Baaghi TV

Category: سیاست

  • آصف علی زرداری، پاکستان کے 14ویں صدر

    آصف علی زرداری، پاکستان کے 14ویں صدر

    آصف علی زرداری، پاکستان کے 14ویں صدر
    آصف علی زرداری کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ دوسری بار پاکستان کے صدر منتخب ہوئے ہیں، انہوں نے 255 ووٹ لئے اور 68 سال کی عمر میں کامیابی حاصل کی، جب کہ ان کے مدمقابل امیدوار 75 سالہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 119 ووٹ ملے۔

    آصف زرداری کو کافی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، تحریک انصاف نے پارلیمانی کارروائی میں خلل ڈالنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے، جس سے پاکستان کی پہلے سے مخدوش معاشی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔پاکستان ایک نازک معاشی صورتحال سے دوچار ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قوم اپنے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے پارلیمانی غنڈہ گردی کو برداشت کر سکتی ہے؟

    آصف زرداری کے لیے ایک اہم کام عمران خان اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ قانون سازوں کو فعال موقف اپنانے پر آمادہ کرنا ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ حالات کے پیش نظر وہ یکساں کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ آصف زرداری کے بارے میں کسی کی ذاتی رائے سے قطع نظر، وہ اقتدار میں رہنے والوں کو مختلف تجاویز کے ساتھ تعاون کے فوائد کو تسلیم کرنے پر قائل کرنے کی منفرد صلاحیت کے مالک ہیں۔آصف زرداری کو حکومت کے لئے ضروری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔آصف زرداری کو غیر معمولی ڈیل میکر مانا جاتا ہے، آصف زرداری کو ہنگامہ خیز وقت میں حکومت کو ساتھ رکھنے کے لیے انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

    جہاں شہباز شریف نے اپنے 16 ماہ کے دور میں مدبرانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا، وہیں سیاسی منظر نامے میں تحریک انصاف کی شمولیت نئی حرکیات پیش کرتی ہے۔ اس ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے کو آگے بڑھانے اور پاکستان کی عظیم تر بھلائی کے لیے مسابقتی دھڑوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں آصف زرداری کی قیادت اہم ہوگی۔

  • نواز  شریف  کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ، تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)
    نواز شریف محسن پاکستان ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے میں کردار ادا کیا تووہ میاں محمد نواز شریف ہی ہیں۔ موٹر ویز ،میٹرو بسیں اور رینج ٹرین۔ مضبوط دفاعی نظام ۔ تعلیم صحت میں منصوبہ بندی ، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی سے نجات سمیت صنعتی اور معاشی ترقی کے اقدامات اگر دھرنا کلچر سازسوں کے ذریعے نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ نہ کیا جاتا تو سی پیک کی تکمیل کے بل بوتے پر ملک کی تقدیر کچھ اور ہوتی ۔ غربت افلاس بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے اندھیرے چھٹ چکے ہوتے۔ بلاشبہ مریم نوازاپنے والد کی طرح پنجاب میں عوام کی فلاح اور معاشی استحکام کاشروع کر چکی ہیں۔

    لیکن صد افسوس کہ رمضان پیکج کے تحت تقسیم ہونے والی آٹے کی تھیلوں پر میا ں محمد نواز شریف کی تصویر لگا کر محسن پاکستان نواز شریف جنہوں نے ایٹمی دھماکے کئے ان کی بے توقیری کی جا رہی ہے نواز شریف کی مقبولیت آٹے کے تھیلے پر فوٹو کی محتاج نہیں ہے۔ نہ نواز شریف کا وژن ایسی سستی شہرت ہے نہ نواز شریف کا قد کاٹھ اتنا چھوٹا ہے کہ اُن کو اس طرح کے حربوں کے ذریعے عوام کی فلاح کے منصوبوں پر ذاتی تشہیر کا سہارا لینا پڑے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نواز شریف کی پنجاب میں سرگرم ٹیم ہوش کے ناخن لیں چاپلوس بیورو کریٹس کے خوشامدی حربوں سے چوکنا رہنا ہوگا۔ یہی بیورو کریسی تھی جنہوں نے تقرریوں اور تبادلوں میں کروڑوں روپے کھائے خوشامدی حربوں کے ذریعے میاں محمد نواز شریف کی بے لوث خدمت انتھک مخلصانہ کوششوں کو ٹھیس پہنچانے کے درپے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ان خوشامدی ٹولے سے بچ کررہنا ہوگا۔
    Nawaz sharif

  • انتخابات، دھاندلی کا شور اور جمہوریت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    انتخابات، دھاندلی کا شور اور جمہوریت، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات سے متعلق کہا ہے کہ ہمارا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں ۔ سیکورٹی دینے کے سوا۔ بلاشبہ فوج کا کام سیکورٹی کی فراہمی تھی ۔ عوام کو بھی الزام لگانے والوں سے سوال کرنا چاہیئے کہ فوج جو سیکورٹی پر مامور تھی اُس نے جعلی ووٹ ڈالنے میں اپنا کردار ادا کیا ؟ پھر سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں پر یلغار کیسی ؟ الیکشن کروانا ،الیکشن کمیشن کا کام ہے ۔ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اگر الیکشن کمیشن ملک میں آزادانہ ، منصفانہ الیکشن نہیں کروا سکتا تھا اس پر سوالیہ نشان ہے ؟ فوج اورجملہ ادواروں پر نہیں۔ تاہم سیاستدانوں میں ابھی تک اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ کہ ان کی نظر میں حقیقی جمہوریت کیا ہے؟ جمہوریت نہیں۔ اور یہ مغالطہ مدت سے چلاآرہا ہے آج سے نہیں ؟ 1977 کے الیکشن میں دھاندلی کا شور۔ 2018 دھاندلی کا شور ۔ آج ایک بار پھر یعنی 2024 دھاندلی کا شور۔ کے پی کے میں عین اسلامی اصولوں کے مطابق الیکشن جبکہ باقی صوبوں میں غیر اسلامی اصولوں کے مطابق الیکشن ۔

    ملکی سیاسی جماعتیں یاد رکھیں شور شرابے ، دھرنوں ، غل غپاڑے ، سینہ کوبی سے ملکی معیشت مستحکم نہیں ہو گی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے۔ ملکی معیشت مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ضد ، انا ، ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر بھرپور توجہ ملکی معیشت اور عوام کے بنیادی مسائل پر دیں۔

    فی زمانہ عالمی سیاست بھی معیشت کے گرد گھومتی ہے۔ اس لئے اپنے وسائل اور معیشت پر توجہ دیں۔ گلے پھاڑ کر نعرے لگانے سے نہ معیشت مستحکم ہوگی اور نہ ہی آسمان سے من و سلوا اُترے گا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس عوام اور اس ملک پر رحم کریں۔ نواز شریف ایک مدبر زیرک سیاستدان ہیں وہ مسلم لیگ (ن) بطور سیاسی جماعت کی مقبولیت میں اضافے اور مستبل کے لئے جو کردار ادا کررہے ہین وہ (ن) لیگ کے لئے بطور سیاسی جماعت قابل ستائش ہے ورنہ اس جماعت کے چند لوگوں کا ایسا کردار ہے جنہوں نے جن کے کردار سے بدبو آنے لگی ہے ۔ا ن چند کرداروں کی وجہ سے مسلم لیگ(ں) مقبول نہیں غیر مقبول ہوئی ہے۔اسی طرح جیسے کہاں بھٹو کی پیپلزپارٹی اور کہاں آج کی پیپلزپارٹی ۔۔۔۔ایک بھٹو کے اور نواز شریف کا تھا؟

  • بھٹو کیس اور انصاف میں تاخیر

    بھٹو کیس اور انصاف میں تاخیر

    ذوالفقار علی بھٹو کو چار دہائیاں قبل پھانسی دی گئی تھی، بارہ برس قبل اس وقت کے صدر آصف زرداری کی جانب سے دائر صدارتی ریفرنس کے جواب میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حال ہی میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ’ کیس میں فیئر ٹرائل اور مناسب عمل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے ،

    سپریم کورٹ کا متفقہ فیصلہ چار دہائیوں کی تاخیر سے آیا ۔ آصف علی زرداری کی جانب سے ایک دہائی قبل دائر کیے گئے اس ریفرنس کی سماعت جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس محمد علی مظہرپر مشتمل بنچ نے کی،

    اگرچہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس کی انصاف پسندی کے لیے قابل تعریف ہے، لیکن یہ طویل عرصے سے گزرے ہوئے آدمی کو زندہ نہیں کر سکتا۔ بھٹو، جسے لاہور ہائی کورٹ نے محمد خان قصوری کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا، ان کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔

    تاریخ کو دیکھیں تو ڈکٹیٹر ضیاء نے ان تمام ججوں کو برطرف کر دیا جنہوں نے فوجی قبضے کو جائز قرار دیتے ہوئے وفاداری کا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کیس پر اپنی رائے دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’’ہمیں… اپنی ماضی کی غلطیوں کا مقابلہ عاجزی کے ساتھ، خود احتسابی کے جذبے کے ساتھ، اور انصاف کو یقینی بنانے کے ہمارے عزم کے ثبوت کے طور پر کرنا چاہیے۔ غیر متزلزل سالمیت اور قانون کی وفاداری کے ساتھ خدمت کی جانی چاہئے۔ جب تک ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتے تب تک ہم خود کو درست نہیں کر سکتے اور صحیح سمت میں ترقی نہیں کر سکتے۔

    اس فیصلے کا اہم عنصر اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے ایک ناقص فیصلے کے اعتراف میں مضمر ہے، جو کہ منصفانہ ٹرائل کے متحمل ہونے میں ناکام رہا۔ اس اعتراف سے امید پیدا ہوتی ہے کہ چیف جسٹس عدالتی نظام میں انتہائی ضروری اصلاحات کا آغاز کریں گے۔

  • کیا یہ کمپنی نہیں چلے گی؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    کیا یہ کمپنی نہیں چلے گی؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    وائٹ ہائوس کا نیا مکین کون ہوگا ؟بائیڈن یا ٹرمپ عالمی میڈیا کا تبصرہ جاری ہے,تاہم ٹرمپ کی امریکہ میں مقبولیت میں اضافہ ،بائیڈن کی جنگی پالیسیوں سے امریکی عوامی نفرت کا اظہار ہے،د وسری طرف بین الاقوامی برادری امریکی خارجہ پالیسی کی مستقبل کی سمت کے بارے میں بے تابی سے انتظار کررہی ہے، امریکہ کی خارجہ پالیسی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ا س کے فیصلے اور اقدامات پوری دنیا میں گونجتے ہیں، امریکی خارجہ پالیسی کو سمجھنا دنیا کے رہنمائوں کے لئے بہت اہم ہے، بائیڈن اور ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کیا ہو گی، عالمی دنیا پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے ،یہ زیادہ دور کی بات نہیں،تیسری دنیا کے لئے امریکہ کی پالیسی کیا ہے اور کیا ہو گی ایک عالم گواہ ہے،

    پاکستان میں پردہ اسکرین پر جو سیاسی فلم دکھائی جا رہی ہے اس کا انجام کیا ہو گا اس کا اظہار گزشتہ روز قومی اسمبلی میں سابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کیا اور کہا کہ موجودہ شور شرابے کا انجام اچھا نہیں ہوگا، لگتا ہے یہ کمپنی زیاد دیر نہیں چلے گی،بلاشبہ راجہ پرویز اشرف نے درست ہی کہا عوام کی اکثریت سیاسی فلم تو دیکھ رہی ہے اور کھڑکی توڑ رش ہے لیکن اس سیاسی فلم کی ناکامی کے بہت سے اسباب بھی ہوں گے ، فلم میں سنجیدہ اداکار نہیں پوری فلم مزاحیہ نظر آرہی ہے، ساری سیاسی فلم میں ہیرو نام کا کوئی بندہ نظر نہیں آرہا، ایک ہیرو جیل میں، دوسرا ہیرو نواز شریف جاتی امراء میں ، تیسرا ہیرو بلاول بھٹو، ہر طرف جو کر راج کا منظر دکھائی دے رہا ہے، خدا نہ کرے یہ سیاسی فلم فلاپ ہو جائے ،یہ اپنے ساتھ پوری فلم انڈسٹری کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،

    جن سیاسی جماعتوں نے شہباز شریف کو ووٹ دیا اس کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا آنے والے کل میں بھی ساتھ رہیں گے ؟ سردست یہ دیکھنا اہم ہے کہ سانجھے کی ہانڈی میں سیاسی ابال کس حد تک آتا ہے،یہ بات طے ہے کہ ہم عوام اپنے سیاسی لیڈروں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں میں حسینی اور یزیدی ٹولے موجود ہیں جو اپنے اقتدار کی خاطر ہر حد کراس کر جاتے ، حد کراس کرنے والوں کو خدا بھی معاف نہیں کرتا ،نواز شریف نام کے بھی شریف اور بحیثیت انسان بھی شریف ہیں قومی اسمبلی میں موجود اپوزیشن ارکان کے لئے فرد واحد کے خلاف نعرہ بازی آپ کو کو زیب نہیں دیتی.

  • یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    اس مرتبہ کا یومِ خواتین پاکستان کے کسی بھی صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز کے نام …… جنہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کا آغاز کر دیا۔ مریم نواز کی رفتار بتا رہی ہے کہ وہ بھرپور استقامت کے ساتھ اپنا آئینی سفر مکمل کریں گی اور ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تاریخ میں سرخرو بھی ٹھہریں گی۔ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے فوری بعد ہی سے مریم نواز نے جو میچور سٹارٹ لیا، وہ یقینا قابل تحسین ہے۔ منصب سے ایسا انصاف کم ہی وزرائے اعلیٰ کرتے نظر آئے ہیں۔ اسمبلی کے فلور پر ان کی طرف سے جیسے اپوزیشن کے ساتھ مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا، یہاں تک کہ خود اپوزیشن پنجوں پر گئیں اور احوال دریافت کیا، یہ بلاشبہ ان کی مہذب شخصیت کی دلیل ہے۔

    مریم نواز کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ خود کو مختلف اور منفرد کو ثابت کرتے ہوئے صحیح معنوں میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے بھی خود کو وقف کیا ہے۔ وہ پنجاب کی خواتین کی ترقی اور خود انحصاری پر فوکس کا عزم لے کر آئی ہیں۔ اس ضمن میں وہ شارپ ویژن رکھتی ہیں۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق اور چادر چار دیواری کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھرپور انداز میں متحرک رہیں گی۔ اس کی آڑ میں کسی بھی تنقید کو خاطر میں نہیں لائیں گی۔ اس امر کا تجربہ ہمیں گذشتہ دنوں دیکھنے کو بھی ملا جب مریم نواز نے سیف سٹی اتھارٹی کے دورہ کے دوران بریفنگ دینے والی ایک خاتون کا سر دوپٹے سے ڈھانپا اور اس پر مخالفین کی جانب سے بلا جواز تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ مریم نواز کا موقف تھا کہ کسی خاتون کا دوپٹہ ٹھیک کرنے کے عمل پر تنقید کرنے والے اپنا ظرف دکھا رہے ہیں، لیکن وہ اپنا کام کرتی رہیں گی۔

    اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے پہلے ہی ہفتے میں مریم نواز نے خواتین کو فوکس کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھانے شروع کئے۔ وزارت اعلیٰ کا اعزاز پنجاب کی خواتین کے نام کرتے ہوئے انہیں ایک بہتر اور محفوظ پنجاب بنا کر دینے کا وعدہ کیا۔ اپنے منصب کو خواتین سے منسوب کرتے ہوئے ان کی ہراسمنٹ روکنے کا چیلنج لیا …… مراکز صحت کو ماں اور بچے کی صحت میں خصوصی دلچسپی لینے اور انہیں علاج کی معیاری اور بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دیں …… اسی طرح پنجاب میں گرلز ایجوکیشن کے فروغ کیلئے خصوصی کاوشوں کا اعلان کیا …… خواتین پولیس کمیونیکیشن آفیسرز کیلئے ہاسٹل بنانے …… وویمن سیفٹی ایپ کو اپ گریڈ کر کے ری-لانچ کرنے…… خواتین کو ٹرانسپورٹ کارڈز اور سکوٹیز دینے…… بڑی تعداد میں ڈے کئیر سنٹرز بنانے سمیت دیگر اعلانات و اقدامات مریم نواز کے صرف پہلے ایک ہفتے کے کریڈٹ میں شامل ہیں …… آپ مریم نواز کے ابتدائی سات دنوں کا موازنہ کسی بھی دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ سے کر لیں، اس قدر متحرک، مستعد اور کام کا دھنی چیف منسٹر کوئی نہیں پائیں گے۔ مریم نواز نے عزم کیا ہے کہ وہ تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنا فرض ادا کرتی رہیں گی اور خدمت کر کے تمام مخالفین کو غلط ثابت کریں گی۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے اقدامات سے وہ اپنا نام تاریخ کے ابواب میں سنہرے الفاظ کی صورت رقم کرنے میں کامیاب ٹھہریں گی۔

    آج کا یوم خواتین پنجاب کی سب سے کم عمر اے ایس پی سیدہ شہر بانو کے نام سے بھی منسوب کیا جانا چاہئے جس نے اچھرہ کے بازار میں مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک خاتون کی جان بچائی۔ اے ایس پی شہربانو نے خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے اور صنفی جرائم میں ملوث سفاک ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کر رکھا ہے۔ ہر لحاظ سے پُرعزم شہر بانو نقوی انٹیلی جنس بیورو، پبلک مینجمنٹ اور مختلف پولیس اسٹیشنوں میں اہم عہدوں پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ کمزور خواتین اور بچوں کی حفاظت کیلئے تحفظ مراکز، پولیس اسٹیشنوں میں ڈے کئیر سنٹر کے آغاز کی کوششیں اور پنجاب میں پہلی مرتبہ پولیس اینیمل ریسکیو سنٹر کے قیام جیسی کاوشیں شہر بانو نقوی کی خدمات میں شامل ہیں۔ اے ایس پی شہر بانو کے اچھرہ واقعہ کو سانحہ بننے سے بچانے جیسے دلیرانہ اقدام پر انہیں پولیس کی جانب سے قائد اعظم گولڈ میڈل کیلئے نامزد کر دیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر انہیں رواں سال میں عنایت کر دیا جائے گا، تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف کو بھی ملاقات کے دوران اپنے ادارہ کے پلیٹ فارم سے ان کیلئے خصوصی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا جبکہ حکومت پاکستان کو بھی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ محض تعریفیں اور تھپکیاں انسان کی حوصلہ افزائی تو کر سکتی ہیں، مگر اس کی خدمات کے اعتراف کا حق نہیں ادا کر سکتیں …… مجھے یقین ہے کہ اس قدر عزت افزائی کے بعد بھی سیدہ شہر بانو نقوی ڈاؤن ٹو ارتھ رہیں گی اور تکبر کا شکار نہیں ہوں گی۔

    خواتین کی شراکت اور انہیں بااختیار بنائے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کی معاشرتی حیثیت مسلمہ ہے۔ ہم پُرامید ہیں کہ مریم نواز کی قیادت میں صنفی مساوات پر مبنی صوبہ تشکیل پائے گا اور پنجاب کی خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے خاتون وزیر اعلیٰ کی کاوشیں تاریخ کے یادگار عنوان کی صورت میں یاد رکھی جائیں گی

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    برطانوی ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات،مبارکباد دی

  • پاکستان کی گورننس مضبوط بنانے کی ضرورت،پالیسی بدلنی ہو گی

    پاکستان کی گورننس مضبوط بنانے کی ضرورت،پالیسی بدلنی ہو گی

    مختلف ڈومینز میں کسی ملک کے مستقبل کے لائحہ عمل کو ترتیب دینے کے لیے پالیسی کی منصوبہ بندی سب سے اہم ہے۔ اس میں ترقیاتی ترجیحات، خارجہ تعلقات، مہارت کی ترقی کے اقدامات اور اقتصادی حکمت عملی شامل ہیں۔ ان منصوبوں کو سیاسی قیادت میں تبدیلیوں کے باوجود مستقل رہنا چاہیے جو کہ قلیل مدتی سیاسی خواہشات کی بجائے اسٹریٹجک دور اندیشی پر مبنی ہوں۔

    اگرچہ اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا دائرہ وسیع ہے، مربوط پالیسیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے تین اہم شعبوں کا جائزہ لیتے ہیں، سب سے پہلے اور اہم بات، خارجہ پالیسی ایک فعال نقطہ نظر کی متقاضی ہے۔ جن ممالک میں عالمی حرکیات کو تبدیل کرنے کا علم ہے، ماہرین اور تجزیہ کاروں کے ساتھ مشاورت معمول کی بات ہے، جس کے نتیجے میں جامع حکمت عملی تشکیل دی جاتی ہے۔ حالیہ عالمی واقعات جیسے یوکرین پر روس کے حملے اور غزہ میں جاری بحران، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تصفیہ کے امکانات پر ایک اہم نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ تاہم، پاکستان میں، خارجہ پالیسیاں اکثر غیر متوقع طور پر، عارضی سیاسی حکام کے جھکاؤ کے تابع ہوتی ہیں۔اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات نے عالمی تجارتی شراکت داری اور علاقائی استحکام پر زور دیتے ہوئے، فوجی مداخلت پر سفارت کاری اور تجارتی اقدامات کو ترجیح دینے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد کو دوبارہ ترتیب دیا ہے۔

    دوم، مہارت کی ترقی، ایک اہم تشویش کے طور پرسامنے آئی ہے، مؤثر پالیسیوں کو قابل رسائی پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کو یقینی بنانا چاہیے، جو افراد کو ایسی ڈگریوں سے دور رکھیں جو محدود یا کوئی روزگار کے امکانات پیش نہیں کرتے ۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ پیچیدہ بات چیت میں شامل ہونا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قلیل مدتی، درمیانی مدت اور طویل مدتی حکمت عملیوں کی تشکیل میں سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

    سوم، بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریوں پر عمل کرتے ہوئے آمدنی بڑھانے والی پالیسیاں وضع کرنے کے لیے متنوع کاروباری اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران ملکی قرضوں میں اضافہ جامع معاشی حکمت عملیوں کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔مستحکم حل تیار کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں ماہرین اقتصادیات کو شامل کرنا ضروری ہے۔

    یہ واضح ہے کہ پاکستان عوامیت پسندی کو سمجھدار طرز حکمرانی پر ترجیح دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے اسٹریٹجک دور اندیشی اور جامع پالیسی سازی کے عمل کو اپنانا ناگزیر ہے۔

  • ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملکی ترقی کا راستہ،ذاتی نہیں عوامی مفادات،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب میں ن لیگ ، سندھ پیپلزپارٹی، کے پی کے پی ٹی آئی اور وفاق میں مخلوط حکومت بننے جا رہی ہے، کوئی بھی سیاسی جماعت سچا پیار نہ ملنے کا گلہ نہیں کر سکتی، اب پارلیمانی سیاست کے پلیٹ فارم یعنی اسمبلیوں میں عوام کے حقو ق کا دفاع کیا جائے، دھرنوں غل غپاڑے، دھینگا مشتی کے ذریعے وطن عزیز اور جمہوری روایات کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، وطن عزیز اور عوام کو بحرانوں سے نکالنے کا وقت آ گیا ہے، غیر سنجیدہ رویوں سے اجتناب کیا جائے ،قومیں کبھی دو عملی اور دو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہوتیں،اپنے وسائل پر توجہ دیں، کشکول پکڑے ہم کب تک عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے قطار بنائے کھڑے رہیں گے؟ بین الاقوامی مالیاتی ادارے وطن عزیز کو اپنی انگلیوں پر کس اطمینان سے نچاتے ہیں ،اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے ،واحد حل یہی ہے کہ ملک کو قرضوں سے نجات دلانے کیلئے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا، وطن عزیز کی ترقی کا واحد راستہ یہی ہے کہ سیاسی قیادتیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائیں، الزام تراشیوں کی سیاست سے نکل کر پاکستان کو بطور ریاست مستحکم کرنےاور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں، وطن عزیز اور عوام کے مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا،سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے،

    ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مل کر سوچیں کہاں شگاف ہے،کہاں غلطیاں ہیں ہم آج تک عالمی مالیاتی اداروں کے مقروض کیوں ہیں؟ ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے کیوں نہیں،ہم آج تک بجلی اور گیس کے بحران سے دوچار ہیں کیوں؟ عوام کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے،اب وقت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر پاکستان اور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دیں باقی سب راستے غلط ہیں۔

  • غزہ،عالمی عدالت انصاف اور حکمرانوں کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ،عالمی عدالت انصاف اور حکمرانوں کا کردار،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت کے تابوت میں کیل ٹھونک رہی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں سماعت جاری ہے ۔ دنیا کے مختلف ممالک اس عالمی عدالت میں اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ امریکی صدر بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کی پالیسی نے امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات بائیڈن کی دوبارہ کامیابی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ میں جنگ مخالف غصہ ٹرمپ کی دوبارہ وائٹ ہائوس واپسی کا اشارہ دے رہا ہے۔

    غزہ کی تازہ ترین صورتحال کو دیکھتے ہوئے ذرا چند ثانیوں کے لئے رک جایئے اگر آپ باپ بھی ہیں تو تھوڑا تصور کیجئے کہ جیتے جاگتے بچوں میں اور اس معصوم میں کیا فرق ہے سبھی کے دو ہاتھ ،دو پائوں، دو آنکھیں. ایک جیسے مگر غزہ میں اس پھول کو کھلنے کی اجازت نہیں۔ سوال نیتن یاہو اور امریکی صدر بائیڈن سے ہے کیا ان بچوں کا قصور یہ ہے کہ فلسطین میں پیدا ہوئے ہیں؟ تم سب اہل کتاب ہو یہ ساری کائنات اور یہ سارے گورکھ دھندے اور نظام ارض و سما کسی دیوانے، (نعوذ باللہ) کا کھیل بھی نہیں ہے اور نہ کسی جادو گر کی ساحری کا امتیاز، بلکہ یہ مالک ارض و سما کے حکم کا ایک ادنیٰ سا نمونہ اور شاہکار ہے ۔ادھر کن کہا اور ادھر ہو گیا۔ اس کی طاقت آج بھی وہی ہے اس کا دائرہ اختیار بھی لامحدود ہے اور اس کے سامنے ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹے سے چھوٹی چیز بھی اسی طرح اس کے حکم کی محتاج ہے جس طرح روز آفرینش کو تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے معاملات جدا جدا ہیں کبھی کوئی عروج پر ہے اور کبھی کوئی۔ دنیا بھر کے وہ حکمران جو ضمیر فروش ہیں،

    فطرت الٰہی کے سرکشو، دولت کے پجاریو تمہیں نوشتہ دیوار نظر نہیں آتا۔ تم سے پہلوں کا کیا حشر ہوا؟ ذرا ڈھونڈو کہاں ہیں وہ سارے۔ اس عالم فانی سے ایک دن کوچ کرنا ہے خدا کی زمین پر قتل و غارت اور فساد پھیلا کر تم کس منہ سے روز محشر میں خدا کا سامنا کرو گے۔ ملکی اہل سیاست سے، سیاستدانوں کے طاقتور حلقوں سے، یہ پاکستان کی زمین خدا پاک کی ملکیت ہے، دھرنوں، غل غپاڑے، دھینگا مشتی، سوشل میڈیا پر خیال پروروں کے ذریعے وطن عزیز کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے وطن عزیز کی اپنے گھر کی طرح حفاظت کی جائے۔ غیر سنجیدہ رویوں سے اجتناب کیا جائے۔ دنیا کے حالات دیکھ کر ہوش کیا جائے۔

  • ملکی حالات اور اقتدار کی جنگ، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملکی حالات اور اقتدار کی جنگ، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملک کے حالات دن بدن ابتر ہوتے جارہے ہیں،اقتدار اور اختیارات کی جنگ ہمیں کہاں لے جائیگی یہ کہنا قبل از وقت ہے،تاہم سیاستدانوں کی اکثریت ایسی ہے،جنہوں نے جمہوریت کے نام پر ملک وقوم سے کھلواڑ کیا،آج پاکستان اور قوم جن مسائل سے گزر رہی ہے اس کے ذمہ دار بھی سیاستدان ہی ہیں اس وقت ملک میں سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے،دوسری جانب سوشل میڈیا، وی لاگرز،یوٹیوبزر نے وہ ہنگامہ کھڑا کیا ہے کہ خدا کی پناہ ،ملکی سلامتی کو پس پشت ڈال کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے،جس ملک میں سیاستدان ایک دوسرے کو غدار اور عالمی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیں-

    کیا وہاں جمہوریت ، قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رہ سکتی ہے وہاں عوام کیسے خوشحال ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں ،جمہوریت کے دعویداروں سے سوال ہے، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایک قومی لیڈر کے خلاف جو نعرے بازی کی گئی کیا جمہوری اصول اس کی اجازت دیتے ہیں؟بلاشبہ نواز شریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں لیکن ایک جمہوریت کے دعویدار جماعت کے چہیتوں نے جس زبان میں اور کلمات میں پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں نواز شریف کے خلاف نعرے بازی کی ہے وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ قابل نفرت بھی ہے، یہ وہی نواز شریف ہیں جنہوں نے اس ملک کودفاعی لحاظ سے مضبوط کیا ایٹمی طاقت دیکر نہ صرف دشمن کو منہ توڑ جوب دیا بلکہ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا،لیکن اس ملک کی سیاست کی ستم ظریفی دیکھیں اسی نواز شریف کو کبھی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی –

    نوازشریف 1985 ء سے پاکستان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں،ملک کی خوشحالی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا،سی پیک جیسے میگا منصوبے دئیے، شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت بنائی گئی جس میں پیپلزپارٹی برابر کی شریک تھی،اس نے نواز شریف جیسے مدبر سیاستدان کی شہرت کو بھی داغدار کردیا،نواز شریف پاکستان ہی نہیں اس خطے کے تجربہ کار سیاسی لیڈر ہی-

    افسوس کہ ہم نےاپنے سیاسی لیڈروں کی قدر نہیں کی جس کا خمیازہ آج ملک وقوم دونوں بھگت رہے ہیں-جس طرح نواز شریف کے خلاف لندن سے لے کر پنجاب اسمبلی تک نعرے بازی کی گئی ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک پلان کے تحت قوم کوسیاسی یتیم بنا یا جا رہاہے،جس طرح ان کے خلاف کیا جا رہا ہے ،وہ ہرگز مناسب نہیں، شہباز شریف سمیت مسلم لیگ ن کے وہ افراد جنہیں صرف اقتدار میں رہنے کا شوق ہے وہ اپنے قائد کا دفاع کریں،جن حالات کاعوام کو سامنا ہے ، افق پر گہرے بادل دکھائی دے رہے ہیں کیسے لکھوں کہ ان گھنگور اور تاریک گھٹائوں کے حاشیے پر سنہری کرن دکھائی دے رہی ہے جو تابناک سحرکی نوید دیتی ہے ہرگز نہیں۔