Baaghi TV

Category: سیاست

  • ایس سی اوکانفرنس،علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد .تجزیہ: شہزاد قریشی

    ایس سی اوکانفرنس،علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد .تجزیہ: شہزاد قریشی

    نواز شریف اور مقتدر حلقے ملکی ترقی اور خشحالی کے راستے پر گامزن
    نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والے آج بھی ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے پر بضد
    ایس سی او کانفرنس کا انعقاد اسحاق ڈار کی کامیاب سفارت کاری کا کرشمہ

    پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا عزم میاں نواز شریف کی قیادت کا خاصہ ہے،اسلام آباد میں شنگھائی تعاون کونسل کے رکن ممالک کا سربراہی ا جلاس منعقد ہونا علاقائی قوتوں کا پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہے اور پاکستان کے علاقائی ترقی اور باہمی تعاون میں کردار کا اعتراف ہے، شنگھائی تعاون کونسل کے سمٹ اجلاس میں پاکستان کے روشن مستقبل اور ترقی کی راہیں پوشیدہ ہیں،اس تناظر مین پاکستان کے عوام کو ترقی اور تنزلی ، استحکام اور انتشار ،اتحاد اور امن اوربدامنی کے راستوں میں تفریق کرنی ہوگی، میاں نواز شریف اور مقتدر حلقے پاکستان کی ترقی ، امن ،استحکام اور باہمی اتفاق کے راستوں پر گامزن ہیں جبکہ چند ناعاقبت اندیش سیاسی و لسانی عناصر اپنے مذموم مقاصد اور ذاتی عناد اور مفاد کی خاطر ادھر اُدھر دھرنا دھونس کی سیاست کے طبل بجا کر شنگھائی تعاون کونسل کے اجلاس میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان ہجوموں میں ” نک دا کوکا” نچنے دا دل کردا” ۔ ” پروگرام وڑگیا” کے بے مقصد نعرے نوجوان نسل کو پاکستان کی حقیقی منزل سے دور کررہے ہیں، اس سے قبل 2014 ء میں ہمارے پاکستان کے قابل فخر دوست چین کے صدر کے دورے کے عین وقت پر منسوخی نے سی پیک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور پھر نئے پاکستان کے نام نہاد نعرے میں پاکستانی قوم نے اخلاقی اور تعلیمی انحطاط ، ترقی سے تنزلی اور اداروں میں سُست روی کا ایسا دور دیکھاجس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے،پاکستان میں شنگھائی تعاون کونسل کا اجلاس میاں نواز شریف،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کامیاب سفارت کاری کا کرشمہ ہے،جس کے اثرات تمام خطے پر پڑیں گے اور خصوصاً پاکستان کا علاقائی ترقی میں کردار نمایاں ہوگا،عوام کی ترقی کی راہوں کا انتخاب مبارک ہو۔

  • پاک چین تعلقات میں تناؤ؟

    پاک چین تعلقات میں تناؤ؟

    پاکستانی حکام نے جمعہ کو اطلاع دی کہ دہشت گردوں نے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی کان پر صبح سویرے حملہ کیا جس میں کم از کم 20 مزدور ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں،راکٹوں اور دستی بموں سمیت بھاری ہتھیاروں سے لیس حملہ آوروں نے قدرتی وسائل سے مالامال دور افتادہ علاقے دکی میں کان کنوں کے رہائشی مکانوں کو نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے سے قبل کان کنی کے سامان کو بھی آگ لگا دی۔ایک مقامی ہسپتال کے طبی عملے نے تصدیق کی کہ بچ جانے والے کم از کم سات زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ زیادہ تر متاثرین بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نسلی پشتون تھے، ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں کم از کم تین افغان مہاجرین شامل ہیں۔

    یہ واقعہ ایک حالیہ خودکش کار بم دھماکے کے بعد پیش آیا ہے، جس کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ میں کراچی کے ہوائی اڈے کے قریب قبول کی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں دو چینی انجینئرز ہلاک اور کم از کم 10 دیگر زخمی ہوئے، جن میں ایک چینی باشندہ اور مقامی سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔ چینی متاثرین کراچی کے بندرگاہی شہر میں بیجنگ کی جانب سے بنائے گئے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کے ملازم تھے۔

    2017 سے اب تک پاکستان میں کم از کم 21 چینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ تازہ ترین حملوں کے جواب میں، چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ اس کی مکمل تحقیقات کرے، قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، اور ملک میں کام کرنے والے چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے حفاظتی اقدامات کو بڑھائے۔

    چینی شہریوں پر حملوں سمیت جاری تشدد سے پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کا خطرہ ہے، خاص طور پر سی پیک منصوبوں کے تناظر میں، 15-16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ سربراہی کانفرنس کے ساتھ، بڑھتا ہوا عدم استحکام ایک اہم چیلنج پیش کر رہا ہے۔پاکستانی حکومت کو اپنی سلامتی اور معاشی استحکام کی خاطر دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے تاکہ امن کی بحالی اور اپنے اہم مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

  • پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات  ضروری.تحریر:عاصمہ بنگش

    پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات ضروری.تحریر:عاصمہ بنگش

    حکومت کو پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں

    حالیہ واقعات، خصوصاً خیبر پختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ارکان کی جانب سے مبینہ طور پر ایک پولیس گاڑی کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ، اسے محض ایک وقتی غصے کا اظہار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ، اور اس جیسے بے شمار دوسرے واقعات، پی ٹی ایم کی دشمنانہ کارروائیوں میں ایک خطرناک اضافہ کی عکاسی کرتے ہیں ایک تحریک جو حقوق کے لیے جدوجہد سے بڑھ کر انتہاپسندی کی حدود پار کر چکی ہے۔ پی ٹی ایم کے دہشت گرد نیٹ ورکس، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کی خودمختاری کے لیے براہِ راست اور سنگین خطرہ ہیں۔ حکومت کو اب صرف ان عناصر کو قابو میں رکھنے کے بجائے، ایک زیادہ جارحانہ اور جامع حکمت عملی اپنانی ہو گی تاکہ ان نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

    پی ٹی ایم نے بارہا پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور ریاست مخالف قوتوں کا سہولت کار ثابت ہوئی ہے۔ اپنے آغاز سے ہی اس تحریک نے اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر کے ساتھ سازباز کی ہے تاکہ ملک کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔ پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی سے تعلقات کے شواہد بارہا سامنے آ چکے ہیں، جن میں ٹی ٹی پی کے کارندوں کو پی ٹی ایم کے اجتماعات میں کھلم کھلا شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہ محض ایک حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم نہیں، بلکہ ایک ایسا گروہ ہے جس نے دہشت گرد عناصر کے ساتھ مل کر ملک کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ پی ٹی ایم پر انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت پابندی عائد کرنے کا حکومتی اقدام نہ صرف ضروری تھا بلکہ اس میں تاخیر بھی ہو چکی تھی۔

    مزید برآں، پی ٹی ایم کے غیر ملکی دشمن ایجنسیوں، خصوصاً افغانستان کے ساتھ گہرے روابط، صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پی ٹی ایم کو خفیہ حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے اس تحریک کی بیان بازی اور اقدامات پاکستان کے بجائے افغانستان کے مفادات کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی خودمختار ملک ایسی تحریک کو برداشت نہیں کر سکتا جو بیرونی طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کے لیے پراکسی کے طور پر کام کرے۔ پی ٹی ایم اب محض ایک مقامی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک وسیع تر اور خطرناک نیٹ ورک کا حصہ ہے جو پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    اسی طرح، بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی طرف سے لاحق خطرہ بھی اتنا ہی تشویشناک ہے۔ جیسے پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی کے ساتھ روابط ہیں، ویسے ہی بی وائی سی کے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تشویشناک تعلقات سامنے آئے ہیں، جو کہ ایک بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم ہے اور عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر بے شمار حملوں کی ذمہ دار ہے۔ دونوں گروہ اپنے آپ کو "حقوق کی جدوجہد” کی زبان میں پیش کرتے ہیں، لیکن ان کے اعمال ایک اور تاریک ایجنڈے کی نشاندہی کرتے ہیں: علیحدگی، انتہاپسندی، اور تشدد۔

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    کسی بلیک میلنگ میں آکر قومی سلامتی داو پر نہیں لگا سکتے،وزیر داخلہ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

    حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی لگا کر درست قدم اٹھایا ہے، لیکن اب اسے بی وائی سی کے خلاف بھی اسی طرح کے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ پی ٹی ایم کی طرح، بی وائی سی بھی حقوق کی جنگ کی آڑ میں دہشت گردی اور ریاست کی تقسیم کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ کوئی بھی تنظیم، چاہے وہ اپنے مقصد کو کیسے بھی پیش کرے، دہشت گرد گروہوں جیسے بی ایل اے کی حمایت یا فروغ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    پاکستان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ پی ٹی ایم اور بی وائی سی صرف مقامی مسائل کی تحریکیں نہیں ہیں، بلکہ یہ غیر ملکی عناصر کی مدد سے چلنے والے بڑے منصوبے کا حصہ ہیں، جو ملک کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ ریاست کو فوری اور بھرپور طاقت کے ساتھ ان گروہوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہو گا تاکہ ان کے ایجنڈے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے سے پہلے ہی ناکام بنائے جا سکیں۔

    اگرچہ حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن ان تحریکوں کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈز کو بے اثر کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی ایم اور بی وائی سی کے کلیدی رہنماؤں کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا، اور ریاست کو اپنے تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔ بہت زیادہ عرصے سے ان تنظیموں کو نظرانداز کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی انتہاپسندانہ نظریات کو فروغ دیا اور انتشار کو ہوا دی۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی ایسے گروہ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائے جو ملک کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔ پی ٹی ایم پر حالیہ پابندی ایک ضروری پہلا قدم تھا، لیکن بی وائی سی کو بھی اسی انجام کا سامنا کرنا چاہئے۔ یہ تنظیمیں، جو دشمن طاقتوں اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی سے چل رہی ہیں، کو بغیر کسی روک ٹوک کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرتے ہوئے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہو گا اور ملک کے مستقبل کا تحفظ کرنا ہو گا.

    کالعدم فتنتہ الخوارج اور پی ٹی ایم کارندے کی ہوشربا کال منظر عام

    خیبرپختونخوا حکومت کا کالعدم پی ٹی ایم کی سرگرمیوں پر سخت پابندی کا اعلان

    پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک ہوں گے، محسن نقوی

    پشاور ہائی کورٹ اور خیبر ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے: کالعدم پی ٹی ایم سے متعلق پٹیشنز

    کالعدم پی ٹی ایم جرگہ،ٔپولیس کا دھاوا،متعدد گرفتار

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین پر پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکت کی پابندی: نوٹیفکیشن جاری

    عطا تارڑ کا پی ٹی ایم پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کو کس کی نظر لگ گئی،استحکام کیسے آئے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،تنقید بند کی جائے
    سوشل میڈیا کے خطر ناک جراثیم کی ملکی اداروں پر تنقید کیوں،لگام کون ڈالے گا

    تجزیہ،شہزاد قریشی
    فرانکو جرمن جوڑی کئی دہائیوں سے یورپی یونین کا کلیدی پتھر رہاہے،اس مضبوط اتحاد کے ذریعے ہی اس بلاک نے اپنا راستہ برقرار رکھا اور بڑے استحکام کے ساتھ ترقی کی، عالمی بُحران کے دوران بھی یہ شراکت داری حل تلاش کرنے اور یوپی یونین کے اداروں پر اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، وطن عزیز کی موجودہ معاشی اور سیاسی بحران کا بغور جائزہ لیا جائے تو 2017 تک میاں محمد نواز شریف اور سینیٹر اسحاق ڈاراپنی خدمات سرانجام دیتے رہے،اس جوڑی نے بھی پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے ، دفاعی لحاظ سے بھی مضبوط کرنے میں اہم کردارا دا کیا ، دنیا بدل گئی سیاسی او رمعاشی بحران نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس جوڑی کی اہم اور غالب پوزیشن کو کمزور کرنے میں بہت سی سیاسی اور دیگر قوتوں کا ہاتھ رہا،جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اور عوام تاددم تحریر بھگت رہے ہیں، پاکستان کے معاشی مستحکم مستقبل بنانے کے لئے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نواز شریف کی قیادت اور ان کی معاشی ٹیم نے پاکستان کو غیر ملکی قرضوں سے نجات دلانے کے قریب تر پہنچا دیامگرنادیدہ قوتوں نے ایک ایسی سازش کی کہ ترقی کے راستوں پر چلتا پاکستان دوبارہ معاشی کھائی میں جاگرا، سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ غیر یقینی سیاسی صورت حال میں پاکستان معاشی مستحکم ہو سکے گا ؟

    بلاشبہ پی ٹی آئی ایک مقبول جماعت ہے تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد عمران خان کی تبلیغ کا مرکز پختون خواہ ہی کیوں رہا؟ وہ افغانستان کی صورت میں گرفتار ہو گئے ؟ تحریک عدم اعتماد کے بعد اُن کا سارا فوکس احتجاج پر ہی کیوں رہا؟ سوشل میڈیا یوٹیوبر وطن عزیز کی مسلح افواج اور پاک فوج کو نشانہ کیوں بناتے رہے اور بنار ہے ہیں؟ بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر آخر عسکری اداروں کو ہی نشانے پر کیوں رکھا گیا ؟یہ جانتے ہوئے کہ شخصیات کو فنا اور اداروں کو بقا حاصل ہے،ملکی دفاعی اداروں اور اعلٰی عدلیہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے کیوں نشانہ بنایا جا رہاہے؟ریاست کو غیر مستحکم کرنے والے خطرناک جراثیم سے محفوظ کرنا کسی کی ذمہ داری بنتی ہے،ان خطر ناک جراثیم سے ملکی اداروں،معیشت اوراستحکام کو خطرہ ہے،سیاست سے پہلے ریاست کا استحکام سلامت رہناچاہیے،آئینی اصلاحات رواں ماہ کامیاب ہوتی نظر آرہی ہیں

  • پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا،وزیراعلیٰ پنجاب اک نظر ادھر بھی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کا کوئی بھی صوبہ ایسا نہیں جو وسائل سے مالا مال نہیں بدقسمتی سے مختلف محکموں میں ایسے افسران تعینات ہیں جن کو وطن عزیز کے مفادات سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہیں صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی میرٹ پالیسی، وقت کی پابندی، چٹ سکیم کا خاتمہ، یہ وہ اقدامات ہیں جو ترقی پذیر ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہم اگر معاشی زوال پذیر ہیں تو اس کی ایک وجہ رائٹ مین فار رائٹ جاب پر عمل نہ کرنا بھی شامل ہے۔ مل کر سوچنا ہوگا کہاں شگاف ہے۔ کہاں غلطیاں ہیں، کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے۔ پنجاب حکومت کی توجہ عوامی مسائل کو حل کرنے پر لگی ہے بلاشبہ وسائل کی کمی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ اگر پنجاب کے محکموں کے اعلیٰ افسران اگر صدق دل سے وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی خدمت کے ہمسفر ہو جائیں تو وسائل کی کمی دور کی جاسکتی ہے پنجاب میں اربوں کا ریونیو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ راولپنڈی گوجر خان سمیت محکمہ جنگلات کی ہزاروں کنال زمینوں پر لینڈ مافیا قابض ہے جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے پنجاب بھر میں لینڈ مافیا سرکاری زمینوں پر قابض ہے حکومت پنجاب کو خوابیدہ افسران کو جگا کر اپنی کروڑوں اربوں کی قیمتی اراضی کو واگزار کرا کے اپنی ملکیت میں لے سکتی ہے جنگلات کو بازیاب کرا کے ماحولیات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جبکہ پنجاب بھر میں محکمہ اوقاف کی شہروں میں قیمتی پراپرٹی جن میں دکانیں، مکانات اور پلاٹ موجود ہیں جن کا کرایہ کوڑیوں ، چند سو روپے اور ہزار روپے ماہانہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ انہی جائیدادوں کے نزدیک عوام کی ملکیتی دکانوں، مکانوں اور پلاٹ کا کرایہ لاکھوں میں ہے۔ محکمہ اوقاف کے کارندے اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے وطن عزیز کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور صوبہ پنجاب کے خزانے کو بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ صاف و شفاف بے رحمانہ احتسابی عمل کو متحرک کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنے صوبے میں سرکاری ریونیو کو بڑھانے کے لئے محکمہ جنگلات، اوقاف، ٹی ایم اے، ضلعی کونسل اور دیگر سرکاری اراضیوں کو واگزار کرانے اور وسائل کے استعمال کے لئے حکومتی مشینری کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ صوبہ پنجاب میں خوشحالی، خودانحصاری اور ترقی کے بے مثال وہ دور شروع ہو سکے جو میاں محمد نوازشریف کا وژن ہے

  • ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف نے عوامی فلاح وبہبود کیلئے کئی سکیمیں شروع کردیں
    عوام کونواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک، یاد ہے ذرہ،ذرہ
    پی ٹی آئی احتجاجی سیاست ترک کرے،خیبر پختونخوا کے عوام کی تقدیر بدلے

    اسلام آباد (تجزیہ،شہزاد قریشی) ملکی ترقی کے راستے بند کرنے والے پاکستانی عوام کے لیڈر نہیں ہو سکتے،پاکستان بے پناہ جانی ومالی قربانیوں اور مسلمان پاک و ہند کی لازوال تحریک کے نتیجے میں بنا،نوجوانوں کو اپنے بزرگ اور عمر رسیدہ لوگوں سے پاکستان کی آزادی کے حالات وواقعات سے آگاہی لینی چاہیے،پاکستان کی قدر اُن سے پوچھیں جنہوں نے آزادی کی ہجرت میں اپنے پیاروں کی جان ومال ، گمشدگیوں کو برداشت کیا اور اپنوں کی عزتوں اور جانوں کو اپنے سامنے پا مال ہوتے دیکھا،پاکستانی قوم ایک عظیم قوم ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور محل وقوع اسے خطے میں اہم بناتا ہے، پاکستان میں شنگھائی کونسل کے ممبر ممالک کی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے وقار اور ترقی کے ثمرات کا ضامن ہے،پاکستان میں سی پیک ٹو کی تعمیر کا مرحلہ ، ریلوے میں انقلاب ،صنعتی ترقی اور اس میں بین الاقوامی شراکت داروں کی دلچسپی ملک میں خوشحالی ، قرضوں سے نجات ، افراط زر اور مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کے اشارے ہیں جن کو پاکستان کے دشمن گوارہ نہیں کر رہے،ادھر افواج پاکستان سرحدوں پر دشمنوں کو شکست دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج کے عظیم سپاہی جانوں کا نذرانہ دےرہے ہیں،استحکام پاکستان اور دفاع پاکستان کی جاری اس جنگ کے دوران عوامی اور قومی اتحاد میں رخنہ اندیزیاں ہرگز ناقابل برداشت ہیں اور محب وطن حلقے ایسی تعصباتی سیاست ، طبقاتی و لسانی تفریق،ریاستی اداروں سے ٹکرائو،جلائو ،گھیرائو اور بے معنی تکرار و جملے بازی،الزام طرازی کو سراسر ناپسندیگی کی نظر سے دیکھتے ہیں،

    اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ نواز ، سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی،بلوچستان میں بلوچوں کی حکومت اور کے پی کے میں اقتدار پی ٹی آئی کے پاس ہے، سب صوبائی حکومتوں کو عوام کی ترقی ،خوشحالی کا سوچنا ہوگا، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اورخدمت کی سیاست کو اپنا معیار اور شعار بنانا چاہیے، بلاشبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام دوست ، کسان دوست ، طلباء دوست ، مزدور دوست اور غریب دوست سکیموں کا آغاز کرکے صوبے کےعوام کی خدمت میں ریکارڈ اقدامات اٹھائے ہیں،وزیراعلیٰ کے پی کے کو بھی ایسے اقدامات کرکے عوام کی محرومیاں ختم کرنی چاہیے نہ کہ آئے روز جلسوں ،جلوسوں میں سرکاری وسائل کا ضیاع کرکے عوام کی محرومیوں میں اضافہ کریں،میاں محمد نواز شریف نے گذشتہ دنوں اپنی تقریر میں حکومتی ترجیحات اور پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کے لئے اٹھائے گئے جن اقدامات کا تذکرہ کیا ان میں کوئی مبالغہ نہیں، باشعور عوام کو میاں نواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک ہے اور ان کی حکومت کو ختم کرنے والے عناصر کی ناعاقبت اندیشی پر رنج و ملال بھی ہے، مقتدر حلقے اور موجودہ وفاقی حکومت ان غلطیوں کے ازالہ کے لئے کوشاں ہیں، عوام کو چاہیے کہ وہ پاکستان مخالف قوتوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور سب سے پہلے پاکستان کی ترجیح اپنائیں۔

  • خیبر پختونخوا میں‌تعلیم وصحت کی صورتحال اور حکومتی ترجیحات،تحریر:کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخوا میں‌تعلیم وصحت کی صورتحال اور حکومتی ترجیحات،تحریر:کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال حکومت کی ناکامی کا استعارہ بن چکی ہے۔ کرم میں قبائلی جھڑپوں سے لے کر مالم جبہ میں پولیس افسر کی افسوسناک موت تک، جہاں ایک آئی ای ڈی دھماکے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، خیبر پختونخوا عدم استحکام سے دوچار ہے۔ صوبائی پولیس، جو کبھی ایک مضبوط ادارہ تھی، اب بے بس نظر آتی ہے، اور عوامی حفاظت کی ذمہ داری جن کے کاندھوں پر ہے وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن یہ محض ان مسائل کی سطحی علامات ہیں جو ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتی ہیں—ایک ایسی حکومت کا جو اپنے فرائض سے دستبردار ہو چکی ہے۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی حکومت سیاسی بقا پر زیادہ توجہ دے رہی ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنے اختیار میں موجود سنگین مسائل کو حل کرے۔ وزیراعلیٰ اپنے صوبے سے دور رہ کر سیاسی جلسے اور پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے میں وقت صرف کر رہے ہیں، جبکہ صوبے میں قانون نافذ کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی جیسے ہر شعبے میں نظام ناکامی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے کو دیکھیں، وہ بدعنوانی اور غفلت کا شکار ہے۔ ملازمتیں رشوت کے عوض فروخت ہونے کی خبریں عام ہو چکی ہیں، اور صوبائی وزیر تعلیم چھوٹے چھوٹے مسائل تک حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ نجکاری کے نام پر عوامی زمینوں اور اسکولوں کی فروخت ہو رہی ہے، جس سے عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیاری تعلیم صوبے کے غریب ترین شہریوں کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بدحالی بہت گہری ہے اور خیبر پختونخوا کے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

    صحت کا نظام بھی کچھ بہتر حالت میں نہیں ہے۔ اسپتالوں میں رش، ناکافی فنڈز اور ایسے پیشہ ور افراد کی کمی ہے جو یا تو مایوس ہیں یا بے اختیار۔ عوامی صحت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی کمی ایک جاری بحران ہے جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم کر رہا ہے، جہاں صحت کی خدمات پہلے ہی نایاب ہیں۔ دہشت گردی کے مسلسل خطرے اور سیاسی عدم استحکام کے وقت میں، اس لاپرواہی کی قیمت سب سے زیادہ کمزور لوگ چکاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بدعنوانی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے، جس نے حکومت کے ہر کونے کو متاثر کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر تشہیر کیے گئے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے، جسے کبھی صوبے کے لیے گیم چینجر سمجھا جاتا تھا، میں بھی بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات نے اس اور دیگر عوامی منصوبوں میں حیرت انگیز بدانتظامی کو بے نقاب کیا ہے، جن میں بہت مشہور بلین ٹری سونامی بھی شامل ہے۔ یہ واقعات محض حادثاتی نہیں ہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں جڑ پکڑنے والی بدعنوانی اور نااہلی کی عمومی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    ایک ایسے صوبے میں جہاں ہر شعبہ زوال کے دہانے پر ہے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کب تک جاری رہے گا؟ حکومت کے بنیادی فرائض بھی نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ اہم افسران کی اپنے عہدے چھوڑ کر لاہور میں گنڈا پور کے سیاسی جلسوں میں شرکت کی خبریں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ صوبے کے بڑھتے ہوئے بحرانوں کے بارے میں کتنی بے حسی پائی جاتی ہے۔ ہر خیبر پختونخوا کے شہری کے ذہن میں جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ قیادت کہاں ہے اور وہ کب حکومت کریں گے؟ امید کی کچھ کرنیں بھی ہیں۔ نیب کی کارروائی جس نے 168.5 ارب روپے بچائے، ایک شاندار کامیابی کے طور پر سامنے آئی، لیکن چند کامیابیاں ایک ناکام حکومت کو بچا نہیں سکتیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو صرف چند کامیابیوں کی نہیں بلکہ نظام کی اصلاح اور ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ان کے مستقبل کی حقیقی معنوں میں فکر کرے۔

    اصل المیہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی سے امیدیں وابستہ کی تھیں، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ ان کا ووٹ معنی خیز تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اب ان کے اندر دھوکے کا شدید احساس پایا جاتا ہے۔ عوام کیسے ایک ایسی حکومت پر بھروسہ کریں جو ان کی فلاح و بہبود کو اتنی بیدردی سے نظرانداز کرتی ہے؟ وہ تعلیم اور صحت میں بہتری کی امید کیسے کر سکتے ہیں جب اقتدار میں بیٹھے لوگ سیاسی ڈراموں میں مصروف ہیں اور اپنے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے؟ خیبر پختونخوا اس سے بہتر کا حقدار ہے۔ اس کے عوام اس حکومت کے مستحق ہیں جو سنتی ہے، عوامی خدمات کو سیاسی کھیلوں پر ترجیح دیتی ہے، اور تعلیم و صحت میں موجودہ سنگین مسائل کو حل کرتی ہے۔ وہ ایسی قیادت کے حقدار ہیں جو صرف اصلاحات کے دعوے نہ کرے بلکہ ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ہر شہری کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم ہو سکیں۔

    جب خیبر پختونخوا زوال کے دہانے پر ہے، تو سوال باقی رہتا ہے: عوام اس نظراندازی کو کب تک برداشت کریں گے اس سے پہلے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں؟ حکومت کب یہ سمجھے گی کہ صوبے کا مستقبل سیاسی جلسوں میں نہیں، بلکہ اسکولوں اور اسپتالوں میں بنتا ہے؟ اگر حکومت اپنے بنیادی فرائض میں ناکام رہتی ہے، تو وہ خیبر پختونخوا کو ایک ناقابل واپسی زوال کی حالت میں چھوڑنے کا خطرہ مول لے رہی ہے

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قومی سیاست کا دھارا عام آدمی کے مسائل کی طرف سے کسی اور طرف موڑ دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے اختلاف اور اتفاق رائے کا حق ہر جماعت اور ہر سیاسی رہنما کو حاصل ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی اختلافات کی بنا پر عوام کا استحصال کیا جائے ،جمہوری حکومت کا اولین فرض ہے کہ وہ عام آدمی کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس وقت پنجاب میں صوبے کی چیف منسٹر مریم نواز کی توجہ صوبے کے عام آدمی کے مسائل پر ہے جس کے اثرات پولیس تھانوں سے لے کر دوسرے محکمہ جات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اگر صوبے کے چیف سیکرٹری، سول بیوروکریسی کے سیکرٹریوں کے دفاتر اور صوبہ بھر کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر پر توجہ دیں تو وزیراعلیٰ پنجاب کی عوامی خدمت کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔

    پنجاب کی سول بیورو کریسی کا رویہ مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہے ماضی کی کئی جمہوری حکومتوں کی ناکامی میں بیورو کریسی کا کردار روا ہے، بیورو کریسی کا چال چلن اگر مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہوگا جمہوری نظام کیسے چلے گا ،کیسے کامیاب ہوگا ،عوامی مسائل کس طرح حل ہونگے؟۔ صوبہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کو سول بیورو کریسی کو عوام کا حاکم نہیں خادم بنانے پر توجہ دینا ہوگی صوبے کی چیف منسٹر کے عوامی منصوبوں کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ دیگر صوبوں کےوزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری صاحبان اپنا رخ عام آدمی کے مسائل کو حل کرنے کی طرف موڑ دیں۔

    پنجاب پولیس میں تھانہ کلچر میں تبدیلی میرٹ کی پالیسی پر عمل، جس طرح پنجاب میں ہوا ہے انہی راستوں کا دیگر صوبوں کو بھی انتخاب کرنا ہوگا۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز میرٹ اور وقت کی پابندی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے شفاف انتظامی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک کامیاب ریاست بنانے کے لئے ہمیں اپنے ریاستی محکموں میں اصلاحات کا ایک مربوط نظام لانے کی ضرورت ہے ،ملک کو عقل سے عاری نااہل اور مفاد پرست منہ زور سول بیورو کریسی اور بیورو کریٹ افسران نے جکڑ رکھا ہے۔ منہ زور افسر شاہی اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے یہ حکمرانوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے غلط کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب نے عوامی خدمت کے جس سفر کا آغاز کیا ہے وہ قابل ستائش ہے تاہم سول انتظامیہ کی تنظیم نو کرنے کے لئے ہنگامی اور انقلابی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا

  • خواب اور ضمیر کے مطابق فیصلے

    خواب اور ضمیر کے مطابق فیصلے

    عمران خان کی حکومت میں جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کے قریبی دوست عبدالحفیظ پاشا کو 40 منزلہ گرینڈ حیات ہوٹل واپس بخش دیا۔ جب اس غیر قانونی فیصلے پر سوال کیا گیا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے کے حق میں دو دلائل دئیے۔

    پہلی دلیل یہ کہ ۔۔ اگر ایسے ہی غیر قانونی تعمیرات گرانی ہیں تو آدھا اسلام آباد گرانا پڑے گا۔
    دوسری دلیل ۔۔ میں نے رات کو خواب دیکھا تھا اور جرمانہ بھی مجھے خواب میں دیکھایا گیا تھا۔

    (جیسے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے سے پہلے یوتھیے صحافی اوریا مقبول جان نے خواب دیکھا تھا کہ باجوہ کو سپاہ سالار حضورﷺ نے بنایا ہے)

    ہوٹل کی لیز پر چالیس منزلہ رہائشی ٹاورز بنانے والوں نے اربوں نہیں کھربوں چھاپ لیے۔ کہا جاتا ہے پاکستان کے اس سب سے مہنگے ٹاؤر میں عمران خان، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجازالحسن کا بھی ایک ایک فلیٹ ہے۔

    آج سپریم کورٹ کے 8 ججوں نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ اس فیصلے میں اعتراف کیا کہ ہم نے مخصوص نشتیں اپنے ضمیر کے فیصلے پر پی ٹی آئی کو دیں۔ آئین اور قانون کی کوئی شق لاگو نہیں کی۔

    فیصلے کا لب لباب یہ ہے کہ ۔۔۔
    پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں موجود نہیں،
    درخواست گزار نہیں،
    جیتنے والے امیدواروں نے حلف نامہ سنی اتحاد کونسل کے لیے جمع کروایا ہے،
    مخصوص نشتیں بھی سنی اتحاد کونسل نے مانگی ہیں،

    لیکن ہم نے گمان کر لیا کہ آزاد امیدوار دراصل پی ٹی آئی کے تھے،
    آزاد امیدواروں کے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کے حلف نامے جھوٹے تھے،
    پی ٹی آئی نے مخصوص نشتیں نہیں مانگیں لیکن شائد دل میں مانگ رہی تھی،
    لہذا ہم یہ نشتیں پی ٹی آئی کو دیتے ہیں۔

    یہ جسٹس ثاقب نثار کے خواب دیکھنے والے فیصلے سے ملتا جلتا فیصلہ ہے۔ آئین پاکستان اٹھائیں اور اس فیصلے کی ساری رواداد دنیا کے کسی جج کے سامنے رکھیں وہ اس کو ایک بھونڈا مذاق ہی سمجھے گا اور کچھ نہیں!!

    اگر آئین اور قانون کو سائیڈ پر کر کے جج اپنی منشاء کو "ضمیر” کا نام دے کر اس کے مطابق فیصلے کرنے لگیں تو پاکستان کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ایسے ہی فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی جج دنیا کے بدترین جج اور پاکستان کی عدلیہ دنیا کی بدترین عدلیہ مانی جاتی ہے۔ ان کو اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ عدالتی اصلاحات کیے بغیر پاکستان میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔

    تحریر شاہد خان
    @BloggerShahid

  • خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    خیبر پختونخواہ بدانتظامی،کرپشن کی وجہ سے لاقانونیت کی لپیٹ میں.تحریر:ڈی جے کمال مصطفیٰ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کرتے ہوئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، مگر اس کی حکومتی نااہلی اور بدانتظامی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ اب بھی مختلف مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ساری توجہ بیان بازی اور دوسرے صوبوں میں جلسے جلوسوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر مرکوز ہے۔سب سے پہلے اگر امن و امان کا جائزہ لیا جائے تو صوبے کی قانون و ترتیب کی صورتحال بالکل تسلی بخش نہیں ہے، اور اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے صوبائی پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ آج ایک افسوسناک واقعہ سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ میں پیش آیا جہاں غیر ملکی سفارت کاروں کی سکیورٹی پر مامور پولیس وین ایک آئی ای ڈی کی زد میں آگئی۔ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار نے شہادت پائی جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے۔

    اس واقعے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخواہ لاقانونیت کا شکار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس وقت خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت انتہائی نااہل ثابت ہو رہی ہے، اور بیڈ گورننس اور مالی کرپشن کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے رویے سے ایک شرپسند شخص کے طور پر سامنے آرہے ہے، جس کی واحد صلاحیت پی ٹی آئی کے بانی کے ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ وزیراعلیٰ اس وقت صرف غیر آئینی سیاست میں مصروف ہے۔ نہ اسے ملک کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی صوبے کے امن و امان کا خیال ہے۔ اسے پولیس کے اہم محکمے کی طرف توجہ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں، نہ ہی اسے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا احساس ہے۔

    سوات کے علاقے مالم جبہ کے افسوسناک واقعے کے علاوہ ضلع کرم میں قبائلی جھڑپوں کے نتیجے میں پانچ سے چھ افراد کی ہلاکت کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ ایک طرف لاقانونیت بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ بھی احتجاج کرنے کی باتیں کر رہی ہے۔ فتنہ الخوارج، غیر قانونی سرگرمیاں، اور غیر قانونی افغان باشندوں کے مسائل بھی صوبے کو درپیش ہیں، لیکن یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ صوبے میں حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے، اور جب حکومت ہی نہیں تو اس کی رٹ کیسے قائم ہو سکتی ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخواہ میں وزارت داخلہ غیر متحرک ہے۔ اگر کسی وزیر کے پاس داخلہ امور کی ذمہ داری ہے تو اس کا نام تک سامنے نہیں آیا ہے۔ کئی واقعات ہو چکے ہیں، مگر ابھی تک کسی وزیر داخلہ کا کوئی وجود خیبر پختونخواہ میں نظر نہیں آیا۔ اگر وزیراعلیٰ نے خود یہ قلمدان اپنے پاس رکھا ہوا ہے تو پھر اللہ ہی اس صوبے کا حافظ ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور، جس کے صوبے میں سکیورٹی اہلکار، پولیس اہلکار اور عوام مجرموں کے رحم و کرم پر ہیں، وہ کبھی جلسے کامیاب کرانے کے لیے ترنول، کبھی سنگجانی، اور کبھی لاہور بھاگتا پھر رہا ہے۔ اس شخص کی نظر میں صرف پی ٹی آئی کے جلسے اور پارٹی کے بانی کی ہدایات اہم ہیں۔ نہ پہلے کبھی اس نے عوامی مفاد کے بارے میں سوچا تھا اور نہ اب ایسا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ جس صوبے کا وزیراعلیٰ خود دہشت گردی کرتے ہوئے کلاشنکوف اٹھا کر ٹرکوں کے شیشے توڑے، وہ دہشت گردوں کو کیسے روکے گا؟

    صوبہ خیبر پختونخواہ میں امن و امان کی بدترین صورتحال کی بنیادی وجہ کرپشن اور ہر سطح پر حکومتی بدانتظامی ہے، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ شاید ہی کوئی حکومتی شعبہ ہو جو رشوت ستانی اور بدانتظامی سے محفوظ رہا ہو۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی شعبے کی حالت بھی ابتر ہو چکی ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم کی حیثیت اتنی کم ہو چکی ہے کہ وہ چوتھے درجے کے ملازمین کے مسائل بھی حل نہیں کر سکتا، وائس چانسلر کا مسئلہ کیسے حل کرے گا؟ صوبائی وزیر تعلیم بیس لاکھ روپے میں نوکریاں فروخت کر رہا ہے۔

    صوبائی وزیر تعلیم نے یونیورسٹی کی زمینیں بیچنی شروع کر دی ہیں، اور اب سرکاری اسکولوں کو نجکاری کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ کابینہ کے اجلاس تک اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں، جہاں وزیر اور اس کے ساتھ سیکرٹری اور باقی عملہ اسلام آباد آتا ہے۔خیبر پختونخواہ میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے صوبے میں بی آر ٹی منصوبے میں بھی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں، جس کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ اس سے قبل بلین ٹری منصوبے میں بھی کرپشن کی کہانیاں سامنے آئی تھیں۔

    اس طرح کی صورتحال میں صوبہ کیسے چلے گا؟ گزشتہ روز یہ حال تھا کہ کسی بھی سرکاری محکمے میں کوئی موجود نہیں تھا، پشاور میں تک کوئی سرکاری افسر نہیں تھا۔ معلوم ہوا کہ سب کو لے کر وزیراعلیٰ لاہور فتح کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے آج ایک بڑی کارروائی کے ذریعے قومی خزانے کو 168.5 ارب روپے بچائے، جب انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن سے کنٹریکٹرز کا 31.5 ارب روپے کا دعویٰ خارج کروا دیا گیا۔ بی آر ٹی پشاور کے کنٹریکٹ کے غیر قانونی ایوارڈ، سرکاری فنڈز میں خرد برد، اور جعلی پرفارمنس گارنٹی کی تحقیقات میں گھپلوں کا انکشاف ہوا، جس کے بعد نیب کی تحقیقات میں کمپنیوں کے جعلی معاہدوں کا پردہ چاک ہو گیا۔

    افسوسناک امر یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں نے سرکاری ادارے کو دھوکہ دے کر کوئی کام کیے بغیر تقریباً ایک ارب روپے وصول کیے۔ نیب نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے 400 سے زائد بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کی۔ نیب تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ مقامی کنٹریکٹرز نے معاہدہ حاصل کرنے کے لیے بوگس آڈٹ رپورٹس جمع کرائیں۔ نیب نے ان غیر ملکی کمپنیوں کو متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے شامل تفتیش کیا۔ نیب کی تحقیقات کے نتیجے میں پراجیکٹ کو اصل لاگت پر مکمل کروایا گیا اور قومی خزانے کے 9 ارب روپے بچائے گئے۔ مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مخدوش حالات میں خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ہی کیوں ہونا چاہیے؟ کیا خیبر پختونخوا کے عوام کو اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ انہوں نے بہتر مستقبل کے لیے انہیں ووٹ دیا؟

    ایک ایسا صوبہ جہاں لاقانونیت بڑھ رہی ہے، کیا وہاں مستقل وزیر داخلہ کا ہونا ضروری نہیں؟ صوبے کے ہر شعبے میں کرپشن کی جڑیں گہری ہیں، تو پھر اس ناکام اور نااہل حکومت سے کس طرح بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے؟