وہ عشق ہی کیا جو وقت سے ہار جائے
محبت کبھی فنا نہیں ہوتی
یہ دل کی راکھ میں دبی چنگاری ہے
جو بجھتی نہیں، سلگتی رہتی ہے
ہر سانس میں کہیں اتری ہوئی ہے
کوئی یاد جب کسی لمحے میں صدا دیتی ہے
تو یہ خاموشی میں بھی چیخ اٹھتی ہے
وہ لمحے جو گزر گئے صدیوں پہلے
آج بھی سینے میں کانٹوں کی طرح چبھتے ہیں
برسوں کے فاصلے بھی اسے مٹا نہیں سکتے
یہ آنکھ کی نمی میں کہیں زندہ رہتی ہے
رات کے اندھیرے میں جب نیند نہیں آتی
تو یہی یادیں چراغ بن کر جلتی ہیں
کچھ رشتے وقت کے ساتھ فنا نہیں ہوتے
وہ روح بن کر دلوں میں بسے رہتے ہیں
جن سے ملنا نصیب نہ ہو دوبارہ
ان کی خوشبو ہوا میں رچی بسی رہتی ہے
وہ عشق ہی کیا جو وقت سے ہار جائے
یہ وہ آگ ہے جو بجھتی نہیں، راکھ میں بھی جلتی ہے
جو کہنا چاہا، کہہ نہ سکے کبھی
وہ باتیں دل کی دیواروں پر بھی لکھی رہتی ہیں
شمسہ، کچھ لوگ بچھڑ کر بھی بچھڑتے نہیں
انہی کا خیال عمر بھر ساتھ نبھاتا ہے
جو چلے گئے، وہ جاتے جاتے بھی نہ گئے
ہر دھڑکن میں ان کا نام گونجتا رہتا ہے
