Baaghi TV

Category: سیاست

  • روشن پاکستان  گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    روشن پاکستان گرین پاکستان،خواب پورا ہو سکتا ہے، مگر؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    گرین پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے زرعی انقلاب کی بات کی ہے بلاشبہ اس وقت ملک کو ترقی کی طرف اگر لے کر جانا ہے تو زرعی انقلاب لانا ہوگا۔ اگر صدق دل سے حکومت اور بیورو کریسی سمیت انتظامیہ ، بورڈ آف ریونیو ،زراعت پر توجہ دے تو آنے والے سالوں میں پاکستان نہ صرف ترقی کر سکتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض نہیں رہے گا۔ ایسے ایجنڈے سر فہرست رکھ کر ایک روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ گرین پاکستان پر عمل کرکے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا بھی ایک ذریعہ ہے ۔ گرین انیشیٹوجسے سعودی عرب نے 2021 ء میں شروع کیا تھا سعودی حکام پر خطے کے لئے دو رس اقتصادی مواقع پیدا کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جنگ میں اثر کو بڑھانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ گرین انیشیٹو پر اگر عمل کیا جائے تو پاکستان کی خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ چین اور یورپی ممالک بھی مدد کریں گے۔ سبز معیشت میں چین کی منصوبی بندی سرمایہ کاری حیران کن ہے جسے یورپی یونین تسلیم کرتی ہے ۔

    خلیجی ممالک ۔ چین ، یورپی ممالک میںک و ئی لینڈ مافیا نہیں راولپنڈی سمیت پنجاب گوجرانوالہ ، شیخوپورہ ، لاہور اور اسی طرح دیگر شہروں میں ہائوسنگ سوسائٹی والوں نے زرعی زمینوں اورسرکاری زمینوں پر محکمہ جنگلات کی زمینوں پر قبضے کرکے پاکستان کے حسن کو تباہ کردیا ہے ۔ پٹواریوں ، تحصیلداروں گرداروں اور ضلعی اور تحصیل کی انتظامیہ کی ملی بھگت نے پاکستان کو بطور ریاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور پہنچا رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کی رپورٹ کے مطابق صرف گوجر خان میں 384 کنال سرکاری رقبہ ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے جس میں جنگلات بھی شامل ہیں۔ آرڈی اے راولپنڈی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری زمینوں جس کی مالیت کروڑوں ہی وہ ان ہائوسنگ سوسائٹیز کے قبضے میں ہے اور اکثریت غیر قانونی بھی ہیں۔ آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان کا خواب روشن پاکستان گرین پاکستان پورا ہو سکتا ہے اگر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر ان قبضہ مافیا جنہوں نے سرکاری زمینوں پر قبضے کئے ،زرعی زمینوں اور جنگلات کو برباد کیا ۔ اس کا آغاز راولپنڈی ڈویژن سے لے کر پنجاب ، کے پی کے اور صوبہ سندھ تک بڑھایا جائے ۔ اربوں کی سرکاری زرعی زمینوں کو واگزار کرایا جائے ۔ روشن پاکستان اور گرین پاکستان کی سب سے بڑی رکاوٹ قبضہ مافیا ہے۔ قبضہ مافیا ملک میں ایک طاقت بن چکا ہے ۔ جس کے قبضے میں ملک کے کئی بااثر لوگ ہیں جو اس مافیا کا دم بھرتے ہیں ا ن کے کاموں میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی اربوں مالیت کی اراضی جس میں زرعی زمین سمیت محکمہ جنگلات کی زمینیں ہیں قبضہ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ا ن قبضہ مافیا ا ور ملک کے بااثر افراد نے ملک اور ریاست کے سسٹم کو یرغمال بنارکھا ہے۔

  • گیند آئی ایم ایف کی کورٹ میں

    گیند آئی ایم ایف کی کورٹ میں

    12 جولائی کو آئی ایم ایف کے بورڈ کی میٹنگ ہو گی جس میں اس امر کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کو نو ماہ کا نیا قرض پروگرام دیا جائے یا نہیں‌ ؟ حضور ،نوماہ؟ پیسہ لینے کے لئے تبدیلیاں کریں، ایک ایسی چھپی ہوئی اصطلاح کے لئے جسے ابھی تک آئی ایم ایف نے عوام کے لئے ظاہر نہیں کیا، اور اس برس 77 بلین ڈالر کے قابل واپسی کو واپس کریں
    قابل واپسی؟
    نہیں!
    قابل عمل؟
    نہیں!

    یہ معاملہ یہاں تک کہ اگر یو اے ای اور سعودی عرب آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کے بعد مجموعی طور پر 46 بلین ڈالر کی سرمایہ کریں،اگر اور کب ؟ دونوں صورتوں میں یہ فنڈنگ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہو گی،پاکستان نے 2022-23 کے ابتدائی معاہدے کے تحت آئی ایم ایف کے زیادہ تر مطالبات پر عمل درآمد کیا تھا جب آئی ایم ایف نے دستبرداری اختیار کی تھی۔ تو اس معجزاتی شام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کن شرائط پر منظوری دی تھی کہ اس کے بعد نو ماہ کا معاہدہ ہوا ؟

    پاکستان کو صرف قرضوں کی ادائیگی کو پورا کرنے کے لیے 77 بلین ڈالر کی ضرورت ہے اور اس میں یکم جولائی 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں بین الاقوامی قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ‘ایس بی پی کے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر 5,270.9 ملین ڈالر تھے۔ . اس طرح، 23 جون 2023 تک پاکستان کے پاس موجود کل مائع غیر ملکی ذخائر 9,340.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔‘‘ (پاکستان آبزرور)

    کیا کوئی سیاسی نظام معاشی بحران سے نمٹ سکتا ہے؟ نہیں، سینئر تجزیہ کار شہاب جعفری نے کچھ دن پہلے وی لاگ یاسمین کی بیٹھک میں بات کی،معاشی ماہر شہاب جعفری کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی سیٹ اپ کے لیے ووٹوں، وعدوں، مراعات کی ضرورت ہوتی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سخت قدم اٹھانے کی صورت میں اڑان بھرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں صورتوں میں، یہ عام آدمی کے لیے مشکل صورتحال ہو گی، مہنگائی بڑھے گی، پیٹرول ،ڈیزل بڑھے گا
    کوئی حل؟
    ہم ان دنوں میں ایک دن جاگیں گے اور حقائق کا سامنا کریں گے،

  • میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں،تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں،تحریر: حیدرعلی صدّیقی

    میں زنداں میں بلکتی عافیہ ہوں

    حیدرعلی صدّیقی

    یہ نالہ و فریاد ہے امت مسلمہ کی بیٹی عافیہ کی، اس عافیہ کی جو ایک جرم ناکرده کی پاداش میں امریکی جہنم نما جیل میں 86 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ عافیہ صدیقی نے حفظ قرآن کے بعد امریکہ کی صف اول کی یونیورسٹی (MIT) سے ڈگری حاصل کی۔ نائن الیون کے بعد وہ پاکستان واپس آکر اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگی۔
    عافیہ کیس کا مطالعہ کرنے سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ عافیہ بالکل بھی امریکی شہری نہیں ہے جیسا کہ کچھ مغرب زدہ افراد نے سمجھ رکھا ہے۔ اور نہ ہی اس نے ان جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن کے الزامات امریکہ نے لگائے اور ہمارے سیدھے سادہ لوگوں نے بغیر تحقیق کے قبول بھی کیے ہیں۔ بات یہ ہے کہ 30 مارچ 2003ء کو عافیہ اپنے بچوں سمیت کراچی سے راولپنڈی جارہی تھی کہ راستے میں وہ اغوا ہوئی اور پھر پانچ سال تک عافیہ کا کچھ پتہ چلا اور نہ اس کی بچوں کا۔ یہ پانچ سال وہ کہاں اور کس کے قبضے میں تھی؟ یہ وہ سوال ہے جو اس کہانی کا محور ہے اور جو امریکی فریب اور ناٹک کے وجہ سے آنکھوں سے مخفی رہا ہے۔ در حقیقت یہ پانچ سال بھی عافیہ امریکی FBI کے قبضے میں تھی اور بگرام ائیر بیس میں قیدی نمبر 650 کے نام سے بند تھی۔ اس راز کا انکشاف برطانوی خاتون صحافی مریم یوآن ریڈلے نے اسلام آباد میں 6 جولائی 2008ء کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔ جب اس انکشاف کے ساتھ امریکہ کا مکروہ چہرہ واضح ہوا تو امریکہ نے جو چپ باندھی تھی وہ کھل گئی اور بالاخر امریکہ کے پاس اس اقرار کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ عافیہ کو انھوں نے گرفتار تو کیا ہے لیکن 2008ء میں اور افغانستان سے۔

    امریکہ کا یہ مؤقف کوئی سلیم العقل فرد تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ جہاں تک امریکہ کا یہ مؤقف حقائق اور واقعاتی شہادتوں کے خلاف ہے، اگر بالفرض اس کو مان بھی لیا جائے تو پھر عافیہ کو گرفتار کیوں کیا؟ اس بارے امریکہ کا ایک مؤقف نہیں بلکہ عافیہ کے گرفتاری کے بارے میں امریکہ کا مؤقف متزلزل اور تضادات کا شکار رہا ہے۔ کبھی کہا گیا کہ عافیہ پر غزنی کے ایک دکاندار کو شک گزرا تو گرفتار ہوئی، تو کبھی کہا گیا کہ وہ مسجد میں خودکش حملہ کرنے آئی تھی اور لوگوں نے پولیس کو بلا لیا، تو کبھی کہا گیا کہ وہ ایک مسجد کے سامنے نقشہ پھیلائی بیٹھی تھی، وہاں کی زبان نہیں جانتی تھی، اور اس پر لوگوں کو شک ہوا اور یہ گرفتار ہوئی۔ حتی کہ مسجد کے سامنے سے گرفتار ہونے کے دعوے میں بھی متضاد اقوال سامنے آئے ہیں، جتنا منہ اتنی بات۔
    جس الزام کے تحت امریکہ نے عافیہ کو گرفتار کیا تھا وہ یہ تھا کہ عافیہ القاعدہ کے مرکزی قیادت کے ساتھ وابستہ القاعدہ لیڈی ہے، اس کے قبضے سے دو پونڈ مہلک زہر برآمد ہوا، کچھ ڈاکومنٹس اور نوٹس دستیاب ہوئے ہیں جن میں دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کے طریقے لکھے گئے ہیں۔ گرفتاری کے بعد امریکہ کا مؤقف تھا کہ عافیہ کی گرفتاری امریکہ کے لیے ایک اہم حیثیت رکھتی تھی، اور وہ سات خطرناک ترین دہشتگردوں میں تھی، ان کو گرفتار کرکے امریکہ نے گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکہ کا یہ مؤقف سمجھ سے بالاتر ہے، بالفرض اگر عافیہ القاعدہ کے ساتھی تھی تو کیا وہ اتنے سادہ تھے کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ عورت کو اس طرح حملہ کےلیے (بقول امریکہ) کے بھیجے جس پر ایک دکاندار کو بھی شک گزرے؟

    لیکن امریکہ کے تضادات کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رکتا، گرفتاری کے بعد جب عافیہ کو 5 اگست 2008ء کو نیویارک کے وفاقی عدالت میں پیش کیا تو وہاں القاعدہ لیڈی، خودکش حملہ آور، القاعدہ کے ماتا ہری، القاعدہ کے لیے دھماکہ خیز اور مہلک وائرس بنانے والی وغیرہ جیسے الزامات کا بالکل ذکر بھی نہیں تھا۔ بلکہ وہاں امریکہ نے ایک الگ دعویٰ کیا کہ بگرام ائیر بیس میں عافیہ کے تفتیش کے لیے آئے امریکی فوجی اہلکار سے عافیہ نے اس کا رائفل چھین کر اس پر فائر کیا، اس نے امریکی شہری کو قتل کرنے کی کوشش کی جس سے وہ بچ گیا، اور گولی دیوار پر لگی جہاں سوراخ اب بھی نظر آرہا ہے، جواباً امریکی فوجی نے پستول سے دو گولیاں چلائے جو عافیہ کے پیٹ میں لگے۔
    جب عدالت کا مقدمہ اس دعوے کے تحت چلا تو پھر امریکہ کا جھوٹ واضح ہوگیا، کہ وہ رائفل تو سرے سے چلا ہی نہیں ہے، اس کے بیرل میں گولی اور بارود کا کوئی سراغ نہیں، نہ اس پر عافیہ کا فنگر پرنٹ ہے۔ اور دیوار میں جو سوراخ دکھتا ہے وہ ایک ویڈیو کے ذریعے جھوٹا ثابت ہوا کہ وہ تو اس واقعے سے بہت پہلے یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ اور ساتھ میں افغان پولیس اور غزنی کے گورنر نے بھی اس مؤقف کی تردید کردی۔ سوال یہ ہے کہ ایک نہتی اور کمزور خاتون اتنی طاقتور کیسے ہوئی کہ وہ باقاعدہ ایک تربیت یافتہ فوجی کا رائفل چھین کر اس پر فائر کرے! اور رائفل بھی وہ جس کا وزن اتنا زیادہ ہے کہ قید و بند کے تشدد زدہ کمزور خاتون سے اس کا اٹھایا جانا، اور پھر لاک کھول کر نشانے پر لگانا اور فائر کرنا عقل سلیم کے لیے ماننا کم از کم ممکن نہیں۔ جب عافیہ امریکہ کو القاعدہ کی حمایت کی جرم میں مطلوب تھی تو مقدمہ کے وقت ان الزامات کا ذکر کیوں نہیں تھا؟ جب ماہرین نے رائفل کے الزام کو جھوٹا ثابت کیا تو امریکہ نے اسے جھوٹا تسلیم کیوں نہیں کیا؟
    لیکن یہاں تو امریکہ کو صرف اپنی فوجی اہلکار پر یقین ہے، ساری شواہد و ماہرین اگر چہ رائفل کے کہانی کو جھوٹی ثابت کرچکے ہیں لیکن امریکی فوجی کہتا ہے تو عافیہ نے ضرور گولی چلائی ہوگی!
    امریکی ماہرین نے بھی اس کیس کو مبنی برظلم قرار دیا تھا کہ عافیہ مظلوم اور بے گناہ ہے۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک کہتا ہے کہ ”عافیہ صدیقی کا کیس میرے مشاہدے کے مطابق اب تک کا بدترین کیس ہے“۔ اسی طرح امریکی صحافی پیٹرا بارتوشےویچ کا کہنا ہے کہ ”میں نے امریکی مؤقف کی تفصیل پڑھتے ہی جان لیا تھا کہ عافیہ صدیقی بے گناہ ہے۔ امریکن شہریوں کے اس اقرار کے باوجود امریکہ نے ان کو بھی نظر انداز کیا۔
    امریکی قانون ہے کہ کسی بھی خاتون کی برہنہ تلاشی (سٹرپ سرچ) نہیں لی جاسکتی، لیکن بایں ہمہ کہ عافیہ پہلے سے ان کے ساتھ قید میں موجود تھی اور بار بار انھیں تلاشی اور جسمانی و ذہنی تشدد سے گزارا گیا تھا لیکن وکیل سے ملنے کے لیے باقی تکالیف کے علاوہ اسے اس اذیت ناک عمل (سٹرپ سرچ) سے بھی گزارا جاتا تھا۔ اس وقت مغرب کا انسانی ہمدردی اور حقوق نسواں کے قوانین شاید وائٹ ہاؤس کا چکر لگا رہے تھے!

    امریکہ نے سارے حقائق و شواہد، انسانی حقوق اور مساوات کے اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے انتہائی چالاکی، تعصب، نفرت اور نسل پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عافیہ پر فرد جرم عائد کیا اور اسے 86 سال قید کی سزا سنائی۔ دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے امریکہ کا انسانی حقوق و ہمدردی کا قانون صرف اتنا ہے کہ ایک امریکی کو قتل کرنے کی کوشش پر 86 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے لیکن ایک غیر امریکی خاتون کو شک یا جھوٹ کی بنیاد پر گولی سے بھی داغا جاسکتا ہے، اور اس پر مستزاد اس پر قید و بند کی صعوبتیں، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد بھی روا رکھا جاسکتا ہے۔ عافیہ اگر مجرم تھی تو حقائق و شواہد امریکہ پیش کیوں نہیں کرتا! امریکی قانون دان ایلین شارپ ویٹفیلڈ کہتا ہے کہ ”یہ سب جھوٹ ہے، عافیہ صدیقی کے خلاف اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں“ (Put up or shut up)۔ شواہد و حقائق کے تحت ان کے ساتھ قانون کے تحت عادلانہ کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ لیکن یہ سارے الزامات ہیں جو امریکہ نے لگائے، اور ساری دنیا نے قبول کیے اور عافیہ پر ہونے والے امریکی مظالم پر خاموش تماشائی بنی، کیونکہ عافیہ امریکی اور مغربی شہری نہیں ہے ورنہ دنیا نے ایک کہرام مچانا تھا۔ در حقیقت عافیہ کی مظلومیت پر خاموش صرف دو افراد ہی رہ سکتے ہیں: ایک وہ جو اس کیس سے بالکل واقف ہی نہ ہو اور وہ عافیہ کو دہشتگرد سمجھتا رہے۔ دوم وہ جو اس کیس کی تفصیلات و جزئیات سے باخبر تو ہو لیکن بددیانتی کرتا ہو۔

    اب امریکہ کا جھوٹ ساری دنیا کے سامنے واضح ہوچکا ہے، لہذا اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کے تنظیموں اور دنیا کے تمام انسانوں کو امریکہ کے اس ظلم کے خلاف آگے آنا چاہیے اور اس جھوٹ پر لب کھولنا چاہیے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے اپنے پاکستان کی کارگردگی بھی صفر ہے، دنیا بھر کی انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی تنظیمیں خاموش ہیں، کیونکہ عافیہ کوئی لبرل خاتون نہیں ہے نا! ورنہ کب سے دنیا نے ایک شور برپا کرنا تھا۔ اب وقت ہوا چاہتا ہے کہ پاکستانی عوام، حکومت اور ادارے کھل کر امریکہ کے مظالم کی مخالفت کرے اور عافیہ کی رہائی کا سنجیدہ مطالبہ کرے، ورنہ ہم سب مجرم ہونگے۔

  • کیا امتیازی سلوک صرف پولیس کے نظام سے بالا، فرانسیسی نفسیات میں سرایت کرتا ہے؟

    کیا امتیازی سلوک صرف پولیس کے نظام سے بالا، فرانسیسی نفسیات میں سرایت کرتا ہے؟

    حالیہ واقعات میں، فرانسیسی پولیس کی طرف سے ایک 17 سالہ لڑکے کو گولی مار نے کے واقعے نے فرانس میں جاری تشدد کو ہوا دی ہے۔ جس سے فرانس کی پولیس میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی گہری جڑوں کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ متاثرہ شخص شمالی افریقی نژاد تھا، جو بنیادی رویوں اور تعصبات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ 2023 میں پولیس اسٹاپ کے دوران فائرنگ کا تیسرا واقعہ ہے۔ پچھلے سال اسی طرح کے تیرہ واقعات ہوئے جن میں سے تین 2021 میں اور دو 2022 میں ہوئے۔ ان تمام واقعات میں متاثر لوگ یا تو عرب ورنہ افریقی تھے۔

    فرانسیسی پولیس فورس کے اندر نسلی امتیاز کے اس بار بار ہونے والے نمونے کو اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل، کونسل آف یورپ، اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اجاگر کیا ہے۔ ان کی رپورٹیں اور نتائج ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں کہ مسئلہ ان الگ تھلگ واقعات سے زیادہ گہرا ہے۔

    مزید برآں، یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ مسئلہ پولیس سسٹم کے علاوہ بھی موجود ہے۔ فرانس کو بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی اجتماعی نفسیات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس کی ایک مثال 2021 کے "اینٹی علیحدگی پسندی” بل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جہاں ایک ترمیم کی منظوری دی گئی تھی، جس میں نابالغ بچوں کے پہننے والے نمایاں مذہبی نشانات، اور خواتین کی محکومیت کی علامت ہونے والے لباس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ ترمیم مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی گہری غلط فہمی کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ فرانس میں تقریباً 50 لاکھ مسلمان ہیں، لیکن ان میں سے صرف ایک حصہ یعنی تقریباً 2000 ، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے چہروں کو مکمل طور پر نقاب سے ڈھانپتے ہیں۔ لہٰذا، یہ قیاس آرائیاں کہ اس طرح کے لباس پوری مسلم آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، غلط بھی ہے اور امتیازی بھی۔ اسلام میں ہر عورت پردہ نہیں کرتی۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ یقیناً اسلامی روایت کی پیروی کرتے ہیں جیسا کہ ان کا حق ہے۔

    فرانس کو نہ صرف اپنے ناقص پولیس سسٹم کی اصلاح کرنی چاہئے، بلکہ اس میں موجود وسیع تر سماجی مسائل کو بھی حل کرنا چاہیے۔ پولیس افسران فرانسیسی معاشرے کے رکن ہیں۔ جب امتیازی سلوک کو کسی بھی چیز یا کسی سے مختلف کے لیے اجتماعی رویہ کے طور پر قبول کیا جائے، تو اس نوعیت کے واقعات کا رونما ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوئی ادارہ تنہائی میں موجود نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس معاشرے سے تشکیل پاتے ہیں جس کا وہ حصہ ہیں۔

    آخر میں، فرانس کو اپنی صفوں کے اندر نسلی امتیاز کو دور کرتے ہوئے، اپنے پولیس انتظامیہ کی ایک جامع تحقیقات کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی قوم کو اپنے وسیع تر معاشرتی رویوں اور تعصبات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے، فرانس ایک زیادہ جامع اور انصاف پسند معاشرے کی تعمیر کے لیے کام کر سکتا ہے، جدھر امتیازی سلوک کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔

  • دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    سیاست ایک گندا کھیل ہے۔ سیاستدانوں کی کثیر تعداد؛ وہ سمجھ لیتی ہے کہ ہوائیں کس جانب چل رہی ہیں، 9 مئی 2023 عمران خان اور ان کی پارٹی کے لیے موت کا دن تھا۔ سب کچھ خاک ہو گیا۔ سیاسی برفباری کا اثر شروع ہوا اور اب بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ وہ گول پتھر جو خان کی پارٹی کی طرف لپکے تھے، سبز چراگاہوں تک جانے کے راستے کو نشانہ زد کرنے میں تیزی سے کوشاں تھے۔ جیسا کہ کہاوت ہے، ڈوبتے جہاز سے چھلانگ لگا دی! پی ٹی آئی کے کچھ "کٹر” حامی جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ "موت تک بھی ہم الگ نہیں ہوں گے” انہوں نے جہانگیر خان ترین کی استحکم پاکستان پارٹی میں شامل ہونے میں کوئی دیر نہ کی۔ اس کا آغاز بڑے دھوم دھام سے کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے دبئی سے آنے والی خبروں سے معلوم ہوا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی اس نوزائیدہ جماعت کے لئے سیٹوں میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ نئی پارٹی میں شامل ہونے والے پہلے ہی پی پی پی جیسے پرانی جماعتوں میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔ اگرچہ ایسا ہو بھی سکتا ہے ،اور نہیں بھی،

    پاکستانی عوام میں جو سوال پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ نادہندگان, جو پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی سابقہ وفاداری کے نادہندہ ہیں اور ہر طرح کی کرپشن کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ اور بعض نے اس عمل میں بھی اپنا حصہ بھی ڈال دیا ہے جو پاکستان کے اپنے 9/11 پر ہونے والی غداری کا عمل تھا، کیا ان کو وائٹ واش کرنے کی اجازت دی جائے گی، اور اس طرح پی ٹی آئی سے جانے کی بنیاد پر ہر غلط کام سے بری ہو جائیں گے؟

    اگر ایسا ہو جائے تو قابل افسوس بات ہو گی۔ ابھی تک نظریہ یہ ہے کہ نہ صرف 9 مئی کے مجرموں کا، بلکہ تمام بدعنوانیوں کا بھی کڑا احتساب ہوگا۔ تاہم، اگر ان بھگوڑے سیاستدانوں کو ان کی بداعمالیوں سے مستثنیٰ ہونے کی اجازت دی جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ احتساب کا عمل مخصوص ہے نہ کہ جامع۔ اس عمل میں تمام بدعنوان کارروائیوں کا احاطہ ہونا چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو۔ خواہ میڈیا کے اہلکار ہوں یا فوج اور عدلیہ کے،

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ، لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ایک بار اور تبدیلی کے لیے، انصاف کا یہ جملہ، ’’انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا دیکھا بھی جانا چاہیے‘‘۔ [یہ جملہ لارڈ ہیورٹ نے ترتیب دیا تھا، جو اس وقت کے لارڈ چیف جسٹس آف انگلینڈ تھے، ریکس بمقابلہ سسیکس جسٹس، [1924] 1 KB 256۔]”

  • کریک ڈاؤن!

    کریک ڈاؤن!

    آتش زنی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ فوج کے اس معاملے میں نرمی کا کبھی موقع نہیں دینا چاہئے۔ پہلی مثال ان کی اپنی صفوں میں سے ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل احمد شریف نے حال ہی میں اپنے خطاب میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں فوج کے "خود احتسابی کے عمل” کے ایک حصے کے طور پر ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین فوجی افسران کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ تین میجر جنرلز اور سات بریگیڈیئرز سمیت افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ (ڈان نیوز 26 جون 2023)

    پیغام بآواز بلند اور واضح ہے۔ نو مئی کے واقعات میں جو بھی ملوث ہیں، کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

    یہ کارروائی رواں برس 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ملوث افراد کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ چاہے انہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے نعروں سے اکسایا گیا ہو کہ "عمران خان ہماری سرخ لکیر ہے” اور "ہم آپ کے "باپ” سے "حقیقی آزادی” لیں گے – آتش زنی کرنے والوں کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی "ماسٹر مائنڈ” کو بخشا جائے گا۔

    آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں کے ذریعے عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ یہ باقاعدہ قانون ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں پر کن حالات میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے، جب کوئی شہری خود کو غداری میں ملوث کرتا ہے، فوجی اہلکاروں، املاک پر حملہ کرتا ہے، یا پھر جاسوسی میں ملوث پایا جاتا ہے۔

    یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ
    1۔ 1973 کا غداری ایکٹ کیا ہے:

    2. سنگین غداری وغیرہ کی سزا۔ جہاں جب ایک شخص جو مجرم پایا جاتا ہے۔

    ا- 23 مارچ 1956 کے بعد سے کسی بھی وقت پاکستان میں نافذ العمل آئین کی تنسیخ یا تخریب کاری کا ارتکاب کرنا
    ب- آئین کے آرٹیکل 6 میں بیان کردہ سنگین غداری کی سزا موت یا عمر قید ہوگی۔

    باٹم لائن:

    3. طریقہ کار۔ کوئی عدالت اس ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم کا نوٹس نہیں لے گی، ماسوائے اس سلسلے میں کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اختیار کردہ کسی شخص کی تحریری شکایت پر۔

    میرا معصومانہ سوال یہ ہے کہ پھر عدالت نے فوجی ٹرائیبیونلز کے ذریعے شہریوں کے مقدمات کو روکنے کی درخواستوں کی سماعت کیوں شروع کی؟

    دوسری صورت حال وہ ہے جب پاکستان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ اور ایمرجنسی کے اعلان کا سامنا ہو۔

    کریک ڈاؤن یہاں ہے۔ کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ جو لوگ اس پر خاموش ہیں، انہیں سمجھنا ہوگا کہ کھیل ختم ہوچکا ہے۔ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا قابل قبول نہیں!

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!

    مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!

    مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران، دہلی اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدے کیے گئے۔ پرائیویٹ سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کو بھی اجاگر کیا گیا جس نے اسے خاصا فروغ دیا۔

    اس دورے کے دوران مودی نے بھارت کے لیے جو بھی اچھی چیزیں حاصل کیں، ان کا اثر بائیڈن کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا، "بھارت اور امریکہ نے سرحد پار دہشت گردی کی "سخت مذمت” کی نیز پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ دے۔ مشترکہ بیان میں دہشت گرد حملوں کے خلاف جس میں دونوں ممالک کو "دنیا کے قریبی دوستوں میں سے” قرار دیا گیا۔

    پاکستان کے متعلق مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور بھارت "عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں، اور دہشت گردی کی تمام اشکال کی واضح مذمت کرتے ہیں”۔ [دی انڈیپنڈنٹ، جون 2023]۔

    یہ مزاحیہ تھا! نہ صرف مودی کی طرف سے بیان جو اب بھی "گجرات کے قصاب” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے. جسے امریکی ویزا سے انکار کر دیا گیا تھا، اور "مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں” کی بنیاد پر تقریبا ایک دہائی تک امریکی خلا میں داخل نہیں ہو سکا۔ وہ امریکی سرزمین پر رہتے ہوئے یہ بیان دے رہے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ مودی کی نگرانی میں بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر رہا ہے۔ "گزشتہ ہفتے، ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ مودی-بائیڈن سربراہی اجلاس کے "مرکز” میں انسانی حقوق کے خدشات کو مد نظررکھے۔” {CNN نیوز}

    صورتحال کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے، امریکہ بھارت کو عالمی سطح پر چین کے عروج کے لیے سپیڈ بریکر کے طور پر دیکھتا ہے۔ ممکن نہیں کیونکہ ہندوستان ترقی کے اعتبار سے چین سے بہت زیادہ پیچھے ہے۔ پاکستان کی چین سے قربت ہے۔ واشنگٹن اور چین دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام آباد چاہے بھی تو وہ خود کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں کرسکتا. اس کی وجہ وہ سیاسی، عدالتی اور اقتصادی جاری بحران جس سے وہ کافی عرصے سے دوچار ہے۔
    اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنی پالیسیوں کو خارجی اور داخلی دونوں طرح سے غلط طریقے سے استعمال کیا ہے۔ خود کو بین الاقوامی سطح پر غیر متعلقہ بنانے کے لیے یہ کافی ہے۔

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    پلوامہ کے بعد گیلوان میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کا ذمہ دار کون؟ بھارتی صحافی نے سیاسی قیادت پر بڑا سوال اٹھا دیا

    بھارت کی پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں پاکستان کےخلاف سازش بے نقاب،بھارت نے جسکو مردہ کہا وہ پاکستان میں زندہ نکلا

  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

    ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

    ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
    ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    21 جون یوم پیدائش شہید بےنظیر بھٹو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. .

    ہر وہ شخص جو پیدا ہوا موت اس کا مقدر ہے مگر عظیم لوگ مر کر بھی نہیں مرتے بلکہ جس دن وہ دفن ہوتے ہیں اس دن سے ان کی حیات نو کا آغاز ہو جاتا ہے

    شہیدبےنظیر بھٹو بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھیں۔21 جون 1953 کوجب وہ پیدا ہوئیں تب ذوالفقارعلی بھٹو محض25 برس کے ایک خوبرو اور تعلیم یافتہ جوان تھے لیکن آنے والے وقتوں میں انہیں جو شخصی اور سیاسی عروج ملاشائد اس میں ان کی باسعادت بیٹی کےمقدرکےستارےکی چمک بھی شامل تھی۔بھٹوز کےبارےمیں کہاجاتا ہےکہ ان کی عمریں طویل نہیں ہوتیں جو تاریخی اعتبار سےدرست بھی ثابت ہوتا رہا۔ان کے والدذوالفقارعلی بھٹو51برس کی عمر میں مصلوب کردیےگئےاوروہ خود 54 برس کی عمرمیں پنڈی کے مقتل پہ وار دی گئیں۔یہی حادثاتی اموات ان کے بھائیوں کو بھی جواں عمری میں ان سے چھین کر لے گئیں

    شہیدبےنظیربھٹواپنی تاریخ پیدائش کےاعتبارسے gemeni تھیں جو کریم النفس مہمان نواز جلد روٹھنے اور جلد ماننے والے نیز معاف کردینے والے ہنس مکھ ملنسار رمز شناس اور رومانوی مزاج کے ہوتے ہیں۔وہ بھی انہی خصوصیات کی حامل تھیں۔زمانہ طالب علمی میں وہ ہہلے ہاروڈ یونیورسٹی امریکا اوربعدازاں آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ کی طلبہ یونین کی صدر رہیں۔اس دوران انہیں پہلے امریکا اورپھر انڈیا میں اپنے والد کے ساتھ سفارتی کام کا تجربہ بھی ہوا

    1977 میں اپنے والد کی حکومت کے خاتمے ان کی گرفتاری مقدمے اور بالآخر ان کی پھانسی کے بعد تک وہ ابتدا 4 برس قیداورنظربند اور4 ہی برس جلاوطن رہیں۔10 اپریل 1986 کوملک واپسی پرلاہور میں ان کا استقبال برصغیرکی اب تک کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا جس نے وقت کےجابر آمرکےاقتدار کی چولیں ہلادیں۔تب وزیراعظم جونیجو نےضیا سےاختلاف کرکےشہیدبی بی کوسیاست میں حصہ لینےکا موقع دیا اور گول میز کانفرنس میں انہیں بلا کر سیاسی تاریخ کا نیا رخ متعین کیا۔ضیا کی حادثاتی موت کےبعدمنعقدہ انتخابات میں کامیابی کےبعدوہ پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں جو جبریہ نظام کے خلاف ان کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔ان کی دوسری بڑی کامیابی اپنے سب سے بڑےسیاسی مخالف میاں محمدنواز شریف کوپہلےپارلیمان کش آٹھویں ترمیم کے خاتمے اور بالآخر میثاق جمہوریت کے ذریعےانہیں پارلیمان اورجمہوریت کےمحافظ کاکردارسونپنااورطالع آزماوں کے راستےمسدودکرنا تھا۔

    شہید محترمہ کے فلسفہ سیاست میں نئے عمرانی معاہدے مفاہمت،جمہوریت بہترین انتقام ہے،اور پرامن جہد مسلسل کو دنیا بھر کی جامعات میں میں جدیدسیاسی فکر کےطور پر پڑھایا جاتا ہے
    آج کے دن ہم ان کی طویل جدوجہد سیاسی بصیرت اور ہرحال میں کامیابی کی امید اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جو پاکستان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کےلیے مشعل راہ ہیں۔۔۔بقول فیض

    گھر رہیے تو ویرانی دل کھانے کو آوے
    رہ چلیے تو ہرگام پہ غوغائے سگاں ہے
    ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
    اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

    عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    آصفہ زرداری کس صورت میں الیکشن لڑیں گی؟ بڑا اعلان ہو گئا

    وزیرخارجہ بلاول زرداری سے متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کا ٹیلیفونک رابطہ

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

     انسانی حقوق کے متعلق ہمارا عزم غیر متزلزل ہے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ سینیٹر فاروق حامد نائیک نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے

    ایسا لگ رہا ہے جیسے بلاول بھٹو کے روپ میں بھٹو واپس آیا ہے

  • بے روزگاری اور سینیٹ میں مراعات کا بل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    بے روزگاری اور سینیٹ میں مراعات کا بل، تجزیہ، شہزاد قریشی

    (تجزیہ: شہزاد قریشی)
    بقول شاعر
    اب گوشت کو ناخن سے جلا دیکھ رہا ہوں۔
    ہر سمت نفرت کی ہوا دیکھ رہا ہوں ۔
    سناٹا ہے احساس کی وادی کا قیامت۔
    سناٹے میں ایک حشر بپا دیکھ رہا ہوں۔
    دل چیر گئیں ڈوبنے والوں کی صدائیں۔
    مجبور ہوں ساحل پر کھڑا دیکھ رہا ہوں۔
    میں اس وقت جب پاکستان کا مستقبل اور ملک کا اثاثہ دیار غیر کے سمندروں میں ڈوب رہا تھا غربت بے روزگاری سے تنگ ملک سے باہر جاکر روز گار کی تلاش میں ادھر عین اس وقت سینٹ کے چیئرمین کی مراعات میں اضافے کا بل پاس ہو رہا تھا۔ اس پر جتنی سینہ کوبی کی جائے وہ کم ہے۔ پی ڈی ایم سمیت اس بل کی منظوری میں پی ٹی آئی کے ممبران بھی شامل تھے۔ اس پرائیویٹ بل کی حمایت ہمارے ملک کی ممتاز مذہبی جماعت جے یو آئی(ف) گروپ بھی شامل ہے ۔ افسوس صد افسوس ملک میں پہلے ہی قانون کی حکمرانی تک نہیں آئین کی حکمرانی نہیں ۔ ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ بے روز گاری‘ جرائم میں اضافہ دن دھاڑے چوریاں ڈکیتیاں‘ قتل و غارت‘ مہنگائی۔ سیاستدان کی اکثریت ہلاکو خان اور چنگیز خان کے نقش قدم پر چل پڑی سیاست میں تشدد ہلاکو خان کا مذہب ہے۔

    ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کاروائیاں‘ پولیس کے ذریعے جھوٹے مقدمات کا اندراج کیا یہ جمہوریت ہے؟ جو ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے۔ کونسی ایسی جماعت ہے جس نے پاک فوج اور جملہ اداروں پر حملہ نہیں کیا۔ عدلیہ پر حملے‘ کیا یہ جمہوریت ہے؟ ان سیاسی جماعتوں نے ملک کو اپنی سلطنت بنا لیا ہے ۔ 24 کروڑ عوام کے بنیادی مسائل سے بے خبر سیاستدان اب وزارت عظمیٰ کی جنگ میں مصروف ہیں کون بنے گا آئندہ وزیر اعظم کا کھیل جاری ہے۔ عوام کی اکثریت اس وقت تک مسائل کے دلدل میں پھنسے رہیں گے جب تک ووٹ دیتے وقت ملک کو نہیں دیکھیں گے۔ ایک دوسرے کو غدار ثابت کرنے سے اگر فرصت ملے ملک وقوم کے مسائل پر توجہ دی جائے ورنہ یقین مانئیے جن حالات سے پاکستان اور قوم گزر رہی ہے جمہوریت کا جعلی لبادہ جو اوڑھ رکھا ہے اب وہ لبادھ بھی سرکتا ہوا نظر آرہا ہے۔

  • باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    آذربائیجان اگلے ماہ پاکستان کو ایل این جی کی سپلائی شروع کرنے والا ہے، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ "سستی” قیمت پر ہوگی تاہم، "سستے” کی اصطلاح گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پالیسی ساز ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی طرف آ رہے ہیں

    صاف ستھرے اور زیادہ سستی توانائی کے ذرائع کے لیے "پل فیول” کے طور پر اپنی شہرت کے باوجود، ایل این جی نے نادانستہ طور پر پاکستان کو زیادہ گندے اور زیادہ آلودگی پھیلانے والے ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جب قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ مثال کے طور پر، قیمتوں میں اضافے کے دوران، پاکستان میں سیمنٹ فیکٹریوں نے افغانستان سے کوئلہ خریدنے کا سہارا لیا، جس سے آلودگی کی سطح بڑھ گئی (بلومبرگ، 2022)۔

    ایل این جی پر بڑھتا ہوا انحصار نہ صرف ایندھن کی قیمت میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بھی دبا رہا ہے۔ ایل این جی درآمد کرنے سے پہلے گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کی بیلنس شیٹس قابل انتظام تھیں۔ تاہم، ایل این جی کا بڑھتا ہوا استعمال، جو نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اہم لائن لاسز کا باعث بھی بنتا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے لیے بے حساب (UFG) کی وجہ سے کافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

    ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، پاکستان کو "سستے” نرخوں پر درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنے کی بجائے گھریلو گیس کی پیداوار کو ترجیح دینی چاہیے۔ بنیادی مسئلہ پیداوار میں ہے، اور ایک مہنگا متبادل درآمد کرنے سے بیلنس شیٹ میں مزید تناؤ آئے گا، جس سے توانائی کا شعبہ غیر پائیدار ہو جائے گا۔

    کیا ایل این جی پر زیادہ انحصار کم کرنا ممکن ہے؟ ہاں، توانائی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع جیسے ہائیڈروجن اور بائیو گیس کو تلاش کریں۔ دوسرا، توانائی کی طلب کا تجزیہ کریں اور مختلف شعبوں کے لیے مناسب سپلائی کا تعین کریں۔ ایسی ٹرانسمیشن لائنوں میں ایل این جی کا استعمال کریں جو لائن لاسز کا کم سے کم شکار ہوں۔ تیسرا، نقصانات کو کم کرنے کے لیے تقسیم کے نظام میں اصلاحات کریں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پورے نظام کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔