Baaghi TV

Category: سیاست

  • خیبر پختونخوا میں‌تعلیم وصحت کی صورتحال اور حکومتی ترجیحات،تحریر:کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخوا میں‌تعلیم وصحت کی صورتحال اور حکومتی ترجیحات،تحریر:کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال حکومت کی ناکامی کا استعارہ بن چکی ہے۔ کرم میں قبائلی جھڑپوں سے لے کر مالم جبہ میں پولیس افسر کی افسوسناک موت تک، جہاں ایک آئی ای ڈی دھماکے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، خیبر پختونخوا عدم استحکام سے دوچار ہے۔ صوبائی پولیس، جو کبھی ایک مضبوط ادارہ تھی، اب بے بس نظر آتی ہے، اور عوامی حفاظت کی ذمہ داری جن کے کاندھوں پر ہے وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن یہ محض ان مسائل کی سطحی علامات ہیں جو ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتی ہیں—ایک ایسی حکومت کا جو اپنے فرائض سے دستبردار ہو چکی ہے۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی حکومت سیاسی بقا پر زیادہ توجہ دے رہی ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود سنگین مسائل کو حل کرے۔ وزیراعلیٰ اپنے صوبے سے دور رہ کر سیاسی جلسے اور پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے میں وقت صرف کر رہے ہیں، جبکہ صوبے میں قانون نافذ کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی جیسے ہر شعبے میں نظام ناکامی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے کو دیکھیں، وہ بدعنوانی اور غفلت کا شکار ہے۔ ملازمتیں رشوت کے عوض فروخت ہونے کی خبریں عام ہو چکی ہیں، اور صوبائی وزیر تعلیم چھوٹے چھوٹے مسائل تک حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ نجکاری کے نام پر عوامی زمینوں اور اسکولوں کی فروخت ہو رہی ہے، جس سے عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیاری تعلیم صوبے کے غریب ترین شہریوں کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بدحالی بہت گہری ہے اور خیبر پختونخوا کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

    صحت کا نظام بھی کچھ بہتر حالت میں نہیں ہے۔ اسپتالوں میں رش، ناکافی فنڈز اور ایسے پیشہ ور افراد کی کمی ہے جو یا تو مایوس ہیں یا بے اختیار۔ عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی کمی ایک جاری بحران ہے جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم کر رہا ہے، جہاں صحت کی خدمات پہلے ہی نایاب ہیں۔ دہشت گردی کے مسلسل خطرے اور سیاسی عدم استحکام کے وقت میں، اس لاپرواہی کی قیمت سب سے زیادہ کمزور لوگ چکاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدعنوانی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے، جس نے حکومت کے ہر کونے کو متاثر کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر تشہیر کیے گئے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے، جسے کبھی صوبے کے لیے گیم چینجر سمجھا جاتا تھا، میں بھی بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات نے اس اور دیگر عوامی منصوبوں میں حیرت انگیز بدانتظامی کو بے نقاب کیا ہے، جن میں بہت مشہور بلین ٹری سونامی بھی شامل ہے۔ یہ واقعات محض حادثاتی نہیں ہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں جڑ پکڑنے والی بدعنوانی اور نااہلی کی عمومی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    ایک ایسے صوبے میں جہاں ہر شعبہ زوال کے دہانے پر ہے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کب تک جاری رہے گا؟ حکومت کے بنیادی فرائض بھی نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ اہم افسران کی اپنے عہدے چھوڑ کر لاہور میں گنڈا پور کے سیاسی جلسوں میں شرکت کی خبریں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ صوبے کے بڑھتے ہوئے بحرانوں کے بارے میں کتنی بے حسی پائی جاتی ہے۔ ہر خیبر پختونخوا کے شہری کے ذہن میں جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ قیادت کہاں ہے اور وہ کب حکومت کریں گے؟ امید کی کچھ کرنیں بھی ہیں۔ نیب کی کارروائی جس نے 168.5 ارب روپے بچائے، ایک شاندار کامیابی کے طور پر سامنے آئی، لیکن چند کامیابیاں ایک ناکام حکومت کو بچا نہیں سکتیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو صرف چند کامیابیوں کی نہیں بلکہ نظام کی اصلاح اور ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ان کے مستقبل کی حقیقی معنوں میں فکر کرے۔

    اصل المیہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی سے امیدیں وابستہ کی تھیں، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ان کا ووٹ معنی خیز تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اب ان کے اندر دھوکے کا شدید احساس پایا جاتا ہے۔ عوام کیسے ایک ایسی حکومت پر بھروسہ کریں جو ان کی فلاح و بہبود کو اتنی بیدردی سے نظرانداز کرتی ہے؟ وہ تعلیم اور صحت میں بہتری کی امید کیسے کر سکتے ہیں جب اقتدار میں بیٹھے لوگ سیاسی ڈراموں میں مصروف ہیں اور اپنے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے؟ خیبر پختونخوا اس سے بہتر کا حقدار ہے۔ اس کے عوام اس حکومت کے مستحق ہیں جو سنتی ہے، عوامی خدمات کو سیاسی کھیلوں پر ترجیح دیتی ہے، اور تعلیم و صحت میں موجودہ سنگین مسائل کو حل کرتی ہے۔ وہ ایسی قیادت کے حقدار ہیں جو صرف اصلاحات کے دعوے نہ کرے بلکہ ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ہر شہری کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم ہو سکیں۔

    جب خیبر پختونخوا زوال کے دہانے پر ہے، تو سوال باقی رہتا ہے: عوام اس نظراندازی کو کب تک برداشت کریں گے اس سے پہلے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں؟ حکومت کب یہ سمجھے گی کہ صوبے کا مستقبل سیاسی جلسوں میں نہیں، بلکہ اسکولوں اور اسپتالوں میں بنتا ہے؟ اگر حکومت اپنے بنیادی فرائض میں ناکام رہتی ہے، تو وہ خیبر پختونخوا کو ایک ناقابل واپسی زوال کی حالت میں چھوڑنے کا خطرہ مول لے رہی ہے

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قومی سیاست کا دھارا عام آدمی کے مسائل کی طرف سے کسی اور طرف موڑ دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے اختلاف اور اتفاق رائے کا حق ہر جماعت اور ہر سیاسی رہنما کو حاصل ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی اختلافات کی بنا پر عوام کا استحصال کیا جائے ،جمہوری حکومت کا اولین فرض ہے کہ وہ عام آدمی کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس وقت پنجاب میں صوبے کی چیف منسٹر مریم نواز کی توجہ صوبے کے عام آدمی کے مسائل پر ہے جس کے اثرات پولیس تھانوں سے لے کر دوسرے محکمہ جات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اگر صوبے کے چیف سیکرٹری، سول بیوروکریسی کے سیکرٹریوں کے دفاتر اور صوبہ بھر کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر پر توجہ دیں تو وزیراعلیٰ پنجاب کی عوامی خدمت کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔

    پنجاب کی سول بیورو کریسی کا رویہ مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہے ماضی کی کئی جمہوری حکومتوں کی ناکامی میں بیورو کریسی کا کردار روا ہے، بیورو کریسی کا چال چلن اگر مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہوگا جمہوری نظام کیسے چلے گا ،کیسے کامیاب ہوگا ،عوامی مسائل کس طرح حل ہونگے؟۔ صوبہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کو سول بیورو کریسی کو عوام کا حاکم نہیں خادم بنانے پر توجہ دینا ہوگی صوبے کی چیف منسٹر کے عوامی منصوبوں کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ دیگر صوبوں کےوزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری صاحبان اپنا رخ عام آدمی کے مسائل کو حل کرنے کی طرف موڑ دیں۔

    پنجاب پولیس میں تھانہ کلچر میں تبدیلی میرٹ کی پالیسی پر عمل، جس طرح پنجاب میں ہوا ہے انہی راستوں کا دیگر صوبوں کو بھی انتخاب کرنا ہوگا۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز میرٹ اور وقت کی پابندی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے شفاف انتظامی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک کامیاب ریاست بنانے کے لئے ہمیں اپنے ریاستی محکموں میں اصلاحات کا ایک مربوط نظام لانے کی ضرورت ہے ،ملک کو عقل سے عاری نااہل اور مفاد پرست منہ زور سول بیورو کریسی اور بیورو کریٹ افسران نے جکڑ رکھا ہے۔ منہ زور افسر شاہی اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے یہ حکمرانوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے غلط کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب نے عوامی خدمت کے جس سفر کا آغاز کیا ہے وہ قابل ستائش ہے تاہم سول انتظامیہ کی تنظیم نو کرنے کے لئے ہنگامی اور انقلابی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا

  • خواب اور ضمیر کے مطابق فیصلے

    خواب اور ضمیر کے مطابق فیصلے

    عمران خان کی حکومت میں جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کے قریبی دوست عبدالحفیظ پاشا کو 40 منزلہ گرینڈ حیات ہوٹل واپس بخش دیا۔ جب اس غیر قانونی فیصلے پر سوال کیا گیا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے کے حق میں دو دلائل دئیے۔

    پہلی دلیل یہ کہ ۔۔ اگر ایسے ہی غیر قانونی تعمیرات گرانی ہیں تو آدھا اسلام آباد گرانا پڑے گا۔
    دوسری دلیل ۔۔ میں نے رات کو خواب دیکھا تھا اور جرمانہ بھی مجھے خواب میں دیکھایا گیا تھا۔

    (جیسے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے سے پہلے یوتھیے صحافی اوریا مقبول جان نے خواب دیکھا تھا کہ باجوہ کو سپاہ سالار حضورﷺ نے بنایا ہے)

    ہوٹل کی لیز پر چالیس منزلہ رہائشی ٹاورز بنانے والوں نے اربوں نہیں کھربوں چھاپ لیے۔ کہا جاتا ہے پاکستان کے اس سب سے مہنگے ٹاؤر میں عمران خان، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجازالحسن کا بھی ایک ایک فلیٹ ہے۔

    آج سپریم کورٹ کے 8 ججوں نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ اس فیصلے میں اعتراف کیا کہ ہم نے مخصوص نشتیں اپنے ضمیر کے فیصلے پر پی ٹی آئی کو دیں۔ آئین اور قانون کی کوئی شق لاگو نہیں کی۔

    فیصلے کا لب لباب یہ ہے کہ ۔۔۔
    پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں موجود نہیں،
    درخواست گزار نہیں،
    جیتنے والے امیدواروں نے حلف نامہ سنی اتحاد کونسل کے لیے جمع کروایا ہے،
    مخصوص نشتیں بھی سنی اتحاد کونسل نے مانگی ہیں،

    لیکن ہم نے گمان کر لیا کہ آزاد امیدوار دراصل پی ٹی آئی کے تھے،
    آزاد امیدواروں کے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کے حلف نامے جھوٹے تھے،
    پی ٹی آئی نے مخصوص نشتیں نہیں مانگیں لیکن شائد دل میں مانگ رہی تھی،
    لہذا ہم یہ نشتیں پی ٹی آئی کو دیتے ہیں۔

    یہ جسٹس ثاقب نثار کے خواب دیکھنے والے فیصلے سے ملتا جلتا فیصلہ ہے۔ آئین پاکستان اٹھائیں اور اس فیصلے کی ساری رواداد دنیا کے کسی جج کے سامنے رکھیں وہ اس کو ایک بھونڈا مذاق ہی سمجھے گا اور کچھ نہیں!!

    اگر آئین اور قانون کو سائیڈ پر کر کے جج اپنی منشاء کو "ضمیر” کا نام دے کر اس کے مطابق فیصلے کرنے لگیں تو پاکستان کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ایسے ہی فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی جج دنیا کے بدترین جج اور پاکستان کی عدلیہ دنیا کی بدترین عدلیہ مانی جاتی ہے۔ ان کو اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ عدالتی اصلاحات کیے بغیر پاکستان میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔

    تحریر شاہد خان
    @BloggerShahid

  • خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کرتے ہوئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، مگر اس کی حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ اب بھی مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ساری توجہ بیان بازی اور دوسرے صوبوں میں جلسے جلوسوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر مرکوز ہے۔سب سے پہلے اگر امن و امان کا جائزہ لیا جائے تو صوبے کی قانون و ترتیب کی صورتحال بالکل تسلی بخش نہیں ہے، اور اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے صوبائی پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ آج ایک افسوسناک واقعہ سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ میں پیش آیا جہاں غیر ملکی سفارت کاروں کی سکیورٹی پر مامور پولیس وین ایک آئی ای ڈی کی زد میں آگئی۔ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار نے شہادت پائی جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے۔

    اس واقعے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ لاقانونیت کا شکار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس وقت خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت انتہائی نااہل ثابت ہو رہی ہے، اور بیڈ گورننس اور مالی کرپشن کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے رویے سے ایک شرپسند شخص کے طور پر سامنے آرہے ہے، جس کی واحد صلاحیت پی ٹی آئی کے بانی کے ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ وزیراعلیٰ اس وقت صرف غیر آئینی سیاست میں مصروف ہے۔ نہ اسے ملک کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی صوبے کے امن و امان کا خیال ہے۔ اسے پولیس کے اہم محکمے کی طرف توجہ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں، نہ ہی اسے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا احساس ہے۔

    سوات کے علاقے مالم جبہ کے افسوسناک واقعے کے علاوہ ضلع کرم میں قبائلی جھڑپوں کے نتیجے میں پانچ سے چھ افراد کی ہلاکت کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ ایک طرف لاقانونیت بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ بھی احتجاج کرنے کی باتیں کر رہی ہے۔ فتنہ الخوارج، غیر قانونی سرگرمیاں، اور غیر قانونی افغان باشندوں کے مسائل بھی صوبے کو درپیش ہیں، لیکن یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ صوبے میں حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے، اور جب حکومت ہی نہیں تو اس کی رٹ کیسے قائم ہو سکتی ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخواہ میں وزارت داخلہ غیر متحرک ہے۔ اگر کسی وزیر کے پاس داخلہ امور کی ذمہ داری ہے تو اس کا نام تک سامنے نہیں آیا ہے۔ کئی واقعات ہو چکے ہیں، مگر ابھی تک کسی وزیر داخلہ کا کوئی وجود خیبر پختونخواہ میں نظر نہیں آیا۔ اگر وزیراعلیٰ نے خود یہ قلمدان اپنے پاس رکھا ہوا ہے تو پھر اللہ ہی اس صوبے کا حافظ ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور، جس کے صوبے میں سکیورٹی اہلکار، پولیس اہلکار اور عوام مجرموں کے رحم و کرم پر ہیں، وہ کبھی جلسے کامیاب کرانے کے لیے ترنول، کبھی سنگجانی، اور کبھی لاہور بھاگتا پھر رہا ہے۔ اس شخص کی نظر میں صرف پی ٹی آئی کے جلسے اور پارٹی کے بانی کی ہدایات اہم ہیں۔ نہ پہلے کبھی اس نے عوامی مفاد کے بارے میں سوچا تھا اور نہ اب ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ جس صوبے کا وزیراعلیٰ خود دہشت گردی کرتے ہوئے کلاشنکوف اٹھا کر ٹرکوں کے شیشے توڑے، وہ دہشت گردوں کو کیسے روکے گا؟

    صوبہ خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی بدترین صورتحال کی بنیادی وجہ کرپشن اور ہر سطح پر حکومتی بدانتظامی ہے، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ شاید ہی کوئی حکومتی شعبہ ہو جو رشوت ستانی اور بدانتظامی سے محفوظ رہا ہو۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی شعبے کی حالت بھی ابتر ہو چکی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم کی حیثیت اتنی کم ہو چکی ہے کہ وہ چوتھے درجے کے ملازمین کے مسائل بھی حل نہیں کر سکتا، وائس چانسلر کا مسئلہ کیسے حل کرے گا؟ صوبائی وزیر تعلیم بیس لاکھ روپے میں نوکریاں فروخت کر رہا ہے۔

    صوبائی وزیر تعلیم نے یونیورسٹی کی زمینیں بیچنی شروع کر دی ہیں، اور اب سرکاری اسکولوں کو نجکاری کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ کابینہ کے اجلاس تک اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں، جہاں وزیر اور اس کے ساتھ سیکرٹری اور باقی عملہ اسلام آباد آتا ہے۔خیبر پختونخواہ میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے صوبے میں بی آر ٹی منصوبے میں بھی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں، جس کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس سے قبل بلین ٹری منصوبے میں بھی کرپشن کی کہانیاں سامنے آئی تھیں۔

    اس طرح کی صورتحال میں صوبہ کیسے چلے گا؟ گزشتہ روز یہ حال تھا کہ کسی بھی سرکاری محکمے میں کوئی موجود نہیں تھا، پشاور میں تک کوئی سرکاری افسر نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ سب کو لے کر وزیراعلیٰ لاہور فتح کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے آج ایک بڑی کارروائی کے ذریعے قومی خزانے کو 168.5 ارب روپے بچائے، جب انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن سے کنٹریکٹرز کا 31.5 ارب روپے کا دعویٰ خارج کروا دیا گیا۔ بی آر ٹی پشاور کے کنٹریکٹ کے غیر قانونی ایوارڈ، سرکاری فنڈز میں خرد برد، اور جعلی پرفارمنس گارنٹی کی تحقیقات میں گھپلوں کا انکشاف ہوا، جس کے بعد نیب کی تحقیقات میں کمپنیوں کے جعلی معاہدوں کا پردہ چاک ہو گیا۔

    افسوسناک امر یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں نے سرکاری ادارے کو دھوکہ دے کر کوئی کام کیے بغیر تقریباً ایک ارب روپے وصول کیے۔ نیب نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے 400 سے زائد بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کی۔ نیب تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ مقامی کنٹریکٹرز نے معاہدہ حاصل کرنے کے لیے بوگس آڈٹ رپورٹس جمع کرائیں۔ نیب نے ان غیر ملکی کمپنیوں کو متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے شامل تفتیش کیا۔ نیب کی تحقیقات کے نتیجے میں پراجیکٹ کو اصل لاگت پر مکمل کروایا گیا اور قومی خزانے کے 9 ارب روپے بچائے گئے۔ مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مخدوش حالات میں خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ہی کیوں ہونا چاہیے؟ کیا خیبر پختونخوا کے عوام کو اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے بہتر مستقبل کے لیے انہیں ووٹ دیا؟

    ایک ایسا صوبہ جہاں لاقانونیت بڑھ رہی ہے، کیا وہاں مستقل وزیر داخلہ کا ہونا ضروری نہیں؟ صوبے کے ہر شعبے میں کرپشن کی جڑیں گہری ہیں، تو پھر اس ناکام اور نااہل حکومت سے کس طرح بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے؟

  • پی ٹی آئی لاہور جلسے کی ناکامی کی وجوہات

    پی ٹی آئی لاہور جلسے کی ناکامی کی وجوہات

    پی ٹی آئی لاہور جلسے کی ناکامی کی وجوہات

    تحریک انصاف کا لاہور جلسہ ہفتے کی شام چھ بجے "اچانک” ختم ہو گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سمیت پی ٹی آئی کے اور کئی مرکزی رہنما شام چھ بجے تک جلسہ گاہ تک پہنچنے میں ناکام رہے،علی امین گنڈا پور صبح 11 بجے پشاور سے روانہ ہوئے اس وجہ سے انہیں جلسہ میں بروقت پہنچنے میں تاخیر ہوئی،پشاور سے لاہور کا نان سٹاپ سفر چھ گھنٹے سے زائد کا ہے لیکن جب جلوس یا قافلے کے ہمراہ ہوں تو سفر میں مزید وقت لگتا ہے، علی امین گنڈا پور کے تاخیر سے نکلنے کی وجہ سے وہ بروقت نہ پہنچے.جلسہ گاہ میں علی امین گنڈا پور کی تاخیر سے آمد کے علاوہ تحریک انصاف کے دیگر مرکزی رہنما بھی نظر نہیں آئے، عمر ایوب،جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں اور پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل بھی رہے وہ بھی نہ پہنچ سکے،اسی طرح اسد قیصر جو سابق سپیکر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں اور حالیہ دنوں میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقاتوں ،رابطوں میں انکا اہم کردار ہے وہ بھی جلسہ گاہ نہ پہنچ سکے،مرکزی قائدین کے جلسہ گاہ میں عدم موجودگی کی وجہ سے جلسہ میں مجموعی طور پر حاضری کم رہی،کیونکہ خیبر پختونخوا کے برعکس پنجاب پی ٹی آئی کا گڑھ نہیں، پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے، ایسے میں ایک بڑے مجمع کی توقع کرنا غیر حقیقی تھا،

    جلسہ گاہ کے اطراف میں اور قریبی علاقوں میں کاروبار معمول کے مطابق چل رہا تھا کہیں کوئی رکاوٹ نہیں تھی،سڑکیں کھلی تھیں،اسکے باوجود پی ٹی آئی جلسہ گاہ کو بھرنے میں کامیاب نہ ہو سکی ،پی ٹی آئی اب یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتی کہ رکاوٹیں تھیں کیونکہ ایسا کچھ نہیں تھا، درحقیقت پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت بھی جلسہ گاہ میں حاضری دیکھ کر مایوس ہو چکی تھی، پی ٹی آئی کے مرکزی اور سرکردہ رہنماؤں کی جلسہ گاہ میں عدم موجودگی کی وجہ سے بھی کارکنان جلسہ میں نہ آئے اور عوام تو نکلی ہی نہیں،کیونکہ ورکنگ ڈے تھا اور سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے،پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت،جنہیں عمران خان کا زیادہ قریبی سمجھا جاتا ہے وہ جلسہ میں زیادہ فعال نہیں تھے

    لاہور میں ہونے والے پی ٹی آئی جلسہ سےپارٹی کی دیرینہ کمزوری سامنے آئی، پی ٹی آئی کو کبھی بھی ایک منظم سیاسی جماعت کے طور پر تیار نہیں کیا گیا تھا بلکہ پارٹی کے اندر ون مین شو عمران خان تھا، اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اپنی پارٹی قیادت پر اعتماد نہیں کرتے ،یہی وجہ ہے کہ وہ پارٹی کے حوالہ سے کئے گئے کئی فیصلوں سے یوٹرن لیتے ہیں، یا پارٹی قیادت جو فیصلہ کرے عمران خان اس کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنا سنا دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پارٹی مزید کمزور ہوئی،پی ٹی آئی کی کمزوری کی وجہ پارٹی قیادت ہی ہے جو بروقت اوردرست فیصلے کرنے کی بجائے "ڈنگ ٹپاؤ” کام چلا رہے ہیں،

    عمران خان خان کے پاکستان میں ’’بنگلہ دیش ماڈل‘‘ کے بار بار مطالبات بھی حقیقت سے منقطع نظر آتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی تحریک پاکستان کے حالات کے برعکس نچلی سطح پر چل رہی تھی، پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ قومی یا عوامی مسائل کی بجائے پارٹی کے اندرونی مسائل میں ہی الجھے ہوئے ہیں،جلسہ گاہ میں عوام کے لئے کوئی بات نہیں کی گئی،بلکہ عمران خان کی رہائی کی بات کی گئی، رہائی تو قانون کےمطابق عدالتوں نے کرنی ہے لیکن پی ٹی آئی کا فوکس عوامی مسائل ،قومی مسائل کی بجائے عمران ہے یہ وجہ بھی ہے کہ عوام پی ٹی آئی سے دور ہوتی گئی،عمران خان کے لیے اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینے کا بہت وقت گزر چکا ہے، پی ٹی آئی اب "کنارے” لگ چکی ہے اور بہت کچھ کھو چکی ہے، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں پی ٹی آئی جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "عمران خان کا آغاز مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے ہوا جس کا اختتام لاہور کی مویشی منڈی میں ہو گااب طے ہو گیا کہ پی ٹی آئی مویشی منڈیوں میں ہی بھٹکے گی تا کہ اسکی جعلی انقلاب کی بدبو سے ہمارا معاشرہ محفوظ رہ سکے”. اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مینار پاکستان سے اٹھنے والی پی ٹی آئی کاہنہ کی مویشی منڈی میں ختم ہو چکی.

    لاہور جلسہ کا وقت ختم،گنڈا پور لاہور نہ پہنچ سکے،پولیس کا ایکشن،داخلی راستے پھر بند

    لاہور جلسہ ،9 مئی کے 12 اشتہاری ملزمان گرفتار

    جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

    حماد اظہر جلسہ گاہ پہنچ گئے، حکومت پر کڑی تنقید

    جلسہ میں خالی کرسیاں،مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کو دکھایا آئینہ

    پانچ پانچ ہزار دیہاڑی پر مہاجر کیمپوں میں جلسے کیلئے لوگ لائے جا رہے،انکشاف

    پی ٹی آئی لاہور جلسہ کا وقت شروع،خالی کرسیاں،قیادت نہ پہنچی

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    تحریک فتنہ فساد کا جلسہ،سب راستے کھلے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • جمہوریت کو درپیش خطرات،راستہ نواز شریف کے پاس:تجزیہ.شہزاد قریشی

    جمہوریت کو درپیش خطرات،راستہ نواز شریف کے پاس:تجزیہ.شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی لاہور کا جلسہ کامیاب تھا یا ناکام اس سے قطع نظر میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی وسیع القلبی اور جمہوری اقدار کی پاسداری کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی آنسو گیس اور لاٹھی چارج نہیں ہوا اور نہ ہی کنٹینر کھڑے کر کے راستے بلاک کئے گئے صاحبان اقتدار کا یہ رویہ قابل تحسین اور جمہوری اقدار کا آئینہ دار ہے۔ اسی کو جمہوریت کا حسن قرار دیا گیا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اگر بنیادی جمہوری اصولوں کے پیش نظر تحمل وسیع القلبی باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر سیاست کریں تو پاکستان کا جو خواب قائداعظم نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری روایات کو فروغ نہ پانے کی بڑی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول ہے اقتدار کے جام کو تھام کر عقل اور شعور کی جگہ جاہ و جلال نے لے لی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں اپنی پستی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کا رواج عام ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ کیا کبھی کسی سیاسی جماعت نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ جمہوریت آمریت کی آغوش میں کیوں اور کیسے جاتی رہی جمہوریت کو آمریت کی آغوش میں پہنچانے والے خود سیاستدان ہی ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کسی سیاستدان نے یہ سوچنے کی زحمت کی سیاست کے افق پر چمکنے والے ستارے زمین بوس کیوں ہوتے ہیں؟

    اس وقت ملک و قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کا حل تصادم نہیں بلاشبہ سیاسی گلیاروں میں بھٹو نہیں محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں مفتی محمود نہیں۔ خان ولی خان نہیں۔ نوابزادہ نصراللہ نہیں معراج خالد نہیں مولانا عبدالستار خان نیازی نہیں۔ قاضی حسین احمد نہیں۔ اسی طرح دیگر جو اس دنیا میں نہیں لیکن ان سب کے درمیان بیٹھنے والے ان سے سیکھنے والے موجود ہیں پھر نوازشریف جیسا لیڈر موجود ہے تصادم کی سیاست کو دفن کرنےکا فن نوازشریف سے بہتر کون جانتا ہے نوازشریف اس ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے اپنا کردار ادا کریں اے پی سی ہی وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان اور عوام کو درپیش مسائل سے نکال بھی سکتی ہے اور جمہوریت کو درپیش خطرات سے نکالنے کا بھی یہی راستہ ہے نوازشریف اے پی سی کا اجلاس بلائیں

  • انتشار  اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کبھی حالت جنگ میں ہوتا ہے تو کبھی حالت انتشار میں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے پاک فوج جملہ اداروں پولیس ، عوام نے قربانیاں دی ہیں۔ حالت جنگ کا یعنی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تو قربانیاں دینے والوں نے دی ۔اب اس حالت انتشار کے خاتمے کے لئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو قربانی دینا ہوگی۔ آخر کب تک پاکستان بطور ریاست اور عوام حالت انتشار میں رہے گی ؟صدارتی نظام بھی آزما چکے۔ ٹیکنو کریٹ بھی، اب اس انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت ہے ؟ بین الاقوامی دنیا میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں ۔ عالمی دنیا کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک روس اور یو کرائن جنگ میں بھی مصروف ہیں۔جبکہ مڈل ایسٹ کے حالات عالمی دنیا کے سامنے ہیں۔ غزہ اور اسرائیل کی جنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے لبنان اور شام میں تباہی مچا دی ہے امریکہ نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندی لگا دی ہے جس کا اعلان امریکی ترجمان نے کیا ہے ۔ پاکستان ان تمام حالات سے آگاہ ہے۔

    وطن عزیز کے حکمران ،اپوزیشن کو بین الاقوامی سیاسی تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور پاکستان کے وقار اور سلامتی کے پیش نظر سیاست کرنا ہوگی ۔ خدا کی پناہ ایک اسلامی مملکت میں یہ جج آئے گا تو ہمارا فائدہ ہوگا یہ جج ہمیں نقصان دے گا کیا ہم ایسے بیانات دے کر ملک کے وقار میں اضافہ کر رہے ہیں؟ امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں عدلیہ کو لے کر کبھی اس طرح کے بیانات سُنے؟ تمام ججز قابل احترام ہیں۔ ملائی اور حلوائی کی باتوں سے باہر نکل کر دنیا کے تازہ ترین حالات کا جائزہ لیں۔ ملکی وسائل ملکی معیشت پر توجہ دیں ملکی اداروں کے درمیان ٹکرائو کروانے سے گریز کریں ۔ اپنے مفادات کو وطن عزیز کے وقار اور سلامتی پر قربان کریں۔ اگر سیاسی قائدین ملک میں جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین اور قانون کی حکمرانی کے خواہش رکھتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک مضبوط لیڈر قوم اور دنیا میں ثابت کریں۔ اس کے ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حالت انتشار کی ایک وجہ قرآن پاک سے دوری ہے۔ وطن عزیز ایک اسلامی ریاست ہے یہ اس ریاست کی شان کے خلاف ہے کہ ہم دین الٰہی سے دور رہیں ۔ سود زدہ معاشی نظام خالق کائنات سے برسرپیکارہے.

  • پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام

    پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام

    پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام
    آئینی عدالت کی طرف سے آئینی معاملات کو نمٹانے کی تجویز کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔اسے 2006 میں ہونے والے میثاق جمہوریت میں شامل کیا گیا تھا جس پر سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے تھے۔مجوزہ ترمیم کے آرٹیکل 4 میں کہا گیا ہے کہ "آئینی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس میں تمام وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی دی جائے گی، جس کے اراکین سپریم کورٹ کے جج بننے کے اہل افراد ہو سکتے ہیں، آئینی عدالت کے ججز 68 سال کی عمر میں ریٹائر ہوں گے، آئینی عدالت میں سپریم کورٹ سے آنے والے جج کی مدت تین سال ہو گی ،سپریم اور ہائی کورٹس دیوانی اور فوجداری مقدمات کی باقاعدہ سماعت کریں گی۔ ججوں کی تقرری اسی طریقے سے کی جائے گی جس طرح اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی ہوتی ہے۔

    مجوزہ ترمیم کو اداروں اور سول سوسائٹی کے موجودہ پولرائزیشن میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ میں ایک سیاسی جماعت کی طرف داری کرتے ہوئے انکے حق میں فیصلے کئے گئے، سپریم کورٹ نے 11 جولائی 2024 کو جو فیصلہ دیا اس سے ملک میں صورتحال مزید گھمبیر ہوئی،ایک ایسے فریق کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا جو مقدمے میں فریق بھی نہیں تھا،اس طرح کے فیصلوں سے عدم استحکام کا احساس مزید گہرا ہوا

    عدالتوں کو آزاد ہونا چاہئے، میڈیا کو آزاد ہونا چاہئے اور عدلیہ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے،یہ نظریہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ تمام ادارے بغیر کسی تعصب کے کام کریں گے۔ تاہم، سپریم کورٹ، جیسا کہ معاشرے کے مختلف طبقات گہرے طور پر منقسم ہیں، تو کیا،وہ اپنی طرف داری کا استعمال کرتے ہوئے آزادانہ فیصلے کر سکتی ہے؟ کبھی نہیں،سٔریم کورٹ کو بھی بغیر کسی طرف داری کے آزادانہ طور پر کام کرنا چاہئے،فیصلے طرف داری نہیں قانون و آئین کے مطابق ہونے چاہئے.

    جمہوری نظام میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ فیصلے مقبولیت کی بجائے قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ چند جملے اس فقرے سے زیادہ کثرت سے نقل کیے گئے ہیں: "انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے”۔ یہ حکم لارڈ ہیورٹ نے مقرر کیا تھا، لارڈ چیف جسٹس آف انگلینڈ نے ریکس بمقابلہ سسیکس جسٹس، [1924] 1 KB 256 کیس میں یہ حکم دیا تھا

    سیاسی اور سماجی تغیرات کے کلیڈوسکوپ کو تبدیل کرنے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے۔ قانون کے سامنے سب کا برابر ہونا ضروری ہے،

  • آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کو لے کر دو دن جو کچھ ہوتا رہا، قوم سمیت عالمی دنیا پاکستان نہیں پاکستانی سیاستدانوں کا تماشا دیکھتی رہی۔ سیاسی قافلوں کے قائدین ہی جب ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہ کریں تو پھر آئینی ترمیم کیسی؟ وفاقی حکومت میں اتحادی اور آئینی عہدے رکھنے والی جماعت کے قائدین ہی ایک دوسرے کی سیاسی کامیابی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو پھر پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کیسی؟ سب لیڈر شپ کا فقدان ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سیاسی لیڈر تھے محترمہ بینظیر بھٹو سیاسی لیڈر تھیں پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کرنے والے لیڈر نہیں، سیاستدانوں میں اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم سیاستدان ہیں لیڈر نہیں (ن) کے لیڈر نوازشریف ہیں۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت اور لیڈر شپ ہی تھی جس نے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد واجپائی کو مینار پاکستان پر کھڑا کر دیا تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت دونوں نے ایٹمی دھماکے کئے تو عالمی دنیا میں آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت ہی تھی جب پی ٹی آئی نے 126 دن دھرنا دیا تو پی ٹی آئی لیڈر شپ سمیت کسی کارکن پر نہ لاٹھی چارج ہوا نہ آنسو گیس گرفتاریاں نہ مقدمات کا اندراج لیکن پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا نشانہ تادم تحریر نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز ہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آئی پی پیز نہ تو نوازشریف، نہ ان کے دونوں بیٹے اور نہ ہی دونوں بیٹیوں کا تعلق اور نہ ہی ان کی ملکیت ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس اس وقت کو ئی ترجمان نہیں وفاقی وزراء کی لائن ہے مگر مسخروں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے سوشل میڈیا نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی اس ملک اور قوم کے لئے خدمات آج کی نوجوان نسل کو علم ہی نہیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں کوئی اقدامات کئے نوازشریف وزارت اعلیٰ سے لے کر وزارت عظمیٰ تک اور ایٹمی دھماکوں تک اس ملک کے لئے جو خدمات ہیں ان خدمات کو پس پشت ڈال کر مسلم لیگ (ن) نے مقبولیت میں اضافہ نہیں کیا (ن) کا ہر وفاقی وزیر اپنی جماعت اور نوازشریف کی ملک و قوم کے لئے خدمات بیان کرنے سے قاصر نظر آتا ہے جس کا خمیازہ (ن) لیگ بطور جماعت بھگت رہی ہے۔

    پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے لے کر ایک کارکن سوشل میڈیا عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی اپنی بات ختم کرتا ہے۔ وطن عزیز کا موجودہ بحران اور انتشار کا حل ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے میں ہے اس وقت مسئلہ سیاسی قوتوں اور اداروں کے ٹکرائو کا نہیں مسائل میں گھری عوام کا بھی ایک مقدمہ ہے۔ طرز سیاست کو بدلنا ہوگا۔ عوامی مفادات اور ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہونگے

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • پاکستان میں سیاسی ومعاشی بحران،غیر یقینی صورتحال،حل کیا؟

    پاکستان میں سیاسی ومعاشی بحران،غیر یقینی صورتحال،حل کیا؟

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ حالیہ دنوں میں ہنگامہ خیز ہو چکا ہے، مجوزہ آئینی پیکج کی وجہ سے نہ صرف حکومتی اتحادی بلکہ اپوزیشن میں اختلافات دیکھنے میں آئے، آئینی ترامیم جو آئینی ابہام کو حل کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے لائی گئیں اس سے معاملہ حل ہونے کی بجائے مزید سیاسی تقسیم ہوئی ، ڈان نیوز کے مطابق، آئینی ترمیم کو فی الحال روکا گیا ہے،وفاقی وزیر قانون نے تجویز دی ہے کہ اس میں دیگر جماعتوں کے تاثرات کی بنیاد پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ آئینی ترامیم نے سیاسی اختلاف کو مزید ہوا دی ہے، خاص طور پر سپریم کورٹ کا 11 جولائی 2024 کا ایک تاریخی فیصلہ ،جس میں کئی مسائل ہیں، یہ فیصلہ اس فریق کے حق میں ہو گیا جو کیس میں فریق ہی نہیں تھا، اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا،

    پاکستان کو سیاسی چیلنجز کے ساتھ ساتھ شدید معاشی مسائل بھی درپیش ہیں۔ گزشتہ 30 برسوں کے دوران، ملک نے محنت کی پیداواری صلاحیت میں سب سے کم شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے، جو معاشی صحت اور معیار زندگی کا ایک اہم اشارہ ہے۔پاکستانی معیشت قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے، ایک ایسا قرضوں کا چکر ہے جو ختم نہیں ہو رہا،کیونکہ پالیسی ساز بار بار ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے قلیل مدتی قرضوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ یہ بیل آؤٹ ایک "اخلاقی خطرہ” پیدا کرتے ہیں جہاں حکومت ضروری معاشی اصلاحات میں تاخیر کرتے ہوئے پوری قیمت برداشت کیے بغیر خطرات مول لینا جاری رکھتی ہے۔جس کے نتیجے میں پاکستان قرضوں کے جال میں پھنس گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری 2024 تک، اگلے سال کے لیے بیرونی قرضوں کی سروسنگ تقریباً 29 بلین ڈالر ہوگی جو کہ ملک کی متوقع ڈالر کی آمدنی کے 45 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے باوجود حکومت بامعنی پالیسی تبدیلیاں نافذ کرنے یا اخراجات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
    ایسی غیریقینی صورتحال میں کیا کوئی حل نظر آتا ہے؟