Baaghi TV

اک ہم تھے مگر تان کے جذبات کھڑے تھے،شاعر:صفدر بھٹی

دنیا کے خرابے میں مَیں افلاس کو لے کر
بیٹھا ہوں بڑی دیر سے اک آس کو لے کر

سینے میں جو پیوندِ گنہ گاری لگا ہے
کچھ کیجے مداوا بھی اسی یاس کو لے کر

جب حبس بڑھی شہرِ ستم گار میں یارو
سب چل دیے احباب تو انفاس کو لے گر

اک ہم تھے مگر تان کے جذبات کھڑے تھے
بے حسی کے سیلاب میں احساس کو لے کر

کہتی تھی بہو لکھوں گی مظلوم کہانی
شوہر کو سسر اور مری ساس کو لے کر

اور ساس کہ دیتی تھی دہائی مرے مالک
ہم لوگ تو غارت ہوے خنّاس کو لے کر

صفدر نہ رہے بیلے نہ لسی ہے نہ چُوری
اب ہیر بھی آئے گی تو تھرماس کو لے کر

صفدر بھٹی

More posts