Baaghi TV

Category: سیاست

  • عمران ریاض خان . تحریر : کاشف علی

    عمران ریاض خان . تحریر : کاشف علی

    عمران ریاض خان صحیح معنوں میں صحافت کی حق ادا کر رہا ہے اور غیر جانبدارانہ صحافی ہے کھل کر اپنا موقف دیتا ہے جو بھی غلط کر رہا ہوں سب کی مخالفت کرتا ہے محب وطن ہے اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتا ہے.

    صحافت کے عظیم پیشہ سے وابستہ ہزاروں صحافی ہیں لیکن عمران خان نے صحافت کا عملی نمونہ پیش کیا، پاکستان کو مثبت انداز میں پیش کیا، ہمیشہ سے بنا خوف کے صحیح خبر بیان کرتا ہے قوم کا درد رکھتا ہے، پاک فوج سے بھرپور محبت رکھتا ہے، ٹھوس دلیل کے ساتھ ساتھ بات کرتا ہے ٹھیک کو ٹھیک غلط کو غلط کہتا ہے چاہے سامنے کوئی بھی ہوں صحافت کے نام پر جو صحافی پارٹیوں سے وفاداری نبھاتے ہیں ان پر بھی کھل کر تنقید کرتا ہے میڈیا کی منافقت پر بھی کھل کر بے خوف بات کرتا ہے.

    کچھ عرصہ پہلے جب مولانا طارق جمیل صاحب نے کہا تھا کہ میڈیا پر زیادہ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اس پر میڈیا کو آگ لگی تھی لیکن عمران ریاض خان نے مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت کی تھی جس پر کچھ میڈیا چینلز نے عمران ریاض خان کو اپنا موقف دینے سے بھی روکا تھا.

    یہیں وجہ تھی کہ کچھ وقت پہلے عمران ریاض خان نے اپنی یوٹیوب چینل بنائی اور مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت میں اپنی پہلی ویڈیو بنائی جس پر لوگوں نے عمران ریاض خان کو بہت سراہا

    پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور اب بہت کم عرصے میں عمران ریاض خان کے یوٹیوب چینل پر تقریباً دو ملین سبسکرائبر مکمل ہونے کو ہے جو کہ بہت بڑی بات ہے بہت سارے نام نہاد صحافی کو کئی سال گزرنے کے باوجود عمران ریاض خان کی طرح کامیابی نہیں ملی وجہ یہی ہے کہ عمران خان اپنا پورا حق ادا کر رہا ہے اور لوگ اسے دیکھنا سننا پسند کرتے ہے.

    بہت ساری باتیں جو عمران ریاض میڈیا پر کھل کر نہیں کہہ سکتے اپنے چینل کے زریعے لوگوں کو بے خوف ہو کر سارا حقیقت کھل کر بتاتا ہے.

    اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھیں اور مزید استقامت دے.

    @DirojayKhan1

  • پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

    پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

    آزادی پاکستان کے بعد سے اب تک پاکستان میں کئی دور ایسے گزرے جس میں عوامی حکومت رہی تو کبھی مارشل لاء ملک میں رائج رہا- لیکن ان چیزوں سے پاکستانی عوام کو کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ ملک میں کون حکمران جماعت ہے کیوں کہ ان بے حس حکمرانوں نے عوام کو اتنا سوچنے کے لیے وقت ہی نہیں دیا وہ ہمیشہ اپنی روز مرہ ضروریات زندگی اور بنیادی سہولیات جیسا کہ صحت روزگار تعلیم اور بچوں کی پرورش میں ہی الجھا رہے- اسے آپ سابقہ حکمرانوں کی سازش کا حصہ بھی سمجھ سکتے ہیں حالانکہ کہ یہ سب سہولیات کسی بھی جمہوری حکومت کی ذمہداری ہوتی ہے کہ وہ صحت تعلیم روزگار جیسی بنیادی چیزیں عوام کی چوکھٹ تک پہنچائے پاکستان میں بہت سی ایسی سیاسی تنظیمیں ہیں جنہوں نے روٹی کپڑا اور مکان موٹر وے ڈیم ایٹم بم جیسی ریاستیں پراپرٹی کو بنانے کا سہرا اپنے سر پر چڑھنے کی کوشش کی ہر تقریب میں یہ سیاستدان بھیڑ بکریوں کی طرح ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرتے ہے اور پس پردہ یہ آپس میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں- ایسے نام نہاد سیاستدان جلسوں میں تقریری کرکے پاکستانی قوم کا خون گرما کر ان سے ووٹ بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب قوم ان سے ان کی چوری کا حساب مانگے تو یہ لوگ پاکستان سے باہر بھاگ جاتے ہیں اور اگر وہاں بھی پکڑے جائیں تو یہ یہ چور اور ملک سے بھاگے ہوئے نااہل اور خود ساختہ سیاستدان گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں گذشتہ دن عابد شیر علی کا ایک پاکستانی شہری سے انگلینڈ میں سامنا ہوا پاکستانی شہری نے عابد شیر علی اور ان کے لیڈر کی چوری کے بارے میں ان سے جواب لینا چاہا لیکن عابد شیر علی گالیوں اور غلاظت بھرے الفاظ کا ذخیرہ جو انھیں ان کی لیڈرشپ کی طرف سے دیا گیا ہے سب کے سامنے اس شہری پر برساتے رہے بات یہ نہیں کہ ان دونوں کے بیچ کیا معاملہ تھا فکر کی بات یہ ہے کہ ان بے حس لوگوں نے سیاست کو اتنا گندا کر دیا ہے کہ ایک صاف ستھرا آدمی سیاست میں آنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے عابد شیر علی کو پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ جمہوریت کا چیمپیئن اور نواز شریف کا ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے یہ پاکستانی قوم کا حق ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کی چوری اور مکاری کا سوال ان کے منہ پر ہی کر سکے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے اگر یہ سب سوالات عابد شیر علی سے پاکستان میں کیے جاتے تو عزیز دوستو آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ یہ جاگیر دار وڈیرے اور چور حکمران اس کا اور اس کے خاندان کا کیا حشر کرتے- ایک قوم کے لئے یہ ایک باعث شرم بات ہے کہ ہمارے نوجوان عابد شیر علی کو اس کی بے ہودہ زبان استعمال کرنے پر اس کی داد رسی کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی سپورٹ میں ایک سیاسی جماعت کی طرف سے ٹرینڈز چلائے جارہے ہیں جب سے پاکستان میں عمران خان نے احتساب کا عمل شروع کیا ہے یہ چور حکمران عمران خان کی نفرت میں اتنا گر چکے ہیں کہ یہ کوئی بھی بات کرنے سے پہلے مجھے اپنا اسٹیٹس بھی نہیں دیکھتے اور میرے خیال سے ان کا کوئی اسٹیٹس بھی نہیں ہے عمران خان پر پرسنل اٹیک کرنا موجودہ سیاست اور جمہوریت پر بدنما داغ ہے ہم سب کو سیاست سے بالاتر ہوکر پاکستان پاکستان کی ترقی اور سابقہ حکمرانوں سے وہ لوٹا ہوا پیسہ نکلوانا چاہیے جو انہوں نے پاکستان کی غریب عوام کو دھوکا دے کر اپنے محلات اور فیکٹریوں میں تبدیل کیا ہے اور جب ان سے اس چیز کا حساب مانگا جائے تو یہ لوگ بیماری کے بہانے بنا کر پاکستان ملک سے بھاگ جاتے ہیں- انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ہیں جب عابد شیر علی جیسے لوگوں کو ان ہی کے سپوٹر اور پاکستان کی غریب عوام گریبانوں سے پکڑ کر رڈو پر گھسیٹیں گے اور اپنا حق مانگیں گی.

    @iamhaiderzaidi

  • انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟؟ . تحریر:- فرمان اللہ

    انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟؟ . تحریر:- فرمان اللہ

    دنیا میں سب سے بڑے جمہوریت کے دعویدار ھندوستان کس منہ سے دنیا کی سب سے بڑے جمہوریت کا دعوی کررہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہم اکیلئے نہیں بلکہ کوئی بھی ملک جو دل میں توڑا سا بھی انسانی ہمدردری رکھتا ہو ان کی بغرتیاں ظلم اور جبر کو کبھی بھول پائنگے اور نہ کبھی ان کی یہ بھونگیاں تسلیم کرینگے کیونکہ بظاہر ھندوستان جہاں ایک طرف اپنی اپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلا جارہا ہے تودوسری طرف تقریبان ایک سال سے کشمیر میں نظام زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے کشمیریوں پر نماز جمعہ تک ادا کرنے کی پابندی ہیں کشمیری مسلمانوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے انکو انسان ماننے کو تیار نہیں نہیں دوسرے طرف اپنے ملک میں مقیم مسلمانوں کو چن چن کر مارہے ہیں مسلم فسادات کروارہے ہیں مسلمان طبقہ کو ملک بدر کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔

    اقلیت کو انکے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے اقلیتوں کیلئے غنڈی بن گئے ہیں ھندوں نے ایک راج قائم کیا ہے پورے ھندوستان میں اقلیتوں پر زمین تنگ کردیا ہے دوسرے طرف کشمیری نوجوانوں کا قتل عام جاری ہیں انکے انکھوں کی روشنی چھینی جارہی ہیں پلیٹ گن کا استعمال کثرت سے جاری ہیں عزتیں پامال ہورہے ہیں ماوں بہنوں کو جیلوں میں ڈال رہے ہیں وہی مکروہ چہرہ جو ھندوستان کی غنڈہ گرد حکومت کی ہیں وہ اس نقاب سے چھپانا چاہتی ہیں کہ وہ 26 جنوری کو بطور جمہوریت کہ ھندوستان دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت ہے مناتے ہیں خالانکہ ھندوستان دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت نہیں دہشتگرد ملک ہیں دنیا میں فسادات راء کے اوارا کتے ار ایس ایس بجرنگ بلی اور شیوسینا جیسے لوگ کررہے ہیں لیکن اخرکار یہ دنیا کو کیوں نظر نہیں اتی یہ اقوام عالم کو نظر کیوں نہیں اتی ھندوستان لاکھ بار جمہوریت منائے لیکن وہ دہشتگرد تھا ہے اور رہیگا لاکھوں مسلمانوں کا قاتل ھندوستان نہ دنیا کا بڑے جمہوریت ہوسکتا ہے اور نہ تھا اگر ھندوستان سب بڑا جمہوریت ہے تو کشمیری مسلمانوں کو حق خود اردیت کیوں نہیں دیا جارہا مسلمان اقلیت کو اپنا حقوق کیوں نہیں دیا جارہے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت دیا جائے مسلمان اور باقی اقلیتوں کو حق خود کو انکے حقوق دیا جائے تب جاکر یہ دہشتگرد جمہوریت منائے۔

    Femikhan_01@

  • پاکستان اورافسرشاہی . تحریر :‌ وقاص رضوی جٹ

    پاکستان اورافسرشاہی . تحریر :‌ وقاص رضوی جٹ

    پاکستان کی تاریخ بہت درد ناک ہے۔بانیانِ پاکستان نےیہ خطہِ ارض اسلام اور نظامِ انصاف کے قیام کیلیے حاصل کیا۔ مگر بدقسمتی یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے چند سال بعد ہی پاکستان حقیقی اورمخلص قیادت سےمحروم ہوگیا۔ قاٸداعظم کی اچانک وفات اوربعد ازلیاقت علی کی قتل پاکستان کی درِ و دیوار ہلاگیا۔اس کے بعد ملک کی باگ ڈورایسےلوگوں کے ہاتھوں میں چلی گٸ۔ اس میں بیوروکریسی اور فوجی قیادت کابڑاکردار رہا۔سیاستدان چونکہ اتنےتعلیم یافتہ نہیں تھے اور مختلف شعبہ ہاۓزندگی سےتعلق رکھنے والےماہرین کابھی فقدان تھا تو اس خلا کو بیوروکریسی نے بھردیا۔ اسی وجہ سےبیوروکریسی شروع سے نظام پرمکمل طور پر قابض ہے۔ مختلف حکومتوں نےبیوروکریسی کے ملک کےنظام پرغیرمعمولی کنٹرول کےخاتمےکیلیےکوششیں کیں مگر سیاسی عدم استحکام کیوجہ سےبیوروکریسی نے یہ کوششیں ناکام بنادیں۔ بیوروکریسی برطانوی سامراج کی پیداوار ہے۔ برطانوی سامراجی دور میں بیوروکریٹس عوام کیساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح سلوک کرتےتھے۔ سامراجیت کی باقیات آج بھی پاکستانی بیوروکریسی میں پاٸی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Public Service Delivery پاکستان کاسب سےبڑا مسٸلہ ہے۔ جس سے نظام بہت سست روی کاشکارہے۔ کٸ کٸ مہینے فاٸیلیں ایک دفترسےدوسرےدفترمنتقل ہوتی رہتی ہیں۔ مالی سال 2019-20میں سابقہ فاٹاکےاضلاع کیلیے 100 ارب سے زیادہ مالیت کےترقیاتی فنڈز مختص کیےگۓ مگر بیوروکریسی کی سست روی کی وجہ سےسال کےاختتام پر صرف چند ارب ہی خرچ ہوپاۓ۔ اس جیسی بہت سی رپورٹس آۓدن پڑھنےکوملتی ہیں۔عوامی مساٸل کی کوٸی شنویدنہیں ہوتی۔ کٸ کٸ گھنٹوں تک شہریوں کو انتظار کروایاجاتاہے۔ میرٹ پرکام کروانےکیلیےبھی شہریوں کی تذلیل کی جاتی ہےاورشہریوں کےذہنوں میں بات بٹھادی گٸ ہے کہ کوٸی کام بغیررشوت یاسفارش کےکرواناممکن نہیں ۔ Red Tapism بہت ہے۔ ایک چھوٹےسےکام کیلیےکٸ مہینےلگ جاتےہیں۔

    @WaqasRizviJutt

  • 2023 میں وزیراعظم پاکستان کون ہو گا؟ . تحریر : بابر شہزاد

    2023 میں وزیراعظم پاکستان کون ہو گا؟ . تحریر : بابر شہزاد

    2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے اس جماعت نے بہت بلند و بالا دعوے کر رکھے تھے۔ 2013 الیکشن کمپین کے مطابق یہ جماعت پوری تیاری کے ساتھ حکومت سنبھالنے آ رہی تھی اور ان کے دعووں کے مطابق ان کے پاس معاشی ٹیم پہلے سے موجود ہے جن کے سربراہ کے طور پر اسد عمر کا نام الیکشن جیتنے سے پہلے ہی لوگوں کو بتا دیا گیا تھا۔
    قصہ مختصر کہ 2013 میں تحریک انصاف سب سے ذیادہ سیٹیں جیتنے والی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ اکیلے اپنی حکومت بنا سکے لہزا چیچوں کا مربہ اکٹھا کر کے عمران خان پاکستان کا بائیسواں وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گیا.

    حکومت ملنے کے چند ماہ کے اندر ہی انہیں احساس ہو گیا کہ حالات تو بہت خراب ہیں کیونکہ ملک کی معیشت بلکل بیٹھ چکی تھی، زر مبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر آ چکے تھے، قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں تھے جس سے ملک میں مہنگائی کی لہر نے قمر کس لی اور ہر چیز کے نرخ بڑھنے لگے۔ جلد ہی معاشی ٹیم میں تبدیلی لائی گئی کہ حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ عمران خان آئی ایم ایف کا سخت ناقد تھا لیکن مجبوراً ان کے پاس بھی جانا پڑا۔ سعودی عرب سے 3 ارب کا قرضہ لیا گیا جس سے پرانے قرضوں کی قسطیں ادا کی گئیں۔ اس کے علاؤہ ان سے ادھار تیل لینے کا معاہدہ بھی کیا گیا کہ کسی طرح ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ دیکھنے کو ملی اور ملکی تاریخ کے بلند ترین سطح پر ڈالر ایکسچینج ہوا جو کہ 160 روپے ہو گیا جس سے مہنگائی کا طوفان آیا تاہم اس سے پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو بہت فائدہ ہوا جس کا ثمر مالی سال 2020 کے اختتام میں دیکھنے کو ملا کہ ملکی تاریخ میں سب سے ذیادہ ایکسپورٹ اس سال میں ہوئی اور تقریباً 28 ارب ڈالر سے زیادہ کی ایکسپورٹ ہوئی۔

    ہماری معیشت کچھ بہتر ہوئی تھی کہ اسی دوران کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے پوری دنیا کی معیشت کو شدید نقصان ہوا تاہم پاکستان حکومت کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے پاکستان ان چند ممالک میں تھا جسے اس کا کم سے کم نقصان ہوا۔
    3 مشکل ترین سال دیکھنے کے بعد حکومت نے معیشت کو استقامت دی، ملکی خارجہ پالیسی کو بڑی اچھی طرح لے کے چلی یہ حکومت.
    60 کی دھائی کے بعد پہلی دفہ ملک میں بڑے ڈیم بنانے کا کام شروع ہوا اور دیامیر بھاشا ڈیم کے ساتھ داسو ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا جو کہ 2029 تک مکمل ہوں گے۔
    غرض یہ کہ حکومت نے مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ لوگ جو اس حکومت سے متنفر ہونا شروع ہو گئے تھے پھر سے اس حکومت کے گن گانے لگے ہیں۔

    اب آ جاتے ہیں کہ 2023 میں پاکستان کی حکومت کونسی جماعت بنائے گی؟ میرے ناقص تجزیے کے مطابق 2023 میں تحریک انصاف ایک دفہ پھر سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی اور اس دفہ اسے بیساکھیوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا کیونکہ اس دفہ دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائیں گے۔ اس وقت سینیٹ میں بھی اکثریت تحریک انصاف کی ہے اور آئندہ سینیٹ انتخابات کے بعد جو کہ 2024 میں منعقد ہوں گے تو وہاں بھی تحریک انصاف 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جس کا مطلب ہے کہ عمران خان اگلے 5 سال میں ملکی تاریخ کا مضبوط ترین وزیراعظم ہو گا۔
    دعا ہے کہ جو بھی ہو ملک کے لیے اچھا ہو. آمین۔

    @babarshahzad32

  • ‏پاکستانی سیاست   تحریر : عثمان غنی

    ‏پاکستانی سیاست تحریر : عثمان غنی

    سب سے بڑے بھٹو جنکو عرف عام میں ایوب کی اولاد کہا جاتا ہے۔ بہت ہی مہربان ہستی تھے کہنے کو تو سب لین تھے مگر بدترین ڈکٹیٹر سے بھی زیادہ برا تھا ان کا دور لاڑکانہ چلو ورنہ جیل چلو کے نعرے انہوں نے لگوائے۔ اپنے وقت کے بدترین عامر تھے 86 سیٹیں لے کر پورے ملک پر قبضہ کیا اور خود وفادار رہ کر مجیب الرحمن کو غدار قرار دے دیا..

    ویسے تو ان تینوں کے بارے میں اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ میں نے صرف تین ٹکڑوں نے پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا مگر خیر وہ ایک الگ معاملہ ہے. یہاں بات ہو رہی تھی بھٹو خاندان کی بھٹو نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کے بعد ناکارہ نوے ہزار فوجی لاکر خود کو کمال مہارت سے ہیرو ثابت کردیا اس کے بعد آتے ہیں ان کی بیٹی محترمہ کی طرف سابق صدر پاکستان ذلفقار لغاری نے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ ہیں بے نظیر جب دوسری بات بار پاکستان واپس آئیں تو میں ان کے ساتھ فرنٹ پر بیٹھا تھا بہت آبدیدہ ہو کر مجھ سے سوال کیا کہ میں نے اتنی کرپشن کی کیا عوام اب بھی میرا ساتھ دیں گے اور پاگل عوام نے ان کا ساتھ دیا انڈیا کی تھری وفادار تھی کے خالصتان بنانے والے سکھوں کی لسٹ ہے انڈیا کو خیر سگالی کے طور پر دی۔

    اس کے بعد آتی ہے ان کی تیسری نسل جو سرائیکی اور سندھ دیر کی دھمکی دیتی ہے
    روز کرپشن کرنے کے بعد پلی بارگیننگ کر لیتے ہیں جی ہم نے چوری کر لی اور ہم آدھا واپس کر دیں گے اور پاکستانی عوام کو یہ تک نہیں پتا کہ پلی بارگیننگ ہوتا کیا ہے خیر یہ کمال خاندان ہے کرنا میں بہت زیادہ ہے اور سارا ہی پاکستان مخالف ان کی نسل ابھی چل رہی ہے حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہیں لیکن اب عوام کا شعور بتاتا ہے کہاں گئے یہ کارنامہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے..

    @UsmanSay_

  • ایک دن آزاد کشمیر میں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    ایک دن آزاد کشمیر میں.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    بیٹھے بیٹھے فیصلہ ہوا آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے دیکھ کر آئیں کیا چل رہا ہے, چند دوستوں کے ساتھ اسلام آباد سے ہم روانہ ہوئے, ہماری پہلی منزل میر پور تھی. میر پور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا بھی جلسہ تھا. میر پور چیک پوسٹ کراس کی تو الگ ہی منظر تھا ہر طرف سیاسی پارٹیوں کے پرچم, بینرز آویزاں تھے. یہاں ایک نئی جماعت کا پرچم بھی آویزاں تھا,یہ کشمیر کے الیکشن میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والی جماعت جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا پرچم تھا. ہم نے اپنے اس سفر میں اس جماعت کے امیدواروں سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی. ہماری پہلی منزل میرپور حلقہ ایل اے 3 تھی جہاں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار چوہدری شبیر چیچی سے ملاقات کرنا تھی. چوہدری شبیر چیچی کے پاس پہنچے ان سے ہم نے الیکشن کے حوالے سے گفتگو کی وہ پرعزم نظر آرہے تھے. چوہدری شبیر چیچی بتانے لگے پہلے وہ مسلم کانفرنس کے ساتھ تھے لیکن اس بار انہوں نے جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا منشور دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ وہ اس جماعت کے ساتھ مل کر انتخابات میں حصہ لیں جو ختم نبوت ﷺ اور کشمیر کی آزادی کے لیے صف اول میں نظر آتے ہیں. چوہدری شبیر چیچی کہنے لگےان کا مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ سے ہے, وہ پاکستان کے کچھ سیاستدانوں سے بہت نالاں تھے کہ یہ لوگ باہر سے آکر ہمیں دو ٹکے کا کہتے ہیں ,کہنے لگے میں تو اپنے حلقہ کی عوام سے کہتا ہوں ہم کشمیر کے مقامی لوگ ہیں, کشمیر کی مقامی جماعت ہیں آپ ہمارا ساتھ دیں.اس موقع پر ان سے میرپور کے حوالے سے دیگر مسائل پر بھی بات چیت ہوئی .

    اسی دوران ہمیں جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے حلقہ ایل اے 4 کھڑی شریف کے امیدوار چوہدری خالد حسین آرائیں کی طرف چلنا تھا, موومنٹ کے میڈیا کوآرڈینیٹر انیس الرحمان باغی بھی ہمارے ساتھ تھے. میرپور شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر منگلا کے علاقے میں ہم داخل ہوئے تو بڑے بڑے بینرز اور اشتہارات چوہدری خالد حسین کے آویزاں تھے .چوہدری خالد حسین ہمارے انتظارمیں تھے لیکن ہم تاخیر سے ان کی طرف پہنچے وہ نکل چکے تھے اور اب ہم ان کے انتظار میں وہاں موجود تھے. کچھ دیر بعد چوہدری خالد حسین کندھے پر سفید رومال رکھے داخل ہوئے اور ہماری آمد پر شکریہ ادا کیا. چوہدری خالد حسین کو ہم نے نہایت پرجوش پایا وہ بھی اپنے علاقے اور کھڑی شریف کی عوام سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے. ہمیں یہ بھی کچھ ذرائع سے معلوم ہوا کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے امیدوار کی طرف سے انہیں دستبردار ہونے کی پیشکش بھی کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی. چوہدری خالد حسین کہنے لگے کہ اب وہ وقت نہیں رہا ٹوٹی نلکے کی سیاست کی جائے, اب ہم خدمت انسانیت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں, عوام کے اور بھی بہت سے مطالبات ہیں میں اگر کامیاب نہ بھی ہوسکا تو میرے دروازے کھڑی شریف کی عوام کے لیے کھلے ہیں. میرپور میں سیاسی حوالے سے ہم نے صورتحال کا جائزہ لیا تو زیادہ تر لوگ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کررہے ہیں. ن لیگ کے انتخابی جلسہ کے حوالے سے ہمیں مقامی لوگوں نے بتایا کہ کوٹلہ ارب علی خان سے ایم این اے عابدرضا کوٹلہ نے پانچ سو افراد کو اپنے ساتھ لا کر مریم نواز کا جلسہ کامیاب کروایا لیکن عوامی سطح پر ان کی پوزیشن اتنی مظبوط نہیں .قائد اعظم سٹیڈیم میں بھی پنڈال سج چکا تھا جہاں وزیر اعظم عمران خان نے بھی خطاب کرنا تھا .ہم میرپور سے نکلے اور اگلی منزل ہماری کوٹلی تھی. کوٹلی ہم دھنواں سے تتہ پانی کے علاقے میں پہنچے یہاں مسلم کانفرنس دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھی اور یہاں تحریک لبیک کے بینرز اور پرچم بھی ہمیں دیکھنے کو ملے, یہاں ہم جموں و کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے امیدوار سانول آکاش کے بارے نجی چینل پر ایک رپورٹ دیکھ چکے تھے, انہوں نے تتہ پانی شہر میں اپنی انتخابی ریلی سے خطاب کرنا تھا, سانول آکاش ایڈووکیٹ کے بارے بتایا گیا وہ دھنواں کے علاقے میں کچے مکان میں رہتے ہیں, موٹر سائیکل پر کمپین کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا کوئی بنک بیلنس نہیں,

    JK یونائیٹڈ موومنٹ کے نامزد امیدوارسانول آکاش امیدوار راج محل کے ساتھ
    سانول آکاش ایڈووکیٹ بتانے لگے انہوں اسی تتہ پانی سے طلبہ سیاست کا آغاز کیا اور آج اسی تتہ پانی میں وہ اپنا انتخابی جلسہ کرکے فخر محسوس کررہے ہیں. تتہ پانی کے بارے سن رکھا تھا کہ یہاں ایک چشمہ ہے وہاں پانی شدید گرم ہوتا ہے اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے ہم قریب ہی چشمے پر پہنچے .چشمے کا پانی واقعی نہایت گرم تھا. یہاں سے ہم واپسی کی رات لی اور رات کے ایک بجے ہم واپس اسلام آباد اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے .

  • جہموریت اور عوام .تحریر : حنا

    جہموریت اور عوام .تحریر : حنا

    جمہوریت کا مطلب لوگوں کی حکومت ہوتی ہے۔ لوگوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور لوگوں کیلئے ہوتی ہے۔جمہوریت ذمہ دار اور جواب دہ حکومت کا نام ہےجموریت ایک نظریہ نہیں ہے ۔ جمہوریت حکومت چلانے کے ایک طریقہ کار کا نام ہے
    میں جب سے پیدا ہووی ہوں میں نے ہمارے پاکستان کی جہموریت کو ہمیشہ خطرے میں ہی پایا ہے ۔۔جب عوامی احتجاج ہو مہنگائی کے خلاف ۔جہموریت خطرے میں ۔جب سیاست دان الیکشن ہارنے لگے ۔جہموریت خطرے میں ۔۔جب کسی غریب کی بیٹی وڈیروں کے ہتھے چڑھ جائیں اور غریب سوشل میڈیا پر وڈیو بنا کر حکومت وقت سے مدد مانگے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔جب عوام گٹر اور واٹر سپلائ کا مکس پانی پی کر بیمار ہو جائے صاف پانی کا مطالبہ کرے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔۔جب سیاست دان ضمیر فروش صحافیوں کو ساتھ ملا اداروں کو گالی گلوچ دے اور ادارے ان پر گرفت مضبوط کرے تو بھی جہموریت خطرے میں ۔جب عوام روٹی مہنگی پر احتجاج کرے تو جہموریت خطرے میں ۔۔جب لوگ حکمرانوں سے تنگ آکر ان کو چپیڑیں جوتے مارنے لگ جائیں تو بھی جہموریت خطرے میں ۔۔لیکن جناب حیرانگی کی بات ہے کہ جب حکمران عوامی ٹیکس پر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں جہموریت کو کوی خطرہ نہیں ۔جب عوامی پیسے پر بیرون ملک ساری کابینہ کو لے جا کر عیاشی کی جاے جہموریت کو خطرہ نہیں ۔جب عوام کے فنڈ پر عوامی پیسے پر اپنے بچے کو یورپ کی مہنگی یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا جاے تو بھی جہموریت کو خطرہ نہیں ۔جب عوامی فنڈ پر اپنے شاندار بنگلہ بنایا جاے اور غریب کو ٹوٹی سڑک ٹھیک کر کہ ٹرخا دیا جاے ۔تب بھی جہموریت خطرہ میں نہیں ۔۔

    عوام کے ٹیکس کے پیسے سے عوام پر پیسہ لگا کر اگلے بیس سال تک جب عوام کو جتاتے ہے ہم تمھارے لیے یہ کیا اتناااااا کچھ کیا ۔ جہموریت کو تب بھی کوی خطرہ نہیں ۔ہسپتالوں میں غریب مریضوں ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے اور سیاست دانوں کو اسی ہسپتال پروٹوکول دیا جاتا ہے جہموریت کو تب بھی کوی خطرہ نہیں ۔۔جناب ۔کسی غریب والدین کا بیٹا سفارش اور رشوت نہ ہونے کی وجہ سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتا یہ جہموریت کو تب بھی خطرہ نہیں۔۔۔ سیاست دانوں کی سرپرستی میں سکول کا ماسٹر دو سو بچوں ساتھ بدفعلی کرتا ہے جہموریت کو تب بھی خطرہ نہیں ۔۔سیاست دانوں کی سرپرستی میں ایک وزیر کی بیٹی اداروں کو گالی گلوچ دیتی ہے اور ماں وزیر کی کردی پہ مزے سے عوامی فنڈ پر عیاشیاں کررہی ہوتی ہے ۔حکومتی ارکان کا حصہ ہوتی ہے لیکن جہموریت کو بالکل خطرہ نہیں۔۔۔اور جب یہ سیاست دان الیکشن ہارتے ہیں ۔۔سیاست ایک کھیل کی طرح آج توں تو کل میں ۔۔لیکن میرے پاکستان میں جو ایک بار اقتدار پہ قابض ہو گیا ۔۔وہ اترنا تو چاہتا ہی نہیں ۔تصور بھی نہیں کرتا کہ کل وہ ہار سکتا ہے ۔۔بس ایک ہی آواز ہوتی ہے کل ہم جیٹ کر مزید یہ کام کریں گے ۔۔ہم سے پانچ سال دس سال یہ اچھا نہیں ہوا ۔ہم اگلے دس سال یہ کریں گے ۔۔ینعی عوام کا خون تو ہر حال میں نچوڑتے رہنا ہے ۔جان نہیں چھوڑنی ۔۔ہارنے کے بعد بچوں کی طرح ایک دوسرے پہ الزامات کی برسات کہ تجھے فوج لیکر آئ تجھے فوج لیکر آئ توں آمر کی گود میں پیدا ہوا تو توں آمر کی گود میں کھیلا ۔توں سلیکٹڈ ہے توں سلیکٹڈ ہے ۔۔جناب آپ نے کبھی آج تک ان سیاست دانوں کو اپنی ناکام کارکردگی کا اعتراف کرتے دیکھا ہے ۔کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔۔کیونکہ اعتراف کرنا تو ان کی توہین ہے ۔۔

    یہ جہموریت نہیں ۔یہ خدا کی زمین پر کفر کا نظام ہے ۔۔یہ ایک لفافہ پر چلتے حکمرانوں کی عیاشیوں کا نام ہے ۔۔۔جی ہاں لفافے ۔۔۔اب آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ لفافہ مطلب ضمیر فروش صحافی نہیں جی یہ ضمیر فروش سیاست دانوں پہ بات ہے ۔ جو جب جاتے ہے تو آنے والوں کو بہت اہم پیغام دے کر جاتے ہیں۔۔اور وہ پیغام یہ ہوتا ہے
    کسی ملک کے وزیراعظم کے خلاف جب بہت جلوس نکلنے لگے اور نعرے لگنے لگے تو اس نے مخالف جماعت کے سربراہ کو بلوایا ۔اور کہا: مجھے معلوم ہے کہ میرے بعد تم ہی وزیراعظم بنو گے ۔یہ دو لفافے سنبھال کے رکھ لو ۔جب کوی مشکل درپیش آئے تو پہلا لفافہ کھول کر جو کچھ لکھا ہو اس کے مطابق عمل کرنا ۔پھر دوبارہ مصیبت میں مبتلا ہونے پر دوسرا لفافہ کھولنا اور وہ ہی کچھ کرنا جو اس پہ لکھا ہو۔۔
    ملک میں انتخابات ہوے مخالف پارٹی کا لیڈر وزیراعظم بن گیا ۔چند سالوں تک اس کی حکومت اچھی چلتی رہی
    پھر اس کے غلط کاموں کی وجہ سے اس کے خلاف بھی نعرے لگنے لگے ۔اس نے پہلا لفافہ کھولا اس میں لکھا تھا ۔
    تمام الزامات مجھ پر یعنی پرانے وزیراعظم پر ڈال دو
    نئے وزیراعظم نے یہی کیا ۔دو تین سال تک عوام خاموش ہو گئ ۔اس کے بعد پھر عوام میں بیداری کی لہر اٹھی اور وزیراعظم کے خلاف جلوس نکلنے
    ۔

  • سندھ کے سرکاری ملازمین رل گئے عقیل  تحریر:احمد راجپوت

    سندھ کے سرکاری ملازمین رل گئے عقیل تحریر:احمد راجپوت

    عید سے پہلے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سرکاری ملازمین کی عید الضحیٰ کی خوشیاں ماند پڑ گئی وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے عید الضحیٰ سے قبل تنخواہیں اور پنشن دینے کا اعلان کیا گیا تھا مگر افسر شاہی نے محکمہ میں موجود ملازمین سے زیادہ ٹھیکیداروں کو عزت بخشی اور فنڈ ہونے کے باوجود ملازمین کی خوشیوں کا خیال رکھنے کی بجائے ٹھیکیداروں کو پیمنٹ کردی گئی کمیشن تنخواہوں سے کہا ملتا سندھ سرکار پورا سال پروڈنٹ فنڈ مزدوروں کی تنخواہوں میں سے کاٹ کر اس کے مانگنے پر دینے کی پابند ہے مگر سندھ کے محکموں میں خدمات انجام دینے والے ریٹائرڈ ایمپلائز سالوں سے ریٹائر ہونے کے باوجود اپنے فنڈز کے لئے چکر لگا رہے ہیں کچھ خود کشیاں بھی کر چکے اور کچھ اپنے حق کے لئے نعرے لگاتے ہوئے اپنی جان کی بازی ہار گئے مگر اپنا اور اپنے بچوں کا حق بھٹو سرکار سے وصول نہیں کر سکے افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بس ہو جائے گا کا راگ الاپنے کی تنخواہیں وصول کر رہے ہیں مہنگائی کے اس دور میں تنخواہوں میں پورا مہینہ گذارا ہوجائے یہ ہی بڑی بات ہے یہاں تو اپنے فنڈز کے حصول کے لئے بھی سالوں انتظار کرنا پڑرہا ہے کوئی ہے جو ملازمین کی خوشیوں کو پورا کرنے میں مدد کرے

  • عمران خان مسیحا پاکستان   تحریر : نواب فیصل اعوان

    عمران خان مسیحا پاکستان تحریر : نواب فیصل اعوان

    پچھلے ستر سالوں میں پاکستان کو کوٸ ایسا لیڈر نہیں ملا جو پاکستان کی عالمی سطح پہ کھل کر نماٸندگی کرتا .
    ایک کرکٹر اپنی ایک جماعت کی بنیاد رکھتا ہے جس کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا جاتا ہے .
    ایسی جماعت جس کا منشور ہی پاکستان میں انصاف کو عام کرنا ہو ہر نچلے طبقے کیلۓ انصاف کی راہیں کھولنا ہو تاکہ پاکستان میں امیر غریب کے فرق کو ختم کرتے ہوۓ مساوات کو ترجیح دی جاۓ ..
    دنیا ہنستی ہے کہ ایک کرکٹر سیاست میں آگیا ہے بہت زیادہ مذاق اڑایا جاتا ..
    پھر دنیا دیکھتی ہے کہ وہی کرکٹر پاکستان میں شوکت خانم کی بنیاد رکھتا ہے اور لوگ اس کو جی بھر کے چندہ دیتے ہیں اور ایک روز شوکت خانم پاکستان کے ٹاپ کے اسپتالوں میں شامل ہوجاتا ہے جہاں پہ بنیادی سہولیات اچھے سے میسر ہوتی ہیں جہاں غریب عوام کو علاج کی بہتر سہولیات دی جاتی ہیں .
    وہ پاکستان کی سیاست میں ایک نمایاں ستارہ بن جاتا ہے لوگ اس کے قافلے میں جوک در جوک شامل ہوتے جاتے ہیں .
    23 سال کی انتھک کوششوں کے بعد وہ کرکٹر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے .
    اب وہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے واضع اکثریت سے کامیابی کے ساتھ وہ ملک پاکستان کا وزیراعظم بن جاتا ہے ..
    ماٸک میں آواز گونجتی ہے کہ
    لیڈیز اینڈ جینٹلمین زوردار تالیوں کی گونج میں تشریف لا رہے ہیں
    پاکستان کی شان پاکستان کی آن
    ہمارے اور سب کے عمران خان
    ہال تالیوں سے گونج اٹھتا ہے ..
    پھر دنیا دیکھتی ہے کہ یہ تو وہی کرکٹر ہے جس کا ہم نے مذاق بنایا تھا اور آج وہ وزیراعظم پاکستان کے اعلی منصب پہ فاٸز ہوتا ہے .
    پاکستان کو عالمی دنیا میں عمران خان کی وجہ سے خوب پذیراٸ ملتی ہے جو کفر کے ایوانوں میں ہر خطاب پہ
    الحمداللہ سے شروعات کرتا ہے جو دنیا کو پاکستان کا حقیقی چہرہ دکھاتا ہے جو بھارت امریکہ و پاکستان دشمن ممالک کو انکی اوقات دکھاتا ہے .
    جس کے ایک بیان پہ عالمی میڈیا کوریج دیتا ہے جس کے ایک ایک لفظ کو عالمی رہنما بڑے احترام و خاموشی سے سنتے ہیں .
    جس کو عالمی دنیا میں پاکستان کا سب سے زیادہ اثرورسوخ والا سیاستدان گردانا جاتا ہے .
    عمران خان مسلہ کشمیر ہو یا مسلہ فلسطین بھارت و اسراٸیل کو ہر عالمی فورم میں آڑے ہاتھوں لیتا ہے جو کشمیریوں پہ بھارتی جارحیت کے بارے میں عالمی دنیا کو آگاہ کرتا ہے جو فلسطینی بہن بھاٸیوں کی حمایت میں اسراٸیل کو آنکھیں دکھاتا ہے ..
    جو افغانستان میں قیام امن کیلۓ طالبان کو مذاکرات کی میز پہ لاتا ہے ..
    جو پاکستان میں کرپٹ افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لاتا ہے جو پاکستان کی لوٹی ہوٸ دولت پاکستان میں واپس لاتا ہے ریکوریز کراتا ہے جو پاکستان میں مافیا کو ایک آنکھ نہہں بھاتا .
    جو عوام دوست منصوبے لاتا ہے جو ہر تھوڑے وقت کے بعد عوام سے خطاب کرتا ہے اور اپنے منصوبوں کیلۓ عوام کو اعتماد میں لاتا ہے .
    جو غریبوں اورمظلوموں کے مساٸل خود ڈاٸریکٹلی سنتا ہے
    جو پاکستان میں انصاف کے حصول کو ممکن بنانے اور ہر پاکستانی کی چوکھٹ پہ انصاف کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلۓ جدید ایپس متعارف کراتا ہے جو انصاف کے حصول کو ہمارے ایک ٹچ پہ میسر کر دیتا ہے .
    جس کو ہٹانے کیلۓ عالمی سازشیں ہوں یا ملکی دشمن انتشار پھیلاٸیں وہ بڑے تحمل و بردباری سے تمام مساٸل کا حل نکالتے ہوۓ ہر سازش کو ناکام بناتا ہے .
    اس کی عوامی مقبولیت یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ و پاکستان کی غریب عوام اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وہ جہاں قدم رکھتا ہے وہاں عوام کا سیلاب امڈ آتا ہے .
    جو امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر دیتا ہے .
    جو پاکستان کی گرتی معیشت کو اسٹیبل کرتا ہے جو کرنٹ خسارہ سرپلس کرتا ہے جو عوام دوست بجٹ لاتا ہے جو عوام کو ان کی بنیادی سہولیات دینے کیلۓ دن رات ایک کرتا ہے جو کرپشن کا الزام بھی لگنے پہ وزیروں مشیروں کو ہٹا دیتا ہے
    ایسا سیاستدان واللہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے .
    ایسا سیاستدان پاکستان کا مسیحا ہے اور یاد رکھو
    ” جس نے اپنے مسیحا کی قدر نہیں کی وقت نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ".
    @NawabFebi