وہ معصوم تھی
روند دی گئی
اس کی فریاد سنی نہ گئی
بارہا پکارتی رہی
مدد کو
لیکن اس کی آواز دبا دی گئی
درندوں کی بھیڑ میں
وہ اکیلی ہوئی قید
پھر وہ شکار ہونے لگی
بارہا چیخی بچا لو
لیکن انسانیت تک آواز نا گئی
وہ لڑکھڑاتی تھی
گرتی تھی
سنبھلتی تھی
لیکن اپنی جان بچا نا سکی۔
خاک آلود پیشانی لیے
آسمان کی طرف
نظر اٹھاتی تھی
وحشت بھری نظروں سے
اک موت اس پر طاری ہوئی
بقیہ جو سانسیں بچی تھیں
وہ درندگی کی نذر کر دی گئیں
بند ہوتی آنکھوں سے
دل سے فریاد کرنے لگی
اے ربِ کعبہ کیا
اسی لیے میں بچائی گئی”
"دورِ نبی میں تھی جو جہالت
وہ پھر سے ظاہر ہونے لگی
زندہ بچانے والی بچیاں قبروں
میں سلائی جانے لگی
وہ معصوم تھی
روند دی گئی
پکارتے پکارتے
وہ مر ہی گئی
اس پر رحم نہ کیا گیا
اس کی بات
نظر انداز کر دی گئی
آج "ایزل”
مٹی کے نیچے ہے
آج "آیتِ نور”
خاموش ہے
اس کی فریاد
ادھوری رہ گئی
مگر ایک دن آئے گا
ضرور آئے گا
جب سوال ہو گا
"بتاؤ
کس گناہ کی پاداش میں
معصومیت روندھی گئی
بنت حوا بے مول ہو گئی
عمر کی قید اب کہاں رہی
اس آباد دنیا میں
وہ اکیلی خوفزدہ جینے لگی
وہ معصوم تھی
کچل دی گئی
مسل دی گئی
اور اس کی سسکی
سنی نہ گئی۔
وہ معصوم تھی
اس کی فریاد سنی نا گئی
وہ روند دی گئی
وہ معصوم کلی تھی
جو کھلنے سے پہلے
مسل دی گئی۔
