Baaghi TV

Category: سیاست

  • سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    سیاست اوراسلام . تحریر: ملک منیب محمود

    اسلام میں سیاست اُس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگوں میں بھلائی ہو اورفسادات دُورہوجائیں. جبکہ اہل مغرب حکومت کرنے کو سیاست کہتے ہیں ۔اہل مغرب کی نظر میں حکومت کرنے کے 2 ہی اصول ہیں، ڈکٹیٹر شپ اورجمہوریت.

    کچھ اسلامی ممالک میں بادشاہی نظام بھی متعارف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام اورسیاست کا تعلق کیا ہے؟
    کیا اسلام نے کوئی سیاست کے اصول بتائے ہیں کیا، احدیث اس بارے میں کیا کہتی ہے اورقرآن میں سیاست کے بارے میں کیا کیا حکم ہے؟
    قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیتیں موجود ہیں جو سیاست کے مفہوم کو واضح کرتی ہیں، بلکہ قرآن کا بیشتر حصّہ سیاست پرمشتمل ہے، مثلاً عدل و انصاف، امربالمعروف و نہی عن المنکر، مظلوموں سے اظہارِہمدردی وحمایت، ظالم اورظلم سے نفرت اور اس کے علاوہ انبیا ٴاوراولیأ کرام کا اندازِسیاست بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔

    وقال لہم نبیّہم انّ اللّٰہ قد بعث لکم طالوت ملکاً، قالوا انّی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یوت سعة من المال قال انّ اللّٰہ اصطفہ علیکم وزادہ بسطة فی العلم والجسم واللّٰہ یوتی ملکہ من یشآء واللّٰہ واسع علیم “ (سورہٴ بقرہ، آیت 247 )

    ترجمہ : ”ان کے پیغمبر نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو حاکم مقررکیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ کس طرح حکومت کریں گے۔ ان کے پاس تو مال کی فراوانی نہیں ہے۔ ان سے زیادہ تو ہم ہی حقدارحکومت ہیں۔ نبی نے جواب دیا کہ انہیں اللہ نے تمہارے لیے منتخب کیا ہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے اوراللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دے دیتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورصاحب علم بھی “

    اس آیت سے ان لوگوں کے سیاسی فلسفہ کی نفی ہوتی ہے جو سیاست مدارکے لیے مال کی فراوانی وغیرہ کو معیارقراردیتے ہیں، سیاستمدار کے لیے ذاتی طور پر” غنی “ ہونا کا فی نہیں ہے بلکہ اسے عالم وشجاع ہونا چاہیے۔ اِس آیت کو ہم ایک اورزاویہ سے دیکھے تو جوآج سے 1000 سال پہلے کلیسائی نظام تھا اُسکے مطابق ریاست کا سربراہ حُکم الٰہی کی طرف سے ہوتا ہے مطلب یہ کہ اُنکے مطابق ریاست کا سربراہا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔

    اب حدیث کا بھی مطالعہ کرتے ہیں کہ حدیث کیا کہتی ہے اِس بارے میں
    حدیث میں سیاست کے معنی : عدل و انصاف اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔
    جبکہ علمأ کی نظرمیں : رسول اللہ ﷺ اورخلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و روش، استعمار سے جنگ، مفاصد سے روکنا، نصیحت کرنا سیاست ہے۔

    قرآن میں سیاست کے معنی : حاکم کا لوگوں کے درمیان میں حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا، امربالمعروف و نہی عن المنکرکرنا اوررشوت وغیرہ کو ممنوع قراردینا ہے. آج سے 14 سو سال پہلے اگر ہم حکومت کرنے کے اصول دیکھے جوھمارے نبی صلی علیہ وآلہ وسلّم نے اپنائے، جہاں امیرغریب، طاقتوراورکمزورسب برابرتھے. انصاف کا حصول اتنا ہی آسان تھا جتنا آج کے دور میں عدلیہ کا پیسوں کی خاطربک جانا ہے۔

    حضرت عمر فاروق کا زمانہ آج بھی مثل راہ ہے، وہ ایسا دور تھا جب ایک انسان کا بھوکا سوجانا بھی حکمران کو ہلا کر رکھ دیتا تھا۔ سب کوبنیادی حق حاصل تھا تمام مذاھب کے لوگ اُس ایک پرچم کے نیچے آباد تھے۔ آج کی سیاست سے موازنہ کیا جائے تومکمل طورپرتبدیل ہوچکا ہے۔ آج کے زمانہ انصاف كا حصول مشکل ترین فعل ہے۔ لوگ اپنے بنیادی حقوقِ ملنے سے قاصر ہیں۔ امیرغریب کا فرق ہرجگہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی ہم اگر اُن بنیادی اصول پرعمل کرنے لگ جائے تو اسلامی ریاست ممکن ہے اوراُس لحاظ سے اسلام اورسیاست کا تعلق بہت گہرا ہے۔

    @MMUNEEBPTI

  • پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    پنجاب حکومت کا عوام دوست بجٹ . تحریر:شعیب قدیر ملک

    وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ایسے وقت میں عوام دوست بجٹ پیش کرکے مخالفین کے منہ بند کردیئے ہیں جب ملک میں کرونا کی عالمی وبا نے معاشی طور پر ایک عام آدمی سے اس کی قوت استطا عت چھین لی ہے بزدار حکومت کی طرف سے یہ بجٹ 2,653ارب روپے کا بجٹ تھا گو اپوزیشن نے حسب روایت لفظوں کی گولہ باری اور الزام تراشی میں کوئی کسراُٹھا نہ رکھی لیکن یہ ایک حقیقت پسندانہ اور متوازن بجٹ تھا جس میں کسی بھی شعبے پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا بلکہ 23شعبوں کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا جنوبی پنجاب کے عوام جن کے ذہن میں ایک تصور نے جنم لیا کہ وہ تخت لاہور کے قیدی ہیں اور ان کی قسمت کے فیصلے بھی تخت لاہور ہی کرتا ہے عثمان بزدار کی حکومت میں اس تصور کو یکسر ختم کردیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے ایک بھاری رقم جو 189ارب روپے ہے علیحدہ بجٹ کی شکل میں مختص کردی گئی عوام کی مالی مشکلات تو کسی دور میں بھی کم کرنے کی کاوش نہیں کی گئی، اس سے بڑی اور قباحت کیا ہوسکتی ہے کہ جانے والی حکومت کی ناقص حکمرانی کے باعث 56ارب روپے کے واجب الادا چیکس تھے جس کے ساتھ 41ارب روپے کے اوور ڈرافٹس اور اعلیٰ خدمت کا دھنڈورا پیٹنے والوں نے 8000سے زائد نامکمل سکیمیں آنے والی حکومت کیلئے چھوڑیں زراعت کیلئے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جنہوں نے ایک ایسے شعبے کی تباہی کی بنیاد رکھی جسے وطن عزیز میں سب سے بڑی صنعت قرار دیا جاسکتا ہے اور پاکستان کے 79فیصد افراد کا معاشی انحصار اس شعبے کے ساتھ وابستہ ہے اس شعبے کیلئے پالیسیاں بنانے والے ایسے افراد تھے جن کا زراعت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا اسی طرح سابقہ ادوار میں تعلیم کے شعبہ میں بھی ایسی پالیسیاں متعارف کرائی گئیں جس سے عام فرد وطن پر تعلیم کے دروازے بند ہو گئے کووڈ 19کی وبا نے بھی وطن عزیز میں اپنے خونی پنجے گاڑھ لئے کوئی اور حکومت ہوتی تو شاید حالات اس کے کنٹرول میں نہ رہتے مگر موجودہ حکومت نے اپنی بہترین حکمت عملی کے باعث پاکستان کو ان تین ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا جنہوں نے کووڈ پر قابو پانے میں پہلے تین ممالک کا اعزاز پایا اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے 106ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا جس میں کاروباری طبقہ کیلئے روزگار کی بحالی کیلئے 56ارب روپے کا تاریخی ٹیکس ریلیف دیا گیا اور یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تعلیم اور صحت کیلے 205ارب 50کروڑ کی کثیر رقم مختص کی گئی ہے سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن موجودہ دور میں حالیہ بجٹ میں ان کاموں کیلئے 66فیصد زائد رقم کا ضافہ کیا گیا ہے پانچ شعبہ جات جو انتہائی اہم ہیں جن میں صنعت، زراعت،لائیو سٹاک،ٹورازم،جنگلات کے شعبہ جات شامل ہیں کیلئے پہلی بار 57ارب 90کروڑ کی رقم مختص کی گئی یہ اعجاز بھی عثمان بزدار کی حکومت کو ہی جاتا ہے صحت کا شعبہ ہمیشہ سے نظر انداز ہوتا رہا ہے لیکن جنوبی پنجاب خاص طور پر جہاں عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں پنجاب کی 11کروڑ آبادی کی ہیلتھ انشورنس ایک طرف صرف ڈیرہ غازیخان ڈویژن کیلئے ہر وہ فرد جو شناختی کارڈ کا حامل ہے کیلئے ”صحت انصاف“کارڈ کی سہولت رکھی گئی اور ساہیوال و ڈیرہ غازیخان میں قومی شناختی کارڈ کوہی صحت انصاف کارڈ کا درجہ دے دیا گیا جنوبی پنجاب جہاں انسانیت بنیادی سہولیات کیلئے ترستی ہے حالیہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے عوام کیلئے اور انسانی ترقی پر خرچ کرنے کیلئے کثیر رقم مختص کی گئی، صحت تعلیم اور انفراسٹرکچر کے میدان میں بزدار حکومت انقلاب برپا کرنے جا رہی ہے، پہلی مرتبہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔اگر ہم دیکھیں تو اپوزیشن نے حکومت کے عوام دوست اقدامات پر بھی واویلہ پر ہی اکتفا کیا

    نااہل اپوزیشن کی راہیں جدا جدا ہوچکیہیں اسمبلی میں بھی یہ متفق نہ ہوسکے، ان کو صرف اپنی لوٹ مار اور چوری چکاری بچانے کی فکر رہی، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدانے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر میں عوامی نمائندوں اور عوام کے سامنے بدلتے ترقی کرتے پھلتے پھولتے پنجاب کا نقشہ فارمولا اور روڈ میپ پیش کیا گگیا اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ڈگری یافتہ ایک نسل روزگار کیلئے سرکاری دفاترز کی دہلیز پر دھکے کھا رہی ہے سردار عثمان بزدار کا تعلق چونکہ جنوبی پنجاب سے تھا اس لئے انہوں نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کی محرومی کا احساس کیا اور صوبائی ملازمتوں میں 32 فیصد کوٹہ مختص کیا۔ میانوالی اوربھکر کو شامل کرنے پرکوٹہ 35 فیصد کردیا جائے گا۔یہ سردار عثمان بزدار کا عہداورعزم تھاکہ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے ازالے کو مشن بنا لیا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سابق حکمرانوں نے محروم علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ لاہور میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے دور دراز علاقوں کے مسائل سے یکسر لا علم رہے جب کہ عثمان بزدار نے لاہور میں بیٹھ کر پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کی۔وہ ہر ضلع اورہر تحصیل میں جاکرمسائل اورضروریات کا جائزہ لیتے رہے۔ انہوں نے دیگر علاقوں کی طرح پسماندہ علاقوں میں بھی فلاح عامہ کی سکیموں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ حالیہ بجٹ سے ایک بات ثابت ہوئی کہ پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کی 71 سالہ محرومیوں کے خاتمہ کیلئے وسائل کا رخ جنوبی پنجاب کیطرف موڑ ا جس سے پسماندگی کا خاتمہ اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی کاوش سے جنوبی پنجاب میں ترقی کی نئی راہیں ہموارہونے لگی ہیں۔ جہاں تک جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بہاولپور کا معاملہ ہے تو سیکٹریٹ وہی بنے گا،سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے اورالزامات برائے الزامات کی سیاست میں عوامی خدمت نہیں بلکہ عوام کی خاطر کام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کو وطیرہ بنایا گیا۔ پراپیگنڈا کرنے والے عناصرہمیشہ مخصوص ایجنڈا لیکر چلتے رہے۔ ماضی میں جنوبی پنجاب سمیت صوبے کے بڑے حصے کو ترقیاتی منصوبوں تک سے محروم رکھا گیا۔سابق حکمرانوں نے جنوبی پنجاب کے لئے مختص فنڈز کو بھی ذاتی پسند کے منصوبوں پر خرچ کیا اور گزشتہ 7برس کے دوران جنوبی پنجاب کو265 ارب روپے کی رقم سے محروم کیا گیا اور جنوبی پنجاب کے عوام کے لئے ترقی وخوشحالی کے منصوبے صرف کھوکھلے نعرے ہی رہے۔موجودہ حکومت پنجاب پورے صوبے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم نا اپنا عزم سمجھتی ہے۔در اصل جنوبی پنجاب کے عوام سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کے ازالے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی قسمت بدلنے کیلئے حالیہ بجٹ میں بڑے اقدامات اٹھا ئے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں 66 فیصد تاریخی اضافہ کیا گیا۔پنجاب کے بجٹ کی شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی موجودہ پنجاب حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ ہر ضلع کا علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکیج بنانا وزیر اعلیٰ کا بہترین اقدام ٹھہرا۔پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ہر ضلع کو 35 ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ دیکر مثالی بجٹ پیش کیا جس پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار مبارکباد کے مستحق ہیں۔علاقہ بھر میں بجلی کی ترسیل،پینے کے پانی کی فراہمی،ہاکڑہ نہر کی توسیع،ریسکیو 1122 سمیت مختلف شاہرات کے منصوبے منظور ہوئے۔ عوام باشعور ہیں بہتر سمجھتے ہیں کہ اب کسی اور کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگوانے کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود 350ارب روپے سے زائدرقم ترقیاتی کاموں کے لیے جنوبی پنجاب کے لیے فنڈز کا مختص کرنا ترقی کی نوید نہیں تو اور کیا ہے۔پسماندہ ضلع لیہ کے لیے اربوں روپے کی مالیت سے ایم ایم روڈ دورویہ تعمیر،دوسوبستر پر مشتمل چار ارب روپے کی لاگت سے زچہ بچہ ہسپتال و نرسنگ سکول کی تعمیر،50کروڑ روپے کی لاگت سے سیوریج سکیموں کی اپ گریڈیشن،گریٹر تھل کینال فیز llتحصیل چوبارہ کے لیے ساڑھے نو ارب روپے مختص کرنے،حفاظتی و سپربندوں کی تعمیر،ریگولیٹری کے کام کی تکمیل کے لیے فنڈز مختص کرنے،رورل ایریا کی سٹرکات کی درستی کے لیے دس کروڑ روپے،شلٹر ہوم کی تعمیر،سپورٹس کے لیے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ 40کروڑ روپے کی لاگت سے لیہ تاجمن شاہ کارپٹ روڈ کی تعمیر،ضلع بھر میں کالجز،سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز کا مختص کیا جانے سے ضلع لیہ کی عوام کی حالات بدلنے،بے روزگاری کے خاتمہ اور روزگار کے مواقع کے لیے ضلع لیہ کی عوام کے لیے یہ بجٹ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • مہنگائی۔  تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم

    مہنگائی۔ تحریر: محمد ابراہیم
    زیادہ سے زیادہ سال میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ ھماری بجلی کے طلب 25ہزار میگا واٹ تک آتی ہے ۔

    جو یہ کرکے گئے 2028 تک انہوں نے مزید 30ہزار میگا واٹ بجلی معاہدوں میں add کرلی، مطلب 25+30 ہزار ٹوٹل 55ہزار میگا واٹ ، مثلاً

    سال بھر میں 25 ہزار میگا واٹ بھی صرف زیادہ سے زیادہ دو مہینے ملک کی ضرورت ہوتی ہے سردیوں میں یہ کھپت 16ہزار میگا واٹ سے بھی کم لیکن 2028 کے معاہدوں تک مُسلم لیگ ن نے 55ہزار میگا واٹ کے معاہدے کیئے اب آپ چاہے 20 ہزار بجلی استمال کریں لیکن پیسہ قوم نے 2028 تک 55 ہزار میگا واٹ کا ھی ادا کرنا ہے ۔

    اب یہ پیسے ہیں کتنے ؟؟

    جب 2013 میں نواز شریف کی حکومت آئی تو اُس وقت قوم معاہدوں کے مطابق سالانہ 180 ارب ادا کررہی تھی ۔

    اُسکے بعد 2018 میں جب تحریک انصاف کی حکومتِ آئی تو معاہدوں مطابق 450 ارب ادا کرنے تھے ۔

    اب اِس وقت اُسی سودوں کے مطابق 700 ارب سالانہ ہے اور 2023 تک یہ رقم 1100 ارب تک پہنچ جائے گی ۔

    اور 2028 تک یہی معاہدوں کی وجہ سے سالانہ رقم 6 ہزار ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی ۔

    مطلب اگر 2028 تک پاکستان کی بجلی کی ضرورت 20 ہزار میگا واٹ بھی ہوئی تو پیسے ہم نے 55ہزار میگا واٹ کے ہی دینے ہیں ۔

    اور یہ ساری بجلی مہنگے آئل ، گیس ، کوئلے سے پیدا ہورہی ہے ،

    •آئل مہنگا امپورٹ ہونے سے بجلی مہنگی
    •ایل این جی سے بجلی پیدوار ایک نقصان جبکہ ٹرمینل کا کارگو کھڑا ہونے سے اُسکے چارجز الگ ۔
    •کوئلے کی بجلی بھی وُہ کہ پاکستان کا کوئلہ چھوڑ کر باہر سے امپورٹ کوئلہ پہلے کراچی پورٹ پر آتا ہے پھر کراچی سے ساہیوال تک پہنچتے ڈیڑھ روپیہ فی ٹیرف کا خرچہ ٹرانسپورٹ کی صورت بڑھ جاتا ہے ۔

    جبکہ اِسی دوران ہم ہوا، پانی ، اپنے کوئلے سے بجلی پیدا کرسکتے تھے ۔

    لیکن نواز شریف حکومت نے اپنے فرنٹ مینوں کے زریعے کّک بیکس کی خاطر سب کچھ کیا اور قوم کی پسلیوں سے پیسہ نکال لیا ۔

    اِس سال پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 8ہزار ارب خسارے کے ساتھ تھا ۔

    2028 تک 6ہزار ارب روپیہ بجلی کی کمپنیوں کو فالتو دینا پڑے گا ۔

    اندازہ کرلیں شریفوں نے جو اِس قوم کے ساتھ کیا جو شاید فرعون نے اپنی رعایا کے ساتھ بھی نہ کیا ہو
    Twitter handle, @IbrahimDgk1

  • عمران خان عظیم مسلم رہنما .تحریر :فضیلت اجالہ

    عمران خان عظیم مسلم رہنما .تحریر :فضیلت اجالہ

    عمران خان مسلم سیاست کا ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے جس نے 22 سال طویل سیاسی جدوجہد کے بعد 18 اگست 2018 کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا۔
    کرکٹ ہو یا سیاست ، عمران خان نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی اپنے ملک کی شبیہہ کو داغدار کیا۔
    خواہ وہ شوکت خانم ہسپتال ہو یا وزارت کی کرسی ، عمران خان کا مقصد صرف انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔
    عمران خان دنیا سیاست میں ایسا عظیم پاکستانی لیڈر ہے جس کے نام،کام اور شہرت کے چرچے صرف ایشیاء میں ہی نہی بلکہ یورپی ممالک میں بھی زبان زد عام ہیں ۔
    عمران خان کے عظیم نظریے اور شاندار قیادت کی بدولت پاکستان اپنی کھوئی ہوئی شناخت واپس حاصل کرنے کی شاہراہ پر گامزن ہے
    ۔قائداعظم کے بعد ، عمران خان پاکستانی تاریخ کے واحد رہنما ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی اور امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔
    عمران خان نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور کشمیر کے بارے میں غیر متزلزل موقف اختیار کرتے ہوئے اتنی خوبصورتی سے کشمیر کامقدمہ لڑا کہ آپ کے الفاظ کی گونج پوری دنیا نے سنی ۔عمران خان نے جس طرح یورپ کی سرزمین پہ کھڑے ہو کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہ لاالہ اللہ کہا وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا ۔

    عمران خان نے مسلمانوں کے قائد ہونے اور سچا عاشق رسول صل اللہ علیہ وسلم ہونے کا حق ادا کیا۔ یورپی ممالک کو حضور اکرم) کے حرمت کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
    ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کیا اور بھارتی ظلم و بربریت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی ۔ سابقہ ​​حکومتوں کے برعکس عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا، انہوں نے نہ صرف مودی کے سفاک چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ، بلکہ بھارتی مسلح افواج کے ذریعہ کشمیریوں کی نسل کشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اقوام متحدہ کو اس کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔عمران خان کے علاوہ یہ جراءت ماضی کے کسی حکمران نے نہی کی ۔ انہوں نے فرانس کے توہین آمیز خاکوں کے خلاف بات کی اور دنیا کو بتایا کہ نبی اکرم مسلمانوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔اور دنیا کو صاف الفاظ میں یہ واضح کیا کہ دنیا ادھ کی اُدھر ہو جائے ہم ناموس رسالت قوانین پر کوئ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    عمران خان نے تمام مسلم رہنماؤں کو ناموس رسالت کے سلسلے میں خطوط لکھے اور انہیں دعوت دی کہ وہ مل کر توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کے خلاف آواز بلند کریں۔طویل عرصہ گزرنے کے بعد ، پاکستان کو ایک عظیم قائد ملا ہے جس کا سیاست میں آنے کا مقصد ذاتی مفاد نہیں بلکہ ریاست مدینہ کی تشکیل ہے۔ جس نے لندن میں جائیدادیں نہیں بنائی ، جس پر بدعنوانی کا الزام نہیں جس کے بیرون ممالک خفیہ اثاثے نہیں ہیں۔
    خان وہ لیڈر ہے جسے پاکستان کی معزز عدالت نے ایماندار اور قابل اعتماد قرار دیا ہے۔

    ۔ 27 فروری 2020 کو عمران خان نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کو واپس کر کے دنیا کو امن کا ایک مثبت پیغام دیا ۔انھوں نے دنیا کو بتایا کہ ہم اسلام کے پیرو کار ہیں اور ہمارا مزہب ہمیں امن اور محبت کا درس دیتا ہے ، ہم امن کے شریک ہوں گے اور کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے .
    عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ یہ عمران خان کی بے لوث قیادت اور عظیم نظریہ تھا جس کی بدولت پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار 5 جون 2021 کو عالمی یوم ماحولیات کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

    وزیر اعظم عمران خان اور ان کی بہترین پالیسیوں کی بدولت ، پاکستان نے جس طریقے سے کورونا وائرس پر قابو پالیا ہے ، اس کی بین الاقوامی سطح پر تعریف کی جارہی ہے،اور عمران خان کی پالیسیوں کو اپنایا جا رہا ہے
    کوویڈ ۔19 کے باوجود پاکستان نے اکانومی میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔خارجہ پالیسی میں عمران خان کی حکومت کے تحت پاکستان نے عمدہ پیشرفت کی ہے ، اس کے نتیجے میں ، دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور بہت سے ممالک نے پاکستان کی طرف دو طرفہ تجارت کا ہاتھ بڑھانا عمران خان کی با صلا حیت قیادت پر اظہار اطمینان ہے
    جو لوگ عمران خان کو سلیکٹڈ کہتے ہیں وہ یہ بات جان لیں کہ عمران خان کو اللہ رب العزت نے اس ملک کے لئے منتخب کیا ہے ، اور عمران خان اپنے عوام کو نا کبھی کسی کے سامنے جھکنے دیں گے اور نا ہی اپنی عوام کو مایوس کریں گے ۔
    عمران خان امید کی کرن ہے۔

  • گالم گلوچ سے ہوائی  فائرنگ تک .تحریر: آیاز محمد

    گالم گلوچ سے ہوائی فائرنگ تک .تحریر: آیاز محمد

    ہم ایسے نوجوان جن کو سیاست کا شوق اور سیاسی قیادتوں بارے حال احوال جاننے کا چسکہ پڑ گیا ہے ، بہت مشکل اور کنفیوژ ہیں۔اخبارات ہو ،رسائل ہو،سوشل میڈیا ہو یا دوستوں کی مجلس ،موضوع اگر سیاست ہو تو لازما اخلاقی حدود کو پامال کیا جاتا ہے اور تو اور قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہو ،کسی اہم موضوع پر بحث ہورہی ہو اور ایسے میں آپ کا شوق اور چسکہ اسمبلی کی آن لائیو ٹرانسمیشن دیکھنے پر مجبور کرے ،آپ ٹی ون آن کریں تو ایسی ہلٹر بازی ، الزام تراشی اور بھونڈے انداز میں گفتگو کی جارہی ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ ۔پاکستانی ڈرامے مفت میں بدنام ہیں کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھے جاسکتے ۔اپنا خیال تو ہے کہ قومی اسمبلی ،سینٹ اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں جو گفتگو کی جاتی ہے وہ بھی کسی صورت مہذب ماحول میں سنی نہیں جا سکتی ۔
    ایک زمانہ تھا کہ کہا جاتا تھا کہ مہذب لوگوں کا سیاست سے کیا لینا دینا، وجہ شاید یہی تھی کہ سیاست میں دلیل اور موقف کی طاقت کی بجائے ترش روئی ،سخت انداز گفتگو اور کرخت لہجہ کی طاقت مانی جاتی ہے ۔ دوسروں پر الزام تراشی بھلے خود آپ میں کوئی صلاحیت نہ ہو۔آج کے پڑھے لکھے اور آکسفورڈ سے فیض یافتہ وزیر اعظم ہی کو لے لیں کہ دس منٹ بھی کسی ایسے موضوع پر بات نہیں کرسکتے جہاں دوسروں پر الزام اور تنقید نہ ہو۔کہاں آئیڈیلزم کی باتیں اور کہاں یہ طرز گفتگو، بہر حال آج کا نوجوان بھی سمجھتا ہے کہ مہذب لوگوں کا سیاست سے کیا کام ؟

    اس انداز سیاست کا سب سے برا اثر ہماری نجی زندگی پر پڑا ہے ۔زندگی میں کچھ لمحات بہت حسین ہوتے ہیں ،یاد گار ہوتے ہیں ،سیاسی افراتفری اور شدت پسندی نے ان لمحات پر بھی گہرا اثر چھوڑا ہے ۔
    مثلا میں یونیورسٹی کا طالب علم ہوں ۔ایک نارمل صلاحیت والا طالب علم جو کالج اور یونیورسٹی دور میں کہ ایک طالب علم تعلیم حاصل کرنے کی لذت میں سرشار رہنا چاہتا ہے اور تعلیم کے بعد بچا کچھا وقت قہقہوں ،کھیل کود اور دوستوں کی مجلس میں گذارنا چاہتا ہے ۔صحت مند اور مثبت مباحث کا حصہ بننا چاہتا ہے ۔لیکن جب کبھی یونیورسٹی سطح پر کسی ایسی ایکٹویٹی کے انعقاد کی بات آئی ،تو یہی سوال اٹھا کہ شرکاء مجلس کون ہو ؟ وہی پارٹی بازی کہ فلاں پارٹی کی لوگ ہو اور فلاں کے نہیں ،پھر جیسے تیسے کرکے مجلس منعقد بھی ہوتی ہے تو وہی الزامات کہ تمھارے لیڈر نے یہ کیا اور میرے لیڈر نے یہ ۔۔یوں کسی مثبت بحث کے بغیر مجلس ختم ۔

    میں پشتون دیہاتی ماحول میں پلا بڑھا ہوں،ہمارے ماحول میں مسجد اور حجرہ بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ محلے محلے ججروں کا رواج صدیوں پرانا ہے ۔محلے کے جوان ،بوڑھے ادھیڑ عمر مغرب یا عشاء کے بعد ان حجروں میں آتے ہیں ،گپ شپ کی مجلس لگتی ہے ،بزرگ اپنے تجربوں سے آگاہ کرتے ہیں ،نوجوان اپنی تعلیم پر گفتگو کرتے ہیں ،ملازم پیشہ اپنی دلچسپی کے موضوعات پر بات چیت کرتے ہیں ،تاجر اور کسان اپنی اپنی بات کرتے ہیں ۔بنیادی طور حجروں کا یہ ماحول سکول یونیورسٹی کی طرح روایتی تعلیمی ماحول تو نہیں ہوتا لیکن ان حجروں کا مستقل حاضر باش عملی زندگی میں بہت کچھ سیکھ چکا ہوتا ہے۔لیکن یہ تب کی باتیں ہیں جب ان حجروں میں منافرت نہیں تھی ،سیاست نہیں تھی ،اب تو یہ حجرے کم اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس ایسے مناظر زیادہ پیش کرتے ہیں۔ایک ہی خاندان ، ایک ہی گھر میں بھائی بھائی کے تعلقات پر اس طرز سیاست نے گہرا منفی اثر چھوڑا ہے ۔

    اب ذرا مسجد کی حالت کو دیکھیں ۔ کل کی خبر ہے کشمیر میں انتخابات ہورہے ہیں ۔علی امین نے گنڈا پور نے فائرنگ کردی ۔مریم نواز نے یہ کہہ دیا ،مراد سعید نے فلاں پر الزام لگادیا ،بلاول بھٹو نے عمران خان کو کشمیر فروش کہہ دیا اس حد تک تو سب برداشت ہے اور اب تو عادت بن چکی ہے ۔ لیکن گذشتہ کل کشمیر کے شہر راولا کوٹ کی خبر ہے۔جو ایک دوست نے واٹس اپ پر شئیر کی ہے “مرکزی جامع مسجد راولاکوٹ پی ٹی آئی کے حق میں تقریر کرنے پر نمازیوں کا رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے پیچھے نماز جمعہ پڑھنے سے انکار کر دیا مسجد میں شور شرابہ اور ھنگامہ آرائی اور مولانا عبدالخبیر آزاد نماز جمعہ چھوڑ کر فرار ھوگی ت ، بمشکل جان بچا کر بھاگ نکلے بعد میں ھنگامہ آرائی رکنے پر کچھ لوگوں نے نماز جمعہ دوسرے مولوی صاحب کے پیچھے ادا کی اور کچھ لوگ بغیر جمعہ کی نماز ادا کئے مسجد سے چلے گئے یہ اپنی نوعیت عجیب اور پہلا واقعہ راولاکوٹ کی کسی مسجد میں پیش آیا جس پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ھے اور مذمت بھی کی جاتی ھےواقعہ کی تفصیلات سے آگاہی کے لئے راولاکوٹ کے آج بروز ہفتہ کے اخبار پرل ویو اور دیگر ملاحظہ کریں یا مسجد میں موجود مقامی نمازیوں سے رابطہ کریں”
    حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی میں گالم گلوچ ، اب سر عام فائرنگ اور اب مسجدوں میں یہ سیاست بازی ہمارے معاشرے کی اخلاقی کمزوری کی علامات ہیں ،معاشی کمزوری کے اتنے نقصانات نہیں ، دفاعی کمزوری کے بھی اتنے دیرپا نقصانات نہیں ہونگے ۔لیکن اخلاقی کمزوری معاشروں کے وجود کو ختم کردیتی ہے ۔ہمارے سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا کہ کہیں وہ ملک کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے کمزور کرنے کے بعد دانستہ یا نادانستہ اخلاقی کمزوری کے جرم کے مرتکب تو نہیں ہورہے ؟

  • باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    باب دوستی تک پہنچنے والے طالبان. تحریر : نادر علی ڈنگراچ

    امریکہ جس طرح افغانستان سے اپنا بوریا بستر گول کر کرتا جا رہا ہے اس طرح افغانستان طالبان کے قبضے میں تیزی سے آرہا ہے. خطے کے تمام ممالک اس پیش رفت سے پریشان ہیں. طالبان مختلف ممالک سے لگنے والی سرحدی علاقوں پر قبضہ اور اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے جا رہے ہیں. ایران سے لگنے والی سرحد کاروباری راستے ” اسلام قلعہ ” ترکمانستان سے لگنے والی سرحدی علاقے پر کنٹرول کے بعد پاک-افغان سرحد پر کاروباری راستے ” باب دوستی ” پر بھی قبضہ کرلیا ہے اور آنے جانے کا وہ اہم راستہ بند ہوگیا ہے. بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ پاکستان سرحدی شہر چمن کے ساتھ لگنے والے افغان علاقے ویش منڈی پر طالبان کی موجودگی کی آگاہی دے دی گئی ہے اور پاکستان کے اس پار افغان علاقے میں طالبان کے جھنڈے نظر آرہے ہیں…

    افغانستان سے امریکہ کے بھاگ جانے کے فیصلے اور اس پر عمل کرنے کے بعد غیریقینی کی دھند نے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے. افغانستان کے بڑے بڑے علاقوں پر طالبان کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے. کابل انتظامیہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جا رہی ہے. افغان طالبان نے مذاکرات میں عالمی طاقتوں کو انسانی حقوق, اور خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کرنے سمیت جتنی خاطریاں کروائی تھیں وہ بہتی ہوئی نظر آرہی ہے. افغان سرکاری فوج کے جوان جان بچا کر بھاگ گئے. کئی افغانستان سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ترکمانستان میں پناہ لے لی ہے. اور جو ہتھیار ڈال رہے ہیں انکو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے کر عالمی اصولوں اور معاہدوں پر عمل کرنے کی بجائے ان کو مارا جا رہا ہے. طالبان کی اس وقت جنگ افغان سرکاری فورسز کے ساتھ چل رہی ہے تاکہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل کیا جائے. پر دوسرا مرحلہ ان قوّتوں سے ٹکراؤ کا ہے جو افغانستان میں اختیار اور اقتدار کے خواہشمند ہیں مطلب کہ وہ ” وار لارڈز ” بھی لڑنے کی تیاری میں ہیں جنہوں نے 90ع میں مخالفین کی گردنیں کٹوا کر ان سے فٹبال کھیلے یاں کٹی گردنوں میں سوراخ کر کے ان میں موم بتیاں جلا کر جیت کا جشن منایا. اس ساری صورتحال کا جس ملک پر زیادہ اثر پڑے گا وہ ملک پاکستان ہے. ویسے بھی افغانی پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے رہے ہیں اور پاکستان بھی افغان پناہگیروں کی 40 سال سے زائد عرصے سے مہمان نوازی کا رکارڈ قائم کر چکا ہے ان کی اس ملک میں آبادکاری کی سرکاری سطح پر بالواسطہ یا بلاواسطہ صحولتکاری ہوتی رہی ہے. صورتحال زیادہ خراب ہوئی تو نہ صرف پاکستان پر افغان پناہگیروں کا وزن بڑھے گا بلکہ پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ افغانی پناہگیروں کے شکل میں دہشتگرد بھی آ سکتے ہیں جو ایک حقیقت ہے. پاکستان حکمران یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو پاور ملنے سے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان مضبوط ہوگی. زبانی باتیں ہو رہی ہیں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو غیر سنجیدگی ہی نظر آرہی ہے. پاکستان میں دہشتگردوں کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں جس کا ایک ثبوت دو دن پہلے صوبے خیبر پختون خواہ کے ضلع کرم میں دہشتگردوں سے مقابلہ ہے جس میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے ہیں. ہمارے حکمرانوں نے اگر سنجیدگی سے کام نہ کیا تو عالمی قوتیں جن کے اس خطے میں مفاد ہیں اور دہشتگرد اس ملک کو میدان جنگ بنا سکتے ہیں. اس وقت ہی پاکستان کے تفریحی مقامات مری اور دوسری کئی جگہوں پر طالبان کے حق میں نعرے اور ان کے حق میں سرگرمیاں رپورٹ کی گئی ہیں.

    پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں, افغانستان میں ہونے والی نئی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کی مفادات کی جنگ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا. ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ساری صورتحال کو عقابی نظر سے دیکھا جائے اور ساتھ ساتھ ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جو پاکستان اس ساری تبدیلی اور ٹکراؤ کا تختۂ مشق بن جائے. افغانی پناہگیروں کا وزن اٹھانے کا مقصد ہوگا کہ اس ملک میں نئی جنگ اور خطرے کو اس ملک میں راستہ دینا. اس لئے پرامن افغانستان پاکستان سمیت پورے خطے کے حق میں بہتر ہے اس لئے افغانستان معاملے کی سیاسی حل کی کوششیں کرنی چاہئیں

  • ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    ‏عدل و انصاف کا حصول ناگزیر .تحریر۔: زمان خان

    کیا آپ جانتے ہیں
    جو ترازو عدالت کے باہر لٹک رہی ہوتی ہے وہ انصاف کی قیمت اپنے اپنے وزن کے مطابق طے کرنے کے لیئے ہوتی ہے۔
    عوام تو بھولی بادشاہ، عدل کے وہ پلڑے سمجھ بیٹھی جو انصاف دیا کرتے ہیں۔
    بھلا کیا یہ ممکن ہے کہ جھوٹ بیچنے، کمانے اور کھانے والے کرپٹ ترین وکلاء جن پر سیاستدانوں کی نظر کرم نے جج کا تمغہ عطا کیا ہو وہ نیک اور صالح لوگ عوام کو انصاف دے سکیں؟
    جو جتنا بڑا چور، غنڈہ اتنا ہی اثرو رسوخ والا وکیل!
    جس کے نام سے جج کی بھی ٹانگیں کانپتی ہوں!
    یہ کہاں ہوتا ہے؟
    جی ہاں یہ سب ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوتا ہے
    آخر یہ سب کب تک چلے گا؟ کب تک ہمارے ملک کی اعلی عدلیہ کا وقار اسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟
    کیوں انصاف کرنے والا بلا خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت نہیں رکھتا؟
    کیوں ایک غریب پھانسی کے پھندے تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور ایک سیاسی گدھ کے تمام گناہ یا تو معاف کر دیئے جاتے ہیں یاتو سیاسی مصلحتوں کا شکار کر دیئے جاتے ہیں۔
    کیوں سیاسی مقدموں کا فیصلہ نہیں ہوتا؟

    اگر ہو بھی تو لولا لنگڑا
    آخر کیوں
    ایان علی کیس رزلٹ صفر
    ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
    ڈاکٹر عاصم کیس رزلٹ صفر
    سستی روٹی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    احد چیمہ صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
    بینظیر ایئر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
    رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر
    شرجیل میمن کرپشن کیس رزلٹ صفر
    صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
    ماڈل ٹاون کیس رزلٹ صف
    شہد کی بوتل کیس رزلٹ صفر
    مجید MPA اہلکار قتل کیس رزلٹ صفر
    بلدیہ ٹاون کیس رزلٹ صفر
    سانحہ ساہیوال کیس رزلٹ صفر
    شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
    پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
    راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
    حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
    فائز عیسی کیس رزلٹ صفر

    کیا کبھی نیک اور دیندار لوگ جو آخرت اور یوم حساب کا خوف رکھتے ہوں انصاف کی کرسی پر بیٹیں گے؟
    کیا کبھی قرآن و سنت کے مطابق نظام عدل قائم کیا جاسکے گا؟
    کیا انگریز کا دیے ہوئے نظام عدل میں اسلامی اقدار اور قرآن و سنت کے مطابق ترامیم کر کے عملاً رائج کیا جا سکے گا؟
    کیا نظام عدل کے بنیادی اصول جو کہ اصل میں ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔۔۔ ایمانداری، نیک نامی، دیانتداری، امانتداری نہیں ہونے چاہئیے؟

    کیا ہمارا معاشرہ ان تمام بنیادی اسلامی اقدار اور رہنما اصولوں سے بہت دور نہیں نکل آیا؟

    کیا یہ تمام خوبیاں ہمیں اپنے نظام میں کہیں نظر آتی ہیں؟
    تو پھر کیوں نا ملک بھر کے غیر سیاسی اور نیک نامی علماء کرام کی زیر نگرانی چلنے والے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے قابل نوجوانوں کو قانون کے شبعہ میں لایا جائے؟
    دین جن کے سینوں میں ہو گا
    جنہیں کم از کم خوف خدا تو ہو گا
    جنہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز تو گی
    جنہیں ناانصافی کرنے اور جھوٹ کا ساتھ دینے پر اللہ کا خوف تو آئے گا
    جنہیں رشوت کے عوض انصاف بیچنے پر عذاب الہی تو یاد ہوگا اور خوف خدا سے انکے ہاتھ تو کانپیں گے

    کیونکہ عدل و انصاف ہی وہ پیمانہ ہے جس کی بدولت انسانیت زندہ ہے
    اگر معاشرہ عدل وانصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ ظلم و جبر کی آماجگاہ تو ضرور بن سکتا ہے مگر صالح معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    عدل و انصاف کا جذبہ ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے
    یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اخلاقی و معاشرتی احکام کے ساتھ عدل و انصاف کو بیان فرمایا ہے
    ارشاد باری تعالی ہے
    ” اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے”

    تحریر۔: زمان خان
    ‎@Zaman_Lalaa

  • ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    ‏حکومت بوکھلاہٹ کا شکار .تحریر :فاطمہ بلوچ

    سیاسی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان جو چند سالوں میں میں بڑی جماعت ابھری اس کے بانی حضور امیرالمجاہدین امام خادم حسین رضوی نے 2017 میں اس اس پارٹی کو بنایا جو دیکھتے دیکھتے عروج پر چلی گئی اور آج پاکستان کی بڑی طاقت بن چکی ہے تحریک لبیک پاکستان جہاں اسلام کی ترجمانی کرتی ہے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیتی ہے وہی مختلف مواقع پر جب ناموس رسالت ﷺ ختم نبوت ﷺ پر حملے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے ن لیگ کے دور میں تحریک لبیک ناموس رسالت ﷺ پر پہرا دیتی رہی لیکن جو ظلم ن لیگ کے دور میں قائدین تحریک لبیک اور کارکنان پر ہوا اس سے کئی گناہ زیادہ ظلم پی ٹی آئی حکومت میں ہو جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتی ہیں فرانس کے سرکاری سطح پر رسول اللّٰہ ﷺ کی گستاخی ہے یہ کوئی نارمل بات نہیں سرکاری سطح پر گستاخی ہو اور حکومت پاکستان خاموشی تماشائی بنی رہے یہ بہت بڑی بات ہے یہاں معلوم ہوتا ہے حکومت نے انگریزوں کی غلامی قبول کی ہوئی یے بہرحال تحریک لبیک نے حکومت سے مطالبہ کیا فرانس کا سفیر نکالا جائے لیکن حکومت ٹال مٹول سے کام لیتی رہی تحریک لبیک نے مارچ کا اعلان کیا تو حکومت نے کچھ دیر پہلے تحریک لبیک کے امیر علامہ سعد حسین رضوی صاحب کو گرفتار کرلیا ملکی کریک ڈاؤن شروع ہوگیا

    پاکستان کے مختلف شہروں میں لبیک والوں نے دھرنے دیئے حکومت نے سر توڑ کوشش کی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے عشقان رسول ﷺ پر بہرحال جب حکومت کامیاب نہ ہوئی معاہدہ کرلیا گیا جس کو بعد میں توڑ دیا گیا یعنی وعدہ خلافی حکومت کیونکہ تحریک لبیک سے خوف زدہ ہوچکی تھی کہی ان کی حکومت نہ چلی جائے یا فرانس ناراض ہوگیا تو انکی غلامی کو خطرہ ہوگا اسی وجہ سے حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگادی جو کہ ابھی مکمل لگی نہیں کیونکہ یہ حکومت نے اپنے تحت کیا جو کہ ایک سیاسی جماعت کا دوسری سیاسی جماعت کو کلعدم کردینا کہی درست نہیں یہ صرف تخت کا کمال ہے کیونکہ وہ حکومت میں جو ہے پاور تو استعمال کریں گی لیکن طاقتیں ساری اللّٰہ کی ہیں پاکستان کی ایک بڑی مقبول ترین جماعت جس کے کروڑوں کارکنان ہیں اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے ؟؟ جس قانون کے تحت حکومت نے پابندی لگائی وہ تو یہ کہتا ہے اگر کوئی گروہ ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے بغاوت کریں فوج سے لڑے بم دھماکے کرے اسکو کلعدم کیا جاسکتا یے

    اب بات یہ ہے تحریک لبیک کے پاس تو ایک پٹاخہ برآمد نہیں ہوا نہ یہ کسی ایسی ایکٹویٹی میں پائی گئی یہ تو واحد جماعت ہے جو الیکشن کمیشن سے کلئیر ہے جن کی حکومت ہے وہ خود الیکشن کمیشن سے کلئیر نہیں دوسری جماعتیں اپنے مخالف حکومت کے دور میں مظاہرے کرتی رہی ہیں جیسے پی ٹی آئی کا 126 دھرنا سول نافرمانی ہے ٹی وی پر حملہ ایسے سب جماعتیں ملکی املاک کو نقصان پہنچا چکی ہیں لیکن انکو آج کلعدم نہیں کیا گیا ؟؟؟ اصل میں تحریک لبیک حکومت کیلئے خطرہ بن چکی ہے کیونکہ حکومت بے نقاب ہورہی ہے روزانہ حکومت کی اسلام مخالف پالیساں واضع ہورہی ہیں اب بات حکومت نے ایک بڑی جماعت کو کلعدم کردیا لیکن یہ ایک لمبا پروسس ہے الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں باقاعدہ اسکا ہونا باقی ہے ایسے کسی جماعت پر پابندی نہیں لگ سکتی یہ تو حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس وجہ سے اندھا دھندہ دیوار سے ٹکرے مار رہی ہیں بہرحال یہ پاکستانی قوم کیلئے لحمہ فکریہ ہے یہ حکومت اتنی بڑی جماعت کو پابندیاں لگا سکتی ہے تو یہ ملک کو کچھ بھی نقصان دہ سکتی ہیں

  • ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    ففتھ جنریشن وار کے سپاہی . تحریر:عقیل احمد راجپوت

    وطن سے محبت ہر پاکستانی کے دل میں ہے وطن کی خاطر جان مال نچھاور کرنے والوں کی ایک طویل داستان ہے جس پر لکھنا شروع کیا جائے تو الفاظ ختم ہو جائے گے حب الوطنی نہیں خیر میرا موضوع آج کچھ ہٹ کر ہے وطن سے محبت میں کچھ لوگ وردی میں ملبوس ہوکر اس کے دفاع کے لئے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اس کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں دن رات کوشاں رہتے ہیں کچھ سرحدوں پر کچھ وطن کے اندر کچھ نظر نہیں آکر مختلف انداز میں ملک سے محبت اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے مگر کچھ سالوں سے ایک نیا طریقہ جسے ہم سوشل میڈیا جنریشن وار کے طور پر جانتے ہیں شروع ہوا جس کے بارے میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد نا واقف تھی اس وار کے مرکزی لیڈ ہیرو کو میں جناب آصف غفور کے طور پر جانتا ہوں جنہوں نے پاکستان کے سوشل میڈیا پر صرف یہاں وہاں کے ٹائم پاس کرنے والے ایکٹیوسٹوں کو ایک نظریہ اور لائن کھینچ کر دی کے کس طرح دشمن سوشل میڈیا کے زریعے ہمارے ذہنوں کو ملک کے خلاف استعمال کرکے اپنے ملک اور اداروں کے خلاف کرنا چاہتے ہیں

    آصف غفور صاحب کی کھینچی گئی وہ لائن جس سے لاکھوں پاکستانی سوشل میڈیا جنریشن وار کے سپاہی کے طور پر سامنے آئے اور ملک کی خاطر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے کا سلسلہ جو آصف غفور صاحب نے شروع کیا تھا وہ مستقل جاری وساری ہے نوجوان نسل سوشل میڈیا جنریشن وار کو بہتر انداز میں لڑ رہا ہے ملک دشمنوں کو ہمیشہ ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے نوجوانوں نسل آصف غفور صاحب کی شکر گزار ہیں کے جن کی بدولت آج ملک کے دفاع میں وہ گھر بیٹھ کر کالجوں دفتروں سے بھی ملک کی خدمت کا موقع حاصل کررہی ہے اور ملک کے دشمنوں کی کسی بھی چال کو کسی بھی صورت کامیاب نہیں بننے دیگی پاکستان کا بچہ بچہ پاکستان ذندہ باد کے نعروں کو اپنے آخری خون کے قطرے تک لگاتار لگاتا رہے گا افواج پاکستان کی قربانیوں کو ملک کے کونے کونے تک پھیلانے کا سبب بھی بنے گا انشاء اللہ

  • سی پیک اور مستقبل کا بلوچستان. تحریر: انجینئر سعد کلیم

    سی پیک اور مستقبل کا بلوچستان. تحریر: انجینئر سعد کلیم

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل(ریٹائرڈ)عاصم سلیم باجوہ کی کاوشوں سے سی پیک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس میں صنعتی اور زرعی تعاون ،گوادر کی ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر فوکس کیا جا رہا ہے جس کے دور رس مثبت نتائج حاصل ہونگے اورمعاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ)عاصم سلیم باجوہ اس منصوبے کو بھر پور انداز میں آگے بڑھانے کے لیے انتہائی پر عزم ہیں ۔سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نہ صرف اس منصوبے  کے دائرہ کار بلکہ رفتار کو بھی تیز کیا گیا ہے

    گوادر میں پانی کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور اس سال ہسپتال اور ٹریننگ ووکیشنل سنٹر پر کام شروع ہو گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ روڈ نیٹ ورک کی بھی تعمیر پر کام زور و شور سے جاری ہے کہا جارہا ہے سی پیک کےتحت روڈ نیٹ ورک کی تعمیر سے بلوچستان کے عوام کی 72 سالہ پرانی شکایات کو دور کرنے میں کافی مدد ملے گی۔

    ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ گوادر بندرگاہ کو ملانے کے لئے بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھانا حکومت وقت کی اولین ترجیح ہے۔بسمہ خضدار روڈ پر 70 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے ،یہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہوجائے گا یاد رہے یہ روڈ گوادر بندرگاہ کو ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑ دے گا۔.

    چیئرمین سی پیک اتھارٹی جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کی کوششوں کی وجہ سے گوادر بندرگاہ کو ملک کے دوسرے علاقوں سے جوڑنےکے لئے بھر پور طریقے سے کام جاری ہے جو معاشی سرگرمیاں پیدا کرے گا اور بلوچستان کے مقامی لوگوں کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کرے گا۔

    بلوچستان کے 9 ترقی یافتہ اضلاع میں 31 سے زیادہ ڈیم تعمیر کیے جائیں گے 15 ڈیموں پر تعمیراتی کام پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اور 16 نئے ڈیموں پر کام جلد ہی شروع ہوجائے گا اس کے ساتھ گوادر ائیرپورٹ پر بھی برق رفتاری سے کام جاری ہےجہاں بڑے کارگو ہوائی جہاز کی لینڈنگ کی بھی گنجائش ہوگی اور تیز ترین بندرگاہ کے آپریشن کے لئے جدید ترین مواصلاتی سہولیات سے بھی آراستہ کیا جائیگا

    بحثیت فرزند بلوچستان میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں آج پورا بلوچستان بلخصوص بلوچستان کے نوجوان چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم کی کاوشوں کو دیکھتے ہوے پر امید ہیں کہ بہت جلد گوادر بندرگاہ صوبے میں معاشی انقلاب اور معاشرتی خوشحالی لائے گی اور دور دراز علاقوں کو ملک کے دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے مساوی بنانے کے لئے مدد گار ثابت ہوگی اور انے والا کل پاکستان کے حوالے سے بلوچستان کا کل ہوگا