پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض لمحات محض تقاریب نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے عہد کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ تھی، جہاں ماضی کی جدوجہد، حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی سمت ایک ہی فکری دھارے میں بہتی دکھائی دی۔ یہ اجتماع محض عہدوں کی تقسیم نہیں تھا بلکہ ایک نظریے کی تجدید، ایک تحریک کی یاد دہانی اور ایک قومی عزم کی تجدیدِ نو تھا۔
اس موقع پر دل بے اختیار اللہ رب العزت کے شکر سے لبریز ہو گیا کہ اس نے ہمیں ایک روشن اور باوقار ماضی عطا کیا، ایک بامقصد اور متحرک حال سے نوازا اور ہم اس سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ایک ایماندار، خوددار اور نظریاتی مستقبل بھی عطا فرمائے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو برصغیر کے مسلمانوں کی حالتِ زار 1906ء میں بھی کچھ مختلف نہ تھی، جب نواب سلیم اللہ خان کے گھر ڈھاکہ میں مسلم قیادت اکٹھی ہوئی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔
قرآنِ حکیم کا یہ فرمان اُس دور کی پوری تصویر پیش کرتا ہے "یاد کرو جب تم تعداد میں کم اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے، تمہیں ہر وقت اس بات کا خوف رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اچک لیں گے، پھر اللہ نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری مدد فرمائی”۔یہی کیفیت اُس وقت مسلمانوں کی تھی اور افسوس کہ آج امتِ مسلمہ مجموعی طور پر ایک مرتبہ پھر اسی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے وقتی مفادات کے بجائے نظریے کو تھاما، اللہ کی نصرت ان کے شاملِ حال ہوئی۔ہم آج 2025 کو رخصت اور 2026 کا استقبال کرنے جا رہے ہیں۔ پورے یقین، ایمان اور مشاہدے کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ 2025 میں مرکزی مسلم لیگ کو جو عزت، پذیرائی اور عوامی قبولیت ملی، وہ کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، خاموش اور مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ یہ سفر عزتوں، فتوحات اور غلبۂ حق کا سفر ہے، جو ان شاء اللہ رکے گا نہیں بلکہ مزید وسعت اختیار کرے گا۔
میرا ایمان گواہی دیتا ہے کہ اس خطے میں مرکزی مسلم لیگ محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اللہ کی مشیت کے ایک مظہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے سیاست کو کبھی اقتدار کی ہوس، ذاتی مفادات یا وقتی فائدے کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ہم نے دہائیوں تک خاموشی سے دعوت کا کام کیا، خدمت کی، مظلوموں کا سہارا بنے، سیلابوں، زلزلوں اور دیگر آفات میں بلاامتیاز عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ پینتیس برس تک یہ جدوجہد بغیر کسی صلے اور شہرت کے جاری رہی، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا؛ اس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ یہ تحریک ملکی سیاست کے مرکز میں لا کھڑی ہوئی۔
پاکستان کے گزشتہ 78برسوں کی تاریخ کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ملک کو جتنے زخم اندرونی حکمران طبقات نے دیے، شاید بیرونی دشمن بھی اتنے کاری وار نہ کر سکے۔ اقتدار کی ہوس، خاندانی سیاست، ذاتی مفادات اور بدعنوانی نے قومی مفادات کو مسلسل پامال کیا، حتیٰ کہ ملک دولخت ہو گیا۔ یہ سب کچھ نظریاتی انحراف کا نتیجہ تھا۔ایسے نازک موڑ پر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوئی کہ ایک ایسی قیادت کو ابھارا جائے جو لالچ، حرص اور ذاتی مفادات سے پاک ہو، جو نظریاتی قوت سے مالا مال ہو۔ مرکزی مسلم لیگ اسی نظریاتی سیاست کی علامت ہے۔ ہم کسی فرد، کسی خاندان یا کسی مخصوص گروہ کی سیاست نہیں کرتے۔ ہم ایک نظریے کی دعوت دیتے ہیں، اور وہ نظریہ ہے: لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ محمدٌ رسولُ اللّٰہ ﷺ۔ یہی اسلام کا جوہر ہے اور یہی نظریۂ پاکستان کی اساس ہے۔
پاکستان کو آج مزید جماعتوں، مزید نعروں یا مزید چہروں کی ضرورت نہیں، بلکہ نظریاتی استقامت اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔ یہی نظریہ سب کے لیے ہے۔ اس ملک میں بسنے والے تمام مذاہب، مسالک اور برادریوں کے افراد اس نظریاتی ریاست میں برابر کے شہری ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اتحاد، رواداری، ہم آہنگی اور ملی وحدت کو فروغ دیا ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست سے خود کو دور رکھا ہے۔1980ء کی دہائی میں، جب ایک طرف جہادِ افغانستان کا آغاز ہوا تو دوسری جانب فرقہ واریت کا زہر بھی معاشرے میں پھیلایا گیا۔ مسلمان، مسلمان کے خلاف صف آراء ہو گیا۔ اس نازک اور خطرناک دور میں مرکزی مسلم لیگ اور اس سے وابستہ قیادت نے دفاعِ پاکستان کونسل اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے اتحادِ امت کا عملی نمونہ پیش کیا اور خونریزی و انتشار کے آگے مضبوط بند باندھا۔
آج ہم پورے اعتماد سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ جیسے جیسے مرکزی مسلم لیگ کی سیاست آگے بڑھے گی، ملک میں فرقہ واریت، نفرت اور انتشار میں کمی آئے گی، اور ایک نظریے پر متحد قوم کی تشکیل کا عمل تیز ہو گا۔ پاکستان کو آج ایک بار پھر علامہ اقبالؒ کے تصورِ خودی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کی اشد ضرورت ہے، جو تمام شہریوں کو ایک قوم کی لڑی میں پرو سکے۔مرکزی مسلم لیگ کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ ہم نے کبھی عوام کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ ہم نے لوٹ مار کے بجائے وسائل جمع کیے اور انہیں مصیبت زدہ عوام تک پہنچایا۔ یہی خدمت، یہی اخوت اور یہی مؤاخات پاکستان کی نشاۃِ ثانیہ کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ہم سودی نظام کے بجائے اسلامی اخوت، زکوٰۃ و عشر، اور باہمی تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر قوم ایک دوسرے کا سہارا بن جائے تو مہینوں نہیں بلکہ چند برسوں میں پاکستان خود کفیل، مستحکم اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔
برصغیر کی تقسیم کے وقت انگریز اور ہندو گٹھ جوڑ نے پاکستان کے ساتھ تاریخی ناانصافی کی۔ مسلم اکثریتی ریاستوں کو غاصبانہ اور منافقانہ طریقوں سے ہتھیا لیا گیا۔ بھارت نے کبھی پاکستان کی آئینی حیثیت کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ جوناگڑھ، مناوادر، حیدرآباد دکن، گورداسپور اور دیگر علاقوں پر قبضہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ ہم پرامن ہیں، مگر اپنے حق سے دستبردار نہیں۔ یہ مطالبات ہم دنیا کے ہر فورم پر دلیل، وقار اور امن کے ساتھ پیش کرتے رہیں گے۔یہی نظریاتی استقامت، یہی اخلاقی سیاست اور یہی خدمتِ خلق وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر منزلِ مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔