Baaghi TV

Category: سیاست

  • ضلع  تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    ضلع تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    1985 میں اٹک اور جہلم کے کحچھ حصوں کو ملاکر بننے والا ضلع چکوال ( تقریبا” 6524 کلومیٹر ) رقبے پر محیط ہے۔ اسکی پانچ تحصیلیں ہیں جن میں چکوال، کلرکہار، چواسیدن شاہ، تلہ گنک اور لاوہ شامل ہیں جبکہ اسکی کل آبادی لگ بھگ 15 لاکھ افراد کے قریب ہے۔ چکوال کو اپ گریڈ کرتے وقت ، تحصیل تلہ گنگ کو ضلع اٹک سے منسلک کیا گیا تھا اور اس وقت اسے ضلع چکوال کا دوسرا سب ڈویژن بنایا گیا تھا۔ پانچ تحصیلوں میں تلہ گنگ سب سے بڑی اور گنجان آبادی پر محیط تحصیل ہے۔ اس میں تقریبا” 17 یونین کونسلز، 80 کے قریب چھوٹے بڑے دیہات / گاوں، 320 کے قریب مختلف تعلیمی ادارے (سکولز ، کالجز) اور 3 پولیس اسٹیشن شامل ہیں ۔
    اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو تحصیل تلہ گنگ لگ بھگ 85 سال تک (1901-1985) تک انتظامی طور پر ضلع اٹک کے زیر اثر رہا ہے اور 1985 میں جب چکوال کو ضلع بنایا گیا تو اس علاقے کو اسکے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ اسی سال یعنی 1985 میں پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات کروائے گئے، تو ان کے ذریعہ ذات، برادری، دولت و حیثیت اور روایتی سیاسیی خاندانوں کو استحکام بخشا گیا۔ اس استحکام کی بدولت خاندانی سیاستدان ہر مرتبہ منتخب ہوکر اسمبلیوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ 1985 سےلیکر تاحال یہاں کی سیاست نظریات کی بجائے مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتی آرہی ہے۔ یہ چند مخصوص لوگ مخصوص سیاسیی جماعتوں کے ٹکٹس پر الیکشن لڑتے ہیں اور اگر پارٹی انکو ٹکٹ نہ دے تو یہ فورا” ہی کسی بھی دوسریسیاسیی جماعت کے ساتھ الحاق کرلیتے ہیں۔ بلفرض متبادل پارٹی بھی ٹکٹ سے محروم رکھے تو یہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

    اسی موورثی سیاسیی پالیسی کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں اپنی سیاسیی اجارداری اور وڈیرہ شاہی قائم کررکھی ہے۔ اپنے لیے حمایتی، مالی سپورٹرز اور موورثی طور پر سیاسیی اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو پال رکھا ہے، جو الیکشنز میں انکے دست راست بنکر انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کرتے ہیں۔ 1985 سے لیکر تاحال تلہ گنگ کی علاقائی سیاست میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ لگ بھگ 36 سال سے یہاں کے وڈیرے اور موورثی سیاستدانوں کی سیاست ایک ہی ڈگر پر چلی آرہی ہے ۔سال 1988 سے لیکر 2018 تک کے الیکشنز تک تمام سیاسیی جماعتوں نے "ضلع تلہ گنگ” کے نعرے کو انتخابی مہمات کے دوران "قومی نعرے” کے طور پر استعمال کرکے عوام کے جائز حق پر ڈاکہ ڈالتے آرہے ہیں۔
    سال 2014 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ڈاریکٹو آرڈر کا ایک عدد ردی کاغذ بنام ضلع تلہ گنگ ایشو کیا تھا اور ہمیشہ کیطرح میاں جی نے بھی یہ چورن بیچ کر عوام کی داد موصول کرلی تھی۔ ابھی چند روز پہلے موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے چئیر مین اور وزیراعظم عمران خان کیطرف سے بھی متعلقہ انتظامیہ کو تحصیل تلہ گنگ کی اپ گریڈیشن کےلیے ایک عدد سرکاری ڈاریکٹو آرڈرز جاری ہوچکا ہے، لیکن تاحال تلہ گنک کی سیاسیی بے یارو مددگار عوام کو اس حوالے سے کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری جانب این اے 65 کی تمام سیاسیی جماعتیں ڈاریکٹو آڈرز کےلیے کریڈیٹ کریڈیٹ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تمام سیاسیی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام ترشی کرتی نظر آرہی ہیں، کوئی پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں لگا ہے تو کوئی عوام کی داد موصول کرکے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ اس تحریک نے اور سیاسیی پوائنٹ کورنگ کی رفتار نے اس وقت مزید زور پکڑ لیا جب حکمران جماعت کی اتحادی ق لیگ کے صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے "ضلع تلہ گنگ” کے حوالے نے بیان دیا کہ ” ضلع تلہ گنگ قابل عمل منصوبہ نہیں ہے” ۔ اس مایوس کن بیان کے آتے ہی سوشل میڈیا پر سوشل ورکرز اور سیاسیی جماعتوں کیطرف سے مسلم لیگ ق پر تنقید کے تیروں کی بارش شروع ہوگئی، تحریک انصاف، نون لیگ اور باقی سیاسیی جماعتوں نے حافظ عمار یاسر کے اس مایوس کن بیان کی شدید الفاظ میں مزاحمت کی اور انکا کہنا تھا کہ اگر "ضلع تلہ گنگ” قابل عمل منصوبہ نہیں ہے تو اپنی الیکشن مہمات کے دوران یہ چورن کیوں بیچا گیا ہے ؟ عوام سے کیوں جھوٹ بولا گیا؟ عوام کی آنکھوں میں کیوں دھول جھونکی گئی؟ عوام کو کیوں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر ان سے ووٹ حاصل کیے گئے ؟ آخر کب تک تلہ گنگ کی عوام کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں گی ؟ کب تک عوام اپنے مسائل کی پوٹلیاں اٹھا کر چکوال جاتی رہے گی ؟ کب تک عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کےلیے گھنٹوں لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا ؟ کب تک عوام کو بنیادی ضروریات کے ضروری کاغذات بنوانے کےلیے گھنٹوں روڈ پر ٹرانسپورٹ کےلیے زلیل و رسو ا ہونا پڑے گا؟

    اس وقت سوشل میڈیا پر "تلہ گنگ کو ضلع بناو” تحریک زور و شور سے جاری ہے۔ ابھی تک سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان، سوشل ورکرز، سیاسیی و سماجی کارکن، صحافی برادری، اساتذہ کرام، ڈاکٹرز الغرض تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں اور نہ صرف ضلعی سطح پر اس تحریک کو چلایا جارہا ہے بلکہ بیرون ملک سے بھی کثیر تعداد میں نوجوانوں نے اس تحریک کو جوائن کرلیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم نوجوانوں کیطرف سے "ضلع تلہ گنگ” کےلیے اسپیشل دعائیں بھی کی گئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر موجود تمام افراد کا کہنا ہے کہ اب یہ تحریک "ضلع تلہ گنگ ” کے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ایسے ہی چلے گی اور کسی قسم کی سیاسیی یا حکومتی ہیرا پھیری میں نہیں آیا جائے گا۔ تمام افراد کا ایک ہی نعرہ، "بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا” بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا”۔ تحریک کے شرکاء کا کہنا ہے کہ اس بار ہمیں سیاسیی پارٹی بازیوں سے بالا تر ہوکر "ضلع تلہ گنگ” کےلیے کوشش کرنی ہے ، تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر، صرف مشترکہ مفاد کو اپنانا ہے، نون، ش، ق، پی ٹی آئی سب کو بھول کر عوامی مفاد کو سامنے رکھنا ہے۔
    ہماری وزیراعظم پاکستان عمران خان ، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر سے گزارش ہے کہ خداراہ اب تلہ گنگیوں کے حال پر رحم کریں اور نصف صدی سے چلی آرہی تحصیل کو "ضلع تلہ گنگ” بنایا جایا تاکہ عوام کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوسکے۔

  • ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    ‏تبدیلی اور ہم .تحریر : ملک عمان سرفراز

    اس دنیا میں رہنے والے انسان کس نے کسی جدوجہد میں مصروف ہے ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے ارد گرد کا ماحول بہتر سے بہترین ہو اس کو ہر سہولت ملے جس کا وہ خواہش مند ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے انسانی جسم مشینوں کی طرح کام میں مصروف ہیں۔ اس کی وجہ تبدیلی ہے وہ مثبت تبدیلی جو کہ انسن کو اس معاشرے میں ہر وہ حقوق مہیا کرے جس کا وہ خواہشمند ہے۔
    مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہم اپنے مرتبے کی شان بڑھانے میں اس قدر مگن ہے کہ وہ روایات بھلا چکے جو ہمیں اپنے اباؤ اجداد سےملیں۔
    بے شک اس دنیا میں محنت کرنے والا انسان کامیاب ہے محنت سے کسی چیز کے حصول کے لیے وقت درکار ہے مگر ہم تو اس قدر جلد باذ ہیں کہ ہمیں جو چیز پسند آ جائے ہم اس کا فوری طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے ہمیں چاہے کسی کے حقوق کا گلا گھونٹنا پرے یا کرپشن کرنی پڑے۔
    کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب ہم خود دوسروں کے حقوق کھانے میں شرم محسوس نہیں کرتے کہاں سے آئے گی یہ تبدیلی جب اس ملک کی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہر وہ کام سرانجام دے رہی ہے جس سے ہماری اخلاقی اقدار شرمندہ ہیں۔
    اس وطن کے حالات ویسے کے ویسے ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ سیاست دان کرپٹ ہیں کیا ہم خود کرپٹ نہیں ہیں رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے کے تقدس کو بھلا بیٹھے ہیں جہاں دنیا بھر میں اس مہینے کے پیش نظر تمام اشیاء خردنوش سستی ہوتی ہیں اور یہاں حاجی صاحب دوگنا منافع کما رہے ہیں ۔
    اور پھر ہم بات کرتے ہیں باہر کے ممالک کی کہ وہاں
    میں سہولیات بہترین ہہں ہمارے وطن میں کیوں نہیں؟؟ تو یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے وہ غیر مسلم ہو کر بھی کرپشن ،چوری دھوکہ دہی کو جرم سمجھتے ہیں اور ہم مسلمان ہو کر بھی یہ سب کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے ۔

    اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ریاست مدینہ ملے تو کہاں سے ملے گی وہ ریاست جب ہم اس ریاست کے ایک بھی اصول کو اپنانے کو تیار نہیں۔

    سوچئے اور غور سے سوچئے سیاستدانوں کے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں کہ وہ پل بھر میں سب تبدیل کر دیں گے اصل تبدیلی تو انفرادی طور پر ہر شخص نے لانی ہے اپنے رویے سے اپنے مظاہرے سے۔

    تبدیلی کوئی پھل نہیں جس کو درخت سے توڑا اور کھا لیا تبدیلی کا مطلب اپنے رویوں کو مثبت راستے کی طرف گامزن کرنا ہے تاکہ کسی کی ذات کو نقصان نہ ہو اور یہ معاشرہ پر امن معاشرہ بن سکے

  • گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

    وزیراعظم پاکستان عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً 3 سال پورے ہونے کو ہیں ۔ اگر پوری ایمانداری سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان ان حالات سے بہت بہتر ہے جن حالات میں عمران خان صاحب کو حکومت ملی تھی۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، ایف اے ٹی ایف اور ائی ایم ایف کا شدید دباؤ اور پابندیاں جکڑے کھڑی تھیں۔ سابقہ حکمران ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت ملک کی یہ حالت کر کے گئے تھے اور بہت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے قریبی حلقہ احباب میں کہتے تھے کہ عمران خان کو ایسا ملک دے کر جا رہے ہیں جہاں وہ ناکام ہو کر خود ہی بھاگ جائے گا اور پھر ہم تجربہ کاروں کو منتیں کر کے واپس لایا جائے گا کہ ملک سنبھالو اور پھر ہم اپنی شرائط پر آئیں گے۔ لیکن یہ لوگ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نیتوں کے حساب سے مرادیں پوری کرتی ہے۔ جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے نامراد رکھتی ہے اور جس کی نیت ٹھیک ہو اسے بامراد اور کامیاب ؤ کامران کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی، عمران خان صاحب نے تو شروع میں چھٹی تک نہیں کی اور دن رات محنت سے پاکستان کو ٹریک پر واپس لانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی۔ پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر کیا، کرونا کی عالمی وبا کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیابی سے ہینڈل کیا کہ دنیا ہماری مثالیں دینے پر مجبور ہو گئی۔ ہمسایہ ملک بھارت میں جو حال ہوا سب کے سامنے ہے لیکن ہماری قوم کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح ہم نے دنیا کو دی۔ خارجہ پالیسی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں، ملکی مفاد کو مقدم رکھا ۔ ازلی دشمن انڈیا کو نہ صرف دنیا میں ننگا کیا بلکہ تنہا بھی کر دیا۔ دشمن کے رات کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ حملے کا دن کی روشنی میں کامیاب جواب دیا۔ ایشیا میں پاکستان، چائینہ، روس، ترکی اور ایران کے ساتھ گروپ بنا کر انڈیا کو تنہا کر دیا ۔ فلسطین کے مسلئہ پر کامیاب سفارتکاری سے جنگ بندی کروائی، اپنا ہم خیال گروپ بنایا اور دنیا کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے بیباک طریقے سے پیش کیا ، امید ہے انڈیا جلد یا بدیر پاکستان اور ہمارے ہم خیال گروپ کی بات ماننے ہے مجبور ہو جائے گا۔ اسلامو فوبیا کو دنیا بھر میں وزیراعظم عمران خان نے اجاگر کیا اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ہمارا ایسا پوائنٹ ہے جس پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پہلی بار حقائق پر مبنی جراتمندانہ جواب کے ساتھ زمینی اڈے دینے سے انکار کے ساتھ امریکی لڑائی اپنے ملک یا اپنی افواج کے ذریعے لڑنے سے انکار کر دیا۔ سابقہ حکمران پاکستان کو فیفٹ کی گرے لسٹ میں پھینک کر گئے تھے ، تحریک انصاف کی حکومت نے عملی اقدامات اور موثر قانون سازی کرتے ہوئے 27 میں سے 26 پوائینٹس پر عمل کیا اور بہت جلد 27 ویں ہوائینٹ پر بھی عمل کر کے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے قانون اسمبلی سے منظور کروایا اور جلد سینٹ سے منظور ی کے بعد 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے ۔ لانگ ٹرم پالیسیز بنائی گئیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اچھے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ کرپشن کو اتنے اچھے طریقے سے ایکسپوز کیا کہ اب عوام میں قابلِ قبول یہ بد فعل ایک گالی بن چکا ہے۔ بجلی کے نئے منصوبے کئی گنا کم قیمت پر شروع کیے گئے، اس وقت پاکستان میں چھوٹے بڑے 9 ڈیمز زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل پر نہ صرف بجلی انتہائی سستی اور وافر دستیاب ہو گی بلکہ ہمسایہ ممالک کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔ ، گیس کم نرخوں پر خریدی گئی، انڈسٹری کو مراعات دیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری جو آخری سانسیں لے رہی تھی کو زندہ کیا اور اب نہ صرف انڈسٹری اپنی فل کیپیسٹی پر چل رہی ہے بلکہ ایک سال کے ایڈوانس آرڈرز موجود ہیں۔ کرونا وائرس میں دنیا کی معیشت تباہ ہوئی لیکن پاکستان نے اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا۔ جو پاکستان کل تک ماسک نہیں بنا سکتا تھا وہ اس وقت دنیا کو وینٹی لیٹر بیچ رہا ہے۔ کرونا ویکسین پاکستان میں بن رہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان جدید جنگی جہاز جے ایف تھنڈر بنا کر بیچنا شروع ہو گیا ہے ۔ تعمیرات، سیاحت سمندری راستے اور بندرگاہوں کے شعبوں کو صنعت کا درجہ دیا۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو مفت علاج کی جدید سہولیات کے پی کے میں مکمل اور پنجاب میں جزوی طور پر مل رہی ہیں جو جلد پوری قوم کو دستیاب ہوں گی۔ کسان کو پہلی دفعہ گنے اور گندم کے بہترین ریٹ ملے اور وقت پر ادائیگی ہوئی، اب کسان کارڈ کے ذریعے زرعی آلات، کھادیں ، ادویات اور بیج دستیاب ہیں ۔ ان سب اقدامات کے رزلٹ جلد ہی عوام کے سامنے آ جائیں گے اور اس کا ثمر ملک ؤ قوم کو ملنا شروع ہو جائے گا۔ اور بھی بہت سے ایسے قابل ذکر اقدامات ہیں جو ملک کی تاریخ بدل دیں گے لیکن آج میں محترم وزیراعظم عمران خان صاحب کی توجہ کچھ ایسے کاموں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو ان کی فوری توجہ کے متمنی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان صاحب گورننس ملک کا بہت بڑا مسلہ ہے، گورننس میں پورے ملک اور خصوصاً پنجاب میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سفید پوش طبقے کے لیے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے جتنا ریلیف دینے کی کوشش کی ، سبسڈی دی، یوٹیلیٹی اسٹورز پر پیکج دیے ، ٹیکسوں میں چھوٹ دی لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی۔ مجھے احساس ہے کہ آپ کا مقابلہ مختلف مافیاز سے ہے جو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ایسے طریقوں سے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں لیکن آپ کے پاس اختیار ہے، حکومتی مشینری ہے ، اس کا صحیح استعمال ان مافیاز کو لگام دے سکتا ہے۔ حکومت کے پاس ہر محکمے میں لوگ موجود ہیں لیکن یہ لوگ اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتے ، ان کو ٹھیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرائیس کنٹرول کمیٹیاں اور ادارے ملک بھر میں موجود ہیں لیکن برائے نام ۔ ان کو ایکٹو کرنا ، ان میں موجود کالی بھیڑوں کو فارغ کرنا اور ایسے اہل اور ایماندار افسروں کا آگے لانا ہی واحد حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے سی سی پی او لاہور کی تعیناتی اور آئی جی پنجاب پولیس کی ٹرانسفر کے وقت بلکل ٹھیک کہا تھا کہ لوگ ہم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ کتنے آئی جی تبدیل کیے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ عوام کو کتنی سکیورٹی دی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ لوگ یہ نہیں پوچھیں گے کہ مافیاز کا کیا رول تھا بلکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہمیں ریلیف کیا ملا۔ ایسا صرف گورننس بہتر بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جو آفیسر صحیح کام نہیں کرتے انہیں ہٹا کر نئے آفیسر تعینات کریں۔ بیوروکریسی میں بہت سے آفیسرز ایسے ہیں جنہیں کبھی ڈھنگ کی پوسٹنگ ملی ہی نہیں ، آپ انہیں اعتماد دے کر اعلی عہدوں پر لگائیں اور رزلٹ دیکھیں ۔ نئ چیزیں ضرور کریں لیکن موجود سسٹم کو کامیابی سے استعمال کر کے آپ بہت سے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی وافر اور ارزان قیمت پر مہیا کرنا آپ کا منصبی فرض اور ذمہ داری بھی ہے ۔ اس کے لئے آپ صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی جوابدہ ہیں ۔

    جب حکومت نے لاہور شہر کی سڑکوں کے ٹریفک سگنلز پر کیمرے نصب کیے اور ریڈ لائیٹ جمپ کرنے والوں کی گاڑی کی نمبر پلیٹ تصویر کے ساتھ آٹو میٹک سسٹم کے تحت جرمانے شروع کیے تو عوام ٹریفک لائٹ کی پابندی کرنا شروع ہو گئی تھی اور ٹریفک کا نظام کافی بہتر ہو گیا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سسٹم کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ اب پھر سے سڑکوں پر وہی طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ ایک سسٹم جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کروڑوں لگا کر بنایا گیا تھا اسے کیا ہوا ؟ کیوں اس کا ڈر عوام کے سر سے اتر گیا ؟ ایک بنے بنائے سسٹم کو کس نے خراب یا بند کر دیا ؟ دنیا بھر میں ٹریفک سگنلز پر کوئی ٹریفک پولیس اہلکار نہیں ہوتا لیکن کسی کی مجال نہیں کہ رات کے پچھلے پہر خالی سڑک پر بھی ریڈ لائیٹ جمپ کر جائے۔ وزہر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب کے لاہور میں اگر کوئی سڑک ٹوٹ جائے تو مہینوں اس کی چھوٹی سی مرمت نہیں ہوتی، آہستہ آہستہ وہاں گڑھا پڑ جاتا ہے جو کہ جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے لیکن سڑک کی معمولی مرمت کی بجائے وہاں پر مہینوں بعد نئی سڑک بنانی پڑتی ہے۔ وزیراعظم صاحب یہ چھوٹے چھوٹے کام بڑا ایمپیکٹ ڈالتے ہیں۔ ان سے ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ریاست مدینہ کہنے سے نہیں عملی مظاہرے سے بنتی ہے۔ آپ ریاست مدینہ کے داعی ہیں آپ کو اپنا سسٹم بہتر کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان کی عوام جو جاہل اور ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ کرپٹس کو دیکھ دیکھ کر اپنی حیثیت میں خود بھی کرپٹ ہو چکی ہے اور کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کی فلاسفی پر یقین رکھتی ہے، ان کو گمراہ کرنا جھوٹے اور چور اپوزیشن لیڈرز اور کرپٹ مافیاز کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن جو عوام آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اگر وہ بھی دل برداشتہ ہو گئے تو اس پاک دھرتی کے ساتھ بہت زیادتی ہو گی۔ خدارا دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ گورننس کی طرف بھی توجہ دیں ۔ اگر آپ کی ٹیم میں سے کچھ لوگ ڈلیور نہیں کر پا رہے تو ضد اور انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے انہیں ریپلیس کریں۔ اپنے اردگرد کالی بھیڑوں کو پہچان کر فارغ کریں، اہل لوگوں کو آگے لائیں۔ جہاں ضرورت ہے قانون سازی کریں لیکن ان مسائل سے پہلو تہی نہ کریں ۔ قوم کو یقین ہے کہ آپ ایماندار اور ارادے کے پکے ہیں۔ ہار مارنے والے نہیں۔ آپ نے نئی نسل کو اپنی مسلسل جدو جہد کے دوران جو سکھایا ہے اس کے مطابق نوجوانوں کی ذہن سازی ہو چکی ہے۔ ان کو آپ سے بہت توقعات ہیں ۔ خدارا ان کی امیدوں پر پانی نہ پھرنے دینا ۔ اگر یہ مایوس ہو گئے تو ان کا سسٹم اور انسانیت سے اعتماد اٹھ جائے گا جس کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا جو کہ ملک دشمنوں کی خواہش اور ایجنڈا بھی ہے۔
    اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناصر ہو

  • ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں؟؟ تحریر: بختاور گیلانی

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا مقصد جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ تھا وہی اس کے پیچھےایک نظریہ بھی تھا۔ کہ اگر ہم بات کریں دو قومی نظریہ کی تو اس سے مراد یہی تھا کہ برصغیر پاک و ہند میں رہنے والے مسلمان اور ہندو مذہبی ثقافتی لحاظ سے مختلف عقائد رکھتے ہیں اور ان کی رقم رسومات منانے کا انداز بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ برصغیر سے پاکستان اور ہندوستان کے علیحدگی کی بنیادی وجہ دو قومی نظریہ تھی۔
    پاکستان اور ہندوستان کے درمیان علیحدگی کی دیوار نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے بلکہ یہ دو نظریہ کی بنیاد پر ہے پاکستان کو الگ ریاست بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ایسی ریاست ہو جہاں اسلامی قوانین کا بآسانی نفاز ممکن ہو جہاں کی ثقافت میں اسلامی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہو
    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں انسان ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا وہی یہاں کے بسنے والے لوگ اپنی تہذیب وثقافت کو بھلا بیٹھے ۔
    اگر بات کریں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تو ہوا یوں کے یہاں کے لوگ اپنی ثقافت بھلا بیٹھے اور دوسری ثقافت سے متاثر ہے اور جس ثقافت سے متاثر ہے اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
    یہاں کے لوگوں سے اگر من پسند ہیرو کا پوچھیں تو سرحد پار کے لوگوں کا نام سامنے آئے گا تو کیا ہم سرحد پار کی تہذیب میں اتنی دلچسپی لینے لگے ہیں کہ اپنی تہذیب کو بھلا بیٹھے ہیں۔
    بھلا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
    ثریا نے آسماں سے زمین پر ہم کو دے مارا

    یہ کیسی تہذیب ہے جس میں لڑکی کی سر پر دوبٹہ نہ لینے کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے کیا یہ ہمارے دو قومی نظریہ کی بنیاد تھی ۔
    یہ تو ماڈرن زمانے میں نہیں بلکہ جہالت کے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں اسلام نے زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ حیات مہیا کیا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کو سمجھنے سے قاصرہیں۔
    اگر ہم نے دوسروں کی تہذیبوں سے متاثر ہونا تھا تو کہ الگ وطن حاصل کرنے کا کیا مقصد تھا؟؟ اور اگر بات کریں عورت کے لباس کی تو شرم و حیا نہ ہونے کے برابر ہے۔
    اگر کوئی اس معاملے پر بات کرے تو اس کی بات کا مذاق بنا دیا جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم اس معاملے پر بات کی تو سب نے ان کی باتوں کا مذاق بنانا شروع کر دیا ۔
    خدارا سوچیے اس وطن کو الگ ریاست بنانے کا مقصد اور اس نظریے کو جو ہمارا نظریہ ہے

  • پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    پاکستان بحرانات کا شکار، تحریر: نوید شیخ

    ایسا لگتا ہے کہ ملک میں نوٹوں کی گڈیوں سے وزارتوں اور عہدے باٹنے کا سلسلہ بھی شروع گیا ہے ۔ کیونکہ سیاست کے اپنے اصول ہیں ۔ بیڈ گورننس ، سیاسی نا تجربہ کاری اور روز روز کی تنقید سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے سوچ لیا ہے کہ باقی ماندہ دو سالوں میں لوگوں کو نوازا جائے ، گلے دور کیے جائیں اور دوست بنایا جائے ۔ کیونکہ کہیں اگلا الیکشن اگر اپنے بل بوتے پر لڑنا پڑ گیا تو آسان کچھ نہیں مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔

    ۔ جہاں نوازشریف صاحب ایک بار پھر خاموش ہوگئے ہیں۔ پر ان کی کمی شہباز شریف پوری کرنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ چھوٹا بھائی جو کچھ بھی کرتا ہے۔ بڑے بھائی کے کہنے پر ہی کرتا ہے۔ اب شہباز شریف نے اپنے روایتی انداز دیکھانا شروع کر دیے ہیں ۔ یعنی مصالحت کی بجائے جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے سردھڑ کی بازی لگانی کی تیاری شروع کر دی ہے ۔ شہباز شریف نے چاروں صوبائی صدور اور عہدیداروں کو حکومت کے خلاف متحرک ہونے کی ہدایات کے ساتھ لیگی نمائندوں کو پارلیمنٹ اور دیگر اسمبلیوں میں حکومت کے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی ہدایت کر دی ہے۔ اب ن لیگ لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور حکومت کی ناکام پالیسیوں کو ہدف تنقید بنائی گئ ۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں پر احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کو بھی ہدف تنقید بنایا جائے گا ۔ جبکہ جو سب سے اہم چیزہے وہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پارٹی سطح پر عید کے بعد ورکرز کنونشن اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جائے۔ ساتھ ہی منتخب لیگی ارکان کو ہفتے میں کم از کم دو دن اپنے حلقوں میں موجود رہنے کی بھی سختی سے ہدایت کر دی ہے۔ آسان الفاظ میں اگلے الیکشن کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ عمران حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ شہباز صاحب کو عدالت سے مبینہ منی لانڈرنگ کی وجہ سے آئندہ دو مہینوں کے دوران سزا دلوا کر رہے گئیں ۔ اس میں شہزاد اکبر پیش پیش ہیں ۔ جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ آصف اور ’’سافٹ وئیر اپ ڈیٹ‘‘والی بات کی ہیڈ لائنز بنیں تو جو دبے لفظوں میں نئے انتخابات کا مطالبہ ہوا وہ بھی اہم ہے ۔ ۔ اگلے انتخابات میں ابھی بڑا وقت ہے لیکن اس بار سیاسی جوڑ توڑ قبل از وقت شروع ہو گیا ہے۔ وہ لوگ جو مڈ ٹرم انتخابات کا مطالبہ کرتے تھے اب بروقت انتخابات کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ لوگ عمران خان کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی بھی بات کر رہے ہیں۔

    ۔ کوئی ٹھوس خبر تو نہیں مگر چند اشارے ایسے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کچھ نیا ہونے والا ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وہاں کے بااثر سیاسی خاندانوں سے معاملات طے کر رہی ہے۔ اور یہ تاثر دیا جا رہا ہےکہ سندھ میں ساری سیاسی قوتیں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک دوسرے سے تعاون کریں گی ۔ اور یوں بھرپور پلاننگ کے ساتھ اگلی بار سندھ سے پیپلز پارٹی کا پتہ کاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کچھ تو دعوی کر رہے کہ شاید پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم اور ق لیگ کی طرح مرکز یا صوبے میں حکومتی جماعت کا اتحادی بننا پڑے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ق کے ساتھ حکومت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے حال ہی میں مسلم لیگ ق کی لیڈر شپ سے ملاقات بھی کی ہے۔ اور آج تو وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں چودھری مونس الہیٰ کو وفاقی وزیر بنا کر ان کی دیرینہ خواہش کو پورا کر دیا گیا ہے ۔ اب کہنے والے تو کہہ رہے ہیں اور اسکا کریڈیٹ بھی زرداری کو ہی دے رہے ہیں کہ حکومت کو ڈر پڑ گیا ہے کہ اگلی بار ق لیگ پیپلز پارٹی سے ہاتھ ملا کر الیکشن لڑے گی تو سوچا یہ گیا کہ ق لیگ جو مانگتی ہے دے دو ۔ آخر الیکشن کا سوال ہے ۔

    ۔ ساتھ ہی تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی پنجاب سے مسلم لیگ ن کا ووٹ توڑنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں جبکہ میاں شہباز شریف اپنے ووٹ بینک کو بچانے اور اپنے الیکٹ ایبل محفوظ بنانے کے لیے تگ ودو میں ہیں۔ بلاول بھٹو کا امریکہ جانا بھی ہمارے سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اسے آئندہ انتخابات میں امریکہ سے آشیرباد اور ڈیل قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں اس وقت اپنے آپ کو قابل قبول بنانے کی دوڑ جاری ہے البتہ اس دوڑ میں پیپلزپارٹی کی دال گلتی تو نظر آتی ہے لیکن مسلم لیگ ن بارے کہا جا رہا ہے کہ شاید انکی قبولیت کا ابھی وقت نہیں آیا۔ حکومت نے بھی ابھی سے آئیندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ حالیہ بجٹ میں انتخابی تیاریوں کی جھلک نظر آتی ہے تاہم اگلا بجٹ خالص انتخابی بجٹ ہو گا۔ اب دیکھیں آذاد کشمیر میں کیا ہوتا ہے تاہم سیاسی پنڈتوں کی پشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ آزاد کشمیر میں بھی پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت بننے جارہی ہے مگر سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حالیہ حکومت کے باعث وہاں مسلم لیگ ن کی پوزیشن مضبوط ہے اور آج کل مریم نواز بڑے بڑے جلسے کرنے میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے جلسوں کے مقابلے میں تحریک انصاف ابھی تک کشمیر میں کوئی بڑا جلسہ نہیں کر پائی۔ تحریک انصاف جوڑ توڑ کی سیاسی مینوفیکچرنگ میں مصروف ہے۔

    ۔ ہاں البتہ جو وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور نوٹوں کی تھدیاں بانٹتے پکڑ گئے ۔اس سے تحریک انصاف کی مشہوری میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ پر آج چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے وفاقی وزیر علی امین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے کر اس مشہوری کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔

    ۔ اس سیاسی کھیل میں عوامی مسائل کا نظر انداز ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی اسی جذباتی انداز میں تقریریں کرتے کرتے اصل سیاست جس کا مقصد عوامی فلاح و بہبود ہے اسے بھلا دیتے ہیں۔ ان دنوں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں صرف اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔

    ۔ کوئی پسند کرے یا نہیں ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے نمودار ہونے کے چند ماہ بعد ہی ہوئے انتقال پر ملال نے عمران حکومت کو بے پناہ اعتماد بخشا ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنے کے بجائے اب ایک دوسرے کو شرمندہ کررہی ہیں۔

    ۔ آج بھی اپوزیشن اپنے اپنے کیسز پر عدالت میں پیش ہوتی ہے لیکن کبھی حکومت کے ساتھ عام آدمی کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عام آدمی اگر گیس، پانی بجلی کے بل جمع کرواتا ہے تو کھانے کے لیے پیسے نہیں بچتے۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور ادویات کے لیے ادھار کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

    ۔ کراچی سے خیبر تک اور گلگت سے گوادر تک کوئی شخص ایسا نہیں جو مہنگائی سے تنگ نہ ہو۔ آج سب ایک ہی آواز میں حکومت کو کوس رہے ہیں۔

    ۔ پاکستان اس وقت معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ نئے وفاقی بجٹ کے اثرات عوام کے لیے کرونا کی چوتھی لہر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں ہیں۔ دراصل آئی ایم ایف کی مرضی اور حکم نے ہمارے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بیروزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسی اذیتوں کا حل نکالنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

    ۔ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر بیانات جاری کرنا بہت آسان ہے۔ بازاروں میں جا کر حالات کا جائزہ لینا اور عوام کا سامنا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت مہںگائی تو ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے کم نہیں کر سکتی لیکن اسے قوت خرید بڑھانے سے تو کسی نے نہیں روکا۔ حکومت ماضی میں پھنسی رہے گی تو نہ مہنگائی رکے گی نہ قوت خرید بڑھے گی اس کے نتیجے میں صرف عام آدمی پسے گا، کیا اس تبدیلی کے لیے لوگوں نے بلے پر مہر لگائی تھی۔

  • عمران خان امریکہ کے نشانے پر. تحریر:رانا عزیر

    عمران خان امریکہ کے نشانے پر. تحریر:رانا عزیر

    1974 میں ذولفقار علی بھٹو کی زیر صدارت ایک اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی گئ، جس میں اس وقت کے نامور حکمرانوں شاہ فیصل، کرنل قذافی، صدام حسین سمیت کثیر تعداد میں سربراہوں نے شرکت کی تھی۔ اور اس وقت سے ہی یہ پوری دنیا کو پیغام دے دیا گیا کہ اب مسلم بلاک کی بنیاد رکھ دی گئ ہے اور یہ اس وقت سے ہی امریکہ کے لیے درد سر بنا ہوا تھا کہ کہیں مسلمان اکھٹے ہوکر کہیں ہمارا قلعہ ہی قمع نہ کردیں۔
    1974 میں عالمی طور پر 2 سپر پاور تھیں جو ایک دوسرے کے ہمیشہ کپڑے اتارتی رہیں اور اس وقت مسلم ممالک امریکہ کے کچھ قریب تھے. لیکن امریکہ نے ہمیشہ پوری دنیا میں دہشتگردی کی لیکن اسے کوئی کچھ نہ کہہ سکا۔
    اسلامی سربراہی کانفرنس میں جتنے بھی مسلم حکمرانوں نے شرکت کی تھی امریکہ نے چن چن کر قتل کروایا، سب سے پہلے ذولفقار علی بھٹو کو امریکہ نے قتل کروایا اور اس کا اعتراف خود سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے کیا ” ہم نے دباؤ میں آکر ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی”
    سعودی بادشاہ شاہ فیصل کو اس کے اپنے ہی بھتیجے نے قتل کروادیا اس کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ نکلا، کرنل قذافی اور صدام حسین کو بھی امریکہ نے قتل کروادیا، کیونکہ یہ تمام لیڈرز مسلمانوں کے لیے ایک الگ بلاک تشکیل دے رہے تھے جو ان کے مفادات کیلئے عالمی فورم پر آواز اٹھاتے۔ تو امریکہ نے ان سب کو ہی ختم کردیا۔ امریکی صحافی نے یہ کہا تھا کہ بے نظیر کو قتل کروانے میں سی آئی کا ہاتھ تھا۔

    جب بھٹو کو پھانسی دی گئی اس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں جو غلطیاں کی اس کا خمیازہ ہمیں آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ نے روس کو شکست دینے کیلئے پاکستان کی مدد لی اور روس کو تاریخی شکست ہوئی اور اسی جنگ میں امریکہ نے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا اور مفاد پرست یہ سپرپاور فائدے اٹھا کر سائیڈ پر ہوگیا۔
    اب یہی صورتحال اب دوبارہ خطے میں پیدا ہوگئی اور ایک بڑا لیڈر قائداعظم کی شکل میں موجود ہے اور امریکہ کا پلان بھی وہی نظر آرہا ہے جو پہلے اسکا بھٹو اور دیگر لیڈرز کیلئے تھا۔ اب امریکہ بری طرح افغانستان میں پھنس چکا ہے اور اسے خود ہی نہیں سمجھ آرہی کہ وہ کیا کرے اور بھارت بھی اس پورے خطے میں ذلیل و رسوا ہوگیا ہے۔ اور امریکہ اس وقت عمران خان کا جانی دشمن بنا ہوا ہے اور تاریخ گواہ ہے جو امریکہ کے آگے مسلم لیڈر کھڑا ہوا اس قتل کروا دیا گیا، امریکہ اب پاکستان کو بیک ڈور چینلز کے ذریعے آفرز کررہا ہے اور اگر پاکستان اس کے شکنجے میں آگیا تو پھر بعد میں ہمیشہ کی طرح امریکہ دھمکیاں ہی دے گا
    عمران خان نے امریکہ کو جب صاف جواب دیا تو امریکہ اب بھارت کے ساتھ ملکر پاکستان کو چاروں اطراف سے گھیرنے کی کوشش کررہا ہے اور عمران خان کی جان اس وقت خطرے میں ہے، ہمارے گمنام ہیروز اس وقت پورے ملک میں دہشتگردوں کے خلاف آپریش کررہے ہیں اور دشمن کو نیست و نابود کررہے ہیں۔

  • "مہنگائی اور عام عوام ” .تحریر: فجر علی

    "مہنگائی اور عام عوام ” .تحریر: فجر علی

    ہم پاکستانی قوم بھی بڑی عجیب ہیں ہمیشہ وہ چیز کو دیکھتے اور جو ہمارے سامنے چل رہی ہو جیسے کے میاں محمد نواز شریف کا دور حکومت ۔
    نواز شریف وزیراعظم بنا تو صوبہ پنجاب کا ویزاعلی اپنے بھائی کو بنایا شہباز شریف نے پنجاب چونکہ پاکستان کا صوبہ پنجاب 122 تحصیلوں میں تقسیم ہے، جو 36 اضلاع کا حصہ ہیں۔
    ان 36 میں سے جناب نے صرف لاہور شہر پر پیسہ لگایا اور وہ نظر آیا،ان میں بہت سے میگا پراجیکٹس کئے جن میں سرفہرست لاہور رنگ روڈ،پاکستان لیور اینڈ کڈنی ٹرانسپلاٹ، شہباز شریف ہسپتال اورینج لائن ٹرین میٹرو بس سروس، سپیڈو بس سروس وغیرہ اور ایسے اور بہت سے پراجیکٹس ابھی مکمل ہونے ہی تھے کہ ان دونوں بھائیوں کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا ۔ الیکشن ہوئے تو جناب دونوں بھائیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تب ان دونوں بھائیوں کو غریب عوام کا درد ستانے لگا ، لیکن بات یہاں پر اس پیسے کی کرتی ہوں جو دونوں بھائیوں نے عوام کا خون نچوڑ کر کمایا ۔

    شہباز شریف صاحب کو ایک کیس میں نیب نے کھنگالا تو معلوم ہوا کہ صاف پانی کے پلانٹس میں صاحب نے بہت کرپشن کی اس پر جب ان سے کسی صحافی نے عدالت کے باہر کہا کہ آپ صاف پانی کے منصوبے جگہ جگہ کیوں نہیں لگاتے جیسے آپ دوسرے منصوبوں پر کام کررہے صاف پانی کا منصوبہ بھی شہریوں کو مہیا کردیں اس پر شہباز شریف صاحب کا تاریخی جواب ” پانی کا منصوبہ زیریں زمین ہوتا لوگوں کو نظر نہیں آتا اور جب تک لوگوں کو کوئی چیز نظر نہیں آئے گی لوگ آپکو منتخب کیسے کریں گے ۔

    عمران خان کی حکومت یوں تو بہت سے بحرانوں کا شکار رہی لیکن سب سے بڑا چیلنج جو اس حکومت کو بھگتنا پڑرہا ہے وہ ہے مہنگائی ، عام عوام کی ضروت کی چیزیں اب انکی پہنچ سے دور ہوتی دیکھائی دے رہی ، عمران خان کو شب اچھا ہے کی رپورٹ دینے والوں پر شاباشی بنتی ہے جو غریب کا درد عمران خان تک نہیں پہنچا رہے ۔ پھر اگر یہاں ہم شہباز شریف کی مثال دیں تو برا نہ ہوگا کیونکہ کم از کم وہ اگر عوام کو بیوقوف بناتے تھے لیکن عوام ان کے گن بھی تو گاتی تھی اب عدلیہ نے چونکہ نواز شریف کو نااہل قرار دیا تب بھی یہ عوام نواز شریف کو اگلا وزیراعظم دیکھنا چاہتی صرف اسلئے کیونکہ مہنگائی انہوں نے بھی کی لیکن ایسے ڈائریکٹ بم عوام پر نہیں پھوڑا تھا ۔ایک غریب بندے کو چالیس ہزار کا بجلی کا بل تما دیتے اور پھر کہتے غریب عوام دوست بجٹ جب کہ وہ بیچارہ تو وہیں آدھا مرگیا ہوگا جب اس کو اتنا زیادہ بل بھیجا اور اسکی کل آمدنی ہی دو سے تین ہزار ۔ موجودہ حکومت نے خواہ بہت بڑے بڑے منصوبے پاکستان کیلئے کئے لیکن خدارا ان منصوبوں کی وجہ سے ان غریب عوام کا نچوڑ نا نکالیں جنہیں پتہ بھی نہیں کہ گوادر پورٹ یا پھر سیاحت، بلین ٹری جیسی چیزیں ہیں کیا

  • اِنسانی زہر .تحریر:تحریر مبین خان

    اِنسانی زہر .تحریر:تحریر مبین خان

    سوچا کہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اس پر کچھ لکھوں
    سانپ کی زہر اس کے منہ میں ہوتی ہے جسے وہ اپنے دانتوں کی مدد سے مخالف پر استعمال کرتا ہے کچھ سانپ اپنی زہر مخالف پر فوار کی صورت میں پھینکتے ہیں
    بچھو اپنی زہر اپنی دم میں محفوظ رکھتا ہے جہاں سے یہ اپنی دم کے آخری کنارے پر نوک کے ذریعے مخالف پر وار کرتا ہے
    ایک مثل مشہور ہے کہ
    سانپ سلائے اور بچھو رولائے
    بچھو کے کاٹے کے درد کی شدت ناقابل برداشت ہوتی ہے
    دنیا میں ایک بچھو (ڈیتھ سٹاکر) جو قد و قامت میں انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے زیر انتہائی قیمتی ہے۔ اس کی ایک کلو زہر کی قیمت پاکستانی اربوں روپوں میں ہے
    کہا جاتا ہے کہ ہر دو جانوروں کی زہر تریاق کا کام بھی کرتی ہے۔
    جو بنی نوع انسان کو بچانے کے کام بھی آتی ہیں
    زہر بھی ہے تریاق بھی ہے

    لیکن انسانی زہر ہمیشہ اپنا اثر منفی ہی رکھتی ہے اس کا اثر کبھی مثبت نہیں رہا
    یعنی وہ تریاق کبھی بھی نہ بن سکی۔
    بنی نوع انسان نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی روح کو زخمی کیا وہ روح جو دراصل اللّٰہ پاک کا امر(حکم) ہے
    جب یہ بداعمالیاں اس حد تک پہنچ گئیں کہ روح زخمی ہو گئی تو پھر روح کی سوچوں کا محور جسے ضمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ متاثر ہونے لگا۔اور رفتہ رفتہ اپنی زندگی کھونے لگا۔ حتیٰ کہ ضمیر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
    اور ضمیر گلنے اڑنے لگتا ہے

    اس کے تعفن سے بے زار ہو کر روح اس بدبو کو سوچوں کے زریعے انسانی جسم کے اہم حصے دماغ تک پہنچا دیتی ہے۔
    اور پھر دماغ اپنی استطاعت کے مطابق مختلف مخارج(زبان، آنکھ،ہاتھ ، پاؤں وغیرہ)کے زریعے اس ضمیر کے تعفن زدہ مواد کو دوسرے انسانوں اور دیگر مخلوقات کی طرف روانہ کر دیتا ہے
    جس سے مختلف روحانی بیماریاں جنم لیتی ہیں
    ان بیماریوں میں سرفہرست نفرت اور منافقت عروج پاتی ہیں
    المختصر یہ زہر پہلے خود اسی انسان کو بد اعمالیوں کی شکل میں نقصان پہنچا کر دوسرں کو متاثر کرتی ہے
    اللّٰہ پاک ہمیں نیک اور صالح اعمال کی توفیق عطا فرمائیں آمین
    یہ میری زاتی آراء ہے
    متفق ہونا ضروری نہیں

  • غلامی کی انتہا ،تحریر: محمد ابراہیم

    غلامی کی انتہا ،تحریر: محمد ابراہیم

    ہمیں سرائیکی نہیں پنجابی وزیر اعلیٰ پنجاب چاہیے۔
    چلو مان لیتے وہ کام نہیں کرتے تو زیادہ تکلیف تو نہیں ہوتی تھی
    جب سرائیکی وزیر اعلی آ گیا تھا تو ہماری خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی کہ
    اب ہمارا وسیب خوشحال ہو گا
    قانون کی پاسداری ہو گی
    سارے لوگ اسی خوشی میں مگن تھے کہ عمران خان وزیراعظم پاکستان نے سرائیکی دھرتی پر بڑا احسان کیا
    ایک
    ٹرائیبل ایریا سے اٹھا کر پہلی دفعہ خواجہ شیراز محمود کے ونگ میں پاکستان تحریک انصاف کی وجہ سے اپنی زندگی میں صوبائ اسمبلی کا الیکشن جیتنے والا عثمان خان بزدار
    جس کو عمران خان صاحب نے پہاڑ سے اٹھا کر
    پورے پنجاب کا مالک بنا دیا تو سرائیکی وسیب کئ خوشی کی انتہا نہ رہی تھی
    آہستہ آہستہ وزیر اعلی پنجاب بننے کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے
    عثمان خان بزدار کو اپنا وسیم اکرم بنا دیا
    لوگوں نے تنقید کئ یہ ہو گیا وہ ہو گیا
    لیکن عمران خان صاحب نے وسیم اکرم پلس بنا دیا بڑی امیدیں تھی
    لیکن.
    تین سال گزرنے کے بعد کیا ہوا

    ڈیرہ غازی سے تونسہ ہائی وے روڈ اتنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے کہ روزانہ حادثات ہوتے ہیں قیمتی جانیں چلی جاتی ہیں اب تو یہ روڈ قاتل روڈ کے نام پر مشہور ہوچکا ہے،
    اگر بات کریں صحت کی تو مشیر صحت ہمارے اپنے شہر ڈیرہ غازی کا کا ہے حنیف پتافی لیکن ہسپتالوں میں علاج کی کوئی سہولت نہیں غریب کی بیٹی ،ماں،بہن بچے کو فٹ پاتھ پر جنم دے دیتی ہے لیکن ہسپتال میں ایڈمٹ نہیں کیا جاتا ایسے مشیر صحت کا ہم کیا کریں،
    اور اگر بات کریں امن و امان کی صورتحال کی تو یہاں لادی گینگ کا راج ہے ہمارے مقامی سردار ان گینگز کی پشت پناہی کرتے ہیں وزیراعظم عمران خان نوٹس لیتا ہے لیکن ابھی تک ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی لادی گینگ کے خلاف کوئی کاروائی اعمل میں نہیں لائی گئی ،اخر ہم گلہ کریں تو کس سے کریں وزیر اعلیٰ پنجاب بھی ہمارے اپنے علاقے کا ہے ،
    دوسری بات ڈیرہ غازی خان کا ورکر بے یارومددگار پڑا ہے
    احسان اللہ خان جو سائیکل پر پورے پاکستان میں تحریک انصاف کے ہر جلسے میں جاتا تھا

    اس کو کرنٹ لگا
    ٹراما سنٹر گیا
    وزیر اعلی پنجاب نے شوباز والا نوٹس لیا کچھ نہ ہوا
    وزیر اعلی نے امداد کا کہا کیا ہوا کچھ نہیں
    احسان اللہ وفات پا گیا
    وہ تو خوش تھا کہ ہمارا وسیب کا وزیر اعلی ہے
    ہمارے دکھ کا مدوا کرے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا
    کیونکہ
    وسیم اکرم پلس نے ٹونس لیا اس کے بعد دوبارہ تک کسی ضلع صدر ڈیرہ غازی خان سے رپورٹ تک نہیں لی
    اور ہمارے ارکان اسمبلی اتنا مصروف ہو گیے وہ نمبر تک نہیں اٹھاتے
    چلو احسان اللہ کی وفات ہو گئ تو اپنا وزیر اعلی پنجاب عثمان خان تھا
    اگر وہ
    ان کے گھر والوں کی کی امداد کا کوئ چیک دے سکتا تھا

    لیکن افسوس کےساتھ کہنا پڑ رہا ہے
    تین سال میں پی ٹی آئی ورکروں کو ایسا لگا کہ ہم اپوزیشن میں ہے کیا ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ کی حکومت ہے
    اس کے ساتھ
    طور خان بزدار
    ان کی حکومت ہے کیونکہ وہ جب چاہتا ہے وزیر اعلی پنجاب سے ٹائم نکال کر مل لیتا ہے
    ادھر تو ورکر کو کسی نے پوچھا تک نہیں
    اس سے بہتر تو یہی تھا کہ
    پنچابی وزیر اعلی ٹھیک تھا
    اب سرائیکی وسیب کا وزیر اعلی نے کیا کیا ہے
    ڈیرہ غازی خان آپ کے سامنے
    ڈیرہ غازی خان سے زمک تک روڈ سامنے ہے
    کس کس سے گلہ کریں
    کیونکہ عمران خان نے جنوبی پنجاب کو وزیر اعلی پنجاب دیا
    وفاقی وزیر ،زرتاج گل
    مشیر صحت، حنیف پتافی
    لائیو سٹاک وزیر محسن لغاری
    اب عمران خان کیا کر سکتا ہے
    ہماری اپنی قسمت

  • سندھ کی بربادی پیپلزپارٹی .تحریر :ماشا نور

    سندھ کی بربادی پیپلزپارٹی .تحریر :ماشا نور

    خاندانی سیاست کے بادشاہ خود کو سمجھنے والے بلاول بھٹو کی قیادت میں آج سندھ پرحکومت کررہی پیپلز پارٹی کراچی والوں کے لیے بڑے بڑے اعلان تو ہیں لیکن صرف زبانی پورے شہر کی حالت دیکھ کر باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کے یہاں رہنے والے کن حالات میں زندگی گزار رہے نوکری سے لے کر ہسپتال میں علاج تک کے لیے دھکے کھانا مقدر بن چکا ہے کرپشن کرکے بڑے بڑے محل بنانے والے انکو بھول جاتے جنکے ووٹ سے آج وہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں پیپلزپارٹی کی کرپشن کی داستانیں تو تاریخ میں لکھی جانی چاہیے تاکہ آنے والوں کو علم ہوسکے کہ ہم نے مسلط بھٹو خاندان نے پاکستان کو کس طرح برباد کیا اور مزید کررہے ہیں،ماضی میں تیزی سے ترقی کرنے والا شہر کراچی آج کچراکنڈی بن چکا ہے پیپلز پارٹی نے کراچی کے ساتھ ہمیشہ سے ہی سوتیلا سلوک رکھا پھر چاہے وہ کراچی میں بسنے والوں کے حقوق ہوں یا میئر کراچی کے اختیارات سندھ حکومت ہمیشہ سے کراچی کو سیاسی طور پر استعمال ضرور کرتی رہی لیکن کراچی کے مسائل پر انکی آنکھ نا کھلی سندھ حکومت آئین پاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اختیارات اور وسائل کو ذاتی جاگیر سمجھ کر اڑا رہی ہے جبکہ سندھ کی عوام کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں، بالخصوص سندھ کے دارالخلافہ کراچی کو پیپلز پارٹی نے اپنے تعصب کی وجہ سے برباد کر کے رکھ دیا ہے

    پاکستان کو 70 فیصد جبکہ سندھ کو 92 فیصد ریونیو دینے والے شہر کے نالوں کی صفائی نہیں ہوتی انکی چوڑائی کو بڑھایا نہیں جاتا بارشیں شروع ہونے سے قبل شہر کے نالوں میں مزید کچرا ڈال دیا ہے ایک طرف عوام گٹر کے پانی سے پریشان تو دوسری جانب بارش زحمت بن جاتی،کراچی کے تقریباً ہر علاقے پر قبضہ کرکے ان کو بیچنے والے نااہل، کرپٹ، تعصب زدہ حکمران اینٹی انکروچمنٹ کے نام پر بے بس اور بے گھر عوام کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں پیپلز پارٹی آنے والے وقت میں خود کو پاکستان پر حکومت کرتا دیکھ رہی ہے اللہ ایسا وقت نا لائے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگتے سندھ کو برباد کرنے والے پاکستان پر حکومت کرنے کے قابل نہیں ڈاکو راج کرنے والے نمائندوں سے عوام کو آزادی چائیے مزید اندھیروں میں ڈوبے سندھ کو کون بچائے گا؟ سوچیے ۔۔۔۔۔۔