Baaghi TV

Category: سیاست

  • غلامی کی انتہا ،تحریر: محمد ابراہیم

    غلامی کی انتہا ،تحریر: محمد ابراہیم

    ہمیں سرائیکی نہیں پنجابی وزیر اعلیٰ پنجاب چاہیے۔
    چلو مان لیتے وہ کام نہیں کرتے تو زیادہ تکلیف تو نہیں ہوتی تھی
    جب سرائیکی وزیر اعلی آ گیا تھا تو ہماری خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی کہ
    اب ہمارا وسیب خوشحال ہو گا
    قانون کی پاسداری ہو گی
    سارے لوگ اسی خوشی میں مگن تھے کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان نے سرائیکی دھرتی پر بڑا احسان کیا
    ایک
    ٹرائیبل ایریا سے اٹھا کر پہلی دفعہ خواجہ شیراز محمود کے ونگ میں پاکستان تحریک انصاف کی وجہ سے اپنی زندگی میں صوبائ اسمبلی کا الیکشن جیتنے والا عثمان خان بزدار
    جس کو عمران خان صاحب نے پہاڑ سے اٹھا کر
    پورے پنجاب کا مالک بنا دیا تو سرائیکی وسیب کئ خوشی کی انتہا نہ رہی تھی
    آہستہ آہستہ وزیر اعلی پنجاب بننے کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے
    عثمان خان بزدار کو اپنا وسیم اکرم بنا دیا
    لوگوں نے تنقید کئ یہ ہو گیا وہ ہو گیا
    لیکن عمران خان صاحب نے وسیم اکرم پلس بنا دیا بڑی امیدیں تھی
    لیکن.
    تین سال گزرنے کے بعد کیا ہوا

    ڈیرہ غازی سے تونسہ ہائی وے روڈ اتنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے کہ روزانہ حادثات ہوتے ہیں قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں اب تو یہ روڈ قاتل روڈ کے نام پر مشہور ہوچکا ہے،
    اگر بات کریں صحت کی تو مشیر صحت ہمارے اپنے شہر ڈیرہ غازی کا کا ہے حنیف پتافی لیکن ہسپتالوں میں علاج کی کوئی سہولت نہیں غریب کی بیٹی ،ماں،بہن بچے کو فٹ پاتھ پر جنم دے دیتی ہے لیکن ہسپتال میں ایڈمٹ نہیں کیا جاتا ایسے مشیر صحت کا ہم کیا کریں،
    اور اگر بات کریں امن و امان کی صورتحال کی تو یہاں لادی گینگ کا راج ہے ہمارے مقامی سردار ان گینگز کی پشت پناہی کرتے ہیں وزیراعظم عمران خان نوٹس لیتا ہے لیکن ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی لادی گینگ کے خلاف کوئی کاروائی اعمل میں نہیں لائی گئی ،اخر ہم گلہ کریں تو کس سے کریں وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ہمارے اپنے علاقے کا ہے ،
    دوسری بات ڈیرہ غازی خان کا ورکر بے یارومددگار پڑا ہے
    احسان اللہ خان جو سائیکل پر پورے پاکستان میں تحریک انصاف کے ہر جلسے میں جاتا تھا

    اس کو کرنٹ لگا
    ٹراما سنٹر گیا
    وزیر اعلی پنجاب نے شوباز والا نوٹس لیا کچھ نہ ہوا
    وزیر اعلی نے امداد کا کہا کیا ہوا کچھ نہیں
    احسان اللہ وفات پا گیا
    وہ تو خوش تھا کہ ہمارا وسیب کا وزیر اعلی ہے
    ہمارے دکھ کا مدوا کرے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا
    کیونکہ
    وسیم اکرم پلس نے ٹونس لیا اس کے بعد دوبارہ تک کسی ضلع صدر ڈیرہ غازی خان سے رپورٹ تک نہیں لی
    اور ہمارے ارکان اسمبلی اتنا مصروف ہو گیے وہ نمبر تک نہیں اٹھاتے
    چلو احسان اللہ کی وفات ہو گئ تو اپنا وزیر اعلی پنجاب عثمان خان تھا
    اگر وہ
    ان کے گھر والوں کی کی امداد کا کوئ چیک دے سکتا تھا

    لیکن افسوس کےساتھ کہنا پڑ رہا ہے
    تین سال میں پی ٹی آئی ورکروں کو ایسا لگا کہ ہم اپوزیشن میں ہے کیا ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ کی حکومت ہے
    اس کے ساتھ
    طور خان بزدار
    ان کی حکومت ہے کیونکہ وہ جب چاہتا ہے وزیر اعلی پنجاب سے ٹائم نکال کر مل لیتا ہے
    ادھر تو ورکر کو کسی نے پوچھا تک نہیں
    اس سے بہتر تو یہی تھا کہ
    پنچابی وزیر اعلی ٹھیک تھا
    اب سرائیکی وسیب کا وزیر اعلی نے کیا کیا ہے
    ڈیرہ غازی خان آپ کے سامنے
    ڈیرہ غازی خان سے زمک تک روڈ سامنے ہے
    کس کس سے گلہ کریں
    کیونکہ عمران خان نے جنوبی پنجاب کو وزیر اعلی پنجاب دیا
    وفاقی وزیر ،زرتاج گل
    مشیر صحت، حنیف پتافی
    لائیو سٹاک وزیر محسن لغاری
    اب عمران خان کیا کر سکتا ہے
    ہماری اپنی قسمت

  • سندھ کی بربادی پیپلزپارٹی .تحریر :ماشا نور

    سندھ کی بربادی پیپلزپارٹی .تحریر :ماشا نور

    خاندانی سیاست کے بادشاہ خود کو سمجھنے والے بلاول بھٹو کی قیادت میں آج سندھ پرحکومت کررہی پیپلز پارٹی کراچی والوں کے لیے بڑے بڑے اعلان تو ہیں لیکن صرف زبانی پورے شہر کی حالت دیکھ کر باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کے یہاں رہنے والے کن حالات میں زندگی گزار رہے نوکری سے لے کر ہسپتال میں علاج تک کے لیے دھکے کھانا مقدر بن چکا ہے کرپشن کرکے بڑے بڑے محل بنانے والے انکو بھول جاتے جنکے ووٹ سے آج وہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں پیپلزپارٹی کی کرپشن کی داستانیں تو تاریخ میں لکھی جانی چاہیے تاکہ آنے والوں کو علم ہوسکے کہ ہم نے مسلط بھٹو خاندان نے پاکستان کو کس طرح برباد کیا اور مزید کررہے ہیں،ماضی میں تیزی سے ترقی کرنے والا شہر کراچی آج کچراکنڈی بن چکا ہے پیپلز پارٹی نے کراچی کے ساتھ ہمیشہ سے ہی سوتیلا سلوک رکھا پھر چاہے وہ کراچی میں بسنے والوں کے حقوق ہوں یا میئر کراچی کے اختیارات سندھ حکومت ہمیشہ سے کراچی کو سیاسی طور پر استعمال ضرور کرتی رہی لیکن کراچی کے مسائل پر انکی آنکھ نا کھلی سندھ حکومت آئین پاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اختیارات اور وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھ کر اڑا رہی ہے جبکہ سندھ کی عوام کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں، بالخصوص سندھ کے دارالخلافہ کراچی کو پیپلز پارٹی نے اپنے تعصب کی وجہ سے برباد کر کے رکھ دیا ہے

    پاکستان کو 70 فیصد جبکہ سندھ کو 92 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے نالوں کی صفائی نہیں ہوتی انکی چوڑائی کو بڑھایا نہیں جاتا بارشیں شروع ہونے سے قبل شہر کے نالوں میں مزید کچرا ڈال دیا ہے ایک طرف عوام گٹر کے پانی سے پریشان تو دوسری جانب بارش زحمت بن جاتی،کراچی کے تقریباً ہر علاقے پر قبضہ کرکے ان کو بیچنے والے نااہل، کرپٹ، تعصب زدہ حکمران اینٹی انکروچمنٹ کے نام پر بے بس اور بے گھر عوام کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں پیپلز پارٹی آنے والے وقت میں خود کو پاکستان پر حکومت کرتا دیکھ رہی ہے اللہ ایسا وقت نا لائے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگتے سندھ کو برباد کرنے والے پاکستان پر حکومت کرنے کے قابل نہیں ڈاکو راج کرنے والے نمائندوں سے عوام کو آزادی چائیے مزید اندھیروں میں ڈوبے سندھ کو کون بچائے گا؟ سوچیے ۔۔۔۔۔۔

  • کراچی خاموش کیوں ؟ تحریر :ام امیمہ

    کراچی خاموش کیوں ؟ تحریر :ام امیمہ

    ‏تغافل کی آغوش میں سورہے ہیں
    تمہارے ستم اور میری وفائیں —

    ہر شہر اور صوبے کو وہاں رہنے والے لوگوں سے منسوب کیا جاتا ہے ۔
    جیسے پشاور کو پٹھانوں سےپنجاب کو پنجابیوں سے بلوچستان کو بلوچوں سے۔
    لیکن کراچی سب کا ہے سب کے لئے ماں کی شفقت رکھتا یہ شہر وطن عزیز کے ہر شہری کو ماں کی طرح آغوش میں سمیٹ لیتا ہے !
    لیکن ستم دیکھیے کے وفائیں تقسیم کرتا شہر نہ صرف حکومتی عدم توجہ کا شکار رہا بلکہ ہم یہاں بسنے والے بھی شریک جرم ہیں کبھی نا اہلوں کو ووٹ دے کر تو کبھی ہر نا انصافی پر خاموش رہ کر !
    آخر اہلیان کراچی اس قدر خاموش کیوں رہے؟ ہمیں ٹوٹے پھوٹے روٹ دیئے گئے
    ہم "خاموش ” ہمیں بجلی کے طعطل کا سامنا کرنا پڑا ہم نے خاموشی سے جنریٹر اور یو پی ایس خرید لئے ہمیں مردم شماری میں کم گنا گیا ہم پھر خاموش رہے یہ طویل خاموشی یا تو کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے یا میسر کچھ سہولتوں سے بھی محروم کر سکتی ہے۔
    پہلے معمولی بارشوں سے نصف کراچی زیر آب آتا ہے لیکن گزشتہ سال ہونے والی مون سون کی بارشوں میں پورا کراچی ڈوب چکا تھا اب چاہے وہ پاپوش نگر ہو لیاقت آباد ہو یا ڈیفنس کی گلیاں سب نے

    پانی پہ کشتیاں چلائی ۔
    اب سندھ سرکار مانے یا نہ مانے سعید غنی شارع فیصل کا صاف ستھرا حصہ تلاش کرنے کے بعد
    "سب نارمل ہے” کی رپورٹ دیتے رہیں
    لیکن اہلیان کراچی نے پانی میں کشتیاں چلائی سو حقیقت سے رو شناس ہیں !

    گزشتہ سال کراچی میں مون سون کی بارشوں نے 90 سالہ ریکارڈ توڑا بادلوں اور بارشوں کی یہ سازش جاری رہی تو ریکارڈ بنتے ٹوٹتے رہیں گے۔
    اگر بات آج کی بارش کے حوالے سے کی جائے تو ایک طرف نکاسی آب کے معاملات کچرے سے بھرے نالے حکومت سندھ کی سیاست کو اپنے اندر دفن کر رہے ہیں وہیں بجلی کی بندش نے شہریوں کے لئے باران رحمت کو زحمت بنا دیا کئی علاقوں میں بارش کی پہلی بوند کے ساتھ بجلی لمبی رخصت پر گئی اور رات گئے لوٹی لیکن گلستان جوھَر کے بلاک 18 سمیت مختلف علاقوں میں آدھی رات تک بجلی موجود نہیں تھی
    گلستان جوھَر بلوچستان سجی کے سامنے تنگ آئے شہریوں نے مین روڈ بلاک کر کے احتجاج کیا
    آخر وطن عزیز کا سب سے بڑا شہر جو ملک کی معشیت میں۔ ریڈ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے
    کب تک زبوں حالی کا شکار رہے گا

  • کس سے منصفی چاہیں :تحریر: عرفان محمود گوندل

    کس سے منصفی چاہیں :تحریر: عرفان محمود گوندل

    سینئر ایڈوکیٹ بشیر قاضی صاحب نے ایک بار کہا تھا کہ بندہ دو وجوہات سے دھوکہ کھاتا ہے ۔ پہلی وجہ لالچ اور دوسری وجہ اعتماد
    یعنی آپ جس سے دھوکہ کھاتے آپ اس کی باتوں میں آجاتے ہیں اور زیادہ کے لالچ میں دھوکہ کھا جاتے ہیں
    دوسری وجہ جب کسی پر آپ کو اعتماد ہو ۔ لیکن دوسرے کی نیت میں فتور ہو تو وہ آپ کو دھوکہ دیتا ہے ۔
    یہ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے جب قاضی بشیر ایڈوکیٹ صاحب کے ساتھ کسی محفل میں بیٹھا تھا تو ان کی زبانی سنا تھا ۔
    لیکن آج کا معاشرہ ان دو باتوں کے علاؤہ بھی دھوکے دیتا ہے ۔ بلکہ اب تو دھوکہ دینے کے لیے منظم گروہ بن چکے ہیں ۔
    باقاعدہ ایک ادارہ تشکیل پاتا ہے اور وہ عوام کو چونا لگا کے غائب ہو جاتا ہے ۔
    پھر غائب بھی ایسے ہوتا ہے کہ اس کے آثار بھی گم ہو جاتے ہیں ۔
    اسی طرح مجرمین کو چھپانے غائب کرنے یا عدالتوں سے بری کروانے کے بھی ہزار طریقے ایجاد ہو چکے ہیں ۔
    دو نمبر دستاویزات تیار کرنے ، بیک ڈور چینل سے ڈگریاں لائسنس اور دوسری دستاویزات تیار کروانا ۔۔ جیسے یہ سب کچھ قانونی ہوتا جارہا ہے اور لوگ اسے قبول کررہے ہیں ۔
    قوانین معاشرے تشکیل دیتے ہیں
    آج سے سو سال پہلے کے حالات میں جو قوانین نو آبادیاتی نظام کی صورت میں ہم پر لاگو ہوئے تھے ان کو اس وقت کے معاشرے نے قبول کیا ۔
    آج سے چالیس پچاس سال پہلے تک اسی علاقے کے لوگ ان قوانین کا احترام کرتے تھے

    افسران رشوت نہیں لیتے تھے
    عوام رشوت دینا جرم سمجھتے تھے
    قوانین کا احترام تھا
    اساتذہ ایک ہی طرح کا نصاب پڑھاتے تھے نہ ٹیوشن سینٹر نہ اردو انگریزی الگ نظام تعلیم۔
    ٹریفک قوانین پہ عمل ہوتا تھا،
    عدالتیں سزائیں دیتی تھیں تو وہ قبول کی جاتی تھیں ۔
    مجرم جیل میں ہوتا تھا تو وہ جیل میں ہی رہتا تھا ۔ یہ نہیں ہوتا تھا کہ جعلی مریض بن کے ہسپتال منتقل ہو جاتا تھا ۔ یا رات کو گھر اور دن میں دکھانے کےلیے جیل میں۔
    اشتہاری مجرم واقعی اشتہاری ہوتے تھے نہ کہ پولیس کی حفاظت میں۔
    ملاوٹ کرنا جرم تھا
    ناپ تول پورا تھا
    وغیرہ وغیرہ
    لیکن اب ترتیب الٹ ہے ۔
    موجودہ معاشرے کے لوگوں نے ان قوانین کا جو نوآبادیاتی دور میں نافذ ہوئے تھے مذاق بنا دیا ہے۔
    اب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لیکر قانون پر عمل کرنے والی عوام تک بلکہ خواص تک ان تمام قوانین سے بغاوت کر چکے ہیں۔
    کوئی بھی موجودہ دور کا انسان ان قوانین کو نہ مانتا ہے نہ عمل کرتا ہے نہ عمل کرواتا ہے
    بلکہ جہاں معاشرتی قوانین یا حکومتی نافذ کردہ قوانین آ جائیں یا کوئی ان کے چنگل میں پھنس جائے وہاں شارٹ کٹ کا سہارا لیا جاتا ہے اور قانون پر عمل نہ کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے

    موجودہ قوانین سرکاری ملازمین کی ” اضافی روزی” کا ذریعہ بن چکے ہیں
    عدالتیں
    تھانہ کچہری
    پٹواری
    انکم ٹیکس
    کسٹم
    تعلیم
    حتیٰ کہ ہر ادارہ کے ملازمین کسی بھی پھنس جانے والے شکار کو ضرور قانون کے گندے جالے میں پھنسا کے پیسے نکلواتے ہیں۔
    اور عوام کو بھی معلوم ہے کہ جب تک شارٹ کٹ استعمال نہیں کرنا اس ایک ادارے کے ساتھ ساتھ دوسرے ادارے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا اس لیے قانون سے جان چھڑاؤ اور کچھ دے دلا کے یہیں بات کو ختم کرو ۔
    کیوں نہ ایسے کیا جائے کہ اس روش کو قانونی حیثیت دے دی جائے ؟ یعنی جس طرح معاشرتی تقسیم ہے اسی طرح قوانین بھی تقسیم کر دیے جائیں اور عوام کو آزادی دے دی جائے کہ وہ کون سا طریقہ استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اپنے کام کا کیا ریٹ دینا پسند کریں گے
    یعنی کام کروانے کے سرکاری ریٹ مقرر کر دیے جائیں
    جو جتنے پیسے پھینکے گا اس کو اتنا ہی جلدی رزلٹ ملے گا
    مثلاً عدالت کے باہر ریٹ آویزاں ہوں
    تھانے کے باہر ہر طرح کے کیس کے ریٹ آویزاں ہوں
    ہسپتال کے باہر
    کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں کی دکانوں پہ
    جیسے
    مردہ چکن کے تکے 40روپے فی
    حلال چکن کے تکے 100 روپے فی
    باسی کھانا 200 روپے فی
    رازی کھانا 400 روپے فی
    ہم رشوت تو ویسے بھی چھپ کے دیتے ہیں
    ہم ملاوٹ زدہ کھانے تو ویسے بھی چھپ کے بیچتے ہیں
    ہم ہر ناجائز کام تو ویسے بھی کرتے ہیں
    جب یہ سب چھپ چھپا کے معاشرے میں جائز ہے تو اس کو ویسے ہی قانونی حیثیت دے دی جائے تو کم از کم حکومتی رٹ تو بحال ہو۔ کم از کم یہ معاشرہ انسانوں کا معاشرہ لگے نہ کہ جنگل کا۔

  • خطے کی اچانک بدلتی سکیورٹی صورتحال  اور پاکستان، تحریر  : ملک علی رضا

    خطے کی اچانک بدلتی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان، تحریر : ملک علی رضا

    افغانستان سے امریکی اتحادی فوجوں کے اچانک انخلا کے بعد خطے کی موجودہ سکیورٹی حالات خاصے غیر متزلزل دیکھائی دے رہیں ۔ ایک طرف امریکہ کے بھاگ نے سے افغانستان میںطالبان کی پیش قدمیاں غیر معمولی بڑھ گئی ہیں اور متعدد علاقوں پر قبضہ بھی جما لیا گیا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے موجوہ پیش قدمیاں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں جو اب بج چُکی ہیں ۔ جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان شامل ہے ۔
    حالیہ واقعات کے بعد ، پاکستان میں بھی خاصی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اب کی بار کیا کرنے جا رہا ہے؟ ایک طرف پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو بتا دیا کہ کسی قسم کی جنگ کے لیے پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، دوسری طرف افغان طالبان نے بھی اس چیز کی یقین دہانی کروائی ہے کہ طالبان بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ مہاجرین کا ہے اگر افغان طالبان اسی طرح اپنی کاروائیاں کرتے رہے تو پاکستان میں اچھی خاصی تعداد میں افغان مہاجرین آ سکتے ہیں ا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ افغان مہاجرین کی شکل میں پاکستان کے دشمن اپنے دہشت گرد بھی پاکستان میں بھیجوا سکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی بھارت نے ایسے کام سر انجام دیے ہیں۔
    بھارت کو اس قدر خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ اس کے سارے بنے بنائے منصوبے اب مودی سرکار اور انکی ایجنسی ” را ” کو ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ کندھار کی جانب طالبان کی پیش قدمی نے بھارتی حکام کو خود اپنی ناکامی کے قریب تر ہوتے دیکھائی دے رہا ہے بھارت نے بھی بظاہر اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیہے بھاری تعداد میں اپنے فوجی کابل بلوا لیے ہیں جو کہ بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان کے ساتھ لیس ہیں، پڑوسی ممالک اس چیز پر بھی سوالات کر رہے ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی جب امریکہ سے بھاگ رہے ہیں تو بھارت وہا ں اپنی فوجی طاقت کیوں جمع کر رہا ہے ؟
    اس تمام صورتحال میں ایک چیز جو مجھے لگ رہی ہے کہ امریکہ نے اپنے بھاگنے کے بعد بھارت کو اپنے نائب کے طور وہاں جانے کا کہا تا کہ جو کام بھارت ، پاکستان کیخلاف پہلے چپ کر ، کر رہا تھا اب وہ کام مزید تیزی کے ساتھ ہونگے تا کہ کسی طرح سے پاکستان بیک فٹ پر لایا جائے۔امریکہ بہت پہلے ہی سے بھارتی اثرو رسوخ کو افغانستان میں بڑھا چکا ہے وہ بھِی اس لالچ پر کہ بھارت افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ اور دہشت گرد کاروائیاں با آسانی کر سکے۔ امریکہ کے پیٹ میں خاصہ درد اس وجہ سے بھی ہے کہ اب کی بار پاکستان نے اسے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور وی یہی چاہے گا کہ کسی طرح سے پاکستان سے بدلہ لیا جائے، ایک فیٹف کی صورت میں پہلے ہی پاکستان پر تلوار لٹک رہی ہے وہ بھی کچھ ایسی چیز کا شاخسانہ لگتاہے کہ پاکستان اب اپنی خودمختاری کے فیصلے خود کر رہا ہے اور یورپی ممالک کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں ۔
    اہم بات یہ ہے کہ یہاں افغان حکومت کا کردار بہت ہی عجیب و غریب ہے ، اشرف غنی کابینہ کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ اس معاملے پر وہ کیا کریں اور کس طرح اس معاملے کو ہینڈل کریں۔یہی وجہ سے کہ افغان حکومت کی ناقص پالیسیوں کیوجہ سے افغانستان عوام بھی خاصی پریشان ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان اوروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی افغانستان کے مسلے پر مکمل حکمت عملی کیساتھ عملی میدان میں اُترنے کی ہدایات کی ہوئی ہیں اور دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھی نجی ٹی وی چینلز کو اپنے الگ الگ انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان کے مسلے پر پاکستان کے سکیورٹی ادارے مکمل اور کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھِی خطرے کے پیش نظر مکمل اعتماد کیساتھ ملکمی خودمختاری کی حفاظت کے انتظامات کو یقینی بنایا جائےگا، پاک فوج اور ملکی سکیورٹی کے ادارے ہمہ وقت تیار ہیں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے افغانستان نے نکلنے میں بہت جلد بازی سے کام لیا جس سے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں لیکن پاکستان اس تمام صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے طور پر تمام اقدامات جاری رکھے ہوئےہے۔

    اس وقت ملک کے اند ر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا، حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی قطر کا دورہ کیا اور وہاں افغان طالبان سمیت افغان حکومت اور افغانستان کے سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں قطر کے کردار بھی بات چیت ہوئی ۔ قطر نے پاکستان کی کاوشوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔
    پاکستان کے دوسرے ممالک سے رابطے جارے ہیں اور ر قسم کے اقدامات جو ضروری ہیں وہ کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے افغان مسلے کے حل کو مذاکرات سے حل کرنے پر زور دیتا رہا اور اس معاملے کے مکمل حل تک پاکستان کا یہی موقف رہے گا۔
    یہاں ایک بات اس یقین کیساتھ کہتا چلوں کہ جہاں امریکہ اور اسکی اتحادی فوجیں 20 سالوں میں اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی اور طاقت رکھنے کے بعد بھی اپنا اسر و رسوخ قائم نہ کر سکا اور بھاگ گیا وہاں پاکستان ان خطرات سے نمٹنے کے ہمہ وقت تیار ہے اور انشا اللہ پاکستان ہر قسم کے تمام خطرات سے باحسن طریقہ کار سے نمٹنے کا حوصلہ اور طاقت رکھتا ہے۔

  • ‏ہیلتھ کارڈ خطرے میں ہے . تحریر: زمان لالہ

    ‏ہیلتھ کارڈ خطرے میں ہے . تحریر: زمان لالہ

    ہسپتال لوگ شوق سے نہیں مجبوری میں جاتے ہیں۔
    اپنے پیاروں کے علاج کے لیے جاتے ہیں اور وہاں ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔

    اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ اس وقت کی سب سے بڑی حقیقت ہے آج 70 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہمارے ملک کا ایک عام آدمی تعلیم روٹی کپڑا مکان صحت اور انصاف کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے۔
    خاص کر جب ایک عام آدمی شدید بیماری اور سخت ایمرجسی میں ہسپتال پنہچتا ہے کہ اس کی جان بچا لو کہ میرے پیارے کی سانسیں چلتی رہیں اور اس کو وہاں وہ علاج نہیں ملتا اور ایک عام آدمی کے لیے یہ ایک انتہائی دردناک صورتحال ہوتی ہے اور اس درد و بے بسی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

    عمران خان جب آپ وزیر اعظم نہیں بنے تھے تب آپ بار بار تعلیم صحت اور انصاف کی بات کیا کرتے تھے۔

    آج آپ کے پاس اقتدار ہے طاقت ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ساتھ ہی بہت سے مافیاز چیلنجز  اور کرپٹ سسٹم (جو کہ کام نہیں کرے دیتا) جیسے مسائل بھی ہیں
    لیکن اس سب کے باوجود وزیراعظم عمران خان صاحب یہ آپ ہی کی ذمہداری ہے کہ قوم کو ان مسائل میں سے نکالیں۔

    وزیر اعظم صاحب ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ آپ اپنے وعدوں کو بھولے نہیں اور جیسا کہ آپ نے حال ہی میں بتایا کہ آپ چاہتے ہیں کہ جب آپ کی حکومت کے پانچ سال پورے ہوں تو آپ عوام کو تعلیم اور صحت کے مسائل سے نکال چکے ہوں۔

    ہیلتھ کارڈ کا اجرء ایک قابل تحسین اقدام ہے کہ ایک غریب ادمی کو 10 لاکھ روپے سالانہ فی خاندان ملتا ہے کہ وہ جس ہسپتال میں چاہے اچھے سے اچھا علاج کروائے اور یہ غریب آدمی کے اس خواب کی تعبیر ہے جو وہ ہمیشہ سے دیکھتا آیا۔۔۔

    لیکن۔۔۔جب وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو ان 10 لاکھ روپوں کی قدر اس تیزی سے گرتی ہے کہ کسی سخت بیماری کی صورت میں شائید یہ 10 لاکھ روپے بمشکل 10 دن کا خرچہ ثابت ہوتے ہیں اور اگر 10دن سے زیادہ ہسپتال میں گزرے تو پھر غریب کہاں جائے گا اور کیا ہو گا اسکے علاج کا۔

    اب کچھ ذکر سرکاری نظام صحت کا۔۔۔

    پاکستان کا موجودہ نظام صحت پاکستان کی کُل آبادی میں سے صرف 30 فیصد عوام کو سہولت مہیا کرتا ہے بقایا 70 فیصد آبادی پرائیویٹ ہسپتالوں، چھوٹے بڑے کلینک سے لے کر جعلی ڈاکٹروں اور عطائیوں کے رحم و کرم پر ہے۔
    انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق نظام صحت میں پاکستان 195 ملکوں میں 154 پر ہے۔

    یہ ہے سرکاری نظام صحت کا حال تو یقینا پھر عوام نے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ تو کرنا ہی ہے

    پرائیویٹ ہسپتال مافیا جس میں چھوٹے بڑے ہسپتالوں سے لے کر پرائیویٹ لیبارٹیاں اور فارمیسی شامل ہیں۔
    یہ وہی پرائیویٹ مافیا ہے جس کی عوام سے لوٹ مار، بےرحمی اور شدید ظلم و زیادتی کے باعث اُس وقت کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے سو موٹو نوٹس لیا۔
    ہیومن رائٹس پٹیشن کیس نمبر 10633/2018 
    اور اس مافیا کو لگام ڈالی اور تمام تر عدالتی کاروائی اور
    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹس کے بعد سپریم کورٹ کا تفصیلی حکم نامہ جاری ہوا جس میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کے ریٹس طے کردیئے گئے۔

    لیکن سب سے مزے مزے کی بات کہ کوئی بھی ہرائیویٹ ہسپتال سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق طے کیئے گئے ریٹس پر کام کرنے پر تیار نہیں۔

    جی ہاں۔۔۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مانا ہی نہیں گیا اور
    نہ ہی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن یا پبلک سروس ہیلتھ کمیشن نے اُس حکم نامے پر عملدرآمد کروانے کے لیے یا عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی کی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی دھجیاں اُڑا دی گئیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل نہ کر کے تمام متعلقہ ادارے اور تمام پرائیویٹ ہسپتال شدید ترین عدالتی توہین کے نہ صرف مرتکب ہوئے بلکہ دھڑلے سے توہین عدالت اس وقت بھی جاری ہے۔

    تو اب جبکہ عمران خان نے ہر ایک خاندان کو 10لاکھ روپے سالانہ علاج کی سہولت دے دی ہے تو کیا یہ رقم بےرحم پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کے لیے کافی ہے؟

    جب ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ کی طرف سے طے کئیے گئے ریٹس لاگو نہیں ہوں گے تو یہ ہیلتھ کارڈ بیچارہ کیا کرے گا؟

    ہیلتھ کارڈ کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اس صورت میں ہی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اُس عدالتی حکم نامے پر عملدرامد ہو جو پرائیویٹ ہسپتال مافیا کی لوٹ مار سے عوام کو بچانے کے لیے جاری کیا گیا۔

    نہیں تو اس دس لاکھ روپے کے ہیلتھ کارڈ کی بھی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ پرائیویٹ ہسپتال مافیا ایک بھوکے اور خونخوار مگرمچھ کی طرح منہ کھولے صرف اور صرف ہیلتھ کارڈ ہولڈر کےانتظار میں گھات لگائے بیٹھا ہے۔

    ‎@Zaman_Lalaa

  • ‏پاکستان کی نا دیدہ قوتیں. تحریر:محمد عثمان

    ‏پاکستان کی نا دیدہ قوتیں. تحریر:محمد عثمان

    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو ترقی کی راہ پر دہائیوں سے گامزن ہے اور شاید آنے والی مزید ایک صدی تک ترقی پذیر ہی رہے ترقی یافتہ نہ بن پائے

    اس ملک کی ترقی و سالمیت اور بقاء اس ملک کی عوام اور اس کے اداروں سے مشروط ہے عوام کا کردار صرف الیکشن میں اپنا نمائندہ منتخب کرنا ہوتا ہے جب کہ اداروں نے اپنی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے

    اب الیکشن میں عوام ووٹ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں مگر پچھلی کم از کم 4 دہائیوں سے الیکٹورل پراسیس پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں

    الیکٹورل پراسیس پر انگلیاں کیوں اٹھ رہی ہیں؟ اس کے لیے کون ذمہ دار ہیں؟ کیا یہ صرف دفاعی ادارے کرتے ہیں؟ کیا افواج اس کی ذمہ دار ہے؟

    ان سب کا محرک پاکستان کا وہ ایلیٹ طبقہ ہے جو خود کو پاکستان کا مائی باپ سمجھتا ہے اور یہی وہ نا دیدہ قوتیں ہیں جو پاکستان کی حکومتی مشینری کو کنٹرول کرتی ہیں

    حکومت جب تک مفادات پر پورا اترے کھلی چھٹی اور جب نہ میں منڈھی ہلتی ہے تو پھر حکومتوں کو باور کرانا پڑتا ہے کہ تم یہاں ہمارے تابع ہو ہم جو کہیں گے وہی کرنا ہو گا

    حالیہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا معاملہ اور حکومت کا انکار دیکھ لیں

    پریشر گروپس انہیں نادیدہ قوتوں کی زیرنگرانی بنتے اور پنپتے ہیں ضرورت کے تحت استعمال کیا جاتا ہے اور جب ضرورت ختم ہو جاتی ہے تب ان پریشر گروپس کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے اور بلآخر ختم کر دیئے جاتے ہیں

    یہی نادیدہ قوتیں اپنے مفادات مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہیں کہ کون سا بندہ ہمارے لیے موزوں ترین ہے اور کون ہماری ہاں میں ہاں ملائے گا

    نواز شریف کا 50 روپے کے اسٹام پیپر پر ملک سے باہر جانا، جسٹس قاضی فائز عیسی کو کلین چٹ ملنا ، مریم نواز کا بلاجواز ضمانت پر رہا رہنا ، رانا ثناءاللہ سمیت کئی لیگی رہنماؤں کا بیوروکریٹس کو دھمکیاں دینا مگر کوئی کاروائی نہ ہونا
    یہ ہیں وہ تمام Compromise Games جو نا دیدہ قوتوں کی بدولت ہو رہی ہیں

    جب جب نظریہ ضرورت کا جنم ہوتا ہے تب تب اس ملک میں Compromise Games کا تانتا باندھا جاتا ہے ، اب تک والیم 10 کیوں پبلک نہیں ہوا؟ کیوں کہ بہت سے شرفاء کے نام پوشیدہ ہیں ، اگر نام پبلک ہوں تو بہت سے شرفاء کے کپڑے سر بازار اتر جائیں
    پاکستانی عوام بہت بھولی بھالی اور انتہا درجے کی جذباتی ہے

    عوام کو ہر دور حکومت میں انہیں نادیدہ قوتوں نے جذبات میں بہا کر اس کے پیچھے لگایا اور خود ایک طرف بیٹھ کر تماشہ دیکھا
    حکومت کی بے بسی دیکھ کر ہر ذی شعور یہ ضرور سمجھ سکتا ہے کہ حکومت کسی اور کے کنٹرول میں میں ہے

    جب تک ہم عوام یہ کنٹرول ان نادیدہ قوتوں سے چھین کر اصل حق داروں تک نہیں پہنچاتے تب تک پاکستان کی ترقی ناممکن ہے

    اللہ رحیم و کریم اس ملک کو رہتی دنیا تک آباد رکھے آمین ثمہ آمین
    ‎@one_pak_

  • ماحولیاتی آلودگی اور ہماری ذمہ داری .تحریر: حمزہ بن شکیل

    ماحولیاتی آلودگی اور ہماری ذمہ داری .تحریر: حمزہ بن شکیل

    ماحولیاتی آلودگی کے باعث اس وقت دنیا بھر کو موسمیاتی تبدیلیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر قابو پانے کے لئے ہمیں اجتمائی اور انفرادی سطح پر ہر ممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے…

    ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہر سال کئی لاکھ لوگ مختلف پھیپڑوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور کچھ جان کی بازی ہار جاتے ہیں.

    ماحولیاتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہمارے کارخانوں سے نکلتا وہ زہریلا کیمیکل ہے جو نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پرانی گاڑیوں سے نکلتا دھواں، پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کا بڑھتا استعمال اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی بھی ایک اہم وجہ ہے۔

    زندگی کی بقاء کے لیے آلودگی سے پاک ماحول بہت ضروری ہے۔ جہاں شہریوں کو رہنے کے لیے صحت افزا ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے وہیں ہماری کچھ انفرادی ذمہ داریاں بھی ہیں جنہیں پورا کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہئے وہ پرانی گاڑیوں اور مشینوں پر بین لگاۓ جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں چاہئے کے ہم زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریں اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

    ماضی میں ہمارے جنگلات کو نہایت بیدردی سے کاٹا گیا پر اب وقت ہے کے ہم اپنے ماحول کو پھر سے سر سبز و شاداب بنایں.

    درخت لگانا سنت نبوی اور صدقہ جاریہ ہے۔ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ جو کوئی درخت لگائے، پھر اس کی نگرانی اور حفاظت کرتا رہے، حتیٰ کہ درخت پھل دینا شروع کر دے تو وہ اس شخص کے لیے صدقے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک اور موقع پر حضورﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگائے، اور اس میں سے کوئی انسان، درندہ، پرندہ، یا چوپایہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن مہیا کرتے ہیں بلکہ زمینی کٹاؤ کو روکنے کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں سایہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے اردگرد کا ماحول خوبصورت ہو جاتا ہے اور ہماری صحت پر اس کے مثبت اثرات پڑتے ہیں۔

    آئین آج ہم سب یہ تہیہ کرتے ہیں کہ ہم ایک پودا ضرور لگائیں گے اور اس کے تناور درخت بننے تک اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کو بھی با خوبی نبھائیں گے۔ اس سب سے ماحولیاتی آلودگی میں بہت حد تک کمی آئے گی۔

  • پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ .تحریر:شعیب اسلم

    پاکستان کی ترقی میں اصل رکاوٹ .تحریر:شعیب اسلم

    عالمی طاقتوں کی بھرپور سازشوں اور مخالف اقدامات کے باوجود قیامِ پاکستان ایک معجزہ ہی تھا .
    قیام کے ساتھ ہی مذہبی و سیکولر طبقات کوئی رستہ نہ پاکر اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور انکے فروغ کے لئے متحرک ہوگئے, جس کی وجہ سے پاکستان میں دو نظریاتی انتہاؤں نے جنم لیا
    مذہبی انتہا پسندی
    لبرل اور سیکولر انتہا پسندی
    ہر دو مکاتیبِ فکر کی نظر میں اختلاف رائے رکھنے والا ملعون و مطعون ٹھہرا
    مذہب پر چونکہ ہر کوئی دسترس نہیں رکھتا, اسکے لئے وہ مخصوص طبقے کے محتاج ہیں اس لئے بہت تھوڑے تناسب کے علاوہ اس طبقے کی اکثریت
    کو اپنی تھیوکریسی انداز کی مطلق العنانیت قائم کرنے اور اپنے مفادات کے لئے مخصوص نظریات کی ترویج اور عام آدمی کو اپنے نظریات کے تابع کرنے کا بھرپور موقع مل گیا
    اس کام کو طاقت کے بغیر سرانجام نہیں دیا جاسکتا تھا تو سیاست میں نفوذ کیا گیا
    دوسری طرف سیکولر طبقہ عالمی قوتوں کا مُہرہ بنا
    پرویز ہود بھائی, شرمین عبید چنائے نے سول ایٹمی ری ایکٹرز کی مخالفت میں سندھ ہائی کورٹ سے یہ منصوبہ رکوادیا
    میڈیا کے ذریعے معاشرتی اقدار پر حملہ کیا گیا
    خاندانی نظام میں نقب زنی کی گئی
    ویڈ لاک کے بجائے آزاد تعلقات کے فروغ کیلئے ڈرامے کا رخ ہی بدل دیا
    بہنوئی کا سالی کے ساتھ ,
    سسر کا بہو کے ساتھ تعلق دکھا کر وژوئل امپیکٹ کے ذریعے سلو پوائزن نئی نسل میں انجیکٹ کیا جارہا ہے

    انتہا پسند مذہبی طبقے نے مدرسوں کے ذریعے اپنے اپنے نظریات کے پیروکاروں کی بہت بڑی کھیپ پیدا کی
    تو دوسری جانب لبرل انتہا پسند کالجز اور یونیورسٹیز کے ذریعے قوم کے مستقبل پر حملہ آور ہوئے
    آج پاکستان میں جتنی بھی معاشی, سیاسی, انتظامی اور سب سے بڑھ کر اخلاقی تباہی ہوئی ہے اسکے پیچھے یہی دو قوتیں ہیں

    اعتدال پسند , امت کو جوڑنے والے علماء اور لسانی,صوبائی اور نسلی تعصبات کی حوصلہ شکنی کرنے والے دانشور اور سیاسی رہنما ان دو انتہا پسند طبقات کے تیروں کے رخ پر ہیں.
    جب تک پاکستانی خود کو مسلکی, لسانی صوبائی حدود میں مقید رکھیں گے
    جب تک خود دین نہیں پڑھیں گے, سیکھیں گے
    جب تک نام نہاد کھوکھلی روشن خیالی, سریلے اور جوشیلے نعروں کے سحر میں جکڑے رہیں گے تب تک پاکستان کی ترقی و خوشحالی ایک دیوانے کا خواب ہی رہے گی

    ایک قدم میانہ روی کی طرف ,
    ایک قدم خود سیکھنے کی طرف ,
    ایک قدم سب سے پہلے پاکستان کی طرف ,
    ایک قدم غیر جانبدار اور کریٹیکل تھنکنگ کی طرف
    تو
    قائد کا پاکستان
    اسلام کا قلعہ بننے سے کوئی طاقت روک نہیں سکے گی

  • ‏عالمی مفادات اور پاکستان .تحریر:محمد عثمان

    ‏عالمی مفادات اور پاکستان .تحریر:محمد عثمان

    295 سی پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور کسی بھی دوسرے ملک کو اس کے آئین میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی
    یہ مکمل طور پر پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اس پر کسی دوسرے کو قرار داد لانے کی ضرورت نہیں ہے
    کیا کبھی پاکستان نے بھی دوسرے ممالک کے قوانین میں دخل اندازی کی ہے؟
    یہ حق صرف دوسرے ممالک کو ہے کہ صرف اور صرف پاکستان کو نشانے پر رکھنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے
    پاکستان ایک خود مختار اور آزاد ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر پاور اسلامی ملک ہے جہاں کا نظام حکومت پارلیمانی جمہوری نظام ہے
    جہاں اقلیتی نمائندگی اور اقلیتی آزادی اپنے پورے جوبن سے چکا چوند ہے، اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی اور تحفظ ہے کسی قسم کا کسی بھی اقلیت پر کوئی دباو نہیں
    ان سب عوامل کے باوجود پاکستان سے ایسا برتاو کیوں

    چند وجوہات:
    موجودہ حالات میں پاکستانی معیشت کے اعشاریے مثبت
    ٹیکس نیٹ ورک سے اکانومی بہتری کی طرف گامزن ہے
    پاکستان کی برآمدات میں بڑھتی ہوئی مانگ
    پاکستانی قیادت کا سالہا سال کی بیرونی غلامی سے نجات کا عزم
    اسلامو فوبیا پر پاکستان کا سٹینڈ
    فیٹف FATF کی شرائط و ضوابط کے مطابق پاکستان کی سمت درستی کی جانب مخصوص انداز
    مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق کی علمبرداری
    مغرب سمیت تمام اندرونی اور بیرونی دشمنان کو یہ سب ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ایسے میں چند شر پسندوں کو تخریب کاری کا موقع ملا اور مغرب کو پاکستان پر چڑھ دوڑنے کا موقع ہاتھ لگ گیا
    مغرب سمیت تمام اقوام عالم صرف پاکستان کے پیچھے ہی کیوں پڑی ہیں
    اگر پاکستان مضبوط اور مستحکم ریاست بن گیا تو نیوکلیئر پاور کا حامل اسلامی ملک پوری دنیا میں اسلام کی سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا اور ہماری اجارہ داری ختم ہو جائے گی
    امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور فرانس جیسے ممالک پاکستان کو مقروض رکھ کر اپنے زیرنگیں رکھنا چاہتے ہیں
    تاکہ مفادات کی جنگ میں جب چاہیں پاکستان کو استعمال کرتے رہیں
    بحثیت پاکستانی ہمیں پاکستان کے وسیع تر مفادات کی خاطر اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور سیاسی و مذہبی وابستگیوں کو ترک کر کے وطن کی سلامتی کے لیے سوچنا ہو گا
    وطن ہو گا تو ہم سیاست کر سکیں گے، وطن ہو گا تو ہم خود کو منوا سکیں گے
    اللہ کریم اس ملک کی حفاظت فرمائے آمین ثمہ آمین
    از
    محمد عثمان