Baaghi TV

Category: بلاگ

  • موسمی تبدیلیاں اور ہماری صحت ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    موسمی تبدیلیاں اور ہماری صحت ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

    موسموں کا تغیر قدرت کا ایک سدا بہار اور ناگزیر نظام ہے، جو کائنات میں تنوع، تازگی اور حسن بکھیرتا ہے۔ کڑی دھوپ کے بعد رم جھم بارشیں، بارشوں کے بعد خنک ہوائیں اور پھر برف بار جاڑے کی آمد بلاشبہ فطرت کے حسن کو دوچند کرتی ہے، لیکن اس حسن کے ساتھ انسانی وجود پر ان تبدیلیوں کے گہرے اور ہمہ گیر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی بدن بیرونی ماحول سے جدا کوئی خود مختار اکائی نہیں، بلکہ وہ اپنے گرد و پیش کے درجہ حرارت، فضائی دباؤ، رطوبت اور ہوا کے مزاج کے تابع ہے۔ جب بھی ایک موسم رخصت ہو کر دوسرے موسم کو راستہ دیتا ہے، تو جسم کے دفاعی، تنفسی، عضلاتی اور اعصابی نظام کو اس نئے سانچے میں ڈھلنے کے لیے کڑی جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اور یہی وہ عبوری دور ہوتا ہے جب انسانی صحت کو کٹھن آزمائشوں کا سامنا رہتا ہے۔

    موسمِ گرما سے برسات اور پھر برسات سے موسمِ سرما کی طرف سفر کے دوران سب سے زیادہ زد پر نظامِ تنفس آتا ہے۔ فضا میں نمی کی زیادتی اور درختوں، پودوں سے جھڑنے والے زیرہ دانوں (Pollen) کے سبب دمہ، الرجی، نزلہ، زکام اور کھانسی کی وبا تیزی سے پھیلتی ہے۔ بدلتے موسم کے ساتھ خردبینی جراثیم، وائرس اور بیکٹیریا ہوا میں تیزی سے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ گلے میں خراش، بخار اور نمونیا جیسے عوارض خصوصاً کمسن بچوں اور معمر افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، جن کا مدافعتی نظام بیرونی درجہ حرارت کے اچانک گرنے یا بڑھنے کی مدافعت اتنی جلدی نہیں کر پاتا۔

    اسی طرح موسمی اتار چڑھاؤ دورانِ خون اور دل کے نظام پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ سردیوں کی آمد پر جب پارہ اچانک نیچے آتا ہے تو انسانی جسم اپنی حرارت برقرار رکھنے کے لیے رگوں کو سکیڑ دیتا ہے۔ اس انقباض سے دل پر خون پمپ کرنے کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، جس سے بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ، دل کے دورے اور فالج کے خطرات نمایاں حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب شدید گرمی کا دور دورہ ہوتا ہے تو بے تحاشا پسینے کے باعث جسم میں پانی اور اہم معدنی نمکیات کا زبردست ضیاع واقع ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ہیٹ اسٹروک، بلڈ پریشر کی خطرناک حد تک کمی اور گردوں پر بوجھ کی صورت میں نکلتا ہے۔

    عضلاتی اور جوڑوں کی تکالیف بھی بدلتے موسم کے مستقل ساتھی ہیں۔ فضائی دباؤ کی تبدیلی اور حبس یا خنکی کے دورانیے میں پٹھوں کا کھچاؤ، گردن کا اکڑاؤ، شیاٹیکا اور جوڑوں کا درد بے پناہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ جسم کے بافتوں میں اندرونی دباؤ بڑھنے سے پرانے درد جاگ اٹھتے ہیں اور انسان خود کو سست اور لاچار پاتا ہے۔ جسمانی اثرات کے ساتھ ساتھ یہ تغیرات ذہنی و نفسیاتی صحت پر بھی گہرا سایہ ڈالتے ہیں۔ جاڑے کی چھوٹی دوپہریں، دھند اور سورج کی دھوپ کا طویل تعطل دماغ میں سیروٹونن اور میلاٹونن کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں موسمی اداسی یا ڈیپریشن جنم لیتی ہے، نیند کے معمولات درہم برہم ہوتے ہیں اور مزاج میں اکتاہٹ سرایت کر جاتی ہے۔

    ان منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے قدرت کے ساتھ ہم آہنگی اور دور اندیشی ناگزیر ہے۔ بدلتے موسم میں خوراک کا انتخاب موسمی ضروریات کے مطابق کیا جائے۔ تر و تازہ موسمی پھل، سبزیاں، گرم مشروبات جیسے یخنی اور سبز چائے مدافعت کو طاقت بخشتے ہیں۔ پانی کے متوازن استعمال کو پیاس کا احساس نہ ہونے پر بھی جاری رکھنا چاہیے تاکہ رطوبتوں کا نظام مستحکم رہے۔ سحر اور شام کی خنکی میں مناسب لباس، گردن اور سینے کی حفاظت، اور اچانک ٹھنڈک یا گرمی کے بے دریغ تصادم سے گریز انسان کو بے شمار الجھنوں سے بچا سکتا ہے۔ موسم کا تغیر درحقیقت انسان کو اپنے طرزِ زندگی کو تجدید کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے، اور وہی شخص تندرست رہتا ہے جو ماحول کے بدلتے تقاضوں کو بروقت سمجھ کر خود کو احتیاط کی ڈھال پہنا لے۔

  • جنگ کے بغیر جنگ،معیشت، اطلاعات اور ٹیکنالوجی کی بدلتی ہوئی عالمی بساط،تحریر: طاہر محمود

    جنگ کے بغیر جنگ،معیشت، اطلاعات اور ٹیکنالوجی کی بدلتی ہوئی عالمی بساط،تحریر: طاہر محمود

    دنیا بدل رہی ہے، اور اس کے ساتھ جنگ کا مفہوم بھی بدل چکا ہے۔ کبھی طاقت کا اظہار توپوں، ٹینکوں اور میزائلوں سے ہوتا تھا، مگر آج دنیا ایک ایسی جنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں بارود کم اور معیشت، اطلاعات، ٹیکنالوجی اور ذہنوں کی طاقت زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ یہ جنگ سرحدوں پر کم اور منڈیوں، ذرائع ابلاغ، سائبر دنیا اور عالمی سفارت کاری کے ایوانوں میں زیادہ لڑی جا رہی ہے۔

    اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا پر اثر و رسوخ کس کا ہوگا؟ اس کا جواب صرف فوجی طاقت میں تلاش کرنا اب کافی نہیں۔ آج وہی ملک زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے جو مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم، تحقیق، اطلاعاتی برتری اور مؤثر سفارت کاری رکھتا ہو۔

    معیشت اب محض دولت پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست کا ایک اہم ہتھیار بن چکی ہے۔ تجارتی پابندیاں، معاشی دباؤ، توانائی کے وسائل، عالمی منڈیاں، اہم معدنیات اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی اب طاقت کے ایسے ستون ہیں جن کے ذریعے ممالک ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے اس کی معیشت کو کمزور کرنا زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

    اسی طرح اطلاعات کا میدان بھی عالمی کشمکش کا نیا محاذ بن چکا ہے۔ ایک خبر، ایک تصویر، ایک مختصر ویڈیو یا چند جملے کروڑوں انسانوں کی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو خبر کا ممکنہ ذریعہ بنا دیا ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ غلط معلومات، افواہوں اور مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

    مصنوعی ذہانت نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج ایک ایسی تصویر بنائی جا سکتی ہے جو کبھی حقیقت میں موجود ہی نہ ہو، کسی شخص کی آواز کی نقل تیار کی جا سکتی ہے اور ایسا مواد تخلیق کیا جا سکتا ہے جو بظاہر حقیقت محسوس ہو۔ آنے والے دور میں شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ خبر کتنی تیزی سے ہم تک پہنچی، بلکہ یہ ہوگا کہ جو کچھ ہم دیکھ اور سن رہے ہیں، وہ حقیقت بھی ہے یا نہیں؟

    یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں قومی سلامتی کا تصور بھی وسیع ہو گیا ہے۔ اب کسی ملک کی حفاظت صرف سرحدوں کی نگرانی سے ممکن نہیں۔ اس کی معیشت، توانائی، مواصلاتی نظام، سائبر ڈھانچے، تعلیمی ادارے، تحقیقی مراکز اور اطلاعاتی نظام بھی قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔

    اس عالمی کشمکش میں بڑی طاقتیں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، نیم موصل صنعت، سائبر ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور جدید مواصلاتی نظام آنے والے برسوں کی طاقت کا تعین کریں گے۔ جو قومیں تحقیق اور علم میں آگے ہوں گی، وہ صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی طور پر بھی زیادہ مؤثر ہوں گی۔

    پاکستان کے لیے اس بدلتی ہوئی دنیا میں ایک واضح پیغام موجود ہے۔ ہماری جغرافیائی اہمیت یقیناً ایک بڑی طاقت ہے، مگر صرف جغرافیہ مستقبل کی ضمانت نہیں۔ ہمیں اپنی اصل طاقت اپنے نوجوانوں، تعلیم، ہنر، تحقیق، برآمدات، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت میں تلاش کرنا ہوگی۔

    پاکستان کی نوجوان آبادی دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں ایک بڑا سرمایہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ہنر، تحقیق کے مواقع اور روزگار فراہم کیا جائے تو یہی انسانی سرمایہ پاکستان کو عالمی معیشت میں ایک اہم مقام دلا سکتا ہے۔ ہمیں صرف صارف بننے کے بجائے علم، ٹیکنالوجی اور مصنوعات پیدا کرنے والی قوم بننا ہوگا۔

    اسی طرح عالمی سطح پر پاکستان کی سفارت کاری کو بھی نئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا۔ ہمیں طاقت کے مختلف مراکز سے متوازن تعلقات رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔ دنیا اب کسی ایک طاقت کے گرد محدود نہیں رہی؛ اس لیے دانش مندانہ، متوازن اور دوراندیش خارجہ پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اصل کامیابی یہ نہیں کہ کون زیادہ ہتھیار جمع کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون اپنی قوم کو زیادہ تعلیم یافتہ، خوشحال، باصلاحیت اور باخبر بناتا ہے۔ بندوق دشمن کو خوفزدہ کر سکتی ہے، مگر علم نسلوں کو بدل دیتا ہے۔ میزائل سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے، مگر مضبوط معیشت ملک کو عالمی سطح پر باوقار مقام دیتی ہے۔

    دنیا کی یہ نئی جنگ شاید واقعی جنگ کے بغیر جنگ ہے۔ اس میں بارود کی آواز کم سنائی دیتی ہے، مگر فیصلے بہت دور رس ہوتے ہیں۔ یہ جنگ زمین پر قبضے سے زیادہ ذہنوں، منڈیوں اور ٹیکنالوجی پر برتری کی جنگ ہے۔

    اور اس نئی عالمی بساط پر پاکستان کے لیے راستہ بالکل واضح ہے: علم کو طاقت، معیشت کو بنیاد، ٹیکنالوجی کو ہتھیار اور امن کو اپنی سفارت کاری کا اصول بنانا ہوگا۔ کیونکہ آنے والی دنیا میں وہی قومیں باوقار رہیں گی جو وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھ کر خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔

  • رزقِ حلال پر ٹوٹتی قیامت،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    رزقِ حلال پر ٹوٹتی قیامت،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

    کل آئی ٹن کی سبزی منڈی میں جو کچھ دیکھنے اور سننے کو ملا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، وہ انسانیت کے چہرے پر پڑنے والا ایک ایسا طمانچہ تھا جس کی گونج شاید بہت دیر تک میرے اندر سنائی دیتی رہے گی۔
    ایک عام سی صبح تھی۔ سڑکوں پر زندگی رواں تھی۔ کوئی سبزی کی ریڑھی سجائے کھڑا تھا، کوئی پھلوں کی ٹوکری سنبھالے گاہک کا انتظار کر رہا تھا۔ کسی کے چہرے پر رات بھر کی تھکن تھی تو کسی کی آنکھوں میں اس امید کی روشنی کہ آج کچھ کما لوں گا تو شام کو بچوں کے لیے راشن لے جاؤں گا۔ یہ لوگ کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے تھے۔ یہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے رزقِ حلال کمانے نکلے تھے۔
    مگر پھر اچانک وہ صبح خوف میں بدل گئی۔
    تجاوزات ہٹانے کے نام پر آنے والے اہلکاروں نے ریڑھیاں الٹ دیں۔ ٹوکریاں گریں، پھل اور سبزیاں سڑک پر بکھر گئیں۔ کسی کا دن بھر کا سامان کیچڑ میں لت پت تھا، کسی کی جمع پونجی لوگوں کے قدموں تلے روندی جا رہی تھی۔ اور وہ غریب، جو شاید سارا دن دھوپ میں کھڑے ہو کر چند ہزار روپے کمانے کی امید لیے آیا تھا، اپنے رزق کو سڑک پر بکھرتا دیکھ کر ہاتھ جوڑ رہا تھا۔
    کوئی کہہ رہا تھا، "صاحب! یہ نہ لے جائیں، میرے بچوں کا خرچ اسی سے چلتا ہے۔”
    کوئی اپنی ریڑھی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔
    کوئی زمین پر بکھری ہوئی سبزیاں اکٹھی کر رہا تھا۔
    اور کوئی شاید صرف خاموش کھڑا تھا، کیونکہ اس کے پاس رونے کے سوا کچھ بچا ہی نہیں تھا۔
    کیا کسی نے ان آنکھوں میں جھانک کر دیکھا کہ ان کے اندر کتنی قیامت برپا تھی؟
    ریڑھی الٹنے والوں کے لیے وہ شاید ایک معمول کی کارروائی تھی، مگر جس کی ریڑھی الٹی، اس کے لیے وہ صرف لکڑی اور لوہے کا ڈھانچہ نہیں تھا۔ وہ اس کے بچوں کی روٹی تھی، گھر کا چولہا تھا، بیمار ماں کی دوا تھی، بیٹی کی فیس تھی، اور شاید پورے خاندان کی واحد امید تھی۔
    اور پھر وہ منظر بھی سننے کو ملا جس نے اس تکلیف کو اور گہرا کر دیا کہ کارروائی کے دوران غریبوں سے چھینا یا بکھرا ہوا سامان بعد میں مبینہ طور پر آپس میں بانٹ لیا جاتا ہے یا انتہائی کم قیمت پر فروخت کر دیا جاتا ہے۔
    اگر یہ بات درست ہے تو پھر سوال صرف قانون کا نہیں، ضمیر کا ہے۔
    آخر کسی غریب کی روٹی پر ہاتھ ڈالنے کا حق کس نے دیا؟
    کسی کے بچوں کا نوالہ چھین کر اسے قانون کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟
    کسی کی دن بھر کی محنت کو سڑک پر روند کر ہم اپنے آپ کو مہذب معاشرہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟
    یہ سوال میرے اندر مسلسل شور کر رہے ہیں۔
    اور یہ صرف آئی ٹن منڈی کی کہانی نہیں۔

    یہ ہمارے معاشرے کے اس چہرے کی تصویر ہے جہاں غریب کی کمزوری سب سے آسان نشانہ بن چکی ہے۔

    کراچی کے گلبرگ میں ایک محنت کش خاتون کے فوڈ کارٹ کے خلاف کارروائی کی ویڈیوز اور خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ وہ خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی رہی کہ وہ آلو کے چپس کا اسٹال لگا کر اپنے گھر کا گزر بسر کرتی ہے۔ ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے؛ ایک عورت جو اپنے ہاتھوں سے بچوں کے لیے رزق کمانا چاہتی ہے، اگر اس کا چھوٹا سا کاؤنٹر بھی اس سے چھین لیا جائے تو اس کے پاس باقی کیا رہ جاتا ہے؟
    لاہور میں بھی تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران ایک شہری کا نیا رکشہ توڑے جانے کی خبر سامنے آئی، حالانکہ وہ رکشہ اس کے خاندان کی آمدنی کا واحد ذریعہ بتایا گیا۔
    قانون ضروری ہے۔
    شہر صاف ہونے چاہئیں۔
    تجاوزات کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
    مگر کیا قانون کا مطلب بے بسی کی تذلیل ہے؟
    کیا ریاست کا اختیار اس لیے ہے کہ کمزور آدمی کے ہاتھ سے اس کی روٹی چھین لی جائے؟
    اگر کوئی تجاوزات کر رہا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کیجیے، جرمانہ کیجیے، متبادل جگہ دیجیے، اس کا سامان محفوظ طریقے سے منتقل کیجیے۔ مگر اس طرح کہ اس کی عزت بھی محفوظ رہے اور اس کے بچوں کا چولہا بھی نہ بجھے۔
    کیونکہ ریاست صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں، ریاست اپنے سب سے کمزور شہری کی حفاظت کا نام بھی ہے۔

    سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ ایک عام آدمی آٹا، دال، چاول اور سبزی تک سوچ سمجھ کر خریدنے پر مجبور ہے، بچوں کی فیس اور بجلی کے بل کے درمیان انتخاب کر رہا ہے، زندگی بیلنس نہیں ہو پا رہی
    ایک غریب کی چند ہزار روپے کی ریڑھی قانون کی نظر میں مسئلہ بن جاتی ہے، تو غریب کہاں جائے ؟
    یہ کیسا نظام ہے؟
    یہ کیسا انصاف ہے؟
    یہ کیسی ترجیحات ہیں؟
    میں کل سے یہی سوچ رہی ہوں کہ آخر اس غریب نے ایسا کیا جرم کیا تھا؟
    وہ چور نہیں تھا۔
    وہ ڈاکو نہیں تھا۔
    وہ کسی کا حق مارنے نہیں نکلا تھا۔
    وہ صرف اپنے بچوں کے لیے روٹی کمانے نکلا تھا۔
    اس کے ہاتھ میں بندوق نہیں تھی، ایک ریڑھی تھی۔
    اس کی جیب میں حرام کمائی نہیں تھی، دن بھر کی محنت تھی۔
    اس کے پاس سفارش نہیں تھی، صرف دو ہاتھ تھے۔
    اور شاید اسی لیے وہ سب سے کمزور تھا۔
    کاش ہمارے اختیار رکھنے والے لوگ کبھی ایک صبح اپنی گاڑیوں اور دفاتر سے باہر نکل کر ان ریڑھی والوں کے درمیان کھڑے ہوں۔ کبھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ایک غریب کے لیے ایک ریڑھی صرف ریڑھی نہیں ہوتی۔ وہ اس کا چھوٹا سا کاروبار، اس کی عزت، اس کی امید اور اس کے گھر کا چولہا ہوتی ہے۔
    کل سڑک پر صرف سبزیاں نہیں بکھری تھیں۔
    کسی کے خواب بکھرے تھے۔
    کسی کی امید بکھری تھی۔
    کسی ماں کی بچوں کو کھانا کھلانے کی خواہش بکھری تھی۔
    کسی باپ کی عزتِ نفس بکھری تھی۔
    اور شاید سب سے بڑھ کر… ہماری انسانیت بکھری تھی۔
    میں اس منظر کو بھول نہیں پا رہی۔
    نہ جانے وہ لوگ آج اپنے گھروں میں کیا لے کر گئے ہوں گے؟
    شاید خالی ہاتھ۔
    شاید خالی جیب۔
    شاید بچوں کے سوالوں کے جواب میں صرف خاموشی۔
    اور شاید رات کو جب ان کے بچے سو گئے ہوں گے تو وہ خود بھی کسی کونے میں بیٹھ کر روئے ہوں گے کہ صبح جس رزق کی امید لے کر نکلے تھے، شام کو وہی رزق ان سے چھین لیا گیا۔
    یا اللہ!
    تو ان بے بس لوگوں کے آنسو دیکھ رہا ہے۔
    تو ان کے ہاتھوں کی محنت جانتا ہے۔
    تو ان کے گھروں کے چولہوں کی خاموشی سے واقف ہے۔
    تو ان بچوں کی بھوک سے بھی واقف ہے جن کے باپ آج خالی ہاتھ گھر لوٹے۔
    بس اتنا کر دے کہ جن ہاتھوں نے غریب کا رزق روندنے میں ذرا بھی رحم نہ کیا، ان کے دلوں میں کبھی اس منظر کی چبھن پیدا ہو۔
    کیونکہ غریب کی آہ بہت خاموش ہوتی ہے، مگر اللہ کے ہاں خاموش نہیں رہتی۔
    اور یاد رکھیے…
    کسی غریب کی ریڑھی گرانا شاید چند منٹ کی کارروائی ہو، مگر اس کے گھر کا چولہا بجھانا ایک پورے خاندان پر ٹوٹنے والی قیامت ہوتی ہے۔یہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں رہتا، یہ انسانی المیہ بن جاتا ہے۔
    اور شاید آج ہمیں سب سے زیادہ اسی احساس کی ضرورت ہے کہ قانون کی طاقت اپنی جگہ، مگر رحم، عزتِ نفس اور انسانیت بھی ریاست کی ذمہ داری ہیں۔

  • اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے،تحریر:محمد عثمان غازی

    اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے،تحریر:محمد عثمان غازی

    آج پاکستانی قوم کو بالخصوص اور امتِ مسلمہ کو بالعموم ضرورت ہے کہ لبرل ازم، سیکولر ازم اور کیپیٹلزم جیسے مغربی نظریات کا تجزیاتی مطالعہ کرے – پاکستانیوں کے لئے مذکورہ بالا نظریات کے گہرے مطالعہ کے ساتھ ساتھ نظریہ وطنیت، متحدہ قومیت، دو قومی نظریے اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے اور اس کی ترویج ،اپنی نئی نسلوں تک کماحقہ منقلی کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرے کیونکہ عرصہ دراز سے دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کو مختلف حوالوں سے ہدفِ تنقید بنایا جارہا ہے- ساتھ ہی اس کے ایک اور لیکن اہم پہلو یہ بھی کہ دو قومی نظریہ کو مقامِ محمدِ عربی ﷺ کے تناظر میں سمجھا جائے۔

    یہ موضوع محض ایک شاعرانہ تخیل، جذباتی نعرہ ،جوشِ خطابت یا قلم کی جولانیاں دکھانے کے لئے کوئی روایتی شوشہ نہیں ہے بلکہ دراصل وہ حقیقت ہے کہ جس پر ہمارے قومی وجود کی بنیاد پڑی اور کھڑی ہے۔
    یہ دراصل علامہ محمد اقبال کی اس مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) اور عمرانیاتی (Sociological) فکر کا نچوڑ ہے، جو انہوں نے بیسویں صدی کے فکری بحران میں مسلم اذہان (Muslim Mind) کی کایا پلٹنے کے لیے پیش کیا تھا-

    معزز قارئین ! یہ موضوع دو ایسے علمی ستونوں پر کھڑا ہے جن کا براہِ راست تعلق ہماری قومی اور انفرادی بقا اور شناخت سے ہے:

    پہلا ستون:
    دو قومی نظریہ— جو ہماری سیاسی اور جغرافیائی جدوجہد کی فکری اساس ہے۔

    دوسرا ستون:
    مقامِ محمدِ عربی ﷺ— جو اس پوری فکر کا "نقطۂ ماسکہ” (Focus) اور "مرکزِ ثقل” (Nucleus) ہے۔
    مجھے یہاں اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ مغرب کے "تصورِ وطنیت” کے مقابلے میں اقبال نے جس "تصورِ ملت” کی بنیاد رکھی، اس کے تانے بانے کلمۂ طیبہ اور رسالتِ مآب ﷺ کی ذاتِ گرامی سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟
    اس مقصد کےلئےسب سے پہلے ہمیں مغرب کے تصورِ وطنیت اور اس پراقبال کی تنقید کوسمجھنا ہوگا
    اس موضوع کی گہرائی میں اترنے کے لیے ہمیں پہلے انیسویں اور بیسویں صدی کے اس یورپی فلسفے کو سمجھنا ہوگا جس نے "قومیت” (Nationalism) کو جنم دیا۔ رینان (Renan) اور دیگر مغربی مفکرین کے نزدیک قومیت کی بنیادیں جغرافیہ، زبان، مشترکہ معاشی مفادات اور خون کے رشتوں پر استوار ہوتی ہیں۔ مغرب نے چرچ کو ریاست سے الگ کرنے (Secularization)کے بعد مرکز ِ یک جہتی کے طور پر "وطن” کو ایک نئے خدا کے طور پر متعارف کرایا،اس کی ضرورت انہیں اس لیے پڑی کہ وہ مذہب کو انفرادی زندگی میں تو باقی رکھے ہوئے تھے لیکن اجتماعی زندگی سے خارج کر چکے تھے ،مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جا چکا تھا، لہٰذا معاشرتی یکجہتی کےلئے انہیں وطنیت کے بت کی ضرورت تھی جس کو مرکز یک جہتی بناکر لوگوں کو اس کے گرد اکٹھا کیا جا سکے۔

    بیسویں صدی کے برصغیر میں اسی مغربی فلسفے کو ہندوتوا کے فکری معماروں اور متحدہ قومیت کے داعی کانگرسی علماء نے بھی اپنا لیا تھا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ "اقوام اوطان سے بنتی ہیں”۔ ہندوؤں میں دھرتی ماتا کا تصور بھی اسی تصور کا اظہار ہے۔

    اس حوالہ سے علامہ اقبال رح نے "وطنیت (یعنی وطن بطور ایک سیاسی تصور کے)” لکھی، ہمارا موضوع بھی یہی ہے، "اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے” اسی نظم کاایک مصرع ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مختصر فارسی نظم بھی "حسین احمد” کے عنوان سے موجود ہے جومحض تین اشعار مشتمل ہے، ملاحظہ فرمائیے:۔
    عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ
    ز دیوبند حُسین احمد ایں چہ بوالعجبی است
    سرود بر سرِ منبر کہ مِلّت از وطن است
    چہ بے خبر ز مقامِ محمدِ عربی است
    بمصطفٰی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
    اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

    (ارمغان حجاز حصہ فارسی)

    لیکن حکیم الامت علامہ اقبال ، جو دورہ یورپ میں خود مغرب کے فکری سرچشموں سے سیراب ہو کر لوٹے تھے، مغرب کی تہذیب کو قریب سے دیکھ کر اس کے کھوکھلے پن کو جان چکے تھےوہ اس نظریے کی فکری تباہ کاریوں کو بھی کو بھانپ چکے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہی جغرافیائی قومیت تھی جس نے یورپ کو پہلی جنگِ عظیم کی آگ میں جھونکا اور انسان کو انسان کا خون بہانے پر مجبور کیا۔
    اقبال نے اس جدید بت کی فکری جڑوں پر تیشہ چلاتے ہوئے اس تصور کو یوں بیان کیا:

    اس دور ميں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور
    ساقی نے بنا کی روش لطف و ستم اور
    مسلم نے بھی تعمير کيا اپنا حرم اور
    تہذيب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
    ان تازہ خداؤں ميں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پيرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے
    يہ بت کہ تراشيدہء تہذيب نوى ہے
    غارت گر کاشانہء دين نبوی ہے
    بازو ترا توحيد کي قوت سے قوى ہے
    اسلام ترا ديس ہے ، تو مصطفوی ہے
    نظارہ ديرينہ زمانے کو دکھا دے
    اے مصطفوی خاک ميں اس بت کو ملا دے !
    ہو قيد مقامی تو نتيجہ ہے تباہی
    رہ بحر ميں آزاد وطن صورت ماہی
    ہے ترک وطن سنت محبوب الٰہی
    دے تو بھي نبوت کی صداقت پہ گواہی
    گفتار سياست ميں وطن اور ہی کچھ ہے
    ارشاد نبوت ميں وطن اور ہی کچھ ہے
    اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسی سے
    تسخير ہے مقصود تجارت تو اسی سے
    خالی ہے صداقت سے سياست تو اسی سے
    کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
    اقوام ميں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
    قوميت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

    (وطنیت یعنی وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے)

    اقبال کا اعتراض یہ تھا کہ جغرافیائی حدود پر قائم قومیت انسانوں کو بانٹتی ہے، جبکہ اسلام انسانوں کو جوڑتا ہے۔ اگر مسلمان بھی مٹی، رنگ اور زبان کو اپنی قومیت کی بنیاد بنا لیں، تو وہ اس آفاقی پیغام سے دستبردار ہو جائیں گے جو کائنات کے تمام انسانوں کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے اعلان کیا کہ "اسلام تیرا دیس ہے”۔ یعنی مسلم کی قومیت کا پاسپورٹ اس کا جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ اس کا عقیدہ ہے۔

    دو قومی نظریہ: ایک تاریخی اور ارتقائی مطالعہ

    جب ہم "دو قومی نظریے” (Two-Nation Theory) کی بات کرتے ہیں، تو تاریخ کے طالب علم ہونے کے ناطے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ نظریہ سر سید احمد خان یا علامہ اقبال کی ذہنی اختراع نہیں تھا، بلکہ یہ برصغیر کی ہزار سالہ تاریخ کا ایک ناگزیر عمرانیاتی نتیجہ تھا۔
    قائد اعظم محمد علی جناح نے اس حقیقت کو اپنے مخصوص قانونی اور مدبرانہ انداز میں یوں بیان کیا تھا:

    "پاکستان تو اسی دن وجود میں آ گیا تھا جس دن برصغیر میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا”۔

    اس جملے کی گہرائی پر غور کیجیے۔ ایک فرد جب اسلام قبول کرتا ہے، تو وہ صرف اپنا مذہب تبدیل نہیں کرتا، بلکہ وہ ایک بالکل مختلف سماجی، قانونی اور تہذیبی نظام (Social Order) کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہندومت کا تصورحیات و کائنات "ذات پات” (Caste System) اور عدمِ مساوات پر مبنی ہے۔ جبکہ اسلام کا نظامِ حیات "مساواتِ انسانی” اور توحید پر قائم ہے۔
    یہ دو ایسے متوازی دھارے تھے جو صدیوں تک ایک خطے میں رہنے کے باوجود کبھی آپس میں خلط ملط نہ ہو سکے۔ البیرونی نے اپنی کتاب "کتاب الہند” میں ہزار سال پہلے اس تہذیبی دوری کو واضح کر دیا تھا۔

    سر سید احمد خان نے ۱۸۶۷بنارس میں اردو ہندی تنازعے کے بعد اسی تاریخی حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ دو قومیں کبھی ایک ساتھ مخلص ہو کر اکٹھی نہیں چل سکتیں اور نہ ہی کبھی ایک قوم کی تشکیل کرسکتی ہیں اگر انگریز یہاں سے چلا گیا تو اکثریت اقلیت کو دبا لے گی۔ علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ء کے خطبہ الٰہ آباد میں اسی عمرانیاتی حقیقت کو ایک سیاسی اور جغرافیائی قالب عطا کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک مسلمانوں کو ایک مخصوص خطۂ زمین پر سیاسی اقتدار حاصل نہیں ہوگا، وہ اپنے تہذیبی اور مابعد الطبیعاتی اصولوں کی حفاظت نہیں کر سکیں گے۔
    قرآنِ مجید نے اس نظریاتی تقسیم کو بہت پہلے واضح فرما دیا تھا:
    "هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ”(سورۃ التغابن: 2)
    ترجمہ: "وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن۔”
    اسلام کی نظر میں کائنات صرف دو گروہوں میں تقسیم ہے: ایک وہ جو وحیِ الٰہی کو مانتا ہے، اور دوسرا وہ جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہی دو قومی نظریے کی اصل قرآنی اساس ہے۔

    مقامِ محمدِ عربی ﷺ:ملتِ اسلامیہ کا مرکزِ ثقل (Metaphysical Nucleus)

    اب ہم اس موضوع کے سب سے نازک اور اہم موڑ پر پہنچتے ہیں۔ اگر "اسلام ہمارا دیس ہے”، تو اس دیس کا والی کون ہے؟ اس سلطنتِ فکر کا مرکزِ ثقل کیا ہے؟

    اقبال کہتے ہیں: "تو مصطفوی ہے”۔

    کسی بھی معاشرے یا ریاست کو قائم رکھنے کے لیے ایک مرکز (Center) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مغرب کے لیے وہ مرکز "پارلیمنٹ” یا "دستور” یا "سرحد” ہے۔ لیکن ملتِ اسلامیہ کے لیے وہ مرکزِ ثقل نہ تو کوئی مادی ادارہ ہے اور نہ ہی زمین کا کوئی ٹکڑا، بلکہ وہ ذاتِ گرامی ہے جسے ہم محمدِ عربی ﷺ کہتے ہیں۔
    عمرانیات (Sociology) کا اصول ہے کہ جب تک افرادِ معاشرہ کے جذبات اور وفاداریاں ایک نقطے پر جمع نہ ہوں، معاشرہ بکھر جاتا ہے۔ اقبال نے اپنے فلسفۂ خودی اور بے خودی (مثنوی اسرار و رموزِ) میں یہ ثابت کیا ہے کہ مسلم امہ کی تشکیل اور اس کا دوام صرف اور اور صرف "محبتِ مصطفیٰ ﷺ” اور "عقیدۂ رسالت” سے ممکن ہے۔

    اقبال فرماتے ہیں:

    از رسالت در جہاں تکوینِ ما
    از رسالت دینِ ما آئینِ ما
    از رسالت صد ہزار ما یک است
    جزو ما از جزو مالا ینفک است

    (ترجمہ: رسالت ہی سے دنیا میں ہماری تشکیل ہوئی ہے، رسالت ہی ہمارا دین اور ہمارا آئین ہے۔ رسالت ہی کی بدولت ہم لاکھوں ہونے کے باوجود ایک ہیں، اور ہمارا ہر جزو دوسرے جزو سے جڑا ہوا ہے۔)
    ذاتِ مصطفیٰ ﷺ مسلمانوں کے لیے صرف ایک مذہبی رہنما کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ مسلم امہ کا مابعد الطبیعاتی شیرازہ (Metaphysical Glue) ہے، جس نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو جوڑا ہوا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا ہوا مسلمان جب شہادتِ توحید و رسالت دیتا ہے، تو وہ خود کو مدینے کے اس مرکز سے جوڑ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ذاتِ رسالت مآب ﷺ پر کوئی حرف آتا ہے، تو انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک کا مسلمان تڑپ اٹھتا ہے۔ یہ مادی رشتہ نہیں ہے، یہ خالصتاً ایک وجودی (Existential) اور ایمانی رشتہ ہے۔

    اس رشتے کی مضبوطی کے لیے دو چیزیں بنیادی ہیں:

    1. اسوۂ حسنہ کا نفاذ:
    جہاں قانون، اخلاق اور سماج کا معیار صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہو۔

    2. عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت:
    یہ وہ عقیدہ ہے جو امت کو کسی بھی نئے فکری انتشار سے بچاتا ہے۔ یہ امت کے دائرے کو متعین کرتا ہے کہ جو اس مرکز سے وابستہ ہے وہ امت کا حصہ ہے، اور جو اس مرکز سے انحراف کرتا ہے وہ اس فکری دیس سے بے دخل ہو جاتا ہے۔

    "تو مصطفوی ہے” — فکری جمود اور دورِ حاضر کے چیلنجز”:

    اب میں ایک تلخ مگر ضروری تنقیدی جائزہ (Critical Analysis) لینے کی جسارت کر رہا ہوں۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ "تو مصطفوی ہے”، تو وہ ہمارے سامنے ایک آئینہ رکھتے ہیں۔ کیا آج کا مسلم معاشرہ، کیا آج کا پاکستان اپنے عمل اور فکر کے لحاظ سے "مصطفوی” کہلانے کا حقدار ہے؟
    ہم نے پاکستان تو دو قومی نظریے پر بنا لیا، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد ہم نے کیا کیا؟ ہم نے دوبارہ انہی بتوں کو اپنے دلوں میں سجا لیا جن کو توڑنے کا حکم مصطفیٰ عربی ﷺ نے دیا تھا:
    ہم نے کلمے کے آفاقی رشتے کو چھوڑ کر خود کو سندھی، بلوچی، پنجابی اور پٹھان میں تقسیم کر لیا۔
    ہم نے مسلکی اور فرقہ وارانہ نفرتوں کے ایسے بت تراشے کہ دینِ حنیف کا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا۔
    ہم نے معیشت میں سود کا وہ نظام اپنایا جس کے خلاف اللّٰہ تعالٰیﷻ اور اس کے رسول ﷺ کا اعلانِ جنگ ہے۔
    ہم نے اقبال کے شعر تو یاد کر لیے، لیکن ان کے فلسفے کو پسِ پشت ڈال دیا۔ حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:

    "لا فضل لِعربي على عجمي ولا لِعجمي على عربي… إلا بالتقوى”۔
    ترجمہ: کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں…. سوائے تقویٰ کے

    لیکن آج ہمارے معاشرے کی بنیادیں تقویٰ پر نہیں، بلکہ مادی طاقت، خاندانی اثر و رسوخ اور معاشی طبقات پر قائم ہیں۔
    ایک قلم کار اور دانشور کی حیثیت سے ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہمارا فکری جمود (Intellectual Stagnation) اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک ہم "مصطفوی ہونے” کے حقیقی تقاضوں کو پورا نہ کریں۔ مصطفوی ہونے کا مطلب روایتی قوالیوں یا سالانہ جلسوں تک محدود رہنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب علم، تحقیق، عدل، شجاعت اور انسانیت نوازی کے ان اصولوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جو مدینے کی ریاست کا طرۂ امتیاز تھے۔
    اقبال نے ہماری اسی حالت پر نوحہ گری کرتے ہوئے فرمایا تھا:
    قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
    کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
    وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

    حاصلِ کلام اور فکرِ اقبال کی معاصر معنویت (Conclusion)
    میں اس پورے مباحثے کو سمیٹتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ "اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے” محض ایک تاریخی یادگار نہیں، بلکہ یہ دورِ حاضر کے تمام فکری، سیاسی اور وجودی بحرانوں کا واحد حل ہے۔آج کی دنیا گلوبلائزیشن (Globalization) اور پوسٹ ماڈرنزم (Post-Modernism) کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں انسان کی شناخت کو مٹایا جا رہا ہے اور اسے محض ایک معاشی مہرہ (Economic Animal) بنایا جا رہا ہے۔ ایسے میں اسلام کا تصورِ ملت ہی وہ واحد آفاقی متبادل ہے جو انسان کو اس کی حقیقی روحانی اور اخلاقی عظمت سے روشناس کرا سکتا ہے۔
    پاکستان کی بقا اور ترقی کا راز بھی اسی نظریے میں پنہاں ہے۔ پاکستان کی مٹی کو اگر کوئی چیز جوڑ کر رکھ سکتی ہے، تو وہ نہ تو کوئی معاشی پیکیج ہے، نہ کوئی مادی طاقت، بلکہ وہ صرف اور صرف اسلام کا نظریاتی دیس اور مصطفوی مرکزیت ہے۔ اگر ہم نے اس مرکز کو چھوڑ دیا، تو ہمارا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگے گی۔
    اب یہ میری، آپ کی اور خاص طور پر تمام دانشوروں ،قلم کاروں اور محققین کی ذمہ داری ہے کہ ہم دو قومی نظریے کو جدید علمی اور عقلی زبان میں نئی نسل کے سامنے پیش کریں۔ ہمیں روایت پسندی کے خول سے نکل کر اسوۂ حسنہ کے معاشی اور سیاسی ماڈلز(اسلام کے تصور عدل اجتماعی) کو دنیا کے سامنے ایک چیلنج کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔
    آئیے! اجداد کے اس فکری ورثے کو سنبھالیں اور دنیا کو بتائیں کہ ہماری شناخت نہ مٹی سے ہے، نہ خون سے، بلکہ ہماری شناخت تاجدارمدینہﷺ سے ہے۔
    میں اپنی گفتگو کو علامہ اقبال کے ان لازوال اور فکر انگیزا شعار پر تمام کرتا ہوں:
    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی
    ان کی جمیعت کا ملک ونصب پر انحصار
    قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تیری

  • نئے انتظامی یونٹس اور آبادی کا توازن: مستقبل کے پاکستان کی کلید،تحریر: نعیم خان

    نئے انتظامی یونٹس اور آبادی کا توازن: مستقبل کے پاکستان کی کلید،تحریر: نعیم خان

    کسی بھی ملک کا نظام اس کے شہریوں کی فلاح اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھ جائے لیکن حکمرانی کا پرانا طریقہ وہی رہے تو پورا نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ آج اگر ہم ایک تجربے کار اور حساس انسان کی طرح اپنے ملک کی حالت پر نظر ڈالیں تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل پر بڑھتا ہوا آبادی کا بوجھ اور تمام اختیارات کا چند بڑے شہروں میں جمع ہو جانا ہے۔

    اس وقت ہماری آبادی دگنی ہو چکی ہے جبکہ صوبائی حدود اور انتظامی ڈھانچہ وہی دہائیوں پرانا ہے۔ جب 24 کروڑ سے زائد لوگوں کے تمام فیصلے صرف چار صوبائی دارالحکومتوں سے ہوں گے تو دور دراز کے علاقوں میں محرومی کا پھیلنا ایک فطری بات ہے۔ موجودہ حکومت میں نئے انتظامی یونٹس یا 160 بااختیار اضلاع بنانے کی جو تجویز سامنے آئی ہے وہ محض ایک سیاسی بحث نہیں بلکہ عوامی ضرورت ہے۔ آئینی طریقہ کار کے تحت اگر اختیارات اور فنڈز کو نچلی سطح تک منتقل کر دیا جائے تو نہ صرف گورننس بہتر ہوگی بلکہ سالانہ اربوں روپے کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کا ویژن اس معاملے پر بالکل واضح اور حتمی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک ہم طاقت اور وسائل کو اضلاع کی سطح تک منتقل کر کے عوام کی دہلیز پر نہیں لائیں گے معاشی اور سیاسی استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔

    دوسری طرف آبادی کا بے ہنگم اضافہ ہماری تمام معاشی پیشرفت کو نگل رہا ہے۔ اس وقت آبادی کے بڑھنے کی شرح 2.1 فیصد سے اوپر ہے جسے 2030 تک 1.1 فیصد پر لانا ایک قومی ہدف بن چکا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے مانع حمل ادویات پر ٹیکس ختم کیے ہیں اور خاندانی بہبود کے مراکز کی توسیع کا کام شروع کیا ہے لیکن یہ پروگرام زبردستی کی بجائے مکمل طور پر رضاکارانہ اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ اگر ہم نے اس شرح کو کنٹرول نہ کیا تو تعلیم ، صحت اور روزگار کی فراہمی مزید مشکل ہو جائے گی۔

    حقیقی اور پائیدار حل یہی ہے کہ ہم نئے بااختیار اضلاع کی تشکیل اور آبادی کے توازن کو ملا کر ایک عملی حکمتِ عملی بنائیں۔ جب ہم 160 اضلاع کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات دیں گے تو وہی بااختیار اضلاع اپنے علاقوں میں تعلیم ، صحت اور خاندانی بہبود کے پروگراموں کو زیادہ کامیابی سے چلا سکیں گے۔ عبدالعلیم خان کی قیادت میں ہمارا پختہ یقین ہے کہ سیاسی تعصبات سے اوپر اٹھ کر اگر ہم طاقت عوام کو سونپ دیں اور آبادی کو قابو کر لیں تو پاکستان اپنے تمام بحرانوں سے نکل کر ایک مضبوط ، خود مختار اور خوشحال ملک بن سکتا ہے

  • غزل،نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا ،شاعر:جاویدؔ ڈینی ایل

    غزل،نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا ،شاعر:جاویدؔ ڈینی ایل

    غزل
    شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

    نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
    کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا

    خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں
    مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا

    ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن
    کسی سے بھی طبیعت کا کوئی زینہ نہیں ملتا

    لٹا دے جان بھی اپنی کسی محبوب کی خاطر
    محبت میں کوئی اس سے بڑا درجہ نہیں ملتا

    بہت آواز دیتے ہیں اُسے اہلِ محبت بھی
    جِسے نفرت کے جنگل میں کوئی رستہ نہیں ملتا

    سبھی چہروں پہ ہیں پہرے، سبھی لہجوں پہ تالے ہیں
    کسی کے دل تلک جانے کا دروازہ نہیں ملتا

    زمانے بھر کی رونق بھی سبھی کچھ پاس ہے اپنے
    مِری آنکھوں کو پھر بھی چین کا لمحہ نہیں ملتا

    بہت سے لوگ ملتے ہیں، تعلق بھی نبھاتے ہیں
    مصیبت میں مگر اکثر کوئی اپنا نہیں ملتا

    ہر اِک منبر پہ بیٹھے ہیں یہاں حق بات کہنے کو
    بھرے بازار میں سچ کا کوئی چہرہ نہیں ملتا

    حکومت کے بڑے دعوے ہیں ہر اخبار کی زینت
    غریبوں کو ابھی تک اُن کا حق پورا نہیں ملتا

    بہت لکھتا ہے تُو جاویدؔ ! دل کی وارداتوں کو
    مگر ہر شخص کو یہ درد کا لہجہ نہیں ملتا

  • طوائف کی ترمیم ،تحریر: یوحناجان

    طوائف کی ترمیم ،تحریر: یوحناجان

    مشہور دانش ور اور مزاح نگار کے الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس کا تجزیہ اور مشاہدہ ہوتے ہیں۔ جو اس کے گردوپیش ہونے والی حرکات و سکنات کا ایک جامع لباس ہوتا ہے۔ اس لباس میں کچھ کالے رنگ کا بھی ہوتا ہے جو ایک طرح خالص پردے کا پہناوے ثابت ہوتا ہے۔ اس میں چاہے وہ کالی شلوار ہو یا قمیض۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہاں ان الفاظ کے عوض سعادت حسن منٹو کا افسانہ کالی شلوار یاد آ گیا ہو یا قمیض تیری کالی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے ایک پرانے گانے کو خراج تحسین پیش کرنا یاد ہو۔

    پھول کا پہناوا ایک طوائف کے کوٹھے پر بھی اُتنا ہوتا ہے اور قبر پر بھی۔ ، رنگت ، بناوٹ ، خوشبو یہاں تک شکل بھی وہی ہے چاہے وہ قبروں کی زینت ہو یا طوائف زینت کی کلائی ہو۔ ترمیم جگہ ، مقصد اور کرنے والے کی نیت میں ہوتی ہے۔ اب تو ترمیم اس حد تک ہو گئی کہ تحفوظ تک دینے کے لیے جگہ ، نام ، مذہب ، عقیدہ اور جنس تک بدلتی ہوئی ملی۔

    کبھی ایک بازار تھا ، ایک مقصد تھا مگر اب جگہ جگہ اور مقاصد ہیں۔ والدین نے بچپن سے ہی بات سمجھانا چاہی کہ بیٹا سگریٹ نوشی سے دور رہنا ہے کیونکہ یہ ایک بُری لت ہے۔ میں نے سُن کر سُنا ان سُنا کر دیا۔ کئی بار اسکول آتے جاتے دوستوں کو سگریٹ کی باتیں کرتے سُنا یہی ہونا تھا کہ ایک دن وہ سگریٹ پیتے پکڑے گئے۔ خوب دُرگت بنی۔ اسکول سے بھی نکال دیا گیا۔ اساتذہ نے دوبارہ داخلہ دینے سے انکار کردیا۔ اس واقعہ کے چند روز بعد وہ دوست گلی کی نکڑ پر ملے۔ پوچھا کہ کون سا ایسا کام کر ڈالا جس کی وجہ سے یہ سب دیکھنا پڑا۔ وہ ذرا سی ہلکی آواز میں بولے سالے کیپٹن کا سگریٹ پیا تھا۔
    ان سے دریافت کیا کہ کہاں سے خریدا تھا۔ انھوں نے پھر نرم گوشی میں کہا مروائے گا کیا۔۔۔۔۔۔؟
    دریافت کرنے کے اصرار پر بولا یہ فلاں کے جنرل سٹور سے۔
    ایک دم قہقہہ لگا اور سن کر چل دیا۔ گھر والوں سے اس بات پر بات ہوئی۔ والد صاحب فرمانے لگے بیٹا سگریٹ کے دھواں سے بھی دور رہو۔ یہ جس کے منہ سے نکلتا ہے اُس سے بھی خطرناک زہر بن کر نکلتا ہے۔ جہاں سے ملے وہاں سے دس قدم دور گزرنے کی کوشش کرو۔ اپنے اندر ترمیم کیا کرو باہر خود بخود ہو جایا کرے گی۔
    بات ہضم نہ ہونے والی تھی۔ والد صاحب سے پوچھا تو پھر طوائف بھی تو دور دور بھاگتی ہے پر ترمیم کا جادو نون ، میم ، جیم اور کریم پر کیوں نہیں۔ وہ بھی تو کچھ یہی کام کی ہیں۔ خریدنے والے کی جیب کبھی بھی اور کسی بھی جگہ ترمیم کرتی ہوئی پائی جا سکتی ہے۔ چاہے وہ حُور ہو یا مجبور ، حیرت کی نگاہ یا غیرت ، فلاں بھی ناداں ، مستی گیٹ کے عقب ہو یا پھر سینوں میں جلتی ہوئی پیٹ کی چربی۔ چمن کی عریاں حوریں چاکِ گریباں کیے بیکرانہ فضا میں سانس لیے کُھوئی ہوئی نگاہ کو یقین کا ہاتھ دینے اپنے بدن کی ترمیم پیش کرتی ہیں۔ جس کو آتش کا نام ، صادق و امیں کی داستاں ، عشق و مستی کا طغیاں ، بے باکی کا ساماں اور مثل خزاں پیدا کیے جابجا برقعہ پوش کے روپ میں اُلٹ جائیں گے۔ حد ادراک سے باہر عین غین اور ہاتھوں میں ٹین ڈبہ اور کین۔ جس کے اوپر لیبل تو پیپسی ، کوک اور ڈیو ہے۔ خوشبو میں چہک ، بہک ، لہک اور آخر میں مہک ، چاہے اس میں کوئی ملٙک ہو یا مُلک دونوں میں کوئی نہ ہو تو پھر مِلک۔ ان تینوں اصطلاحات میں زیر، زبر اور پیش کا اہم کردار ہے۔ انحصار تو کرتا ہے قاری پر وہ زبر سے زیر ہوتا ہے یا نہیں ورنہ یہ تو بات تصدیق پر مبنی ہے پیش تو عدالت میں ہونا ہے۔
    اس زیر ، زبر اور پیش کی ترمیم کو آپ کیا مطلب دیتے ہیں۔۔۔۔۔ ؟

    کہیں ذات پات کی تو کہیں پات کو الگ کرکے ترمیم کے ذریعے پتے کا نام بھی تو دیا جا سکتا ہے۔ اسی کے اول حصہ کو خداوند کریم کے ساتھ لگا دیں تو اس کی وحدانیت کا معانی بھی ہو سکتا ہے۔ اب یہی ترمیم بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ایک تر ( نمی) جو کسی کے پسینے ، طوائف کو دیکھ کر منہ سے نکلتی رال یا کسی کی آنکھوں سے نکلتے آنسو بھی ہو سکتے ہیں اور دوسرا میم ( مونث ) کی اصطلاح کا دامن لیے کروٹ بدلتے بدلتے بھاٹی گیٹ کے چوراہے سے کہیں سے کہیں چلی گئی۔ جگہ جگہ پڑاو ، راہ جاتے برقعہ پوش ، کنال کے کنارے دھمال اور تعلیم گاہ کے آمنے سامنے مُنا اور مُنی دونوں برسراقتدار ہوئے۔ وہیں سے چلتے چلتے یہ ہوا ، دوا ، گدھا اور پری کی ادا اپنے پٙر کھولتے ہوئے پارلیمان کی زینت ، حسینت اور بصد شوق کی ریستوان میں لگی اندھوں کے رحم پر کمینت جگہ جگہ منٹو پر اعتراض کرنے والوں کے کردار کی ہمہ وقت خوب صورت ہونے والی نیت پر فریفتہ کبھی دائیں اور کبھی بائیں کروٹ لیتی کیفیات کا تصور ہے۔ جو گوہرِ مقصود کو ڈھونڈتی شمشان گھاٹ کی راکھ کا نتیجہ ثابت ہوئی۔

    ماں باپ کی منتیں ، چڑھاوے اور نیاز سب کی سب روحانی نقائص کی بھینٹ چڑھ گیا۔
    رنگ زرد ، تبدیلی کا چہرہ ، میک اپ کا نور ، بیماری و یماری سمجھ کر دل میں کچھ پیدا کرنے لگی۔ یہی پیدا شدہ صورت حال بعض دفعہ بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ محبت ختم ہو گئی۔ محبت تو آج بھی پہلے پھول کو ہاتھوں میں ، بالوں میں ، چہرے پہ ، خوشبو میں ، رنگت میں ، سنگت میں ملتی ہے۔ بعدازاں وہی نظریہ ضرورت بن کر ٹھکرا دی جاتی ہے جس کے دلائل پاوں میں روندے جانے کی نشانی ثابت ہوتی ہے۔ شاید قاری یہاں یہ سمجھتا ہو کہ لکھنے والے کے اندر وٹامنز ختم ہو چکے ہیں ایسا ہرگز نہیں انھیں پروٹوکول ہی اتنا ملتا ہے جتنا ایک وقت میں دوسری بار ملاقات کرنے کو سنگ ملتا ہے۔
    اس پھیکی مسکراہٹ اور لبوں پر پیدا ہونے والے ارتعاش نے کسی کو غم اور کسی کو خوشی کا احساس دیا۔ دونوں ایک ہی وقت میں رونما ہوئے چاہے اب کوئی خائف ہو کر اس کو طوائف کی ترمیم سمجھ لے یا ایک طویل فاصلہ زندگی کے ناکام پہلو ۔۔۔۔۔۔
    جس کے عقب میں شراب ، کباب اور احباب جو سب مل کر ایک زندگی کا باب بن جائے گا۔ تاریخ دان ضرور حمل کے گر جانے کا ذکر کرئے گا۔ ممکن ہو تو راجکماری کی نظر میں محبت کے گرنے کا تذکرہ بھی ہو گا۔ جو صرف دلچسپ گفت گو کو بنانے کے حربے تلاش کرکے دیوار کے پلستر کو اُکھاڑ دے گا۔ وہی دیوار بدمزہ ، بے صورت اور خواہشات سے دور کہیں توجہ کا خلا پائے گی۔ بعض دفعہ بجے بڑی تکلیف سے پیدا ہوتے ہیں مگر یہی بچے کوئی ترمیم کے راستے کو اپناتے ہیں چاہے وہ لاہور کے علاقہ کا عام بازار ہو یا قانون دانوں کے قانونی راستے پھر بعد میں ہونے والا درد پہلے سے بھی شدید اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ میری توجہ محبت کی ترمیم ہے جو غلام محمد کے دل میں بھی پیدا ہونے والی ہو سکتی یا پھر بجلی کے قمقمے کی روشنی کو دیکھ کر تحت الشعور میں جاگنے والی کسی اجنبی کے بلا عنوان کی بابت بھی ہو سکتی ہے۔ میرا مطلب یہاں محبت بُری نہیں صرف طواِف کی ترمیم مُراد ہے جو جلتی ہوئی رسی کی مانند بل کھاتی ہوئی بھی اپنا نقش خامشی میں ماند کر لیتی ہے۔ ایک طرح ترمیم کرتی جاتی ہے۔

  • سانس لیتے مُردے،تحریر: عبدالحفیظ شاہد

    سانس لیتے مُردے،تحریر: عبدالحفیظ شاہد

    بہت عرصہ نہیں گزرا،ایک وقت تھا، آج سے کوئی نو دس سال پہلے تک، جب محلے کا بچہ صرف اپنے گھر کا بچہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ وہ پوری بستی کا بچہ ہوتا تھا۔ گلی میں کھیلتا ہوا کوئی بچہ اگر کسی بڑے کی نظر میں آ جاتا تو وہ اسے یوں دیکھتا جیسے اپنی اولاد کو دیکھ رہا ہو۔ کسی کے گھر کی بچی گلی میں کھیل رہی ہوتی تو محلے کے بزرگ اس کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ کسی کی بیٹی راستے میں نظر آ جاتی تو اسے اپنی بیٹی سمجھا جاتا تھا۔ ماں باپ کو یہ اطمینان ہوتا تھا کہ اگر ان کا بچہ کچھ دیر گھر سے باہر بھی ہے تو محلے میں کئی آنکھیں اس کی نگہبان ہیں۔ وہ زمانہ شاید بہت زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھا، لوگوں کے پاس آج جیسی سہولتیں نہیں تھیں، موبائل فون نہیں تھے، ہر ہاتھ میں کیمرہ نہیں تھا مگر دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت تھی۔ بچوں کی شرارتیں سب کی مشترکہ تھیں اور ان کی حفاظت بھی سب کی مشترکہ ذمہ داری تھی۔ کسی گھر کا بچہ دیر تک واپس نہ آتا تو صرف اس کے والدین ہی پریشان نہیں ہوتے تھے، پڑوسی بھی دروازے سے باہر نکل آتے تھے۔ کسی بچے کو کوئی اجنبی بہلا پھسلا کر لے جانے کی کوشش کرتا تو پوری گلی اس کے پیچھے کھڑی ہو جاتی تھی۔ شاید اسی کو بستی کہتے تھے، شاید اسی کو معاشرہ کہتے تھے، شاید اسی کو زندہ انسانوں کی آبادی کہتے تھے۔

    مگر پھر جانے ہمیں کیا ہوا۔ ہماری بستیاں وہی رہیں، مکان بڑے ہو گئے، دروازے خوب صورت ہو گئے، سڑکیں پکی ہو گئیں، موبائل فون جدید ہو گئے، انٹرنیٹ ہماری ہتھیلی میں آ گیا، لیکن ہمارے دل چھوٹے ہوتے گئے۔ ہم اپنے اپنے گھروں میں بند ہوتے گئے۔ ہمیں اپنے بچوں کی فکر تو ہے مگر دوسرے کے بچے سے ہماری دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر کی عزت عزیز ہے مگر گلی کے دوسرے گھر میں ہونے والے ظلم سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ ہم خبریں سنتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں، ایک پوسٹ شیئر کرتے ہیں، دو چار غصے والے جملے لکھتے ہیں اور پھر اپنی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

    اور سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ جنہیں ہم نے اپنی حفاظت اور اپنے مستقبل کی علامت سمجھا تھا وہی بچے آج سب سے زیادہ غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کوئی بچہ اغوا ہو جاتا ہے، کبھی کوئی معصوم بچی کئی دن لاپتہ رہنے کے بعد مردہ ملتی ہے، کبھی کسی ننھی جان کے ساتھ ایسا ظلم ہوتا ہے کہ انسان خبر پڑھ کر بھی اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ پانچ سالہ آیت نور کا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔ ہری پور میں لاپتہ ہونے والی اس معصوم بچی کی لاش ایک کنویں سے برآمد ہوئی اور پولیس و میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ یہ صرف ایک بچی کی موت نہیں تھی بلکہ یہ ہماری اجتماعی بے حسی کے منہ پر ایک اور طمانچہ تھا۔ اس مقدمے کی تفتیش اور پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھے اور معاملہ ابھی قانونی مراحل سے گزر رہا ہے، اس لیے ہمیں الزام اور فیصلے میں فرق بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ مگر ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک پانچ سالہ بچی کو ہم نے کس دنیا کے حوالے کر دیا ہے؟

    یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ زینب کا نام آج بھی ہماری اجتماعی یادداشت پر ایک زخم کی طرح موجود ہے۔ ایک معصوم بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مجرم گرفتار ہوا، عدالت سے سزا ہوئی اور بالآخر اسے پھانسی دی گئی، مگر اس سانحے نے ہم سے ایک ایسا سوال پوچھا تھا جس کا جواب آج بھی ہم پوری طرح نہیں دے سکے کہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ کیوں نہیں بنا سکے؟

    ہمیں شاید اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا اور قتل صرف ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ اس وقت بھی ہمارا مسئلہ ہے جب متاثرہ بچہ ہمارے گھر کا نہ ہو۔ کیونکہ آج کسی دوسرے کا بچہ نشانہ بنا ہے، کل ہمارا بچہ بھی کسی سڑک، کسی گلی، کسی سکول، کسی مدرسے، کسی پارک یا کسی ایسے شخص کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے جس کے چہرے سے اس کے ارادے پہچانے نہیں جا سکتے۔

    بچوں کی حفاظت صرف انہیں گھر میں بند کر دینے کا نام نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم انہیں سکھائیں کہ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے، دھمکائے، کسی غلط لمس کی کوشش کرے، کوئی راز رکھنے چھپانے پر مجبور کرے یا کسی بہانے سے الگ جگہ لے جانے کی کوشش کرے تو فوراً کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں۔ والدین کو بچوں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ بعض اوقات بچہ کچھ کہنا چاہتا ہے مگر اسے ڈانٹ کے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ اشاروں میں بات کرتا ہے اور ہم اسے بچوں کی معمولی شرارت سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے دوست بننا ہوگا۔

    قرآن ہمیں اپنی ذات کے ساتھ اپنے گھر والوں کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے: "قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا”، یعنی اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔ یہ ذمہ داری صرف کھانا، کپڑا، تعلیم اور مکان فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اولاد کی اخلاقی تربیت، ان کی حفاظت، ان کی نگرانی اور ان کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

    اسلام نے نگاہ کی حفاظت، پاکیزگی اور حدود کی پابندی کو صرف کسی ایک فرد کا معاملہ نہیں بنایا بلکہ ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔ قرآن مجید میں مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔مگر افسوس کہ ہم نے دین کو بھی اپنی سہولت کے مطابق تقسیم کر لیا ہے۔ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، مذہبی گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنے گھر کے بچے کی بات سننے، اسے محفوظ ماحول دینے اور دوسروں کے بچوں کو بھی امان دینے کو شاید اتنی اہمیت نہیں دیتے۔ دین صرف عبادات کا نام نہیں، دین انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔ جس دل میں اللہ کا خوف ہو، وہ کسی کمزور پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ نیک اعمال میں جلدی کرو، اس سے پہلے کہ ایسے فتنے آئیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں۔ آج ہمیں اس حدیث پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ فتنہ ہمیشہ اچانک ایک بڑے دھماکے کی صورت میں نہیں آتا۔ پہلے ہم ایک بری خبر سن کر حیران ہوتے ہیں، پھر دوسری خبر پر صرف افسوس کرتے ہیں، پھر تیسری خبر پر چند لمحوں کے لیے رک کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ دل آہستہ آہستہ عادی ہو جاتا ہے۔ یہی سب سے بڑا خطرہ ہے کہ ظلم بڑھتا رہے اور ہماری حساسیت کم ہوتی رہے۔

    میڈیا کا کردار بھی یہاں بہت اہم ہے۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو محض سنسنی خیز سرخی، خوفناک تفصیل اور کلکس حاصل کرنے کے لیے پیش کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ بچے کی شناخت، تصویر اور ایسی تفصیلات جو اس کی عزت یا مستقبل کو نقصان پہنچائیں، ان سے مکمل احتیاط ضروری ہے۔ میڈیا کو جرم چھپانا نہیں چاہیے مگر جرم کو تماشہ بھی نہیں بنانا چاہیے۔ خبر ایسی ہونی چاہیے جو عوام کو خبردار کرے، اداروں کو جواب دہ بنائے اور والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے متوجہ کرے، نہ کہ مجرم ذہن رکھنے والوں کے لیے جرم کی تفصیلات کا نقشہ بن جائے۔
    ریاست کی ذمہ داری اس سے بھی بڑی ہے۔ قانون موجود ہونا کافی نہیں، قانون کا بروقت اور غیر جانب دارانہ نفاذ ضروری ہے۔ پولیس کو ابتدائی رپورٹ سے لے کر تفتیش تک ہر مرحلے میں سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ عدالتوں کو قانون کے مطابق جلد اور مؤثر انصاف دینا ہوگا۔ مجرم کو سزا ضرور ملنی چاہیے، مگر سزا قانون کے ذریعے، مکمل ثبوت اور عدالتی عمل کے بعد کیونکہ غصے میں کیا گیا ہجوم کا انصاف بھی معاشرے کو جنگل بنا دیتا ہے۔
    ہمیں اپنے سکولوں، مدارس، مساجد اور گھروں میں بچوں کی حفاظت کے بارے میں عمر کے مطابق تعلیم دینی ہوگی۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ اچھا لمس کیا ہے، برا لمس کیا ہے، کون سی بات فوراً والدین یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتانی چاہیے، اور اگر کوئی انہیں ڈرائے تو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ یہ تعلیم بے حیائی نہیں، حفاظت ہے۔ بچے کو خطرے سے آگاہ کرنا اسے خطرے میں ڈالنا نہیں بلکہ خطرے سے بچانا ہے۔
    اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بچوں کے گرد کون لوگ موجود ہیں۔ ہر اجنبی خطرناک نہیں ہوتا اور ہر جاننے والا محفوظ نہیں ہوتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے والدین کو سمجھنا ہوگا۔ بچے کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ اجنبی سے چیز نہ لینا بلکہ اسے یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ اگر کوئی شناسا شخص اسے ایسی بات کہے جو اسے عجیب یا شرمندہ کرنے والی لگے تو وہ فوراً والدین کو بتائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچہ یہ یقین رکھے کہ اگر میں کچھ بتاؤں گا تو مجھے ڈانٹا نہیں جائے گا، میری بات سنی جائے گی۔
    ہمیں اپنے محلوں کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا۔ اگر گلی میں کوئی بچہ رو رہا ہے تو یہ سوچ کر آگے نہ بڑھ جائیں کہ اس کے گھر والے دیکھیں گے۔ اگر کوئی بچہ کئی گھنٹے غیر معمولی طور پر اکیلا دکھائی دے تو پوچھ لینا جرم نہیں۔ اگر کسی بچے کے رویے میں اچانک خوف، خاموشی یا غیر معمولی تبدیلی آئے تو اسے محض ضد یا بدتمیزی سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ کبھی کبھی بچے زبان سے نہیں، اپنے رویے سے فریاد کر رہے ہوتے ہیں۔
    اور شاید ہمیں اپنے اندر یہ سوال بھی پیدا کرنا ہوگا کہ آخر ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟ کیا یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کسی کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھا جاتا تھا؟ کیا یہ وہی گلیاں ہیں جہاں بچے بے فکری سے کھیلتے تھے؟ کیا ہماری ترقی نے ہمیں انسان سے صرف تماشائی بنا دیا ہے؟ ہمارے ہاتھوں میں موبائل ہیں، مگر کیا کسی روتے ہوئے بچے کا ہاتھ تھامنے کی ہمت بھی باقی ہے؟ ہمارے پاس ہزاروں دوستوں کی فہرست ہے، مگر کیا ہمارے پڑوس کے بچے کا نام بھی ہمیں معلوم ہے؟
    یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں، صرف پولیس کا نہیں، صرف والدین کا نہیں۔ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ اگر ایک بچہ محفوظ نہیں تو ہماری کوئی ترقی مکمل نہیں۔ اگر ایک بچی اپنے گھر سے نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتی ہے تو ہماری بلند عمارتیں، ہماری بڑی بڑی سڑکیں اور ہماری معاشی کامیابیاں سب بے معنی ہیں۔ معاشرے کی اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب اس کا کمزور ترین فرد خود کو محفوظ سمجھے، جب ایک بچہ کسی بڑے کو دیکھ کر خوفزدہ نہ ہو بلکہ مدد کی امید کرے۔
    ہمیں اپنے بچوں کو صرف مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، افسر، استاد یا سائنس دان نہیں بنانا، پہلے انہیں محفوظ انسان بنانا ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں خود بھی انسان بننا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں کے دروازے کھولنے ہوں گے، اپنے دلوں کے دروازے کھولنے ہوں گے، اپنے محلے کی خبر رکھنی ہوگی، اپنے بچوں کی بات سننی ہوگی، ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور خاموشی کو معمول بننے سے روکنا ہوگا۔
    اور اگر ہم اپنی یہ روٹین تبدیل نہیں کرتے پھر ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ کیاہم مر چکے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسی بستی کے رہنے والے ہیں جہاں معصوم بچوں کی چیخیں ہمارے کانوں تک تو پہنچتی ہیں مگر دل تک نہیں پہنچتیں؟ کیا ہم واقعی زندہ ہیں، یا صرف سانس لے رہے ہیں؟ کیا ہمارے اندر کا باپ، ماں، بھائی، بہن، استاد، پڑوسی اور انسان ابھی زندہ ہے؟ کیا ہم ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں دیکھنے والی آنکھیں تو ہیں مگر محسوس کرنے والے دل نہیں رہے، جہاں ظلم ہوتا ہے اور لوگ دیکھتے رہتے ہیں، جہاں ایک بچہ مدد کے لیے پکارتا ہے اور ہم اپنے دروازے بند کر لیتے ہیں، جہاں کسی کی بیٹی اجڑ جاتی ہے اور ہماری زندگی معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے؟ کبھی وہ وقت تھا جب محلے کا بچہ سب کا بچہ ہوتا تھا، کسی کی بیٹی سب کی بیٹی سمجھی جاتی تھی، کسی معصوم کے آنسو پورے محلے کی نیند حرام کر دیتے تھے۔ آج اگر ایک بچے کی چیخ بھی ہمیں اپنی جگہ سے نہیں ہلاتی تو پھر ہمیں اپنے مکانوں، اپنی گلیوں اور اپنی بستی سے پہلے اپنے دلوں کا ماتم کرنا چاہیے۔ ذرا اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا وہاں اب بھی ایک درد محسوس کرنے والا دل دھڑک رہا ہے؟ اگر ہاں تو پھر اٹھیں، اپنے بچوں کو سینے سے لگائیں، اپنے اردگرد کے بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور اس خاموشی کو توڑ دیں۔ کیونکہ جس دن کسی معصوم بچے کی چیخ ہمیں اندر سے بیدار کرے گی، شاید اسی دن ہماری بستی پھر سے زندہ ہونا شروع ہو جائے گی۔ ورنہ تاریخ ہمیں صرف بے حس لوگوں کے نام سے یاد رکھے گی کہ وہاں بچے مرتے رہے اور لوگ زندہ ہونے کے باوجود مردوں سے بدتر زندگی گزارتے رہے۔

  • ماں محبت و وفا کا پیکر،تحریر:  ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    ماں محبت و وفا کا پیکر،تحریر: ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    دنیا کی پہلی ماں حوا جب کہ پہلا باپ حضرت آدم ہے۔ نسل انسانی کی تاریخ میں یہ پہلا جوڑا ہے جنہیں والدین بننے کا شرف حاصل ہوا۔ بعد ازاں اسی جوڑے کی مرہون منت نسلی انسانی معرض وجود میں آئی اور تا حال یہ سلسلہ تواتر و تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے اور جب تک دنیا قائم و دائم ہے۔ یہ سلسلہ اپنی تاریخ دہراتا رہے گا۔

    عالم کائنات میں قدرت نے انسانوں کو رشتوں کی ڈوری میں موتیوں کی طرح باندھ رکھا ہے۔ سبھی رشتوں کا تقدس اپنی اپنی جگہ سہی لیکن جو عزت و توقیر خدائے ذوالجلال نے ماں کی جھولی میں ڈال دی ہے۔ وہ سب رشتوں پر سبقت لے جاتی ہے۔ کیونکہ خدا نے ایک ماں کو جو وصف اور اولاد سے محبت کا جذبہ عطا کیا ہے۔ اس میں اپنائیت کے چشمے، تربیت کے چراغ، محبت کی فراوانی اور اپنی خوشیوں کو دوسروں پر نچھاور کرنے کی جو جواں مردی ہے۔

    اس کا نعم البدل کسی دوسرے رشتے میں سمو نہیں سکتا۔ چونکہ ماں کے نام کی عرفانیت اور معنویت حقیقی جذبوں کی ترجمان و سرشار ہے۔ کیونکہ اس نام میں نہ کھوٹ ہے۔ نہ بغاوت ہے۔ نہ ملاوٹ ہے۔ بلکہ اس کے قلب و ذہن سے ہر وقت محبت کے چشمے پھوٹتے رہتے ہیں۔ اس کی کوکھ سے رحم، ہمدردی، ایثار، وفا، ایمانداری اور خلوص جیسی صفات کا جنم ہوتا ہے۔ ان سب صفات کا بہاؤ قدرتی چشمے کی مانند ہے۔ خدا ماں کی فطرت سے ان صفات کا کنواں کھلا رکھتا ہے تاکہ ہر ایک کی ضرورت اور طلب کے مطابق اس کی ضرورت پوری ہو سکے۔

    قدرت نے اولاد کے لیے ایک ماں کو جو تڑپ، محبت اور وفا کا بوجھ دیا ہے۔ وہ اسے بخوشی اٹھاتی اور برداشت کرتی ہے۔ بلکہ وہ محسوسات اور اپنائیت کے ذریعے اپنی وفاداری کا ثبوت عمل و کردار کے ذریعے فراہم کرتی ہے۔وہ شب و روز کی پرواہ کیے بغیر اپنی ذمہ داریوں کا قرض اتارنے میں مگن رہتی ہے۔ حالات چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی محبت اور وفا میں کمی نہیں آتی۔ کیونکہ قدرت نے ایک ماں کے اندر وفاداری اور ایمانداری جیسی صفات کو اس کے لہو میں شامل کر دیا ہے۔ وہ ہر وقت اپنی زبان پر دعاؤں کا بخور جلاتی ہے۔ شمع بن کر جلتی ہے۔ دوسروں کو روشنی مہیا کرتی ہے۔ اپنے اندر توانائی کے ذخائر رکھتی ہے۔ اپنی فطرت سے وفا کے شعلے بجھنے نہیں دیتی۔موسموں کی پرواہ کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ اپنے اندر پھولوں جیسی خوشبو کا احساس رکھتی ہے۔ جہاں سے بھی گزرتی ہے۔ دلوں کو موہ لیتی ہے۔ ہر وقت زبان پر محبت کے نغمات گنگناتی ہے۔ سب فکروں کے بوجھ اٹھا کر صبح سے شام تک کم کرتی رہتی ہے۔ ہر دن کے نئے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ چپکے چپکے اپنے آنچل سے ٹھنڈی ہوا کے جھو نکے دیتی ہے۔ اس کے دم سے ہر موسم بہار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ نئے رنگ، نئی کلیاں، نئی کونپلیں، نئے شگوفے، نئی سوچ، نئی فطرت اور نئی حکمت سے معمور ہو کر زندگی کا ہر دن آسان تر بناتی جاتی ہے۔
    حیرت ہے ماں کے ماتھے پر کبھی شکنیں نہیں پڑتیں۔ اپنی ذات پر ہر دکھ سہ کر بھی شکوؤں کی رال نہیں ٹپکاتی۔ بلکہ ہر ناحق بات کو بھی ہضم کر جاتی ہے۔ ہر وقت اپنے ہاتھ میں محنت کا ہل اور تربیت کے اجزائے ترکیبی رکھتی ہے۔ اپنے سب رشتے ناتے بھول کر اولاد کی پرورش میں گم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قدرت نے اس کے اندر ممتا کا ایسا چراغ جلا رکھا ہے جس پر خواہ آندھیاں چلیں، زلزلے آئیں یا طوفان آئیں یہ ژالہ باری ہو۔ وہ حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے۔اپنی محبت میں کمی نہیں آنے دیتی۔ بلکہ جرات و بہادری کے جوہر دکھا کر اپنی شان و عقیدت میں وقفے وقفے سے اضافہ کرتی رہتی ہے۔ قدرتی طور پر اس کے خون میں محبت کی تپش، چہرے پہ مسکراہٹ، اعصاب میں وفا کی سلوٹیں، آنکھوں میں خوشی کے آنسو، لبوں پہ تر و تازگی کے پھول رکھ کر اپنی زندگی کا سفر جاری و ساری رکھتی ہے۔ اپنے جذبات کی بدولت تمام رکاوٹیں عبور کر لیتی ہے۔ اپنی خوشیوں کی پرواہ کیے بغیر محبت کے جذبات کو اولاد پر نچھاور کر دیتی ہے۔

    اس کے دل کا موسم کبھی نہیں بدلتا۔ بلکہ سدا بہار رہتا ہے۔ گرمی ہو یا سردی، بہار ہو یا خزاں۔ وہ موسموں کی پرواہ کیے بغیر اپنے آنچل سے ٹھنڈی ہوا دیتی ہے۔ موسم تو آتے جاتے اور اپنا رنگ بکھیرتے ہیں۔ مگر اس کے دل کا موسم کبھی نہیں بدلتا۔ ایسے ماحول اور معاشرے میں جذبات کی آب و ہوا صرف ماں کے پاس ہوتی ہے۔ وہ ہمارے غموں کو دیکھنے کے لیے شاہین جیسی آنکھیں رکھتی ہے۔
    وہ اولاد کے بن کہے سب کچھ محسوس کر لیتی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر احساس کے چشمے اور محسوسات کے نمکیات ہوتے ہیں۔ اس کی زبان ہر وقت محبت کی جگالی کرتی ہے۔
    دوسروں کو کچھ کہنے کے لیے اس کے پاس سلیقے اور قرینے کے ان گنت انداز و جملے ہوتے ہیں۔ وہ اظہار سے زیادہ فکر و عمل کے نظریات سے خدمت کرتی ہے۔ اپنی زبان کو برے منصوبے، جھوٹ، فریب، مکر، ناچاقی اور ناپاکی جیسی گندگی سے پاک رکھتی ہے۔ اندر باہر جاتے وقت ہمیشہ لبوں پہ دعاؤں کا بخور جلاتی ہے۔ احساسی ذمہ داری کا چراغ جلا کر کھوئی ہوئی چیزوں کو تلاش کرتی ہے۔ خاندان کے سب افراد کے لیے خدمت کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ سب کی خدمت اپنے منشور میں شامل کر لیتی ہے۔
    اگر ماں کی حقیقی خدمت اور احسانات کا جائزہ لیا جائے تو وہ بارش کے پانی کی طرح ٹپکتے رہتے ہیں۔ ہماری آنکھیں ان کا شمار نہیں کر سکتیں۔ وہ اولاد کی خوشی کے لیے ہر لمحہ قربان کر دیتی ہے۔ اپنے کردار کی بدولت عزت و وقار پاتی ہے۔ اپنی فطرت میں تعلقات و روابط کا چراغ جلاتی ہے۔ اپنے اپ کو ملنساری کی روح سے معمور کر لیتی ہے۔
    اپنی فطرت کے باعث دوسروں کو دعوت فکر دیتی ہے کہ میرے جیسے ہو جاؤ۔ وفا کرو گے تو وفا ملے گی۔ محبت کرو گے تو محبت ملے گی۔ خوشی دو گے تو خوشی ملے گی۔ آئیں اس دن کے موقع پر اپنی ماں کی گود میں عقیدت و محبت کے پھول ڈال دیں۔ کھل کر اس کی قربانیوں کا اعتراف کریں۔ ہر روز دل و جان سے اس کی عزت کریں۔ خدا عمر درازی کا تحفہ عطا کر دے گا۔ کیونکہ سرفرازی اور کامیابی ماں کی دعاؤں کے بخور سے ہی ممکن ہے۔

  • شہدا کی قربانیاں اور ہمارا فرض،تحریر: محمد عثمان

    شہدا کی قربانیاں اور ہمارا فرض،تحریر: محمد عثمان

    ”شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے
    لہو جو ہے شہید کا، وہ قوم کی زکوٰۃ ہے“

    شہدا وہ عظیم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وطن کی ”جغرافیائی اور نظریاتی“ سرحدوں کی خاطر قربانی دے کر قوم کے وقار اور عزت کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہ اپنے دین کی حفاظت اور سر بلندی کے لیے اپنی جانیں دے کر ملت کو استحکام بخشتے ہیں۔ ان کی کٹی گردنیں انسانیت کی ”بقا و سلامتی“ کی ضامن بنتی ہیں۔ شہدا کا لہو آنے والی نسلوں کی آزادی کا سنگِ بنیاد کہلاتا ہے۔ یہ لوگ امن کی بحالی، اقدار کے تحفظ اور روایات کے فروغ کے لیے اپنے جان و مال کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ ثقافت اور تہذیب کے مابین ہم آہنگی اور معاشرے میں ”نفاذِ عدل“ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ شہدا… حق کے دیپ اپنے لہو سے جلاتے ہیں۔  وہ ہماری آزاد سانسوں اور سکون کی زندگی کے لیے… اپنے آرام و آسائش، خواہشات و جذبات یہاں تک کہ اپنی زندگی کو بھی قربان کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے کل کی خاطر اپنا آج داؤ پر لگاتے ہیں۔ اگر آج ہم آزادی کے ساتھ بول سکتے ہیں۔ بغیر روک ٹوک کے اپنی ”عبادت و ریاضت“ میں مشغول ہیں۔ کھلے عام اپنے حقوق کے ساتھ زندہ ہیں تو اس کے پیچھے بھی بے شمار ”شہدا“ کا لہو شامل ہے۔

    ”حق بات پہ کٹتی ہے تو کٹ جائے زباں میری
    اظہارِ حق تو کر جائے گا جو ٹپکے گا لہو میرا“

    شہدا… ہر میدان میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے خون میں نہا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ: ”ان کے دلوں میں حب الوطنی، ایمان اور قربانی کا جذبہ کس قدر موجزن تھا..!“ یہی وجہ ہے کہ شہدا زندہ قوموں کا فخر ہوتے ہیں اور ان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جاتا ہے۔ شہدا کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے اسلام میں شہادت کا بہت بلند مقام بتایا گیا ہے۔ ”کتاب و سنت“ میں شہید کو مردہ نہیں، بل کہ زندہ قرار دیا گیا ہے۔ شہدا کی قربانی ہمارے لیے حق اور سچائی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ان کی زندگیاں ہمیں بہادری، صبر، ایثار اور وفاداری کا سبق دیتی ہیں۔ ماہر القادری کہتے ہیں:

    ”شہیدوں کے لہو سے جو زمین سیراب ہوتی ہے
    بڑی زرخیز ہوتی ہے، بہت شاداب ہوتی ہے“

    ”جہاں سے غازیانِ ملّتِ بیضا گزرتے ہیں
    وہاں کی کنکری بھی گوہرِ شب تاب ہوتی ہے“

    معزز قارئین کرام!
    تاریخِ انسانی میں بہت بڑے بڑے جنگی حادثات و واقعات رونما ہوئے ہیں، جن میں ”انبیا و مرسلین علیہم السلام“ اور ان کی پیروی کرنے والے متوالوں نے غلبہِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں؛ لیکن جو مقام و مرتبہ اور جاہ و جلال اسلام نے جہاد اور شہادت کو بخشا ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہی نہیں بل کہ ناممکن ہے۔ جذبہِ حریت اور شوقِ شہادت جو اس ملت کے جوانوں میں ہے اس کی مثال کوئی دوسرا پیش نہیں کر سکتا۔ دودھ پیتے بچوں کو جہاد کی لوریاں سنانا اور شہادت کے سبق پڑھانا اس امت کی ماؤں کا ہی تو شیوہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

    ”شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نے کشور کشائی“

    شہادت کے کچھ اغراض و مقاصد بھی ہیں۔ آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس کے بعد ہم فرائض کو بخوبی جان سکیں اور انھیں پورا کرنے میں کامیاب ہوں۔
    * شہید کی شہادت کا اوّلین مقصد رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے۔
    * شہید اپنے کام کو کمال تک پہنچانے یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان نچھاور کرتا ہے۔
    * غلبہِ دین اور اساسِ مذہب کی پختگی بھی انھی مقاصدِ عظیمہ میں شامل ہے۔
    * وطن کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر جان دینا۔
    * اپنے اہل و عیال، اپنی جان و مال کی حفاظت کرنا بھی شہادت کے مقاصد کا ایک حصہ ہے۔
    * اپنے عقیدے کا تحفظ اور فروغِ سنت و شریعت۔

    قارئین محترم!
    شہدا کی قربانیوں کے بعد ہماری ذمہ داری صرف ان کے نام پر تقریبات منعقد کرنا اور ان کی یاد میں برسیاں منانا ہی نہیں، بل کہ ہماری اصل ذمہ داری ان کے مشن کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ ہمارے شہدا نے اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوئے لازوال قربانیاں پیش کیں اور ”رزم گاہِ حق و باطل“ میں دشمنانِ اسلام و وطن کے دانت کھٹے کیے۔ بدر و احد سے لے کر حنین و تبوک، یمن و یمامہ سے لے کر یرموک و قادسیہ، آبنائے باسفورس سے لے کر ماورألنھر سے ہوتے ہوئے بغداد و دہلی کی گلیوں میں جس مقصد کی خاطر شہدا نے اپنی جانیں نچھاور کیں اس مقصد کو زندہ رکھنا اور اس پر ”صدقِ دل“ سے کاربند ہونا ہی شہدا سے اصل وفا ہے۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ شاملی اور میسور کے ریگزاروں میں اٹھنے والی چنگاری کو بجھنے نہ دیں اور خود کو ہر طرح کی ذہنی و جسمانی اور فکری و عملی غلامی سے آزاد کریں۔ 13 اگست 1947ء کی رات کو یاد رکھتے ہوئے ہم قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں۔ ملک کے استحکام کے لیے نظامِ خلافتِ راشدہ کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کو قانون و اخلاقیات کی پابندی کرنی چاہیے۔ یہی شہدا کے خون کا حق اور ہمارا فرض ہے۔ اس کے علاوہ شہدا کے خاندانوں کا احترام اور خیال رکھنا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا بھی ہمارا قومی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر ہم شہدا کے مشن سے وفا نہ کر سکیں، ان کی قربانیوں کی لاج نہ رکھ سکیں اور ان کے پیغام کو سمجھ کر آگے نہ بڑھ سکیں تو پھر یقینا شہدا کی روحیں ہم سے نالاں ہوں گی۔ بزبان شاعر:

    ”شہدا نے پکارا ہے تم کو فردوس کے بالا خانوں سے
    ہم راہِ خدا میں کٹ آئے، تمھیں ابھی تک ہے پیار اپنی جانوں سے“

    آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ شہدا کسی بھی قوم کا سرمایہ اور فخر ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں ہمیشہ یہ یاد دلاتی رہیں گی کہ آزادی اور امن مفت حاصل نہیں ہوتے، بل کہ اس کے لیے کئی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں۔
    یاد رکھیے! اگر ہم ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں شہدا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے فرائض پوری ایمانداری سے نبھانا ہوں گے۔

    ”شکوہِ شبِ ظلمت سے کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے“