Baaghi TV

Category: سیاست

  • امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    امریکی سازش سے امریکی غلامی کا سفر- قرارداد کی مخالفت ایک ثبوت

    مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے اراکین نے بابنگ دہل یہ اقرار کر لیا ہے کہ ان کی تمام سیاسی جدوجہد کا محور صرف اور صرف صہیونی پالیسیوں اور بھارتی لابیوں کی حمایت اور اس کے اثر و رسوخ کے ذریعے اقتدار کا حصول ہے

    قومی اسمبلی میں جمعۃ المبارک کو جو قرارداد پیش کی گئی اس کے اہم نکاتوں میں سے سب سے اہم نکات امریکی کانگرس سے یہ مطالبہ بھی تھا کہ وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے بہیمانہ مظالم، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد کے خلاف بھی اپنا موقف اختیار کرے اور اس کی مذمت کرے

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی کانگرس کے بعض اراکین کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں پاکستان میں منعقدہ انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور یہ قرارداد امریکی کانگرس سے منظور کرانے میں پاکستان دشمن قوتیں بالخصوص صیہونی اور بھارتی لابی اور مخصوص سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے بیرون ملک مقیم اراکین تھے جن کے ان دونوں لابیوں سے قریبی تعلقات ہیں اور اس سلسلے میں انہیں بانی مخصوص سیاسی جماعت کی مکمل آشیرباد حاصل ہے

    افسوس ناک بات یہ ہے کہ مخصوص سیاسی جماعت کے حامیوں نے آج جس قرارداد کو پھاڑ کر ریزہ ریزہ کیا وہ قرارداد دراصل غزہ، مقبوضہ کشمیر اور بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی مذمت میں پیش کی گئی تھی

    یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مخصوص سیاسی جماعت کا یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ وہ صیہونی طاقتوں اور بھارتی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اس قرارداد کو پھاڑ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔؟

    یہاں یہ سوال بھی ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ کیا وہ اسرائیل اور بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔۔؟

    افسوس ان نام نہاد مذہبی جماعتوں اور اسلام کا نعرہ بلند کرنے والی شخصیات پر بھی ہے جو آج مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر مظلوم مسلمانوں کے خلاف صف آرا نظر آئیں-

    یہ ایک تاریخی سانحہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے – کیا اقتدار کی ہوس نے مخصوص سیاسی جماعت کو اندھا گونگا اور بہرا کر دیا ہے ۔۔۔۔؟

    کیا ایبسولوٹلی ناٹ(Absolutely Not) کا نعرہ اب اقتدار کے حصول کے لیے ایبسولیوٹلی یس(Absolutely Yes) میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔۔۔؟۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • ہم زوال پذیر کیوں ، کبھی سوچا؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    ہم زوال پذیر کیوں ، کبھی سوچا؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیاسی و مذہبی جماعتیں ملکی تاریخ کا آئیے مل کر سوچیں ہم کیوں زوال پذیر ہیں ہماری معیشت کیوں سال ہا سال مستحکم نہیں ہوتی؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ کہاں شگاف ہے کہاں غلطیاں ہیں کون سی کل انفرادی بھی اور اجتماعی بھی ٹیڑھی ہے اور ایسا کون سا گناہ ہے سختیاں پریشانیاں ختم ہونے کو نہیں آتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں ہم مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں مگر اسلام کی الف پر بھی عمل نہیں کرتے؟ یاد رکھیئے پروردگار کا قانون ہے خداپاک کا قانون قرآن پاک کی صورت میں موجود ہے کہیں ہم قرآن پاک اور سیرت النبی کا مطالعہ کرنا اور اس پر عمل کرنا تو نہیں چھوڑ گئے؟ کہیں ہم موت اور اس کے بعد روز محشر میں خدا پاک کے حضور اپنے اعمال کے ساتھ کھڑا ہونا تو نہیں بھول گئے؟ دوسری جانب رخ کریں تو بابائے قوم محمد علی جناح نے مجلس قانون ساز میں اپنے پہلے خطاب میں جن قباحتوں سے باخبر کیا تھا ہم ان قباحتوں پر عمل پیرا ہیں بابائے قوم کا خطاب اچھے دنوں میں نصاب میں پڑھایا جاتا تھا اب وہ نہیں پڑھایا جاتا۔ 25کروڑ عوام کو سیاستدان اور مذہبی جماعتیں جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بے وقوف نہیں بناسکتیں عوام کسی ایسے شخص پر اعتبار نہیں کرتے جو ریاست‘ ریاستی اداروں اور عوام کا وفادار نہ ہو اب تو پچیس کروڑ عوام کا سیاسی و مذہبی جماعتوں پر اعتماد اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے اب تو ملک کی بے بس مجبور لاوارث اور مظلوم عوام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو کوستے سنے گئے ہیں کہ ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے ہمارا ایک طوفاں جب پہنچا لب ساحل تو کیا ہوگا یہ سوچو تم۔

    پروردگار کے قانون سے دوری اور بابائے قوم کے فرمودات سے روگردانی ایسے میں اس کا انت اور نتیجہ کیا برآمد ہوسکتا ہے اسے جاننے کے لئے کسی عقل افلاطون کی ضرورت نہیں دیوار پر لکھا صاف نظر آرہا ہے۔

  • امریکی ایوان کی قرارداد گمراہ کن

    امریکی ایوان کی قرارداد گمراہ کن

    جب بھی پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونا شروع ہوتی ہے، معیشت بہتر ہونے لگتی ہے اور سماجی سکون پیدا ہونے لگتا ہے، پاکستان دشمن قوتیں پریشان ہوجاتی ہیں اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کام کرنے لگ جاتی ہیں، پروپیگنڈہ کیا جاتا ہےا ور سازشیں کی جاتی ہیں، صیہونی اور سرمایہ دار قوتیں اپنے پیادوں کو پاکستان میں ترقی نہیں دیکھا چاہتی، پاکستان کی معاشی بہتری انکو پسند نہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں ایک جان بوجھ کر مہم چلائی جاتی ہے تاکہ ہمدردی کے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے انہیں متاثرہ فریق کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ آپریشن گولڈسمتھ 2.0 کا ایجنڈا بعض اختلافی سیاسی حلقوں کے سیاسی فائدے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنا ہے، جو پاکستان میں صیہونی قوتوں کے ایجنٹ ہیں اور صرف اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ واقعات کی ایک عجیب و غریب پیشرفت میں، صرف دو دھڑے سیکورٹی آپریشن عزم استحکام کے آغاز کی شدید مخالفت کر رہے ہیں، ایک پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دوسرا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)۔

    امریکی قرارداد کا اصل مقصد عمران خان کے لئے مراعات لینا
    امریکی کانگریس کی قرارداد 901 درحقیقت پاکستان کے اندرونی مسائل پر عالمی سطح پر سیاست کرکے اور اس بار آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی آڑ میں پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے لیے مراعات حاصل کرنا ہے۔ جب کہ آپریشن گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، ملک کی معاشی واپسی مسلح افواج اور عوام کی حمایت سے اس طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس وقت قرارداد 901 کو پیش کرنا، پاکستان کی ترقی کو خطرے میں ڈالنے کی سیاسی کوشش دکھائی دیتی ہے نہ کہ اس کے عوام کی مدد کے لیے ایک حقیقی اقدام۔ پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے مبینہ طور پر حمایت کا اظہار، قرارداد 901 درحقیقت گمراہ کن ہے۔ سول اور ملٹری قیادت کے درمیان پائیدار تعاون کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کے غیر متزلزل جذبے کے ساتھ، پاکستان عالمی معیشت میں ایک بڑا کھلاڑی بننے کے لیے تیار ہے۔ معاشی استحکام اور ترقی کا راستہ اگرچہ مشکل ہے لیکن پاکستان کا عزم اور سٹریٹجک وژن ایک روشن مستقبل کا وعدہ کرتا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    آپریشن عزم استحکام سے سال 2013 کا منظر یاد آگیا جب وطن عزیز میں دہشت گردی اور انتہا پسندی عروج پر تھی اور بجلی کی عدم دستیابی سے ملک میں اندھیروں کا راج تھا اسی دوران میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے سے قبل اعلان کیا کہ دہشت گردی اور بجلی کے بدترین بحران کا خاتمہ ان کا ٹاپ ایجنڈا ہو گا، اقتدار سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے سب سے پہلے اے پی سی کال کی جس میں عمران خان سمیت تمام جماعتوں نے شرکت کی، مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گئی جس کی قیادت سینیٹر عرفان صدیقی نے کی .اس حوالے سے جب سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی ناکامی پر نواز شریف نے ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا اعلان کیا اورضرب عضب کا آغاز ہوا ،

    قارئین، پاک فوج اور جملہ اداروں نے لاتعداد قربانیاں دے کر امن بحال کیا نوازشریف کی سیاسی اور معاشی بصیرت کے بل بوتے پر ملک سے اندھیرے چھٹ گئے ، سینیٹر اسحاق ڈار جو اُس وقت وزیر خزانہ تھے انکی کمال حکمت عملی اور دن رات محنت سے ملک میں معاشی استحکام بحال ہوا اور صنعتی ترقی کا آغاز ہوگیا سی پیک سے قوم میں اُمید کی کرن جاگی ، آج پھر ملک اُسی دوراہے پر کھڑا ہے ،عزم استحکام وطن عزیز سے دہشت گردی کے اُبھرتے ہوئے منحوس سائے ، معاشی بدحالی ، توانائی کا بحران اور دیگر مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب ملک میں امن ہو گا، وطن عزیز کے ان کھیلانوں میں امن کی ہریالی اُگانے کا بیڑا ایک بار پھر ضرب عضب کی طرح پاک فوج اور جملہ اداروں نے اٹھایا ہے تو اس میں بحث او ر دھوراں دھار تقریریں کیسی ؟ کیا پارلیمنٹ میں دہشت گردوں کے پروموٹرز اور سپورٹرز بیٹھے ہیں؟ سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ، ماضی میں دہشت گردی کے حوالے سے افواج پاکستان ، پولیس اور عوام نے لازوال جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جس پر ایک عالم گواہ ہے، ملک کے عظیم تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کو ملک وقوم کی بقاء کے لئے آپریشن عزم استحکام کا بھرپور ساتھ دینا ہوگا، ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ملک وقوم کے اولین مفاد میں ہے آخر کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟

  • معیشت  کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی بحالی،حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد ( رپورٹ،شہزاد قریشی) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کےہنڈرڈ انڈیکس کا 80 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرنا ملکی تاریخ میں معیشت کی بحالی کی جانب مضبوط حکومتی اقدامات پر اعتماد کی علامت ہے اور دیوالیہ دیوالیہ کی رٹ لگا کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے ، ادھر گرڈ سٹیشنوں کا گھیرائو کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسی غیر سنجیدہ حرکات سے وہ ملک وقوم کی کوئی خدمت نہیں سرانجام دے رہے بلکہ عوام ان اوچھے ہتھکنڈوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلاشبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی جارحانہ بلندی نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے بلکہ حکومت پاکستان کی درست سمت سفر کی عکاس ہے،

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام وفاق کی اکائیوں یعنی صوبائی حکومتوں اور ریاستی و حکومتی اداروں کو یک جان ہو کر پورے اخلاص کے ساتھ میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے روڈ میپ کی منزل کی جانب سفر جاری رکھ کر وطن عزیز کو مضبوط سے مضبوط بنانے کا عزم کرنا ہوگا، میاں محمد نواز شریف کے ترقی کے وژن کو اگر ٹھیس نہ پہنچائی جاتی تو آج پاکستان نہ صرف ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتا بلکہ جی 20 کی صف میں کھڑا ہوتا، اب وقت آن پہنچا ہے کہ سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر میاں محمد نواز شریف کے وژن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاکہ ملک معاشی طور مستحکم ہو اور عوام کو مہنگائی ،پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات مل سکے

  • نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف ،عوام کیلئے امید کی کرن. تجزیہ:شہزاد قریشی

    میاں نواز شریف کا سینٹ میں پارلیمانی پارٹی کے ممبران سے خطاب، پاکستان کے عوام کے لئے امید کی کرن اور سیاسی اکابرین کے لئے مشعل راہ ہے،میاں نواز شریف کے قول و فعل اور ان کے سیاسی افکار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کبھی مایوس ہوئے نہ پاکستان کی ترقی کا مشن ترک کیا اور نہ ہی عوام کی خدمت کی ترجیحات بدلیں میاں نواز شریف نے غل غپاڑے اور شور شرابے کی نام نہاد سیاست کا راستہ کبھی نہ اپنایا. انہوں نے اپنے اقتدار کھو جانے پر کبھی پاکستان کے مفادات کے خلاف نہ تو لب کشائی کی اور نہ ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے بیرونی مداخلت کو دعوت دی جبکہ یہاں تو ایک حادثاتی سیاستدان یہاں تک کہہ گزرے کہ اگر انہیں اقتدار سے ہٹانا تھا تو بہتر تھا بم پھینک دیتے،

    میاں محمد نواز شریف پاکستان کی ترقی، استحکام اور معاشی آزادی کی جنگ کے مجاہد ہیں اور یہ جہاد انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کی صورت میں آئندہ نسلوں کے لئے وقف کردیا ہے، نواز شریف کی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کو یہ تنبیہ کرنا کہ مہنگائی کے طوفان سے عوام کو ہر صورت بچایا جائے پاکستان کے عوام کےلئے دل موہ لینے والے تاثرات ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا خواب مسلم لیگ ن کے ہاتھوں ہی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

    nawaz

  • مایوسیاں ختم، پاکستان کے لئے اچھی خبریں آنا شروع.تجزیہ:شہزا د قریشی

    مایوسیاں ختم، پاکستان کے لئے اچھی خبریں آنا شروع.تجزیہ:شہزا د قریشی

    مایوسی ہی مایوسی ۔ ہر طرف ہر جانب ہر سمت نہ کوئی سکون نہ کوئی خوشی۔سوشل میڈیا پر افوا ہ سازی ۔ ان حالات میں وزیر خارجہ اور ان کی وزارت خارجہ کی ٹیم کی طرف سے وطن عزیز کے لئے خوشی کی خبر ملی کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اُن کی پوری ٹیم کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر اسحاق ڈار کسی ولی یا فرشتہ کا نام نہیں لیکن انہوں نے بطور وزیر خزانہ سال 2013 اور سال 1998 میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں وطن عزیز کی غیر مستحکم معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا وہ ملکی تاریخ کا حصہ ہے اور پاکستان کو 2013 میں دیوالیہ ہونے سے بچایا ۔ پھر اسی دوران سیاسی بربادیوں کے سوداگروں نے نواز شریف اور پاکستان کے خلاف سازش کا حال بُنا اور ترقی کے منازل طے کرتا پاکستان دوبارہ معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ جس کا خمیازہ پاکستان بطور ریاست اورعوام نے بھگتا۔ معیشت کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا رہا اور آج وطن عزیز اور عوام ہر روز مہنگائی کے نئے حملوں سے گزر رہی ہے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں بجلی اور گیس کے چند سو بل دینے والے آج ہزاروں بل دے رہے ہیں۔ ملک اور عوام کو اس وقت ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ملک کے حالات عالمی معیشت کی صورتحال کے پیش نظر وطن عزیز میں بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ ملکی وسائل پر خصوصی توجہ دے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ وطن عزیز میں ایک ایسے شخص پر بحث کی جا رہی ہے جو ایک بدترین آمر اور طالع آزما شیخ مجیب جس کو بابائے جمہوریت کا نام دیا جا رہاہے۔ آج کی نوجوان نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان دوستوں کا قتل عام کروایا اور اُن کی بیٹی حسینہ واجد کے سر پر خون سوار ہے آئے روز بے گناہوں کوپھانسیاں دی جا رہی ہیں جن کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں وہ پاکستان کے وفادار تھے۔ شیخ مجیب الرحمن کو لیڈر اور مسیحا ماننے والے تاریخ کا مطالعہ کریں۔؟
    qureshi

  • مریم نواز کی قیادت میں  پنجاب میں عملی مثبت تبدیلی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی قیادت میں پنجاب میں عملی مثبت تبدیلی.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیف سٹی پنجاب کے زیر اہتمام ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام اور دستک ایپ کے ذریعے اس حد تک خواتین کی فوری رسائی بلا شبہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے جدید پنجاب وژن کی عکاسی ہے اور اس میں آئی جی پنجاب اور سیف سٹی پنجاب کے ڈی آئی جی احسن یونس کی پروفیشنل صلاحیتوں کا شاہکار ہے،خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی ، جبر ، دھمکی کی اطلاع فوری طور پر ریکارڈ کروا سکتی ہیں، اپنی نوعیت کے پہلے ورچوئل پولیس اسٹیشن برائے خواتین میں خواتین کی کال ریسو کرنے پر خواتین آپریٹرزہی تعنیات کی گئی ہیں اور خواتین کالرز کی کالز پر فوری پولیس کارروائی اور ریسکیو آپریشن عمل میں لایا جائے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے جہاں صحت، تعلیم ، مواصلات ، صاف پانی کی فراہمی ،سستی روٹی، سستی اشیائےخوردنی کی فراہمی اور صوبے بھر میں جرائم کی بیخ کنی کے لئے انتظامیہ کو متحرک کیا ہے ،وہاں خواتین کو فوری پولیس امداد کی فراہمی کی جانب عملی قدم اٹھایا ہے،جس کی مثال یقینا جرمنی، فرانس ،برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تو دی جا سکتی ہے لیکن یہاں پہلے اس کا تصور بھی نہ تھا،

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں ایک عملی مثبت تبدیلی ہونے جا رہی ہے جو صوبے کے وسائل عوام کی حقیقی بہتری اور ترقی پر خرچ کر کے حاصل ہو گی ،گزشتہ دور میں بلا شبہ تبدیلی کا نعرہ لگایا گیا مگر حقیقی تبدیلی کے نام پر لوٹ کھسوٹ پنجاب میں میرا ڈی سی ، تمہارا ایس ایچ اوکی روش اپنا کر پنجاب کو پیچھے دھکیل دیا گیا، اب نواز شریف اور مریم نواز کی مخلصانہ قیادت کے ثمرات عوام کو ملنا شروع ہو ئے ہیں ، اس ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن کے قیام میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان اور ڈی آئی جی احسن یونس جنہوں نے سیف سٹی انچارج کا عہدہ سنبھالنے سےقبل راولپنڈی میں بطور سی پی او پولیس لائن سے پولیس اسٹیشن تک ہر پولیس اہلکار کو ایک نیا جذبہ دیا اور پولیس ورکنگ کو ایک جدت بخشی ، یقینا وہ اس کار خیر میں جو انہوں نے اپنا ایک کردار ادا کیا اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پاکستان مسلم لیگ ن کے پنجاب بھر کے ممبران اسمبلی وزیر اعلیٰ پنجاب کی عوام دوستی کی مہم میں اپنا کردار ادا کریں ، لینڈ مافیا کی پشت پناہی ، جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی سے دور رہیں۔

  • 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ: شہزاد قریشی) پاکستان میں نہ تو 71ء جیسے حالات ہیں اور نہ ہی 24کروڑ عوام کا ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت ہی نہیں بلکہ اسے جغرافیائی طور پر جنوبی ایشیاء اور اسلامی دنیا میں اہم مقام حاصل ہے۔ دیوالیہ ہونے کی رٹ ناکام ہوگئی اور اب 1971ء کی منترہ الاپنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی ملکی معیشت اور سٹاک ایکسچینج کے عشاریئے اور مہنگائی میں کمی جیسے اشارے بتا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت عوام کی بہتری اور پاکستان کی ترقی کے لئے اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ ہیں اور حالات بتدریج بہتری کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

    آئے روز سڑکوں پر ادھم مچانے میڈیا پر ایک دوسرے پر لعن طعن کرنے کی بجائے قومی اسمبلی اور سینٹ میں سنجیدہ بحث اور تجاویز کے ذریعے قومی سیاسی پارٹیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کو معاشی بحرانوں سے نکالنا ہوگا۔ تمام سیاسی پارٹیوں اور ان کی لیڈر شپ کو مہنگائی غربت اور سماجی ناانصافیوں میں پسے ہوئے عوام اور قومی اداروں کی مضبوطی کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے اور وطن عزیز کی خاطر اپنے ذاتی مفادات کو قربانی دینے کی مثال قائم کرنا ہوگی کیونکہ اگر پاکستان ہے تو سیاست بھی ہے اور اقتدار اور حزب اختلاف کے استحقاق ہیں اسی لئے سب سے پہلے استحقاق پاکستان اور استحقاق عوام کو ترجیح دیں ورنہ تاریخ کسی بھی غدار کو معاف نہیں کرے گی۔

  • نوابزادہ خالد خان مگسی کے قافلے پر حملہ.تلخ حقائق . عبدالرزاق مگسی

    نوابزادہ خالد خان مگسی کے قافلے پر حملہ.تلخ حقائق . عبدالرزاق مگسی

    ڈیرہ مرادجمالی۔31 مئی 2024

    نوتال اور بختیار آباد کے درمیان قومی شاہراہ پر جمعرات کے روز ایم این اے نواب زادہ خالد خان مگسی پر ڈاکوؤں کی فائرنگ اور گارڈز کی جوابی فائرنگ سے ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے،اسی مقام پر دو گھنٹے قبل دو مسافر ویگنوں کو لوٹ لیا گیا کسی نے نوٹس نہیں لیا؟ خالد خان مگسی پر فائرنگ کا واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی دیکھتے ہی دیکھتے بلوچستان حکومت سمیت تقریبا بااثر شخصیات نے واقعہ کی مزمت کی اور فوری ڈاکوؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا اور وزیر اعلی نے نوٹس لیکر نصیرآباد اور کچھی انتظامیہ سے رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور ہر وہ غلط کام کی مذمت ہونے چاہیے لیکن قومی شاہراہ اور لنک سڑکوں پر جس طرح بختیار آباد، نوتال کے درمیان، بختیار آباد، بھاگ روڈ، نوتال، گنداوہ روڈ بختیار آباد اور لینڈسے (لمجی) کے درمیان، ڈنگڑا قومی شاہراہ پر اس کے علاوہ ہر دوسرے یا تیسرے دن مسلح ڈاکو مسافر بسوں ویگنوں۔ٹرکوں سمیت چھوٹے گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں اور خواتین کو لوٹ لیا جاتا ہے لیکن ان غریب عوام، ڈرائیورز،اور خواتین کے لیے نہ صوبائی حکومت،نہ سرداران،و دیگر بااثر شخصیات جو نواب زادہ خالد خان مگسی کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی طرح حرکت میں کیوں نہیں آتے کوئی وزیر نواب سردار یا بااثر شخصیات نے یک زبان ہو کر مزمت نہیں کیا لیکن بلوچستان کے سارے سردار نواب سرمایہ دار جاگیردار وزیر،مشیر پارلیمانی سیکرٹریز صوبائی و وفاقی حکومت ایک ہوگے لیکن غریب عوام کے لئے یہ اشرفیہ کبھی ایک نہیں ہونگے لیکن ووٹ غریب عوام سے لیکر اسمبلیوں میں پہنچ جانے کے بعد وزیر، مشیر و پارلیمانی سیکرٹری بن کر خوب عوامی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ کر صوبے اور ملک کو دیوالیہ کیا جاتا ہیں لیکن عوام اور تاجروں کو آئے روز بازاروں قومی شاہراہوں پر دن دھاڑیں اور رات کے اندھیروں میں ڈاکو لوٹ مار کرنے کے ساتھ گاڑیاں نہ روکنے پر فائرنگ کی جاتی ہے کئی مسافر اور ڈرائیورز زخمی اور ہلاک ہو جاتے ہیں ان کے لیے کوئی نواب سردار یا وزیر بیان تک دینا گوارا نہیں کرتے اس طرح نواب زادہ کےلیے حکومت سمیت تمام بااثر شخصیات ایک پلیٹ فارم پر متحدہ ہوئے اسی طرح عوام کے لئے درد محسوس کرتے ہوئے متحدہ ہوجائے تو بلوچستان امن کا گوارا بن جائے گا اسی دوہرے معیار کی وجہ سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال گمبھیر سے گمبھیر صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ملک غریبوں کا نہیں بلکہ امیروں سرمایہ داروں،اور اشرفیہ کا ملک ہے