Baaghi TV

Category: سیاست

  • نگر اور صحت .تحریر: یاور عباس

    نگر اور صحت .تحریر: یاور عباس

    نگر قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ یہاں کے خوبصورت مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں لیکن ان دونوں نگر کے نوجوانوں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی انسانی حقوق کو لیکر سڑکوں پر ہیں آج ہم صحت کے مسائل پر بات کریں گے کہ آخر نگر میں صحت کے اتنے گھمبیر صورتحال کیسے پیدا ہوئے اور ان کا حل کیسے ممکن ہیں سب سے پہلے نگر میں موجود ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کا جائزہ لینگے اور سرکاری اعداد شمار پر ہی بات کریں گے۔
    ضلع نگر میں اس وقت دو 30 بیڈ ہسپتال ہیں ایک حلقہ پانچ نگر خاص اور ایک حلقہ چار سکندر آباد میں، نگر خاص کے ہسپتال میں کل 149 آسامیاں ہیں جن میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف سمیت گریڈ 1 تک کے ملازمین شامل ہے لیکن سرکاری کاغذات اور زمینی حقائق میں بہت بڑا تضاد ہے 30 بیڈ ہسپتال کے لئے 149 ملازمین کی ضرورت ہے جبکہ سرکار نے اب تک صرف 53 آسامیاں پر ملازمین بھرتی کی ہے اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کیا ہم 53 ملازمین سے دن رات بھی کام لئے تو 96 ملازمین کی کمی کو پوری کر سکتے ہیں اس سے بھی سنگین صورتحال 30 بیڈ سکندر آباد ہسپتال کے ہیں جہاں کل آسامیاں 149 ہیں اور بھرتی ملازمین کی تعداد صرف 27 ہے جبکہ اس ہسپتال میں ہنزہ نگر سمیت شاہراہ قراقرم پر ہونے والے تمام حادثات کے زخمی اور مریضوں کو فوری یہاں منتقل کیا جاتا ہے لیکن یہاں کے صورتحال آپ کے سامنے ہیں ایسے میں کیسے 27 ملازمین 122 ملازمین کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں، افسوس علاقے کی عوامی نمائندے غفلت کے نیند سو رہیں۔
    نگر کے مصائب ابھی ختم نہیں ہوئے اسکرداس 10 بیڈ ہسپتال میں کے لئے 39 ملازمین بھرتی ہونے تھے لیکن ابھی تک کسی ایک کو بھی بھرتی نہیں کیا گیا ہے، میاچھر میں موجود ضلع نگر کی واحد مادر اینڈ چائلڈ ہسپتال جس کو چلانے کے لئے سرکاری کاغذ میں 7 ملازمین کی ضرورت ہے کسی ایک کو بھی بھرتی نہیں کیا جاسکا۔

    اس کے علاوہ ڈاڈیمل نگر، اور سونی کوٹ چھلت نگر کے فرسٹ ایڈ سنٹرز کی بلڈنگز تو تعمیر ہوئے لیکن 7 میں سے کسی ایک ملازم کو بھرتی نہیں کیا گیاہے یہ صرف چند علاقوں کے کے تفصیلات ہیں باقی علاقوں میں اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔
    نگر کے مصائب بہت زیادہ ہیں جن کو ایک کالم میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے یہاں کے عوام اکیسویں صدی میں بھی صحت جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے گزشتہ 30 سالوں سے عوام کے درمیان اتنے نفرتیں پیدا کی ہے جس کے بدولت یہاں بھائی بھائی کا دشمن بنا ہے عوام تقسیم در تقسیم ہیں سیاسی و مذہبی لوگ اپنے ذاتی مفادات میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ان کو مشترکہ مفاد کا خیال ہی نہیں لیکن ہم سلام پیش کرتے ہیں نگر کے نوجوانوں کو چاہئے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی، مذہبی، طلبہ یا علاقے جماعت سے ہے اس وقت نگر کے حقوق کے لئے ایک ہونے کی بھرپور کوشش کر رہیں اور کسی حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوچکے ہیں جن میں محکمہ تعلیم، محکمہ صحت کے ملازمین کی نوٹیفکیشن سمیت باب نگر کے ایشوز کو بہت ہی احسن طریقے سے حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہیں۔
    نگر کی ضلعی انتظامیہ خصوصآ ڈپٹی کمشنر نگر جناب ذوالقرنین حیدر خان اور ڈی ایچ او نگر، ایس پی نگر کی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور تعاون بھی قابل ذکر اور خوش آئند بات ہیں گلگت بلتستان خصوصآ نگر میں ایسا پہلے بار ہو رہا نوجوان اور ضلعی انتظامیہ مل کر مسائل کو حل کرنے مصروف ہیں۔
    ہماری دعا ہیں اللہ تعالٰی ان تمام لوگوں کی توقعات میں اضافہ فرمائیں جو خالق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ آمین

  • آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آصف زرداری کا مشن کامیاب ہو گا؟ تحریر: نوید شیخ

    آج کافی دنوں بعد بڑی خبریں ہیں ۔ آج تمام چیزیں کھول کر آپ سامنے رکھوں گا کہ زرداری کا مشن لاہور کیا ہے ۔ کیسے جنوبی پنجاب محاذ دوبارہ سرگرم ہونے والا ہے ۔ پی ٹی آئی نے اگلے الیکشن کے لیے کن چالیس لاکھ ووٹروں سے امید باندھ لی ہیں ۔ اور دو سال پہلے ہی جنرل الیکشن کی تیاری کیوں شروع ہوگی ہے ۔

    ۔ مگر ان سب چیزوں پر بات کرنے سے پہلے چند آج کی خبریں ہیں ۔ آئل ٹینکر والے احتجا ج رہے ہیں جس سے کئی شہروں میں پیٹرول کی قلت ہوسکتی ہے ۔ فلور ملز والے احتجاج کررہے ہیں ۔ اس حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ لاہور اور فیصل آباد میں آٹے کی قلت ہوسکتی ہے اور ریٹ اوپر جا سکتا ہے ۔ پھر سندھ میں گیس کی قلت کی وجہ سے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے ۔ لاہور میں واسا نے پانی کے بلوں میں
    45
    فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے ۔ یہ آئل ٹینکر والے اور فلور مل والے بھی اضافی ٹیکسوں کی ہی وجہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ حالانکہ بجٹ دیتے وقت کہا گیا تھا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے ۔ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ابھی بجٹ نے پاس ہونا ہے مگر اس کے ثمرات عوام تک پہنچانا شروع ہوگئے ہیں ۔

    ۔ سیاست کی بات کریں تو کچھ ہفتے پہلے اپوزیشن میں جو جوش و خروش پیدا ہوا تھا۔ اب وہ سرد پڑ گیا ہے ۔ لے دے کر شہباز شریف ہی دیکھائی دیتے ہیں ۔ مریم نواز کی گھن گرج بھی اب ختم ہوگئی ہے ۔ وہ بھی تب ہی میڈیا کو اپنا درشن کرواتی ہیں جب کوئی پیشی ہو ۔ ورنہ سب سے سستی شائد خاموشی ہی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کبھی کبھی میڈیا پراپنا چہرہ دکھاتے ہیں لیکن ہیں وہ بھی خاموش ہی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب لوگوں کو دیکھانے کے لیے ہو اور اندر کھاتے ایک بڑی پلاننگ چل رہی ہے ۔

    ۔ مگر ن لیگ اور پی ٹی آئی سے ہٹ کر ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت بھی ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی ۔۔۔ ۔ اس تمام منظر میں مفاہمت کے بادشاہ اور سیاست کے جادوگر سابق صدر آصف زرداری آئندہ انتخابات میں سرپرائز دینے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ ۔ زرداری کی پرویز الٰہی سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو ان کے عزائم اور مستقبل کے سیاسی نقشے کا پتہ دیتی ہے۔ میڈیا پر ذرائع کے حوالے سے شائع شدہ اندرونی کہانی کے مطابق دوران ملاقات آصف زرداری نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرکے کہا ۔۔۔ آپ ہمارے بھی اتحادی تھے اور اس حکومت کے بھی ہیں۔ فرق تو پتا چل گیا ہوگا؟ عمران خان کبھی سیاستدان نہیں تھے، خان کو لانے والے بھی اب پچھتا رہے ہیں، اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب کو سرپرائز دے گی۔ جلد جنوبی پنجاب کی اہم شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گی۔ ۔ اس موقع پر پرویز الٰہی نے بھی بلاول بھٹو کی تعریف کی اور کہا کہ قومی اسمبلی میں متعدد مرتبہ بلاول بھٹو کی تقریر سنی بہت میچور بات کرتے ہیں۔۔ اس گفتگو سے حساب لگائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ آصف علی زرداری اگلے الیکشن کی تیاری میں کمر کس چکے ہیں۔

    ۔ اب یہاں زرا رک جائیں ایسا نہیں ہے کہ عمران خان یا پی ٹی آئی اس پلاننگ سے غافل ہے یا ان کو پریشانی نہیں ہے ۔ یہ جو تارکین وطن کو ووٹ کا حق اور ای ووٹنگ کا شور ہے اس کے بڑے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ کیونکہ 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 88 لاکھ کے قریب پاکستانی آباد ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں ان میں اضافہ بھی ہوا ہو گا ۔ اور کمی بھی ہوئی ہو گی ۔ ان میں چند لاکھ پاکستانی وہ بھی ہوں گے جن کے کاغذات کا مسئلہ ہو گا ۔ جو بطور ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہ کر سکیں۔ اب آپ اندازہ لگائیں تو کم و بیش چالیس سے پچاس لاکھ نئے ووٹر تو ہوں گے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ ۔ اب گزشتہ الیکشن میں کُل ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اکیاون ہزار ووٹ پاکستان تحریک انصاف نے حاصل کئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ چھیانوے ہزار ووٹ حاصل کیے تھے ۔ اسی طرح سے پاکستان پیپلز پارٹی نے انہتر لاکھ ایک ہزار ووٹ حاصل کئے تھے ۔۔ یوں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ووٹ میں چالیس لاکھ کا فرق ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سے اٹھاون لاکھ جبکہ پی ٹی آئی سے ننانوے لاکھ ووٹ پیچھے ہے۔ ۔ اب اگر مقبولیت میں کمی بیشی کا حساب سامنے رکھیں تو شہروں میں مہنگائی کے باعث تحریک انصاف کا ووٹ بینک ضرور متاثر ہوا ہے۔ ۔ تو اس جمع تفریق کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی تمام تر اُمیدوں کا محور سمندر پار پاکستانی ہیں۔ اس لیے یہ حکومت ہر حال میں جائز ناجائز طریقے سے ان کو ووٹ کا حق اور سسٹم میں شامل کرنا چاہتی ہے ۔ کیونکہ صرف یہ ہی ایک واحد صورت باقی رہ گئی ہے جس کے بدولت وہ دوبارہ حکومت بنا سکتے ہیں ورنہ تو جو کارکردگی ہے اس بنیاد پر تو شاید اس بار پی ٹی آئی کے پی کے میں بھی حکومت نہ بنا سکے ۔ ۔ اسی لیے اپوزیشن جماعتیں بھی ہر قیمت پر انتخابی اصلاحات میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ یہ ووٹ بینک کہاں جانا ہے اور یہ فیصلہ کس کے مفاد میں ہوگا ۔ ۔ اب جو بات زرداری کررہے ہیں کہ وہ جنوبی پنجاب میں نقب لگائیں گے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین سالوں میں محض سیکرٹریٹ کا لالی پاپ دیا گیا ہے ۔

    ۔ اگرآپ کو یاد ہو تو جس وقت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنا کر جنوبی پنجاب کے سیاستدان تحریکِ انصاف سے بالواسطہ طور پر منسلک ہوئے تھے تو تحریکِ انصاف کی ایک لہر موجود تھی۔ لوگ ایک نئی سیاسی جماعت کو آزمانے کے موڈ میں تھے۔ تبدیلی کا نعرہ اپنا اثر دکھا رہا تھا۔ اس پر جنوبی پنجاب سے تحریکِ انصاف کو ایک بڑی فتح ملی تھی۔ پر اب صورتحال یہ ہے کہ شاید تحریک انصاف جنوبی پنجاب سے اپنی جیتی ہوئی نشستیں حاصل نہ کر سکے۔

    ۔ زرداری نے اس چیز کو پڑھ لیا ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان مجبوری میں اس حکومت کی طرف سے وعدے وفا نہ ہونے پر نئی منزلوں کی طرف اڑان بھریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ جنوبی پنجاب محاذ کے ارکان کی بڑی تعداد ان کے ساتھ آسکتی ہے۔ ۔ اس کا اشارہ جہانگیر ترین نے بھی صحافیوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات میں دیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو آپشن نہیں کہا تھا لیکن مسلم لیگ ن سمیت تمام آپشنز کھلی رکھنے کا اعتراف کیا تھا۔۔ یہاں آپکو یاد کروا دوں کہ جنوبی میں زیادہ تر electables ہیں ۔ جن کو الیکشن جیتنے کے لیے کسی پارٹی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ ہی electables جب ن لیگ میں گئے تھے تو ان کی حکومت بن گئی تھی اور جب یہ ہی گزشتہ الیکشن میں ہجرت کرکے پی ٹی آئی میں گئے تو ان کی حکومت بن گئ تھی ۔۔ شاید اسی لئے زردری کو یہ امکان نظر آتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب سے صوبائی اسمبلی میں نقب لگائی جا سکتی ہے۔ ایسا ہوگیا تو یہ ایک بہت بڑا کرشمہ ہوگا۔۔ سندھ کی نشستوں کے ساتھ پنجاب اور کے پی سے کچھ نشستیں اگر پیپلز پارٹی کو مل گئیں تو اگلے الیکشن میں مرکز میں پیپپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے۔ پنجاب میں ان کی توجہ کا مرکز جنوبی پنجاب ہے۔ جہاں تک ۔۔۔ کے پی کے ۔۔۔ کی بات ہے تو ماضی بتاتا ہے کہ کے پی کے عوام کسی بھی حکومت کو زیادہ عرصہ تک مسلط نہیں رہنے دیتے۔۔ یوں جنوبی پنجاب اور کے پی کے سے اگر آصف زرداری کی توقعات پوری ہو جائیں تو اگلے الیکشن میں وفاق پر کنٹرول کا خواب پورا کرنا آصف علی زرداری صاحب کی سیاسی جادوگری کیلئے مشکل مہم نہیں ہوگی۔ یوں اگر پیپپلز پارٹی اگلے الیکشن میں 90کے قریب سیٹیں لینے میں کامیاب ہوجائے تو وہ جوڑ توڑ کرکے ، ق لیگ ، جے یو آئی دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر بآسانی وفاق میں حکومت بنا سکتی ہے ۔

    ۔ اس لیے فی الحال جنوبی پنجاب کے امیدواروں پر ’’باریک بینی سے کام‘‘ شروع کئے جانے کی اطلاعات نے حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچائی ہوئی ہے ۔ اب لگتا ہے کہ وہ بات جو عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں سوچی مگر دبا لی۔ اس نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور قبل از وقت انتخابات کے حوالے سے عمران خان کی جماعت اندر خانے کام کرنے میں مصروف ہے ۔ یوں تحریک انصاف کو وعدے پورے نہ کرنے پر جنوبی پنجاب میں جو نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس کا جو ووٹ بینک متاثر ہوگا۔ اس کا اندازہ اگلے الیکشن میں ہوجائے گا ۔

  • آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں عمران خان کے نقش قدم پر چلنے لگیں

    آزاد جموں کشمیر کی سیاسی پارٹیاں
    پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چلنے اور
    جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی خواہشمند ہیں، عام انتخابات میں کامیابی کے لیے سیاسی پارٹیاں اور وزارت عظمیٰ کے نامزد امید وار ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ اسی ضمن میں کئی سیاسی پارٹیاں اور امیدوار 2021 کے انتخابات میں اپنے کارکنوں اور انتخابی ٹیموں کو منظم کرنے اور ووٹروں کو پولنگ کے لیے متحرک کر کے اپنے حق میں نتائج حاصل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں جیسا کہ 2018 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد کا تعلق بیرون ملک سے ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقف بھی ہیں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے خواہشمند بھی ہیں. لہٰذا اطلاعات کے مطابق کئی سیاسی پارٹیوں نے اس سلسلے میں مختلف ذرائع سے winelection.ai کی اس ٹیم کے ساتھ رابطہ کیا ہے جنہوں نے 2018 میں پی ٹی آئی کے لیےکانسٹچوینسی مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس ) بنایا اور اس پر عملدرآمد کرایا تھا۔ پی ٹی آئی کی مرکزی لیڈر شپ کی جانب سے اس سسٹم کی افادیت کے بھرپور اعتراف کے ساتھ ساتھ نیوز ایجنسی رائٹرز اور معروف بین الاقوامی اخبارات نے انتخابات کے بعد اپنی رپورٹ میں، پی ٹی آئی کی کامیابی میں سی ایم ایس کے نمایاں کردار کو تسلیم کرتے ہوئے اسے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی میں ایک کلیدی ہتھیار قرار دیا تھا. جس کے ذریعے پی ٹی آئی نے انتخابات سے قبل الیکشن ڈے مینجمنٹ کی مکمل تیاری کے علاوہ اپنے تمام ووٹروں کی نشاندہی، پولنگ کے دن تمام ووٹروں سے رابطہ، پولنگ اسٹیشن ٹیموں کے ذریعے ہر ووٹ کی کاسٹنگ اور پولنگ اسٹیشنوں سے بروقت نتائج کا حصول یقینی بنایا تھا. پی ٹی آئی کے انتخابی امیدواروں کی اکثریت نے عمران خان کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تاکید پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں سی ایم ایس پر عملدرآمد کرایا تھا. جس کی بدولت ان علاقوں میں بھی جہاں رابطے کے دیگر ذرائع ناقص تھے، وہ اپنے ہر ووٹ کے حصول میں کامیاب رہے جبکہ دیگر پارٹیاں ہاتھ پاؤں مارتی رہ گئیں تھیں.

  • حکومت کا اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم

    حکومت کا اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے پنجاب اسمبلی میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے ملاقات کی ہے. صوبائی وزراء راجہ بشارت اور چودھری ظہیر الدین بھی اس موقع پر موجود تھے، باہمی دلچسپی کے امور، بجٹ اجلاس، ورکنگ ریلیشن اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی ہے.

    وزیراعلی نے بجٹ اجلاس کے دوران اسمبلی کی کارروائی احسن طریقے سے چلانے پر چودھری پرویز الہی کی تعریف کی ہے،
    وزیر اعلیٰ کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 560 ارب روپے کا ریکارڈ ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے، اپوزیشن عوام دوست بجٹ پر تنقید کر کے عوام سے دشمنی کر رہی ہے، سیاسی تماشا لگانے کی ہر سازش کو ملکر ناکام بنایا جائے گا، عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے اتحادی جماعت سے مل کر کام کر رہےہیں اور کرتے رہیں گے، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے، اتحادی جماعت کو ہر موقع پر ساتھ لیکر چل رہے ہیں، پی ڈی ایم کا اکٹھ بکھر چکا، ہم ایک پیج پر ہیں اور ایک رہیں گے، اپوزیشن جماعتوں نے صرف سازشیں کیں اور ان عناصر کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، سازشیں کرنیوالے پیچھے رہ گئے اور ہمارا اتحاد آگے کی جانب بڑھ رہا ہے،

    چودھری پرویز الہی نے کہا کہ عوام دوست پر وزیراعلی عثمان بزدار کے اقدامات کو سراہا گیا، تحریک انصاف کے اتحادی ہیں، موجودہ حالات میں انتشار کی سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ہمارا نصب العین صرف عوام کی خدمت ہے.

  • وزیراعظم کی  ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت

    وزیرِ اعظم عمران خان سے ارکانِ قومی اسمبلی نے ملاقات کی.

    ملاقات میں مشیرِ تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد، معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ملک عامر ڈوگر، ارکانِ قومی اسمبلی عاصم نذیر، رضا نصر اللّہ گھمن، خرم شہزاد اور صنعت کار شاہد نذیر نے ملاقات ٰکی ہے، ملکی سیاسی صورتحال، بجٹ میں عوام کے ریلیف اور صنعتوں کی سہولت و ترقی کیلئے کیے گے اقدامات پر گفتگو کی ہے، عاصم نذیر نے وزیرِ اعظم کو ٹیکسائل شعبے سے متعلقہ معاملات خصوصا موجودہ حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں ٹیکسٹائل کے شعبہ جات کا فروغ اور ترقی برآمدات میں شعبے کے کردار سے متعلق تفصیلی بریف کیا ہے. شعبے کی مزید بہتری و فروغ کے حوالے سے حل طلب معاملات اور تجاویز بھی پیش کی ہیں.

  • ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    ملک سے محبت.تحریر: طلعت کاشف سلام

    وطن سے الفت و محبت اور اس سے متعلق ہر چیزسے حد درجہ قلبی تعلق بلا قید مذہب وملت ہرانسان بلکہ ہر ذی روح کے اندر قدرت کی طرف سے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔اس کے لیے آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے ہی آس پاس نظر دوڑائیں توآپ کو بے شمار مخلوق آپ کو زمین وآسمان میں ایسی مل جائیں گی جو صبح اپنے رزق کی تلاش میں نکلتی ہیں اور شام ہوتے ہی اپنے محبوب گھر کی طرف واپس لوٹ جاتی ہیں

    انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جس سر زمین پریہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے،پرورش پاتا ہے،عنفوان شباب کو پہنچتا ہے،شادی بیاہ کرتا ہے،ملازمت وتجارت کرتاہے اور آخر میں اسی کی سرزمین کو اپنی آرام گاہ کے لیے پسند کرتا ہے ،اس کی یادیں اور اس سے متعلق ہر چیز کی محبت اس قداس کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں کہ وہ وطن کی آن بان اور شان کے لیے جان تک کی بازی لگانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا

    کسی بھی ملک میں رہنے والے لوگ اس ملک، ریاست سے محبت کرتے ہیں
    اس ملک کی مٹی کی خوشبو سے پیار کرتے ہیں
    ملک کی مٹی کو دھرتی ماں کہتے ہیں
    ملک کوئی بھی ہو اسلامی ہو یا غیر اسلامی ملک سے محبت وہاں کے شہری کرتے ہیں
    بھلے ملک کی حکمرانی ان کی مرضی کے لوگوں کی ہو یا مخالفین کی ان کی ملک سے محبت کا اپنا انداز ہوتا ہے
    وہ ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں

    ملک کے اندر کے معاملات جیسے بھی ہوں لیکن ملک سے باہر سے اگر کوئی بات کرے تو اس کو سب مل کر جواب دیتے ہیں
    وطن سے محبت ایک فطری امر ہے ، بہت سی احادیث سے وطن کی محبت پر راہنمائی ملتی ہے ، ہجرت کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:مَا أَطْیَبَکِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّکِ إِلَیَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِی أَخْرَجُوْنِی مِنْکِ مَا سَکَنْتُ غَیْرَکِ۔تو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے ! اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پر مجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ سے محبت کا ذکر فرمایا ہے

    اسلام بھی ہمیں اپنے ملک، وطن، سرزمین سے محبت کا درس دیتا ہے
    ملک خداداد پاکستان میں کچھ سیاسی جماعتوں کے لوگ، کچھ مفاد پرست نام نہاد عوامی نمائندے ملک دشمنی میں اس قدر گر چکے ہیں جو نا تو شرعی حدود کا خیال کرتے ہیں اور نا ہی ملکی قانون کا وہ ہر موقع ملنے پر ملکی اداروں اور پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بنتے نظر آتے ہیں

    ملک کو اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ساتھ مل کر کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    شرعی اعتبار سے بھی وطن سے محبت کرنا سنت انبیاء ہے

    اللہ تعالیٰ قرآن پاک میںاپنی جان کی محبت کے ساتھ اپنے وطن سے محبت وتعلق کو ظاہر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔

              ’’ اور اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرلو اور اپنے گھروں سے نکل جاؤتو وہ ہرگز نہ کرتے سوائے چند افراد کے‘‘۔(سورہ نساء)۔

              اور دوسری جگہ پر وطن کی محبت کو دین و مذہب سے جوڑ کر فرماتا ہے: اللہ نے تم کو ان کے ساتھ نیکی اور انصاف سے منع نہیں کیا،جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ ہی تم کو تمہارے گھروں سے نکالا  ‘‘
    (سورہ ممتحنہ)

              جب نبی رحمتﷺ نے مدینہ منورہ کو وطن بنا لیا تو دعا میں فرما یا کرتے تھے:اے اللہ ہمارے اندر مدینہ کی اتنی محبت پیدا کر دے،جتنی تونے مکہ کی محبت دی ہے،مدینہ کی آب وہوا درست فرمادے اور ہمارے لیے اس شہر کو برکت والا بنادے۔مدینہ جو یثرب ہے اس سے بخار کو دوسری طرف منتقل فرمادے‘‘
    (بخاری)

    سیاسی اختلافات کو بھول کر ایک پیج پے آئیں اور ملک و قوم کی سلامتی و خوشحالی کے لئے ایک ہو کر ملک کے لیے کام کریں

    Talat K Salam
    @alwaystalat

  • اچانک سے سستے دانشور،عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ تحریر:رانا عزیز

    اچانک سے سستے دانشور،عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ تحریر:رانا عزیز

    وزیراعظم عمران خان نے حالیہ ایک انٹرویو دیا جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا اور اس انٹرویو کو توڑ مروڑ کرایسے پیش کیا گیا کہ عمران خان کے کچھ کلپس کو کاٹ دیا جس میں اینکر نے خواتین اور جنسی زیادتی کے حوالے سے سوالات پوچھے اور عمران خان نے پھر ہندتوا اور مغرب کے کلچر کو بوچھاڑ کر رکھ دیا
    وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر انہیں اپوزیشن سمیت کئی خواتین نے بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ بات کہہ کر ہماری دل آزاری کی ہے، انہوں نے جنسی ہوس کو خوتاین کے کپڑوں سے منسوب کر دیا ہے جبکہ ملک میں کم سن بچیوں کے ساتھ بھی جنسی استحصال کے واقعات ہو رہے ہیں، ایسے میں کیا بچیاں بھی مختصر کپڑے پہنتی ہیں؟ تاہم اب وزیراعظم عمران خان کے اس انٹرویو کا وہ حصہ سامنے آ گیا ہے جو غیر ملکی ٹی وی نے نشر ہی نہیں کیا۔
    سیاست ڈاٹ پی کے نامی ویب سائٹ نے وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے سیاق و سباق پر مبنی غیر ایڈٹ شدہ ایک ویڈیو کلپ شئیر کیا جس میں اینکر نے وزیراعظم عمران خان سے سوال کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ اگر آپ عریانیت کو فروغ دیں گے تو اس سے اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہو گا، آپ نے جو گفتگو کی اس پر بڑا رد عمل آیا، اس کا جواب کیسے دیں گے ؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواباً کہا کہ یہ بالکل غلط ہے۔

    میں جو کہنا چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ یہ جُرم بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب میں وزیراعظم بنا تو میں نے پولیس سربراہوں کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کون سا جُرم سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے ؟انہوں نے مجھے بتایا کہ جنسی تشدد سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جنسی تشدد میں صرف ریپ شامل نہیں ہے۔ اس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔
    بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا سُن کر مجھے بے حد دُکھ ہوا۔ اس میں تکلیف دہ امر یہ تھا کہ صرف ایک فیصد ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔جب کسی بچے کے ساتھ ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے یعنی کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ان کی فیملی شرم کی وجہ سے ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتی۔ لہٰذا میں جو کہہ رہا تھا وہ یہ تھا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف ایک فیصد مجرموں تک پہنچ پاتے ہیں۔

    ایسی صورتحال میں ایسے جرائم کا سامنا پورے معاشرے نے کرنا ہوتا ہے۔ سوسائٹی ایسے جرائم کا مقابلہ آگاہی سے کر سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی حجاب کا نہیں کہا، میں نے پردے کے تصور کی بات کی تھی، میں نے مزید کہا کہ نائٹ کلبز جیسی چیزیں ہمارے ہاں نہیں ہیں،مغربی معاشرے کی طرح ہمارے ہاں ایسے مقامات نہیں ہیں جہاں لڑکے لڑکیاں آپس میں میل جول کر سکیں،اسی لیے ہمارا معاشرہ اور طرز زندگی مغرب سے بالکل مختلف ہے۔
    ایسے معاشرے میں اگر آپ عریانیت کو فروغ دیں گےاور پھر نوجوان لڑکوں کے پاس کوئی ایسی جگہ بھی نہ ہو جہاں جا کر وہ اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ اس سے معاشرے میں جرائم میں اضافہ ہو گا جو ہمارے کرائم چارٹ سے بھی واضح ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنسی تشدد کے واقعات کو روکنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ قانون نافذ کر کے ان کو روکا جائے۔
    لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر واقعات، زیادہ تر سے میری مراد ہے کہ پولیس کے مطابق جنسی تشدد کے 99 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے اسی لیے پورے معاشرے کے یعنی عوام ، اسکولز ، اُساتذہ ، میڈیا وغیرہ سب کو اس میں کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ اسی طرح ہم عوام میں آگاہی پیدا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے میں نے پردے کے تصور کی بات کی تھی۔

    اور مجھے یاد ہے کہ میں نے کیا کہا تھا۔ میں نے پردے کی تصور کی بات کی تھی،پردے کا مطلب ہے کہ ہوس سے بچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پردہ صرف منہ ڈھانپنا نہیں بلکہ معاشرے میں عریانیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اینکر نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ پاکستان میں آپ کے خیال میں عریانیت کی کون کون سے قسمیں ہیں جو ختم کرنے کی ضرورت ہے؟ جس پر وزیراعظم عمران خان نے جواب دیا کہ اس کا ایک اہم ذریعہ تو موبائل فونز ہیں، آج کل موبائل فونز پر جو مواد دستیاب ہے، نو عمر بچوں یا لڑکیوں کو انسانی تاریخ میں اس قسم کے مواد تک کبھی رسائی حاصل نہیں تھی
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آ خر یہ اچانک سے سستے دانشور، نام نہاد صحافی ، عالمی میڈیا عمران خان کے خلاف کیوں کھل کر سامنے آ گیا ؟ اس کی وجہ کیا ہے ؟ پاکستان کو کیسے اب مزید کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گا ؟ یہ وہ سوال ہیں جس کا جواب ہر کوئی جاننا چاہتا ہے
    عمران خان سے امریکا نے اڈے مانگے افغانستان میں حملے کرنے کیلے اور اس خطے کی نگرانی کرنے کیلیے عمران خان نے صاف صاف انکار کردیا اور کہا ( absolutely not) تو اس کے بعد اس بیان سے دنیا کی توجہ اٹھانے کے لئے اور پاکستان میں پوری قوم جو عمران خان کی نظریاتی مخالف بھی تو وہ بھی کپتان کے ساتھ کھڑے ہوگیئے، تو امریکا نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہویے عمران خان کے کلپس کو مسخ کر کے اور کلپس کاٹ کر چلا دیا جس سے دنیا میں نئی بحث چڑھ گئی، اسی کو ہماری قوم کو سوچنا ہوگا کہ دشمن ہم پر مسلط ہونے کی کوشش کر رہا ہے. عمران خان نے کہا ہم پہلے ہی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں، اگر امریکا 20 سال بعد بھی تاریخ کی سب سے طاقتور فوجی مشین کے ساتھ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکا تو یہ امریکا ہمارے ملک کے اڈوں سے کیا کرسکے گا؟
    عمران خان نے امریکا کے خلاف بیان دے کر جان خطرے میں ڈال دی ہے. ۔ یا تو ان کی زندگی کو خطرہ ہے یا ان کی حکومت کو. وگ کہہ رہے ہیں کہ امریکا نے تو لیاقت علی خان کو بھی قتل کرا دیا تھا کیونکہ انہوں نے ایران میں مداخلت سے انکار کیا تھا اور اب عمران خان کے خلاف بھی پراپیگنڈہ شروع ہو گیا،این جی اوز نے بھی کام شروع کر دیا ہے،بڑے پیمانے پر فنڈ ملتے ہیں اور حکومت کو اس کی بھی تحقیقات کرنی چاہئیے۔

  • منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان

    منی اور سیاست دونوں ہی بدنام. تحریر: مبشر لقمان
    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا خلاصہ یہ ہے کہ سیاست اور جمہوریت وہ ”منّی“ ہے ۔ جو بار بار بدنام ہوتی ہے۔ پھر چاہے الیکشن ہوں ۔ اس کے بعد رزلٹ ہوں ۔ بجٹ ہو ۔ یا پھر کسی بل کو پاس کرنے کا موقع ۔ ہمیشہ اسمبلی سیشن شروع ہوتے ایک نئی طرح کی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ اسمبلی چاہے صوبائی ہو یا وفاقی ۔ گالم گلوچ ، مارکٹائی trade mark بن گیا ہے ۔ یعنی ممبران اسمبلی کا زبان اور کردار ایک ہی رہتا ہے ۔ اب تو اتنی بار ایوان مچھلی منڈی بن گیا کہ مچھلی منڈی والوں کو شرم آنا شروع ہوگئی ہے ۔ مگر ہمارے ممبران اسمبلی کا رویہ نہیں بدلا ۔

    ۔ میرے نزدیک مسلسل ان واقعات سے جمہوریت، پارلیمان، پارلیمانی نظام اور سیاست دان مکمل طور پر ڈس کریڈٹ ہو چکے ہیں ۔ کیونکہ حالیہ دنوں میں قومی اور بلوچستان اسمبلی میں جو کچھ ہوا ہے اُس پر پاکستانی جمہوریت برسوں شرمسار رہے گی۔ ۔ ساتھ ہی جو کچھ ہوا، اُس کا سہرا کسی ایک جماعت کے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ سرکاری اور اپوزیشن بنچ برابر کے شریک سمجھے جائیں گے۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں تو جو ہوا سو ہوا مگر بلوچستان اسمبلی میں تو یوں لگا جیسے کسی ایکشن فلم کی شوٹنگ چل رہی ہو ۔ وہاں اپوزیشن کا اعلان تھا کہ سرکاری ارکان کو ایوان میں جانے دیں گے نہ بجٹ پیش کرنے دیں گے اس لیے دروازوں کو تالے لگا دیئے ۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا راستہ بھی روکا گیا،لیکن پولیس نے بکتر بند گاڑی کے استعمال سے دروازہ توڑ کر راستہ نکالا۔ جوتے بھی چلے ۔ ممبر اسمبلی زخمی بھی ہوئے ۔ یہ اپنی طرز کا انوکھا احتجاج تھا۔اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہماری پارلیمانی روایات کتنے خطرے میں ہیں۔ مگر اپوزیشن کی منہ زوری یقینا یک طرفہ نہیں ہے، حکومت کی منہ زوری اس کا سبب بنتی ہے۔ اگر مخالفوں کو دیوار سے لگانے کا رویہ اپنایا جائے گا، تو پھر ہنگامے ہوں گے،آگ بھڑکے گی اور اس آگ میں بہت کچھ بھسم بھی ہو گا۔

    ۔ پہلے بھی کئی بارعرض کر چکا ہوں کہ قوم اب ان مہنگی ترین اسمبلیوں اور عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے عوامی نمائندوں کا بوجھ اُٹھاتے اٹھاتے ہلکان ہوچکے ہیں۔ اب تو بے زار بھی دیکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ عالم ہے کہ عوام اس طرزِ حکمرانی کے برے اثراتِ سہتے سہتے حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ لگتا ہے نہ حالات بدلیں گے نہ عوام کی حالتِ زار بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ یہ رونا تو اب عوام کا مقدر بن گیا ہے ۔ کیونکہ ہر نیا دور اور آنے والا حکمران کچھ کرے نہ کرے عوام کی ذلت اور دھوکوں میں ضرور اضافہ کر جاتا ہے۔ جس معاشرے میں عوام زندہ درگور اور اچھی خبر کو ہی ترس جائیں وہاں کیسی گورننس اور کہاں کا میرٹ؟

    ۔ پی ٹی آئی پر بھی تعجب ہے آدھی مدت گزارنے کے باوجود بھی طرزِ حکمرانی کے لیے کبھی ریاست مدینہ کا ماڈل پیش کیا جاتا ہے
    تو کبھی چین کا ، کبھی ملائیشیا کا ، تو کبھی یورپ کا جبکہ عوام کہتے ہیں کہ ہمیں نہ کوئی بیرونی ماڈل چاہیے اور نہ ہی کوئی نیا پاکستان ہمیں تو بس پرانا پاکستان لوٹا دیں۔ ہم پرانی ذلتوں اور مشکلات پر ہی گزارہ کر لیں گے۔ ہمیں نئے پاکستان کی وہ ذلتِ نہیں چاہیے جس کا کوئی اختتام ہی نہ ہو۔ ساتھ ہی اپوزیشن کو این آر او ملے گا یا نہیں ملے گا اس کا فیصلہ خدا جانے کس نے کرنا ہے؟ مگر جس نے کرنا ہے وقت آنے پر یہ پتہ چل جائے گا۔

    ۔ مگر اس تمام شور شرابے میں عوام کے لیے آٹا ، چینی ، گھی ، دالیں اور پیڑول مہنگا ہوچکا ہے ۔ اصل واردات یہ ہے جو عوام کے ساتھ یہ حکومت ڈال چکی ہے ۔ پتہ نہیں اب وہ فلاسفر کہاں ہیں جو اس بجٹ کے عوامی ہونے اور ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے دار تھے ۔ اب ان کو گزشتہ ایک ہفتے میں آٹا کی قیمت 27 روپے بڑھی ہوئی دیکھائی نہیں دیتی۔ اور تو اور پرندوں کو جو ۔۔۔ باجرہ ۔۔۔ بطور دانہ ڈالا جاتا ہے۔ رمضان سے پہلے یہ 65روپے کلو تھا آج 95 روپے ہے۔ مجھے نہیں معلوم اس برس قربانی کے جانوروں کی قیمت کیا ہو گی۔ مجھے بتائیے ان حالات میں کیسے یقین کیا جائے کہ ملک کی معیشت سنبھل گئی ہے۔ اور یہ دو تین چیزوں کی مثال میں نے ایسے ہی سمجھنے کے لئے دے دی ہے ۔ وگرنہ زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہیں ہے بلکہ اس نے بڑے بڑے عزت داروں کی چینخیں نکوادی ہیں۔

    ۔ حالت یہ ہوچکی ہے کہ لوگ بچے سکول سے اٹھا رہے ہیں ۔ چند دن پہلے جو تفصیل آئی اس کے مطابق گندم ، چینی ، دودھ ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے ۔ آپ ذرا بازار جا ئیے ہر ضرورت کی چیز کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ضرورت کی کوئی چیز ایسی نہیں جو مہنگی نہ ہوئی ہو۔ دراصل معیشت تباہ نہیں ہو رہی ۔ ملک تباہ ہو رہا ہے۔ مستقبل دائو پر لگا ہوا ہے۔ مہنگائی صرف غربت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی ایک پوری نسل کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیسی قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کیا پناہ گاہوں میں پلنے والے ملک چلا سکیں گے یا ملک چلانا صرف ایک طبقے کا کام رہے گا۔ آج بھی کسی سے پوچھ لیجیے۔ کسی کو حکومت کی کسی بات کا یقین نہیں۔ نہ آنے والے انتخابات سے غرض ہے ۔ صرف پوری قوم عمران خان سے یہ فریاد کرتی دیکھائی دیتی ہے کہ آپ اپوزیشن کو این آر او دیں نہ دیں لیکن ہمیں ضرور این آر او دے دیں۔ ہماری زندگیاں آسان کر دیں۔

    ۔ انتہائی معذرت کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنوں کو اپنے سیاسی بیانیے پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ یہ بیانیہ پاکستان کے جمہوری اور سیاسی عمل کو نئے خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے ابتدا سے ہی سیاست دانوں کو کرپٹ ، چور اور ڈاکو قرار دینے والا بیانیہ اختیار کیا۔ جس کا فائدہ کم الٹا نقصان زیادہ ہوا ہے ۔ کیونکہ اب تک نہ تو نیب نہ ہی حکومت کسی چور ، ڈاکو یا کرپٹ کو سزا دلوا سکی ہے یا کم ازکم ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کر پائی ہے ۔ تحریک انصاف کے اس سیاسی بیانیہ کے لئےمیں کوئی اور الفاظ استعمال نہیں کروں گا بلکہ صرف اتنا کہوں گا کہ یہ بیانیہ جمہوری اقدار اور رویوں کے منافی ہے۔ اس بیانیے نے سیاست اور سیاست دانوں کو گالی بنا دیا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ سیاست اور سیاست دانوں پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ نہ صرف سارے سیاست دان ایک جیسے ہوتے ہیں بلکہ ساری سیاسی جماعتیں بھی ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔

    ۔ اس وقت پاکستان سیاسی قیادت کے بحران میں ہے اور قومی اسمبلی کے حالیہ واقعات سے اس بحران کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت حکمران جماعت تحریک انصاف مبینہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈلز کی وجہ سے بحیثیت سیاسی جماعت اندرونی لڑائیوں کا شکار اور کمزور ہو چکی ہے ۔اس کی حکومت کو اپنے اندرونی مسائل اور ناراض دھڑوں سے ہر وقت خطرہ ہے۔ دوسری جانب حکومت آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام یکطرفہ طور پر نافذ کرنے پر بضد ہے لیکن اسے الیکشن کمیشن بھی مسترد کر چکا ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان کی اپنی پسند نا پسند قوم پر مسلط کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے اور ظاہر ہے عدلیہ میں بھی یہ معاملات چیلنج ہونگے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کوئی باہمی ڈائیلاگ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ آئینی اداروں کو بھی معاف نہیں کیا جا رہا۔ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ یا دیگر ادارے انہیں حکومتی حلقے رگڑا لگانے سے باز نہیں آتے۔ یوں لگتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    ۔ بدقسمتی سے پاکستان کی صورتحال کوبعض تجزیہ نگار 1991ء میں سابق سوویت یونین کی صورتحال سے پر تشبیہ دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر سابق سوویت یونین امریکہ کے مقابلے میں فوج، میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ لیس ہونے کے باوجود اپنے اندرونی معاملات کی وجہ سے شکست سے دوچار ہو سکتا ہے تو پاکستان کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے اسے اپنے اندرونی حالات ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ عمران خان بظاہر ایک کامیاب جمہوری لیڈرکے طور پر اپنا نام پیدا کرتے ہیں یا پھر سوویت یونین کے آخری صدورگورباچوف ثابت ہوتے ہیں۔

  • ڈو مور سے نو مور تک کا سفر.تحریر: ملک ضماد

    ڈو مور سے نو مور تک کا سفر.تحریر: ملک ضماد

    پاکستان کو آزاد ہوئے 74 سال ہو گئے لیکن ابھی تک ہم انگریزوں کے غلام بنے ہوئے تھے
    کبھی امریکہ تو کبھی یورپ کے آگے ہم جھکے رہتے تھے
    امریکہ امداد اور فنڈز کے نام پے ہمیں پیشہ تو دیتا رہا لیکن ہم سے اپنی مرضی کے کام بھی لیتا رہا
    کبھی روس کے خلاف جنگ میں مدد تو کبھی افغان جنگ میں پاکستان کی سرزمین استعمال کی جاتی رہی
    کبھی پاکستان کے اندر اسامہ کے لیے آپریشن پاکستان ملٹری اکیڈمی کے ساتھ کر کے چلے جاتے تھے تو کبھی بغیر کسی اجازت یا پیشگی اطلاع کے پاکستان کے جس شہر میں دل کرتا تھا ڈرون اٹیک کر کے پاکستانیوں کو شہید کر کے چلا جاتا تھا اور ہم بات بھی نا کر سکتے تھے کیوں کہ امریکہ ہمیں امداد دے رہا تھا
    ہم بولنے کی ہمت بھی کرتے تو ہمیں مختلف پروگرامز جو آئی ایم ایف یا امریکہ کے تعاون سے چل رہے ہوتے تھے ان کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی تھی یا پھر پاکستان پر پابندیاں لگانے کی دھمکیان دی جاتی
    جس سے پاکستان کے حکمران اپنی غلامی اور خوف کا پورا حق ادا کرتے اور جو جو کچھ امریکہ کہتا پاکستان وہ پورا کرتا بھلے اس مین پاکستان کا نقصان ہی کیوں نا ہو رہا ہوتا

    میرے ملک کے بچے عورتیں ہی کیوں نا ڈرون حملوں میں شہید ہو رہے ہوتے
    ہمیں تو ڈالرز مل رہے تھے نا
    اس طرح پاکستان کا نام پوری دنیا میں ڈرپوک اور غلام کی طرح مشہور ہوا
    پاکستان کے سابقہ کرکٹر، موجودہ وزیراعظم عمران خان جب سے سیاست میں آیا اس کا پہلے دن سے مطالبہ رہا کہ امریکہ کی غلامی چھوڑو اور اپنے پاوں پے کھڑا ہونے کی کوشش کرو لیکن کسی نے اس کی نا سنی الٹا اسی پے باتیں شروع کر دی
    جب پاکستانی حکمرانوں نے نا سنی تو اس نے خود عوام کے ساتھ مل کر امریکہ کو جواب دینے کے لیے وزیرستان کی طرف لانگ مارچ کیا، عوام کے ساتھ مل کر نیٹو کی سپلائی جو پاکستان سے افغانستان جاتی ہے کو روکے رکھا
    اس کے بعد عمران خان کے خلاف بیرونی طاقتیں متحرک ہوئی اس کو چپ کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ پاکستان کا درد رکھنے والا لیڈر تھا وہ نا ڈرا اور نا چپ ہوا اپنی آواز بلند کرتا رہا
    اس نے ایک ہی بات کو ذہن میں بٹھائے رکھا ہر ملک سے دوستی رکھی جائے گی لیکن وہ دوستی برابری کی سطح پر ہو گی نا کہ ابتری کمتری کی سطح پر

    اس طرح جب اس نے اقتدار سنبھالا تو اس نے سب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن وہ تعلقات برابری کی سطح پر
    اس نے اسلامی ممالک کو اکٹھا کرنے اور مغرب اور یورپ کے پریشر سے نکلنے کے لیے کوششیں کی
    اس نے یورپ کے بجائے سعودیہ، ایران، ملیشیاء، ترکی، یو اے ای، قطر اور باقی بھی اسلامی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کیا
    امریکہ کو ہر دفعہ منہ توڑ جواب دیا اور بتایا ہم اتحادی اور دوست تو ہیں لیکن یہ بات کبھی نہیں مانی جائے گی آپ اوپر اور ہم نیچے ہیں
    ہم برابری کی سطح پر کام کریں گے
    اگر امریکہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے تو اس کو میرے برابر کے بندے کو میرے پاس بھیجنا ہو گا
    میں سیکنڈ ٹیئر لیڈر شپ سے بات نہیں کروں گا
    پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا کہ کسی پاکستانی حکمران نے امریکہ کی سی آئی اے کے چیف سے ملنے سے انکار کیا
    اس سے پہلے امریکی چپڑاسی کے آگے ہمارے لیڈرز ایسے سر جھکائے کھڑے ہوتے تھے جیسے وہ ہی سب سے بڑے لیڈر ہیں
    عمران خان نے انٹرنیشنل میڈیا کو انٹرویو میں واضح کیا جو چہہ میگوئیاں چل رہی ہیں پاکستان دوبارہ افغانستان آپریشن کے لیے اپنے اڈے امریکہ کو دے رہا ہے وہ سب جھوٹ ہے پاکستان کبھی بھی اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال کے لیے کسی کو نہیں دے گا
    اس بیان کے بعد پورے پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہو گئے کہ کسی نے تو امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا

    "”یہ ہے ڈو مور سے نو مور تک کا سفر””

  • سیاسی آقاء اور ہماری بھولی عوام . تحریر:محمد محسن

    سیاسی آقاء اور ہماری بھولی عوام . تحریر:محمد محسن

    ھم روز اپنے ارد گرد لوگوں کو مختلف سیاسی جماعتوں کے بارے میں بحث کرتے ھوئے دیکھتے ہیں۔ کوئی پاکستان مسلم لیگ ن کا حامی ھے تو کوئی پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا ۔ کسی کے سامنے عمران خان اس ملک کے حالات بدلنے کی آخری امید ہے۔ اور کوئی مزہبی حمایت رکھنے والا جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتا ہے۔ جمہوری سیاسی نظام کی یہی خوبصورتی ھوتی ھے کہ اس میں ہر بندے کو کھل کر اپنے جذبات کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف جماعتوں کے ساتھ وابستگی میں کوئی برائی نہیں بلکہ یہی تو جمہوریت کا حسن ھوتا ھے کہ جتنی اپوزیشن مضبوط ھو گی اتنا ہی سیاسی نظام ا چھا چلے گا۔ لیکن بدقسمتی سے ھمارے جیسے ممالک میں نہ ہی تو اصل جمہوری نظام پایا جاتا ھے اور نہ ہی عوام اس لائق ھوتے ھیں کہ جمھوری نظام کو سمجھ سکیں اور اسکو اپنے معاشرے میں رائج کر سکیں۔ دوسری طرف ھماری عوام مختلف سیاسی جماعتوں کو لیکر اتنی جزباتی ھو جاتی ھے کہ بعض اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک آجاتی ہے۔ ھمارے ملک میں اس وقت تقریباً 22 کروڑ کی آبادی ھے جو الحمدللہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ خیر اس آبادی کا اس وقت زیادہ تر حصہ نوجوان لوگوں پر مشتمل ھے جو کہ اس ملک کی گلی کوچوں میں دھکے کھا رھا ھے۔ یہ عوام جتنے ویلے ہو گے اتنے ہی اک دوسرے کے ساتھ زرا زرا سی بات پر جھگڑتے رہیں گے۔ خیر بات ھو رھی تھی سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی تو جب ملک کی زیادہ تر آبادی ویلی بیٹھی ھو گی تو سیاسی جماعتوں کے نام پر لڑنا جھگڑنا تو ان کے لیے معمولی چیز ھو گی۔ حالانکہ ان معصوم لوگوں کو یہ پتہ نہیں ھو گا کہ یہ جن کے لیے دن رات اک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے ہیں ان کو ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہو گا اور وہ اکثر اک دوسرے سے ملتے جلتے ھوں گے اور خوش گپیاں لگاتے ھوں گے۔ ویسے بھی جیسا ھمارا سیاسی نظام ھو گا عوام بھی ویسے ہی ھوں گے۔

    اگر آپ پاکستان کے سیاسی نظام کی تاریخ میں جائیں تو ایسے ھی لگتا ہے جیسے آپ کسی اکھاڑے کی کشتی کے بارے میں پڑھ رھے ھیں جو کہ کبھی کبھی تو بھت جلد پچھاڑے جاتے ہیں تو بعض اوقات دوسروں کو ٹف ٹائم دیتے ہیں۔ اور کبھی کبھار ریفری خود یونیفارم پہنے ہوئے میدان میں کود پڑتے ہیں اور اس سیاسی اکھاڑے کا خود بیڑا اٹھا لیتے ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد اس ملک کا سب سے بڑا نقصان یہ ھوا کہ ھمارے قائد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ بعض اوقات تو دل و دماغ میں یہی بات اٹک کر رہ جاتی ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے انکو اک فریضہ سونپا ھوا تھا جنکو پورا کرتے ھی اسکو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا۔ پہلے پانچ سات سال میں کئی وزیراعظم تبدیل ھونے کے اسکندر مرزا نے ملکی تاریخ میں پہلی بار مارشل لاء لگا کر آرمی کو اس ملک کے سیاسی نظام میں داخل کر دیا۔ اسکندر مرزا نے ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا تو بعد میں ایوب خان نے اسکندر مرزا کو چلتا کیا۔ ایوب خان نے ملکی تاریخ کا پہلا آئین ختم کر کے پانچ سال بعد 1962 میں دوسرا آئین متعارف کروایا۔ خیر عروج کو آخر زوال تو آنا ھی ھوتا ھے۔ تقریباً 10 سال اقتدار کے مزے لینے کے بعد بجائے جمھوری نظام کی راہ ہموار کرنے کے ایوب خان نے آگے پھر اقتدار اک اور ملٹری ڈکٹیٹر کو ٹرانسفر کر دیا جسکے ساتھ ہی یحییٰ خان نے ملکی تاریخ میں دوسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ یہ مارشل لاء سب سے سنگین ثابت ھوا کیونکہ اس کے دوران ملک دولخت ہوگیا۔ اس طرف بھٹو کی حکومت آگئی اور دوسری طرف مجیب الرحمٰن کی۔ بیچ میں یحییٰ خان جو کہ صدارتی سیٹ پر براجمان رہنا چاھتا تھا اس نے ملک کا بیڑا غرق کیا نہ اس طرف کا رھا نہ اس طرف کا۔ اس کے بعد پاکستان کی باغ دوڑ بھٹو کے ھاتھوں میں آگئی اور ملک اپنی ڈگر پر چلنے لگا لیکن آخر کب تک چلتا۔۔۔۔۔بھٹو کے خلاف بھی پاکستان نیشنل الائنس بنا اور اک بار پھر سے ملک میں وھی شروع والی حالت آگئی۔ آخر نتیجہ جو بھی نکلا وہ آپ کے سامنے ہے کہ اسی جمھوری نظام کی ہی وجہ سے ملک اک بار پھر مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس کے بعد ضیاء الحق نے 3 ماہ میں الیکشن کروانے کا وعدہ کر کے تقریباً 11 سال اس ملک کی صدارتی کرسی پر گزارے۔ بعد میں جمھوریت کا اک ایسا دور شروع ہوا کہ ملک دن بدن اکانومی اور ڈیولپمنٹ کے لحاظ سے پیچھے ہی گیا جسکی بنیادی وجہ طاقت کی بھوک تھی۔ اس کے بعد اک بار پھر ملٹری ڈکٹیٹر نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھال لی اور تمام جمھوری سیاسی پارٹیوں کو چلتا کیا وہ الگ بات بعد میں کچھ مخصوص سیاسی جماعتیں اس کے ساتھ مل گئی جیسا کہ پہلے ھوتا آیا ھے۔ خیر اکیسویں صدی جمھوریت کے لحاظ سے پاکستان کے لیے سود مند ثابت ھوئی۔ پچھلے تقریباً 12 سال سے ملک میں جمہوریت کی فضا قائم ھو گئی ھے۔ اس پوری پاکستانی سیاسی تاریخ میں اک بات سامنے واضع ھوتی ھے کہ ھمارا سیاسی نظام اک اکھاڑے کی مانند ہے جسکا یہاں زور چلتا ہے وہ خوب چلاتا ہے۔ جس نے بھی اپنے مفاد کے لیے دوسرے کی راہ ہموار کی وہ اسی کا شکار بنا۔ اسکندر مرزا ایوب خان کو لے کر آیا تو ایوب خاں نے اسے چلتا کیا۔ ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستانی سیاست میں متعارف کروایا تو بھٹو نے ایوب اعلیٰ عہدوں کے مزے لینے کے بعد ایوب خان کے سامنے پاکستان پیپلز پارٹی کھڑی کر دی اور اسکو چلتا کیا۔ اسی طرح یحییٰ خان، بھٹو اور مجیب الرحمٰن نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس ملک کو ہی دولخت کر دیا۔ اسی طرح بعد میں جنرل ضیاء الحق نے اپنی حکومت کی طاقت بڑھانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ جیسی پارٹیوں کے لیے راہ ہموار کی تو اس کے جانے کے فوراً بعد انہوں نے ملٹری سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور آج تک کر رہی ہیں۔

    اس سارے سیاسی منظر نامے کو بیان کرنے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ یہ پہلی پاکستانی عوام نہیں جو اپنے اپنے سیاسی لیڈروں کی خاطر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ یقین جانو آپ سے پہلے بھی یہاں کئی نسلیں گزر چکی ہیں جن میں سیاسی انتہا پسندی آپ سے کہیں زیادہ تھی اور یقین جانو ان بے چاروں کو بھی یہاں کچھ حاصل نہ ہوا۔ ان سیاسی آقاؤں کے سامنے آپکی اوقات اک کیڑے مکوڑے کی سی ہے جسکو جب چاھے استعمال کیا جاتا ہے اور جب چاہے تو مسل کر رکھ دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ہر گفتگو کا شرف حاصل کرنے والے عزیر بلوچ کی ہی مثال لے لو کہ جب اک خاص جماعت کو اسکی ضرورت تھی تو اسکو کس کس چیز سے نوازا نہیں گیا۔ اس کو استعمال کر کے کتنے ھی جائز ناجائز لوگوں کو قتل کروایا گیا۔ یہاں تک کہ اسکی مزید ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے اسکو امن کا انعام بھی دیا گیا تو دیکھ لو آج اسکا کیا حال ہے۔ وہ جو دن رات پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کرتا تھا آج اس سے کوئی ملاقات کرنے والا نہیں۔ وہ جسکا اک دن لیاری میں ڈنکا بجتا تھا آج اس کے گھر میں فاقے ہیں۔ لیکن جن سیاسی آقاؤں کے لیے اس نے اتنے خون کیے آج وہ اس کو پہچاننے سے بھی انکاری ہیں۔ دوسری طرف انہی سیاسی آقاؤں کی خاطر جیلیں کاٹنے کے لیے جاوید ہاشمی جیسے باغی ھوتے ہیں اور یہ خود مشکل وقت بھانپتے ہی فوراً ملک سے رفو چکر ہو جاتے ہیں لیکن جب اقتدار کی باری آتی ہے تو وزارتیں ان کے گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی۔ اب جتنی سیاسی محنتیں چودھری نثار خاں، جاوید ہاشمی، قمر الزماں کائرہ اور امین فہیم جیسے لوگوں نے کی کیا ان لوگوں کو ان کے مطابق نوازا گیا؟ کیا قمر الزماں کائرہ اور امین فہیم کا حق نہیں بنتا کہ انہیں وزیراعظم بنایا جاتا؟ کیا پیپلز پارٹی کی قیادت اور چیرمین اعتزاز احسن سے زیادہ زہین ہے؟ کیا جاوید ہاشمی اور چودھری نثار خاں جتنے منجے ھوئے سیاستدان اس شریف خاندان میں ہیں؟ لیکن جب بھی یہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں تو وزیراعظم نواز شریف ھی بنا۔ وزیراعلی کی کرسی شہباز شریف ہی کے حصے میں آئی۔ ادھر بھی وزیراعظم اور صدارت کی کرسی بھٹو، اور زرداری خاندان میں رہتی ہے اور اگر کسی اور بنایا جاتا ہے تو وہ کٹھ پُتلی ہی ھوتا ھے بیچارہ۔ آئندہ بھی بلاول بھٹو، مریم نواز، حمزہ شہباز، سلمان شھباز اور یہاں تک کہ جنید صفدر ان سیاسی پارٹیوں کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اور قربان جائیں اس عام اور بھولی بھالی عوام کی معصومیت پر کہ انہوں نے ابھی سے ہی بلاول، مریم اور جنید وغیرہ کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ خدارا ان سیاسی آقاؤں کی خاطر اپنے پیاروں سے لڑائی جھگڑے میں مت پڑیں انکو پتا بھی نہیں کہ آپ کون ہیں۔ آپ کے ھونے نہ ھونے سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنے پیاروں سے پیار کریں انکی اصلاح کریں اور مل جل کر ہنسی خوشی سے رہیں۔ جہاں قمر الزماں کائرہ، اعتزاز احسن، نثار خاں، اور جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کی کوئی وقت نہیں وہاں آپ اور میں کیا چیز ۔۔۔ ؟؟؟