Baaghi TV

Category: سیاست

  • آلودہ پانی دہشت گردی سے بھی خطرناک .تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    آلودہ پانی دہشت گردی سے بھی خطرناک .تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    اللہ رب العزت نے انسانوں بلکہ کائنات کی تمام مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے”۔نعمتوں کا احسا س و لذت اس کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔ پانی کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے ” اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے” قرآن میں ایک اور جگہ فرمایا”اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے”۔زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کاانحصارپانی پرہے۔

    پاکستان پانی کی کھپت کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ اس کی آبادی عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو تیسرے نمبر پر رکھاہے جبکہ دیگر عالمی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ سن 2025 تک یہ ملک مکمل طور پر خشک سالی کاشکار ہوجائے گا۔اس وقت پاکستان کی بیشتر آبادی کو پینے کاصاف پانی میسر نہیں ہے تاہم کسی بھی حکومت نے اس چیلنج یا تلخ حقیقت کا نوٹس نہیں لیا اورعوام کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکامی نے زندگیوں اور صحت کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دوتہائی پاکستانی عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ، جس کی وجہ سے عوام میں موذی بیماریاں پھیلنے کے خطرات اور بڑھ گئے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ افراد جن میں سے آدھے بچے ہوتے ہیںپانی سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیںیہ نہ تو دہشت گردی ہے اور نہ ہی قدرتی آفات ہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال سے ہر سال ملک بھر میں 40 فیصد اموات ہوتی ہیں۔ صنعتی فضلہ ، تباہ شدہ سیوریج سسٹم اورسیوریج کے آلودہ پانی سے فصلات اورسزیوں کی کاشت اور منصوبہ بندی کے بغیرشہروں کے پھیلائونے پچھلے کئی سالوں سے خاص طور پر بڑے شہروں میں پانی کے معیار اور مقدار کو گھٹا دیا ہے، ملک کے بیشتردور دراز علاقوں خاص طورپرسندھ اوربلوچستان میں لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لئے کئی میل سفر کرنا پڑتا ہے۔پہاڑی اور صحرا ئی علاقوں میں رہائش پذیرعوام پانی کے لئے بارش پر انحصار کرتے ہیں ، انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ وزارت صحت اور یونیسف کے اعدادوشمار کے مطابق ہرسال پاکستان میں100000 سے زائدافرادآلودہ پانی پینے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کاشکارہوکرہلاک ہوجاتے ہیں،

    ہر سال 10 سال سے کم عمر کے 50000 سے زائد بچے ہیضہ ، اسہال ، پیچش ، ہیپاٹائٹس اور ٹائیفائڈ جیسی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔ماہرین کاکہنا ہے کہ پانی میںبڑی مقدارمیں آرسینک کی موجودگی کی وجہ سے شوگر ، جلد ، گردے ، دل کی بیماریوں ، ہائی بلڈ پریشر ، پیدائشی نقائص اور متعددقسم کے کینسر کا باعث بھی ہے۔ صفائی کے ناقص نظام ،بروقت پانی کی ٹریٹمنٹ اور نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے پینے کے پانی کا معیار خراب ہوتا جارہاہے۔ پینے کے پانی میں زہریلے کیمیکلز اور بیکٹیریا کی موجودگی انسانی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے لوگ پیٹ کی بہت سی خطرناک بیماریوں میں مبتلاہیں دوسری طرف حکومت نے پہلے سے موجود پینے کے صاف پانی سے متعلق پلانٹس کی بحالی پرکوئی توجہ نہیں دی،اور مناسب کام کرنے اور سنبھالنے کے لئے عملی طورپر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ،پاکستان کے شہری علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور پینے کے لئے موزوں ہونے کو یقینی بنانے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹوں سے نمونے لینے کاکوئی مناسب نظام نہیںہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلا ئوکو روکنے اورمعیار کوبرقراررکھنے کیلئے سال میںدوبار پانی کے نمونے لیکرانہیں ٹیسٹ کرنے کی روایت پاکستان میں موجود نہیں ہے کیونکہ افسرشاہی اپنی لالچ اورخودغرضی کی وجہ سے واٹرمافیاء سے ملاہواہے جن کی وجہ سے بروقت ٹیسٹنگ کانظام ناکام ہوچکاہے،پیتھوجینز کو مارنے اورپانی کی کلورینیشن کاعمل نہ ہونے کے برابر ہے۔پاکستان میں پینے کے پانی کے معیار کے تجزیہ کے لئے جدید ترین اور قابل اعتماد آلات اور تربیت یافتہ سٹاف کی بہت کمی ہے جس پر کسی بھی حکومت نے آج تک توجہ نہیں دی۔پاکستان میں ایسی صنعتیں بہت کم ہیں جنہوں نے گندے پانی کو صاف کرکے قابل استعمال بنانے کیلئے WaterTreatmentپلانٹ لگائے ہوں ۔ حکومت کو چاہئے کہ 1997 کے ایکٹ کے تحت NEQS کے مطابق ان کے صنعتی آلودگی سے نمٹنے کے لئے سخت کارروائی کرے۔ اگر کوئی صنعت قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو اسے بھاری جرمانے اور قید کی سزا بھی دی جانی چاہئے۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی ہلاکت کی خبریں تومین سٹریم میڈیا اورسوشل میڈیا پر زورشورسے چلائی جاتی ہیں ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں عوام کوانتہائی خوفزدہ کیاجاتاہے(ہم یہ نہیں کہتے کہ دہشت گردوں سے متعلق خبریں عوام کے سامنے نہ لائیں)حالانکہ ان دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں بہت سی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیںاورمالی نقصان بھی کہیں زیادہ ہوتاہے،دہشت گردی کے برعکس پاکستان میں آلودہ پانی پینے سے پیداہونے والی بیماریوں سے ایک لاکھ سے زائدلوگوں کی ہلاکت دہشت گردی سے زیادہ خطرناک نہیں ہے؟ جبکہ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ 2025 ء تک پاکستان مکمل طور پرخشک سالی کاشکارہوکرخانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے، اگرحکومت ملک کوتباہی اورانتشار سے بچاناچاہتی ہے تو صورتحال کاازسرنوع جائزہ لیناچاہئے ،پانی کے نظام میں بہتری ، صفائی ستھرائی اوربنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے ابھی سے کام شروع کردے ورنہ آلودہ پانی کااژدہا دہشت گردی کی لعنت سے بھی زیادہ خطرناک پھن پھیلائے کھڑاہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    وزیراعظم عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ،تحریر:عامر بیگ

    ایک وقت تھا جب پاکستانی حکمرانوں کو امریکی صدر ائیرپورٹ پر استقبال کے لیے آتے تھے۔ جی بالکل ، صدر پاکستان ایوب خان کو امریکی صدر ایئرپورٹ پر ویلکم کرنے آئے تھے۔ پاکستان ساٹھ کی دہائی میں تیزی سے ترقی کررہا تھا۔
    مگر پھر ریاست میں کچھ ایسے واقعات ہوئے۔ جس سے ملک دو لخت ہو گیا۔
    اور بات ضیاء الحق کے مارشل لا تک آن پہنچی۔ اس وقت سوویت یونین افغانستان تک پہنچ چکا تھا۔ اور امریکہ بہادر کو اسے روکنا تھا۔ لہذا حسب ضرورت پاکستان کی یاد آ گئی۔ قصہ مختصر پاکستان کی مدد سے افغانستان میں سوویت یونین کو توڑ دیا گیا۔ اور امریکہ بہادر نے پاکستان کو چھوڑ کر ہاتھ جھاڑتے ہوئے واپس اپنے ملک چلا گیا۔ اس کے بعد ہمیں کرپٹ اور نااہل حکمران ملے۔ جن کی دن رات کرپشن اور نااہلی کے میدان میں کی گئی محنت کیوجہ سے پاکستان ستر سال پیچھے چلا گیا۔ یہ کرپٹ حکمران آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ملک لوٹتے رہے۔ اور عوام کو چند دکھاوے کے منصوبے دکھا کر بے وقوف بھی بناتے رہے۔ دو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتی تھیں۔ مگر شام کو سب نام نہاد ملکی مفاد میں چپ ہو جاتی تھی۔ ایسے ہی چلتا رہا۔ پھر اکیسویں صدی کا آغاز تھا۔ اور موبائل انٹرنیٹ عام ہونا شروع ہوا۔ تو عمران خان نے سیاست میں آنے سے پہلے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبول تھا۔ برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ دوستی کیوجہ سے فلاحی کاموں میں کافی مقبولیت مل چکی تھی۔ اور عمران خان کی دیانتداری اور ایمانداری کے چرچے پاکستان کے ساتھ ساتھ یورپ تک پہنچ گئے۔ جس کیوجہ سے نوازشریف نے عمران خان کی مقبولیت دیکھتے ہوئے اپنی جماعت جوائن کرنے کی آفر بھی کردی۔ جس کی ویڈیو یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔

    ایسے میں الیکشن دو ہزار اٹھارہ آ گیا۔ اور عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں پہلے نمبر پر آئی۔ اور عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر بیٹھ گئے۔ اب حالات یہ تھے کہ وزیراعظم عمران خان کو جب ملکی خزانوں کا بتایا گیا تو ہوشربا انکشافات سامنے آگئے۔ ملکی خزانہ خالی ہے۔ گردشی قرضے کا انبار سر پر ہے۔ اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی تھی۔ ایسے کڑے وقت میں اقتدار پھولوں کی سیج کی بجائے گرم گرم آلو کی مانند لگنے لگا۔ مگر عمران خان ہمیشہ سے ایک بات کرتے ہیں ۔ سے اللہ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ سب سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران کو ہمت اور استقامت کا دامن پکڑنے کی تلقین کرتے ہوئی ساری صورتحال بتادی۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے اخراجات کم سے کم کرنے کا آغاز اپنی ذات سے کیا۔ اور وزیراعظم ہاؤس کا خرچے میں کروڑوں روپے کا کٹ لگا کر خاتم النبیین جناب رسول محترم کی سنت پر عمل کیا۔

    اس کے بعد دوست ممالک پاکستان کی مدد کو آئے۔ اور پاکستان کی تاریخ میں کافی دیر کے بعد حکومت اور فوج ایک پیج پر آگئے۔ پاکستانی قوم کے ہمت اور حوصلے اور وزیر اعظم عمران خان کی محنت شاقہ کی بدولت پاکستان کی معیشت رفتہ رفتہ ٹریک پر آگئی۔ اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت یہ ہے کہ دنیا کے کافی حکمران وزیراعظم عمران خان کی دیانتداری سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو نہ صرف ملک اور خطے میں بلکہ اب عالمی لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دورہ ازبکستان کے موقع پر بین الاقوامی لیڈرز کے فوٹو سیشن میں مرکزی اور نمایاں جگہ وزیراعظم عمران خان کو ملتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ماحول دوست اقدامات کو پوری دنیا میں مقبولیت مل رہی ہے۔ کرونا عالمی وبا کے دوران وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر ترقی پزیر ممالک کا قرضہ تک فریز کردیا جاتا ہے۔ روسی صدر کے دورہ پاکستان کی خبریں آج کل زیر گردش ہیں۔ امید ہے اسی سال روسی صدر پاکستان تشریف لائیں گے۔ اسکے بعد چینی صدر کی آمد کا بھی روشن امکان موجود ہے۔ پاکستان کو خطے میں اہم پوزیشن حاصل ہوچکی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان سے پوری دنیا کے لیڈرز روابط بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نہ صرف پاکستان کی معیشت کو بہتر کررہے ہیں۔ بلکہ یورپ پر جناب خاتم النبیین رسول محترم کی عزت و احترام بھی باور کروا رہے ہیں۔ کئی ممالک کو یہ بات بتادی ہے۔ کہ پیارے نبی کی توہین کر کے آپ مسلمانوں کی سب سے محبوب چیز پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کشمیر پر جارحانہ پالیسی انڈیا کو بیک فٹ پر لے آئی ہے۔ انڈیا اب کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی کوششوں میں مگن ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے کمال مہارت سے خارجہ ، داخلہ ، سیاحت اور دیگر میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی آدھی آبادی صوبہ پنجاب ، صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام شہریوں کو سو فیصد صحت کارڈ اس سال کے آخر تک مل جائیں گے۔ جس کی وجہ سے ساڑھے سات لاکھ روپے تک سالانہ ہیلتھ انشورنس ملنے سے عوام کو بھرپور فائیدہ ملے گا۔ زراعت کے شعبے میں زبردست کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ بہت عرصے بعد گندم ، چاول ، مکئی اور گنے کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کو مہنگائی کا چیلنج ابھی بھی درپیش ہے۔ مگر جس چیز کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مافیا مل کر چیزیں مہنگی کر کے حکومتی کوششوں کو ناکام کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ چیزیں درست ٹریک پر آ رہی ہیں۔ دس سال کے بعد پہلی دفعہ کرنٹ اکاونٹ سرپلس میں آ چکا ہے۔ سی پیک فیز ٹو برق رفتاری حاصل کر چکا ہے۔ کم و بیش تیس سال کے بعد بڑے ڈیمز وزیراعظم عمران خان کی ذاتی محنت اور توجہ سے ہی بن رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے 2018-2028 کو ڈیمز کی دہائی قرار دیا ہے۔ ڈیمز بننے کے بعد پاکستان میں سستی اور وافر بجلی مہیا ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے اقدامات وزیراعظم عمران خان کی حکومت کررہی ہے۔ جس کے لیے پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ مگر فی الوقت اتنا ہی کافی ہے۔ اس کے بعد مزید باتیں آپ کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

  • ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

    ہائے رے تبدیلی ، تیرا ککھ نہ روے ۔۔۔تحریر:نوید شیخ

    یوں لگ رہا ہے کہ حکومت نے عوام سے انتقام لینا شروع کردیا ہے کہ انھوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ کیوں ڈالا ہے ۔

    ۔ وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں جو اضافہ کرنا تھا کر دیا مگر جس ڈھٹائی سے وزیروں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ابھی تو ہم نے عوام کا بہت خیال کر لیا ہے ۔ خطے کے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیڑول کی قیمت بہت کم ہے ۔ اسلیے شکر منائیں ۔ اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔

    ۔ ان وزیروں کو میں آئینہ دیکھا دوں اور پوچھنے کی جسارت کروں کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں
    per capita income
    کیا ہے۔ زچی اور بچہ اموات کی
    ratio
    کیا ہے ۔ پاکستان میں
    average life expentancy ratio
    کیا ہے ۔ پاکستان کرپشن میں خطے کے ممالک میں کس نمبر پر ہے ۔ کاروبار کرنے کے حوالے سے پاکستان کے حالات کتنے اچھے ہیں ۔ ہماری جی ڈی پی خطے کو چھوڑیں جنگ زدہ افغانستان کے مقابلے میں کیا ہے ۔ ان سب چیزوں کا
    comparison
    بھی ہم کو خطے کے ممالک کے حوالے سے بتادیں تو ان کے پاک دامنی پر میں ایمان لے آؤں ۔ دراصل جھوٹ کا نہ سر ہوتا ہے نہ پاؤں ۔ بجٹ میں تمام اعلانات ، بیانات بلکہ پورا کا پورا بجٹ ہی ایک جھوٹ کا پلندہ تھا ۔ اب بھی معیشت آئی ایم ایف کے کہنے پر چلائی جا رہی ہے ۔ یہ پیڑول اور دیگر اشیاء کی چیزوں کی قیمتیں بڑھا کر حکومت نے عوام کو آئی ایم ایف کی جانب سے عید سے پہلے عیدی دے دی ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے پیٹرول آج تک اتنا مہنگا نہیں ہوا ۔ جتنا آج ہوگیا ہے یہ بھی اس حکومت کا کریڈٹ ہے ۔

    ۔ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں ایل پی جی کی قیمت میں بھی
    5
    روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد سرکاری قیمت
    160
    فی کلو سے تجاوز کر گئی۔

    ۔ سب سے زیادہ مشیر اور وزیر خزانہ تو اس حکومت کے پاس ہی ہے وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ پٹرول اور ایل پی جی کی قیمت بڑھے تو عام آدمی کو فرق پڑتا ہے یا نہیں ۔ ابھی جو عید پر پردیسوں نے اپنے گھروں کو جانا ہے ان کو اس کا کتنا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اور صرف پیٹرول مہنگا ہونے سے مہنگائی کا ایک نیا ریلا آئے گا وہ کس کس کو متاثر کرے گا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو ٹرانسپورٹ یا کنوینس الاؤنس ملتا ہے۔ تھوڑا اوپر کا گریڈ ہو تو گاڑی یا پٹرول بھی ملتا ہے۔

    ۔ پولیس مدعی سے پٹرول کے پیسے لے لیتی ہے۔ چاک و چوبند دستوں نے کبھی پلے سے پٹرول ڈلوانا نہیں ہے۔ باقی وزیر مشیر تو اس عوام کو ویسے ہی جہیز میں ملے ہیں ۔ انکے پیڑول ، بجلی ، گیس کے بل اور عیاشیوں کا خرچہ بھی عوام نے برداشت کرنا ہے ۔ لہذا یہ جو باقی بچے کھچے اٹھارہ بیس کڑور عام آدمی ہیں ان کا اللہ مالک ہے۔ ان کی گدھا گاڑیوں کو پٹرول چاہیے بھی نہیں ہوتا۔

    ۔ عمران خان کی حکومت نے آتے ہی عزم ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ پانچ ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کریں گے۔ پر یہ جھوٹے وعدے اور دعوی ہی ثابت ہوئے ۔

    ۔ آج سینیٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مالی سال کی پہلی تین سہ ماہی میں 147 ارب روپےکی ٹیکس چوری ہوئی ہے ۔ ۔ دوسری جانب کسی اور نہیں اس عوامی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 3 بنیادی اشیا مہنگی کرنے کی منظوری دیدی ہے ۔ چینی کی فی کلو قیمت میں 17 روپے کا اضافہ کردیا۔ اب یوٹیلیٹی اسٹور ز پر چینی 68 کے بجائے 85 روپے کلو دستیاب ہوگی۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا مزید 150 روپے مہنگا کردیا گیا۔ یوں 20 کلو آٹا کا تھیلا 950 روپے کا ہوگیا ہے ۔ ۔ گھی کی قیمت میں بھی 90 روپے اضافہ کر دیا گیاہے ، ایک کلو گھی کا پیکٹ اب 170 کی بجائے 260 روپے فی کلو میں دستیاب ہو گا ۔

    ۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ یوٹیلی اسٹورز پر غریب اور سفید پوش بندہ ہی جاتا ہے ۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ حکومت کو غریبوں کی کتنی فکر ہے ۔

    ۔ پھل ، سبزیوں ، فروٹ ، بجلی اور گیس کے بلوں کا کیا رونا یہاں تو آٹا ، گھی اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ دراصل عوام نے سر پکڑ لیے ہیں ۔ کہتے ہیں ایسے نئے پاکستان سے تو پرانا پاکستان ہی بہتر تھا۔

    ۔ اس کارکردگی کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل کام نہیں کہ کیوں اس حکومت کے وزیروں کو گندے انڈے اور ٹماٹر پڑ رہے ہیں ۔

    ۔ پر اس کے ردعمل میں جو کل علی امین گنڈا پور نے بیچ چوراہے کھڑے ہوکر سنجے دت اسٹائل میں فائرنگ کی ہے ۔ وہ اس ملک ، وہ قانون اور اس حکومت کو ووٹ دینے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔

    ۔ مجھے لگتا ہے آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کو گاجر مولی سمجھ لیا ہے، جسے چاہے کاٹو یا بغیر کاٹے کھا جاؤ۔ اب تازہ ترین خبر یہ آئی ہے آئی ایم ایف نے بجلی ساڑھے تین روپے کے قریب مہنگی کرنے کی فرمائش کر دی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے لائف لائن صارفین کو تین سو یونٹ کی بجائے دو سو یونٹ پر سبسڈی دی جائے۔

    ۔ سنا ہے ہمارے معاشی مینجروں نے اس پر غور شروع کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے صرف آئی ایم ایف کی ہدایات کو دیکھنا ہوتا ہے، عوام کی پروا نہیں ہوتی۔

    ۔ آئی ایم ایف عوام کو پیستی اور خواص کو نوازتی ہے، کیونکہ خواص کے پاس پیسہ ہو تو اس کا فائدہ سرمایہ دارانہ نظام کو پہنچتا ہے۔ عوام کے پاس ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

    ۔ کبھی آپ نے سنا ہو آئی ایم ایف نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہے وہ سرمایہ داروں پر ٹیکس دوگنا کرے، یا کبھی یہ کہا ہو بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے بلاواسطہ ٹیکسوں کو بڑھایا جائے۔

    ۔ وہ ہمیشہ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، گھی جیسی بنیادی اشیاء کو مہنگی کرنے کی فرمائش کرتا ہے، ان پر حکومت اگر کوئی سبسڈی دے رہی ہے تو اسے ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالتا ہے۔

    ۔ اس کا کیا مقصد ہے۔ اگر آئی ایم ایف کو صرف اپنے قرضے کی واپسی سے غرض ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کہیں ڈوب نہ جائے تو اسے ٹیکس جمع کرنے پر زور دینا چاہئے اور ان طبقوں پر ٹیکس لگانے کی شرط رکھنی چاہئے جو صاحبِ استطاعت ہیں، سرمایہ دار ہیں، بڑے بڑے بنگلوں میں رہتے ہیں اربوں روپے کماتے ہیں مگر نہیں آئی ایم ایف ایسا نہیں کرے گا، اس کی نظر معاشرے کے عام فرد پر ہو گی، شیدے، میدے، گامے اور ماجھے ساجھے کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنا اس کا مشن ٹھہرے گا۔ یہی وجہ ہے ہمارے ہاں جو بھی بجٹ بنتا ہے،وہ امیروں کا بجٹ ہوتا ہے۔

    ۔ نام تو غریبوں کا لیا جاتا ہے لیکن اس میں سرکاری مراعات امیروں کے لئے ہوتی ہیں۔ بجٹ میں پہلے ہی عام آدمی کا بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے کچومر نکال دیا گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف کی فرمائشوں کے سامنے حکومت ہاتھ جوڑے کھڑی نظر آتی ہے۔

    ۔ جس طرح کوئی اپنی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا اسی طرح حکمران بھی اپنے کیے ہوئے اکثر فیصلوں کے نتائج سے لا علم ہوتے ہیں۔ وہ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ فیصلے کیا نتائج دیں گے اور ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہیں اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد اور آگے پیچھے پھرنے والے وزیر اور مشیر گورننس کے نام پر کیا کچھ کرتے پھر رہے ہیں۔ مشورے دینے اور فیصلے کروانے والے اکثر تتر بترہو جاتے ہیں اور کچھ اپنی اگلی منزلوں کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔

    ۔ عمران خان پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ اُن سے غلط فیصلے ہو جاتے ہیں ۔ اسی لیے بیشتر معاملات میں حکومت کو روزِ اول ہی سے سبکی اور جگ ہنسائی کا سامنا ہے۔ جبکہ بعض مشیر اور سرکاری بابو کمالِ مہارت سے اہم ترین اور حساس نوعیت کے معاملات پر وزیراعظم عمران خان کواپنے گرد گھما رہے ہیں۔

    ۔ اب آپ دیکھیں نہ راولپنڈی رنگ روڈ کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ جس میں زلفی بخاری اور غلام سرور خان کو کلین چیٹ دے دی گئی ہے ۔

    ۔ مزے کی بات ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی الائنمنٹ میں تبدیلی اور لینڈ ایکوزیشن کے معاملات میں بے ضابطگیاں بھی ثابت ہوچکی ہیں۔
    اب پتہ نہیں کون سے فرشتے یا جن تھے جنہوں نے یہ واردات ڈالی تھی ۔ اور یہ آٹا ، چینی ،پیڑول اور دیگر اسکینڈلز کی طرح ایک نیا معمہ بن گیا ہے۔ کہ کرپشن ہوئی مگر معلوم نہیں کس نے کی ۔ اور اب اتنے بڑے معاملے میں دو بے وقعت افسران کو ہی بلَی کا بکرا بنا کر معاملات کو سمیٹا جارہا ہے ۔

    ۔ آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ اب تو یہی خواہش رہ گئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان امریکہ کی طرح آئی ایم ایف کو بھی انکار کر دیں صاف کہہ دیں اس سے آگے کچھ نہیں ہو سکتا۔

  • حب الوطنی. تحریر: فرمان اللہ

    حب الوطنی. تحریر: فرمان اللہ

    وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اِس محبت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے لیکن حقیقی معنوں میں حب الوطنی ہے کیا؟

    وطن ماں دھرتی ہے جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے اور اِس پر جان قربان کرنا شہادت کا ردجہ رکھتا ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وطن کے بیان کردہ اصولوں پر عمل کرنا بھی حب الوطنی ہے۔ قانون کی پاسداری کرنا اور اِس کی بہتری اور ترقی کے لیے عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا بھی حب الوطنی کی اعلی مثال ہے۔

    میں اس بات کو شامل کرتا چلوں کہ اوورسیز پاکستانیوں میں سب سے زیادہ حب الوطنی پائی جاتی ہے جس کا شاہد میں خود ہوں۔ سارا دن محنت مزدوری کر کے جب واپس گھر پہنچتے ہیں تو سب سے پہلے ٹی وی لگا کر وطن کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بینکنگ چینل کے زریعے پیسہ بھیج کر پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور یہی ان کی حب الوطنی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

    ایسی کئی مثالیں دے کر میں حب الوطنی کو تفصیل میں بیان کر سکتا ہے لیکن شاید میری تحریر بہت لمبی ہو جائے اسی لیے آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر عوام ملکر حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایماندار سیاست دانوں کا انتخاب کرے اور قانون پر پورا پورا عمل کرے تو یقیناً اُن کی یہ حب الوطنی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے

  • پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستانیت۔۔۔۔۔۔تحریر:محمد ثقلین

    پاکستان سے محبت،اس کی زبان و ثقافت اوراقدار کو اپنانا،اور اس کی تعمیرو ترقی میں عملی طور پر اپنا کردار ادا کرنا پاکستانیت ھے پاکستان ہمارا وطن ہے
    وطن ایک گھر کی مانند ہوتا ہے جس میں ہر شخص اپنے گھر اپنے خاندان اپنے دوست و احباب کے ساتھ خوشی سے زندگی گزارتا ہے ایک انسان کے لیے اس کے وطن کی اہمیت ماں باپ ،بھائی بہن سے بڑھ کر ہوتی ہے جس کا نظارہ سرحدوں پران جاں بازجوانوں کی شکل پرکیا جاسکتا ہے جو ملک کی حفاظت وصیانت کے لیے اپنے گھر بار کی پرواہ کیے بغیر پوری مستعدی کے ساتھ رات ودن ایک کیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں ہمارے شہیدوں نے ہمیں ایک ہی درس دیا ہے کہ اپنے گھر اپنی اولاد اپنی دولت سے بڑھ کر اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اپنے کلچر کو فروغ دینا ہے اپنی زبان کو فروغ دینا ہے آج تک پاکستان میں انگلش کلچر کو فروغ دیا گیا یہاں پر انگلش لباس کو اہمیت دی گئی جس شخص کو انگریزی بولنا آتی ہے وہی پڑھا لکھا ہے اس بات کو فروغ دیا گیا ہماری زبان ہمارے لباس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک ہمارے وزراء اعظم بھی انگلش لباس پہنا کرتے ہیں اپنی ساری تقاریر انگریزی میں کرتے ہیں اگر ہمیں اپنا سافٹ امیج بہتر بنانا ہے تو ہمیں پاکستانیت کو فروغ دینا ہو گا اپنی ثقافت اپنے کلچر اپنی روایات کو فروغ دینا ہو گا

    وزیر اعظم عمران خان صاحب جو کہ رہے بھی انگلش ممالک میں لیکن انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستانی کلچر کو فروغ دیا پاکستانی لباس کو فروغ دیا اگر وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے باہر کے سارے دورے دیکھے جائے تو ہمیں ہمارا قومی لباس دیکھائی دے گا وزیراعظم کا قومی لباس اور زبان اردو میں تقاریر کرنا خوش آئند ھے۔مگر پاکستانیت کے فروغ کے لئے محض اتنا کافی نہیں ھے ہمارے سلیبس میں اردو کو فروغ دینا ہو گا ہمارے تعلیمی نظام میں انگلش تاریخ دانوں کی جگہ اسلامی تاریخ دانوں کی تاریخ ڈالنی ہو گی ہمیں ہماری قوم کے بچے بچے کو اپنی تاریخ سے آگاہ کرنا ہو گا بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ملک میں بچہ بچہ
    ” Jafri chosr ”
    کو جانتا ہے لیکن مولوی عبد الحق اور سرسید احمد خان کو نہیں جانتے کیونکہ ہماری رگوں میں انگلش کلچر کو بھر دیا گیا ہے کہا جاتا ہے جو قوم اپنی تاریخ کو بھول جائیں وہ قوم زوال کا شکار ہو جاتی ہے ہمارے ٹی وی ڈراموں کو بدل دیا گیا ہمارے فنکاروں نے قوم کو ہمارے کلچر سے ہٹا کر فحاشی پر لگا دیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں صبح کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہونا چاہیے تھا وہاں صبح ڈانس موسیقی شوز دیکھائیں جا رہے ہیں ہماری اداکارہ کے لباس انتہائی نازیبا ہوتے ہیں جو ہمارے معاشرے پر اثرات چھوڑتے ہیں ہمارے کالجوں ہماری یونیورسٹیوں میں انگلش بولنے پر زور دیا جا رہا ہے ہمیں انگریزی کلچر کا عادی بنایا جا رہا ہے ہمیں ہماری زبان کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنا ہو گا عدالت عظمی کے فیصلوں کی رو سے اردو کو قومی کے ساتھ دفتری زبان کے طور پر رائج کرنا ھوگا۔علاقائی زبانوں کو بھی ترقی اور فروغ دینا ھو گا۔دفاتر اور عدالتوں کی دستاویز عام آدمی کے لئے ھوتی ہیں مگر انگریزی زبان میں۔جس سے اس کا دور سے بھی واسطہ نہیں۔کیا ملکی نظام عام آدمی کے لئے نہیں ھوتا؟انگریزی علمی ترقی کے لئے بلا شبہ ضروری ھے ۔مگر مخصوص اشرافیہ نے اسی کے سہارے بیوروکریسی اور اہم اداروں پر قبضہ کر رکھا ھےاور ایک طبقاتی تضاد سو سائٹی میں بڑھتا جا رھا ھے۔اس کا سد باب بھی بہت ضروری ھے۔قومی زبان بولنے سے زیادہ حقیقی معنوں میں اداروں میں رائج کرنے سے پاکستانیت فروغ پائے گی۔

  • پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    پھر کہتے ہیں تبدیلی کہاں سے؟تحریر: راجہ ارشد

    اے پاک وطن تیری کہانی سب سے اونچی، اونچی تیری شان
    ‎ تیرے آگے ہم سر جھکا کر اور بڑھائیں ہم تیری شان
    ‎ تیری حفاظت مقصد ہمارا
    ‎ ہمارا ایمان صرف پاکستان

    ‏اشرف غنی جو ہمیشہ بھارت کے ایجنڈے پہ چلتے ہوئے پاکستان پہ جھوٹے الزام لگاتا تھا۔
    لیکن! اس بار وزیر اعظم عمران خان نے ساری دنیا کے سامنے اسے چپیڑیں مار دیں۔

    بلاشبہ! ایسے کھل کر جواب صرف وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتا تھا۔
    پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور بلاشبہ اللہ نے اسے بلندوبالا ہی رکھنا ہے ۔اللہ نے ہماری قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے ایک رہنما اتارا جو صرف اور صرف اس ملک کی بقا کا جذبہ رکھتا ہے ۔ وہ انقلابی بھی ہے اور ایک لشکر کا سپاہ سالار بھی ہے جس کا نعرہ ہے تبدیلی جو اپنی انتھک محنت کے باوجود بھی تنقید برائے تنقید کا شکار ہے ۔ سازشوں کا جال ان کے قدموں میں بچھایا جا رہا ہے لیکن خدا سلامت رکھے ان کی استقامت کو کہ ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے کوشاں ہیں ۔
     
     یہ تبدیلی مخالف شور ، میرا تبدیلی پہ ایمان کو مزید مضبوط کر رہا ہے ۔ جب کوئی اچھا اور نیک کام ہونے جا رہا ہو اور باطل قوتیں اس سے ٹکرائیں تو سمجھ لیں کہ کامیابی بہت قریب ہے لہٰذا تبدیلی آچکی ہے ، تبدیلی آ بھی رہی ہے اور تبدیلی مزید بھی آتی رہے گی ، کوئی روک سکتا ہے تو روکے ۔

     ایک سوال جو بارہا میری سماعتوں سے ٹکرایا ہے کہ تبدیلی سرکار نے کیا کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب تو بہت سی صورتوں میں موجود ہے لیکن وہی شور و غل برپا کرنے والی مفاد پرست قوتیں اس جواب کو چھپانے کی سازش میں محوِ عمل ہیں، لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کے باطل کے سمندر میں حق اکیلا بھی ہو تو ابھر کر نکلتا ہے ، اسے جتنا بھی دبانے کی کوشش کی جائے اتنا ہی وہ سامنے آ کر للکارتا ہے ۔

    تبدیلی کے متعلق سوالات کے جوابات چاہیے تو پچھلی دہائیوں اور دورِ حاضر کا غیر جانبدارانہ موازنہ کریں ، حقیقت آشکار ہو جائے گی بس اپنی نظر کا زاویہ بدل کر دیکھیں ۔

    جو مضبوط خارجہ پالیسی پاکستان کی آج ہے وہ ماضی میں کبھی نہ تھی ۔ بین الاقوامی سطح پر ایک ملک کی عزت اس کی خارجہ پالیسی پر انحصار کرتی ہے ۔ صد شکر خدا جس نے پاکستان کو ایک غیور اور نڈر وزیرِ خارجہ سے نوازا ، جن کی یو این یو میں پہلی تقریر نے اقوامِ عالم کو جگایا کہ ہم پاکستانی دہشتگرد نہیں ہیں ، ہم تو امن کے سفیر ہیں ۔ حقیقی دہشتگرد تو بھارت  ہے جو نہتے کشمیریوں کے خون کا دشمن بن چکا ہے ۔ اس سے پہلے یو این او میں بھارت کا بے رحم چہرہ کسی نے بے نقاب نہیں کیا ۔ اس تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ اقوامِ عالم حرکت میں آیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی اداروں نے بھارت مخالف رپورٹس پیش کی۔ ابھی حال میں ہی برطانیہ کے ہاوس آف کامنز میں ہونے والی کشمیر کانفرنس اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ آج پاکستان کو امریکہ جیسے مغرور ملک نے امن کا سفیر مانتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کرنے کیلئے مدد مانگی جبکہ پچھلی حکومتوں کے دور میں امریکہ کی طرف سے صرف ڈرون حملے ہوتے تھے یا پھر ڈو مور کا مطالبہ ۔

    کرتارپور رہداری کی تعمیر نے پاکستان کو دنيا کے سامنے ایک پرامن قوم کے طور پر پہچان دی ۔ یاد رکھیں کہ ایک انسان بھوک سے مر جاتا ہے لیکن عزت کے بغیر جیتے جی مر جاتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی عزت کی بحالی نے ہمیں نئی زندگی بخشی ہے جو ایک غیور قوم کا اثاثہ ہوتی ہے ۔

    دھرتی اگر ماں ہوتی ہے تو وہ اپنے بچوں کو بے سروسامانی کی حالت میں سڑک کنارے پڑا نہیں دیکھ سکتی ۔ آج تحریکِ انصاف کی حکومت نے پناہ گاہوں کے قیام کو یقینی بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دھرتی واقعی ہی ماں ہوتی ہے ۔

    تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے جب بھی اقتدار سنبھالا ، بےدردی سے اس ملک کو لوٹا، لیکن موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کی جنگ لڑ رہی ہے جس کی وجہ سے اس حکومت کا سکون غارت کیا جا رہا ہے ۔ لیکن یہ پھر بھی پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے عزم پہ قائم و دائم ہیں ۔ آج کے پاکستان میں حکمران احتساب کے عمل سے آذاد نہیں ہیں ، اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوسکتی ہے ؟

    کلین گرین پاکستان ، پاکستان سٹیزن پورٹل ، پاکستان بناو سرٹیفکیٹ سکیم، اسلامی ممالک سے بردارانہ تعلقات ، آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے سے انکار ، سیاست سے پاک آذاد ادارے ، یورپی یونین کے پاکستان کے قوانین میں ردوبدل سے متعلق مطالبات ماننے سے انکار ، یہ سب وہ کام ہیں جو تحریک انصاف کی حکومت نے اس مختصر سے عرصے میں سرانجام دئيے جو ماضی کی تجربہ کار حکومتیں نہ کرسکی تھیں ۔ واقعتاً قیادت دیانتدار ہو تو عزت اور کامیابی قوم کا مقدر بن جایا کرتی ہیں ۔

    میرا قلم آج تحریک انصاف کی کارکردگی پہ رطب السان اس لیے ہو رہا ہے کہ میرے مستقبل کی آنکھیں کھلی ہیں ۔ میرا  لاشعور گواہی دیتا ہے کہ اس قوم کی تقدیر میں ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ باطل کے تمام قلم ٹوٹ جائیں گے اور ہر طرف حق حق کی پکار ہوگی ، بین الاقوامی سطح پر ہم ایک خود مختار اور باعزت قوم کے طور پر جانے جائیں گے ، معاشیات بھی عروج پہ ہو گی اور پاکستان سے مہنگائی کا خاتمہ بھی ہو گا ، امیر ، امیر تر اور غریب مزید غریب نہیں ہوگا ، حکمران عوام کو اپنے اثاثہ جات کے جوابدہ ہوں گے  ۔ علم کا بول بالا ہوگا اور ادب ہمارا پیرہن ہوگا (انشاءاللہ )۔
                                                    تبدیلی کی چنگاری اب آلاو بن چکی ہے ، جسے کوئی نہیں بجھا سکتا ، جو چاہے سازش کرے ، یہ ملک تبدیل ہو کر رہے گا ، کوئی روکنا چاہے تو روکے ، لیکن تبدیلی کا یہ طوفان اب نہیں رکنے والا ۔ ہم نے طے کرلیا ہے کہ اپنے خون کا نذرانہ بھی دینا پڑا تو ہم اس نئے پاکستان کی بنیاد کو ہلنے نہيں دیں گے ۔

    جو سازشی عناصر سادہ لوح پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے میں محوِ عمل ہیں وہ خبردار ہو جائیں کہ یہ محب الوطن قوم ہے یہ ذیادہ دیر تک غفلت کی نیند نہیں سو سکتی اور جس دن یہ قوم مکمل طور پر جاگ اٹھے گی ، باطل کو دنیا بھر میں کوئی پناہ نہیں ملے گی ۔
                                      خراجِ تحسین ہے تبدیلی کے اس پورے لشکر کیلئے جو کہ پاکستان کو مستحکم دیکھنے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے ۔ اللہ آپ کی کاوشوں کو کبھی رائیگاں نہیں کرے گا۔ دعاگو ہوں کہ اللہ ہماری قیادت کو خلفائے راشدین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے (آمین )

  • کراچی میں کچرے کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    کراچی میں کچرے کا مسئلہ.تحریر:ام سلمیٰ

    سیاست کے بجائے عمل کی ضرورت

    کراچی میں کچرے اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کے انتظام کی پریشانی کوئی نئی بات نہیں ہے ، اس شہر میں پندرہ ملین سے زیادہ رہائشیوں نے پچھلے سال تقریبا 16 16،000 ٹن کوڑا کرکٹ پیدا کیا تھا۔ اس میں سے بیشتر اس نے شہر میں دو بڑے لینڈ فلز بنائے ہیں لیکن 30 فیصد سڑکوں پر رہتا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں 30 فیصد اگر سڑکوں پر رہتا ہے تو شہر کی کیا حالات ہوگئی؟
    بارشوں کے موسم میں کچرا کے مسئلے کو نظرانداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، کیونکہ یہ سب جمع ہوکر سطح پر آجاتا ہے ، اور شہر میں سیلاب کی طرح سڑک کے اوپر تیرتا ہوا نظر آتا ہے. وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں کے لیے یہ انتہائی توجوں طلب مسئلہ ہے۔ گورنر سندھ بھی یہ دعویٰ کرتے ہوئے نظر آئے کے وہ دو ہفتوں میں کراچی کو صاف کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے شہر کے باشندوں سے مدد کی درخواست کی جہاں وہ مدد کرسکیں اور ایف ڈبلیو او اور پاکستان آرمی سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن پھر انکو عملی میدان میں قدم رکھنے کے بعد یہ بات سمجھ آی کے شہر سے 10 سال سے زیادہ کوڑا کرکٹ ہٹانا دو ہفتوں کی نوکری نہیں ہے اس معاملے پر صوبائی حکومتِ اور ایم کیو ایم سے صوبہ چلانے کے مابین پھوٹ بھی پڑ گئی لیکن معاملے کا کوئی صحیح حل نہ نکلا۔ اور اب تک اس شہر کے صفائی کے معاملات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہں ہوئی.

    پچھلے برسوں میں لگاتار طویل عرصے سے آنے والی پی پی پی حکومت نے اس کو کوئی ایسا مسئلہ نہیں سمجھا جس کے لئے ان کی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس پر ابھی جھگڑا کرنے کے بجائے ، تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر پہلے کوڑے کو ہٹانے کے لئے مطلوبہ فنڈز اور افرادی قوت حاصل کرنے اور جو افرادی قوت موجود ہے اس سے صحیح طرح کام لینے کے لئے مل کر کام کرنا پڑے گا اور پھر مناسب اور موثر ضائع کرنے کے لئے مناسب فضلہ کے انتظام کے انفراسٹرکچر کی تشکیل کی جائے گی تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں دوبارہ ڈھیر نہ ہو۔

  • امریکی اڈے اور پاکستان کی افغان پالیسی.تحریر:احمد فراز گبول

    امریکی اڈے اور پاکستان کی افغان پالیسی.تحریر:احمد فراز گبول

    گزشتہ کچھ روز سے مختلف سوشل پلیٹ فارمز پر ایک ایشو کو لے کر بہت زیادہ گفت و شنید دیکھنے میں آ رہی ہے اور پاکستانی عوام بھی ایک شش و پنج میں مبتلا ہے کہ کیا واقعی پاکستان نے امریکہ کو ملٹری بیس فراہم کر دیئے ہیں یا نہیں؟ یہ ٹاپک پینٹاگون سے لے کر پاکستان کے پسماندہ علاقوں کے چائے کے ڈھابوں تک برابر زیرِ بحث ہے۔ آئیے آج اس معاملے کے کچھ حقائق کی کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
    جب سے امریکی انخلا کی خبریں آنی شروع ہوئیں ساتھ ہی افغان طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے 34 میں سے 26 صوبوں میں اس وقت جنگ جاری ہے گزشتہ دو دنوں میں افغان طالبان کا نشانہ بننے والے افغان سیکیورٹی فورسز کے مقتولین کی تعداد 150 سے بڑھ چکی ہے۔ اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کیا واقعی یہ اعدادوشمار شمار درست ہیں یا امریکہ کو ہوائی اڈوں کی فراہمی کے لئے حالات کو سازگار بنانے کے لئے گراؤنڈ ورک کیا جا رہا ہے
    گزشتہ دنوں امریکہ کے انڈو پیسفک افیئرز کے نائب دفاعی سیکریٹری نے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین پر اڈے دینے کو تیار ہے، تاکہ انخلا کے بعد امریکہ خطے پر اپنی نظر رکھ سکے اور افغانستان میں امن کو یقینی بنا سکے۔ جبکہ دوسری جانب وزیرِ خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے اس عمل کی ناصرف سختی سے تردید کی ہے بلکہ واضح بھی کر دیا ہے کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں دے گا۔
    ماضی میں دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں شامل ہو کر پاکستان نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا۔ ہماری معیشت تباہ ہوئی، بے شمار جانی نقصان ہوا، پاکستان خود دہشتگردوں کا ہدف بن گیا اور دنیا بھر میں پاکستان کو دہشتگرد ریاست ڈیکلیئر کرنے کے لئے انڈین لابی نے زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ اس کے علاوہ منشیات اور کلاشنکوف کلچر رائج ہوا جس کے نتائج پاکستان آج بھی بھگت رہا ہے۔ اگر دنیا میں کسی ملک نے دہشتگردی کے خلاف حقیقی قربانیاں دی ہیں تو وہ پاکستان ہے لیکن اس کے باوجود بھی "ڈو مور” اور "دہشتگرد” جیسے خطابات بھی پاکستان کو دیئے گئے۔ لیکن اب پاکستان کی موجودہ قیادت یہ غلطی دہرانے کے لئے تیار نظر نہیں آ رہی۔ جس کے پیچھے اور بھی بہت سارے عناصر ہیں۔
    اگر ہم کچھ اندرونی معاملات پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت معاشی اور تجارتی حوالے سے دنیا کے تین ملک آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ امریکہ، روس اور چین۔ جن میں سے دو ملک ایشیائی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ ایشیا پر کسی نہ کسی طرح اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں جو کہ باقی ایشیائی ممالک کے لئے تجارتی مسائل کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ایشو بھی ہے۔ فرض کریں اگر امریکہ کا افغانستان سے مکمل انخلا ہو جاتا ہے تو خطے میں امریکہ کی موجودگی ختم ہو جائے گی اور دنیا پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں اپنی لابی افغانستان میں بیٹھ کر کنٹرول کر رہا تھا جو کہ روس اور چین کے لئے بھی مسئلہ تھا۔ لیکن اب امریکی انخلا کے بعد روس اور چین کے لئے میدان صاف ہو جائے گا، جو کہ امریکہ نہیں چاہتا اس لئے پاکستان کے انکار کے بعد امریکہ نے ازبکستان اور تاجکستان سے بھی زمینی اور فضائی رسائی کی ڈیل کرنا چاہی جو کہ چین کے پریشر کی وجہ سے ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔ کیونکہ ان ممالک کی سرحدیں چین کے قریب ہیں۔ روس اور چین کے علاوہ افغان طالبان بھی خبردار کر رہے ہیں کہ کوئی ہمسایہ ملک امریکہ کو اڈے دینے کی غلطی نا کرے۔

    کچھ عرصہ پہلے روس کی طرف سے پاکستان کو "بلینک چیک” کی آفر بھی اسی حوالے سے تھی تاکہ پاکستان امریکہ کی مزید مدد نہ کرے اور خطے کو امریکہ سے خالی کیا جا سکے۔
    اگر ہم پاکستان کے حالات دیکھیں تو پاکستان نے "منٹھار بس تھیوری” چھوڑ کر ایک مناسب اور مضبوط حکمت عملی اپنا لی ہے۔ اب بجائے کسی لابی کا حصہ بننے کے پاکستان اپنی خودمختاری کو منوا رہا ہے۔ پاکستان اب جی حضوری کی بجائے جارحانہ حکمت عملی پر گامزن ہے اور ساتھ پاکستان اب چین کا معاشی شراکت دار بھی بن چکا ہے۔ کوئی بھی کاروباری انسان جھگڑوں کا شوقین نہیں ہوتا اس لئے اب پاکستان نے بھی بجائے جنگ کے معاشی سوچ اپنا لی ہے۔ سی پیک و بیلٹ اینڈ روڈ اور افغان جنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے اس لئے پاکستان نے وہی فیصلہ کرنا تھا جو اپنے مفادات کا دفاع کرے لہٰذا پاکستان نے جنگی راستہ چھوڑ کر معاشی راستہ اپنایا۔
    امریکی انخلا اور عدم موجودگی کا سب سے بڑا فائدہ چین کو ہو گا۔ چینی سرمایہ کار افغانستان کے ذریعے ایران اور مشرق وسطیٰ تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ ساتھ ہی وسط ایشیائی ممالک اور افغانستان بھی سی پیک تک آسان رسائی حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ دوسری طرف روسی اسلحے کی انڈسٹری کے بھی چمکنے کے امکانات ہیں۔ کیونکہ یورپ کے بعد پورے ایشیا میں صرف افغانستان ہی امریکہ کا دفتر بنا ہوا تھا جس کی وجہ سے امریکہ اپنی چودھراہٹ کے ساتھ ساتھ دکانداری بھی چمکا رہا تھا جو کہ اب کھٹائی میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
    موجودہ حالات اور روس کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی دلچسپی کے پیشِ نظر یہی نظر آ رہا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کو نکالنا بھی روس اور چین کا پلان تھا جو پاکستان کے ذریعے مکمل ہوا اور مستقبل میں بھی امریکہ کو اس خطے میں کوئی اڈہ یا ٹھکانہ نہیں ملے گا۔ آنے والا دور اسلحے اور بارود کا نہیں بلکہ ایک مستحکم اور معاشی پاکستان کا دور ہے، سی پیک کا دور ہے اور گوادر کے عروج کا زمانہ ہے۔ لہٰذا یہ اڈوں اور جنگوں کے قصے اب نہیں دہرائے جائیں گے۔
    نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
    اللہ پاک وطنِ عزیز کو سلامت رکھے۔ پاکستان زندہ باد

  • قومی اسمبلی میں گالی گلوچ اور ہنگامہ. تحریر:اے کے انور خان

    قومی اسمبلی میں گالی گلوچ اور ہنگامہ. تحریر:اے کے انور خان

    ( AK Anwar Khan )
    گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جو ہنگامہ دیکھنے کو مِلا ،اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو بہانے لگا ۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہ ممبرانِ اسمبلی ہیں جن کو پاکستانی عوام نے ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا ہے تاکہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے قانون سازی کر سکیں اور یہ وہ ممبرانِ اسمبلی ہیں جن کے ایک دن کے ایک دن کے اجلاس کا خرچہ پانچ کروڑ روپے ہے اور جن کے تنخواہوں اور مراعات کے نتیجہ میں اس غریب قوم کے ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ ہو تے ہیں ۔ افسوس صد افسوس ۔۔!! اس طرح تو ہمارے گلی کے کتّے بھی نہیں لڑتے یا بھونکتے جس طرح یہ معزز ممبران اسمبلی ایک دوسرے کو گالی دے رہے تھے، برا بھلا کہہ رہے تھے اور ایک دوسرے پر کتابیں اور کاپیاں پھینک رہے تھے ۔ وطنِ عزیز میں اگر اسی طرح کے ممبرانِ اسمبلی ہیں تو عوام ان کی خاک عزّت کریں گے ؟ آخر عوام کو اس کا فائدہ کیا ہے ِ ان کی کارکردگی کیا ہے ؟ عوام کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں ۔ممبرانِ اسمبلی اقتدار اور اختیار کے نشے میں مست و مدہوش ہو کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ۔ بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قومی اسمبلی کا ایوان ایک ایسا کلب ہو جہاں آسودہ حال افراد تھوڑی دیر کے لئے تفریحِ طبع کے لئے آتے ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ دھینگا مشتی کر کے پھر عیاشی کے لئے حکومت کے مہیا کردہ رہائشی فلیٹس میں چلے جاتے ہیں ۔ ان کو ملک کے کمزور ترین معیشت کی فکر، نہ اغیار کے سازشوں کا غم ، معیشت سے لے کر امورِ خارجہ تک کسی بھی مسئلہ پر انہوں نے اج تک سنجیدگی سے بحث تک نہیں کی ۔ پارلیمان موجود ہے مگر قانون سازی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہو رہی ہے ۔
    ان ممبرانِ اسمبلی پر غریب قوم کے اٹھنے والے اخراجات دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔بنیادی تنخواہ کے علاوہ اعزازیہ، آفس مینٹیننس الاؤنس ‘ ٹیلی فون الاؤنس‘ ایڈہاک ریلیف، سفری واوچرز، ڈیلی الاؤنس، ہاؤسنگ الاؤنس الغرض الاؤنسز اور مراعات کی برسات ہے جو ان ممبران اسمبلی پر برس رہی ہے ۔ اس کے علاوہ جو شخص ایک دفعہ قومی اسمبلی کا ممبر بن جائے ،وہ تا حیات نہ صرف گریڈ بائیس آفیسر
    کے برابر میڈیکل الاؤنس کے حقدار ہوتے ہیں بلکہ تمام موجودہ و سابقہ ارکانِ اسمبلی بلیو پاسپورٹ رکھنے کے بھی حقدار ہیں۔

    قوم کے فلاح و بہبود کے لئے قانون سای کے وقت ان کے اختلافات عروج پر ہوتے ہیں مگر اپنے فائدے کے لئے قانون سازی کے وقت یہ تمام اختلافات بھلا کر یک جان ہو جاتے ہیں ۔ باہر ممالک کے سر براہان یا نمائندے جب پاکستان آکر ہمارے حکمرانوں اور پارلیمان پر اٹھنے والے اخراجات دیکھتے ہیں تو وہ انگشت بدانداں رہ جاتے ہیں کہ ایک غریب ملک کے حکمران کس طرح اتنے بھاری اخراجات کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک ہمارے اخراجات دیکھ کر ہم پر ہر گز رحم نہیں کھاتے کیونکہ ہمارے حکمرانوں پر اٹھنے والے اخراجات کسی غریب قوم کے نہیں ہو سکتے ۔

    پارلیمان کی بالا دستی اور ارکانِ اسمبلی کا احترام سر آنکھوں پر ‘ مگر ان کی کارکردگی اور آپس میں دست و گریباں ہونا عوام کو ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ اگر انہوں نے یہی روّش جاری رکھی تو لا محالہ عوام کی نظریں پھر فوج کی طرف اٹھیں گی۔ جو ملک کے لئے اچھا شگون نہیں ۔

    باایں وجہ تمام ارکانِ اسمبلی سے میری گزارش ہے کہ خدا را ! ہوش کے ناخن لیں اور ایوان کو تماشہ گاہ نہ بنائیں،د نیا کے دیگر ممالک کو جگ ہنسائی کا مو قعہ فراہم نہ کریں ۔ عوام نے جس مقصدکے لئے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے اس مقصد کوسامنے رکھ کر اجلاس میں جائیں اور اپنے فرائض ِمنصبی کو پورا کرنے کے لئے پورے ایمانداری کے ساتھ نبھانے کی کو شش کریں ۔ عوام کا خون تو چوس ہی رہے ہو مگر اس خون کے بدلے تھوڑی سی قیمت بھی تو ادا کرنے کی زحمت گوارا کر لیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔

  • اگرعمران خان ہارگیا تو؟ . تحریر: محمد حیات

    اگرعمران خان ہارگیا تو؟ . تحریر: محمد حیات

    میں پاکستان کے گلے سڑے نظام اوراس نظام سے فائدہ اٹھانے والے درندوں کو دیکھتا تھا تو دل بہت جلتا تھا کیسے یہ لوگ پاکستان کو دونوں ہاتھ سے لوٹ رہے ہیں. ہمارا کوئی ادارہ ایسا نہیں تھا جو جوابدہ ہو ہرکوئی ببرشیربنا ہوا سب کا ایک ہی کام پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہمارے نوجوان جو قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں وہ ان نام نہاد حکمرانوں کی شخصیت پرستی میں یہ تک بھول چکے تھے کہ اللّٰہ نے انہیں بھی ایک شخصیت دی ہے جس میں سوچنے والا دماغ ہے جو تفکروتدبراورعقل وشعورکی صلاحیت رکھتا ہے۔ میرا دل بہت کڑتا تھا مجھے لگتا تھا کچھ تبدیل نہیں ہوگا ہماری نسلیں ان چوروں ڈاکووں کی عمربھرغلامی کریں گی۔

    اس مایوسی کے عالم میں میری نظر ایک کھلاڑی پرپڑی جس نے اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھائی اسے اقتدار کی کرسی کی لالچ ہے نہ حاکمیت کا شوق، وہ ایک درویش انسان ہے جس کا اوڑھنا بچھونا صرف پاکستان اور پاکستانی ہیں جس نے ہمیں شعوردیا پُل اور سڑکیں بنانے سے زیادہ اِہم ہوتا ہے، کہ قوم بنائی جاۓ اورانسانیت کی خدمت کی جاۓ انسانوں کی بقاء کے وژن پرکام کیا جاۓ خیبر پختونخوا کو ہی دیکھ لیں میرے لیے وہ آج آئیڈیل صوبہ ہے پچھلے دورحکومت دیکھیں اورماشاءاللہ اب دیکھیں جہاں صحت کی سہولت اب مفت ہے جہاں مذہب، ذات اورسیاسی وابستگی کی پرواہ کئے بغیرہرخیبرپختونخوا کے شہری کو دس لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس فراہمی دی جا رہی ہے الحمدللہ‏صوبہ خیبر پختونخوا میں میرے کپتان کی زیرنگرانی تیزی سے ترقی کا سفرجاری و ساری ہے۔

    ہر کام کو کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے پہلے مجھے لگتا تھا عمران خان پنجاب میں آئیں گے تو وہی سسٹم یہاں بھی دہرایا جائے گا اور حالات بہتر ہوجائیں گے لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا اسکی بنیادی وجہ خیبرپختونخوا کے عوام کا کلچر، مزاج، سوسائٹی مختلف ہے جب کہ پنجاب کا مزاج اورطرح کا ہے۔ یہاں کی پولیس، پٹواری، ہسپتال، محکمہ جات پہلے سے امپروو کرنے کے بجائے تنزلی کا شکار ہوئے۔
    کیونکہ یہاں کی عوام میں محکومیت والا عنصر موجود ہے اس سب کے باوجود، عمران خان بڑے اداروں کی بنیادوں کو مضبوط کر رہا ہے، جس کا نتیجہ آنے والی دنوں میں سامنے آئے گا۔

    میرا قائد عمران خان اس وقت پوری قوم کی جنگ لڑرہا ہے۔ اس وقت ملک کے سارے چوراچکے ڈاکو لٹیرے جیب کترے لفافے ایک ہوکر اس شخص کو ناکام بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں پرعوام بیوقوف نہیں سب نظرآرہا ہے کی پی کی ہو سندھ یا پھرپنجاب سب کی کوشش صرف یہی ہے کہ عمران خان کا راستہ روکا جائے. کیونکہ سب پارٹیز کے مفادات تو ایک ہی ہیں. سب کو پتا ہے عمران خان نے پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑنا ہے لیکن خدا نخواستہ یہ کرپٹ مافیا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے یا یہ کہیں کہ اگر عمران خان صاحب نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی تو کیا ہو گا۔۔؟؟

    اسکی ذات کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر پھر کوئی اور انسان آپکی آواز نہیں بنے گا کیونکہ اس کرپٹ نظام کے خلاف آواز اٹھانا صرف عمران خان کا نہیں اس کی قوم کا بھی کام ہے۔ چلیں آئیں آج پھر ہم عہد کریں کہ ہم عمران خان صاحب کو گرنے نہیں دینگے کیوں کہ نقصان ہمارا ہوگا اللہ تعالی ہمارے لیڈر عمران خان صاحب اور پاکستان کی حفاظت فرمائے. آمین ثم آمین۔

    پاکستان زندہ باد
    عمران خان زندہ باد

    Twitter handle @HayatShilmani