Baaghi TV

Category: سیاست

  • اورینج ٹرین پاکستانی معیشت پر نیا بوجھ تحریر: محمد نواز

    اورینج ٹرین پاکستانی معیشت پر نیا بوجھ تحریر: محمد نواز

    کہتے ہیں کہ پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم اور انکے بھائی یعنی میاں برادران نےشہر لاہور کو ایک کامیاب ، منفرد ، منافع بخش اور سہولیات سے بھرپور منصوبہ اورینج ٹرین تقریباً 62 کڑوڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کر کے دیا 

    یہ ٹرین لاہور شہر کے درمیان چلے گئ جو ڈیرا گجراں سے چلتے ہوئے لاہور شہر کا چکر کاٹتی ہوئی علی ٹاون تک جائے گی اور پھر وہاں سے واپس ڈیرا گجراں تک اس سلسلے کے لیے میاں برادران اور انکی ٹیم نون لیگ نے چائنا سے 27 ٹرینیں خریدی ہیں 

    یہ ٹرینیں سالانہ تقریباً دو ارب روپے یا اس سے زیادہ کی بھی بجلی استمال کریں گئ اور پنجاب حکومت 4 لاکھ ڈالر یومیہ اس پر سبسڈی دے گی اس کے علاوہ اس منصوبے کے لیے جو قرض لیا گیا ہے اس پر سالانہ 6 ارب 25 کڑوڑ روپے صرف سود ہی ادا کرنا ہو گا بے شک چاہے ٹرین چلے یا نہ چلے نون لیگ نے لاہور اور پنجاب حکومت کو یہ ایسا تحفہ دیا ہے کہ آنے والی نسلیں بھی اس احسان کو یاد رکھیں گئ 

    کتنی نسلوں تک یہ قرض اتارنے کا سلسلہ چلتا رہے گا فلحال کوئی نہیں بتا سکتا مجھے سمجھ نہیں آئے میاں برادران اور اس منصوبے کو بنانے والی پور نون لیگ ٹیم کی جو اس کو بنانے کے لیے رضامند ہوئے وہ کیا جینیس دماغ ہونگے یا میاں برادران کی لیاقت کے آگے وہ لاجواب ہو گے ہونگے کیا یہ سب ملکی حالات سے بے خبر تھے کہ ملک قرض کے بوجھ میں پہلے سے ہی دبا ہوا ہے مزید قرضہ لینے کا حامل نہیں ہو سکتا 

    ان سب عالٰی قیادت اور اسکی عالٰی پارٹی کو معلوم نہیں تھا کہ پاکستان جتنی بجلی بناتا ہے وہ ملکی صنعتی چھوڑ گھریلو ضروریات پوری نہیں کر سکتا اوپر سے اس سفید ہاتھی کو بجلی کیسے دی جائے گی کیا ہم اتنی بجلی پیدا کرتے ہیں کہ بجلی کی زیادہ پیداوار ہونے کی وجہ بجلی دوسرے ممالک کو بھیچ کر خرچے پورے کر رہے ہیں اور ملک میں بجلی مفت ہے 

    کا۔ کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھتا کہ تم خو د تو دوسرے ممالک سے بجلی خریدنے کے معاہدے کر رہے ہو اور جن ریٹس پر کر رہے ہو کیا ٹرین کی بجلی کا خرچ لنڈن سے ببلو ڈبلو بھیجیں گے انہوں نے کیا پیسے بھیجنے ہیں اس ساری پارٹی نے کِک بیکس اور کمیشنز لے کر ٹی ٹی ماسٹر بن کر ہنڈی یا جعلی اکاؤنٹس میں پیدے ڈال کر رفع چکر ہو گے قوم پہلا قرض تو اتار نہیں سک رہی اوپر سے قوم کو نیا چونا لگا دیا گیا اس سفید ہاتھی کا قرض اور چڑھا دیا گیا تاکہ جو دم باقی ہے وہ بھی نکل جائے

    میاں برادران اور تمام ٹیم نے قوم کو خوب بےوقوف بن کر اندھے کنوے میں دکھل کر خود موجیں کر رہے ہیں انکو کوئی پروا نہیں کہ انہوں نے قوم کے ساتھ کیا کیا ہے پوچھو تو کہتے ہیں ایسے منصوبے نقصان میں ہی چلائے جاتے ہیں اور مثال ترقیافتہ ممالک کی دیں گے ان کھوتے دماغوں کو کون سمجھائے کہ انکو اگر کسی جگہ خسارہ ہوتا ہے تو وہ دوسری جگہ سے اتنا منافع کما لیتے ہیں کہ وہ خسارے پر بھی چلائیں تو ان کو فرق نہیں پڑتا فرق تو ہم جیسے غریب ملک اور اسکی عوام کو پڑتا ہے جو پہلے سے ہی قرض دار ہے اور جس کا ہر ادارہ خسارے میں ہے 

    اس ٹرین کو چلانے سے پہلے سو دن میں پنجاب حکومت کو 14 کڑوڑ کا خسارہ ہوا تھا اس ٹرین کو چلائیں تو نقصان نہ چلائیں تو نقصان میاں برادران وہ حال کر کے گے ہیں کہ عوام کی چیخیں مریخ تک جا رہی ہیں اس قرض کے سود کو اتارنے کے لیے ہر چیز پر ٹیکس لگ گیا ہے ہر چیز مہنگی ہو گئ ہے عوام حکومت کو کوستی ہے مگر کوئی ان لوٹیروں کو پکڑ کر ان سے لوٹا ہوا پیسہ نہیں مانگتا اور نہ ہی ان کو کوئی عبرت ناک سزا دی جاتی ہے

    موجودا حکومت اس مصیبت اس سفید ہاتھی کو پالنے کے لیے دن رات کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح اس خسارے سے جان چھڑائی جائے یا اس نقصان کو کم سے کم کیا جائے اس کے لیے جتنی بجلی درکار ہے اسکے انتظام کے لیے ہائڈرو پلانٹس کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں اس کے علاوہ بہت کم سے کم ریٹ پر چائنہ سے بجلی کا معاہدہ کرنےکی کوشش ہو رہی ہے  تاکہ خسارے کے گرافک کو کدی طرح نیچے لایا جائے 

    اس ٹرین کو چلانا مجبوری بن گی ہے اگر نہیں چلائی گئیں تو کھڑے کھڑے خراب ہونے کا بھی خدشہ ہے اس کے ساتھ سود اور قرض بھی کھڑا ہے اسے ادا کرنے کے لیے حکومت ہاتھ پاؤں مار رہی ہے مگر نون لیگ کی حکومت کے اس اقدام سے یہ تو صاف ظاہر ہو گیا کہ انکو ملک سے زیادہ اپنے کمیشن سے پیار ہے انہیں اس چیز کی کوئی فکر نہیں تھی کہ جہاں پہلے ہی بھوک افلاس ننگا ناچ رہی ہے وہاں ایسے منصوبے ملکی معیشت تو تباہ کرتے ہی کرتے ہیں مگر عوام کو کو غربت کی لکیر سے بھی کہیں نیچے لے جاتے ہیں 

    ﷲ سبحان تعالٰی ہمیں اس طرح کے لالچ زدہ قیادت سے بچائے اور اپنے حفظ و آمان میں رکھے دُعا کریں ہمارے پیارے پاکستان کے لیے ﷲ خیرو برکت عطا فرمائے اور حکومت کو درست راستے پر ڈال دے تاکہ ہم ان مشکلات سے نکل سکیں پاکستان کا ﷲ حامیوناصر ہو 

    ‏@CH__210

  • حکومت و ریاست میں بنیادی فرق۔تحریر ثمینہ اخلاق

    حکومت و ریاست میں بنیادی فرق۔تحریر ثمینہ اخلاق

    دنیا میں جتنے بھی ممالک ہیں ان سب میں ایک فرق نمایاں ھوتا ھے اور وہ ھے حکومت اور ریاست کا فرق لیکن اس فرق کا بہت کم لوگوں کو پتہ ھے اور یہ ہماری بد قسمتی ھے کہ پاکستان میں بھی 90 فیصد لوگ اس فرق سے نابلد ھیں۔

    آئیے آج ھم حکومت و ریاست کے چند بنیادی نکات اور ان کے درمیان پائے جانے والے فرق پر بات کرتے ھیں۔

    کہا جاتا ھے کہ ریاست ھو گی ماں کے جیسی لیکن کبھی یہ نھیں سنا گیا کہ حکومت ھو گی ماں کے جیسی جبکہ اس فقرے کا حکومت و ریاست دونوں سے کلیدی تعلق ھے۔

    پاکستان میں حکومت اور ریاست دو الگ الگ پہلو ھیں حکومت کا عمل دخل ریاستی امور کو چلانا ھے۔ یوں سمجھ لیں کہ ریاست زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ھے جسے وھاں کے رھنے والے اپنی بقاء کیلئے مقدم رکھتے ھیں۔ جبکہ حکومت ایک ایسے مربوط نظام کا نام ھے جو اس زمین کے ٹکڑے پر نافظ کیا جاتا ھے۔ اسکو یوں سمجھ لیں کہ ریاست کی مثال ایک مسجد جسے وھاں کے رھنے والے اپنے پئے مقدس سمجھتے ھیں اور حکومت وھاں پر موجود متولی کی حیثیت رکھتی ھے یعنی وھاں کے رھائشی مسجد کا نظم و نسق چلانے کیلئے ایک متولی رکھتے ھیں جس کا کام مسجد کے امور کی دیکھ بھال کرنا ھے اب اگر متولی اس مسجد کی دیکھ بھال بہترین انداز میں کر رھا ھے تو اس مسجد میں آنے والے تمام افراد بھی خوش ھوں گے اور اگر متولی وسائل کے باوجود اس مسجد کے امور ٹھیک طرح سے سر انجام نھیں دے رھا تو صاف ظاھر ھے وھاں موجود افراد اس متولی سے مطمین نھیں۔

    بالکل اسی طرح کسی بھی ریاست میں حکومت ایک متولی جیسی ھے جسے میں نے آپ نے ھم سب نے یا ھم میں سے اکثریت نے ملکر نامزد کیا یا منتخب کیا تا کہ زمین کے اس ٹکڑے جسے اب ھم بطور ریاست دیکھتے کہتے اور سمجھتے ھیں اسکے امور بہتر انداز میں دیکھے جا سکیں۔

    یہاں ایک اور چیز کی بھی وضاحت ھونی چاھئے کہ ریاست میں موجود ھر فرد چاھے وہ ریاستی نظم و نسق چلانے والی حکومت سے خوش ھے یا نھیں لیکن اس پر لازم ھے کہ وہ ریاست سے اپنی وفاداری مقدم رکھے اس پر کوئی چنداں پابندی نھیں کہ وہ ریاستی امور چلانے والی حکومت سے بھی وفادار ھو لیکن اس کا ریاست سے وفادار ھونا لازم و ملزوم ھے کیونکہ اگر ریاستی امور ٹھیک نھیں چل رھے تو قصوروار ریاست نھیں بلکہ ریاستی امور چلانے والی حکومت ھے قصور وار میں اور آپ یا وہ اکثریت ھے جس نے ریاستی امور چلانے کا اختیار حکومت کی صورت میں کسی کے ھاتھ سونپا ھے۔

    لیکن یہ پاکستان کا المیہ ھے کہ یہاں ریاست سے وفاداری اب شاذ و نادر ھی رھی ھے جبکہ حکومتی و اپوزیشن سے وفاداری بڑھ چکی ھے جبکہ ھم سب بہت اچھی طرح جانتے ھیں کہ ریاست ھو گی تو ھی یہ حکومتیں ھوں گی جب خدانخواستہ ریاست ھی نہ رھی تو حکومت و اپوزیشن کا کی مقصد باقی رھے گا یا میری اور آپ کی یا ھم میں سے اکثریت کیلئے کیو وجہ باقی رہ جائے گی۔

    اسی طرح ریاست کے اندر چلنے والے تمام ادارے ایک محلے کی مسجد سے لیکر افواج تک سب ادارے ذاتی نھیں بلکہ ریاستی ھوتے ھیں اور یہ ریاست کی نمائندگی کرتے ھیں۔ جب آپ اور میں یا ھم میں سے اکثریت اس محلے کی مسجد سے لیکر افواج کے ادارے تک کو گالیاں دیں، برا بھلا کہیں اور یہ بھی جانتے ھوئے کہ ان کا حکومتی یا اپوزیشن کے بیانئے یا حکومت کے سیاسی داؤ پیچ سے کوئی تعلق نھیں تو یاد رکھیں کہ آپ ریاست کے وفادار نھیں ھیں کیونکہ آپ نے حکومتی و اپوزیشن کو ریاست پر نہ صرف مقدم ٹھہرایا بلکہ ریاست کو پس پشت ڈال کر چند سیاسی حکومتی و اپوزیشن کے افراد کو تقویت دی جس کا نقصان بہرحال ریاست کو ھی پہنچے گا۔

    لفظ پاکستان صرف ایک لفظ نھیں بلکہ لاکھوں قربانیوں کی لازوال داستان ھے۔ ایک ایسی داستان کہ جس کا ھر ورک اور ھر ورک کا ھر حرف خون میں ڈوبا ھے۔ ایک ایسا خون کہ جس نے میرے لئے آپ کیلئے ھم سب کیلئے جسموں میں رھنے سے زیادہ اس زمیں پر بہنے کو ترجیح دی۔

    جی ھاں آج یہی زمیں وہ مسجد ھے کہ جس کو بنانے کیلئے ھمارے آباء و اجداد نے اپنا خون بہایا ھے۔ آج یہ ھمارا فرض ھے کہ ھم اپنے بزرگوں کی دی ھوئی امانت یعنی اس مسجد کہ جس کا نام پاکستان ھے اپنی جان سے بھی زیادہ اسکی حفاظت کریں کیونکہ یہی وہ مقدم ریاست ھے کہ جسکی بنیادوں میں ھمارے آباء و اجداد کا خون شامل ھے۔

    تحریر ثمینہ اخلاق

    @SmPTI31

  • پاکستان کی سفارتی محاذ پر کوششیں تحریر : سید محمد مدنی

    پاکستان کی سفارتی محاذ پر کوششیں تحریر : سید محمد مدنی

    یہ کافی عرصے بعد دیکھنے میں آیا کہ پاکستان اپنی سفارت کاری میں کامیاب ہو رہا ہے ہر روز بین الاقوامی سطح پر تعریف ہو رہی ہے ابھی کچھ ہی دن پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا چھیئترواں اجلاس ہؤا جس میں برطانوی وزیر اعظم نے دنیا میں درخت ماحولیاتی تبدیلی پر بھی بات کی اور اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا پودے لگانے کے ویژن کو سراہا اور تعریف کی اور اس پر عمل کرنے کے لئے مثال قرار دیا.

    ہمارے ایک پڑوسی ملک کی کوشش رہی کے پاکستان کو اکیلا کیا جائے مگر ریاست پاکستان نے ایک مضبوط مؤقف اور بہترین دلائل اور حکمت عملی اپنائے رکھی.

    وزیراعظم امن بات چیت اور صلح کے حامی ہیں اور انھوں نے ان سب کے لئے جتنا ہو سکا کوششیں کی بھی کوئی.

    ایک امریکی صحافی نے وزیراعظم کی افغانستان سے امریکی ڈپلومیٹس کے بحفاظت انخلاء پر تعریفی کلمات کہے جس پر وزیر اعظم نے قرآن کی ایک آیت کا جواب دیتے ہوئے خط کا جواب دیا اور لکھا کے ہم امن اور انسانیت کے حامی ہیں.

    وزیراعظم کے یہ اقدامات پاکستان کی سفارتکاری کو افق پر لے آئے ہیں. مسئلہ کشمیر پر دنیا کے بیشتر ممالک بھارت سے جواب طلب کر رہے ہیں.

    پاکستان کو اقوام متحدہ رپریزینٹ کرنے والی ٹیم میں ایک محترمہ جو نابینا ہیں جس طریقے سے پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے اس سہرہ پاکستان کی ٹیم اور انھی کو جاتا ہے اس سے پہلے ہم نے دیکھا کے اقوام متحدہ میں مضبوط سفارت کاری کی کمی تھی.

    پاکستان نے یورپی ممالک کو خاص کر فیٹف معاملے پر یہ باور کرایا کہ پاکستان کا دہشت گردی کا اڈہ ہونے کا الزام غلط ہے انتہائی جھوٹ پر مبنی ہے یہ سارا کام ہمارے ایک پڑوسی کا ہی ہے جس کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ڈس انفو لیب ہے جو ایکسپوز ہؤا اس کا مقصد جھوٹا پروپیگنڈا کرنا تھا یورپی ممالک سمیت پوری دنیا کو پاکستان کے بارے غلط معلومات فراہم کرنا تھا اس کے توڑ کے لئے پاکستان نے بہترین کام کیا اور دنیا کے ممالک سے بات چیت کی اور دنیا کو حقیقت بتائی.

    وسطی ایشیائی ممالک کے دورے پر جس طرح پاکستان کی بات سنی گئی تعریف ہوئی اسے دنیا نے دیکھا پہلے پاکستان کی بات نہیں سنی جاتی تھی مگر اب جو تبدیلی آئی ہے اس سے فرق پڑ چکا ہے اور یہ فرق اسی وقت پڑتا ہے جب آپ کے پاس ایک مضبوط نڈر لیڈر شپ موجود ہو آپ وزیراعظم عمران خان کے سفارتی محاز پر کئے جانے والے اقدامات پر نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ کس طرح سے ریاست نے مفاد میں حکمت عملی اپنائی آپ اگر اس پر اختلاف کرتے بھی ہیں تو زرا بتائیں کہ کون سی ناکامی ہے پیڈ شدہ میڈیا یا وہ عناصر جو غلط خبریں دے کر پاکستان کے مؤقف کو غلط ثابت کرنے پر تُلے ہیں وہ پاکستان کے ہمدرد نہیں بلکہ دشمن ہیں.

    پاکستان کی سفارت کاری نے آؤٹ کلاس پلے کیا ہے اور اب سفارت کاری پر بہترین جنگ لڑ رہی ہے ﷲ تعالیٰ ایسے ہی مزید کامیابیاں دے آمین.

    Twitter Id @M1Pak

  • مہنگائی کے مارے لوگ برکتوں کے متلاشی کیوں؟ تحریر ہما عظیم


    کہنے والے کہتے ہیں پہلا  دور اچھا تھا بہت سستا بھی تھا بتانے والے بتاتے ہیں سستے میں ہم بہت کچھ لایا کرتے تھے کہ آج اتنے میں اتنا لاتے ہیں پہلے اتنے میں اتنا سارا لاتے تھے

    چلیں ‘پہلے میں،’ چلتے ہیں پہلے ہم اتنے میں اتنا سارا لے آتے تھے کیونکہ تنخواہ جتنی تھی اس حساب سے بجٹ چلتا تھا

    اور  جب ہم چایے پیتے تھے قہوہ رکھا جاتا تھا پھر دودھ ڈالا جاتا خالص اتنے سارے قہوے میں تھوڑا سا خالص دودھ اس زائقے کی چائے نہیں ملے گی آپ کو اب کہیں

    شور اٹھا مہمان آئے ہیں ساتھ ہی سالن کا دیگچہ میں لمبے شوربے والا آلو گوشت چڑھا دیا گیا ۔

     مہمان خوش عزت دی گئی گوشت پکا کر کھلا یا گیا۔میٹھے میں جلیبیاں یا لڈو واہ جی واہ عزت بڑھا دی گئی

    اب واپس آئیں۔۔چائے چڑھائیں قہوے والی چائے ہم میں سے اکثر نہیں پیتے اب دودھ پتی بنانی ہے دودھ خالص نہیں ہے نرا کمیکل ہے لیکن ہم نے ڈبے کا دودھ لینا ہے سستا مہنگا بھی نہیں دیکھنا۔۔ناک دیکھنی ہے کٹ نہ جائے

    کھانے میں بریانی قورمہ روٹی نان ۔۔میٹھے میں کیا بنانا ہے کسٹرڈ  ٹرائفل کھیر آئس کریم ۔۔بوتل چٹی بھی ہو تو کالی بھی ہو نا جی۔۔۔ مہمان کی پسند ۔۔۔

    پھر مہمان خوش ہو نگے ۔۔کہاں جی۔۔کھانے میں سواد نہیں تھا کہاں سے بنوایا خود بنایا ابھی تک پکانا نہیں آیا گئی بھینس پانی میں

    جتنی زیادہ مہنگائی اتنے زیادہ ۔۔ ضرورت خرچے

    پھر واپس چلیں گلی محلے میں گھومتے ہیں  سرشام سب بچے لڑکی، لڑکے کی تمیز کیے بغیر گلی، محلوں میں نکل آتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    عزتیں سب کی سانجھی تھیں ۔۔۔۔۔۔ 

    خواتین ایک دوسرے کے گھر جا کر سویٹر اور کڑھائی کے ڈیزائن کاپی کیا کرتی تھیں۔ اور سردیوں میں جس گھر کے صحن میں دھوپ لگتی تھی بزرگ خواتین وہیں ڈیرا جما لیتی تھیں۔ 

    پلیٹ میں گھر کا تازہ بنا ہوا سالن ایک دوسرے کے گھر بھیجا جاتا تھا۔ اس سے ایک تو محبت بڑھتی تھی اور دوسرے اس رواج کی وجہ سے کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ سفید پوشوں کا بھی بھرم رہ جاتا تھا۔۔۔۔۔

    ہر محلے میں ایک بیٹھک مختص تھی۔ پورے محلے کے مرد حضرات شام کو ضرور وہاں بیٹھتے تھے۔

    جہاں بزرگ اپنی زندگیوں کے قصے سناتے تھے وہیں سب سے پورے دن کی روداد بھی سنتے تھے۔اس طرح سب ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ 

    یہ وہ دور تھا جب خط لکھ کر ہفتوں یا مہینوں بعد خیریت پتہ چلتی تھی۔ مگر لوگوں کے دل ایک دوسرے کے قریب تھے۔۔۔۔۔۔۔

    آج رابطے حد سے زیادہ ہیں اور دل اتنے ہی دور۔۔۔۔۔۔۔

    کسی کو خبر نہیں ہمسائے میں کون رہتا ہے اور نہ ہی کوئی گلی میں جا کر کھیل سکتا ہے۔۔۔۔۔

    کیبل ڈراموں سے خواتین کو فرصت نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے گھر جائیں اور نہ ہی کسی کے گھر کچھ پکا کر بھیجا جاتا ہے۔۔۔۔۔ نجانے قریب واقع گھروں میں کتنے لوگ بھوکے پیٹ سوتے ہوں گے۔

    آج ہمیں معلوم نہیں پڑوس میں کون رہتا ہے۔۔

    یہاں تک رشتہ داروں میں بھی ہم صرف ان لوگوں سے ملنا پسند کرتے ہیں جو ہماری اچھی سیوا کر سکے کسی غریب  رشتہ دار سے ہم اس لئیے بھی نہیں ملتے ایک تو اسکی زیادہ کھلانے پلانے کی ہمت نہیں دوسرے وہ اپنی کسی ضرورت کا ہی زکر نہ کر بیٹھے۔۔

    لین دین کا یہ عالم ہے کہ ہم امیروں کے گھر دینے کے لئیے اچھے سے اچھا اور مہنگے سے مہنگا دیتے ہیں حالانکہ ان کو اس کی ضرورت نہیں۔۔پھر بھی تنقید سے نہیں بچ پاتے۔۔غریب کو دینا پڑے تو ڈھونڈ کے سستی شے لائی جاتی ہے حلانکہ وہ حقدار ہے۔۔پہلے دور میں برکتیں یوں بھی تھیں کہ ماڑوں کو اٹھایا جاتا تھا۔۔ان کے گھر کی خیر خبر رکھی جاتی تھی۔۔اب یہ رواج ناپید ہو چکا ہے

    پھر ہم روتے ہیں۔۔گزارہ نہیں ہوتا۔۔۔برکت نہیں۔۔

    کمائی سے زیادہ خرچہ ہے۔

    پہلے چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں ڈال کے بڑی بڑی ضرورتیں پوری کر لی جاتی تھیں۔۔

    کاش وہ دور واپس لا پائیں۔۔

    کم کمائی کی برکتیں 

    محبتیں

    رفاقتیں

    لوٹ آئیں

    ‎@DimpleGirl_PTi

  • دورہ امریکا،مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    دورہ امریکا،مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    انڈیا جو ہمیشہ ہی ڈبل گیم کرنے میں ماسٹر رہا ہے وہ اب مشکل میں پھنس چکا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح اب کی بار بھی انڈیا ایک طرف کواڈ گروپ کی طرف قدم بڑھانا چاہتا تھا اور دوسری جانب شنگھائی Cooperation organizationمیں بھی چین اور روس کے ساتھ اشتراک کی باتیں کر رہا تھا۔ ایک وقت پر لگتا تھا کہ شاید ایسا ممکن بھی ہو جائے گا لیکن اب نریندر مودی کے حالیہ دورے کے بعد ایسا ہونا کسی صورت ممکن نظر نہیں آتا۔انڈیا نے نریندر مودی کے دورہ امریکہ سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں کیونکہ اس دورے میں نریندر مودی کی پہلی بار صدر جو بائیڈن سے آمنے سامنے ملاقات ہونی تھی کواڈ گروپ کا بھی پہلاIn-personاجلاس ہونا تھا۔ لیکن مودی سرکار کی ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔ جو کچھ سوچا جا رہا تھا اس دورے کے دوران بالکل بھی ویسا نہیں ہوا۔ اور یہ مودی سرکار کی اپنی نیت کا پھل ہے کیونکہ جس طرح سے وہ تمام جانب ڈبل گیم کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس وقت حالات بدل چکے ہیں آپ دو کشتیوں کے سوار نہیں ہو سکتے۔ اگر جان بچانی ہے تو کسی ایک کشتی کا ہی انتخاب کرنا پڑے گا۔

    سب سے پہلے تو جب مودی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے لئے وائٹ ہاوس پہنچا تو وہاں اس کو کسی نے گھاس نہ ڈالی۔ امریکی صدر جوباِہڈن نے مودی کا استقبال کرنا بھی گوارہ نہ کیا اور وہ خود ہی دروازے سے اندر چلے گئے۔ پھر وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران نریندر مودی کو صدر جو بائیڈن نے گاندھی کے فلسفے پربھی لیکچردیدیا۔ مقبوضہ کشمیراورآسام میں مسلمانوں کو کچلنے والے نریندرمود ی کو امریکی صدر نے عمدہ انداز سے طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی کا پیغام عدم تشدد، احترام اور برداشت کا پیغام تھا۔ لیکن صدر بائیڈن نے یہ بھی کہا دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ مطلب اس نئے باب میں مودی سرکار کو کافی محتاط ہونا پڑے گا۔اس کے بعد مودی کی ملاقات نائب امریکی صدر کمیلا ہیرس سے ہوئی اس معاملے میں بھی ان کو اپنی عوام کے سامنے خاصی شرمندگی اٹھانا پڑی بھارتی میڈیا نے بھی خوب تنقید کی اور وجہ یہ بنی کہ مودی کے ٹوئیٹر اکاونٹ سے ملاقات کے حوالے سے نو ٹوئیٹس کی گئیں لیکن کمیلا ہیرس نے کوئی ایک ٹوئیٹ بھی نہیں کی۔اس کے بعد پریس ٹاک بھی بجائے یہ کہ مودی کے ہم منصب صدر جو بائیڈن کرتے ایسا بھی نہیں ہوا بلکہ کملاہیرس نے مودی کے ساتھ میڈیا کے سامنے بات چیت کی اور اس موقع پر نہایت ذہانت اور مہارت سے کیمروں کے سامنے انہوں نے اعتراف کیا کہ دنیا کو جمہوریت کی برکتوں سے آگاہ کرنے سے پہلے امریکہ اور بھارت کے حکمرانوں کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ اپنے اقدامات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں کہ ان کے اپنے معاشروں میں جمہوری اقدار کس حد تک مستحکم ہیں۔

    ویسے تو جس طرح مودی سرکار انڈیا کو صرف ہندو دیش بنانے پر بضد ہے۔ مسلمانوں اور ہندومذہب ہی کی نچلی ذاتوں کو انڈیا کی نام نہاد جمہوریت میں برابر کا شہری تسلیم نہیں کیا جارہا۔ ایسے قوانین بنائے گئے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ہندوشہریوں کو دستاویزات کے پلندوں سے ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ واقعتا بھارت کے قدیم اور پیدائشی شہری ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں قید ہوئے 80لاکھ انسانوں کی داستان الگ ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جو باتیں کمیلا ہیرس نے مودی سرکار کو میڈیا کے سامنے سنائیں ایسی باتیں عام طور پر بند کمروں میں کیمروں سے چھپ کرکی جاتیں ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب سامنے والا آپ کا مہمان ہو۔ ہاں اگر مودی کے ہم منصب صدر جو بائیڈن اس طرح کی بات کرتے تو الگ بات تھی۔
    ساتھ ہی امریکہ کے دورے کے دوران مودی کا سارا زور افغانستان کی حالیہ صورت حال ،کورونا ویکسین اور کواڈ سمٹ پر رہا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں تو ایسا لگتا تھا کہ شاید نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت صرف بھارت کی تیار کردہ ویکسین کی مشہوری کیلئے کی تھی۔ لیکن مودی سرکار کی دال بالکل نہ گل سکی۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت سبھی ترقی یافتہ ممالک نے واضح کر دیا کہ امریکہ اور برطانیہ آنے والے سبھی شہریوں کو ویکسین دوبارہ کرانی پڑے گی کیوں کہ بھارتی ویکسین قابل بھروسہ نہیں ہے۔
    پھر مودی نے افغانستان کا بھی خاص طور پر ذکر کیا۔ کیونکہ ظاہری بات ہے کہ انڈیا نے اتنے سال تک افغانستان میں سرمایہ کاری کی جو اب ضائع ہو چکی ہے جس بات کی ان کو بہت تکلیف بھی ہے لیکن افغانستان کی بات کرتے ہوئی وہ بھول گئے کہ دوحہ مذاکرات کے دوران امریکہ ،روس، چین اور پاکستان نے بھارت کو اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ اسے بھی ایک فریق کی حیثیت دی جاتی۔

    اس کے علاوہ ایک اور اہم ایجنڈا کواڈ سمٹ کا تھا ۔اس معاملے میں بھی بھارتی وزیراعظم امریکہ کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوئے خود بھارتی میڈیا کی رائے میں بھارت کی جانب سے اس دورے سے پہلے اور اس دورے کے دوران چین کے خلاف جتنا زہر اگلا گیا اس کے بعد اب آنے والے دنوں میں بھارت کو چین کے ہاتھوں بھی مزید ٹھکائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے 2020میں ہوا تھا۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی کو اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ چین کا نام لیکر اس پر تنقید کر سکیں Mari timeتنازعات کا ذکر کرکے indirectly
    چین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ چین South china seaکی اصلاح استعمال کرتا ہے لیکن مودی نے Indo Pacificکا لفظ استعمال کیا جس پرچین نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ خود بھارت کے سنجیدہ حلقوں کے مطابق Quad Summitکے حوالے سے بھارت نے غیر ضروری پھرتیوں کا مظاہرہ کیا جبکہ دہلی کو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ امریکہ آسٹریلیا اور جاپان کی سرحدیں تو بھارت سے نہیں ملتیں لیکن بھارت کی طویل سرحد چین سے ملتی ہے لہذا اگر چین کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا تو اس کا خمیازہ صرف بھارت کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
    کواڈ گروپ میٹنگ پر ویسے ہی چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ جھوٹ اور الزامات کی بنیاد پر سفارتکاری بالکل بھی تعمیری نہیں۔ معاشی زبردستی کی جائے پیدائش اور صدر دفتر واشنگٹن میں ہے۔ پہلی بات چین دھمکیاں نہیں دیتا اور نہ ہی تجارتی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ چین اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔ تیسری بات یہ کہ چین مختلف ممالک میں کمپنیوں کو بلاوجہ دباتا نہیں ہے۔ کسی بھی صورت میں معاشی زبردستی کا الزام چین پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔

    اس سب کے بعد آپ خود اندازہ لگا لیں کہ کیسے یہ دورہ سفارت کاری کی ایک ناکام ترین مثال ثابت ہوا اور قسمت کی مار دیکھیں کہ مودی سرکار کے سوشل میڈیا سیل کی جانب سے جو فیک تصویر شئیر کی گئی اس کی وجہ سے پورے انڈیا کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔ دراصل مودی سرکار کو یہ فیک تصویر بنانے اور اسے وائرل کرنے کی ضرورت بھی اسی لئے پڑی کہ مودی نے اپنی عوام کے سامنے اس دورے کے حوالے سے خوب بڑکیں ماری ہوئیں تھیں لیکن ان کا یہ دورہ بری طرح ناکام ہوا۔ تو اپنی عزت اور بھرم قائم کرنے کے لئے اس تصویر کا سہارا لیا گیا اور وہ بھی الٹا ہی ان کے گلے پر گیا۔اب کیونکہ مودی صاحب خود دیکھ آئے ہیں کہ امریکی حکومت ان سے بالکل خوش نہیں ہے اور وہ انکی محبت میں چین کی برائیاں کرکے اس کے ساتھ بھی بگاڑ چکے ہیں۔ تو اب وہ خود کو ایک نئی لڑائی کے لئے تیار کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لئے مودی سرکار نے لداخ اور مقبوضہ کشمیرمیں ایک نیا پراجیکٹ شروع کر دیا ہے۔بھارتی حکومت اب مقبوضہ کشمیر میں واقع ہمالیہ کے پہاڑوں میں سرنگ تعمیر کرکے اور مختلف پل بنا کر مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو آپس میں ملانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس منصوبے کو سٹریٹجک سرنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اور اس پراجیکٹ پر سینکڑوں افراد کام پر لگائے جا رہے ہیں تاکہ اگلے انتخابات سے پہلے یہ منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔آپ سب جانتے ہیں کہ لداخ کی سرحدیں پاکستان اور چین کیساتھ ملتی ہیں جو تقریبا 6 مہینے برف میں ڈھکا رہتا ہے جس کی وجہ سے یہاں آمدورفت اور اشیاء کی سپلائی کیلئے ہوائی سفر پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کشمیر کو ویسے ہی پاکستان اپنی شہ رگ مانتا ہے۔ گزشتہ سال لداخ میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں Actual line of controlکہلائے جانے والے علاقے میں لاکھوں چینی اور بھارتی فوجی تقریبا 16 ماہ تک آمنے سامنے رہے تھے جس میں بھارت اور چین کے بہت سے فوجی مارے بھی گئے تھے۔ بھارت کو اپنا بہت سا علاقہ چھوڑنا پڑا تھا۔

    اب یہ سرنگ تعمیر کرکے بھارتی حکومت اپنی فوج لداخ کے علاقے تک آسان رسائی دینا چاہتی ہے تاکہ ان کو لاجسٹک سہولیات بھی بہتر طور پر فراہم کی جائیں۔ لیکن اس طرح کے منصوبوں پر کام کرنے سے پہلے انڈیا کویہ جان لینا چاہیے کہ امریکہ تو اب نہ جانے انڈیا سے خوش ہو گا یا نہیں کیونکہ امریکہ ویسے ہی کواڈ گروپ کے بعد آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ نیا دفاعی معاہدہ کرکے خود ہی کواڈ کی اہمیت کو کم کر چکا ہے لیکن اب چین کے ساتھ انڈیا کے تعلقات جو پہلے ہی خراب تھے اب ان میں مزید بگاڑ پیدا ہوگا اور وہ مزید مشکل میں پھنس جائے گا۔

  • کرپشن ایک زہریلی بیماری  تحریر : فرح بیگم

    کرپشن ایک زہریلی بیماری تحریر : فرح بیگم

    کرپشن کو بے بہا برائیوں کی چھیڑ کہا جاتا ہے ۔ کرپشن اعلی اقدار کی دشمن ہے ۔کرپشن ایک دیمک کی طرح ہے جو معاشرے کو اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کر رہی ہے ۔ یہ بات واضع ہے کہ قوموں کی بربادی میں اہم کردار کرپشن کا ہی ہے ،بیشک وہ کسی بھی صورت میں ہو ۔ جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہوگی وہ قوم یا ملک اتنی ہی بربادی کی گڑھے میں جا گرتی ہے ۔کرپشن کی وجہہ سے قومیں اپنی پیچان کھو بیٹھتی ہیں ۔ اس طرح لگتا ہے جیسے کوئی بلند مقام کھبی اس قوم کو ملا ہی نہیں تھا ۔ کرپشن کینسر کی طرح خطر ناک اور جان لیوا مرض ہے ۔ یہ جس معاشرے کو لگ جائے اس کی بربادی یقینی سمجھیں۔کرپشن معاشرے میں ایک اچھوت کی طرح پھیلتی ہے اور زندگی کے ہر پہلو کو ختم اور برباد کر کے رکھ دیتی ہے ۔ جس طرح درختوں کی خراب جڑیں پورے درخت کو خراب کرتی ہیں اسی طرح کرپشن پورے معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ کرپشن کسی بھی صحت مند معاشرے کو خراب کر دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ ہر چیز زرد کر دیتی ہے ۔ کامیاب اداروں میں کچھ عرصے بعد ہی کرپشن کی بو اٹھنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ معاشرے کی اخلاقی صحت کے ادارے بھی کرپشن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اگر ہم انٹی کرپشن کمیٹی یا ادارہ بناتے ہیں اس قدر کرپشن زیادہ ہو جاتی ہے ۔
    پاکستان کی معیشت اور معاشرے کی تباہی کا ذمدار کرپشن ہے۔ جس نے جس قدر کرپشن کر کے مال جمع کیا ہوگا وہ اتنے ہی بلند مرتبے پر فائز ہوگا ،اور حمام میں سب کے سب ننگے ہوں گے ۔ سب کے سب خاموش ہو جاییں گے۔ پچھلے سال دنیا بھر میں حکومتوں کی کارکردگی میں شفاعت اور کرپشن کا جائزہ لینے والی عالمی تنظیم نی رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ کرپشن اور بد عنوانی پائی جاتی ہے ۔ اس میں حکومت کی ذمداری ہے کہ وہ کرپشن اور بد عنوانی کو روکنے کے لیے اپنے ادارے مضبوط کریں ۔ اور ان اداروں پر سختی برتے۔ جو ممالک کرپشن کی خطرہ ناک بیماری میں مبتلا ہیں ان میں پاکستان ، انڈیا ،بنگلادیش ،مالدیپ ، سری لنکا،نیپال وغیرہ شامل ہیں ۔ ان ممالک میں انسداد کرپشن کے لیے سرکاری ادارے قائم ہیں ۔ مگر ان ادارے میں بھی کرپشن داخل ہو گئی ہے کیوں کہ اس کی بڑی وجہہ سیاسی مداخلت ہے ۔ یہ بات بتاتی چلوں کہ پچھلی حکومت نے کرپشن کی نشان دہی تو کی تھی لیکن صرف باتوں کی حد تک رہے ۔
    پاکستان کے لیے نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ایسے وقت میں جب ھارا پیارا وطن مشکلات سے دو چار ہے ۔ غلط قسم کی سازشوں نے ملک کو گھیرا ہوا ہے، ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات لا حق ہیں اور ان خطرات میں اس ملک کے شہری اپنی ہی سر زمین کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ اپنے ملک کو ہی دنیا میں بد نام کرنے میں مگن ہیں ۔ آج کل تو الیکٹرانکس کا زمانہ ہے اور کرپشن کی خبر تو پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور اس سی ملک کی ساکھ خراب ہوتی ہے ۔ بانی قائد قائدا اعظم محمّد علی جناح نے 11 اگست 1947 کی تقریر میں کہا تھا کہ "ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن اور رشوت ہے ۔اسمبلی کو اس کے خاتمے کے لیے اقدارمات کرنے ہیں ۔ لیکن کرپٹ لوگ آزادی سی قانون کی داجیحہ اڑا کر کرپشن کر رہے ہیں ۔اور ملک کی بد نامی کا باعث بن رہے ہیں ۔شرمندگی کا مقام ہے کہ کرپشن ایک ایسا نا سور بن گئی ہے جس کی جڑیں ہماری زندگی کے ہر شعبے میں پھیل گئی ہیں ۔ اگرچہ ہر شعبے میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے موجود ہیں لیکن انکی کوئی نہیں سنتا ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کرپشن اور بڑے ڈاکوں کو پکڑنے کے لیے انکو قابو میں کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے ۔لیکن یہ کوشش کہاں تک کامیاب ہوگی اور کون کون قابو میں اتا ہے یہ وقت کے ساتھ ساتھ معلوم ہوگا ۔عوام اب سمجھ دار ہو گئی ہے انکو یہ پتہ لگ گیا ہے کہ ملک کو بچانا ہے تو کرپشن کا حاتما کرنا ہوگا تب ہی ملک ترقی کر سکتا ہے ۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • فکر نہ کریں تبدیلی جو آگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔تحریر ناصر علی تنولی۔۔۔

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب سے آئی ہے صوبہ ڈویثرن ضلع اور تحصیل میں تبدیلی آگئی ہے سرکاری محکمے اتنی دلجوئی سے کام کرتے ہیں جیسے ان اداروں میں اچانک سے فرشتے آگئے ہیں لوگ ان سے انتہائی خوش ہیں اور ہر طرف خوشحالی ہر طرف سکون ہر طرف ایمانداری اور  سچائی نظر آرہی ہیں۔مگر صرف سوشل میڈیا پر  اور یہ سب کیوں نہ ہو ۔تبدیلی جو آگئی ہے

    ہاں جی تبدیلی نے سب کو تبدیل کر دیا ہے صوبہ کے پی کے میں  وزیر اعلی کا سپیشل سوشل میڈیا ونگ بن گیا ہے وہی پر وزیر اعلی نے اس ونگ سے اٹھا کر کچھ لوگوں کو پورے صوبے میں اداروں کے فیس بک اکاونٹس اور ٹویٹر اکاونٹ چیک کرنے کا کام سونپ دیا ہے اور سوشل میڈیا ونگ سے لئے گئے شیر جوانوں میں سے ایک شحص کو سرکاری طور پر نوٹفکیشن جاری کرکے پورے صوبے میں سرکاری اداروں پر سربراہ بنا دیا ہے اب وہ لوگ چیک کریں گے کہ  سرکاری محکمے میں سوشل میڈیا پر کون کتنا کارکردگی دیکھاتا ہے گراونڈ پر کام ہو نہ ہو سوشل میڈیا پر کام ہونا چاہئے کیونکہ۔تبدیلی جو آگئی ہے

    صوبہ KPK میں ڈویثرن لیول پھر ضلع اور تحصیل میں سرکاری اداروں میں بیٹھے افسران کو سپیشل ٹاسک دیا جاتا ہے کہ آپ نے کتنے گراں فروشی پر جرمانے کرنے ہیں آپ نے کتنی غیرقانونی فیکٹریوں کو سیل کرنا ہے آپ نے سبزی فروٹ کے ریٹ چیک کرنے ہیں زائد کرایہ لینے والوں کو لگام ڈالنی ہے پٹواریوں کے آفس وزٹ کرنا ہے یا پھر کرپشن روکنے کے لئے کام کرنا ہے یا کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے کام کرنا ہے ۔۔۔اور پھر یہ سارے کام بلکل ٹھیک طریقے سے ہوتے ہیں اور اوپر تک پتہ چلتا ہے کہ سب اچھا ہے عوام بھی خوش ہے مگر یہ سب ہو رہا ہے صرف سوشل میڈیا پر ۔۔کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے

    ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے ہدایات جاری ہوتی ہیں اسسٹنٹ کمشنرز جاتے ہیں مگر جرمانہ ہوتا ہے ایک غریب ریڑی بان پر ۔جرمانہ ہوتا ہے ایک چھوٹی سی کریانہ کی دکان پر۔ جہاں غریب بچوں کے لئے سستی ٹافیاں رکھی ہوتی ہیں ۔جرمانہ ہوتا ہے سبزی منڈی کے باہر ایک چھابڑی فروش پر ۔ جرمانہ ہوتا ہے چینی کے بڑے ڈیلر کے گودام کے ساتھ جڑے ایک غریب مسکین دکاندار پر ۔جس کے پاس پانچ کلو چینی رکھی ہوتی ہے ۔اور یہ سب ہونا بھی چاہئے کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے۔

    مجال ہے کہ کبھی سبزی منڈی میں افسران کسی آڑھتی پر ہاتھ ڈالیں یا جرمانہ کریں ۔کیا مجال ہے کہ کبھی چینی کے بڑے ڈیلر کو جرمانہ کیا جائے ۔کوئی مزاق تو نہیں ہے یہاں تو اب قانون کی بالادستی ہے ۔مجال ہے کہ کسی آٹے کی مل پر چھاپہ پڑے یا جرمانہ ہو ۔وہ ملاوٹ کریں یا وزن کم دیں کوئی نہیں پوچھے گا کیونکہ ۔تبدیلی جو آگئی ہے ۔

    جب سے ایمانداروں کی حکومت آئی ہے ہر کام ایک دم ہوتا ہے۔ ہر ادارے کے افسران بزرگوں کو اپنی کرسی پر بیٹھاتے ہیں۔ خواتین کی عزت کی جاتی ہے۔ بچوں کو جوس پلائے جاتے ہیں ۔ اور یہ سب کام ہوتے ہیں صرف سوشل میڈیا پر ۔کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے۔

    ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت میں ہر ادارے کی کارکردگی سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ اچھی تصاویر لگانے  سے دیکھی جاتی ہے اور اسی کارکردگی پر پروموشن بھی کی جاتی ہے۔ اور یہ سب کیوں نہ ہو تبدیلی جو آگئی ہے۔

    موجودہ حکومت میں مہنگائی انتہائی زیادہ ہے ۔ ہر طرف لاقانونیت ہے ہر طرف لوگ احتجاج کر رہے ہیں حکومتی وزیروں اور مشیروں پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں کمائی ہو رہی ہے مگر پوچھے گا کوئی نہیں کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے۔

    حکومتی مشیروں کے رشتہ دار سرکاری ملازمتوں کے حق دار بن رہے ہیں NHA ہو یا CNW یا پر PWD

    ہر جگہ سے اپنے بھانجوں پتیجوں دامادوں کو نوازہ جارہا ہے ہر جگہ روڈوں پلوں سرکاری عمارات کے ٹھیکے اپنوں کو دئے جارہے ہیں اور یہ سب کیوں نہ ہو ۔تبدیلی جو آگئی ہے

    اور سب جب صحافی یا کوئی عام شہری ان سب چیزوں کو سامنے لائیں تو حکومتی مشیروں اور وزیروں کے بیٹے بھانجے بتیجے اور چند پیسے دے کر لوگوں کو رکھا جاتا ہے اور فیک اکاونٹ سے لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے۔

    اور اس تبدیلی نے ہر طرف عوام کی چیخیں نکال دی ہیں ہر طرف شور ہے مہنگائی مہنگائی کے نعرے لگ رہے ہیں ہر طرف احتجاج ہو رہے ہیں لوگ مر رہے ہیں ادویات مہنگی ہو گئی ہیں غریب کو آٹا تک میسر نہیں لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں ۔اور حکومتی ترجمان اور سرکاری اداروں کے سوشل میڈیا اکاونٹس ایک ہی بات کہ رہے ہیں کہ سب اچھا ہے بعض لوگ حکومت کو بدنام کرنے کے لئے پراپیگنڈے کر رہے ہیں عوام خوش ہے

    ہر طرف امن ہے خوشحالی ہے۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ کہنے والے سچے ہیں بلکل سچے اور عوام جھوٹی ۔۔۔کیونکہ تبدیلی جو آگئی ہے ۔۔۔۔۔اور ایسا لگتا ہے کہ  2023 کے الیکشن میں عوام اس تبدیلی کو ایسی جگہ پھینک کر آئیں گے جہاں سے یہ آواز پھر نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔تبدیلی جو آگئی ہے۔۔۔۔

    https://twitter.com/NATanoli007?s=09

  • مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ، تحریر:عفیفہ راؤ

    مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ، تحریر:عفیفہ راؤ

    جب قسمت میں بے عزتی اور لعنت مقدر ہو تو مل کر رہتی ہے۔ اور اس وقت یہ بات انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی پر ہر لحاظ سے فٹ ہوتی ہے۔ ویسے میرے لئے اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے کیونکہ ان کا ٹریک ریکارڈ ہی ایسا ہے مودی سرکار اور اس کے دو نمبر میڈیا کے جھوٹوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لیکن اب جس طرح سے انٹرنیشنل میڈیا نے ان کے جھوٹ کا پول کھولا ہے اور انھیں بےنقاب کیا ہے اس پر اب مودی سرکار کی سوشل میڈیا پر تاریخی چھترول ہو رہی ہے۔

    ویسے تونریںدر مودی کے ہیش ٹیگز کا سوشل میڈیا پروائرل ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے وہ اکثر ہی اپنی کسی نہ کسی بونگی حرکت یا پھر کسی نئے جھوٹ کی وجہ سے وائرل ہوتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن اب کی بار ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے انٹرنیشنل میڈیا کو اس میں گھسیٹ لیا۔ تو بس پھر ان کا پول تو کھلنا ہی تھا۔دراصل ہوا یہ کہ جب انڈین وزیراعظم نریندر مودی اپنے امریکہ کے دورے سے واپس لوٹے تو فورا ہی انڈین سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ایک امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا ایک آرٹیکل شیئر ہونا شروع ہوگیا۔اس آرٹیکل کے مطابق امریکہ کے سب سے معتبر سمجھے جانے والے اخبار نے وزیراعظم مودی کو دنیا کے لیے آخری اور بہترین امید قرار دیا تھا۔Last, Best Hope Of EarthWorld’s most loved and most Powerful Leader is here to bless us.یہ وہ الفاظ تھے جو نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ لکھے گئے اور ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ جیسے نیویارک ٹائمز نے اپنے فرنٹ پیج پر یہ ٹاپ ہیڈ لائن لگائی ہے۔جس پر انڈین حکمران جماعت کے لوگ خوب خوشی منا رہے تھے اور اس آرٹیکل کو خوب شئیر بھی کیا جا رہا تھا۔ لیکن قسمت کی مار یہ ہوئی کہ ان کا یہ آرٹیکل نیویارک ٹائمز والوں تک بھی پہنچ گیا۔ اور رنگ میں بھنگ اس وقت پڑا نیویارک ٹائمز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ ٹوئیٹ کی گئی کہ۔۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا اخبار کا یہ صفحہ دراصل جعلی ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر من گھڑت تصویر ہے، اور یہ گردش کرنے والی ان بہت ساری تصاویر میں سے ایک ہے جن میں وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ اس کے ساتھ اخبار نے ایک لنک شیئر کیا ہے اور انڈینز کو بتایا کہ اگر وہ نریندر مودی پر اس ادارے کی حقیقت میں کی جانے والی رپورٹنگ پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں۔

    اب اس تمام بات کا صاف مطلب ہے کہ یہ کوئی ایک یا اکلوتی جعلی تصویر نہیں ہے نریندر مودی کی بے شمار جعلی تصویریں ہیں جو کہ وہ اپنی فیک پروموشن اور دنیا سے اپنا گھناونا روپ چھپانے کے لئے اپنے پارٹی ممبرز اور سوشل میڈیا سلیز سے وائرل کرواتا ہے۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے اور آخر اب نیو یارک ٹائمز نے اس کی جعلی تصویروں اور بو نمبریوں کا بھانڈا پھوڑ ہی دیا ہے۔اور اس وقت انڈیا کی جتنی جگ ہنسائی ہو رہی ہے آپ کی سوچ سے بڑھ کر ہے یہاں تک کہ ان کی اپنی عوام اور صحافی ٹوئیٹر پر ان کی کلاس کر رہے ہیں۔
    انڈین رائٹر Sanjukta Basuنے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ بے جے پی کے آئی ٹی سیل کی جانب سے جھوٹی خبر پھیلانے میں کچھ نیا نہیں ہے لیکن اس بار یہ اتنا آگے چلے گئے کہ نیویارک ٹائمز کو عوامی طور پر اس کی تردید کرنا پڑی۔ اب یہ ایک بین الاقوامی خبر بن چکی ہے۔انڈین صحافی رانا ایوب نے بھی وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ۔۔ کتنی شرمندگی کی بات ہے۔ نیویارک ٹائمز کو یہ وضاحت دینی پڑی کہ پورے صفحے پر مودی کی تصویر اور ان کی تعریف میں دی جانے والی شہ سرخی جسے بہت سے بی جے پی رہنماؤں نے شیئر کیا وہ جعلی ہے۔ اگر کچھ نہیں تو ہمارے سیاستدانوں کی فوٹوشاپ کرنے کی مہارت ہی بین الاقوامی خبر بنا رہی ہے۔انڈین پارلیمنٹ کے رکنDR Santanu Senنے بھی اس فیک نیوز پر مودی اور ان کی جماعت کو خوب سنائیں۔انہوں نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔وزیراعظم کو کسی نے یہ حق دیا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کا امیج خراب کریں؟What can be more shameful?ویسے صحیح کہا
    DR Santanu Senنے اس سے زیادہ شیم فل کچھ نہیں ہو سکتا لیکن اس سے بھی زیادہ ڈوب مرنے کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار کی جعلی تصویریں بنانے والی ٹیم کی انگریزی بھی بہت ہی اعلی درجے کی ہے۔

    انڈیا جو اس بات پر بہت اتراتا ہے کہ ہمارا تو تعلیمی نظام بہت اچھا ہے ہمارا ریڑھی والا بھی انگریزی بولتا ہے تو ان کی جعلی انگریزی کی بھی اصلیت اس ایک تصویر نے بتا دی ہے۔
    اس تصویر میں ستمبرکے Spellings بھی بدل کر رکھ دئیے ہیں اور اب نئے Spellings ہیں Setpemberجس پر کئی سوشل میڈیا والے طنز میں مودی جی کا شکریہ ادا کررہے ہیں کہ انہوں نے دنیا کو ستمبر کے نئے SpellingsسےIntroduceکروادیا ہے۔اسکے علاوہ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے اور امریکی صدر جو بائیڈن اور دوسرےعالمی رہنماؤں سے ملنے کے لیے 24اور 25ستمبر دو دن امریکہ کا دورہ کیا تھا اور نیویارک ٹائمز کے اخبار کی فوٹوشاپ تصویر پر 26 ستمبر کی تاریخ درج ہے۔اب میں آپ کو کچھ اصل حقائق بتاتا ہوں کہ جب نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تو اصل میں وہاں مودی کے ساتھ اور اسکے میڈیا کے ساتھ خود وہاں ان کے اپنے سفیروں نے کیا سلوک کیا۔
    جس وقت مودی امریکہ کے دورے پر تھا اصل میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مودی اور آر ایس ایس کے خلاف بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں مظاہرین نےGo back modi
    اورModi out of NYCکے پوسٹرز اٹھا کر احتجاج کیا تھا۔ اور تجزیہ کار اس پورے معاملے کوHall of shameیعنی شرمندگی کا باعث بتا رہے ہیں۔ اور جو خود انڈین سفارتکار نے ایک انڈین اینکر کے ساتھ کیا وہ ایک الگ کہانی ہے۔ آج تک ٹی وی کی اینکر انجنا اوم کیشیپ اصل میں اقوام متحدہ میں ہونے والی تقریروں کو Coverکر رہی تھیں۔ اب ہوا یہ کہ اقوام متحدہ میں انڈین مشن کی رکن سنیہا دوبے نے اسمبلی میں تقریر کی اور اس کے کچھ ہی دیر بعد آج تک ٹی وی کی اینکر انجنا بغیر knockکئے ان کے کمرے میں گھس گئیں۔ سوشل میڈیا پراس کی باقاعدہ ویڈیو بھی موجود ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انڈین اینکر نے کمرے میں گھستے ہوئے ہی بولنا شروع کر دیا کہ ہمارے ساتھ سنیہا دوبے یہاں پر موجود ہیں سنہیا دوبے وہی ادھیکاری ہیں فرسٹ سیکرٹری، جنہیں پورے دیش نے اتنے گِرو کے ساتھ سنا ہے۔ مجھے پتا ہے آپ آن ریکارڈ بات نہیں کرنا چاہیں گی۔ مگر آج پورا ہندوستان آپ کو سننا چاہ رہا ہے۔

    مطلب ان کو پہلے سے معلوم تھا کہ وہ میڈیا پر نہیں آنا چاہتی لیکن وہ ان پر کیمرے کا پریشر ڈال کر زبردستی کچھ بلوانا چاہتیں تھیں۔لیکن سنیہا دوبے نے کہاNo commentsہمیں جو بولنا تھا ہم لوگوں نے وہ بول دیا پلیز اور انڈین اینکر کو واپسی کے لیے دروازہ دکھا دیا۔جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔ لوگوں نے طرح طرح کے Commentsکئے اس ویڈیو پر۔۔۔
    یہاں تک کہ دو تصویریں ساتھ جوڑ کر وائرل کی گئیں جن میں سے ایک میں وزیراعظم مودی انجنا اوم کیشیپ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور دوسری تصویر میں سنیہا دوبے ان کو باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے نظر آرہی ہیں۔لیکن زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ انجنا کو جس طرح سنیہا نے ٹریٹ کیا وہ بالکل درست تھا۔اور صحیح بات ہے کہ یہ رویہ بالکل درست تھا کیونکہ جس طرح کیYellow journalismانڈین میڈیا کرتا ہے اس کا مظاہرہ ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں۔آپ کو بھی یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ پہلے کیسے فیک ویب سائٹس کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک
    Exposeہوا تھا۔ جو پاکستان کے خلاف کئی سالوں سے جھوٹی خبریں پھیلاتا چلا آ رہا تھا۔اس کے علاوہ ابھی کچھ ہفتے پہلے ایک انڈین ٹی وی چینل ویڈیو گیم کی ایک فوٹیج اپنی سکرین پر یہ بتاتے ہوئے چلا رہا تھا کہ دیکھیں کیسے پاکستانی جہاز افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان کی مدد کر رہا ہے اور مزاحمت کرنے والوں پر حملے کر رہا ہے۔یہ مذاق ختم ہوا تو ریپبلک ٹی وی کے اینکرپرسن ارنب گوسوامی نے کابل میں سیرینا ہوٹل کے دو کے بجائے پانچ فلورز بھی بنا ڈالے۔ جن کا وجود ہی نہ تھا۔موصوف اپنے پروگرام میں پاکستانی مہمان سے کہنے لگے کہ کابل میں سیرینا ہوٹل کے پانچویں فلور پر پاکستان آرمی کے افسران ٹھہرے ہوئے ہیں۔اس پر پاکستان مہمان نے انہیں بتایا کہ سرینا ہوٹل کے دو سے زائد فلورز تو ہیں ہی نہیں۔آخر میں آپ کو بتاوں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ اصل میں انڈیا کی پرانی حرکتیں ہیں پہلے سوشل میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کرتوتوں کا کسی کو اتنا زیادہ پتہ نہیں چلتا تھا لیکن اب ظاہری بات ہے جب بھی انڈینز کی طرف سے کوئی ایسی دو نمبری کی جاتی ہے تو وہ فورا پکڑی جاتی ہے۔ اور یہ دورہ جو اب انڈیا کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے یہ صرف سوشل میڈیا تک نہیں ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک انتہائی ناکام دورہ تھا

  • تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ .تحریر :علی رضاعلوی

    تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ .تحریر :علی رضاعلوی

    غلطیوں کے انبارسب نے لگائے لیکن جوقوم اپنی غلطیوں سے سیکھ کرآگے بڑھ سکے باشعورکہلانے کی مستحق ٹھہرتی ہے،دوسری جنگ عظیم میں خوفناک تباہی کے بعد چاروں شانے چت ‘جرمنی اٹھا، دائیں بائیں دیکھا،کپڑے جھاڑے،اپنے زخموں پرنظرڈالی،انہیں سوہان روح سمجھنے کے بجائے سنگ میل بنایااورشاہراہ ترقی پرچل نکلا‘جاپان نے جیتی ہوئی جنگ ہیروشیما اورناگاساکی کی کوکھ میں راکھ بنتے دیکھی،پرل ہاربر کیابھولا پھول کھلنا بھول گئے،آج دنیابھر میں ایسی قابل رشک معاشی حیثیت کہ ہمیں ابھی ابھی کہاہے‘ چلوقرضے کے چنددن اور۔ایران‘انقلاب کے فوری بعدمسلط کردہ جنگ اورپابندیوں کے باوجوبہتری کی جانب گامزن، کئی دہائیوں پرمحیط سعودی،ایران مخاصمت کی آغوش سے بات چیت اورمحبت بھرے بیانات کی بازگشت شروع۔دنیا کسی ایک جگہ پرنہیں ٹھہرتی،سفربہرطورجاری رہتا ہے،بہتاپانی شفاف اوررکاہوا‘ کائی اورتعفن کودعوت دیتاہے، کہاگیاہے کہ کشمیرپرعقبی راستے کی سفارتکاری رنگ دکھاچکی،گلگت‘بلتستان کے دکھوں کے چند گنتی کے دن باقی رہ گئے،غلطیاں سیاستدانوں نے بھی کیں اورآمروں نے بھی۔ لیکن کوئی تاریخ کے جبرسے سیکھنا چاہے توطعن وتشنیع سے گریز ہی آخری چارہ کار،مگرادراک کون کرے ۔

    غلطیاں خارجی توکیاداخلی محاذوں پہ بھی کچھ کم نہیں ہوئیں،ابھی کل ہی کی توبات ہے جب لاہورکاوز یراعلی‘اسلام آباد کی وزیراعظم کامنہ تک دیکھنے کا روادارنہ تھا‘سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی داستاں تونہ ہی چھیڑیئے،شاید یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے غبارے سے جب ہوا نکالی تواسے ماضی کے انتقام سے بھی تعبیرکیا گیا،بھلے ”شہیدہ“کا آخری فو ن ”بھائی“کوتھا۔

    پی ڈی ایم کی تشکیل چند ماہ پیشتر کی ہی توبات ہے‘قومی اتحاد،نیپ اورقوم پرستوں کی دیگرتحریکوں کے قیام اور شکست وریخت کی باتیں توقصہ پارینہ ٹھہریں،کل کی بات ہے جب ایفائے عہدکی تمنائیں جوان ہوئیں،قربتیں بڑھیں، ایک دوسرے پرسیاسی سبقت لے جانے کی کوششیں عیاں ہوئیں۔دائیں زانوں کے ساتھ ہمیشہ پاندان اورلبوں پہ شعروسیاست رکھنے والے نوابزادہ نصراللہ خان کی یادتازہ ہوگئی،ان کی مسندجلیلہ پرسابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوکوشکست سے دوچارکرنے اور محرومی اقتدارسے منزل دارتک پہنچنے میں معاون بننے والے حضرت مولانامفتی محمود کے سپوت مولانافضل الرحمن براجمان ہوئے، قلوب واذہان میں اے آرڈی کی یاد تازہ ہوگئی،کچھ شہروں میں احتجاجی جلسوں کی گھن گرج عوام الناس کومتوجہ کرپائی یا نہیں‘بہرحال میڈیا کاپیٹ بھرنے میں بطریق احسن کامیاب ہوگئی،نتیجہ یہ نکلا کہ بائیس برس کی نوخیزجماعت پہلی باروفاق میں برسراقتدارآتے ہی تنقیدکی زدمیں آگئی،سات دہائیوں کے ذکر سے گریزاں ماضی کے حکمراں پوری گھن گرج کے ساتھ اڑھائی برسوں کا حساب مانگنے لگے،آپ توکہتے تھے اتنے درخت لگائیں گے کہاں لگے؟زرد ہواؤں کے تھپیڑے میں آئے پاکستان کوسرسبزکیوں نہیں بنایا؟روزگارپید ا کرنے کے مواقع کہاں ہوا ہوئے؟اورہاں وہ تہہ درتہہ،پہلوبہ پہلوگھروں کی آسودگی کے دکھائے گئے خواب؟سوالات کرنے والوں سے بھی کچھ سوال توبنتے تھے،پوچھا گیا،خارزارسیاست آپ کیلئے چمنستان دہرکیسے ثابت ہوا؟دس‘بیس،تیس برس قبل جب آپ نے وادی سیاست میں قدم رنجہ فرمایا تواثاثے تب کیا تھے اب کیا ہیں؟سوالات کا جواب دینے کی بجائے حساب مانگنا جرم ٹھہرا،جب کسی کتاب سے حساب کاجواب نہیں ملاتواحتساب کا قومی ادارہ گردن زدنی ٹھہرا، وہ بھی جنہوں نے گلی کوچوں سے سرحدوں تک نگہبانی کیلئے خون کے دریا عبورکئے،سوال جواب میں آوازیں بلند ہوتی گئیں،آستینیں تہہ ہوناشروع ہوگئیں،منہ سے نکلتی جھاگ چہرے چھونے لگی،پارلیمان میں ہاتھ گریبانوں تک جاپہنچے،ہوا کے دوش سے لوگوں نے یہ منظربھی دیکھا کہ جمہوریت کیلئے باعث فخرایوان پہلوانوں کے اکھاڑے میں تبدیل ہوتا چلا گیا،بات نعروں اورگریبانوں سے بڑھ کرجوتے مارنے اوربجٹ کے تخمینے ایک دوسرے پرپھینکنے تک جاپہنچی، مہنگائی،بے روزگاری او ر کورونا کی بدحالی کے ڈسے عوام کی بد دلی بڑھنے لگی،انہیں لگنے لگا کہ اگراڑھائی برسوں میں منزل نہیں ملی تو ان ستربرسوں سے بھی صرف نظرنہیں کیا جاسکتا جن کے میرکاررواں کبھی اسلام اورکبھی روٹی کپڑا اورمکاں کالولی پاپ دیتے رہے،ان کے اثاثے تو اربوں،کھربوں کی دہلیزعبورکرگئے لیکن غریب کی کٹیا کا دیابدستور مٹی کے تیل کامنتظررہا۔

    غلطیاں ماضی میں کی گئیں تھیں،غلطیاں اب بھی جاری ہیں،سیاستدانوں نے بھی کیں،آمروں نے بھی۔سانپ گذرگئے‘لکیراب تک پٹ رہی ہے جانے کب تک پٹتی رہے گی،غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے والوں کوتاریخ کبھی معاف نہیں کرتی‘اصل مسائل کا ادراک کسی کوتو کرنا پڑے گا،ملکی مسائل حل کرنے کیلئے تلخ یادوں کوچھوڑکرآگے بڑھنا ہو گا،بوڑھے قدرداں آسودہ خاک ہوئے ،جواں حکمرانوں کی ترجیحات مختلف۔اب رشتے عقائد نہیں،باہمی مفادات اورتجارت طے کرتی ہے،کہاں بھارت‘سعودی عرب چالیس ارب ڈالرکی صرف ایک شعبے‘پٹرولیم میں تجارت اورکہاں ہمارے چارارب ڈالرکی اونٹ میں زیرے کے برابرکی حیثیت،دیدہ ورکہتے ہیں بات مسلمان بھائی سے آگے نکل چکی ہے،کمیونسٹ چین،روس اورمسلمان پاکستان،ایران،ترکی اپنی اپنی راہ بھی نکالیں گے اورمل کربھی،انہیں ترجیحات میں قطراورمتحدہ عرب امارات کوبھی مت بھولئے، نصرت بھٹوکینسر، بے نظیربھٹو کان اور نوازشریف پلیٹ لیٹس کاعلاج کرانے گئے تھے، مریم کوبھی شاید خاموشی سے کہیں جاناپڑے‘رہے عمران خان تووہ بیرونی دنیا میں جھنڈے گاڑ چکے،بولے توٹرمپ اوران کی کابینہ پہ سکتہ چھا گیا‘بائیڈن سے بھی وہی نمٹیں گے، معیشت مستحکم ہوئی تواندرونی مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔

    سینئرصحافی اورتجزیہ کارعلی رضاعلوی @alirazaalviJتقریبا اٹھائیس برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں،روزنامہ جنگ،روزنامہ نوائے وقت،روزنامہ ایکسپریس،روزنامہ دن سمیت متعد د قومی اخبارات میں کالم لکھتے رہے،آج کل baaghitv.com کیلئے لکھ رہے ہیں۔ان کا ٹوئٹرہینڈل @alirazaalviJ ہے جس پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ آج کل جی ٹی وی پر پروگرام ریڈ زون کی میزبانی کر رہے ہیں یہ پروگرام جمعه ، ہفتہ ، اتوار رات دس بجکر پانچ منٹ پر نشر ہوتا ہے

  • عمران خان اور اُن کا انقلابی اقدام، دوسرا حصہ تحریر احمد خان

    عمران خان اور اُن کا انقلابی اقدام، دوسرا حصہ تحریر احمد خان

    آپ ہر طرف یہی سنتے ہیں کہ غریب مر گیا لٹ گیا برباد ہو گیا دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوگیا وغیرہ وغیرہ

     عمران خان پاکستان کا پہلا وزیراعظم ہے جس کے دورِ حکومت میں پاکستان کے تمام صوبوں میں ترقیاتی کام بڑی تیزی کے ساتھ جاری ہیں، جس میں زیادہ تر مکمل ہو چکے ہیں اور زیادہ تر پر کام جاری ہیں

    پاکستان کی معیشت کو دیکھ لیجئے برآمدات کو دیکھ لیجئے ٹیکس ریونیو کو دیکھ لیجئے ریمیٹنس کو دیکھ لیجئے نیب ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کی ریکوریوں کو دیکھ لیجئے غریبوں کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات دیکھ لیجئے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات دیکھ لیجئے 

    اب ذرا غور کیجئے گا

    1 احساس پروگرام

    2 پناہ گاہیں اور لنگر خانے

    3 کوئی بھوکا نہ سوئے

    1 احساس پروگرام کے تحت ملک بھر کے لاکھوں غریب اور مستحق خاندانوں کو ماہانہ 12 ہزار روپے دیا جا رہا ہے

    اور اب ذرا اس بات پر غور کیجئے گا پیپلزپارٹی کے جو وزیر مشیر بھوکے ننگے گھرانوں سے اٹھ کر بڑے بڑے عہدوں پر آ بیٹھے تھے ان کی بھوکی ننگی حریص بیویوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت غریبوں کو دیے جانے والے 12000 روپے تک نہ چھوڑے اور اس میں بھی کرپشن کرتے ہوئے انہوں نے لاکھوں کروڑوں روپیہ ہڑپ کر لیا

    ایک لمحے کے لیے ذرا اس بات پر غور کیجئے جنہیں آپ معزز سمجھتے ہیں وہ اندر سے کس قدر پلید اور نیت کے بھوکے ننگے حریص ہوتے ہیں جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود بھی غریبوں کا حق ہڑپ کر لیتے ہیں

    ایسے نفسی انسان کی مثال رال ٹپکائے کتے کی مانند ہوتی ہے جسے بھگانے کے لیے آپ اسے پتھر بھی ماریں تو وہ پلٹ کر پتھر کو بھی سونگھنے لگے گا کہ شاید اس میں سے بھی ہڈی مل جائے

    بہرحال عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد ان تمام وزیروں مشیروں کی بیگمات سمیت سب کو نکال باہر کیا جو صاحب استطاعت ہونے کے باوجود بھی 12 ہزار روپیہ لیتے تھے

    اور اب الحمدللہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے زیرنگرانی احساس پروگرام کے تحت بڑے صاف اور شفاف طریقے سے ہر مستحق اور غریب کو اس کا حق مل رہا ہے اب کوئی مجھے یہ مثال پیش کرکے دکھائے کہ عمران خان کے کسی وزیر مشیر یا اس کی بیوی یا احساس پروگرام کی سربراہ نے غریبوں کو دیئے جانے والے ان پیسوں میں کوئی غبن کیا ہو؟؟ یا احساس پروگرام کا پیسہ کھایا ہو؟؟

    یہ مثال آپ کو جرائم پیشہ بھتہ خور بھوکے ننگے حریصوں کی جماعت پیپلز پارٹی میں تو ملے گی لیکن انشاءاللہ تحریک انصاف میں نہیں اور اگر یہ مثال تحریک انصاف میں ملی تو انشاءاللہ اس کے خلاف کارروائی بھی ہوگی

    2 پناہ گاہیں اور لنگر خانے بنا کر عمران خان نے غریبوں کا کھانے پینے اور آرام کرنے کا مسئلہ حل کر دیا ہے اب جتنا خرچہ ان کا کھانے پینے اور سونے پر ہوتا تھا اب یہ غریب افراد وہی خرچہ اپنے گھر بھیجتے ہیں جس سے ان کی آمدنی میں الحمدللہ کچھ نہ کچھ اضافہ ہوا ہے

    3 کوئی بھوکا نہ سوئے اس پروگرام کے تحت عمران خان غریب غربا بھوکے افراد کے لیے کھانا تیار کر کے موبائل گاڑیوں کے ذریعے ان تک پہنچا رہا ہے اور جہاں بھی کوئی ضرورت مند نظر آئے گا گاڑی اسے اسی وقت کھانا کھلائے گی

    اب ذرا غور کیجئے میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں آپ تاریخ پاکستان اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ایسے اقدامات کی کوئی مثال نہیں ملے گی جو اقدامات غریب کے لیے عمران خان نے اٹھائے ہیں

    غریب کے سونے کا انتظام کر لیا غریبوں کے کھانے کا انتظام کرلیا غریبوں کے پیسوں کا انتظام کرلیا جہاں کوئی ضرورت مند غریب ہو اسے چھوٹا کاروبار کروانے کا انتظام کرلیا

    الغرض محدود وسائل کے باوجود عمران خان نے غریبوں کا 70 80 فیصد سے زائد مسئلہ حل کر دیا ہے

    اب اگر کوئی غریب خود ہڈحرامی کرتے ہوئے مزدوری نہ کرے محنت نہ کرے اپنا ذریعہ آمدن نہ بڑھائے تو مجھے بتاؤ اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے؟؟

    اگر اب بھی تم یہی رونا روتے ہو کہ غریب مر گیا غریب لٹ گیا تباہ ہو گیا برباد ہو گیا عمران خان نے غریب کو مار ڈالا وغیرہ وغیرہ

    تو سیدھی سی بات ہے بھئی اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی اگر تم مطمئن نہیں تو پھر آپ بغض عمران میں پاگل ہو چکے ہو اپنا اعلاج کرو  ( )

    @iamAhmadokz