Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے  سفرنامہ نگار: فلک زاہد   (پہلی قسط)

    وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے سفرنامہ نگار: فلک زاہد (پہلی قسط)

    لکھاریوں کی معروف تنظیم "اپوا” نے رواں سال ستمبر کے مہینے میں کمراٹ اور جہاز بانڈہ کا دورہ کیا تھا جس میں مجھ سمیت دس لکھاری حضرات شامل تھے.اس یادگار سفر کی روداد کو میں نے سفرنامے کی صورت میں ڈھال دیا ہے،

    مارگلہ نیوز: وادی کمراٹ میں سیاحت
    وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے
    سفرنامہ نگار: فلک زاہد
    (پہلی قسط)

    اس بار میرا سفر "وادی کمراٹ” کی جانب تھا جس کے بارے میں سبھی کا کہنا تھا کہ وہ ایک دلکش و دلنشین وادی ہے جس کا حسن انسان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے جس کی خوبصورتی میں انسان ایسا غوطہ لگاتا ہے کہ دوبارہ اس میں سے ابھر نہیں پاتا جسکے گھنے جنگلوں میں ایک سرسراہٹ سی ہے جسکی برف پوش پہاڑیوں میں لاتعداد کہانیاں سی ہیں جسکی جھیلوں میں صدیوں کے راز پوشیدہ ہیں جسکے پہاڑوں میں عجب بادشاہوں سا وقار ہے اور جسکی ہواؤں میں الگ ہی بدمستی ہے-

    ایسی تعریفیں سن سن کر میں نے نجانے کتنی ہی بار اپنے خوابوں میں خیالوں میں تصورات میں وادی کی سیر کی تھی اور شدت سے میرا دل اس دن کا منتظر تھا جس دن میرے قدم اس جنت نظیر وادی میں رنجا ہونے تھے.

    میں ایک بہادر, نڈر سخت جاں اور مہم جو لڑکی واقع ہوئی ہوں مجھے نئ نئ جگہیں دیکھنے اور دنیا گھومنے کا بہت شوق ہے..چاہے کتنے ہی گھنٹوں پر سفر محیط کیوں نہ ہو لمبے سے لمبا سفر مجھے نہیں تھکاتا راہ میں آئی کوئی مشکل میرے حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیتی کیونکہ میں راجپوتوں کی جواں سالہ دوشیزہ ہوں جس کے ارادے مستحکم اور مضبوط ہیں جسکے قدم لڑکھڑاتے اور ڈگمگاتے نہیں ہیں جسکا دل ذرا سی مشکل سے گھبراتا نہیں ہے جس کا سر پہاڑوں کی بلندیوں کو دیکھ کر چکراتا نہیں ہے اور نہ ہی جسکی ٹانگیں پہاڑوں کے نشیب کو دیکھ کر کانپتی ہیں.

    میں تو وہ ہوں جو بلا خوف و خطر گبن جبہ کے دریا اور اس کی آبشار میں موجود بڑے بڑے دیوہیکل پتھروں پر یکے بعد دیگرے کسی شیرنی کی مانند چھلانگ لگاتی چلی جاتی یے.

    میں تو وہ ہوں جو بہرین کی پہاڑیوں کی بلندیوں سے بغیر کسی سپیڈ بریکر کے نشیب کی جانب بھاگتی چلی جاتی ہے.
    میں تو وہ ہوں جو ٹھنڈیانی کی برف پوش پہاڑیوں پر اکیلے دور بہت دور خود کلامی کرتے ہوئے ناک کی سیدھ چلتی چلی جاتی ہے
    میں تو وہ ہوں جو نیلا واہن کی آبشار دیکھنے کے جنون میں کئ فٹ اونچا پہاڑ چڑھ بھی لیتی ہے اور اتر بھی لیتی یے
    میں تو وہ ہوں جس نے مالم جبہ کی سرد رات میں اکیلے سڑک پر نکل کر کسی جن بھوت کے ملنے کی خواہش کی ہے.
    میں تو وہ ہوں جس نے کلام کی مال روڈ پر رات دیر تک مٹر گشتی کی ہے
    میں تو وہ ہوں جس نے سردیوں کی راتوں میں ایبٹ آباد کی سڑکوں پر لانگ ڈرائونگ کی ہے-

    جی ہاں یہ میں ہی ہوں جس نے خان پور ڈیم کے پانیوں سے دل کی باتیں کی ہیں یہ میں ہی ہوں جس نے ٹیکسلا کے کھنڈرات میں سرگوشیاں سی سنی ہیں اور یہ بھی میں ہی ہوں جس نے مری گلیات اور نتھیا گلی کے حسن کو اپنی آنکھوں میں جذب کر لیا ہے.

    وہ بھی میں ہی تھی جس نے ناران کاغان کی جھیل سیف الملوک سے رازونیاز کیا ہے جس نے دریا سوات کی گہرائیوں میں اپنے برہنہ پیروں کو اتارا ہے..میرا رشتہ ان دریاؤں اور پہاڑوں سے بہت گہرا اور پرانا ہے.یوں لگتا ہے میرا ان پہاڑوں میں نام لکھا جاچکا ہے یہ پہاڑ اور دریا بھی اب بن اداس ہوجاتے ہیں جبھی چند ماہ بعد مجھے آوازیں دینے لگتے ہیں اور جنکی آواز ہواؤں کے دوش پر لہراتیں بل کھاتیں میرے دل تک پہنچ جاتی ہیں.

    اور اب میری اگلی منزل "وادی کمراٹ” تھی.
    کمراٹ کے پہاڑ مجھے آوازیں دینے لگے تھے وہاں کی یخ ہوائیں مجھ تک پیغام محبت ارسال کرنے لگی تھیں. کمراٹ کی یہ آوازیں میں نے دل کی آواز سے سنی تھیں اور انکی آوازوں پر لبیک کہا تھا.

    ہمیشہ کی طرح میری والدہ ماجدہ کی اس بار بھی یہی کوشش تھی کہ مجھے ٹور پر جانے نہ دیا جائے اور کسی بہانے روک لیا جائے یہ جاننے کے باوجود کہ بات جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی ہو تو یہ لڑکی کہاں رکنے والی ہے.

    مگر اس بار کچھ الگ تھا کچھ ایسا جو اس سے قبل نہ کبھی ہوا تھا اس بار ملک بھر میں مسلسل بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب کو مدِنظر رکھتے ہوئے والد صاحب کا دل بھی گھبرا رہا تھا جنہوں نے کبھی مجھے "نہ” نہیں کی تھی.

    "نہ” تو خیر اس بار بھی نہیں کی تھی تاہم اتنا کہہ کر مجھے بھی پریشان کر دیا تھا کہ "میرا دل نہیں مان رہا حالات ٹھیک نہیں باقی آپ خود دیکھ لو جیسے دل چاہے-”

    پہلی بار والد صاحب کے لبوں سے ان کلمات نے سوچنے پر مجبور کر دیا اور میں جو جانے کا ارادہ ملتوی کرنے ہی والی تھی کہ معاً خبر ملی کہ ان علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری ہونے کی صورت میں لکھاریوں کی تنظیم "اپوا” نے ٹور کینسل کر دیا ہے..پوری ٹیم میں مایوسی سی پھیل گئ سب کو اب یہی امید تھی کہ یہ ٹور اب نہ جا سکے گا اگلے سال ہی روانہ ہوگا کیونکہ کمراٹ کے پہاڑ شائد فی الحال ہمیں استقبال کرنے کو راضی نہیں تھے مگر چند دن بعد وہاں سے حالات کے بہتر ہونے کی خبریں موصول ہونا شروع ہوگئیں اور "اپوا” کے بانی ہمارے لیڈر ایم ایم علی بھائی نے اعلان کر دیا کہ ٹور اگلے ہفتے روانہ ہوگا سابقہ شیڈول کے مطابق.

    ایک بار پھر سے مرجھائے چہروں اور مردہ دلوں میں نئ روح پھونک دی گئ تھی اور سب ایک بار پھر ایک نئے جوش اور ولولے سے جانے کی بھرپور تیاری کرنے لگے تھے.

    میں جو کبھی کسی ٹور سے بھاگی نہ تھی ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی اس بار دل کو کچھ گھبراہٹ سی تھی اسکی وجہ یقیناً یہی تھی کہ اس بار میری بڑی بہنا میرا جگر گوشہ میرے ساتھ کچھ مصروفیت کی بنا پر جا نہیں پا رہا تھا…میرے ہر سفر میں میرا ہم راہی میرا ساتھی میرا رفیق میرا دوست میری بہن فضہ زاہد رہی ہے جو اس بار ساتھ نہ تھی تو اداسی ہر طرف سے حملہ آور تھی اور دوسری طرف میری عزیز از جان سہیلیاں مہوش احسن اور قرۃ العین خالد کا ساتھ بھی میسر نہ ہونے کے باعث تنہائی کسی ناگ کی طرح ڈس رہی تھی.کیونکہ ہم تکون تقریباً ہر سفر میں ایک ساتھ رہے ہیں اور اس بار ان میں سے کسی کا نہ جانا بہت ہی دل سوز تھا.

    میں نے اپنے ان خدشات کا اظہار علی بھائی سے کیا تو انکے ساتھ ساتھ آپی حفصہ خالد اور آپی شانیہ چوہدری کے بھرپور حوصلہ دینے پر میں نے اپنے دل کو بہ مشکل قابو کیا اور جانے کے لیے نیم رضا مندی ظاہر کر دی تھی. تاہم دل میں برابر ایک عجیب سے گھبراہٹ طاری رہی.

    چونکہ اس بار میرا سفر کمراٹ جیسی دیو مالائی وادی کی جانب تھا لہذا اس بار میری تیاری بھی بھرپور تھی میں نے اپنے لیے نئے رنگ برنگے لباس خریدے تھے تاکہ وہاں کے سبزہ زاروں پر میں تتلیوں کی مانند اچھل کود کرتی ہوئی کمیرے میں اتاری تصایر میں کسی شہزادی سے کم نہ لگوں. اور یہ تیاری میری دوسری خواتین کی مانند ہی کئ روز چلتی رہی تھی.

    بلاآخر نو ستمبر جمعرات کی رات کو ہم دس ممبرز پر مشتمل لکھاریوں کی ٹیم جن میں پانچ مرد اور پانچ ہی خواتین تھیں نے اپنی اپنی رہائش گاہ سے احمد ٹریولرز لاہور کی جانب پیش قدمی کی.کمراٹ پہلے ہم سب اپنی گاڑی پر جانا چاہتے تھے تاکہ جہاں دل کرے گاڑی روک کر تازہ دم ہو لیا جائے مگر یوں اخراجات زیادہ آرہے تھے چنانچہ طے یہی پایا کہ لاہور سے دھیر تک لوکل جایا جائے جو مناسب اور سستا بھی تھا.

    ہم سب احمد ٹریولرز کس طرح پہنچے یہ ایک الگ کہانی ہے تاہم میرے ساتھ صحافی توقیر کھرل اور شاعرہ شانیہ چوہدری تھیں چونکہ رات کا وقت تھا اور ہماری گاڑی کہاں سے روانہ ہونی تھی اس بارے ہم میں سے کسی کو صحیح طور سے معلوم نہ تھا اس لیے ہم تینوں نے ساتھ جانے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ ہم تینوں کا روٹ ایک ہی تھا.ہم شانیہ آپی کے کزن کی گاڑی پر جسکو وہ ڈرائیو کر رہا تھا گوگل میپ پر اس لوکیشن کو فالو کرتے جاتے تھے جو علی بھائی نے شئیر کر رکھی تھی اللہ اللہ کر کے جب ہم لاہور کی طویل اور کوفت میں مبتلا کر دینے والی ٹریفک کو روند کر اپنی منزل پر پہنچے تو وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہماری گاڑی جو کہ آٹھ بجے کی تھی جاچکی ہے اور ہم سب ساڑھے آٹھ بجے پہنچ پائے تھے اور اب اگلی گاڑی رات بارہ بجے ہی روانہ ہوگی.

    یہ سن کر ہم سب کے دل ڈوبنے لگے تھے بعداذاں معلوم پڑا کہ یہ محض علی بھائی کا ہم سے ایک مذاق تھا تاکہ ہم سب وقت پر پہنچ جائیں کیونکہ گاڑی نو بجے کی تھی جو روانہ ہونے کے لیے تیار کھڑی تھی.اس خبر سے سب کی سانس میں سانس آئی تھی اور سب یکدم سے ہلکے پھلکے ہوگئے تھے.
    چند لمحوں میں سارا سامان بس پر لاد دیا گیا تھا اور ہماری گاڑی ٹھیک رات کے نو بجے لاہور سے دھیر کی جانب عازمِ سفر ہوچکی تھی.
    یہاں پر اپنی ٹیم کا تعارف کروا دینا ضروری سمجھتی ہوں.

    صحافی توقیر کھرل پہلی بار اپوا ٹیم کے ساتھ سفر کر رہے تھے جو آن لائن وڈیو گرافک ڈیزائنر عبداللہ ملک کے ساتھ براجمان تھے.عبداللہ بھائی اس سے پہلے بھی ہمارے ساتھ کلر کہار, نیلا واہن اور کھیوڑہ مائنز کا سفر کر چکے تھے.

    چیف آرگنائزر آپی ثنا آغا خان بھی اس بار پہلی مرتبہ ہمارے ساتھ سفر میں شریک تھیں جو بہت ہی خوش اخلاق اور بہت زیادہ محبت اور خیال رکھنے والی انسان ہیں ان کو جاننے سے قبل انکے متعلق جو میرے خیالات تھے انکا ذکر آگے چل کر ہوگا.

    سینیئر نائب صدر آپی فاطمہ شیروانی نہایت نرم اور شفیق طبیعت کی مالک انسان جن کے بغیر ہمارا کوئی سفر کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکتا.آپ کی ایک کتاب "تیرے قرب کی خوشبو” بھی شائع ہوچکی ہے..یہ دونوں خواتین ایک ساتھ براجمان تھیں.

    میرے ساتھ کتاب "گردشِ ایام” کی شاعرہ آپی شانیہ چوہدری سیکرٹری کو آرڈنیشن اپوا دھیر تک براجمان تھیں جو بہت ہی محبت رکھنے والی فیاض دل انسان ہیں.

    صدر صاحب بھائی ایم ایم علی جو کہ کتاب "صدائے حق” کے مصنف ہیں, جوائنٹ سیکرٹری و مقرر حفصہ خالد کے ساتھ جبکہ سیکرٹری اطلاعات سفیان علی فاروقی نائب صدر محمد اسلم سیال کے ساتھ نششت رکھے ہوئے تھے.

    چونکہ رات کا سفر تھا لہذا پوری بس مدھم رشنیوں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی لیکن ہم دوست جب اکٹھے سفر پر ہوتے ہیں تو سفر میں مشکل سے ہی سو پاتے ہیں ہمارا زیادہ تر سفر ہنستے بولتے قہقے لگاتے جاگتے ہوئے گزرتا ہے ہم آنے والے لمحوں کے لیے اس قدر پرجوش ہوتے ہیں کہ نیند ہماری آنکھوں سے میلوں دور ہوتی ہے.خاص طور پر جب ہمارے ساتھ زندہ دل حفصہ خالد ہوں جن کے بنا ہمارا کوئی سفر نہیں ہوا کبھی اور محفلِ جاں علی بھائی ہوں تو سفر کا مزہ دو گناہ بڑھ جاتا ہے اس بار حس مزاح سے بھرپور سفیان علی بھائی بھی پہلی بار ہمارے ساتھ سفر میں موجود تھے جن کی شخصیت بظاہر تو سنجدیگی سے بھرپور ہے مگر وہ اس قدر پرمزاح اور اچھے انسان ہیں یہ سفر کےدوران معلوم ہوا.

    پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر میں نے زیادہ تر انہی لوگوں کے ساتھ کی ہے لہذا انکے ساتھ تجربہ ہمیشہ خوشکن اور خوشگوار رہا ہے مگر کمراٹ کا سفر سب سے زیادہ یادگار رہا ہے جسکی یادیں ہمیشہ میرے دل کے نہاں خانوں میں موجود رہیں گی.
    جو سفر میرا اس ٹیم کے بنا ہوا ہے وہ خاص خوش آئندہ کبھی نہیں رہا کیونکہ سفر میں ہم خیال دوست ساتھ ہوں تو سفر طویل اور بوجھ نہیں لگتا بلکہ سفر کا مزاہ دوبالا ہوجاتا ہے.

    ہمارا پہلا پڑاؤ تقریباً بیس بچیس منٹ کا رات ایک بجے پشاور موڑ پر ہوا جہاں تمام مسافر تازم دم ہونے کے لیے بس سے اتر آئے جن میں ہم بھی شامل تھے.اس موڑ پر موجود دکان سے اسلم بھائی نے ہم سب کو چائے پلائی جسکا ذائقہ آج بھی زبان پر محسوس ہوتا ہے اس سفر کی شروعات کی یہ پہلی چائے تھی جس کے بعد ایسی بہترین چائے دوبارہ پورا سفر پینا نصیب نہ ہوئی.
    (جاری ہے)

  • ایوبیہ نیشنل پارک میں برطانوی دور کی 130 سالہ پُرانی سرنگ  دریافت

    ایوبیہ نیشنل پارک میں برطانوی دور کی 130 سالہ پُرانی سرنگ دریافت

    ایوبیہ نیشنل پارک میں برطانوی دور کی 130 سالہ پُرانی سرنگ دریافت-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں برطانوی دور کی 2 وادیوں کو جوڑنے والی سرنگ جو پائپ لائن واک سے بالکل دور ایوبیہ نیشنل پارک میں کوڑے کے ڈھیر کے نیچے دریافت کی گئی ہے سرنگ کو وزارت موسمیاتی تبدیلی نے خوبصورتی سے بحال کیا ہے۔

    اس سرنگ کو کے پی ڈی فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے یو این ڈی پی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے اشتراک سے مرمت کیا ہے اس سرنگ کی دریافت نے بر طانوی دور میں بننے والے یہ خوبصورت اور سرسبز نیشل پارک کی خوبصورتی مین اور اضافہ کر دیا ہے-

    یہ ٹینل 1891 میں برطانوی دور میں ایوبیہ سے ڈونگا گلی اور مری کا سفر کم کرنے کے لئے بنائی گئی مگر لاپرواہی اور وقت کی گرد میں ایسی کھوئی کہ اس کا نام و نشان ہی کچرے میں دب گیا تھا-

    وہاں موجود ورکرز نے بتایا کہ جب پودوں کے لئے کھدائی کر رہے تھے تو ہمیں 1891 کا بورڈ ملا وہاں تک کوڑا بھرا ہوا تھا تو کوڑے کوہٹا یا گیا تو اس کے نیچے سے یہ اتنا خوبصورت اور تاریخی اور نیشنل ٹینل ملا –

    130 سالہ پُرانی بھاری پتھروں سے بنی اس سرنگ کی اپنی لمبائی تو صرف دو سو پچاس فٹ ہے لیکن اس نے ایوبیہ سے مری اور دونگا گلی کا راستہ کئی کلو میٹر کم کر دیا ہے کچرے میں سے 130 سالہ پُرانا راستہ تو دریافت کر لیا گیا-

    اس سرنگ کو عوام اور سیاحوں کے لئے بھی کھول دیا گیا ہے حال ہی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اس کا افتتاح کیا ہے-

    امین اسلم نے تقریب میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ملک میں ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لئے یہ ایک عظیم اقدام ہے۔

    انہوں نے تقریب میں تقریر کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ لوگ یہاں سیر یا ٹریکنگ کے لئے بھی آسکتے ہیں۔

  • جرمنی کے سفیر کو پشاور میں کونسا کھانا پسند آیا؟

    جرمنی کے سفیر کو پشاور میں کونسا کھانا پسند آیا؟

    جرمن سفیر برنارڈ اس وقت خیبر پختونخوا ( کے پی کے) کے شہر پشاور میں موجود ہیں اور وہاں کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے سوشل میڈیا پر بھی کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : جرمن سفیر برنارڈ پاکستان کی سیرو سیاحت میں مصروف ہیں اور پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے کر رہے ہیں اور اپنی تصاویر اور تاثرات سوشل میڈیا پر بھی شئیر کر رہے ہیں-

    جرمن سفیر نے حال ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی تصاویر شئیر کی جس میں وہ پشاور میں موجود ہیں اور وہاں کے کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں-


    جرمن سفیر نے اپنی کھانا کھاتے ہوئے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ میرے پشاور کے حالیہ دورے کا سب سے دلچسپ تجربہ وہاں کے چپلی کباب سے لطف اٹھانے کا تھا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ یہ کباب نہایت ہی مزیدار ہیں! اب میں پوری طرح سے سمجھ سکتا ہوں کہ یہ ڈش اتنی مشہور کیوں ہے.

    واضح رہے کہ اس سے قبل جرمن سفیر نے اسلام آباد سے کراچی تک کا 26 گھنٹے کا سفر بذریعہ ٹرین کیا تھا اور اپنے سفر کی ویڈیو ٹوئٹر پر بھی شئیر کی تھی اور لکھا تھا کہ انہیں ٹرین کی سواری بہت پسند ہے اور کسی ملک کو دریافت کرنے کا یہ عمدہ طریقہ ہے-

    سفر کے دوران وہ ایک اسٹیشن پر رُکے اور انہوں نے راستے میں ٹھیلے سے خریداری بھی کی اور وہاں سے بریانی بھی کھائی تھی-

  • ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کے لیے بری خبر،

    ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کے لیے بری خبر،

    عید پر ملکہ کوہسار مری جانے والے سیاحوں کیلئے بری خبر۔ عید تعطیلات کے دوران مری میں سیاحتی مقامات اور ہوٹل بند رہیں گے۔
    ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کا کہنا ہے کہ پابندی کا فیصلہ‌ تفریحی مقامات پر غیر معمولی رش سے کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔ مری کے راستے میں پولیس چیک پوسٹیں قائم ہیں۔ شہری سیر کی غرض سے مری کا رخ نہ کریں۔ مقامی شہری قومی شناختی کارڈ دکھا کر مری میں داخل ہوسکیں گے۔

  • اسمٰعیل شاہ وفات پا گئے

    کوئٹہ :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے تو پھر ایسے ہی ہوا ہے ،مورخین کے مطابق پاکستان کے مشہوربلوچی اداکاراسمٰعیل شاہ 29 اکتوبر 1992ء کو کوئٹہ میں وفات پاگئے۔اسماعیل شاہ 22 مئی 1962ء کو پشین کے قریب ایک قصبے کلی کربلا میں پیدا ہوئے تھے۔

    مصنوعی کیلشئیم ۔ خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ

    1975ء میں انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کوئٹہ مرکز کے بلوچی ڈراموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا اردو ڈرامہ ’’ریگ بان‘‘ اور پہلا ڈرامہ سیریل ’’شاہین‘‘ تھا جن میں ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔ اسماعیل شاہ کی پہلی فلم ’’سونے کی تلاش‘‘ تھی تاہم باعتبار نمائش ان کی پہلی فلم ’’باغی قیدی‘‘ تھی جو 17 اگست 1986ء کو ریلیز ہوئی۔

    طوفانی بارشوں سے تباہی،7 افراد ہلاک

    اسماعیل شاہ نے مجموعی طور پر 70 فلموں میں کام کیا جن میں 19 فلمیں اردو میں، 25 فلمیں پنجابی میں ، 6 فلمیں پشتو میں اور 20 فلمیں ڈبل ورژن تھیں۔ ان کی مشہور فلموں میں لو اِن نیپال، لیڈی اسمگلر، باغی قیدی، جوشیلا دشمن، منیلا کے جانباز، کرائے کے قاتل اور وطن کے رکھوالے کے نام شامل ہیں۔

    فرانس: مسجد کے باہر فائرنگ سے 2 افراد زخمی

  • لندن میں تخیلاتی تصاویر کی نمائش جاری

    لندن میں تخیلاتی تصاویر کی نمائش جاری

    برطانوی دارلحکومت لندن میں "فریز لندن” کے نام سے ایک نمائش جاری ہے جس میں پوری دنیا کی 160 ارٹ گیلریوں کے فن پارے مرکز نگاہ بنے ہوئے ہیں ، ان فن پاروں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر فن پارہ اپنے اندر ایک مختلف کہانی کو سموئے ہوئے ہے ،

  • دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟

    دنیا کا بلند ترین ریلوے ٹریک کس ملک میں واقع ہے ؟

    دنیا عجائبات کا مظہر ہے ، یہاں ہر روز ایسے ایسے عجائبات رونما ہو رہے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے، اور اگر بات پاکستان کے پڑوس ملک چائنہ کی ہو جائے تو وہاں عجائبات اس قدر زیادہ پائے جاتے ہیں کہ چینی لوگ عجائبات کے عادی ہو گئے ہیں، اج ہم جس چینی عجوبے کی بات کریں گے وہ چائنہ کے صوبے تبت میں ببنے والا ریلوے ٹریک ہے ، اس ریلوے ٹریک کانام کنگ زینگ ریلوے ٹریک ہے ، یہ دنیا کا سب سے بلند ترین مقا م پر پایا جانے والا ریلوے ٹریک ہے،
    اس ریلوے ٹریک کی کل لمبائی 1956 کلومیٹر ہے ، 1985 میں چینی حکومت نے اسے مکمل کیا ، اس کی تعمیر پر کل لاگت 4.2 ارب ڈالر آئی ، یہ ریلوے ٹریک دنیا کے بلند ترین مقام پر پائی جانے والی تازہ پانی ندی کے اوپر سے بھی گزرتا ہے ،
    اس ریلوے ٹریک کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے یہ تبت کے ایسےعلاقے میں بنا ہے جو کہ موسم کی شدت ، زلزلوں اور لینڈ سلائدنگ کیلئے مشہور جانا جاتا ہے ،
    ایک چینی سیاح نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس ریلوے ٹریک پر چلتی ٹرین کی ویڈیو کو شئیر بھی کیا ہے
    https://twitter.com/evazhengll/status/1175397964623360002?s=08

  • عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں  تحریر: فہد شیروانی

    عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں تحریر: فہد شیروانی

    پاکستانی فلم انڈسٹری پر عرصے سے طاری جمود آہستہ آہستہ ٹوٹتا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ریلیز ہونے والی فلمز نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت طویل عرصے کے بعد اس عیدالاضحی پر کئی پاکستانی فلمز نمائش کے لئے سینماز میں پیش کی جارہی ہیں۔ ان میں سے کئی فلمز میں پاکستانی نامور فلمسٹار اپنی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ فلمز پاکستانی فلم انڈسٹری کو مزید پروان چڑھانے میں اپنا کردار بخوبی ادا کریں گی۔

    سپر سٹار:
    پاکستان فلم انڈسٹری کی سب سے بڑی سپر سٹار ماہرہ خان کی ڈرامہ فلم "سپر سٹار” 12 اگست کو عید کے دن ہم فلمز کے بینر تلے شائقین فلم کے لئے سینماز میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔ پروڈیوسر مومنہ درید کی پروڈکشن میں بننے والی فلم کے مرکزی کرداروں میں ماہرہ خان، بلال اشرف، ندیم بیگ، جاوید شیخ، مرینہ خان، اسماء عباس، علیزے شاہ اور علی کاظمی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ عدنان شاہ ٹیپو، کبری خان، ہانیہ عامر، عثمان خالد بٹ، مانی، سائرہ شہروز، فہیم برنی اور وہاج علی نے فلم میں مہمان اداکار کا کردار ادا کیا ہے۔ ٹیلنٹڈ محمد احتشام الدین نے فلم کی ڈائریکشن کے فرائض سرانجام دئیے ہیں۔ علی اور مصطفی آفریدی کے قلم سے نکلے خوبصورت الفاظ نے اس فلم کی انفرادیت میں بھرپور اضافہ کیا ہے۔ "سپر سٹار” کا سکرین پلے اور میوزک اذان سمیع خان کی تخلیق ہے۔ "سپر سٹار” کا ٹریلر عنقریب ریلیز ہونے والی فلمز میں سب پر سبقت لے چکا ہے اور شائقین فلم کے ریلیز ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

    پرے ہٹ لو:
    پروڈیوسر شہریار منور اور عاصم رضا کی 12 اگست کو ریلیز ہونے والی فلم ” پرے ہٹ لو” میں پاکستان کے مایا ناز ڈائریکٹر عاصم رضا نے ہدایتکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ ARY فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی اس فلم میں نمایاں کردار ہر دلعزیز حنا دلپذیر، شہریار منور، مایا علی، ندیم بیگ، احمد علی بٹ اور فریحہ الطاف نے ادا کئے ہیں۔ عمران اسلم نے اس فلم کر تحریر کیا ہے جبکہ فلم کا میوزک اذان سمیع خان نے ترتیب دیا ہے۔ خوبصورت لوکیشنز پر فلمائی گئی اس فلم کے ٹریلر نے ابھی سے شائقین فلم کے دل موہ لئے ہیں ۔

    ہیر مان جا:
    اظفر جعفری کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم "ہیر مان جا” عیدالاضحی پر سینما گھروں کی زینت بننے جارہی ہے۔ جیو فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی اس رومانٹک کامیڈی فلم میں پاکستان کی حسین اداکارہ حریم فاروق، آمنہ شیخ، علی رحمان، سلیم معراج، عابد علی، اور فیضان شیخ نمایاں کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے۔ فلم کو امان الحقی، عمران رضا کاظمی، حریم فاروق اور عارف لاکھانی نے پروڈیوس کیا ہے۔ اویس بلوچ کی عمدہ تحریر اور جملوں پر مشتمل "ہیر مان جا” کا ٹریلر اس وقت عوام کی بھرپور توجہ کا باعث بنا ہوا ہے۔

    پاکستان کی فلم انڈسڑی اور شائقین کی امیدیں ان فلموں سے وابستہ ہو چکی ہیں۔امید کی جارہی ہے کہ یہ فلمز شائقین فلمز کو دوبارہ سینما ہالز کا رخ کرنے پر مجبور کر دیں گی۔

  • آئیے آپ کو روسی شہر کازان لے چلیں جس کی خوبصورتی کے ہرجگہ چرچے ہیں.

    آئیے آپ کو روسی شہر کازان لے چلیں جس کی خوبصورتی کے ہرجگہ چرچے ہیں.

    کازان:روس جو کی قدرتی خوبصورت مناظر کے حوالے سے بہت مشہور ہے .اس کے بعض شہروں کی خوبصورتی کے چرچے تو اب دنیا میں ہر جگہ ہورہے ہیں. ان میں‌روس کا شہر کازان شامل ہے .شہر کازان روس میں شامل صوبہ تاتارستان کا مرکزی شہر ہے۔ یہ روس کا پانچواں بڑا شہر ہے اس کی آبادی 12 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ ملک کا اہم معاشی، مذہبی، سیاسی، علمی اور ثقافتی مرکز ہے۔

    روسی مورخین کے مطابق یہ شہر سن 1005 میں والگا ندی کے کنارے قائم کیا گیا۔ 13ویں اور 14ویں صدی میں کازان طلائی اردو کا اہم شہر تھا۔ سن 1438 میں کازان نئی تشکیل شدہ کازان خانیت کا مرکزی شہر بن گیا۔ سن 1552 میں روسی فوج نے کازان خانیت پر فتح حاصل کر لیا اور یہ روس کی ریاست میں شامل ہو گیا۔ اس کے بعد شہر میں کریملن کی تعمیر ہوئی جو اس وقت یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ شہر میں مشین سازی، کمیائی تیل اور گیس کی صنعت، کپڑے اور کھانوں کے کارخانے موجود ہیں۔

  • پلانک ورزش کے جادوئی اثرات

    پلانک ورزش کے جادوئی اثرات

    پلانک ایک جادوئی ورزش ہے جس کے اثرات انسانی جسم پر بہت زیادہ ہے یعنی کم وقت میں اپنا اثر دکھاتی ہے

    تفصیلات کے مطابق شروع سے سنتے آئے ہیں کہ ورزش نہایت اہم ہے اور یہ صحت کے لیے لازم ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے . اگر آپ اپنی مصروف ترین مصروفیت میں سے 20 سے 30 منٹ بھی ورزش کر لیں تو آپ میں لازمی واضح مثبت اثر پڑے گا.

    پلانک ایک ایسی ورزش کا نام ہے جس کو اپنی روٹین میں شامل کر لیں تو آپ پر اس کا بہت جلدی اور مثبت اثر آتا ہے، دفاتر میں 8 سے 10 گھنٹے بیٹھنے والوں کے لیے یہ ایک جادوئی ورزش ہے، پلانک کے بے حد فوائد ہیں جن میں کمر کے درد کا ختم ہو جانا، کمر کے پٹھوں کا مضبوط ہونا، پیٹ سمیت اضافی وزن کے کم ہونے کے ساتھ ساتھ برداشت بھی پیدا ہوتی ہے۔

    پلانک ایک محنت طلب ورزش ہے جس کے بہترین نتائج آپ کو دنوں میں ملتے ہیں، اسی لیے اسے چیلنج سمجھ کی بھی کیا جاتا ہے، پلانک نہ صرف آپ کے پیٹ کو دنوں میں کم کرتا ہے بلکہ ساتھ ہی سارے جسم کو بے ڈھنگی شکل سے ایک مناسب شکل بھی دیتا ہے، پلانک کمر کے درد کے لیے موزوں ورزش ہے۔

    دفتر کے کام کاج بالخصوص صرف ایک جگہ ہی بیٹھ کر کام کرنے والے فرصت ملتے ہی خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ، ایسے لوگوں کا پلانک کو انجام دینے سے موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے اور دماغی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے جس سے انسان خود کو چوکنا، خوش اور ہلکا محسوس کرنے لگتا ہے