Baaghi TV

Category: تعلیم

  • آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے

    آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے

    لاہور (باغی ٹی وی رپورٹ)آن لائن تعلیم یا آن لائن فراڈ؟ سینکڑوں طلبہ شکار بن گئے
    تفصیلات کے مطابق آن لائن تعلیم کی بڑھتی مقبولیت نے جہاں تعلیمی رسائی کو آسان بنایا، وہیں جعلی کورسز اور سرٹیفکیٹس کے ذریعے فراڈ کے واقعات میں بھی خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں طلبہ جعلی آن لائن تعلیمی اداروں کا شکار ہوئے، جن سے لاکھوں روپے ہتھیائے گئے۔ یہ رپورٹ حالیہ واقعات، فراڈ کے طریقہ کار، اور بچاؤ کے اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں 9 جولائی 2025 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق فیصل آباد میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ایک منظم فراڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر واٹس ایپ اور فیس بک پر جعلی تعلیمی کورسز کی پیشکش کر رہا تھا۔ ملزمان نے معروف یونیورسٹیوں کی نقل کرتے ہوئے ویب سائٹس بنائیں اور طلبہ سے رجسٹریشن فیس کے نام پر 20,000 سے 50,000 روپے وصول کیے۔ ایک متاثرہ طالب علم احمد علی نے بتایا کہ اس نے "آن لائن ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس” کے لیے 40,000 روپے ادا کیے، لیکن کورس کے نام پر صرف چند غیر معیاری پی ڈی ایف فائلز موصول ہوئیں۔ ایف آئی اے نے تین ملزمان کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے جعلی سرٹیفکیٹس، لیپ ٹاپس اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات برآمد کیں .

    اسی طرح11 اکتوبر 2023 کو24 نیوز اردونے ایک رپورٹ دی کہ ایف آئی اے راولپنڈی نے ایک گینگ کے سرغنہ امیر حمزہ کو گرفتار کیا جو جعلی ملازمتوں اور آن لائن تعلیمی کورسز کے ذریعے فراڈ کر رہا تھا۔ ملزم نے واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے طلبہ اور بیروزگار افراد کو نشانہ بنایا۔ متاثرین سے "فنگر پرنٹس، میڈیکل اور پروسیسنگ فیس” کے نام پر 78,800 روپے فی کس وصول کیے گئے۔ مجموعی طور پر 32 متاثرین سے 25 لاکھ روپے ہتھیائے گئے۔ ملزمان نے جعلی میڈیکل اور فنگر پرنٹ سہولیات قائم کی تھیں اور طلبہ کو غیر معتبر سرٹیفکیٹس دیے گئے جو ملازمت کے لیے ناکارہ تھے

    توسنامہ نوائے وقت نے 26 فروری 2025 کو ایک خبر شائع کی کہ کراچی میں بھی جعلی آن لائن اکیڈمی نے سینکڑوں طلبہ سے لاکھوں روپے لوٹے۔ یہ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے منسلک ہونے کا دعویٰ کرتی تھی اور "آن لائن ایم بی اے” اور "آئی ٹی سرٹیفکیٹس” کے کورسز پیش کرتی تھی۔ ایک طالبہ عائشہ خان نے بتایا کہ اس نے 1.5 لاکھ روپے فیس ادا کی لیکن کورس غیر پیشہ ورانہ اساتذہ اور ناقص مواد پر مشتمل تھا۔ سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جعلی ہے اور کسی ادارے میں قابل قبول نہیں۔ ایف آئی اے نے اس اکیڈمی کے خلاف تحقیقات شروع کیں اور عوام سے ہوشیاری کی اپیل کی

    بی بی سی اردو کی 3 اکتوبر 2020کی ایک رپورٹ کے مطابق آن لائن تعلیمی فراڈ عالمی سطح پر بھی بڑھ رہا ہے۔ سائبر مجرمان جعلی ویب سائٹس، ای میلز اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر کم تعلیم یافتہ افراد کو جعلی کورسز اور سرٹیفکیٹس کی پیشکش کی جاتی ہے۔ سٹیفن کونان کے حوالے سے بتایا گیا کہ موبائل بینکنگ اور آن لائن پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال نے سائبر کرائم کو فروغ دیا۔ پاکستان میں بھی ایسی جعلی ای میلز اور واٹس ایپ میسجز عام ہیں جو لاٹری یا تعلیمی کورسز کے ذریعے ذاتی معلومات مانگتی ہیں۔

    اس طرح کے فراڈ کے طریقہ کار میں جعلی ویب سائٹس اور ایپس کا استعمال سرفہرست ہے، جہاں ملزمان معروف تعلیمی اداروں کی نقل کر کے طلبہ سے رجسٹریشن فیس وصول کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام پر پرکشش اشتہارات پھیلائے جاتے ہیں۔ متاثرین کو غیر معتبر سرٹیفکیٹس دیے جاتے ہیں جو ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کے لیے قابل قبول نہیں ہوتے۔ کئی معاملات میں بھاری ایڈوانس فیس وصول کر کے رابطہ منقطع کر لیا جاتا ہے جبکہ بعض جعلی ایپس یا ویب سائٹس صارفین کی ذاتی معلومات، جیسے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات چوری کرتی ہیں۔

    متاثرین کی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔ احمد علی (فیصل آباد) نے بتایا، "میں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس کے لیے 40,000 روپے ادا کیے، لیکن مجھے صرف چند پی ڈی ایف فائلز ملیں۔ جب میں نے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دینا بند کر دیا۔” اسی طرح عائشہ خان (کراچی) نے کہا، "میں نے ایم بی اے کورس کے لیے 1.5 لاکھ روپے دیے، لیکن سرٹیفکیٹ جعلی نکلا۔ اب میری ساری جمع پونجی ضائع ہو گئی۔” محمد عمر (راولپنڈی) نے بتایا، "مجھ سے ملازمت کے لیے کورس فیس کے نام پر 78,000 روپے لیے گئے، لیکن نہ تو ملازمت ملی اور نہ ہی سرٹیفکیٹ کسی کام کا تھا۔”

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے آن لائن فراڈ کے خلاف متعدد کامیاب آپریشنز کیے ہیں۔ فیصل آباد، کراچی اور راولپنڈی میں حالیہ چھاپوں کے دوران متعدد ملزمان گرفتار کیے گئے اور جعلی ویب سائٹس بند کی گئیں۔ ایف آئی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک پیشکشوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی فراڈ کی اطلاع فوری دیں۔ بچاؤ کے لیے چند اہم اقدامات شامل ہیں، کسی بھی آن لائن کورس میں رجسٹریشن سے پہلے ادارے کی ساکھ چیک کریں، بھاری ایڈوانس فیس مانگنے والے اداروں سے ہوشیار رہیں اور معاہدے کی شرائط غور سے پڑھیں۔ مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں اور مشکوک لنکس یا ایپس سے دور رہیں۔ فراڈ کا شبہ ہونے پر فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کریں (ہیلپ لائن: 111-345-786)۔ صرف تسلیم شدہ تعلیمی اداروں سے کورسز لیں اوردینی تعلیم کیلئے مقامی عالم یا مفتی سے مشورہ کریں۔

    آن لائن تعلیمی فراڈ پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو طلبہ کی مالی اور تعلیمی امنگوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایف آئی اے کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں لیکن عوام کی آگاہی اور احتیاط ہی اس خطرے سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ مستند اداروں سے رابطہ، مشکوک پیشکشوں سے گریز اور سائبر سیکیورٹی کے اقدامات سے اس طرح کے فراڈ سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

  • پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)پنجاب میں حکومتی رٹ زمین بوس، پرائیویٹ سکولز میں تندور جیسے کمروں میں تدریس جاری

    تفصیلات کے پنجاب بھر کی طرح ڈیرہ غازیخان میں بھی گرمی کی شدید لہر کے باوجود درجنوں پرائیویٹ اور پیف سکولز حکومتی احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے آج بھی کلاسز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر تعلیم پنجاب کی جانب سے 20 مئی 2025 کو صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی سکولوں میں 28 مئی سے موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا مگر متعدد نجی سکول مالکان نے اس نوٹیفکیشن کو نظرانداز کر کے تدریسی عمل جاری رکھا ہے۔

    شدید گرمی کے دوران ان سکولوں میں صبح 6:30 سے 10:00 بجے تک تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں، جنہیں والدین نے "تندور جیسے کلاس رومز” قرار دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ سکولوں میں نہ پنکھے چل رہے ہیں، نہ ہوا کا گزر ہے اور نہ ہی پینے کے ٹھنڈے پانی کی مناسب سہولیات موجود ہیں۔ ایسے میں بچوں کو پڑھنے پر مجبور کرنا کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    صوبہ پنجاب خاص طور ڈرہ غازیخان میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہےجو کہ 50 ڈگری تک محسوس کیا جارہا ہے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے ہیٹ ویو کی وارننگ جاری ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر وزیر تعلیم پنجاب نے 28 مئی سے سکولوں اور کالجوں میں تعطیلات کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بیشتر نجی سکولز مالکان نے اس فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا۔ بچوں کو سکول بلانے کا مقصد صرف فیسیں وصول کرنا اور بزنس کو برقرار رکھنا بتایا جا رہا ہے۔

    والدین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں میں والدین نے سکولز کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے اور پرائیویٹ سکولز مافیا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایک والد حبیب خان نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں مجبوراً بچوں کو بھیجنا پڑ رہا ہے کیونکہ فیسیں لی جا رہی ہیں اور غیر حاضری پر جرمانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوال یہ کہ کیا حکومت صرف نوٹیفکیشن جاری کرنے کے لیے ہے؟”

    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب کالجز جن میں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں 15 اگست تک بند کیے جا چکے ہیں تو پھر نازک عمر کے بچوں کے سکولز کھلے رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کی خاموشی اور اداروں کی بے حسی نے والدین کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سکولز (سرکاری و نجی) 28 مئی سے بند ہوں گے اور 15 اگست 2025 کو دوبارہ کھلیں گے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ جو سکولز حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ سکولز کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے، بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور بچوں کی صحت سے کھیلنے والے اداروں کو نشان عبرت بنایا جائے۔

    والدین کا سوال واضح ہےکہ کیا حکومت اپنی رٹ بحال کر پائے گی یا یہ خاموشی پرائیویٹ سکولز مافیا کے لیے کھلی چھوٹ ثابت ہو گی؟

  • پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات
    تحریر:سید ریاض جاذب
    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ کئی دہائیوں سے اصلاحات کا متقاضی رہا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور تعلیمی نظام کو اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم کے ذریعے ہی معاشی، سائنسی اور سماجی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگر پاکستان کو عالمی سطح پر مؤثر اور مضبوط مقام حاصل کرنا ہے تو اسے اپنے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز ایک جامع حکمت عملی کی صورت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

    سب سے پہلے نصاب کی باقاعدہ نظرثانی ناگزیر ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ، اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں اب بھی پرانے طرز کے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں۔ اس لیے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا، اور رٹے بازی کے بجائے تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں عالمی جامعات کے نصاب کا جائزہ لینا اور ان کے کامیاب ماڈلز کو مقامی حالات کے مطابق اپنانا سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

    ملک بھر میں یکساں تعلیمی معیار اور نصاب کا نفاذ بھی ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔ جب مختلف علاقوں اور اداروں میں مختلف نصاب رائج ہوتے ہیں تو اس سے تعلیمی عدم مساوات اور مواقع کی تقسیم میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے قومی سطح پر یکساں نصاب کی پالیسی نافذ کرنی ہوگی، جس سے تمام طلبہ کو برابر مواقع میسر آئیں گے اور تعلیمی نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو گی۔

    اساتذہ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے جامع پروگراموں کی ضرورت ہے۔ تدریس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کی تربیت، اور اساتذہ کی تعلیمی اسناد کی تصدیق جیسے اقدامات معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اساتذہ کے لیے بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور ریسرچ فیلوشپس کی حوصلہ افزائی کر کے ان کی علمی سطح کو بلند کیا جا سکتا ہے۔

    تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا کسی بھی اعلیٰ تعلیمی نظام کا مرکزی ستون ہوتا ہے۔ پاکستان میں تحقیق کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی مسابقتی تحقیقی گرانٹس کی فراہمی، اور یونیورسٹیوں و صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط کر کے عملی تحقیق کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کا دائرہ صرف سائنسی موضوعات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سماجی، معاشی اور انسانی علوم کی تحقیق بھی اتنی ہی اہم ہے۔ تحقیقی مقالوں کی اشاعت، عالمی جرائد تک رسائی اور پیٹنٹس کی رجسٹریشن پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

    تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ جب ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں، تو معیار خود بخود بہتر ہوتا ہے۔ والدین اور کمیونٹی کی شمولیت سے بھی اداروں کو مثبت فیڈبیک اور سماجی حمایت حاصل ہوتی ہے، جس سے طلبہ کی کارکردگی پر بھی خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ تعلیمی بورڈز اور ایچ ای سی کو اداروں کے سالانہ جائزے کا ایک مؤثر نظام مرتب دینا ہوگا تاکہ بہتری کی راہ ہم وار ہو سکے۔

    اعلیٰ تعلیم کو طلب اور روزگار کی ضروریات کے مطابق بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ جب فارغ التحصیل نوجوان مارکیٹ کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے تو بے روزگاری بڑھتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیمی اداروں کو ایسے مضامین اور پروگرامز متعارف کرانے ہوں گے جو عملی میدان میں مؤثر ثابت ہوں۔ انٹرن شپس، انڈسٹری سے براہ راست منسلک کورسز، اور ٹیکنیکل تعلیم کے شعبے کو بڑھاوا دے کر گریجویٹس کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    حکومت، ایچ ای سی، تعلیمی ادارے، صنعت اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کو باہم مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ صرف نصاب کی اصلاح یا اساتذہ کی تربیت کافی نہیں؛ یہ سب پہلو ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جنہیں یکجا کر کے ہی معیار اور رسائی کو ایک ساتھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اور پالیسی سازی میں ماہرین تعلیم کی شمولیت جیسے اقدامات تعلیمی ترقی کے سفر کو تیز کر سکتے ہیں۔

    پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے جو کسی بھی قوم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، لیکن اگر ان نوجوانوں کو معیاری تعلیم نہ دی جائے تو یہی اثاثہ بوجھ بن سکتا ہے۔ اس لیے تعلیمی نظام کو نوجوانوں کی ضروریات اور صلاحیتوں کے مطابق تشکیل دینا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی سنوار سکیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں۔

    عالمی درجہ بندیوں میں پاکستانی جامعات کا مقام بہت پیچھے ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تحقیق، نصاب اور تدریسی معیار میں کمی ہے۔ اگر ہم بین الاقوامی معیار کی تعلیم کو اپنا ہدف بنائیں تو نہ صرف ہمارے تعلیمی ادارے ترقی کریں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کرے تاکہ پاکستانی جامعات کو عالمی سطح کے تحقیقی و تدریسی مواقع میسر آ سکیں۔

    یہ تجاویز محض کاغذی نکات نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو روشن بنانے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان تجاویز کو پالیسی کی سطح پر اپنایا جائے اور ان پر عمل درآمد کے لیے نیک نیتی سے اقدامات کیے جائیں۔

  • محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ

    محکمہ تعلیم اور مُلا عاصی،تحریر؛ مبشر حسن شاہ

    کس کی داستان پہلے کہیں مماثلت اتنی ہےکہ خدشہ ہے پہلے کی پڑھ کر دوسرے کی سمجھ جائیں گے سب۔ بہرحال شہرہ آفاق مزاح نگار مشتاق یوسفی کی کتاب آبِ گم کے صفحہ نمبر 269 ، باب شہر دو قصہ ذیلی باب پنجم میں ملا عبد الصمد عرف مُلا عاصی کا قصہ لکھتے ہیں جس میں ایک مقام پر ذکر ہے بی اے کے امتحانات سے قبل مُلا عاصی کی ریاضت کا جو انہوں نے کامیابی کے حصول کے لیے کی۔ کوشش ہے اپنے الفاظ میں بیان کروں مشابہت ہوگی چونکہ متاثرین مشتاق یوسفی سے ہوں لہذا قلم و اسلوب میں ان کا رنگ جھلکے گا کیونکر کہ مشتاق یوسفی کو جس نے بھی پڑھا سیکھالازمی یہ کمال صاحب کتاب کا ہے نہ کہ صاحب تحریر کا۔

    ملا عاصی نے امتحان کی تیاری شروع کرنے کا آغاز کیا سب سے پہلے بازار سے سونف اور دھنیا خشک لائے اور اس کو ملا کر سفوف تیار کیا۔ اس کے بعد تمام تصاویر جو ان کے کمرے میں تھیں(انڈین ایکٹریسسز کی) اتار کر خاندان کے بزرگوں کے فوٹو ٹانگے ۔ مثنوی زہر عشق اور اس نوع کی کتب صندوق میں بند کیں۔ ہر کام اور عیش و عشرت چھوڑنے کا تہیہ کیا کرسمس کے دن سے یوم امتحان تک اور دل ہی دل میں Both days inclusive کہہ کر مسکرا دیے کی تیاری کے دباو کے زیر اثر چہرہ دیکھنے سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے لہذا آئینے پر کپڑا ڈالا۔سر منڈایا کہ دماغ کو تراوٹ ملے اس پر سرسوں کے تیل کی مالش کرائی 7 بادام توڑ کر ان کو پانی میں بھگویا کہ تاروں کی چھاوں میں رات بھر بھیگے بادام حافظہ بڑھاتے۔ علی الصبح بادام نوش فرمائے اور پھر بازار سے پچھلے پانچ سالہ پر چے، خلاصے اور کتب خرید کر لے آئے اس ذخیرہ میں سابق طلبا نے قلم زد اہم حصوں کے علاوہ ان خطرناک مقامات کی بھی نشاندہی کی تھی جہاں اکثر طلباء فیل ہوئے بعض حصے تو مثل لائٹ ہاوس تھے جو علم کے سمندر میں بھٹکے مسافروں کو انتباہ کرتے تھے کہ یہاں کئی اداس نسلیں مدفون ہیں۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے سب سے لائق طالب علم کے پاس جاکر اس کی تمام کتب مستعار لیں محلے کے ایک لڑکے کو اجرت پر مقرر کیا کہ کہ ان کتب کو دیکھ کر اہم انڈر لائن حصے میری کتب پر بھی انڈر لائن کر دو اپنی کتب نے سائیکل پکڑی تمام تر درسی کتب معہ خلاصہ جات ایک پرانی کتابوں کی دکان سے خریدے اور پچھلے سال ٹاپ کرنے والے طالبعلم کے گھر جاکر اس کے اہم حصوں پر نشان لگوا لیے۔ واپسی پر کھڑے پیر پریس سے دو مہریں Important اور Most important بنوا کر ایک ٹاپر کی منت کی کہ بقدر اہمیت مہریں لگاتے جاو۔ اس کے بعد مُلا عاصی نے تمام کتب کے وہ حصے جو اہم نہ تھے قینچی سے کاٹ دیے کہ کتاب کی صخامت سے طبیعت پر بوجھ بڑھتا ہے۔ اس کے بعد ذاتی مطالعہ، تجربہ اور کشف کی بنیاد پر چند مزید اسباق بھی کتر دیے۔ اس کے بعد جب ملا عاصی کو لگا کہ ممتحن کے خلاف آدھی جنگ تو وہ جیت چکے لہذا اب پڑھ لینا چاہیے تو انہیں یاد آیا کہ سب کتابیں پڑھ کر امتحان دینا کہاں کی دانائی ہے انسان کو خود سے بھی کچھ پتا ہونا چاہیے لہذا فیصلہ کیا کہ زندگی اور بینائی نے اگر وفا کی تو امتحانات تک چیدہ چیدہ کتب کے اہم حصے ایک نظر دیکھ لیں گے کس واسطے کہ ہر کتاب کو عرق ریزی سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ جب امتحان سر پہ پہنچا تو کمرہ نشیں ہو کر قریبی پڑوسی سے کہا کہ باہر سے تالا لگا دو تاکہ یکسو ہو کر پڑھائی ہو سکے لیکن شام تک دماغ کا تالا نہ کھلا۔ لہذا پڑھائی شروع نہ کی۔ ایک ہندو طالبعلم سے برہمچا رہنے کا گُر پوچھا تھا اس نے کہا تھا کہ سوئی پاس رکھو اور کسی بھی بری تمنا یا خیال کے آنے پر انگوٹھے میں چبھو لو خیر ایک گھنٹے میں دونوں انگوٹھے پن کُشن بن چکے تھے اب کی بار پاوں کے انگوٹھے میں پن چبھونی پڑی۔

    رات ڈھلے سائیکل لی اور صبح تک شہر کے تمام پرنٹنگ پریس کی ردی بوروں میں بھر کر گھر منتقل کی اور کاغذ کی کترنیں جوڑ کر اندازے قائم کیے جس جس استاد پر شبہہ تھا کہ پیپر سیٹر ہو سکتا اس کے گھر کے ملازمین بچوں تک کو کھنگال ڈالا۔ گھر کے دروازے پر رات گئے جاکر مراقبہ کیا۔ جب امتحان میں ایک ہفتہ رہ گیا تو تمام کاوشوں پر مبنی دس سوال کا ایک پرچہ آوٹ کیا اور پوری رات گھوم کر علم کے متلاشی طلباء میں بانٹا۔ ستم بالائے ستم کہ ان کے آوٹ کردہ دس میں سے آٹھ سوال پہلے پرچے میں آ گئے اور ملا عاصی نے امتحان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا کہ جس علم سے ذاتی فائدہ ہو رہا ہو وہ کشف باطل کر دیتا۔ غرض یہ کہ جتنی محنت انہوں نے کورس کے انتخاب اور پرچہ آوٹ کرنے میں کی اس کا ایک چوتھائی کر لیتے تو امتحان پاس ہوجاتا۔

    محکمہ تعلیم کے بارے سمجھ تو گئے ہوں گے مختصراً عرض کر دیتا ہائیر سیکنڈری، ہائی ، مڈل پرائمری، پی ایس ٹی ، ای ایس ٹی، ایس ایس ٹی، ایس ایس، ٹرپل ایس، ہیڈ ٹیچر، ایچ ایم ایس ایم، سب کا حال بیان ہے الگ الگ ذکر قارئین کو الجھائے گا۔ اسمبلی میں ناخن چیک، بال چیک، یونیفارم چیک، ٹائی، کیپ بیلٹ لازمی۔ بعد از اسمبلی ناظرہ قرآن و ترجمہ بلحاظ کلاس ۔ منتھلی سٹوڈنٹ رینکنگ پروفارما، ٹیچر رینکنگ، حاضری رجسٹر پر الگ ایپ پر الگ روزنامچہ ترتیب دینا۔ غیر حاضر طلباء کے گھروں میں رابطہ، داخلہ مہم اس کے ذیل میں کارنر میٹنگز، یوپی ای رجسٹر بنانا۔ داخلے اوپن تو ہیں ہی گھروں سے جاکر آوٹ آف سکول طلباء لانے داخلے کے ہر سال ٹارگٹ اکتوبر میں پھر نیا داخلہ ٹارگٹ، ڈی ورمنگ ہر سال، الیکشن، مردم شماری زراعت شماری، ووٹرز کا انراج، ویری فیکیشن، میٹرک نہم دہم۔ ایف اے امتحان، پیپر مارکنگ، پر یکٹیکل امتحان ڈیوٹی ، پولیو، کورونا چلو گزر گیا وہاں بھی رہی ڈیوٹی۔ گندم خریداری سرکاری طور پر جب ہو ٹیچرز کی ڈیوٹی کاکردگی ایپ پر زیبرا کراسنگ سکول کی ہر ہفتے پکچرز، سارا سال ڈینگی ایکٹوٹیز، سکول کے اندر شجر کاری، صفائی پنکھے تک صاف جالے ختم۔ پینے کا صاف پانی واش پوائنٹ واش کلب، سکول مینیجمنٹ کونسل اجلاس این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈ بینک کے چکر ایک ہیڈ چینج ہو تو سائن اپ ڈیٹ کرانے کے لیے دو رنگین تصاویر، شناختی کارڈ بائیو میٹرک ویری فیکیشن سیلری سلپ کوسگنیٹری کی پینشن بک یا زمین کا فرد معہ فزیکل حاضری بینک۔ سکول میں کوئی درخت جو کٹوانا ہو دیوار کے پاس ہو یا موٹر کے تو درخواست ہائر اتھارٹی کو ان کی جانب سے محکمہ جنگلات کو فارورڈ محکمہ جنگلات کا وزٹ درخت کی سرکاری قیمت کا تخمینہ اس کے بعد کم از، کم بولی کا ریٹ مقرر، منتھلی پیرنٹ ٹیچر میٹنگ کاروائیاں درج لگ۔ بزم ادب معہ رجسٹر کاروئی۔ Tablet پر اخراجات کا انراج الگ کیش بک پر مینوئل الگ ۔ باتھ روم صفائی، کریکٹر بلڈنگ کونسل اب سکول بیس ایمرجنسی پلان، سالانہ ایکشن پلان، ورک پلیس تحفظ جواتین کمیٹی، COT فارم، اے ای او وزٹ ایم ای اے وزٹ، ٹیچر ڈائری مکمل لیسن پلان بنے ہوں۔ دفتر سے روزانہ تقریباً ڈاک اس سب میں پڑھائی کا تعلق ملا عاصی کی پڑھائی جتنا رہ جاتا
    ۔ اوپر سے 2018 کے بعد بعدبھرتی بند۔ ریشنلائزیشن معطل، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔

  • وزیراعلیٰ ہو تو مریم نواز جیسی…تحریر: نورفاطمہ

    وزیراعلیٰ ہو تو مریم نواز جیسی…تحریر: نورفاطمہ

    جب مریم نواز نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو وہ پنجاب کی تاریخ میں یہ منصب سنبھالنے والی پہلی خاتون بنیں۔ ان کی یہ حیثیت نہ صرف ایک تاریخی لمحہ تھی بلکہ تبدیلی کی نوید بھی۔ وزیراعلیٰ کے طور پر ان کے ابتدائی اقدامات نے واضح کر دیا کہ وہ صرف منصب کی روایتی ذمہ داری نہیں نبھانا چاہتیں بلکہ حقیقت میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہیں۔ان کے کئی اقدامات عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکے ہیں، لیکن ان میں سے ایک سب سے نمایاں اور متاثر کن قدم طلبا کے لیے دی جانے والی سکالر شپ اسکیم ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو نہ صرف سمجھتی ہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہی ہیں۔ سکالر شپ کا مقصد یہ ہے کہ مالی مسائل کسی طالبعلم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ پنجاب کے ہزاروں طلبا و طالبات، جو تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے، اب اپنی تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہو رہے ہیں۔سکالر شپ سے کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع مل رہے ہیں۔باصلاحیت طلبا اب اپنی مکمل توجہ تعلیم پر مرکوز کر سکتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان ہی کسی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔خاص طور پر طالبات کے لیے یہ سکالر شپ ایک حوصلہ افزا قدم ہے، جو والدین کو ان کی تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دے رہا ہے۔عوام کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر مریم نواز کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ طلبا، والدین اور اساتذہ سب ہی اس سکیم کو ایک مثبت اور دور رس اثرات رکھنے والا قدم قرار دے رہے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے پنجاب کی طرح ہونہار سکالرشپ سکیم کی بھی منظوری دی ہے جو کہ انتہائی احسن فیصلہ ہے۔ یہ سکیم ملک بھر کے طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کرے گی، تاکہ تعلیم کے میدان میں قابلیت کی بنیاد پر انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے۔مریم نواز نے پنجاب میں طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد کو بڑھا کر ایک لاکھ 10 ہزار کر دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے،تعلیم دوست اقدامات سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہریوں کے دل جیت لئے ہیں،

    وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ہونہار سکالر شپ ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا گیاہے،ہونہار سکالر شپ سکیم کے لئے طلبہ واٹس ایپ،لینڈلائن نمبراور سوشل میڈیا پررجوع کر سکتے ہیں۔ صبح9بجے سے شام5تک ہونہار سکالر شپ ڈیسک طلبہ کی رہنمائی کرے گا۔ ہونہار سکالرشپ کے ڈیسک پر انفارمیشن اور درپیش ممکنہ شکایات سے متعلق فوری حل کے لئے رابطہ کیا جا سکے گا۔ طلبہ ہونہار سکالر شپ کے لئے ہیلپ لائن نمبر042-99231903-4پر رابطہ،0303-4002777 اور0303-4002999 پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔ ہونہار سکالر شپ کے لئے آن لائن complainthonhaar@punjabhec.gov.pkپر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ہونہار سکالر شپ کے لئے آن لائنhonhaar@punjabhec.gov.pkپر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    noor fatima

  • رپورٹ پٹواری مفصل ہے.تحریر:مبشر حسن شاہ

    رپورٹ پٹواری مفصل ہے.تحریر:مبشر حسن شاہ

    قدرت اللہ شہاب اپنی خود نوشت شہاب نامہ کے باب ڈپٹی کمشنر کی ڈائری میں عیدو نامی سائل کی داستانِ حسرت بیان کی ہے۔ انبالہ سے ہجرت کرکے ضلع جھنگ میں آباد ہونے والے اس مہاجر کو متروکہ اراضی الاٹ ہوئی تھی جس پر کاشتکاری کے ذریعے وہ اپنے خاندان کی کفالت کر رہا تھا مگر اس دوران کسی بے رحم پٹواری نے الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی دھمکی دی تو اس نے گورنر پنجاب، وزیراعلیٰ، وزیر بحالیات، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام کو داد رسی کیلئے درخواست بھجوا دی۔ لاٹ صاحب، وزیراعلیٰ، وزیر بحالیات و دیگر حکام کے دفاتر کا طواف کرنے کے بعد یہ درخواستیں ’’برائے مناسب کارروائی‘‘ سرکاری افسروں کی میز پر آتی گئیں اور فرض شناس افسر رپورٹ طلب کرنے کیلئے اسے ماتحت حکام کی طرف بھجواتے چلے گئے یہاں تک کہ یہ تمام درخواستیں افسر مجاز یعنی اسی پٹواری کے پاس جا پہنچیں جو اس غریب سائل کی اراضی ہڑپ کرنے کے درپے تھا۔ اس نے ازراہ تلطف، سائل عیدو کو پٹوار خانے طلب کیا اور ان درخواستوں کا پلندہ اس کے منہ پر دے مارا۔ اس کے بعد پٹواری نے لگی لپٹی رکھے بغیر تنک کر کہا ’’اب تم یہ درخواستیں جھنگ، ملتان یا لاہور لے جائو اور ان کو اپنے سالے باپوں کو دے آئو‘‘عیدو اس تذلیل و تحقیر کے بعد بھی کوئے داد رسی کے طواف سے باز نہ آیا اور سرکاری دفاتر کی خاک چھانتا رہا۔ اس دوران پٹواری نے اس کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی اور ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے بعد رپورٹ تحریر فرمائی ’’جناب عالی! سائل مسمی عیدو فضول درخواست ہائے دینے کا عادی ہے۔ اسے متعدد بار سمجھایا گیا کہ اس طرح حکام اعلیٰ کا وقت ضائع کرنا درست نہیں، لیکن سائل عیدو عادتاً درخواست گزار ہے اور اپنی اسی عادت سے مجبور ہوکر بارہا درخواستیں دیتا ہے ۔ سائل کا چال چلن بھی مشتبہ ہے اور اس کا اصل ذریعہ معاش فرضی گواہیاں دینا ہے۔ مشرقی پنجاب میں اس کے پاس کوئی زمین نہیں تھی۔ بمراد حکم مناسب رپورٹ ہذا پیش بحضورِ انور ہے‘‘ گرداور اور قانون گو نے یہ لکھ کر درخواستیں تحصیلدار کے دفتر بھجوا دیں کہ ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘۔ درخواستیں اسی گول دائرے میں گھومتی ہوئی ان اعلیٰ حکام کے پاس واپس آگئیں جنہوں نے ’’برائے مناسب کارروائی‘‘ مارک کیا تھا۔ اس دوران ہر سرکاری افسر نے ایک ہی جملے کا اضافہ کیا ’’رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘‘۔اور آخر میں

    آج فیس بک پر ایک ویڈیو نظر سے گزری پہلے تو صرف نظر کیا کہ آواز سگاں کم نہ کند رزقِ گدارا۔ پھر واپس سکرول کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ سپیکر پنجاب اسمبلی ایم پی اے حلقہ 179 قصور محمد احمد خان ایک میٹنگ کی صدارت فرماتے ہوئے گویا تھے کہ اساتذہ کا کوئی ایشو ہے ایک نہیں چھ سے سات جگہ میرے علم میں آیا ہے کہ ٹیچرز اپنے بزنس کر رہے ہیں اور سکول انہوں نے اپنی جگہ 10000 پر بندہ رکھا ہوا ہے خود لے رہے ہیں پچاس ساٹھ ہزار ستر ہزار اور گھوم رہے ویسے صاحب کی اپنی تنخواہ کتنی ہے؟؟؟؟9 لاکھ پچاس ہزار ماہانہ معہ ایک شاندار سرکاری رہائش بجلی گیس مفت , میڈیکل مفت سکیورٹی کے نام پر مسلحہ لشکر بھی۔ ابھی جولائی 24 میں جناب سپکیر صاحب نے 10 کروڑ کی LC300 لینڈ کروزر سرکار سے لی ہے اسی لیے تو کسی انکل سرگم لے نام سے مشہور کامیڈی اداکار نے کہا ہے گریڈ 1 تا 17 والے مخلوق اور اوپر گریڈ والے اشرف المخلوقات ہیں۔ اس ویڈیو میں اشرف المخلوقات نے برہمی کا اظہار کیا اور فرمایا اساتذہ کی اپنی جگہ بندہ رکھنے کی شکایت پر تمام انچارج صاحبان کو مطلع کریں کہ ان کو بھی معطل کیا جائے گا۔ ساتھ ہی فیک انرولمنٹ کی بھی خبر لی جس پر سیکرٹری ایجوکیشن خالد نذیر وٹو نے ایک نیا شوشا چھوڑا (لغت میں لفظ شوشا موجود ہے معنی جان بوجھ کر غلط خبر یا اطلاع دینا جس سے حالات کا توازن آپ کے حق میں ہو جائے )

    سیکرٹری صاحب نے فرمایا کہ ہم کیمراز انسٹال کر رہے ہیں صبح گیٹ سے ہر ٹیچر گزرے گا ریکارڈ ہوگا کہ وہ سکول آیا اور جعلی داخلہ بھی کرنا اب ناممکن ہے کیونکہ ایک کیمرہ دفتر سکول میں ہوگا کہ جو داخلہ ہو نظر آئے۔ اس کے بعد سوچا کہ آپ کو وہ لطیفہ پڑھنے کا حق حاصل ہے جو اوپر بیان ہے۔ تعلیم کو اس ملک میں اتنا ہی سنجیدہ لیا جاتا ہے جتنا بس تصاویر میں کافی دِکھے۔ اب المیے دو ہیں ایک ایک کرکے دیکھتے پہلا ستم کہ اساتذہ کے ستر ہزار پر متعرض کون ہے؟ 9 لاکھ 50 ہزار ماہانہ لینے والا اور اساتذہ نے بندے کیا رکھنے 10000 کہاں سے لینا ہاں آپ سیاست دانوں نے ڈیروں پر بندے ضرور بٹھا رکھے ہیں ستر ہزار تنخواہ پر ایسے اعتراض جیسے ٹیچر ملک کا 75 فیصد بجٹ استعمال کر رہے یہ ہے المیہ کہ استاد کی تنخواہ پر بھی اعتراض اب انہوں نے اپنے پیسوں سے کچھ لیا ہو تو پتہ چلے کہ 70000 کتنی خطیر رقم ہے۔ یہ لوگ وہ اشرف المخلوقات ہیں جن کو نہ کسی فارمیشن کا علم نہ ان کے پاس اساتذہ کے مسائل کا ڈیٹا بس سطحی معلومات لے کر حملہ سیدھا استاد پر۔ دوسرا المیہ یہ ہے کہ سیکرٹری صاحب نے جو تجویز دی ہے وہ بھی ناقابل عمل ہے . پنجاب کے کُل مڈل سکول 7223 ہیں پرائمری سکول 26993 ۔ ہائی سکول8081 اور ہائیر سیکنڈری سکول 848 ( ریفرنس
    https://sis.pesrp.edu.pk/
    تو کل ملا کر سکول ہوئے 43142 ۔ ہر سکول میں صرف 2 کیمرے لگیں اورر 2 کیمرے 15000 سے 20000 تک مالیت کے ہیں 43142 سکول میں دو دو کیمرے ہوئے 86294 جن کی مالیت 1,725,880,000 اب خود فیصلہ کریں نہ کوئی پلاننگ نہ ڈیٹا نہ مکمل صورتحال کا علم لیکن رپورٹ مفصل ہے

  • خیبرپختونخوا میں تعلیم کا جنازہ.تحریر: جان محمد رمضان

    خیبرپختونخوا میں تعلیم کا جنازہ.تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں تعلیمی شعبہ ایک بدترین بحران سے گزر رہا ہے، جس کی ایک جھلک ہمیں مختلف اعداد و شمار میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ بحران صرف نظام تعلیم کے بگڑنے کا نہیں، بلکہ ایک سنگین قومی مسئلے کا عکاس ہے جس کا اثر نہ صرف ہمارے بچوں کی تعلیم بلکہ ان کے مستقبل پر بھی پڑ رہا ہے۔آج خیبرپختونخوا میں 5.5 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جو کسی بھی قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ جب بچے اسکول سے باہر ہوں، تو نہ صرف ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اسکولوں کی کمی اور معیار کی پستی کے باعث بہت سے بچے تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے محروم ہو گئے ہیں، اور یہ ایک نسل کی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے اندر 591 سرکاری اسکول ایسے ہیں جو خالی پڑے ہیں۔ ان اسکولوں کی عمارتیں ویران پڑی ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ مقامی سطح پر اساتذہ کی کمی اور مناسب انتظامیہ کا نہ ہونا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 3,000 سے زیادہ اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جیسے پینے کا صاف پانی، باتھرومز، مناسب کلاس رومز، اور درسی کتابیں وغیرہ۔جنوبی وزیرستان جیسے علاقے خصوصاً تعلیم کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان علاقوں میں امن و امان کی خرابی کی وجہ سے بچوں کے لیے اسکول جانا ایک خواب بن چکا ہے۔ یہاں نہ صرف اسکولوں کی تعداد کم ہے بلکہ بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اگر ان علاقوں میں تعلیم کی حالت بہتر نہ کی گئی تو آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا عمل مزید متاثر ہو گا۔

    خیبرپختونخوا کے اساتذہ کا احتجاج اور ہڑتال بھی تعلیم کے بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور بہتر کام کے حالات کے مطالبات پر حکومت کی طرف سے سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ، تعلیمی بجٹ کی بدانتظامی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اسکولوں کی حالت مزید بگڑ چکی ہے۔اس تمام تر تباہی کے باوجود، خیبر پختونخوا کے حکمران سوشل میڈیا پر انقلاب کے خواب بیچ رہے ہیں۔ وہ عوام کو نئے منصوبوں اور تعلیمی اصلاحات کی امید دلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان منصوبوں کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر انقلاب کا نعرہ لگانا اور عملی طور پر کسی تبدیلی کے بغیر کچھ کرنا صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

    اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ اثر پشتون بچوں پر پڑ رہا ہے۔ یہ بچے اس بدترین تعلیمی بحران کا شکار ہیں اور ان کا مستقبل دن بہ دن مزید تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ بچے نہ صرف تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی میں بھی پیچھے رہ جائیں گے۔ہماری حکومتی قیادت اس صورتحال کے لیے ذمہ دار ہے۔ تعلیمی بحران کو حل کرنے کے بجائے، وہ صرف بیانات دیتے ہیں اور کسی بھی عملی قدم سے گریز کرتے ہیں۔ ان کی نااہلی کی وجہ سے اس وقت خیبرپختونخوا کے بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ان کے مستقبل کا کوئی چہرہ نظر نہیں آ رہا۔

    یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں آتا ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ حکومتی ناکامی ہے؟ یا یہ تعلیم کے نظام کی بنیاد میں موجود گڑبڑ ہے؟ ہر حال میں، ہمیں اس بدترین صورتحال سے نکلنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں نہ صرف تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنانی ہے بلکہ اساتذہ کی فلاح و بہبود اور بچوں کی تعلیم کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے ہوں گے۔تعلیمی بحران کا حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن ہے، جو اس وقت نااہلی اور بدانتظامی کا شکار ہیں۔ اس بحران کو حل کرنے کے لیے ہمیں ایک مضبوط حکومتی پالیسی اور قوم کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں اور انہیں ایک بہتر تعلیم فراہم کر سکیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ہم اپنے بچوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچانے میں ناکام رہیں گے۔

    jaan

  • قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

    قصہ درد:حکومت پاکستان، چیف منسٹر اور وزیر تعلیم کے نام
    تحریر:مبشرحسن شاہ
    ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
    قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    جب سے ہوش سنبھالا ہے، شعبۂ تعلیم کے بیڑے کو طلاطم خیز موجوں سے نبرد آزما پایا۔ بہرحال، چلتے، گرتے، لڑکھڑاتے 2011 میں سولہ سالہ تعلیم مکمل کر لی اور بزعم خود نکلے تیری تلاش میں (سفرنامہ مستنصر حسین تارڑ، "سفر یورپ”) کے مصداق کام کاج یعنی نوکری کی تلاش میں نکلے تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ حقیقی معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔ ویسے تو یہ محاورہ ہے، لیکن عملی زندگی کی پہلی 10 ہزار ماہانہ تنخواہ کے عوض نوائے وقت کے ہاتھ لگے تو پہلی ہی اسائنمنٹ بازار سے اشیائے خور و نوش کے دام معلوم کرنا تھی اور پھر اس پر خبر نگاری کہ مہنگائی کے مارے عوام کی حالت کیسی ہے۔

    خیر وقت کی ایک خوبی ہے کہ وہ رکتا نہیں۔ 2017 میں ایک پروانۂ تقرری گھر پر بذریعہ ڈاک موصول ہوا، جب کہ ہم تو "چڑی بیچاری کی کرے، ٹھنڈا پانی پی مرے” پر عمل کرتے ہوئے ایمان لا چکے تھے کہ سرکاری ملازمت کا صرف ٹیسٹ ہوتا ہے، بھرتی نہیں۔ خیر طوالت سے اختصار کی جانب چلتے ہیں۔ یکم اگست 2017 کو 22 ہزار 380 روپے کے عوض سرکار نے ہماری خدمات بسلسلۂ تدریس حاصل کر لیں۔ تقرری کا پروانہ تھما کر 35 کلومیٹر کے فاصلے کی مدد سے ہماری خطیر تنخواہ کو مینج کیا گیا چونکہ تنخواہ کی زیادتی سے افراطِ زر کا خدشہ تھا۔

    بھنور میں گھری ناؤ کے پتوار تھامنے کا موقع 2019 میں ملا جب پرائمری اسکول کی ہیڈ شپ کے نام پر دو کنال رقبے پر ہمارے نام کا سکہ چلنے لگا۔ نوکری کبھی بھی ہمارے لیے باعثِ آمدن نہ رہی لیکن اب وجۂ عزت بھی نہ رہی کیونکہ ہیڈ ماسٹری میں عزتِ سادات بھی گئی۔

    حکم ہوا مچھروں کا قلع قمع کرو، ارشاد پر کورنش بجا لا کر تلاشِ دشمنِ نمرود شروع کی۔ شام کو ایک عدد مچھر گرفتار ہوا۔ "مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی” لہٰذا مچھر کو قتل کیا، ہتھیلی پر لیے پھرتے، جو جان وہ بچانے کے لیے مقتول کی لاش کا فوٹو بھیجا اور لگے متوقع توصیف پر اظہارِ عاجزی کی مشق کرنے کہ اتنے میں تختِ لاہور سے بگڑے تیور تختِ بابری سے ہوتے دو سے ضرب کھاتے ہم پر ایسے تقسیم ہوئے کہ سب خساروں کو جمع کر کے یہ حاصل نکلا کہ دلِ نادان کی کوئی بات نہ مانی جائے۔

    پھر تو ایک طوفان تھا جس کی زد میں آئے۔ نوکری کے دیے کو جلانے کے لیے سانسوں کی مالا پر "جی سر” کہتے 7 سال ایسے گزرے جیسے کسی شہرِ ویران پر وقت گزرے۔

    2024 میں بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا کہ "میاں! تیرے آن تے کھڑاک بڑے ہون گے” (لاہور انارکلی 2024 میں لگا بینر)۔ دل نے تسلی دی کہ معاملات بہتر ہوں گے۔ تختِ لاہور پر بنتِ خاتونِ اول براجمان ہوئیں تو مراد راس کے محاذ پر رانا سکندر حیات کو تعینات کیا گیا۔ اب سمجھ آئی کہ سکندر نوجوانی میں کیوں قتل ہوا تھا۔

    علم ہوا کہ وزیرِ اعلیٰ و ادنیٰ دونوں تعلیمی میدان میں کودے ہیں، لیکن یہ کودنا وہ کودنا نہیں جو عشق آتشِ نمرود میں کودا تھا، بلکہ یہ تو "کھیل سکتے نہیں، اب ہمیں بھی نہیں کھیلنے دیں گے” والا کودنا ہے۔ ایس ایس ایز، اے ای اوز دو کیس، جو انتہائی آسانی سے ایک پُرسکون ماحول میں ایڈریس کیے جا سکتے تھے، ان کو ہر حکومت نے ایسے خراب طریقے سے ڈیل کیا گویا یہ لوگ انسان نہ ہوں۔

    سال کا کنٹریکٹ، ہر 365 دن کے بعد کیا ہوگا کی غیر یقینی، کسی بھی سرکاری ملازمت میں پہلے سے سرکاری ملازم ہونے کا فائدہ صفر، حکومتی پروگرامز (نظامت حج ایک مثال) کے لیے اہل نہیں کہ کنٹریکٹ پر ہیں۔ اے ای اوز کو 2017 میں بھرتی کیا تو یہ شق احکاماتِ تقرری میں شامل تھی کہ اے ای اوز اسکولوں میں بطور ٹیچر ٹرانسفر نہیں ہوں گے، یہ انتظامی عہدہ ہے، اس پر ہی رہیں گے۔ پھر کسی نے صلاح دی کہ ان کا سروس اسٹرکچر تو بنا لیتے، یہ ساری زندگی اے ای او ہی رہیں گے؟ اس کا سکہ شاہی حل یہ نکلا کہ کچھ کو سکولوں میں بطور ٹیچر بھیجا، کوئی مرضی سے گیا، کوئی سکول سے نکال کر نواز دیا گیا۔

    ایم ای ایز کو مسلط کرنے والے گجرات سے کبھی رائے ونڈ تو کبھی بنی گالا، اور ان کی نازل شدہ مخلوق کے ستائے اساتذہ کبھی معطل تو کبھی پیڈا۔ حد یہ ہے کہ ایم ای ایز کے حوصلے اتنے بڑھے کہ خواتین اساتذہ محکمۂ تعلیم کے مجاز افسران سے چھٹی مانگیں تو جواب ملا: "ایم ای اے صاحب سے خود پوچھو پہلے”۔

    بندہ پوچھے، یہ سکیل و تعلیم میں کم (محکمہ زراعت) کے نیم خواندہ، "یس سر، آرڈر از آرڈر” کے پروردہ اپنی ذات میں ہیرو کس اتھارٹی کے تحت چھٹیاں منظور کر رہے؟

    اوپر سے کبھی ایک لایعنی بات بصورتِ حکم، کبھی دوسری۔ اب ملکۂ معظمہ نے کہا پودے لگانے، "کلین اینڈ گرین ایپ” اساتذہ کے سر میں دے ماری۔ سڑکوں پر زیبرا کراسنگ، اساتذہ رنگ لے کر ہر اس رنگ میں ڈوبیں، جس نے جس رنگ میں چاہا انہیں رسوا کرنا…

    گندم خریداری، ووٹر لسٹس، کورونا ڈیوٹیز، پولیو مہم۔ یو پی ای ٹارگٹ (یونیورسل پرائمری ایجوکیشن ) اس کی مزید شاخیں، انرولمنٹ ڈرائیو، اینرجنسی انرولمنٹ کمپین،وژن 2025 ( پاکستان برینڈ اشتہاروں والا) ہر سکول ہر روز داخلہ فروری و مارچ، مردم شماری،پوسٹ اینموریشن سروے، آؤٹ آف سکول چلڈرن۔ زراعت شماری ۔ سٹوڈنٹ ہیلتھ پروفائل(بچوں کو ہسپتال لے کر جانا واپس آنا ) فروری یوم یکجہتی کشمیر پر اساتذہ انگیج، 15 فروری جشن بہاراں و شجر کاری ہر بچہ ہر استاد ایک پودا، مارچ کلچر ڈے، افسران بالا کے مزید بالا افسران کو خوش کرنے کے لیے فرمائشی پروگرامز، اب ڈے ٹائم Meal اساتذہ کے ذمے وصولی و تقسیم( پائلٹ پراجیکٹ ابھی چند اضلاع تک محدود) یوم مزدور، یوم آزادی ( کون سی؟)
    یومِ قائد، یومِ اقبال، یومِ پاکستان دیگر اہم ایام، سب پر اساتذہ کو پابند کیا جاتا کہ تصویر بھیجیں مکمل انتظامات کے ساتھ فنکشن کر کے۔

    ادھر 2018 کے بعد سے اب تک ٹیچر جابز نہ دے کر پہلے موجود اساتذہ سے کام لیا جاتا ہے ،آدھے ریٹائر، کچھ فوت، کچھ مستعفی ،کچھ معطل، کچھ کو ریموول فرام سروس کا تمغہ۔ ابھی چند یوم قبل ایک انوکھا حکم نامہ بھی جاری ہوا قحط سالی حالیہ خشک موسم میں مسائل پر میٹنگ، اساتذہ و بچوں سے نماز استسقاء پڑھوائی گئی ، ایک ایپ ہے ایس آئی ایس اس سے اساتذہ واقف ہوں گے اس ہربچہ داخل کرتے وقت آن لائن کوائف میں غیر ضروری طوالت، PMIU, PITB کے درمیان مالی تنازعات ،اساتذہ کی اے سی آر چھٹیاں وغیرہ اکثر زیر التوا،کارپورل پنیشمنٹ کے جھوٹے کیس، پاکستانی پرچم کے ساتھ کشمیر کا پرچم ( اب لگتا آیا فلسطین کا بھی) سکول میں کریکٹر بلڈنگ کونسل، واش کلب، ڈے ماسٹر، ( اساتذہ الگ بچے الگ) اس سب میں آپ سوچ رہے ہوں گے پڑھائی کدھر ہے؟؟؟؟؟؟ جی میں بھی یہی رونا رو رہا ہوں کہ ہڑھانے دیں۔

    اب میڈیم چیف منسٹر نے ویژن 2025 میں ارشاد فرمایا ہے’ پڑھتا پنجاب، بڑھتا پنجاب، ادھر وزیر کم گینگسٹر جٹ کو قلم مل گئی اس نے تباہی تو تعلیم کی، کیا تباہ شدہ کو مزید تباہ بچہ بھی کر لیتا ،یہاں منتری صاحب نے نیا کام شروع کیا کہ اساتذہ مفت میں اتنی تنخواہیں لیتے، چور، نکمے جس وقت جو دل کیا کہہ دیا ،اپنی تنخواہ 900 فیصد بڑھا کر بھی کم ہماری ہر طرف سے کاٹ کر بھی زیادہ۔ ساتھ ہی سکولوں کی نجکاری، اساتذہ کو ایسے ڈیل کرنا جیسے یہ اساتذہ نہیں بھارتی جاسوس ہیں ۔

    وزیر تعلیم جناب عزت مآب سر سکندر کی ڈکشنری بھی نئی نکلی۔ سرکاری ٹویوٹا ویگو کو "ڈالا” کہتے ہیں اور ہر روز کسی نہ کسی محکمے کے افسر کو تڑی لگاتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ "میں ریفرنس ٹھوکیا تے پنشن بند۔ بدھ نوں میٹنگ اے ہوم منسٹر نال، جمعرات نوں میں کڑاکا کڈھاں گا۔ سی او صاحب تہانوں سی او میں لایا اے۔” اللہ کرے کہ کہیں بوری بند لاش یا "نامعلوم افراد” والی دھمکی نہ آ جائے۔

    لکھنے کو بہت کچھ ہے، کہنے کو ہزار شکوے، لیکن ہم فقیروں کی طبیعت بھی غنی ہوتی ہے۔ سرکاری سکول نجی نہ کریں، ملازمین کو مستقل کریں اور پنشن قوانین کے حوالے سے کوئی درمیانی راستہ نکال لیں۔ باقی جو جوتے اور پیاز ہم کھا رہے ہیں، کھاتے رہیں گے۔ بلکہ اگر واقعی جوتے مارنے کی نوبت آئی تو دو کا حکم ہوگا، افسران بالا احتیاطاً چار ماریں گے اور ہم عادتاً دو مزید کھا لیں گے تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔

    تعلیم کو سنجیدگی سے نہ لینا آپ کی مرضی، ہم اساتذہ کافی ہیں، کچھ نہ کچھ کر لیں گے۔ بس آپ ذرا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ کیا کسی دن کوئی استاد یا استانی خودکشی کرے گا تو تب آپ کو ہماری بات سمجھ آئے گی؟

    کتنے اساتذہ کو صرف اپنا حق مانگنے پر گرفتار کریں گے؟ کتنوں کو پولیس کے ہاتھوں ذلیل و رسوا کرائیں گے؟ تھانوں میں مار، دھکے، گالیاں… کل رات سے حکومت اساتذہ کے مطالبات کے جواب میں انکار اور احتجاج کے ردعمل میں تادیبی کارروائیاں کر رہی ہے۔ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔

    بہرحال، 21 فروری سے اساتذہ ایک بار پھر سڑکوں پر ہیں۔
    سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے،
    چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے۔

    ہم لوگ تو کچھ گزاری، کچھ گزری، باقی جو قیدِ حیات بچی ہے وہ بھی کاٹ لیں گے۔ لیکن سوچیں! تعلیمی نظام کو برباد اور غیر فعال کر کے آنے والے سالوں میں نقصان کس کا ہوگا؟ ملک کا!

    خدارا، کنٹریکٹ بیسڈ سیاست دانوں! پانچ سالہ مدت کے لیے کسی اور محکمے پر تجربات کر لو۔ یہاں تو جسے نشانہ لگانے کی مشق کرنی ہو، سیب ہمارے ہی سر پر رکھا جاتا ہے۔

    عام پاکستانی جو یہ تحریر پڑھے، وہ اسے سمجھے اور دوسروں کو بھی بتائے، کیونکہ یہ نیرو نما حکمران چند سال بعد بانسری بجاتے بیرونِ ملک ہوں گے، جبکہ یہاں رُل جانا ہم نے ہے۔

    ہم نے کچھ زیادہ نہیں مانگا—بس نوکری کی مستقلی اور پنشن قوانین پر نظرثانی۔ اگر یہ بھی کر دیں تو بھلا، نہ کریں تو بھی خیر! لیکن کم از کم ہمیں پڑھانے تو دیں، سکول تو نہ بیچیں!

    ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے، اللہ مدد کرے گا، ملکی حالات بہتر ہوں گے اور یہی نظام بہتری کی طرف گامزن ہوگا۔ بچوں سے بنیادی، سستی اور معیاری تعلیم نہ چھینیں۔ غریب کا بچہ بمشکل ہی افسر بنتا ہے، لیکن اگر تعلیم چھین لی گئی تو یہ واحد راستہ بھی بند ہو جائے گا۔

    صاحب! آپ کی کرسی سلامت، یہ بیچارے کمپیٹیشن میں نہیں آتے۔ یہ تو زیادہ سے زیادہ 10ویں کے بعد فوج میں، 12ویں کے بعد بیرونِ ملک، یا بی اے/ایم اے کے بعد معمولی نوکری کے خواب دیکھتے ہیں۔ اب ہماری جیب پہلے ہی بہت وزنی ہو چکی ہے، اب بس کر دیں!

    کل آپ ہی کے بچوں نے آپ کی کرسیاں سنبھالنی ہیں، مگر تب تک حکمرانی کے لیے رعایا ہی باقی نہیں رہے گی۔

    جلوسِ اہلِ وفا کس کے در پر پہنچا ہے؟
    (اساتذہ، حکومتی ایوان کے باہر وعدہ وفا ہونے کے منتظر)
    نشانِ طوقِ وفا زینتِ گلو کر کے
    (کنٹریکٹ ختم ہونے کو ہے، مگر پھر بھی فکرِ تعلیم باقی ہے)

    کوئی تو حبسِ ہوا سے یہ پوچھتا، محسنؔ
    ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے؟

  • مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟

    مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام اعزاز یا مذاق؟
    تحریر: اعجازالحق عثمانی
    زمانۂ حال کی سیاست میں خیرات، امداد اور فلاحی سکیمیں عوامی مقبولیت کے حصول کا مجرب نسخہ سمجھی جاتی ہیں۔ انہی سکیموں میں، سوشل میڈیا تشہیر سے بھرپور ایک مریم نواز کا سکالرشپ پروگرام بھی شامل ہے، جسے بظاہر غریب اور مستحق طلباء کی تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اس پروگرام کی تفصیلات میں جب گہرائی سے جھانکا جاتا ہے تو حقائق کے پردے ہٹتے ہیں اور اس سکیم کے مضمرات ایک عجیب تمسخر کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔

    سکالرشپ کی مد میں یونیورسٹیوں میں طلباء کے لیے قریباً 50 سے 90 لاکھ روپے تک کے وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بظاہر متاثر کن ہیں اور عوامی ذہن میں یہ گمان پیدا کرتے ہیں کہ ان وظائف کی مدد سے مستحق طلباء کے تعلیمی مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر جب اس رقم کو 200 سے 300 طلباء کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے تو ہر طالب علم کو محض 15,000 سے 20,000 روپے ہی میسر آتے ہیں۔یہ رقم جو سننے میں تو کسی "اعزاز” سے کم نہیں لگتی، حقیقتاً ایک مذاق کے مترادف ہے۔ موجودہ تعلیمی حالات میں، جہاں یونیورسٹیوں کی ایک سمسٹر کی فیس 50,000 سے ایک لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، وہاں یہ رقم طالب علم کی ضرورتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی پورا نہیں کرتی۔ نتیجتاً، نہ تو یہ وظائف تعلیمی بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو پاتے ہیں اور نہ ہی مستحقین کو کسی حقیقی ریلیف کی امید دلاتے ہیں۔

    اس سکالرشپ پروگرام کے ساتھ جو ایک اور سنگین مسئلہ جڑا ہوا ہے، وہ مریم نواز کے یونیورسٹیوں کے دوروں کے دوران پیدا ہونے والی صورتِ حال ہے۔ ان کے دوروں کی وجہ سے اکثر یونیورسٹیوں میں کرفیو جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تقریباً 95 فیصد طلباء کو چھٹی دے دی جاتی ہے، اور بعض اوقات تو یونیورسٹیاں اپنے جاری امتحانات تک کو منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔یہ صورت حال ان دوروں کا مقصد تعلیمی مسائل کو حل کرنا نہیں، بلکہ کسی اور طرف کو اشارہ کرتی ہے۔ طلباء کی پڑھائی اور ان کے تعلیمی معمولات کو تہ و بالا کر کے ایسے دورے تعلیمی اداروں کی خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

    طلباء کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اور حوصلہ افزائی ہر معاشرے کی ترجیح ہونی چاہیے۔ مگر اس سکالرشپ پروگرام میں طلباء کو دی جانے والی معمولی رقم اور اس کے ساتھ کی جانے والی تشہیر طلباء کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف سیاسی رہنما عوامی فنڈز سے وظائف دے کر خود کو "عوام کا مسیحا” ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دوسری طرف طلباء کو ان کی بنیادی تعلیمی ضرورتوں سے محروم رکھا جاتا ہے۔بوسیدہ تعلیمی نظام، انفراسٹرکچر اور دیگر کئی مسائل میں ہماری جامعات گھری ہوئی ہیں۔ مگر یہ خان اور شریف ہمیں چند ہزار کے پیچھے لگائے رکھیں گے۔ تاکہ ہم اصل مسائل کو بھولے رہیں۔

    یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ایسے پروگراموں کے حقیقی اثرات کو سمجھیں اور ان میں اصلاحات کے ذریعے تعلیم کے میدان میں حقیقی انقلاب برپا کریں، نہ کہ محض سیاسی فوائد کے حصول کے لیے عوامی وسائل کا استحصال کریں.

  • پاکستان میں تعلیمی نظام منافع بخش کاروبار کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان میں تعلیمی نظام منافع بخش کاروبار کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی یونیورٹیوں کی اکیڈمک ریکنگ 2024 میں یورپی اور امریکی یونیورسٹیوں کا غلبہ رہا۔U) (ARW کے مطابق 2024 امریکہ کی کیمبرج میں واقعہ ہارورڈ یونیورسٹی نے مسلسل 22 سال سہر فہرست مقام حاصل کیا۔ دو اور امریکی ادارے سیٹنورڈ یونیورسٹی اور میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی یونیورسٹیوں کا غلبہ رہا۔ غلبے کی وجہ ان ممالک نے اقراء پر عمل کیا۔ ان اداروں میں پڑھانے والے پروفیسرز اپنی بھرپور توجہ اپنے اداروں پر اور پڑھنے والے بچے اور بچیوں پر دیتے ہیں۔ مسلم دنیا سمیت پاکستان کے پروفیسرز اور سکولوں کے اساتذہ کی بھرپور توجہ پرائیویٹ سکول او رکالجز پر ہوتی ہے جہاں آمدن کے ذرائع زیادہ ہوتے ہیں۔ ملک کے گلی کوچو ں میں پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کی بھرمار ہے جو منافع بخش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں پڑھانے والوں کی سرپرستی میں یہ کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ جس ملک میں تعلیمی اداروں کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کردیا جائے اس کی عالمی ریکنگ کیا ہوگی ؟ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران بھی اس منافع بخش کاروبار میں ملوث ہیں۔

    امریکہ اور یورپی ممالک کے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد خدمت کے جذبے سے جبکہ ہمارے ہاں اپنے مفادات دیکھے جاتے ہیں پاکستان اور ریاست کے نشیمن پر بجلیاں گرانے والے صرف تعلیمی اداروں میں بیٹھے اعلی افسران ہی نہیں سیاسی گلیاروں میں بیورو کریٹس میں ،سول انتظامیہ میں ، پولیس کے اعلی افسران میں۔ محکمہ مال میں،صحت کے اداروں میں۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ عوام کی اکثریت ملاوٹ میں ملوث ہے ۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ ، ادویات میں ملاوٹ ، سرکار دو عالمۖ کا حکم ہے کہ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ کیا علماء ،مشائخ نے کبھی اس طرف توجہ دی ؟ انسانی زندگیوں سے کھلواڑ ہو رہاہے ۔ کھانے پینے اور ادویات میں ملاوٹ کا سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ زندگیوں کا جھلسا رہا ہے ۔ علما، مشائخ ، عدلیہ ،بیورو کریسی ، سول انتظامیہ یا خود عوام نے غور کیا کہ ہم مخلوق خدا کے ساتھ یہ ظلم ہوتا کیو ں دیکھ رہے ہیں۔ گذشتہ 77 سالوں سے ہم انتشار اور خلفشار کا شکار ہیں آخر کیوں غور و فکر کیں ۔ ہم خدا اور اس کے رسولۖ کے نافرمان تو نہیں ؟ تعلیمی حوالے سے ایک مغربی دانشور نے کیا خوب کہا تھا:
    تعلیم و تدریس ایک بہترین پیشہ اور بدترین تجارت ہے۔