Baaghi TV

Category: سیاست

  • مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

    مرکزی مسلم لیگ: خدمتِ خلق کی روشن مثال،تحریر: یوسف صدیقی

    پاکستان میں جب بھی قدرتی آفات آتی ہیں تو عوام کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی ادارے اپنی استطاعت کے مطابق کام کرتے ہیں مگر اکثر متاثرین تک بروقت اور مکمل امداد نہیں پہنچ پاتی۔ ایسے میں سیاسی و سماجی جماعتوں کی کارکردگی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ انہی جماعتوں میں مرکزی مسلم لیگ بھی ہے جس نے حالیہ تباہ کن سیلاب میں متاثرین کی جس طرح مدد کی، وہ اس کے خدمتِ خلق کے تسلسل کا عملی ثبوت ہے۔

    سیلاب کے دوران مرکزی مسلم لیگ کے کارکن سب سے پہلے میدان عمل میں اُترے۔ متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جہاں روزانہ ہزاروں متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، کپڑے اور خیمے فراہم کیے گئے۔ کراچی سے کپڑوں اور خوراک کی بڑی کھیپ روانہ ہوئی، راولپنڈی سے سامان سوات، بونیر اور گلگت بلتستان پہنچایا گیا۔ کراچی کی ٹیمیں پہلے دن ہی متاثرہ خاندانوں کے درمیان پہنچ گئیں، جہاں نہ صرف صاف پانی کی فراہمی کے لیے پائپ لگائے گئے بلکہ ملبہ ہٹانے کے لیے مزدور اور آلات بھی فراہم کیے گئے۔ یہ سب کچھ بروقت اور منظم انداز میں کیا گیا تاکہ متاثرین کو فوری سہارا مل سکے۔

    مرکزی مسلم لیگ کی میڈیکل ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں سرگرم رہیں۔ درجنوں دیہات میں علاج کی سہولت فراہم کی گئی، مفت ادویات تقسیم ہوئیں اور وبائی امراض کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائی گئیں۔ ان سرگرمیوں نے ہزاروں خاندانوں کو سہارا دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومتی ادارے کمزور پڑ گئے تھے اور متاثرہ لوگ بے یار و مددگار تھے۔

    یہ جماعت ماضی میں بھی مختلف آفات اور سانحات میں عوام کے شانہ بشانہ رہی ہے۔ زلزلے ہوں یا طوفانی بارشیں، مرکزی مسلم لیگ کے کارکنوں نے ہمیشہ میدانِ خدمت میں اپنی موجودگی کو یقینی بنایا۔ یتیم بچوں اور بیواؤں کی کفالت ہو یا قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد، اس جماعت نے خدمتِ خلق کو اپنی سیاست کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ یہی تسلسل حالیہ سیلاب میں بھی نظر آیا جس نے اسے عوام کے دلوں میں مزید جگہ دی۔

    افسوس یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے مرکزی مسلم لیگ کے کردار پر وہ روشنی نہیں ڈالی جس کی یہ مستحق تھی۔ بڑی سیاسی جماعتیں زیادہ تر بیانات تک محدود رہیں مگر عملی میدان میں مرکزی مسلم لیگ کی سرگرمیاں عوام کے لیے حقیقی سہارا ثابت ہوئیں۔ شاید سیاسی پس منظر اور جماعت کے بارے میں کچھ تحفظات کے باعث میڈیا کی توجہ کم رہی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ متاثرین نے اس جماعت کو خالص خدمت کے جذبے کے ساتھ یاد کیا۔

    پاکستان جیسے ملک میں جہاں آفات کے دوران سرکاری مشینری اکثر متاثرین تک بروقت نہیں پہنچ پاتی، وہاں رضاکارانہ نیٹ ورک اور خدمت پر یقین رکھنے والی جماعتیں خلا کو پُر کرتی ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کی سرگرمیوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سیاست صرف نعروں کا نام نہیں بلکہ عوامی خدمت سے جڑی ہوئی عملی جدوجہد ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مرکزی مسلم لیگ نے ثابت کیا ہے کہ خدمتِ خلق ہی سیاست کی اصل پہچان ہے، اور یہی پہچان عوامی اعتماد اور مستقبل کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت بن سکتی ہے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کا مقدس اتحاد،تحریر: واجد علی تونسوی

    پاکستان اور سعودی عرب: تاریخ کا مقدس اتحاد،تحریر: واجد علی تونسوی

    1990 کا سال خلیجی خطے کی سیاست میں ایک ہنگامہ خیز موڑ لے کر آیا۔ جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو پورے عرب خطے میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ سعودی عرب، جس کی سرحدیں جنگ کے قریب آ چکی تھیں، نے فوری طور پر امریکہ سے فوجی مدد طلب کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے، امریکی فوجی طیارے سعودی عرب کے فضائی اڈوں پر اُترنے لگے۔ اُس وقت یہ قدم ایک حفاظتی تدبیر سمجھا گیا، لیکن یہی فیصلہ آگے چل کر مسلم دنیا میں ایک نئے انحصار کا آغاز بن گیا۔ ایسا انحصار جس نے مسلم ممالک کی عسکری خودمختاری کو مغرب کے مفادات سے جوڑ دیا۔ امریکہ خلیجی خطے میں چوکیدار بن کر اُبھرا۔ مسلم ریاستیں اس کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھنے لگیں، لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ یہ چوکیدار اصل میں ایک سوداگر ہے۔ وہ حفاظت کے وعدے ضرور کرتا ہے، مگر صرف اُس وقت تک جب تک اس کے مفادات وابستہ ہوں۔ جہاں فائدہ ختم ہوا، وہاں ذمہ داری کا بوجھ اُتار دیا گیا۔

    یہ حقیقت وقت کے ساتھ اور بھی واضح ہوتی گئی۔ جب ایران نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے، امریکہ نے کوئی سخت ردعمل نہ دیا۔ جب اسرائیل نے قطر میں حماس کے رہنماؤں پر حملے کیے، جہاں امریکی فوجی بھی موجود تھے، تب بھی امریکہ خاموش رہا۔ اس خاموشی کی سب سے سنگین مثال فلسطین کے معاملے میں دیکھی گئی، جہاں سالہا سال سے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی بمباری، بچوں کی شہادتیں، مساجد کی تباہی اور عام شہریوں کی نسل کشی پر امریکہ کی پالیسی صرف اظہارِ تشویش تک محدود رہی۔

    یہی وہ مقام تھا جہاں مسلم دنیا نے آنکھیں کھولیں۔ آہستہ آہستہ روایتی اتحادیوں پر انحصار کم ہونے لگا۔ عالمی توازن میں تبدیلی آ رہی تھی۔ چین ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آیا۔ روس نے مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط کی اور پھر ایک نیا رجحان سامنے آیا۔ مسلم ممالک نے مغرب پر انحصار کے بجائے، آپس میں عسکری، اقتصادی اور سفارتی اتحاد کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب بھارت نے پاکستان کو ایک بار پھر للکارا۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کو دباؤ میں لا سکتا ہے، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اب وہ پاکستان نہیں، جو صرف دفاع تک محدود رہتا تھا۔ پاکستان نے دشمن کے رافیل طیارے مار گرائے، اس کے ارادے فضاؤں میں بکھیر دیے اور دنیا کو باور کرا دیا کہ یہ نیا پاکستان ہے، مضبوط، خوددار اور چپ نہ رہنے والا۔

    پاکستان کے اسی مضبوط کردار نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ سعودی عرب، جو طویل عرصے سے امریکہ پر انحصار کرتا رہا، اب ایک نئے اتحادی کی تلاش میں تھا۔ ایسا ساتھی جو صرف وعدے نہ کرے، بلکہ وقت آنے پر کھڑا ہو سکے۔ اس بار اُس کی نظر اسلام آباد پر پڑی اور یوں تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی نوعیت محض رسمی یا علامتی نہیں، بلکہ حقیقی ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک عسکری تعاون کو نئی سطح پر لے جائیں گے۔ مشترکہ جنگی مشقیں کی جائیں گی، انٹیلیجنس شیئرنگ ہوگی اور سب سے اہم بات، پاکستان حرمین شریفین کے دفاع میں براہِ راست شریک ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس سے دفاعی کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون میں بھی گہری مضبوطی آئے گی۔

    یہ صرف ایک معاہدہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک نئی سمت کا تعین ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ مسلم دنیا اب دوسروں کی محتاج نہیں رہے گی، بلکہ خود اپنے تحفظ، اپنے مفادات اور اپنے مستقبل کی ضامن بنے گی۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے ایک نئے اسلامی عسکری بلاک کی بنیاد کہا جا سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ترکی اور ایران بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں پر غور کر رہے ہیں۔ اگر یہ تعاون حقیقت بن گیا، تو یہ اتحاد نہ صرف خطے کے لیے، بلکہ دنیا بھر میں مظلوموں کے لیے ایک طاقتور پیغام بن جائے گا۔ اس بدلتے منظرنامے میں ایک شخصیت کا کردار سب سے نمایاں ہے، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب۔ وہ صرف آرمی چیف نہیں، بلکہ ایک وژنری رہنما ہیں جنہوں نے پاکستان کی عسکری، سفارتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو ازسرنو متعین کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے داخلی استحکام حاصل کیا، خارجی سطح پر اپنی خودداری کا پرچم بلند کیا اور عالمی برادری کو دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان اب برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے۔

    دنیا انہیں خطرناک ترین آرمی چیف کہتی ہے، کیونکہ وہ امریکی مفادات کے لیے لچکدار نہیں، بلکہ اصولوں پر ڈٹ جانے والے سپہ سالار ہیں، لیکن پاکستان کے عوام کے لیے وہ امید، طاقت اور غیرت کا استعارہ ہیں۔ ان کی موجودگی نے پاکستانی عوام کو اعتماد دیا ہے کہ وہ صرف ایٹمی ہتھیار نہیں، بلکہ ایک باشعور اور بہادر فوج کی پشت پر کھڑے ہیں۔ ان کی حکمت عملی نے دنیا کو بتایا ہے کہ پاکستان صرف دفاعی طاقت نہیں، بلکہ قیادت، قربانی، نظم اور غیرت کا مجموعہ ہے۔ اب اگر کوئی پاکستان پر حملے کی سوچتا ہے، تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اس کے خلاف جواب صرف پاکستان سے نہیں آئے گا، بلکہ مکہ اور مدینہ سے بھی دیا جائے گا۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اب پاکستانی فوج ایک دیوار بن چکی ہے۔

    طاقت کا توازن اب مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ مسلم دنیا غلامی کے نفسیاتی خول سے باہر نکل رہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر مسلم ریاستوں کے درمیان بنتے ہوئے تعلقات ایک نیا باب رقم کر رہے ہیں۔ ایسا باب جہاں عزت کے ساتھ جینا اولین ترجیح ہے۔ یہ اتحاد صرف کسی ایک دشمن کے خلاف نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے وقار، بقاء اور آزادی کی علامت بننے جا رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اب پاکستان اکیلا نہیں۔ اب ہر وار کا جواب ہے۔ اب ہر سازش کا توڑ ہے۔ اب امتِ مسلمہ ایک نئی طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے آ رہی ہے، ایک ایسا اتحاد جو غلامی کو جرم اور خودداری کو فخر سمجھتا ہے۔

  • پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ جتنی پرانی ہے، اتنی ہی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف مذہبی و تہذیبی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک پہلوؤں سے بھی ایک دوسرے کے قریبی حلیف ہیں۔ یہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ کئی نشیب و فراز سے گزرے مگر ان کی اساس ہمیشہ قائم رہی۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم پاکستان کے دورۂ سعودی عرب اور سعودی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں نے اس رشتے کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا ہے جہاں مستقبل کے امکانات مزید وسعت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔مذہبی و روحانی رشتہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سب سے گہرا رشتہ روحانی ہے۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی فریضۂ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کی محبت پاکستانی عوام کے دلوں میں رچی بسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان میں ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ یہ دینی رشتہ دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات کو بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    پاکستان کے قیام کے فوراً بعد سعودی عرب نے اسے تسلیم کیا اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
    1965 اور 1971 کی جنگوں میں سعودی عرب نے پاکستان کی سفارتی و مالی مدد کی۔ افغانستان میں سوویت مداخلت کے دور میں بھی دونوں ممالک نے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان کے حایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے سفارتی سطح پر حمایت فراہم کی۔حالیہ دورۂ وزیر اعظم اور نئے امکانات ، وزیر اعظم پاکستان کا حالیہ دورۂ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ سعودی قیادت نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے بڑے مواقع فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ خاص طور پر گوادر اور سی پیک منصوبوں میں سعودی شمولیت نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ خطے میں سعودی اثر و رسوخ کو بھی بڑھائے گی۔
    وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ "پاک سعودی سرمایہ کاری تجارتی تعلقات مزید مستحکم کریں گے۔” یہ بیان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں ممالک محض جذباتی یا مذہبی رشتے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ عملی اور معاشی بنیادوں پر تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔معاشی و تجارتی تعاون ۔سعودی عرب پاکستان کو تیل اور توانائی کے شعبے میں بڑے پراجیکٹس کی پیشکش کر رہا ہے۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان کے توانائی بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں بھی سعودی سرمایہ کار دلچسپی رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اپنی فوڈ سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی زرخیز زمینوں اور افرادی قوت کو بروئے کار لا سکتا ہے۔پاکستانی محنت کش سعودی عرب کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کر کے ہر سال اربوں ڈالر زرمبادلہ اپنے وطن بھیجتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان محنت کشوں کو بہتر سہولیات اور حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ دونوں ممالک کا رشتہ مزید مضبوط ہو۔دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقاتکے حوالے سے پاک فوج اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ سعودی افواج کی تربیت، مشترکہ مشقیں، اور سیکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون ہمیشہ جاری رہا ہے۔ خطے کے بدلتے حالات میں یہ تعاون مزید اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ یمن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر تنازعات میں پاکستان نے ہمیشہ محتاط لیکن برادرانہ کردار ادا کیا ہے تاکہ سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔عوامی وابستگی اور ثقافتی رشتہ ،پاکستانی عوام سعودی عرب کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک روحانی مرکز سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی سیاسی قیادت بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو عوامی خواہشات کے عین مطابق ترجیح دیتی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک "پل” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں لیکن چند چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی اکثر پاکستان کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا کر دیتی ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ محتاط رہنا پڑتا ہے کہ وہ کسی ایک جانب زیادہ نہ جھکے۔ اسی طرح پاکستان کی معاشی کمزوری اور بار بار کے سیاسی بحران بھی سعودی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے تعلقات کو ایک پائیدار معاشی شراکت داری میں تبدیل کریں۔ محض بیانات یا جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔سی پیک میں سعودی شمولیت پاکستان کی اقتصادی راہداری کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔توانائی منصوبے سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کا توانائی بحران کم ہو سکتا ہے۔زرعی شعبے میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں تعاون نئی نسل کو مواقع فراہم کرے گا۔

    سفارتی سطح پر اشتراک اسلامی دنیا کے مسائل کے حل میں دونوں ممالک کو قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔پاک سعودی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ محض ایک ریاستی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی جڑیں عوامی دلوں میں پیوست ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلقات کو معاشی اور تجارتی بنیادوں پر مزید وسعت دی جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں۔ وزیر اعظم کا حالیہ بیان اور سعودی قیادت کی دلچسپی امید دلاتی ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف ایک دوسرے کے قریب آئیں گے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں گے

  • پاکستان،سعودی عرب دفاعی معاہدہ: اتحاد کی ایک نئی مثال،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان،سعودی عرب دفاعی معاہدہ: اتحاد کی ایک نئی مثال،تحریر:یوسف صدیقی

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ اخلاص، بھائی چارے اور مشترکہ مذہبی اقدار پر استوار رہے ہیں۔ یہ رشتہ محض جذباتی یا مذہبی وابستگی نہیں بلکہ سیاست، معیشت اور دفاع کے میدانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ سعودی عرب نے ہر نازک موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا، جبکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش سعودی عرب میں روزگار حاصل کر کے اپنی محنت سے دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہی دیرینہ تعلقات کی بنیاد پر حال ہی میں ریاض میں ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے، جسے "اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کہا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم قطر کے تاریخی دورے کے بعد سعودی عرب پہنچے۔ اس تناظر میں یہ معاہدہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ خطے کی نئی سفارتی صف بندی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

    معاہدے کے مطابق اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ دراصل اس اعلان کے مترادف ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی اعتبار سے ایک دوسرے کے ضامن ہیں۔ مزید یہ کہ معاہدے میں "تمام فوجی ذرائع” کے استعمال کی شق موجود ہے، جس میں مشترکہ مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی صنعت میں شراکت داری شامل ہیں۔ یہ سب اس بات کا اظہار ہے کہ دونوں ممالک اپنے دفاع کو کسی بھی سطح پر کمزور نہیں دیکھنا چاہتے۔

    پاکستان کے لیے یہ معاہدہ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے قریبی دوستوں میں رہا ہے اور اب یہ رشتہ مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب میں 25 لاکھ سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد ان کے مستقبل کو بھی مزید تحفظ حاصل ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو نئی ساکھ مل رہی ہے، کیونکہ ایک بڑی علاقائی طاقت نے اپنی سلامتی کے لیے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔

    سعودی عرب کے لیے بھی یہ شراکت داری بے حد قیمتی ہے۔ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور یہ حقیقت سعودی عرب کے لیے ایک مضبوط دفاعی سہارا ہے۔ خطے میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ اور اسرائیل–قطر تنازعے جیسے حالات میں سعودی عرب کے لیے پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ اعتماد اور تحفظ کا ذریعہ بنے گا۔ اسی کے ساتھ اسلامی دنیا کی قیادت کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف بھی مزید مستحکم ہوگا، کیونکہ پاکستان جیسے بڑے ملک کی شمولیت اس کی پوزیشن کو اور واضح کرتی ہے۔

    عوام اور سیاسی حلقوں میں اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ لوگ اسے اسلامی دنیا کے اتحاد کی عملی شکل سمجھ رہے ہیں، جبکہ حکومت کے لیے یہ خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔ میڈیا بھی اس پیش رفت کو پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مؤثر بنانے کی علامت قرار دے رہا ہے۔

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب ماضی میں بھی عسکری تعاون کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی ماہرین سعودی افواج کی تربیت میں شامل رہے، اور 1991 کی خلیجی جنگ میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے براہِ راست کردار ادا کیا۔ اب یہ معاہدہ پرانی شراکت داری کو ایک باضابطہ اور جامع شکل دے رہا ہے۔

    پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان تعاون نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک پیغام ہے: جب مسلم ممالک ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں تو کوئی چیلنج انہیں کمزور نہیں کر سکتا۔ آج یہ معاہدہ اسی اتحاد کی علامت ہے—یہی اتحاد طاقت ہے اور یہی طاقت امن و استحکام کی ضمانت۔

  • سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے  بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سعودیہ سے معاہدہ،پاکستان نے بیرونی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک فوج اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی کامیاب حکمت عملی ،سید عاصم منیر پھر ہیرو ٹھہرے
    معرکہ حق میں شاہینوں کی فتح سے پاکستان کی طاقت کو دنیا نے مان لیا،بیرونی توازن قائم
    ملک کے داخلی مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت،کرپشن کے خلاف جہاد کرنا ہوگا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کی کامیاب سفارتی حکمت عملی، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ سفارتی حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاکستان نے بعض امور میں واضح اور اصولی موقف اپنایا ہے مثلاً فلسطین کے مسئلے، بین الاقوامی تنازعات میں بیرونی طاقتوں کے مابین توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کسی ایک بلاک کی زبان نہ بولنا پڑے،اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا ہے، مہنگائی اور مالیاتی خسارے سمیت بہت سے داخلی مسائل درپیش ہیں، بیرونی طاقتیں زیادہ تر معاشی استحکام دیکھ کر اعتماد کرتی ہیں،بدعنوانی، معاشرتی و سیاسی عدم استحکام اور داخلی سیکورٹی کے مسائل سفارتی موقف کو متاثر کرتے ہیں، پاکستان کو اکثر انسانی حقوق، سیاسی آزادی وغیرہ کے معاملات میں عالمی تنقید کا سامنا رہتا ہے، بعض اوقات حکومتی تبدیلیاں یا سیاسی کشمکش کے باعث سفارتی پالیسیاں مستقل نہیں رہتیں ،جس سے بیرونی پارٹنرز میں اعتماد کم ہو جاتا ہے، پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی بنیادی طور پر فعال متوازن اور اصولی ہے، عالمی سطح پر ایک ایسا کھلا اور بات کرنے والا ملک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صرف ردعمل نہیں دیتا بلکہ معاملات کو حتمی شکل دیتا ہے، اس حکمت عملی نے اسے کچھ معاشی فوائد، علاقائی شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعلقات اور عالمی فورمز میں زیادہ سنی جانے والی آواز دی ہے، یاد رہے کامیابی کا دارومدار صرف سفارتی باتوں پر نہیں داخلی استحکام معاشی، سیاسی، سکیورٹی، شفافیت اور حکومت کی صلاحیت، پالیسیوں کا تسلسل، مواصلاتی حکمت عملی، ڈپلومیسی کے ذریعے تاثر کو منظم کرنا شامل ہے،داخلی صورت حال میں ملک کے تمام اداروں کو جن میں سول بیوروکریسی، بیوروکریٹ، اعلیٰ پولیس افسران، اقرباءپروری کرنے والے وفاقی اور صوبائی وزراء کرپشن میں ملوث مختلف سول ادارے لینڈ مافیا کے پشت پناہ، سول انتظامیہ اور دیگر اپنا قبلہ درست کریں اور سفارتی حکمت عملی پر عمل کریں، اپنے ذاتی مفادات کو ملک پر قربان کریں، عوام بھی بھرپور ساتھ دیں تو وطن عزیز کا دنیا میں اہم کردار مزید مستحکم ہو سکتا ہے، علم اور عمل کے سفر پر گامزن ہو جائیں، موجودہ سفارتی حکمت عملی نے پاکستان کو طاقتور اور ایک ذمہ دار ملک بنا دیا ہے،بلاشبہ پاکستان کی موجودہ بین الاقوامی سفارتی حکمت عملی میں پاک فوج جملہ اداروں اور وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کا کردار انتہائی اہم رہا ہے

  • اسلامی اتحادعوامی  خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلامی اتحادعوامی خواہش، لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا کیوں نہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے موجودہ عالمی دنیا کو دیکھا جائے تو مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم بنیادی طور پر اپنی بقاء، طاقت اور معاشی مفادات کے لیے پالیسیاں بناتے ہیں۔اسلام بطور دین ہمیں حق اور انصاف، مظلوم کی حمایت اور باہمی اتحاد کا درس دیتا ہے۔ لیکن مسلم ممالک کی حکومتیں ہمیشہ ان اصولوں پر نہیں چلتیں ان کی سیاست اکثر بین الاقوامی تعلقات، طاقت کے توازن معیشت اور اپنی کرسی بچانے پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے جب اسلامی جنگ یا اسلامی اتحاد کی بات کی جاتی ہے تو عملی طور پر وہ زیادہ نعرہ ہی رہتا ہے تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ عرب اسرائیل جنگوں میں بھی عرب ممالک متحد ہو کر نہیں لڑ سکے کشمیر یا فلسطین جیسے مسائل پر بھی مسلم دنیا کا موقف تو ہے لیکن عملی اتحاد اور حقیقی قربانی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کئی بار مسلم ممالک آپس میں ہی جنگوں میں الجھے ہیں جس کی مثالیں موجود ہیں۔

    آج کی جنگیں مفادات کی جنگیں ہیں مسلم ممالک کی عوام میں درد، محبت اور دینی غیرت اب بھی زندہ ہے لیکن حکومتوں کی سطح پر زیادہ تر فیصلے سیاسی و معاشی مصلحتوں کے تابع ہیں۔ زیادہ تر مسلم ممالک میں حکمران اپنی کرسی اور اقتدار بچانے کو اولین ترجیح دیتے ہیں قومی مفادات کو اسلامی اتحاد پر فوقیت دیتے ہیں۔ بہت سے ممالک عالمی طاقتوں مثلاً امریکہ، روس، چین وغیرہ پر انحصار کرتے ہیں جس کی وجہ سے آزاد فیصلے نہیں کر پاتے۔ شیعہ، سنی صوفی، وہابی وغیرہ تقسیمیں اکثر سیاسی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ بڑے ممالک جیسے ایران اور سعودیہ عرب اپنے اپنے بلاکس بنانے میں لگے رہتے ہیں جس کا نتیجہ دشمنی اسلامی بھائی چارے پر غالب آ جاتی ہے۔ ترکی، ایران، عرب ممالک اور برصغیر کے اپنے اپنے قومی ایجنڈے ہیں ہر ملک اپنی زبان نسل اور جغرافیے کو ترجیح دیتا ہے جس کی وجہ سے (اُمتِ واحدہ) کا تصور عملی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ مسلم دنیا میں بے شمار وسائل ہیں تیل، گیس، مدنیات، افرادی قوت مگر ان کا استعمال بکھرا ہوا ہے۔ امیر مسلم ممالک غریب مسلم ممالک کی سنجیدگی سے مدد نہیں کرتے مسلم دنیا میں سوچنے اور سوال کرنے کی روایت کمزور ہو چکی ہے۔ زیادہ تر زور جذباتی نعروں پر ہے عملی منصوبہ بندی اور سائنسی ترقی پر نہیں۔ نتیجہ یہ کہ عالمی سطح پر فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں تو ان کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ اکثر مسلم ممالک ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسلامی اتحاد اسلامی ممالک کی عوام کی خواہش تو ہے لیکن حکمرانوں کا ایجنڈا نہیں۔ جب تک قیادتیں اپنے ذاتی مفادات کو اُمت کے مفاد پر قربان نہیں کریں گی اتحاد محض تقریروں اور قراردادوں تک محدود رہے گا۔

  • زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    عمران خان کا حالیہ بیان ملاحظہ کیجیے:
    "سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا۔ اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ ‘دہشت گرد آ گئے ہیں’ قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دیے گئے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔

    افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی 9/11 کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسايا جا رہا ہے تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالفت الی کو خوش کیا جا سکے اور مغرب کے سامنے ایک ‘نجات دہندہ’ بننے کی کوشش کی جائے۔”

    یہ الفاظ پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ
    عمران خان کی زبان ایک سنجیدہ قومی رہنما کی بجائے ایک مایوس سیاستدان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ریاستی اداروں پر ڈالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رویہ قوم میں جھگڑا اور بے اعتمادی بڑھانے والا ہے، جبکہ مسئلے کے حل کی طرف توجہ کم ہے۔

    افغان مہاجرین کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی؛ یہ خاندان یہاں بس گئے، یہاں کے معاشرے کا حصہ بنے۔ مگر اسی عرصے میں کچھ کیمپوں اور بستیوں میں منشیات، اسمگلنگ اور چھوٹے جرائم کے نیٹ ورک بھی ابھرے۔ سرکاری رپورٹس اور بعض عدالتی فیصلوں نے یہ بات اجاگر کی کہ شناختی دستاویزات کے معاملے میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یہ حقائق عوام کے تحفظ کے سوالات کو جُھٹلا نہیں سکتے۔

    سوال بنیادی ہے: جب کسی ملک کے شہریوں کی جان و مال خطرے میں ہو تو ریاست کی ذمہ داری کیا ہو گی؟ کیا حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت ترک کر کے غیر محدود پالیسی اختیار کرے؟ یہ اخلاقی اور سیاسی بحث جذباتی ہمدردی سے علیحدہ ہو کر ترتیب سے ہونی چاہیے۔ جب کوئی سابق وزیراعظم مہاجرین کے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے تو اسے ریاست کی بنیادی ذمہ داری — عوام کی حفاظت — کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

    "فالس فلیگ” کا الزام سنگین ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔ پاکستان کی فوج اور پولیس نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف سخت قربانیاں دیں۔ سوات، وزیرستان، بلوچستان اور کراچی کے محاذوں پر سینکڑوں جوان اور افسران نے جانیں دیں۔ یہ سب قربانیاں محض کوئی ڈرامہ نہیں ہو سکتیں۔ ایسے الزامات شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور قومی جذبہ متاثر ہوتا ہے۔

    قابلِ توجہ یہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں میں آپریشنز کے دوران جانی نقصان ہوا۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر دہشت گرد دوبارہ آزادانہ انداز میں قدم جما لیں تو ریاست کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ ماضی میں بعض مذاکراتی تجربات نے یہ دکھایا کہ عبوری مفاہمت کے بعد کچھ گروہیں دوبارہ طاقت پکڑ گئیں۔ اسکول، پولیس چوکیوں اور عام شہریوں پر حملوں کی قیمت ہمیشہ عام آدمی نے ادا کی ہے۔ کیا ہم وہی خطرہ دہرانا چاہتے ہیں؟

    جنرل عاصم منیر کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ ایک اور حساس موضوع ہیں۔ پالیسی پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر فوج کی نیت پر براہِ راست شبہات اٹھانا انتہائی نازک امر ہے۔ ناقدین کے نزدیک اس قسم کے الزامات اداروں اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کر سکتے ہیں۔ پالیسیوں کی شفافیت پر سوال اٹھائیں، شواہد مانگیں، مگر ایسے بیانات جو اداروں کی نیت کو مشکوک کریں، ان کے نتائج سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔

    ایک بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان اکثر اپنی سیاسی ناکامیوں کا ملبہ فوج یا اداروں پر ڈالتے آئے ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور گورننس کے مسائل واضح رہے۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو کئی چیلنجز کا حل فراہم کرنے میں ناکام رہے؛ اب جب وہ جیل میں ہیں تو ہر مسئلے کا ذمہ دار ادارہ قرار دینا آسانی بن گیا ہے۔ یہ بیانیہ کسی قومی رہنما کے بجائے ذاتی انا کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے منفی نتائج طویل المدت ہوتے ہیں۔

    بار بار یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پالیسیاں "مغرب کو خوش کرنے” کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ دشمن ممالک اسی طرزِ بیان کے ذریعے پاکستان کو کمزور یا کنٹرولڈ دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کسی معتبر سیاستدان کے منہ سے اس بیانیے کی تکرار، ناقدین کے نزدیک، ملکی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر غلط تاثر پیدا کرتی ہے۔قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے کس سیاسی قیادت پر اعتماد کرنا چاہیے۔ کیا وہ ایسے لیڈر کو برداشت کرے گی جو ہر مسئلے کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھہراتا ہے؟ کیا وہ ایسے بیانات قبول کرے گی جو اداروں اور عوام کے درمیان شکوک و شبہات کو ہوا دیں؟ پاکستان کی سلامتی کسی فرد یا سیاسی جماعت سے بڑی ہے۔ ادارے مضبوط رہیں تو ریاست مضبوط رہے گی؛ اور مضبوط ریاستی ادارے ہی ملک کو درپیش خطرات سے نبردآزما رہ سکتے ہیں۔

  • شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    شہباز شریف کا دورہ قطر ایک جائزہ،تحریر:یوسف صدیقی

    انڈیا کو بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں آگے بڑھ کر قیادت کیوں کر رہا ہے۔ انڈیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک نیو کلیئر طاقت ہے، جس کے پاس دنیا کی سب سے مضبوط بری، بحری اور فضائی قوت، یعنی پاک افواج، موجود ہے۔ پاکستان کی فوج ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی خطرے کے خلاف پہرے پر ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ اور اعتماد کا لازمی حصہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار اور مستحکم ملک کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

    اسی پس منظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ قطر دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ نہ صرف قطر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تھا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے اصولی موقف اور عرب دنیا میں اس کے اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بعد وزیراعظم نے فوری طور پر دوحہ کا دورہ کیا اور قطری قیادت کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا عملی مظاہرہ کیا۔ ان کا یہ اقدام عالمی سطح پر پاکستان کے مؤثر کردار اور عرب دنیا میں اہم مقام کا عملی ثبوت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی دور اندیش قیادت نے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف قطر کے ساتھ تعلقات مستحکم کیے بلکہ خطے میں امن و استحکام اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہی ہے، اور شہباز شریف کی قیادت میں یہ اصول اور بھی واضح انداز میں عالمی منظرنامے پر سامنے آئے ہیں۔

    پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی ہے اور عرب دنیا کے مسائل میں ثالثی اور قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔ شہباز شریف کا قطر دورہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف عرب دنیا میں معتبر اور مؤثر حیثیت رکھتا ہے بلکہ ہر وقت امن، انصاف اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داری کو بخوبی سمجھتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی کی کامیابی بھی واضح طور پر نظر آئی ہے۔ عرب دنیا میں ان کا ذاتی قیادت کا مظاہرہ نہ صرف پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج بھی قائم کرتا ہے۔ ان کی دور اندیش قیادت نے پاکستان کو ایک فعال اور دلیرانہ کھلاڑی کے طور پر پیش کیا، جو خطے میں امن اور تعاون کے فروغ کے لیے مصمم ارادے والا ہے۔ شہباز شریف کی دوحہ میں دی گئی تقریر نے عالمی دنیا کو بالعموم اور انڈیا کو بالخصوص ہلا کر رکھ دیا، جبکہ اسرائیل میں بھی پاکستان کے حوالے سے ہلچل پیدا ہو گئی کہ پاکستان عرب ممالک کی سرپرستی اور رہنمائی کے لیے مشرق وسطیٰ میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کامیابی نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان نہ صرف نیو کلیئر اور دفاعی طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے، بلکہ عالمی سیاسی و سفارتی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔

    یہ دورہ اور پاکستان کا ردعمل عالمی سطح پر اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ ہمارا ملک اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی کے ساتھ عرب دنیا میں اتحاد اور رہنمائی کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف دفاع اور نیو کلیئر طاقت کے حوالے سے مضبوط ہے بلکہ عالمی سیاسی، سفارتی اور اقتصادی میدان میں بھی ایک مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

    مزید برآں، اس دورے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی اور عالمی سیاست میں اس کی فعال شرکت کو نمایاں کیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان صرف علاقائی محاذ پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اصولی، مستحکم اور قابل اعتماد شریک ہے، جو امن، ترقی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے مستقل کوشاں ہے۔

  • سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی امداد پر پروپیگنڈا، حقیقت اور جواب،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں جب مفادات کی سیاست اپنے عروج پر ہے، ایسے وقت میں کچھ رشتے خالص جذبوں اور بے لوث قربانیوں کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ انہی پاکیزہ رشتوں میں پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کا تعلق سب سے نمایاں ہے۔ یہ تعلق محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ دو دلوں کا ہے جو ایمان، اخوت، قربانی اور بھائی چارے کے رشتے سے جُڑے ہوئے ہیں۔تاہم افسوس کا مقام ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ شرپسند عناصر نے سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد پر جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا آغاز کیا ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ یہ محض ایک جھوٹی مہم نہیں بلکہ ایک عالمی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلم دنیا کو باہمی اتحاد اور اعتماد سے محروم کرنا ہے۔
    اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی حمایت کی بلکہ مالی اور سفارتی سطح پر بھی بے مثال تعاون فراہم کیا۔ 2005ء کے قیامت خیز زلزلے میں سعودی عرب نے سب سے پہلے ریلیف طیارے پاکستان بھیجے۔ لاکھوں خیمے، ٹنوں ادویات، خوراک اور اربوں روپے کی مالی امداد سعودی عرب کی طرف سے فوری طور پر پہنچائی گئی۔اسی طرح 2010ء کے سیلاب میں جب پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا، سعودی عرب نے کھلے دل کے ساتھ امداد فراہم کی۔ سعودی عوام نے اپنے بھائیوں کے لیے زیورات تک عطیہ کیے۔ یہ وہ اخوت ہے جسے کوئی منصف مزاج شخص جھٹلا نہیں سکتا۔

    پاکستان کی معیشت کئی بار شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔ ایسے مواقع پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کو سہارا دیا۔ کبھی اربوں ڈالر کے قرضے دیے گئے، کبھی تیل مؤخر ادائیگی پر فراہم کیا گیا، اور کبھی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گئے۔ آج بھی لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے ذریعے اپنے گھروں اور ملکی معیشت کا سہارا ہیں۔یہ تعلق محض سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ روحانی بنیادوں پر قائم ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے پاکستانی عوام کا والہانہ تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حج و عمرہ کے دوران سعودی حکومت کی جانب سے مہمانوں کو جو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں وہ لائقِ تحسین ہیں۔ یہ وہ تعلق ہے جسے کوئی سازش یا پروپیگنڈا کمزور نہیں کر سکتا۔ تاہم اس کے باوجود بدقسمتی سے بعض عناصر سعودی عرب کی نیک نیتی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہیں جو دراصل بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ کبھی فلسطین کے مسئلے پر اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے، کبھی ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اب پاکستان و سعودی عرب کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب کچھ مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کے عالمی منصوبے کا حصہ ہے۔

    پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ سعودی عرب ان کا مخلص بھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر سعودی عرب کے لیے محبت اور عقیدت ہمیشہ قائم رہی ہے۔ یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستانی میڈیا، اہلِ قلم اور دانشور آگے بڑھیں اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں۔ سعودی عرب کی خدمات اور قربانیوں کو فراموش کرنا محسن کُشی کے مترادف ہے اور یہ رویہ دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔
    آج امتِ مسلمہ فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق اور شام جیسے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کا اتحاد پوری امت کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگر یہ رشتہ مضبوط رہا تو دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

    آئیے ہم سب اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ دلوں کی دھڑکنوں سے جڑا ہے۔ جب پاکستان مصیبت میں گھرتا ہے تو سعودی عرب کا ہاتھ ہمیشہ بڑھتا ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں گے اور اپنے محسن کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔اے اللہ! پاکستان اور سعودی عرب کے تعلق کو ترقی اور استحکام عطا فرما۔ دونوں ممالک کو ہر سازش اور ہر فتنے سے محفوظ رکھ۔ امتِ مسلمہ کو اتحاد کی لڑی میں پرو دے تاکہ تیرے دین کا پرچم بلند ہو۔ آمین ثم آمین ۔

  • بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بڑھتی شدت پسندی،جامع حکمت عملی ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں وقتا فوقتا ریاستی سلامتی کے اداروں اور تنصیبات پر حملے ہوتے رہے ہیں اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں اور عسکریت پسند گروہ ریاستی اداروں کو ٹارگٹ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اپنی نظریاتی یا ریاستی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ حملے زیادہ تر ایسے گروہوں کی طرف سے ہوتے ہیں جو پاکستان کے آئینی اور ریاستی ڈھانچے کو تسلیم نہیں کرتے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور خطے میں اس کے کردار کی وجہ سے بعض بیرونی قوتیں جس میں بھارت بھی شامل ہے ایسی سرگرمیوں کو ہوا دیتی ہیں تا کے ملک میں عدم استحکام رہے۔ افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کی صورتحال بھی اس میں اثر انداز ہوتی ہے۔ معاشی بحران سیاسی عدم استحکام اور گورننس کے مسائل بھی شدت پسندی کو تقویت دیتے ہیں۔ جب ریاست کے اندرونی مسائل بڑھتے ہیں تو دہشت گرد گروہوں کو اپنے نیٹ ورک پھیلانے کے لیے ماحول سازگار مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں دشمن صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑتا بلکہ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا مہم اور اداروں پر حملے کروا کے ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ریاستی ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ اگر عوام کے ذہن میں ان اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے تو پورے نظام پر اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔

    حال ہی میں ریاستی فورسز نے افغان سرحد کے نزدیک چند خفیہ ٹھکانوں پر کاروائیاں کیں خصوصا باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور دیگر اضلاع میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال بلوچستان میں دیکھی جا رہی ہے۔ جعفر ایکسپریس واقعہ بھی ہوا جہاں شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بھی بنایا اور شہید بھی کیا۔ فوجی اور سلامتی اداروں کو اس لیے نشانہ بناتے ہیں کہ وہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر یہاں سرحدی قربت، پہاڑی جغرافیہ، افغان طالبان کی حمایت اور مقامی نیٹ ورکس کی موجودگی سہولت دیتی ہے۔ بلوچستان علیحدگی پسند گروہ مکران، پنجگور، کیچ، اور کوئٹہ کے اطراف میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ سرحد پر حملے صرف افغانستان سے داخل ہو کر خودکش بم دھماکے، چوکیاں، قافلے، بکتر بند گاڑیاں ٹارگیٹڈ حملے کرتے ہیں۔ پروپیگنڈا، سوشل میڈیا وار، عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کو اپنے سرحدی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی بیس، انٹیلیجنس مانیٹر کا بہتر استعمال کرنا ہوگا۔ فوج، پولیس اور سول انٹیلیجنس اداروں کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ سیاسی شمولیت قبائلی اضلاع میں عوامی نمائندگی بڑھانا ہوگی۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں خصوصی اکنامک، تعلیم، روزگار، اور صحت پر توجہ دینا ہوگی۔ جو عسکریت پسند ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوں ان کی معافی اور بھاری پروگرام جیسا کہ سری لنکا نے تامل باغیوں کے بعد کیا کرنا ہوگا۔ علماء اور سول سوسائٹی کو شامل کر کے شدت پسندانہ بیانیے کا علمی و مذہبی توڑ کرنا ہوگا۔ دشمن کے پروپیگنڈا مہم کا جواب موثر اور عوامی رابطہ مہم سے دینا ہوگا۔ سیاسی قوتوں کو قومی سلامتی کے معاملات پر متفق کرنا ہوگا تاکہ شدت پسند درمیان کی خالی جگہ استعمال نہ کر سکیں۔ سفارتی ذرائع سے طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور حتی کہ امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ پاکستان کے سلامتی اداروں پر حملے زیادہ تر کے پی کے (قبائلی اضلاع) اور بلوچستان میں ہوتے ہیں جہاں جغرافیائی سیاسی اور سماجی محرکات شدت پسندوں کو سہولت دیتے ہیں اس کے لیے جامع حکمت عملی ضروری ہے۔ جبکہ اس میں مضبوط سفارتی پالیسی شامل ہونی چاہیے۔