Baaghi TV

Category: سیاست

  • وزیروں کو ٹماٹر اور انڈے کیوں پڑ رہے ہیں.،تحریر: نوید شیخ

    وزیروں کو ٹماٹر اور انڈے کیوں پڑ رہے ہیں.،تحریر: نوید شیخ

    قومی سیاست کا بڑا المیہ محاذ آرائی اور بداعتمادی ہے ، جب ایک سیاسی فریق دوسرے کو قبول کرنے کے بجائے سیاسی تعصب، نفرت ، الزام تراشی اور منفی طرزعمل کا مظاہرہ کرے تو اس کا نتیجہ انتشار کی صورت میں ہی پیدا ہوگا۔

    ۔ آج پھر آزاد کشمیرمیں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مریم نوازنے خوب تنقید کے نشتر چلائے ہیں اور کہا ہے کہ کشمیر بیچنے کی سازش امریکہ میں بیٹھ کر رچائی گئی ، کشمیر بھارت کی جھولی میں ڈال کر 2 منٹ خاموشی کا کہتے ہیں۔ یہ جیت کر کشمیر کے پہاڑ بھی آئی ایم ایف کو بیچ دیں گے ۔ پلندری میں تو عمران خان پر یہ بھی الزام لگا دیا کہ وہ آزاد کشمیر کو ایک نیا صوبہ بنانا چاہیتے ہیں ۔ پھر عمران خان کو دھمکی دی کہ سن لیں ان کا یوم حساب قریب ہے ، آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام ان سے حساب لیں گے۔ ۔ میری نظر میں گندی زبان والے لیڈر اور حکومتی وزیر کشمیر پہنچے ہوئے ہیں اور کشمیر کا ماحول خراب کررہے ہیں۔ کیونکہ زبان درازی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ۔ ایسا لگتا ہے کہ آزادجموں وکشمیر انتخابی مہم ’جگت بازی‘ اور ’گالم گلوچ‘ کے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

    ۔ کیونکہ ہر مسئلے کی زمہ دار حکومت ہوتی ہے تو شروع حکومت سے ہی کرتے ہیں ۔ علی امین گنڈاپور الیکشن مہم کے آغاز میں ہی تنازعات کی زد میں آگئے تھے جب ان کی مبینہ طور پر پیسے بانٹنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی۔ اس کے بعد وزیر موصوف اپنی تقریر میں نامناسب الفاظ کے استعمال پر بھی خبروں کی زینت بنے رہے۔ پھر ان کی جانب سے
    500
    ارب روپے کے فنڈز کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے، جو پی ٹی آئی الیکشن جیتنے کی صورت میں وہاں کی حکومت کو دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ۔ آزاد کشمیر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے سابق وزیراعظم ذوالقفار علی بھٹوکو غدار اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ڈاکو قرار دیا۔

    ۔ یوں یہ بدزبانی کشمیرسے پارلیمنٹ تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ روز سینیٹ میں جو زبان استعمال ہوئی جو ہنگامہ ہوا ، جو الزامات لگے وہ باعث شرمندگی ہیں ۔
    علی امین گنڈا پور کی جانب سے بھٹو کو غدار کہنا ایک نیا پنڈورا بکس کھولنے کے مترادف ہے ۔

    ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت تصادم کی نئی راہ کھول رہی ہے ۔ سینیٹ میں اپوزیشن بینچز سے جو نعرے لگے وہ بھی اس مقدس ایوان کی بے حرمتی ہے اور حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ۔

    ۔ اپوزیشن کی بات کریں تو عمران خان کو بزدل کہا جارہا ہے ۔ ن لیگ تو آزاد کشمیر کے اندر بھی دھاندلی کا عندیہ دے کر۔ ان الیکشنوں کو بھی متنازعہ کرنے پر لگی ہے ۔

    ۔ مریم نواز بھرپور انتخابی مہم تو چلا رہی ہیں۔ مگر جیت کے چانسز کم دیکھائی دیتے ہیں ۔ جو کچھ وہ روزانہ ارشاد فرما رہی ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عمران خاں نے کشمیر کو بیچ ڈالا۔ صرف ان کی جماعت ہی طوفان میں ہچکولے کھاتے کشمیریوں کو ساحل سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے لیے ان کے امیدوار فاروق حیدر نے فرمایا کہ مریم ہی کشمیر کو آزاد کرائیں گی۔

    ۔ جبکہ مظفر آباد کو فتح کرنے کے لیے عمران خان کی حکمتِ عملی وہی پرانی ہے، جو نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی تھی۔ کہ برادریوں کی حمایت رکھنے والے کروڑ پتیوں کو ٹکٹ جاری کیے جائیں۔ وہ کر بھی ایسا ہی رہی ہے ۔

    ۔ اب اس تمام دھما چوکڑی میں عمران خاں کشمیر کا رخ کرنے والے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ
    ۔ کیا وہ بھی بلاول اور مریم کی روش اختیار کریں گے؟ انہی پہ گولہ باری کریں گے۔ اگر وہ اس بچگانہ کھیل کا حصہ ہو گئے تو مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ کون لڑے گا؟
    ۔ ٹارچر سیل میں پڑے ہزاروں نوجوانوں اور کمسن بچوں کا، جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ کہاں ہیں اوران پہ کیا بیت رہی ہے۔

    ۔ ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ
    ۔ انتخابات کہیں بھی ہوں؟
    ۔ حکومت کوئی بھی ہو؟
    ۔ اپوزیشن کتنی ہی نالائق کیوں نہ ہو؟

    ۔ سیاسی جماعتیں کتنی ہی پارسا، قابل اور جمہوریت پسند کیوں نہ ہوں انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید کرنا، ایک دوسرے پر مختلف طرح کے الزامات عائد کرنا اور تابڑتوڑ حملے کرنا ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔

    ۔ لیکن اس بار آزاد کشمیر کے انتخابات میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے لے کر اپوزیشن کی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت تک جو الزامات ایک دوسرے پر لگائے جا رہے ہیں اور جس گھن گرج کے ساتھ مخالفین کو کشمیر فروش ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔

    ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کو آج بھی اپنی تاریخ اور تحریک کا اچھی طرح علم ہے۔ تاہم آج پاکستان سے ووٹ مانگنے کے لئے آزادکشمیر جانے والے لیڈر کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر سمجھانے اور آزادی حاصل کرنے کے گر بتانے سے زیادہ پاکستان میں اپنے مخالفین کو غدار ، ملک دشمن، چور، ڈاکو، کرپٹ وغیرہ ثابت کرنے پر اپنی توانائیاں صرف کررہے ہیں۔

    ۔ 25
    جولائی کو ہونے والے الیکشن میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا؟
    اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم تحریک انصاف جس نے پچھلے الیکشن میں صرف دو سیٹیں جیتی تھیں، اب
    ۔۔۔ تبدیلی فارمولہ ۔۔۔
    کی رو سے سب سے مقبول پارٹی ہے۔

    ۔ پی ٹی آئی نے عوامی رابطہ مہم پراب تک اتنا زور نہیں لگایا جتنا دوسری پارٹیوں کے ارکان اسمبلی اور الیکٹ ایبلز کو توڑنے میں لگایا ہے ۔

    ۔ اچھا یہ بھی ایک تاثر ہے کہ ن لیگ کے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے حقیقتاً آزادکشمیر کو مالی خود مختاری دلانے سمیت کئی اچھے کام کئے ہیں جن کے زور پر وہ پی ٹی آئی کو جھٹکا دے سکتے ہیں ۔ پیپلزپارٹی میں بھی کئی تجربہ کار لوگ موجود ہیں جو اپنی سیٹیں جیت سکتے ہیں مگر پانسہ پلٹنے کے لئے اسے مزید محنت کرنا ہوگی۔

    ۔ دوسری جانب حکومت کا ایک مشن شہباز شریف ہے ۔ اس حوالے سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر حکومت کا خصوصی ٹارگٹ ہیں ۔ جبکہ حکومتی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ان کے خلاف شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ وہ نااہلی سے بچ نہیں سکیں گے ۔ مسلم لیگ( ن) کا کہنا ہے کہ حکمران اپنی عدم کارکردگی کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ شہباز شریف چونکہ حکومت کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں اس لئے انہیں خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ دیکھا جائے تو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ احتساب ہے۔ آزادانہ اور شفاف احتساب نہ ہونے کے باعث اول تو یہ عمل آگے نہیں بڑھ رہا اور دوسری طرف یہ تاثر عام ہوتا نظر آتا ہے کہ احتساب صرف سیاستدانوں ، خصوصاً اپوزیشن تک محدود ہے۔ دیکھا جائے تو نیب نے احتساب کے لفظ کو ایک لطیفہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

    ۔ اب اس ساری مارا ماری اور الزامات کی جنگ میں انتخابی اصلاحات کا معاملہ سیاسی طور پر خاصا ٹیڑھا ہوگیا ہے ۔ پہلے کچھ اُمید پیدا ہوچلی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اختلافات کم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پر اب روز بروز تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔

    ۔ ابھی تک جماعت ِاسلامی کے سوا تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی انتخابی اصلاحات کی بیشتر تجاویز کو مستردکیا ہے۔ وہ نہ الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹنگ کے حق میں ہیں اور نہ بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے پر راضی ہیں ۔
    کیونکہ تقریبا اسّی لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کی بھاری اکثریت حکومتی جماعت تحریک انصاف کی حامی سمجھی جاتی ہے۔ یوں دس پندرہ لاکھ اوورسیز نے بھی اگلے عام انتخابات میں ووٹ ڈال دیا توتیس سے چالیس انتخابی حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو فائدہ ہوگا۔

    ۔ دوسری طرف آصف زرداری کی پیپلز پارٹی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین قابل ِقبول نہیں۔ حکومت کی مجوزہ ترمیم کے تحت ووٹر فہرستیں بنانے کا اختیار الیکشن کمیشن کی بجائے نادرا کو مل جائے گا۔۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن اسکی مخالفت کررہے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ اس اقدام سے الیکشن کمیشن بے اختیار ہوجائے گا۔

    ۔ یوں انتخابی اصلاحات کا معاملہ بہت اہم ہے کیونکہ صاف ستھرے الیکشن پر جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ بدقسمتی سے ہر الیکشن کے بعد ہارنے والی جماعتیں انتخابی عمل میں شدید دھاندلی کی شکایت کرتی ہیں۔ کبھی ووٹنگ سے پہلے دھاندلی کرنے کا شور مچتا ہے۔ کبھی ووٹنگ کے بعدپولنگ اسٹیشن پر گنتی اورریٹرننگ افسر کے دفتر میں نتائج مرتب کرنے میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

    ۔ ہمارا سیاسی کلچر ایسا گلا سڑا ہے کہ کوئی طریقہ اختیار کرلیا جائے شکست کھانے والا اپنی ہار تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ الیکشن صاف ستھرے اور منصفانہ ہوں بلکہ دشواری یہ ہے کہ اس ملک کے سیاستدان ہر صورت حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔۔ ہمارے سیاستدان جاگیردارانہ اور قبائلی مزاج کے حامل ہیں ۔ انکا خیال ہے کہ چودھراہٹ اور سرداری ہمیشہ ان کے پاس رہنی چاہیے۔ الیکشن تو محض رسمی کاروائی ہے۔۔ یہ بھی درست ہے کہ عملی سیاست سمجھوتوں اور کچھ لو، کچھ دو کے اُصولوں پر چلتی ہے۔ تحریک انصاف کو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کیلیے اپنی انتخابی تجاویز میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کی ہر بات کو رَد کرکے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتیں۔ تمام فریقوں کو ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔ ضروری نہیں کہ الیکشن کے عمل میں بہتری کی تمام کوششیں ایک ہی قانونی ترمیم کے ذریعے نافذ ہوجائیں۔

  • "بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

    "بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

    پاکستان کے بڑ ے مسائل میں سے بدعنوانی اور دہشت گردی سر فہرست ہیں۔
    دہشتگردی کے لئے تو پاکستان کی کوششیں انتہائی کامیاب ہیں اور الحمداللہ ہماری فوج نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی حیرانکن نتائج کے ساتھ کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہماری ان کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے ۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارا فوج کا ادارہ عالمی سطح پر ایک کنسلٹیٹو کا درجہ رکھتاہے تو غلط نہیں ہوگا ۔آپ سب سے گزارش ہے کہ اس فورمپر، علم اور تجربہ کی بنیاد پر اپنی اپنی آراء سے مستفید فرمائیں۔ممکن ہے ہماری یہ چھوٹی سی کوشش اس ضمن میں مددگار ثابت ہو۔
    میں ایک طالب علم ہوں سو میری رائے کوئی حرفِ آخر نہیں بلکہ رائے بھی کیا بس کُچھ پریشان خیالیاں ہیں جو آپ احباب سے شئیر کر سکتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ یہاں شخصیات اور ادارے طاقتور ہیں اور قانون کمزور ایسے میں ہم اپنے اطراف جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کی صورتِ حال ہر قدم باآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔ یہاں چونکہ خود قانون ہی بے آبرو ہے تو موقع اور مفاد پرست شخصیات اور اداروں میں عزت، خودداری، ملی غیرت اور خود احتسابی جیسی ضروری خصوصیات کیسے پیدا ہوں۔ آج کلمے کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک کی عملی شکل کُچھ یوں ہے کہ آپ شیطانیت کے راج میں ہونے والے کسی بھی بڑے سے بڑے روح فرسا جُرم کا تصور کر لیں وہ جُرم آپ کو پوری آب و تاب کے ساتھ ارضِ پاک میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی پر ملے گا۔ یہاں کسی بڑے سے بڑے سانحے کا بھی کوئی ذمہ دار نہیں ملتا۔ پاکستان دو لخت ہو گیا مگر ہمارے عملی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظوں کی آن بان میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ وہ خود کو اس ٹکڑے کے پہلے سے زیادہ اہم محافظ قرار دیتے ہیں۔ یہاں قانون ایک سنگین مذاق ہے۔ جب تک یہاں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی ہم خود کو باوقار قوموں کی صف میں آخری درجے پر بھی نہیں لا سکتے۔
    نا اُمیدی کفر ہے سو اُمید کرتے ہیں کہ ایک دن عوام اپنے اجتماعی شعور کو حرکت میں لا کر اندھیروں سے روشنیوں کے سفر کی طرف ضرور گامزن ہوں گے۔ ہر الزام حکومت پر ڈال دینا انتہائی درجے کی بیوقوفی ہے ہمیں بطور قوم اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔

    ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
    دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

    انتخابی اصلاحات اہم ہیں۔ تو میرا اور آپ کا مشترکہ نعرہ کہ انتخابی اصلاحات تشکیل دی جائیں۔

    میرا تو سب سے پہلے اس بات سے اختلاف ہے کہ عوام مظلوم ہیں ۔ عوام خود ظالم ہیں۔ دوسروں پہ بھی ظلم کرتے ہیں اور خود پہ بھی ۔ رمضان کی آمد سے پیشتر ہی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھونا شروع کر دیتی ہیں ۔ یہ قیمتیں حکومت یا ریاستی ادارے نہیں بڑھاتے ۔ ہم عوام بڑھاتے ہیں ۔ ایک کسان سے لے کر چھابڑی فروش تک اور گودام کے مالک سے لے کر گلی میں جا کے سبزی بیچنے والے تک ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا لُوٹا جا سکتا ہے لُو ٹ لو ۔اس لُوٹ مار میں ہم عوام خود سب سے آگے ہوتے ہیں۔
    اگر یہاں یہ کہا جائے کہ چونکہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے اس لیے سب کچھ ہو رہا ہے تو آپ قانون کی حُکمرانی کر کے دیکھ لیں جن کے خون میں حرام کی کمائی کی ملاوٹ ہو چکی ہے وہ حرام کھانے سے کبھی باز نہیں آئیں گے ۔ پاکستان کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے ہمیں چاہئے کہ اب ہم اپنی عادتوں کو بدلیں اور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے راستے پر گامزن کریں ۔

    اقصی احمد خان
    کراچی
    @ShinyAqsa

  • سیاست کرو منافقت نہیں .  تحریر: فضیلت اجالہ

    سیاست کرو منافقت نہیں . تحریر: فضیلت اجالہ

    جیسے جیسے آزاد کشمیر کے الیکشن نزدیک آرہے ہیں ویسے ویسے اپوزیشن جماعتوں کے جھوٹوں کی رفتار بھی بڑھتی جا رہی ہے
    اسی دوڑ میں شامل لندن فرار نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کا ایک بیان

    ” میں کشمیر کی بیٹی ہوں ،کشمیر سے ہمارا رشتہ بڑا پرانا ہے ”

    جھوٹ اور ڈھٹائی کی اعلی مثال ہے
    کشمیر کی بیٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی جعلی راجکماری سے سوال ہے کہ آپ تب کہاں تھی جب آپ کے والد نے ہائی کمیشن کو بھارت کے بارے میں بات کرنے سے روکا
    یہ حب الوطنی تب کہاں تھ جب نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا ،اور جب آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے اجازت کیلیے زور ڈالا تو مودی کے یار نے اجازت تو دے دی لیکن اسکا بدلہ آرمی چیف سے استعفیٰ لیکر لیا ۔
    کیا نواز لیگ اور ان کے حامی یہ بتانا پسند کریں گے کہ کشمیر کہ یہ بیٹے تب کہا تھے جب بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا لیکن دوسری طرف نواز خاندان مودی کی والدہ کو ساڑھیوں اور آم کے تحفے بھیجنے میں مصروف تھے ۔
    4 جولائی 1999 جب نواز شریف نے پاکستان آرمی کو کارگل کی چوٹیاں خالی کرنے کا حکم دیا ،جس کے نتیجے میں پاکستان ایک جیتی ہوئی جنگ ہارگیا، تب آپکی وطن سے محبت کہا جا سوئی تھی ۔کشمیر کے اس نام نہاد بیٹے کی غیرت تب کیوں نا جاگی جب اکتوبر 1999 میں اندر کمار گجرال کو کشمیریوں کی سرگرمیںوں کی خفیہ رپورٹ دی ۔
    کوئی نون لیگی کارکن یہ کیوں نہیں سوچتا کہ 2008 میں ممبئ حملوں کے فوراً بعد نواز شریف کا بیان
    "”میں نے خود پتہ کروایا ہے اجمل قصاب یہیں کا ہے” کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔

    2011 میں اسی جعلی محب وطن نواز شریف نے کہا پاکستان اور بھارت کا کلچر ایک ہے سرحدی لکیر ہے وگرنہ جس رب کی پرستش بھارت کرتا ہے اسی کی ہم پوجا کرتے ہیں اور یوں عمران خان کو ضمیر بیچنے کا طعنہ دینے والوں نے اپنا ایمان ہی بیچ ڈالا ۔
    اگست 2011 کا بھارت نواز بیانیہ،”” واجپائی ٹھیک کہتے ہیں ہم نے انڈیا کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تمام لیگی سپورٹرز کے منہ پر تمانچہ ہے ۔
    آج ووٹ کی خاطر خود کو اسی کشمیر کے ثپوت گردان رہے ہو جس کشمیر کے حریت رہنماؤں سے ملنے سے تمہارے آقا نواز نے انکار کر دیا اور مودی سے ملاقات کی۔
    کشمیر سے نواز لیگ کا رشتہ اتنا ہی ہے کہ ہمیشہ کشمیر کے قاتل مودی کو نواز شریف نے خاندانی دوست کا درجہ دیا
    جس مودی نے کشمیریوں کیلیے جینا دوبھر کردیا اسی مودی کو نواز شریف نے بغیر ویزے کے نواسی کی شادی پہ بلایا اور ریڈ کارپٹ بچھا کر استقبال کیا
    نواز شریف وہ کرپٹ سیاستدان ہے جس نے ہمیشہ ذاتی مفاد کی سیاست کی ، پاکستان کو نقصان پہنچایا اور ہمیشہ بھارتی آقاؤں کو خوش کیا ۔مودی اور واجپائیوں سے اپنے مفاد کیلیے یارانے رکھے اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچایا
    بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان ڈیم نا بنا سکے اور اس کوشش کا پورا ساتھ نواز شریف نے نبھایا
    زرداری کیساتھ ملکر کالا باغ ڈیم کو دفنایا ، دیامر بھاشا ڈیم پر کام رکوایا اور پھر 2018 میں نیلم جہلم ڈیم پر کھڑے ہوکر بھارت سے بجلی خریدنے کا اعلان کر کے پاکستان کیساتھ غداری اور انڈیا کیساتھ یاری نبھائی ۔

    2016 میں جب نواز شریف پر پانامہ کا گھیرا تنگ ہوا تو بھارتی تجزی نگار نے برملا اعتراف کیا کہ بھارت نے نواز شریف پر انویسٹ کیا ہوا ہے وہ اسے بچانے کے بھرپور اقدامات کریں گے ،کیا یہ بیان نواز کے غدار وطن ہونے کا ثبوت نہیں ؟
    ایک ایسا وقت جب پاکستان کے حوالے سے یہ فیصلہ ہونے جارہا تھا کہ پاکستان کو دہشت گرد ممالک میں شامل کریں یا نہیں ایسے میں نواز شریف کا ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں بھارت نواز بیانیہ کہ
    ” پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں متحرک ہیں ” کیا یہ ملک سے غداری میں نہیں آتا؟ میاں سانپ کی یہ کیسی حب وطنی الوطنی ہے کہ وہ اپنے بیان سے ملک دشمن عناصر کو خوش کرنے کے چکر میں اپنے ہی وطن کو دہشت گرد ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں ۔
    نواز لیگ کی غداری کی داستانوں سے تاریخ کے اوراق سیاہ ہیں ۔یہ مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا کردوغلو ہے۔
    ذرا نہیں پورا سوچیے ،کسی جماعت ،کسی شریف،کسی زرداری کا نہیں حق اور سچ کا ساتھ دیجیے ۔اپنے ملک پاکستان کا ساتھ دیجیے ۔

  • ایک دنیا اور ایک انسان، تحریر:میاں بخش علی پیرزادہ

    ایک دنیا اور ایک انسان، تحریر:میاں بخش علی پیرزادہ

    دنیا کی اس مختصر سی اور دھوکے والی زندگی کے بعد نا ختم ہونے والی زندگی ہمارا انتظار کر رہی ہے اور ہم سب نے جان بوجھ کر اپنے بچوں کی آخرت بھلا کر دنیا میں انکو مصنوعی کامیابی کے پیچھے لگا رکھا ہے جبکہ اصل کامیابی تو موت کے بعد کی ہے جس کے لیئے ہماری کسی قسم کی کوئی تیاری نہیں … آپ آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھیں یا ہاورڈ سے آپ سے سوال تعلیمی ڈگریوں کا نہیں بلکہ اچھے اور برے اعمال کے حوالے سے ہوگا .. آپ دنیا کی تعلیم ضرور حاصل کریں بلکہ خوب حاصل کریں کوئی ممانعت نہیں مگر یہ سب الله تعالیٰ اور نبی پاک صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر چل کر ہو تو کامیابی کا ضامن ہوسکتی ہے … تب دنیا میں بھی مزے کریں اور آخرت میں بھی کامیاب ہوجائیں … مگر یہاں کچھ لوگ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا حوالہ دیکر دین دار طبقوں کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں حالانکہ وہ خود اپنا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں اور سخت خسارے میں رہتے ہیں …

    مجھے الله تعالیٰ نے صرف نو سال کی کم عمری میں عالمی شہرت کے میڈلز پہنائے ، پڑھائی لکھائی اور ذہانت میں کمال درجہ عطا کیا مگر یہ زندگی چونکہ جلد ختم ہوجائے گی اور اگلی منزل پر مجھے روک کا پوچھا جائے گا کہ ہم نے آپکو زندگی دی تھی وہ کن چیزوں میں اور کس جگہ صرف کی تو سوچیئے کہ ہمارے پاس کیا جواب ہوگا یہ وہ وقت ہوگا جب انسان حسرت کریگا کہ ایک بار الله دنیا میں دوبارہ بھیج دیں تو وہ اپنی پوری کی پوری زندگی سجدے میں گزار دیں لیکن افسوس کہ یہ موقع انسان کو دوبارہ نہیں ملے گا. میرے بھائیوں اس بڑی ناکامی کے خوف نے مجھ سے میری دنیا کی مختصر سی زندگی کی شہرت بھلا رکھی ہے اور میں اس کوشش میں ہوں کہ کیسے اپنی قوم کے بچوں کو صراط مستقیم پر لاکر بچاؤں … کسے ان بچوں کی خوب صورت تربیت کروں کہ جس سے نا صرف وہ پاکستان اور امت مسلمہ کے لیئے کارآمد ثابت ہوسکیں بلکہ الله اور نبی پاک صلى الله عليه وسلم بھی خوش ہو جائیں.اس دنیا کی شہرت دولت اور پروٹوکول سب ختم ہونے والا ہے یہ وہ جالا ہے جس میں شیطان انسان کو پھنسا کر ناکام بنانا چاہتا ہے . میری تقریریں اب بھی چل رہی ہیں میری دنیاوی انگریزی تعلیم اب بھی جاری و ساری ہے بس پہلے اور اب میں صرف اتنا فرق آیا ہے کہ اب میں کچھ بھی کام کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھتا ہوں کہ میرے نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ کیا تھا . میرے الله نے مجھے زندگی گزارنے کے لیئے جو قرآن بھیجا ہے وہ میری زندگی کے حوالے سے کیا کہتا ہے. بس اتنی سی بات سے ہم دین کو سخت جان کر اس سے اس لیئے بھاگ رہے ہیں کہ لوگ کہیں گے کہ بندا مولوی بن گیا ہے . جو تضحیک ہم لوگ آج کل علما کی کر رہے ہیں وہ بھی ہماری ناسمجھی ہی ہے کیونکہ جس معاشرے میں لوگوں کے دلوں میں دین کی اہمیت اور قدر نہیں ہوگی تو وہاں کے علما کے ساتھ پھر یہی رویہ برتا جاتا ہے … میرے بھائیوں یہ دین صرف مولویوں کے لیئے نہیں آیا دین ایک طرز زندگی ہے ایک ترتیب ہے جو ہم سب کے لیئے چودہ سو سال پہلے پیش کیا گیا … آپ کے انگریزی سکول تو ابھی بنے ہیں جبکہ دین کا معاملہ تو صدیوں پرانا ہے …

  • میرے کراچی کے مسائل .تحریر:ام سلمہ

    میرے کراچی کے مسائل .تحریر:ام سلمہ

    پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی کا کاغذوں پر 2 کروڑ عوام طویل عرصے سے مختلف پریشانیوں کا شکار ہیں۔ جرائم ، پانی کی قلت ، اور بجلی کی قلت کچھ بڑے مسائل ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پورا شہر اس طرح کے جان لیوا پریشانیوں کے مضر اثرات میں پھنس گیا ہے۔ان مسائل نے نہ صرف پاکستان کے معاشی مرکز کو گھیرے میں لے لیا ہے بلکہ انھوں نے کراچی کے بے بس لوگوں کو بھی درہم برہم کردیا ہے۔

    میں چاہتی ہوں صوبائی اور وفاقی گورمنٹ کراچی کے پانچ بڑے مسائل کی طرف توجہ دے جن کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ضرورت ہے۔

    سب سے پہلے ، شہر میں پانی کے شدید بحران کے سلسلے میں کافی نقصان ہوا ہے۔ تاہم ، اگر اس کا انتظام نہ کیا گیا تو یہ کراچی کے بدترین متاثرہ علاقوں میں تشدد کا باعث بن سکتا ہے۔

    دوسرا ، سب سے زیادہ آبادی والے شہر پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بگڑتی ہوئی آگ نے آگ کو مزید اکسایا ہے۔ میٹرو اور گرین بس پروجیکٹس ابھی باقی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ، ٹریفک جام مزید خراب ہوگیا ہے۔ اگر لوگوں کا ٹرانسپورٹ کا ایک اچھا اور عمدہ نظام ہوتا تو لوگوں کو اس مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

    تیسرا ، غیر قانونی بستیوں اور اراضی پر قبضہ کرچی سے ختم کرنا ضروری ہے۔ سیاسی حمایت کے ساتھ لینڈ مافیا ایک خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ روشنی والے شہر کی سرزمین سے ایسے مافیا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

    چوتھا، کراچی ، وفاق کی 60 فیصد محصولات پیدا کرنے کے باوجود مشکل سے 10 فیصد وفاقی وسائل حاصل کرتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی مشترکہ کاوشیں جرائم ، بجلی کی قلت اور بیروزگاری کے خاتمے کو ختم کرسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں ، پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے بڑے شہر کو وفاقی وسائل کی ضرورت ہے جو 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

    پانچواں آلودگی ، شہری شہری منصوبہ بندی اور کچرے کو کچلنے اور ضائع کرنے کے مناسب نظام کی عدم موجودگی نے کراچی کو دنیا کا سب سے مایہ ناز شہر بنا دیا ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے متعلقہ حکام کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو مضبوط کرنا ہوگا۔ حکومت کو آلودگی سے متعلق عوامی آگاہی مہم بھی چلانی ہوگی۔

    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ، معاملات بہت سنگین ہیں۔ لوگوں کو اس طرح کے مہلک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ، مناسب ارادے اور عزم کے ساتھ ، صوبائی گورمنٹ وفاق حکومتِ کے ساتھ مل کر ان مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ کراچی کا شہر روشن ، ایک بار پھر بین الاقوامی تجارت اور مالیات کا مرکز بن سکتا ہے۔

  • واقعی نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے،،تحریر: حمزہ چودھری

    واقعی نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے،،تحریر: حمزہ چودھری

    حالیہ دنوں میں کشمیر میں انتخابی مہم کا بازار گرم ہے ۔ ہر جماعت انتخابی مہم میں مصروف ہے ۔ اسی انتخابی مہم میں مریم نواز نے کچھ لطیفے چھوڑے ہے جس میں دو درج ذیل ہے۔
    1) نواز شریف کشمیر کا بیٹا ہے۔۔۔۔
    2) نواز شریف کشمیر کے لیے جنگیں لڑے گا۔۔۔۔

    اب ان لطیفوں کے بعد کچھ لکھنے کو دل کر رہا ہے لہذا میں آپ کو نواز شریف کے ماضی میں لے جاتا ہو اوع ثابت کرتا ہو نواز شریف کشمیریوں سے کتنا مخلص ہے۔
    کارگل کی جنگ شروع ہوئی تو بھارت نے امریکہ کے ذریعے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالا جسے نواز شریف نے فراخ دلی سے قبول کیا اور امریکہ جا کر اعلان واشنگٹن کر آئے حالانکہ خود بھارتی جرنیل اور تجزیہ نگار اس بات کا اعتراف کرتے ہے کہ کارگل کی جنگ میں پاکستان نے کئی کلومیٹر تک بھارتی علاقہ کلئیر کرا لیا تھا اور اگر جنگ نا روکتی تو کشمیر کی صورتحال بھی مختلف ہوتی۔ جنگ بندی کے بعد جب بھارتی وزیراعظم پاکستان آیا تو نواز شریف نے ایک تقریب میں ہندو اور مسلمانوں کے رب (نعوذ باللہ) ایک قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی فوج نے کارگل میں بھارت کے ساتھ غلط کیا۔

    صرف اتنا نہیں یہ وہی نواز شریف ہے جنہوں نے بھارت میں حریت رہنماؤں سے ملنے سے انکار کر دیا تھا اور کجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے مودی کو بغیر ویزہ پاکستان اپنی نواسی کی شادی میں بلا لیا اور وہاں چھپیاں اور پپیاؤں کے ساتھ تحائف کے تبادلے بھی ہوئے لیکن کشمیر کے معاملے میں نواز شریف کے منہ سے ایک لفظ نا نکلا ۔ پاکستان کی ایجنسیوں نے گلبھوشن کو پکڑا تو نواز شریف کے منہ سے ایک لفظ تک نا نکلا۔

    جندال کاروباری سلسلے میں پاکستان آیا تو مری میں آزاد کشمیر کے جھنڈے غائب کر دیے۔

    صرف اتنا نہیں جب مشکل وقت آیا تو یہی نوز شریف نے بمبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگا دیا اور پاکستانی ایجنسیوں کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی کوشش کی۔

    یہ ہے کچھ کرامتیں اور جنگیں جو نواز شریف نے ماضی میں کشمیر اور پاکستان کے لیے لڑی۔
    (چودھری حمزہ)

  • آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    آزادی اظہار رائے. تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کی صلاحیت دی ہے۔ اور جب انسان غور و فکر کرتا ہے تو مختلف قسم کے خیالات جنم لیتے ہیں اور اُن خیالات کا اظہار بھی ایک فطری امر ہے۔ اس لیے اظہارِ رائے کی آزادی شاید انسان کا بنیادی حق ہے۔

    یہ ضروری نہیں کہ انسان اپنے خیالات کا اظہار صرف زبان کے ذریعے کرے، بلکہ انسان کا لباس، اُسکا رہن سہن کا طریقہ، اُسکا عمومی رویہ، معاشرتی برتاؤ اور احساس زمہ داری سب اظہار کرنے کے طریقے ہیں۔

    ہر انسان فطری طور پر آزاد نظریات کا حامل ہوتا ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص آپ پر اپنے خیالات اور نظریات تھوپ نہیں سکتا، اسی طرح ہم بھی کسی پر اپنے نظریات نہیں تھوپ سکتے۔ آزادی ایک فطری عمل ہے اور انسان کا بنیادی حق بھی۔

    لیکن آزادی کیسی بھی ہو اِسکی کچھ حدود ضرور ہوتی ہیں، مذہبی حدود، قومی حدود، معاشرتی حدود اور اخلاقی حدود وغیرہ۔ یہ سب حدود کسی بھی مہذب معاشرے میں امن و امان، انصاف اور خوشگوار ماحول کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔

    معاشرے کا ہر فرد چاہتا ہے کہ کوئی اُسکی زندگی یا آزادی میں عمل دخل نہ دے، لیکن جب کوئی اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے تو دوسرے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی کو عمل دخل دینا پڑتا ہے، اس طرح معاشرے میں نہ صرف اختلافات جنم لیتے ہیں بلکہ اُن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت بھی آتی ہے۔

    آج ہمارا معاشرہ جس اخلاقی زوال کا شکار ہے اسکی وجہ سے ہم نے اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔ اسے منافقت کہیں یا دوغلا پن لیکن ہم لوگ اپنے لیے تو ہر طرح کی آزادی چاہتے ہیں لیکن دوسروں کی آزادی ہمیں قبول نہیں، ہم دوسروں پر تو تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن خود پر تنقید قبول نہیں، ہمیں اپنا جھوٹ تو قبول ہے لیکن کوئی اِسکی تصحیح کرے، یہ قبول نہیں۔

    لباس انسان کی سوچ اور نظریات کی عقاسی کرتا ہے، اور ہر انسان اپنی پسند کے مطابق لباس کا انتخاب کرتا ہے۔ کوئی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے پر مجبور نہیں کر سکتا نہ ہی کسی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے سے روک سکتا ہے۔ البتہ مذہب اور معاشرہ لباس کے انتخاب کے لیے کچھ حدود ضرور متعین کرتا ہے جو کہ انسانوں کی ہی فلاح کے لیے ہیں۔

    کُچھ عرصے سے لبرلز کے ایک گروپ کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ کو اُن کے پردے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن جب عمران خان نے ایک انٹرویو میں فحش اور نا مناسب لباس اور اسکے معاشرے پر ہونے والے اثرات کی بات کی تو ان لوگوں نے سب سے زیادہ شور بھی مچایا۔

    یہ منافقت ہی تو ہے کہ آپ خود تو مذہب یا معاشرے کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اپنی سوچ کے مطابق لباس کا انتخاب کرنے کو اپنا حق سمجھیں اور پہنیں، لیکن کوئی دوسرا اگر مذہب کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی لباس منتخب کرے تو آپ اُسکا مذاق اڑائیں اور تنقید کریں۔

    آزادی اظہار رائے یہ تو نہیں کہتی کہ آپ خود تو دوسروں کے پہناوے پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھیں لیکن اگر کوئی دوسرا آپ کے پہناوے پر بات کرے تو کہہ دیں کہ کسی کو آپ کے لباس کے متعلق بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔

    کچھ روز قبل ایک خاتون وکیل اور فیمینسٹ نے ایک خاتون جرنلسٹ پر دوغلے پن کا الزام لگایا، اس الزام کی وجہ یہ تھی کہ خاتون صحافی نے ہم ٹی وی کے ایک پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی تھی جس کی میزبانی ایک مشہور زمانہ سنگر کر رہے تھے۔

    اُس سنگر پر کُچھ عرصہ قبل ایک خاتون اداکارہ کی طرف سے ہراسمنٹ کا الزام لگایا گیا تھا، جو کہ بعد میں ثابت نہ کیا جا سکا۔

    لیکن حال ہی میں وہی فیمینسٹ بطور وکیل، ایک خاتون صحافی کے ایک یو ٹیوبر پر کیے گئے ہراسمنٹ کیس میں اُس یو ٹیوبر کی طرف سے کیس لڑ رہی ہیں۔ خاتون وکیل کے موکل نے ایک خاتون صحافی کو ہراس کرنے کے ساتھ گھٹیا قسم کے الزام بھی لگائے تھے۔

    یہ اخلاقی منافقت کی ایک اور مثال ہے۔ ایک طرف آپ کسی پر اس بات کی وجہ سے تنقید کریں کہ اس نے ایک ایسے شو میں شرکت کی جہاں ایک ملزم میزبانی کر رہا تھا، دوسری طرف آپ اُس شخص کی وکالت کریں جس پر خاتون کی ہراسمنٹ کرنے کا کیس چل رہا ہے، اور تیسری طرف آپ خواتین کی ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے کا ڈھونگ کریں۔
    (یاد رہے پہلے بھی اسلام آباد کی ایک عدالت نے جھوٹے الزامات لگانے کے ایک کیس میں اُس یو ٹیوبر کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔)

    لبرلز کا ایک گروپ، جو بات تو خواتین کے حقوق کی کرتا ہے لیکن حمایت صرف اُن کی کرتا ہے جن کے خیالات انکے نظریات کے مطابق ہوں، جن کے خیالات انکے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتے اُن پر صرف تنقید کی جاتی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بات کرنے کی آزادی صرف انکو ہے، کسی دوسرے کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ اِنکے خیالات سے اختلاف کرے۔ ان کے کسی ساتھی سے اگر کوئی بدتمیزی یا اختلاف کرے تو یہ لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، لیکن اگر انکا ساتھی کسی کے ساتھ بدتمیزی بھی کرے تو وہ قصور وار نہیں سمجھا جاتا۔

    اس سب کے علاوہ آجکل ہماری صحافت کے حالات بھی کچھ نازک ہی ہیں۔ ایک طرف سکرین پر بیٹھ کر نہ صرف حکومت اور فوج پر بلکہ ریاست پر بھی تنقید کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف آزادی اظہارِ رائے پر پابندیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔

    صحافی حضرات ذرائع کے نام پر بغیر تصدیق کے خبریں شیئر کرتے ہیں، اور اگر کوئی ادارہ ذرائع کا پوچھ لے تو دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی خبر کی تردید کر دی جائے تو انکی صحافت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے، اور یہ تصیح کرنے والوں پر ہراسمنٹ کا الزام لگا دیتے ہیں۔

    اگر کسی صحافی کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہو جائے تو الزام فوج یا اداروں پر لگا دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایکٹوسٹ شمالی علاقوں میں سیر کرنے گیا، کچھ صحافیوں نے رابطہ نہ ہونے پر الزام لگا دیا کہ اُسے ایجنسیوں نے اٹھا لیا ہے، لیکن اُس ایکٹوسٹ کی واپسی کے بعد حقیقت سامنے آنے پر کسی نے معذرت تک نہ کی۔
    حال ہی میں ایک یوٹیوبر کی کچھ لوگوں نے پٹائی کی لیکن موصوف نے بیان دیا کہ اسے آئی ایس آئی نے مارا ہے اور مزید کہا کہ مارنے والوں نے مار پیٹ کرنے سے پہلے اپنا تعلق خفیہ ایجنسی سے بتایا تھا۔
    اس واقعہ پر فوج پر خوب تنقید کی گئی، لیکن اس شخص کے قریبی دوست نے اپنی سٹوری میں کہا کہ یہ حملہ ایک دوسرے صحافی نے کروایا ہے۔
    اس طرح ہمارے ایک اور پیارے صحافی جن پر کچھ سال قبل حملہ ہوا تھا، ہمیشہ اُس حملے کا الزام فوج پر لگاتے آئے ہیں، حال ہی میں یہ عقدہ کھلا کہ اُن صحافی صاحب کو بہت پہلے ہی اصل مجرم کا بتا دیا گیا تھا جس کو وہ نہ صرف ہمیشہ چھپاتے رہے بلکہ الزام خفیہ اداروں پر لگاتے رہے۔ لیکن پھر بھی ہمارا شکوہ یہی ہے کہ ہمیں کام کرنے کی آزادی نہیں دی جا رہی۔

    حال ہی میں میڈیا پر ایک شور بھرپا ہوا کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دے رہا ہے۔ جس کی حکومت کی طرف سے تردید کی گئی۔ ایک انٹرویو میں جب عمران خان سے یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔ اس تردید کے بعد جن لوگوں نے فوجی اڈے دینے کی بات پر واویلہ کیا تھا، وہ اب اس بات پر واویلہ کر رہے ہیں کہ جب امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے ہی نہیں تو حکومت انکار کس کو اور کیوں کر رہی ہے۔

    یہ بھی ایک منافقت ہے کہ ہم صحافی حکومت یا اداروں پر تنقید کرنا اور گالیاں دینا تو اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن اگر کوئی ہم پر تنقید کرے تو اس پر ٹرول کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جہاں اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کیا وہاں یہ بھی کہا کہ یہ کسی حدود کے بغیر نہیں ہونی چاہیے اور اس سے مخصوص برادریوں کی جب دل چاہے اور بلاوجہ دل آزاری نہیں ہونی چاہیے۔

    آزادی اظہار رائے کسی حدود کے بغیر نہیں ہوسکتی، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہمیں بولنے کا حق ہے تو دوسروں کو بھی بولنے کا حق ہے، اور ہم اظہارِ رائے کی ایسی آزادی کے متحمل نہیں ہو سکتے جس سے ہمارے وطن کی سالمیت اور معاشرتی اقدار متاثر ہوتی ہو۔

  • ثریا عظیم ہسپتال (ٹرسٹ )کے نام غریبوں کا استحصال . تحریر: نسیم الحق زاہدی

    ثریا عظیم ہسپتال (ٹرسٹ )کے نام غریبوں کا استحصال . تحریر: نسیم الحق زاہدی

    ٹرسٹ کا مطلب وہ املاک جونیک مقاصد کے لیے وقف کردی جائے ۔عام حالات میں ہم جب بھی کسی ادارہ کے ساتھ لفظ ٹرسٹ لکھا دیکھتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں یہ تصور ہوتا ہے کہ ایک رفاہی ،فلاحی ادارہ ہوگا یہی لفظ اگر بالخصوص کسی ہسپتال کے ساتھ لکھا ہواہو تو اس کا مطلب ہے کہ یہاںپر ایک معمولی سی فیس کے اندر مستحق افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جوکہ عام انسان کو کسی سرکاری ہسپتال میں میسر نہیں آتیں ۔ہمارے ایک دوست بڑی خوب بات کہا کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتال میں بندہ صرف جان سے جاتا ہے جبکہ پرائیوٹ ہسپتال میں جان کے ساتھ ساتھ مال سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ۔یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے اندر اتنے مسلمان نہیں ہونگے جتنی مذہبی تنظیمیں ہیں اور وہ بھی اس قدر طاقتور کہ چلتے ملک (سسٹم )کو جام کرسکتیں ہیں زندہ کئی مثالیں موجود ہیں مگرافسوس کہ 73سالوں میں ”اسلامی نظام“نافذ نہیں ہوسکا کیونکہ ان کا ایجنڈا ”اسلام“نہیں اسلام آباد اور ”پیٹ“ہے ۔آج کہیںخدمت تو کہیں مذہب تو کہیں جمہوریت کے نام پر معصوم بھولی بھالی عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے”سبھی رانگ نمبر“ہیں اور ظلم تو یہ ہے کہ انکو کوئی پوچھنے والا نہیں یہ لوگ اس قدر طاقتور ہیں کہ جب کوئی انکی اصلیت کو عیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی زبان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردی جاتی ہے ۔ میری جماعت اسلامی کے بارے سوچ ذرہ مختلف تھی کیونکہ میں سید ابوالامودودی ؒکے افکارات،نظریات اور خدمات کو پڑھ چکا ہوں ۔ثریا عظیم (ٹرسٹ)ہسپتال جوکہ جماعت اسلامی کا ہے اور جہاں پر بلا امتیازرنگ ،نسل ومذہب انسانیت کی خدمت کا دعویٰ کیا جاتا ہے آئیے ذرہ اس دعویٰ کی حقیقت کو جاننے کی ادنیٰ سی کوشش کرتے ہیں عام چیک اپ پرچی فیس مبلغ سوروپے ہے بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جوکہ یہ فیس ادا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ،سپشلسٹ ڈاکٹر کی فیس مبلغ پندرہ سو روپے سے لیکر تین ہزار اور بعض کی تو یقینا اس سے بھی زیادہ ہوگی ۔الٹراساﺅنڈ اور دیگر ٹیسٹ دوسری لیبارٹریوںسے بھی مہنگے ہیں کیونکہ یہ ”ٹرسٹ “ہے ڈرپ لگوانے کے دوسو روپے اور انجکشن لگوانے کے پچاس روپے ۔

    راقم الحروف عرصہ چار سال تک ایک میڈیکل سنٹر پر ملازمت کرتا رہا ہے ۔اچھی طرح علم ہے کہ ایک غیر معیاری میڈیسن کمپنی اپنے میڈیکل ریپ کے ذریعے کس طرح اپنی ادویات کی فروخت کے لیے ڈاکٹر زحضرات کو اچھی خاصی رقوم سے لیکر گاڑیوں سمیت اندورن بیرون ممالک کے دورے بھی شامل ہیں ۔ایک اچھی کمپنی کا انجکشن جو کہ تین سو روپے میں دستیاب ہے وہی انجکشن اسی سالٹ میں غیرمعیاری اور ٹھیکے کی کمپنی کا مبلغ پندرہ سوروپے میں فروخت ہوتا ہے ۔میڈیکل سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دنیا بھر میں ہر دوائی کا الگ فارمولا(سالٹ)ہوتا وہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہر کمپنی مختلف نام سے اس سالٹ کی دوائی تیار کرتے ہیں جس طرح اسپرین سالٹ کو مختلف کمپنیاں مختلف ناموں سے تیار کرتی ہیں سب سے مشہور” ڈسپرین “ہے ۔اکثر یہ تجربہ کرنے کو ملتا ہے کہ جوڈاکٹر کسی پرائیوٹ ہسپتال یا کلینک میں کسی مریض کومیڈیسن تجویز کرتا ہے (اب تو سرکاری ہسپتالوں کا یہی حال ہے ) وہ ادویات یا تو اسی ہسپتال کی فارمیسی سے ملتی ہیں یا پھر اس سے ملحقہ ایک مخصوص فارمیسی سے ملتی ہیں ڈاکٹر باقاعدہ حکم دیتا ہے کہ جو میڈیسن لکھی ہیں وہی لی جائیں اور فلاں میڈیکل سٹور پر دستیاب ہونگیں۔ثریا عظیم ہسپتال میں ایک عام بچوں کے ڈاکٹر وسیم جوکہ تقریباً ہر بچے کو معمولی سی تکلیف پر تیرہ ،چودہ سو روپے کی ڈرپ لگوانے کی فوری ہدایت کرتا ہے اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کرتا ہے کہ میڈیسن ہسپتال کی فارمیسی سے خریدی جائیں ،یقین کریں وہی ادویات اچھی کمپنی کی معیاری فارمیسی سے چھ سے سات سوروپے کی ہوتی ہیں جوکہ ہسپتال کی فارمیسی سے غیر معیاری ادویات تیرہ سے چودہ سو روپے کی ہوتی ہیں ۔کئی بار یہ تجربہ ہوچکا ہے اگر ڈاکٹر صاحب کو اس کی پرچی کے مطابق ادویات باہر کی فارمیسی سے اچھی کمپنی کی لاکر دیں ہیں تو انہوں نے رعونت بھرے لہجے میں کہا کہ ڈاکٹر میں ہوں یا کہ تم ؟۔ہر ڈرپ کے ساتھ ڈرپ ٹیپ منگوائی جاتی ہے ایک ٹیپ تقریباً دو سے تین لوگوں کے لیے استعمال ہوسکتی ہے مگر وہ بقیہ ٹیپ واپس نہیں کی جاتی اور وہی بقیہ ٹیپ مہارت سے اگے مریض کو لگائی جاتی ہے اور نئی ٹیپ رکھ لی جاتی ہے جوکہ یقینا رات کو اکھٹی کرکے واپس کردی جاتی ہونگیں۔مجھ جیسے بے بس لوگ ہسپتال کی فارمیسی سے ادویات خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ہسپتال کے اندر غریب اور مستحق افراد کے تقریباً فری علاج کے لیے مخیر حضرات کی طرف سے دی گئی زکوة،صدقات،عطیات اور دیگرز فنڈ ز سے ایک باقاعدہ شعبہ موجود ہے ۔

    امیر جمات اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد سے اچھا تعلق ہے اور وہ واقعی ایک نفیس ،بااخلاق،باکرداراور درد دل رکھنے والے انسان ہیں ۔وہ اکثر ثریا عظیم ٹرسٹ ہسپتال میں غرباءکے فری علاج اور جماعت کی دیگر خدمات کے متعلق آگاہ کرتے رہتے ہیں پراثر اور پر تاثیر گفتگو کے ساتھ ساتھ سحر انگیز لہجہ بھی رکھتے ہیں۔اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے اخبارات،ٹی وی چینلز کی رونق بنے رہتے ہیں۔ایک مشہور کہاوت ہے کہ جس شخص کا ہمسایہ بھوک سے مرجائے ،سخی اسکو کہلوانے کا کوئی حق نہیں ۔آپ نے سندھ میں میڈیکل کیمپس لگاکر ہزاروں لوگوں کو فری ادویات دیں،آپ نے شیخوپورہ میں دوسو افراد کی آنکھوں کے آپریشن کیے ،مگر آپ کے ہمسائے کے پاس اپنے بچے کا چیک اپ کروانے کے لیے ڈاکٹر کی فیس نہیں ہے بتائیے ایسی سخاوت کا کیا حاصل ؟۔مسجد تو بنادی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے ۔من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں سے نمازی بن نہ سکا ۔راقم الحروف لٹن روڈ جماعت کے دفتر کا پڑوسی ہے ۔بیٹی کی طبیعت ناساز تھی اورہسپتال میں مستحق افراد کے شعبہ کے انچارج سے رابطہ کیا اور عرض کی کہ ہسپتال میں بچوں کے ایک انتہائی قابل سپشلسٹ فرشتہ صفت ڈاکٹر اقبال احمد اظہر سے چیک اپ کروانا ہے پرچی فیس مبلغ پندرہ سوروپے معاف کردی جائے۔کیونکہ موجودہ حکومت نے برابری کی وہ زندہ مثال قائم کی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی کل تک لوگوں کو زکوة،صدقہ،خیرات دینے والے آج لینے والوں میں ہوئے بیٹھے ہیں ۔ادھر ہمارے اعمال بد کا نتیجہ ”کرونا“اور مسلسل لاک ڈاﺅن نے مجھ جیسے لاکھوں افراد کو خود کشی کرنے پر مجبور کردیا ہواہے ،خدا نے حرام موت مرنا حرام کیا ہے اور حاکم وقت نے جینا۔

    معلوم ہوا کہ پرچی فیس معاف نہیں ہوسکتی یہ امیر لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد کا فرمان ہے ۔ خود امیر محترم کو کال کی جسارت کی تو حسب روایت انہوں نے نمبر مصروف کردیا پہلے تو کبھی کال سن لیا کرتے تھے مگر مسلسل”امارت“اور خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آہی جاتی ہے والی بات ۔ہم بھی بہت سے بڑے لوگوں کے ساتھ بہت سا وقت گزار چکے ہیں اور اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی سے بات نہ کرنی ہو تو کس طرح فون کاٹ کر مصروفیت کا میسج بھیجا جاتا ہے ۔عرصہ بائیس سال سے”قلم“سے جڑے ہوئے ہیں دو سیرت النبی پر اور کشمیر پر کتاب بھی لکھ چکا ہوں مگر میری ان خدمات سے انکو کیا فائدہ ؟یہ دور سلجوق تھوڑا ہے کہ جس میں خواجہ حسن طوسی (ابوعلی حسن ابن علی بن اسحاق)کوشاہ سلجوق اسکی علمی خدمات کے اعتراف میں ”نظام الملک“کا خطاب دینے کے ساتھ سلطنت سلجوقیہ کا وزیر اعلیٰ اور معتمد خاص مقرر کرے ۔ایک وقت تھا کہ جب اہل قلم افراد کی تخلیقات اور تصانیف پر انکی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی مگر پیشہ ور قصیدہ گو افراد نے اہل قلم افراد سے یہ حق چھین لیا ہوا ہے۔آخر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان مولانا سراج الحق اور امیر جمات لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہدسے ہاتھ جوڑ اپیل ہے کہ کہ وہ ثریا عظیم ہسپتال کے ساتھ سے لفظ (ٹرسٹ)ختم کردیں اس طرح غریبوں کا استحصال نہ کریں ۔درحقیقت یہ ایک پرائیوٹ ہسپتال ہے جہاں پر پیسے سے زندگی تو نہیں ملتی مگرعزت ضرور ملتی ہے۔۔۔

  • ڈیمز کی کمی، ہر سال لاکھوں کیوسک پانی کا ضیاع .تحریر: سیف علی

    ڈیمز کی کمی، ہر سال لاکھوں کیوسک پانی کا ضیاع .تحریر: سیف علی

    یوں تو اللہ رب العزت نے پاکستان کو پانی جیسی بیش قیمت نعمت سے مالا مال کر رکھا ہے، یہاں نہ صرف زیر زمین پانی کے ذخائر موجود ہیں بلکہ پہاڑوں پر پگھلنے والی برف اور بارشوں کے سبب دریائوں میں بھی پانی وافر مقدار میں موجود رہتا ہے مگر سالہا سال گزر جانے کے باوجود منتخب حکومتوں اور متعلقہ اداروں نے کبھی سنجیدگی سے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمز بنانے کی طرف توجہ نہیں دی جا سکی اور یوں ہر سال لاکھوں کیوسک پانی سیلابوں کی شکل میں دریائوں کے راستے سمندر کی نظر ہو جاتا ہے۔زراعت پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور غریب آبادی کے بڑے حصے کو روزگار اور خوراک کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے مگر ہمارے ہاں نہری نظام موثر نہ ہونے اور حکومت کی طرف سے وقت گزرنے کے ساتھ نہری نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار نہ کرنے کی وجہ سے پانی کی بڑی مقدار ضائع ہو کر ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کے بنجر ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ کچے اور بوسیدہ نہری نظام کی وجہ سے ضائع ہونے والے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے طاقتور وڈیرے اور زمیندار اپنی اراضی کو سیراب کرنے کے لئے نہروں میں بند بناندھ کر پانی کی فراہمی روک دیتے ہیں یوں طاقتور زمیندار تو اپنی فصلوں کو سیراب کرلیتا ہے مگر غریب اور کمزور کسان کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہرسال خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ طاقتور اور کمزور کے لئےیکساں بنیادوں پر پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاۓ تاکہ ہمارا غریب کسان خوشحال ہو اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کا کسان خوشحال تو پاکستان خوشحال۔

    سندھ کی بات کی جائے تو یہاں چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کو پیش آنے والا سب بڑا مسئلہ پانی چوری کا ہے، بڑے زمیندار نہروں میں بند باندھ کر پانی چوری کر لیتے ہیں مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ اگر سندھ بھر کی نہروں کو پختہ کر دیا جاۓ اور سندھ میں سائنسی بنیادوں پر ایسا واٹر سسٹم لایا جاۓ جس سے پانی چوری کرنا نا ممکن ہو تو چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
    پنجاب زراعت کے شعبے میں خاصی ترقی کر چکا ہے اور اس ترقی اور خوشحالی کی ایک وجہ پنجاب میں زیرزمین میٹھے پانی کے ذخائر اور پانی کی تقسیم کے نظام کا باقی صوبوں سے بہتر نظام کا رائج ہونا ہے تاہم جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں اب بھی بہتری کی خاصی گنجائش موجود ہے۔

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر ترقی کی دوڑ میں باقی صوبوں سے خاصا پیچھے ہے جس کی دیگر وجوہات کے ساتھ بلوچستان میں زیرزمین پانی کے ذخائر کی کمی ہے لحاظ سے کافی پیچھے ہے اگر ملک میں ڈیمز بنانے کی طرف دی جاتی اور لاکھوں کیوسک پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر ذخیرہ کرلیا جاتا تو بلوچستان کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بنا کر ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا تھا۔

    اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں کسی بھی دور حکومت میں ڈیمز کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام صوبوں میں نئے ڈیمز بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے نہ صرف ہمیں پانی کی کمی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے بلکہ ضائع ہونے والے پانی کو ذخیرہ کرکے ہم اپنی بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کرکے جہاں ملکی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ چھوٹے زمینداروں اور غریب طبقے کی زندگیوں میں خوشحالی لا سکتے ہیں۔

  • ضلع  تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    ضلع تلہ گنگ کا چورن اور عوامی تحریک .تحریر ۔ محمد نثار ٹمن

    1985 میں اٹک اور جہلم کے کحچھ حصوں کو ملاکر بننے والا ضلع چکوال ( تقریبا” 6524 کلومیٹر ) رقبے پر محیط ہے۔ اسکی پانچ تحصیلیں ہیں جن میں چکوال، کلرکہار، چواسیدن شاہ، تلہ گنک اور لاوہ شامل ہیں جبکہ اسکی کل آبادی لگ بھگ 15 لاکھ افراد کے قریب ہے۔ چکوال کو اپ گریڈ کرتے وقت ، تحصیل تلہ گنگ کو ضلع اٹک سے منسلک کیا گیا تھا اور اس وقت اسے ضلع چکوال کا دوسرا سب ڈویژن بنایا گیا تھا۔ پانچ تحصیلوں میں تلہ گنگ سب سے بڑی اور گنجان آبادی پر محیط تحصیل ہے۔ اس میں تقریبا” 17 یونین کونسلز، 80 کے قریب چھوٹے بڑے دیہات / گاوں، 320 کے قریب مختلف تعلیمی ادارے (سکولز ، کالجز) اور 3 پولیس اسٹیشن شامل ہیں ۔
    اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو تحصیل تلہ گنگ لگ بھگ 85 سال تک (1901-1985) تک انتظامی طور پر ضلع اٹک کے زیر اثر رہا ہے اور 1985 میں جب چکوال کو ضلع بنایا گیا تو اس علاقے کو اسکے ساتھ منسلک کردیا گیا۔ اسی سال یعنی 1985 میں پاکستان میں غیر جماعتی انتخابات کروائے گئے، تو ان کے ذریعہ ذات، برادری، دولت و حیثیت اور روایتی سیاسیی خاندانوں کو استحکام بخشا گیا۔ اس استحکام کی بدولت خاندانی سیاستدان ہر مرتبہ منتخب ہوکر اسمبلیوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ 1985 سےلیکر تاحال یہاں کی سیاست نظریات کی بجائے مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتی آرہی ہے۔ یہ چند مخصوص لوگ مخصوص سیاسیی جماعتوں کے ٹکٹس پر الیکشن لڑتے ہیں اور اگر پارٹی انکو ٹکٹ نہ دے تو یہ فورا” ہی کسی بھی دوسریسیاسیی جماعت کے ساتھ الحاق کرلیتے ہیں۔ بلفرض متبادل پارٹی بھی ٹکٹ سے محروم رکھے تو یہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

    اسی موورثی سیاسیی پالیسی کی وجہ سے انہوں نے اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں اپنی سیاسیی اجارداری اور وڈیرہ شاہی قائم کررکھی ہے۔ اپنے لیے حمایتی، مالی سپورٹرز اور موورثی طور پر سیاسیی اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو پال رکھا ہے، جو الیکشنز میں انکے دست راست بنکر انہیں ہر طرح کی مدد فراہم کرتے ہیں۔ 1985 سے لیکر تاحال تلہ گنگ کی علاقائی سیاست میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہ ہوسکی۔ لگ بھگ 36 سال سے یہاں کے وڈیرے اور موورثی سیاستدانوں کی سیاست ایک ہی ڈگر پر چلی آرہی ہے ۔سال 1988 سے لیکر 2018 تک کے الیکشنز تک تمام سیاسیی جماعتوں نے "ضلع تلہ گنگ” کے نعرے کو انتخابی مہمات کے دوران "قومی نعرے” کے طور پر استعمال کرکے عوام کے جائز حق پر ڈاکہ ڈالتے آرہے ہیں۔
    سال 2014 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی ڈاریکٹو آرڈر کا ایک عدد ردی کاغذ بنام ضلع تلہ گنگ ایشو کیا تھا اور ہمیشہ کیطرح میاں جی نے بھی یہ چورن بیچ کر عوام کی داد موصول کرلی تھی۔ ابھی چند روز پہلے موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے چئیر مین اور وزیراعظم عمران خان کیطرف سے بھی متعلقہ انتظامیہ کو تحصیل تلہ گنگ کی اپ گریڈیشن کےلیے ایک عدد سرکاری ڈاریکٹو آرڈرز جاری ہوچکا ہے، لیکن تاحال تلہ گنک کی سیاسیی بے یارو مددگار عوام کو اس حوالے سے کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ دوسری جانب این اے 65 کی تمام سیاسیی جماعتیں ڈاریکٹو آڈرز کےلیے کریڈیٹ کریڈیٹ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تمام سیاسیی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام ترشی کرتی نظر آرہی ہیں، کوئی پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں لگا ہے تو کوئی عوام کی داد موصول کرکے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ اس تحریک نے اور سیاسیی پوائنٹ کورنگ کی رفتار نے اس وقت مزید زور پکڑ لیا جب حکمران جماعت کی اتحادی ق لیگ کے صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر نے "ضلع تلہ گنگ” کے حوالے نے بیان دیا کہ ” ضلع تلہ گنگ قابل عمل منصوبہ نہیں ہے” ۔ اس مایوس کن بیان کے آتے ہی سوشل میڈیا پر سوشل ورکرز اور سیاسیی جماعتوں کیطرف سے مسلم لیگ ق پر تنقید کے تیروں کی بارش شروع ہوگئی، تحریک انصاف، نون لیگ اور باقی سیاسیی جماعتوں نے حافظ عمار یاسر کے اس مایوس کن بیان کی شدید الفاظ میں مزاحمت کی اور انکا کہنا تھا کہ اگر "ضلع تلہ گنگ” قابل عمل منصوبہ نہیں ہے تو اپنی الیکشن مہمات کے دوران یہ چورن کیوں بیچا گیا ہے ؟ عوام سے کیوں جھوٹ بولا گیا؟ عوام کی آنکھوں میں کیوں دھول جھونکی گئی؟ عوام کو کیوں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاکر ان سے ووٹ حاصل کیے گئے ؟ آخر کب تک تلہ گنگ کی عوام کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں گی ؟ کب تک عوام اپنے مسائل کی پوٹلیاں اٹھا کر چکوال جاتی رہے گی ؟ کب تک عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کےلیے گھنٹوں لمبی لائن میں کھڑا ہونا پڑے گا ؟ کب تک عوام کو بنیادی ضروریات کے ضروری کاغذات بنوانے کےلیے گھنٹوں روڈ پر ٹرانسپورٹ کےلیے زلیل و رسو ا ہونا پڑے گا؟

    اس وقت سوشل میڈیا پر "تلہ گنگ کو ضلع بناو” تحریک زور و شور سے جاری ہے۔ ابھی تک سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان، سوشل ورکرز، سیاسیی و سماجی کارکن، صحافی برادری، اساتذہ کرام، ڈاکٹرز الغرض تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں اور نہ صرف ضلعی سطح پر اس تحریک کو چلایا جارہا ہے بلکہ بیرون ملک سے بھی کثیر تعداد میں نوجوانوں نے اس تحریک کو جوائن کرلیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم نوجوانوں کیطرف سے "ضلع تلہ گنگ” کےلیے اسپیشل دعائیں بھی کی گئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر موجود تمام افراد کا کہنا ہے کہ اب یہ تحریک "ضلع تلہ گنگ ” کے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ایسے ہی چلے گی اور کسی قسم کی سیاسیی یا حکومتی ہیرا پھیری میں نہیں آیا جائے گا۔ تمام افراد کا ایک ہی نعرہ، "بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا” بناو تلہ گنگ ضلع ہمارا”۔ تحریک کے شرکاء کا کہنا ہے کہ اس بار ہمیں سیاسیی پارٹی بازیوں سے بالا تر ہوکر "ضلع تلہ گنگ” کےلیے کوشش کرنی ہے ، تمام اختلافات کو ایک طرف رکھ کر، صرف مشترکہ مفاد کو اپنانا ہے، نون، ش، ق، پی ٹی آئی سب کو بھول کر عوامی مفاد کو سامنے رکھنا ہے۔
    ہماری وزیراعظم پاکستان عمران خان ، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر معدنیات عمار یاسر سے گزارش ہے کہ خداراہ اب تلہ گنگیوں کے حال پر رحم کریں اور نصف صدی سے چلی آرہی تحصیل کو "ضلع تلہ گنگ” بنایا جایا تاکہ عوام کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوسکے۔