Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • پردیس کی عید . تحریر : محمد اصغر

    پردیس کی عید . تحریر : محمد اصغر

    پردیس کی عید پردیسی بھائیوں کے لئے کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا جب بھی پردیس عید میں گزرتا ہے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کی ساری مشکلات ٹینشن آج ہی ایک ہی دفعہ آئی ہو پردیس میں عید گزارنا انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناگوار ہے پردیسی بھائی عید نماز پڑھنے کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور بعض تو گھر کی یاد میں کھانا بھی نہیں کھاتے سو جاتے ہیں اور شام کو اٹھتے ہیں یہ لمحہ یہ عید کا دن کسی بھی پردیسی بھائی کے لیے کسی تکلیف سے کم نہیں گھر کی یاد ماں باپ کی یاد بیوی بچوں کی یاد بھائیوں بہنوں کی یاد عید کا سارا دن سونے اور ٹینشن میں گزر جاتی ہے عید پر گھر پر بات تو ہوجاتی ہے لیکن دل کو اطمینان نہیں ہوتا وہ خوشی وہ پیار جو عید کے دن دیس میں رہنے والوں کو ملتی ہے یہاں پردیس وہ دن یاد آتے ہیں یقینا یہ بات کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ کسی بھی پردیسی کے لیے عید کا دن کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا اگر آپ پردیسی ہیں تو یقینا آپکو میری تمام باتیں دل میں چھب رہی ہونگی.

    پردیس کی عید پہلے دن سوتے گزر جاتی ہے دوسرے دن مارکیٹ شہر بازار کا چکر لگا لیتے ہیں پھر بھی وہاں کوئی جاننے پہنچاننے والا کوئی نہیں ہوتا شام کو پھر دوستوں کی دعوت پھر لوگ دوسرے یا تیسرے دن اپنے اپنے جاب پر چلے جاتے ہیں
    پردیس کی عید پردیسی بھائیوں کے لئے ٹینشن کا دن ہوتا ہے اور یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جو خود پردیسی ہو یا اس نے کچھ عرصہ پردیس میں گزارا ہوا ہماری دعا ہے اللہ عزوجل تمام پردیسی بھائیوں کی مشکلات آسان فرمائے. آمین.

    Twitter Handle @ZiDDiBlochPTI

  • یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    یورپ کا لنڈا بازار. تحریر : محمد آصف شفیق

    بہت سے دوسرے پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی یورپ جانے اوردیکھنے کا بہت شوق تھا، میں 2004 میں پاکستان سے بہترمستقبل اور بس چند سال لگا کرواپس پاکستان آنے کیلئے سعودیہ آیا تھا، پہلے چھ ماہ بہت ہی معمولی تنخواہ پرکام کیا اور پھرواپس پاکستان آگیا، چھ ماہ کی چھٹی گزاری اوربالکل آخری دن واپس سعودیہ پہنچا اوراسی پرانی نوکری پرکام شروع کیا اور ساتھ ساتھ اپنے رب سے رزق میں برکت کی دعا بھی کی اور وادی الدواسرنامی چھوٹے سے گاوں سے عمرہ کیلئے مکہ مکرمہ جانے کیلئے رخت سفرباندھا، پہلا عمرہ بس پرکیا ساتھ میں عبدالرحمان سلیم اورکچھ اورساتھی تھے الحمد للہ والدین کی دعاوں اوراللہ رب العالمین کی رحمت سے اگست 2005 میں ریاض میں ملازمت مل گئی جوکہ 2020 دسمبر تک ریا ض میں جارہی رہی.

    2009 میں یورپ جانے کیلئے کوششیں شروع کیں، بہت سے احباب نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق ہمیں معلومات دینی شروع کیں، کسی بھائی کا خیال تھا کہ کوئی ایجنٹ پکڑا جائے اورکام کروایا جائے کسی بھائی نے حوصلہ افزائی کی تو کسی بھائی نے کہا کہ اگر آپ جیسوں کا ویزہ لگ گیا تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے، خیرمعلومات لیں تو پتا چلا کہ جس ملک جانا ہو وہاں کا رہائیشی بند ہ کسی وکیل سے ایک دعوت نامہ تحریرکروا کر بھیجے جس میں ان کی اورمیری سب معلومات ہوں، میرے بہنوئی اوربہن وہاں رہائش پزیر ہیں تو دعوت نامے والا معاملہ تو حل ہوگیا اورجو چیزیں چاہیں تھیں انکی ایک لمبی لسٹ تھی، میں نے بھی اپنی کمپنی سے گزارش کی کہ مجھے آئریش ایمبیسی کے نام لیٹر دیں اورگارنٹی لیٹربھی دیں کہ بندہ صرف سیر کی نیت سے جارہا ہے اورتین ماہ کی چھٹیاں گزارکرواپس اپنی نوکری پرلوٹ آئے گا، کمپنی والوں نے بھی کمال شفقت سے تعریفی لیٹر کیساتھ کیساتھ گارنٹی لیٹربھی بنا دیا اور لکھ کر دے دیا کہ ان کیساتھ میرا معاہدہ آئندہ پانچ سال تک کار آمد ہے.

    سب دستاوی مکمل کیں تو پتا چلا کہ ٹکٹ پہلے لینی پڑتی ہے پھرسے دوست احباب ہی کام آئے جس جس سے جتنا جتنا مال مل سکا نکلوا لیا گیا اور ٹکٹ خریداری والا معاملہ بھی الحمد للہ مکمل ہوا ترکش ائرلائن کی ٹکٹ خریدی جوکہ ریاض سے استنبول اوراستنبول سے ڈبلن کیلئے تھی اوراسی طرح واپسی ہونی تھی، میں بھی ٹائی وائی لگا کرسارے کاغزات لیکر آئرلینڈ ایمبیسی وقت سے دو گھنٹے پہلے پہنچ گیا، جب جاکرسکیورٹی والوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ صبح 9:30 بجے سفارتخانہ کھلے گا اورآپ سے پہلے بھی چھ سات افراد موجود ہیں، طرح طرح کی فکریں لاحق ہوئی کبھی انگریزی میں ہونے والے انٹرویو کی فکر، کبھی ویزہ نہ ملنے کی فکر دامن گیرہوئی ،اللہ اللہ کرکے اپنی باری آئی تو سامنے اپنے ایک پاکستانی بھائی بیٹھے درخواستیں وصول کررہے تھے نا م تھا ملک قدیر صاحب ہنستے مسکراتے تعارف ہوا سب نے پیپر دیکھے اورامید دلائی کہ ان شاء اللہ ویزہ لگ جائے گا، قدیر ملک بھائی پاکستان پنڈ دادنخان کے رہنے والے ہیں، بہت ہی ملنسار نیک سیرت اوراچھا مزاج رکھنے والے بھائی ہیں ان سے 2009 سے بنا تعلق ان کی ریٹائرمنٹ 2020 تک قائم رہا ہرعید خوشی غمی میں ایک دوسرے کا حال احوال لینا اورغیر رسمی ملاقاتیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ملک صاحب جہاں بھی ہوں اللہ رب العالمین انہیں بہترین صحت سے نوازیں.

    15 دن کےطویل انتظار کے بعد دوبارہ پاسپورٹ لینے آئیریش ایمبیسی آنا ہوا، ملک صاحب نے داخل ہوتے ہی ویزہ مل جانے کی خوش خبری سنائی اس طرح پہلی دفعہ کسی بھی دوسرے ملک کیلئے سفر کیا، ریاض سے ترکی استنول پہنچے استنبول کا ہوائی اڈہ انتہائی مصروف اوربہت بڑی ڈیوٹی فری مارکیٹ ہے جہاں دنیا جہان کی چیزیں خرید سکتے ہیں 4 گھنٹےانتظارکے بعد اگلی فلائٹ پکڑی اوراس طرح ڈبلن ائرپورٹ پہنچے، دورجہاز سے اتاردیا گیا اوراشارے سے کہا کہ وہ سامنے چلے جائیں، امیگریشن مکمل ہوئی بہن بہنوئی لینے آئے ہوئے تھے ڈبلن سے براستہ کارہم لونگ فورڈ پہنچے اور15 دن قیام کیا بہت عزیز رشتہ دارو ہاں مقیم ہیں پورے 15 دن دعوتیں ہوتی رہیں اورمختلف شہر اورمارکیٹیں دیکھنے کا موقع ملا ایسے ہی ایک بوٹ سیل ( جس میں لوگ اپنی استعمال شدہ چیزیں فروخت کرتے ہیں جاناہو ا) اور سیلفی لیکر دوستوں سے شئر کردی جس پر جواب آیا چوہدری صاحب یورپ جا کے وی لنڈا بزار لبھ لیا اے ( کہ یورپ جا کر بھی آپ نے لنڈابازارڈھونڈ لیا ) یہ ہی بات آج یاد آئی توسوچا کچھ اسی پرتحریرکرلیا جائے، کچھ پرانی یادیں تازہ کرلی جائیں، اپنے پڑھنے والوں کیلئے بھی کچھ لکھ دیا جائے باقی کا احوال بھی ان شاء اللہ جلد تحریرکیا جائے گا.

    @mmasief

  • سیاحت اور ہماری روایتی غیر ذمہ تحریر: زبیر احمد

    سیاحت اور ہماری روایتی غیر ذمہ تحریر: زبیر احمد

    پاکستان دنیا کے ان بابرکت ممالک میں شامل ہے جو قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہیں یا تو وہ چار خوشگوار موسم ہیں ، موسمی پھل جن کا ہم بے چینی سے انتظار کرتے ہیں یا وہ پہاڑ جو ہماری آنکھوں کو سکون دیتے ہیں۔
    پاکستان کے شمال میں واقع سب سے اہم وادیوں میں سے ایک مشہور گلگت بلتستان ہے جو چین ، ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ ایک سرحد ہے۔  قدرت نے پاکستان کے انتہائی شمال کو گلگت بلتستان سے نوازا ہے
    متنوع قدرتی خوبصورتی خطے کی خوبصورتی کی نشاندہی کرتی ہے۔  پرکشش مناظر ، سدا بہار جنگلات ، سرد صحرا ، برف پوش پہاڑ اور عظیم ثقافتی میراث سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
    ٹریکرز ، فطرت سے محبت کرنے والے اور کوہ پیما ہمیشہ پاکستان کے خوبصورت ورثے کا تصور کرتے ہیں کہ وہ ایک سفر کریں اور اس کی خوبصورتی کو سراہیں۔
    یہاں سیاحوں کی تعداد میں ہرسال مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو اپنی فطرت کی دلکشی کو دیکھنے کی پیاس بجھانے کے لئے گلگت بلتستان کی طرف گامزن ہوتے ہیں
    سیاحت کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ وہ صرف اس تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سے سماجی و معاشی طور پہ لوگوں کے طرز زندگی و بودوباش میں ارتقاء آتا ہے
    جب آپ کسی چیز کو پسند کرتے ہیں تو ضروری ہوتا ہے  اس کا خیال رکھنا آپ کا فرض بن جاتا ہے لیکن سیاحوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ہےجب سیاح شمالی علاقوں کا رخ کرتے تو یہاں کے مسحور کن قدرتی مناظر سے لطف اندوز تو ضرور ہوتے ہیں لیکن اس سیرو تفریح کے دوران فالتو اشیاء، کوڑا کرکٹ، فضلہ انتہائی غیرذمہ داری سے پھینک آتے ہیں
    سیاحت کا موسم ختم ہونے کے فوری بعد ان خوبصورت وادیوں میں پلاسٹک کے تھیلے اور ڈسپوز ایبل سامان سمیت ہر طرح کا کوڑا پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ وادیاں جو کہ فطرتی خوبصورتی کا مظہر ہوتی ہیں غیرذمہ دارانہ رویے کے باعث آلودگی کا شکار ہیں
    سوشل اور پرنٹ میڈیا پاکستان کے خوبصورتی سیاحتی مقامات کی بدترین آلودہ صورتحال کے بارے میں لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے
    سیاحوں کو اس بارے میں بریفنگ دینے کا انتظام کرنا چاہیے کیونکہ یہ علاقے تب تک ہی خوبصورت نظر آئیں گے جب تک ہم ان کو اپنے گھر کی طرح صاف ستھرا رکھیں گے اور انکو صاف رکھنے کا احساس رکھیں گے۔ حکومت کو یہ بھی کوشش کرنی چاہئے کہ سیاحت کو جنگلوں، جھیلوں اور گلیشئر سے دور رکھیں تاکہ یہ تباہ کن سرگرمیوں سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے ہمارا پاکستان انتہائی خوبصورت یے اور  پاکستانی ہونے پہ ہم سب کو فخر ہے اور بے شک یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آلودگی سے اپنے ملک کو محفوظ رکھیں اور ماحول کو صاف ستھرا رکھیں
    (twitter @KharnalZ) 

  • پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان اوراس کی خوبصورتی . تحریر : حسیب احمد

    پاکستان قدرتی وسائل اوررنگوں سے بھرپور ہے، پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے بہت ساری حسیں نظارے ہیں، یہاں ہمارے پاس برف پوش پہاڑ اور رنگوں سے بھرے ہوئے چشمے، دل فریب جنگلات اور پرکشش صحرا۔۔!! پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے سیاح ہر سال موسم سرما اور موسم گرما میں موسم کے مطابق شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستان میں بہت ساری حسیں وادیوں کے ساتھ ساتھ کچھ تاریخی مقامات جیسے "موئن جو دارو” اور "ہڑپہ” اور ایسے بہت سے مقامات جو پاکستان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے قدرتی وسائل اتنے ہیں کہ ہمیں باہر گھومنے پھرنے کی ضرورت نہیں۔ یقین جانیں پاکستان کا اگر آپ بائی روڈ سفر کریں گے تو وہ حسیں اور پرکشش وادیوں کا نظارہ کرسکتے ہیں جن کو دیکھنے کے لیے ہم باہر جاتے ہیں۔

    سربزو شاداب اور گھنے درخت و جنگلات خوبصورتی کا ایسا روپ ہیں جس کا کوئی نیم البدل نہیں۔ سوچئے اگر دنیا بھر میں بھر میں یہ قدرتی ذخائر ختم کردیئے جائیں تو ہماری دنیا کیسی لگے گی؟؟ کیا ہم زندہ رہ سکتے ہیں ان کے بغیر؟؟ یقین کریں یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی بالوں والے شخص کے سر سے بال ختم کردیئے جائیں تو وہ کیسا لگے گا۔
    دریا، سمندر، پہاڑ، درخت، جھیلیں، ندیاں، جنگلات اور صحرا۔۔۔۔ یہ سب کسی بھی علاقے کا خوبصورت و قدرتی حسن ہیں اور پاکستان بھی اس حسن سے مالا مال ہے۔

    اللہ تعالٰی نے پاکستان کو بہت خوبصورت تحفہ ان قدرتی وسائل کی صورت میں دیا ہے اس کو بربادی کی طرف نا لے جائیں۔ ان قدرتی وسائل اور رنگوں سے دل فریب چیزوں کی حفاظت کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو خوبصورت اور پرنور پاکستان کا تحفہ دیں اور اگر آج آپ ان وسائل کی ترقی و حفاظت کریں گے تو آپ کی نسلیں بھی سیکھیں گی اور پھر پاکستان ان وسائل سے ہمیشہ مالا مال رہے گا اور ایسا وقت آئے گا باہر کے لوگ یہاں ہمارے وسائل اور قدرتی چیزوں پر پیسا خرچ کریں گے جس سے پاکستان کا ریونیو بڑھے گا اور پاکستان اپنے ان وسائل کی وجہ سے اپنے آپ مضبوط بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    اس کی حفاظت کریں اور اس پر توجہ مرکوز کریں تاکہ یہ قدرتی اثاثے محفوظ رہیں اور ہمیشہ پاکستان کو اپنے حسن سے خوشبودار اور خوبصورت رکھے۔ پاکستان وہ خوبصورت سرزمین ہے جہاں چاروں موسموں کا مزہ اپنے اپنے انداز میں لیا جاتا ہے۔
    ہمیں بھی دیگر قوموں کی طرح اپنے وسائل اور ان قدرتی چیزوں کا محافظ بننا ہے.

    @JaanbazHaseeb

  • تحریر: اصغر بلوچ  ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    تحریر: اصغر بلوچ ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقامات

    ڈیرہ غازی خان کا شمار پاکستان کے سیاحتی مقامات میں سے ہوتا ہے
    قدرت نے ڈیرہ غازی خان کو سبز پہاڑوں سے ڈھانپ رکھا ہے
    آئیں آپکو لیں چلتے ہیں ڈیرہ غازی خان کا مری
    یعنی فورٹ منرو
    ڈیرہ غازی خان کا فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان کے لوگوں کے لیے مری سے کم نہیں ہے  جہاں گرمیوں میں بھی شدید سردی ہوتی ہے فورٹ منرو چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں میں چھپا ہوا علاقہ ہے جس کا حدود بلوچستان سے بھی ملتا ہے اور یہ ٹرائبل ایریا کہلاتا ہے یہ علاقہ بلوچ لیوی کے کنٹرول میں ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں خوبصورت پہاڑ اور چین کی مدد سے بنایا گیا ایک خوبصورت اسٹیل پل سیاحوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے ڈیرہ غازی خان میں شدید گرمی کی وجہ سے کافی لوگ نقل مکانی کرکے فورٹ منرو چلے جاتے ہیں جہاں گرمیوں کا موسم گزارنے کے بعد واپس آجاتے ہیں
    فورٹ منرو میں اونچے سرسبز پہاڑ اور پہاڑوں سے نیچے بادل لوگوں کے دل جیت لیتے ہیں یہاں گرمیوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
    فورٹ منرو میں بارشوں کا سلسلہ ہر دوسرے دن جاری رہتا ہے
    ڈیرہ غازی خان فورٹ منرو قدرت کا حسین کرشمہ ہے
    پاکستان بھر سے آئے سیاحوں کا دل جیت لیتا ہے
    اگر آپ بھی اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو بلاخوف خطر آپ تفریح کے لیے آسکتے ہیں
    تحریر MAsgharBloch

  • تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان

    تحریر: وسیم اکرم عنوان: کشمیر کی داستان

    کشمیر ایک جنت کی وادی ہے جہاں لوگ دور مقامات سے سیر کرنے کیلئے آتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے اس جنت نظیر وادی کو نظر لگ گئی ہے وہاں کے مسلمانوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں

    مگر افسوس صد افسوس! مسلم امہ انکھوں پہ پٹی باندہ کہ سوئ ہوئی ہے کسی کو کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم نظر نہیں آ رہے کیا ان کا قصور ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا اپنا حق مانگتے ہیں؟

    ہم سب کو چاہیے کشمیر یا جہاں بھی مسلمانوں پہ ظلم ہو رہا ہے اس کو اجاگر کریں اور لوگوں کو دیکھیں کہ دیکھیں کتنے معصوم بچے یتیم ہوگے کتنی بہنیں، بیٹیاں یتیم ، لاوارث ہوگئیں

    یاد رکھو بے ضمیر مسلمانوں اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔ ظلم جب حد اے بڑھ جاتا ہے مٹ جاتا ہے میں سلام پیش کرتا ہوں عمران خان صاحب کا اور ان انصافین کا جنہوں نے اپنے اکاؤنٹ کی پرواہ کئے بغیر ظلم کو لوگوں تک پہنچایا اور دیکھایا کہ دیکھو اے بے حس لوگ 73 سال سے وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں مگر آج تک ان کو ان کا حق نہیں دیا گیا اب تو نسل کشی شروع کر دی ہے

    میں پوچھتا ہوں ان لوگوں سے جو دوسرے ممالک میں رہتے ہیں کیا اپ کو اپکا حق نہیں دیا گیا کیا اپ پرجہاں رہتے ہیں ظلم کے پہاڑ تو نہیں توڑے گے پھر ایسا دوہرا معیار انڈیا میں کیوں؟

    زرا سوچیئے سب ممالک اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں دکھ تکلیف اسی کو ہوتی ہیں جس کو درد ہوتا ہے دکھ درد اسی کو ہوتا ہے جس کے گھر کوئی چلا گیا ہو یا معزور کر دیا جاتا ہے

    میرا کشمیر جہاں انسان کی حیثیت جانوروں سے بھی بدتر بنا دی گئی ہے۔ کل کا واقع ہے جہاں ایک بزرگ کشمیری خاتون کوانڈین آرمی نے جس بیدردی، سفاکیت سے فوجی گاڑی تلے کچلا اور شہید کیا اسکے بیان کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔

    کہاں ہے عالمی برادری؟ کہاں ہے اقوام متحدہ؟

    کشمیریوں کی یہ قربانیاں پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام پر قرض ہیں۔ کیا پاکستان کے حکمران یا مقتدر قوتیں آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟

    @MalikGii06

  • سوشل میڈیا کے مثبت استعمال .تحریر:فروا نذیر

    سوشل میڈیا کے مثبت استعمال .تحریر:فروا نذیر

    Twitter id: @InvisibleFari_

    سوشل میڈیا نے معاشرے میں بہت ترقی پائی ہے
    آجکل یہ سمجھ لیں کہ سوشل.میڈیا بغیر دنیا نامکمل ہے
    اور اسی سوشل میڈیا کو انسان اپنے مقصد کیلیے بھی استعمال کرتا ہے
    کوئی بھی انسان کچھ بھی بلاوجہ استعمال نہیں کرتا اسکو اپنے مقصد کو لاتا اور کوشش کرتا ہےکہ اس مقصد کو پورا کیا جائے

    سوشل میڈیا کے بہت سے اثرات ہوتے ہیں ہرعمر کے انسان پر چاہے وہ بچہ ہو جوان ہو بڑا ہو
    اور اسی طرح کے اس کے مثبت اثرات بھی ہیں جو انسان کی زندگی میں بہت تبدیلی لاسکتا ہے اگر ہم اسکو اچھی نیت سے استعمال کریں

    کچھ بھی کرنے کیلیے ہماری نیت صاف ہونی چاہیے اور ہر اس کام کو عمل میں پہلے خود لے کر آنا چاہیے جسے ہم سوشل میڈیا پر لاتے ہیں
    تاکہ ہم سب کو اندازہ ہو کونسے کام کو کہاں کیسے اور کسطرح استعمال میں لانا ہے..

    اس طرح سمجھ لیں کہ انسان اگر اپنا آپ دکھانا چاہتا ہے تو وہ سوشل میڈیا پر جائے گا سوشل میڈیا میں صرف کوئی ایک ایپ نہیں ہے بے تحاشا ایپس ہیں جن کا استعمال مفاد کیلیے اور مثبت انداز میں ہو رہا ہے
    جن میں سے چند یہ ہیں:
    • واٹس ایپ
    • ٹویٹر
    • انسٹاگرام
    • فیسبک
    • سکائپ
    وغیرہ وغیرہ یہ سب سوش میڈیا کی اقسام ہیں
    سب کے فائدے کیا کیا ہیں:

    – واٹسایپ
    واٹس ایپ ہر انسان کہ ضرورت ہے اس سے آپ کسی بھی وقت کہی بھی رابطہ کر کے اہنا کام کر سکتے ہو
    یہ آہکو رشتہ داروں سے بات کرنے کے مواقع بھی دیتی ہے اور اپنی فیملی سے جڑے رہنا ایک بہت اچھا کام ہے کیونکہ ہم سب کو ہمیشہ مل جل کے رہنا چاہہے تاکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آسکیں..

    – ٹویٹر
    ٹویٹر کے جہاں نقصان وہی بہت سے فوائد ہیں.
    آپ کو دنیا کی ہر خبر ٹویٹر سے مل سکتی یے آپ نے ڈائریکٹ اگر کسی سیاستدان سے بات کرنی تو ٹویٹر سب سے بیسٹ آپشن ہے آپ کسی مشکل میں ہیں ٹویٹر پر صرف ایک ٹرینڈ چلائے اور وزیراعظم کو مینشن کرتے جائے آہکا کام ہو گا
    ہر طرح کے لوگ ہیں ٹویٹر پر جن سے آپ رابطہ کر کے بہت کچھ سیکھ سکتے ہو صرف ایک ٹویٹر ایسی ایپ ہے جو آہکو بہت کچھ سکھاتی رہتی یے

    – انسٹاگرام
    یہ ایپ ٹویٹر سے زیادہ استعمال میں ہے لیکن اس کا اتنا فائدہ نہیں جتنا ٹویٹر ہے وہاں آپ آواز بلند کر سکتے ہو لیکن انسٹا پر اہسا کچھ نہیں ہوتا
    انسٹا بھی اپنی جگہ مفید ہے کچھ یوتھ کیلیے جن کو ڈراماز شوبز والوں سے ملنے کا شوق ہو وہ سب انسٹا کو جوائن کرتے ہیں اس لیے ہر چیز کا کسی نہ کسی کیلیے فائدہ ہے

    – فیسبک
    فیسبک ایک بہت ہی پرانی اور مفید سوشل ایپ ہے جہاں بہت سے مسائلز کو سامنے لایا جاتا پاکستان کے بارے میں
    انڈیا کے پروپیگنڈاز بھی سامنے آتے ہیں ٹویٹر والے ان سب پروپیگنڈوز کو اجاگر کرتے ہیں اور فیسبک سے انکی شروعات ہے… بہت سے لوگ آج بھی فیسبک پر زیادہ ہیں خاص کر یوتھ وہاں سے بہت کچھ حاصل کر رہی ہے

    – سکائپ
    سکائپ کا یہ فائدہ کہ آپ دنیا کے جس بھی کونے میں بیٹھے ہو اہنے عزیز کو باآسانی دیکھ سکتے ہو باآسانی بات کر سکتے ہو
    اسکو بہت سے فارن لوگ استعمال کرتے ہیں خاص کر وہ جو اونلائن جاب کرتے ہو وہ اسکو ویڈیو پر بات چیت کیلیے استعمال کرتے ہیں
    اسکا استعمال پہلے کی نسبت کم ہوتا جارہا ہے کیونکہ واٹسایپ سے ویڈیو کالز ہوجاتی ہیں

    جس طرح ہر چیز کے بننے کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے اسی طرح ہر سوشل ایپ کا اپنی جگہ فائدہ اور استعمال ہے

    لیکن کوشش رہے سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں اور بہت کچھ سیکھ سکیں

  • مختصر تاریخ قلعہ چلاس۔ تحریر:روشن دین دیامری

    مختصر تاریخ قلعہ چلاس۔ تحریر:روشن دین دیامری

    چلاس دیامر استور ڈویژن کا دارالخلافہ ہے یہاں کی ابادی تقریبا ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہیں ۔چلاس میں قراقرم یونیورسٹی کا ایک سب کمپس ایک لڑکوں کے ڈگری کالج ایک خواتین کی کالج کے علاوہ تین لڑکوں کے اور ایک لڑکیوں کی ہائی سکول ہے۔ آج ہم قلعہ چلاس پہ بات کرتے ہیں ۔یہ قلعہ چلاس کے مرکزی بازار میں موجود ہے اج کل یہ قلعہ پولیس کے ذیر استمال ہے۔

    1852 کو مہاراجہ گلاب سنگھ نے کرنل لوچن سنگھ کو چلاس میں تعنات کیا ۔یہ فوجی دستہ چلاس پہنچا تو چلاس کے لوگ اس قلعہ کے اندر گھس گٸے،اس قلعہ پر باہر سے حملہ کرنا بہت مشکل تھا۔یہ قعلہ چلاس کی ایک ایسی جگہ پر بنایا گیا جہاں سے پوری چلاس نشانے پہ ہے۔لیکن فوج ڈوگرہ نے اس کا محاصرہ کرلیا اور مورچے تیار کرکے لڑاٸی شروع کردی،محاصرین نے بڑی بہادری سے مقابلہ کرلیا،قلعے کی فصیل سے پتھرو اور گولیوں کی ایسی بارش کردی ڈوگرہ فوج کو قلعہ تک پہنچنے تک بڑی سختی اُٹھانی پڑی اس لڑاٸی میں ڈوگرہ فوج کی ڈیڈھ ہزار سپاہی مجروح و مقتول ہوٸے،آخر کوٸی راستہ نہی ملا تو ڈوگرہ فوج نے اندر موجود پانی کے ہوز کو نقب کے زریعہ خالی کیا لیکن اندر موجود بہادر لوگوں نے تین دن تک پانی کی پرواہ نہی کی،اور روغن پیتے رہے بلا آخر پیاس کی وجہ مجبور ہوکر قلعہ کا دروازہ کھول کر بھاگنے لگے،کافی لوگ اس معرکہ میں شہید ہوٸے بعض کو قیدی بنادیاگیا،اور قلعہ کو آگ لگا کر فنا کر دیا کیا گیا۔

    1892 کو جو ریاست کشمیر کا یہاں عہدیدار تعنات تھا چلاس کے لوگوں نے اُس کو بھگا دیا جو کندھے پر گولی کھاکر گلگت پہنچ گیا۔اور نومبر 1892 کو ڈاکٹر رابٹسن پھر سے چلاس پر حملہ آور ہوکر چلاس کو فتح کیا اور حکومت قاٸم کیا گیا،کافی عرصہ ڈوگرہ حکومت چلنے کے بعد 1893.94کو اس قلعہ کو دوبارہ جدید طریقے سے تعمیر کیا گیا۔اور اس میں باقاعدہ ڈوگرہ فوج تعنات کردی،اور 1935 میں روسی فوج کی خطرے کی پیش نظر برٹش گورنمنٹ نے گلگت کے محلقہ علاقہ جات اور چلاس کا انتظام براہ راست اپنے ہاتھ میں لیکر گلگت میں پولیٹیکل ایجنٹ اور چلاس میں ایسسٹنٹ ایجنٹ مقرر کٸے اور اس کی مدد کیلٸے گلگت سکاوٹس فورس کا قیام عمل میں لاٸی،اور یہ ڈوگرہ فوج کی جگہ تعینات رہی، یہ قلعہ سکاوٹس کا ملکیت تصور ہونے لگا،اور 1971 کے جنگ کے بعد سکاوٹس کو عملی جامہ دیا گیا،اور سکاوٹس کو این ایل ای کا نام دیکر 1974 کو بونجی منتقل کیا گیا۔اور یہ قلعہ خالی ہوا تو پولیس محکمے کی درخواست پر فروخت کیا جس کی قیمت 3لاکھ گیارہ ہزار روپے رہی اور آج یہ قلعہ دیامر پولیس لاٸن کے شکل میں موجود ہے۔

    اگر اس قلعہ کو پولیس سے خالی کروا کے محکہ ٹوریزم کے حوالےکیا جائے تو اس سے ایک بہترین سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے بارہا کوشش رہی ہے کہ اس تاریخی ورثہ کو پولیس کے محکمہ سے اٹھا کے عوام کے لے اوپن کیا جائے تاکہ التت بلتت فورٹ ہنزہ کے طرح اس کو بھی سیاحت کے لے لے استمال کیا جائے اور اس حاصل ہونے والے امدن سے علاقے کے ترقی کے استمال کیا جاسکے گا۔

  • ہندوستان حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(1).تحریر: محمد صابر مسعود

    ہندوستان حالات حاضرہ کی روشنی میں قسط نمبر(1).تحریر: محمد صابر مسعود

    تنِ تنہا سفر کرنے کا میرا یہ پہلا موقع تھا جب دہلی سے میوات کا قصد کیا اس وقت عمر نو، دس سال تھی لیکن دل پر رنج و غم تھا، نا ہی پیشانی پر کسی بھی طرح کا بل جبکہ گھر تقریباً سو کلو میٹر کی مسافت پر تھا کیونکہ یہ سنہ 2008 – 2009 تھا اس وقت ہندوستان میں حقیقتاً ایک حد تک جمہوریت باقی تھی، ” ہندو، مسلم، سکھ، عیسائ سب آپس میں بھائ بھائ” کا نعرہ واقع کے مطابق تھا، تقسیم کرو (ہندو مسلم کو بانٹو) اور حکومت کرو کا نعرہ لگانے والی انگریز کی غلام، دوغلی، بدکار، زہرو نفرت پھیلانے والی اور ہندوستان کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کردینے والی بھارتی جنتا دل جیسی پارٹیوں کا راز نا تھا، مدرسے سے نکل کر، اساتذہ سے چھپ چھپاتے ہوئے اسٹیشن پہنچ کر سبز کلر کی کثیر ڈبوں پر مشتمل ایک پرانی سی ٹرین میں جا بیٹھا جسکی رفتار یک بیک کم و زیادہ ہو جاتی تھی، سامنے تین چار نوجوان لڑکے بیٹھے ہوئے تھے جنکی قد و قامت تقریباً ساڑھے پانچ، چھ فٹ تھی، دیکھنے سے وہ اسکول کے طلباء نظر آ رہے تھے، کمسن دیکھ کر میرا دل رکھنے کے لئے طنز و مزاح کی باتیں کرنے لگے، تعلیم و تعلم اور گھر کے احوال و کوائف کے بارے میں دریافت کرنے لگے، اسی طرح گفت و شنید چلتی رہی اور بڑے ہی آرام و سکون کے ساتھ گویا کہ میں اپنے بھائیوں کے ساتھ تکلم کر رہا ہوں پلول پہنچ گیا، انہوں نے مجھ سے معلوم کیا کہ تم گھر کے راستے سے آشنا ہو؟ میں نے معصوم سے لہجے میں مسکراتے ہوئے سر ہلا کر کہا’ جی ہاں’ باجود اس کے کہ مجھے راستے کا علم تھا انہوں نے آٹو والے سے کہا کہ اسے فلاں جگہ چھوڑ دینا مزید یہ کہ وہاں سے کسی دوسرے آٹو میں بٹھا کر اسے گھر کی جانب روانہ کردینا اور ہنستے و مسکراتے ہوئے الوداع کہ کر مجھے روانہ کردیا۔۔۔۔

    یہ حقیقی جمہوری ہندوستان تھا اس وقت سب لوگ بھائی بھائیوں کی طرح رہا کرتے تھے لیکن آج اسی ہندوستان میں، اسی روٹھ پر جسکا میں نے ذکر کیا (2017/22/جون) کو میوات میں کھنداؤلی گاؤں کے سولہ سالہ حافظ جنید کو عید کی خریداری کے بعد دہلی سے گھر لوٹتے ہوئے متعصب و متنفر، غلیظ و ناپاک اور ذلیل و بدبودار ہندو غنڈوں نے ٹرین میں چاقو مار مار کر شہید کردیا تھا تعجب کی بات یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ کوئ اس ظلم کو روکتا جس پر آسمان بھی بلک بلک کر رویا ہوگا، فرشتے بھی ان ظالموں کو صفائے ہستی سے مٹانے کے لئے تڑپے ہونگے حاضرین میں سے بعض درندہ صفت انسانوں نے کہا کہ ان سب کو مار دو۔۔۔۔۔

    جاری ہے۔۔

  • مقامات مقدسہ کی  زیارت .تحریر:‏محمد آصف شفیق

    مقامات مقدسہ کی زیارت .تحریر:‏محمد آصف شفیق

    ‏کورونا کی وبا نے جہاں گھروں تک محدود کردیا وہیں دفتر کی بجائے گھر سے کام اور جمعہ ہفتہ کی چھٹی نے ایسے مواقع فراہم کر دئے کہ ہر ہفتہ آپ باقائدہ پروگرام بنا کر سعودیہ میں موجود مقامات مقدسہ کی زیارتیں خود بھی کرسکیں اور اپنے دوست احباب کیساتھ اپنا تجربہ شئر کرسکیں ، میں روزگار کے سلسلہ میں 2005 سے سعودیہ میں مقیم ہو ں ، اس وبا کے دوران سعودیہ کے طول و عرض میں گھومنے کا موقع میسر آیا ، کمپنی کا اللہ بھلا کرے انہوں نے گزشتہ فروری میں الریاض سے جدہ ٹرانسفر کردیا اور موقع ملا کہ کم و بیش ہر ہفتہ کسی نہ کسی مقدس مقام کی زیارت کی جائے
    ‏جدہ سے حدیبیہ کا فاصلہ کم و بیش 60 کلومیٹر ہے اپنی گاڑی پر آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں وہاں پہنچا جا سکتا ہے ، ہم بھی اپنے احباب کے ساتھ جدہ سے بزریعہ کار حدیبیہ پہنچے ٹھیک اسی مقام پر جہاں صلح حدیبیہ پیش آیا پرانی مسجد کی باقیات موجود ہیں اور گورنمنٹ کی طرف سے ایک رہنمائی کیلئے بورڈ بھی آویزاں ہے ، ایک نئی مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے جسے مسجد حدیبیہ کا نام دیا گیا ہے ، مسجد حدیبیہ لکھ کر گوگل میپ سے با آسانی اس مقام تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے ، اسی رہنما ئی والے بورڈ پر عربی اور انگلش میں تحریر موجود ہے مگر سہولت کیلئے بورڈ پر بار کوڈ موجود ہے جسے سکین کرنے پر ساری معلومات اردو اور انڈونیشن زبان میں بھی تبدیل ہوجاتی ہے

    ‏مکہ مکرمہ سے جدائی کے چھ سالوں بعد 1400 صحابہ کرامؓ کیساتھ حج کی غرض سے مدینہ منورہ سے ہی احرام باندھ کر قربانی کے جانور ساتھ لے کر اور نیام کی تلوار کے علاوہ کوئی ہتھیار بھی ساتھ نہیں مگر پھر بھی قریش مکہ نے آپ ﷺ کو اور صحابہ کرام ؓ کو مکہ جانے سے روک دیا اور آپ ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ کو اپنا ایلچی بنا کر بھیجا جنہیں قریش مکہ نے روک لیا اور مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیاگیا ہے تو اصحاب رسول ﷺ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم اس وقت تک یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک کہ مشرکین سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بدلہ نہ لے لیں اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ ببول کے درخت کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھ گئے اور تمام صحابہ ؓ نے قصاص عثمان ؓ پر آپ ﷺ نے بیعت لی جسے بیعت رضوان کہا اور سورۃ الفتح میں جس کا ذکر آیا
    ‏جب جب آپ ان مقدس مقامات کی زیارت کو جائیں تو قرار اور سکون میسر آتا ہے اسے الفاظ میں بیان کیا جانا ممکن نہیں ، زیارت مقامات مقدسہ کا سلسلہ ان شاء اللہ جاری ہے اور ان شاء اللہ اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنے احساسات آپ سب پڑھنے والوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا رہوں گا
    ‏دعاوں کا طلبگار
    ‏محمد آصف شفیق
    ‏جدہ ۔ سعودیہ
    ‏⁦‪masief@gmail.com‬⁩