جب بھی الیکشن کی بات ہوتی ہے تو وہاں کا موسم بڑا گرم ہو جاتا ہے جہاں الیکشن ہو رہے ہوتے ہیں،سیاسی پارہ ہائی ہو جاتا ہے۔
ساری سیاسی پارٹیاں بڑے جوش اور جذبے سے الیکشن کے دنگل میں اترتی ہیں، کارکنان سے لے کر پارٹی رہنماؤں تک سارے ہی لوگ الیکشن مہم کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں اور اپنی تیاری مکمل کر کے میدان میں اترتے ہیں.سب سیاسی پارٹیاں اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہوتی ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے کیوں کہ حلقہ، شہر اور صوبے کے لوگ اس پارٹی کو جتواتے ہیں جس پارٹی نے وہاں کے لوگوں کے لیے کام کیا ہوتا ہے۔ اب عوام بھی اتنی بیوقوف نہیں رہی، پہلے کام پھر ووٹ.
25 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے ہیں الیکشن اور ساری سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر میں ڈال لیے ہیں ڈیرے۔جلسے جلوس بڑے جوش و جذبے سے ہو رہے ہیں.
اگر ہم مسلم لیگ ن کی بات کریں تو اس کی قیادت کر رہی ہیں مریم صفدر ،دیکھا جائے تو پچھلے کچھ عرصے سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔لیکن مریم صفدر کی تقریروں سے لگتا ہے جیسے وہاں کسی اور جماعت کی حکومت ہے، تقریر میں وہی پرانے نعرے بازی، وہی پرانے وعدے جو کبھی وفا ہی نہیں ہوئے۔ جہاں پر آپ کی پہلے سے حکومت ہے وہاں آپ نے پہلے ہی کچھ نہیں کیا تو اب کیا کریں گے؟ آزاد کشمیر کے وزیراعلیٰ راجہ فاروق حیدر سے ہی پوچھ لیں انہوں نے اپنے حلقہ کے لوگوں کے لیے کیا کیا ہے؟ نا تو وہاں کوئی سڑک پکی ہوئی ہے،نا کوئی ایسا ہسپتال بنایا ہے جہاں غریب عوام کا مفت علاج ہو سکے اور نا ہی لوگوں کو صاف پانی پینے کو ملتا ہے۔ اب آپ خود سوچیں وہاں لوگ کیا ایسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جس نے حکومت میں ہوتے ہوئے کوئی کام نہیں کیا۔ سب سے بڑی چیز کشمیر کی عوام پوچھتی ہے مسلم لیگ ن نے کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں لڑا؟ کیوں خاموش بیٹھی رہی ؟ سب سے بڑی چیز جب نریندرا مودی میاں نواز شریف کی دعوتوں میں آتا تھا تو نواز شریف نے مودی سے مسئلہ کشمیر پر کیوں بات نہیں کی؟
میرے خیال میں کشمیر کے لوگ باشعور ہیں انہیں پتا ہے انہیں کس جماعت کو ووٹ دینا ہے۔
اگر ہم پاکستان پیپلز پارٹی کی بات کریں تو شاید اس جماعت کو آزاد کشمیر کے الیکشن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیوں کہ چیئرمین بلاول زرداری آزاد کشمیر کے الیکشن کو چھوڑ کر امریکہ گئے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کی قیادت آصفہ زرداری نے سنبھالی ہوئی ہے.آصفہ زرداری جس کے بارے میں لوگوں کو لگتا ہے جیسے دوسری بینظیر بھٹو ہو۔لیکن میرے خیال میں کشمیر کے لوگ یہ نہیں دیکھیں گے سامنے بینظیر کی بیٹی ہے یا خود بینظیر ہے بلکہ وہ تو یہ دیکھیں گے کہ سامنے والی جماعت نے ہمارے لیے کیا کیا ہے۔اور جس جماعت کا چیئرمین خود امریکہ میں بیٹھا ہو اور بہن کو سیاسی مہم کے لیے بھیج دے میرے خیال میں کشمیر کی عوام اتنی بیوقوف نہیں.
اور اگر ہم پاکستان تحریک انصاف کو دیکھیں جس نے 2018 میں عام انتخابات جیت کر حکومت بنائی ہے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں جس طرح وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔کشمیر کے لوگوں کے لیے اس سے بڑی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو صحت انصاف کارڈ دیا گیا ،وہاں کے لوگوں کو احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میں شامل کیا گیا۔حکومتی جماعت نے باقی صوبوں کی طرح آزاد کشمیر کو بھی ہر چیز میں شامل کیا. یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن بوکھلاہٹ کا شکار ہے کبھی جیت کے دعوے کر رہی ہے تو کبھی دھاندلی کا رونا شروع ہے ابھی سے۔مسلم لیگ ن کو بھی پتا کہ آزاد کشمیر کے لوگ بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ مسلم لیگ ن کی غلامی سے نجات چاہتے ہیں۔
بہرحال کوئی بھی جیتے لیکن الیکشن کمیشن کو یہ یقین دہانی کرانی چاہیے کہ آزاد کشمیر کی الیکشن شفاف ہو ۔
میرا تو ساری سیاسی جماعتوں کو مشورہ ہے کہ کوئی بھی جیتے کوئی بھی ہارے آپ لوگوں نے الیکشن کمیشن کے نتائج کو تسلیم کرنا ہے۔جیتنے اور ہارنے والا ایک دوسرے کو گلے لگا کر ایک اچھے سیاستدان اور اچھے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت دے۔کیوں کہ کوئی بھی جیتے آخرکار ہم ہیں تو سب ہی پاکستانی.
@sadianaz123
Category: سیاست

آزاد کشمیر کے الیکشن تحریر : سعدیہ ناز

کون کیا چاہتا ہے ؟ تحریر : فرید خان
افغان مسلے پر بار بار لکھ چکا لیکن پھر بھی لکھنے کا سلسلہ نہیں رکتا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی پشرفت اجاتی۔ وسطی ایشیا میں اس وقت افغانستان کی جنگ اور مسلہ زور پکڑ رہا۔ امریکہ نے مسلے سے تقریبا جان چھڑانا شروع کیا لیکن سرزمین کے ہمسایوں میں بڑی حد تک تشویش پائی جاتی ہیں ۔ پاکستان بطور مرکزی کردار اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لا رہا گزشتہ دنوں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی وزیر اعظم عمران خان سے فون پر رابطہ بھی ہوا اور افغان مسلے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماوں نے مسلے پر پاکستان کے دارلحکومت میں کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا۔ کانفرنس عید سے پہلے ہونا تھا لیکن تاشقند میں وزیراعظم اور افغان صدر کی ملاقات میں اشرف غنی نے وقت مانگ لیا اس لیے اب یہ کانفرنس عید کے بعد منعقد کی جائے گی۔ دوسری طرف افغان حکومت مسلے پر مسلسل کشمکش کا شکار ہے۔ کبھی مزاکراتی عمل میں وقت ضائع کرنے کی کوشش کرتی تو کبھی پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتے اس سنگین صورت حال میں بجائے معاملات کو سنجیدہ لے افغان حکومت غیر ذمہ دارانہ طور پر کبھی ایک الزام پاکستان پر لگاتا کبھی دوسرا۔ گزشتہ روز افغان نائب صدر نے پاکستان فضائیہ پر بے بنیاد الزام لگایا گیا جس کی تردید اور وضاحت دفتر خارجہ نے کی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ الزام کیوں غیر ضروری ہے یہ الزام اس لیے غیر ضروری ہے کہ افغانستان میں طالبان مسلسل علاقوں پر قبضہ کررہے اور افغان حکومت اور فورسسز بے بسی کا شکار ہے تو پاکستان کو اس طرح کے معاملوں میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے عین اس وقت جب پاکستان اس وقت مرکزی کردار ہے اور افغان مسلے کی سیاسی حل کے لیے مسلسل کوششوں میں ہیں۔ گزشتہ روز تاشقند میں کانفرنس کے دوران مسلے پر مثبت گفتگو کے بجائے افغان صدر نے پاکستان پر الزامات لگائے اور اسی دوران پھر وزیر اعظم پاکستان کو جواب دینا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ افغان حکومت کیا چاہتی ؟ کیوں مسلے پر غیر سنجیدگی کا مسلسل مظاہرہ کررہی ؟ اگر وہ واقعی وطن میں امن چاہتا تو کیوں بجائے مسلے پر بات کرنے وہ غیر ضروری الزامات لگا رہے؟ اگر وہ ملک میں امن چاہتے تو کیوں پاکستان کی کردار کی تائید نہیں کرتے ؟ کیوں مسلے کے سیاسی حل کے لیے کردار ادا نہیں کررہے ۔ اس وقت طالبان علاقے قبضہ کررہے پوری دنیا دیکھ رہی کہ طالبان فتوحات کررہی ، امریکہ اور افغان حکومت بے بسی کا شکار ہے پھر بھی پاکستان سب کو ایک میز پر لانے کی کوشش کررہا اور مسلے کے سیاسی حل کے لیے کوششوں میں ہیں . بار بار پاکستان وضاحت کررہا کہ پاکستان کا اس جنگ میں کوئی فیورٹ نہیں ، پاکستان امن چاہتا کیونکہ پاکستان کی امن بھی افغانستان کی امن سے جڑی ہے ۔افغانستان حکومت کو اس پر سنجیدگی سگ غور کرنا پڑے گا یہ مسلہ سنگین ہوتا جارہا۔ یہ بات بلکل واضح ہے کہ اشرف غنی کی حکومت چاہے جتنے بھی الزامات لگائے جس وقت تک لگاتا ہے انہیں اخر میں پاکستان کی تائید کرناپڑے گا کیونکہ اس مسلے کا حل ایسا نہیں ہے جو اشرف غنی چاہتا۔ اس سے پہلے کہ طالبان بزور طاقت حکومت قائم کرے اشرف غنی کو ابھی سے اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر مسلے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ اس مسلے کا حل طالبان بھی چاہتا پاکستان بھی چاہتا ہمسایہ ممالک بھی چاہتا اور خود افغانستان کی عوام بھی دہائیوں کی جنگ سے بے زار ہیں اور جنگ کا سیاسی حل چاہتے لیکن اس مسلے کا حل اگر نہیں چاہتا تو وہ ایک اشرف غنی ہی اور دوسرا ہندوستان ۔ دہائیوں کی خان ریزی اب بند ہونا پڑے گا ، اشرف غنی اپنی دوستیاں نبائے یا اپنی سیاسی مفاد کو سامنے رکھیں بلاخر ان کو بھی جنگ سے بے زار ہوکر ان کرداروں کا ساتھ دینا پڑے گا جو مسلے کی سیاسی حل چاہتی وہ حل جس میں افغانی عوام ، طالبان اور حکومت مطمئن ہو ۔ دہائیوں کی جنگ کے بعد اگر امن چاہیے تو سب کو اپنی مفاد بالائے طاق رکھ کر ایک میز پر انا پڑے گا ۔ اللہ دب العزت سے دعا ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور اسی کی بدولت پاکستان میں امن اجائے۔ امین
Twitter @Faridkhhn

"سی پیک اور پاک چین دوستی ” تحریر:لاریب اطہر
پاکستان اور چین بیسیوں صدی کے درمیان وجود میں آئے اور تب سے ہی ان دونوں میں آپسی تعلقات استوار ہوئے جو کہ مختلف ادوار کے داؤ پیچ دیکھتے دکھاتے آج اپنے عروج کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ پاکستان اور چین میں ڈپلومیٹک تعلقات تو انیس سو اکاون میں ہی قائم ہو گئے تھے لیکن تب دونوں ممالک اک دوسرے کے ساتھ اتنا ہم آہنگ نہ تھے جس کی وجہ سے ابتدائی سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی۔ دوسری جانب اک بڑی وجہ پاکستان کے مغرب کے ساتھ تعلقات بھی تھے جن کی وجہ سے چین کے ساتھ ابتدائی اک دو عشروں میں بہترین تعلقات استوار نہ ہو سکے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ دونوں ممالک نے اک دوسرے کو مکمل نظرانداز کیا
کیونکہ انیس سو چھپن میں حسین شہید سہروردی نے پاکستان کا وزیر اعظم ہونے کے ناطے چین کا دورہ کیا اور اسی سال چین کے وزیر اعظم بھی پاکستان کے دورے پر آئے۔ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کی وجہ سے پاکستان اور چین میں سرد مہری تھی لیکن پھرایوب خان نے بھی صدر پاکستان کی حثیت سے چین کا دورہ کیا۔
انیس سو باسٹھ کی انڈیااور چین کے درمیان جنگ کے بعد پاکستان اور چین میں نزدیکیاں بڑھنے لگیں اور اس سے اگلے سال انیس سو تریسٹھ میں دونوں ممالک کے درمیان باؤنڈری ایگریمنٹ ہوا اور مشترکہ بارڈر کی نشاندھی کی گئی۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات میں اصل موڑ تب آیا جب پاکستان نے انڈیا کے ساتھ 1965 اور 1971 کی جنگیں لڑیں اور ہمارے نام نہاد حواری نے چالبازی کے ساتھ دھوکہ دیا اور چین نے ہماری مدد کی اور اس کے ساتھ ہی سرد مہری والے تعلقات گرمجوشی میں تبدیل ہوتے گئے۔
اگر پاکستانی حکمرانوں کے حوالے سے بات کی جائے تو شاید ذوالفقار علی بھٹو پہلا پاکستانی حکمران تھا جس نے چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ بھٹو نے اپنے دور حکومت میں تین چار بار چین کا دورہ کیا بدلے میں چین نے بھی گرمجوشی دکھائی تو دن بدن تعلقات گہرے ہوتے چلے گئے کہ پھر چاہے سیاسی تعلقات ہوں ،ثقافتی، معاشی ہوں معاشرتی تعلقات، فوجی تعلقات ہوں یا ایٹمی پروگرام سب میں پاکستان اور چین ایسے جڑے جیسے اک ہی سکے کے دو رخ ہوں۔ جہاں پاکستان نے چین کی سلامتی کونسل کی سیٹ پر سپورٹ کیا تو بدلے میں چین نے بھی کشمیر کاز پر پاکستان کا ساتھ دیا۔ضیاء الحق بھی ایوب خان کی طرح امریکی پلڑے میں تھے لیکن اس دوران بھی پاکستان اور چین کے تعلقات معمول پر رہے۔ چین نے اپنی معاشی ترقی کا سفر جاری رکھا اور اکیسویں صدی میں اک بڑی معیشت بن کر ابھرا۔ اسی بڑی معیشت کی بنا پر ماضی قریب میں چین نے OBOR ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے اک منصوبہ شروع کیا جس کے تحت چین جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے دنیا کو روڈ کے زریعے اک دوسرے سے ملانا چاہتا ہے۔ CPEC بھی اسی منصوبہ کی ایک کڑی ہے یا یوں کہہ لیا جائے کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اسی سی پیک کی بدولت جہاں چین ایک طرف روس سے ہوتا ہوا منگولیا، پاکستان سے گزر کر بحیرہ عرب تک جا پہنچے گا اور وہاں سے آگے مشرق وسطی اور پھر افریقہ کی جانب۔ دوسری جانب چین اسی OBOR کے تحت سنٹرل ایشیاء اور آگے ایورپ تک زمینی راستوں کو وسعت دینا چاہتا۔ اس سارے منصوبے میں سب سے اہم منصوبہ سی پیک کا ہے کیونکہ اسی کی بدولت چین کو جنوب کی طرف پانیوں تک رسائی ہو گی اسی لیے انڈیا اور امریکہ ہر صورت میں سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
یہ سی پیک منصوبہ ہے کیا آئیے ذرا اک نظر اس پہ ڈالی جائے۔ ویسے تو سی پیک کا کریڈٹ مشرف بھی لیتا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی لیتی ہے لیکن اصل میں رسمی طور پر 2013 میں ن لیگ کے دور میں پاکستان اور چین کے درمیان 51 ایم او یوز سائن ہوئے جس کی بدولت چین پاکستان میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام سے ایک ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے جا رہا ہے جس پر بنیادی طور پر 46 ارب امریکی ڈالرز کی لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ اصل میں ایک انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کا منصوبہ ہے جس میں چین کے جنوبی علاقے کاشغر کو پاکستان کے جنوبی علاقے گوادر سے ملایا جا رہا ہے۔ ان 46 ارب ڈالرز میں سے تقریباً 12 ارب ڈالر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ جس میں ہائی ویز، ریلوے لائنز، گوادر پورٹ ڈیویلپمنٹ اور گوادر شہر کی ترقی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب تقریبا 34 ارب امریکی ڈالر انرجی منصوبے پر خرچ ہوں گے۔ ہائی ویز میں اسلام آباد سے لیکر گوادر تک مختلف نئے روڈز بنائے جائیں گے جو پاکستان کے تمام صوبوں میں سے ہو کر گوادر تک پہنچیں گے۔ جہاں سی پیک کے پاکستان کے لیے بہت فوائد ہیں وہیں یہ منصوبہ چین کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چین تقریباً اپنا 80 فیصد تیل مڈل ایسٹ سے منگواتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خام مال بھی افریقی ممالک سے حاصل کرتا ہے جس کے لیے اسے یہ مال لے کر انڈین اوشن میں سے گز کر آبنائے ملاکہ میں سے ہوتے ہوئے آگے ساؤتھ چائنہ سی میں سے گزرتے ہوئے اپنے ملک پہنچتا ہے۔ اس سارے پراسیس میں اسے 15 ہزار سے 16 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور ساتھ میں ان ممالک کی حدود میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جس کے ساتھ چین کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سی پیک کی بدولت چین کو 10سے 11 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو کر 5 سے 6 ہزار کلومیٹر تک پڑتا ہے اور جو مال آبنائے ملاکہ سے چین تین ماہ میں پہنچتا تھا وہ اسے ایک ماہ میں مل جائے گا اور اس میں چین کو صرف ایک ملک پاکستان کی حدود میں سے گزرنا پڑے گا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات اس کے پہلے سے ہی اچھے ہیں۔سی پیک کو اگر ریجنل ویو کے مطابق دیکھا جائے تو جنوبی ایشیاء میں اس وقت دو متحارب بلاک ہیں جس میں ایک پاکستان-چین جبکہ دوسرا انڈیا-امریکہ۔ ان دونوں گروہوں میں ایک جنوبی ایشیائی ملک ہے جبکہ دوسرا غیر جنوبی ایشیائی۔ چین تو خیر پھر بھی ان دونوں بڑے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنی سرحد شیر کرتا ہے جبکہ امریکہ تو سات سمندر پار ہے۔ امریکہ اور انڈیا دونوں ممالک چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے پریشان ہیں امریکہ چین کو عالمی پس منظر میں دیکھتا ہے جبکہ انڈیا جنوبی ایشیاء کے حوالے سے۔ پاکستان اور چین کا سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ شروع کرنا ان دونوں کے لیے جلتی پر تیل کے مانند ہے
۔ امریکہ اور اس کے حواری بالخصوص یورپ، اور انڈیا اس منصوبے کو ہر حال میں سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس اکنامک کوریڈور کو اک عسکری کوریڈور بنا کر دنیا میں پیش کر رہے ہیں۔ حالیہ جی سیون کے اجلاس کا مین مدعا بھی چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا تھا۔امریکہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ کم از کم پاکستان کو ہی سی پیک سے باز رکھا جائے جس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن جب کسی جانب دال نہ گلی تو دونوں ممالک میں نفرت کا بیج پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عمران خان کے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں جب امریکہ کو نہ کہی تو اینکر پرسن نے پینترا بدلتے ہوئے چین میں موجود ایگور مسلمانوں کا ایشو اٹھا لیا جس کو عمران خان نے عمدہ طریقے سے ہینڈل کیا جیسے لمحہ موجود میں کرنا چاہیے تھا۔
قصہ مختصر یہ کہ پاکستان چین کی جو دوستی 1951 میں شروع ہوئی تھی ٹھیک ستر سال بعد اپنے نقطہء عروج پر پہنچ چکی ہے اور جیسے اک شہر یا گاؤں میں دشمنوں کو ایسی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی بالکل اسی طرح امریکہ انڈیا اور ان کی حواریوں کو بھی پاکستان اور چین کی یہ دوستی بہت کھنکتی ہے۔ اب دشمن آئے روز کوئی نہ کوئی چال چل رہا ہے کہ کسی طرح پاکستان اور چین میں چپقلش پیدا کی جائے۔ وہ ہر بار منہ کی کھاتا ہے اور ہر بار ایک نئے منصوبے کے ساتھ آتا ہے۔
داسو ڈیم کے قریب چینی عملے پر ہونے والا حملہ بھی اسی چال کی اک کڑی ہے۔ اب پاکستان اور چین پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ان سب چالوں کو ناکام کرتے ہوئے سی پیک کو مکمل کرتے ہیں۔
عرض پاک کے سوداگر . تحریر : محمّد وقاص
سابقہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کتاب “دی اوریجنل فیس آف پاکستان “میں انکشاف کیا ہے کہ اگر نواز شریف تین سال اور حکومت کر جاتا تو اس سے پاکستان خرید لیا جاتا۔ مزید براں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی جاسوسی کیلئے امریکہ کے ساتھ پچاس ارب ڈالرز کا معاہدہ کرنے والا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب جو کہ تین دفعہ وازارت عظمیٰ کے مرتکب پر فیض پائیے مگر میاں نواز شریف کا ماضی پاکستان مخالف بیانئیے کی عکاسی کرتا ہے میاں نواز شریف کے اس بیانئیے نے بھی وطن پاکستان کی ساخت کو نقصان پہنچایا کہ ممبئی حملے پاکستان نے کروائے ہیں۔
اسکے علاوہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کارگل کے محاذ پر جموں کشمیر کے کافی حصے پر اپنے پاؤں جما لئے تھے اور بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا تو تب میاں نواز شریف نے افوج پاکستان کو واپس آنے کو کہا جس کے نتیجے میں لاکھوں گھروں کے چراغ گل ہو گے بہت سے فوجی جوان شہید ہوگے۔ اسکے بعد جب دنیا بھر میں پاناما کا سکینڈل سامنے آیا تب جناب کا نام سرفہرست تھا اس وقت نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم تھے اپوزیشن نے مطالبہ کیا انکا احتساب ہونا چاہیے جس میں سے سب سے زیادہ کاوش جناب عمران خان صاحب کی تھی اجنہوں نے خود کو بھی احتساب کے لئے پیش کر دیا جب عدالت میں کیس لگا تو نواز شریف صاحب عدالت میں آمدن سے زائداثاثہ جات میں عدالت کو ثبوت فراہم نہ کر سکے اور ان پر ایون فیلڈ فلیٹس کا بھی کیس تھا عدالت نے ذرائع پوچھے تو میاں نواز شریف صاحب عدالت میں ثبوت جمع نہ کروا سکے جس میں وہ مجرم قرار پائے اور ان پر فرد جرم عائد ہو گیا۔
دوسری طرف عمران خان نیازی صاحب عدالت میں تمام ثبوت فراہم کر کے عدالت سے صادق ال آمین قرار پائے۔جناب نواز شریف سزا کاٹ رہے تھے تو انکی طبیعت میں بیگاڑ پیدا ہوا اور انکے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے پھر عدالت سے طبی بنیاد پر چار ہفتے کے لئے ٹائم لیا گیا اور وہ لندن چلے گے وہاں جا کر میاں صاحب نے نہ اپنا علاج کروایا نہ کوئی میڈیسن لی اور اب انہی ایون فیلڈ میں موجود ہیں جو منی لانڈرنگ سے خریدے گے اور پاکستان میں وہ اشتہاری ہے اور لندن میں اپنی شہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں جس بے دردی سے بڑے بڑے قرض لے کر اجاڑے گئے، 60 سالوں میں قرض 6 ہزار ارب اور صرف 10 سالوں میں 24 ہزار ارب قرض لیا بات تو سچ ھی لگتی ہے۔ ٹرمپ کی.
اللّه پاک ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ملک دشمن قوتوں کو زیر کرے آمین .
پاکستان زندہ آباد@M_Waqas_786

عمران خان کا دورہ ازبکستان .تحریر : ارشد محمود
پاکستان جس طرح کے بڑے بڑے مسائل سے نبرد آزما ہے شاید امریکا جیسے بڑے اور ترقی یافتہ ملک کو بھی نہ ہو ۔ پاکستان کو جہاں اندرونی مسائل کا سامنا ہے وہی پڑوس ممالک میں ہورہی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے کہ ان میں کوئی بھی تبدیلی پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جس طرح سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ شاید بھٹو مرحوم کے بعد انہی کا خاصا ہے ۔ سازشوں کے جمگھٹے سے اپنے آپ کو نکالنا ہمارے لیے ہمیشہ سے ہی ناممکن حد تک مشکل رہا ہے ۔ افغانستان میں ہورہی جنگ کو آپ کوئی بھی نام دے لیجیے پاکستان ماضی میں بھی متاثر رہا ہے اور شاید مستقبل میں بھی متاثرین میں سرفہرست رہے ۔ ازبکستان کے دورہ میں جس طرح سے پاکستان نے افغانستان کا مقدمہ پیش کرکے اشرف غنی کو آئینہ دکھایا ہے وہ بھی قابل غور ہے ۔ افغانستان میں ہر روز طالبان فاتح کے طور پر نہ صرف ابھر رہے ہیں بلکہ اپنا آپ منوا بھی رہے ہیں۔ ازبکستان کے شہر تاشقند میں وسطی جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس میں افغانی صدر اشرف غنی نے پاکستانی قیادت کے سامنے بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے سامنے افغانی صدر کے الزامات کو جہاں بے بنیاد قرار دیا وہی بتلایا کہ افغانستان میں امن کی سب سے زیادہ کوشش پاکستان کررہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قارئین کے لیے دل چسپی کا باعث ہوگی کہ بھارتی چینل نے پاکستانی وزیراعظم سے پاک بھارت تعلقات بارے من چاہا سوال کیا تو اس کے جواب میں ہندو توا قیادت کا آئینہ دکھا کر بے پروا ہو کر پاکستانی قیادت آگے کو بڑھ گئی اس نے ظاہر کردیا کہ پاکستان اس وقت کس قدر پراعتماد ہوکر اپنے مسائل سے نمٹ رہا ہے ۔
افغانی نائب صدر اور افغانی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاک فضائیہ نے کہ اگر چمن بارڈر کے قریب أفغانستان کی حدود میں ان طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا ہے تو اس کا پاکستان کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔’تاہم پاکستان کی دفتر خارجہ نے جمعے کو ہی ایک بیان میں ایسے کسی پیغام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کے بعض حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی بیانات جاری کر رہے ہیں حالانکہ پاکستان نے کل ہی سپین بولدک پر طالبان کے حملے کے دوران وہاں سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے والے چالیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس افغانستان پہنچایا ہے۔’ اس طرح کے بیانات سے پاک افغان تعلقات میں جو کشیدگی آئے گی اس کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا ۔ پاکستان کسی بھی طرح سے نہیں چاہے گا افغانستان میں امن کا مسئلہ قائم رہے۔ پرامن افغانستان ہی پاکستان کے حق میں ہے ۔ ماضی میں افغانستان سے جس طرح سے دراندازی ہوتی رہی ہے وہ ظاہر کرتی ہے افغان صدر اور ان کے لوگ بالواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں ۔ افغان قیادت کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے تاکہ پاکستان بغیر کسی حیل و حجت کے ان کے ساتھ کھڑا رہے ورنہ تو پاکستان کے پاس آپشن موجود ہے۔

ہم جس کے حقدار ہمیں وہی مقام نہیں ملا . تحریر : آصف شاہ خان
مختلف اقوام کے لوگ اسلام کی چھتری کے نیچے جمع ہوے اور اپنے لیے ایک الگ شناخت اپنایا. ان لوگوں نے اپنے قائد ، قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں کھٹن محنت کرکے کرکے اور اخرکار ۱۹۴۷ء میں یہ لوگ اپنی الگ شناخت کے ساتھ ایک ریاست کے مالک بنے. لیکن ان لوگوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ ریاست آزاد کرانے کہ بعد ابھی اس نظام کو لاگو نہیں کیا تھا جس کا ان لوگو ں نے اللہ وعدہ کیا تھا کہ ان کے اس معجزاتی تحریک کے اکثر قیادت وفات پاگئے. اب قیادت کےلیے اس نئ شناخت والی قوم کے ساتھ کوئی حل نہیں تھا سوا اس کے کہ قیادت کو ان لوگوں کے ہاتھ دیا جائے جن نے انگریزوں کے یہاں پر حکمرانی کے وقت ان کے ساتھ مختلف عہدوں پر نوکری کر چکے تھے. لوگوں کا خیال تھا کہ یہ چونکہ مختلف نوکریاں انجام دے چکے ہیں تو ملک چلانا اسان ہوگا یہ سوچ تو چلانے کے حد تک ٹھیک تھی لیکن مسلہ ایک اور جگہ پر تھا اور وہ یہ کہ ین نئی قیادت کے پاس اس نظام کو لاگو کرنے کے بارے کوئی علم نہیں تھا جس کے خاطر ملک کو حاصل کیا گیا تھا.
اس نظام کے بارے میں علم نہ ہونے، انگریزوں کے ظاہری عیاشیاں قریب سے دیکھنے اور انگریزوں کی دنیا پر حکمرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نئی قیادت نے بجائے اس کے کہ اپنے نظام کو لاگو کرتے ان لوگو نے انگریزوں کے غلاموں کے لیے بنائے ہوئے نظام کو ترجیح دی. اس نئی قیادت کی نظر میں تھا کہ انگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر، غلامی کے نظام کو لے کر اسلامی نظام کے بغیر ترقی حاصل کرینگے. اس قیادت کا خیال تھا کی انگریزوں کی ترقی ان کے ظاہری عادات و اطوار اور اس نظام کی وجہ سے ہے. لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی. انگریزوں کے عادات و اطوار توغلاموں پر حکمرانی کا نشہ اور ان کا یہاں بنایا ہوا نظام الگ غلاموں کیلئےتھا تاکہ غلام غلام رہے اور حکمرانی طویل عرصے کیلئے ریے. جن لوگوں کو حکمرانی ملی وہ تو تحریک پاکستان کا حصہ نہ تھے ہاں لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ انگریزوں کے غلامی کے نظام کا حصہ تھے. اس لیے ان کے پاس اپنے نظام کا علم نہیں تھا لیکن انگریزوں کے غلامی والے نظام کے بارے جانتے تھے. اس لیے قیادت ملنے کے بعد رفتہ رفتہ اس نئی قیادت نے وہی غلامی کا نظام رائج کرنے کیلئے اقدامات شروع کیے اورانگریزوں کے ظاہری عادات و اطوار کو اپنا کر اپنے لیے باعث فخر سمجھ کر اس کو ترقی کا معیار مقر ر کیا. نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں میں اور عوام میں انگریرزوں کے دور کے طرح فاصلے بڑھ گئے .
اپنے ظاہر کو انگریزوں کے طرح کرنے کیلئے عیاشیوں کے پیچھی پڑھ گئےاور پھر کیسی نے عوام کے مسائل اور ترقی کا نہیں سوچا کیونکہ وہ نظام اور حکمرانی کا نشہ ایسا تھا کہ جو غلاموں کو غلامی میں رکھنے کیلئے تھا. اور اس طرح عوام غلامی کے دور سے نجات نہیں پائے بس مالک بدلے. جو آج تک عوام بگھت رہے ہیں عمران خان سے پہلے ہم تاریخ دیکھ لے تو نظر آتا ہے کہ ہمارے حکمران انگریزوں سے اتنے متاثر ہیں کہ اپنے قومی لباس تک پر شرماتے ہیں . جس قوم کے حکمرانوں کا یہ معیار ہو وہ کیسے ترقی کرسکتی ہے؟ ہمارے نجات اور ترقی کا واحد زریعہ نظام کو تبدیل کرنا ہے ہمیں غلامی کے نظام کے بجائے اسلامی نظام جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا لانا ہوگا. نظام کو تبدیل کرکے ہم ترقی حاصل کرسکتے ہیں.
@IbnePakistan1

سیاسیی شاہ رنگیلے اور مجبور عوام تحریر ۔ محمد نثار ٹمن
محمد شاہ رنگیلا ( اصل نام روشن اختر) کا نام پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ یہ مغلیعہ دور حکومت میں بادشاہت کے رتبے پر فائز رہا، بھلے اسکا نام تو پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے، لیکن اسکا کردار بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ شاہ رنگیلا نے اپنی مدت حکمرانی کا زیادہ تر وقت عیش و عشرت میں گزارہ ، یہ چوبیس گھنٹے نشے میں دھت اور حسن و جمال کا بے حد دلدادہ تھا۔ شاہ رنگیلا قانون سازی کرنے اور قانون شکنی کرنے کے خبط میں بھی حد درجے کا مبتلا تھا۔ یہ ایسا سر پھیرا بادشاہ تھا جو کھڑے کھڑے ہندوستان کے کسی بھی شخص کو اعلی ترین عہدہ دے دیتا تھا اور بگڑنے پر یہ کھڑے کھڑے ملک کے وزیراعظم جیسے شخص کو جیل بھیجوا دیتا تھا۔ رنگیلا اکثر دربار میں عریاں حالات میں آجاتا تھا ور درباری بھی اسکی پیروی کرتے ہوئے عریاں ہوجاتے تھے۔
رنگیلا ایسا بےہودہ بادشاہ تھا کہ اچانک حکم دے دیتا اور کہتا تھا کہ کل فلاں فلاں وزیر زنانہ کپڑے پہن کر اور فلاں فلاں وزیر پاوں میں گھنگرو پہن کر آئیں گے۔ اکثر نشے کی حالت میں یہ حکم دے دیتا تھا کہ جیلوں میں موجود تمام قیدیوں کو رہا کرکے، انکی جگہ اتنی ہی تعداد میں نئے قیدی ڈال دئیے جائیں۔ سپاہی اسکا حکم بجا لاتے ہوئے پورے شہر میں پھیل جاتے اور جہاں بھی کوئی شخص نظر آتا تھا اسکو پکڑ کر جیل میں بند کر دیتے تھے۔ شاہ رنگیلا وزارتیں تقسیم کرنے کا بے حد شوقین تھا، لیکن اکثر یہ دوسرے ہی دن جوش میں آکر وزارت واپس بھی لے لیتا تھا۔ اگر کوئی بھی اسکے حکم کے خلاف جاتا تھا تو اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے اور طرح طرح کی ازیتیں دے دے کر اسکو قتل کروا دیتا تھا۔
جب نادر شاہ نے دہلی کو فتح کیا تو رنگیلا کو اپنے خاندانی ہیرے کوہ نور کی فکر ہونا شروع ہوگئی۔ شاہ رنگیلا کو ڈر تھا کہ اگر نادر شاہ کو ہیرے کے بارے پتہ لگ گیا تو وہ ہیرے کو حاصل کرنے کےلیے ہر کوشش کرئے گا، اسلیے رنگیلا نے اپنا خاندانی ہیرا اپنی پگڑی میں چھپا لیا۔ نادر شاہ کو اپنے مخبر کے زریعے اس بات کا علم ہوچکا تھا، اسلیے رنگیلا سے ملاقات کے وقت اسکے ساتھ شاہی تخت پر بیٹھتے ہی نادر شاہ نے کہا کہ ” جسطرح عورتیں اپنے دوپٹے بدل کر آپس میں بہنیں بن جاتی ہیں، کیوں نہ ہم دونوں بھی اپنی پگڑیاں بدل کو بھائی بھائی بن جائیں”۔ اور اسطرح چالاکی سے نادر شاہ نے رنگیلا سے اسکی ہیرے والی پگڑی حاصل کرکے ، حکمرانی حاصل کرلی، اور رنگیلا اپنی نااہلیت اور کند ذہنیت کی وجہ سے حکمرانی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
اگر ہم 2017 کے آخر اور 2018 کے اوائل تک اپنی علاقائی سیاسیت پر نظر دوڑائیں تو سیاسیی منظر نامہ بلکل مختلف نظر آئے گا، لیکن 25 جولائی 2018 کے بعد سے لیکر تاحال سیاسیی منظر نامہ بلکل ایسا نظر آئے گا جسطرح شاہ رنگیلا کے دور حکومت میں رہا ہے۔ تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق نے اپنی انتخابی مہمات ، جلسے جلوسوں، ریلیوں، سیاسیی مجلسوں، میڈیا پلیٹ فارمز پر، یہاں تک کہ ہر موقعہ پر اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کے بعد، اپنے چاہنے والوں، اپنے انسوسٹرز ، اپنے میڈیا پرسنز، فنانسسز، پارٹی کےلیے جہانگیر ترین کے کردار ادا کرنے والے افراد، شوشل ورکرز، ڈیروں پر مصنوعی مسائل والے لوگ جمع کرنے والوں، پروٹوکول پارٹیز دینے والے شاہینوں، علاقائی ینگسٹرز ، اور فوٹو سیشن لینے والے فوٹو گرافرز کےلیے اقتدار میں آتے ہیں مخصوص نوکریاں، ملازمتیں، اور ہر طرح کی مالی ، سماجی اور معاشرتی مدد کا یقین دلوایا ہوا تھا۔ پاکستان کی بڑی سیاسیی جماعتوں کیطرح مسلم لیگ ق کے نظریاتی ورکرز، آٹے میں نمک کے برابر ہی ہونگے، جبکہ باقی تمام ووٹرز ، نصف صدی سے چلے آرہے ملکائی، وڈیرہ شاہی، سرداری نظام اور موررثی / خاندانی سیاستدانوں سے جان چھوڑوانے کےلیے ق لیگ کو سپورٹ کیا تھا۔
جولائی 2018 ، تیسری کوشش کے نتیجے میں مسلم لیگ ق کو حلقہ NA 65 اور PP 24 میں مددگار اتحادیوں کے ووٹ بنک اور پرویز الہی کی معاشی پالیسی کے باعث اکثریتی کامیابی ملی۔ کامیابی ملنے کے بعد مسلم لیگ ق کی قیادت میں شاہ رنگیلے والا کردار جاگ اٹھا اور تمام سیاسیی وعدوں کے ساتھ ساتھ اپنے چاہنے والوں سے راستہ جدا کرلیا۔ کیونکہ سرکاری سطح پر انکی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری ہوچکا تھا۔ تھوڑے سے عرصے بعد ہی شاہ رنگیلا کی طرح ق لیگ کیطرف سے منہ موڑنے پر انکی پارٹی کے تمام الحاقی اور تشہیری افراد کو سخت مایوسی کا سامنا ہوا۔ اقتدار میں آنے کے بعد شاہ رنگیلا کیطرح ق لیگی قیادت نے بھی من پسند افراد کو اعلی سطح پر نوازنا شروع کردیا گیا۔ اعلی سطحی قائدین کی طرف سے انکی ہاں میں ہاں ملانے والوں کے ذریعے ہر فورم پر مزاحمتی برگیڈ کے قیام شروع کردئیے گئے۔ میڈیا پرسنز کے ذریعے اپنی تشہیر و تعریف کے پل بندھوانا شروع کروادئیے۔ اخبارات کے اندرونی صفحات سے فرنٹ صفحے پر سرخیوں میں جگہ بنوالی گئی۔ علاقائی تھانے کچری کے اندر بجائے جانبداری اور شفافیت کے، مداخلتی کردار ادا کرنا شروع ہوگئے۔ صوبائی سطح پر سئنیر پولیس آفسران کے ذریعے علاقائی تھانہ کچری سسٹم میں پنجے گاڑھنا اور مداخلت کا نظام شروع ہوگیا، من مرضی کے فیصلے اور ایف آئی آرز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شاہ رنگیلا کے طرز حکمرانی کو اپناتے ہوئے، اگر انکے خلاف کسی بھی فورم پر کوئی حق سچ کہنے کی جرت کرتا تو انکے خلاف منظم انداز میں مہم چلائی جانی شروع ہوگئی، طرح طرح کے طریقہ کاروں سے انکو تنگ کیا جانے لگتا، سوشل میڈیا پر انکی کردار کشی کی جانے لگی، یہاں تک کہ لوکل پولیس کے ذریعے انکو ڈرایا دھمکا جانا بھی شروع کردیا گیا۔ اگر موجودہ سیاسیی نظام کو دیکھیں تو ایک بار پھر ہمارے اوپر شاہ رنگیلا جیسے حکمران مسلط ہوگئے ہیں، جنکے سامنے عوام مجبور اور بے بس ہوچکی ہے۔ مجبور اور بے بس عوام ابکے خلاف جانے کی جرت نہیں کرسکتی ہے، کیونکہ تھانے کچری سے لیکر اعلی ترین عدلیہ میں انکے کارندے موجود ہیں، جو انکی ہر ممکن مدد کار خیر سمجھ کر کرتے ہیں۔
قارئین حضرات !!! 1719 سے لیکر 1748 تک برسراقتدار رہنے والا شاہ رنگیلا تو اپنی بدنامیوں، عیاشیوں، بد عنوانیوں، رنگینیوں، بد اخلاقیوں اور بد زبانی کی وجہ سے اپنے اقتدار سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ زمین بوس ہوگیا، لیکن ہمارے لوکل اور نیشنل سیاسیی نظام میں آج بھی بہت سارے ایسے سیاسیی شاہ رنگیلےبر سر اقتدار ہیں، جو رنگیلے کیطرح بدنام بھی ہیں، عیاش بھی ہیں، بد اخلاق بھی ہیں، وعدے فرموش بھی ہیں، فراڈئیے بھی ہیں، دھوکے باز بھی ہیں، چاپلوس بھی ہیں، خوش آمدی بھی ہیں، لارے لپے لگانے والے بھی ہیں،نجانے کیا کیا معاشرتی برائیوں کے ساتھ ہمارے اوپر مسلط ہیں اور نجانے کب تک رہیں گے۔ عوام کو چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے سیاسیی رنگیلوں کو پہچانیں، بجائے انکے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بننے کے انکا سامنا کریں، ایسے رنگیلوں کےلیے اپنے دوستوں، رشتے داروں اور برادری والوں سے علحدگیاں اختیار مت کریں، انکی چکنی چوپڑی باتوں کو سینے سے لگاکر مت رکھیں، انکا محاسبہ کریں، ابکے ساتھ سیلفیاں بنانے کی بجائے ان سے انکی کارکردگی پر سوال کریں۔ نجانے ہمارے معاشرے میں ہر کوئی دولتمند اور طاقتور سے ہی کیوں ڈرتا ہے ؟ کیا سیاسیی یا طاقتور کو موت نہیں آنی، بلکہ ہمیں تو زیادہ ڈرنا چاہیے اس کمزور اور مجبور انسان سے جو ہر دکھ درد میں الله کی طرف دیکھتا ہے، اسکے فیصلے کا انتظار کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ پاک یمیں ایسے سیاسیی رنگیلوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین۔(@_Ni_s)

تحریر:عرفان محمود گوندل اشاروں پہ ناچنے والے قیمے والے نان
گزشتہ روز مسلم لیگ ( ن ) کی لیڈر محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے تقریر کے دوران ایک عجیب حرکت کی ۔
انہوں نے اپنے سامنے قیمتاً (دیہاڑی) پہ خریدے گئے حاضرین سے ایک عجیب بات کی
جلسے میں کہنے لگی
میں یہ چاہتی کہ میں جب ہاتھ اوپر کروں تو آپ سب (غلام) میرے ہاتھ کے اشارے پہ کھڑے ہو جائیں اور اگر میں ہاتھ نیچے کروں تو آپ سب (غلام) بیٹھ جائیں ۔۔
چونکہ سامنے سارے دیہاڑی دار تھے ۔ ایک ہزار روپیہ اور دوپہر کے کھانے کی قیمت پر انہوں نے ن لیگ گ کی لیڈر کی ہاں میں ہاں ملانی تھی ۔ اس لیے جب مریم نواز شریف صاحبہ نے کہا کہ میں
آپ سب کو آزما کے دیکھوں ؟
تو سب نے سیٹیاں بجائیں
پھر شہزادی نے دونوں ہاتھ آہستہ آہستہ فضا میں بلند کیے
سکرین پہ چونکہ عوام کا ( جم غفیر) نظر نہیں آرہا تھا اس لیے نہ دیکھ سکا کہ مریم صاحبہ کے اشارے پہ پنڈال کھڑا ہوا یا نہیں ۔
کچھ لمحوں بعد مریم صاحبہ نے ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کر دیے
اندازہ ہے کہ دھنسی ہوئی آنکھوں والے ، بھوکے پیٹ ، سوکھی چمڑی ، پیلے دانت ، پھٹے ہوئے کپڑے اور ٹوٹے ہوئے جوتوں والے لیڈر کے اشاروں پہ ناچنے لگے ہوں گے ۔ کہتے ہیں بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے ۔
یہی کچھ حال پنڈال میں کھڑے قیمے والے نانوں، بریانی کی پلیٹوں ، زندہ شناختی کارڈوں چمچوں کھڑچھوں بیلچوں ڈوئیوں چھونیوں اور پتیلیوں کا ہو گا ۔
کھڑے نہ ہوتے تو دیہاڑی نہ ملتی یا شاید پیسے کاٹ لیے جاتے ۔ حکم کے غلام تھے بھوکے پیٹ کی خاطر گرم توے پہ ناچ لینا تھا ۔ غلامی کی نکیل ڈلی ہوئی تھی اس لیے ہاتھ کے اشاروں پہ ناچنا بھی تھا اور گانا بھی تھا کیونکہ یہی حکم تھا ٹھیکیدار کا کہ شہزادی صاحبہ کو خوش کرنا ہے
ایک عورت نے تقریب میں دور کھڑے شوہر کو انگلی سے اشارہ کیا کہ ادھر آؤ ۔
شوہر باادب ہو کے ہاتھ باندھے حاضر ہوا اور ادب سے پوچھا
جی فرمائیے
بیوی نے ادائے دلبری سے کہا کچھ نہیں میں تو انگلی کی مقناطیسی قوت چیک کررہی تھی کہ کتنی دور تک اثر رکھتی ہے ۔
کیوں وہ صّیاد کسی صید پہ توسن ڈالے
صید جب خود ہی چلے آتے ہوں گردن ڈالے@I_G68

پیروی پرعمل اور تضاد . تحریر: سہیل احمد
آج کل عید الاالضحئ کیلیے بہت اہتمام کیا جا رہا ہے ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑا مسلمان ثابت ہونے کیلیے بے دریغ پیسا خرچ کیا جا رہا ہے.ہر کوئی اپنی استطاعت کے بل بوتے پر ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور مہنگا جانور لینے کی ریس میں لگا .اس میں حرج بھی نہیں بس میرا اپنا ماننا یے ار ناقص العقل کی بدولت عرض کرنے پر مجبور بھی ہوں کی شاید اسکے دل میں اتر جائے میری بات ورنہ جیسے گزرا دن ویسے گزر جائے گی رات اب بات کرتا ہوں محلوں کی آپ اس بات سے اتفاق اس لیے کریں گے کیونکہ پڑھنے والوں میں ہر کوئی مریم نواز یاں سیٹھ عابد کا رشتہ دار نہیں .اللہ تعالئ نے کسی کو جاب عطا کی تو کسی کو اپنا بزنس. گزارہ تو عمران خان صاحب کی حکومت میں کرنا اب تھوڑا مشکل کیونکہ ہمیں عادت نہیں ہے ایف بی آر کی لسٹ میں اپنا نام ٹاپ پر لکھوانے کی. محلوں میں ماشاءاللہ بہت رونق ہوتی ہے کچھ معاملات میں ہم ایک دوسرے کے حق میں بھی چل پڑتے ہیں.
کیسا وقت آگیا ہے کہ گلی میں ایک بزنس مین اور اسکے سامنے 50 سال سے ساتھ رہنے والا اسی کا ہمسایہ.جو کہ انتہائی غریب ہے .
سیٹھ ہر سال 10 بکرے اور 2 3 گائے یاں اونٹ قربانی کیلیے لے آتا ہے. جبکہ غریب ہمسایہ شاید سال میں ایک آد بار ہی گوشت کو دیکھتا ہو گا.کیسا عجیب اتفاق ہے. ہیں دونوں ان پڑھ . پر حیثیت میں اوپر نیچے. کیا خوب کہا تھا کسی نے رب رزق دیندا نہ عقلاں نال نہ شکلاں نال رب نوازدہ اپنی مرضی نال.خیر سوال یہ تھا کہ کیا ہماری اتنی بڑی قربانی کو اللہ قبول فرمالے گا جبکہ ہم اپنے ہمسائے کے دل دکھانے میں جلتی پر تیل کا کام تو نہیں کر رہے.کیونکہ ہمسائے کے حقوق آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں . کیا اتنی بڑی قربانی کرنا بہتر ہے یاں اس غریب ہمسائے کو اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کیلیے اس کے روزگار کیلیے مالی امداد کرنا.
دوسری بات جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ رکاوٹیں ہٹانے پر بہت زور دیا گیا ہے اور راستوں میں مت بیٹھو وغیرہ وغیرہ.
تو کیا ہم ٹھیک کر رہے ہیں جو اپنی حیثیت اور غفلت کی بنا پر عید کے تہوار کی بدولت اپنے جانوروں کےلیے گلیوں میں گیٹ لگوا رہے ہیں یاں قنات لگوا کر اپنی ہٹ دھرمی کا ثبوت دے رہے ہیں جبکہ اس کی بدولت عام شہری یاں آپکا ہمسایہ آپ سے بہت دکھی ہے.
کیا ہمارا مزہب اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے ? کیا ہماری پرانی روایات اس سے مختلف نہیں تھیں . کیا ہم سب بھول کر اپنے آپ کو بخشوالیں گے. کیا ہمارا دکھی ہمسایہ قیامت والے دن ہمیں معاف کر دے گا.خدارا سوچیے
ہم کس طرف جا رہے ہیں
اپنے آپ کو پہچانیے@iSohailCh

میں کیوں نا کپتان کو سپورٹ کرو . تحریر : عامر خان
مخلوقِ خدا جب کسی مشکل میں پڑی ہو,
سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہی ہوتی,ہر شخص سر پر کفن باندھ کر نکلے,
حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہی ہوتی.
(حبیب جالب)جب ضیاء دور ختم ھوا اس وقت پاکستان کے تمام ادارے منافع دے رہے تھے پاکستان سٹیل ملز PIA ریلوے واپڈا OGDC ریڈیو پاکستان پاکستان ٹیلی وزن ptcl وغیرہ وغیرہ تمام کے تمام منافع کمال رہے تھے پاکستان پر قرضہ نہ ہونے کے برابر تھا
پاکستان میں گھی 25 روپے پیڑول 11روپے 75پیسے ڈیزل 9روپے 25 پیسے آٹا 150 روپے چینی دال چاول سب کچھ چند روپوں میں ملتا تھا ضیاء دور کے بعد ppp /pml اور مشرف نے حکومت کی 2018 تک گھی دال چینی ڈیزل پٹرول آنا کہاں چھوڑ گے آپ بتا دیں کیا اس درمیان عمران خان نے حکومت کی ؟؟؟ یقیناً نہیں ۔پھر اس کا زمہ دار کون سابقہ حکمرانوں نے صرف مہنگائی کی ہوتی بلکہ ۔ 2018 میں جب یہ کرپٹ حکمران گئے تو سٹیل مل بند تھی نہ صرف بند تھی بلکہ اربوں نقصان میں تھے ملزمین صرف تنخواہیں لے رہے تھے pIA جو دنیا کی نمبر ون تھی تباہ ہوچکی تھی بلکے اربوں کے خسارے میں تھی تمام کے تمام ادروں کو تباہ کرگئے ہر سرکاری ادارہ خسارے میں چھوڑ کے گئے. معیشت کو تو ان لوگوں نے ڈبویا ساتھ ملکی سلامتی خیریت بھی کھا گئے قوم کیا ہوتی قوموں کو کیسے جگایا جاتا ہے کیسے انکو خواب دکھائے جاتے ہیں یہ سب بھی ساتھ لے گئے.
2018 سے پہلے پاکستان پر امریکہ جہاں چاہتا ڈرون گرا دیتا تھا پاکستان کی حدود میں آکر فوجی کارروائی کرکے جلا جاتا کیوں ؟؟؟
کیونکہ اس وقت ہمارے حکمران بزنس مین کرپٹ اور بزدل تھے جنرل ایوب اور جنرل ضیاء کے بعد دونوں پارٹیاں آمریت کی نرسری میں پل کر بڑی ہوئی اور یہ سب کسی سے چھپا ڈھکا نہیں اب انکو پھر سے وہی ہاےھ چاہیے جو انکو چور راستے سے اقتدار دلاتے تھے لیکن اب وقت بدل گیا پاکستان کی مجبوری بن گئ ہے ایسا لیڈر جو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے اب پاکستان کی ضرورت بن گئ ہے کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں ایک پیج پر ہوں نا کے اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کیلئے کرپٹ حکومت ضرب عضب جیسے اپریشن کے دوران ڈان لیکس کروائے چلیں بات آگے بڑھاتے ہیں جب سے عمران خان کی حکومت آئی ایک ڈرون حملہ یا حدود کی خلاف وزاری امریکہ کی بدمعاشی ختم ہوگئعمران خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی جی ہاں پہلی بار امریکہ کو No کہا وہ بھی اس ملک کے وزیراعظم نے جو آئی ایم ایف کا قرضائ ہے جس ملک کے بزنس مین حکمرانوں اور جرنیلوں سے ڈو مور کیا جاتا تھا اب اسی ملک کا وزیراعظم نو مور کہہ رہا ہے بلکے پاکستان کی حدود اب کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی نا کسی دوسرے ملک کو اپنے خلاف انکی سرزمین استعمال ہونے دیں گے .
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک حکمران آیا جو سعودی بادشاہ سے کہتا ھے تمہاری جیلوں میں میرے غریب پاکستانی قیدِ ھیں ان کو چھوڑ دیں 24 گھنٹوں میں وہ 2300 گھروں کے چراغ آزاد ہوجاتے ھیں سری لنکا جاتا ھے کہتے ھے ہم مسلمان میت کو دفناتے ہیں میت کو جلانے والا قانون ختم کیا جائے مسلمانوں کیلئے کہہ کر واپس پاکستان نہیں پہنچا مسلمان میت کو دفنانے کی اجازت مل جاتی ھے سعودیہ کہتا ھے ترکی ڈرامہ ارتغرل غازی پاکستان نہیں دیکھا سکتا پاکستان ٹیلی-ویژن پر کیونکہ ہم ترکی کو پسند نہیں کرتے ساتھ اسرائیل کو ایکسپٹ کرنے کا بیک ڈور پریشر بھی ڈال کر دھمکی دی گئ اگر ایسا نا کیا تو ہم تیل نہیں دیں گے اور ہمارے 2 ارب ڈالر واپس کرنے ہوں گے ہمارا لیڈر تیل بند کروا لیتا ھے ڈالر ان کے واپس کردیتاہے مگر اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا ۔
میں جو کام کل کررہا تھا وہی آج بھی کررہا ھوں میں میرے بھی غریبوں والی زندگی گزار رہا تھا آج بھی گزار رہا ھوں
مگر مجھے فخر ھے میں ایک غیرت مند قوم بننے جارہا ھوں دنیا میرے پاکستان کی عزت کررہی ھے میرا لیڈر کرپٹ چور نہیں ایک غیرت مند حکمران ھے وہ اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا وہ دنیا میں جاکر اپنی ملیں کارخانے لگانے کی بات نہیں کرتا
وہ مسئلہ امہ کی بات کرتا ھے وہ کفار کے ایوانوں میں کھڑے ہو کر کہتا ھے اے اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد مانگتے ھیں
جو کفار کے ایوانِ ان کے درمیان کھڑے ہو کرکہتا ھے ہمارا ایمان لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ پر ھے ہم لڑنے والے نہیں ہمارے ساتھ جو لڑے گا تو ہم بم ماریں گے ہم آخری سانس تک لڑیں گے جو بولتا ھے تو دنیا خاموشی سے سنتی ھے
تمہیں تمہارے لیڈر نصیب
مجھے میرا لیڈر نصیب









