Baaghi TV

Category: سیاست

  • بجلی کے بل بھریں یا…تحریر:حنا سرور

    بجلی کے بل بھریں یا…تحریر:حنا سرور

    پاکستان دنیا کا سب سے مہنگی ترین بجلی پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔۔دس بیس ہزار سے ستر ایک لاکھ تک کمانے والا طبقہ پریشان ہے بجلی کے بل بھریں کہ بزرگ والدین کا علاج کروائیں یا بچوں کو سکول پڑھائیں۔یا پھر گھر کا راشن پانی لیں۔لوگ نفسیاتی ہورہے ہیں نوجوان بیروزگار ہے خودکشیاں کررہے ہیں بجلی کے بلوں کی وجہ سے ہر گھر میں بے سکونی ہے لڑائی جھگڑے ہیں کہ بل کون دے۔۔جو پیسے لوگ بیٹیوں کی شادیاں کرنے کے اور بچوں کی فیسیں جمع کرنے کے حج و عمرہ کرنے کے اور قربانی کے جانور خریدنے کے لیے جمع کرتے تھے وہ لوگ اب پیسے بجلی کے بل بھرنے کے لیے جمع کرتے ہیں لوگ اپنے موبائل فون بیچ رہے ہیں سونا بیچ رہے ہیں تاکہ بل بھر سکیں۔۔

    اور حکومت کی بے حسی دیکھیے پارلیمنٹ میں موجود ہر مذہبی و سیاسی ارکان کو تمام سہولیات مراعات فری ہے۔۔ان کے بیرون ملک کے ٹکٹ فری ہے ان کی سات نسلیں غریب عوام کے ٹیکس پر پلتی ہے ۔کیا ہی اچھا ہو جو بوجھ یہ عوام پر ڈال رہے ہیں خود پر ڈالیں یہ دو تین مہینے سہولیات مراعات نہ لیں تو اربوں روپیہ انھی سے نکل سکتا۔

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • امریکی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل

    امریکی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پنسلوانیا میں ہفتے کی شب حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں ریلی میں شریک ایک شخص کی موت ہوئی جبکہ دو زخمی ہوئے، حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایف بی آئی کے ترجمان کیون روجیک کا کہنا تھا کہ حکام نے فائرنگ کرنے والے کی شناخت کر لی ہے تاہم وہ تفصیلات جاری نہیں کریں گے۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے واقعہ نے 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے،اس واقعہ نے امریکی سماجی ،ثقافتی اور امریکی سیاست میں سلامتی کے طویل عرصے سے موجود بھرم کو توڑ دیا، حملے میں ٹرمپ کو معمولی چوٹ آئی، نیویارک ٹائمز کے ڈگ ملز کی تصویر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر کے قریب سے گولی جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

    1981 میں جان ہنکلے جونیئر کے ہاتھوں رونالڈ ریگن کو گولی مارنے کے بعد سے صدارتی امیدوار کے خلاف تشدد کا ایسا ڈرامائی عمل نہیں دیکھا گیا۔ امریکہ کی سیاسی گفتگو پر اس واقعے کے مستقبل کے اثرات غیر یقینی ہیں۔ اگرچہ یہ یقینی ہے کہ یہ حملہ ٹرمپ کی مقبولیت کے گراف کو کئی درجے بڑھا دے گا.

    ٹرمپ پر حملہ کے بعد قومی اتحاد کو فروغ دینے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔ چند گھنٹوں کے اندرامریکی صدر جو بائیڈن جو نومبر میں ٹرمپ کے ممکنہ مخالف تھے، نے خطاب کرتے ہوئے کہا، "اس قسم کے تشدد کے لیے امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے،ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے،قاتلانہ حملہ امریکی اقدار کے خلاف ہے ۔”

    تاہم، اس واقعہ نے تیزی سے متعصبانہ تنازعہ کو بڑھا دیاہے کچھ ریپبلکن سیاست دان اس حملے کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو ٹھہرا رہے ہیں۔ (ایسے میں مجھے پاکستانی سیاست کی یاد آ رہی) دریں اثنا، جمعرات کی رات ٹرمپ کے اسٹیج پر آنے پر قومی سطح پر اسپاٹ لائٹ سخت ہوگی۔ ہر آنکھ گھبراہٹ یا نافرمانی کی علامت دیکھے گی۔ پہلے سے ہی ایک بلند مٹھی کے ساتھ خون آلود لیکن منحرف ٹرمپ کی تصاویر ریلی کی علامت بننے کے لیے تیار ہیں۔ ریپبلکن پارٹی یقینی طور پر اسے بہادری اور دفاع کی علامت کے طور پر استعمال کرے گی۔

    اس غیر متوقع انتخابی سال میں ایک بات یقینی ہے کہ امریکی سیاست ایک نئے، مہلک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

  • احسان صادق کی تعیناتی انتہائی احسن فیصلہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    احسان صادق کی تعیناتی انتہائی احسن فیصلہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آئی جی پولیس سائوتھ پنجاب احسان صادق کو اینٹی منی لانڈرنگ واینٹی ٹیررفنانسگ اتھارٹی کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کے بطور تعیناتی کا فیصلہ انتہائی احسن اور قابل ستائش ہے ۔ جس سے ثابت ہوتاہے کہ پاکستان کے معاشی و مالی معاملات اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے اوریہ استحکام پاکستان کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ احسان صادق پاکستا ن پولیس سروس کا ایک مایہ ناز ستارہ ہیں۔ حب الوطنی ، دیانتداری فرض شناسی پیشہ وارانہ مہارت ،تقویٰ ، پرہیز گاری اور بلند حوصلے کا پیکر ہیں۔ ایف آئی اے میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل فنانشیل کرائم فرائض سرانجام دیتے ہوئے ڈاکٹر احسان صادق نے وطن عزیز کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے لئے جس جانفشانی اور مخصوص جذبے سے سرشار ہو کر کام کیا اس کا اعتراف اس وقت کے وزیر خارجہ نے بھی کھلے دل کے ساتھ سراہا ۔ بطور ایڈیشنل آئی جی پولیس سائوتھ پنجاب منظم کرائم میں ملوث گروہوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ۔

    استحکام پاکستان ایک فوجی آپریشن کا نام نہیں جیسا اس کو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ استحکام پاکستان” رائٹ مین فار رائٹ جاب کا نام بھی ہے” استحکام پاکستان میں اعلی کردار قومی جذبے ایماندار نیک نیتی اورپ یشہ وارانہ مہارت کے حامل افسران و اہلکاروں کا اہم عہدوں پر تعیناتی حکومت اور مقتدرہ کی جانب سے ان آفیسران کی بہتر کارکردگی میں معاونت کا نام ہے ۔ بلاشبہ احسان صادق کا انتہائی حساس مشن کی تکمیل کے لئے انتخاب حکومت اور مقتدرہ کااحسن اقدام ہے ۔ یقینا ایسے اقدامات کے ثمرات قوم کو جلد ملیں گی۔ ملک کے تمام صوبوں میں بیورو کریٹ ،سول انتظامیہ ، اعلٰی پولیس افسران موجود ہیں جن کا ماضی حال داغدار نہیں، بدقسمتی سے جن کو فیلڈ میں رہ کر ملک وقوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دینا چاہیئے وہ ” کھڈے لائن ”لگے ہیں جو قانون کی حکمرانی دیانتداری میں اپنی مثال آپ ہیں مگر افسوس سیاسی پشت پناہی اور دیگر عوامل ان شخصیات کا راستہ روکا ہوا ہے۔ راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے اس شہر سے لے کر پنجاب میں پولیس کے اعلیٰ افسران ، سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کا ماضی اور حال دیکھیں تو کیا یہ استحکام پاکستان کے لئے سوالیہ نشان نہیں ؟عقاب کی نظر رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسران کی موجودگی میں لینڈ مافیا کے ڈیروں کو آباد کرنے والوں نے پولیس کے محکمہ کو بدنام کرکے رکھ دیاہے۔استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ذمہ دار بن کرریاست پنجاب اور دیگر صوبوں میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران اور سول بیورو کریسی کے افسران کی لسٹ منگوا کر غور و فکر کریں ایسے افسران کو تعینات کریں جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار اعلیٰ کارکردگی کے حامل افراد کو تعینات کیا جائے۔

  • عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے نوجوان بچوں اور بچیوں، آپ وطن عزیز کا مستقبل ہو، آپ نے ا س مل کو آگے لے کر جانا ہے ۔ ملک کے سیاستدانوں کی اکثریت اپنے اقتدار کے لئے آپ کو استعمال کررہی ہے ۔ سوشل میڈیا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بازاری زبان استعمال کی جا رہی ہے ملکی سرحدوں کے محافظوں کے خلاف گندی اور غلیظ مہم چلائی جا رہی ہے۔میری ذاتی رائے میں یہ ایک وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازش ہے سیاستدان اس سازش کا ایک باقاعدہ حصہ مبینہ طورپر ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک منظم طریقے سے ہو رہا ہے ہماری ثقافت پر بھی حملہ ہے۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے یو ٹیوب پر چینل کھول کر بیٹھے ڈس انفارمیشن سے خوب مال کما رہے ہیں آپ کے لائیکس سے ان کی روزی میں اضافہ ہوتا ہے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر وطن عزیز کے اداروں کو برباد کرنے کی اجازت نہیں د ی جا سکتی ۔ حدود وقیود میں رہ کر اخلاقی دائروں میں رہ کراداروں پر تنقید برائے اصلاح ضرور کریں مگر چند ڈالروں کے خاطر ملکی سلامتی کو دائو پر لگانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں د ی جانی چاہیئے۔

    عراق،افغانستان ، شام ، لیبیا آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار تو اس کے پیچھے عالمی سازش تھی ان ممالک میں حوس زر اور حوس اقتدار کے ایسے لوگ جو عالمی طاقتوں سے مل کر اپنے ہی ملکوں اور قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کیا اور انہیں متنازعہ بنایا۔ امریکہ جیسے ملک میں سی آئی اے ، پینٹاگان اور کانگریس کے درمیان کئی پالیسیوں پر اختلافات ہوتے ہیں مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امریکہ کے قومی سلامتی کے اداروں کی بنائی پالیسی پر حاوی ہو سکے۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہر ذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تو اتر کے ساتھ گندی اور غلیظ مہم چلانا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    ملکی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں ،جھوٹ ، فریب اور سازشوں کے انبار نظر آئیں گے۔ ملکی سیاستدانوں کا روز مرہ افوا ہ پھیلانا معمول بن چکا ہے ۔ عام آدمی اپنے بنیادی مسائل کی تلاش میں سرگرداں ہے، اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ سفید پوش لوگ بھی مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی قائدین اور انکے حواری مخصوص نشستوں کے لئے نبرد آزما ہیں۔ انہیں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور قیمتوں کا احساس ہی نہیں۔ یہ قومی سیاسی رہنما ہو ہی نہیں سکتے۔ انہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ اپنا اقتدار عزیز ہے۔ اپنے اختیارات عزیز ہیں ۔دنیا میں جب کسی ملک کے قومی اداروں کو مفلوج کردیا جائے ۔ سیاسی شخصیات ان اداروں کو اپنا تابع بنائیں ۔ عدالتوں میں مخصوص لوگوں کو ریلیف دینا شروع ہو جائے۔ کسی بھی ریاست کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔

  • غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری نکاح ، طلاق ،عدت پر جاری مسائل قرآن و سنت سے ماخوذ پر شرعی حدود قیود ہیں،اس پر بحث کرنے سے منع کیا ہے۔ بلاشبہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے درست کہاہے ۔ افسوس ہم اسلامی ملک کے دعویدار ہیں ،ہم اپنی آنے والی نوجوان نسل کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیاپر اس طرح کے بیانات پرکیا کبھی کسی نے سوچا ہے ،معاشرے کی نوجوان بچیوں اور بچوں کو کیا سبق پڑھا رہے ہیں؟ یہ عین شرعی مسائل ہیں ۔ ان شرعی مسائل کے بارے میں مباحثہ مناسب نہیں اس طرح کی بحث سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ عمر سیدہ سیاستدانوں ،بیورو کریٹ ، دانشور اور دیگر سے یہی التجا کی جا سکتی ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی بحث کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ معاشرے میں اخلاقی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے معاشرہ ہرلحاظ سے زوال پذیر ہوتا ہے۔ افسوس صد افسوس اس طرح کی بحث سے بے حیائی کو فروغ دینے کے مترادف ہے ۔ حد ہو گئی کہ سینکڑوں علمائے دین ، مذہبی جماعتیں اس بے حیائی کو روکنے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔ یاد رکھیئے فرمان الٰہی اور فرمان نبوی کو اپنی مرضی ،اپنی طبیعت کے مطابق ڈھالنے کا انجام بہت بُرا ہوتا ہے۔ انسان اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ دینی حلقوں کے اسٹیج سے فرضی کہانیاں بنانے والوں نے کبھی سوچا کہ ہم اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو جو سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا کی زینت بن رہی ہے اس کے اثرات معاشرے پر کیا ہونگے؟

    پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے اپنی طاقت پر اترانے والوں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے ؟ معاشرے کو سدھارنے کی بجائے ہم معاشرے کو کدھر لے کر جا رہے ہیں؟ کیا ایک اسلامی معاشرے اورانسانیت کو پامال نہیں کررہے ۔یاد رکھیے مرنے کے بعد حساب دینا ہے ۔حساب لینے والا لے گا ۔ اپنے دل پر ہاتھ کر غور کریں کیا ہم حد کراس نہیں کررہے ۔ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو معاشرے کے نوجوانوں پرکیا اثرات مرتب کرتی ہے۔معاشی لحاظ سے قوم پہلے ہی زوال پذیر ہے۔ خدارا اخلاقی زوال سے قوم کو بچا لیجئے۔

  • کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی مانے یا نہ مانے پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ چکی:تجزیہ ،شہزاد قریشی

    کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے تحریک انصاف کے اندر افراتفری اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، تحریک انصاف میں تقسیم در تقسیم ہونے کے اشارے مل رہے ہیں، بھٹو جب جیل میں تھے تو بڑی بڑی قدآور شخصیات نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا،پیپلزپارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی کچھ ایسی صورتحال سے تحریک انصاف گزر رہی ہے،تحریک انصاف کا دور حکومت کوئی حیران کن نہیں تھا تبدیلی کا نعرہ اور احتساب کے گرد تحریک انصاف کا دور حکومت صرف اور صرف نوازشریف کے گرد گھومتا رہا ،نوازشریف ان کی بیٹی مریم نوازان کے سمدھی سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر کو کچلا گیا یہ احتساب نہیں بلکہ صرف ایک خاندان کے خلاف انتقام تھا،سینیٹر اسحاق ڈار کے تو ذاتی گھر پر قبضہ کر لیا گیا تحریک انصاف تسلیم کرے کہ ان کے دور حکومت میں عام آدمی کی زندگی قابل رحم ہو چکی تھی احتساب اور انتقام کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا،

    تحریک انصاف کے دورمیں سفارتی سطح پر بری طرح ناکامی ہوئی، کشمیری مسلمانوں پر بھارتی ظلم کی ایسی ایسی کہانیاں ہیں جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ،تحریک انصاف کے دور میں کشمیری بدترین لاک ڈائون کا شکار رہے ہیں عمران خان بھارت پر دبائو ڈلوانے میں ناکام رہے، کوئی بھی حکومت اگر عام آدمی کو زندہ رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتی تو اسے حکومت نہیں کہا جا سکتا، آج کی مخلوط حکومت نے بھی بجٹ میں عادمی کے لئے کوئی پلان نہیں دیا غریب آدمی کے مسائل پر مٹی ڈال دی گئی ہے،گزشتہ 75 سالوں میں قوم اور پاکستان بطور ریاست وعدوں اور تقریروں پر زندہ ہیں محض سبز باغ ہیں جن کے برگ و بار پر دھول اور سیاہی کی ایک موٹی تہہ جمتے جمتے نظر کا دھوکہ بن چکی ہے راہزن رہنمائوں کا بہروپ دھار چکے ہیں،انصاف کا لفظ فقط سننے کی حد تک ہے جب کسی معاشرے میں انصاف اٹھ جاتا ہے وہ معاشرہ ایک مردہ ڈھانچے کی مثال ہوتا ہے، سیاست کی سرکس میں ملک و قوم کو ایک سے بڑھ کر ایک مداری نصیب ہوا ان مداریوں کی وجہ سے آج ملک و قو م کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا کہ امریکی کانگریس میں وطن عزیز کے نظام پر تحریک پیش ہوئی بلاشبہ ہم ترقی پذیر ہیں مگر کسی طاقتور ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہماری آزاد ریاست کیخلاف تحریکیں پاس کرتا پھرے،یہ دن بھی سیاسی مداریوں نے ہی قوم کو دکھایا۔ ملک کے عزت، وقار کا کچھ تو خیال کریں۔

  • عزم استحکام کی مخالفت کرنیوالے کس کی خدمت کر رہے ؟تجزیہ ،شہزاد قریشی

    عزم استحکام کی مخالفت کرنیوالے کس کی خدمت کر رہے ؟تجزیہ ،شہزاد قریشی

    ملکی و قومی سلامتی کے پیش نظر جب سے عزم استحکام کا ذکر ہوا ہمارے کچھ سیاستدانوں نے اپنے ہی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ہے جسے کسی بھی زاویئے سے درست قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے آپریشن عزم استحکام کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے، ملک و قوم کی سلامتی کے حوالے سے نوازشریف کے فیصلہ کو درست قرار دیا جا سکتا ہے دوسری طرف سوشل میڈیا اور کچھ دانشوروں کو بھی اس آپریشن عزم استحکام پر تنقید کا موقع مل گیا ہے ،دنیا بھرکے ممالک کے اپنے داخلی و خارجی ضوابط ہوتے ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کا میڈیا ضوابط کار کے مطابق عمل کرتا ہے مگر ہمارا میڈیا معاشرتی قانونی و اخلاقی حدود پھلانگ کر بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال چکا ہے سلامتی امور اور خارجہ سطح کے معاملات اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ اس موضوع پر بولنے اور لکھنے سے قبل سو بار سوچنا پڑتا ہے ملکی و قومی سلامتی کو مدنظر رکھ کر بولنا اور لکھنا پڑتا ہے، ملک دشمن طاقتوں نے پاکستان کو چاروں اطراف سے ہر محاذ پر گھیر رکھا ہے ایسے نازک موقع پر پاک افواج اور جملہ اداروں کی کردار کشی کرنے والے کون سی اور کس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟

    وطن عزیز میں گزشتہ چند ماہ سے دہشت گردوں کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں بالخصوص دہشت گردوں کے نشانے پر دو صوبے ہیں بلوچستان اور کے پی کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں دہشت گرد حملہ کر کے افغانستان چلے جاتے ہیں افغانستان میں ان کی پشت پناہی بھارت کی خفیہ ایجنسی راکرتی ہے پاکستان میں چین کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے سب سے بڑا منصوبہ سی پیک ہے جس پر کبھی کام رک جاتا ہے اور کبھی شروع ہو جاتا ہے سی پیک منصوبہ پاکستان کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے چین کے بعد کئی ممالک سرمایہ کاری کرنے پر رضامند ہیں 2040ء میں چین سی پیک کےتحت ٹرین کا نیا نظام قائم کرے گا، ملک دشمنوں کو یہ منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا پاک فوج اور جملہ ادارے ہر قیمت پر اس منصوبے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں چینی انجینئروں اور ماہرین کا دفاع بھی پاکستان نے کرنا ہے، اس منصوبے سے وطن عزیز کی معیشت مستحکم ہوگی تو عوام خوشحال ہونگے لہٰذا ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے آپریشن عزم استحکام ہی آپشن ہے کوئی دوسرا راستہ نہیں، ملک و قوم کی خدمت کا نعرہ لگانے والے سیاستدان موجودہ حالات جس سے پاکستان اور عوام دونوں سفر کر رہے ہیں آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے وہ کس کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں؟

  • غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    غریب کش بجٹ،مہنگائی ،عوام کہاں جائے؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی کے دور حکومت سے لے کر موجودہ مخلوط حکومت تک غریب عوام مہنگائی کی وجہ سے چلا اٹھے ہیں، ان کی حکومتوں کے دور میں ان کے نمائندے ٹاک شوز میں مہنگائی کو اپنے پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کی باتوں میں درد اور تکلیف نہیں ہے جس کی اذیت کا شکار عام انسان ہو رہے ہیں،مہنگائی کے وار سیاست پر براجمان دولت مندوں کے لئے محض بحث برائے بحث کے دلائل ہیں، عام آدمی مہنگائی کے تابڑ توڑ حملوں سے زخمی ہو رہے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں، عام آدمی کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی اب بجلی کے بل دیکھ کر اذیت ناک عذاب میں کراہنے لگی ہے ،موجودہ بجٹ کوغریب کش بجٹ قرار دیا جا سکتا ہے غریب دوست بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا،موجودہ بجٹ محض اعداد و شمار کے ہیرپھیر اور نئے ٹیکسوں کے گورکھ دھندہ کے سواکچھ نہیں،

    سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی متحرک
    پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی عام آدمی کا یہی حال تھا اور آج کی مخلوط حکومت میں وہی پرانا جال ہے کھلاڑی تبدیل ہو ئے ہیں، میری عمر کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہوگا 1985ء میں نوازشریف نے تعمیر پاکستان کا نعرہ لگایا تھا ،پنجاب اور مرکز میں بلاتفریق عوام کی خدمت کی گئی کھیت سے منڈیوں تک سڑکوں کی تعمیر دیہات میں سرکاری سکولوں اور کالجوں کی تعمیر ترقی کے وہ سنگ میل تھے جنہوں نے عوام کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی، پھر نواشریف کے وزارت عظمیٰ کے دور میں ملک میں صنعتی پیداوار، نوجوانوں کو آسان قرضے ، پیلی ٹیکسی اور کسانوں کو ٹریکٹر دیئے، نوازشریف کے ہم رکاب آج کے وزیر خارجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے آج صوبہ پنجاب میں نوازشریف کی بیٹی نے بطور وزیراعلیٰ عوام کی حقیقی خدمت کا بیڑا اٹھارکھاہے پنجاب کی حد تک صوبے کیےعوام کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف نظر آرہی ہیں، سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنےکے لئے اس وقت سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر پرویز رشید پارٹی قیادت کے اقدامات کو عوام تک پہنچا نے اور مخالفین کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن کے نام نہاد اکابرین وزیروں،مشیروں کے جھنڈے گاڑیوں پر سجا کر عوام سے دور ہو گئے بلکہ اپنی جماعت کا دفاع کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں، نوازشریف کا ماضی حال مستقبل وطن عزیز کی ترقی کے لئے وقف ہے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ان کے بدترین مخالفین بھی اعتراف کر رہے ہیں آخر کیا مصلحت حائل ہے کہ ان کے ٹکٹ پر ایوانوں میں براجمان ہونے والے نام نہاد رہنما خاموش ہیں؟

  • عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام کسی ملک کے خلاف ہے نہ بے گناہ شہریوں کے خلاف ،یہ اُن کے خلاف ہے جو پاکستان کے عام شہریوں اور پاکستان کو بطور ریاست کمزور کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں ، پاکستان کے عوام، مسلح افواج ،پولیس اور جملہ اداروں نے بے پناہ قربانیاں دے کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے ،جبکہ بھارت پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دلوانے میں دنیا میں افوا ہ سازی کا کام کرتا رہا ہے، ماضی کے ان تمام واقعات کی قوم اور دنیا گواہ ہے، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج اور جملہ اداروں نے ملکی بقا اور سلامتی کے پیش نظر بلوچستان سے ٹی ٹی پی کی دفاعی شوریٰ کے سربراہ کو بھی گرفتار کیا ہے جس کی پشت پناہی بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ کررہی ہے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانہ ’’ را ‘‘ کا د فترہے گرفتار کمانڈر نےکئی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، ان حالات میں کیا پاک فوج اور جملہ اداے پاکستان اور بے گناہ عوام کو ان دہشت گردوں کے حوالے کردیں ؟ اس کا واحد حل ضرب عضب کی طرز پر آپریشن عزم استحکام ہے، بلوچستان سے ٹی ٹی پی کے کمانڈر کی گرفتاری اور آپریشن عزم استحکام پر پاک فوج ا ور جملہ اداروں پر زہر افشانی محبان وطن کو افسردہ کرگئی،مولانا فضل الرحمان ، محمود خان اچکزئی اور تحریک انصاف سے بھی صبر نہ ہوا انہوں نے ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر زہر افشانی شروع کردی،کیا پاک فوج اور جملہ ادارے بھارت کی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دے دیں ؟ اندھوں کو بھی نظر آرہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملکی معیشت مستحکم ہوئی تھی اور اب آپریشن عزم استحکام سے بھی ملک میں امن ہوگا اور معیشت بھی مستحکم ہوگی،حیرت ہے ہماری سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ ہائوس میں موجود ایسے افراد جو اقتدار کے مزے پاکستان میں لوٹتے ہیں اور جب بات ملکی بقا اور سلامتی کی آجائے تو پاکستان دشمنوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں اور اپنی ہی فوج اور جملہ اداروں پر طرح طرح کے لیبل چسپاں کرتے ہیں ملکی سلامتی کے اداروں کا وقارمجروح کرتے ہیں ان نام نہاد سیاستدانوں کو کس نام سے پکاروں فیصلہ عوام کریں ؟

  • امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے اراکین نے بابنگ دہل یہ اقرار کر لیا ہے کہ ان کی تمام سیاسی جدوجہد کا محور صرف اور صرف صہیونی پالیسیوں اور بھارتی لابیوں کی حمایت اور اس کے اثر و رسوخ کے ذریعے اقتدار کا حصول ہے

    قومی اسمبلی میں جمعۃ المبارک کو جو قرارداد پیش کی گئی اس کے اہم نکاتوں میں سے سب سے اہم نکات امریکی کانگرس سے یہ مطالبہ بھی تھا کہ وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے بہیمانہ مظالم، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد کے خلاف بھی اپنا موقف اختیار کرے اور اس کی مذمت کرے

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی کانگرس کے بعض اراکین کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان میں منعقدہ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور یہ قرارداد امریکی کانگرس سے منظور کرانے میں پاکستان دشمن قوتیں بالخصوص صیہونی اور بھارتی لابی اور مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم اراکین تھے جن کے ان دونوں لابیوں سے قریبی تعلقات ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بانی مخصوص سیاسی جماعت کی مکمل آشیرباد حاصل ہے

    افسوس ناک بات یہ ہے کہ مخصوص سیاسی جماعت کے حامیوں نے آج جس قرارداد کو پھاڑ کر ریزہ ریزہ کیا وہ قرارداد دراصل غزہ، مقبوضہ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت میں پیش کی گئی تھی

    یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مخصوص سیاسی جماعت کا یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ وہ صیہونی طاقتوں اور بھارتی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اس قرارداد کو پھاڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔؟

    یہاں یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ کیا وہ اسرائیل اور بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔۔؟

    افسوس ان نام نہاد مذہبی جماعتوں اور اسلام کا نعرہ بلند کرنے والی شخصیات پر بھی ہے جو آج مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر مظلوم مسلمانوں کے خلاف صف آرا نظر آئیں-

    یہ ایک تاریخی سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے – کیا اقتدار کی ہوس نے مخصوص سیاسی جماعت کو اندھا گونگا اور بہرا کر دیا ہے ۔۔۔۔؟

    کیا ایبسولوٹلی ناٹ(Absolutely Not) کا نعرہ اب اقتدار کے حصول کے لیے ایبسولیوٹلی یس(Absolutely Yes) میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔؟۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ