Baaghi TV

Category: سیاست

  • معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    2016 اور2017 کے درمیان ملکی معیشت مستحکم ہو رہی تھی ۔ نواز شریف کا دور حکومت تھا۔ سینیٹر اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے وہ رات گئے کام کرتے ، پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے شکنجے اور سود سے چھٹکارے کے قریب پہنچ چکے تھے پھر ناانصافیوں کے جھرمٹ میں چھپی ایسی آندھیاں چلیں گے ۔ ترقی کے منازل طے کرتا ہوا پاکستان ایک بار پھر گہری کھائی میں جاگرا.تادم تحریر معیشت مستحکم نہ ہو ہو سکی اورنہ ہی وطن عزیز کو عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا مل سکا ۔قرض در قرض وطن عزیز کا مقدر بنا۔

    موجودہ شہباز حکومت کے وزیر خزانہ قوم کو سچ بتائیں قرض کی ادائیگی کے لیے نئے قرض مانگے جا رہے ہیں، معیشت مستحکم نہیں عوام پر بجلی کے بلوں کو لے کر بہت زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔معیشت کی تباہی اور مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کا ذمہ دار سابق حکومت یا موجودہ حکومت کو ٹھہرانا سوال نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاشی بُحران کیسے ختم کیا جا سکتا ہے ۔قوم کو اس سوال کا جواب حکومت بھی اور اپوزیشن بھی بتائے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف حدوں کو کراس کر گئے ہیں۔ان حالات میں قوم کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں ؟ شہباز حکومت ، پیپلزپارٹی ، مذہبی جماعتیں ،اپوزیشن قوم کو بتائے کہ مستقبل میں ملکی معیشت کو کس طرح مستحکم کریں گے؟سستی بجلی ،ڈیم بنانے او رمتبادل ذرائع پر کوئی منصوبہ بندی کی گئی؟ جو معاہدے آئی پی پیز سے کئے یا منصوبے لگائے ان منصوبوں سے آئی پی پیز سود سمیت منافع بٹور رہی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے پاس ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا کوئی منصوبہ ہو نہ ہو تاہم ملک میں انتشار پھیلانا،افواہ پھیلانا ،اپنے ہی اداروں کو کمزور بنانا ۔ یہ جانتے ہوئے کہ اداروں کو بقااور شخصیات کو فنا ہے پھر بھی اب تو خیر ہے یہ کاروبارکا روپ دھار چکا ہے۔

    وطن عزیز میں کچھ ان دنوں افوا ساز کارخانوں کی پیداوار میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ وطن عزیز میں ایک منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے ۔پاکستان دشمن طاقتیں بھارت کے ساتھ مل کر اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔ وقت کا تقاضا متضاد بیان دے کر آپس میں اختلافات پیدا کرنے کا نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینے کا ہے ۔ تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداء کی روحیں سیاسی جماعتوں سے ایسے فیصلہ کن کی منتظر ہیں جو مستقبل میں قومی عزت ووقار اور وطن عزیز کی بقا و سلامتی کا ضامن بن سکے۔

  • ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈیجیٹل دہشتگردی بھی خطرہ،ذاتی نہیں ملکی مفاد مقدم ہونا ضروری،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    عالمی عدالت نے اسرائیل کو فوجی آپریشن فوری طورپر روکنے کا حکم دیا تھا، رفاہ میں فوجی آپریشن فوری روکنے کا یہ حکم 15 میں سے 13 ججوں کی غالب اکثریت کے ساتھ صادر کیاگیا تھا ،یہ حکم صرف حکم ہی رہا ،اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول بحیرہ احمر کی بندرگاہ الحدیدہ کو نشانہ بنایا،اس حملے کا مقصد حوثیوں پر دبائو ڈالنا تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت بند کریں،اسرائیل کو اقوام متحدہ کا خوف نہ عالمی برادری کا ڈر اور نہ ہی عالمی عدالت کے فیصلے کی پروا ہ،صرف یہی نہیں بلکہ سلامتی کونسل ،اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ،ترکی ، ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کی مذمتی قرار دادیں، دنیا بھر بشمول اسرائیل ، امریکہ ، برطانیہ دیگر یورپی ممالک میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی جلوس اور ریلیاں بھی اسرائیل کا ہاتھ نہ روک سکیں، دنیا ہوش کے ناخن لے قتل عام کی پالیسی آج اگر غزہ میں نافذ ہے تو آنے والے کل کہیں اور بھی ہوسکتی ہے، کشمیر میں بھارت قتل عام میں ملوث ہے اور غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کی پالیسی پوری انسانیت کے لئے خطرہ ہے ،اس پالیسی کو روکنا ہوگا،

    دوسری جانب گذشتہ روز پاک فوج کے ترجمان نے جہاں 9 مئی کا ذکر کیا وہیں امن عامہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں میں امن قائم رکھنا صوبوں کی ذمہ ہے،16 ہزار مدارس کا بھی ذکر کیا ان کو کون چلا رہاہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ،انہوں نے وطن عزیز میں دو قسم کی دہشت گردی کا ذکر کیا،ڈیجیٹل دہشت گرد اصل دہشت گردوں کو سپورٹ کررہے ہیں، انہوں نے عزم استحکام کا بھی تفصیلی ذکر کیا، قارئین بلاشبہ وطن عزیز میں شرانگیز اور شریر قوتیں حد سے بڑھ گئی ہیں اگر ایسی زبانوں کو لگام نہ دی گئی یہ ندیاں دریا کا روپ دھار لیں گی، ہماری یکجہتی خواب وخیال بن کر رہ جائے گی، بدقسمتی سے ہماری سیاست کی دنیا میں ایسی ہوا اور وبا چلی کہ خدا کی پناہ سیاست تو عبادت کا درجہ رکھتی ہے مگر سیاست میں مفاد پرست اور لالچی لوگوں نے اسے آلودہ کرکے رکھ دیا ہے، سیاست کا اجتماعی چہرہ گہناکر رہ گیا، استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے دیانتدار فرض شناس پیشہ وارانہ مہارت، بلند حوصلے کے پیکر پولیس افسران ،سول انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں ذمہ دار افسروں کو تعینات کیا جائے جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار ادا کریں،جن افسران کا ماضی ،حال داغدر ہے وہ کیسے استحکام پاکستان میں کردار ادا کر سکتے،، ایں خیال است و محال است

  • حکمران خوشحال ،عوام بے حال ،یہ ہے پیارا پاکستان ۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکمران خوشحال ،عوام بے حال ،یہ ہے پیارا پاکستان ۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک وسائل سے مالامال،ہم کشکول لئے کب تک پھرتے رہیں گے
    عیاشیاں کرنے والے سیاستدانوں کے کارناموں سے دشمن خوش!
    ہر معاملے میں پاک فوج پر تنقید،دانشور سیاسیوں نے قائد کو بھی شرمادیا
    تجزیہ: شہزاد قریشی
    محسن کشی اور احسان فراموشی دیکھنی ہو تو وطن عزیز میں دیکھی جاسکتی ہے۔ آج کے پاکستان کی حالت دیکھ کر اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ہمارے سیاسی گلیاروں میں سیاست کرنے والے اقتدار اختیارات پروٹوکول عیاشیاں کرنے والے سیاستدانوں کی کمال مہربانی سے دشمنان وطن کے ممالک میں شادیانے بج رہے ہیں۔ ملکی سیاست اور جمہوریت کی منڈی میں جو سودے ہورہے ہیں یا کئے جارہے ہیں عوام کی اکثریت ان سے بے خبر ہے۔ سیاسی چالبازیاں عروج پر ہیں۔ ملکی و قومی سلامتی کیا ہے اس سے بے خبر ہو کر سیاستدان اپنے مفادات کے لئے اپنے ذاتی مخبروں کے ذریعے شاید اسٹیبلشمنٹ بھی اور عوام بھی ان کی اس شطرنجی سیاست سے بے خبر ہیں۔ آج ملک میں جو کچھ ہورہا ہے یا کیا جارہا ہے ماضی حال کو دیکھتے ہوئے ملکی سلامتی کے اداروں کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ ہر معاملے میں پاک فوج اور جملہ اداروں کو ملوث کرنا ملکی سلامتی کے پیش نظر درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سیاسی گلیاروں میں بابائے قوم کے پاکستان کے ساتھ کون سا کھیل کھیلا جارہا ہے؟

    وطن عزیز کو اس وقت معاشی صورت حال کے ساتھ بہت سے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے مورخ لکھے گا کہ جب پاکستان کی معیشت غیر مستحکم تھی’ 25کروڑ عوام اپنے بنیادی مسائل کا رونا رو رہی تھی سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے نظر آرہے تھے۔ اس سے زیادہ بے حسی کا مظاہرہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ سیاسی گلیاروں میں جو انداز سیاست اپنایا جارہا ہے سا سے تصادم کی فضا ہموار ہورہی ہے۔ بھارت سمیت عالمی قوتیں وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کررہی ہیں۔ 25کروڑ عوام پاک فوج اور جملہ اداروں کو انتہائی الرٹ رہنے کی ضرورت ہے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختون خواہ کو غیر مستحکم کرنے کا ایک نہ دکھائی دینے والا عالمی منصوبہ ہوسکتا ہے۔ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے پاک فوج اور جملہ ادارے ملک و قوم کے لئے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے شہید ہورہے ہیں۔ استحکام پاکستان پر بھرپور توجہ دی جائے قدرت نے پاکستان کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے غضب یہ ہے کہ ہم قدرت کی ان نوازشات سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ہمارے ہاں دیانت لفظ صرف کتابوں اور زبانوں پر نظر آتا ہے عملی نہیں۔ عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ترقی ممکن ہے۔
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

  • عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    بقول شاعر ،ہر سمت ظالموں کی خدائی ہے اے خدا،
    جینے کا حق نہیں ہے کسی بدنصیب کو،
    اس عہد نامراد میں رزق حلال کیا ،
    عزت کی موت بھی ملتی نہیں غریب کو،
    سی پی او راولپنڈی کے آفس سے چند گز کے فاصلے پر تھانہ سول لائن سے لے کر گوجر خان تک لہو کےسفر کی خبروں نے ہلا کر رکھ دیا ، انسانی حقوق کی بازگشت پارلیمنٹ ہائوس سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک سنائی دیتی ہے مگر کیا انسانی حقوق صرف اس ملک کے جاگیرداروں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں، اعلیٰ عہدوں پر فائز اہم شخصیات کے لئے ہیں، عام آدمی کے لئے انسانی حقوق کے قانون لاگو نہیں ہوتے؟ یہ سوال پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی، اعلیٰ عدلیہ، سول انتظامیہ، آئی جی پنجاب، مقتدر حلقوں سے بھی ہے؟ ذیشان نامی ملزم راولپنڈی پولیس نے چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا، دوران تفتیش راولپنڈی پولیس نے گوجرخان پولیس کے حوالے کر دیا ،مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ملزم کی حالت غیر ہو ئی اور وہ موت کی آغوش میں چلا گیا ،مرحوم چور تھا یا نہیں سوال یہ ہے کہ پولیس کو تفتیش کرنے کا حق تو قانون دیتا ہے پولیس کو جان سے مار دینے کا حق کس نے دیا؟

    یوں تو راولپنڈی کےسی پی او سمیت کچھ ایس پی اور ڈی ایس پی حضرات کی داستانیں زبان زدعام ہیں مگر اس دلخراش واقعہ نے راولپنڈی پولیس کی نااہلی، عدم کنٹرول، ڈسپلن کے فقدان اور خود احتسابی سے چشم پوشی آشکار کر رہی ہے ،سنتا جا شرماتا جا کی غیبی آوازیں ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں، راولپنڈی کی پولیس ہمیشہ ملک کے دیگر اضلاع اور ڈویژن سے مختلف اعلیٰ اقدار اور صلاحیتوں سے مزین افسران کا گلدستہ رہی ہے، یہاں چوہدری اسرار، رائو محمد اقبال، ناصر خان درانی، ڈاکٹر شعیب سڈل، سید سعود عزیز، فخر سلطان راجہ، طلعت محمود طارق، احسن یونس جیسے افسران اور دیگر بہت سے افسران جن کے نام یاد نہیں،تعینات رہے ان لوگوں نے راولپنڈی پولیس کی ورکنگ ڈسپلن، کارکردگی، اخلاق اور مورال کو ایک بلندی سے نوازا ،ان افسران کے کارناموں سزا و جزا کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے، آج راولپنڈی میں پولیس کی ہوس زر کی داستانیں زبان زدعام ہیں لینڈ مافیا سے یارانے، جوئے کے اڈوں سمیت دیگر اخلاقی جرائم میں اضافہ راولپنڈی پولیس پر سوالیہ نشان ہے؟

    سی پی او سمیت راولپنڈی کے ایس پیز اور ڈی ایس پیز نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ان کاوشوں کو ٹھیس پہنچائی ہے جو وہ تھانہ اور چوکی کی سطح پر پولیس کے مورال اور عزت میں اضافے کے لئے دن رات کر رہے ہیں، راولپنڈی کے تھانوں اور علاقوں میں منشیات اور دیگر جرائم کا تقابلی جائزہ بھی شرمناک ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور مقتدر حلقوں کو یقیناً ضلع کی پولیس میں عمل تطہیر کے ذریعے ان داغوں کو دھونا ہوگا اگر استحکام پاکستان میں اس طرح کے افسران ہمسفر رہے تو پھر پاکستان کا خدا ہی حافظ ہے، راولپنڈی پولیس کے چند افسران نے راولپنڈی کو پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے اور راولپنڈی کو اپنی ذاتی جاگیر تصور کررکھاہے جس میں عام آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہے۔

  • کیا مقبولیت حکومت کرنے کے لیے کافی ہے؟”

    کیا مقبولیت حکومت کرنے کے لیے کافی ہے؟”

    پاکستان ایک بار پھر سیاسی بحران کا شکار ہو گیا ہے ۔ اگرچہ میڈیا میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور آنے والے منظرنامے کے بارے میں ہر قانونی نکتے پر بحث ہو رہی ہے، لیکن سب سے بنیادی اور اہم نکتہ نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ایک مقبول رہنما ہونا ریاستی معاملات کو سنبھالنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک بہترین پالیسی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ صرف اپنی پارٹی کے ارکان کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت، بلکہ معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی قابلیت درکار ہوتی ہے۔سٹیٹس مین شپ ایک ایسی سیاسی قیادت ہے جو طاقت اور دانشمندی کو یکجا کر کے مشترکہ بھلائی کو یقینی بناتی ہے۔ قیادت انسانی معاونین کی رہنمائی کے ذریعے اہداف کا حصول ہے۔ ایک ایسا شخص جو اپنی ٹیم کو مخصوص مقاصد تک پہنچنے کے لیے مؤثر طریقے سے منظم کرتا ہے، ایک رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ ایک حقیقی عظیم رہنما وقت کے ساتھ ساتھ اور مختلف حالات میں مسلسل یہ کام انجام دیتا ہے۔ہر سطح پر افقی اور عمودی طور پر تصادم میں توانائی ضائع کرنے پر توجہ دینا ایک انتہائی برے رہنما کی نشانی ہے، چاہے وہ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو۔ ہمیں "اچھی عوامیت” اور "بری عوامیت” میں فرق کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان کا کنٹینر سیاست میں ملوث ہونا، اور وزیراعظم رہنے کے دوران، ان کی صلاحیتوں کو ایک مقبول رہنما اور سیاست دان کے طور پر کمزور ظاہر کرتا ہے۔شکوہ نام لے کر برا بھلا کہنے، دوسروں کے ساتھ ٹیم کے طور پر کام کرنے سے انکار کرنے پر ہے۔ مزید برآں،عمران خان ساڑھے تین سال میں معیشت کو بحال کرنے میں ناکام رہے اور فوج کی حمایت کھو بیٹھے۔ اس صورتحال میں، عوامی ہمدردی حاصل کرنے کا ان کے پاس واحد آپشن امریکہ مخالف جذبات کو ابھارنا تھا، جو انہوں نے مؤثر طریقے سے کیا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ سیٹ اپ نے کمال کر دکھایا ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے عام آدمی کی حالت انتہائی تکلیف دہ ہے۔یہ ایک بار پھر پاکستان کے لیے چیلنج کا وقت ہے۔

  • بجلی کے بل بھریں یا…تحریر:حنا سرور

    بجلی کے بل بھریں یا…تحریر:حنا سرور

    پاکستان دنیا کا سب سے مہنگی ترین بجلی پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔۔دس بیس ہزار سے ستر ایک لاکھ تک کمانے والا طبقہ پریشان ہے بجلی کے بل بھریں کہ بزرگ والدین کا علاج کروائیں یا بچوں کو سکول پڑھائیں۔یا پھر گھر کا راشن پانی لیں۔لوگ نفسیاتی ہورہے ہیں نوجوان بیروزگار ہے خودکشیاں کررہے ہیں بجلی کے بلوں کی وجہ سے ہر گھر میں بے سکونی ہے لڑائی جھگڑے ہیں کہ بل کون دے۔۔جو پیسے لوگ بیٹیوں کی شادیاں کرنے کے اور بچوں کی فیسیں جمع کرنے کے حج و عمرہ کرنے کے اور قربانی کے جانور خریدنے کے لیے جمع کرتے تھے وہ لوگ اب پیسے بجلی کے بل بھرنے کے لیے جمع کرتے ہیں لوگ اپنے موبائل فون بیچ رہے ہیں سونا بیچ رہے ہیں تاکہ بل بھر سکیں۔۔

    اور حکومت کی بے حسی دیکھیے پارلیمنٹ میں موجود ہر مذہبی و سیاسی ارکان کو تمام سہولیات مراعات فری ہے۔۔ان کے بیرون ملک کے ٹکٹ فری ہے ان کی سات نسلیں غریب عوام کے ٹیکس پر پلتی ہے ۔کیا ہی اچھا ہو جو بوجھ یہ عوام پر ڈال رہے ہیں خود پر ڈالیں یہ دو تین مہینے سہولیات مراعات نہ لیں تو اربوں روپیہ انھی سے نکل سکتا۔

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • امریکی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل

    امریکی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر پنسلوانیا میں ہفتے کی شب حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں ریلی میں شریک ایک شخص کی موت ہوئی جبکہ دو زخمی ہوئے، حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ایف بی آئی کے ترجمان کیون روجیک کا کہنا تھا کہ حکام نے فائرنگ کرنے والے کی شناخت کر لی ہے تاہم وہ تفصیلات جاری نہیں کریں گے۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے واقعہ نے 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے،اس واقعہ نے امریکی سماجی ،ثقافتی اور امریکی سیاست میں سلامتی کے طویل عرصے سے موجود بھرم کو توڑ دیا، حملے میں ٹرمپ کو معمولی چوٹ آئی، نیویارک ٹائمز کے ڈگ ملز کی تصویر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر کے قریب سے گولی جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

    1981 میں جان ہنکلے جونیئر کے ہاتھوں رونالڈ ریگن کو گولی مارنے کے بعد سے صدارتی امیدوار کے خلاف تشدد کا ایسا ڈرامائی عمل نہیں دیکھا گیا۔ امریکہ کی سیاسی گفتگو پر اس واقعے کے مستقبل کے اثرات غیر یقینی ہیں۔ اگرچہ یہ یقینی ہے کہ یہ حملہ ٹرمپ کی مقبولیت کے گراف کو کئی درجے بڑھا دے گا.

    ٹرمپ پر حملہ کے بعد قومی اتحاد کو فروغ دینے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔ چند گھنٹوں کے اندرامریکی صدر جو بائیڈن جو نومبر میں ٹرمپ کے ممکنہ مخالف تھے، نے خطاب کرتے ہوئے کہا، "اس قسم کے تشدد کے لیے امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے،ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے،قاتلانہ حملہ امریکی اقدار کے خلاف ہے ۔”

    تاہم، اس واقعہ نے تیزی سے متعصبانہ تنازعہ کو بڑھا دیاہے کچھ ریپبلکن سیاست دان اس حملے کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو ٹھہرا رہے ہیں۔ (ایسے میں مجھے پاکستانی سیاست کی یاد آ رہی) دریں اثنا، جمعرات کی رات ٹرمپ کے اسٹیج پر آنے پر قومی سطح پر اسپاٹ لائٹ سخت ہوگی۔ ہر آنکھ گھبراہٹ یا نافرمانی کی علامت دیکھے گی۔ پہلے سے ہی ایک بلند مٹھی کے ساتھ خون آلود لیکن منحرف ٹرمپ کی تصاویر ریلی کی علامت بننے کے لیے تیار ہیں۔ ریپبلکن پارٹی یقینی طور پر اسے بہادری اور دفاع کی علامت کے طور پر استعمال کرے گی۔

    اس غیر متوقع انتخابی سال میں ایک بات یقینی ہے کہ امریکی سیاست ایک نئے، مہلک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

  • احسان صادق کی تعیناتی انتہائی احسن فیصلہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    احسان صادق کی تعیناتی انتہائی احسن فیصلہ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آئی جی پولیس سائوتھ پنجاب احسان صادق کو اینٹی منی لانڈرنگ واینٹی ٹیررفنانسگ اتھارٹی کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کے بطور تعیناتی کا فیصلہ انتہائی احسن اور قابل ستائش ہے ۔ جس سے ثابت ہوتاہے کہ پاکستان کے معاشی و مالی معاملات اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے اوریہ استحکام پاکستان کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ احسان صادق پاکستا ن پولیس سروس کا ایک مایہ ناز ستارہ ہیں۔ حب الوطنی ، دیانتداری فرض شناسی پیشہ وارانہ مہارت ،تقویٰ ، پرہیز گاری اور بلند حوصلے کا پیکر ہیں۔ ایف آئی اے میں بطور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل فنانشیل کرائم فرائض سرانجام دیتے ہوئے ڈاکٹر احسان صادق نے وطن عزیز کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے لئے جس جانفشانی اور مخصوص جذبے سے سرشار ہو کر کام کیا اس کا اعتراف اس وقت کے وزیر خارجہ نے بھی کھلے دل کے ساتھ سراہا ۔ بطور ایڈیشنل آئی جی پولیس سائوتھ پنجاب منظم کرائم میں ملوث گروہوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ۔

    استحکام پاکستان ایک فوجی آپریشن کا نام نہیں جیسا اس کو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ استحکام پاکستان” رائٹ مین فار رائٹ جاب کا نام بھی ہے” استحکام پاکستان میں اعلی کردار قومی جذبے ایماندار نیک نیتی اورپ یشہ وارانہ مہارت کے حامل افسران و اہلکاروں کا اہم عہدوں پر تعیناتی حکومت اور مقتدرہ کی جانب سے ان آفیسران کی بہتر کارکردگی میں معاونت کا نام ہے ۔ بلاشبہ احسان صادق کا انتہائی حساس مشن کی تکمیل کے لئے انتخاب حکومت اور مقتدرہ کااحسن اقدام ہے ۔ یقینا ایسے اقدامات کے ثمرات قوم کو جلد ملیں گی۔ ملک کے تمام صوبوں میں بیورو کریٹ ،سول انتظامیہ ، اعلٰی پولیس افسران موجود ہیں جن کا ماضی حال داغدار نہیں، بدقسمتی سے جن کو فیلڈ میں رہ کر ملک وقوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دینا چاہیئے وہ ” کھڈے لائن ”لگے ہیں جو قانون کی حکمرانی دیانتداری میں اپنی مثال آپ ہیں مگر افسوس سیاسی پشت پناہی اور دیگر عوامل ان شخصیات کا راستہ روکا ہوا ہے۔ راولپنڈی ایک حساس ترین شہر ہے اس شہر سے لے کر پنجاب میں پولیس کے اعلیٰ افسران ، سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کا ماضی اور حال دیکھیں تو کیا یہ استحکام پاکستان کے لئے سوالیہ نشان نہیں ؟عقاب کی نظر رکھنے والے اعلیٰ پولیس افسران کی موجودگی میں لینڈ مافیا کے ڈیروں کو آباد کرنے والوں نے پولیس کے محکمہ کو بدنام کرکے رکھ دیاہے۔استحکام پاکستان کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ذمہ دار بن کرریاست پنجاب اور دیگر صوبوں میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران اور سول بیورو کریسی کے افسران کی لسٹ منگوا کر غور و فکر کریں ایسے افسران کو تعینات کریں جو استحکام پاکستان میں اپنا کردار اعلیٰ کارکردگی کے حامل افراد کو تعینات کیا جائے۔

  • عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالت میں مخصوص ریلیف،ریاست کیلئے خطرناک،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے نوجوان بچوں اور بچیوں، آپ وطن عزیز کا مستقبل ہو، آپ نے ا س مل کو آگے لے کر جانا ہے ۔ ملک کے سیاستدانوں کی اکثریت اپنے اقتدار کے لئے آپ کو استعمال کررہی ہے ۔ سوشل میڈیا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بازاری زبان استعمال کی جا رہی ہے ملکی سرحدوں کے محافظوں کے خلاف گندی اور غلیظ مہم چلائی جا رہی ہے۔میری ذاتی رائے میں یہ ایک وطن عزیز کے خلاف بین الاقوامی سازش ہے سیاستدان اس سازش کا ایک باقاعدہ حصہ مبینہ طورپر ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک منظم طریقے سے ہو رہا ہے ہماری ثقافت پر بھی حملہ ہے۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے یو ٹیوب پر چینل کھول کر بیٹھے ڈس انفارمیشن سے خوب مال کما رہے ہیں آپ کے لائیکس سے ان کی روزی میں اضافہ ہوتا ہے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر وطن عزیز کے اداروں کو برباد کرنے کی اجازت نہیں د ی جا سکتی ۔ حدود وقیود میں رہ کر اخلاقی دائروں میں رہ کراداروں پر تنقید برائے اصلاح ضرور کریں مگر چند ڈالروں کے خاطر ملکی سلامتی کو دائو پر لگانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں د ی جانی چاہیئے۔

    عراق،افغانستان ، شام ، لیبیا آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار تو اس کے پیچھے عالمی سازش تھی ان ممالک میں حوس زر اور حوس اقتدار کے ایسے لوگ جو عالمی طاقتوں سے مل کر اپنے ہی ملکوں اور قومی سلامتی کے اداروں کو کمزور کیا اور انہیں متنازعہ بنایا۔ امریکہ جیسے ملک میں سی آئی اے ، پینٹاگان اور کانگریس کے درمیان کئی پالیسیوں پر اختلافات ہوتے ہیں مگر کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امریکہ کے قومی سلامتی کے اداروں کی بنائی پالیسی پر حاوی ہو سکے۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہر ذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تو اتر کے ساتھ گندی اور غلیظ مہم چلانا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔

    ملکی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں ،جھوٹ ، فریب اور سازشوں کے انبار نظر آئیں گے۔ ملکی سیاستدانوں کا روز مرہ افوا ہ پھیلانا معمول بن چکا ہے ۔ عام آدمی اپنے بنیادی مسائل کی تلاش میں سرگرداں ہے، اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ سفید پوش لوگ بھی مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی قائدین اور انکے حواری مخصوص نشستوں کے لئے نبرد آزما ہیں۔ انہیں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور قیمتوں کا احساس ہی نہیں۔ یہ قومی سیاسی رہنما ہو ہی نہیں سکتے۔ انہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ اپنا اقتدار عزیز ہے۔ اپنے اختیارات عزیز ہیں ۔دنیا میں جب کسی ملک کے قومی اداروں کو مفلوج کردیا جائے ۔ سیاسی شخصیات ان اداروں کو اپنا تابع بنائیں ۔ عدالتوں میں مخصوص لوگوں کو ریلیف دینا شروع ہو جائے۔ کسی بھی ریاست کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔

  • غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیراخلاقی گفتگو،معاشرہ کہاں‌جا رہا؟ذمہ دار کون.تجزیہ:شہزاد قریشی

    چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری نکاح ، طلاق ،عدت پر جاری مسائل قرآن و سنت سے ماخوذ پر شرعی حدود قیود ہیں،اس پر بحث کرنے سے منع کیا ہے۔ بلاشبہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے درست کہاہے ۔ افسوس ہم اسلامی ملک کے دعویدار ہیں ،ہم اپنی آنے والی نوجوان نسل کو کیا سبق دے رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیاپر اس طرح کے بیانات پرکیا کبھی کسی نے سوچا ہے ،معاشرے کی نوجوان بچیوں اور بچوں کو کیا سبق پڑھا رہے ہیں؟ یہ عین شرعی مسائل ہیں ۔ ان شرعی مسائل کے بارے میں مباحثہ مناسب نہیں اس طرح کی بحث سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ عمر سیدہ سیاستدانوں ،بیورو کریٹ ، دانشور اور دیگر سے یہی التجا کی جا سکتی ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی بحث کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ معاشرے میں اخلاقی جرائم میں اضافہ ہوتا ہے معاشرہ ہرلحاظ سے زوال پذیر ہوتا ہے۔ افسوس صد افسوس اس طرح کی بحث سے بے حیائی کو فروغ دینے کے مترادف ہے ۔ حد ہو گئی کہ سینکڑوں علمائے دین ، مذہبی جماعتیں اس بے حیائی کو روکنے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی۔ یاد رکھیئے فرمان الٰہی اور فرمان نبوی کو اپنی مرضی ،اپنی طبیعت کے مطابق ڈھالنے کا انجام بہت بُرا ہوتا ہے۔ انسان اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ دینی حلقوں کے اسٹیج سے فرضی کہانیاں بنانے والوں نے کبھی سوچا کہ ہم اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو جو سوشل میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا کی زینت بن رہی ہے اس کے اثرات معاشرے پر کیا ہونگے؟

    پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے اپنی طاقت پر اترانے والوں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہے ؟ معاشرے کو سدھارنے کی بجائے ہم معاشرے کو کدھر لے کر جا رہے ہیں؟ کیا ایک اسلامی معاشرے اورانسانیت کو پامال نہیں کررہے ۔یاد رکھیے مرنے کے بعد حساب دینا ہے ۔حساب لینے والا لے گا ۔ اپنے دل پر ہاتھ کر غور کریں کیا ہم حد کراس نہیں کررہے ۔ ایک اسلامی معاشرے میں اس طرح کی غیر اخلاقی گفتگو معاشرے کے نوجوانوں پرکیا اثرات مرتب کرتی ہے۔معاشی لحاظ سے قوم پہلے ہی زوال پذیر ہے۔ خدارا اخلاقی زوال سے قوم کو بچا لیجئے۔