Baaghi TV

Category: سیاست

  • معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت ایسے ایسے بحرانوں سے دوچار ہے بقول کسی شاعر کے ہر طرف آگ ہے دامن کو بچائیں کیسے ۔ سیاسی گلیاروں میں ایسی ایسی بُری خبریں سوشل میڈیا پر دکھائی اور سنائی دیتی ہیں شاید ہم اس وقت بُری چیزوں کی زد میں ہیں۔ تاہم اس بحران اور بُری خبروں میں پنجاب کی عوام کے لئے ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کی بیٹی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی طرف سے بجلی کے بلوں پر دو ماہ کا ریلیف صوبہ پنجاب میں سورج کی روشنی کے طور پریہ خبر ایک ایسی قوم کو ملی جو شاید بُری خبریں سننے کی عادی ہو چکی تھی۔ موجودہ معاشی بحران میں دو ماہ کا ریلیف عوام کے لئے اندھیرے میں روشنی کے برابر ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے معاشی بحران کا ذکر کرتےہوئے 2017 کا ذکر کیا اور اپنی حکومت کی کارکردگی معیشت کاذکر کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا بطور خاص نام لے کر کہا کہ انہوں نے معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہ حکومتیں اپنی عوام کے تحفظ اورمعاشی بدحالی کو روکنے کے لئے کوشش کرتی ہیں کوئی بھی اس پر اختلاف نہیں کرے گا۔ معاشی خطرے سے نمٹنا اولین سیاسی ترجیح ہوتی ہے ۔2017 بلاشبہ ملک معاشی مستحکم تھا سینیٹر اسحاق وزیرخزانہ نواز شریف کی قیادت میں رات گئے اپنے دفتر میں معاشی ماہرین کے ساتھ کام کرتے تھے۔

    اس عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لے کر سیاسی افراتفری سے باہر نکلنا ہوگا بین الاقوامی رواں سال کئی ممکنہ سیاسی دراڑیں ابھر سکتی ہیں۔ بشمول مشرقی وسطیٰ امریکہ سمیت اگر دیگر عالمی قوتوں نے غزہ تنازعے کو حل کرانے میں کردار نہ کیا تو اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک مکمل علاقائی جنگ تبدیل ہو سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف سیاست بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑیں گے۔ یوکرین میں جاری جنگ شمالی کوریا کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا اس صورت میں چین یا تو امریکہ اور مغرب کے ساتھ تنائو کا بڑھتا ہوا ذریعہ ہو یا پھر ممکنہ طور پر زیادہ نتیجہ خیز شراکت داری کا آغاز ہو ۔ ان تمام بین الاقوامی سیاست کی تبدیلی کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑیں گے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت اپنے مفادات ملکی سلامتی اور معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی معاشرہ یا ملک کسی بڑی تبدیلی یا غیر یقینی صورت حال سے گزرتا ہے تو سماج دشمن عناصر اس صورت حال سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید،پاک فوج کے لیے ایک ٹیسٹ کیس

    لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید،پاک فوج کے لیے ایک ٹیسٹ کیس

    آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی گرفتاری پر میرا فوری ردعمل یہ تھا کہ "عمران خان کے گلے میں پھندا تنگ ہو گیا ہے”۔آئی ایس پی آر کے ابتدائی بیان میں دو اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی۔ سب سے پہلے ٹاپ سٹی سے متعلق کرپشن کے الزامات شامل تھے۔ دوسرا فیض حمید کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا۔ پریسر نے واضح طور پر کہا کہ یہ خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے فیض حمید کو فوجی تحویل میں لیا گیا،فیض حمید کے خلاف فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی جاری ہے۔ تیزی سے سامنے آنے والے واقعات اب اس گرفتاری کو 9 مئی 2023 کو پاک فوج کی تنصیبات پر حملوں سے جوڑتے نظر آتے ہیں۔

    یہ بات مشہور ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا پی ٹی آئی سے گہرا تعلق تھا۔ برسوں کے دوران، پانچویں نسل کی جنگ کے ذریعے، پی ٹی آئی نے معاشرے اور اپنی مسلح افواج کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے فوج کو نقصان پہنچا ہے۔ اس نے بہت سے دلوں میں فوج کے خلاف نفرت کا بیج بو دیا ہے،

    موجودہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے۔ انہیں اس عہدے سے اچانک برطرف کر دیا گیا تھا جب انہوں نے عمران خان کے قریبی لوگوں کی کرپشن کی اطلاع دی تھی۔عمران خان ڈی جی آئی ایس کو ہٹانا نہیں چاہ رہے تھے جب فیض حمید تھے ،آرمی چیف بننے کے لیے فیض حمید کو کمانڈ کا تجربہ درکار تھا، کیونکہ ان کا نام مستقبل کے آرمی چیف کے عہدے کے لیے زیر غور تھا۔

    ایک نظریہ بتاتا ہے کہ 9 مئی کے حملے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو بطور آرمی چیف ہٹانے کی کوشش تھی۔ فوج کی تنصیبات پر حملوں سے توقع کی جا رہی تھی کہ زبردست جواب دینے پر اکسائیں گے، شاید مجرموں پر فائرنگ بھی کر دی جائے تاہم فوج نے ایک مختلف طریقہ اختیار کیا۔ پھر بھی، اس طرح کا کھلا تشدد یا بغاوت دنیا میں کہیں بھی ناقابل قبول ہے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

    اس میں شامل افراد کے لیے فوائد واضح ہیں اور اس میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ 9 مئی کے نتیجے میں دو کور کمانڈرز، ایک لاہور اور ایک منگلا سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ نظریہ کتنا درست ہے، اور ہر فریق کی شمولیت کی حد کا تعین عدالتوں کو کرنا ہے۔تاہم جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ فوج کے اعلیٰ افسران اس معاملے پر متحد ہیں۔ نظریاتی طور پر، آرمی چیف اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کرنے اور ملک کو نقصان پہنچانے والے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس کا اطلاق نہ صرف پی ٹی آئی کے اراکین پر ہوتا ہے بلکہ معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے دیگر سہولت کاروں پر بھی ہوتا ہے۔آگے چل کر مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں.

  • محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خطے کو کس سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ مڈ ل ایسٹ میں حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ بن سلیمان نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا۔ امریکہ اور یورپی ممالک ،روس ،یو کرائن جنگ پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرائن کے درمیان ہونے والی جنگ کے کیا نتائج نکلیں گے۔ یہ ایک سوال ہے ؟ برطانیہ کی سڑکوں پر نسلی فسادات ، ایران میں اسماعیل ہانیہ کا قتل ،بنگلہ دیش کی صورت حال ، دنیا چونکا دینے والے حالات سے گزر رہی ہے ۔ا ن تمام حالات کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں اور قریبی ممالک بھی ان حالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر وطن عزیز میں افواہ ساز فیکٹریاں سوشل میڈیا پر ، یوٹیوبر ، وی لاگرز ، بغیر کسی وقفے کے ایسی ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں جس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

    پورے عرب ممالک کے سامنے ، فلسطین میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ غزہ مین شہید ہونے والے خواتین نوجوان بچے ، بوڑھوں کے قبرستان بھر چکے ہیں۔ جنہوں نے آگے ہو کر اس قدیمی مسئلے کا حل کروانا تھا انہوں نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا ہے ۔ کشمیر میں سالوں سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کا خون ، اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی اور دیگر عالمی اداروں نے کیا کیا؟ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جھوٹ ، بہتان فریب کی سیاست کو پس پشت ڈال کر ان بین الاقوامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے قومی اداروں کو مستحکم کرنے میں کردارا دا کرنا ہوگا۔ پاک فوج اورجملہ اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم کیا قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ اس وقت عدلیہ کو اہم کردار اداکرنے کی ضرورت ہے ۔ملکی سیاسی جماعتوں کو خارجہ اور اندرونی مسائل کو سامنے رکھ کر ملک وقوم کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ دل شکن ماحول میں قوم کی نظریں عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامنے والوں پر لگی ہیں۔

  • 14اگست1947ء اور ہماری ذمہ داری.تحریر:حنا سرور

    14اگست1947ء اور ہماری ذمہ داری.تحریر:حنا سرور

    یہ دن ہماری تاریخ میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہندوؤں،سکھوں اور فرنگیوں سے آزادی دی اورجس کے نتیجے میں دُنیا کے نقشے پر پاکستان آزاد ریاست کی حیثیت سے ابھرا ۔ اس پاک وطن کے حصول کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ ہمیشہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہیں گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت جو دل خراش مناظر سامنے آئے آزادی کے متوالوں نے کن کن مشکلات کا سامنا کیا، کتنی ماؤں کو اپنے بیٹوں کی، کتنی بہنوں کو اپنے بھائیوں کی اور کتنی سہاگنوں کو اپنے سہاگ کی قربانی دی پڑیں، آج یہ سوچ کر بھی رونگنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پورے اعداد و شمارتو معلوم نہیں ،لیکن اندازہ لگایا جا تا ہے کہ 2 ملین سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، جبکہ 10 ملین سے زائد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ایسے دل خراش واقعات پیش آئے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے، لیکن یہ مسلمانوں کا ولولہ اور جوش و جذبہ تھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی علامہ محمد اقبال ؒ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں الگ وطن حاصل کرلیا ۔ اب یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آج 76 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اگر ہم جائزہ لیں تو کیا یہ وہی پاکستان ہے، جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھی، جس کی خاطر کروڑوں مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں ۔ اگر ہمارا جواب نہیں میں ہے، تو اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہم سب کی قومی ذمہ داریا ں کیا ہیں، ستم تو یہ ہے کہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اس ملک کو لوٹ کھایا ہے اور کھارہے ہیں، کسی نے اس ملک کا نہیں سوچا.کسی نے کبھی یہ سوچا کہ ہم نے ان 76سالوں میں کیا کھویا کیا پایا ہے۔ وہ واحد ریاست ہے جو محض سات سال کی مختصر مدت میں معرض وجود میں آئی تھی اس کی وجہ وہ قیادت اپنے جذبے سے اپنے نظریے سے مخلص بے لوث تھی اس وقت کی قیادت میں لوٹے کرچھے چمچے نہیں تھے وہ سیاست دان حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے تھے اور آج کے سیاست دان جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات، امتیازات اور ترجیحات کے لیے ملک کا وقار اور اس کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہوا ہے، ایک وہ سیاست دان تھے جنہوں نے ملکی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دئیے اور ایک آج کے سیاست دان ہیں جو اپنے اقتدار کی خاطر اپنی دھرتی ماں کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتے، اپنے محسنوں کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، پاک فوج پر دشنام طرازیاں کرتے ہیں، لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان پر تشدد کرتے ہیں۔

  • فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    جرم کے خاتمے کیلئےپولیس ،بیوروکریسی میں بھی کڑا احتساب ناگزیر
    محض اتفاق کرسی پربھی بٹھاتا ہے اور کوڑے دان میں بھی پھینک سکتا

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاک آرمی نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پرانضباطی کارروائی کا آغاز کرکے قوم پر ثابت کردکھایا ہے کہ پاکستان آرمی اور مقتدر حلقے استحکام پاکستان کے راستے میں آنے والی بڑی سے بڑی رکاوٹ کو مصلحت سے بالاتر ہو کر اپنے راستے سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاک فوج میں خود احتسابی ایک بہت سخت کڑا کار عمل ہے جو ہر وقت جاری رہتا ہے اس احتسابی نظام میں کسی قسم کی کرپشن ،بے ضابطگی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر یہ نظام ایکشن میں آتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں برتی جاتی جتنا بڑاآفیسر ہوتا ہے اتنا ہی سخت احتساب ہوتا ہے اوریہ اندرونی احتساب کا عمل ہر وقت متحرک رہتا ہے اور یہ محض الزامات پر ایکشن نہیں لیتا بلکہ ٹھوس شواہد پر ایکشن میں آتا ہے، پاک فوج نے ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان ا ور دفاع پاکستان ایک خواب نہیں، مضبوط عزم سے جنم لینے والی حقیقت ہے، فیض حمید کے خلاف کارروائی سے پاک آرمی نے عوام پر آشکار کردیا ہے کہ پاکستان کا استحکام اور مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہے اور مقتدر حلقے اپنے وقار ، اخلاص ، محب الوطنی پر ذرا آنچ نہیں آنے دیتے،

    قارئین پاک آرمی اور مقتدر قیادت نے تو ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان کے سامنے کسی فرد ، عہدے ، طاقتور شخصیت کی کوئی اہمیت نہیں، اب ملکی سیاسی جماعتوں ، حکمرانوں ، بیورو کریسی ، پولیس کو بھی اپنی آنکھیں کھولنی چاہیے ، سیاسی جماعتوں میں مرکز ، ڈویژن ضلع و تحصیل ، پولیس ، بیورو کریسی میں تھانہ و پٹوارخانہ سے ضلع ڈویژن اور صوبے کی سطح پر لینڈ مافیا ، منی لانڈرنگ ، عوام سے لوٹ مار ، جواء، منشیات کے دھندوں میں ملوث بھتہ خور عناصر کو اپنے اپنے رینکس اور قطار میں گھس بیٹھیے نام نہاد سیاسی رہنمائوں اور کرپٹ افسران سے نجات حاصل کرنا ہوگی، قومی سلامتی کے اداروں کو بیورو کریسی اورپولیس پر کڑی نظر رکھنا ہوگی تاکہ استحکام پاکستان کے کاررواں میں سے رہزنوں کو نکال کر منزل کا حصول ممکن ہو ، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ قوموں کو مایوس کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی، ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدا رمیں پہنچاتا ہے دوسرا اتفاق ایوان اقتدار سے اٹھا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

  • راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس حکام کی کیا مجبوری،جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی دیدی
    چند ایس پیز،اور ڈی ایس پیز کا نیٹ ورک اتنا مضبوط کیوں،کون ذمہ دار؟

    راولپنڈی شہر میں ا یک ہی دن میں 112 وارداتوں کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے ،،،، گاڑی چوری، موٹر سائیکل چوری سمیت گھروں کو لوٹ لیاگیا،،، اگر راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر جہاں پاک فوج اورجملہ اداروں کے دفاتر موجود ہیں کا یہ حال ہے تو باقی صوبے کا کیا ہوگا؟ یہ سوال وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ، وفاقی وزیر داخلہ ، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے ہے،راولپنڈی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس تماشا دیکھنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مسلح ڈاکو دیدہ دلیری سے لوٹ مار مچا رہے ہیں،سوال یہ بھی ہے کہ راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر میں اعلیٰ پولیس ، افسران کی تعیناتی میں آنکھیں بند کیوں کی گئی ہیں ؟ عوام کو چوروں ، ڈاکوئوں ، رسہ گیروں ، لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کا کون ذمہ دار ہے؟ آئی جی پنجاب کیوں بے بس ہیں،راولپنڈی کو لے کر آئی جی پنجاب کی گڈ گورننس کے آگے کون سی دیوار ہے ؟ راولپنڈی کو دوسرا کراچی کیوں بنا دیاگیا ؟ کیا راولپنڈی لاوارث شہر ہے ؟

    گذشتہ دنوں پاک فوج کے سربراہ نے درست کہا کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا جرم فساد فی الارض ہے،پاک فوج اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فساد فی الارض کے خاتمے کے لئے جدوجہد کررہی ہے ان کی ساری تقریر سنی ایک باوقار شخص باوقار گفتگو کرتا ہے، یقینا پاک فوج اور جملہ اداروں نے قربانیاں دے کر ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ماضی میں بھی مقابلہ کیا، مستقبل میں بھی عوام پاک فوج سے یہی توقع رکھتی ہے، ماضی میں کسی زمانے میں کراچی روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں تبدیل کردیا گیا تھا لیکن پاک فوج اور جملہ اداروں اور ذمہ دار پولیس افسران نے مل کر کراچی میں روشنیاں بحال کی تھیں، بلاشبہ پاک فوج اورجملہ اداروں کے ساتھ پنجاب اور دیگرصوبوں کی پولیس نے بھی امن بحال کرنے میں کردار بھی ادا کیا اور شہادتیں دیں مگر یہ کیاقہرہے کہ آج راولپنڈی میں پولیس کے وہ افسران جن میں ایس پیز ، ڈی ایس پیز کاایک مخصوص نیٹ ورک ہے، جس نے مخلوق خدا کو چوروں ، ڈاکوئوں ،لینڈ مافیا ،رسہ گیروں ، جوئے کے اڈے چلانے والوں ، اور بدمعاشوں کے حوالے کردیا ہے،آخر سی پی او اور آر پی او راولپنڈی کی وہ کونسی مجبوری اور بے بسی ہے کہ وہ اس پولیس نیٹ ورک کے آگے بے بس ہیں جبکہ آئی جی پنجاب بھی راولپنڈی کو لے کر بے بس ہیں کیا آج کے یہ پولیس افسران پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ جہاد فی الارض میں حصہ لے سکتے ہیں ؟

  • محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پہنچی وہیں پہ خاک.جہاں کا خمیر تھا
    اصل غدار بے نقاب،ملک کو دولخت کرنے والے اپنے آقائوں کی بانہوں میں پہنچ گئے
    بھارتی آقائوں کے سامنے اقتدار کی ہوس کیلئے غلامی کا سودا مہنگا پڑ گیا
    فوج پر الزام لگانے والے سیاسی یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر معاف نہیں کرتی

    بھارت کی کوکھ اگرتلہ سے جنم لینے والی سازش مکتی باہنی کے بازئوں میں پلنے والے مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اقتدار چھوڑ کر ننگے پائوں واپس اگرتلہ بھاگ گئی پاکستان کو دولخت کرنے والا ٹولہ اپنے آقائوں کی بانہوں میں پناہ لے کر خلیج بنگال میں ڈوب گیا، 1971ء میں ہم نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا اور آج ہم نے پاکستان سے غداری کرنے والے مجیب الرحمان اور اس کی باقیات کو عبرتناک انجام تک پہنچتے دیکھا، محب وطن پاکستانی عوام کو روحانی تسکین ہوئی اور بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی رانی حسینہ واجد کے ہاتھوں تختہ دار پر جھولنے والے علمائے دین جماعت اسلامی کے اکابرین اور مکتی باہنی کی آمریت کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے رضاکاروں کی ارواح کو بھی تسکین ہوئی ہوگی، جنہوں نے غدار وطن مجیب الرحمان اور اس کی بیٹی کی آمریت پر شہادت کو ترجیح دی، افواج پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو بھی سکون ملا ہوگا کہ کس طرح دشمنان پاکستان سے اگرتلہ کے ایئربیس پر 1968ء میں سازباز کر کے مجیب الرحمان کو متحدہ پاکستان کے دارالخلافے میں پٹ سن کی خوشبو آنا شروع ہوئی اور اس نے بھارت کے آقائوں کے آگے اپنی اقتدار کی ہوس کے لئے غلامی کا سودا کیا ، مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان اور محب پاکستان کے جان و مال اور عزتوں سے خون کی ہولی کھیلی اور بھارتی پروپیگنڈے اور وسائل کے بل بوتے پر سقوط ڈھاکہ کی راہ ہموار کی اور اقتدار حاصل کیا اور پھر اس کی بیٹی نے بھی اپنے آقائوں کی آشیر باد سے دھونس دھاندلی سے ظلم سے اپنے اقتدار کو طوالت دی، آج افواج پاکستان پر لگائے جانے والے سقوط ڈھاکہ کے الزامات کو بھی قدرت نے جھوٹا قرار دے دیا،

    شہیدان ملت اور غازیان پاک فوج بھی سروخرو ہو گئے قدرت نے غداری اور محب وطن کو رات اور دن کے فرق کی طرح واضح کر دیا، افسوس ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پاک فوج پر الزامات لگاتی رہی اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی رہی، مجیب الرحمان سے حسینہ واجد کے انجام سے ان لوگوں کو سبق سیکھنا ہوگا جو اب بھی بھارتی ایجنسیوں کے جھانسے میں آکر کوڑیوں کے مول اپنے اقتدار کے خوابوں کے بدلے وطن عزیز کے خلاف اور افواج پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر کبھی کسی غدار کو معاف نہیں کرتی۔

  • کس طرح فرقہ پرست قیادت جمہوریتوں کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے

    کس طرح فرقہ پرست قیادت جمہوریتوں کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے

    انسانوں کا ہیرو کی پرستش کی طرف فطری رجحان ہے، جو اکثر کھیلوں کے ستاروں اور اداکاروں کی تعریف میں دیکھا جاتا ہے، جو ہماری ثقافت میں گہرا جڑا ہوا ہے۔ تاہم، یہ رجحان اس وقت خطرناک ہو جاتا ہے جب لوگ غیر اخلاقی لیڈروں کے بت بنانا شروع کر دیتے ہیں، جس سے شخصیت کے فرقے کا عروج ہوتا ہے۔ یہ رجحان صرف آمرانہ حکومتوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جمہوریتوں پر تیزی سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

    آج، شخصیت کا فرقہ پروان چڑھ رہا ہے جب افراد اہم سماجی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے مکمل طاقت کے ساتھ "عظیم مردوں” پر بھروسہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، چین کے صدر اور روس کے صدر نے خود کو "تاحیات” کے طور پر رکھا ہے۔ ان کی حکومتیں ناقابل تسخیر ہونے کی چمک پیدا کرنے کے لیے مطابقت پذیر پروپیگنڈہ مشینری کا استعمال کرتی ہیں، ہیرو کی پرستش کی ثقافت کو فروغ دیتی ہیں۔ پاکستان میں عمران خان کے ساتھ بھی ایسا ہی رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔

    جمہوریت چاہے سرمایہ دارانہ ہو یا سوشلسٹ، اسے ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو رائے اور اختلاف رائے کی آزادی کو فروغ دیتا ہو۔ جمہوریت کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے، اس کے حامیوں کو کرشماتی لیڈروں کے ارد گرد کی ہپ کے بجائے پالیسیوں اور مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، سیاسی عمل میں فعال طور پر شامل ہونا چاہیے۔ باخبر اور تنقیدی حامی خود غرضی، انا پرستی اور جارحیت کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں ، قائدین کو اپنی قابلیت اور کامیابیوں کا تنقیدی جائزہ لینے کی ترغیب دینا جمہوری اصولوں کی بہتر خدمت کر سکتا ہے۔

    اس کے برعکس، اندھی اطاعت جمہوریت کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ بیکار رہنماؤں کو برقرار رکھنے کی قیمت قومی تقسیم کا باعث بن سکتی ہے، پیروکاروں کے درمیان پرتشدد رویے کو بھڑکا سکتی ہے، اور آزادی اور انصاف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی فرقوں میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ سیاسی جماعتیں منشوروں کی بنیاد پر کام کرتی ہیں، جب کہ سیاسی فرقے اپنے رہنماؤں کو خدا کی طرح کا درجہ دیتے ہیں، دوسری جماعتوں کے خلاف نفرت پروان چڑھتے ہیں جنہیں ناقابل تلافی کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے جولائی 2023 میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں، ڈاکٹر اسٹیون حسن کی ایک کتاب "دی کلٹ آف ٹرمپ” کا حوالہ دیا، جو بتاتا ہے کہ کس طرح ٹرمپ جیسے فرقے کے رہنما دماغ پر قابو پانے کی تکنیک کا استعمال کرتے ہیں جو یہاں تک کہ معاشرے کے تعلیم یافتہ اور عقلی طبقوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

    یہ عوام، پارٹیوں کے حامی ہیں جنہیں اپنے لیڈروں تک مسلسل رسائی، جانچ اور سوال کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔

  • مسئلہ فلسطین و کشمیر،اقوام متحدہ و مسلم امہ کا "مجرمانہ”کردار.تجزیہ: شہزاد قریشی

    مسئلہ فلسطین و کشمیر،اقوام متحدہ و مسلم امہ کا "مجرمانہ”کردار.تجزیہ: شہزاد قریشی

    اقوام متحدہ کے وجود پر مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک جواب صرف نام نہاد اُمہ ہے اس پر بھی سوالیہ نشان ہے؟ اگر اقوام متحدہ کا اور مسلم اُمہ کا کوئی وجود ہوتا تو کشمیر اور فلسطین میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام نہ ہوتا ، ان مسئلوں کا حل کرنے کاکردار کسی نے بھی کیا ۔اسلامی ممالک کے حکمران لاغر اور مفلوج ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کسی مسئلے کو حل کرنا اس کے بس کی بات ہی نہیں رہی۔ دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کی ویٹو اور ایسے ہی ہے جیسے ان کے ہاتھوں میں کوئی پستول ہو ، جہاں ان کے مفادات سے کسی مسئلہ کا حل ٹکرائو کھاتا ہے وہاںیہ اقوام متحدہ کی کنپٹی پر یہ اوزار رکھ کر اس سے اپنی بات منواتے ہیں۔ کشمیر جیسے اور فلسطین جیسے مسائل انہی طاقتوں کے مفادات کے لئے پیدا کئے گئے تھے۔ انہی طاقتوں کی محکوم اقوام متحدہ بھلا کیسے اور کیونکر حل کروائے گی ؟ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر تنازع پر تین جنگیں ہو چکی ہیں مذاکرات کے لامتناہی دھارے اور سربراہی ملاقاتیں ہمیشہ ناکام ہی رہیں۔ مسلم حکمران ان معاملات سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ کشمیر اورفلسطین میں خونریزی جاری ہے۔

    ہماری پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں نے سرحدوں کی حفاظت کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ ایٹمی قوت کا حامل ایک اسلامی ملک عالمی سیاسی کھلاڑیوں کو ہضم نہیں ہوتا پاک فوج اور جملہ ادارے اپنی سلامتی اور وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے ۔ ہمارے فوجی وطن عزیز کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔ میں اگر خط پوٹھوہار کا ہی ذکر کروں کوئی ایسا گائوں نہیں جسے کسی شہید کے مسکن ہونے کا اعزاز حاصل نہیں اور کتنے ہی مستقبل کے شہداء جو اس وقت ملک کے مختلف محاذوں پر داد شجاعت دے رہے ہیں۔

    آج کے ملکی حالات کو دیکھ کر کبھی کبھی یہ محسوس ہوتاہے کہ کوئی نہ کوئی عالمی سازش ہو رہی ہے کہ پاکستان کو اس قدر کمزور کردیا جائے کہ پاکستان بھارت کو آنکھیں نہ دکھا سکے۔ گذشتہ پنجاب پولیس نے شہداء کا دن منایا گیا ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے انگنت قربانیاں دی ہیں پنجاب پولیس کے سینکڑوں نوجوانوں اور افسروں نے قربانیاں د ی ہیں۔ پنجاب پولیس کے سینکڑوں نوجوانوں اور افسروں نے قربانیاں د ی پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا پولیس کے شہید ہونے والے نوجوان بھی ہیرو ہیں۔ یہ ہمارے وہ ہیرو ہیں جنہوں نے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کردیا۔

  • کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    کل اقتدار کے مزے لوٹے آج مخالفت کیوں،کچھ تو خیال کریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں،،،،،(ریورس)
    فوج اور عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی بند کی جائے
    نوجوان نسل کو تباہی کی دھکیلنے والے ملک کی خدمت کررہے؟
    سرحدوں کے پاسبانوں پر حملے حب الوطنی نہیں،فوج ہے تو ہم ہیں

    آئے روز مختلف مفروضے اس سے بھی زیادہ پیشن گوئیاں سوشل میڈیا پر ملتی ہیں جبکہ حقائق مختلف ہیں، ملک معاشی بحران کی زد میں ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادراک ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی ہے اورایرانی صدر کا طیارہ حادثہ اور اب حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کی تہران میں شہادت،بلوچستان میں وطن عزیز کی سکیورٹی پر مامور نوجوان کی شہادت اور زخمی ہونا، افغانستان کے ذریعے بھارت کا وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنا، دیگر اسلامی ممالک میں آگ اور خون کا کھیل ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے وطن عزیز کی حفاظت پر مامور پاک فوج اور جملہ اداروں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے معاشرے میں شر پھیلا رہے، شرانگیز قوتوں کی پشت پناہی سیاسی اور مذہبی قوتیں کر رہی ہیں خدا کا قہر ایک آزاد ملک میں یہ کون سی حقیقی آزادی مانگ رہے ہیں؟ وطن عزیز کے نوجوانوں سے التجا ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں اکثریت اب ایسے لوگوں کی ہے جن کی میری طرح ایک پیر قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے ، کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے کسی کو علم نہیں، اپنے اقتدار اور اختیارات کے لئے شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ چکی ہیں،موجودہ بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامے عدلیہ کو اس وطن عزیز کے مستقبل کے لئے آگے بڑھ کرکردار ادا کرنا ہوگا، عسکری اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کا یوں تمسخر اڑانا درست قرار نہیں دیا جا سکتا، جو سیاسی و مذہبی جماعتیں عدلیہ اور عسکری اداروں کے خلاف تقریری مہم جوئی کر کے اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کر رہی ہیں، ان کے خلاف عوام میں عدم اعتماد بڑھ رہا ہے، بیہودہ رویوں کو نکیل ڈالنے کے لئے عدلیہ اور عسکری اداروں کو اور اس ملک کے نوجوان نسل کے مستقبل کے لئے حرکت میں آنا ہوگا۔، آج جن مسائل کا عوام کو سامنا ہے جس عذاب سے عوام گزر رہے ہیں ،سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں یہ سب اقتدار میں رہے مذہبی جماعتوں نے بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹے عوام کے مسائل کا ذمہ دار کون ہے؟ بقول نامعلوم شاعر
    دھوکہ دیتے ہیں اور معزز ہیں، کیسے لوگوں کا زمانہ ہے۔
    ضمیر زر کے ترازو میں تل رہے ہیں
    کہاں کا زہد و تقویٰ کہاں علم و ہنر
    ان رہبران قوم کی کیا پیروی کریں
    جو رہبری کے نام پر سوداگری کریں