Baaghi TV

Category: سیاست

  • این اے 56، پی پی 3 میں زلفی بخاری متحرک، رضی طاہر کی رپورٹ

    این اے 56، پی پی 3 میں زلفی بخاری متحرک، رضی طاہر کی رپورٹ

    رپورٹ: رضی طاہر

    وزیراعظم پاکستان کے سابق معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سردار محمد علی خان حلقہ این اے56اور پی پی3میں عوام کی محرومیوں کے ازالے کیلئے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں، حلقہ این اے56اور پی پی3میں ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حکومت میں آنے کے ایک ماہ بعد ہی اپنوں کی ہی نااہلی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے یہ حلقہ ترقیاتی کاموں اور مرکز کی توجہ سے محروم ہوگیا، لیکن گزشتہ چھ ماہ سے سید ذوالفقار عباس بخاری اور سردار محمد علی خان کے دوروں، عوامی رابطہ مہم اور کارنر میٹنگز کی وجہ سے عوام الناس بالعموم اور تحریک انصاف کے کارکنان میں بالخصوص امید کی کرن جاگی ہے،مختصر وقت میں حلقے میں کئی نمایاں ترقیاتی کاموں کا آغاز بھی اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں قائدین عوامی مسائل کے حل کیلئے خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

    سید ذوالفقار عباس بخاری:

    زلفی بخاری سے معروف ہونے والے سید ذوالفقار عباس بخاری ضلع اٹک کے بڑے سیاسی و عوامی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، بخاری خاندان گزشتہ چار دہائیوں سے اٹک کی عوام کی خدمت میں پیش پیش دکھائی دیتا ہے اورشاندار سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔آپ کے والدسید واجد حسین بخاری سابق وفاقی وزیر رہ چکے ہیں، جبکہ آپ کے چچا سید منظور حسین بخاری، ذو الفقار علی بھٹو، جام صادق علی،کرنل معمر قذافی اور دیگر کئی عالمی راہنماؤں کے قریبی رفقا میں سے ہیں۔آپ کے دوسرے چچا سید اعجاز حسین بخاری 1983ء سے سیاست میں سرگرم رہے۔ وہ سب سے پہلے ضلع کونسل اٹک کے چیئرمین منتخب ہوئے اور اس کے بعد صوبائی سیاست میں وارد ہوئے اور گزشتہ الیکشن تک مسلسل منتخب ہوتے رہے۔اسی طرح زلفی بخاری کے کزن سید یاور عباس بخاری صوبائی اسمبلی کے ممبر اور صوبائی وزیر برائے بیت المال ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی خصوصی درخواست پر سید زلفی بخاری نے لندن میں اپنے کاروبار کو خیرآباد کہتے ہوئے پاکستان کا رخ کیا اور اوورسیز پاکستانیز کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے، حق و صداقت کے ایسے داعی نکلے کہ کرپشن کامحض الزام لگنے پر اپنے عہدے کو ٹھکرا دیا اور خود کو قانون اور انصاف کے سامنے پیش کیا، رنگ روڈ سکینڈل میں آپ پر الزامات لگانے والوں کو اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب تحقیقات میں سید زلفی بخاری کو کلین چٹ ملی اور ان پر کرپشن کا ایک روپیہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔آپ بھی اپنے خاندان کی طرح عوامی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوئے پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔

    سردار محمد علی خان:

    سردار محمد علی خان ضلع اٹک کے نامی گرامی سیاست دان ہیں، آپ دبنگ شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ہمیشہ نوجوانوں کا جھرمٹ اپنے ساتھ جوڑے رکھتے ہیں، دھڑے کی سیاست آپ نے اپنے والد اور دادا سے سیکھی، آپ 2002میں موجودہ پی پی3سے ممبر صوبائی اسمبلی بنے اور اپنے پانچ سالہ دور میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا، آپ نے2010میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، غالباً پاکستان بھر سے تحریک انصاف کی صفوں میں شامل ہونے والے اولین رہنماؤں میں سے ہیں، آپ نے2013میں تحریک انصاف کیلئے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا، اور حلقے میں لگ بھگ35ہزار ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے، آپ کے دادا سردار محمد اقبال خان عوامی شخصیت تھے جو 1953میں منتخب بلدیہ فتح جنگ کے پہلے منتخب صدر بنے، سردار محمد علی خان کے والد سردار اسد علی خان 1977کے انتخابات میں ممبر صوبائی اسمبلی بنے، سردار محمد اقبال خان اور سردار اسد علی خان دونوں شخصیات اٹک میں اپنے منفرد انداز سیاست کی وجہ سے مقبول ہیں، انہوں نے ہمیشہ عوام الناس کے حقوق کی جنگ لڑی اور اس کیلئے انہیں جو اقدامات کرنا پڑے کیے،80اور90کی دہائی میں ان شخصیات کی بدولت ہی اقتدار کے ایوانوں کے فیصلے ہوئے، اپنے حلقے میں کسی بھی امیدوار کی جیت یا ہار میں ان کی حمایت یا مخالفت کا کلیدی کردار رہا، یہی وجہ ہے کہ اب بھی لوگ سردار محمد علی خان کو ان کے بزرگوں کی بدولت یاد کرتے ہیں۔ سید زلفی بخاری کے ساتھ سردار محمد علی خان دونوں شخصیات شانہ بشانہ حلقے کی عوام کے اندر دکھائی دے رہے ہیں۔

    عوامی رابطہ مہم:

    سید زلفی بخاری اور سردار محمدعلی خان کی رابطہ مہم گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے، اس دوران انہوں نے جعفر، مہلو، ڈھوکڑی، باہتر نلہ کے علاقوں، منگیال، حطار، فتح جنگ شہر اور علاقہ نلہ میں کئی کارنر میٹنگز کرکے اہم شخصیات کو اپنے گروپ کا حصہ بنایا، ضلع اٹک چونکہ اپنی ثقافت اور بزرگان دین کے عروس کی وجہ سے بھی معرفت رکھتا ہے، دیکھنے میں آیا ہے کہ فتح جنگ اور گردونواح کی اہم درگاہوں پر عرس، میلے اور بیل دوڑ کے انعقاد میں دونوں شخصیات صف اؤل پر نظرآتی ہیں، اس دوران انہوں نے جعفر میں سوئی گیس منصوبے کا افتتاح کیا، فتح جنگ ٹی ایچ کیو میں ٹراما سنٹر زیر تعمیر ہے جبکہ5کروڑ سے زائد کے منصوبے مکمل ہوئے، تحصیل ایڈمنسٹریشن کے ساتھ سردار محمد علی خان کی ٹیم نے بڑھ چڑھ کر کام کیا اور شہر کو جناح پارک کا تحفہ دیا، اسی طرح سکول میں نئے بلاک کا قیام، گرین بیلٹ سمیت کئی اہم پروجیکٹس میں علاقہ مکینوں کی فلاح کیلئے ان کی ٹیم پیش پیش دکھائی دی، یہ منصوبے حکومتی امداد کے بغیر مکمل کیے گئے

  • پاناما پیپرز کے بعد پینڈورا پیپرز : تحریر سید محمد مدنی

    پاناما پیپرز کے بعد پینڈورا پیپرز : تحریر سید محمد مدنی

    پہلے پاناما پیپرز آئے جس میں دنیا جہان کے لوگوں کی آفشور کمپنیوں سے متعلق انکشافات ہوئے کہ ٹیکس سے بچنے کے لئے یہ کام کرتے تھے اور اربوں کھربوں پیسہ اکاؤنٹس میں ہوتا تھا اس کے بعد اب پینڈورا پیپرز کا کچھ دن پہلے انکشاف ہؤا ہے.

    پینڈورا پیپرز بھی دراصل پاناما پیپرز کی دوسری قسط ہے اور اس بار حکومتی جماعت کے وزراء کے بھی نام سمیت کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران کے نام بھی سامنے آئے ہیں.

    وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف پہلے دن سے کھڑے ہیں اور مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یہاں تک کہا کہ سب چیزوں پر بات ہوسکتی ہے مگر کرپشن پر نہیں.

    حکومتی وزراء کے نام آنے کے بعد ان وزراء نے برملا کہا کہ جلد از جلد کمیشن تشکیل دے کر سوالات اور تحقیقات کی جائیں بلکہ مجھ سے شروع کریں سب واضح کروں گا.

    وزیراعظم عمران خان نے ایک اعلی سطح کا کمیشن مقرر کروایا ہے جو تحقیقات کرے گا اور ایف بی آر ایف آئی اے نیب جیسے ادارے پھر مزید کام کو آگے بڑھائیں گے.

    حکومتی وزراء کا یہ عمل احسن ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم کسی کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتیں گے وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں سب سے سوالات ہوں گے تحقیقات ہوں گی اور جو بھی قصور وار ہوگا سزا کا مستحق ہوگا.

    اب بات کرتے ہیں کچھ ریٹائرڈ فوجی حضرات کی ایک ریٹائرڈ فوجی نادر پرویز صاحب جن کا کہنا ہے کہ ٦٥ کی کچ کی لڑائیوں”کے ران” کا ہیرو ہوں ٦٥ اور ٧١ کی جنگوں میں دو ستارہ اول جرات بہادری ایوارڈز کے وصول کئے ملٹری کراس یا سلور سٹار کے برابر ایوارڈ ملا آئی سی آئی جے نے ایک پاکستانی ہیرو کو بدنام کیا ہے کوئی آفشور کمپنی نہیں.

    اگرچہ کوئی بھی انسان فرشتہ نہیں لیکن کہیں نا کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے آئی سی آئی جے ہر ہرگز ہرگز شک نہیں مگر کچھ صحافی باقاعدہ کسی نا کسی سیاسی پارٹی کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اور وہ بیانیہ ریاست کے خلاف والا بیانیہ ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ادارے کا سہارا لے کرچند خاص شخصیات کو بدنام کیا جا رہا ہے ﷲ بہتر جانتا ہے کیونکہ غیب کا تو علم اسے ہی ہے.

    پاکستان مسلح افواج کا معیار اور لیول تو دنیا جانتی ہے کہ کس قدر پروفیشنل ہوتے ہیں مگر یہ صاف ظاہر ہوتا کے کہ کچھ بہت بڑی گڑبڑ ہے.

    اگر سول ادارے کی بات کی جائے تو وزیراعظم برملا کہہ چکا کہ تحقیقات اور پھر الزام درست ثابت ہونے پر کاروائی کی جائے گی.

    جب پینڈورا پیپرز سامنے آئے تو وزیراعظم کے لاہور زمان پارک والے گھر کے تعلق کو ان پیپرز سے جوڑا گیا جبکہ لاہور کا ریہائشی فرید الدین سامنے آیا اور اس نے بیان دیا کہ یہ میری کمپنیاں ہیں انھیں وزیراعظم سے جوڑا جا رہا ہے جو غلط ہے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ وزیراعظم کے خلاف بھی ایک کیمپینگ شروع کی گئی جو ناکام ہوئی کیونکہ جھوٹ پر مبنی جو تھی کیونکہ مخالفین بھی یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران کرپٹ نہیں.

    پہلے کچھ عناصر نے ڈان لیکس کروایا تو ریاست کا ایک ستون بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اب دوبارہ اسی ریاستی ستون کو ٹھیس پہنچانے کے لئے کام کیا گیا جو الحمدلله ناکام ہؤا لیکن ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کسی نا کسی چیز کا سہارا لے کر کسی کو بدنام کرتے ہیں جبکہ ثبوت نہیں ہوتے اور پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا کہ جب اثاثے ڈکلیئرڈہیں تو پھرصحافت کے پیشے سے تعلق رکھنے والے عناصر نے ادارے آئی سی آئی جے کو انفارم کیوں نہیں کیا.

    اس طرح سے بہت سے سوالات جنم لیتے جا رہے ہیں دعا ہے کہ ﷲ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین.

    انھی الفاظ کے ساتھ یہ تحریر بھی اختتام پذیر ہوتی ہے.
    .

    "Syed Muhammad Madni is a freelance journalist who write columns for Baaghi Tv. Follow him on Twitter @M1Pak.

    https://twitter.com/M1Pak.

  • سودی نظام اور ہماری معیشت (Part 3)۔۔۔ تحریر : اقصی یونس

     ہمارے بیرونی قرضے تقریباً 105 ارب ڈالر تک تھے جس میں 11.3 ارب ڈالر پیرس کلب، 27 ارب ڈالر دوست ممالک اور دیگر ڈونرز، 5.7 ارب ڈالر آئی ایم ایف اور 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی یورو اور سکوک بانڈز شامل ہیں۔ ہمارا آدھا سے زیادہ ریونیو قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فنڈز دستیاب نہیں۔ ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46 ہزار روپے، 2013ء میں 61 ہزار روپے اور آج 1 لاکھ 81ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ معیشت کا احیا تو کجا‘ الٹا ہماری آزادی اور بقا خطرے میں ہے۔ دراصل یہ اقتصادی دانشور ایک سازش کے تحت ہمیں سمجھانے پاکستان آتے ہیں اور ہر بار ہمیں ایٹمی پروگرام، کشمیر اور دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کی تلقین کرکے قرضوں کا سلسلہ دوبارہ چالو کرا دیتے ہیں۔ میرے خیال سے اقتصادی اور سیاسی تنہائی پاکستان کے حق میں خوش بختی کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ میرے یقین کے پیچھے ٹھوس دلائل ہیں

    اگر ہم سود کو ہی نہ چھوڑیں گے تو ہم براہ راست اللہ سے جنگ کرنے میں شامل ہیں ۔ عالمگیر سودی نظام کی جڑیں ہمارے اندر تک پیوست ہوگئی ہیں ۔ ہم اس سودی نظام کی گرفت سے آزاد نہ ہو گے تو اللہ کی مدد بھی ہمیں کبھی حاصل نہ ہوگی ۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے شعیب ابی طالب میں رہ کر اقتصادی مقا طعے کا سامنا کیا ۔ اور چند سالوں بعد جنگ احزاب میں دشمنانِ اسلام کی متحدہ قوت کو پسپا کر دیا۔ تو یہ کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کہ ہم اس نظام کو کم از کم پاکستان سے ختم نہیں کر سکتے۔

    پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایک زرعی ملک بھی ۔ اول تو اسے سیاسی طور پہ تنہا رکھنا ممکن ہی نہیں ۔ لیکن پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا بھی ہے عین ممکن ہے تو تیل کی دولت سے مالا مال ملک ہمارا قرض اتارنے میں ہماری مدد ضرور کریں گے اگر وہ ممالک مغربی افواج پہ اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہماری مدد کیوں نہیں کریں گے ۔ دوسری بات پاکستان میں قیادت کا بحران اسی وجہ سے پیدا ہوا کہ ہم غیر ملکی طاقتوں کی جکڑ میں ہیں ۔ اور عالمی طاقتوں نے اپنے ایجینٹ اور کرائے کے لیڈر ہم پہ مسلط کر رکھے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ 73 سال کے اس طویل عرصے میں کوئی ایسا رہنما پیدا نہ ہو سکا ۔ جو حقیقی معنوں میں لیڈر کہلانے کے لائق ہو ۔ پاکستان کی تنہائی عوامی مزاحمت کی رہنمائی کرنے والی حقیقی قیادت کو ابھارے گی

  • "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا” تحریر:فرزانہ شریف

    "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا” تحریر:فرزانہ شریف

    سیاست میں برداشت کی عدم دستیابی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اس کی وجہ ملک میں حد سے ذیادہ بےانصافی اداروں کی بےتوقیری ۔عدالتیں اشرافیہ کی مٹھی میں ۔۔اپنے من پسند فیصلے چٹکیوں میں کروا لیتے ہیں غریب بے چارےسالوں عدالتوں کے دھکے کھانے کے بعد آخر مایوس ہوکر فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔چور ڈاکو سرے عام ملک میں دندناتے پھرتے ہیں اور بے گناہ ناکردہ گناہ کی سزا بھگت کر جب مرجاتے ہیں تو ان کے مرنے کے بعد جب فیصلہ آتا ہے فلاں بندہ بے قصور ہے اسے بری کردیا جائے تو پتہ چلتا ہے اسے جیل میں ایڑیاں رگڑتے مرے ہوئےدو سال ہوچکے ہیں۔۔!!اگر ملک میں انصاف کا بول بالا ہوجائے تو ملک کے 70%مسائل اور منفی سرگرمیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن وہی بات "بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا”کے مصداق ہر کام غریب غربا آخرت پر چھوڑنے پر مجبور ہیں ۔

    ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے گذشتہ 30سال سے کرپٹ ترین حکمران ملے ہیں جھنوں نے نہ صرف خود ملک کو خوب نوچا ہے بلکہ اپنی نئی نسل بھی تیار کرلی ہے کہ رہتی کسر وہ پوری کرلیں ۔اس کے لیے وہ ہر وہ قدم اٹھارہے ہیں جس میں ان کو اقتدار ملنے کی تھوڑی سی بھی امید ہو دشمن ممالک کو اپنے بیانات سے ہرممکن کوشش کررہے ہیں خوش کرنے کی ۔ نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان کینسل ہونے پر جس قدر مریم نواز نے خوشی کا اظہار کیا تھا وہ ہم سب کے لیے حیران کن نہیں تھا کیونکہ ہم اس سے پہلے بھی اس کے ایسے بیانات سن چکے تھے بس دکھ کی بات یہ ہے کہ اس کے سپوٹرز یہ سب جاننے کے بعد بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اس کی سرے عام خان صاحب کو دی ہوئی گالیاں بھی ریکارڈ پر ہیں اور خان صاحب کے کردار پر رکیک جملے کسے جو ایک خاتون ہوتے ہوئے نہائت غیر مناسب تھے ایسا جملہ بولنے سے پہلے عام عورت مر جانا پسند کرتی ۔۔

    حالیہ دنوں میں خاتون اول پر اس کے لگائے الزام نے قوم میں غم وغصہ کی فضا قائم کی ہوئی ہے جو ابھی تک کم ہونے میں نہیں آرہی اور دو دن مسلسل مریم نواز پر تنقید کا سلسلہ جاری رہا ٹاپ ٹرینڈ بنے اس کے خلاف ۔سوشل میڈیا پر جتنا ذیادہ اپنی نفرت ۔غم وغصے کا اظہار کرسکتا تھا اتنا پی ٹی آئی ورکرز نے کیا ۔۔!!ایک سزا یافتہ مجرمہ کو یوں سرے عام اداروں پر کیچڑ اچھالتے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ عام عوام میں مایوسی کیوں نہ پھیلے جہاں پورا ملک لوٹ کر کھاجانے والوں کواداروں نے اتنی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہیں جو چاہیں کریں کوئی ان سے کچھ بھی پوچھنے کی جرآت نہیں کرسکتا ایک عام روٹی چور کو اپنی باقی کی ذندگی جیل میں سڑتے گزارنی پڑجاتی ہے اگر وہ بدقسمتی سے پکڑا جاتا ہے تو۔۔۔! باپ ۔بیٹے لندن میں مزے سے ذندگی گزار رہے ہیں اور بیٹی کو اداروں پر چڑھائی کرنے کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔۔جتنا دوسروں کے کردار پر کیچڑ اچھالتے میں نے نون لیگ کو دیکھا اتنا کسی سیاسی پارٹی کو گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔!!چاہے وہ بےنظیر کی ہیلی کاپٹر سے تصویریں پھینکنے کی بات ہویا پھر پی ٹی آئی کی خواتین پر کیچڑ اچھالنا یا پھر جمائمہ پر جھوٹے الزمات لگانا خان صاحب کے کردار پر رکیک الزامات لگانا ۔۔

    آصف زرداری بےشک بہت بڑا چور ہے کم ازکم ان کے منہ سے مخالف جماعتوں کی خواتین کے کردار پر بات کرتے نہیں دیکھا تو کیا وجہ ہے کچھ لوگوں نے اس کی بیٹی کے کردار پر کیچڑ اچھالا کیا ہم اتنے شدت پسند ۔ہماری ذہنی پستی اس حد تک چلی گی ہے کہ دوسروں کی بیٹیوں پر ایسے الزمات لگائیں ان کا کردار ان کی اولاد تک کو مشکوک بنادیں بختاور بھٹو کا کیا یہ قصور ہے کہ وہ زرداری کی بیٹی ہے؟
    جیسے ہی سوشل میڈیا پر بختاور بھٹو کی خوشی کی خبر چلی پتہ چلا اسے اللہ نے نعمت سے نوازا تو ایک طوفان بدتمیزی مچ گیا ہر بندے نے حسب توفیق اس میں حصہ ڈالنے کی پوری کوشش کی گھٹیا تبصرے کرکرکے ۔۔کیا آپ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسے الفاظ ایسے تبصرے برداشت کرسکتے ہیں جو بختاور بھٹو کے لیے کیے گے اور سننے والوں نے سر دھنا۔کیا اللہ کو جان نہیں دینی اگر آپ عمر خضر بھی لکھوا کر آئے ہیں تب بھی کسی پر تمہت لگانا دل آزاری کرنا حرام فعل ہے اور یہ عمل دل کو کبھی سکون نہیں لینے دیتا اس لیے اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگیں جس جس نے بھی اس کے خلاف ٹوئٹس کیے ہیں آپکے الفاظ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں جو بھی لکھیں بس یہ سوچیں آپ اپنی شخصیت الفاظ کی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہوتے ہیں ۔۔

    رہی بات بلاول بھٹو کی یہ اور مریم نواز سکہ کے دو رخ ہیں جیسے زرداری اور نواز شریف ۔اقتدار کے لیے ملک کا سودا بھی کرنا پڑ جائے تو بھی یہ کر گزریں گے یہ میرا خیال ہے سب کا میری اس بات سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔میں نے آج تک جس انسان کو اپنی بات پر کھڑے ہوتے دیکھا جس کی باتیں آپکو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں آپکو ہمت جرآت کا سبق دیتی ہیں وہ وزیراعظم عمران خان ہیں اس انسان کے جو خیالات الفاظ 22سال پہلے کی تقریر میں تھے وہ ہی آج بھی ہیں اس انسان سے ذیادہ محب وطن حکمران میں نے اپنی ذندگی میں نہیں دیکھا ۔خان صاحب کی یہ جرآت ہی ہے کہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو انکی اوقات یاد دلا دی اور آج امریکہ کی سفیر ایک سیاسی مجرمہ سے ملنے کے لیے مجبور ہوئی یہ بھی پاکستان کی جیت ہے کہ دنیا کا سپر پاور بھی خان صاحب کے آگے پانی بھرتا لوگ دیکھ رہے ہیں ۔

    خان صاحب کو بہت مشکل سے وزیراعظم بنایا تھا بہت امیدوں کے ساتھ کہ وہ ان چوروں کے جبڑوں میں ہاتھ ڈال کر پاکستان کا لوٹا پیسہ نکال لیں گے جس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے لیکن ابھی بہت سے کام ہونے باقی ہیں جو ان دو سالوں میں ممکن نہیں اللہ کرے اگلی دفعہ خان صاحب بھاری اکثریت سے الیکشن جیت جائیں ۔گزشتہ الیکشن والا حساب ہوا ۔پھر خان صاحب کے ہاتھ بندھ گئے تو خان صاحب کے نئے پاکستان کا خواب پورا ہونا مشکل ضرور ہوجائے گا لیکن ناممکن ہرگز نہیں کیونکہ خان صاحب کے ساتھ عوام کی طاقت اوراللہ کی خاص مدد ہے پھر بھی دعا ہے اللہ کرے نیکسٹ الیکشن میں ۔ایم کیو ایم ۔چوہدری برادران کا دم چھلہ خان صاحب کے پیچھے سے اتر جائے خان صاحب اپنی مرضی کے فیصلے کرسکیں عدلیہ کو بھی اللہ ہدایت دے کہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والے کے ساتھ مل کر ملک میں انصاف کا علم بلند کردے تو یہ نفرت غصہ ۔بے اعتمادی کی فضا بھی ختم ہوجائے گی۔ ان شاءاللہ
    پھر خان صاحب دنیا کی سپر پاور چین کے ساتھ مل کر ملک کو بلندیوں پر پہنچا دیں گے لوگ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرکے فخر محسوس کیا کریں گے ان شاءاللہ ۔۔
    @Farzana_Blogger

  • بغض عمران خان تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    بغض عمران خان تحریر : ڈاکٹر وسیم ریاض ملک

    عمران خان نے اپنی حکومت پاکستان میں سن 2018 میں بنائی اس سے پہلے تیس سال نواز شریف پاکستان پر حکومت کرتے رہے اور دیگر پارٹیاں بھی اپنے حصے کی حکومت کرتی رہی عمران خان کی حکومت سے پہلے نواز شریف کی حکومت تھی جو کی کرپشن کیس کی وجہ سے ان کو وزیراعظم گھٹا دیا گیا تو اس کے بعد شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے معمول کے مطابق مختلف ممالک کو کا دورہ کیا جس میں امریکہ بھی شامل تھا لیکن جب انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا تھا امریکہ والوں نے ایئرپورٹ پر ہیں ہمارے نئے نویلے وزیراعظم کی پینٹ اتر وادی اور چیکنگ کی نون لیگ پارٹی کو اس وقت شرم نہ آئی لیکن جب عمران خان کی حکومت آئی تو کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس سے عمران خان بد نام ہو سکیں جب کوئی ایسا موقع نہ ملا عمران خان کو بد نام کرنے کا تو عمران خان کے ایک وزیر کی فوٹو کہیں سے بنوا کر سوشل میڈیا پر لگا دیں کہ یہ امریکہ میں پینٹ کروا رہے تھے یہ لوگ بغض عمران میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو ملک پاکستان کی کوئی پرواہ نہیں ہے ان کو صرف فرق پڑتا ہے تو اپنی سیاست سے اپنے اقتدار سے اور اپنے پیسوں سے لیکن ان کو ملک سے کوئی پروا نہیں ہے پر ہوگی بھئی کیسے 30 سال جو عوام کا پیسہ کھاتے رہے آپ جب پاکستان کو ایک مخلص لیڈر ملا ہے تو ان سے کیسے برداشت ہوگا کیونکہ ان کے کمانے کا ذریعہ تو یہی تھا جو عمران خان نے بند کر دیا یہ عمران خان کو اس حد تک برا کہتے ہیں کہ یہ مسلمان ہی نہیں ہے اگر عمران خان مسلمان نہیں ہے تو اس نے رحمۃاللعالمین تھوڑی کیوں بنائی اگر عمران خان مسلمان نہیں ہے تو اس نے امریکہ کو منھ توڑ جواب کیوں دیا اگر عمران خان ملک پاکستان کے لیے مخلص نہیں ہے تو آج  پوری دنیا پاکستان کے گیت کیوں گا رہی ہے ان کے دور میں انہوں نے یہ گیت کیوں نہیں گئے کیونکہ ان کا دھیان صرف اور صرف کرپشن پر تھا نہ کہ ملک کو آگے لے جانے میں ان کے دور میں پاکستان تنہا رہ گیا تھا پوری دنیا میں آج جب پاکستان دوبارہ ابھر رہا ہے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے اور ہوگی بھئی کیسے نہیں یہی تو وہ لوگ تھے جو پاکستان کو ٹانگوں سے پکڑ کر نیچے کھینچ رہے تھے یہی تو وہ لوگ تھے جو ڈرون حملوں کے پیسے لے کر چپ کر جاتے تھے یہی تو وہ لوگ تھے جو اپنی جیبیں بھاری کرتے تھے اور عوام پر تشدد اور ظلم کرواتے تھے آج جب ان کو نظر آرہا ہے کہ عوام کے سامنے ہمارا سچا رہا ہے اور کل کو ہم یہ سب کچھ نہیں کر پائیں گے تو ان کو تکلیف ہو رہی ہے اور یہ بغض عمران میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کاش انہوں نے ایک بار بھی پاکستان کے لیے سوچا ہوتا تو آج پاکستان بہت آگے ہوتا یہ عمران خان سے سوال پوچھتے ہیں کہ تم نے تین سالوں میں کیا کیا لیکن ہم ان سے سوال پوچھتے ہیں کہ آپ نے تیس سالوں میں کیا کیا یہ چاہتے ہیں کہ جو تیس سالوں میں انہوں نے کیا وہ یہ تین سال میں عمران خان کر کے دکھا دے لیکن یہ راضی تب بھی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی کرپشن کا راستہ بند ہو چکا ہے پاکستانی عوام کو سمجھنا چاہیے پاکستان کے لیے کون مخلص ہے اور پاکستان کے لئے کون بہتر کام کر رہا ہے اور پاکستان کو آج اس مقام پر کون لے کر آیا ہے جہاں امریکہ جیسا سپرپاور بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان ایسے ہی ترقی کرتا رہے تو بغض عمران سے ہٹ کر پاکستان کے لئے سوچیں تاکہ ہم سب مل کر پاکستان کو آگے لے کر جا سکے

    Twitter Handle : @WaseemjuttMalik

  • ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    وزیراعظم عمران خان جب سے حکومت میں آئے ہیں ربیع الاول اور رسول ﷲ ﷺ سے متعلق بہترین کام کئے ہیں وزیراعظم پر مختلف قسم کے فتوے لگے کہ یہ فلاں ایجنٹ ہے تو یہ ہے تو وہ ہے مگر آج اگر وزیراعظم کے کیے گئے اقدامات پر نظر دوڑائیں تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کچھ نہیں کیا گیا.

    وزیراعظم نے قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اجاگر کیا اور خاص کر آپ رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے عناصر جن میں خاص کر یورپی ممالک کو یہ احساس دلایا کہ یہ جو آپ کام کرتے ہیں اس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوتے ہیں آپ کو اندازہ نہیں کہ مسلمان کس تکلیف سے گزرتا ہے.

    اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے جو تقریر کی اس میں انھوں نے رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں اور غیر مسلم کو یہ باور کرایا کہ آپ رسول ﷲ ﷺ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ او آئی سی اور مسلمان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم سے ملاقات کر کے اس حساس معاملے کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمان ممالک ایسی کوئی قرار داد پاس کریں کہ آئندہ کسی کی بھی  ہمت  نہ ہو یہ حرکت کرنے کی.

    پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے ہی دور میں قومی اسمبلی کی کارروائیوں میں ایک تبدیلی کروائی گئی کہ جب بھی رسول ﷲ ﷺ کا نام لکھا جائے تو نام سے پہلے آخری نبی لکھا جائے. اس کے علاوہ ملک بھر میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے کانفرینسز منعقد کروانے کا سلسلہ بھی شروع کروایا. مجھے آپ یہ بتائیں کہ جو شخص (وزیراعظم عمران خان) پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانا چاہے تو وہ بھلا کسی بھی حساس معاملے کے خلاف کیسے جا سکتا ہے کیا اس سے پہلے اس معاملے پر کوئی ٹھوس کا ہؤا جیسے کہ او آئی سی یا اقوام متحدہ میں رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اٹھایا گیا ؟

    اس بار بھی ہمیشہ کی طرح وزیراعظم عمران خان نے بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے بہترین اقدامات کروائے ہیں عشرہ رحمت العالمین کے ﷺ پر تمام اسکول کالجز جامعات درسگاہوں میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے تقاریر سیمینار وغیرہ منعقد کروائے جائیں گے اور علماء کرام طلباء کو اس کی اہمیت پر لیکچر دیں گے. حکومتی چینلز اور میڈیا پر سیرت النبی صلعم سے متعلق پروگرامز بھی دکھائے جائیں گے اور وزیراعظم کی ہدایات پر ٣ ربیع الاول سے ١٣ ربیع الاول تک عشرة ربیع الاول منایا جائے گا.

    وزیراعظم نے رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات اور ان کی سنت پر عمل کرنے کا زور دیا مزید کہ ہم جمعة کی نماز پڑھنے جاتے تو ہیں مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رسول ﷲ ﷺ نے کیا فرمایا کن باتوں پر عمل کرنے سے منع فرمایا اور کن باتوں پر عمل کرنے کو کہا انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان رسول ﷲ ﷺ پر جان بھی قربان کر سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل بھی تو کریں ناں اور یہ بھی تو دیکھیں کہ آیا ہم ان کے کردار سے کچھ سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں عشرہ ربیع الاول ﷺ کی مناسبت سے ایک بہت عمدہ جملہ وزیراعظم نے کہا کہ

    میرا یہ ایمان ہے اگر ایک انسان نے عظیم انسان بننا ہے تو نبی ﷺ کو رول ماڈل بنالے اور اگر ایک قوم نے عظیم بننا ہے تو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے. 

    وزیراعظم کے خلاف جتنی نامناسب باتیں میڈیا اور صحافت میں ہوئی ہیں وہ انتہا کو پہنچیں صرف اس لئے کہ وزیراعظم ﷲ اور اس کے رسول ﷲ ﷺ کے باتیں کیوں بتا رہا ہے. ہم اگر ﷲ کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے تو ہی ہماری آخرت میں کامیابی ہوگی اور یہی چیز وزیراعظم بار بار کہتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات کو اپناؤ. 

    غرض یہ کہ بے فکر رہیں وزیراعظم ہر ممکن اقدامات کریں گے اس معاملے اسی کے ساتھ میری تحریر کا اختتام ہوتا ہے.

    Twitter Id ‎@M1Pak

  • مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

    مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

    ہم مردہ پرست لوگ ہیں۔ کسی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کی موت کا انتظار کرتے ہیں۔
    وقت بدلا سال بدلے حالات بدلے لیکن اس قوم کی ناقدری کی عادت نہیں بدلی۔
    شاید یہ اس قوم یا پھر بنی نوع انسان کی فطرت ہے کہ وہ وقت پر کسی کی قدر نہیں کرتا۔ ناقدری ہماری فطرت میں حلول کر گئی ہے۔ اسی لئے ہم ہر روز کسی نہ کسی نئے سانحہ سے دو چار ہو رہے ہیں اور رحمت نما انسان ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔
    ہماری بہت سی بدنصیبیوں اور کج فہمیوں کے ساتھ ہمیں ناقدری کی فطرت بھی ورثہ میں ملی ہے کہ ہم اپنے ادیبوں، شاعروں، فلاسفروں، دانشوروں اور عظیم شخصیات کی وقت پر قدر نہیں کی اور ان کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے۔
    ہمیشہ خدا کی عطا کردہ ان نعمتوں کے چھن جانے کے بعد یاد آیا کہ ہم سے ایک عظیم ہستی بچھڑ گئی اور ہم نے وقت پر اس کی قدر نہ کی۔ یہ ہماری قوم کا بدترین المیہ ہے کہ زندہ لوگوں کو مارتے رُلاتے اور تڑپاتے ہیں اور مرنے والوں کیلئے روتے تڑپتے اور پچھتاتے ہیں۔
    مردہ پرست قوم ایسی ہی ہوتی ہیں زندہ محسنوں کی بے قدری کرتی ہے اور مرنے کے بعد ان کی قبروں پر خوبصورت مزارات تعمیر کر کے، ان پر رنگ برنگی چادریں چڑھاتی ہے اور ان کے قیصدے پڑتی ہیں ،کارنامے بیان کرتی ہے۔
    یہی ہمارا المیہ ہے زندوں کی بے قدری اور مردوں کی عزت و توقیر!!!!
    ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے یہی ہمارا کام ہے اور یہی ہم اپنے عظیم محسن قوم ، محسن پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔
    محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ہم شرمندہ ہیں! ہم نے اپ کی قدر نہ کر سکے۔
    آپ کی خدمات اور احسانات کا بدلہ ہم کیا چکا سکیں گے کہ ہمارے جیتے جی ملک کے اس عظیم سپُوت کی ایسی ناقدری ہوئی کہ شرافت کا یہ پیکر، کردار کا یہ غازی اور عظم کی مثال یہ عظیم ترین انسان اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پریشانیوں اور بیماریوں کی نذر رہا۔
    مجھے آنسوءوں میں ڈوبی وہ منحوس شام کبھی نہیں بھولتی جب ڈاکٹر صاحب سے ’ پاکستان سے محبت کا اقبالِ جرم ‘ کرایا جارہا تھا اور وہ اپنا کلیجہ چبا چبا کر ناکردہ گناہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا گلہ پھانسی کے پھندے میں ڈال رہے تھے ۔ دھتکار ہے ان لوگوں پہ جو اس گھنائونی سازش میں شریک تھے ۔ تُف ہے ایسے منافقوں پر جنھوں نے آپ کو اس پہ آمادہ کیا اور جو بعد میں کفِ افسوس بھی مل رہے تھے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی کہ ” آج ڈاکٹر قدیر نے دوسری دفعہ پاکستان کو بچایا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان
    غیر اعلانیہ حراست میں ہی رب کے حضور حاضر ہوگے
    اے محسن پاکستان اے محسن اسلام میں ایک پاکستانی ہونیکی حثیت سے شرمندہ ہوں۔ آپکی ذات تو سر آنکھوں پہ بٹھانے کے قابل تھی۔
    دنیا تو محسنوں کے لئے زندگیاں وقف کر دیتی ایک ہم ہیں کہ اس عظیم انسان کی زندگی ہی دکھ و درد کا شاخسانہ بنا دی
    ہم بطور قوم کس منہ سے اظہار افسوس کر رہے ہیں کیونکہ اس انسان کی ازیت زدہ زندگی میں ہم سب بھی برابر کے شریک ہیں۔
    آج میں بطور پاکستانی انتہائی شرمندہ ہوں یہ لکھتے ہوئے کہ
    یہ قوم آپ جیسے عظیم انسان کے قابل نہیں تھی!
    گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات بھی قدیر
    ستم ظریف مگر کُوفیوں میں گزری ہے (ڈاکٹر عبدالقدیر خان)

    Acemaker007
    Twitter Handle: @

  • پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پچاس سال قبل جب پاکستان دو لخت ہوا اوربنگلہ دیش  معرض وجود میں آیا تو اس کا
    شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتاتھا۔  قدرتی آفات اور آبادی کے بوجھ
    تلے دبے، کم شرحِ خواندگی، غربت، محدود قدرتی وسائل اور گنتی کی چند صنعتوں
    والے اسخطہ کے بارے میں اقوام عالم کو یہ یقین تھا کہ پاکستان سے الگ ہوکر یہ
    اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ پچھلے ۵۰؍ برسوں میںاس  نے بہت سے نشیب و
    فراز دیکھے اور بے شمار مصائب کا سامنا کیا۔ 1974ء کی قحط سالی، 1991ء کا
    سمندری طوفان، عوامیبغاوت اور فوجی کارروائی نے اس کے مسائل میں بے پناہ اضافہ
    کیا۔ لیکن  نہ صرف اس نے اپنا وجود اور پہچان برقرار رکھی بلکہتیزی سے ترقی کی
    راہ پر گامزن ہوا۔ عالمی ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ جلد ہی یہ ملک دنیا کی
     تیز رفتار ترین معیشت بن جائیگا۔بنگلہ دیش اور بنگلہ دیشی کرنسی ٹکے کی حیثیت
    نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن آج 50 سال بعد نہ صرف بنگلہ دیش ترقی کی راہ میں
    پاکستان اور  بھارت دونوں سے آگے ہے بلکہ اب ایک بنگالی ٹکہ پاکستانی 1.66روپے
    کے برابر ہے۔ ڈالر کی قیمت پاکستانی 170 روپے جبکہ بنگلہ دیش میں 84 ٹکہ ہے۔

    وہ بنگلہ دیش جس کا  نام ذہن میں آتے ہی  قحط سالی، غربت، بیماری اور بدحالی
    ذہن میں آتی تھی آج ترقی پزیر ممالک کیلئے رولماڈل بن چکا ہے۔ غربت کا خاتمہ
    کرنے، صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے، شرح خواندگی بڑھانے اور عورتوں کو
    خودمختار بنانے میںبنگلہ دیش نے جو کارنامہ انجام دیا ہے تمام دنیا اس کی معترف
     ہے۔

    شیخ حسینہ واجد کے ۱۱؍ سالہ دور اقتدار میں بنگلہ دیش نے حیرت انگیز ترقی کی۔
    مفلسی اور قحط سالی کا شکار ملک غذائی اجناس کیپیداوار میں کافی حد تک خود کفیل
     ہوگیا۔

    بنگلہ دیش اپنی برآمدات سے اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ کورونا وائرس کے دوران جہاں
    بہت سے ممالک شدید معاشی بحران کا شکار ہورہے تھے، بنگلہ دیش میں جی ڈی پی کی
    شرح میں اضافہ ہو رہا تھا۔

    فی کس آمدنی 2017 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ غربت کی شرح 20 اعشاریہ پانچ تک ہو کر
    رہ گئی ہے۔اس وقت کے اعداد و شمار کےمطابق سنہ 2035 تک بنگلہ دیش دنیا کی 25ویں
     بڑی معیشت بن جائے گا۔

    اگر بنگلہ دیش کا مقابلہ پاکستان سے کیا جائے تو بنگلہ دیش پر آبادی کا دباؤ
    ہم سے چار گنا زیادہ ہے۔ اور اسی طرح رقبے اور وسائلکے لحاظ سے وہ ہم سے چار
    گنا کم ہے ۔

    فی کس آمدنی اور سالانہ شرح ترقی میں وہ ہمیں پہلے ہی بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
    بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات41 ارب ڈالر جبکہپاکستان کی 25 ارب ڈالر سے کم ہیں،
     اور بنگلہ دیش کی درامدات 43 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی درامدات 56 ارب ڈالر ہو
     چکی ہیں۔بنگلہ دیش پر کل غیر ملکی قرضہ اس وقت 35 ارب ڈالر کے قریب جبکہ
    پاکستان میں 87 ارب ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش میں بے روزگاریکی شرح %4 جبکہ پاکستان
    میں بے روزگاری %6 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کی %33 آبادی صنعتوں سے منسلک ہو چکی
    ہے اور  پاکستان کی صرف %20 صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اعتبار سے بھی
     ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمیبینک کے مطابق ان کی شرح خواندگی
     74 فیصد جبکہ ہماری 59 فیصد ہے۔

    کپاس درآمد کرنے کے باوجود بنگلہ دیش چین کے بعد جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے
    بڑا گارمنٹس کا برآمد کار بن چکا ہے، جبکہ کپاسکے معاملے میں خود کفیل ہونے کے
     باوجود ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں  گارمنٹس کی تقریباً 5 ہزار صنعتیں ہیں۔ یہ شعبہ لاکھوں کی تعداد
     میں عوام کو روزگار مہیا کرتا ہے، جن میں سے 80 فیصدخواتین ہوتی ہیں۔

    معاشی اعتبار سے بنگلہ دیش بہت جلد ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے
    چھوٹے قرضوں پر مبنی منصوبوں کے ذریعے اپنیخواتین کو خودمختار بنانے پر دھیان
    دیا اور تعلیم پر توجہ مرکوز رکھی۔

    بنگلہ دیش میں صحت اور خوراک کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے شعبہ صحت اور
    غیر سرکاری تنظیموں نے پسماندہ علاقوں کومالی امداد پہنچانے کی کوششیں بھی کیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja

  • سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
    سماتی کہاں اس فقیری میں میری
    سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
    چلی کچھ نہ پیرِ کلیسا کی پیری
    ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
    ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
    سیاست کی دوڑ میں ہانپے ہوئے سیاستدان، ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے انفرادی مفاد کی خاطر ہر چیز کا سودا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہر ایک اپنی جماعت کے دفاع میں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے۔ جس کی مد میں کبھی پانامہ کیس سامنے آتا ہے تو کبھی پینڈورا لیکس، ان سب میں نظام تعلیم کے مسائل اور مشکلات حکومتی ترجیحات سے کوسوں دور ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی ملک کی بنیادیں تعلیم پہ استوار ہوتی ہیں اور ہر وہ ملک اور معاشرہ جو تعلیم سے منہ موڑ لیتا ہے وہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دینے کے بجائے ان کے سامنے نت نئے سیاسی ہتھکنڈے رکھ دیے جاتے ہیں کہیں کرپشن اور کہیں بے حیائی، کہیں مہنگائی کے مسائل تو کہیں سکرین پہ بیٹھے سیاستدانوں کے جھگڑے اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو! یہ تربیت ہے ہمارے ان معززین کی جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی بھاگ دوڑ ہے۔ جنہوں نے ملک کے ساتھ وفا کے عہد کر رکھے ہیں۔
    حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
    جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
    اس تحریر کی بساط سے میرا مقصد ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے جس کی وجہ سے طالبعلم نہایت مایوسی کا شکار ہیں۔ میٹرک اور انٹر کے نتائج تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں نجانے کتنی تواریخ دی گئیں اور انٹر کے نتیجے سے ایک دن قبل اس کو منسوخ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا اور ابھی تک نئی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث طالبعلم تذبذب کا شکار ہیں انہیں اپنا سال برباد ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کورس کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ملکی ترقی کی ضامن افرادی قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ یونیورسٹیوں کے داخلے رکے ہوئے ہیں ان کے سمسٹر سسٹمز تباہی کے دہانے پہ کھڑے ہیں لیکن ہماری حکومت کو سیاست سے فرست ہی نہیں۔ پروموشن پالیسی منظور ہونے کا بہانہ بنا کر عوام کو لالی پاپ دیا گیا لیکن تاحال اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔ جن بورڈز کا رزلٹ آیا ہے ان میں بھی مردان بورڈ میں 1100 میں سے 1100 نمبر دیے گئے جو کہ ناممکنات میں سے ایک بات تھی۔ ہماری تعلیم کا معیار کس قدر گر گیا اس کا اندازہ اس بات سے ہم بآسانی لگا سکتے ہیں۔ بچوں کا رٹالائزیش کی مشین میں گھمایا جاتا ہے اور پھر سوچی سمجھی سکیم کے مطابق پرچہ آتا ہے جس کا طلبعلم کو پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ کونسی سبق میں سے معروضی اور انشائیہ کے کتنے کتنے سوال آنے ہیں اور سوالوں کا بھی تقریبا سب کو اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے تباہی یہ برپا کی کہ ہمارے ہاں کوئی سائنسدان، فلسفی اور کوئی اہل علم نہیں پید ہوتا۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے ہی بزرگوں نے سائنس کی بنیاد رکھی تھی جابر بن حیان جسے کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے، ابوالقاسم زھراوی جس نے قانون فی الطب لکھ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا، محمد بن موسی الخوارزمی جس نے الجبرا کی شناخت کروائی، ابن الہیشم جس نے کیمرے کی ایجاد کی اور روشنی کے آنکھ میں داخل ہونے کی قیاس آرائی کی، عمر خیام نے شمسی کیلنڈر بنایا، عباس بن فرانس جس نے پہلا ہوائی جہاز بنایا ، محمد بن زکریا رازی نے تپ دق کا علاج اور چیچک کا ٹیکہ بنایا۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔
    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
    نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا
    مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
    اور دوسری طرف کویڈ کے کیسس کم سے کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور تا حال تعلیمی نظام کو اس طرح بحال نہیں کیا گیا ، جامعات بند ہیں۔ جب کے ملک میں مارکیٹس سے لے کر پارکوں تک، شادی حال اور سینما گھر سب کھلا ہے بند ہیں تو صرف جامعات۔ جہاں نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل سکرین ٹائمنگ بڑھنے سے مختلف مسائل کا بھی شکار ہو رہی ہے ۔ آنکھوں کے مسائل، اعصابی نظام کے مسائل اور ڈپریشن سر فہرست ہیں۔ یہ سب صرف اور صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم لوگوں کے لیے تفریح تعلیم سے بڑھ کے ہے، ہمارے لیے سیاست اور کاروبار سب اولین ترجیح ہیں تعلیم تو کہیں ہے ہی نہیں۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو تعلیمی نظام متاثر کرنے سے روکا جائے اور جہاں ہر اخبار سیاسی خبروں کی سرخیوں سے مزین ہوتا ہے وہاں تعلیمی مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ کیونکہ یہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنا کسی سمجھدار قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں تو ملکی سرمائے کو نہایت حفاظت کے ساتھ سنبھالنے سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور ترقی پذیر ملکوں کی فہرستوں سے نکل کہ ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں سر فہرست آ سکتے ہیں۔ خدارا ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔
    زمانے کے انداز بدلے گئے ۔
    نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔
    ہوا اس طرح فاش راز فرنگ ,
    کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ ۔
    پرانی سیاست گری خوار ہے ,
    زمیں میر و وسلطاں سے بے زار ہے ۔
    گیا دور سرمایہ داری گیا ۔
    تماشا دکھا کر مداری گیا

    :
    Twitter: @iamhumera_

  • جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    جزباتی ہجوم ،تحریر: زوہیب خٹک

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے 2012 میں اپنی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کی بنیاد رکھی اور جو ہجوم نما قوم آج غم میں مری جا رہی ہے اُنہوں نے ووٹ دینا تو دور کی بات ٹکٹ لینا بھی پسند نہیں کئے اور پورے پاکستان میں ڈاکٹر صاحب ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے تھے۔ اسی طرح ساری قوم عبدالستار ایدھی صاحب کی وفات پر گہرے رنج و افسوس میں تھی لیکن ایدھی صاحب نے جب الیکشن لڑا تھا تو ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ ایسی کئی مثالیں ہمیں ہر ضلع کی سطح پر دیکھنے کو ملتی ہیں جو لوگ انتہائی شریف النفس , نیک و خدمت گزار ہوتے ہیں اُنکو ہم القابات سے تو بہت نوازتے ہیں لیکن جب اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا وقت آئے تو ہائی کوالٹی رنگ باز کو اُسکے مقابلے میں منتخب کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ذات برادری کا ہوتا ہے یا ہمارے باپ دادا نے اس پارٹی کو ووٹ دیا ہوتا ہے اور ہم بھی کفار مکہ کی طرح اسی پارٹی کے بت کو تا حیات پوجتے رہتے ہیں۔

    اسی طرح جب پاکستان تحریک انصاف نے 2013 میں الیکشن لڑا تو 60 فیصد ٹکٹ عام نوجوانوں کو دیئے اور ذیادہ تر لوگ اچھی شہرت کے حامل تھے لاہور کی مثال لے لیں علامہ اقبال کے پوتے بیرسٹر ولید اقبال کے مقابلے ہم نے گیس چور شیخ روحیل اصغر کو جتوا دیا۔ اسی طرح عوام نے دیگر حلقوں میں بھی روائیتی سیاسی گھرانوں کو نوجوانوں اور شریف النفس امیدواروں پر ترجیح دی۔ جنہیں ہم عرف عام میں الیکٹیبکز کہتے ہیں۔

    جب ملکی حالات کا رونا روتے ہوئے کوئی میرے سامنے کہتا ہے کہ ” ساڈا کی قصور اے” تو میں سوچتا ہوں کہ قصور تو ان چند عظیم لیڈران کا ہے جو اس مردہ ہجوم نما قوم کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمیں شعور دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم نے اپنی روش نہیں چھوڑنی جزباتی تقریریں بھڑکاؤ نعرے ہم سے لگوا لیں وہ ہم بخوبی کر سکتے ہیں۔
    بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہونگے کہ مرحوم ڈاکٹر قدیر خان پر ایٹمی راز بیچنے یا افشاں کرنے کا الزام تھا کتنا سچ کتنا جھوٹ ہے وہ رہنے دیں لیکن یہ حقیقت آج سب پر آشکار ہو چکی ہے کہ ہمارے اولین دشمن ان کی جان کے در پے تھے اس لیے انہیں مشرف کے جانے کے کئی سال بعد بھی برائے نام آج تک گھر میں نظر بند رکھا گیا تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے اور انہیں ممکنہ خطرے سے بچایا جاسکے۔ لیکن آج تک ہم میں سے بیشتر یہی سمجھتے رہے کہ شائد ڈاکٹر صاحب کو ایٹم بم بنانے کی سزا دی گئی اس لیے قید کیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ ہتھیار پوری دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اس لیے ہمارے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کرنی تھی کرنی ہے اور کرتے رہیں گے کہ کسی نا کسی طرح پاکستان سے یہ ہتھیار واپس لیے جائیں لیکن ریاستِ پاکستان نے نا صرف اپنے ہتھیاروں بلکہ اپنے سائنسدانوں کو بھی محفوظ رکھا۔
    برائے کرم جزبات سے نہیں حقائق سے سوچا کریں اور کم سے کم اپنے اندر اتنا شعور بیدار کریں کہ اپنے حکمران ذات برادری رنگ نسل یا سیاسی پارٹی پر نہیں بلکہ کارکردگی پر منتخب کر سکیں۔

    Twitter @zohaibofficialk