Baaghi TV

Category: تعلیم

  • نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    نفاذِ اُردو: افادیت و اہمیت — اشرف حماد

    اردو ہماری تہذیبی زبان ہے جو بہت شیرین اور خوبصورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص اچھی اور رواں اردو بولتا ہے، اس کی بات سنتے ہوئے لطف آتا ہے۔ اردو کو ہندوستان کی Native زبان قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی پیدائش ہندوستان میں ہی ہوئی۔ باقی زبانیں تو باہر سے آئی ہوئی ہیں۔ فارسی مغلوں کے ساتھ آئی جبکہ عربی زبان عربوں نے درآمد کی۔ اسی طرح انگریزی انگریزوں کے ساتھ یہاں آئی۔ لیکن اردو زبان نے یہیں جنم لیا اور یہیں نشوونما پایا۔

    متحدہ ہندوستان میں اردو زبان فطری، خلقی اور رواداری کی زبان ہے جسے بلا تمیز رنگ و نسل و مذہب بڑے شوق اور اعتماد سے بولتے ہیں۔ یہ گنگا جمنی ثقافت کی روادار زبان ہے۔ اردو بر صغیر کی جدید زبانوں میں ایک زبان ہے لیکن جس تیزی سے اس نے لسانی اور زبان دانی کے اعتبار سے جلد ہی ارتقائی منازل طے کیں وہ رفتار حیرت انگیز ہے۔

    انہوں نے اردو زبان سے عربی کے الفاظ نکال کر سنسکرت زبان کے چند الفاظ شامل کرکے اسے ہندی زبان کا نام دے دیا، جس کی وجہ سے ہندی اردو تنازعات نے جنم لیا۔ جبکہ اس سے قبل سب اردو زبان ہی بولتے تھے اور ہندوؤں کی اصل زبان سنسکرت تقریباً معدوم ہوچکی تھی۔

    ہم نے جو حال اپنی ثقافت کے ساتھ کیا اس سے کہیں برا حال ریاستی سرکاری زبان اردو کے ساتھ کیا۔ ہم نے ریاست میں اردو کے بجائے انگریزی زبان نافذ کردی اور گزشتہ تہتر سال سے یہی زبان نافذ ہے۔ سرکاری و پرائیویٹ دفاتر، تعلیمی ادارے اور عوامی مقامات انگریزی زبان سے ہی بھرے پڑے ہیں۔ اردو زبان کی یہ اہمیت ہے کہ ہر بچہ معاشرے سے یہ زبان سیکھ لیتا ہے، اس کے بعد اسے انگریزی سیکھنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر اس کے سیکھنے میں کچھ کمی رہ جائے یا نہ سیکھ پائے تو اس کےلیے جینا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں تو ہر جگہ انگریزی کا راج ہے اردو زبان کو پوچھتا ہی کون ہے؟ وہ جیسی کیسی بھی بول یا سمجھ لی تو کام چل جاتا ہے لیکن انگریزی میں کسی قسم کی کمی پائی گئی تو کتنا ہی محب وطن کیوں نہ ہو جاہل سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ دفاتر میں جائے تو وہاں انگریزی میں حکمنامے پکڑا دیے جاتے ہیں جنہیں پڑھنے اور سمجھانے کےلیے انگریزی دان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ عوامی مقامات پر انگریزی اشارات پر مشتمل بورڈ لگے ہوتے ہیں جنہیں ایک ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ شخص کےلیے پڑھنا نہایت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

    اسکول و کالج میں انگریزی کی کتب کی بھرمار ہے۔ انگریزی کا مضمون تو لازمی ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی جس کتاب پر نظر دوڑائی جائے سبھی انگریزی میڈیا کی ہی دکھائی دیتی ہیں اور طلبا بھی انہیں انگریزی مضمون ہی تصور کرتے ہیں اور رٹے لگا کر امتحانات میں کامیابی بلکہ زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اصل میں یہ کتا ب کہہ کیا رہی ہے؟ یعنی اصل علم و فن پر توجہ دینے کے بجائے پوری توجہ انگریزی زبان پر صرف کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حاملین اسناد (ڈگری ہولڈرز) تو بہت ہیں لیکن ماہرین فن نہیں ہیں۔

    ترقی اصل میں کسی خاص زبان کے سیکھنے سے نہیں ہوتی بلکہ ترقی کے لیے علوم و فنون میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اردو بھی تو ایک زبان ہے لیکن اس کے ماہرین کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ اس لیے لوگ اردو کے بجائے انگریزی پر زیادہ جان کھپاتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ انگریزی میں ماسڑز کی ڈگری کی بہت اہمیت ہے۔ ہمارے تمام امتحانات انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ کوئی طالب علم کسی علم و فن میں مہارت حاصل کرلے یا کسی دوسری زبان بالخصوص اردو میں ماسٹرز کرلے بلکہ حقیقی معنوں میں ’’ماسٹر‘‘ ہوجائے، لیکن اسے ہر قیمت پر انگریزی زبان میں ماہر ہونا پڑتا ہے۔ اگر وہ انگریزی میں ماہر نہیں تو کوئی امتحان بالخصوص آئی اے ایس وغیرہ جیسے اہم ترین امتحانات پاس کرنا ناممکن ہے۔

    پھر انگریزی زبان کا ایسا رعب ہمارے اذہان پر چھایا ہوا ہے کہ ہمیں اردو میں دو چار الفاظ انگریزی کے ملائے بغیر سکون ہی نہیں ملتا۔ بلکہ دوران گفتگو اردو میں انگریزی کے دو چار الفاظ نہ بولنے والے کو پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یعنی تمام علوم و فنون میں ماہرین کو خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کےلیے اردو زبان کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔

    اگر صرف انگریزی ہی اعلیٰ تعلیم کا معیار ہوتی تو یورپ و امریکا میں ریڑھی بان بھی روانی کے ساتھ انگریزی بولتے ہیں لیکن انہیں تو تعلیم یافتہ خیال نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے معاشرے میں علم کا معیار ہی کچھ اور ہے۔ ہمارے کچھ مفکرین کا خیال ہے کہ اردو زبان میں لچک ہے اور وہ دوسری زبانوں کے الفاظ قبول کرتی ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم خود ہی زبردستی انگریزی کو اس میں ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا یہ خیال کہ اردو زبان میں لچک ہے، یہ بھی انگریزی کو اردو میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔ اگر اسی طرح اردو میں لچک باقی رہی تو پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اردو کی شکل یہ ہوگی کہ تمام الفاظ انگریزی زبان کے ہوں گے اور چند ایک الفاظ اردو کے رہ جائیں گے اور اس اردو ملی انگریزی کو اردو زبان کہا جائے گا۔

    انہی غلط خیالات کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ترقی میں پیچھے ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نظر دوڑائیں تو ہم یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ انہوں نے اپنی قومی زبان کو ہی اپنایا، اسی میں تعلیم دی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاں ماہرین فن پیدا ہوئے، جنہوں نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر ہم بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دیگر اہم اقدامات کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت بڑا قدم ہے کہ ہم انگریزی زبان کو اپنا مخصوص مقام دیں لیکن اس کو دوسری زبانوں کی قیمت پر حاوی نہ ہونے دیں، خاص طور پر اردو زبان پر اس کو سوار نہ ہونے دیں اور زیادہ سے زیادہ اردو زبان کو اشاعت و ترویج دیں۔

    انگریزی زبان ایک بین الاقوامی زبان ہونے کی حیثیت سے بہت اہمیت کی حامل ضرور ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے اس حد تک استعمال کرنے لگیں کہ اپنی زبان کی تباہی کی پرواہ نہ رہے۔ اس لیے انگریزی کی اہمیت کے پیش نظر اسے صرف ایک مضمون کے طور پر چند ابتدائی درجات میں پڑھایا جائے۔ باقی اگر کسی کو انگریزی سیکھنے کا شوق یا ضرورت ہو تو اس کےلیے الگ سے کورسز کا اہتمام کیا جائے، پوری قوم پر اس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ تمام نصابی کتب کا سلیس اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے اور اسی کو لازمی قرار دیا جائے۔ دفاتر سے بھی انگریزی کو نکال کر اردو کا نفاذ کیا جائے اور تمام سرکاری کارروائیاں اردو میں ہی انجام پذیر ہونی چاہئیں۔ اسی طرح انگریزی زبان کے الفاظ کو من و عن اردو میں استعمال کرنے کے بجائے ان کا ترجمہ کیا جائے اور حقیقت پسندی سے ترقی یافتہ ممالک کے ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے جو انہوں نے اپنی قومی و ثقافتی زبان کی ترقی و ترویج کےلیے اٹھائے۔ تہذیبی اور قومی زبان ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔

  • ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ویلڈن ڈاکٹر ولید۔۔۔ جیو تو ایسے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    شکر ہے کہ ہمارے وقت میں سوشل میڈیا کا وجود نہ تھا وگرنہ جس طرح کل سے 29 میڈل لینے والے ڈاکٹر ولید کی مسلسل تحقیر کی جارہی ہے ، میں تو خودکشی کر لیتا۔

    چونکہ میرا تعلیمی کیرئیر ڈاکٹر ولید سے مماثل ہے اور انجنئیرنگ یونیورسٹی میں اسی طرح ہم نے بھی گردن بھر میڈل لئے تھے تو میں کسی قدر جان سکتا ہوں کہ بے چارے ولید اور اس کے والدین اگر سوشل میڈیا ئی طوفانی پوسٹیں دیکھ رہے ہیں تو وہ بہت دُکھی ہوں گے۔ کیوں کہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے پردے کے پیچھے کی عزم وۂمت کی داستان وہی جانتے ہیں۔

    فرسٹریشن کے مارے کسی ڈاکٹر توصیف آفریدی نے بظاہراً نظام کے نوحے کے نام پر ایک پوسٹ لکھ ماری جس میں اس کا تقابل ایک ڈانسر لڑکی سے کیا گیا کہ جسے ندا یاسر تو اپنے شو میں بلاتی ہے یاسر شامی پیچھا کرتا ہے مگر اس لڑکے کو کوئی گھاس نہیں ڈالے گا۔ ڈاکٹر ولید کو ایک بے کار انشان کہا گیا کہ اس کی شکل دیکھ لو یہ آپ کو دوبارہ نظر نہیں آئے گا۔

    زنگر برگروں نے ذہنی چسکے کے لئے اس پوسٹ کو خوب اٹھایا۔ کہا گیا کہ اس نے پریکٹیکل لائف میں آکر دھکے کھانے ہیں، نوکری نہیں ملنی، رشوت سفارش سے کوئی نوکری مل بھی گئی تو اسے کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔ اور اگر وہ ملک چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے تو اس کا اپنی اگلی نسلوں پر احسان ہوگا۔اسے میڈل بیچ دینے تک کا کہا گیا۔

    قسم لے لیں جو کسی ایک زنگر برگر نے بھی اس کی محنت اور جذبے کو سراہا ہو، اس کو کامیابی پر مبارک باد دی ہو یا ا س کے بہتر مستقبل کی دعا کی ہو ۔ ہماری ذہنی حالت اس سے زیادہ اور بانجھ اور اپاہج کیا ہوسکتی ہے۔

    ٹیلنٹ اپنا راستہ خود بنا لیتا ہے۔ ڈاکٹر ولید کو جھوٹی سچی ہمدردی کے نام پر اپنی تحقیر کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انشااللہ وہ ہمارا ایک بہت بڑا سرمایہ ثابت ہوگا۔

    میرے گلے میں جب وزیراعلی پنجاب جناب شہباز شریف صاحب بار بار لگاتار میڈل ڈال رہے تھے تو میں اس وقت چھ ماہ سے جاری مسلسل بے کاری کی حالت میں تھا۔ اور الحمدللّٰہ ٹھیک بیس سال بعد میں ایک فرم اونر کے طور پر انکے شروع کردہ فارم ٹو مارکیٹ روڈ پراجیکٹ کی کنسل ٹینسی کا کانٹریکٹ لینے کے بعد ان سے کِک سٹارٹ میٹنگ کر رہا تھا۔

    ہمارے نظام کی خرابیوں کو ہم لوگوں نے ہی ٹھیک کرنا ہے نہ کہ اپنے بہترین دماغوں کا ٹھٹہ اڑا کر انہیں بے عزت کرنا ہے، اپنے پڑھنے والے بچوں کا دماغ خراب کرنا ہے اور ان کے والدین کا مایوس کرنا ہے۔

    ڈاکٹر ہو یا انجنئیر، ہمیشہ اسےاپنی پروفیشنل لائف سکریچ سے شروع کر نا پڑتی ہے اور اپنے فن سے اپنے فیلڈ میں نام بنانا پڑتا ہے۔

    مانا کہ زندگی کے زمینی حقائق بہت تلخ ہیں، بہت دشواریاں، رکاوٹیں اور پریشانیاں ہیں لیکن ایک دن کے لئے ۔۔ صرف ایک دن کے لئے۔۔۔کیا ان سب مسائل کو اپنے ذہن سے جھٹک کر ہم کسی کی محنت اور کامیابی کو سیلی بریٹ نہیں کرسکتے؟

    کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گو معاشرے میں بہت دشواریاں ہیں لیکن آپ کی بے مثل کامیابی کی وجہ سے آپ یقیناً لاکھوں میں ایک ہیں۔ آپ انشااللہ بہت ترقی کریں گے۔

  • طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    طالب علم کا بھاری بستہ (Bag) — اشرف حماد

    وہ پرائمری جماعت کا طالب علم بچہ ہے، اس کی عمر اور جسمانی قوت کے لحاظ سے اس کا بستہ بہت بھاری ہے جو اس کے نازک کندھوں پر نشان ڈال دیتا ہے اور کمر توڑنے والا ہوتا ہے۔ وہ اسے ہانپتے کانپتے اٹھاکر اسکول پہنچتا ہے اور اسی حالت میں اسکول سے گھر لوٹتا ہے۔ یہ بھاری بستہ اس کے لیے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تکلیف دہ ہے۔ اس کی عمر کا اگر کوئی بچہ مزدوری کرتا ہوا نظر آئے تو سب کو بڑا ترس آتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی جاگ اٹھتی ہیں۔ اخباروں میں خبریں بھی لگ جاتی ہیں، عالمی سطح پر اس کے حقوق کی بابت کانفرنسیں بھی منعقد ہوتی ہیں، بچوں کے عالمی دن بھی منائے جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے پوری دنیا اس کے مسائل حل کرنے کے لیے متحرک ہوگئی ہے مگر کسی کو اس کا بستہ چھوٹا اور آسان کرنے کی فکر نہیں ہے۔

    یہ بھی آخر گوشت پوست کا انسان ہے اس کے سینے میں بھی بڑوں کی طرح ایک دھڑکتا دل ہے۔ آخر کب تک اس کے اس مسئلے پر صرف نظر کیا جاتا رہے گا؟ جب کہ طبی ماہرین نے بھی اس کے بھاری بستے کو اس کی عمر سے بڑا وزنی اور اس کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ہسپانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ وزنی اسکول بیگ بچوں میں کمر درد کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں، تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسلسل وزنی بیگ اٹھانے کا عمل ان کی کمر کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اس سے بچنے کے لیے اپنے وزن کے 10 فیصد سے کم وزنی بیگ اٹھانے سے کئی مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔

    اسپین کے طبی ماہرین نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کو اپنے وزن سے 10 فیصد کم اسکول بیگ اٹھانے چاہئیں۔ وہ بچے جو اپنے ذاتی وزن سے 10 فیصد زائد کا اسکول بیگ اٹھاتے ہیں انھیں کمر درد کی تکلیف ہوسکتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے ماہرین نے 1403 طلباء پر تحقیق کی جن میں سے 12 سال سے 17 سال کی عمر کے 11 اسکولوں کے بچوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کے اسکول بیگ کا وزن ان کے اپنے وزن کے 10 فیصد سے زائد تھا ان میںسے 66 فیصد بچے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا پائے گئے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو کمر درد کی زیادہ شکایت تھی۔ پھر بھی کوئی نہیں سنتا۔ تعلیمی میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے اگر اس کے بستے کو چھوٹا اور آسان نہیں بناسکتے تو پھر اس کے پاس کیا دلیل ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرے گا؟

    یہ جلی کٹی باتیں نہیں ہیں، پرائمری اسکول کا یہ معصوم بچہ تعلیمی پالیسی کا ستایا ہوا ہے۔ روزانہ ذہنی اذیت کا شکار یہ چھوٹا طالب علم روزانہ ان دانشوروں کی جان کو روتا ہے جو اس کی مشکل کو مانتے ہیں مگر حل نہیں کرتے۔ اپنے بستے کے بوجھ تلے دبے ہوئے بچے کی چیخیں واقعی کان دھرنے کے لائق نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس معصوم طالب علم کا بستہ بڑا ہونے میں اس کے لیے نصاب سازی کرنے والوں کی سطحی سوچ اور ذہنی مرعوبیت کا بڑا دخل ہے۔

    دنیا میں بڑے بڑے مسائل کی بابت لوگ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہیں اور ان کے حل نکال لیتے ہیں مگر معصوم طالب علم کا بستہ چھوٹا کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی حل نہیں نظر آتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی کاروں، کوٹھیوں اور بنگلوں کو بڑی سرعت کے ساتھ بڑا کرنے والے بستے کو بھی اسی رو میں بہتے ہوئے بڑا کرنے میں مگن ہیں۔ معصوم طالب علم کا بستہ اب تک کتابوں کی غذا کھاکھا کر موٹا ہوتا جارہا ہے غالباً یہ موٹے دماغوں والے کی کارستانی ہے۔

    کسی زمانے میں انگریزی چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی اور چھٹی جماعت کا بچہ قدرے بڑا ہوتا ہے اور بستے کا جسمانی اور ذہنی بوجھ کس قدر آسانی سے اٹھاسکتا ہے۔ پہلے کم ازکم ایک انگریزی کی کتاب اور اس کے ساتھ چار کاپیوں کا بوجھ تھا۔ اب اس معصوم بچے کے بستے میں ایک انگریزی کی کتاب،ایک الفاظ معانی کی کاپی، ایک سبق کے آخر میں موجود مشقوں کے لیے اور ایک انگریزی خوشخطی کے لیے ہے جو کتابوں کے وزن اٹھانے کی بات ہے۔ ایک دفعہ اسکول جاتے ہوئے اور ایک دفعہ واپس آتے ہوئے انھیں اٹھانا پڑتا ہے۔

    اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا کہ پرائمری کے اس معصوم طالب علم کو جتنی محنت اور جتنی توانائی دوسرے تمام مضامین پر خرچ کرنی پڑتی ہے اتنی ہی توانائی انگریزی کے مضمون پر خرچ ہوتی ہے۔ پھر بھی اسے انگریزی نہیں آتی ہے۔ رٹے کی چکی میں پس پس کر اس کا دماغ تھک جاتا ہے۔اس پر طرہ یہ کہ اس کی سائنس کو بھی اتنا پیچیدہ اور غیر فطری بنادیا گیا ہے کہ معصوم طالب علم اسکول سے بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بستہ ساز اسے پڑھنے نہیں دینا چاہتے۔ اخبارات میں کروڑوں روپے خرچ کرکے مہم چلائی جاتی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کروائیں، مگر اسکول میں ایک غیر ملکی زبان اور غیر فطری سائنسی نصاب کا بوجھ ڈال کر معصوم طالب علم کی تمام دلچسپیوں کو ختم کررہے ہیں ان حالات میں ایک معصوم طالب علم کا اسکول میں کیسے دل لگ سکتا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ بستہ سازوں اور نصاب سازوں نے معصوم طالب علموں سے خاموش جنگ چھیڑ رکھی ہے اور ملک کے کروڑوں بچوں کو بطور بیگار اس جنگ میں سپاہی کے فرائض انجام دینے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

    خدارا! معصوم طالب علموں کے ماتھے پر پریشانیوں کی شکنوں میں چھپے ان کے دل کے درد کو محسوس کیا جائے، کیا یہ جبری مشقت نہیں جو ہر روز ان سے لی جاتی ہے؟ کیا یہ ان کا حق نہیں کہ ان کا بستہ ان کی عمر، جسمانی صحت اور ذہنی سطح کے مطابق ہو؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے کو اپنے ایجنڈے میں شامل نہیں کرنا چاہیے؟ یہ وہ جواب طلب معصوم طالب علموں کےسوالات ہیں جن کے جواب تعلیم سازوں کو دینے ہیں۔ قارئین کرام! آپ کا کیاخیال ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ معصوم طالب علم بچوں کی صدا ارباب اختیارات تک بھرپور انداز میں پہنچ سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کار نیک کی جزا دینے والا ہے۔

  • ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    ڈگری کو چھوڑنے کی بات!!! — ضیغم قدیر

    بل گیٹس نے یونیورسٹی چھوڑی، مارک زکر برگ نے یونیورسٹی چھوڑی، سٹیو جابز نے چھوڑی وغیرہ وغیرہ

    یہ جملہ آئے روز سننے کو ملتا ہے مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ انہوں نے یونیورسٹی چھوڑی تو تب انکی پوزیشن کیا تھی اور ان کو سپورٹ کرنیوالا کون تھا؟

    جس وقت ان سب نے یونیورسٹیوں کو چھوڑا اس وقت یہ اپنی کمپنیاں بنا چکے تھے اور وہ کمپنیاں اتنی زیادہ آؤٹ ریچ پر پہنچ چکی تھی کہ ان کے لئے یونیورسٹی اور کمپنی دونوں ایک ساتھ چلانا مشکل ہوگیا تھا۔ سو انہوں نے ڈگری پہ کاروبار کو ترجیح دی۔ اور کمپنیز کو مزید ترقی دینے پر لگ گئے۔

    لیکن یہاں فائنل سٹیپ بتا کر پہلے سٹیپ نہیں بتائے جاتے۔

    کیوں؟

    کیونکہ پہلے سٹیپ محنت طلب ہیں، جبکہ فائنل سٹیپ سب سے زیادہ آسان اور دل کو لبھانے والا ہے اور انسانی نفسیات ہے کہ وہ آسان باتیں سننا پسند کرتا ہے اور محنت طلب باتوں اور کاموں سے بھاگتا ہے۔

    آسان بات یہ ہے کہ تمام ارب پتی یونیورسٹیوں سے ڈراپ آؤٹ ہوئے تو ارب پتی بنے۔

    مشکل بات یہ ہے کہ یہ سب ارب پتی امریکہ میں رہ رہے تھے، وہاں پر انہیں اچھی سکول ایجوکیشن ملی، بعد میں کالج میں انکی پروفیشنل ڈیولپمنٹ پہ کام ہوا، کالج کے دوران ان کا واسطہ اس ٹیکنالوجی سے ہوا جو غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے آپ اور ہم نے پانچ دس سال بعد دیکھنی تھی اور پھر اس ٹیکنالوجی کو پروفیشنلی پراڈکٹ میں بدلنے کے لئے ان کے پاس ملکی وسائل تھے جس میں آسان قرضے سے لیکر والدین کے پیسے تک سب موجود تھا۔ ان پر کسی قسم کا سوشل پریشر نہیں تھا کہ آپ کی کمپنی فلاں کے مذہب، عقیدے وغیرہ کو ٹھیس پہنچائے گی نا ان سے کسی نے یہ پوچھا کہ آپ سلفی ہیں یا مقلد ہیں یا قادیانی، نا ہی ان کو آپ کے والے مسائل تھے کہ بائیس پچیس سال کی عمر تک آپ کی سیکس لائف مکمل ہوئی کہ نہیں، سب کی گرل فرینڈز تھی سو وہ نفسیاتی طور پر آزاد رہ کر کسی بھی آئیڈیا پہ کام کر رہے تھے اور ان کا معاشرہ اور ملک سپورٹ کر رہا تھا۔

    پھر جا کر انکی کمپنیاں جب ملین ڈالر سے زائد کے کیپیٹل پر پہنچی تو انہوں نے کالج سے ڈراپ آؤٹ ہونا پسند کیا۔

    اب یہاں سوال پیدا ہوتے ہیں۔۔۔کہ

    کیا آپ کے ملک میں آپ کے پاس نئے آئیڈیاز سوچنے کے لئے وسائل دستیاب ہیں؟ کیا آپ زندگی کے بنیادی سروائیول کی پسوڑیوں مطلب شادی یا سادہ الفاظ میں سیکس لائف کی پسوڑی سے نکل چکے ہیں؟ کیا آپ کا ملک آپ کو آپکی کمپنی کے لئے خام مال باآسانی دے سکتا ہے؟ کیا آپ کے ملک میں ٹیکنالوجی اس لیول پہ ہے جس پر ایک ہارورڈ کا طالب علم دیکھ رہا ہے؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی کمپنی میں لوکل انویسٹر شئیر خریدیں گے؟ اور کیا آپکے ملک میں لانگ ٹرم پہ بزنس پالیسی موجود ہے؟

    ان سب سوالوں کا جواب نا میں ہوتا ہے۔

    سو پھر ڈگری کو برا کیوں کہا جائے؟ پھر سیدھا نقطہ یہ ہے کہ آپ سماج کو بدلیں یا اسے چھوڑ دیں پھر جا کر آپ کچھ نیا بنا سکیں گے۔

    اس وقت ہمارا ملک ایک کنزیومر ملک ہے جہاں پر پروڈیوسر بننے کی سوچ کے پیچھے ہزاروں چیلنجز ہوتے ہیں۔ آئیڈیاز ہیں تو وسائل نہیں وسائل ہیں تو آئیڈیاز نہیں اگر دونوں ہیں تو ملکی پالیسیز نہیں ہیں۔

    پاکستان کا سب سے بڑا سٹارٹ اپ میرے خیال سے دراز ہے اور پھر ائیر لفٹ تھی، دراز کے سی او نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال دیکھ کر بہت سے آپریشن محدود کریں گے، جبکہ ائیر لفٹ تو مکمل بند کر دی گئی۔ ائیر لفٹ کیساتھ ساتھ کریم اور دیگر ہزاروں چھوٹے سٹارٹ اپس بند ہو گئے۔

    اب یہاں سٹارٹ اپس کے بند ہونے کی وجہ FDI یا فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا بند ہونا ہے۔ کیونکہ ہمارا لوکل انویسٹر تو دھیلا خرچنا نہیں چاہتا۔ آپ ایک آئیڈیا لائیں اس پر کمپنی بنائیں، لوکل مارکیٹ میں سے کوئی بھی انویسٹ نہیں کرے گا سارا زر باہر سے لانا پڑے گا۔

    وہیں ایک ہاؤسنگ سکیم بنائیں دھڑا دھڑ پلاٹ بکیں گے، انویسٹمنٹ آئے گی پیسہ آئے۔

    مطلب مارکیٹ کی ڈائنامکس ہی کنزیومر بیسڈ ہے پروڈیوسر کو کوئی یہاں پنپتا نہیں دیکھ سکتا۔

    ایسے میں حل یہی ہے باہر جائیں ڈھیر سا پیسہ کما کر یا تو وہاں ہی کمپنی لانچ کریں یا یہاں آ کر لانچ کریں اور پراڈکٹس باہر ایکسپورٹ کریں۔

    مگر باہر جانے کے لئے آپ کو پراپر یونیورسٹی ایجوکیشن چاہیے، اچھا جی پی اے اور سکالرشپ سو اس کے لئے ڈگری پر محنت کریں، 3.4 سے اوپر جی پی اے رکھیں، پرسنل گرومنگ سیکھیں، خود کو پریزنٹ کرنا سیکھیں اور یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ ڈگری کو چھوڑنے کی بات کرنے والے ڈفر خود ایک پرزہ تک نہیں بنا سکتے سو ان کا چورن مت خریدیں۔

  • سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    فلم تھری ایڈیٹس میں عامر خان چتر کی تقریر میں کچھ الفاظ بدل دیتا ہے. یہ کچھ الفاظ ہندی سے نابلد چھتر کی خوب بے عزتی کروا دیتے ہیں. غصے میں چھتر کالج کی ٹینکی پر ایک تاریخ لکھتا ہے. آج سے دس سال بعد فیصلہ ہوگا کون کامیاب اور کون ناکام ہے.؟

    میرے خیال میں سکولوں میں پوزیشن ہونی ہی نہیں چاہئے. یہ سمجھ کا کم یادداشت اور قسمت کا زیادہ کھیل بن جاتا ہے. سکولوں کا مقصد ایک نسل کا اپنی نئی نسل کو اس مقام تک لانا ہوتا ہے جس مقام پر آج کی نسل کھڑی ہے. اول دوئم سوئم پوزیشن ایک نسل دنیا کے میدان میں بناتی ہے، حاصل کرتی ہے اور منواتی ہے. اکثر سکول کلاس کے ٹاپرز زندگی کے میدان میں پیچھے اور کلاس کے کمزور بچے اس میدان میں آگے کھڑے ہوتے ہیں.

    کیا سکول رزلٹ کارڈ حقیقت کے میدانوں کے ترجمان ہیں.؟ آپ کے سکول میٹرک کے طلباء کی پوزیشن فرض کیا پندرہ سال بعد آج ایوارڈ ہوں. اپنے اپنے میدان میں پوزیشن اور کامیابی اگر معیار ہو تو نتیجہ کیا ہوگا.؟ آپ بھی سوچیں اور بچوں کا پوزیشن سٹریس کم کرنے کا حوصلہ کریں. ہم سسٹم تو نہیں بدل سکتے لیکن کسی کی پریشانی کو کم ضرور کر سکتے ہیں.

    وقت اکثر چتر کی طرح ان کی یادداشت کے چند لفظ آگے پیچھے کر دیتا ہے. زمانے کے قہقہے نکل جاتے ہیں اور یہ بچارے اپنی ذات میں سمٹ کر گُم ہو جاتے ہیں.

  • ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ ابھی تک باقیوں سے بہت بہتر ہے لیکن فلفور اس میں ریفارمز آنے چاہیں

    ایک سال پہلے 500 سیٹ آئی پی پی ایس سی جس پے دس ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہاں اگر یہ سیٹ آپ انجنئیرنگ کو دیں تو یہاں پچیس ہزار اور اگر کیمسٹری وغیرہ کو دیں تو ایک ایک لاکھ تک لوگ اپلائی کریں گے۔۔۔

    لیکن مسئلہ دیکھیں پی پی ایس سی ان 11000 لوگوں کے انٹرویو لے رہا ہے ٹیسٹ کی کوئی پالیسی نہیں پرانے خیالات پے جی رہے جب 100 سیٹ پے اسی لوگ اپلائی کرتے تھے

    سیٹیں یہاں منصفانہ نہیں جا رہی جس کا اثر رسوخ ہے وہ لے رہا ہے اگر یہ سیٹیں آپ انجنئیرنگ کو دیں تو ہم بہت خوش ہوں کیونکہ ہم ان سیٹوں پے بھی سیلکٹ ہوئے جو 10 آئی اور 4000 لوگوں نے اپلائی کیا الحمدللہ میں نے بھی بہت بار ان سیٹوں پے نا صرف ٹیسٹ دیا بلکہ ٹاپ بھی کیا۔۔۔۔

    آپ کے کنگ ایڈورڈ کے گریجوایٹ غیر منصفانہ تقسیم سے مارے مارے پھر رہے جبکہ بیرون ممالک یا کم نمبروں والے لوگ سفارشات پے مستقل ملازمت لے کر جا رہے ہیں.

    ایڈہاک کی سیٹیں فلفور ختم ہونی چاہیے اسکی جگہ کنٹریکٹ لاگو ہونا چاہیے ایڈہاک کا بنیادی مقصد مستقل سیٹوں کو کسی ملازم سے فلفور بھرنا تھا اور 2004 اور 2006 کی پالیسی ہے ایڈہاک پے ملازمین کو اچھی تنخواہ دی جاتی تھی تگنی جبکہ اب دیکھا جائے ایڈہاک کے انٹرویو تھے 10 سیٹوں پے چھ سو لوگ بلائے ہوئے تھے یہاں تذلیل الگ غیر منصفانہ تقسیم الگ اسکے بعد ہر چھ ماہ بعد دوبارہ کی خواری رینیوو کرواتے الگ۔۔۔

    اسکو ختم کر کے کنٹریکٹ لایا جائے اور پورے پنجاب میں پنجاب لیول پے یا ہر ڈسٹرکٹ کے ذمے باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو لے کر جاب دی جائے 10 سیٹوں پے محض 50 لوگوں کا حق ہے اور پچاس بھی وہ جو قابل ترین ہوں۔۔۔۔

    اس وقت وائے ڈی اے و دیگران اپنے سروس سٹرکچر کے لیے بھی کوشاں نہیں سب مل جھل کر پرائیوٹ کالج چلانے میں مشغول ہیں اپنے اور رشتے داروں کی سفارشات میں۔۔۔۔

    تحریری طور پے یہ پیغام بہت جگہ پہنچا چکا ہوں کہ فوراً سے پہلے اگر ہم چاہتے ہیں ایم بی بی ایس بچ جائے تو ریفارمز کی فوراً ضرورت ہے وگرنہ آپ کریم آف نیشن کو تباہ کر رہے ہیں اور تباہ کرنے والے غیر نہیں انکی اپنی تنظیمیں ہیں.

    جنکے یہ نعرے لگاتے رہے ہیں کلاسوں سے نکلوا کر
    ” میرے کفن پے لکھنا وائے ڈی اے”

  • انجنئیرنگ کا عروج — طلحہ سید نقوی

    انجنئیرنگ کا عروج — طلحہ سید نقوی

    2010 تک ایم بی بی ایس ایک عام سی ہی ڈگری ہوا کرتی تھی باقی ڈگریوں کی طرح جبکہ انجنئیرنگ 2004-2005 تک ایک عام سی ڈگری تھی.

    پھر یک دم انجنئیرنگ کا عروج آیا کیونکہ انجنئیرز کو بیرون ممالک اور اپنے ملک میں ایسی نوکریاں ملی مشرف کے دور میں کہ انجنئیرز کا قحط پڑھ گیا بندے مل نہیں رہے تھے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ یہ فیلڈ کرنی چاہیے پیسہ ہی پیسہ ہے ہوا یہ کہ 2008 کے بعد سے ہر بندے نے پرائیویٹ کالج کھولنا شروع کیے پانچ سال 2008 سے 2013 تک انجنئیرنگ فل عروج پے رہی تاریخ کے بڑے بڑے انٹری ٹیسٹ ہوئے اتنی تعداد کبھی اس سے پہلے شامل نا ہوئی تھی اور پھر حالات بدلے وقت بدلا نوکریاں نا ملی انجنئیر بدنام ہوئے پرائیویٹ بزنس بند ہوئے کالجز میں ان ٹیک ختم ہونا شروع ہوئی 2017 کے بعد سے اب 2022 ہیں انجنئیرنگ کے تقریباً تمام پرائیویٹ کالج بند ہوچکے ہیں اور بڑی یونیورسٹی جیسے کامسٹ وغیرہ میں بھی داخلے کم ہیں سب پریشان ہیں۔۔۔۔

    اب اس فیلڈ کو پھر عروج آئے گا 2023 کے بعد 2030 تک ممکنہ طور پے فیلڈ اوپر جائے گی ۔۔۔۔۔

    اسی طرح میڈیکل 2010 تک ایک نارمل ڈگری تھی لیکن وقت بدلا انجنئیرنگ سے سارا رش اٹھ کے میڈیکل پے آنے لگا 2013 کے بعد عروج شروع ہوا اور 2017 تک تمام انجنئیرنگ کالج میڈیکل کالج میں بدلنا شروع ہوئے جن جن کے انجنئیرنگ کالج تھے انہوں نے ایم بی بی ایس نا کروا سکے تو الائیڈ ہیلتھ اور نرسنگ وغیرہ شروع کردی نتیجہ یہ نکلا کہ بزنس سارا شفٹ ہوگیا میڈیکل پے اور اسکے گریجویٹ 300٪ بڑھ گے جہاں 100 بچہ نکلتا تھا اب 400 نکلنے لگا اور اب صورتحال یہ ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز دو تین سال بعد بند ہونا شروع ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔

    جو اس وقت عروج ہے وہ ہے کمپیوٹر سائنس کا ہر گلی میں ہر گھر میں ایک ادارہ کھل رہا ہے جو کمپیوٹر سائنس کی ڈگری کروا رہا ہے اگلے دو سال بعد انتہائی زوال جو شروع ہونا ہے وہ کمپیوٹر گریجوایٹس کا ہے جنکے پاس ڈگری ہوگی پر فری لانسنگ کے لیے کوئی سکل نہیں مارکیٹ میں نوکریاں نہیں ہونگی فری لانسر کی مارکیٹ یہ خراب کریں گے سستے میں کام کر کے شدید مسائل اس فیلڈ کو آنے والے ہیں۔۔۔

    سمجھدار لوگ اپنے بچوں کو انجنئیرنگ میں داخل کروائیں ایف ایس سی پری انجنئیرنگ کروائیں کیونکہ اسکا پھر عروج آنے والا ہے ہاں البتہ میڈیکل ابھی اپنے زوال کو جائے گا جب پرائیویٹ کالج سسٹین نہیں کر پائیں گے وہ بند ہونگے لوگ داخلہ لینا چھوڑیں گے تو تقریباً 10 سے 12 سے آٹھ سال بعد ایک بار پھر اس فیلڈ کا عروج آئے گا۔۔۔۔

    فلوقت اگر کوئی والدین اپنی جائیداد بیچ کر بچے کو پرائیویٹ ایم بی بی ایس کروانا چاہتے ہیں تو ان والدین سے بے وقوف اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔

    انہیں شدید غورو فکر کی ضرورت ہے.

  • کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام  — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام — اعجازالحق عثمانی

    کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق یعنی کلاس فیلوز کی بہت ساری اقسام ہو سکتی ہیں۔ جن کی مستند تعداد بتانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن امر ہے۔ کیونکہ انکی اقسام اتنی ہی جلدی بدلتی ہیں جتنی جلدی پنجاب میں وزیراعلی۔۔ مگر کلاس فیلوز کی چند اقسام پیش خدمت ہیں ۔

    نمبر ایک:
    پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو کبھی وقت پر نہیں آتے مگر عموماً وقت سے پہلے چلے ضرور جاتے ہیں۔ اسی قسم کے کچھ باشندے تو چھٹی کے ٹائم سے دس منٹ پہلے ہی کہہ رہے ہوتے ہیں ۔ میم "ٹیم”(ٹائم) ہوگیا ہے۔

    نمبر دو:
    کلاس روم میں ایک اور مخلوق پائی جاتی ہے جو ہفتے کے چھ دن بیمار رہتی ہے اور ساتویں دن یعنی اتوار کو بیماری کو چھٹی دیتی ہے۔ ان پر بیماریاں بھی بڑی ترتیب سے آتی ہیں۔ سوموار کو انکا گلا خراب ہوتا ہے ۔ اگلے دن نزلہ اور پھر بخار اور اگلے دن یعنی اتوار کو بیماری کی چھٹی ۔ بیماری کا یہ سائیکل ہر دو ماہ بعد ضرور آتا ہے ۔ اگر کبھی یہ سائیکل پنکچر ہوجائے تو پھر انکے دور کے رشتہ داروں میں سے کوئی خدا کو پیارا ہو جاتا ہے۔

    نمبر تین:
    اگلی قسم کا نام ہے ” فٹا فٹ” ۔ کلاس رومز میں پائی جانے والی یہ مخلوق ہر وقت فٹا فٹ کے چکروں میں ہوتی ہے۔ جیسا کہ اگر ٹیچر کلاس میں 5 منٹ تک نہ آئے تو یہ مخلوق فٹا فٹ سٹاف روم کو دوڑے گی۔ پھر پوری کلاس انکو خوب صلواتیں بھی سناتی ہے ۔جن کا اس مخلوق پر اتنا ہی اثر پڑتا ہے ۔جتنا ہم سب پر قاسم علی شاہ کا۔

    نمبر چار:
    اس قسم کا نام Attention Beggars ہے۔
    یہ ہر وقت اٹنشن کے چکر میں بھکاریوں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہے ہوتے ہیں ۔ اٹنشن کے چکر میں یہ تمام تر چھچھورے پن کر مظاہرہ کرنے کے باوجود تھوڑی سی بھی توجہ نہ ملنے کے بعد بھی زرا شرمندہ نہیں ہوتے،
    بلکہ بھکاریوں کی طرح اگلے بندے کے پاس چلے جاتے ہیں۔

    نمبر پانچ:
    ایک وہ مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو کبھی چھٹی ہی نہیں کرتی ۔ نہ جانے یہ مخلوق اتوار کو گھر کیسے بیٹھتی ہوگی۔ انکو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کے خاندان میں نہ تو کوئی شادی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بابا مرتا ہے ۔ بیماری تو ان کے گھر ایسے ہی آتی ہوگی جیسے ہندؤں کو کلمہ

    نمبر چھ:
    ایک مخلوق ہر وقت اپنے ہی اشتہار چلاتی رہتی ہے ۔ یعنی

    میں نے یہ کر دیا
    میں نے وہ نے وہ کر دیا

    وقت آنے پر جب پتہ چلتا ہے تو اس مخلوق نے صرف وہ ہی کیا ہوتا ہے ۔ جو میں آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔ اس مخلوق کو آپ "بول نیوز” بھی کہہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ ہر کام سب سے پہلے ، سب سے اچھا یہی مخلوق کرتی ہے، صرف باتوں میں ۔

    شکائتو! ٹولے کا تو نہ ہی پوچھیے۔ اس مخلوق کی پہچان انتہائی آسان کام ہے ۔ ٹیچرز کی خوش آمدیں تو ان پر بس ہیں۔ یہی لوگ "آئی ایس آئی” کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں ۔ کلاس کی خفیہ باتیں، ٹیچرز اور ایڈمن آفس تک پہنچانا انکا اولین فرض ہوتا ہے۔ اگر کلاس روم میں پائی جانے والی مخلوق کی اقسام لکھنے بیٹھا جائے تو کئی اک دن درکار ہونگے ۔ سو انھی چند اقسام پر گزارا کرتے ہیں ۔

  • علم کی فضیلت — ام عفاف

    علم کی فضیلت — ام عفاف

    اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو تخلیق کیا تو اسے علم سکھایا انسان اور علم کا ابتداء ہی سے گہرا تعلق ہے. انسان اور دوسری مخلوقات کے درمیان فرق صرف علم اور شعور کا ہے. اسی بنا پر للہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا.

    اس دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک جتنی بھی قومیں گزری ہیں ان میں بھی علم کی بہت اہمیت رہی ہے. علم کے بغیر قومیں ناکام رہی ہیں. اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبی اکرم صلعم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ علم سے ہی متعلق تھی کہ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا. 12 ربیع الاول جو کہ اصحاب سیر کے ایک طبقہ کے مطابق یوم ولادت با سعادت نبوی ہے (بعض محققین 9 ربیع الاول کے قائل ہیں) مسلم معاشرے کے مختلف طبقوں میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے. کہیں محفل میلاد ہے تو کہیں جلسہ سیرت النبی کہیں نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہے تو کہیں جلوس کا اہتمام ہے.

    ظاہر ہے یہ سب کچھ رسول اللہ صلعم کے لیے اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لئے ہی کیا جاتا ہے لیکن احقر کی نظر میں یہ دن رسول اللہ صلعم کے مشن کی یاد اور اس کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کے احتساب کے طور پر منایا جائے تو آپ صلعم کے لیے امت مسلمہ کی بہترین خراج عقیدت ہو گی. ذرا غور کریں! یہ وحی اس وقت نازل ہوئی جب دنیا کے منظر نامے میں سوائے ظلم اور جہالت اور اندھیرے کے کچھ بھی نہ تھا ‘عالم یہ تھا کہ انسانیت پس چکی تھی’ مظلوم کا پرسان حال کوئی نہیں تھا ‘غریب بے یار و مددگار تھا یتیم بے کس تھا. علم کائنات سے اٹھ چکا تھا’ بے مروتی انتہا پر تھی شیخی وطیرہ بن چکی تھی. جہالت اتنی کہ جہالت بھی پناہ مانگے. قانون کوئی نہیں تھا البتہ طاقت؛ دستور وہی جو طاقتور کے الفاظ. فقط ایک افراتفری تھی بے ہنگم عقائد تھے. بے سلیقہ زندگیاں تھیں. غور وفکر ناپید تھی اسلاف کے سچے اور جھوٹے من گھڑت کارنامے تھے. ان پر نسلی قبائلی نسبی و علاقائی تفاخر طاقت ہے. انسان اسفل السافلین سے بھی نچلے گھڑے میں اتر چکا تھا. لیکن یہ انسانیت کا مقدر تو نہ تھا. یہ خلیفہ لم یزل کی شان تو نہ تھی. اس لئے انسان اور انسانیت کو عروج ودوام بخشنے کے لیے اسلامی تہذیب کا آفتاب طلوع ہونا ناگزیر تھا تاکہ زوال پذیر تہذیب بھی اسلامی تہذیب سے روشنی اور چمک لے کر محبت اور ترقی کا ثمر چکھ سکیں.

    تہذیب اسلامی کا منبع اور بنیاد رسول صلعم کی ذات مبارکہ ہے آپ صلعم کے اخلاق و کردار افعال واقوال آپ صلعم کی سیرت طیبہ مینارہ نور کی طرح ہدایت ورہنمائ کے لیے محفوظ اور موجود ہے. آپ صلعم کے بارے میں خود رب کائنات نے فرمایا کہ

    انک لعلی خلق عظیم.

    اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں.(یعنی کہ آداب قرآنی سے مزین اور اخلاق الہیہ سے متصف ہیں)
    .
    آپ صلعم نے حصول علم کو ہر مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیا ہے. بلکہ حصول علم کی فضیلت میں دین اسلام کہتا ہے کہ جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر نہیں ہوسکتے ہیں.

    رسول صلعم نے فرمایا کہ حکمت(علم) مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں سے ملے لے لو. ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں حضور اکرم صلعم نے اہل علم کی فضیلت بیان کی حتیٰ کہ آپ صلعم نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں علم کا شہر ہو. مزید مومنین کو علم حاصل کرنے پر ابھارا. علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلعم نے فرمایا کہ حصول علم کی خاطر گھر سے باہر جانے والے کی موت بھی واقع ہوجائے تو اس کا مرتبہ شہید جیسا ہے.

    یاد رہے! کہ یہاں علم سے مراد علم نافع ہے. جس سے انسان دین اور دنیا کی بھلائی کا کام کرسکے معاملات دنیا کو سلجھانے کی تعلیم حاصل کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہمیں سیرت النبی صلعم سے ملتی ہے. علم دین اور قرآن تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم درسگاہ نبوت سے براہ راست سیکھتے تھے وہ علم انہیں کہیں جاکر سیکھنے کی حاجت نہ تھی. لیکن غزوہ بدر کے موقع پر جب کفار جنگ ہار گئے اور ان میں سے کچھ کو قید کر لیا گیا تو ان کے آزاد ہونے کی شرط یہ تھی کہ جو فدیہ ادا نہیں کرسکتا وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاءے اب اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کفار نے جو مسلمانوں کے بچوں کو پڑھانا تھا وہ ہرگز تعلیمات اسلامی نہیں ہوسکتی تھی. وہ اس وقت کے مروجہ دنیاوی علوم ہی تھے.

    اگر آج ہم اپنے علمی رویے پر غور کریں تو جان جائیں گے کہ ہم علم و حصول علم سے کتنی دور ہیں. مسلمانوں کی کتنی جامعات ویونیورسٹیاں عالمی معیار کے مطابق ہیں. دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست میں ہمارا شمار کس جگہ پر ہے؟ اتنا نیچے کہ بس شرمندگی! ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس کی ابتداء اقراء سے ہوتی ہے. جہاں قلم کی روشنائی کا درجہ شہید کے لہو کی مانند ہے. لیکن ہمارا سماجی رویہ حصول علم کی جانب کتنا مثبت ہے؟ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نقالی کرہے ہیں ہم جدت سے کتنا دور ہیں؟ جو یہود و نصاریٰ اس وقت رسول صلعم کے آگے آنے سے ڈرتے تھے آج ہم ان کی نقالی کرہے ہیں. جس مذہب کی اپنی ثقافت تہذیب وتمدن ہو وہ قوم کسی اور کے طور طریقوں کو اختیار کرے ایسی قوم کے لئے شرمندگی کا مقام اور کیا ہو گا.

    ذرا سوچیں! کہ جس قوم کی آج سے کچھ صدیوں پہلے اتنی مضبوط پوزیشن تھی وہ قوم آج زوال پذیر کیوں ہے؟

    وہ صرف اسی لیے کہ ہم نے اطاعت رسول صلعم کو چھوڑ دیا ہے ہمارے پیارے نبی صلعم جن کی مثال کافر بھی دیتے ہیں آج ہم نے ان کی پیروکاری کو چھوڑ دیا ہے. جلسے جلوس محبت کا اظہار، جشن، چراغاں تو یہودونصاری بھی ایک دن کے لیے اپنے نبیوں کے لیے کرلیتے ہیں لیکن اصل بات اطاعت کی ہے. افسوس کہ وہ ہمارے اندر اب مفقود ہے. رسول صلعم کا عاجزانہ رویہ سادگی، سادہ طرز زندگی کو ہم نے اختیار نہیں کیا ہے. ہم نے سیرت طیبہ کے قانون کو لاگو نہیں کیا ہے اسی لیے آج ہم اتنا پیچھے ہیں. دنیا میں ہماری کوئی حیثیت نہیں،
    شاعر کیا خوب کہتا ہے.

    وہ معزز تھے زمانے میں صاحب قرآں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

  • وزیر اعظم نے منظوری دے دی، لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع. چیئرمین ایچ ای سی

    وزیر اعظم نے منظوری دے دی، لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع. چیئرمین ایچ ای سی

    پاکستان میں سرکاری جامعات کے طلبہ کے لیے وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم ایک بار شروع کی جا رہی ہے اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے لیپ ٹاپ اسکیم دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پہلے فیز میں فروری 2023 سے اسکیم کے تحت لیپ ٹاپ کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔

    چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے کراچی آمد کے موقع پر ایچ ای سی کے ریجنل دفتر میں نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پرائم منسٹر کی جانب سے اس سلسلے میں administrative approval مل گئی ہے 28 اکتوبر کو اس سلسلے میں اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہے اور پالیسی کے نکات کی منظوری کے ساتھ ہی اس کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار ایم فل/پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ جامعات کے انڈر گریجویٹ اور اوپن/ورچوئل یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی لیپ ٹاپ دیے جائیں گے تاہم انڈر گریجویٹ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد محدود ہوگی۔ ’’ایکسپریس‘‘ کے اس سوال پر کہ کیا اس بار بھی لیپ ٹاپ اسکیم وزیر اعظم کی تصویر کے ساتھ جاری ہوگی، انھوں نے نفی میں جواب نہیں دیا، انھوں نے بتایا کہ اسکیم کے لیے 10 بلین روپے کا فنڈ مختص کیا جا رہا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک سوال پر چیئرمین ایچ ای سی کا کہنا تھا کہ وہ کراچی کے دورے کے موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کریں گے اور ان سے گزارش کریں گے کہ جامعات کو بہتر نظم و نسق کے ساتھ چلانے کے لیے وہاں ایڈہاک ازم ختم کرکے وائس چانسلرز کا فوری تقرر کروائیں جبکہ سندھ کی جامعات میں ڈائریکٹر فنانس کے مسائل حل کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے گزارش ہوگی کہ وہ ڈی ایف کا رپورٹنگ چینل وائس چانسلرز کو ہی رہنے دیں بصورت دیگر وائس چانسلرز بے اختیار ہوجائیں گے اور جامعات کا انتظام عملی طور پر ڈائریکٹر فنانس کے پاس چلا جائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم آج سے شروع، ڈھائی کروڑ بچوں کو قطرے پلائے جائیں
    عمران خان کی نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی
    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے
    پاکستانی ائیرلائنز کی یورپ میں بحالی؛ یورپی کمیشن نے پی سی اے اے حکام کو تکنیکی میٹنگ کے لیے مدعو کرلیا
    جامعات میں مالی بحران کے حوالے سے ڈاکٹر مختار کا کہنا تھا کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ تنخواہوں کے ساتھ ساتھ دیے جانے والے الاؤنسز اور ایڈیشنل فنڈز کا استعمال روکیں، اخراجات پر قابو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انڈر گریجویٹ اور پی ایچ ڈی پالیسی میں ترامیم لارہے ہیں اور اس کے نقائص دور کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مختار احمد نے پیر کو جامعہ کراچی میں چائینیز لینگویج سینٹر کا دورہ بھی کیا اور وہاں خود کش حملے کے سانحے کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور جاں بحق ہونے والوں کے سوگ میں کچھ دیر کی خاموشی اختیار کی۔