Baaghi TV

Category: سیاست

  • حکمران قبلہ درست کریں ورنہ۔۔۔۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکمران قبلہ درست کریں ورنہ۔۔۔۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    ایک ایسی ریاست جس کے عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں اُس ریاست کے سیاستدانوں سیاسی جماعتوں کے قائدین کو جمہوریت آئین اور قانون کی حکمرانی اُس وقت یاد آتی ہے جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے۔ اپنی شعلہ بیانی کے ذریعے ایسے ایسے شعلے پھینکتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ بلوچستان میں ایک جلسے میں تحفظ آئین کو لے کر ایسے ایسے سیاستدانوں کو آئین پر شعلہ بیانی کرتے دیکھا جو اقتدار میں رہے یہ اپوزیشن ہے اور ملک میں ہونے والے انتخابات سے افسردہ ہیں۔ اپوزیشن نے عمران خان کو فوری جیل سے رہانے کا مطالبہ بھی کیا۔اونچی آواز میں بات کرنا سیاسی گلیاروں میں کوئی نئی بات نہیں۔اصل بات عمل کی ہے کیا دور اقتدار میں آئین پر عمل کیا جمہور کے بنیادی مسائل پر توجہ دی ؟ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا؟ ملکی وسائل پر بھر پورتوجہ دی گئی؟ عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں پھنسے پاکستان کو آزاد کروایا ؟ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے گئے؟ قانون کی حکمرانی کے لئے کردارادا کیا گیا؟ آئین میں لکھے عوام کے حقوق کے بارے میں عمل کیا گیا؟

    موجودہ حکمران طبقے کو بھی اپنے عمل کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا کہ یہ پاکستان اور جمہور کی خدمت پر مامور ہیں بہتر راستہ ایک ہی ہے کہ اپنا قبلہ درست کریں اپنا ٰرُخ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی طرف موڑ دیں۔

    یاد رکھیئے موجودہ دور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے عوام پاگل ، گونگی ، یا نااہل نہیں ہے موجودہ دور پاکستان کا مستقبل نوجوان بچے اور بچیاں ہیں ان کے بہتر مستقبل پر توجہ دیجئے ۔اہل سیاست ہی نہیں بیورو کریٹ ، بیورو کریسی ، اعلیٰ عہدوں پر فائز بہت سی شخصیات ، عدلیہ ذاتی مفادات سے بلند ہو کر سب سے پہلے پاکستان کے استحکام عوام کی فلاح اور اپنے اداروں کی مضبوطی اور قانون کی بالادستی یقینی بنانا ہوگی ۔ ورنہ تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے یہی ایک واحد راستہ ہے غلط راستوں کا انتخاب احمق لوگ کیا کرتے ہیں۔ تکبر اور غرور کی حدوں کا کراس کرنے ، مسخرے پن سے باہر نکل کر سوچیئے

  • عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

    عمران خان کی اک غلطی کی سزا قوم بھگت رہی، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلا شبہ عمران خان ایک مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ اور عوام میں مقبول ہیں لیکن کیا ان کے دور حکومت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں؟ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان سے ایسے فیصلے کروائے گئے یا انہوں نے خود کئے جس کا خمیازہ آج پاکستان بطور ریاست بھگت رہی ہے،نائن 11 کے بعد جو کچھ پاکستان میں ہوا ایک عالم گواہ ہے پھر نواز شریف کا دور حکومت آیا ، پاک فوج اور جملہ اداروں نے ضرب عضب کےنام سے آپریشن کا آغاز کیا ،ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہوا اس آپریشن میں پاک فوج، پولیس اور دیگر اداروں نے حصہ لیا،کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان کو جانی و مالی نقصان پہنچایا، پاکستان کو قیمتی جانوں کے ساتھ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،پھر عمران خان کا دور حکومت وجود میں آیا تو انہوں نے اسی ٹی ٹی پی سے معاہدہ کیا اور ان کو پاکستان واپس آنے کی دعوت دی کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یہ عمران خان کی بہت ہی بڑی غلطی تھی اس ایک غلطی کی سزا آج پاکستان اور قوم بھگت رہی ہے، ٹی ٹی پی نے دوبارہ حملے شروع کردیئے فوج اور پولیس نہ جانے کتنے ہی جوان آج تک شہید ہورہے ہیں، بالآخر فوج نے تنگ آکر افغانستان نہیں بلکہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا تھا،

    سمجھ سے بالاتر ہے ایک اسلام کی دعویدار حکومت اپنے ملک میں دہشت گردوں کو پناہ کیوں دے رہی ہے اور ایک ہمسایہ اسلامی ملک میں مسلمانوں کو ہی شہید کیوں کروارہی ہے، یہ افغانستان حکومت سے ایک سوال ہے ، آخر دہشت گردوں کو افغانستان ہی کیوں پناہ دیتا ہے؟ اس وقت پاکستان کی مضبوط معیشت سب سے اہم ضرورت ہے فوج اور دیگر اداروں میں جذبہ ایمانی موجود ہے شہادت کی آرزو بھی ہے فوج وہ کامیاب ہوتی ہے جسے اس کے عوام اور سیاستدانوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے، ہمارے حالات یہ ہیں عوام تو ہر حال میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن ہمارے کم عقل سیاستدان اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیدا کی گئی خرابیوں کا ذمہ دار فوج کو ٹھہرانے کی کوشش کررہے ہیں، آج کل سوتنوں کی طرح تو طعنے دیئے جارہے ہیں، پاک فوج کےنیچے سے زمین کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں، نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کیا جارہا ہے یاد رکھیے فوج اور جملہ ادارے سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں جبکہ شہروں میں پولیس ڈاکوئوں‘ اجرتی قاتلوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالنے پر مامور ہے جمہوریت کے علمبردار جمہوری تقاضے پورے کریں۔

  • پاکستان میں بھارتی دہشتگردی اور ہماری پالیسی۔ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پاکستان میں بھارتی دہشتگردی اور ہماری پالیسی۔ تجزیہ :شہزاد قریشی

    دہشت گردی کے ناسور کا قلع قمع کرنے کے لئے عسکری قیادت برسرپیکار ہے سیاسی جماعتوں کو مخالفت برائے مخالفت سے بالاتر ہو کر انتہائی بردباری ،سیاسی تدبر کا مظاہرہ اورجمہوریت کے شجر کو مضبوط کرنا چاہیے،سب کوملکی ترقی میں اپناکردارا دا کرنا ہوگا،بلاشبہ سوشل میڈیا کا دور ہے ،میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ذاتی مفادات کے لئے ملک و ملت کے مفادات کو دائو پر لگانے سے گریز کرنا ہوگا،بھارت پاکستان میں خونی کارروائیوں میں ملوث ہے ، بھارت خطے میں درندوں کی پشت پناہی کرنے والا ملک ہے ،عالمی برادری کو بھارت کے مکروہ کردار پر نظر رکھنا ہوگی، عالمی سازشوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور معاشی صورت حال کے پیش نظر ارض وطن تقاصا کرتا ہے کہ یہ وقت ایک دوسرے کے گریبان تار تار کرنے کا نہیں ہے

    بہت ہو چکا ملکی تمام ادارے آئین کے مطابق اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ملکی استحکام اور بہتر معاشی نظام کے لئے عملی کاوشیں بروئے کار لائیں،پاک فوج اور جملہ ادارے ارض وطن کا ایک باوقار ادارہ ہے جو ملک وقوم کا نگہبان ہے اتنی تضحیک تودشمن بھی نہیں کرتے جتنی آج کل ملک میں ہو رہی ہے، کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بیرونی سازش ہمارے اداروں کے خلاف نہ صرف سازش کررہی ہے بلکہ ہمارے اداروں میں ٹکرائو کی بھی کوشش کررہی ہے۔ یاد رکھیے ہمارا دشمن بھارت ہی نہیں بہت سے عالمی سیاسی کھلاڑی بھی ہیں سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں یہ ہماری سیاست ہے یا ناکامی، ہم ایک مضبوط ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کی صف میں کھڑے ہیں، ہماری قومی پالیسیاں کیا ہیں، قومی استحکام کی پالیسیاں کیا ہیں، ہمارا دشمن بیدار اور چالاک ہے ہمارے سیاسی رہنمائوں کوکچھ تو ہوش کرنی چاہیے، ملک وقوم کی خاطر معیشت مستحکم کریں اپنا اپنا کردار اداکریں ملکی وسائل اور زراعت پر خصوصی پر توجہ د یں ،مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے۔

  • سیاست میں سفارتی سمجھ بوجھ کا فقدان،عمران خان کا نقصان

    سیاست میں سفارتی سمجھ بوجھ کا فقدان،عمران خان کا نقصان

    سیاست میں سفارتی سمجھ بوجھ کا فقدان،عمران خان کا نقصان
    سفارتکاری ملکی یا بین الاقوامی معاملات میں ہو۔ عصری چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے حکمرانی کے دائرے میں تیار رہنا چاہئے مناسب، شفاف، اور فرتیلا رہنے کے لیے موافق، سفارت کاری کے پیچیدہ کاموں کو متعدد باہم جڑے ہوئے عوامل سے تشکیل دیا جاتا ہے۔
    سول سوسائٹی کے مختلف طبقات ، پرائیویٹ سیکٹر، مذہبی دھڑے، تارکین وطن، میڈیا ، حکومتی فیصلہ سازی میں شمولیت خاص طور پر خارجہ پالیسی کے لیے شور مچاتے ہیں، ان کے مطالبات بلا روک ٹوک سفر، مضبوط بین الاقوامی تجارت اور متنوع ثقافتی تبادلوں کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔ معاشی سفارت کاری آہستہ آہستہ روایتی سیاست پر مبنی نقطہ نظر کو زیر کرتی ہے۔ اس ماحول میں جدید سفارت کار کو کثیر جہتی چیلنجز کا سامنا ہے۔
    سفارتی ذہانت کی ایک اہم جہت کسی ملک کی داخلی حرکیات کو متحرک کرنے میں مضمر ہے۔ ہر سیاست دان کو اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے، سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، اور سائنسی شعبوں میں قومی مفادات کا بھرپور طریقے سے تحفظ اور آگے بڑھنے کے لیے سفارتی مہارت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
    عمران خان کی خاطر خواہ عوامی حمایت کے باوجود، مقبولیت پسندانہ بیان بازی کے لیے ان کا رجحان، اکثر اسٹریٹجک مقاصد کی قیمت پر، سفارت کاری میں واضح کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ موثر حکمرانی کے حصول کے لیے عوامی مینڈیٹ کا فائدہ اٹھانا اسٹیک ہولڈر تعلقات کے نازک توازن کا تقاضا کرتا ہے۔
    افسوس کے ساتھ، عمران خان کا مسلسل محاذ آرائی کا موقف نہ صرف ان کے اور ان کی پارٹی کے لیے بلکہ، سب سے اہم، ان کی قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ حالیہ واقعات، جیسے القادر ٹرسٹ کیس کے بعد ان کے بیانات، ڈان نیوز کی جانب سے اس تلخ حقیقت کو واضح کرتے ہیں۔
    عمران خان نے کہا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے جو لوگ ان پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں وہ پارٹی کو ‘تباہ’ کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ (خان کا اپنی شریک حیات بشریٰ بی بی کا دفاع، سمجھے جانے والے ٹارگٹ کے خلاف، پارٹی کے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔)
    ہفتہ کو اپنی میڈیا ٹاک میں، سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سابق صدر عارف علوی کے ذریعے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کو ایک پیغام بھی پہنچایا تھا کہ وہ لندن کے نام نہاد پلان کے بارے میں جانتے ہیں۔ (مطلب ‘لندن پلان’ کے بارے میں ان کے دعوے اور ‘مائنس 1’ فارمولے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیاسی چالبازیوں کی طرف سفارتی چالاکی کو چھپانے کی اطلاع دی گئی ہے)
    موجودہ حکومت کے بارے میں، عمران خان نے دعوی کیا کہ "بادشاہ پیچھے بیٹھا ہے اور وزیر داخلہ محسن نقوی اس کے وائسرائے کے طور پر سب سے آگے ہیں”۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ (موجودہ حکومت پر ان کی تنقید، اس کی ساکھ کو مزید کم کرتی ہے۔)

    اس پیش رفت کی روشنی میں کوئی یہ سوال کرنے پر مجبور ہے کہ کیا عمران خان کو سفارت کاری کا فن سیکھنے میں بہت دیر ہو چکی ہے یا ان کا زوال ناگزیر ہے؟

  • چھ ججوں کے خط کا معاملہ،ہو نا کیا چاہئے؟

    چھ ججوں کے خط کا معاملہ،ہو نا کیا چاہئے؟

    چھ ججوں کے خط کا معاملہ،ہو نا کیا چاہئے؟
    پچھلے ہفتے باغی ٹی وی کے لیے اپنے وی لاگ "یاسمین کی بیٹھک” میں، میں نے واضح طور پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ازخود نوٹس کی پیش گوئی کی تھی اس وقت تک تحقیقاتی کمیشن بھی نہیں بن پایا تھا۔

    یہ توقع سے پہلے ہوا ، کچھ متعلقہ سوالات حل طلب ہیں،
    • کیا ان الزامات کو حقائق سے ثابت کیا جا سکتا ہے؟
    • کیا ملزمان، سابق عدلیہ کے اراکین، اور فائدہ اٹھانے والوں سمیت حقائق کا پتہ لگانے کے لیے ملوث تمام فریقین کو عدالت میں طلب کیا جائے گا؟
    کیا یہ معاملہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک اور تصادم کی طرف بڑھے گا؟
    • کیا قانونی پیچیدگیوں سے ناواقف افراد کو قیاس آرائیوں کے لیے مواد فراہم کرتے ہوئے کارروائی براہ راست نشر کی جائے گی؟
    یہ سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں، یہ واضح ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل شکایت کو حل کرنے کے لیے مناسب فورم نہیں تھا۔ میں پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 209[5] کا حوالہ دیتی ہوں، "(5) اگر، کسی ذریعہ سے معلومات پرکونسل یا صدر کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا کوئی جج (a) جسمانی یا ذہنی معذوری کی وجہ سے اپنے عہدے کے فرائض کو صحیح طریقے سے انجام دینے سے قاصر ہے۔ یا (b) بدتمیزی کے مرتکب ہو سکتے ہیں، صدر کونسل کو ہدایت دے گا، یا کونسل، اپنی تحریک پر، اس معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے۔”
    سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ کار اوپر بیان کردہ دفعات تک محدود ہے۔
    معزز ججز توہین عدالت سے نمٹنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 204 کو استعمال کر سکتے تھے۔ آرٹیکل 204 عدالت کو کسی بھی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار دیتا ہے جو عدالت کے عمل میں مداخلت کرتا ہے یا اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

    یہاں ہمارے معزز ججوں کے حلف کا حوالہ دینا مناسب ہے جس میں ان کے سوال کا جواب موجود ہے۔ حلف کے اندر کلیدی لائن یہ ہے:
    "یہ کہ، ہر حال میں میں ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ، قانون کے مطابق، بلا خوف و خطر،انصاف کروں گا۔”
    مزید برآں، سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے پہلے سے ہی ایک ضابطہ اخلاق موجود ہے۔
    اہم بات یہ ہے کہ کیس کے ٹی او آرز کی اچھی طرح وضاحت کی جائے اور لائیو ٹرانسمیشن سے گریز کیا جائے تاکہ وکلاء گیلری اور بعض حلقوں میں پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اس کا استعمال نہ کریں۔
    سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ملوث تمام فریقوں کا یکساں احتساب ہونا چاہیے۔

  • جمہوریت کا قاتل ،عوامی محرومیاں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    جمہوریت کا قاتل ،عوامی محرومیاں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    ملک کی تمام جماعتیں جمہوریت کی خود قاتل ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ بھٹو کا قتل جمہوریت کا قتل تھا ،محترمہ بے نظیر بھٹو کا راولپنڈی میں قتل جمہوریت کا قتل تھا۔ نواز شریف کو تین بار وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردیا گیا جمہوریت کا قتل تھا۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کی قاتل ہی ہیں ۔ آئین کی خود قاتل ہیں۔ ملک کا ہر نظام تباہی کے دہانے پر اگر آج نظر آرہا ہے تو اسکے ذمہ دار خود سیاستدان ہی ہیں۔ آج جس جماعت کو آئین قانون پارلیمنٹ کی آزادی نظر آرہی ہے۔ نظام میں خرابیاں نظر آرہی ہیں اسی جماعت نے آئین قانون جمہوریت کے خلاف سازش کی اور ایک جمہوری حکومت کے خاتمے کا سبب بنی ( نواز شریف کی حکومت) اگر بھٹو عدالتی قتل تھا تو نواز شریف کی حکومت کو بھی عدالتی قتل ہی قرار دیا جا سکتا ہے ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ جمہوریت کا قتل تھا۔ ملک میں جمہور کے قاتل سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی ہیں،

    خدا کی پناہ 75 سال کا عرصہ گزر گیا کروڑوں عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ، بنیادی تعلیم ، طبی سہولتوں سے محروم،نوجوان بے روزگار ،معیشت ،زراعت ،ملکی وسائل پر توجہ نہیں ۔ میرٹ کی دھجیاں ، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات سے عوام محروم اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ جمہوریت اور آئین کے علمبرداروں سے سوال ہے کہ عوام کا کیا قصور ہے جو عوام آپ کو ووٹ دے کر اقتدار فراہم کرتی ہے اس عوام کے لئے بھی آئین میں لکھا ہے کیا اٰن شقوں پر عمل کیا جا تاہے ۔ عوام کو فوری اور سستاانصاف فراہم کرنے کی صدائیں بلند ہوتیں ہیں کیا ایسا ممکن ہوا ؟ جمہوری حکومت وہ ہوتی ہے جو اعلٰی اخلاقی اورجمہوری قدروں کی حامل ہو ۔ وہ حکومت سب کی ہو اور سب کے لئے ہو ،سب کے ساتھ عدل وانصاف کیا جائے۔

    بدقسمتی سے آج بھی ہم نے تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا ۔ اعلی پولیس افسران سینئر ترین جنہیں فیلڈ میں ہونا چاہیے وہ دفاتروں میں بیٹھے ہیں۔ سول بیورو کریسی سے لے کر سول انتظامیہ میں بھی میرٹ کو دفن کرد یا گیا ہے ۔ پنجاب ، وفاق ،سندھ ، کے پی کے میں میرٹ دفن کردیا گیا۔ سینئر افسران کو کھڈے لائن اور جونیئر کو آگے کیاجا رہا ہے ۔ جب تک رائٹ میں فار رائٹ جاب پر عمل نہیں ہوگا ۔ ترقی نہیں ہوگی۔ وفاقی وزراء کے قلمدان بھی کچھ اس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اک خطرہ

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اک خطرہ

    پاکستان میں مہنگائی انتہائی تیزی سے بڑھی ہے، مہنگائی کی شرح اپریل 2023 تک 36.4 فیصد تک پہنچ گئی ، مینگائی میں سات ماہ کے اندر اندر 13.2 فیصد پوائنٹس کا حیران کن اضافہ ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر کے لیے پاکستان کا صارف قیمت انڈیکس (سی پی آئی) پچھلے سال کے مقابلے میں 29.7 فیصد بڑھ گیا ہے

    1. مہنگائی کی وجوہات:
    حکومت کی لاپرواہی: یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں موجودہ کاروباروں کی حمایت اور نئے کاروباروں کی ترقی کو فروغ دے کر آمدنی کی سطح کو بڑھانے کے لیے اقدامات کو ترجیح دینے میں ناکام رہی ہیں۔
    آئی ایم ایف کی پابندیاں: آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کردہ سخت شرائط نے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر بجلی کے ٹیرف، صارفین کی قوت خرید کے جمود کے درمیان بڑھے ہوئے آپریشنل اخراجات کی وجہ سے بہت سے پیداواری یونٹ ناقابل عمل ہیں۔
    کرنسی کی قدر میں کمی: پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے افراط زر کو مزید بڑھا دیا ہے، خاص طور پر درآمدی اشیا کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔
    غیر ملکی ذخائر کی کمی: غیر ملکی ذخائر کی شدید کمی کے نتیجے میں درآمدات پر پابندیاں لگ گئی ہیں، بشمول زندگی بچانے والی ادویات جیسی ضروری اشیاء،
    جمود کا شکار برآمدی منڈیاں: پاکستان کی اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع اور وسعت دینے میں ناکامی نے اسے دیگر معیشتوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مثال کے طور پر چین اور بھارت جیسے ممالک نے افریقہ میں اپنے برآمدی قدموں کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے، براعظم میں پاکستان کی برآمدات کم سے کم ہیں، جو برآمدی حکمت عملیوں میں تنوع اور جدت کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
    اقتصادی تنہائی: پاکستان کی معیشت اپنے ہم عصروں کے مقابلے نسبتاً بند ہے، محدود برآمدی تنوع اور محصولات کے حصول کے لیے درآمدی محصولات پر زیادہ انحصار، جو تجارتی انضمام کو نقصان پہنچاتا ہے اور برآمدی مسابقت کو کمزور کرتا ہے۔ مسابقت کو بڑھانے اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔

    2. اسٹریٹجک ردعمل کی فوری ضرورت:
    پیداواری صلاحیت کو ترجیح دینا: پیداواری کوششوں کی طرف فنڈز کو ری ڈائریکٹ کرنا سب سے اہم ہے، معاشی بحالی کی شدید ضرورت کے درمیان پنجاب میں سرکاری مکانات کی تعمیر نو جیسی کوششیں غلط لگتی ہیں۔
    موجودہ منظر نامہ صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ حکمران جماعت، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگائی سے نمٹنے اور معیشت کو استحکام اور ترقی کی طرف لے جانے کے لیے ٹھوس حل فراہم کرے۔

  • اسٹیبلشمنٹ  سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسٹیبلشمنٹ سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ۔ تجزیہ : شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    ملکی سیاسی جماعتیں، وی لاگرز، یوٹیوبرز، بعض دانشور، سوشل میڈیا پر جمہوریت کو لے کر اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کو کسی بھی زاویئے سے درست نہیں کہا جا سکتا۔ ملکی سلامتی کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے ۔ سیاسی حکومتیں اور ان حکومتوں کا نظام کچھ عرصے کے لئے ہوتا ہے تاہم بنیادی قومی مفادات اور متعلقہ پالیسیوں کے بارے میں بنیادی مفروضے ہمیشہ تبدیل نہیں ہوتے۔ دنیا کے تمام ممالک اپنی سالمیت اور خودمختاری کو برقرار رکھنے اور اپنے قومی مفادات کی جراتمندی سے حفاظت کرتے ہیں۔

    تاریخ کا مطالعہ کریں ملک کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی طنزیہ انداز میں ریاست کے اندر ریاست کہا کرتے تھے کیونکہ یہ حکومتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہے۔ یاد رکھیئے یہ نادیدہ قوت عوام کے مفادکے لئے حکومتوں پر نظر رکھتی ہے۔ سب سے طاقتور اسٹیبلشمنٹ امریکہ کی ہے امریکی سلامتی کا تقاضا ہے کہ امریکہ یورپی دنیا میں مستقل مسلح موجودگی رکھنا اپنی افواج کو دور دراز علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے لئے تیار کرنا اور کسی بھی وقت کہیں بھی مداخلت کرنے کے لئے تیار رہنا سابق امریکی صدر اوباما اور بش کا دور حکومت یاد کریں دنیا کے کسی بھی ملک کی اسٹیبلشمنٹ دفاع کی پہلی لائن ہے اور قومی مفادات پر کسی بھی طرف سے کسی بھی حملے کی راہ میں پہلی رکاوٹ ہے۔ اس کے مقاصد ان سیاستدانوں کے مخالف ہیں جو قومی مفاد کے وژن کو ذاتی مفاد کو مقدم سمجھتے ہیں سیاستدانوں کی اکثریت شاید ہی اگلے انتخابات سے آگے سوچتے ہیں ان کی پالیسیاں انتخابات جیتنے اور اقتدار میں رہنے کی خواہش سے چلتی ہیں۔ اقتدار میں رہنے کی خواہش اپنی روح شیطان کے ہاتھ فروخت کرنے اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے اس شیطانی کوشش کو اسٹیبلشمنٹ نہ صرف روکتی بلکہ ہر دم چوکنا رہتی ہے۔

    ملکی تاریخ میں دو مثالیں واضح ہیں کیری لوگر بھی دوسرا بدنام زمانہ میمو اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ چوکنا نہ ہوتی تو سوچئے کیا ہوتا؟ دوسرا تاثر عام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ خارجہ پالیسی کے معاملات خاص طور پر افغانستان، بھارت اور امریکہ سے متعلق اثرانداز ہوتی ہے جبکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی جہاں امریکی سلامتی کے مفادات شامل ہیں وہاں پینٹاگان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ملک میں موجود امریکی ہمدردوں نے ہر قابل فہم جرم میں اپنی سلامتی کے اداروں کو ملوث کیا ہے پاک فوج اور جملہ اداروں کوئی بھی منفی خبر بھارتی اور امریکی میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر دکھائی جاتی ہے۔ غیر ملکی منفی پروپیگنڈہ سیاستدانوں کی ایماء پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات انتہائی لطیف انداز میں اسٹیبلشمنٹ کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے آج کے پاکستان میں کچھ بین الاقوامی اور کچھ ملکی سطح پر افراد اپنے قومی سلامتی کے اداروں پر روزانہ کی بنیاد پر زہریلا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کی اکثریت اپنی عسکری قیادت پر اعتماد کرتی ہے عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہر دور میں سیاسی ہنگامہ آرائی کے باوجود قوم کی نجات دہندہ ہے۔

  • قحط ،خشک سالی کی دستک،ہوش کب آئیگا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    قحط ،خشک سالی کی دستک،ہوش کب آئیگا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    صاحبان اختیارات ،ذمہ داران ریاست ،اعلٰی عہدوں پر فائز بیورو کریٹ ،بیورو کریسی کے افسران ، سیاسی گلیاروں میں جدید دور کے مسیحا، ہیروز ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز ، یہ ارض وطن کی زمین کی ملکیت خدا پاک کی ہے اس میں بسنے والے یعنی رعایا ،بچاری ،مظلوم بے بس ، لاچار ، غریب ،کسمپرسی ،بھوک ، بیمار ی اور دیگر بنیادی مسائل میں مبتلا ہے۔ صاحبان اختیارات سے التجا ہی کی جا سکتی ہے کہ ارض وطن پانی کی شدید کمی والے ممالک میں دنیا میں تیسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے ۔ ملک میں قحط اورخشک سالی کی دستک کی آواز بلند ہو رہی ہے اس آواز پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اگر اس پر توجہ نہ د ی تو پاکستان پانی کی مکمل قلت والے ممالک میں شامل ہو جائے گا بہت سی وجوہات ہیں جو پانی کی کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی سرفہرست ہے فیکٹریوں اور کارخانوں کا ناقص زیر زمین پانی کو بے حد گندا کررہا ہے امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات موجود ہیں۔ پاکستان اس حوالے سے دنیا سے بہت پیچھے ہے ۔ یہ ا یک سنگین مسئلہ ہے ملک کے سیاستدان اس سنگین مسئلے کو مد نظر رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر اس سر زمین کی زندگی بچانے کے لئے آنے والی نسلوں کے لئے سر جوڑ کر فیصلہ کریں

    یہ مسئلہ خدا پاک کی ملکیت سرزمین کا ہے ۔ اس میں بسنے والے دانشوروں کو خوراک کی کمی ، قلت اور قحط جیسے حالات کے خطرات منڈلاتے کیوں نہیں دکھائی دیتے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ زراعت کے لئے بھی پانی درکار ہے ۔زرعی شعور رکھنے والے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پانی کولے کر یہ صورت حال کس قدر تشویش ناک ہے۔ معیشت کومستحکم کرنے کے لئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارو کو قسط دینے کے لئے ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔ مگر پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے لئے پانی کس سے اُدھار لیا جائے گا؟ کس ملک سے پانی مانگا جائے گا؟ خدارا سیاسی لڑائیاں اقتدار اور اختیارات کے لئے تو لڑی جا رہی ہیں کبھی اس ریاست کے سنگین مسائل پر بھی توجہ دیں۔

  • پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور امریکی مؤقف

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور امریکی مؤقف

    پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اور امریکی مؤقف

    رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی آخری تاریخ میں 180 دن کی توسیع کی ہے اور اسے ستمبر 2024 تک بڑھا دیا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی عدالتوں میں ممکنہ قانونی تنازعات کو ٹالنا ہے۔ یہ اقدام قانونی چارہ جوئی کے خطرے اور پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات پر ممکنہ دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ تہران پائپ لائن منصوبے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔

    ایران سے سستی گیس کی درآمد ان تخمینوں کی روشنی میں بہت اہم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سات سالوں میں پاکستان کا درآمدی بل تقریباً دوگنا ہو کر 31 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ "امن پائپ لائن”، تہران اور اسلام آباد کے درمیان ایک طویل مدتی منصوبہ زیر غور ہے لیکن اسے مختلف سطحوں پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

    اس منصوبے میں بنیادی رکاوٹ امریکہ کی مخالفت ہے، ابھی پچھلے ہفتے ہی امریکہ نے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور تہران کے ساتھ کاروبار میں مشغول ہونے سے متعلق پابندیوں کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا، تاہم، یہ بات قابل غور ہے کہ امریکی موقف صوابدیدی دکھائی دیتا ہے۔ 2019 میں، امریکہ نے عراق کو اپنے پاور گرڈ کو ایندھن دینے کے مقصد سے ایران سے گیس درآمد کرنے کی اجازت دی۔ یہ اقدام 7 اگست 2018 کو ایران اور پانچ طاقتور ریاستوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری کے بعد ،اور اس کے بعد 5 نومبر 2018 کو امریکا کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں سے متصادم ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود امریکی حکومت نے ایران پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، قریبی اتحادی جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ ساتھ بھارت سمیت آٹھ ممالک کو ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔

    امریکہ پاکستان کے معاشی چیلنجوں سے بخوبی واقف ہے جس میں آمدنی میں شدید خسارہ بھی شامل ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے باوجود، جب کہ دیگر اقوام کو مستثنیات دی گئیں، پاکستان کو اسی طرح کی مراعات سے محروم رکھا گیا۔اگست 2023 میں، ایران اور پاکستان نے پانچ سالہ تجارتی منصوبے پر دستخط کیے، جس میں دو طرفہ تجارت کا ہدف 5 بلین ڈالر مقرر کیا گیا۔
    مغربی اداروں کے قرضوں پر انحصار کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ نیز، ہمارے "دوست” جنہوں نے حال ہی میں آئی ایم ایف کی مدد کو مالی طور پر اس کی پیروی کرنے کے لیے لازمی قرار دیا ہے۔پاکستان کی اقتصادی ٹیم کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔