قومی سلامتی اور یوٹیوب کی سیاست یہ کیسا المیہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی سیاست کو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے کی روایت پھر سے زندہ ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاسی جماعت اور اس کے ہم نوا چند یوٹیوبرز نے ایک کالم کو بنیاد بنا کر وہ بحث چھیڑ دی ہے جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ریاستی مفاد کے بھی سراسر خلاف ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ یہاں قومی سلامتی محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ریاست کی بقا کا ضامن ہے۔ مگر افسوس، ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے مائیک نے ہر اس شخص کو دانشور بنا دیا ہے جس کے پاس کیمرہ، انٹرنیٹ اور کچھ منٹ کی جذباتی تقریر موجود ہو۔ دنیا کے کسی بھی مہذب اور ذمہ دار ملک میں قومی سلامتی کے اداروں کو اس طرح سرِبازار موضوعِ تماشا نہیں بنایا جاتا۔ امریکہ ہو یا یورپ، ترکی ہو یا چین وہاں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے مگر اداروں کو متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ وہاں یہ شعور موجود ہے کہ ادارے کمزور ہوں تو ریاست بھی کمزور ہو جاتی ہے۔پاکستان میں مگر صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار میں ہوتے ہوئے یہی حلقے انہی اداروں کو سلام پیش کرتے نہیں تھکتے تھے، آج اقتدار ہاتھ سے نکلتے ہی وہی ادارے تنقید کا آسان ہدف بن گئے۔ یہ تضاد محض سیاسی نہیں، بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ کسی کالم یا تجزیے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا، پھر اس پر یوٹیوب عدالتیں لگانا، دراصل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سوال اٹھائے جائیں یا نہیں،
سوال یہ ہے کہ کس نیت، کس فورم اور کس حد تک؟ قومی سلامتی کے معاملات جذبات نہیں، ہوش مانگتے ہیں۔ یہ لائکس، سبسکرائبرز اور ویوز کا ایندھن نہیں ہوتے۔ جو لوگ آج غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر رہے ہیں، وہ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ایسے بیانیے دشمن قوتیں کتنی تیزی سے استعمال کرتی ہیں۔ ریاست اور سیاست میں فرق نہ کرنا ہی ہمارے مسائل کی جڑ ہے۔ سیاست حکومت کے لیے ہوتی ہے، مگر سلامتی ریاست کے لیے۔ جو قوم اس فرق کو مٹا دیتی ہے، تاریخ اس کے ساتھ نرمی نہیں برتتی۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلاف کو سیاسی دائرے میں رکھا جائے اور قومی اداروں کو سیاسی اکھاڑے سے باہر رکھا جائے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاستی اداروں کی تضحیک جمہوریت نہیں، خودکشی کے مترادف ہے۔ پاکستان کو اس وقت شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جن کندھوں پر اس ملک کی سلامتی کا بوجھ ہے، انہیں کمزور کرنے کا مطلب اپنے ہی مستقبل کو غیر محفوظ کرنا ہے۔
بقول شاعر
یہ خاک و خوں کا سفر یوں ہی رائیگاں نہ گیا
وطن کی آن پر جب بھی آنچ آئی، ہم نے جان دی
