Baaghi TV

Category: تفریح و سیاحت

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جغرافیہ:

    چنیوٹ سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان میں واقع ہے۔ لاہور جھنگ روڈ بھی چنیوٹ میں سے گزرتی ہے۔ یہ لاہور سے 158 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 10 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 179 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چنیوٹ کا ہمسایہ شہر چناب نگر ہے جو دریائے چناب کے دوسری جانب واقع ہے۔ چنیوٹ شہر میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہر دوسری سے تیسری گلی میں مساجد ہیں، یہاں حفاظ قرآن کریم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    چنیوٹ کے مشہور مقامات:

    یوں تو چنیوٹ میں کئی مذہبی، ثقافتی، اورتاریخی مقامات ہیں لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل ہے۔

    بادشاہی مسجد چنیوٹ:

    بادشاہی مسجد چنیوٹ جو بادشاہی مسجد لاہور کی طرز پر بنائی گئی ہے چنیوٹ کی خوبصورت اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے. اسے پانچویں مغل بادشاه شاہ جہاں کے وزیر سعدالله خان نے سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا مسجد مکمل طورپر پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے تمام دروازے لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور آج تک اس کے دروازے بغیر ٹوٹ پھوٹ کے اپنی جگہ قائم ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کا فرش سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ مسجد کے صحن کا فرش سنگ مرمر سے بنا تھا۔ اسے 2013ء میں سنگ مرمر سے اینٹوں کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کا اندرونی فرش ابھی تک سنگ مرمر کاہی ہے۔ مسجد کے سامنے موجود شاہی باغ مسجد کے حسن میں اضافہ کر دیتا ہے۔

    عمر حیات محل:

    آپ کبھی جب شہر چنیوٹ آئیں تو کسی سے وہاں کے ’’تاج محل‘‘ کے بارے میں ضرور پوچھنا، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں منفرد
    اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔ کلکتہ کے ایک کام یاب تاجر شیخ عمر حیات نے ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لئے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔ کہتے ہیں 1935 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل تھا۔

    محل کی انفرادیت اور خاص بات اس میں لکڑی کا کام تھا۔ یہ سارا کام اس زمانے کے مشہور کاری گر استاد الٰہی بخش پرجھا اور رحیم بخش پرجھا نے انجام دیا تھا۔ لکڑی اور کندہ کاری کے کام کے حوالے سے ان کا چرچا انگلستان تک ہوتا تھا۔

    مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں گے تو آپ کی نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑے گی۔ داخلی دروازے کے ساتھ نصب دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔ خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔

    دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937 میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد تو گویا یہ محل مقبرہ ہی بن گیا۔

    شیخ عمر حیات تو دنیا میں نہیں رہے تھے، مگر ان کا خاندان یہاں آبسا تھا۔ گل زار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی، مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔

    وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گل زار اپنی ماں کے ساتھ آج بھی اسی محل میں آسودۂ خاک ہے۔
    عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اس خاندان کے نوکر یہاں کے مکین رہے۔ بعد ازاں اس عمارت کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں کے ایک ہال کو لائبریری میں بھی تبدیل کیا گیا مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔

    چنیوٹ کا پل:

    چنیوٹ کا پل (یا چناب نگر کا پل) کنکریٹ (concrete) سے بنا ایک پل ہے۔ جو چنیوٹ میں دریائے چناب پر واقع ہے۔ یہ 520 میٹر لمبا ہے جبکہ 17۔8 میٹر چوڑا ہے۔ یہ ختم نبوت چوک سے 4.6 کلو میٹر اور چنیوٹ ریلوے سٹیشن سے 3.3 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چنیوٹ کا مندر:

    چنیوٹ کے محلہ لاہوری گیٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ اوقاف کی ملکیت ایک پرانے مندر میں قائم ہے۔یہ مندر قیام پاکستان سے قبل 1930ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے کرتاری لال یا کلاں مندر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں سے گزرنے والی سڑک کو بھی مندر روڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مندر کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں سب سے نیچے والی منزل میں سکول جبکہ بیرونی طرف 11 دکانیں اور ایک گودام موجود ہے جبکہ دوسری منزل کو خستہ حالی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    اس عمارت کی چھت پر خستہ حال مندر کے کلس اور چوبرجیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ 1947ء میں جب ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک وجود میں آئے تو یہ مندر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا تاہم ہندو آبادی کی بڑی تعداد ہجرت کر کے بھارت چلی گئی جس پر اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد کبھی کبھار چنیوٹ کے قدیم ہندو باشندے اس کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آ جاتے تھے لیکن دسمبر 1992ء میں جب بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد ہندو زائرین کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔

    اس موقع پر یہاں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے مندر کو مسمار کرنے کی کوشش کی جو انتظامیہ کی مداخلت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے اس عمارت میں سکول اور پھر خواتین کو ہنرمند بنانے والا ادارہ کام کرتا رہا جبکہ 1997ء میں میونسپل کارپوریشن نے اس جگہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول قائم کر دیا۔

  • چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال – پولو کو کھیلوں کا بادشاہ یا بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے اور یہ شاہی کھیل صرف شاہی سواری یعنی گھوڑے پر ہی کھیلا جاسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنمنٹ منعقد کرایا گیا جس میں پولو کے شوقین لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور شندور کے سرد ترین موسم سے بھی لطف اندوز ہوئے، جہاں رات کے وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گرتا ہے۔ دیکھتے ہیں چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی خصوصی رپورٹ

  • تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    تین ملکی گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین کا آغاز ہوگیا

    ڈیرہ غازی خان۔ گرین ڈرائیو 2022 ایکو ٹورازم انٹرنیشنل موٹربائیک کمپین میں پاکستان سے ایران، ترکی اور آذربائجان تک بائیک رائیڈ ہوگی۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔پا کستان کے انٹرنیشنل بائیکر مکرم خان ترین دنیا کے دیگر ممالک میں پاکستان کی طرف سے شجرکاری اور امن کا پیغام لے کر بائیک رائیڈ کا آغازکیا ،مکرم ترین پاکستان کے میدانِ سیاحت میں ایک فعال اور سرکردہ شخصیت کا نام ہے موٹر بائیک ٹورازم کو بام عروج تک پہنچایا۔ مکرم ترین پاکستان کے معروف موٹر بائیک کلب "کراس روٹ موٹر سائیکل ٹریولرز کلب آف پاکستان” کے بانی و چیئرمین ہیں۔شجرکاری کے سلسلہ میں بھی مکرم ترین نے لوکل، صوبائی اور ملکی سطح پر متعدد موٹر بائیک رائیڈز کیں اور اب گرین ڈرائیو کے عنوان سے بین الاقوامی شجرکاری مہم پر روانہ ہو رہے ہیں جس کیلئے لاہور سے بائیک رائیڈ کا آغازکر چکے ہیں ، اور ہمسایہ مسلم ممالک ایران، ترکی اور آذربائجان کے سیاحتی دورہ کے ساتھ ساتھ شجرکاری اور ایکوٹورازم کے پیغام کو فروغ دیں گے۔مکرم ترین کی جنوبی پنجاب آمد پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے ڈاکٹر سید مزمل حسین نے ملتان تا فورٹ منرو بائیک رائیڈ کا اعلان کیا جس میں ملتان، میاں چنوں، جامپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان سے سیاحوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جنوبی پنجاب کے بائیکر ٹورسٹس مکرم ترین کے ہمراہ ڈیرہ غازی خان پہنچے جہاں مقامی سیاح برادری بشمول پروفیسر شعیب رضا، ہمایوں ظفر جسکانی، حاجی عبداللہ ، محمد اسلم بھائی،سعید خان، اسد کھوسہ، عمر خان لغاری، طاہر شاہ، و دیگر نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے، جس کے بعد انہیں ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کے مرکزی سنٹر پر لے جایا گیا، جہاں عالمگیرخان ، ذیشان خالد اور کاشف ممتاز بخاری نے ان کا استقبال کیا، ریسکیو کی تربیت بارے آگاہی دی، انہیں کنٹرول روم کا دورہ کرایا گیا انہوں نے ریسکیو کے لان میں بسلسلہ شجر کاری سایہ دار پودا لگایا۔ اس کے بعد ڈیرہ غازی خان کے مایہ ناز تاریخ دان عمران بھٹی مرحوم کے گھر تشریف لے گئے،جہاں ان کے بھائیوں سے ملاقات کی، عمران بھٹی کی سیاحت کے حوالے سے خدمات کو سراہا اور ایصال ثواب کے لیے فاتحہ پڑھی، اس کے بعد مکرم خان نے عمران بھٹی مرحوم کی خدمات انکے بڑے بھائی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔ مکرم ترین کو سخی سرور میں الطاف شیخ اور دیگر سیاحوںنے خوش آمدید کہا بعدازاں ملتان ، ڈیرہ غازی خان ، رحیم یار خان و دیگر علاقوں کے سیاح حضرات کے ساتھ فورٹ منرو گئے جہاں انہیں جبیب اللہ بلوچ،اسدا للہ ،محمد طارق اور دیگر نے ویلکم کیا یہ ٹور ڈھائی ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا جس میں وہ تین ممالک میں بائیک رائیڈ کریں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہونے جا رہا ہے کہ کسی پاکستانی بائیکر نے شجر کاری اور امن کے پیغام کو لے کر دنیا کے دیگر ممالک میں بائیک رائیڈ کی ہو۔

  • ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے

    ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے

    ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے ،دوروزسے ٹریفک بند،گاڑیوں کی لمبی لائنیں ۔
    باغی ٹی وی ۔ہنزہ قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل کو مقامی لوگوں نے اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کیلئے گذشتہ دو روزسے احتجاجی کیمپ لگاکربند کیا ہواہے،جس سے وہاں گئے ہوئے سیاح پھنس گئے ہیں اورانہیں کافی مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ،دو روز سے ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔


    روزگذرنے کے باوجود گلگت بلتستان اورہنزہ انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا،پھنسے ہوئے سیاحوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرکے فوری طورپرٹریفک بحال کرائی جائے۔

  • وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کے لوگ اپنے قدرتی حسن، مخصوص ثقافت، نرالے دستور، رنگا رنگ تقریبات اور نہایت دلچسپ رسومات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کیلاش لوگ خوشی کے ساتھ ساتھ غمی پر بھی اپنی مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں اور خصوصی طور پر اخروٹ والی روٹی بناکر فوتگی والے گھر بھجواتے ہیں اور اسی طرح خوشی و غمی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھاتے ہیں۔ تفصیل کیلئے چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی رپورٹ

  • سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    سانحہ مری۔۔۔ہم کب بڑے ہونگے تحریر :سیدہ ذکیہ بتول

    برف کی موٹی تہہ میں سسکتی زندگی کی کہانی جا بجا گردش کرتی تصویری جھلکیوں سے دیکھی جا سکتی ہے مگر اس شب زندگی جینے والوں پہ کیا بیتی یہ احساس ہر ذی روح کو چھلنی کیے جارہا ہے۔ مری ہمیشہ ہی سیاحوں کا خواب رہا چاندی کی طرح آسماں سے اترتی برف کوئی جادوئی سی داستان لگتی ہے۔۔اور اس جادو کو چھونے کی خواہش میں ہر سال لاکھوں لوگ ملکہ کوہسار کا رخ کرتے ہیں اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔۔بچوں کو سردیوں کی تعطیلات ہوئیں تو کئی خاندانوں نے سیر کے لیے مری کو گاڑی موڑ دی جسکو بریک ناگہانی موت نے لگائی۔۔
    برفباری شروع ہوئی تو موجودہ حکومت کے وزیر اطلاعات نے خوشخبری سنائی "ملک میں سیاحت فروغ پارہی لاکھوں گاڑیاں مری گلیات نتھیا گلی پہنچی ہیں”جبکہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو مری میں صرف پارکنگ کے لیے پچاس ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے ٹول پلازے سے جب گاڑیاں گزرتی رہیں تو حکومتی گنتی ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر چلتی رہی مگر برتری سے غفلت تک کے سفر نے صرف ایک رات لی اور ڈھیروں گاڑیوں کے ہجوم نے ٹریفک کو تعطل کا شکار کیا۔۔۔موسم نے بھی تیور دکھائے تو یخ ہواؤں نے برف برسانا شروع کر دی جسکی پیشگی اطلاع پہلے ہی سے محکمہ موسمیات دے چکا تھا۔۔مگر سیاحوں کو نہ روکا گیا نہ رہنمائی کی گئی سیاحتی ترقی کا ڈھول پیٹا جاتا رہا۔
    مری کو جاتی سڑک پر گاڑیاں رکی تو زندگی بھی تھمنے لگی اپنی مدد آپ کے تحت کئی لوگوں نے موت سے فرار کی راہ پکڑی تو برف نے جانے نہ دیا واپس اپنی گاڑیوں میں بیٹھنا آخری حل جانا۔۔اور انتظامیہ کی راہ میں نظریں ونڈ سکرینوں پہ جمی رہیں مگر سخت سردی میں رات فیصلوں میں بیت گئی کہ کیا کیا جائے؟؟ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا ہمیشہ ہی مری کی سڑک پر ایسے موسموں میں ٹریفک جام ہوجاتا ہے مگر حل کیا ہوسکتا ہے یہ ہم سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ سوچ سکے بلکہ ایک ایسی ریاست جہاں انسانوں کی زندگیاں انکا مال حکومتوں کی امانت ہوا کرتا ہے وہاں انہیں مرنے کے لیے بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا۔۔
    صبح جب گاڑیوں میں بے بسی سے مر جانے والوں کی ویڈیوز سامنے آئیں تو انتظامیہ نے بھی جاگنا مناسب سمجھا پھر ایسی پھرتیاں دکھائیں جیسے اختیار میں سب تھا بس مرضی نہیں تھی۔پاک فوج کی پیدل پانچ پلاٹون کو طلب کر دیا گیا ریسکیو ٹیمیں بھیجی جانے لگیں۔۔وزیر مشیر سب بیانات داغنے لگے اور ٹوئٹر پر حادثے کے بعد کیے جانے اقدامات چمکنے دمکنے لگے وزیراعظم صاحب نے بھی اپنے ٹوئٹری پیغام میں کہیں نہ کہیں سیاحوں کو مودود الزام ٹھہرانا مناسب سمجھا تو جناب سیاحت کے لیے اب لوگ سوئٹزرلینڈ تو جانے سے رہے جائیں گے تو مری تک ہی جائیں گے ناں۔۔
    جو ہونا تھا ہوگیا ایک ایک جان کا جانا حکومت کے سر۔۔مگر اب سوچنا یہ ہوگا کہ غفلت کہاں ہوئی تاکہ کہیں تو نظام کی درستگی کی طرف قدم بڑھایا جاسکے سب سے پہلے تو ‏محکمہ موسمیات پیش گوئی کے ساتھ ساتھ ریڈالرٹ جاری کر سکتا تھا پھر انتظامیہ مقررہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی داخلہ بند کروا سکتی تھی ریسکیو آپریشن میں تاخیر بالکل نہیں برتنی چاہیے تھی این ڈی ایم اے کہاں رہی رات بھر؟ مری میں موجود آرمڈ فورسز بیسز سے امداد طلب کی جاسکتی تھی۔
    اب وقت ہے کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا جائے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کوسول ڈیفنس کی لازمی تربیت دی جائے معلوم ہونا چاہیے کہ برف باری میں پھنسی گاڑی میں رات کیسے گزارنی چاہیے اور اگر ایسی مشکل صورتحال پیش آجائیں تو کون سے اقدامات سے جان بچائی جا سکتی ہے۔ صرف باتوں سے بات نہیں بڑھتی عملی اقدامات سے ہی ایسے حادثات کو روکا جاسکتا ہے۔
    موجودہ حکومت ہمیشہ سے ہی سیاحت کو فروغ دینے کا نعرہ لگاتی ہے مگر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے راستے آسان کیے جاتے ہیں لوگوں کے لیے سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے اپنے اداروں کو ایمانداری سے فرض شناسی پہ مامور کیا جاتا ہے انفرا اسٹرکچر بہترین بنانے کے لیے عملاً اقدامات کیے جاتے ہیں حالات کہیں نازک ہونے لگیں اور سیاحوں کی جان پہ بنی ہو تو فیصلوں میں تاخیر نہیں کی جاتی سیاحت کا فروغ محض دعووں سے ممکن نہیں۔۔پوری دنیا میں برف باری ہوتی ہے گاڑیاں بھی چلتی ہیں ٹرینیں بھی خوبصورت نظاروں کی دید کا شوق لیے سیاحوں کے لیے دواں دواں رہتی ہیں کہیں معمول زندگی رک نہیں جاتا علاقے بند کر دینے سے سیاحت اپنی موت آپ مر جاتی ہے تقاضا یہ ہے کہ حالات سازگار کیے جائیں ملک بھر سے لوگ برف باری دیکھنے ہی نکلتے ہیں۔ برف میں گاڑیاں پھنسنا، رات گاڑی میں گزارنا دنیا بھر میں معمول ہے مگر ایسے حالات میں بھاری بجٹ سمیٹتے ادارے کیوں سوئے رہتے ہیں؟ ہم نہ جانے کب سوچیں گے ایسے کئی حادثے ہوتے ہیں کچھ دن سرخیوں میں رہتے ہیں پھر ہم نہ سیکھنے کی رسم دہراتے ہوئے کسی نئے حادثے کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر سے ہنستی مسکراتی زندگیوں کو موت کے حوالے کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ہم بھی ناں۔۔ ناجانے کب بڑے ہونگے۔

    Zakia nayyar

    @Nayyarzakia

  • آئیں بلوچستان کی بلند ترین چوٹی "لوئی سر نائیکن” کی سیر کریں۔ تحریر: حمیداللہ شاہین  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    آئیں بلوچستان کی بلند ترین چوٹی "لوئی سر نائیکن” کی سیر کریں۔ تحریر: حمیداللہ شاہین  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    کسی بھی علاقے کی خوبصورتی کا اندازہ ان میں واقع پہاڑوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے بلوچستان جوکہ خوبصورتی کی سرزمین ہے جو سانس لینے والی آبشاروں، شاندار گہری وادیوں اور سرسبز پھیلے ہوئے پھلوں کے درختوں سے بھی مشہور ہے۔

     جنوبی بلوچستان میں واقع پہاڑی سلسلوں کا ایک وسیع علاقہ ہے، جس میں وسطی براہوی رینج ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔  مشرقی ترین کیرتھر رینج کو مغرب میں پب رینج کی پشت پناہی حاصل ہے۔  جنوبی بلوچستان کی دیگر اہم حدیں سنٹرل مکران رینج اور مکران کوسٹ رینج ہیں، جن کا جنوب کی طرف کھڑا چہرہ ساحلی میدان کو باقی سطح مرتفع سے تقسیم کرتا ہے۔  مکران کوسٹل ٹریک زیادہ تر سطحی مٹی کے فلیٹوں پر مشتمل ہے جس کے چاروں طرف ریت کے پتھر ہیں۔  خشک میدان کی تنہائی کو گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبے نے توڑ دیا ہے جو روڈ ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام کے ذریعے کراچی سے منسلک ہے۔

     بلوچستان کا وسیع ٹیبل لینڈ مختلف قسم کی جسمانی خصوصیات پر مشتمل ہے۔  شمال مشرق میں ژوب اور لورالائی قصبوں پر مرکوز ایک بیسن ایک ٹریلیس پیٹرنڈ لوب بناتا ہے جو پہاڑی سلسلوں سے چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔  مشرق اور جنوب مشرق میں سلیمان رینج ہے جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے قریب وسطی براہوی رینج میں شامل ہوتی ہے۔  بلوچستان کے شمال اور شمال مغرب میں توبہ کاکڑی رینج ہے۔ جو دور مغرب میں خواجہ امران رینج بن جاتی ہے

     پہاڑی علاقہ راس کوہ رینج کی شکل میں جنوب مغرب کی طرف کم شدید ہو جاتا ہے۔  چھوٹا کوئٹہ بیسن چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔  ایسا لگتا ہے کہ پورا علاقہ اونچی حدود کا نوڈ بنا ہوا ہے۔  راس کوہ رینج کے مغرب میں شمال مغربی بلوچستان کا عمومی لینڈفارم پہاڑوں سے منقسم نشیبی سطحوں کا ایک سلسلہ ہے۔  شمال میں چاغی پہاڑیوں کی سرحد حقیقی ریگستان کا علاقہ ہے جو اندرونی نکاسی پر مشتمل ہے۔

     بلوچستان میں 2900 سے زیادہ چوٹیاں ہیں اور ان پہاڑوں میں کل 104 معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔  لوئی سر نائیکان کوئٹہ کے مشرق میں زرغون پہاڑوں میں صوبے کی بلند ترین چوٹی ہے۔

     لوئی سر نائیکان بلوچستان کی بلند ترین چوٹی ہے اور اس کی اونچائی 3578 میٹر ہے جو 11738 فٹ تک بنتی ہے۔  زرغون پہاڑ جہاں لوئے سر نائیکان واقع ہے ، تین ہزار یا چار ہزار پرانے جونیپر درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔  پہاڑ پر چڑھنا بہت مشکل ہے   شمسی تابکاری اور موسم کی خراب صورتحال چڑھائی کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔  کچھ قبریں ایسی ہیں جنہیں ٹریک پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن لوگوں میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ان میں کون دفن ہیں۔

     تمام سمتوں میں جونیپر درختوں اور چوٹیوں کی ایک بڑی تعداد کی وجہ سے انسان الجھن میں پڑ جاتا ہے اور اپنے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔  لوگ ہمیشہ اپنا راستہ بھول جاتے ہیں اور بعض اوقات ان چوٹیوں اور درختوں میں کھو جاتے ہیں۔  اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے زرغون پہاڑ کے قریبی لوگوں نے لوئی سر نائیکن پر چڑھنے میں ایک شخص کی مدد کے لیے مختلف سمتوں میں کئی نشانات بنائے ہیں۔  اس چوٹی پر ایک بڑا پتھر ہے جو کسی شخص کے چہرے کی عکاسی کرتا ہے۔

     لوئی سر نائیکن اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے اور کوہ پیما اور سیاح ملک کے تمام حصوں سے اس کا دورہ کرتے ہیں۔  پنجاب کے فیصل آباد کے ایک مسافر احمد نے بتایا کہ یہ چوٹی بلوچستان کے لوگوں کے لیے قدرت کے خوبصورت تحفوں میں سے ایک ہے۔

     اگر آپ بلوچستان کی خوبصورتی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس چوٹی پر آئیں اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ قدرت نے اس علاقے کو نہ صرف قدرتی وسائل سے نوازا ہے بلکہ اس نے صوبے میں اس طرح کے خوبصورت سیاحتی مقامات بنائے ہیں۔

    ہم حکومت بلوچستان سے بھی تعاون کی اپیل کررہے ہیں کہ صوبہ میں سیاحتی مقامات کا خاص خیال رکھا جائے اور یہ اگاہی پھیلائی جائے کہ بلوچستان ہر ایک کے لئے محفوظ ہے، تاکہ زیادہ سے زیاد لوگ بلوچستان کا رخ کرے اور یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔

    @iHUSB

  • سیر وسیاحت تحریر:سعد اکرم

    سیر وسیاحت تحریر:سعد اکرم

     

    دنیا بھر میں سیاحت کا شعبہ سیر وتفریح ہی نہیں بلکہ اب موجودہ دور میں معیشت کا ایک پہیہ بن چکا ہے  اور دنیا بھر میں ہر سال 27 ستمبر کو یوم سیاحت منایا جاتا ہے سیاحت کی وجہ سے ایک ملک کے شہریوں کو دوسرے ملک دیکھنے کا شوق اور موقع ملتا ہے   سیاحت کے شعبہ میں سب سے پہلے سوئٹزرلینڈ  آسٹریا مریکہ کی کچھ ریاستیں جرمنی فرانس برطانیہ جہاں پر سیر وتفریح کے مقامات کے علاوہ سیر وتفریح کی سہولیات دی جاتی ہیں جس سے زرمبادلہ کا تبادلہ مختلف ملکوں کے درمیان جڑا رہتا ہے پاکستان میں 80 کی دہائی کے بعد پاکستان کے شمالی علاقہ جات خیبر پختون خواہ کے علاقے سوات مالم جبہ چترال شانگلہ کوہستان گلیات کاغان ناران  شوگران اور گلگت بلتستان کے خوبصورت مقامات غیر ملکی سیاحوں کی دریافت ہیں پنجاب میں بھوربن مری کیھوڑہ بہاولپور ڈیرہ غازی خان کے مقامات بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں

    سیاحت ایک شوق ہی نہیں بلکہ کل وقتی صنعت ہے اس سے وابستہ افراد ہوٹل ٹرانسپورٹ ٹریولنگ ایجنسی اور خوراک کی سہولیات دیتے ہیں لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے دوسرے ممالک کی طرح اب پاکستان میں بھی سیاحت ایک ادارہ بن کر فروغ پا رہی ہے جس میں حکومتی اور سماجی شراکت دار نہ خود مستفید ہوتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے کاروبار میں معاون کا کردار بھی ادا کرتے ہیں سیاحت انڈسٹری کی شکل اختیار کرنے کے بعد جہاں پر لاکھوں لوگ نہ صرف روزگار حاصل کرتے ہیں وہاں پر کروڑوں افراد سیر وسیاحت کرتے ہیں خن کیلئے ان سیاحتی مقامات پر  

    سرکاری یہ غیر سرکاری طور پر رہائش کھانا یہ ٹرانسپورٹ کے نرخنامے مقرر نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے ان سیاحوں سے سیاحتی انڈسٹری کا درجہ رکھنے والے افراد دگنا ریٹ وصول کرتے ہیں جس میں سیاحت کو کمی کا خطرہ ہے اس طرح سیاحتی ایریا جہاں پر خوبصورت مقامات موجود ہیں وہاں پر پختہ سڑکیں نہیں بنی ہوئی جس کی وجہ سے سیاحوں کو وہاں پہنچنا دشوار ہوتا ہے ایک طرف سیاحوں کو وہ مقامات دیکھنے کا موقع نہیں ملتا دوسری طرف ان ہی مقامات پر کھانے پینے یہ دیگر سہولیات کی فراہمی کے انتظامات نہ ہونے سے مقامی افراد بے روزگاری کا شکار ہیں اگر سیاحت کا دعوٰی سچ ثابت کرنا ہے تو حکومتوں کو ان مقامات کیلئے سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی طرف شعور اور آگاہی اجاگر کرنا اور ٹیکس کی شرائط ختم کرنا ہوں گی کاغان ویلی میں اب بھی پہاڑوں پہ کئ ایسی جھیلیں موجود ہیں جہاں پہ سیاح یہ مقامی افراد نہیں جا سکتے ہیں اس ویلی کی سب سے خوبصورت جھیل دودی پت سر پہ جانے کیلئے آپ کو دو دن پیدل ٹریک پر سفر کرنا پڑتا ہے بابو سر ٹاپ کے پاس دو خوبصورت جھیلیں موجود ہیں  دھرم سر جھیل اور سمبک سر جھیل جن پر سیاح اپنی فیملیز کے ساتھ نہیں جا سکتے وہاں پر کئ بار سیاحوں کے ساتھ لوٹ مار کے واقعات رونما ہوئے ہیں یہ علاقہ سال میں صرف پانچ مہینے کھلا رہتا ہے باقی برفباری کی وجہ سے سارا سال بند رہتا ہے اور یہی شاہراہ گلگت تک جاتی ہے صوبائی حکومت کو چاہیئے اس راستے پر پولیس چوکیاں قائم  کی جائیں تا کے سیاح اور مقامی افراد بھی بغیر کسی خوف خطرے  دن رات سفر کر سکیں یہ مقامی لوگوں کیلئے بہت فائدے مند ثابت ہو گا کیونکہ مقامی آبادی ٹورازم سے وابستہ ہے اور اس سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے گزشتہ دنوں جب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب ناران تشریف لائے تھے تو انھوں نے بھی ٹورازم کو پروموٹ کرنے کی بات کی تھی جو کچھ حد تک درست ثابت ہوئ جن میں کاغان ویلی سے اب جنگلات کا کٹاو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے بے دریغ جنگل سے لکڑی کاٹ کے سمگل کی جاتی تھی ٹراوٹ فش جو دریائے کنہار کی ایک نایاب سوغات ہے اور بلکل ختم ہونے کے قریب تھی  اس کے شکار پر بھی پابندی لگائ گئ اور شکار کرنے والوں کو  جرمانے اور سزائیں دی گی پاکستان میں دنیا کے خوبصورت ترین پہاڑ اور ان پہاڑوں پہ چار موسم اور خوبصورت جنگلات لہلہاتے کھیت اور درجنوں آبشار کھلے میدان اور پرانے قلعے سیاحت کے حب ہیں ضرورت اس امر کی ہے ان سیاحتی مقامات تک رسائی قمیتوں میں کمی اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے

    @SaadAkram_9           twiter handle

  • ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ

    ارفع کریم،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں پر نصب کریں گئے۔ عاصمہ اعجاز چیمہ

    فیصل آباد(عثمان صادق) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے وفد نے ڈائریکٹر جنرل پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی عاصمہ اعجاز چیمہ سے پی ایچ اے کے مرکزی دفتر میں ملاقات کی اور شہر کی سر سبز و شادابی و خوبصورتی کے حوالے سے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔چیمبر آف کامرس کے وفد کی طرف سے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے جاری کاموں کوسراہا اور مستقبل میں ادارے کی معاونت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ڈی جی نے وفد کو شہر کی خوبصورتی کے حوالے سے بنائے گئے ماسٹر پلان کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ارفع کریم رندھاوا،نصرت فتح علی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان سے منسوب مونومینٹس کو شہر کی مختلف شاہراؤں اور چوراہوں پر نصب کرانے کا پلان ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈسٹریل اور کاروباری شخصیات کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے چیمبر کو شہر کی تعمیر اور ترقی کے حوالے سیآئندہ بھی بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ شہر کو کلین اینڈ گرین بنایا جا سکے۔

  • خطہ پوٹھوہار تاریخی ورثہ  تحریر عزیزالرحمن

    خطہ پوٹھوہار تاریخی ورثہ تحریر عزیزالرحمن

    پوٹھوہار قدیم تاریخی خطہ ہے یہ مشرق میں دریائے جہلم اور مغرب میں دریائے سندھ کا درمیانی علاقہ ہے جو جنوب کی طرف سالٹ رینج اور شمال میں مری کے پہاڑی سلسلے سے ملتا ہے ۔ پوٹھوہار کا علاقہ اپنے اردگرد کے علاقوں سے بلندی پر واقع ہے جہلم’ چکوال’ اٹک’ راولپنڈی اور اسلام آباد پر مشتمل ہے۔

    پوٹھوہار کے تاریخی ورثوں میں پہلا تعارف روات قلعے سے ہے جس کی ایک قدیم تاریخ ہے۔ سولہویں صدی میں یہ قلعہ گکھڑ سردار سارنگ خاں کے قبضے میں تھا جس نے شیر شاہ سوری کے مقابلے میں مغلوں کا ساتھ دیا اور میدانِ جنگ میں شیر شاہ سوری کے بیٹے اسلام خان کے بڑے لشکر سے بے جگری سے لڑتا ہوا اپنے سولہ بیٹوں کے ہمراہ اپنی مٹی پر قربان ہوگیا۔ پوٹھوہار کے اس سپہ سالار کی قبر آج بھی قلعہ روات کے صحن میں واقع ہے۔ پوٹھوہار کے ایک اور تاریخی قلعے روہتاس جو جہلم کے قریب کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قلعہ شیر شاہ سوری نے 1541ء میں تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ قلعہ تعمیر کرنیوالوں نے جگہ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ یہ ایک بلند مقام تھا جہاں سے پانی زیادہ دور نہ تھا اور قلعے کی فصیل سے کشمیر کے راستے پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔

    پوٹھوہار کے ایک اور قلعے اٹک جو طرزِ تعمیر کا انوکھا شاہکار ہے جسے اکبر بادشاہ نے سولہویں صدی میں تعمیر کرایا تھا اور جس کی تعمیر کا بنیادی مقصد دریائے سندھ پر حملہ آوروں کی گزرگاہ پر نظر رکھنا تھا۔ دریائے سندھ کے کنارے یہ اہم قلعہ بعد میں بہت سے حکمرانوں کی آماجگاہ رہا۔ پوٹھوہار کے ایک پُراسرار شہر جسے دنیا ٹیکسلا کے نام سے جانتی ہے۔ ٹیکسلا کا شہر اور اس سے جڑی قدیم تاریخ کا تذکرہ اب عالمی سطح پر ہوتا ہے۔ ٹیکسلا کی تہذیب 700 قبل مسیح کی ہے۔ ٹیکسلا کی اسی سرزمین پر چندر گپت موریا نے ایک عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی تھی’ یہیں جولیاں کے مقام پر وہ قدیم ترین یونیورسٹی ہے جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ دنیا میں سنسکرت کا اولین گرامر نویس پانینی (Panini) بھی اسی درسگاہ میں پڑھاتا تھا۔ معروف دانشور چانکیہ کا تعلق بھی اسی یونیورسٹی سے تھا’ وہی چانکیہ جس کی کتاب ”ارتھ شاستر” کو لوگ اب بھی مملکت کے اسرارووموز سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 326 قبل مسیح میں یہیں سے سکندرِ اعظم ہندوستان کی حدود میں داخل ہوا اور پھر ایک مقامی راجہ پورس جس کی سلطنت میں پوٹھوہار کا علاقہ بھی شامل تھا نے سکندر کی پیش قدمی کو روک دیا۔ یہ تاریخ میں پنجاب کی پہلی مزاحمت تھی۔

    پوٹھوہار کا خطہ صوفیاء کرام سے بھی زرخیز ہے گولڑہ کے پیر مہر علی شاہ اور حضرت بری امام سرکار نے اس خطے میں دین اسلام کی بہت خدمت کی ہے ۔ راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر گولڑہ میں پیر مہر علی شاہ کا مزار ہے۔دوسری طرف اسلام آباد میں بری امام کا مزار بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ پوٹھوہار میں قدم قدم پر تاریخ کے خزانے ملتے ہیں۔ کئی تہذیبوں کے نشان ملتے ہیں۔ ایک طرف کٹاس راج کا قدیم ہندو مندر ہے’ پھر نندنہ کی وہ پہاڑی جہاں بیٹھ کر البیرونی نے زمین کے قطر کی پیمائش کی تھی۔ دوسری طرف مانکیالہ میں بدھوں کا ایک بہت بڑا سٹوپا ہے جسے توپ مانکیالہ کہتے ہیں۔ چکوال میں سکھوں کا قدیم خالصہ سکول اور حسن ابدال میں سکھوں کے روحانی پیشوا کی جنم بھومی پنجہ صاحب واقع ہے ۔

    پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر پوٹھوہار کے علاقے گوجر خان کے کیپٹن سرور شہید کو ملا۔ پوٹھوہار کا اعزاز ہے کہ دو نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والوں کا تعلق اس علاقے سے ہے کیپٹن سرور شہید اور لانس نائیک محمد محفوظ شہید۔

    پوٹھوہار قلعوں’ تاریخی عمارتوں’ صوفیوں اور بہادروں کا خطہ ہے جسے جاننے کا مرحلہ کبھی مکمل نہیں ہوتا۔

    ‎@The_Pindiwal