Baaghi TV

Category: سیاست

  • دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے

    دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے

    این اے 221تھرپارکر میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے، صوفی یحییٰ قادری

    ہمارے امیدوار کے انتقال کرجانے اور ان کے پیپلزپارٹی *کے حق میں دستبردار ہونے کی جھوٹی خبریں چلواکر ٹی ایل پی کے ووٹرز کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔

    تما تر ہتھکنڈوں کے باوجود عوام اہلسنت حافظ سعد رضوی کی قیادت میں متحد ہیں ،عام انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھریں گے۔
    صوفی یحییٰ قادری
    کراچی (پ ر)تحریک لبیک پاکستان سندھ کے ناظم اعلیٰ صوفی یحییٰ قادری نے کہا ہے کہ حلقہ این اے 221تھرپارکر میں دھاندلی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے گئے۔ٹی ایل پی کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکال کر من مانی کی گئی جبکہ ہمارے امیدوار کے انتقال کرجانے اور ان کے پیپلزپارٹی کے حق میں دستبردار ہونے کی جھوٹی خبریں چلواکر ٹی ایل پی کے ووٹرز کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی
    ۔انہوںنے کہا کہ دھاندلی کے عمل میں پی ٹی آئی بھی پیچھے نہیں رہی اور ان کی جانب سے ایک پولنگ اسٹیشن کو آگ لگائی گئی اور کارکنوں کو ہراساں کیا گیا لیکن ان تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود عوام اہلسنت حافظ سعد رضوی کی قیادت میں متحد ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں ٹی ایل پی ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔

    گزشتہ روز جاری اپنے بیان میں صوفی یحییٰ قادری نے کہا کہ سندھ میں ہونے والے ضمنی الیکشن ایک مذاق کے مترادف تھے۔پیپلزپارٹی نے اپنی صوبائی حکومت کے بل بوتے پر تمام ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیۓ
    ان تمام باتوں کے باوجووعوام اہلسنت جوق در جوق ٹی ایل پی کو ووٹ دینے کے لیے پولنگ اسٹیشنز تک آئے اور تھرپارکرکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مذہبی سیاسی جماعت کو بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ کیا گیا لیکن ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی ہمارے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا گیا اور تا حال ہمیں مکمل نتائج سے بے خبر رکھا گیا

    صوفی یحییٰ قادری نے کہا کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے ٹی ایل پی کی عوامی مقبولیت کو کم نہیں کیا جاسکتا ہے۔کراچی سے خیبر تک عوام اہلسنت حافظ سعد رضوی کی قیادت میں متحد ہیں اور امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی کے مشن کی تکمیل کے لیے اپنا سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہیں۔انہوںنے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں ٹی ایل پی بڑے بڑے برج گرادے گی اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے امیدوار گل حسن صاحب اور تمام کارکنان مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے طاغوتی قوتوں کا استقامت اور بہادری سے مقابلہ کیا۔

    صوفی یحییٰ قادری نے چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی باقاعدگیوں کا نوٹس لیں۔

  • بلاول بھٹو زرداری کی بختاور اور آصفہ کے ہمراہ سیلفی کے چرچے

    بلاول بھٹو زرداری کی بختاور اور آصفہ کے ہمراہ سیلفی کے چرچے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم شہید محترمہ بےنظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے صاحبزادے کی اپنی دونوں ہمشیرہ بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو کے ہمراہ سیلفی انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز بختاور بھٹو زرداری نے اپنا 31واں یومِ پیدائش منایا تھا اور اس ضمن میں جہاں اُنہیں دُنیا بھر سے مختلف پیغامات موصول ہوئے تو وہیں اُن کے بھائی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اپنی بہن کے لیے سوشل میڈیا پر خصوصی پیغام جاری کیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک خوبصورت سیلفی شیئر کی مذکورہ سیلفی میں بلاول بھٹو کے ہمراہ بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو اور اُن کی خالہ صنم بھٹو کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔


    بلاول بھٹو زرداری نے اس خوبصورت سیلفی کے کیپشن میں اپنی بہن بختاور بھٹو کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔

    ٹوئٹر پر شیئر کی گئی اس سیلفی کو صارفین کی جانب سے خوب پسند کیا جا رہا ہے-

    واضح رہے کہ بختاور بھٹو زرداری 25 جنوری 1990 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، بختاور بھٹو زرداری نے انگریزی ادب میں ایم اے اور گریجویشن ایڈن برگ یونیورسٹی سے پاس کیا۔

    بختاور بھٹو زرداری کی شادی کی تقریبات کا آغاز بھی ہوگیا ہے بختاور بھٹو کے محمود چوہدری سے نکاح کی تقریب 29 جنوری کو منعقد کی جائے گی جبکہ ’بارات‘ کی تقریب 30 جنوری کو ہوگی۔

  • کیا حکومت گھر جانے والی ہے؟ آصف علی زرداری کی حکومت کو وارننگ

    کیا حکومت گھر جانے والی ہے؟ آصف علی زرداری کی حکومت کو وارننگ

    سابق صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چودھری منظور احمد کو ٹیلی فون کیا ہے.

    آصف علی زرداری نے کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہے، حکومت پر ہر طرف سے وار کرے گی، ملک شدید خطرات میں ہے، حکمران کوئی بڑا بلنڈر کر سکتے ہیں.
    انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنا اس وقت بہت ضروری ہو چکا ہے، اناڑی حکمرانوں کی نااہلی سے ملک کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے. انہوں نے کہا کہ حکومت سے نجات کیلئے پی ڈی ایم تمام آپشنز بتدریج استعمال کرے گا، اگلے چند مہینے ملکی سیاست کے مستقبل کیلئے بہت اہم ہیں. انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اب مزید کرونا کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے، نہ یہ ویکسین خرید سکے نہ ہی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ یہ کرونا پر عوام کی مدد کر سکے.آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے 2008 کے عالمی معاشی بحران کے باوجود ایکسپورٹ 19 ارب سے 26 ارب تک بڑھائی، ملک کا ریونیو ڈبل کیا، ملازمین کی 125فیصد تنخواہیں بڑھائیں،سرکاری ملازمین کی پینشن میں 100 فیصد اضافہ کیا،اناڑی حکمرانوں نے آج ملک کے تمام اشاریے منفی کر دئے ہیں. انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے کہا تھا یہ سلیکٹڈ حکمران اپنے وزن سے خود گریں گے، اب یہ گر چکے ہیں، بس اب ایک آخری دھکے کی ضرورت ہے.

    انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کے ساتھ ملکر پیپلز پارٹی اس ناکام اور ناہل ٹولے کو گھر بھیجے گی.

  • سید حسن مرتضیٰ کا حکومت کو طنزیہ وار، حکومت کی نااہلی پر سوال اٹھا دیا؟

    سید حسن مرتضیٰ کا حکومت کو طنزیہ وار، حکومت کی نااہلی پر سوال اٹھا دیا؟

    پارلیمانی لیڈر پیپلز پارٹی پنجاب سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان حکومت کا خاتمہ قوم کی دل کی آواز ہے، حکومتی نااہلی اور نالائقی ناقابل برداشت ہو چکی ہے، تحریک عدم اعتماد سے جائے یا کسی اور آئینی طریقے سے، ہر حال میں سلیکٹڈ کو گھر بھیجیں گے.

    انہوں نے کہا کہ مہنگائی ،بیروزگاری ، لاقانونیت اور کرپشن کے نئے نئے ریکارڈ قائم کرنے کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان قوم کا اعتماد کھو چکے ہیں، وفاقی حکومت ہر ہفتے منی بجٹ دیکر عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس رہی ہے، بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ فوری واپس ہونا چاہیے. سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بعد اب اسلام آباد کے عوامی پارک گروی رکھ کر قرضہ حاصل کیا جا رہا ہے، وفاقی وزراء بد زبانی کی بجائے اگر وزیر اعلیٰ سندھ سے گڈ گورننس سیکھ لیں تو پورے پاکستان کا بھلا ہو جائے.

    انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے اگر سندھ حکومت سے مقابلہ کرنا ہے تو پرفارمنس میں کرے، کھسیانی بلی بن کر کھمبا مت نوچے.

  • انتشار کی سیاست کرنے والوں کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے، عثمان بزدار کا اپوزیشن کو کھرا جواب

    انتشار کی سیاست کرنے والوں کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے، عثمان بزدار کا اپوزیشن کو کھرا جواب

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج بے معنی ہے، پی ڈی ایم سے نہ کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی کوئی خطرہ ہے.
    انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ٹولہ خود انتشار کا شکار ہوچکا ہے، بدقسمتی سے یہ عناصر ملک کو عدم استحکام کی طرف لے جا کر دشمن کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں.

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ملک و قوم کے مفادات کو زک پہنچانے والے رہبر نہیں ہیں، اپوزیشن کی جانب سے نازک حالات میں قوم کوتقسیم کرنے کی کوشش قابل مذمت ہے. انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو عوام کا احساس ہے، نہ ملک کی پرواہ، یہ لوگ اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کیلئے قومی مفادات کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت قوم کو اتحاد، اتفاق اور بھائی چارے کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی، موجودہ حالات میں منفی سیاست کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں ہے، انتشار کی سیاست کرنے والوں کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے.

  • سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کے ایم سی کے مالی معاملات سے متعلق اجلاس

    سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کے ایم سی کے مالی معاملات سے متعلق اجلاس

    اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد اور دیگر حکام شریک ہوئے تھے

    کے ایم سی نومبر اور دسمبر میں سینئر افسران کو تنخواہ نہیں دے سکی تھی. وزیراعلیٰ سندھ نے کے ایم سی کو 170 ملین روپے دینے کی منظوری دے دی ہے. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ
    وہ کے ایم سی کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے، وہ چاہتے ہیں کہ کے ایم سی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے. ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں کراچی پورے پاکستان کو چلاتا ہے لیکن کے ایم سی مالی مشکلات کا شکار ہے، یہ افسوس کی بات ہے.
    کے ایم سی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہم ماضی میں میونسپل یوٹیلٹی اینڈ کنزوینسی ٹیکس بل نہیں دے سکے تھے، شہر میں 14 لاکھ ملکیت ہیں جن سے ایم یو سی ٹی ٹیکس وصول ہونا تھا لیکن صرف 35000 پراپرٹیز سے ایم یو سی ٹی ٹیکس وصول ہوسکا ہے.

    ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کا کہنا تھا کہ
    یہ 35000 پراپرٹیز سے ایم یو سی ٹی ٹیکس کی رقم 280 ملین روپے بنتی ہے، ان حالات کی وجہ سے کے یم سی مالی مشکلات کا شکار ہے. وزیراعلیٰ سندھ نے کے ایم سی کو اپنے پارکس اور ہٹس کو پی پی پی کے تحت چلانے کی ہدایات دے دی ہے. ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی اپنے پیٹرول پمپس کو بہترین بڈرز کو دے اور کے ایم سی اپنے مالی مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کرے.

    وزیر بلدیات ناصر شاہ نے کہا کہ ایم یو سی ٹی کے 35 لاکھ سے بل پرنٹ کررہے ہیں. وزیراعلیٰ سندھ نے موبائل فونز کو ٹاورز کے ٹیکسز واپس کے ایم سی کو دینے کی ہدایات دے دی ہے.
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ
    اس وقت ایس بی سی اے ٹاورز کا ٹیکس لیتا ہے، کے ایم سی پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا خود بندوبست کرے.انہوں نے کہا کہ ڈی ایم سیز بھی بہترین کام کررہی ہیں، ڈی ایم سی جنوبی پہلے پارکنگ فی سے 9 ملین روپے وصول کرتا تھا، اب ڈی ایم سی جنوبی 750 ملین روپے پارکنگ سے وصول کررہا ہے.

    وزیراعلیٰ سندھ نے کے ایم سی کو مالی مشکلات سے نکالنے کیلئے تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے. کمیٹی میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری بلدیات نجم شاہ اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد شامل ہیں. یہ کمیٹی ہر 15 دن میں اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی.وزیراعلیٰ سندھ ہر 14 دنوں میں کے ایم سی کمیٹی کی رپورٹ پر اجلاس کریں گے.

    ناصر شاہ نے کہا کہ کورنگی ڈی ایم سی سے کچرا اٹھانے کے اخراجات 20 ملین روپے سے کم کرکے 8 ملین روپے کئے گئے ہیں

  • فارن فنڈنگ میں ملوث ہر پارٹی کالعدم ہونی چاہیے، آفاق احمد کی اظہارِ تشویش

    فارن فنڈنگ میں ملوث ہر پارٹی کالعدم ہونی چاہیے، آفاق احمد کی اظہارِ تشویش

    چیئرمین آفاق احمد نے قومی دھاروں کی سیاسی جماعتوں کی فارن فنڈنگ کے انکشافات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو فارن فنڈنگ کیسز پر فیصلوں میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، سیاسی جماعتوں کی فارن فنڈنگ ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ سے چلنے والی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ عوام کے مفادات اورملکی سلامتی کو پسِ پشت ڈال کر صرف ڈونرز کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے، اس لئے ایسی ہر جماعت کالعدم ہونی چاہیے۔

    آفاق احمد نے آئے دن اندرون سندھ ملک دشمن ریلیوں، جلسے جلوس اور نعروں پر تمام حکومتی اداروں کی طرف سے خاموشی کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اندرون سندھ ملک دشمن سرگرمیوں پر ملکی سلامتی کے اداروں کا رویہ شہری سندھ کے عوام کو ٹھیک پیغام نہیں دے رہا ہے.

  • پاکستان کے بدنام زمانہ ٹھگ پی ڈی ایم کی چھتری تلے جمع ہیں، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی کڑی تنقید

    پاکستان کے بدنام زمانہ ٹھگ پی ڈی ایم کی چھتری تلے جمع ہیں، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی کڑی تنقید

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کی ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان کے بدنام زمانہ ٹھگ پی ڈی ایم کی چھتری تلے جمع ہیں. یہ ٹھگ ایک بار پھر پاکستان کو نوچنے کیلئے اقتدار کے لئے بے قرار ہیں. انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ہوتے ہوئے ان ٹھگوں کی دال نہیں گلے گی. ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اڑھائی برس کے دوران کرپشن کا ایک بھی اسکینڈل سامنے نہیں آیا ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا کریڈٹ ہے.

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے شفافیت کی نئی مثال قائم کی ہے، وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ہوتے ہوئے اب کوئی قومی وسائل میں خیانت کی جرات نہیں کرسکتا ہے. انہوں نے کہا کہ راجکماری اور شہزادہ وہ دن یاد کریں جب ان کے ابا جان کے ادوار میں کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے گئے تھے،ان کے اباجان کے ادوار میں کمیشن کھائے گئے تھے، ماضی میں کرپشن کے مینار کھڑے کرکے اربوں کی لوٹ مار کی گئی تھی،ماضی میں ہر روزکرپشن کا نیا اسکینڈل سامنے آتا تھا.

    ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا نے بھی اس وقت کی بہتی گنگا میں آشنا کیا ہے.حکومت کے دور میں کرپٹ افراد کو نکیل ڈالی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی دیانتدار قیادت میں ملک ترقی کررہا ہے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد بحال ہوا ہے.

  • وفاقی وزیرپاکستان ریلویز محمد اعظم خان سواتی کا کراچی پورٹ ٹرسٹ کا دورہ

    وفاقی وزیرپاکستان ریلویز محمد اعظم خان سواتی کا کراچی پورٹ ٹرسٹ کا دورہ

    وفاقی وزیرپاکستان ریلویز جناب محمد اعظم خان سواتی نے کراچی پورٹ کا دورہ کیا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرپاکستان ریلویز جناب محمد اعظم خان سواتی صاحب آج صبح دورے پرکراچی پورٹ ٹرسٹ پہنچے ان کے ہمراہ چیف ایگزیکیٹو آفیسر/سنیئر جنرل مینیجر جناب نثاراحمدمین صاحب ڈویژنل سپرنٹیڈنٹ جناب ارشدسلام خٹک صاحب بھی موجود تھے-

    کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعلی افسران نے انکا استقبال کیا اہم میٹینگ کی اعزازی شیلڈ بھی پیش کی اور دورہ بھی کرایا-

    اس سے قبل ریلوے مسافروں کو بغیر ٹکٹ سفر کروانے والے ریلوے پولیس سکھر ڈویژن کے ہیڈ کانسٹیبل منیر احمد اور کانسٹیبل عنائیت اللہ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھادونوں ریلوے پولیس اہلکاروں نے گرین لائن پر 10مسافروں کو حیدرآباد تا روہڑی سفر کروایا اور 4,000روپے بطور رشوت وصول کیے ۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی کی کرپٹ عناصر کے خلاف موثر کاروائی کرنے پر ڈی آئی جی آپریشنز اورچیف کمرشل منیجر ریلوے کو شاباش بھی دی تھی-

    مسافروں کو بغیر ٹکٹ سفر کروانے والے دو ریلوے پولیس اہلکار گرفتار، وفاقی وزیر ریلوے نے دیں سخت ہدایات

  • کون بیرونی ایجنٹ :پیپلزپارٹی یا 9 اپوزیشن جماعتیں:قوم جان چکی:——چوہدری منور انجم

    کون بیرونی ایجنٹ :پیپلزپارٹی یا 9 اپوزیشن جماعتیں:قوم جان چکی:——چوہدری منور انجم

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر اس حوالے سے ہمیشہ سنہری حروف میں کیا جائے گا کہ پی پی پی وہ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل ہونے کے بعد جب اپنی حکومت قائم کی تو یہ پہلی منتخب اور آئینی حکومت تھی جسے اپنے آئینی مدت اقتدار پوری کرنے کا موقع ملا اگر اس وقت کی 9 اپوزیشن جماعتیں حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے بیرونی اشاروں پر تحریک چلانے سے گریز کرتیں تو معاملہ افہام وتفہیم سے حل ہوسکتاتھا اور جو عناصر ملک میںطویل ترین مارشل لاء نافذ کرنے کا بھی موقع نہ ملنا،

    لیکن ! افسوسں کہ ایسا نہ ہو سکا اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی حقیقت کا ادراک نہ کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی ملک کی مقبول ترین سیاسی قوت ہے۔ بھٹو شہید نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ایوب حکومت کے معاہدہ تاشقند پر اختلافات کی وجہ سے علیحدہ ہونے کے بعدرکھی، وزیر خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے قومی مفادات کا اس شاندار طریقے سے تحفظ کیا۔ عالمی اور علاقائی مسائل پر ایسی دوراندیشی اور سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا کہ مختصر عرصے میں وہ ملک کے ایک نامور سیاستدان بن گئے اور انہیں عالمی شہرت بھی حاصل تھی۔

    وہ عوامی مفادات کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے اور ان کے جذبے نے انہیں صیح معنوں میں ایک عوامی رہنما بنادیا تھا، چنانچہ جب انہوں نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی رکھی اوراپنے منشور میں روٹی کپڑا اور مکان کو سرفہرست رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے تمام مخالف سیاسی جماعتوں کی مقبولیت اور اکثریت ختم ہوگئی اور پیپلز پارٹی ملک کی سب سے مقبول عوامی سیاسی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی، چنانچہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں ہونے والے انتخابات میں پی پی پی نے زبردست اکثریت حاصل کی۔ لوگ یہ کہتے سنے گئے کہ اگر بھٹو کی بجلی کے کھمے کوبھی پارٹی کاٹکٹ دے دیں تو وہ بڑے سے بڑے سیاست دان کا تختہ الٹ سکتا ہے چنانچہ پیپلز پارٹی کے معمولی کارکنوں کے مقابلے میں کئی سیاسی اجاره دار بری طرح شکست سے دوچار ہوئے۔

    یحییٰ خان کی غلطی کے نتیجہ میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد پیپلز پارٹی کو موجودہ پاکستان کا اقتدار سونپ دیا گیا اور بھٹو شہید وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ بھٹو شہید نے اقتدار سنبھالنے کے فورا بعد اپنے انتخابی منشورکوعملی جامہ پہنانا شروع کیا۔ انہوں نے غریب عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی پالیسی اختیار کی دولت کا ارتکاز اور چند ہاتھوں میں قومی وسائل کو جمع ہونےسے روکنے کے لیے انہوں نے بعض صنعتوں، بنکوں اور دوسرے اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ انہوں نے معیار تعلیم بلند کرنے اور اساتذہ کی محرومیوں کا خاتمہ کرنے کےتعلیمی اداروں کو بھی قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا اس طرح ان اداروں میں جہاں ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوئے، بے روزگاری میں کمی آئی، وہاں دولت چند خاندانوں میں سمیٹنے سے بچ گئی اور معاشرے میں مساوات کے تصور و تقویت ملی قومیائی گئی صنعتوں میں ہزاروں افراد کو ملازمت فراہم کی گئی۔

    بھٹو شہید کے اہم ترین کارتا سے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینا اور اسلامی جمہوری آئین کی تشکیل کھی، انکے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پاکستان کی سرزمین بے آئین کا نام دیا جاتا تھا اورپچاس سال گزر جانے کے باوجود ملک کا آئین بھی تشکیل نہ پاسکاتھاجوکسی بھی لیحاظ سے قومی وقار مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ بھٹو شہید نے قرارداد پاکستان کی روشنی میں اسلامی اور جمہوری آئین کی تشکیل کی اور یہ آئین قومی اسمبلی کے تمام ارکان کی طرف سے مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ آج ہر سیاسی جماعت حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ 1973ء کا اسلامی اور جمہوری | آئین بحال کرے۔

    بھٹو شہید نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے ملک بھر کے غریب اور بے گھر خاندانوں کو سر چھپانے کے لیے جگہ دینے کا پروگرام شروع کیا اس طرح ملک کے لاکھوںبے گھر خاندان اپنے لیے مکان بنانے اور سر چھپانے میں کامیاب ہو گئے ۔ قومی اورملکی سلامتی اور دفاع کو مظبوط بنانے کے لیے انہوں نےایٹمی پروگرام کی بنیادی اس مقصد کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان |سے پاکستان بلایا اور ہمیں اسی پروگرام کا انچارج مقرر کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ پروگرام بھٹو نے ہی شروع کیا اور اس کی تکمیل اور آج پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کا کریڈٹ بھی بانی کی حیثیت میں بھٹو شہید ہی کو جاتا ہے۔

    ان کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان سٹیل ملز کا قیام تھا یہ منصوبہ اس وقت روس کے صنعتی اداروں کے تعاون سے شروع کیا گیا جب پوری دنیا کمیونسٹ بلاک اور سرمایہ دار بلاک میں بٹی ہوئی تھی روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خوشگوار بنانے اور روسی سفیر پر اعتماد کی فضا پیدا کرنے میں بھٹو شہید نے بنیادی کردار ادا کیا اس وقت کوئی بی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کمیونسٹ بلاک کا سربراہ ملک پاکستان میں ایک اہم ترین دفاعی منصوبے میں فنی اور مالی تعاون فراہم کرسکتا ہے لیکن بھٹو شہید کی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی نے یہ ممکن کر دکھایا۔ پاکستان کی تعمیرو ترقی اور خاص طور ایٹمی پروگرام بعض عالمی طاقتوں کی نگاہ میں کھٹک رہا تھا،

    چنانچہ اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے بھٹوشہیدکواس پروگرام کے حوالے سے نمونہ عبرت بنانے کی جو دھمکی دی تھی وہ ضیاء الحق کے ہاتھوں مارشل لاء کے نفاز اور بھٹوکو شہید کرنے کی صورت میں پوری ہوئی، لیکن بھٹو آج پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے اورقوموں کے احسانات کبھی نہیں اتار سکے گی۔ آج ایک بار پھر ملک انتہائی مشکلات سے گزر رہا ہے، پی پی پی اپنی عوام کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گی۔

    ٓآئیں ٓاج ذولفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر عہد کریں کہ ہم چاروں صوبوں کی مضبوطی کے لیے آئین کی بالادستی کے لئے، اٹھارویں ترمیم کو بچانے کے لیے، قانون کی حکمرانی کے لیے، جمہوریت کی مکمل بہالی کے لئے، صاف اور شفاف انتخابات کے لئے، غریب کی غربت ختم کرنے کے لئے، بیروزگار کو روزگار دینے کے لئے، اداروں کے درمیان تصادم کو بچانے کے لئے، پارٹی قیادت اور کارکن اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے ہاتھ مضبوط کریں گے اور سیلیکٹد وزیراعظم کا بھرپور مقابلہ کریں گے ۔ پی پی پی کا ورکر، کارکن، لیڈر، چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں متحد ہیں۔ ہماری قیادت کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات کا ڈٹ کے مقابلہ کریں گے۔

    کون بیرونی ایجنٹ :پیپلزپارٹی یا 9 اپوزیشن جماعتیں:قوم جان چکی:——چوہدری منور انجم