ستمبر آ کے چیختا ہے کہ ٹوٹ کر بکھرنا ہے
گرے گا جو بھی آج یہاں کل اسی نے سنورنا ہے
درد کی رات کالی ہے مگر امید کا دیا ہے
اندھیرا جتنا گہرا ہو اجالا اتنا ہی قریب ہے
شجر سے پتے گرتے ہیں تو جڑیں اور مضبوط ہوں
زخم جو آج دل پر ہیں کل یہی تیرے فخر ہوں
نہ رکنا ہے نہ جھکنا ہے اٹھو اور چل پڑو تم
ستمبر کا یہ پیغام ہے کہ خود سے جیت لو تم
گرا کے پھر اٹھنے والے ہی تاریخ لکھتے ہیں
ستمبر سکھا رہا ہے کہ پتھر بھی تراشتے ہیں
