Baaghi TV

Category: سیاست

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    تحریک انصاف اور عمران خان کے تابوت میں اگر کوئی کیل ثابت ہوگاتو وہ میری نظرمیں ایک سو نوے ملین پاونڈوالاکیس ہوگا ۔ یہ اتنا بڑا معاملہ کہ اس کے آگے پاناما اورسوئس کیسسز کچھ نہیں ۔بلکہ دونوں بہت چھوٹے ہیں ۔یا یہ کہہ لیں کچھ بھی نہیں ۔پر کیونکہ عمران خان کی میڈیااور سوشل میڈیا مینجمنٹ ہمیشہ سے اعلی رہی ہے ۔ اس لیے یہ معاملہ اتنا ہائی لائٹ نہیں ہوا ۔میں گزشتہ کئی ماہ سے اس کیس کی سماعت کو فالو کر رہاہوں ۔ مگر ہر باراسٹوری جورپورٹ ہوتی ہے کہ عمران خان نے ایک سو نوے ملین پاونڈ کی پیشی پر الیکڑک برش مانگ لیا۔ ڈیمانڈ کر دی جیو کےرپورٹرکوبلائیں ۔کبھی یہ اسٹوری لگی ہوتی ہے کہ ایکسرسائز کے لیے ڈمبل نہیں دیا گیا کبھی کان میں تکلیف تو کبھی قبض کی شکایت ۔ پراس کیس میں کیا ہوچکا ہےاور کیا ہو رہا ہے اس پر میڈیا کچھ نہیں بتا رہا تو میں اور میری ٹیم نے اس پر پوری ورکنگ کر لی ہےاور اس نتیجے پرپہنچ چکےہیں کہ یہ کیس عمران کے گلے کاپھندہ ہے۔اس کیس میں عمران کرپٹ بھی ثابت ہوتا ہےبلکہ میری نظر میں تو یہ ملک ریاض سےصاف صاف کیک بیکس لینے والا معاملہ ہے۔

    ۔اتنی بڑی کرپشن کااسکینڈل شریف خاندان یاپیپلزپارٹی کےساتھ جوڑا ہوتاتواب تک ان پارٹیوں پر پابندی لگ چکی ہوتی ۔ ان کی نسلوں کو تباہ وبربا دکرنےکےاحکامات جاری ہوچکے ہوتے ۔ ان کے تانے بانے امریکہ سمیت اسرائیل کیا خلائی مخلوق تک سے جوڑ دیے گئے ہوتے ۔ چینلز نان اسٹاٹ اس پر ٹرانسمیشن کر رہے ہوتے ۔ جبکہ سب اینکرز کے روز کا ایک ہی ٹاپک ہوتا ایک سو نوےملین پاونڈ ۔ مگر کیونکہ معاملہ عمران خان ہے اس لیے اسکو پہلے دن سے ڈاون پلے کیا گیا ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ کوئی جج گھرسےمجبور نہ ہوا تو اس معاملے میں عمران خان لمبےاندر جائیں گے اور بڑی سزا ہوگی ۔ کیونکہ بڑے واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہیں۔ میری یہ بات لکھ کر رکھ لیں ۔

    ۔میں اتنا یقین سے جو کہہ رہا ہوں ۔اسی کی وجہ ہے سب سے پہلے اس کیس کا پس منظر بتا دیتا ہوں ۔ نیب کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع چار سو اٹھاون کینال، چار مرلے اوراٹھاون مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں عمران خان نے ملک ریاض کو پچاس ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ۔اور یہ معاملہ بالکل واضح ہے صاف ہے اس میں کوئی ابہام نہیں ہے ۔ اس کی توانکوئری کی بھی ضرورت نہیں ۔ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ کیونکہ ادھر زمین ٹرانسفرکی گئی ادھر ریلیف دے دیاگیا ۔ بہرحال اکتوبر دوہزاربائیس میں نیب نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ۔ نیب دستاویزات کے مطابق تین دسمبر دوہزارانیس کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی پچاس ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی ۔۔این سی اے۔۔کی جانب سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔ ۔ جبکہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے چھبیس دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا ۔ جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف تین ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس انیس سو ننانوے کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت تین دسمبر دوہزار انیس کے کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ۔اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے تین دسمبر دوہزار انیس کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر دوپر فیصلہ کیا۔ آئٹم نمبر دو کا عنوان تھا۔احمد علی ریاض، ان کے خاندان اور میسرز بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس کا انجماد اور پاکستان میں فنڈز کی منتقلی کا حکم نامہ۔ ایجنڈا آئٹم شہزاد اکبر نے پیش کیا تھا اور بریفنگ دینے کے ساتھ کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد علی ریاض کو بھی طلب کیا گیا تھا۔آجکل بھی سنا ہے شہزاد اکبر ملک ریاض کے ہی ٹکڑوں پل رہاہے ۔

    ۔ سوال یہ ہےکہ این سی اے کی رقم ملک ریاض کو کیسے واپس ملی؟ دراصل دوہزار انیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ایک سونوے ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔ تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو چار سو ساٹھ ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔ اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔ اس حوالے سے دوہزارانیس میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں ور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات بھی رازداری میں رکھی گئی تھیں اور این سی اے کے بعد حکومتِ پاکستان نے بھی عوام یا میڈیا کو یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاستِ پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا تھا۔

    ۔یہ سب کچھ مفت میں نہیں کیا گیا بدلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی نے پچاس ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کینال مالیت کی اراضی حاصل کی۔ ۔ ان کی دونمبر ی کا عالم دیکھیں کہ ساری زندگی عمران خان اور انکی جماعت اس چیز کا پرچار کر تی رہی ہے ۔ کہ ہم نے بیرون ملک سے پاکستان کا لوٹا پیسہ واپس لانا ہے اور جب باہرکے ممالک پاکستان کا لوٹا پیسہ خود واپس کرنے لگے تو انھوں نے کہا نہیں رہنےدیں ہمیں نہیں چاہیئے ۔ میں اور میری بیوی نے بدلے میں زمین لے لی ہے۔ ایسی اسکیم تو کبھی کسی اور جماعت کے ذہن میں نہیں آئی ۔ مطلب یہ واردات ڈال کر عمران خان کرپشن کرنے والوں میں سب سے اعلی درجے پر فائز ہوگئے ہیں ۔

    ۔ اسی وجہ سے عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، بہرحال جب یہ کیس چلا تو ستائیس فروری دوہزار چوبیس کو احتساب عدالت اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاؤنڈز ریفرنس میں فردجرم عائد کی ۔ اس سے قبل چھ جنوری دوہزار چوبیس کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایک سو نوے ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں ملک ریاض سمیت ریفرنس کے چھ شریک ملزمان ان کے بیٹے علی ریاض ملک، فرحت شہزادی(وہی گوگی جس کو کپتان نے سب سے پہلے بھگایا اور کہا تھا کہ یہ معصوم ہے )، ضیاالاسلام، شہزاد اکبر، زلفی بخاری کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا گیا۔ ملک ریاض نے حاضری سے استثنیٰ اور وڈیو لنک کے ذریعے حاضری سے متعلق دو الگ الگ درخواستیں بھی دائر کیں لیکن دائر دونوں درخواستوں کو عدالت نے خارج کردیا تھا۔ تئیس جنوری کو عمران خان نےضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس کے بعد چودہ مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کی ۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ تحقیقات مکمل ہیں، ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نیب پراسیکیوٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی شخصیت ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی ریکارڈ ٹیمپرنگ یا ٹرائل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم نیب کے ان تحفظات کے حوالے سے ریکارڈ پر کوئی جواز موجود نہیں ہے، لہٰذا عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اٹھائیس جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں نیب نے استدعا دی کہ سپریم کورٹ اسلام آبادہائی کورٹ کا چودہ مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔پھر سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے عدالت کے سامنے اپنا بیان عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں ریکارڈ کروایا ۔جس پر یاد ہو تو علی امین گنڈا پور اور یوتھیوں کو بہت مرچیں لگیں تھیں ۔ بلکہ اس دن جو پرویز خٹک نےبیان دیا وہ کہیں ڈسکس نہیں ہوا ۔ پرپرویز خٹک کی نیگٹوکردارسازی چھائی رہی ۔ پرویز خٹک کا اپنے بیان میں کہنا تھا شہزاد اکبر نے کابینہ کو بتایا تھا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر بھجوائی گئی بڑی رقم برطانیہ میں پکڑی گئی، شہزاد اکبر نے بتایا کہ پکڑی گئی رقم پاکستان کو واپس کی جائے گی۔ سابق وفاقی وزیر نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ کابینہ کے ایجنڈے پر نہیں تھا، میٹنگ میں اضافی ایجنڈے کے طور پر سامنے لایا گیا، اضافی ایجنڈے پر مجھ سمیت دیگر کابینہ اراکین نے اعتراض کیا تھا، کابینہ میں رقم کے حوالے سے کاغذات بند لفافے میں پیش کیے گئے، اضافی ایجنڈے کی منظوری کابینہ سے لی گئی۔ پھر تیرہ جولائی کو عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے احتساب عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر ایک دستخط شدہ نوٹ لے کر میرے پاس آئے، اس نوٹ پر شہزاد اکبر کے اپنے دستخط موجود تھے، نوٹ پر کابینہ سے منظوری لینے کا لکھا تھا۔ اعظم خان کے مطابق شہزاد اکبر نے بتایا کہ اس کانفیڈینشل ڈیڈ کو کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے کی وزیراعظم نے ہدایت کی ہے، شہزاد اکبر کی اس بات پر فائل کیبنٹ سیکرٹری کو بھجوا دی تاکہ معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جا سکے، میں نے وہ فائل کیبنٹ سیکرٹری کے حوالے کر دی، میں نے کابینہ میٹنگ میں ان کیمرہ اجلاس ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی۔سابق پرنسپل سیکرٹری نے نیب کی جانب سے پیش کیے گئے بیان پر اپنے دستخط ہونے کی تصدیق کی ۔ اعظم خان کے بیان میں کہا گیا تھا کہ معاہدے پر ہونے والے دستخط کو میں نے پہچان لیا تھا، معاہدے کے ساتھ ایک خفیہ تحریر موجود تھی جس سے متعلق بتایا نہیں گیا۔ پھر سابق وزیر مملکت زبیدہ جلال نے احتساب عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا کہ شہزاد اکبر کی جانب سےایک بند لفافہ اضافی ایجنڈے کے طور پیش کیا گیا، اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنے سے قبل ضروری طریقہ کار نہیں اپنایا گیا، ضروری تھا کہ اضافی ایجنڈا کابینہ میں پیش کرنےسےقبل ممبران کو بریفنگ دی جاتی ۔ شہزاد اکبر نے زور دیا کہ معاملہ حساس ہے اسےفوری طور پر منظور کیا جائے۔ اضافی ایجنڈےکو بغیر بریفنگ پیش کرنے پر مجھ سمیت دیگر ممبران نے اعتراض کیا اور کہا کہ منظوری سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نےبھی کہا تھا کہ اس اضافی ایجنڈے کو منظور کرلیں، صرف اس منطق پر مجھ سمیت کابینہ ممبران نے اس اضافی ایجنڈے کی منظوری دی۔

    ۔ آج تک کی موجودہ صورتحال میں اس ریفرنس میں پینتیس گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔اب چند روز قبل اس ریفرنس میں تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم کا بیان سامنے آیا۔میاں عمر ندیم نے بیان دیا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے کنٹری منیجر عثمان احمد کو شہزاد اکبر کی ہدایت پر خفیہ خطوط لکھے گئے، مجرمانہ سرگرمیوں کی آمدنی منجمد کرنے کیلئے نیشنل کرائم ایجنسی نے فریزنگ آرڈر حاصل کیے۔ تفتیشی افسر نے کہا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے چار سو اٹھاون کینال چار مرلے اٹھاون مربع فٹ زمین خریدی، خریدی گئی زمین ملزم ذلفی بخاری کے ذریعے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کو منتقل کی گئی، اراضی منتقلی کے بعد عمران خان سے ذلفی بخاری، شہزاد اکبر اور پراپرٹی ٹائیکون ملے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ گیارہ جولائی دو ہزارانیس کو رقم پاکستان کی ملکیت ہونے پر عمران خان کو بدنیتی پر مبنی نوٹ لکھا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ تین دسمبر دوہزار انیس کو کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا، بدنیتی پر مبنی نوٹ بند لفافے میں کابینہ میں پیش کر کے اس کی منظوری پر اصرار کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ پر ضیاء المصطفیٰ نسیم نے بطور گواہ دستخط کیے، اس پر وزارت خزانہ، وزارت خارجہ اور وزارت قانون کی رائے نہیں لی گئی، ٹرسٹ ڈیڈ میں ترمیم کر کے عمران خان ، بشریٰ بی بی اور ذلفی بخاری کو شامل کیا گیا۔ پھر بشریٰ بی بی نے چوبیس مارچ دوہزار اکیس کو عطیہ اقرار نامہ پر دستخط بھی کیے، القادر ٹرسٹ کی آڑ میں دو سو چالیس کینال اراضی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، مگرعمران خان اور بشریٰ بی بی اراضی کی فروخت سے متعلق ثبوت دینے میں ناکام رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ثبوت دینے کیلئے متعدد نوٹسز کیے لیکن تعاون نہیں کیا گیا، ملزمان ریاست پاکستان کے لیے فنڈز کی منتقلی کے ثبوت پیش کرنے میں بھی مکمل ناکام رہے۔ جبکہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی میں فرح شہزادی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بطور فرنٹ پرسن کام کیا۔ اب سمجھ آیا عمران خان کو یہ گوگی معصوم کیوں لگتی تھی۔

    ۔ یہ سب کچھ شہزاد اکبر اپنے ایماء پر تو کر نہیں سکتےتھے ۔ یقینا عمران خان کی آشیر آباد انکو حاصل تھی ۔ اسی لیے تو ان کو ، زلفی بخاری اورفرح گوگی کو ملک سے ایسے فرار کروایا جیسے مکھن سے بال ۔ کیونکہ پتہ تھا کہ یہ دونوں ان کی حکومت جانےکےبعد روکے تو ضرور گرفت میں آئیں گے اور یہ گرفت میں آئےتو پھر قانون کا ہاتھ عمران خان سمیت بشری بی بی کی گردن تک ضرور پہنچے گا ۔

  • نواز شریف سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے۔ مشکلات میں گھرے عوام اور پاکستان کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سیاسی غبارہ وقت سے پہلے پھٹ جائے تو خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو یا دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں یا تحریک انصاف۔ پیپلزپارٹی کسی زمانے میں بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں قومی جماعت ہوا کرتی تھی اب صوبائی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نوازشریف کی قیادت میں قومی جماعت ہوا کرتی اب نوازشریف کی لندن اور بار بار جلاوطنی اور شہبازشریف اور ان کے ہمنوا ساتھیوں نے اس جماعت کو صوبے تک محدود کر دیا ہے جس طرح پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نے پیپلزپارٹی کو صوبےتک محدود کردیا ہے اسی طرح شہبازشریف کی مفاہمتی سیاست نے ن لیگ کو بھی صوبے تک محدود کر دیا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے بطور سیاسی جماعت کو قومی جماعت نہیں کہہ سکتی۔

    نوازشریف کی طرز سیاست نظام اور ڈھانچوں کو ایک ترقی یافتہ جمہوریت کے اصولوں آئین اور قانون کے تحت استوار کرنے کی کوشش تھی۔ ن لیگ میں حوس اقتدار کے ماروں نے وہ گل کھلائے کہ جمہوریت کی پری بھی شرما گئی ۔نوازشریف کو کبھی عدالتوں کے ذریعے اور کبھی ہائی جیکر بنا کر اقتدار سے الگ کر دیا گیا ۔کبھی اٹک قلعہ تو کبھی ہوائی جہاز کی سیٹوں کے ساتھ باندھ کر کراچی پہنچا دیا گیا۔ بھٹو جیسے عالمی لیڈر اور محترمہ بے نظیر کی پیپلزپارٹی کا حال یہ کر دیا گیا اب وہ پنجاب میں اختیارات کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی ہے اس وقت آئینی عہدے رکھنے کے باوجود اور ایک صوبے میں حکومت ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کے پاس صوبہ پنجاب میں کوئی ووٹ بنک نہیں ۔صوبہ پنجاب میں تازہ ترین حالات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں کی مقبولیت ہے۔ سیاسی گلیاروں میں چمچہ گیری، چاپلوسی اور جی حضوری اور واہ ہی واہ کرنے والوں اور اپنے ہی سیاسی قائدین کی مخبری کرنے والوں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بقول شاعر؎
    مجروع قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ

    سیاسی جماعتیں اپنی ناکام پالیسیوں ناکام سیاست کا بدلہ قومی اداروں سے لے رہے ہیں سوال یہ ہے کہ ذرا سوچئے ہم کن راہوں کو چل نکلے ہیں ہمارا کیا بنے گا؟ ملک اور اس کے اداروں کی ناقدری نہ کریں ، رک جائیں۔ غیروں کی سازشوں کا آلہ کار نہ بنیں وطن عزیز تو اپنا ہے ہمارے سیاسی جھگڑے ختم کیوں نہیں ہوتے۔ نوازشریف اس پورے پاکستان کے سب سے پرانے اور زیرک سیاستدان ہیں سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار اداکر سکتے ہیں۔ نوازشریف بلاشبہ ماضی کے سیاسی زخموں سے بھرے پڑے ہیں بہت دھوکے بھی کھائے ہیں ایک مضبوط سیاسی رہنما بھی ہیں۔

  • بلوچستان دہشتگردی نے ہر محب وطن پاکستانی کو ہلا دیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان دہشتگردی نے ہر محب وطن پاکستانی کو ہلا دیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    گوادر پورٹ کی تعمیر پر بھارت کومروڑ اٹھ رہے،گھٹیا پن پر اترآیا
    معصوم شہریوں کا قتل عام،خوف وہراس پھیلانے کی بھونڈی سازش
    پاک فوج نے وطن عزیز کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ہردم اداکیا

    بلوچستان میں دلخراش واقعات نے ہلا کر رکھ دیا، بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی وجوہات کیا ہیں؟ اصل وجہ گوادر پورٹ کی تعمیر ہے، بھارت سمیت وطن عزیز کے قریبی ہمسایہ ممالک اور کچھ بین الاقوامی طاقتیں جنہیں چین کا یہ منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا وہ بلوچستان میں ان واقعات میں ذمہ دار ہو سکتے ہیں، دنیا کے ممالک کے درمیان نئی تجارتی منڈیوں ،سمندری زمینی فاصلوں کی کمی سستی تجارت پر سردجنگ زوروں پر ہے، چین کے مغربی علاقوں میں کوئی سمندر نہیں اورگوادر پورٹ چین کے مغربی علاقوں تک واحد راستہ ہے ، چین اور پاکستان اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے کاشغر تا گوادر ایک اقتصادی راہداری بنانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں،چین اور پاکستان کے اس عظیم الشان منصوبے سے پاکستان مخالف قوتیں اور چندقریبی ہمسایہ ممالک کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں اس لئے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے خوف و ہراس پھیلارہے ہیں،

    میرا سوال ان نام نہاد سیاستدانوں اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں سے ہے کیا دنیا کا کوئی ملک اپنی سلامتی یا قومی سلامتی پر حملہ آوروں یا اس مکروہ سازش میں ملوث افراد کو اجازت دیتا ہے ؟ ضرب عضب ہویا ردالفساد اور اب استحکام پاکستان یہ سب وطن عزیز کی سلامتی اور قوم کے مفاد پر مبنی تھے اور ہیں،ان دلخراش واقعات کے پیش نظر پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ وطن عزیز کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں، پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ ہماری قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین پربھی اس وطن عزیز کے لئے کردارادا کرنا اولین فریضہ ہے، جس طرح اپنے وزارت عظمی کے دوران میاں محمد نواز شریف نے قوم کے اتحاد اور سلامتی کے لئے بلوچستان میں اپنا اور اپنی جماعت کا اقتدار قربان کیا بلوچستان میں عوامی حکومت بنائی گئی ان لوگوں کو حکومت دی گئی جو سرداروں میں سے نہیں تھے،

    پاکستان کے موجودہ حالات کسی ایسے سیاسی لیڈر شپ کا تقاضا کرتے ہیں جو دشمنوں کے عزائم کو روک سکتا ہے یا دشمن کی سازش کو ناکام بنا سکتا ہے، ایک مضبوط سیاسی رہنما سلامتی اور استحکام کو نافذ کرتا ہے افراتفری سے بچاتا ہے ، کسی رہنما کے لئے صرف طاقت ہی کافی نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کیسے چلاتا ہے ملک کے اور عوام کے لئے اس کا وژن کیا ہے، ایک زیرک سیاستدان اپنے ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

  • نہتے پولیس اہلکاروں کی شہادت،انتظامیہ کی کارکردگی،سنجیدگی پر سوالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    نہتے پولیس اہلکاروں کی شہادت،انتظامیہ کی کارکردگی،سنجیدگی پر سوالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    کچے کے علاقہ میں پولیس کے نہتے اہلکاروں کی شہادت نے جہاں پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں وزارت داخلہ سے لے کر ضلعی پولیس انتظامیہ تک کی کارکردگی اور سنجیدگی پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں ۔ کچے کا علاقہ جو کہ سندھ اور پنجاب پر پھیلا ہوا ہے وہاں پر ڈاکو راج کسی بھی حکومت خواہ وہ صوبائی ہو یا مرکزی، سے بالکل پوشیدہ نہیں تھا لیکن تساہل پسندی ،عہدوں سے لطف اندوزی ، فیلڈ میں ناتجربہ کار افسران کی سفارشو ں پر تعیناتیاں ، حقائق سے چشم پوشی ،کچے کے علاقے میں کچے اور ناتجربہ کار افسران کو عہدوں سے نوازنا اور سابقہ آپریشن کے تجربات کو سرد خانوں میں ڈمپ کرنا شامل ہیں۔

    آج پاکستان کو استحکام پاکستان کا جو چیلنج درپیش ہے اور اس چیلنج کو ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر اور وزیراعظم اور مقتدر حلقوں نے جس دلیری سے قبول کیا ہے وہ قابل ستائش ہے لیکن کچہ کے علاقے میں پولیس کے قتل عام نے تقاضہ کیاہے کہ آج جنرل نصیر اللہ بابر مرحوم جیسا وزیر داخلہ چاہیئے ۔ڈاکٹر شعیب سڈل جیسا پولیس کمانڈر اور میاں نواز شریف جیسا لیڈر چاہیئے جو اپنی ذات اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر کراچی جیسے بدامنی کے گھمسان کو امن کا گہوارہ بنانے کا جذبہ رکھتے تھے۔ حال ہی میں سائوتھ پنجاب کے سابق آئی جی نے بھی کچہ کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف کامیاب آپریشن کیا تھا اور عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے انہوں نے ذرائع کے مطابق ایک جامع رپورٹ اس وقت کے وزیراعلی پنجاب اور وزیراعظم پاکستان جناب میاں شہباز شریف کو ( جو اب بھی وزیراعظم ہیں) ارسال کی تھی ۔ کیا ان کی سفارشات اور تجاویز کو نیکٹا میں زیر غورلایا گیا ۔ کوئی معلوم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ استحکام پاکستان کا عزم ایک نعرے کا نام نہیں جو کہ آرمی چیف نے لگا دیا ۔

    میں نے اپنے سابقہ کالموں میں بھی لکھا ہے کہ استحکام پاکستان کے سفرمیں سفارش ،مفادات پرست ،تساہل پسند اور کرپٹ ہمسفروں کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ وزارت داخلہ سے ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی جی سے تھانہ تک ، سفارش ، بدعنوانی ،رشوتیں دے کر عہدے خریدنے اور میرا ڈی پی او ، تیرا سی پی او والا کلچر ختم کرنا ہوگا۔ اگر ان مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عمل نہ کیا گیا تو پھر راولپنڈی ڈویژن جیسے علاقے بھی کچے کے علاقے میں بدلتے جائیں گے اور پردہ اٹھتا جائے گا کہ فلاں ا فسر ماتحت ایس ایچ او کی سفارش پر لگا تھا اور فلاں ایس ایچ او کو ضلعی افسر نے عدالتی کارروائی سے بچانے کے لئے معطل کرکے بچا لیا تھا۔ تمام خفیہ ایجنسیوں کو متحرک ہو کر کام کرنا ہوگا ورنہ پوراپنجاب کچے کے افسروں کے ہاتھوں کچے کا علاقہ بن جائے گا۔

    اللہ کا واسطہ مجھے بچا لیں، ماچھکہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال پولیس اہلکار کی دہائی

    اطلاع دیں،ایک کروڑ انعام پائیں، خطرناک ڈاکوؤں کی تصاویر جاری

    رحیم یار خان،پولیس اہلکاروں کی شہادت پر مقدمہ درج

    کچے کے علاقے میں شہید 12 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    رائفل پکڑ لو لگتا ہے آخری ٹائم ہے،حملے سے قبل پولیس اہلکاروں کی ویڈیو وائرل

    پنجاب پولیس کی جوابی کارروائی،حملے کا مرکزی ملزم بشیر شر ہلاک

  • معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت ایسے ایسے بحرانوں سے دوچار ہے بقول کسی شاعر کے ہر طرف آگ ہے دامن کو بچائیں کیسے ۔ سیاسی گلیاروں میں ایسی ایسی بُری خبریں سوشل میڈیا پر دکھائی اور سنائی دیتی ہیں شاید ہم اس وقت بُری چیزوں کی زد میں ہیں۔ تاہم اس بحران اور بُری خبروں میں پنجاب کی عوام کے لئے ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کی بیٹی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی طرف سے بجلی کے بلوں پر دو ماہ کا ریلیف صوبہ پنجاب میں سورج کی روشنی کے طور پریہ خبر ایک ایسی قوم کو ملی جو شاید بُری خبریں سننے کی عادی ہو چکی تھی۔ موجودہ معاشی بحران میں دو ماہ کا ریلیف عوام کے لئے اندھیرے میں روشنی کے برابر ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے معاشی بحران کا ذکر کرتےہوئے 2017 کا ذکر کیا اور اپنی حکومت کی کارکردگی معیشت کاذکر کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا بطور خاص نام لے کر کہا کہ انہوں نے معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہ حکومتیں اپنی عوام کے تحفظ اورمعاشی بدحالی کو روکنے کے لئے کوشش کرتی ہیں کوئی بھی اس پر اختلاف نہیں کرے گا۔ معاشی خطرے سے نمٹنا اولین سیاسی ترجیح ہوتی ہے ۔2017 بلاشبہ ملک معاشی مستحکم تھا سینیٹر اسحاق وزیرخزانہ نواز شریف کی قیادت میں رات گئے اپنے دفتر میں معاشی ماہرین کے ساتھ کام کرتے تھے۔

    اس عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لے کر سیاسی افراتفری سے باہر نکلنا ہوگا بین الاقوامی رواں سال کئی ممکنہ سیاسی دراڑیں ابھر سکتی ہیں۔ بشمول مشرقی وسطیٰ امریکہ سمیت اگر دیگر عالمی قوتوں نے غزہ تنازعے کو حل کرانے میں کردار نہ کیا تو اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک مکمل علاقائی جنگ تبدیل ہو سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف سیاست بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑیں گے۔ یوکرین میں جاری جنگ شمالی کوریا کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا اس صورت میں چین یا تو امریکہ اور مغرب کے ساتھ تنائو کا بڑھتا ہوا ذریعہ ہو یا پھر ممکنہ طور پر زیادہ نتیجہ خیز شراکت داری کا آغاز ہو ۔ ان تمام بین الاقوامی سیاست کی تبدیلی کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑیں گے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت اپنے مفادات ملکی سلامتی اور معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی معاشرہ یا ملک کسی بڑی تبدیلی یا غیر یقینی صورت حال سے گزرتا ہے تو سماج دشمن عناصر اس صورت حال سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید،پاک فوج کے لیے ایک ٹیسٹ کیس

    لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید،پاک فوج کے لیے ایک ٹیسٹ کیس

    آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی گرفتاری پر میرا فوری ردعمل یہ تھا کہ "عمران خان کے گلے میں پھندا تنگ ہو گیا ہے”۔آئی ایس پی آر کے ابتدائی بیان میں دو اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی۔ سب سے پہلے ٹاپ سٹی سے متعلق کرپشن کے الزامات شامل تھے۔ دوسرا فیض حمید کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا۔ پریسر نے واضح طور پر کہا کہ یہ خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے فیض حمید کو فوجی تحویل میں لیا گیا،فیض حمید کے خلاف فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی جاری ہے۔ تیزی سے سامنے آنے والے واقعات اب اس گرفتاری کو 9 مئی 2023 کو پاک فوج کی تنصیبات پر حملوں سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔

    یہ بات مشہور ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا پی ٹی آئی سے گہرا تعلق تھا۔ برسوں کے دوران، پانچویں نسل کی جنگ کے ذریعے، پی ٹی آئی نے معاشرے اور اپنی مسلح افواج کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے فوج کو نقصان پہنچا ہے۔ اس نے بہت سے دلوں میں فوج کے خلاف نفرت کا بیج بو دیا ہے،

    موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ انہیں اس عہدے سے اچانک برطرف کر دیا گیا تھا جب انہوں نے عمران خان کے قریبی لوگوں کی کرپشن کی اطلاع دی تھی۔عمران خان ڈی جی آئی ایس کو ہٹانا نہیں چاہ رہے تھے جب فیض حمید تھے ،آرمی چیف بننے کے لیے فیض حمید کو کمانڈ کا تجربہ درکار تھا، کیونکہ ان کا نام مستقبل کے آرمی چیف کے عہدے کے لیے زیر غور تھا۔

    ایک نظریہ بتاتا ہے کہ 9 مئی کے حملے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو بطور آرمی چیف ہٹانے کی کوشش تھی۔ فوج کی تنصیبات پر حملوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ زبردست جواب دینے پر اکسائیں گے، شاید مجرموں پر فائرنگ بھی کر دی جائے تاہم فوج نے ایک مختلف طریقہ اختیار کیا۔ پھر بھی، اس طرح کا کھلا تشدد یا بغاوت دنیا میں کہیں بھی ناقابل قبول ہے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

    اس میں شامل افراد کے لیے فوائد واضح ہیں اور اس میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ 9 مئی کے نتیجے میں دو کور کمانڈرز، ایک لاہور اور ایک منگلا سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ نظریہ کتنا درست ہے، اور ہر فریق کی شمولیت کی حد کا تعین عدالتوں کو کرنا ہے۔تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ فوج کے اعلیٰ افسران اس معاملے پر متحد ہیں۔ نظریاتی طور پر، آرمی چیف اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کرنے اور ملک کو نقصان پہنچانے والے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کا اطلاق نہ صرف پی ٹی آئی کے اراکین پر ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے دیگر سہولت کاروں پر بھی ہوتا ہے۔آگے چل کر مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں.

  • محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خطے کو کس سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ مڈ ل ایسٹ میں حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ بن سلیمان نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا۔ امریکہ اور یورپی ممالک ،روس ،یو کرائن جنگ پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرائن کے درمیان ہونے والی جنگ کے کیا نتائج نکلیں گے۔ یہ ایک سوال ہے ؟ برطانیہ کی سڑکوں پر نسلی فسادات ، ایران میں اسماعیل ہانیہ کا قتل ،بنگلہ دیش کی صورت حال ، دنیا چونکا دینے والے حالات سے گزر رہی ہے ۔ا ن تمام حالات کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں اور قریبی ممالک بھی ان حالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر وطن عزیز میں افواہ ساز فیکٹریاں سوشل میڈیا پر ، یوٹیوبر ، وی لاگرز ، بغیر کسی وقفے کے ایسی ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں جس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

    پورے عرب ممالک کے سامنے ، فلسطین میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ غزہ مین شہید ہونے والے خواتین نوجوان بچے ، بوڑھوں کے قبرستان بھر چکے ہیں۔ جنہوں نے آگے ہو کر اس قدیمی مسئلے کا حل کروانا تھا انہوں نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا ہے ۔ کشمیر میں سالوں سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کا خون ، اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی اور دیگر عالمی اداروں نے کیا کیا؟ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جھوٹ ، بہتان فریب کی سیاست کو پس پشت ڈال کر ان بین الاقوامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے قومی اداروں کو مستحکم کرنے میں کردارا دا کرنا ہوگا۔ پاک فوج اورجملہ اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم کیا قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ اس وقت عدلیہ کو اہم کردار اداکرنے کی ضرورت ہے ۔ملکی سیاسی جماعتوں کو خارجہ اور اندرونی مسائل کو سامنے رکھ کر ملک وقوم کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ دل شکن ماحول میں قوم کی نظریں عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامنے والوں پر لگی ہیں۔

  • 14اگست1947ء اور ہماری ذمہ داری.تحریر:حنا سرور

    14اگست1947ء اور ہماری ذمہ داری.تحریر:حنا سرور

    یہ دن ہماری تاریخ میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہندوؤں،سکھوں اور فرنگیوں سے آزادی دی اورجس کے نتیجے میں دُنیا کے نقشے پر پاکستان آزاد ریاست کی حیثیت سے ابھرا ۔ اس پاک وطن کے حصول کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ ہمیشہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہیں گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت جو دل خراش مناظر سامنے آئے آزادی کے متوالوں نے کن کن مشکلات کا سامنا کیا، کتنی ماؤں کو اپنے بیٹوں کی، کتنی بہنوں کو اپنے بھائیوں کی اور کتنی سہاگنوں کو اپنے سہاگ کی قربانی دی پڑیں، آج یہ سوچ کر بھی رونگنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پورے اعداد و شمارتو معلوم نہیں ،لیکن اندازہ لگایا جا تا ہے کہ 2 ملین سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، جبکہ 10 ملین سے زائد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ایسے دل خراش واقعات پیش آئے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے، لیکن یہ مسلمانوں کا ولولہ اور جوش و جذبہ تھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی علامہ محمد اقبال ؒ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں الگ وطن حاصل کرلیا ۔ اب یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آج 76 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اگر ہم جائزہ لیں تو کیا یہ وہی پاکستان ہے، جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھی، جس کی خاطر کروڑوں مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں ۔ اگر ہمارا جواب نہیں میں ہے، تو اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہم سب کی قومی ذمہ داریا ں کیا ہیں، ستم تو یہ ہے کہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اس ملک کو لوٹ کھایا ہے اور کھارہے ہیں، کسی نے اس ملک کا نہیں سوچا.کسی نے کبھی یہ سوچا کہ ہم نے ان 76سالوں میں کیا کھویا کیا پایا ہے۔ وہ واحد ریاست ہے جو محض سات سال کی مختصر مدت میں معرض وجود میں آئی تھی اس کی وجہ وہ قیادت اپنے جذبے سے اپنے نظریے سے مخلص بے لوث تھی اس وقت کی قیادت میں لوٹے کرچھے چمچے نہیں تھے وہ سیاست دان حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے تھے اور آج کے سیاست دان جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات، امتیازات اور ترجیحات کے لیے ملک کا وقار اور اس کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہوا ہے، ایک وہ سیاست دان تھے جنہوں نے ملکی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دئیے اور ایک آج کے سیاست دان ہیں جو اپنے اقتدار کی خاطر اپنی دھرتی ماں کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتے، اپنے محسنوں کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، پاک فوج پر دشنام طرازیاں کرتے ہیں، لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان پر تشدد کرتے ہیں۔

  • فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    جرم کے خاتمے کیلئےپولیس ،بیوروکریسی میں بھی کڑا احتساب ناگزیر
    محض اتفاق کرسی پربھی بٹھاتا ہے اور کوڑے دان میں بھی پھینک سکتا

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاک آرمی نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پرانضباطی کارروائی کا آغاز کرکے قوم پر ثابت کردکھایا ہے کہ پاکستان آرمی اور مقتدر حلقے استحکام پاکستان کے راستے میں آنے والی بڑی سے بڑی رکاوٹ کو مصلحت سے بالاتر ہو کر اپنے راستے سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاک فوج میں خود احتسابی ایک بہت سخت کڑا کار عمل ہے جو ہر وقت جاری رہتا ہے اس احتسابی نظام میں کسی قسم کی کرپشن ،بے ضابطگی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر یہ نظام ایکشن میں آتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں برتی جاتی جتنا بڑاآفیسر ہوتا ہے اتنا ہی سخت احتساب ہوتا ہے اوریہ اندرونی احتساب کا عمل ہر وقت متحرک رہتا ہے اور یہ محض الزامات پر ایکشن نہیں لیتا بلکہ ٹھوس شواہد پر ایکشن میں آتا ہے، پاک فوج نے ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان ا ور دفاع پاکستان ایک خواب نہیں، مضبوط عزم سے جنم لینے والی حقیقت ہے، فیض حمید کے خلاف کارروائی سے پاک آرمی نے عوام پر آشکار کردیا ہے کہ پاکستان کا استحکام اور مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہے اور مقتدر حلقے اپنے وقار ، اخلاص ، محب الوطنی پر ذرا آنچ نہیں آنے دیتے،

    قارئین پاک آرمی اور مقتدر قیادت نے تو ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان کے سامنے کسی فرد ، عہدے ، طاقتور شخصیت کی کوئی اہمیت نہیں، اب ملکی سیاسی جماعتوں ، حکمرانوں ، بیورو کریسی ، پولیس کو بھی اپنی آنکھیں کھولنی چاہیے ، سیاسی جماعتوں میں مرکز ، ڈویژن ضلع و تحصیل ، پولیس ، بیورو کریسی میں تھانہ و پٹوارخانہ سے ضلع ڈویژن اور صوبے کی سطح پر لینڈ مافیا ، منی لانڈرنگ ، عوام سے لوٹ مار ، جواء، منشیات کے دھندوں میں ملوث بھتہ خور عناصر کو اپنے اپنے رینکس اور قطار میں گھس بیٹھیے نام نہاد سیاسی رہنمائوں اور کرپٹ افسران سے نجات حاصل کرنا ہوگی، قومی سلامتی کے اداروں کو بیورو کریسی اورپولیس پر کڑی نظر رکھنا ہوگی تاکہ استحکام پاکستان کے کاررواں میں سے رہزنوں کو نکال کر منزل کا حصول ممکن ہو ، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ قوموں کو مایوس کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی، ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدا رمیں پہنچاتا ہے دوسرا اتفاق ایوان اقتدار سے اٹھا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

  • راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس حکام کی کیا مجبوری،جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی دیدی
    چند ایس پیز،اور ڈی ایس پیز کا نیٹ ورک اتنا مضبوط کیوں،کون ذمہ دار؟

    راولپنڈی شہر میں ا یک ہی دن میں 112 وارداتوں کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے ،،،، گاڑی چوری، موٹر سائیکل چوری سمیت گھروں کو لوٹ لیاگیا،،، اگر راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر جہاں پاک فوج اورجملہ اداروں کے دفاتر موجود ہیں کا یہ حال ہے تو باقی صوبے کا کیا ہوگا؟ یہ سوال وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ، وفاقی وزیر داخلہ ، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے ہے،راولپنڈی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس تماشا دیکھنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مسلح ڈاکو دیدہ دلیری سے لوٹ مار مچا رہے ہیں،سوال یہ بھی ہے کہ راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر میں اعلیٰ پولیس ، افسران کی تعیناتی میں آنکھیں بند کیوں کی گئی ہیں ؟ عوام کو چوروں ، ڈاکوئوں ، رسہ گیروں ، لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کا کون ذمہ دار ہے؟ آئی جی پنجاب کیوں بے بس ہیں،راولپنڈی کو لے کر آئی جی پنجاب کی گڈ گورننس کے آگے کون سی دیوار ہے ؟ راولپنڈی کو دوسرا کراچی کیوں بنا دیاگیا ؟ کیا راولپنڈی لاوارث شہر ہے ؟

    گذشتہ دنوں پاک فوج کے سربراہ نے درست کہا کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا جرم فساد فی الارض ہے،پاک فوج اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فساد فی الارض کے خاتمے کے لئے جدوجہد کررہی ہے ان کی ساری تقریر سنی ایک باوقار شخص باوقار گفتگو کرتا ہے، یقینا پاک فوج اور جملہ اداروں نے قربانیاں دے کر ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ماضی میں بھی مقابلہ کیا، مستقبل میں بھی عوام پاک فوج سے یہی توقع رکھتی ہے، ماضی میں کسی زمانے میں کراچی روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں تبدیل کردیا گیا تھا لیکن پاک فوج اور جملہ اداروں اور ذمہ دار پولیس افسران نے مل کر کراچی میں روشنیاں بحال کی تھیں، بلاشبہ پاک فوج اورجملہ اداروں کے ساتھ پنجاب اور دیگرصوبوں کی پولیس نے بھی امن بحال کرنے میں کردار بھی ادا کیا اور شہادتیں دیں مگر یہ کیاقہرہے کہ آج راولپنڈی میں پولیس کے وہ افسران جن میں ایس پیز ، ڈی ایس پیز کاایک مخصوص نیٹ ورک ہے، جس نے مخلوق خدا کو چوروں ، ڈاکوئوں ،لینڈ مافیا ،رسہ گیروں ، جوئے کے اڈے چلانے والوں ، اور بدمعاشوں کے حوالے کردیا ہے،آخر سی پی او اور آر پی او راولپنڈی کی وہ کونسی مجبوری اور بے بسی ہے کہ وہ اس پولیس نیٹ ورک کے آگے بے بس ہیں جبکہ آئی جی پنجاب بھی راولپنڈی کو لے کر بے بس ہیں کیا آج کے یہ پولیس افسران پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ جہاد فی الارض میں حصہ لے سکتے ہیں ؟