Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    کیمبرج: محققین نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : برڈ لائف تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سال کی رپورٹ، جس نے محققین کی جانب سے اکٹھے کیےگئے ڈیٹا کاخلاصہ کیا ہے، نے قدرت کے حوالے سے انتہائی خطرناک منظر کشی کی ہے۔

    ڈائنو سار کو ناپید کرنے والا شہاب ثاقب وسیع آتشزدگی کا سبب بنا

    برڈ لائف انٹرنیشنل کی طرف سے ہر چار سال بعد جاری ہونے والی اسٹیٹ آف دی ورلڈ برڈز رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ زراعت کی توسیع اور شدت 73 فیصد اقسام پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ لاگنگ، حملہ آور انواع، قدرتی وسائل کا استحصال اور آب و ہوا کی خرابی دیگر اہم خطرات ہیں۔

    دنیا میں موجود پرندوں کی 49 فیصد اقسام کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہے جبکہ 2018 میں آنے والی آخری رپورٹ کے بعد صرف 6 فیصد اقسام کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

    8 میں سے ایک قسم یا کل 1409 اقسام معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ 1970 سے اب تک شمالی امریکا میں تقریباً 3 ارب پرندے معدوم ہو چکے ہیں دنیا بھر کے پرندوں کی حالت تباہ حال ہے۔ پرندوں کی اقسام پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے معدومیت کی جانب گامزن ہیں-

    22 کروڑ 50 لاکھ سال قبل معدوم ہو جانے والا ممالیہ دریافت

    پرندے اب بڑے زمینی عوام پر معدوم ہو رہے ہیں، خاص طور پر اشنکٹبندیی علاقوں میں۔ مثال کے طور پر، ایتھوپیا میں، گھاس کے میدان کو کھیتی باڑی میں تبدیل کرنے سے 2007 کے بعد سے مقامی لیبین لارک میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر پرندوں کی صرف 6 فیصد نسلیں بڑھ رہی ہیں۔

    برڈ لائف تنظیم کی سائنس آفسر اور اسٹیٹ آف دی ورلڈز برڈز رپورٹ کی سربراہ مصنفہ لوسی ہیسکل کا کہنا تھا کہ ہم پچھلے 500 سالوں میں پہلے ہی پرندوں کی 160اقسام کھو چکے ہیں اور معدومیت کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں معدومیت کے زیادہ تروقوعات جزائر پر سامنے آئے لیکن فکر انگیز بات یہ ہے کہ مرکزی خطوں میں معدومیت کی لہر میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ ان پرندوں کے ماحول کا تباہ ہونا ہے زیادہ تر پرندوں کی آبادی کو انسانوں سے خطرات کا سامنا ہے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

  • آٹزم (خود محویت)، ڈس ابیلیٹی کے سوشل ماڈل کی ڈیفی نیشن میں — خطیب احمد

    آٹزم (خود محویت)، ڈس ابیلیٹی کے سوشل ماڈل کی ڈیفی نیشن میں — خطیب احمد

    آٹزم پر ریسرچ کے دوران میرے اوپر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ میں نے خود کو آٹسٹک پرسن سمجھنا شروع کر دیا۔ میں ایک بات شروع میں واضح کر دوں یہ کوئی معذوری نہیں ہے۔ بلکہ ایک نیورو ڈیویلپمنٹل ڈائیورسٹی (تنوع) ہے۔ جسکے آگے مختلف درجے ہیں۔ اور اسکے ساتھ کچھ مزید چیزیں جڑی ہو سکتی ہیں۔ ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی اسکی وجوہات اور علاج ممکن نہیں ہے۔

    مگر کریں کیا؟

    آٹزم یا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کی بات کریں۔ تو اسکی علامات دو تین سال کی عمر سے لیکر عمر کے کسی بھی حصے میں نمایاں ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات مائلڈ اور شدید دونوں طرح کی ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین نفسیات و ورکنگ سپیشل ایجوکیشنسٹس کے مطابق آٹزم کی بعض علامات یہ ہیں

    سماجی تعلقات سے کترانا۔

    طبیعت میں جارحانہ پن۔

    نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا۔

    ہر وقت کی بے چینی اور خوف۔

    بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دل۔

    توجہ دینے میں دشواری ۔

    تنہائی پسند اور گوشہ نشین۔

    بات کرتے وقت آنکھیں چرانا۔

    الفاظ اور جملوں کو بار بار دہرانا۔

    ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا۔

    اپنا مطلب سمجھانے یا بات کا اظہار کرنے میں دشواری ہونا

    ہاتھوں کو چڑیا کے پروں کی طرح پھڑپھڑانا (Hand Flapping)

    ایک ہی کام کو بار بار کرنا

    ایک جگہ پر سکون سے نہ بیٹھنا، بیٹھے ہوئے اچھلنا کودنا

    بات کرتے ہوئے آئی کانٹیکٹ نہ دینا

    بات سن لینا مگر کوئی رسپانس نہ دینا

    بہت زیادہ ضد کرنا، شور مچانا، چیزیں توڑنا، نقصان کرنا، اگریشن

    عام بچوں سے زیادہ شرمیلا ہونا

    بات کو سمجھنے اور اپنی بات کا اظہار کرنے میں دشواری ہونا

    اپنی مرضی کے موضوع پر ہی بات کرنا۔

    ایم فل ڈیویلپمنٹل ڈس ابیلیٹیز کرنے کے ساتھ دس سال کے فیلڈ ایکسپیرئنس اور گزشتہ بارہ دنوں میں 120 گھنٹوں کی متواتر گہری (deep) و جدید (latest) ریسرچز کو پڑھنے، دنیا بھر کے آٹسٹک افراد کے انٹرویوز سننے کے بعد میں آٹزم کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے کے قابل ہوا ہوں۔ مجھے لگتا ہے مضمون تھوڑا لمبا ہوجائے گا مگر مجھے آج وہ سب کچھ کہنا ہےجو بہت کم کہا سنا اور لکھا گیا۔

    حالیہ برسوں میں آٹزم کی ریشو بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ ایک راؤنڈ نمبر میں ہر سو میں سے ایک بچہ آٹزم کے ساتھ ہے۔ اسی تناسب سے دنیا کی 7.9 ارب آبادی کا ایک فیصد یعنی 8 کروڑ آٹزم کے ساتھ ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو 22 کروڑ میں سے 22 لاکھ افراد آٹزم کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان آٹزم سوسائٹی کی آٹزم کے عالمی دن 2 اپریل 2021 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 4 لاکھ بچے آٹزم کے ساتھ ہیں۔ ہمارے ہاں شناخت کے عمل سے وہی آٹسٹک گزرتا ہے۔ جس میں آٹزم کی اوپر بیان کرنا انتہائی علامات پائی جاتی ہیں۔ اور بے شمار لوگ اپنے آٹسٹک بچوں کی وسائل و شعور کی کمی کے باعث باقاعدہ اسسمنٹ ہی نہیں کروا پاتے۔

    آٹسٹک کی اسسمنٹ کرتا کون ہے؟ عموماً ڈاکٹرز یا ماہر نفسیات؟ یہ دونوں فریق اور تیسرا فریق والدین آٹزم کو زیادہ تر ڈس ابیلیٹی کے میڈیکل ماڈل میں دیکھتے ہیں۔ میڈیکل ماڈل میں آٹزم کو ایک ذہنی بیماری، نیورو لاجیکل یا جنیٹک ڈس آرڈر، کوئی میڈیکل کنڈیشن یا ٹریجڈی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ نیورو لاجیکل ڈیویلپمنٹل ٹھیک نہیں ہوئی۔ تو یہ بچہ نارمل نہیں ہے۔ جسے نارمل کرنے پر کام شروع ہو جاتا۔ اسکا علاج ہونا چاہئے۔ پہلی یہی ازمشپن والدین ڈاکٹرز اور کچھ ماہر نفسیات اپناتے ہیں۔ اور بچے کا علاج کے چکروں میں ابتدائی سالوں میں ہی بیڑہ غرق کرکے رکھ دیتے۔

    میں بحثیت سپیشل ایجوکیشنسٹ اس میڈیکل ماڈل کو آٹزم کے تناظر میں کلی طور پر رد کرتا ہوں۔ ڈاکٹرز کیا کرتے ہیں؟ ٹیسٹ وغیرہ؟ اور سائیکالوجسٹ اسسمنٹ کرتے یا ان میں سے کچھ انکے ساتھ سیشن بھی لیتے؟ اور سپیشل ایجوکیشنسٹ کیا کرتے؟ اسسمنٹ کے ساتھ دنیا بھر میں ان بچوں کے ساتھ والدین کے بعد زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ ایک آٹسٹک بچہ جیسے خود کو ڈس ایبلڈ نہیں سمجھتا۔ اور نہ وہ حقیقت میں ہوتا ہے۔۔ڈس ایبلٹی کے سوشل ماڈل میں ہم سپیشل ایجوکیشنسٹ آٹزم کو کوئی بیماری یا معذوری نہیں سمجھتے۔ کہ جسکا علاج کیا جائے۔ اسے ٹھیک کیا جا سکے یا اسکی روک تھام ہو سکے۔

    دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں اربوں ڈالر آٹزم کی ریسرچ پر لگائے جا رہے ہیں۔ میں نے جب آٹزم کی فنڈنگ پر ریسرچ کی تو میرے سامنے بات کچھ یوں آئی۔

    40 فیصد فنڈز اس فیلڈ میں خرچ ہو رہے ہیں کہ اسکی جنیٹک اور بائیولوجیکل یا دیگر وجوہات کیا ہیں؟ اسکی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ ایک سو سال کی ریسرچ کے بعد بھی یہ سوال یوں کا توں ہے۔

    20 فیصد فنڈز اس بات پر کی جانے والی ریسرچ پر لگ رہے کہ اسکا علاج کیا ہے؟ ہم آٹزم کو کیسے نارمل کر سکتے ہیں؟

    20 فیصد فنڈز آٹزم کے مسائل اور رویوں کی تلاش میں کی جانے والی سالوں پر محیط تحقیقات میں کھپ رہے ہیں۔

    صرف 7 فیصد فنڈز آٹسٹک لوگوں کی ویلفیئر اور انکی مدد کرنے میں لگ رہے۔

    آٹسٹک لوگوں میں خود کشی کا رجحان عام لوگوں سے 9 گنا زیادہ ہے۔

    آٹزم کی ایوریج لائف دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی 54 سال ہے جبکہ نارمل لائف سپین 68 سال تک ہے۔ اور کچھ ممالک میں 80 سال تک بھی ہے۔

    دنیا کی ترجیحات ہی آٹزم کو لیکر غلط ہیں۔ کینیڈا انگلینڈ امریکہ فرانس جرمنی دوبئی میں مقیم پاکستانی والدین سے میری بات ہوئی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہاں بھی ان بچوں کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہم خود ہی کرتے ہیں جو بھی کریں۔ میڈیکل ماڈل پر ہی کام ہوتا ہے۔ شدید ذہنی اضطراب میں نیند کی گولیاں دے دی جاتی ہیں۔ یا ہمیں نہیں معلوم ہمارے بچے کے ساتھ ری ہیبلی ٹیشن سنٹر میں کیا کرتے ہی ۔

    آٹزم خواتین کی نسبت مردوں میں بہت زیادہ ہے۔ دس آٹسٹک بچوں میں سے ایک لڑکی اور نو لڑکے ہو سکتے ہیں۔ یا سولہ میں سے ایک لڑکی ہو سکتی ہے۔

    آٹزم سوشل ماڈل کے تحت ہے کیا؟

    آٹزم کوئی ڈس ایبلٹی نہیں ہے۔ یہ ایک نیورولوجیکل ڈیویلپمنٹ کا مختلف پیٹرن ہے۔ ان بچوں کی سوچنے سمجھنے رسپانس کرنے برتاؤ کرنے گفتگو کرنے میل جول رکھنے کی عادات اکثریت سے مختلف ہوتی ہیں۔ اور آٹزم کے ساتھ لوگوں کی آپس میں بھی ان ایریاز میں ترجیحات اور علامات ایک دوسرے مختلف ہیں۔

    کچھ لوگ نارمل لوگوں کی ڈیفی نیشن میں بھی انٹرو ورٹ Introvert اور ایکسٹرو ورٹ Extrovert ہوتے ہیں۔ MBTI کا ٹول استعمال کرکے آپ اپنی پرسنیلٹی ٹائپ معلوم کر سکتے ہیں۔ میں ENFP ہوں۔ یہ میرا ایک پرسنیلٹی کوڈ ہے۔ میں ایکسٹرو ورٹ ہوں۔ اس کوڈ کو میں نے ایک لائف کوچ سے فیس دے کر اپنی پرسنیلٹی اسسمنٹ کروا کر معلوم کیا ہے۔ آپ کا بھی کوئی پرسنیلٹی کوڈ ہوگا؟ جو ہمارے سیکھنے اور زندگی گزارنے کے مخصوص طریقے بتاتا ہے۔ جب کوڈ معلوم ہوجائے تو ہمارے لیے یہ آسان ہوجاتا ہے۔ ہم کس فیلڈ کے لیے بنے ہیں؟ کس کام میں تھوڑا کام کرکے زیادہ اور جلدی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ کونسا کام کرتے ہوئے ہم تھکیں گے نہیں۔

    اکثریت ساری عمر اپنی ناپسند کے کام میں ہی لگی رہتی۔ اور لوگ زندگی میں کچھ بھی بڑا نہیں کر پاتے۔
    آپ بھی اپنا پرسنیلٹی کوڈ معلوم کیجئے۔ اور پھر اس کام میں جت جائیے۔ بس دس سال سر نہیں اوپر اٹھانا۔ ٹکا کر محنت کرنی ہے۔ اور انشاء اللہ اگلا سو سال آپکا نام اس فیلڈ میں زندہ رہے گا۔ جتنی محنت زیادہ مقصد بڑا ہوگا اتنا نام معتبر ہوگا۔

    آٹزم کی اسسمنٹ تو کروا لی۔ والدین اب کیا کریں؟

    اس بچے کو اپنے دیگر بچوں سے مختلف بچہ قبول کریں۔ یہ مشکل ہے خصوصاً ایک ماں کے لیے۔ مگر میری بہن آپ اس بات کو لیکر کسی دکھ یا صدمے میں پلیز ہر گز نہ جائیں۔ نہ ہی اس بچے کو ٹھیک کرنے کے غلط راستے پر چل پڑیں۔ یہ بچہ ساری عمر دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہو سکے گا۔ یہ اپنے انداز میں ایک شاندار زندگی گزار سکتا ہے۔ اگر آپ اسے جو ہے جیسے ہے کی بنیاد پر قبول کر لیں۔۔اور اسکی بہتری پر کام شروع کر دیں۔

    اس بات کو چھپائیں بھی نہیں۔ سب کو بتائیں فخر سے کہ آپکا بچہ آٹسٹک ہے۔ اسکی پسند ناپسند عادات و اطوار تھوڑی یا زیادہ مختلف ہیں۔ فیملی و خاندان والوں کو ایجوکیٹ کریں۔ کہ اسکے ساتھ برتاؤ کیسے کرنا ہے۔

    کچھ بچے وربل اور اکثریت نان وربل کی ہوتی ہے۔ کچھ بچے ساری عمر ایک لفظ بھی نہیں بول پاتے۔ اشاروں کی زبان سیکھ جاتے ہیں۔ یا کوئی مخصوص الفاظ بولتے ہیں۔ جیسے انڈہ امی ابو آم کوئی ایک ایک لفظ وہ بھی جب انکی مرضی ہو۔

    تفصیلی اسسمنٹ جو ایک فرد واحد نہیں بلکہ پروفیشنلز کی ایک پوری ٹیم کرے۔ اور کئی دن پر وہ اسسمنٹ محیط ہو۔ وہ طے کرے گی کہ آٹزم کے ساتھ کونسی کنڈیشنز جڑی ہوئی ہیں؟ جنکی وجہ سے اسے سپیکٹرم کہا جاتا۔ اور

    اسکا علاج نہیں کرانا (جو دنیا بھر میں ہے بھی کوئی نہیں) بلکہ مینجمنٹ اور ایجوکیشن کا پلان کیسے بنانا ہے۔

    آٹزم کے ساتھ سب سے شدید کنڈیشن جو جڑتی وہ نابینا پن (Blindness) ہے۔ دنیا کی سب مشکل کنڈیشن ہے یہ اگر آٹزم شدید ہو۔
    اسکے علاوہ لرننگ ڈس ایبلٹیز،

    Expressive language disorder
    Receptive language disorder
    Sensory processing issues
    Obsessive compulsive disorder
    ADHD
    Hydrocephalus
    Epilepsy
    Schizophrenia
    Bipolar Disorder
    Depression
    Anxiety
    Disrupted sleep
    Gastrointestinal (GI) problems
    Feeding issues

    یہ بچے عام بچوں سے مختلف انداز میں سیکھتے ہیں۔ انکو سب سے پہلے بنیادی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اپنے ذاتی کام کیسے خود کرنے ہیں۔ ممکنہ توجہ اور بول چال پر ماہرین سالوں سال کام کرتے ہیں۔ تو جا کر کوئی معمولی سا آوٹ پٹ ملتا ہے۔ ان بچوں کی ون ٹو ون ٹیچنگ ہے۔ دو بچے بھی ایک وقت میں ایک جگہ نہیں پڑھ سکتے۔ پنجاب سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان بچوں کو اس وجہ سے نہیں لیتا۔ کہ وہاں ہر کیٹگری میں بچوں کی ریشو استادوں کی تعداد سے پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

    ہمارے بے شمار سکولوں میں دانشورانہ پسماندگی کے ساتھ بچوں والے پورشن میں ایک ٹیچر کے پاس دس بیس بچوں کے ساتھ ہی ایک کونے میں یہ بچہ بھی چپ چاپ سہما ہوا بیٹھا رہتا ہے۔ دس بیس سال بھی وہاں بیٹھا رہے۔ کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ اسے انفرادی توجہ اور ون ٹو ون ٹیچنگ کی ضرورت ہے۔ جہاں ان بچوں کو پڑھایا جاتا وہاں کوئی ڈسٹریکشن نہیں ہوتی۔ کوئی آواز کسی فرد کا گزر نہیں ہونے دیا جاتا۔ کہ یہ بچے انسٹرکشن پر فوکس کر سکیں۔

    ان بچوں کے علاج اور بحالی پر دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی ہزاروں نیم حکیم، عطائی، پیر، ڈاکٹر، ماہر نفسیات، سپیچ تھراپسٹ، سپیشل ایجوکیشنسٹ، آکو پیشنل تھراپسٹ اور کئی بغیر کسی ڈگری کے ہی صرف ماہرین کے ساتھ کام کرکے سیکھے ہوئے افراد، والدین و بچے کا وقت برباد کرنے کے ساتھ انکا پیسہ بھی برباد کر رہے ہیں۔ والدین کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ والدین کو کچھ پتا ہی نہیں۔ نیٹ سے معلومات لے کر کوئی نتیجہ نکالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس فیلڈ کے ماہرین ہی کوئی حتمی رائے قائم کر سکتے ہیں۔۔ایک عام آدمی سب کچھ نیٹ سے نہیں سیکھ سکتا۔ ناں ہی سب کچھ جان سکتا ہے۔ جان بھی لے تو بہت زیادہ وقت لے گا۔

    اس سارے سین کے بعد خوشی کی بات کیا ہے؟

    ان بچوں میں اگر کچھ خرابیاں ہیں تو خدا کی ذات نے کچھ خوبیاں بھی رکھیں ہونگی؟ عقل مانتی ہے ناں اس بات کو؟ مثبت ایریاز کو تلاش کرکے ان پر کام کرکے ان بچوں سے غیر معمولی کام لیے جا سکتے ہیں۔
    تو یہ لیں ان بچوں کے کچھ مثبت ایریاز:

    مثبت سوچ
    انتہائی پاورفل و شاندار یاداشت
    حد سے زیادہ مخلص
    فوکس کرنے کی اعلی ترین خوبی
    باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کی صلاحیت
    لوگوں کو گلے لگانا چومنا پیار کرنا
    پڑھنا بہت چھوٹی عمر میں شروع کر دینا Hyperlexia
    تصویری اشیا سے سیکھنے کی صلاحیت
    لاجیکل تھنکنگ
    سائنس ریاضی طب انجینرنگ کے مضامین بلا کی ذہانت و فطانت
    ٹیکنکل اور لاجیکل مضامین میں مہارت
    تخلیقی صلاحیتوں کے سمندر ان بچوں میں قید ہوتے
    انتہائی ذمہ دار ہوتے یہ بچے

    ایسا تب ہو سکتا ہے۔ اگر ان بچوں کے علاج کو چھوڑ پر انکی تعلیم و تربیت پر فوکس کیا جائے۔ گو قابل ماہرین بہت کم ہیں مگر موجود ہیں۔ آپکو ان بچوں کے لیے کچھ پیسے زیادہ کمانے ہونگے۔ ایک ماہر ٹیچر آپ ہائیر کریں گے جو آکے گھر پڑھائے گا۔ وہ ایک ماہ روزانہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ٹائم دینے کا بیس ہزار سے کم کسی صورت نہیں لے گا۔ اور یہ سلسلہ چار پانچ سال سے لیکر دس سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ ایک ہی وقت میں دو سے تین لوگ بشمول ماہر نفسیات و آکو پیشنل تھراپسٹ بھی ضرورت کے تحت سیشن لیتے ہیں۔

    پاکستان کی ہر ڈویژن اور پنجاب کے ہر ضلع تحصیل ٹاؤن سپیشل ایجوکیشن سنٹر سے کسی ٹیچر کا پتا کر لیں جو سکول کے بعد ٹائم دے سکے۔ آپ بچے کی ماں ہیں یا والد خود بھی ساتھ ٹریننگ لیں۔ دنیا بھر میں کامیاب آٹسٹک بچوں کے ٹیچر اکثریت میں انکے والدین ہی تھے۔ یہ بچے ٹیچر کو منہ پر تھپڑ مارتے ہیں۔ تھوک دیتے ہیں۔ چکیاں کاٹتے ہیں۔ اوپر پانی گرا دیتے دھکا وغیرہ دے دیتے ہیں۔ ٹیچر یہ سب کیوں برداشت کرتا ہے؟ کہ اسے اسکا معاوضہ ملے گا۔ پانچ دس ہزار میں کوئی قابل ٹیچر یہ سب سہنے کے لیے نہیں ملے گا۔ آپکو تو پیسوں سے غرض نہیں؟ آپ ٹیچر سے کہیے آپکو بھی ٹرین کرے۔ اگر نہیں کر سکتے تو پیسے زیادہ کمائیے اور بچے کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کیجیے۔ ورنہ بچہ گلیوں میں لوگوں کے ٹھٹھہ مذاق کا سورس ہوگا۔۔یا گھر کے کسی کونے میں پڑا زندگی کے دن پورے کرتا رہے گا۔ یا آپکی ساری زندگی اسکی اور آپکی ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے مشکل میں گزرے گی۔

    یہ بچے ارلی انٹروینشن کے بعد تعلیمی نظام کا حصہ بن کر پی ایچ ڈی تک کر سکتے ہیں۔ کئی آٹسٹک پی ایچ ڈی ہیں۔ انکے لیے بہترین ملازمت کے چند پیشے یہ ہیں۔ جن میں یہ اپنی سپر پاورز دکھا سکتے ہیں۔ اور یقیناً آپکی سہی ہوئی تکلیفیں اور خرچا ہوا سرمایہ سب کچھ یہ واپس لوٹا دیں گے۔ اگر آپ نے انہیں کسی قابل بنا دیا۔

    انیمل سائنسز جیسے زووالوجی یا جانوروں کو کسی کام کے لیے ٹرین کرنا (دنیا بھر میں ہر نسل کتوں کو سدھارنے اور مختلف کام سکھانے والے ماہرین آٹسٹک لوگ ہیں)

    ریسرچر کوئی بھی ان جیسا نہیں بن سکتا

    آرٹ اینڈ ڈیزائن (گرافک ڈیزائننگ)

    پینٹنگ (کہا جاتا ہے صادقین، اسمائیل گل جی اور جمیل نقش صاحب ملک کے تینوں عالمی شہرت یافتہ پینٹر بھی آٹسٹک تھے) ان لوگوں کی پینٹنگز آج کروڑوں میں بکتی ہیں۔ جمیل نقش صاحب کی بیٹی بتا رہی تھی کہ اسکے ابو اپنی ساری زندگی میں بس چند ایک دفعہ ہی گھر سے باہر نکلے۔ ایک بار جب انکی شادی ہوئی پھر جب انکی مسز فوت ہوئی جنازہ کے لیے۔ تیسری دفعہ جب پاسپورٹ بنوانا تھا اور چوتھی دفعہ جب انہوں نے لندن جانا تھا۔ سنہ 2019 میں جمیل نقش صاحب لندن میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ آج انکے کام کو دنیا جانتی ہے۔ وہ کسی سے بھی نہیں ملتے تھے بس اپنے کام میں کھوئے رہتے تھے۔

    مینو فیکچرنگ (کسی بھی چیز کی)

    انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے سافٹ ویئر اور موبائل ایپس بنایا۔ سافٹ ویئر کی خرابی چیک کرنا (امریکہ میں ایک آئی ٹی کمپنی ہے جو فرمز کے بڑے بڑے خراب سافٹ ویئر ٹھیک کرتی ہے۔ ان کے سارے ملازمین اسپرجر سنڈروم کے ساتھ ہیں۔ یہ آٹزم کی ہی مائلڈ شکل ہے)

    کسی بھی قسم کی انجینرنگ ملازمت

    یہ بچے سائنسدان بن سکتے ہیں (کیونکہ سائنسدان بھی کسی سے بات نہیں کرتے بس اپنے تجربات میں کھوئے رہتے ہیں۔ تین بڑے سائنسدان آئزک نیوٹن، البرٹ آئنسٹائن اور ہینری کیویندش (ہائیڈروجن کا موجود) بھی آٹسٹک تھے۔

    جرنلزم میں یہ لوگ کمال کے کالم نگار ہوتے ہیں کہ لکھنا ریسرچ کرکے ہوتا ہے۔۔ریسرچ کرنا ان پر ختم ہے

    کسی بھی مشین کے مکینک یہ بہترین ہو سکتے ہیں۔ جان ڈئیر مشینیں بنانے والی مشہور زمانہ امریکن کمپنی میں ٹاپ مکینک آٹسٹک لوگ ہیں۔

    دنیا کے ٹاپ وکلاء کے پیرالیگل سٹاف میں آٹسٹک لوگ ہو سکتے جو کسی کیس کی اسٹڈی میں رسرچ کرتے ہیں۔

    سپیس سائنسز کاسمالوجی میں ان سے بہتر کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ ناسا میں کئی آٹسٹک لوگ ہیں۔

    ان تمام شعبوں کے بائی ڈیفالٹ و بائی برتھ بادشاہ آٹسٹک لوگ ہیں۔ یہ سب شعبے انتہائی ذہانت اور لاجیکل تھنکنگ مانگتے ہیں۔ حد سے زیادہ فوکس اور لگن مانگتے ہیں۔ اینٹی سوشل لوگ ہی ہمیشہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اور انکی تو گھٹی میں پڑی ہوئی یہ خوبی کہ کسی سے بات ہی نہیں کرنی جاؤ جو ہوتا ہے کر لو۔ بس اپنی دنیا میں ہی مگن رہنا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈس ایںبلٹی کے میڈیکل ماڈل کی بجائے سوشل ماڈل کو اپناتے ہوئے ان بچوں کو قبول کیا جائے۔ اور انکی تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام کیا جائے۔

    #autismawareness

  • سائنسی طرزِ فکر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی طرزِ فکر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی طرزِ فکر اپنائے بغیر سائنس نہیں سیکھی جا سکتی۔ سائنسی طرزِ فکر حقیقت پسندی کا نام ہے۔ ایک ان پڑھ بھی اگر حقیقت پسند ہو تو وہ ایک پی ایچ ڈی سے بہتر سائنس سیکھ سکتا ہے۔ حقیقت پسندی تب آتی ہے جب ہم کھوکھلے نعروں، فرسودہ علوم اور جذباتیت سے نکل کر وہ علم سیکھنے کی کوشش کریں جو جدید دنیا سیکھ رہی ہے۔

    ہمیں اس خوش فہمی سے نکلنا ہو گا کہ کوئی دن رات ہمارے خلاف سازش کر رہا ہے کہ ہمیں ناکام کرے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ دنیا کیوں ہم سے ہر دوڑ میں آگے جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔ اور کیا پرانی روایات، پرانے خیالات اور پرانے علوم ہمیں جدید دنیا میں آگے لے جا سکتے ہیں؟

    کیا کھوکھلے نعرے لگانے والے ، رال ٹپکاتے، منہ سے جھاگ نکالتے اور عقل و خرد سے عاری داستانیں سنانے والے ہمیں کسی منزل تک پہنچا سکتے ہیں اور کیا انکی تقلید کرکے ہم قومی خود مختاری اور معاشی و معاشرتی ترقی کر سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا جبکہ پورے ملک میں ان سب کی بہتات ہے۔ گلی گلی، قریہ قریہ، محلے محلے، چینل چینل، سوشل میڈیا سوشل میڈیا انکی بہتات ہے۔ یہ لوگ دولو شاہ کے چوہے تو بنا سکتے ہیں جو بڑی بڑی ڈگریاں اور بڑے بڑے عہدے لیکر بھی رہتے تو اکسیویں صدی میں ہیں مگر انکے دماغ کئی صدیاں پیچھے رہ رہے ہیں۔ غریب تو خیر روٹی کپڑے سے نکل کر جدید تعلیم کیا محض تعلیم ہی نہیں سیکھ سکتے، مڈل کلاس فرسودہ علوم پر استوار تعلیمی نظام اور مساوی نظامِ تعلیم میں پھنسے اور اسکے ڈسے ہیں اور اشرافیہ غریبوں اور مڈل کلاس کی جہالت کا فائدہ اُٹھاتی خود پست ذہنیت کی ہو چکی ہے۔

    پاکستان میں اس وقت تقریباً دو سو کے قریب یونیورسٹیاں ہیں جن میں سے اکثر پچھلے تیس سالوں میں بنی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں بیٹھی اکادیمیہ جن میں پروفیسر حضرات شامل ہیں کن جدید علوم اور کس سائنسی فکر سے طلباء کو پڑھاتے ہیں؟ یونیورسٹیوں میں میریٹ پر کون بیٹھا ہے؟ تحقیق کے نام پر فنڈنگ سے کونسے مقامی مسائل کا حل نکل رہا ہے؟ مقامی صنعتوں اور یونیورسٹیوں کا اشتراک جو جدید دنیا میں ترقی کا پیش خیمہ ہے وہ کہاں ہے؟

    1964 میں حکومت کی ایک پوری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بنی تھی، اس وزارت کا کام ہر سال چاند کی رویت کے لیے بندے مار ٹیلی سکوپس حبیب بینک کراچی کی چھت یا سینٹارس پر کیے گئے رویت کے اجلاسوں میں چاند کو نکلوانے یا چھپوانے کے اور کیا ہے؟

    ایسے معاشرے میں سائنس سکھانے سے پہلے کیا یہ ضروری نہیں کہ سائنسی طرزِ فکر سکھائی جائے۔ مچھلی پکڑا کر کھلانے سے کیا بہتر نہیں کہ مچھلی پکڑنا سکھائی جائے؟ چلیں اس پر ملکر سوچتے ہیں۔

  • دبئی میں دو سیٹوں والی الیکٹرک فلائنگ کار کا کامیاب تجربہ

    دبئی میں دو سیٹوں والی الیکٹرک فلائنگ کار کا کامیاب تجربہ

    دبئی: ایک چینی فرم نے پیر کے روز دبئی میں ایک الیکٹرک فلائنگ کار کا تجربہ کیا، جس میں مستقبل کی ٹیکنالوجی کی ایک جھلک پیش کی گئی-

    باغی ٹی وی :واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دبئی میں دو سیٹوں کی اُڑنے والی گاڑی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے،دو سیٹوں والی الیکڑک کارکواسکائی ڈائیو میں عمودی ٹیک آف اورلینڈنگ کرائی گئی ہے فلائنگ کار کی رفتار130 کلومیٹر (80 میل) فی گھنٹہ ہے اور یہ مصنوعی ذہانت کنٹرول سسٹم سے لیس ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    فلائنگ کار چینی انجینئرز کی کاوش ہے جو مصنوعی ذہانت کنٹرول سسٹم سے لیس ہے، اس کے علاوہ کار خود مختار اُڑان بھی بھر سکتی ہے۔

    فلائنگ کار بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے فلائنگ کار کو پہلے مرحلے میں بعض ریگولیٹڈ علاقوں میں ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ آپریشنل اخراجات اور خطرات کو کم کیا جا سکے۔

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    کا ر کو Guangzhou میں قائم XPeng Inc کے ہوا بازی سے وابستہ ادارے نے تیا کیا ہے،دنیا بھر میں اڑن کاروں کے درجنوں منصوبوں میں سے ایک ہے پیر کو مظاہرہ ایک خالی کاک پٹ کے ساتھ کیا گیا تھا، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے جولائی 2021 میں انسان بردار فلائٹ ٹیسٹ کیا تھا گاڑی دو مسافروں کو لے جا سکتی ہے اور آٹھ پروپیلرز کے سیٹ سے چلتی ہے۔

    کار کے حوالے سے کمپنی کا کہناہےکہ دو سے تین سالوں میں فلائنگ کاردبئی میں اُڑتی نظرآئےگی۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

  • ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    ٹوئٹر نے صارفین کی جانب سے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس کی روک تھام کے لئے کام شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی : کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ٹوئٹر کی آئی او ایس ایپ میں ایک نئے فیچر کی آزمائش کی جارہی ہے جس میں کسی ٹوئٹ کا اسکرین شاٹ لینے پر ایک پوپ اپ میسج سامنے آتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسکرین شاٹ لینے کی بجائے ٹوئٹ کو شیئر کریں کچھ افراد کے سامنے تو کاپی لینے کا آپشن بھی آرہا ہے۔

    صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے


    ٹوئٹر کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے بتایا کہ کروڑوں ٹوئٹس کو روزانہ ٹوئٹر سے دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ٹوئٹس تک ہر فرد کو رسائی حاصل ہو چاہے وہ پلیٹ فارم سے باہر ہی کیوں نہ ہو۔

    ترجمان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ہم ایک نئے پروموٹ کو آئی او ایس میں ٹیسٹ کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے دوستوں کے ساتھ ٹوئٹس شیئر کرنے کے ذرائع کا علم ہوسکےیہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جب حقیقی ٹوئٹ کی بجائے اس کے اسکرین شاٹ کو شیئر کیا جاتا ہے تو دیگر افراد کو اس پلیٹ فارم سے انگیجمنٹ کا موقع نہیں ملتا۔

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ٹوئٹر کے لیے ایسے افراد کو اشتہارات دکھانے کا موقع نہیں ملتا یا انہیں اس سروس کا حصہ بننے کی پیشکش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

    ٹویٹر صارفین کو اسکرین شاٹنگ کے برعکس ٹویٹس کا اشتراک کیوں کرنا چاہتا ہے۔ ایک تو، آپ ایپ پر زیادہ دیر تک رہیں گے یا ایک لنک بھیجیں تاکہ کوئی دوسرا ٹوئٹر پر وقت گزار سکےجتنا زیادہ وقت کوئی ٹویٹر پر گزارتا ہے، اتنا ہی زیادہ فروغ شدہ ٹویٹس اور اشتہارات وہ دیکھتے ہیں۔

    اگر آپ کسی ٹویٹ کا اسکرین شاٹ کر کے اسے کسی اور سوشل میڈیا ایپ پر پوسٹ کرتے ہیں تو ٹویٹر کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

    ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

  • مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    واشنگٹن: ناسا نے جُونو اسپیس کرافٹ سے کھینچی گئی نظامِ شمسی کے پانچویں سیارے مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : یہ تصویر گزشتہ 20 سالوں میں کسی اسپیس کرافٹ کی جانب سے لی گئی یورپا کی سب سے قریبی تصویر ہے۔ اس سےقبل امریکی خلائی ایجنسی کے گیلیلیو نے جنوری 2000 میں یورپا کی سطح سے 351 کلومیٹرکے فاصلے سے تصویر لی تھی۔تصویر میں یورپا کے خط استوا کے قریب کا علاقہ اینون ریجیو دِکھایا گیا ہے۔


    یورپا نظامِ شمسی کا چھٹا بڑا چاند ہے جو دنیا کے چاند کی نسبت تھوڑا چھوٹا ہے جونو کیم نے 29 ستمبر کو یوروپا کی فلائی بائی کے دوران چار تصاویر کھینچیں-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ میلوں موٹے برف کے خول کے نیچے ایک نمکین سمندر موجود ہے جس سے ممکنہ طور پر یورپا کی سطح کے نیچےزندگی کے لیے سازگار موحول کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈیٹا جمع کرنے کے لیے جونو اسپیس کرافٹ کے پاس صرف دو گھنٹے کی مہلت تھی۔ اسپیس کرافٹ چاند کے پاس سے 23.6 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گزرا تھا۔

    سان انتونیو میں ساؤتھ ویسٹ ریسرچ سینٹر کے جونو کے پرنسپل تفتیش کار سکاٹ بولٹن نے کہا کہ 2013 میں ہمارے فلائی بائی آف ارتھ کے ساتھ شروع کرتے ہوئے، جونو کے سائنسدانوں نے جونو کے ساتھ ملنے والی متعدد تصاویر پر کارروائی کر کےانمول ثابت کیا ہے-

    مشتری اور اب اس کے چاند کی ہر پرواز کے دوران، ان کا کام ایک ایسا تناظر فراہم کرتا ہے جو سائنس اور آرٹ دونوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے وہ ہماری ٹیم کا ایک اہم حصہ ہیں، جو نئی دریافتوں کے لیے ہماری تصاویر کا استعمال کرتے ہوئے راہنمائی کرتے ہیں۔

  • سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    آسٹریلوی سائنسدانوں نے خلائی مشن سے متعلق معلومات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کی کوشش کریں گے۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی کوئنز لینڈ یونیورسٹی میں ماہر نباتیات بریٹ ویلیمز نے بتایا کہ چاند پر پودے لگانے کے ایک پرائیویٹ اسرائیلی مشن کے تحت پودوں کے بیجوں کو بیری شیٹ 2 خلائی جہاز کے ذریعے چاند پر لے جایا جائے گا جہاں انہیں ایک سیل بند چیمبر کے اندر پانی دیا جائے گا اور ان کے اگنے اور نشو و نما کی نگرانی کی جائے گی ۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدان دیکھیں گے کہ پودے کس حد تک انتہائی شدید حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور کتنی دیر میں اُگاؤ کا عمل شروع ہوتا ہے، ماہرین چاند پر ریسوریکشن گھاس کا بھی چناؤ کر سکتے ہیں جو بغیر پانی کے بھی زندہ رہ سکتی ہے۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی پروفیسر کیٹلین برٹ نے کہا ہے کہ اگر چاند پر پودے اگانے کا نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے تو پھر زمین پر بھی انتہائی مشکل ماحول میں خوراک اگانے کا سسٹم بنا سکیں گے۔

    محققین نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ خوراک، ادویات اور آکسیجن پیدا کرنے کے لیے پودوں کو اگانے کی جانب ایک ابتدائی قدم ہے، جو سب ہی چاند پر انسانی زندگی کے قیام کے لیے بہت اہم ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    کینبرا میں آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کیٹلن برٹ نے کہا کہ یہ تحقیق موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے غذائی تحفظ کے خدشات سے بھی منسلک ہے اگر آپ چاند پر پودوں کو اگانے کے لیے ایک نظام تشکیل دے سکتے ہیں، تو آپ زمین پر بھی کچھ مشکل ترین ماحول میں خوراک اگانے کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔

    اس پراجیکٹ کو لوریا ون نامی تنظیم چلا رہی ہے، جس میں آسٹریلیا اور اسرائیل کے سائنسدان شامل ہیں۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

  • فضائی آلودگی اور ڈپریشن — بلال شوکت آزاد

    فضائی آلودگی اور ڈپریشن — بلال شوکت آزاد

    ماہرین کے مطابق ڈپریشن دماغی صحت کے سب سے عام عوارض کی فہرست میں شامل ہے۔ اگر آپ اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ صرف امریکہ میں ہی 7% سے زیادہ امریکی سالانہ بنیادوں پر ڈپریشن ڈس آرڈر کا شکار رہتے ہیں۔

    اگرچہ اس خرابی کی بہت سی پیچیدہ وجوہات ہیں، لیکن محققین ابھی تک اس پہلو کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب تک، ہم یہ جانتے ہیں کہ فضائی آلودگی اور افسردگی کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس خرابی کا تعلق آلودگی سے ہوسکتا ہے۔ آئیے اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرتے ہیں۔

    محققین نے بیجنگ میں صحت مند رضاکاروں کے ایک گروپ کی مدد سے ایک مطالعہ کیا۔ اگر آپ نہیں جانتے تو جان لیں کہ یہ چین کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک شہر ہے جو چین کا دارلحکومت بھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس شہر میں آلودگی کی سطح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ چونکہ اس شہر میں آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہے، اس لیے محققین نے اس تجربے کے لیے اسی شہر کا انتخاب کیا۔

    ماہرین نے ہوا کا معیار جاننے کے مانیٹر کا استعمال کیا تاکہ رضاکاروں تنفس اور دماغی صحت پر اس ہوا کے اثرات کا اندازہ ہوسکے۔ اس کے بعد، تمام شرکاء کا ڈپریشن کی مختلف علامات کے لیے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ، ان کی علمی کارکردگی کا بھی تجربہ کیا گیا۔ ان کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہوا کی خراب کوالٹی میں سانس لینے سے ان کی علمی کارکردگی میں کوئی کمی آئی ہے؟

    انہوں نے پایا کہ ہوا کے خراب معیار کا لوگوں کے مزاج اور علمی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، محققین کو اس طرح ایک ایسے طریقہ کار کے بارے میں بھی معلوم ہوا جو فضائی آلودگی سے متاثرہ لوگوں میں ڈپریشن کی علامات تلاش کرسکتا ہے اور جان سکتا ہے کہ واقعی فضائی آلودگی ڈپریشن میں مبتلا کرسکتی ہے کہ نہیں۔ وہ یہ تجربہ کر کے زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے کہ فضائی آلودگی اور ڈپریشن آخر کس طرح مربوط ہیں اور اس سے کتنے فیصد لوگ متاثر ہوتے ہیں؟

    اس کے علاوہ، محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جن افراد میں کسی طرح کے جینیاتی رجحانات ہوتے ہیں ان میں طویل مدت تک آلودہ ہوا میں رہنے پر دماغی صحت میں خرابی پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی انسانی دماغ کے نیورل نیٹ ورک پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک بار جب اس عصبی نیٹ ورک سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، تو فرد کو پریشانی شروع ہو سکتی ہے۔ لہذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ فضائی آلودگی آپ کی دماغی صحت کے لیے بہت بری ہو سکتی ہے۔ ایک بار جب آپ کی دماغی صحت سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے، تو آپ کو اپنے جسم کے دیگر حصوں میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    لہذا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ فضائی آلودگی ڈپریشن کا سبب بننے والے بنیادی عوامل میں سے ایک اہم وجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگ انتہائی آلودہ علاقوں میں رہتے ہیں تو ان میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ شہر کے لوگ طرح طرح کی جسمانی بیماریوں کے علاوہ نفسیاتی عارضوں اور افرا تفری میں مبتلا رہتے ہیں۔

    اگرچہ فضائی آلودگی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ تازہ ہوا میں سانس لینے کے لیے اپنی سطح پر پوری کوشش کریں۔ اس مقصد کے لیے، میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے گھر یا دفتر کے لیے ایک اچھا ایئر پیوریفائر خریدنے پر غور کریں۔ ان سادہ لیکن طاقتور آلات کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ آپ کے گھر اور دفتر میں ارد گرد کی ہوا کو موثر طریقے سے صاف کر سکتے ہیں۔

    لہذا، آپ کو اپنا بجٹ سیٹ کرنا چاہیے اور ایک ایئر پیوریفائر یونٹ خریدنا چاہیے جو آپ کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ آخرکار، آپ فضائی آلودگی پر تو کنٹرول نہیں کرسکتے لیکن کیا آپ اپنی زندگی میں ڈپریشن کا شکار ہونا چاہتے ہیں؟

  • آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جسے عام فہم میں آسمان کہتے ہیں دراصل یہ خلا کا وہ حصہ ہے جو زمین سے ہم دیکھتے ہیں۔ زمین بھی کائنات کے باقی تمام ستاروں, کہکشاؤں وغیرہ کی طرح خلا میں ہے۔

    قدیم تہذیبوں جیسے کہ بابل و نینوا میں سات آسمانوں کا تصور زمین سے دکھنے والے سات اجرامِ فلکی سورج، چاند، عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کی وجہ سے بنا۔ اور ہر ایک سے ایک آسمان منسلک کر دیا گیا۔ بعد میں یہ تصور دیگر تہذیبوں میں آیا ۔ یہ تصور اتنا مستقل ہے کہ آج بھی ہم نے ہفتے کے دنوں کے نام انہی سات اجرام کی مناسبت سے رکھے ہوئے ہیں۔ مگر اسکا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔

    زمین گو کہ خلا میں ہے مگراس کی اپنی فضا ہے جو مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔ ان کا تناسب فضا میں کچھ یوں ہے۔ نائٹروجن 78 فیصد ، آکسیجن 21 فیصد جبکہ دیگر کئی گیسیز اور بخارات کل ملا کر 1 فیصد ۔ دن کے وقت یہ ہمیں فضا نیلی کیوں دکھائی دیتی ہے جبکہ رات میں کالی یا تاریک ۔

    غیر سائنسی الفاظ میں سمجھایا جائے تو سورج کی روشنی میں ہر طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ہم جب قوسِ قزح دیکھتے ہیں تو ہمیں سات رنگ نظر آتے ہیں۔ روشنی دراصل برقناطیسی لہروں کی صورت میں ہے۔ لہر کی ایک ویولینتھ ہوتی ہے۔ کسی مسلسل لہر میں کئی اُتار چڑھاؤ ہوتے ہیں۔ ایک لہر کے دو قریبی اُتار یا قریبی چڑھاؤکے بیچ کے فاصلے کو ویوولینتھ کہتے ہیں۔ روشنی کے مخلتف رنگ دراصل اس لئے ہوتے ہیں کہ ہر رنگ کی ویوولینتھ مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سرخ رنگ کی ویوولینتھ زیادہ ہے بنسبت نیلے رنگ کے۔ یعنی سرخ روشنی کی لہروں کے دو قریبی اُتار میں فاصلہ زیادہ ہو گا بنسبت نیلے رنگ کی روشنی کے دو قریبی اُتار کے۔

    سورج کی سفید روشنی جب ہماری زمین کی فضا سے ٹکراتی ہے تو ہماری فضا میں موجود گیس کے مالیکول مختلف ویویلنتھ کی روشنی کو مختلف طرح سے بکھیرتے ہیں۔

    زیادہ ویویولینتھ کی روشنی کم بکھرے گی جبکہ کم ویویلنتھ کی روشنی زیادہ۔

    یعنی سرخ روشنی کم بکھرے گی اور نیلی روشنی زیادہ بکھرے گی۔ نیلی روشنی کے زیادہ بکھرنے سے فضا دن کے وقت ہمیں نیلی نظر آتی ہے۔

    غروبِ آفتاب کے وقت البتہ آسمان سرخ یا نارنجی دکھائی دیتا ہے جسکی وجہ یہ کہ اُفق سے نیچے سورج کی روشنی کو زیادہ فضا سے گزرنا پڑتا ہے بنسبت دن کے وقت۔
    سو نیلی روشنی جو پہلے ہی زیادہ بکھرتی ہے، اب اور بکھر کر نظر نہیں آتی جبکہ سرخ روشنی کم بکھرتی ہے سو نیلی روشنی کی عدم موجودگی میں زیادہ واضح نظر آتی ہے۔

    روشنی کے اس طرح سے بکھرنے کے عمل کو Rayleigh Scattering کہا جاتا ہے۔جسکے بارے میں 1871 میں برطانوی سائنسدان Lord Rayleigh نے بتایا کہ کیسے روشنی کی ویویلنتھ سے چھوٹے سائز کے ذرات روشنی کو مختلف زاویوں پر بکھیرتے ہیں۔

    تو اب اگر آپکا بچہ آپ سے پوچھے کہ آسمان نیلا کیوں ہے
    تو پہلے اُسکی آسمان کی غلط فہمی دور کیجئے گا اور پھر یہ بتائیے گا کہ فضا دن کو نیلی کیوں دکھتی ہے.

  • صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے

    صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے

    ٹوئٹر کی جانب سے ایک نئے فیچر کو متعارف کرایا گیا ہے جس سے صارفین تصاویر، ویڈیوز اور جی آئی ایف فائل ایک ٹوئٹ میں پوسٹ کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اب اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر تصاویر، ویڈیو اور جی آئی ایف فائلز کو ایک ساتھ پوسٹ کیا جاسکتا ہے اس کے لیے ٹوئٹ کمپوزر پر فوٹو، میڈیا یا جی آئی ایف آئیکونز پر کلک کرکے اپنی پسند کی فائلز کو اپ لوڈ کردیں۔

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1577729271002533921?s=20&t=kBR0N87KbM27hd3vhtX8tw
    کمپنی کے مطابق ایک ٹوئٹ پر صارفین 4 تصاویر، ویڈیوز یا جی آئی ایف فائلز پوسٹ کرسکیں گے علاوہ ازیں اس فیچر میں صارفین تصاویر اور ویڈیوز دونوں کو بیک وقت ٹیگ بھی کرسکیں گے۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1577730112853680128?s=20&t=kBR0N87KbM27hd3vhtX8tw
    اس سے پہلے صارفین ایک ٹوئٹ پر صرف تصاویر پوسٹ کرسکتے تھے یا ویڈیو ، دونوں کو ایک ساتھ پوسٹ کرنا ممکن نہیں تھا۔

    انسٹاگرام میں اس طرح کا فیچر کافی عرصے سے موجود ہے جس سے صارفین تصاویر اور ویڈیوز ایک ساتھ پوسٹ کرسکتے ہیں۔

    ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

    قبل ازیں کمپنی کی پیڈ سروس ٹوئٹر بلیو کے سبسکرائبرزکو اس تک رسائی دی گئی ہے،کمپنی کےمطابق ٹوئٹر بلیو کے کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے صارفین اب اس فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں، البتہ ابھی اسے امریکا میں متعارف نہیں کرایا گیا۔

    کمپنی نے یہ نہیں بتایا گیا کہ عام صارفین کے لیے یہ فیچر بھی مستقبل قریب میں اس فیچر کو متعارف کرایا جاسکتا ہے یا نہیں-

    کمپنی کے مطابق ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اسے ایڈٹ کیا جاسکے گا ،ایڈٹ کیے جانے والے ٹوئٹس ٹائم اسٹیمپ اور لیبل کے ساتھ نظر آئیں گے جس سے پڑھنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ اوریجنل ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش