Baaghi TV

Category: بلاگ

  • چاۓ کی طلب اور گیس شٹ ڈاون………. از حفیظ اللہ سعید

    چاۓ کی طلب اور گیس شٹ ڈاون………. از حفیظ اللہ سعید

    آج حسب معمول دوکان پہ تھا ناشتے کے وقت سے پہلے گھر سے پیغام آیا ناشتہ منگوا دیں۔وجہ پوچھنے پہ جواب ملا کہ گیس نہیں آ رہی اس لیے آج آپ ہوٹل والوں کے مہمان ہیں۔

    "سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے”
    کے مصداق لڑکے کو ہوٹل کی طرف بغرض خرید ناشتہ روانہ کیا۔ مزیدار چنے اور تندوری چپاتی سے پیٹ پھاڑ ناشتہ کیا۔ڈٹ کر ناشتہ تو کر لیا لیکن وہ کیا کہتے ہیں ( روح اقبال سے معذرت کے ساتھ )

    "ناشتہ تو کر لیا پل میں بھر میں بھوکے پیٹ والوں نے
    من اپنا پرانا پاپی ہے چاۓ کے بنا یوں رہ نہ سکا”

    گھر والوں نے کہا کہ چاۓ گیس آنے پہ ہی مہیا کی جاۓ گی۔انتظار فرمائیے آپ کا مطلوبہ چاۓ کا کپ بوجہ گیس شٹ ڈاون دستیاب نہیں۔ مرتا کیا نہ کرتا صبر کے گھونٹ پی کے چپ کر گیا۔ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے جلدی دوکان بند کی اور تیاری کرکے جمعہ پڑھنے مسجد کو پدھارے مابدولت لیکن طبعیت میں اک عجیب سی سستی چھائی ہوئی تھی۔خطبہ جمعہ نے سستی کو دو آتشہ کر دیا اور ذہن ایسے ماؤف ہو گیا جیسے بی پی لو ہو۔ واپس گھر آ کے محترمہ گیس کی دستیابی کا پوچھا لیکن جواب نفی میں ملا تو بنا کچھ کھائے پئے بستر سنبھالنا مناسب سمجھا۔ تھوڑی دیر بعد پیارے بھائی حامد کی کال آئی جس میں انہوں نے بعد از عصر کھانے کی دعوت دی جس کو ناساز طبع کے بنا قبول نہ کرتے ہوۓ معذرت کی.

    شام میں اٹھا تو جان افزا خبر موصول ہوئی کہ بی گیس آ چکی ہے اور چاۓ پی لیں۔فنٹاسٹک ٹی کا ایک کپ معدے کی نظر کیا تو ابھینندن کی طرح آنکھیں روشن اور دنیاوی حقائق واضح ہو گئے۔ چاۓ کا کپ پینے کے بعد عقدہ کھلا کہ بی پی لو کا معاملہ نہیں تھا بلکہ چاۓ کی طلب نے دیوانہ بنا رکھا تھا۔ اس سارے معاملے میں بنیادی کردار گیس شٹ ڈاون تھا جس کی وجہ سے چاۓ نہ پی سکا اور ہیرونچیوں جیسی کیفیت ہوگئی۔ آج اندازہ ہوا کہ نشے کی طلب کتنی شدید اور جان لیوا ہوتی ہے۔

    محکمہ گیس کے لئیے شعر عرض کیا ہے ( افتخار عارف سے معذرت کے ساتھ )

    چاۓ کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    گیس والوں کو وہ گالیاں دیں ہیں جن سے واقف بھی نہیں تھے

    از حفیظ اللہ سعید

  • مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    (ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا، باغی ٹی وی کی ٹیم the quint کی مشکور ہے کہ انہوں نے یہ آرٹیکل شائع کیا )
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
    مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:
    ۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
    ۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
    ۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘
    مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
    ۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
    ۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
    ۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
    ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
    سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
    مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
    تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔
    جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
    جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
    اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
    متحدہ قومیت:
    جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
    متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
    متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
    مدینہ کی مثال:
    حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
    میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
    جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
    جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
    مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
    دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
    لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
    ….گومگو کا شکارمسلمان:
    مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
    سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
    ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
    مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
    مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
    عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
    ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
    آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
    تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
    مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
    باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
    مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
    بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
    ۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
    ۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
    ۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
    ۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
    ۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
    ۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
    ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
    آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
    (ترجمہ رانامحمدآصف)

  • بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    بازار بنو قینقاع سے سری نگر تک ، تحریر فردوس جمال

    عہد نبوی مبارک ہے،مدینہ منورہ میں بنو قینقاع کا بازار سج چکا ہے،بازار میں ایک یہودی سنار کی دکان ہے،یہودی تاجر کی دکان میں اس کے چند یہودی دوست گپیں ہانک رہے ہیں،اسی دوران ایک مسلمان عورت دکان پر آتی ہے،یہودی تاجر کی شیطانیت جاگ جاتی ہے وہ مسلمان عورت سے چہرے کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتا ہے مسلمان عورت سختی سے منع کرتی ہے،نظریں بچا کر مکار یہودی مسلمان بہن کا آنچل کسی کیل کے ساتھ باندھ دیتا ہے جب وہ جانے کے لئے اٹھتی ہے تو بے پردہ ہو جاتی ہے وہ چیخنے چلانے لگتی ہیں دکان میں بیٹھے یہودیوں کے قہقہے پورے بازار میں سنائی دیتے ہیں دکان کے سامنے سے گزرتا ایک راہ گیر مسلمان یہ منظر دیکھ کر دکان کے اندر چلا آتا ہے اس کی ایمانی غیرت جاگ اٹھتی ہے اور وہ یہودی دکاندار کو قتل کر دیتا ہے،یہودی مل کر اس مسلمان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے شہید کر دیتے ہیں،یہ خبر رسول خدا تک پہنچتی ہے آپ اپنے جاں نثاروں کے ساتھ یہودی بستی کا محاصرہ کرتے ہیں عہد شکنی کے باعث ان سب کو مدینہ منورہ سے نکال باہر کرتے ہیں،انہیں جلاوطن کرتے ہیں.

    ایک مسلمان شخص ایک مسلمان بہن کے لئے جان تک سے گزر جاتا ہے جسے وہ جانتا بھی نہیں ہے کہ کون تھی،رسول خدا نے ان کی تربیت ہی ایسی کی تھی کہ مظلوم کی آواز پر لبیک کہنا ہے،ایک مسلمان بہن کی پکار پر رسول پاک
    خود اس بستی کا محاصرہ کرتے ہیں.

    90 ہجری ہے،حجاج بن یوسف فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ میں ہیں،خصوصی ایلچی یہ پیغام لیکر داخل ہوتا ہے کہ شاہ جزیرہ یاقوت نے جو تحفے تحائف اور مسلمان عورتیں بھیجا تھا انہیں دیبل کے قریب بحری قزاقوں نے قیدی بنایا ہے ان قیدی عورتوں میں سے ایک نے آپ کو پکارا ہے کہ اے حجاج ہماری مدد کرو،ہمیں اس جہنم سے چھڑاؤ،حجاج بن یوسف اپنی نشست سے اٹھتے ہیں ان کی آنکھوں میں خون اترتا ہے،ان کا چہرہ غصے سے لال ہوتا ہے،اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو بلاتے ہیں ایک مسلمان بہن کی پکار پر بیس ہزار فوجیوں کا لشکر دے کر محمد بن قاسم کو دیبل کی طرف روانہ کرتے ہیں،اس ایک مسلمان بہن کی پکار راجہ داہر کی بادشاہت و تخت کا خاتمہ اور سندھ کی فتح کا سبب بن جاتی ہے.

    223 ہجری ہے،عباسی خلیفہ معتصم باللہ اپنے شاہی تخت پر فروکش ہیں،خدام چاک و چوبند کھڑے ہیں،نبیذ کا دور چل رہا ہے،شاہی ایلچی نے آ کر خبر دی کہ عموریہ میں ایک مسلمان بہن رومیوں کی قید میں ہے وہ چیخ چیخ کر مسلمانوں کے خلیفہ کو پکار رہی ہے وامعتصماه !
    معتصم باللہ کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے نبیذ کے گلاس کو پھینک دیتے ہیں لبیک اے میری بہن کہتے ہوئے وہ تخت سے اٹھ جاتے ہیں،فوج کے سپہ سالار کو بلاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ رومیوں کا سب سے مضبوط شہر کون سا ہے کہا جاتا ہے عموریہ نا قابل تسخیر شہر ہے،معتصم باللہ مسلمانوں کا لشکر لیکر عموریہ کی طرف بڑھتے ہیں پچپن دن کے طویل اور سخت معاصرے کے بعد شہر کو فتح کرتے ہیں،اس مسلمان بہن کو رومیوں کی قید سے نکالتے ہیں،ایک مسلمان بہن کی پکار مضبوط قلعوں کو شکست دینے اور شہر کا شہر فتح کرنے کا سبب بن جاتی ہے.

    یہ ہمارا عہد رفتہ تھا کہ کیا بنو قینقاع بازار کا فرد تنہا کیا دیبل کی اینٹ سے اینٹ بجاتا جواں اور کیا عباسی بادشاہ ایک مسلمان بہن کی پکار پر سب نے لبیک کہا.

    مگر

    آج کشمیر کی کتنی مظلوم بہنیں اور کتنی بیٹیاں مدد کے لیے پکار رہی ہیں،اس آس میں کہ ان کے دینی بھائی مسلم دنیا کے غیرت مند حکمران ان کی آواز پر لبیک کہیں گے،لیکن ان کی پکار قید خانوں زندانوں اور گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ جاتی ہے انہیں کوئی جواب نہیں ملتا ہے کہ لبیک میری بہنا!

    ہندو آرمی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرکے ان کے گھروں میں داخل ہوتی ہے.

    وہ چاند چہرے جو کبھی آسمان کے چاند نے بھی نہیں دیکھے تھے ان چہروں پر ہندو فوجیوں کی ناپاک اور حیوانیت بھری نظریں پڑتی ہیں.

    عصمتیں پامال اور آنچل لٹ رہے ہیں،گھروں میں کھانا نہ پینا،بچوں کے لئے دوا نہ علاج،چھ ہفتوں سے کشمیر ایک جیل خانہ بن چکا ہے،میڈیا اور امدادی تنظیموں کے لئے رسائی بند ہے،کرفیو ہے اور موت کا سناٹا ہے،مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے پروگرام چل رہے ہیں،شیوسینا اور آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر پہنچ چکے ہیں.

    کیا ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں ایک بھی محمد بن قاسم نہیں کیا ساٹھ سے زائد مسلمان بادشاہوں میں ایک بھی معتصم باللہ نہیں؟ ایک بھی حجاج بن یوسف نہیں؟

    کشمیری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے،ہماری منتظر ہے،لیکن یہ انتظار لمبا نہیں ہوگا.یہ قانون قدرت ہے کہ اگر ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآں نہ ہوئے تو اللہ پاک ہماری جگہ کسی اور قوم کو یہ کام سونپ دیں گے.
    تحریر فردوس جمال

  • عیسائی کا جھوٹا برتن ، تحریر ابو بکر قدوسی

    عیسائی کا جھوٹا برتن ، تحریر ابو بکر قدوسی

    شاید بیس برس گذرے وہ کسی کتاب کے لیے میرے مکتبے پر آیا ، پڑھا لکھا عیسائی نوجوان تھا – مجھے یاد ہے اس کا نام یونس تھا – باتوں میں بات چلی اور چلتی گئی – جب میں نے اسے کھانے کی پیشکش کی تو وہ کچھ حیران سا ہو گیا ، آخر اسی حیرانی میں بول اٹھا کہ آپ میرے ساتھ کھانا کھائیں گے ؟
    میں ہنس دیا ” کیا آپ انسان نہیں ہیں ؟”
    ابھی دو دن پہلے جب اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی تو برادر صغیر عمر فاروق قدوسی نے اپنا واقعہ سنایا – کچھ برس گزرے وہ لاہور میں فاطمہ میموریل ہسپتال میں موجود تھے ، اور وہاں پانی کا کولر نصب تھا – پانی پینے لگے تو ایک نوجوان جو ان سے پہلے پانی پینے کو موجود تھا ، جھجک کے پیچھے ہٹ گیا – عمر قدوسی نے کہا کہ پہلے آپ پی لیجئے ، آپ پہلے کھڑے تھے – اس پر اس نے ہولے سے کہا کہ آپ پہلے پی لیجئے …جب "پہلے آپ ، پہلے آپ ” کی تکرار ہوئی تو اس نے کہا :
    ” جی میں عیسائی ہوں ، آپ پی لیجئے ”
    اس پر عمر قدوسی نے وہی کہا جو میں نے بیس برس پہلے کہا تھا کہ کیا تم انسان نہیں ہو ؟
    اس نے کہا کہ:
    ” اصل میں لوگ اس بات سسے نفرت کرتے ہیں کہ اگر ہم پی لیں تو…شاید گلاس پلید ہو جاتا ہے ”
    …. اس پر عمر قدوسی بھائی نے اصرار کے ساتھ اس کو پہلے پانی پلایا ، بعد میں خود اسی برتن سے پی لیا ..اور کہا کہ ہمارے مذھب کا ایسا کوئی مسلہ نہیں ہے – ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم کی یہ تعلیم بھی نہیں — آپ تو غیر مسلموں کے گھر کھانا کھانے بھی چلے جاتے تھے – اس کے چہرے پر حیرانی تھی ، کیونکہ اس کو ہم نے جو "اسلام” پہنچایا تھا ، وہ یہی تھا –
    یہ پہلو جس پر بہت سوچتا ہوں مگر عمدہ جواب کم ہی ملا ہے – وہ یہ ہے کہ کیا ہم نے پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو اسلام کے حقیقی چہرے سے روشناس کروایا ہے ؟؟
    اسلام کے اخلاقیات کبھی بیان کیے ہیں ؟
    جواب افسوس ناک ہی ہے -افسوس ہم نے تبلیغ نہ کی ، افسوس ہم نے خود ہی اسلام کے ساتھ وفا نہ کی –
    افسوس مگر یہ کہ ہم نے محبت سے دلوں کو جیتنے کی بجائے ان کے برتن الگ کر دیے ..یہ برتن الگ نہیں ہوئے دو تہذیبیں الگ الگ ہو گئیں …پھر یہ ہوا کہ وہ ہمارے ہو ہی نہ سکے – ہم نے اپنے دین کو خود تک محدود کر لیا – ایسا محدود کہ خود تو مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے اور پیدا ہو کے دروازہ بند کر لیا ، کہ کوئی اور اندر نہ آ جائے …

  • خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی ، تحریر جواد سعید

    خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی ، تحریر جواد سعید

    زندگی میں آپکا سب سے بڑا حریف آپکی اپنی ذات ہے کہ جس کو جیتنا ۔یا صرف اس پر قابو پالینا بھی آپکو بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اگر یہ حریف عروج نہ بھی دے پائے۔ تو کم از کم آپکو آپکے حالات پر خوش رکھنے میں ہمہ وقت مددگار رہے گا۔
    ایسا نہیں ہے کہ یہ حریف ہر دفعہ آپکو نقصان ہی پہنچائے۔بلکہ کبھی کبھار اکثر اوقات یہ حریف آپکو اپکے ساتھ آپکے مطابق کھڑا محسوس ہو گا اور یہ آپکو بلندیوں تک بھی پہنچا دے گا۔ مگر ہمیشہ کیلئے ساتھ کبھی نہی دے گا۔
    بڑی بڑی نعمتوں کے بعد بھی چاہے اپ پوری دنیا پر راج ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ڈپریشن لالچ ناشکری احساس کمتری چڑچڑاپن جیسے ذہنی امراض سے واسطہ رہے گا۔

    اب اس حریفانہ ذات سے مراد کیا ہے۔؟؟؟
    آپکی تمام ذہنی دلی جسمانی خواہشات۔ اور انکے مثبت منفی افعال ۔جسے پوری دنیا میں صرف آپ جانتے ہوں۔اور اسکے معاون خاص مددگار اسکی اصلیت ۔راز نقص خوبیوں کمزوریوں کو بھی صرف آپ جانتے ہوں۔
    اسے عام طور پر انسانی حریف کہا جاتا ہے۔

    اب اس پر کنٹرول کیسے کیا جائے؟؟؟
    قارئین کرام یاد رکھئیے۔
    اگر یہ سب چیزیں خدا نے ہمارے ساتھ جوڑی ہیں تو انکو کنٹرول رکھنے کیلئے مضبوط تر لگام/تالا
    بھی اسلام ایمان کی صورت میں نازل فرمایا۔اور ساتھ ساتھ احکامات فرامین ہدایات بھی بھیج دیں کہ آپ لوگوں نے اپنے آپ کو استعمال کیسے کرنا ہے۔
    جیسے ایک معروف کمپنی اپنی پراڈکٹس پر ہدایت نامہ لکھ کر بھیجتی ہے۔اور انھی ہدایات کے مطابق استعمال کرنے کی شرائط پر ایک مختصر وقت کی گارنٹی دیتی ہے۔
    تو جس خدا نے ہمیں بنایا اسی نے ہمارے لئیے بعینیہ ہمارے مطابق طور طریقہ بنایا تاکہ ہم لوگ ان ہدایات پر عمل پیرا ہو کر اچھی طرح جی سکیں۔اور اگر ہم نہیں عمل کریں گے تو خداوندی گارنٹی ختم۔
    پھر فان معیشۃ ضنکا جیسی پیشنگوئی ہے
    جب تک ہم اسلام ایمان فرامین کو ترویج دیتے سامنے رکھتے ہوئے چلیں گے تو اپکی ذات کیا آپ پوری دنیا پر اپنا قابو دیکھیں گے۔
    نہیں تو وہی حال ہو گا جو اب کی صورتحال ہے۔
    باہر ممالک کو دیکھا جائے تو پورپی موٹیوشنل گروپس ہمارے ہی قواعد کو اپنا پھیلا کر دنیا میں ترقی کر رہے۔اور انکا کوئ بھی ایسا مجرب قاعدہ نہیں جو انسان کو انسان بنائے۔اور اسکا تذکرہ اسلام میں نہ ملتا ہو۔
    ہماری سب سے بڑی کمبختی قوانین خداوندی کو پس پشت ڈالنا ہے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا میں کامیاب مطمئن زندگی جیئیں۔ شاعر مشرق نے نے اس شعر سے قصہ محتصر کر دیا کہ
    خودی میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
    نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

  • معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    شکارپور کے گاؤں داؤد ابڑو کے رہائشی محنت کش صفدر ابڑو کا 10 سالہ بیٹا میر حسن ویکسین نہ ملنے پر کمشنر آفیس کے سامنے فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔بچے کی موت پر غم سے نڈھال والد کا کہنا تھا کہ بچے کو شکارپور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گئے لیکن داد رسی نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اے آر وی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر نور الدین قاضی کا کہنا تھا کہ شکارپور، جیکب آباد سمیت ڈویژن بھر میں ویکسین کی کمی ہے، ویکسین نہ ملنے سے مرض بگڑ چکا تھا اس نے اب دو دن ہی زندہ رہنا تھا کیوں کہ اس کا اثر10 سالہ میر حسن کے دماغ پر ہو چکا تھا۔

    ویسے تو دس سالہ میر حسن نے تو بڑے ہو کر بھی مر ہی جانا تھا . اسی لیے گزشتہ روز بلاول کو پریس کانفرنس میں خورشید شاہ کا رونا تو یاد رہا ۔ جمہوریت میں خطرے پڑ چکی ہے یہ بتانا تو یاد رہا ۔ مگر وہ یہ ضرور بھول گئے کہ ان کی اس لولی لنگڑی ، کرپٹ اور نکمی حکومت کی بدولت میر حسن جیسے بچوں کی زندگیا ں داو پر لگی ہوئی ہیں ۔ بلاول ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں ان کی بادشاہت دہائیوں سے چلتی آرہی اور اسی حکومت کی بدولت عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    لوگ کہتے ہیں کہ کیسا صوبہ اور کیسی حکومت ہے جہاں لوگ اس لئے مر جاتے ہیں کہ کتا کاٹ لے تو ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی۔ مگر لوگوں کو کیا پتہ جمہوریت کیا ہوتی ہے ۔ جمہوریت کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے خون دینا پڑتا ہے ۔کل کو جب بلاول اس ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تب عوام کو پتہ چلے گا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ۔ سندھ میں لبرل سیکولر ترقی پسند پروگریسو پیپلزپارٹی کی دہاییوں سے حکومت ہے۔ مگر سندھ اور سندھیوں کے حالات زندگی بدلنے میں پیپلز پارٹی بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مگر تمام جیالے لیڈروں نے اپنی قسمت ضرور بدل لی ہے ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس کی دبئی میں پراپرٹی نہ ہو ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو ۔ معذرت کے ساتھ جس طرح پیپلز پارٹی نے بھٹو کا نام زندہ رکھا ہوا ہے اس سے تو بہتر تھا بھٹو پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتا ۔ کیونکہ تھر میں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ مگر بھٹو زندہ رہتا ہے ۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    سندھ چاہے ایڈز زدہ ہو جائے مگر بھٹو اور بھٹو خاندان کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان نے قربانیاں دیں ہیں ۔ یہ صرف ان کا ہی حق ہے کہ سندھ پر وہ حکومت کریں ۔ چاہیے سندھی سسک سسک کر مرجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کب تک بھٹو ، شریف ، زرداری ، فضل الرحمان ، اچکزئی ، باچا خان ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادوں کی غلامیاں کرتے رہیں گے ۔ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑیں اور ان خاندانوں اور لیڈروں کو نشان عبرت بنا دیں ۔ سندھیوں اور اس ملک کی غریب عوام کے پاس اب صرف کھونے کے لیے غلامی کی زنجیریں باقی رہ گئیں ہیں ۔ یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں ۔ اور اس اشرفیہ کو غارت کردیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

     

  • میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    کشمیر میں آج کرفیو لگے چھیالیس روز ہو چکے ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ۔وہ جس وادی کو ہم جنت نظیر کہتے تھے- وہاں خون کی ندیاں بہتے آج کئی برس بیت گئے۔ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اپنی آزادی کی جنگ اکیلے لڑ رہے ہیں۔ حق خوارادیت کے لیے جان دے رہے ہیں۔ہماری مائیں روز اپنے بیٹوں کو قربان کر رہی ہیں۔
    بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ۔بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    پچھلے 72 سال سے مسلسل آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی آزادی کا وقت آ ہی گیا۔
    وہ مسلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ٹیبل کے کسی دراز میں پڑا تھا ۔
    وہ جس کو قرار داد کے طور پر فائل سے نکال کے چائے کے ٹیبل پے رکھ کر ایک دفعہ اسپیکر میں پڑھ لیا گیا تھا۔
    اس مسلے کو پچھلے چھیالیس روز سے بھارت ہوا دے رہا ہے۔ اب اگر ہوا دے ہی دی گئی تو اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ۔

    اب تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا سے اٹھنے والی ایک ہی آواز ہے کہ

    ایک نعرہ ایک آواز۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔
    کشمیر سے پنجاب تک ۔۔۔
    سب بنے گا پاکستان۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔

    اب ہم کیوں انتظار کریں کسی اور مسیحا کا؟؟؟
    کیوں انتظار کریں بڑی عالمی برادری کا؟؟؟

    ہم کمزور نہیں ۔۔۔۔
    اور جن کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت ساتھ ہو ۔۔۔
    وُہ کمزور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ہمیں بھروسہ ہے اپنی طاقت ور فوج پے ۔ہمیں بھروسہ ہے اپنے مجاہدوں پر۔۔۔
    وہ فوج جس نے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی۔
    جو نا کسی سے ڈرنے والے نا کسی کے آگے جھکنے والے۔
    جن کی اڑان کو آج تک کوئی اور طاقت شکست نا دے پائی۔

    راستے کٹھن بھی ہوں تو سینہ تان کے چلتے ہیں

    ہماری عادت نہیں مشکل راستوں سے منہ موڑنا

    پوری دنیا سن لے کہ ہم ایسی بہادر نڈر فوج کے مالک ہیں جو پہلے کئی طوفانوں کا رخ موڑ چکی ہے۔
    اب بھارت کی باری ہے ۔بھارت سن لے کے ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔پاک فوج کے جوان ہر پل جام شہادت کے لیے تیار ہیں۔ہمارے مجاہد تیار ہیں اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔

    اب ہمارے کشمیری مسلمان اکیلے نہیں اُن کے ساتھ پاکستان کی مصلح افواج کھڑی ہے۔
    پورا پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔
    اب اگر دنیا کی بڑی طاقتیں انڈیا کو نہیں روک سکتیں ۔تو ہم خود اب اس طوفان کا رُخ موڑیں گے۔
    اب وہ ہی طریقہ اپنائیں گے جس کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے
    جس کی اجازت ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔
    جس کا حکم ہماری دو جہاں کی مقدس کتاب قرآن مجید میں ہے ۔
    ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی مددّ کرو۔۔۔

    اب ہمیں کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
    اب ہم جائیں گے کشمیر میں ۔۔۔۔جہاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا رہی ہیں۔خون سے تر وادی ہمیں بولا رہی ہے کہ کوئی تو آئے ہمیں ان درندوں سے نجات دلائے۔۔

    اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ اپنی فوج اور مجاہدوں کو اِک بار کشمیر کے لیے لڑنے کی اجازت دے۔
    پھر ہمیں کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں کشمیر ان شاء اللہ آزاد ہو گا۔
    یہ خواب جلد پورا ہو گا
    ہمارے خواب کی تعبیر ہماری پاک فوج کی صورت میں آئے گی۔

    اور پھر کشمیر بنے گا پاکستان۔۔
    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین

  • پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟  تحریر فرحان شبیر

    پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا زمہ دار کون ؟ تحریر فرحان شبیر

    اقلیتوں کے ساتھ افسوسناک واقعات کے بعد نیپال سے دانشوڑوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ ماضی کے مسلم حکمرانوں کو ایک کوسنے اور عربی تہذیب کو لعن طعن زوروں سے جاری ہے ۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات کو اسلام سے جوڑ کر پوری پاکستانی قوم کو شرمندہ کیا جارہا ہے ۔ ابدالی ، محمد بن قاسم اور غزنوی کی اولاد ہونے کے طعنے دئیے جارہے ہیں ۔ ہندوستان میں تو یہ سلسلہ ہندو توا کے پرچارکوں کی طرف سے صدیوں سے جاری ہے ۔ سلطان ٹیپو کے خلاف مراٹھوں کی لڑائی سے لیکر تحریک پاکستان اور پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک ۔ ہندو توا کے اسیر کٹر ہندو ہوں یا بھارت کے سیکولر سب ہی یک زبان ہو کر برصغیر پر حکمران رہنے والوں کو عرب ، افغان حملہ آور لٹیرے گردانتے ہیں جنہوں نے یہاں کے باسیوں پر ایک غیر ملکی تہذیب ایک غیر ملکی زبان اور غیر ملکی مذہب نافذ کیا ۔

    ہمارے لبرل سیکولر احباب کے نزدیک باہر سے آنے والے مسلم حکمران تو یہاں کے لوگوں کے بادشاہ بن بیٹھے لیکن جو راجے مہاراجے جو یہاں راجے بنے بیٹھے تھے وہ شاید کسی انتخاب میں الیکشن جیت کر آئے تھےاور یہاں پر کوئی بڑا ہی برابری اور احترام آدمیت پر مبنی نظام تھا جسے مسلمانوں نے عربی تہذیب لاد کر الٹ پلٹ کر دیا ۔ ارے بھائی وہ بھی تو طاقت کے زور پر راجے مہاراجے بنے بیٹھے تھے کیا انکے دور میں راجہ بھوج اور گنگو تیلی ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتے تھے ۔ یہاں پر تو عوام ہندو برہمنوں کے خود ساختہ Cast سسٹم کا شکار تھے ۔ انسان انسانیت کے مقام سے گر کر گائے ماتا کا پیشاب پیتا تھا اور آج بھی پیتا ہے ۔

    میں تو شکر ادا کرتا ہوں کہ اسلام یہاں آیا اور آج خدا نے کسی گائے کا موتر پینے والے گھر میں پیدا نہیں کیا ۔ یہ کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک حقیقت کا بیان ہے ۔ یہاں بیوہ کو مرنے والے کے ساتھ جلا کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہاں شودر کے گھر پیدا ہونے والا ساری زندگی ناپاک ، ملیچھ اور کمتر سمجھا جاتا تھا ۔ اسلام نے یہاں کے لوگوں کو ایک متبادل فراہم کیا ۔ کہ جو اس کمیونٹی میں شامل ہوگیا وہ ابن آدم ہونے کی جہت سے واجب التکریم ہے اور سب ابن آدم ایک برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ دانشوڑ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے یہاں اپنا مذہب ٹھونسا جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ میرے دین نے یہاں کے اچھوتوں کو کاسٹ سسٹم کے گرداب سے نکال کر ایک ہی جھٹکے میں سب کے برابر کھڑا کردیا ۔

    یاروں سے التماس ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کی آڑ میں پورے پاکستانیوں اور اسلام پر شدت پسندی کا لیبل نہ لگائیں ۔ اس خطے کے اندر پاکستان میں موجود ہندوں کے مندر ، سکھوں کے گردوارے ، عیسائیوں کے چرچ ، بدھا کے مجسمے اور دیگر مذہبی مقامات کوئی آج سے نہیں سینکڑوں ہزاروں سال سے ہیں ۔ بلوچستان میں دور پہاڑوں میں واقع تین ہزار سال پہلے کا ہنگلاج دیوی کا مندر ہو یا چکوال میں کٹاس راج ، سکھر کا سادھو بیلہ ہو یا کراچی کا شیو نرائن صدیوں پرانے ہیں ۔ سکھوں کے گردوارے اور عیسائیوں کے چرچ پانچ سو سال سے تین سو سالوں تک کی ہسٹری رکھتے ہیں ۔ مسلم حکمرانوں کو تو چھوڑئیے جنہوں نے یاروں کے بقول یہاں لوٹ مار کی لیکن خود پاکستان کی ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہاں آج تک اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو کوئی بڑے پیمانے پر ، ریاستی سطح پر طویل عرصے تک نہ کوئی نقصان پہنچایا گیا نہ ایسی سوچ کی کبھی کسی نے پذیرائی کی بلکہ ہمیشہ رد کیا گیا ہے

    بحیثیت مجموعی پاکستانی قوم کے ہاتھوں اقلیتوں یا انکی عبادت گاہوں کو بحیثیت مجموعی نقصان نہیں پہنچا ۔ ننکانہ صاحب میں گرو نانک کی جنم بھومی چلے جائیں یا بلوچستان کے پہاڑوں میں ہنگلاج دیوی کے مندر کے ساتھ مقیم دو ڈھائی سو لوگوں پر مشتمل ہندو اکثریتی ٹاون کے باسیوں کے پاس بیٹھیں خدا کا شکر ہے کہ کہیں بھی اقلیتوں کے سر پر ہر وقت کے خوف کا عالم کبھی طاری نہیں ہوا اور نہ اب ہے ۔ لاہور شہر میں بیسیوں اداروں میں کرسچین اور کراچی میں صدر اور آس پاس کی دفاتر میں کئی ہندو برادری کے افراد ملسمانوں کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں کھاتے پیتے بھی ہیں ۔ میرے دوست کے دفتر میں پیون ہندو لڑکا مکیش تھا ہم سب اسکے ہاتھ کا لگایا ہوا کھانا اور بنائی ہوئی چھائے مزے سے کھاتے پیتے تھے اور وہ بھی ساتھ ٹیبل پر ہی بیٹھا ہوتا تھا ۔ ایسی کئی مثالیں آپ سب کے سامنے بھی ہونگی ۔

    بھارت کی میجورٹی اگر اسی پر یقین رکھتی ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب سے نفرت کرتے ہیں تو اس میں حیرت نہیں انکی معاشرت اور سیاست کا تقاضہ ہی یہی ہے لیکن یہ ہمارے نیپال کے دانشوڑوں کی سمجھ داری سمجھ نہیں آتی ۔ مثلا گھوٹکی میں ہندو برادری کے مندر پر توڑ پھوڑ کے بعد جس طرح پورے علاقے نے پہرہ دیا اور اقلیتوں کو تسلی دی اسے ایک ایسے عمل سے بھی تشبیہ دی جیسے کوئی پہلی دفعہ پاکستان میں کسی نے گلے لگایا ہے اور اس سے پہلے پاکستانی مندروں کے باہر سوٹے اور ڈنڈے لیکر کھڑے ہوتے تھے کہ سب کو زبردستی کلمہ پڑھواکر چھوڑیں گے ۔ پھر کبھی یہ بھی سوچنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کچھ واقعات کی ٹائمنگ بڑی عجیب ہوتی ہے ۔

    کشمیر میں مسلم بچیوں کے ریپ کے واقعات جب شروع ہوئے پاکستان میں قصور میں بچوں کی ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ آگیا ۔ ادھر پاکستان دنیا بھر میں اقلیتوں کے ساتھ بھارتی مظالم کا رونا رو رہا ہے ادھر خود پاکستان میں گھوٹکی کا واقعہ ہوجاتا ہے ۔ قصور میں پھر بچوں کے ریپ کی خبریں اور لاڑکانہ سے ہندو لڑکی کا پراسرار قتل سارے دنیا کے میڈیا کی اٹینشن لے جاتا ہے ۔ اب جہاں آپکا وزیر کشمیر سمیت پورے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہندو توا کے علمبردار نریندر مودی اور امیت کا ظلم گنوائے گا وہیں وہیں مودی پاکستان سے آنے والی ان خبروں کو بنیاد بنا کر پاکستان کا مقدمہ کمزور کریگا ۔

    ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مسلم حکمران یہ لوٹا ہے ہوا مال لیکر کہاں گئے ۔ مکہ ؟ مدینہ ؟ ایران ؟ یا بابر کے آبائی وطن فرغانہ ؟ تاریخ تو یہی بتاتی ہے مسلم حکمرانوں کی اکثریت یہیں کی ہورہی اور یہاں کا پیسہ بھی یہیں رہا اور یہاں کے انفراسکٹچر پر لگا ۔ لیکن جو حال نیشن شیمنگ کے پراپیگنڈہ نے جاپانیوں کا اور جرمنز کا کیا وہی حال اس نیشن شیمنگ نے پوری مسلم ورلڈ کا اور برصغیر کے مسلمانوں کا بھی کیا اور اس میں غیروں کے ساتھ ساتھ ہمارے سو کالڈ لبرل سیکولر اور ماضی کے کمیونزم و سوشلزم کے پرچار دانشوڑوں کا بھی بڑا گہرا کردار ہے ۔ جیسے کسی انسان کو مایوس کرنا ہو تو اسے Body shaming میں ڈال دو ویسے ہی ان مہربانوں نے ہماری پوری قوم کو ہی Nation shaming میں ڈالا ہوا ہے

    یار لوگ یہ تو بتاتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں نے برصغیر کو لوٹا مگر یہ نہیں بتاتا کہ پھر اس لوٹ کھسوٹ میں خود ہندو کیسے شامل ہوگئے ۔ مثلا بابر سے اورنگ زیب عالمگیر تک کے 6 Great Mughals حکمرانوں میں تیسرے نمبر والے جس اکبر اعظم کے دور میں برصغیر پھلا پھولا ، اسی اکبر اعظم کے 9 رتنوں( یہ اکبر کے خاص مشیر تھے ۔ Nine jewels ) میں سے 4 ہندو تھے ۔ راجہ مان اسکا آرمی چیف ، راجہ ٹوڈرمل فنانس کا منتظم تھا جبکہ تان سین اور ۔۔۔ بھی ہندو تھے ۔ یعنی لوٹنے والے مسلمان اکبر کا چیف آف آرمی بھی ہندو اور معیشت کا انتظام یعنی عوام سے لگان یا ٹیکس لینے کا منتظم بھی ہندو ۔ دانشوڑوں سے سوال ہے کہ یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟

    "مسلمان” بابر آیا تو ” ہندو "رانا سانگا ساتھ ملکر لڑا "مسلمان” ابراہیم لودھی کے خلاف ۔ مسلمان کو ہرا کر ہندو کو ساتھ ملا کر مسلمان بابر نے یہاں کے باسیوں پر حکومت کی ۔ بابر کے بعد ہمایوں ، ہمایوں کے بعد اکبر ، اکبر کے بعد جہانگیر، جہانگیر کے بعد شاہ جہاں اور شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر نے تو 49 سال حکومت کی ۔ 49 سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا ، یعنی آدھی صدی ۔ اورنگ زیب عالمگیر کی اسلام پسندانہ طبیعت تو ہمارے دانشوڑوں کو بہت چبھتی ہے لیکن دانشوڑ یہ نہیں بتاتے کہ اورنگ زیب عالمگیر کا آرمی چیف بھی ایک ہندو ہی تھا ۔ راجہ جے سنگھ ۔ تو یہ کیسی لوٹ مار تھی بھائی ؟
    مغل سلسلہ کے بانی ظہیر الدین بابر اگر فرغانہ سے اٹھ کر دہلی میں آبسا تو اسی کے پوتے جلال الدین اکبر نے اس برصغیر کو دنیا کی تیسری بڑی دفاعی اور معاشی طاقت بنا دیا ۔ اسی اکبر کے بیٹے جہانگیر اور پوتے شاہ جہاں نے برصغیر کو آرٹ اور کلچر دیا ۔ دنیا کو سول اینجینئرنگ اور آرکیٹیکٹ کا ایک شاہکار ، ایک عجوبہ ” تاج محل ” دیا ۔ ہمارے مختلف شہروں اور پہاڑوں میں بنے قلعہ روہتاس ، لاہور کا قلعہ ، قلعہ بالا حصار ، سندھ کے بے شمار قلعے باہر سے آنے والوں کی اولادوں نے اسی سرزمین پر بنائے اور یہ آج بھی یہیں ہیں ۔

    ایک اور شخصیت محمود غزنوی کی ہے کہ جی غزنی سے آیا سومنات کا مندر لوٹا ۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ محمود غزنوی ، غزنی سے بامیان ، بامیان سے پنجاب میں ملتان اور پھر یہاں سے سومنات گیا ۔ یہ پورا راستہ پانچ ہزار کلومیٹر بنتا ہے ۔ اس میں دو ہزار کلومیٹر تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت پر مشتمل علاقہ تھا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ محمود نے پانچ ہزار کلومیٹر میں آنے والے بامیان میں بدھا کے مجسموں کو بھی نہیں چھیڑا بیچ میں دو ہزار کلومیٹر کی ہندو بیلٹ پر کسی اور مندر کو نہیں توڑا سوائے سومنات کے ۔ اگر محمود کا مقصد ہندو یا دیگر مذاہب کو نیچا دکھانا تھا تو بامیان میں بدھا کے مجسمے بھی نہیں بچتے اور بیچ کے راستے میں آنے والے مندر ۔ سومنات کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا جیسا دیگر راجوں مہاراجوں کے درمیان لگان اور ٹیکس وصولی کا تھا ۔ مثلا اورنگ زیب کے دور میں ایک مسلمان راجہ عبدالحسن تانہ شاہ نے لگان کا پیسہ دینے میں تین سال تک ٹال مول کی ۔ اورنگزیب نے بھائی کو بھیجا ۔ پتہ چلا فصلیں تو بہت ہوئیں پر تانہ شاہ بہانے کرتا آرہا تھا اور لوگوں سے ٹیکس لینے کے باوجود مرکز کو بھیجنے کے بجائے ایک مسجد میں چھپائے بیٹھا تھا ۔ اورنگ زیب کے بھائی نے اس مسجد کو منہدم کرکے چھپا ہو پیسہ نکالا اور مرکز کو دیا ۔

    اس کوئی دو رائے نہیں کہ جس طرح گھوٹکی کے واقعے کے بعد اہل علاقہ کا مندر کی حفاظت کے لئیے جمع ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پاکستانی اور مسلمان بحیثیت مجموعی اقلیتوں کے ساتھ غلط سلوک رکھنے کو اچھا نہیں سمجھتے ، اور ہمارے ہاں کی میجورٹی کسی اقلیتی برادری کے فرد کو مسلمان بنانے کے لئیے شمشیر بکف نہیں پھرتی ( پہلے میجورٹی خود تو ڈھنگ سے مسلمان ہوجائے ) بالکل اسی طرح اس طرح کے افسوسناک واقعات کا رو نما ہونا یہ ثابت کرتا ہے چاہے تعداد میں کم کیوں نہ ہوں ایسے لوگ موجود ہیں جو اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی بات کا بتنگڑ بنا کر اقلیتوں کو نقصان پہنچانے اور پوری قوم کا چہرہ داغدار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

    اس کا کوئی انکار نہیں کہ دین کے ضمن میں متشدد نظریات رکھنے والے بھی اسی معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور یہ ہمارے علما اور پڑھے لکھے طبقے کا کام ہے وہ اپنے اپنے حلقوں میں قرآن کے اس حکم کی شد و مد سے ترویج کریں کہ دین کے معاملے میں کسی بھی جبر اور اکراہ سے کا لینا احکام خداوندی کا انکار ہے نہ کہ ثواب کا ۔ اور پھر قرآن کریم میں تو اقلیتوں کے مندر ، گرجے، صعوموں اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے لئیے جان تک دے دینے کے واضح احکامات ہیں ۔ مومنین کا فریضہ ہے کہ کسی بھی خبر کی پہلے تصدیق کریں پھر اس پر یقین کریں جو تصدیق کے بغیر یقین کر لے وہ مومن نہیں ہے خدا کی نظر میں ۔ مولوی صاحبان سے التماس ہے کہ اس طرح کسی کو کلمہ پڑھوانا دین کی خدمت نہیں دشمنی ہے اور دانشوڑوں سے التماس ہے تاریخ کا مطالعہ بالغ نظری سے کریں نہ کہ دوسری کی لگائی ہوئی عینکیں لگا کر ۔ کیوں کہ پھر وہی بات آجاتی ہے کہ
    بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے
    تیرے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئیے

  • ابصار عالم کا پیمرا کو بڑا نقصان… تفصیل جانیے!!! تحریر: حجاب رندھاوا

    ابصار عالم کا پیمرا کو بڑا نقصان… تفصیل جانیے!!! تحریر: حجاب رندھاوا

    ‏سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے خلاف ضابطہ سرکاری گاڑی استعمال کی..اتھارٹی کو ایک ملین روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا گیا
    آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ریکوری کی سفارش کردی

    بچپن میں کہانی سنتے تھے کہ بادشاہ اپنے قصیدہ گو سے خوش ہوے اور انعام کے طور پر اس ہیرے اور جواہرات سے نوازا
    اج کل چونکہ جدید دور ہے ہیرے جواہرات نے بھی جدیدیت اختیار کر لی ہے اج جب بادشاہ اپنے قصیدہ گو سے خوش ہوتا ہے تو کسی کو چیئرمین پی ٹی وی، کسی کو چیئرمین پی ٹی اے، کسی کو چیئرمین پیمرا لگا دیتا ہے
    ایسا ہی جناب نوازشریف نے کیا

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ابصار عالم کو چیئر مین پیمرا تعینات کیا تھا
    ابصار عالم کی تعیناتی کو سپریم کورٹ نے بھی کالعدم قرار دیا تھا کیونکہ ابصار عالم چیئرمین پیمرا کیلئے مطلوبہ معیار اور مطلوبہ تعلیمی قابلیت پر پورا نہیں اترتے تھے جبکہ نواز شریف حکومت نے ابصار عالم کو قواعد کے برعکس اہم عہدے پر تعینات کیا تھا
    ابصار عالم کی تقرری کے لیے 2 بار اخبارات میں اشتہار دیکر رولز اینڈ ریگولیشن ظاہر کرنے کی کوشش کی گئ ، وہ پہلے اشتہار کے تعلیمی معیار پر پورا نہ اترے تو دوسری بار کم اہلیت کا اشتہار جاری کیا گیا
    آج کل کانسٹیبل کی بھرتی کے لئے بی اے کی شرط ہے، جس کی تنخواہ چند ہزار ہوتی ہے،
    مگر اسی بی اے کی ڈگری پر ابصار عالم 33 لاکھ ماہانہ کا مراعات یافتہ پیکیج لیتے رہے جس میں سے ہر ماہ تنخواہ سولہ لاکھ روپے تھی جبکہ دیگر مراعات جس میں گھر ‘ ڈرائیور‘، گاڑی، ٹی اے ڈی اے‘ کلب ممبر شپ کارڈ وغیرہ ملا کر 33 لاکھ کا پیکیج تھا ۔ ابصار عالم چیئرمین پیمرا بننے سے قبل نواز شریف خاندان کی جی حضوری میں مصروف رہتے تھے بالخصوص اسحاق ڈار اور شریف خاندان کی خوشنودگی حاصل کرنے کیلئے ٹی وی پروگراموں میں ان کے حق میں پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتے تھے جس کی وجہ سے انھیں نوازا گیا
    یہ بہت آزمودہ بات ہے کہ جو لوگ بادشاہ کی طرف سے نوازے جائیں، وہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں آگے چلے جاتے ہیں، اس کا بادشاہ کو نقصان تو ہوتا ہے، فائدہ بالکل نہیں ہوتا۔ ابصار عالم نے اپنے دور میں ذاتی لڑائیاں بھی لڑیں اور ان لڑائیوں کا نزلہ اُن پر کم اور نواز حکومت پر زیادہ گرا۔
    پیمرا کا کام چینلوں کو ضابطۂ اخلاق کے دائرے میں رکھنا ہے، لیکن ابصار عالم کا کام نوازشریف کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پہ پابندیاں لگانا ہوتا تھا
    ابصار عالم ایک طرف حکومت اور نواز شریف کے خلاف پروگراموں پر گرفت کرتے رہے اور دوسری طرف انہوں نے عدلیہ کے خلاف وزیروں کی پریس کانفرنسیں ٹیلی کاسٹ ہونے دیں۔

    گویا پیمرا ان حالات میں ایک پارٹی بن گیا تھا ریاستی اداروں میں اپنے چہیتوں کو بٹھا کر انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی کے بارے میں جو منفی ردِ عمل پیدا کیا اس کا نقصان تو انھوں نے خود اٹھایا لیکن جو نقصان نوازشریف کے قاسمی اور ابصار عالم جیسے قیصدہ گو نے اداروں کو پہنچایا اس کی بھرپائی ان سے وصولی کے زریعے ممکن ہے