Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • ‏عشق مجازی اور انسانی درندے  .تحریر: محمد صابر مسعود

    ‏عشق مجازی اور انسانی درندے .تحریر: محمد صابر مسعود

    سوشانت اپنی حوس کی وجہ سے پاگل ہوچکا تھا قریب تھا کہ وہ بیہوش ہو جاتا اس نے دن کے تین بجے اپنی گرل فرینڈ (پریتی) کو کال کی، پریتی اکل و شرب سے فراغت کے بعد محو خواب ہو چکی تھی اسی اثناء میں موبائل کی رنگ بجی اور ڈرتے ہوئے موبائل کی جانب قدم رنجاں ہوئی ابھی تو ڈر کی وجہ سے کلیجہ منھ کو آ رہا تھا لیکن موبائل اسکرین پر نام دیکھ کر خوشی کی انتہا نا رہی (کیونکہ یہ کال پریتی کے لئے کسی عام شخص کی نہیں تھی بلکہ یہ اسکے دل کا ٹکڑا تھا) اور اسکرین کو اسکرول کرتے ہوئے فون اٹھایا، دوسری جانب سے حوس سے بھری آواز آئی (جسے یہ نادان لڑکی محبت کی انتہا سمجھ رہی تھی) جانی! لو یو ناں یار، کیا کر رہی ہو؟ اور ہاں کہاں ہو؟ یار تمھارے بغیر دل نہیں لگ رہا، تم سے ملنے کے لئے دل پرکٹے پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہا ہے اسلئے پلیز گھر آجاؤ یار۔ پریتی فرط محبت میں کچھ یوں گویا ہوئی۔ ٹو یو سو مچ میری جان، یار میں گھر پے ہوں، تھک کر سوگئ تھی لیکن تمھاری کال دیکھ کر نیندیں بالکل غبارے کی طرح اڑ گئ۔ اور ہاں تم سے ملنے کے لئے میں بھی بیقرار تھی لیکن دروازے سے گیٹ کیپر کی موجودگی میں کیسے آؤں؟ کیونکہ معلوم ہونے کی صورت میں والدین گھر سے باہر نکال دینگے۔
    سوشانت! ارے یار میں ہوں ناں، اگر انہوں نے معلوم ہونے کی صورت میں تمہیں گھر سے نکلنے پر مجبور کر بھی دیا تو میں تمھیں شہزادیوں کی طرح رکھونگا، ہر چیز کا خیال رکھونگا۔
    پریتی کا یہ سننا تھا کہ وہ چیخ کر بولی” آئی لو یو میری جان (کیونکہ ایک لڑکی کو پیار و محبت اور کئیر ہی کی ضرورت ہوتی ہے) کہا کہ میں تمھاری بانہوں میں کچھ وقت بتانے کے لئے آ رہی ہوں، ایک بیگ لیکر گیٹ کیپر سے چھپ چھاتے ہوئے سوشانت کی اور نکل پڑی جسمیں موبائل و پیسے موجود تھے۔ ایک آٹو والے کو آواز دیتے ہوئے کہا۔ بھیا ھدھد پور چلو گے؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ جی ہاں، کیوں نہیں
    پریتی اپنی بڑی بڑی آنکھوں، بڑے بڑے بالوں، رخساروں و ہونٹوں پر میک اپ اور عمدہ قد و قامت کی وجہ سے ہر دیکھنے والے کو مسحور کر رہی تھی تا آنکہ وہ سوشانت کے ایک بڑے سے مکان کے پاس جا پہنچی اور پر کشش آواز میں ندا لگائی۔ جانی! آپ کی جان آ چکی ہے دروازہ کھولو۔۔

    سوشانت جسکا رنگ سانولا، گھنگریالے بال اور لمبے تڑنگے قد کا مالک تھا، نشے سے دھت، دروازہ کھولا اور پریتی کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا، کچھ کھاؤ گی؟ پریتی نے انکار کرتے ہوئے کہا سوشانت بس مجھے تمھارا ساتھ چاہئے یہی میرے لئے سب کچھ ہے، سوشانت نے سگریٹ جلا کر ایک زور دار کش لگائی، دروازے پر کنڈی لگاتے ہوئے حوس بھری نگاہوں سے پریتی کی طرف بڑھا، برہنہ کرکے بانہوں میں لیکر اسے بیڈ پر ڈال دیا اور پریتی سوشانت کی محبت میں خود کو اس کے حوالے کرتے ہوئے ایک سرینڈر کرنے والے فوجی کی طرح پیروں کو دراز کرتے ہوئے لیٹ گئی، سوشانت نے پاس پڑے موبائل کا کیمرہ چالو کرکے پریتی کی طرف کردیا، پریتی کیمرہ دیکھ کر ہکی بکی رہ گئ کیونکہ کبھی اس نے کسی سے اپنی تصویر تک کلک نہیں کرائی تھی اور آج اسکی سیکسی ویڈیو بنائی جا رہی تھی اسلئے اس نے بڑے ہی درد بھرے لہجے میں کہا جانو پلیز کیمرہ بند کردو نا ۔ سوشانت نے کہا نہیں تمہارا چہرہ نہیں آئے گا ”
    میں اپنی ماں کی قسم کھاتا ہوں ۔۔خود ہی دیکھوں گا یہ وڈیو پھر ڈیلیٹ کردوں گا کیونکہ اکیلے میں مجھے تمھاری بہت یاد آتی ہے۔ نہیں پلیزززز ” ہاتھ ہٹاؤ نا جان ”
    ” نہیں ” سوشانت نے بڑے ہی مان کے انداز میں کہا: اچھا میری قسم ہے تمہیں ہاتھ ہٹاؤ وڈیو بنانے دو
    ” اپنی قسمیں مت دیا کرو مجھے بہت برا لگتا ہے”
    قسم دینا پڑجاتی ہے تم بھی تو بھروسہ نہیں کرتی میں نے بھلا کس کو دکھانی ہے۔۔۔ڈیلیٹ کردوں گا
    "بھروسہ کرتی ہوں تبھی تو خود کو تمھارے حوالے کردیا ہے ”
    ” تو پھر بنانے دو نا "!
    ” تم باز نہیں آؤ گے۔۔۔۔۔ اچھا بنا لو ” !! لو یو ”
    بہت محبت کرتی ہوں تم سے، میرا مان مت توڑنا اور ہاں چاہتی ہوں ہیر رانجھا کی طرح ہماری محبت کی بھی کہانیاں سنائی جائیں ”
    "سوشانت نے پھیکے سے لہجے میں کہا ہمممم۔۔۔۔۔ لو یو ٹُو ”
    کٹی پتنگ کی طرح جھولتی ہوئی گھر پہنچی اور کمرے میں آ کر سوگئی ۔۔۔۔
    ” وہ عام سے گھر کی گمنام لڑکی تھی ”
    مگر جب اسکی آنکھ کُھلی تو وہ اور اسکی محبت مشہور ہوچکی تھی ” ..
    پھر کیا ہوا لڑکا سرعام دندناتا پھر رہا ہے …
    اس لڑکی کا کیا بنا … والدین اور شہر والوں کی نظر میں وہ طائفہ بن چکی تھی، یہ درد سہنا اسکے لئے بہت مشکل تھا کیونکہ کل تک اسکی بہت عزت تھی، ٹینشن میں بہت بڑی بیماری کا شکار بن چکی تھی بالآخر اس دار فانی سے دار بقا کی طرف لوٹ گئی کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ لڑکی کا گلہ کاٹ کے اس کو کسی کے بھی سامنے لائے بغیر والدین راکھ کر چکے ہیں اسی طرح ایک ہیر رانجھے کی کہانی اختتام ہوئی ۔۔

    نتیجہ ! نہیں نہیں میری بہنو میں آپ سے ہاتھ جوڑ کے درخواست کرتا ہوں ایسا ہر گز نا کرنا یہ آپ کی زندگی سے کھیلنے والے درندے ہیں جو آپ کو محبت کے نام پر کھلونا بنا کر استعمال کرتے ہیں، جب آپ سے من بھر جاتا ہے تو ٹشو پیپر کی طرح پھینک کر راستہ الگ کرلیتے ہیں لیکن اس وقت تک آپ سب کی نظر میں نہیں تو کم از کم اپنی نظر میں طائفہ بن چکی ہوتی ہو اور وہ بیغرت کھلے سانڈ کی طرح کسی دوسری کی تلاش میں ہوتا ہے یا پھر غیر ملک مزے لے رہا ہوتا ہے .اور آخر میں رہ جاتے ہیں آپ کے ماں باپ اور بھائی وہ تو جیتے جی ہر روز بیچارے شرم سے مر رہے ہوتے ہیں، بس زندہ لاش بنے ہوتے ہیں اسلئے اپنی، والدین کی اور رشتہ داروں کی عزت کا خود خیال کریں

    تحریر ہر بہن تک پہنچا دیں تاکہ کوئی بھی بہن کسی درندے کے ہاتھ نہ لگ جائے۔۔۔

  • قدرت کا اک حسین تحفہ "رتی گلی جھیل” از محمد عبداللہ

    قدرت کا اک حسین تحفہ "رتی گلی جھیل” از محمد عبداللہ

    آزاد جموں و کشمیر کےخوبصورت ترین مقامات میں سے ایک مقام "رتی گلی جھیل”.
    ضلع نیلم میں واقع یہ خوبصورت مقام دواڑیاں سے 16 کلومیٹر بلندی پر واقع ہے. دواڑیاں تک اپنی گاڑی پر بھی جاسکتے اور لوکل بھی جاسکتے. دواڑیاں سے رتی گلی بیس کیمپ تک آپ کو جیپیں میسر آتی ہیں.
    ویسے دواڑیاں سے رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک کا راستہ بذات خود بہت ہی دلکش راستہ ہے جو ایک تند و تیز پہاڑی نالے کے ساتھ ساتھ بلندی کی طرف چڑھتا ہے. اگر آپ کے پاس وقت ہو اور ہمت بھی ہو تو آپ دواڑیاں میں رات بسر کرنے کے بعد صبح سویرے پیدل سفر کا آغاز کریں اور نالے کے کنارے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے شام تک رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ تک پہنچیں.
    رتی گلی جھیل کے بیس کیمپ پر اگر آپ رات گزارنا چاہیں تو وہاں خیمہ جات موجود ہیں جو مناسب کرائے میں آپ کی رات گزارنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں. رتی گکی سے علی الصبح آپ جھیل کی طرف چڑھنا شروع کریں آدھے راستے میں گلیشیئرز کے درمیان ایک چھوٹی جھیل آتی ہے. آپ اس کے کنارے سے ہوکر بلندی کی طرف سفر جاری رکھتے ہیں.
    یہاں پر فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں اور ان کے دامن میں موجود چراگاہیں آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواتی ہیں اور یہاں پر اکثر سیاِح غلطی کرتے ہیں جو ہم نے بھی کہ جگہ جگہ رک کر تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور جب بندہ پہاڑ کی چوٹی پر جیسے ہی پہنچتا تو سامنے کا منظر اتنا دلفریب ہوتا کہ کچھ لمحات تک تو بندہ مبہوت ہوکر رہ جاتا وہ منظر دیکھ کت بندہ سوچتا کہ یار نیچے جگہ جگہ کر تو وقت ضائع کیا. بیس کیمپ سے جھیل تک لے جانے کے لیے خچر اور گھوڑے بھی بیس کیمپ پر موجود ہیں.
    جیسے ہی آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہیں تو سامنے گلشیئر ، اس عقب میں گلشیئرز سے ہی ڈھکی جھیل اور جھیل کے عقب میں تین اطراف سے جھیل کو گھیرے میں لیے ہوئے دیو ہیبت کالی کھڑی چٹانیں آپ کے سامنے موجود ہوتے ہیں.یہ منظر اتنا دلفریب اور حسین ہے کہ آپ کی زبان بےساختہ پکار اٹھتی ہے "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ”.
    جون کے اواخر میں اس جھیل کا راستہ کھلتا ہے اور اگلی برفباری تک یہ راستہ کھلا رہتا ہے. جھیل تک قدرے مشکل ٹریک اور گلیشیئرز کی وجہ سے کم لوگ اس جھیل تک جاتے ہیں تو اس وجہ سے جھیل کی قدرتی خوبصورتی صاف ستھری حالت میں آپ کے سامنے موجود ہوتی ہے. البتہ دوست احباب کے ساتھ جانے والے انسان خالی بوتلیں اور ریپرز وغیرہ وہاں پھینک ہی آتے ہیں جو کہ ایک نامناسب عمل ہے. اگر سبھی ٹورسٹس تھوڑی سی کوشش کریں اور خالی بوتلوں اور ریپرز وغیرہ کو ڈال کر نیچے لے آیا کریں تو ان قدرتی مناظر کی قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے.

    محمد عبداللہ

  • ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ڈرامہ انڈسٹری بمقابلہ پاکستانی کلچر.تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    کسی دور میں پاکستان فلم انڈسٹری بھارت سے مقابلہ کرتی تھی وحید مراد سنتوش کمار محمد علی ندیم جیسے اداکار ناصر پاکستان بلکہ برصغیر میں شہرت رکھتے تھے فلم انڈسٹری کے زوال کے بعد ناظرین کیلئے تفریح کا ذریعہ صرف ٹیلی ویژن رہ گیا ۔ ناظرین کی بڑی تعداد 8 بجے آنے والے ڈرامے شوق سے دیکھتی اور اکثر ڈرامہ سیریل مقبولیت کے ریکارڈ بھی قائم کرتے الفا براوو چارلی، بندھن، عینک والا جن، گیسٹ ہائوس اور آغوش غرض ھر عمر کے ڈرامے عوام میں پسند کئے جاتے سڑکیں ویران ھوجاتی۔ عمدہ اداکاری بہترین پروڈکشن اور بہت سبق آموز کہانیاں اداکار اتنے ڈوب کر اداکاری کرتے تھے کہ ان کا اصل نام ہی بھول جاتا تھا اور صرف کردار ذہنوں پر نقش ہو جاتے ۔ تاہم 2010ء کے بعد تو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری بدل کر رہ گئی۔

    معیاری کہانیوں کی جگہ ساس بہو کے جھگڑے طلاقوں گھریلو جھگڑوں نے لے لی اگرچہ کئی اچھے ڈرامے بھی پیش کے گئے تاہم زیادہ تر اوسط درجے کے ڈرامہ سیریل چھوٹی سکرین کا حصہ بنے۔ یہ زیادہ تر ڈرامہ سیریل نجی چینلز پر نشر ہوئے اور کچھ سرکاری ٹی وی کا بھی حصہ بنے۔ ماسوائے چند ڈرامے جیسے ڈرامہ ‘داستان‘ جوکہ 1947ء کی ہجرت کے تناظر میں عکسبند کیا گیا اور رضیہ بٹ کے ناول ‘بانو‘ سے ماخوذ تھا اس کے بعد ‘میری ذات ذرۂ بے نشان‘ نے شہرت کے ریکارڈ قائم کیے ‘درِ شہوار‘ بھی ایک بہترین ڈرامہ تھا اور اسکے علاوہ ‘ھم سفر ‘ ‘زندگی گلزار ہے‘ جیسے انگلی پر گنے جانے والے ڈرامے جن میں کوئی سبق ہویا وہ معاشرے کی حقیقت کے قریب ہوں وہ پیش ھوئے اور انھوں نے ریکارڈ مقبولیت حاصل کی۔ ایسے ڈرامے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے کوئی سبق مل سکے۔ ”سرخ چاندی‘‘ تیزاب گردی پر بنایا گیا ڈرامہ تھا جس نے ناظرین کو ہلا کر رکھ دیا۔

    ان چند سالوں میں پڑوسی ملک کے کلچر کو یہاں یوں فروغ دیا گیا جیسے ثواب کا کام ھو مگر افسسس لوطن کی محبت اور قومی ہیروز پر ڈرامے نا ھونے کے برابر بنائے گئے ڈرامہ نا صرف کردار سازی ذہن سازی میں کردار ادا کرتا بلکہ ملک کا کلچر بھی دنیا کو دکھانے کا ذریعہ بنتا یہ بات غور طلب ہے کہ سنہرے دن اور الفا براوو چارلی کے دو دہائیوں بعد عہدِ وفا بنایا گیا یہ بھی امر قابلِ غور ہے کہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ پر حالیہ سالوں میں کوئی ڈرامہ سیریل نہیں بنا۔ ۔ ہمارے نجی چینلز ساس بہو کے جھگڑوں سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ زیادہ تر ڈراموں میں دو شادیوں‘ متعدد افیئرز اور ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

    دوسری طرف بھارت ہمارے مسلمان ہیروز کے کرداروں کو مسخ کر رہا ‘ ایک فلم پدماوت میں علائو الدین خلجی کے کردار کو یکسر متضاد پیش کیا گیا ہے جبکہ ‘پانی پت‘ فلم میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کیا گیا۔ اس کے ساتھ آن لائن ویب سٹریم پر بھی بھارت کی اجاہ داری ہے‘ ہر دوسرا سیزن پاکستان کے خلاف بن رہا ہے جبکہ پاکستانی ہدایتکار کشمیر، بلوچستان، ایل او سی، سیاچن، سرحدی امور، ملکی حالات، فوجی اور سویلینز شہدا کی قربانیوں سے نظر چرا کر ٹی وی پر معاشقے کروانے میں مصروف ہیں، عورتیں پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہیں، نندیں بھابھیوں کے گھر تباہ کر رہی ہیں اور گھروں میں ایک

    خدارا پاکستانیوں پر رحم کریں‘ تحریک پاکستان، 1965، 1971، کارگل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضربِ عضب، رد الفساد جیسے آپریشنز ان پر ڈرامے بنایئں وہ ہیں ہمارے اصل ہیرو‘ ان پر ڈرامے اور فلمز بنانی چاہئیں۔ اس کے علاوہ غازیوں، پولیس کے ہیروز اور سویلینز کی قربانیوں کو اجاگر کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ آج کی نسل کو پتا ہو کہ ان کے اصل ہیرو کون ہیں ورنہ تیاری پکڑیں کچھ عرصے بعد ڈرامہ انڈسٹری کا بھی ویسا ہی حال ہو گا‘ جو فلم انڈسٹری کا ہو چکا۔

  • لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    لاہور کے مسائل۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پطرس بخاری نے اپنے مضمون "لاہور کا جغرافیہ” میں لکھا کہ:
    ” کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدوداربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلبہ کی سہولت کے ليے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہورہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہوگا۔ جس کادارالخلافہ پنجاب ہوگا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہورہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔ “

    بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتا ہوا رقبہ ایک ایسی کینسر نما بیماری ہے جو شہر لاہور کو لاحق ہو گئی ہے۔ جس سے نہ صرف لاہور کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے بلکہ بُہت سارے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اِسکی کچھ رونقیں کھو سی گئی ہیں۔

    اگرچہ بُہت سارے مسائل ہیں جو لاہور کو لاحق ہیں لیکن چند چیدہ چیدہ مسائل مسائل میں درختوں کی کٹائی، ماحولیاتی تغیر، زیرِ زمین پانی کی کمی، وینس کی جھلک، ٹرانسپورٹ کی کمی، زرعی زمینوں کا کم ہونا، صحت اور تعلیم کی نا کافی سہولیات، اور معدوم ہوتے تہوار وغیرہ شامل ہیں۔
    گزشتہ حکومتوں کے بر عکس اگرچہ موجودہ حکومت بہت سارے مسائل کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے لیکن ان مسائل کو حل ہونے میں وقت لگے گا۔

    درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی تغیر

    گزشتہ کئی سالوں سے لاہور ماحولیاتی تغیر سے نبرد آزما ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، شدید گرمی اور فاگ سے بہت سارے مسائل نے جنم لیا ہے۔ ہر سال سینکڑوں افراد گرمی کی شدت سے بیمار ہو کر ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح فضائی آلودگی اور فاگ کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں، گلے اور آنکھوں کا انفیکشن، سانس لینے میں دشواری،دمہ اور کھانسی وغیرہ بھی پریشان کن ہیں۔ بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کے پھیپھڑے خراب ہو رہے ہیں۔
    ان مسائل کی بڑی وجوہات میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں، اینٹوں کے بھٹے، فیکٹریوں میں ربڑ کا استعمال اور درختوں کی کٹائی شامل ہیں۔
    اگرچہ موجودہ حکومت نے تقریباً تمام بھٹے جدید ذگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیے ہیں اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت پاکستان نے گاڑیوں کے لیے اچھی کوالٹی کا ایندھن (euro 5) منگوانا شروع کیا ہے، لیکن دوسری وجوہات پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے۔
    بڑھتی ہوئی گرمی اور آلودگی کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2017 تک لاہور کے 75٪ درخت کاٹ دیے گئے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف بارشوں میں کمی ہوئی بلکہ گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا۔ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے فضائی آلودگی اور فاگ جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس، باغوں کے شہر لاہور سے درخت ہی کاٹ دیے گئے ہیں۔
    موجودہ حکومت نے اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے جاپانی تیکنیک پر شہر بھر میں 50 میاواکی جنگل لگانے کا منصوبہ شروع کیا ہے جو کہ اگرچہ نا کافی ہے لیکن حکومت کی سنجیدگی کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
    لاہور لبرٹی مارکیٹ میں لگایا گیا مياواکی فوریسٹ 8 کنال رقبے پر مشتمل ہے اور اُس میں 10 ہزار سے زائد درخت/پودے لگائے گئے ہیں۔
    درختوں کی کٹائی اور بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے بارشوں میں بھی کمی آئی ہے۔ بارشوں میں کمی اور زیرِ زمین سے مسلسل پانی نکالنے کی وجہ سے مستقبل میں پانی کا بحران نظر آ رہا ہے۔ جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے وہیں زیرِ زمین پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے اس صورتِ حال سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات کا اعلان کیا ہے، اس ضمن میں راوی ریور پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں، لیکن یہ منصوبے پورے ہونے میں وقت لگے گا۔
    لاہور کو پیرس بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، یہ پیرس تو نہ بن سکا لیکن ہر سال وینس کا نظارہ ضرور کرواتا ہے۔ سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے ہر سال مون سون کی بارشوں میں لاہور کو سیلابی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ایک طرف پانی کی کمی ہے وہیں ہر سال بارشوں کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے اور سیلابی صورتحال کا تدراک کرنے کے لیے موجودہ حکومت سیوریج کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین 10 سے زائد واٹر سٹوریج ٹینک بنا رہی ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ کتنے مددگار ثابت ہوں گے۔

    پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت

    ایک وقت تھا کہ لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر پورے شہر میں کہیں بھی جایا جا سکتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب لاہور کا سب سے بڑا بس اسٹیشن تھا جہاں سے پورے لاہور کے لیے بسیں چلتی تھی۔ لیکن یہ شعبہ بھی اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ 2009 میں پنجاب حکومت نے جہاں دیگر کئی کمپنیاں بنائی وہیں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی بھی بنائی گئی۔
    لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے ابتدا میں 400 ائیر کنڈیشنڈ بسوں کے ساتھ تقریباً 19 بڑے روٹس اور کچھ چھوٹے روٹس پر کام کا آغاز کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بسوں کی تعداد میں کمی ہوتی گئی۔ افسران کی غفلت کی وجہ سے کمپنی 2017 میں سروس آپریٹرز کے ساتھ ختم ہونے والے معاہدوں کی تجدید نہ کر سکی جس کی وجہ سے یہ کمپنی بند ہو گئی اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب۔
    ریکارڈ کے مطابق 2014 سے مسلسل حکومت کو نئی بسوں کے لیے درخواست دی جاتی رہی لیکن کوئی کام نہ ہوا۔ اگرچہ لاہور میٹرو بس اور میٹرو ٹرین آپریشنل ہے لیکن ان کی سروس مخصوص روٹ پر ہے۔
    اس وقت لاہور کی ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو پورا کرنے کے لیے کم و بیش 1500 بسوں کی ضرورت ہے۔اگرچہ موجودہ حکومت سروس بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے لیکن ابتدائی طور پر صرف 300 بسیں فراہم کی جائیں گی۔
    اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو دیکھتے ہوئے بلیو لائن اور پرپل لائن کے منصوبے جو کہ 2007 میں تجویز کیے گئے تھے فلحال کاغذوں تک ہی محدود ہیں۔

    لاہور کے گرد پھپھوندی کی طرح پھیلتی ہاؤسنگ اسکیمز بذاتِ خود ایک مسئلہ ہیں۔ زرعی زمینوں پر بننے والی ان سوسائٹیوں میں نہ صرف سہولیات کا فقدان ہے بلکہ بے ہنگم بھی ہیں۔ اِن کی وجہ سے پیدا ہونے والا سب سے بڑا مسئلہ غذائی اجناس کی قلت ہے۔ ان زرخیز زمینوں پر پہلے سبزیاں، چاول، گندم اور دیگر غذائی اجناس کی کاشت کی جاتی تھی جو کہ شہر لاہور کی ضروریات کو کسی حد تک پورا کرتی تھیں لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ اب زرخیزی کی جگہ صرف بے ہنگم آبادی ہے۔

    لاہور میں جہاں دیگر بُہت سے مسائل ہیں وہیں پر صحت کی نا کافی سہولیات بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ کئی سالوں میں کوئی نیا ٹرشری کیئر ہسپتال نہیں بنایاگیا، اگرچہ موجودہ حکومت نے لاہور میں 2 نئے ہسپتال بنانے کا آغاز کیا ہے، لیکن شمالی اور مشرقی لاہور میں کوئی بھی بڑا سرکاری ہسپتال نہ ہی موجود ہے اور نہ ہی عنقریب کسی کی امید ہے۔ ہسپتالوں میں جدید مشینری یا تو موجود نہیں اور اگر موجود ہے تو وہ خراب ہے۔
    یہ اور ایسے بُہت سے دیگر مسائل ہیں جو کہ شہر لاہور کو لاحق ہیں، اگر ان مسائل کی تفصیل بیان کرنا شروع کی جائے تو ہر مسئلے کے لیے ایک علیحدہ آرٹیکل لکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں ان مسائل کو حل کرنے کی بجائے صرف ایسے پروجیکٹ شروع کیے گئے جو کہ ذاتی مشہوری کے لیے ضروری تھے، اگرچہ موجودہ حکومت نے ایسے منصوبے شروع کیے ہیں جن سے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کی سنجیدگی نظر آتی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ منصوبے مکمل ہو کر کس حد تک ان مسائل کو حل کریں گے۔

  • شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    شاہینوں کا شہر سرگودھا.تحریر: مزمل مسعود دیو

    1904 میں ایک انگریز عورت کے ہاتھوں نو آبادیاتی نظام کے تحت آباد کیا جانے والا پاکستان کا پہلا شہر سرگودھا ہے اسکے بعد اسلام آباد اور فیصل آباد بنائے گئے۔
    شہر کے درمیان میں ایک مارکیٹ ہے جسے گول چوک مارکیٹ کہا جاتا ہے اسکے اندر ایک خوبصورت مسجد بھی ہے۔ کہتے ہیں اسی جگہ ایک تالاب ہوا کرتا تھا جسکے کنارے ایک گھر تھا ۔ ہندو جو اس تالاب کا مالک تھا اسکا نام “گودھا” تھا اور تالاب کو فارسی میں “سر” کہتے ہیں تو اسی مناسبت سے اس کا نام سرگودھا رکھا گیا۔
    اپنے محلے وقوع کے اعتبار سے سرگودھا خاص اہمیت کا حامل شہر ہے۔ 5800 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان میں واقع سرگودھا کو ڈویژن کا درجہ حاصل ہے اور موجودہ ڈویژن میں 6 تحصیلیں بھلوال، بھیرہ، کوٹمومن، سرگودھا، سلانوالی، شاہ پور شامل ہیں۔ کل آبادی تقریبا 270000 دو لاکھ ستر ہزار ہے۔
    تعلیمی میدان میں سرگودھا کا لٹریسی ریٹ تقریبا 80% ہے جبکہ پورے ملک میں 30%۔ تعلیمی اداروں میں سرفہرست سرگودھا یونیورسٹی ،اس کے علاوہ ائیربیس کالج، میڈیکلُ کالج، لاء کالج، ووکیشنکل کالج، کامرس کالج اور بہت سارے پرائیویٹ تعلیمی ادارے جیسے پنجاب گروپ آف کالجز، دارارقم گروپ، بیکن ہاوس، سٹی سکول سسٹم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
    صحت کی سہولتوں کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور اسکے علاوہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز، پرائیویٹ ہسپتال ، ٹی بی سنٹر ، ٹراما سنٹربھی موجود ہیں۔ شوکت خانم ، آغا خان ہسپتال کے کولیکشن سنٹر بھی کام کررہے ہیں۔
    کیونکہ یہ ایک پلانڈ شہر ہے تو اس شہر میں ہر قسم کے کاروبار کے الگ الگ بازار ہیں جیسے سونے کی مارکیٹ، کپڑے کی مارکیٹ۔ تمام بازاروں کے درمیان میں ایک چوک آتا ہے جو ان بازاروں کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ اگر آپ شہر کے کسی بھی کونے سے داخل ہوں تو آپ پورے شہر کو باآسانی گھوم سکتے ہیں۔

    دفاعی لحاظ سے اس شہر کی بہت اہمیت ہے کیونکہ یہاں پر پاکستان ائرفورس کا ہوائی اڈہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس شہر کو شاہینوں کا شہر بھی کہا جاتاہے۔ اس شہر کی فضائیں ہر وقت ائرفورس کے جنگی طیاروں کی آواز سے گونجتی رہتی ہیں۔ 1965 کی جنگ میں ائر فورس نے بہت اہم کردار ادا کیا اور بہترین کارکردگی پر سرگودھا شہر کو ہلال استقلال سے نوازا گیا۔ لاہور اور سیالکوٹ کے علاوہ یہ اعزاز صرف سرگودھا شہر کوہے۔ اسی جنگ میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے اور ایک منٹ سے کم وقت میں انڈیا کے 5 جہازوں کو مار کر ورلڈ ریکارڈ بنانے والے ایم ایم عالم کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ اسکے علاوہ سرفراز رفیقی کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ پاکستان کے کم عمر ترین نشان حیدر کا اعزاز پانے والے راشد منہاس اسی دھرتی کے سپوت ہیں۔
    سرگودھا اپنی بہت ساری باتوں سے مشہور ہے جس میں سرفہرست یہاں کا کینو مالٹا ہے جو پورے پاکستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔سرگودھا شہر بجری کی سپلائی سے بھی مشہور ہے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا کرش سپلائر ہے۔ اس شہر نے پاکستان کی بہت ساری مشہور شخصیات کو بھی جنم دیا ہے جن میں جنرل حمید گل، احمد خان المعورف ملنگی، فٹح خان بلوچ،مفتی محمد شفیع، خواجہ ضیاءالدین سیالوی،خواجہ قمرالدین سیالوی، ملک فیروز خان نون، ملک خضر حیات ٹوانہ، پیر امیر محمد بھیروی. مولانا محمد حسین نیلوی . پیر کرم شاہ صاحب ازھری. سید حامد علی شاہ . مولانا ثناءاللہ امرتسری: علامہ عطاءاللہ بندیالوی. مولانا عبدالشکور ترمذی. سید سبطین نقوی اور مولانا نقشبند شامل ہیں۔
    اسکے علاوہ کھیل میں محمد حفیظ، اعزاز چیمہ اور نوید لطیف کرکٹ میں سرگودھا کی نمائندگی کر چکے۔ اس شہر کے نامور شعراء میں احمد ندیم قاسمی, وصی شاہ، ڈاکٹر وزیر آغا. ریاض احمد شاد . شاکر کنڈان. محمد حیات بھٹی. غلام محمد درد. قاسم شاہ. افضل عاجز. اور ھارون الرشید تبسم .سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈاکٹر عطاء الرحمان. ڈاکٹر شاہد اقبال. ڈاکٹر عامر علی شامل ہیں۔

  • سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    سیاحت اور معیشت .‏تحریر: لاریب اطہر

    اللہ پاک نے دنیا کو خوبصورت بنایا ہے لیکن اس میں کچھ مخصوص علاقے اپنی خوبصورتی میں خاص مقام رکھتے ہیں
    کچھ تو پورے پورے ملک ہی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں شہرت حاصل کر چکے ہیں
    جن میں پاکستان بھی ایک خوبصورت ملک ہے
    پاکستان میں بھی کچھ شہر، علاقے تو اتنے خوبصورت ہیں کہ ان کو دیکھنے کے لیے پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں اور کئی کئی دنوں تک وہ پاکستان کے ان خوبصورت علاقوں میں رہتے ہیں
    دنیا کے اکثر ممالک کی معیشت کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے جن میں سوئٹزرلینڈ دنیا میں سیاحت کے لیے مشہور ہے پوری دنیا سے لوگ سوئٹزرلینڈ جاتے ہیں وہاں رہتے ہیں سیر تفریح کرتے ہیں جس سے ان کی معیشت کو بھی سپورٹ ملتی ہے
    جو دوسرے ممالک سے سفر کرتے ہیں وہ ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، ٹریولنگ سب کے لیے سیاحت کے لیے جانے والے ملک سے استعمال کرتے ہیں جس سے ان کو فائدہ ہوتا ہے
    اسی طرح جب پوری دنیا سے لوگ پاکستان کا سفر کرتے ہیں تو وہ بھی پاکستان آنے کے لیے ویزا، ٹکٹ، ٹریولنگ وغیرہ یہاں سے ہی استعمال کرتے ہیں
    جس سے پاکستان کو فائدہ ہوتا ہے
    گزشتہ ادوار میں پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا جس سے پاکستان کی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی
    بیرونی دنیا سے تو دور پاکستانی کے شہری بھی سفر کرنے اور سیاحتی مقامات کو دیکھنے کے لئے جانے سے ڈرنے لگے
    پھر اللہ پاک کی مدد سے پاکستان کی عوام اور اداروں کی مدد سے پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا اور واپس اپنے ٹریک پے آنا شروع ہوا جس سے بیرونی دنیا سے بھی لوگ اب پاکستان کا سفر کرنا شروع ہو چکے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت اور پاکستان کی خوبصورتی دونو کو دنیا میں مقام مل رہا ہے
    اس وقت پاکستان کی موجودہ حکومت بھی کوشش کر رہی ہے پاکستان کے سیاحتی مقامات کو مزید خوبصورت اور پر امن بنایا جائے تاکہ سیاحت میں مزید اضافہ ہو
    پاکستان کے گلگت بلتستان ہو یا گلیات کے اونچے چمکتے پہاڑ
    سوات ہو یا لاہور کے سیاحتی مقامات اپنی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہیں
    میری حکومت وقت اور اداروں سے بھی اپیل ہے کہ ان مقامات کو مزید بہتر کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں تیز کی جائیں تاکہ پاکستان بھی باقی دنیا کی طرح سیاحت سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کما کر معیشت اور عوام کے لیے بہتر اقدامات کر سکے
    اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2018-19ء میں پاکستان میں بیرونی سیاحوں کی تعداد 19لاکھ سے زاید رہی اور انہوںنے پاکستان میں 31کروڑ 70لاکھ امریکی ڈالرز خرچ کیے۔ورلڈ ٹورازم اینڈ ٹریول کونسل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سیاحت کو فروغ دے کر دس سال کی قلیل مدت میں 39.8ارب ڈالرز کما سکتا ہے 
    دنیا کے کئی ممالک میں قدرتی خوبصورتی تو نہیں لیکن وہاں کے حکمرانوں نے محنت اور لگن سے ملک کو خوبصورت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا اور آج وہ اربوں ڈالرز صرف سیاحت سے کما رہے ہیں
    جبکہ پاکستان میں تو قدرتی خوبصورتی ہے
    بلند و بالا پہاڑ
    ریگستان
    دریا
    سمندر
    ہر وہ چیز جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے وہ پاکستان میں قدرتی طور پر موجود ہے بس اداروں کی مزید توجی کی منتظر ہے

    گو کہ پاکستان کی حکومت اس وقت بہت اچھا کام کر رہی ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش ابھی بھی موجود ہے

  • ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎سیاحت اور پاکستان .تحریر۔ مزمل مسعود دیو

    ‎پاکستان کو جہاں خطے کے اعتبار سے اہم مقام حاصل ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات کی بھی فراوانی ہے. کئی ممالک میں سیاحت کو معیشت کے استحکام میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے
    ‎پاکستان میں سیاحت کی استعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2018 میں برطانیہ کی مہم جوئی کے حوالے سے معروف سوسائٹی "بیک پیکر” نے پوری دنیا میں مہم جوئی کے حوالے سے پاکستان کا شمار اول نمبر پر کیا اس کے علاوہ "فوربز” نے 2019 میں ایک شائع کردہ آرٹیکل میں پاکستان کا شمار دنیا
    ‎کی حسین ترین جگہوں میں کیا
    پاکستان اپنے اونچے اونچے برف پوش پہاڑوں سے بہت مشہور ہے کیونکہ دنیا کی 7 ہزار میٹر سے اونچی 10 چوٹیاں پاکستان میں ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان نے دنیا کے مختلف ملکوں سے آئس اسکیٹنگ کے کھلاڑیوں کو دعوت دی جنہوں نے پاکستان کے برف پوش پہاڑوں کو دنیا کے بہترین برفانی کھیلوں کے پہاڑ کہا۔ فروری 2019 میں پاکستان ائیرفورس نے 13 ملکوں کے 40 کھلاڑیوں کی چیمپئن شپ کروائی۔ اختتام پر تمام کھلاڑیوں نے پاکستانی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور دوبارہ یہاں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

    ‎پاکستان کی حالیہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کیلئے کوششیں کیں ہیں جن کے نتائج متاثر کن ہیں. شمالی علاقہ جات کے انفراسٹکچر کو بہتر بنایا جارہا ہے اور بہت سی نئی جگہیں سیاحتی مراکز کے طور پر متعارف کروائی جارہی ہیں۔
    ‎ سیاحتی ویزوں کے حصول میں آسانی کیلئے متعدد اقدامات کیے گئےجس میں 50 ملکوں بشمول امریکہ سے آنے والوں سیاحوں کو پاکستان پہنچنے پر ویزہ کے اجراء کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا، دوسرے175 ممالک کیلئے ویزہ کی درخواستوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے سیاحوں کی مشکلات میں کافی کمی آئی ہے
    ‎اس کے علاوہ سیاحت کیلئے کی جانے والی دیگر کوششوں میں کرتارپور راہداری کی فعالیت اور اس سے ملحقہ کمپلیکس کی تعمیر اور حال ہی میں جہلم میں افتتاح کئے جانے والے "البیرونی ریڈیس” جیسے مقامات قابل ذکر ہیں
    ‎حالیہ کرونا وبا کے باعث عالمی سطح پر سیاحت کے شعبہ میں کمی دیکھی گئی ہے جس میں سیاحوں کو مختلف ممالک کی طرف سے سفری پابندیوں جیسی مشکلات کا سامنا ہے
    ‎امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وبا کے خلاف کامیابیوں میں اضافہ ہو گا اور غیر ملکی سیاح ترجیحا پاکستان کا رخ کریں گے ۔سیاحت کے شعبے سے بہت سے لوگ روزگار سے وابستہ ہوں گے، جس سے ملکی زرمبادلہ میں سیاحت ایک اہم کردار کرے گی اور آنے والے کل میں پاکستان دنیا بھر میں سیاحتی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوگا۔ ان شاءاللہ
    پاکستان زندہ باد
    ‏@warrior1pak

  • 3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا      سیکرٹری ٹورازم

    3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا سیکرٹری ٹورازم

    سیکرٹری ٹورازم کا کہنا ہے کہ 3سال سے بند فورٹ منرو ریزراٹ جلد سیاحوں کیلئے کھول دیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سیکرٹری ٹورازم کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر بحالی کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے

    سیکرٹری ٹورازم کیپٹن مشتاق احمد کا فورٹ منرو کا اچانک دورہ، ریزارٹ پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیاغفلت پر ٹورازم آفیسرمعطل، ریجنل جنرل منیجر ملتان و دیگر کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا-

    سیکرٹری ٹورازم نے کہا کہ فورٹ منرو پر سیاحوں کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیئے، ریزارٹ کی گزرگاہوں اور ٹریکس کی بھی مرمت کی جائے-

    انہوں نے کہا کہ نوتعمیرشدہ ریزراٹ میں استقبالیہ، لابی اور بالکونی کا اضافہ کیا گیا بالکونی سے فورٹ منرو کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوا جا سکے گا-

    کیپٹن مشتاق احمد سیکرٹری نے دربار سخی سرور پر جاری ترقیاتی منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے سکیم بروقت مکمل کی جائے-

  • شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ، تحریر:ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ، تحریر:ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    شہر لاہور سے الفت یونہی تو نہیں ،
    اِس پہ ہر شہر جو لُوٹا بیٹھا ہوں

    پنجاب کی سرزمین برصغیر کی تاریخ کا جھومرہے، اور اس جھومر کی پیشانی ہے "شہرِ لاہورہے” پاکستان میں لاہور شہر ایک تاریخی،تجارتی ، صوبائی سیاسی، ثقافتی، تعلیمی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، زندہ دلان لاہور کے روایتی جوش و جذبے کے باعث اسے بجا طور پر پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔

    لاہور صرف ایک شہر نہیں ہے لاہور ایک کیف ہے، جو طاری ہو جائے تو ہو جائے۔ مغربی جانب بہنے والے دریائے راوی نے اس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور ساتھ ہی میں لاہور اپنے باغات اور قدرتی حسن کے باعث اسے عروس البلاد کہا جاتا رہا ہے

    لاکھوں ہیں شہر لیکن کب اور تیرے جیسا
    ڈھونڈے نہ ملا ہم کو لاہور تیرے جیسا

    شہرِ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور ساتھ ہی میں لاہور دنیا کا پندرہواں بڑا شہر ہے، لاہور کا شمار دنیا کے قدیم اور اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں 460 تاریخی عمارتیں ہیں ،اس تاریخی شہر کے بارہ دروازے ہیں ، ایک چھوٹا دروازہ بھی ہے جیسے موری دروازہ کہا جاتا ہے

    شہر لاہور دنیا کے ان گنے چنے خوش نصیب شہروں میں سے ہے جو اپنی تاسیس کے بعد مسلسل آباد چلے آرہے ہیں اس شہر لاہور میں ایک محلہ مولیاں ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یہاں
    کبھی مہاتما بدھ آکر ٹھہرے تھے۔شہرِلاہور کا قدیم نام "لوپور” ہے اور لاہور دو الفاظوں کا مرکب ہے "لوہ "یا "لاہ "جس کا مطلب "لَو” اور "آور” جس کا مطلب "قلعہ” ہے، اسی طرح صدیاں گزرتی گئیں اور پھر "لوہ آور” لفظ بالکل اسی طرح لاہور میں بدل گیا

    روایت کے مطابق راجہ رام کے بیٹے راجہ لوہ نے شہر لاہور کی بنیاد رکھی اور یہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا۔ پھر اس کے بعد دسویں صدی عیسوی تک یہ شہر ہندو راجائوں کے زیرنگیں رہا۔ گیارہویں صدی میں یہ علاقہ اسلام کی روشنی سے منور ہوا جب سلطان محمود غزنوی نے پنجاب فتح کرکے ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا۔

    لاہور کو بیس سال تک مغل دارالحکومت رہنے کا بھی شرف حاصل ہوا ، لیکن اگر یہ مغلیہ سلطنت کا دارالحکومت نہ بھی بنتا تو اس کی اہمیت و فضیلت میں کوئی کمی نہ ہوتی ۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی ملکہ نور جہاں نے لاہور کے بارے میں کہا تھا”لاہور رابجان برابر خریدہ ایمجاں دارایم و جنت دیگر خریدہ ایم”

    سترھویں صدی میں لاہور کی شہرت یورپ تک جا پہنچی تھی اور اس کے ڈنکے سات سمندر پار بھی بجنے لگے تھے

    حسن کی بزم میں اگر ذکر لاہور کا نہ آئے
    توہینِ حُسن ہو جاۓ توہینِ بزم ہو جاۓ

    لاہور شہر کی فضاکا اپنا ایک طلسم ایک جادوہے اور علامہ اقبال، پطرس بخاری، فیض احمد فیض ، اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین جیسے دانشور بھی اس کے طلسم سے محفوظ نہ رہ سکے۔

    طلسمِ ہوش رُبا جیسا شہر ہے لاہور
    جو اِس دیار میں جائے لاپتہ ھو جائے

    لاہور پاکستان کا پہلا شہر ہے جس کو یونیسکو کیجانب سے "شہر ادب”کا خطاب ملا ہے
    شہر لاہور کو ایک دن شہر ادب کا خطاب ملنا ہی تھا۔ آج نہیں تو کل پاکستان نے یہ دن دیکھنا ہی تھا کہ، شہرِلاہورصدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے،شہر لاہور دنیا بھر میں امن کی شناخت ہے، محبت کی پہچان ہے۔ یعنی ادب، عشق ادب، آداب ادب اور اب "شہر ادب ”

    شہر لاہور عاشقوں کا شہر ہے، بھلے وہ عاشق مجازی ہوں یا حقیقی اور عشق ایسی نامراد شے ہے کہ اس کا نفرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہو سکتا ہے۔ عشق میں صرف عشق ہی جائز رہ جاتا ہے شہر لاہور کی بھی یہی تاثیر ہے، جو آنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، عاشق بنا دیتی ہے۔

    اس شہر کی ہواؤں میں اِک اپناںٔیت سی ہے
    اس کی گلیوں،کوچوں میں اِک عجب چاہت سی ہے

    گزرے لمحوں کی حسین یادوں کا یہاں ٹھکانہ ہے
    جو اِک بار لاہور آ جائے پھر اُس نے واپس کہاں جانا ہے

    تاریخ گواہ ہے صدیوں سے لاہور بہت سی حکومتوں کا دارالخلافہ رہا اور جو شہر دارالحکومت رہا ہو، وہاں ملازمت کی غرض سے لوگ نہیں آتے بلکہ وہ ثقافتیں آتی ہیں بلکہ بلائی جاتیں ہیں۔نوکری تو ایک بہانہ ہوتا ہے، فطرت اس شہر پہ مہربان ہوتی ہے اور اس شہر کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔

    شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد
    تیری گلیوں کی ہَوا کھینچ کے لائی مجھ کو

    شہر لاہور کے خوبصورت باغات کا حُسن آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے تو کبھی اسکی پُرتعیش عمارات دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لاہور میں کھانے پینے کی اشیا میں ذائقے کا دُنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں ہے شہر لاہور کی رونقیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتا ہے لاہور شہر میں بسنے والے باشندے زندہ دِل،کھلے ذہن ہر قسم کے تعصبات سے پاک دوسروں کو آگے کرنے،درد مشترک قدر مشترک تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی، اخلاقی اقدار کے دلدارہ ہیں۔

    خدمت خلق اور ہمارا کردار تحریر: ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

    ان فضاؤں سے ہے مجھے نسبت خاص
    شہر لاہور پہ سب شہر لٹا بیٹھا

    لاہور بقا کی ایک مثال ہے۔ لاہور کا حال اس کے ماضی کا ایک سلسلہ ہے۔ اس کے مستقبل نے ابھی شکل اختیار کرنی ہے۔ لاہور ہمیشہ لاہور رہے گا، اسے کچھ اور بننے کی خواہش نہیں ہے

    کہ اِس سے منسلک ہونا بھی اک سعادت ہے
    لاہور شہر نہیں ہے، لاہور عادت ہے

    ‏ہماری پہچان اخلاق حسنہ . تحریر، ڈاکٹر حمزہ احمد صدیقی

  • گرمی اور پیاس کی شدت مگر ہمارے منفی رویے .تحریر:عمار احمد عباسی

    گرمی اور پیاس کی شدت مگر ہمارے منفی رویے .تحریر:عمار احمد عباسی

    پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں تقریباً پاکستان کے ہر صوبہ اس وقت گرمی کی شدید لپیٹ میں ہے اور انسان تو انسان جانور بھی اس گرمی سے بچنے کے لیے اللہ تعالٰی سے رحمت کی بارش کے طلب گار ہیں۔
    ایک تو گرمی کی شدت اور اوپر سے شدید لوڈ شیڈنگ امراء حضرات تو اپنا گز بسر لوڈ شیڈنگ میں بھی کر لیتے ہیں مگر بے چارے غربت کے مارے گرمی کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ سے بھی مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
    بطور انسان اس گرمی کے موسم میں ہمیں اپنے رویے ٹھنڈے رکھنے ہونگے یعنی تحمل سے کام لینا ہوگا اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی ہوگی جیسا کہ ڈلیوری بوائز وغیرہ جو اس گرمی کی شدت میں بھی حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی حلال روزی کمانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔شدید گرمی میں فوڈ پانڈا والے بھائی جب آپکا آرڈر لیکر آئیں تو انہیں ایک گلاس پانی اور تھوڑی سی ٹِپ ضروری دیں۔ اس سے آپکو تو فرق نہیں پڑے گا مگر ان کا دل ضرور خوش ہوگا اور آپ کی ٹپ سے وہ کوئی امیر بھی نہیں ہوگا مگر ہاں اس کی حوصلہ افزائی ضرور ہوگی۔فوڈ پانڈا وغیرہ کے ڈیلیوری بوائز موسم کی تمام شدتیں برداشت کر کے رزق حلال کماتے ہیں مگر ریسٹورانٹس کا ان سے رویہ درست نہیں ہوتا ۔۔ کچھ دن پہلے کی ہی بات ہے جب ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں لکھا تھا کہ رائڈرز یہاں سے پانی نہیں پی سکتے۔ اب ان دنوں گرمی کا حال دیکھیں اور یہ ریسٹورنٹ ان رائڈرز کو پانی پلانے کا روادار بھی نہیں اور کولر پر لکھ کر لگا رکھا ہے کہ رائڈرز اس سے پانی نہیں پی سکتے ۔۔۔ ان رائڈرز کے زریعہ اپنا کھانا بیچ کر کمانے والوں کے اس انسانیت سوز رویے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    فوڈ پانڈا والا رائڈر , عید کے تینوں دن بغیر تھکے، بغیر رکے، بغیر نیند پوری کیے کس کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے؟
    یہ غیرت مند مرد عورت کو پاٶں کی جوتی نہیں سمجھتا ، نہ کپڑے دھونے والی مشین اور نہ ہی چائے گرم کرنے والی آیا….. یہ اسے اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے، کبھی ماں کے طور پر، کبھی بہن، کبھی بیوی اور کبھی بیٹی کے طور پر…. پھر بھی کسی کو ان رشتوں سے آزادی چاہیے تو لے لے آزادی۔۔۔
    انسان تو انسان اب جانور بھی گرمی کی شدت کی وجہ سے پیاسا پھر رہے ہیں جو کہ کچھ دن پہلے ایک پیاسا چیتا پیاس کی شدت برداشت نہیں کر سکا اور آبادی میں آ گیا کوٹلی آزادکشمیر میں گرمی کی شدت سے نڈھال چیتا آبادی میں گھس آیا۔بھوک پیاس سے نڈھال چیتے نے آبادی کا رخ کرلیا،چیتے کے آبادی میں گھسنے کی اطلاع آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا، شہریوں نے چیتے کو پکڑ کر پانی اور جوس پلایا، تصاویر بنائیں، شہریوں نے بعد میں چیتے کو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کردیا۔

    اس لیے اللہ نے اگر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے تو اس درجے کا پاس رکھیں اور مخلوق خدا کو بھی یاد رکھیں اور اپنی چھتوں پر پانی ضرور رکھیں تاکہ بطورِ انسان آپ کو اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر ہوسکے۔