Baaghi TV

Category: سیاست

  • پی ٹی آئی لاہور جلسے کی ناکامی کی وجوہات

    پی ٹی آئی لاہور جلسے کی ناکامی کی وجوہات

    پی ٹی آئی لاہور جلسے کی ناکامی کی وجوہات

    تحریک انصاف کا لاہور جلسہ ہفتے کی شام چھ بجے "اچانک” ختم ہو گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سمیت پی ٹی آئی کے اور کئی مرکزی رہنما شام چھ بجے تک جلسہ گاہ تک پہنچنے میں ناکام رہے،علی امین گنڈا پور صبح 11 بجے پشاور سے روانہ ہوئے اس وجہ سے انہیں جلسہ میں بروقت پہنچنے میں تاخیر ہوئی،پشاور سے لاہور کا نان سٹاپ سفر چھ گھنٹے سے زائد کا ہے لیکن جب جلوس یا قافلے کے ہمراہ ہوں تو سفر میں مزید وقت لگتا ہے، علی امین گنڈا پور کے تاخیر سے نکلنے کی وجہ سے وہ بروقت نہ پہنچے.جلسہ گاہ میں علی امین گنڈا پور کی تاخیر سے آمد کے علاوہ تحریک انصاف کے دیگر مرکزی رہنما بھی نظر نہیں آئے، عمر ایوب،جو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں اور پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل بھی رہے وہ بھی نہ پہنچ سکے،اسی طرح اسد قیصر جو سابق سپیکر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں اور حالیہ دنوں میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقاتوں ،رابطوں میں انکا اہم کردار ہے وہ بھی جلسہ گاہ نہ پہنچ سکے،مرکزی قائدین کے جلسہ گاہ میں عدم موجودگی کی وجہ سے جلسہ میں مجموعی طور پر حاضری کم رہی،کیونکہ خیبر پختونخوا کے برعکس پنجاب پی ٹی آئی کا گڑھ نہیں، پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے، ایسے میں ایک بڑے مجمع کی توقع کرنا غیر حقیقی تھا،

    جلسہ گاہ کے اطراف میں اور قریبی علاقوں میں کاروبار معمول کے مطابق چل رہا تھا کہیں کوئی رکاوٹ نہیں تھی،سڑکیں کھلی تھیں،اسکے باوجود پی ٹی آئی جلسہ گاہ کو بھرنے میں کامیاب نہ ہو سکی ،پی ٹی آئی اب یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتی کہ رکاوٹیں تھیں کیونکہ ایسا کچھ نہیں تھا، درحقیقت پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت بھی جلسہ گاہ میں حاضری دیکھ کر مایوس ہو چکی تھی، پی ٹی آئی کے مرکزی اور سرکردہ رہنماؤں کی جلسہ گاہ میں عدم موجودگی کی وجہ سے بھی کارکنان جلسہ میں نہ آئے اور عوام تو نکلی ہی نہیں،کیونکہ ورکنگ ڈے تھا اور سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے،پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت،جنہیں عمران خان کا زیادہ قریبی سمجھا جاتا ہے وہ جلسہ میں زیادہ فعال نہیں تھے

    لاہور میں ہونے والے پی ٹی آئی جلسہ سےپارٹی کی دیرینہ کمزوری سامنے آئی، پی ٹی آئی کو کبھی بھی ایک منظم سیاسی جماعت کے طور پر تیار نہیں کیا گیا تھا بلکہ پارٹی کے اندر ون مین شو عمران خان تھا، اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اپنی پارٹی قیادت پر اعتماد نہیں کرتے ،یہی وجہ ہے کہ وہ پارٹی کے حوالہ سے کئے گئے کئی فیصلوں سے یوٹرن لیتے ہیں، یا پارٹی قیادت جو فیصلہ کرے عمران خان اس کو تسلیم نہیں کرتے اور اپنا سنا دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پارٹی مزید کمزور ہوئی،پی ٹی آئی کی کمزوری کی وجہ پارٹی قیادت ہی ہے جو بروقت اوردرست فیصلے کرنے کی بجائے "ڈنگ ٹپاؤ” کام چلا رہے ہیں،

    عمران خان خان کے پاکستان میں ’’بنگلہ دیش ماڈل‘‘ کے بار بار مطالبات بھی حقیقت سے منقطع نظر آتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی تحریک پاکستان کے حالات کے برعکس نچلی سطح پر چل رہی تھی، پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ قومی یا عوامی مسائل کی بجائے پارٹی کے اندرونی مسائل میں ہی الجھے ہوئے ہیں،جلسہ گاہ میں عوام کے لئے کوئی بات نہیں کی گئی،بلکہ عمران خان کی رہائی کی بات کی گئی، رہائی تو قانون کےمطابق عدالتوں نے کرنی ہے لیکن پی ٹی آئی کا فوکس عوامی مسائل ،قومی مسائل کی بجائے عمران ہے یہ وجہ بھی ہے کہ عوام پی ٹی آئی سے دور ہوتی گئی،عمران خان کے لیے اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینے کا بہت وقت گزر چکا ہے، پی ٹی آئی اب "کنارے” لگ چکی ہے اور بہت کچھ کھو چکی ہے، سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے وی لاگ میں پی ٹی آئی جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "عمران خان کا آغاز مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے ہوا جس کا اختتام لاہور کی مویشی منڈی میں ہو گااب طے ہو گیا کہ پی ٹی آئی مویشی منڈیوں میں ہی بھٹکے گی تا کہ اسکی جعلی انقلاب کی بدبو سے ہمارا معاشرہ محفوظ رہ سکے”. اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مینار پاکستان سے اٹھنے والی پی ٹی آئی کاہنہ کی مویشی منڈی میں ختم ہو چکی.

    لاہور جلسہ کا وقت ختم،گنڈا پور لاہور نہ پہنچ سکے،پولیس کا ایکشن،داخلی راستے پھر بند

    لاہور جلسہ ،9 مئی کے 12 اشتہاری ملزمان گرفتار

    جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

    حماد اظہر جلسہ گاہ پہنچ گئے، حکومت پر کڑی تنقید

    جلسہ میں خالی کرسیاں،مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کو دکھایا آئینہ

    پانچ پانچ ہزار دیہاڑی پر مہاجر کیمپوں میں جلسے کیلئے لوگ لائے جا رہے،انکشاف

    پی ٹی آئی لاہور جلسہ کا وقت شروع،خالی کرسیاں،قیادت نہ پہنچی

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    تحریک فتنہ فساد کا جلسہ،سب راستے کھلے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • جمہوریت کو درپیش خطرات،راستہ نواز شریف کے پاس:تجزیہ.شہزاد قریشی

    جمہوریت کو درپیش خطرات،راستہ نواز شریف کے پاس:تجزیہ.شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی لاہور کا جلسہ کامیاب تھا یا ناکام اس سے قطع نظر میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی وسیع القلبی اور جمہوری اقدار کی پاسداری کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی آنسو گیس اور لاٹھی چارج نہیں ہوا اور نہ ہی کنٹینر کھڑے کر کے راستے بلاک کئے گئے صاحبان اقتدار کا یہ رویہ قابل تحسین اور جمہوری اقدار کا آئینہ دار ہے۔ اسی کو جمہوریت کا حسن قرار دیا گیا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اگر بنیادی جمہوری اصولوں کے پیش نظر تحمل وسیع القلبی باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر سیاست کریں تو پاکستان کا جو خواب قائداعظم نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری روایات کو فروغ نہ پانے کی بڑی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول ہے اقتدار کے جام کو تھام کر عقل اور شعور کی جگہ جاہ و جلال نے لے لی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں اپنی پستی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کا رواج عام ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ کیا کبھی کسی سیاسی جماعت نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ جمہوریت آمریت کی آغوش میں کیوں اور کیسے جاتی رہی جمہوریت کو آمریت کی آغوش میں پہنچانے والے خود سیاستدان ہی ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کسی سیاستدان نے یہ سوچنے کی زحمت کی سیاست کے افق پر چمکنے والے ستارے زمین بوس کیوں ہوتے ہیں؟

    اس وقت ملک و قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کا حل تصادم نہیں بلاشبہ سیاسی گلیاروں میں بھٹو نہیں محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں مفتی محمود نہیں۔ خان ولی خان نہیں۔ نوابزادہ نصراللہ نہیں معراج خالد نہیں مولانا عبدالستار خان نیازی نہیں۔ قاضی حسین احمد نہیں۔ اسی طرح دیگر جو اس دنیا میں نہیں لیکن ان سب کے درمیان بیٹھنے والے ان سے سیکھنے والے موجود ہیں پھر نوازشریف جیسا لیڈر موجود ہے تصادم کی سیاست کو دفن کرنےکا فن نوازشریف سے بہتر کون جانتا ہے نوازشریف اس ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے اپنا کردار ادا کریں اے پی سی ہی وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان اور عوام کو درپیش مسائل سے نکال بھی سکتی ہے اور جمہوریت کو درپیش خطرات سے نکالنے کا بھی یہی راستہ ہے نوازشریف اے پی سی کا اجلاس بلائیں

  • انتشار  اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کبھی حالت جنگ میں ہوتا ہے تو کبھی حالت انتشار میں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے پاک فوج جملہ اداروں پولیس ، عوام نے قربانیاں دی ہیں۔ حالت جنگ کا یعنی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تو قربانیاں دینے والوں نے دی ۔اب اس حالت انتشار کے خاتمے کے لئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو قربانی دینا ہوگی۔ آخر کب تک پاکستان بطور ریاست اور عوام حالت انتشار میں رہے گی ؟صدارتی نظام بھی آزما چکے۔ ٹیکنو کریٹ بھی، اب اس انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت ہے ؟ بین الاقوامی دنیا میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں ۔ عالمی دنیا کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک روس اور یو کرائن جنگ میں بھی مصروف ہیں۔جبکہ مڈل ایسٹ کے حالات عالمی دنیا کے سامنے ہیں۔ غزہ اور اسرائیل کی جنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے لبنان اور شام میں تباہی مچا دی ہے امریکہ نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندی لگا دی ہے جس کا اعلان امریکی ترجمان نے کیا ہے ۔ پاکستان ان تمام حالات سے آگاہ ہے۔

    وطن عزیز کے حکمران ،اپوزیشن کو بین الاقوامی سیاسی تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور پاکستان کے وقار اور سلامتی کے پیش نظر سیاست کرنا ہوگی ۔ خدا کی پناہ ایک اسلامی مملکت میں یہ جج آئے گا تو ہمارا فائدہ ہوگا یہ جج ہمیں نقصان دے گا کیا ہم ایسے بیانات دے کر ملک کے وقار میں اضافہ کر رہے ہیں؟ امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں عدلیہ کو لے کر کبھی اس طرح کے بیانات سُنے؟ تمام ججز قابل احترام ہیں۔ ملائی اور حلوائی کی باتوں سے باہر نکل کر دنیا کے تازہ ترین حالات کا جائزہ لیں۔ ملکی وسائل ملکی معیشت پر توجہ دیں ملکی اداروں کے درمیان ٹکرائو کروانے سے گریز کریں ۔ اپنے مفادات کو وطن عزیز کے وقار اور سلامتی پر قربان کریں۔ اگر سیاسی قائدین ملک میں جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین اور قانون کی حکمرانی کے خواہش رکھتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک مضبوط لیڈر قوم اور دنیا میں ثابت کریں۔ اس کے ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حالت انتشار کی ایک وجہ قرآن پاک سے دوری ہے۔ وطن عزیز ایک اسلامی ریاست ہے یہ اس ریاست کی شان کے خلاف ہے کہ ہم دین الٰہی سے دور رہیں ۔ سود زدہ معاشی نظام خالق کائنات سے برسرپیکارہے.

  • پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام

    پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام

    پاکستان میں آئینی عدالت کا قیام
    آئینی عدالت کی طرف سے آئینی معاملات کو نمٹانے کی تجویز کوئی نئی تجویز نہیں ہے۔اسے 2006 میں ہونے والے میثاق جمہوریت میں شامل کیا گیا تھا جس پر سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے تھے۔مجوزہ ترمیم کے آرٹیکل 4 میں کہا گیا ہے کہ "آئینی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، جس میں تمام وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی دی جائے گی، جس کے اراکین سپریم کورٹ کے جج بننے کے اہل افراد ہو سکتے ہیں، آئینی عدالت کے ججز 68 سال کی عمر میں ریٹائر ہوں گے، آئینی عدالت میں سپریم کورٹ سے آنے والے جج کی مدت تین سال ہو گی ،سپریم اور ہائی کورٹس دیوانی اور فوجداری مقدمات کی باقاعدہ سماعت کریں گی۔ ججوں کی تقرری اسی طریقے سے کی جائے گی جس طرح اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی ہوتی ہے۔

    مجوزہ ترمیم کو اداروں اور سول سوسائٹی کے موجودہ پولرائزیشن میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ میں ایک سیاسی جماعت کی طرف داری کرتے ہوئے انکے حق میں فیصلے کئے گئے، سپریم کورٹ نے 11 جولائی 2024 کو جو فیصلہ دیا اس سے ملک میں صورتحال مزید گھمبیر ہوئی،ایک ایسے فریق کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا جو مقدمے میں فریق بھی نہیں تھا،اس طرح کے فیصلوں سے عدم استحکام کا احساس مزید گہرا ہوا

    عدالتوں کو آزاد ہونا چاہئے، میڈیا کو آزاد ہونا چاہئے اور عدلیہ اور ایگزیکٹو کے اختیارات میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے،یہ نظریہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ تمام ادارے بغیر کسی تعصب کے کام کریں گے۔ تاہم، سپریم کورٹ، جیسا کہ معاشرے کے مختلف طبقات گہرے طور پر منقسم ہیں، تو کیا،وہ اپنی طرف داری کا استعمال کرتے ہوئے آزادانہ فیصلے کر سکتی ہے؟ کبھی نہیں،سٔریم کورٹ کو بھی بغیر کسی طرف داری کے آزادانہ طور پر کام کرنا چاہئے،فیصلے طرف داری نہیں قانون و آئین کے مطابق ہونے چاہئے.

    جمہوری نظام میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ فیصلے مقبولیت کی بجائے قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ چند جملے اس فقرے سے زیادہ کثرت سے نقل کیے گئے ہیں: "انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے”۔ یہ حکم لارڈ ہیورٹ نے مقرر کیا تھا، لارڈ چیف جسٹس آف انگلینڈ نے ریکس بمقابلہ سسیکس جسٹس، [1924] 1 KB 256 کیس میں یہ حکم دیا تھا

    سیاسی اور سماجی تغیرات کے کلیڈوسکوپ کو تبدیل کرنے کے لیے قوانین کی ضرورت ہے۔ قانون کے سامنے سب کا برابر ہونا ضروری ہے،

  • آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کو لے کر دو دن جو کچھ ہوتا رہا، قوم سمیت عالمی دنیا پاکستان نہیں پاکستانی سیاستدانوں کا تماشا دیکھتی رہی۔ سیاسی قافلوں کے قائدین ہی جب ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہ کریں تو پھر آئینی ترمیم کیسی؟ وفاقی حکومت میں اتحادی اور آئینی عہدے رکھنے والی جماعت کے قائدین ہی ایک دوسرے کی سیاسی کامیابی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو پھر پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کیسی؟ سب لیڈر شپ کا فقدان ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سیاسی لیڈر تھے محترمہ بینظیر بھٹو سیاسی لیڈر تھیں پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کرنے والے لیڈر نہیں، سیاستدانوں میں اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم سیاستدان ہیں لیڈر نہیں (ن) کے لیڈر نوازشریف ہیں۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت اور لیڈر شپ ہی تھی جس نے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد واجپائی کو مینار پاکستان پر کھڑا کر دیا تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت دونوں نے ایٹمی دھماکے کئے تو عالمی دنیا میں آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت ہی تھی جب پی ٹی آئی نے 126 دن دھرنا دیا تو پی ٹی آئی لیڈر شپ سمیت کسی کارکن پر نہ لاٹھی چارج ہوا نہ آنسو گیس گرفتاریاں نہ مقدمات کا اندراج لیکن پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا نشانہ تادم تحریر نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز ہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آئی پی پیز نہ تو نوازشریف، نہ ان کے دونوں بیٹے اور نہ ہی دونوں بیٹیوں کا تعلق اور نہ ہی ان کی ملکیت ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس اس وقت کو ئی ترجمان نہیں وفاقی وزراء کی لائن ہے مگر مسخروں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے سوشل میڈیا نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی اس ملک اور قوم کے لئے خدمات آج کی نوجوان نسل کو علم ہی نہیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں کوئی اقدامات کئے نوازشریف وزارت اعلیٰ سے لے کر وزارت عظمیٰ تک اور ایٹمی دھماکوں تک اس ملک کے لئے جو خدمات ہیں ان خدمات کو پس پشت ڈال کر مسلم لیگ (ن) نے مقبولیت میں اضافہ نہیں کیا (ن) کا ہر وفاقی وزیر اپنی جماعت اور نوازشریف کی ملک و قوم کے لئے خدمات بیان کرنے سے قاصر نظر آتا ہے جس کا خمیازہ (ن) لیگ بطور جماعت بھگت رہی ہے۔

    پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے لے کر ایک کارکن سوشل میڈیا عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی اپنی بات ختم کرتا ہے۔ وطن عزیز کا موجودہ بحران اور انتشار کا حل ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے میں ہے اس وقت مسئلہ سیاسی قوتوں اور اداروں کے ٹکرائو کا نہیں مسائل میں گھری عوام کا بھی ایک مقدمہ ہے۔ طرز سیاست کو بدلنا ہوگا۔ عوامی مفادات اور ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہونگے

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • پاکستان میں سیاسی ومعاشی بحران،غیر یقینی صورتحال،حل کیا؟

    پاکستان میں سیاسی ومعاشی بحران،غیر یقینی صورتحال،حل کیا؟

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ حالیہ دنوں میں ہنگامہ خیز ہو چکا ہے، مجوزہ آئینی پیکج کی وجہ سے نہ صرف حکومتی اتحادی بلکہ اپوزیشن میں اختلافات دیکھنے میں آئے، آئینی ترامیم جو آئینی ابہام کو حل کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے لائی گئیں اس سے معاملہ حل ہونے کی بجائے مزید سیاسی تقسیم ہوئی ، ڈان نیوز کے مطابق، آئینی ترمیم کو فی الحال روکا گیا ہے،وفاقی وزیر قانون نے تجویز دی ہے کہ اس میں دیگر جماعتوں کے تاثرات کی بنیاد پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ آئینی ترامیم نے سیاسی اختلاف کو مزید ہوا دی ہے، خاص طور پر سپریم کورٹ کا 11 جولائی 2024 کا ایک تاریخی فیصلہ ،جس میں کئی مسائل ہیں، یہ فیصلہ اس فریق کے حق میں ہو گیا جو کیس میں فریق ہی نہیں تھا، اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بڑھ گیا،

    پاکستان کو سیاسی چیلنجز کے ساتھ ساتھ شدید معاشی مسائل بھی درپیش ہیں۔ گزشتہ 30 برسوں کے دوران، ملک نے محنت کی پیداواری صلاحیت میں سب سے کم شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے، جو معاشی صحت اور معیار زندگی کا ایک اہم اشارہ ہے۔پاکستانی معیشت قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے، ایک ایسا قرضوں کا چکر ہے جو ختم نہیں ہو رہا،کیونکہ پالیسی ساز بار بار ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے قلیل مدتی قرضوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ یہ بیل آؤٹ ایک "اخلاقی خطرہ” پیدا کرتے ہیں جہاں حکومت ضروری معاشی اصلاحات میں تاخیر کرتے ہوئے پوری قیمت برداشت کیے بغیر خطرات مول لینا جاری رکھتی ہے۔جس کے نتیجے میں پاکستان قرضوں کے جال میں پھنس گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری 2024 تک، اگلے سال کے لیے بیرونی قرضوں کی سروسنگ تقریباً 29 بلین ڈالر ہوگی جو کہ ملک کی متوقع ڈالر کی آمدنی کے 45 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے باوجود حکومت بامعنی پالیسی تبدیلیاں نافذ کرنے یا اخراجات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے مہنگائی اور ٹیکسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان ملک کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
    ایسی غیریقینی صورتحال میں کیا کوئی حل نظر آتا ہے؟

  • ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    امریکی انتخابات عالمی دنیا کی اس وقت توجہ کا مرکز ہیں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ سپُرپاور ہے امریکی صدارتی امیدواروں کی توجہ امریکی عوام ، معیشت ، خارجہ پالیسی ، جدید سے جدید ٹیکنالوجی ، موسمیاتی تبدیلی ،دفاع اور نیٹو، عالمی صحت اور وبائی امراض کی روک تھام ، امیگریشن بارڈر سیکورٹی ، اسرائیل غزہ اور مشرقی وسطی ، روس یو کرین جنگ، تجارت ، موضوع ہیں۔

    ہماری پارلیمنٹ کا موضوع آئینی تبدیلی ، جلسے ،جلوس ،دھرنے کمیٹیاں ، ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں ، ملازمت میں توسیع ، بحیثیت قوم ہم قوم اورپاکستانی نہیں کوئی بلوچی ، کوئی سندھی ، کوئی کے پی کے ، کوئی پنجابی کی صدائیں بلند کرتا نظر آرہا ہے کہیں سے بھی میں پاکستانی ہوں کی صدائیں بلند ہوتی نظر نہیں آرہی۔ عالمی دنیا کو ایک طرف رکھیں ۔ ہمارے قریب ترین ممالک ایران کسی اپلائی سے سوال کریں وہ اپنا تعارف ایرانی بتانے پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ افغانستان افغانی جبکہ ہمارے ہاں اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ایک صوبہ کی حکومت نے خارجہ پالیسی کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ کے پی کے کی حکومت افغانستان سے مذاکرات کا اعلان کرتی ہے۔ لگتاہے ہم مخلوق خدا ضرور ہیں مگر ایک قوم نہیں۔ ہم خدا کی زمین پر حکمرانی کرتے ہیں مگر طرز حکمرانی خداکے حکم کو نظر انداز کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں جس پارلیمنٹ میں بیٹھی ہیں۔یہ 1970 کے اُن سیاستدانوں کو ضرور یاد کریں کیا اُن سیاستدانوں کا ملک وقوم کو لے کر کردار یہ تھا؟

    حکمرانوں کولیکر اپوزیشن اور اپوزیشن کو لیکر مذہبی جماعتوں تک نے مسخرے پن کی حدود کو کراس کردیا ہے۔یہ ریاست اور ملکی خزانے پر بوجھ ہیں۔ ملکی اداروں پی آئی اے اور دیگر اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ ملکی وسائل سے توجہ ہٹا دی گئی ہے ۔ خدا کی پناہ عالمی دنیا میں یہ آواز کہیں سے نہیں آتی کہ یہ جج میرا یہ جج تیرا ،عدلیہ جیسے ادارے اور ملکی سلامتی جیسے اداروں کو جلسے،جلوسوں ،چوراہوں ، گلی کوچوں اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا لیا گیاہے ۔یہ جانتے ہوئے کہ وطن عزیز اور عوام کو معاشی بُحران کا سامنا ہے پارلیمنٹ میں بہت سے نام نہاد رہنما ہیں کسی نے معاشی بُحران کا حل پیش نہیں کیا آج کی سیاست ،آج کی جمہوریت ، آج کی پارلیمنٹ ،ایک افسوسناک عکاس ہے۔ کسی کی توجہ معاشی بُحران نہیں ذاتی بُحران ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ موجودہ حالات میں وطن عزیز میں جمہوریت کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
    دل تباہ تو ہی کچھ بتا ہمیں
    چمن پہ کیوں خزاں کا رنگ چھا گیا

  • سیا ست کا کھیل نہیں دستور خدمت ضروری۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیا ست کا کھیل نہیں دستور خدمت ضروری۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    اگر آپ سیاستدان ہیں تو سیاست کریں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جن مسائل کا سامنا جمہور کو ہے ان کو حل کریں۔ آئین قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔وطن عزیز کی مظلوم غربت، بیروزگاری، مہنگائی کی ماری عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے ریاستی اداروں کیخلاف بھڑکانے سے گریز کریں ان ریاستی اداروں کی وجہ سے ریاست چل رہی ہے سیاست کرنے کے لئے ایک مستحکم ریاست کا وجود ضروری ہے۔ جوش خطابت میں ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس پچیس کروڑ عوام کی نمائندگی کی جگہ ہے پولیس کا پارلیمنٹ ہائوس کے اندر داخل ہو کر ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کرنا درست قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کردار قابل تحسین ہے ایاز صادق کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے نوازشریف کی تربیت کے اثرات ایاز صادق میں نظر آئے جبکہ وزیراعلیٰ کے پی کے میں عمران خان کی سیاسی تربیت نظر آئی بلکہ پوری قوم نے دیکھی۔ اس وقت ملکی سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اس کی بنیادی وجہ سیاسی گلیاروں میں لیڈر شپ کا فقدان ہے لیڈر شپ کے فقدان کے ساتھ سیاسی جماعتوں میں درباری مزاج کے حامل افراد کی اکثریت موجود ہے حکمرانوں سمیت سیاسی اور مذہبی جماعتو ں میں درباری کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

    اس وقت واحد صوبہ پنجاب ہی نظر آرہا ہے جہاں عوامی مسائل کو حل کرنے بھرپور توجہ دینے کی کوشش جاری ہے سول بیورو کریسی انتظامیہ پولیس کو روزانہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب ہدایت دیتی دیکھی جا سکتی ہیں باقی کے صوبوں میں سیاست جاری ہے جبکہ پنجاب میں عوامی مسائل حل کرنے پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے وزیراعلیٰ پنجاب کی پشت پر میاں محمد نوازشریف کی تربیت اور رہنمائی اور ان کی ٹیم کی معاونت اور تجربہ شامل ہے۔ صوبہ پنجاب میں محکمہ تعلیم ہو یا محکمہ صحت ،زراعت ہو یا جنگلات ،انتظامیہ ہو یا پولیس وزیراعلیٰ کی قیادت کا احساس اور خدمت کی جھلک ملتی ہے وزیراعلیٰ کا آفس عوامی خدمت کا مرکز بنا ہے دیگر صوبہ کے چیف ایگزیکٹو صاحبان کے لئے قابل تقلید ہونا چاہئے۔ سیاست سیاست کا کھیل ختم کر کے الخدمت الخدمت کا دستور اپنانا ہوگا تاکہ استحکام پاکستان کا سفر جاری رہے۔

  • بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آمریت سے لے کر جمہوریت اور جمہوریت سے لے کر آمریت کے دور حکمرانی دیکھے ۔موجودہ دور کی سیاست کے انداز بدل گئے ۔ سیاستدانوں کی وفاداری تبدیل بھی ہوتے دیکھی مگرموجودہ بحران ناقابل فراموش ہے اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا یہ بھی ایک سوال ہے ۔ کیا اس موجودہ بحران جو وطن عزیز میں دیکھا جا سکتا ہے اگر سیاسی قائدین ، مذہبی قائدین اور انصاف کا نظام اس بات کا تادم تحریر اندازہ نہیں لگا سکا کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اور اُس کا حل کیا ہے اور کہیں سے یہ آواز بھی نہیں آرہی اس موجودہ بحران کے بارے میں کیا کرنا ہے ۔موجودہ بحران سیاست اور جمہوریت کو تباہ کر رہا ہے موجودہ بحران پر اگر کسی نے توجہ نہ دی تو ایک ناقابل یقین ،اخلاقی تباہی سے آگے کسی اورچیز میں بدل دے گا۔ ملکی سیاسی جماعتوں کی توجہ کا مرکز صرف اقتدار ، اختیارات اورطاقت رہ گئی ہے ۔ اس میں وہ مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں جنہیں اقتدار کی عادت پڑی ہے اور وہ ملکی بڑی سیاسی جماعتوں کے دوراقتدار میں ہمسفر رہے۔ آج جن مسائل کا پاکستان کا بطور ریاست اور عام آدمی کو سامنا ہے وہ ہے ملکی معیشت اور مہنگائی سیاسی جماعتوں نے ان مسائل کو اپنی فہرست سے نکال دیا ہے۔ آپ اگر اس وقت پورے ملک کا جائزہ لیں نتیجہ اخذ کریں کیا کسی جماعت کی توجہ معیشت اور مہنگائی پر ہے ؟ پاکستان اورعوام کو اس دلدل سے نکالنے کا راستہ کسی نے دکھایا ؟ اس وقت جو سیاسی جماعتوں کے درمیان جنگ ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ مقبول کون ہے ۔ مقبولیت کا انداز بھی عالمی دنیا سے الگ تھلگ ہے ۔ملکی سرحدوں کے محافظ پاک فوج اورجملہ اداروں کے خلاف بات کرنا مقبولیت کہا جاتا ہے ۔ عالمی دنیا یں مقبولیت ملک و قوم کی خوشحالی کا نام ہے۔ وطن عزیز میں مقبولیت پاک فوج اورجملہ اداروں کو نشانے پر رکھنا مقبولیت کا نام ہے کیا یہ سیاست اور جمہوریت ہے ؟عالمی دنیا میں ملکی سلامتی کے ان اداروں کے بارے میں اس طرح کی زبان کا استعمال نہیں کیا جاتا جس طرح ماضی حال وطن عزیز میںکیا جا رہا ہے۔پنجاب ،سندھ ،بلوچستان ، کے پی کے کی سول بیورو کریسی اور مرکزی بیوروکریٹ اپنا چلن بدلیں۔اس ریاست کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچا دیا گیاہے

    بابائے قوم کے اس پاکستان کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اپنی پوسٹنگ اور ہوس زر سے باہر نکلیں ۔ زمین آسمان کی ملکیت خدا پاک کی میدان حشر کو سامنے رکھیں اختیارات کی باز پُرس ہوگی وہاں کوئی سیاسی سفارشی نہیں ہوگا ،ہوش کریں۔

  • عمران خان اسرائیل کا اتحادی ہے؟

    عمران خان اسرائیل کا اتحادی ہے؟

    ٹائمز آف اسرائیل میں عینور بشیروا کے ایک بلاگ کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں کافی شور مچا ہوا ہے وہ اپنے بلاگ میں لکھتی ہیں کہ، "ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ سمتھ خاندان کے توسط سے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، جو پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے پر غور کرنے اور پاکستان میں مذہبی گفتگو کو اعتدال پر لانے کی خواہش کا اشارہ دیتے ہیں۔”

    اس مصنف کا خیال ہے کہ سیاست معاشیات سے چلتی ہے۔ عالمی حرکیات ایک تبدیلی سے گزر رہی ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب تھے جس سے اقتصادی تجارت میں تعاون کا ایک نیا بلاک کھل جاتا، بہت سی دوسری قومیں بالخصوص مشرق وسطیٰ کی اقوام نے بھی اس کی پیروی کی ہوگی۔ اگر اسرائیل مخالف لائن کو کھینچنا جاری رکھا جاتا تو پاکستان اس سے باہر ہو جاتا۔

    مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی لیڈر سیاسی طور پر اندرونی اور بیرونی طور پر حمایت حاصل کرنے کے لیے کسی چینل کا استعمال کرتا ہے، تو اسے مختلف سطحوں پر ایسے فیصلے لینے ہوتے ہیں جو اس ملک کے بہتر مفادات سے سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ یہاں، امریکی صدر کے امیدواروں کی انتخابی مہم کی مالی اعانت بارے بات کرتے ہیں۔ منتخب امیدواروں کے لیے لابنگ کو عام طور پر اوسط امریکی کی طرف سے ناراضگی کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ وہ اسے اثر و رسوخ یا رشوت خوری سے تعبیر کرتے ہیں۔

    دوسرا ناگوار زاویہ معاملات میں دوغلا پن ہے۔ وزیر اعظم کے طور پر اپنی مدت کے دوران عمران خان نے کسی غیر یقینی شرائط میں اس بات کی حمایت کی ہے کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اسرائیل کے ساتھ کبھی بھی معاملات کو معمول پر نہیں لایا جائے گا۔ انہوں نے ہمیشہ غزہ میں نسل کشی کی شدید مذمت کی ہے۔اگر 2022 کو یاد کریں تو مسجد اقصیٰ کے امام شیخ عکرمہ صابری نے عمران خان کو امت مسلمہ کا رہنما قرار دیا ۔ 2023 میں اس نے بین الاقوامی برادری کو طالبان کی نئی حکومت کی حمایت کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس نے افغان طالبان کی مدد سے طالبان جنگجوؤں کو قبائلی اضلاع میں بھی منتقل کیا تھا۔ تاہم، وہ زیادہ تعداد میں نقل مکانی نہیں کر سکے کیونکہ باقی صوبے تعاون پر تیار نہیں تھے

    امت مسلمہ اور اسرائیل کے بارے میں ایک موقف اختیار کرنے کے بعد اسرائیلی اخبار میں شائع ہونے والا بلاگ چونکا دینے والا ہے۔ ہمارے لوگوں کے پاس بنیاد پرستی کے لیے ایک اندرونی میکانزم موجود ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا کسی رہنما کو عوامی طور پر اعلان کردہ پالیسی کے خلاف پردے کے پیچھے براہ راست تضاد میں کام کرنا چاہیے؟