پر کار سرکار میں مداخلت کے پرچے کروا کے بند کردیا۔
    جب کبھی بین الاقواموں خبروں میں کتوں کا ذکر ہوتا تھا تو یہ سن کر بہت خوشی ہوتی کہ پاکستان کے سٹریٹ ڈاگ کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین کتوں میں ہوتا ہے۔

    اے رب کائنات ہمیں لگتا تھا کہ باقی ادارے تو کرپٹ ہیں لیکن کم از کم اس وطن عزیز کی پاک افواج جس طرح باقی شہریوں کی حفاطت کرتی ہیں ہم بھی تو اس وطن کا حصہ ہیں وہ ہمیں ضرور بچائیں گے لیکن شومئی قسمت کہ ہمارا درد، ناحق بہتا لہو اور چیخ و پکار ان تک بھی نہ پہنچ سکی۔

    سول سرکاری محکموں میں ہر طرف لٹیرے اور بے حس لوگ ہیں سوچا کہ عدلیہ تو ہمارا ساتھ دے گی لیکن وہاں بھی ایک جج صاحب نے ہماری قتل وغارت کو روکنے کے احکامات جاری کرکے دوبارہ پوچھا تک نہیں، سول افسران جو پہلے ہی عدالتی احکامات کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ زور و شور سے سرعام فائرنگ اور زہر سے خون ریزی جاری رکھی لیکن کسی جج نے نہ تو ان کو روکا اور نہ توہین عدالت کی کاروائی کی۔ اے منصف اعلیٰ تیری عدالت سے خالی ہاتھ واپس نہیں جاسکتے۔

    یا اللہ پنجاب اور وطن عزیز پاکستان میں مظالم اذیتوں اور بربریت کا شکار معصوم و بے گھر کتےخون ناحق بہانے میں ملوث ہر ظالم کے انجام کے لیے تیرے کُنْ فَیَکونُ کے منتظر ہیں۔

  • رزق کی تقسیم،تحریر: بینا علی

    رزق کی تقسیم،تحریر: بینا علی

    "اور وہ سب سے بہترین رزق دینے والاہے۔”
    ہجرت کو مقدرِ زیست بنے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا۔ نئے شہر کی اجنبیت ابھی دل پر پوری طرح طاری تھی۔شہر اور لوگ نئے تھے اور زندگی ایک نئے انداز سے خود کو ترتیب دے رہی تھی۔ انہی دنوں ایک صبح میں کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھی کہ اچانک ایک چڑا اور چڑیا کھڑکی کے قریب آ بیٹھے۔ ان کی چہچہاہٹ میں جیسے رزق کی خاموش التجا شامل تھی۔کھڑکی پر مضبوط جالی لگی ہوئی تھی اور اسے کھولنے کا کوئی راستہ نہ تھا، اس لیے بظاہر انہیں کچھ دینا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ مگر جب اللہ کسی کے لیے رزق کا فیصلہ کر دے تو وہ اس کے لیے راستے بھی خود بنا دیتا ہے۔ اچانک میری نظر جالی کے ایک سوراخ پر پڑی۔ میں نے بریڈ کے چند چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور احتیاط سے اس سوراخ کے ذریعے باہر ڈال دیے۔ چند ہی لمحوں بعد وہ پھدکتے ہوئے آئے اور خوشی خوشی اپنا حصہ لے گئے۔ یہ ایک معمولی سا واقعہ تھا، مگر دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔اب یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ وہ ہر صبح اور عصر کے بعد آتے ہیں اور اپنے ساتھ چند دوسری چڑیوں کو بھی لے آتے ہیں۔ جالی کا وہ چھوٹا سا سوراخ ان کے لیے رزق کا دروازہ بن گیا ہے،ایک ایسا دروازہ جسے میں نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے کھولا۔یہ منظر دیکھ کر میں اللہ تعالیٰ کے نظامِ رزق پر حیران رہ گئی۔ ہم خود بھی غمِ روزگار کے تحت ہجرت کرکے اس نئے شہر میں آ بسے ہیں۔ ہمارے لیے بھی رزق کے دروازے وہیں سے کھلتے ہیں جہاں تک ہماری سوچ نہیں پہنچتی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ ہمارے ہاتھوں انہی بے زبان پرندوں کا رزق بھی ان تک پہنچا دیتا ہے۔

    کتنی عظیم ہے وہ ذات جو آسمان کی وسعتوں میں اڑنے والے پرندوں کو بھی نہیں بھولتی اور پردیس میں بسنے والے انسانوں کو بھی اپنی رحمت سے محروم نہیں کرتی۔ وہی دل میں خیال ڈالتا ہے اور وہی اسباب مہیا کرتا ہے۔ کبھی جالی کا ایک چھوٹا سا سوراخ اللہ کی رحمت کا وسیلہ بن جاتا ہے، اور کبھی ایک انسان کے ہاتھ اس کی عطا بانٹنے کا ذریعہ۔واقعی، رزق کی تقسیم کا نظام عقل کو حیران اور دل کو مطمئن کر دیتا ہے۔ ہم صرف وسیلہ ہیں، دینے والا تو صرف اللہ ربّ العزت ہے۔ اس کے خزانے بے شمار ہیں وہ جسے دینا چاہے وہاں سے دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا اور جب اپنے بندوں کو نوازتا ہے تو ان کے ذریعے اپنی دوسری مخلوق کا رزق بھی پہنچا دیتا ہے۔ بے شک رازق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

  • ڈی سی شپ سدا نہیں رہنی،تحریر:ملک سلمان

    ڈی سی شپ سدا نہیں رہنی،تحریر:ملک سلمان

    معرکہ حق (بنیان مرصوص) میں شاندار کامیابی کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سپہ سالار چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی دنیا کے بااثر ترین ملٹری سربراہان میں سر فہرست کے اعزاز کے حوالے سے لکھنا چاہ رہا تھا لیکن سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے معصوم کتوں کو مارنے کی بے شمار ویڈیوز دیکھی تو تب سے شدید افسردہ ہوں، کئی گھنٹوں سے آنکھیں نم ناک، دل بوجھل اور نیند کوسوں دور ہے۔

    فیلڈ مارشل کی بدولت آج پاکستان دنیا کی افق پر چمک رہا ہے لیکن یہی پاکستان خاص طور پر پنجاب اللہ کی مخلوق کیلئے مقتل بنا دیا گیا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے ڈی سی شپ بچانے کیلئے معصوم و بے گھر کتوں کی لاشوں کے ڈھیڑ لگا دیے۔

    جنگ میں بھی جانوروں کو قتل نہیں کیا جاتا، تاریخ انسانی میں شاید ہی کسی نے اتنی سنگدلی سے معصوم و بے گھروں کتوں کو اس طرح اذیت دے کر مارا ہوگا۔پنجاب کے حکمران اور ڈی سیز کی اکثریت زندہ فرعون بنے ہوئے ہیں، حقیقی خدا کو بھول کر خود کو زمینی خدا ڈکلئیر کرچکے ہیں۔ قرآن میں جتنی دفعہ بھی کتے کا ذکر ہوا مثبت انداز میں ہوا، اصحاب کہف کے واقع میں بھی کتے کی وفادری کی وجہ سے اسے جنت کی بشارت دی گئی۔
    فتح مکہ کے موقع پر رسول ﷺ صحابہ کے ہمراہ جارہے تھے کہ راستے میں ایک کتیا اپنے بچوں کودودھ پلارہی تھی، اللہ کے نبیﷺ نے لشکر کو راستہ بدلنے کا حکم دیا اورصحابی جعیل بن سراقہ کو کتیا اور اس کی بچوں کی حفاظت پر متعین فرمایا کہ دس ہزار کا لشکر گزرتے وقت ان کو نقصان نہ پہنچے۔

    ہمارے نبی تو رحمت العالمین ہیں اور انکا حکم ہے کہ جانوروں کے ساتھ ظلم نہ کرو ان کے ساتھ رحم دلی کا معاملہ کریں۔ کیا حکمران اور ضلعی انتظامیہ اللہ کی بے آواز لاٹھی چلنے اور اس کا عذاب آنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے ماضی کے فرعونوں کے حال سے سبق نہیں سیکھا؟ ماضی میں کتنے ہی ظالم حکمران و افسران ذہنی مسائل کا شکار ہوکر لاوارثوں کے طرح ہسپتالوں میں مرے تو بہت ساروں نے خودکشیاں کیں جبکہ بے شمار کو اولاد کا دکھ ملا۔ بے سہارا ور بے زبانوں پر ظلم کا بدلہ اس دنیا اور آخرت دونوں میں ہر صورت ملتا ہے۔

    پنجاب اینیمل برتھ کنٹرول پالیسی 2021 قوانین کے مطابق بے گھر کتوں کو مارنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے پالیسی بنائی گئی تھی برتھ کنٹرول کیلئے نیوٹرلائز کیا جائے گا۔ ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فراہم کیا جائے گا۔ کتوں کو ویکسینیشن اور رجسٹرڈ کرکے ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے گا برتھ کنٹرول اور ویکسینیشن میں ناکامی پر لوکل گورنمنٹ، لائیوسٹاک اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ محکموں اور سرکاری ملازمین کا احتساب کرنے کی بجائے انہی کو منصف بنا کر معصوم کتوں کی نسل کشی پر لگا دینا بدترین ظلم اور بدیانتی نہیں؟ ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟ڈیٹا اینالسز نکال کر دیکھ لیں قیام پاکستان سے لیکر اب تک کتا کاٹنے کے اتنے کیسز نہیں ہیں جتنے کتا مارمہم سے لیکر اب تک سامنے آئے ہیں،

    جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے۔ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔

    عدلیہ سے سوال ہے کہ یہ توہین عدالت نہیں کہ آپ کے حکم امتناعی کے باوجود ضلعی انتظامیہ سرعام کتوں کو مار رہی ہے، فرعونیت کی اخیر ہے کہ مساجد میں اعلانات کے زریعے شہریوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ پالتو کتوں کو گھروں میں بند رکھو ورنہ ضلعی انتظامیہ زہر دے کر مار دے گی۔ کورٹ آرڈر کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے ڈپٹی کمشنرز کے خلاف کاروائی کیوں نہیں ہورہی؟چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ انصاف کا ترازو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس قتل و غارت کو روکنے کیلئے فوری ایکشن لیں ورنہ جب آپ حقیقی منصف کی عدالت میں جائیں گے تو وہاں آپ مجرم ٹھہرائے جائیں گے۔

    جناب فیلڈ مارشل آپکی بدولت جس پاکستان کو آج دنیا بھر میں عزت مل رہی ہے مجھے ڈر ہے کہ دنیا کے مہذب ممالک اور جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں وطن عزیز پاکستان کو بے زبان جانوروں کے قاتل، وحشیوں اور درندوں کی سٹیٹ ڈکلئیر کردیں گے۔ کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کردینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں یہ ہزاروں سال سے انسانوں کے ساتھ رہنے کے عادی ہیں انکو انسانوں سے دور نہ کرو،

    یہ جانور نہ صرف معصوم اور پیارے ہیں بلکہ اس زمین کیلئے ضروری بھی ہیں انہیں ختم کرکے ماحولیاتی تبدیلیوں کو مزید سنگین اور خطرناک حد تک نہ لیکر جائیں۔ حکومت اور سرکاری انتظامی مشینری کو چاہئے کہ ان بے گھر کتوں کو زہر نہیں ویکسینشن کریں تاکہ یہ بھی معاشرے کا پرامن اور خوبصورت کردار بن کر زندگی گزار سکیں۔
    ان بے زبانوں کو روٹی ملنی چاہئے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹے گے نہیں۔

    کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران بے شمار شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے، اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں اور جانبحق بچوں کے ورثاء کو ڈرا دھماکر چپ کروایا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کی فائرنگ اور زہر سے زخمی ہونے والے شہریوں کی ہلاکتوں او زخمیوں کا ذمہ دار کون؟
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com